11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 11:41

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

اور نوح نے کشتی میں چڑھنے والوں سے کہا اس میں سوار ہوجائو اس کے چلتے وقت اور ٹھہرتے وقت اللہ کا نام4 لے کر بیشک میرا مالک بخشنے والا مہربان ہے5

ف 4 ۔ یا اللہ ہی کے نام پر اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے۔ 5 ۔ کشتی یا کسی دوسری سواری پر سوار ہوتے وقت بسم اللہ پڑھنا مسنون ہے جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے۔ سورة زخرف آیت 13 ۔ 14 میں سواری پر سوار ہوتے وقت یہ دعا بھی آئی ہے۔ سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین وانا الی ربنا لمنقلبون۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے بس میں کردیا حالانکہ ہم میں اتنی طاقت نہ تھی کہ اسے قابو میں لاسکتے اور ہم یقینا اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں۔ “ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : یہ میری امت کے لئے غرق ہونے سے امان ہے کہ جب وہ کشتی میں سوار ہونے لگیں تو یہ دعا کریں۔ بسم اللہ الملک الرحمن بسم اللہ محریھا ومرسھا ان ربی لعفوررحیم وما قدرو اللہ حق قدرہ والارض جمیعا قبجتہ یوم القیامت والسموات مطویات بیمینہ سبحنہ وتعالی عما یشرکون۔ (ابن کثیر) ۔
Ayahs 11:42–43

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

اور وہ کشتی پہاڑوں کی سی موجوں میں ان کو لئے ہوئے جا رہی تھی اور نوح نے اپنے بیٹے کو کنعان کو آواز دی وہ کشتی سے الگ تھا بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ مت رہ

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

وہ کہنے لگا میں ابھی اس پہاڑ پر ہو رہتا ہوں جوانوں خان کے) پانی سے مجھ کو بچا لے گا نوح نے کہا آج اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکتا مگر جس پر اللہ ہی رحم کرے اوہ بچ سکتا ہے6 اور باپ بیٹے یہ باتیں کر رہے تھے کہ انی کی موج دونوں کے بیچ میں آن پڑی اور وہ بھی ان میں شریک ہوا جو ڈبو دیئے گئے

ف 6 ۔ یا دوسرا ترجمہ یہ ہوسکتا ہے اور وہی لفظی ترجمی بھی ہے کہ آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں ہے مگر جو رحم کرنے والا ہے۔ (یعنی خود اللہ تعالی) آیت میں یہ ایک وجہ ہے جو محققین نے ذکر کی ہے اور یہی قویٰ ہے کیونکہ فاعل کا صیغہ زیادہ تر صفت کے لئے آتا ہے اور نسبت کے لئے کم استعمال ہوتا ہے۔ (روح) ۔
Ayah 11:44

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

اور جب طوفان ختم ہو اتو حکم دیا گیا اے زمین اپن پانی چوس لے اور اے آسمان کھل جا برسنا موقوف کر اور پانی اتر گیا اور کام پورا ہوگیا تمام کافر ہلاک ہوگئے اور کشتی جو دی پہاڑ پر جا کر ٹھہری7 اور حکم ہوا کہ بےانصاف لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے دھتکارے گئے8

ف 7 ۔ جودی پہاڑ عراق اور ترکی کے درمیانی علاقے میں جسے کردستان کہتے ہیں موصل کی جانب واقع ہے۔ تورات میں حضرت نوح ( علیہ السلام) کی کشتی ٹھہرنے کی جگہ ” ارات “ بتائی گئی ہے جو ارمینا کے اس پہاڑی سلسلے کا نام ہے جس سے دجلہ اور فرات نکلتے ہیں جو بھی اسی پہاڑی سلسلے کے ایک پہاڑ کا نام ہے اور آج بھی اسی نام سے مشہور ہے۔ چند سال ہوئے مغربی سیاحو نے اس پہاڑ پر ایک بڑی کشتی کے ٹوٹے ہوئے تختے بھی دریافت کئے ہیں، اگرچہ ان کے متعلق قطعی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ آیا یہ حضرت نوح کی کشتی کے ہی تختے ہیں یا کسی اور کشتی کے۔ واضح رہے کہ حضرت نوح کی قوم دجلہ اور فرات کی وادی ہی میں آباد تھی جو بعد میں عراق کے نام سے مشہور ہوئی۔ 8 ۔ یعنی سب ہلاک کردئیے۔ بائیبل (پیدائش :81 ۔ 42) کے بیان کی بنا پر عام خیال ہی ہے کہ یہ طوفان روئے زمین میں آیا تھا مگر بعض علما کا کہنا ہے کہ طوفان اسی علاقے میں آیا تھا جہاں حضرت نوح ( علیہ السلام) کی قوم آباد تھی۔ گو قرآن و حدیث میں اس کی کوئی تصریح نہیں ہے لیکن یہ عین ممکن ہے کہ طوفان کے زمانے میں دنیا میں دجلہ و فرات کی وادی کے علاوہ کسی اور جگہ کوئی آبادی ہی نہ ہو۔
Ayahs 11:45–46

