10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 10:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ Open ayah 10:1 in the Quran reader

ف 11 یہ (یعنے اس سورت میں) پکی کتاب (قرآن) کی آیتیں ہیں12

ف 11۔ یہ حروف مقطعات ہیں۔ تشریح کے لئے دیکھئے سورة بقرہ آیت ا۔ اقرطبی) ۔ 12۔ محکم کتاب (قرآن پاک) یعنی جس کے حلال و حرام اور حدود و احکام کبھی منسوخ نہ ہوں گے یا جس میں حکمت و دانش بھری ہے یا جو غلطیوں اور اختلاف سے پاک ہے۔ لفظ ” حلیم “ کے یہ سب ہی معنی کئے جاسکتے ہیں۔ (قرطبی) ۔
Ayah 10:2

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:2 in the Quran reader

کیا لوگوں (کافروں) کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے (یعنے آدمیوں میں سے ایک مرد کی طرف وحی بھیجی کہ لوگوں کو (خدا کے عذاب سے) ڈرا13 اور ایمان والوں کو خوش خبری سنا کہ ان کو ان کے مالک کے پاس سچائی کا مرتبہ ملے گا14 کافروں نے کہا (اے پیغمبر) کھلا جادو گر ہے (یا یہ قرآن کھلا جادو ہے)1

ف 13۔ یعنی آخر اس میں تعجب اور حیرت کی کون سی بات ہے کہ انسانوں کو خدا کے عذاب سے ڈرانے اور فلاح وسعادت کی راہ دکھانے کے لئے خود انہی میں سے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیجا دیا گیا ؟ تعجب کی بات تو جب ہوتی کہ ان کا پروردگار ہدایت کا کوئی سامان نہ کرتا اور یا ان میں کسی جن یا فرشتے کو رسول بنا کر بھیجا دیتا کیونکہ فرشتہ یا جن انسانوں کے لئے ” اسوہ حسنہ “ نہیں بن سکتا۔ (از قرطبی وابن کثیر) ۔ 14۔ یا سچائی کا مقام یعنی جنت۔ علما نے لکھا ہے کہ ” قدم “ کا لفظ سعی و عمل سے کنایہ ہوتا ہے لہذا ” قدم صدق “ سے مراد نیک اعمال ہیں اور مطلب یہ ہے کہ انہیں ان کے نیک اعمال کا اللہ تعالیٰ کے ہاں سے بدلہ ملے گا۔ (قرطبی) 1۔ اور یہ کہنے میں کافر سراسر جھوٹے تھے اس لئے قرآن نے اس کا جواب نہیں دیا۔ (کبیر) ۔
Ayah 10:3

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 10:3 in the Quran reader

(لوگو) بیشک تمہارا مالک اللہ ہے جس نے چھ دن میں آسمان اور زمین کو بنایا پھر اپنے تخت پر2 بیٹھا اس کی تفسیر سورة اعراف کے ساتویں رکوع میں گذر چکی ہے دنیا کا انتظام وہیں بیٹھے بیٹھے کر3 رہا ہے اس کی درگاہ میں کوئی سفارشی نہیں ہوسکتا جب تک اس کا حکم نہ4 ہو یہی اللہ تو تمہارا مالک ہے تو اسی کی پوجا کرو اور کسی کو نہ پوجو)5 کیا تم غور نہیں کرتے6