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

اور نوح نے اپنے مالک کو پکارا اور کہا مالک (آخر کی میرا بیٹا میرے ہی گھر والوں میں سے ہے اور تیرا و مدد بیشک سچا ہے اور سب حاکموں میں تو بڑا حاکم ہے

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نوح وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں9 ہے اس کے کن اچھے نہیں تو جو بات تجھ کو معلوم نہیں (جن کی حقیقت تو نہیں جانتاض وہ مجھ سے مت10 مانگ میں تجھ کو نادانوں میں شر کی ہونے سے ڈراتا ہوں1

ف 9 ۔ یعنی ان لوگوں میں سے نہیں ہے جنہوں نے تجھ پر ایمان لا کر تیری پر وی اختیار کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ نجات کے لئے نسبی تعلق کافی نہیں ہے بلکہ ایمان و عمل ضروری ہے۔ 10 ۔ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ سے کسی ایسی چیز کا مانگنا جائز نہیں ہے جس کے متعلق معلوم ہو کہ وہ اس کی شریعت کے مطابق نہیں ہے۔ 1 ۔ یا یہ کہ تمہیں اس سے بلند دیکھنا چاہتا ہوں کہ تم سے کوئی ایسا کام صادر ہو جو جائلوں کے کرنے کا ہے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں آدمی پوچھتا وہی ہے جو معلوم نہ ہو لیکن مرضی معلوم ہونی چاہیے۔ یہ کام ہے جائل کا کہ اگلے کی مرضی نہ دیکھئے پوچھنے کی پھر پوچھے۔ (موضح) مطلب یہ ہے کہ اس حقیقت کو جاننے کے بعد اگر آئندہ ایسا سوال کرو گے تو جائل بن کر رہ جائو گے۔ (روح) ۔
Ayah 11:47

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

نوح نے عرض کیا مالک میں ایسی بات پوچھنے سے جس کی حقیقت میں نہیں جانتا تیری پناہ مانگتا ہوں اور اگر تو مجھ کو نہ بخشے مایرا یہ قصور معاف نہ کرے اور مجھ پر رحم نہ کرے تو میں تباہ ہوجائوں گا2

ف 2 ۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) شاید پدری محبت کے تقاضے سے یہ سمجھ بیٹھے کہ بیٹا، چاہے وہ کافر ہو گھروالوں میں شامل ہے اور اس کے لئے دعا کی جاسکتی ہے لیکن جونہی اللہ تعالیٰ نے انہیں تنبیہ کی کہ ایک کافر بیٹے کو نسبی قرابت کی بنا پر اپنا اہل سمجھنا صحیح نہیں ہے تو وہ فوراً متنبہ ہوئے اور اللہ کے حضور اپنی غلطی پر معافی چاہی۔ (از وحیدی) ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : حضرت نوح ( علیہ السلام) نے توبہ کی لیکن یہ نہ کہا کہ پھر ایسا نہ کروں گا کہ اس میں دعویٰ نکلتا ہے۔ بندے کو کیا مقدور ہے ؟ اسی کی پناہ مانگے کہ مجھ سے پھر نہ ہو۔ (موضح) ۔
Ayah 11:48

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

پروردگار کی طرف سے کہا گیا اے نوح ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ کشتی سے اتر اور تجھ پر اور تیرے ساتھ والوں سے جو گڑھ پیدا ہوں گے ان پر برکتوں کے ساتھ3 اور کچھ گروہ ایسے بھی پیدا ہوں گے جن کو ہم چند روز دنیا کا مزہ لینے دیں گے پھر آخرت میں ان کو ہمار طرف سے تکلیف کا عذاب پہنچے گا4

ف 3 ۔ یعنی ان تمام مومنوں پر جو قیامت تک تمہاری اور تمہارے ساتھ والوں سے نسل صرف حضرت نوح ( علیہ السلام) کے بیٹوں کی چلی۔ اس صورت میں حام، سام اور یافت کی اولاد ہی مراد ہوگی۔ (از روح) ۔ 4 ۔ حق تعالیٰ نے تسلی فرما دی کہ اس کے بعد ساری نوع انسانی پر ہلاکت نہیں آئے گی۔ ہاں بعض فرقے ہلاک ہوں گے۔ (کذافی الوضح) ہلاک ہونے والے فرقوں سے مراد وہ تمام کافر ہیں جو حضرت نوح اور ان کے ساتھیوں کی نسلی سے پیدا ہوئے یا قیامت تک پیدا ہوں گے۔
Ayah 11:49

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

(اے پیغمبر) یہ غیب کی نہریں ہیں جن کو ہم (وحی کے ذریعہ سے) تجھ کو بھیجتے ہیں اس سے پہلے یعنے قرآن اترنے سے پہلے نہ تو ان کو جانتا تھ نہ تیری قوم والے تو کافروں کے ستانے پر صبر کئے رہ بیشک جو پرہیز گاروں میں انہی کا انجام اچھا ہوتا ہے5

ف 5 ۔ یعنی جس طرح نوح اور ان کے ساتھیوں کا انجام بخیر ہو رہا اور اسی طرح آپ ﷺ کا انجام بھی دنیا و آخرت دونوں میں بہتر رہے گا اور آپ ﷺ کے مخالفین دنیا میں بھی ذلیل و برباد ہوں گے اور آخرت میں بھی انہیں دوزخ کی آگ نصیب ہوگی۔ (کذافی الروح) ۔
Ayah 11:50

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور عاد کی قوم کی رف ہم نے ہود کو پیغمبر بنا کر بھیجا6 اس نے کہا بھائیو اللہ ہی کو پوجو اس کے سوا کوئی تمہارا سچا خدا نہیں ہے تم تم اللہ کے سوا جو اوروں کو خدا سمجھتے ہو کچھ نہیں مگر جھوٹ بادنھتے ہو7

ف 6 ۔ یہ عطف بیان ہے ” اخاھم “ سے۔ (تشریح کے لئے دیکھئے سورة اعراف آیت 56) ۔ 7 ۔ اللہ نے ہرگز انہیں اپنا شریک نہیں بنایا۔
Ayah 11:51

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

بھائیو میں تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا میری مزدوری تو اسی خدا پر ہے جس نے مجھ کو پیدا کیا کیا تم کو عقل نہیں8

ف 8 ۔ کہ جو شخص سچے دل سے دعوت و تبلیغ اور نصیحت کی مشقتیں اٹھا رہا ہے اور جسے اپنے رب سے اجر کی امید ہے وہ تم سے کوئی دنیوی فائدہ کیوں چاہے گا ؟۔
Ayah 11:52

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

اور اے بھائیو اپنے مالک سے گزشتہ گناہوں کی بخشش چاہو پھر آئندہ گناہ کرنے سے توبہ کرو9 وہ تم پر آسمان کے دھارے چھوڑ دے گا خوب زور کا مینہ برسائے گا10 اور تمہارے زور پر اور زیادہ زور دے گا اور مشرک بن کر منہ مت پھر ائو11

ف 9 ۔ یا اپنے تمام باطل معبودوں کو چھوڑ کر اسی کی طرف پلٹ آئو۔ 10 ۔ تفسیر روایات کے بموجب قوم عاد میں بارش نہ ہونے کی وجہ سے قحط نمودار ہوگیا تھا جو کئی سال تک رہا۔ حضرت ہود نے ان سے کہا کہ ایمان لا کر اپنے گناہوں سے توبہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بارش ہوگی اور قحط کی بجائے خوشحالی اور فراوانی پیدا ہوجائے گی۔ (معالم) ۔ احادیث میں استغفار کے بہت سے فوائد مذکور ہیں۔ ایک روای میں ہے کہ جو شخص استغفار کو عادت بنالے اللہ تعالیٰ اس کی ہر مشکل آسان اور الجھن دور کردیتا ہے اور غیر متوقع طور سے اس کی ضرورتیں پوری فرما دیتا ہے۔ (ابن کثیر) ۔ 11 ۔ یا میری اطاعت سے منہ نہ پھیرو ورنہ تم مجرم قرار پائو گے۔
Ayahs 11:53–54

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ہو تو کوئی نشانی ہمارے پاس نہیں لایا جس سے ہم تجھ کو سچا سمجھیں اور ہم تو تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے نہیں اور نہ ہم تیری بات ماننے والے ہیں