ف 2۔ یعنی چھ دن کی مدت میں آسمان و زمین بنائے۔ (نیز دیکھئے اعراف 145) ۔ 3۔ یعنی اس ملک کا دربار ٹھہرا یا عرش پر، سب (ہر) کام کی تدبیر وہاں سے ہو۔ (موضح) نیز دیکھئے۔ (اعراف : 45) ۔ 4۔ یہ مضمون کہ اللہ تعالیٰ کے حضور کوئی شخص اس کی اجازت کے بغیر قناعت نہیں کرسکے گا قرآن کی متعددآیات میں بیان ہوا ہے مثلاً دیکھئے سورة بقرہ آیت 552، سورة طہ آیت 901، السبا : 32، سورة النجم : 62۔ (قرطبی۔۔۔۔ ) قرآن نے جہاں مطلق شفاعت کے فائدہ مند ہونے کی نفی کی ہے وہاں یا تو کفار کا ذکر ہے اور یا بلا اذن شفاعت کی نفی ہے۔ ورنہ امت کے گنہگار مسلمانوں کے حق میں شفاعت صحیح احادیث سے ثابت ہے اور یہ بھی کہ آپ ﷺ کی شفاعت قبول کی جائے گی مگر یہ شفاعت بھی اللہ تعالیٰ سے اجازت کے بعد ہوگی۔ (کبیر۔ ابن کثیر) کفار جن بتوں کی پوجا کرتے تھے انکو اپنا سفارشتی سمجھتے۔ قرآن نے انہی کا رد کیا۔ (قرطبی) ۔ 5۔ ’ عبادت کے معنی ” پوجا کرنا “ بھی ہیں اور پوری زندگی ” عہد “ یعنی اس کا فرمانبردار بندہ بن کر گزارنے کو بھی عبادت کہا جاتا ہے اور حاجت روائی کے لئے کسی غائبانہ طاقت کے پکارنے کو بھی عبادت کہا جاتا ہے۔ قرآن نے ہر قسم کی عبادت کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص کیا ہے۔ پس ” فاعبدوا “ کے معنی ہیں اس کو پوجا کرو۔ اسی کو مشکلات دور کرنے کے لئے پکارو اور پوری زندگی اسی کی بندگی میں بسر کرو۔ زندگی کے کسی شعبہ میں بھی اگر تم کسی اور کی بندگی اختیار کرو گے تو گویا اسے خدا کی خدائی میں شریک ٹھہرائو گے۔ 6۔ اگر تم ذرا بھی غور و فکر سے کام لو تو تمہیں یقینا معلوم ہوجائے گا کہ صرف خدا کی ہستی ہی عبادت کے لائق ہے۔ اس کے علاوہ جن کی بندگی کرتے ہو یا جن کے سامنے ماتھے رگڑتے ہو یا نذر نیازیں پیش کرتے ہو وہ یا تو تم ہی جیسے بےکس و لاچار انسان ہیں یا وہ بت ہیں جنہیں اگر کوئی توڑ دے تو اپنی حفاظت تک نہیں کرسکتے۔ کیا تمہیں نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟۔
Ayah 10:4

اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ Open ayah 10:4 in the Quran reader

تم سب کو (مرنے کے بعد) اسی کی طرف لوٹ جانا ہے (یہ) اللہ کا سچا وعدہ ہے وہی شروع میں پیدا کرتا ہے (عدم سے) پھر وہی (قیامت کے دن) دوبارہ پیدا کرے گا7 تاکہ جو لوگ (دنیا میں) ایمان لائے اور اچھے کام کئے ان کو انصاف سے بدلہ دے اور جو (دنیا میں) کافر رہے ان کے لئے ان کے کفر کی سزا میں پینے کو کھولتا پانی ہے اور تکلیف کا عذاب ہے

ف 7۔ جو ذات تمہیں شروع میں پیدا کرتی ہے یعنی عدم سے وجودم میں لاتی ہے کیا اس کے لئے یہ مشکل ہے کہ تمہارے مرجانے کے بعد تمہیں دوبارہ زندگی دے۔ (کذافی ابن کثیر) ۔
Ayahs 10:5–6

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 10:5 in the Quran reader

وہی خدا ہے جس نے سورج کو (خود) چمکتا بنایا اور چاند کو (سورج سے) روشن (کیا) اور چاند کی منزلیں مقرر کیں8 اس لئے کہ تم چاند اور سورج سے سالوں کا کرتا ہے9

اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ Open ayah 10:6 in the Quran reader

بیشک جو لوگ خدا سے ڈرتے ہیں انکے لئے رات اور دن کے آگے پیچھے آنے جانے میں اور اللہ نے جو چیزیں آسمان اور زمین میں بنائی ہیں ان میں اس کی قدرت اور وحدانیت کی نشانیاں ہیں

ف 8۔ یعنی ہر روز بتدریج گھٹا بڑھتا ہے۔ (وحیدی) ۔ 9۔ کیونکہ جن لوگوں کو سمجھ نہیں ان کو یہ بیان کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔ (وحیدی) ۔
Ayahs 10:7–8

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ Open ayah 10:7 in the Quran reader

جو لوگ مرے بعد ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے10 اور دنیا ہی کی زندگی پر خوش ہیں اور اسی سے ان کی خاطر جمع ہے اور جو لوگ ہماری قدرت کی نشانیوں سے غافل ہیں1

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:8 in the Quran reader

ان لوگوں کا ٹھکانا ان کے کاموں کی سزا میں دوزخ ہے

ف 10۔ یا نہیں ڈرتے یا اس کے ثواب کی کچھ طمع نہیں رکھتے بلکہ دنیا کی طرف مائل ہیں۔ (کبیر) یعنی آخرت اور اس میں ہونے والے حشر و نشر پر ایمان نہیں رکھتے اس لئے اس کو کوئی ڈر ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ (ابن کثیر) 1۔ یعنی ان سے کوئی عبرت حاصل نہیں کرتے اور نہ ان پر کچھ غور فکر کرتے ہیں۔ اگر ان آیات سے آیات قرآن مراد ہوں تو معنی یہ ہوں گے کہ ہمارے احکام سے غفلت برتتے ہیں اور ان کی بجا آوری نہیں کرتے۔ (ابن کثیر) ۔
Ayah 10:9

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 10:9 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کا مالک ایمان کی وجہ سے ان کو جنت کا راستہ دکھائے گا2 ان کے تلے ہر وقت عیش کے باغوں میں نہری پڑی بہ رہی ہونگی

ف 2۔ بدبخت اور شقی لوگوں کہ حالت بیان کرنے کے بعد اب نیک بخت اور سعید لوگوں کی حالت بیان فرمائی (کبیر) مطلب یہ ہے دنیا میں ایمان لانے کی وجہ سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی رہنمائی ہوگی حتیٰ کہ وہ پل صراط سے گزر کر سیدھے جنت میں پہنچ جائینگے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بایمانھم میں ” با “ استعانت کے لئے ہو جیسا کہ حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ قیامت کے دن ان کے سامنے نور ہوگا کی مدد سے وہ چلیں گے۔ قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : مومن جب اپنی قبر سے نکلے گا تو اس کا عمل ایک نہایت حسین اور خوشبودار صورت میں اس کے سامنے آئے گا۔ وہ اسے دیکھ کر کہے گا ” تم کیا چیز ہو، اللہ کی قسمیں تو تمہیں سراسر ایک سچا آدمی دیکھ رہا ہوں۔ “ وہ کہے گا میں تمہارا عمل ہوں “۔ پھر وہ اس کی نور اور جنت تک رہنمائی کرے گا۔ اس کے برعکس جب کافر اپنے قبر سے نکلے گا تو اس کا عمل ایک نہایت مکروہ اور بدبو دار صورت میں اس کے سامنے آئے گا وہ اس سے کہے گا تم کیا چیز ہو ؟ میں تو تمہیں سراسر ایک برا آدمی دیکھ رہا ہوں۔ “ وہ کہے گا : میں تمہارا عمل ہوں پھر وہ اسے لے کر جہنم میں جا پھینکے گا۔ (ابن کثیر) ۔
Ayah 10:10

دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 10:10 in the Quran reader

ان کی پکار اپنے خادموں کو یہ ہوگی سبحانک اللھم تیری ذات پاک ہے یا اللہ اور آپس میں ان کی ملاقات سلام اور خیر پکار ان کی یہ ہوگی الحمد اللہ رب العالمین یعنی ساری خوبی اللہ ہی کے لئے ہے جو سارے جہان کا مالک ہے3

ف 3۔ یعنی جنت میں جنتی لوگوں کی عبادت تسبیح وتحمید ہوگی جیسا کہ ایک حدیث میں ہے : ان اھل الجنۃ یلھمون الحمد والتسبیح کما تلھمون انفاسکم۔ کہ اہل جنت کے دلوں میں حمدو تسبیح کا اس طرح الہام ہوگا جس طرح یہاں تم کو سانس لینے کا الہام ہوتا ہے یعنی وہاں طبعی تقاضے کے تحت تسبیح وتحمید کریں گے۔ بعض روایات میں یہ بھی منقول ہے کہ جب اہل جنت ” سبحانک اللھم “ کہیں گے تو ان کے پاس ہر وہ چیز آجائے گی جس کی وہ اپنے رب سے خواہش کریں گے اور نیز تابعین (رح) سے منقول ہے کہ جب اہل جنت کو کسی چیز کی خواہش ہوگی تو وہ ” سبحانک اللھم “ کہینگے اسی وقت خدمتگار ان کے سامنے وہ چیز لے کر حاضر ہوجائینگے جس کی وہ خواہش کریں گے۔ مگر اہل تحقیق کے نزدیک یہ آثار صحیح نہیں ہیں۔ (کبیر) ۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : اوّل عجائب نعمتیں دیکھ کر کہیں گے پاک ذات یعنی سبحان اللہ اور جنت میں طور ملاقات یہی ہے۔ السلام علیکم جو دنیا میں مسلمان کرتے ہیں۔ (موضح) ۔
Ayah 10:11

وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 10:11 in the Quran reader

اور جس طرح سے اللہ تعالیٰ ان کی بھلائی کی دعا جلدی قبول کرتا ہے اگر برائی کی بھی اسی طرح جلدی سے قبول کرلے تو ان کی عمر ہی پوری ہوجائے گف 4 لیکن ہم برائی کی دعا جلدی قبول نہیں کرتے اور جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں ہے اور حشر نشر کے قائل نہیں ہیں اگر ان کو ہم اپنی شرارت میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیتے ہیں5

ف 4۔ یعنی اللہ کا غضب نازل ہو اور وہ فوراً ہلاک ہوجائیں۔ ابتدا سورة سے منکرین نبوت کے شبہات اور ان کے جوابات کا سلسلہ چلا آرہا ہے۔ یہاں سے ان کے دوسرے شبہ کا جواب دیا جا رہا ہے وہ کہا کرتے۔ اے اللہ ! اگر محمد ﷺ سچے ہیں تو ہم پر یا تو پتھر کی بارش ہو یا کوئی دوسرا دردناک عذاب آجائے “ اس آیت میں اسی شبہ کا جواب دیا ہے کہ اگر ایسا ہی ہو تو وہ فوراً ہلاک ہوجائیں۔ (کبیر) ۔ بعض علماء نے اس کی تفسیر میں یہ بھی لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے۔ انسان جب اپنے لئے یا دوسروں کے لئے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو اسے جلد قبول فرماتا ہے لیکن جب غصے یا رنج میں آکر اپنے منہ سے اپنے یا اپنے بچوں یا دوسروں کے لئے بددعا کے کلمات نکالتا ہے تو وہ انہیں قبول نہیں فرماتا بلکہ ڈھیل اور مہلت دیتا ہے کہ شاید وہ اپنی اصلاح کرلیں اور اگر ایسا کرے تو لوگ جلد ہی ہلاک ہوجائیں (کبیر۔ ابن کثیر) ۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یعنی آدمی چاہتا ہے کہ نیکی کا بدلہ شتاب ملے یا نیک دعا شتاب لگے۔ سوا اگر حق تعالیٰ شتاب کرے تو انسان اپنی بدی کے وبال سے فرصت نہ پاوے مگر اللہ تعالیٰ کا دونوں میں تحمل ہے تاکہ نیک لوگ تربیت پاویں اور بد لوگ غفلت میں پڑے رہیں۔ (از موضح) ۔ 5۔ حضرت جابر سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :” اپنے لئے، اپنی اولاد کے لئے، اور اپنے مالوں ( غلاموں اور جانوروں) کے لئے بددعا نہ کیا کرو۔ ایسا نہ ہو کہ تم کسی ایسے وقت میں بد دعا کردو جس میں اللہ تعالیٰ اسے قبول کرلے اور تم تباہ ہوجائو۔ (ابو دائود) ۔
Ayahs 10:12–13