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہم تو بس یہی کہتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود کی (جس کو تو برا سمجھتا ہے) تجھ پر مار پڑگئی ہے1 ہود نے جواب دیا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ خدا کے سوا جن (معبودوں) کو تم خدا کا شریک سمجھتے ہو میں ان سے بیزار ہوں2

ف 1 ۔ جو اس طرح کی بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے افسوس ! یہی ” کسی بزرگ کی مار “ کا تصور آج مسلمانوں میں بھی آگیا ہے حالانکہ مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ اللہ کے سوا کوئی زندہ یا مردہ ہستی کسی کا کچھ نہ بگاڑ سکتی ہے نہ بنا سکتی ہے۔ (از وحیدی) ۔ 2 ۔ یعنی میرا تمہارے ان بتوں سے کوئی تعلق نہیں بلکہ میں ان کی ہر آن مذمت کرنے کو تیار ہوں۔
Ayah 11:55

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

تو تم سب مل کر (تم اور تمہارے معبود) میری فکر کرو جو نقصان پہنچا اس کو پہنچائو اور مجھ کو دم نہ لینے دو3

ف 3 ۔ یعنی یہ جو تم کہتے ہو کہ ہمارے کسی معبود کی تم پر مارپڑگئی ہے تو اگر تم اور تمہارے یہ سب معبود مل کر بھی میرا کچھ بگاڑ سکتے ہیں تو بگاڑ لیں اور مجھے ذرا مہلت نہ دیں۔ ورنہ جان لو کہ تم بھی جھوٹے اور تمہارے یہ معبود بھی غلط۔ (وحیدی) ۔
Ayah 11:56

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

میں تو اللہ پر بھروسا کرتا ہوں جو میرا مالک ہے اور تمہارا بھی مالک ہے کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی پیشانی چوٹی اس کے ہاتھ میں نہ ہو سب اس کے حکم میں ہیں بیشک میرا مالک سیدھے رستے پر ہے4

ف 4 ۔ یعنی جو سیدی راہ پر چلے وہ اس سے ملے۔ (موضح) ۔ یا یہ کہ گو ہر جاندار پر اس کا قبضہ ہے اور وہ اس کے ساتھ جو سلوک کرنا چاہے کرسکتا ہے مگر وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ (ابن کثیر) ۔
Ayah 11:57

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

پھر اگر تم پھرے رہو (تو پھر5 لے رہو) میں نے تو تم کو وہ حکم پہنچا دیا جو میں دے کر بھیجا گیا تھا اور میرا مالک جب تم کسی طرح نہ مانو گے تو تم کو تباہ کر کے ایک دوسری قوم کو تمہاری جگہ قائم کرے گا اور تم اس کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکو گے بیشک میرا مالک ہر چیز کا نگہبان ہے6

ف 5 ۔ میں جو دعوت پیش کر رہا ہوں اسے قبول نہ کرو اور کفر پر مصر رہو۔ (شوکانی) ۔ 6 ۔ جب وہ ہر چیز کا نگہبان ہے تو میرا بھی نگہبان ہے۔ لہٰذا وہ یقینا تمہارے شر سے میری حفاظت فرمائے گا۔ (شوکانی) ۔
Ayahs 11:58–59

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور جب ہمارا عذاب آن پہنچا تو ہم نے ہو وہ اور اس کے ساتھ کے ایمان والوں کو اپنی مہربانی سے بچا دیا اور سخت عذاب سے ان کو چھڑا دیا یعنے آخرت کے عذاب سے بھی

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

اور یہ عاد کے لوگ تھے جنہوں نے اپنے مالک کی تو آیتوں کا انکار کیا اور اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی7 اور ہر ایک ظالم سرکش کا کہا مان لیا8

ف 7 ۔ انہوں نے اگرچہ ہود ( علیہ السلام) ہی کی نافرمانی کی، لیکن چونکہ ایک پیغمبر ﷺ کی نافرمانی تمام پیغمبروں کی نافرمانی ہے اس لئے فرمایا کہ انہوں نے ” اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی۔ (شوکانی) ۔ 8 ۔ ” عنید “ ہر اس شخص کو کہا جاتا ہے جو نہ حق کو قبول کرے اور نہ اس کا مطیع ہو۔ مراد قوم کے سردار ہیں۔ (ابن کثیر) ۔
Ayah 11:60

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

اور اس دنیا میں پھٹکار ان کے پیچھے لگ گئی (ہر پیغمبر ان پر لعنت کرتا رہا) اور قیامت کے دن بھی (سب کے سامنے خدا کی پھٹکار ان پر پڑیگی) سن لو عاد نے اپنے مالک کو نہ ملتا یا اس کی ناشکری کی سن لو عاد جو ہود کی قوم والے تھے خدا کے دربار سے)9 دھتکارے گئے

ف 9 ۔ یعنی قیامت کے دن یوں پکاریں گے۔ (موضح) ۔ سری سے روایت ہے کہ قوم عاد کے بعد اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا مگر اس نے عاد پر لعنت کی۔ یا ” اتبعوا “ کے معنی یہ ہیں۔ ” ان پر دنیا میں بھی لعنت اور آخرت میں بھی۔ “ (شوکانی) ۔
Ayah 11:61

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

اور ثمود کی قوم کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہم قوم صلاح پیغمبر کو بھیجا اس نے کہا بھائیو اللہ تعالیٰ کو بوجو اس کے سرا تمہارا کوئی سچا خدا نہیں ہے اسی نے تم کو زمین سے نکالا کیونکہ آدم مٹی سے بنے تھے اور زمین میں بسایا تو اس کی بخشش چاہو1 پھر اس کی درگاہ میں توبہ کرو2 بیشک میرا مالک نزدیک ہے (سب کی سنتا ہے) دعا قبول کرتا ہے

ف 1 ۔ یعنی اب تک جو کفرو شرک کرتے رہے ہو اس کی اپنے رب سے معافی مانگو۔ 2 ۔ یعنی تمام معبودوں کو چھوڑ کر اللہ کی طرف پلٹ آئو۔
Ayah 11:62

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

کہنے لگے صالح تو تو اس پیغمبری کے دعویٰ سے پہلے ہونہار سمجھا جاتا تھا3 بھلا یہ کیا بات ہے) تو ہم کو ان چیزوں کو پوجنے سے منع کرتا ہے جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے4 اور ہم کو تو اس سے میں شک ہے جدھر تو بلاتا ہے (یعنی توحید) میں اس پر دل نہیں جمتا5

ف 3 ۔ یعنی تمہاری عقلمندی اور ذہانت سے تو ہم بڑی بڑی امیدیں وابستہ کئے بیٹھے تھے مگر تم نے تو توحید اور آخرت کا نیا راگ الاپ کر ہماری تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ 4 ۔ یعنی بت پرستی اور شرک پر اصرار کی اگر کوئی دلیل تھی تو وہ صرف یہ کہ ان کے باپ دادا ان کی پوجا کرتے رہے تھے۔ 5 ۔ یہ کس قدر حماقت تھی کہ شرک پر نہ تو مطمئن تھے اور نہ ان کے پاس کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہی نہ تھی مگر پھر بھی آبائی تقلید کی وجہ سے شرک کو چھوڑ کر توحید کی راہ اختیار کرنے کو تیار نہ تھے۔
Ayah 11:63

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

صالح نے کہا بھائیو بتلائو تو سہی اگر مجھ کو میرے مالک کی طرف سے ایک کھلی سند مل گئی کا اور اس نے مجھ کو اپنی مہربانی نبوت اور پیغمبری سے سرفراز کیا ہو پھر میں اس کی نافرمانی کروں تجھ کو خدا سے کون بچائے گا یعنے اس کے عذاب6 سے تو تم سے یہی فائدہ ہے کہ مجھ کو اور نقصان دینا چاہتے ہو7

ف 6 ۔ یعنی تم تک اس کا پیغام پہنچانے میں کوتاہی کروں۔ 7 ۔ یعنی اگر میں توحید کی راہ چھوڑ کر شرک کی راہ اختیار کرلوں تو یہی نہیں کہ تم مجھے اللہ کی پکڑ سے نہ بچا سکو گے بلکہ تمہاری وجہ سے میرا جرم اور بھی بڑھ جائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ اس بات پر مجھے دوہری سزا دے گا کہ میں نے جان بوجھ کر شرک کا راستہ اختیار کیا۔
Ayah 11:64

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ Open ayah 11:64 in the Quran reader

اور بھائیو خدا کی پیدا کی ہوئی اونٹنی تمہارے لئے ایک نشانی ہے8 تو اس کو چھٹا رہنے دو وہ اللہ کی زمین میں چرتی پھرے اور اس کو مت ستائو نہیں تو جلدی سے تم کو عذاب آ لگے گا آخر انہوں نے اس اونٹنی کو زخمی کیا9 اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں

ف 8 ۔ ” ایۃ “ سے مراد یہاں معجزہ ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : حضرت صالح ( علیہ السلام) سے قوم نے معجزہ مانگا، حق تعالیٰ نے ان کی دعا سے پتھر میں سے اونٹنی نکالی۔ اسی وقت اس نے بچہ دیا، اسی وقت وہ ماں کے برابر ہوگیا حضرت صالح نے فرمایا کہ اس کی تعظیم کرتے رہو تب تک دنیا کا عذاب نہ ہوگا جہاں وہ جاتی کھانے کو یا پینے کو سب جانور بھاگ جاتے اور آدمی کوئی اس کو نہ ہانکتا۔ (کذافی التفاسیر) ۔ 9 ۔ اگرچہ ان میں سے صرف ایک شخص نے اونٹنی کو زخمی کیا تھا لیکن اسے چونکہ سب کی رضامندی اور تائید حاصل تھی اس لئے سبھی کو اس جرم کا مرتکب قرار دیا گیا۔
Ayahs 11:65–66

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ Open ayah 11:65 in the Quran reader

تب صالح نے کہا تین دن اور اپنے گھر میں چین کرلو اس کے بعد سب ہلاک ہو گے یہ خدا کا وعدہ ہے جو جھوٹ نہیں ہوسکتا

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ Open ayah 11:66 in the Quran reader

پھر جب ہمارا عذاب آن پہنچا تو ہم نے صالح اور اس کے ساتھ کے ایمانداروں کو اپنی مہربانی سے بچا دیا اور اس دن کی رسوائی سے ان کو محفوظ کیا10 بیشک تیرا مالک طاقتور والا ہے زبردست

ف 10 ۔ یعنی اس دن کے رسوا کن عذاب سے۔
Ayah 11:67

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:67 in the Quran reader

اور چوتھے دن) ظالموں کو چنگھاڑ (زور کی چیخ) نے11 دبا لیا تو اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے مر کر (اور ایسے مر مٹے) گویا وہاں بسے ہی نہ تھے

ف 11 ۔ ان پر عذاب آیا اس طرح کہ رات کو پڑے سوتے تھے۔ فرشتے نے چنگھاڑ ماری سب کے جگر پھٹ گئے۔ (موضح) ۔ سورة اعراف میں ہے ” فاخذتھم الرجفۃ “ شاید کہ صیحہ کے بعد رجفہ واقع ہوا ہو یا دو گونہ عذاب بیک وقت آیا ہو۔
Ayahs 11:68–69

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ Open ayah 11:68 in the Quran reader

سن لو ثمود کے لوگوں نے اپنے مالک کو نہ مانا سن لو ثمود کے لوگ اپنے مالک کی درگاہ سے راندے گئے

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ Open ayah 11:69 in the Quran reader

اور ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر آچکے ہیں1 (فرشتوں نے) کہا سلام ابراہیم نے جواب دیا سلام صبر کچھ دیر نہیں ہوئی کہ ابراہیم ایک بھنا ہوا بچھڑا (ان کے کھانے کے لئے2) لے کر آیا

ف 1 ۔ ان فرشتوں کی آمد کا مقصد حضرت لوط ( علیہ السلام) کی قوم پر عذاب نازل کرنا تھا۔ راستے میں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی بستی سے گزرے جس سے مقصد خوشخبری سنانا تھا اور وہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے ہاں بطور مہمان ٹھہرے۔ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے حسب عادت مہمان نوازی کرنا چاہی۔ یہاں ” بشری “ خوشخبری سے مراد حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) اور ان کی بیوی سارہ کو بیٹے کی خوشخبیر ہے۔ (شوکانی وغیرہ) ۔ 2 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ فرشتے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے ہاں انسانی شکل میں پہنچے تھے۔ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے خیال کیا کہ پردیسی مہمان ہیں اس لئے انہوں نے مہمانی کا اہتمام کیا۔
Ayah 11:70

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:70 in the Quran reader

جب ابراہیم نے دیکھا وہ اپنے ہاتھ بچھڑے کی طرف نہیں بڑھاتے تو برا مانا (یا ان کو نیا اور اجنبی سمجھا) اور دل ہی دل میں ڈر گیا3 انہوں نے کہا مت ڈر ہم لوط کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں (ہم فرشتے ہیں تیرے مالک کے بھیجے ہوئے)