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:12 in the Quran reader

اور جب آدمی کو کسی قسم کی تکلیف پہنچتی ہے تو بڑا یا بیٹھا یا کھڑا ہرحال میں ہم کو پکارتا ہے پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو وہی چال چلتا ہے جیسے کسی تکلیف میں جو اس کو پہنچی تھی ہم کو اس نے پکارا ہی نہ تھا ایسے6 ہی حد سے بڑھ جانے والوں کو ان کے کام بھلے معلوم ہوتے ہیں7

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 10:13 in the Quran reader

اور تم سے پہلے ہم نے کتنی قوموں کو غارت کردیا جب وہ ظالم بن گئے اور ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے اور وہ ایمان لانے والے نہ تھے اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی تھی ہم گنہگار لوگوں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں

ف 6۔ اس آیت میں انسان کے انتہائی عجز اور ضعف کی طرف اشارہ ہے جس سے اوپر کی آیت کے مضمون کی تاکید مقصود ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا عذاب آجائے تو انسان فوراً ہلاک ہوجائیں۔ (کبیر) ۔ مطلب یہ ہے کہ انسان اس قدر عاجز اور ناتواں ہے کہ جونہی کوئی تکلیف پہنچتی ہے لیٹے بیٹھے ہرحال میں اللہ کو پکارتا ہے لیکن اس کے بےوفائی کا یہ عالم ہے کہ جونہی تکلیف دور ہوتی ہے اسی غرور میں بدمست ہوجاتا ہے اور اپنی مصیبت سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتا۔ حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں کہ سکھ اور چین کی گھڑی میں اللہ کو یاد کرو وہ سختی اور تکلیف کی گھڑی میں تمہیں یاد رکھے گا۔ (فتح القدیر) ۔ 7۔ یعنی شیطان نے ان کے برے کاموں کو ان کی نظر میں بھلا کر دکھایا ہے۔ بہتر ہے کہ وہ اسے سمجھیں اور اپنی اس روش سے باز آجائیں۔
Ayah 10:14

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:14 in the Quran reader

پھر انکے تباہ ہونے1 کے بعد) ہم نے تم کو ان کا جانشین بنایا اس لئے کہ ہم دیکھیں تم کیسے کام کرتے ہو2

ف 1۔ اوپر بتایا کسان کی بددعا اور طلب پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب نہ اترنے میں سراسر اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے۔ پھر ان کا حال یہ ہے کہ تکلیف نازل ہونے پر اللہ تعالیٰ کے سامنے آہ زاری کرنے لگتے ہیں۔ اب یہاں انہیں تہدید کی تمہاری بداعمالیوں کے باوجود اگر اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹل جائے تو تمہیں بےفکر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ایک نہ ایک دن ان بداعمالیوں کی سزا تو مل کر ہی رہے گی۔ تمہیں چاہیے کہ پہلی مجرم قوموں کے حالات پر غور کرو کہ آخر ان کا انجام کیا ہوا۔ (کبیر۔ ابن کثیر) ۔ 2۔ یعنی اگر تم بھی ان کی طرح ظلم و شرارت پر کمربستہ رہے گے تو تمہاری تباہی بھی یقنی ہے۔
Ayah 10:15