ف 3 ۔ کیونکہ ان کے علاقے میں اگر کوئی اجنبی آتا اور وہ مہمانی میں پیش کیا ہوا کھانا قبول ہ کرتا تو اس کے متعلق سمجھا جاتا کہ وہ کسی برے ارادے سے آیا ہے یا یہ بھی ہوسکتا ہے۔ اور شاید یہی قرین قیاس ہو۔ کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے ان کے کھانا تناول نہ کرنے کی وجہ سے ان کے فرشتے ہونے کو بھانپ لیا ہو اور وہ اس بنا پر ڈر گئے ہوں کہ یہ ان کی بستی پر عذاب نازل کرنے کے لئے بھیجئے گئے ہیں۔ (شوکانی) ۔
Ayah 11:71

وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ Open ayah 11:71 in the Quran reader

اور اس کی بی بی سارہ بنت ہارون کھڑی تھی وہ ہنس دی4 تو ہم نے اس کو خوش خبری دی اسحاق اس کا بیٹا پیدا ہونے کی اور اسحاق کے بعد اسحاق کا بیٹا یعقوب پیدا ہونے کی5

ف 4 ۔ اس ڈر سے خوش ہو کر ہنس پڑیں۔ حق تعالیٰ نے خوشی پر اور خوشیاں بڑھائیں۔ (موضح) ۔ 5 ۔ خوش خبری حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی بجائے حضرت سارہ کو اس لئے دی گئی کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے ہاں تو ان کی دوسری بیوی حضرت ہاجرہ سے حضرت اسماعیل پیدا ہوچکتے تھے لیکن حضرت سارہ ابھی تک بےاولاد تھیں۔
Ayah 11:72

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ Open ayah 11:72 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ووئی فوج میں کیا جنوں گی میں بوڑھی اور میرا یہ خاوند (بھی) بوڑھا (پھونس) یہ تو اچنبھے کی بات ہے6

ف 6 ۔ قدیم مفسرین (رح) کہتے ہیں۔ اور یہی بائیبل سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی عمر اس وقت سو سال اور حضرت سارہ کی عمر نوے سال تھی۔
Ayah 11:73

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ Open ayah 11:73 in the Quran reader

فرشتے کہنے لگے کیا تو خدا کی قدرت پر تعجب کرتی ہے7 اے گھر والو تم پر خدا کی رحمت اور برکت ہے8 وہ سراہا گیا ہے بڑا احسان کرنے والا

ف 7 ۔ یعنی وہ تو ماں باپ کے بغیر بھی پیدا کرسکتا ہے۔ پھر بوڑھی عورت کو بچہ عطا کرنا اسے مشکل ہے ؟ 8 ۔ یا تم پر خدا کی رحمت اور برکت ہو۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ ازواج (بیویاں) انسان کے اہل بیت میں سے ہوتی ہیں۔ (ت۔ ن) ۔
Ayah 11:74

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:74 in the Quran reader

پھر جب ابراہیم کے (دل) سے ڈر جاتا رہا اور (اولاد کی) خوش خبری ملی تو لوط کی قوم کے مقدے میں ہم سے جھگڑنے لگا9

ف 9 ۔ سعید ؓ بن جبیر، قتادہ ؓ اور بعض دوسرے مفسرین (رح) کہتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو فرشتوں نے بتایا کہ وہ قوم لوط کو ہلاک کرنے جا رہے ہیں تو انہوں نے پوچھا جس بستی میں تین سو مسلمان ہوں کیا تم اسے تباہ کردو گے ؟ انہوں نے کہا ” نہیں۔ کہا : اگر چالیس ہوں تب “ ؟ انہوں نے کہا : نہیں۔ اس پر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے کہا : ان فیمھا لوطا (اس بستی میں لوط تو موجود ہیں) ۔ اس پر انہوں نے کہا :” اس میں جو لوگ ہیں ہمیں ان کا خوب علم ہے۔ ہم لوط کو، اور ان کی بیوی کے سوا ان کے تمام گھر والوں کو بچا لیں گے۔ “ اس وقت حضرت ابراہیم خاموش ہوئے اور ان کا اطمینان ہوگیا۔ (ابن کثیر) ۔
Ayah 11:75

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ Open ayah 11:75 in the Quran reader

بیشک ابراہیم بردبار نرم دل خدا سے دل لگانے والا تھا10

ف 10 ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی بحث و تکرار کا برا نہ مانا بلکہ ان کا نہایت پیار سے ذکر کیا۔
Ayah 11:76

یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ Open ayah 11:76 in the Quran reader

اے ابراہیم اب یہ خیال چھوڑ دے اور کچھ باتیں کر تیرے مالک کا حکم ہوچکا اور ان پر وہ عذاب آنے والا ہے جو ٹل نہیں سکتا11

ف 11 ۔ یہ فرشتوں کی بات ہے جو انہوں نے بالآخر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) سے کہی اور اس کے بعد وہ قوم لوط پر عذاب نازل کرنے روانہ ہوگئے۔
Ayah 11:77

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ Open ayah 11:77 in the Quran reader

اور جب ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) لوط کے پاس پہنچے تو اس کا ان کا آنا ناگوار گزرا اور دل میں رک گیا اور کہنے لگا یہ تو بڑا سخت دن ہے1

ف 1 ۔ یہ فرشتے گئے لڑکے بنکر اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کو اس قوم کی خو معلوم تھی، اس سے خفا ہوئے کہ لڑائی کرنی پڑی۔ (موضح) ۔
Ayah 11:78

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ Open ayah 11:78 in the Quran reader

اور اس کی قوم کے لوگ ان خوبصورت لڑکوں کا آنا سن کر اس کے پاس دوڑتے آئے اور وہ پہلے ہی سے برے کام کیا کرتے تھے لوط نے کہا بھائیو میری بیٹیاں موجود ہیں وہ تمہارے لئے پاکیزہ ہیں تو خدا سے ڈرو اور میرے مہمانوں میں مجھ کو ذلیل کرو2 کیا تم میں کوئی ایک بھی بھلا آدمی نہیں

ف 2 ۔ ” بناتی “ (بیٹیوں) سے مراد ان لوگوں کو اپنی عورتیں ہیں کیونکہ نبی اپنی قوم کے لئے بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے اور قوم کی ساری عورتیں نبی کی بیٹیاں ہوتی ہیں جیسا کہ نبی ﷺ کے بارے میں ارشاد ہے۔ النبی اولی بالمومنین من انفسھم و ازواجھہ امھاتھم (احزاب آیت 6) ۔ یہی تفسیر راضح ہے گو بعض نے لوط (علیہ السلام) کی اپنی بیٹیاں بھی مراد ی ہیں کہ ان سے شادی کرلو۔ (کمانی الفوضح) ۔
Ayah 11:79

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ Open ayah 11:79 in the Quran reader

وہ (مردود) کہنے لگے تو تو جانتا ہے ہم کو تیری بیٹیوں کی کوئی خاہش نہیں اور تو جانتا ہے ہم جو کرنا چاہتے ہیں3

ف 3 ۔ یعنی ہمیں عورتوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ہم تو اس بدکاری کے خوگر ہوچکے ہیں۔ (ابن کثیر) ۔ ان کے اس جواب سے انکی خباثٹ کو پورا نقشہ سامنے آجاتا ہے اور معلوم ہوجاتا ہے کہ کیوں ان کو اس عذاب کا مستحق سمجھا گیا جو ان کے علاوہ اور کسی قوم پر نازل نہیں کیا گیا۔
Ayah 11:80

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ Open ayah 11:80 in the Quran reader

لوط نے کہا کاش اگر مجھ کو کچھ زور ہوتا یا کسی زبردست کہنے کا آسرا ہوتا تو میں اس وقت تم سے سمجھ لیتا4

ف 4 ۔ حضرت لوط ( علیہ السلام) اس قوم میں ایک طرح سے اجنبی تھے۔ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے ان کو اہل روم کی اصلاح پر مقرر فرمایا تھا۔ اس بنا پر انہوں نے دھمکی کے طور پر ان سے کہا کہ اگر میرا کوئی زبردست کنبہ یہاں ہوتا تو تم سے نبٹ لیتا۔ حضرت لوط ( علیہ السلام) کی زبان سے یہ الفاظ پریشانی کی حالت میں بےساختہ نکل گئے ورنہ ان کو اللہ تعالیٰ کا سہارا ہی کافی تھا۔ حدیث میں آیا ہے “۔ اللہ تعالیٰ لوط پر رحم فرمائے کہ وہ زبردست آسرا یعنی اللہ کا سہارا رکھتے تھے۔ ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو بھی نبی بھیجا وہ اپنی قوم میں ایک کنبہ رکھتا تھا۔ (ابن کثیر) ۔