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 10:15 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں کو ہماری صاف صاف آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن کو ہم سے ملنے کا خیال نہیں قیامت کے منکر ہیں) وہ (اے پیغمبر) تجھ سے کہتے ہیں اس قرآن کے سوا اور کوئی قرآن لے کر آیا اسی کو بدل ڈال3 کہہ دے میرا کیا مقدور جو میں اپنی طرف سے اس کو بدل ڈالوں میں تو حکم کا تابعدار ہوں جو مجھ پر آتا ہے میں اگر اپنے مالک کی نافرمانی کروں تو بڑے دن قیامت کے عذاب سے ڈرتا ہوں

ف 3۔ اس آیت میں نبوت پر ان کے تیسرے شہ بےکا جواب ہے (کبیر) مطلب یہ ہے کہ مشرکین آنحضرت ﷺ پر تہمت لگاتے کہ یہ قرآن اپنے پاس سے بنا کرلے آتے ہیں۔ اس لئے انہوں نے تجربہ اور امتحان کے لئے یا استھزا کے طور پر آنحضرت ﷺ سے مطالبہ کیا کہ اس قرآن کے علاوہ ایک دوسرا قرآن بھی بنا لائو جس میں ہمارے بتوں کی مذمت نہ ہو اور یا اسی میں کچھ ردوبدل کردو اور ہمارے عقائد و رسوم کے رد اور بتوں کی مذمت پر جو آیات مشتمل میں ان کو نکال دو ۔ اللہ تعالیٰ نے اسی کا جواب دیا ہے کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ ﷺ انہیں بتادیں کہ وحی الٰہی کے تابع ہوں اور اپنے پاس سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کرسکتا۔ (رازی)
Ayah 10:16

قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ٘ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:16 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دے اگر خدا چاہتا کہ میں قرآن نہ سنائو تو میں اس کو پڑھ کر تم کو نہ سناتا اور نہ اس کی خبر کرتا ہے تو اس نبوت سے پہلے مدتوں تم میں رہ چکا ہوں کیا تم کو عقل نہیں4

ف 4۔ اس آیت کا تعلق بھی اسی جواب سے ہے یعنی میری پچھلی ساری زندگی تمہارے سامنے ہے اس پوری مدت میں نہ تو میں نے کسی سے تربیت حاصل کی ہے نہ کسی کی صحبت میں رہا ہوں اور نہ کبھی جھوٹ ہی بولا ہے۔ تم سب مجھے ” امین “ کہہ کر پکارے ہے تو کیا میں اب یکایک اتنا ماہر اور جھوٹا بن گیا ہوں کہ اس قرآن کو خود تصنیت کرکے تمہارے سامنے خدائی کلام کے نام سے پیش کردوں۔ لہٰذا اگر اس قرآن کو خود میری تصنیت کردوہ کتاب قرار دے کر جھٹلا رہے ہو تو جھٹلانے سے پہلے کچھ تو عقل سے کام لو اور میری گزشتہ زندگی پر کو ب غور کرلو۔ (ازکبیر) ۔
Ayah 10:17

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:17 in the Quran reader

تو اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلانے بیشک (ایسے) گنہگار مراد کو پہنچنے والے نہیں5

ف 5۔ یعنی اگر یہ قرآن خود میں نے تصنیف کرلیا ہے جیسا کہ تم سمجھتے ہو تو میں نے خدا پر بہتان باندھا جس کے برابر کوئی گناہ نہیں۔ مگر اس کا خدا کی طرف سے ہونا اوپر کے دلائل سے ثابت ہوچکا ہے۔ اس کے بعد بھی اگر تم نے اس کی آیات اور مجرم کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔ (کبیر) ۔
Ayah 10:18

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 10:18 in the Quran reader

اور یہ (مشرک) اللہ تعالیٰ کے سوا ان کو پوجتے ہیں جو ان کا نقصان کرسکتے ہیں ن ہفائدہ (یعنے بت) اور کہتے ہیں اللہ کے پاس یہ ہمارے سفارشی ہوں گے (اے پیغمبر) کہہ دے کیا تم اللہ کو وہ بات بتلاتے ہو جس کو نہ وہ آسمانوں میں پہچانتا ہے نہ زمین میں7 وہ ان کے شرک سے پاک اور برتر ہے8

ف 6۔ یہی حال ہمارے زمانہ کے ان لوگوں کا ہے جو پیروں فقیروں کو مانتے ہیں اور مردہ اولیا اللہ کی قبروں کو سجدہ کرتے اور ان پر چڑھا وے چڑھاتے ہیں۔ انہیں سمجھانے کے لئے جب کوئی بات کی جاتی ہے تو وہ یہی دلیل پیش کرتے ہیں کہ ہم ان بزرگوں کو یہ سمجھ کر تو سجدہ نہیں کرتے اور نہ ان سے مرادیں مانگتے ہیں کہ یہ خود خدا ہیں بلکہ انہیں صرف خدا کے ہاں اپنا سفارشی سمجھتے ہیں کیونکہ ان کا خدا پر اتنا زور ہے کہ وہ ان کی کوئی سفارش سمجھتے ہیں کیونکہ ان کا خدا پر اتنا زور ہے کہ وہ ان کی کوئی سفارش رد نہیں کرسکتا۔ اسی چیز کا جواب اگلے جملہ میں دیا جا رہا ہے۔ (وحیدی) ۔ 7۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو پہنچانتا ہے۔ اگر معاذ اللہ تمہارے یہ بت یا زندہ و مردہ معبود اس کے شریک یا اس کے سفارشی ہوتے تو وہ انہیں بھی ضرور پہنچانتا اور جب وہ ان کے سفارشی ہونے سے انکار کر رہا ہے تو معلوم ہوا کہ ان کی کوئی حقیقت نہیں اور تمہارا نہیں ماننا، انہیں سجدہ کرنا، ان کی قبروں پر چڑھاوے چڑھانا اور ان سے مرادیں طلب کرنا قطعی بےہودہ اور لغو فعل ہے۔ 8۔ اللہ تعالیٰ کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ اسے کسی شریک کی ضرورت ہے کیونکہ وہ خود اتنا حلیم و حکیم اور عزیز و غالب ہے کہ پوری کائنات کا نظام محض اس کے اشارے اور حکم پر چل رہا ہے۔ کسی دوسری ہستی کی اس کے سامنے کوئی مجال نہیں ہے۔
Ayah 10:19

وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:19 in the Quran reader

اور شروع میں لوگ ایک ہی راہ پر تھے پھر جدا جدا مذہب ہوگئے اور9 اور اگر اللہ تعالیٰ کی ایک بات آگے نہ ہوچکی ہوتی تو جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں ان کا فیصلہ کب کا ہوگیا ہوتا1

ف 9۔ اس زمانے کے ملحد فلسفیوں اور تاریخ دانوں کے برعکس قرآن یہ بار بار اعلان کرتا ہے کہ انسانیت کی ابتداء کفر یا شرک سے نہیں بلکہ خالص توحید سے ہوئی۔ ابتدا میں تمام انسان ایک ہی دین۔ اسلام۔ رکھتے تھے اور ایک ہی ان کی ملت تھی لیکن آہستہ آہستہ انہوں نے اس دین سے انحراف کیا اور آپس میں اختلاف کرکے اپنی مرضی کے ادیان اور قوانین گھڑ لئے۔ (نیز دیکھئے بقرہ آیت 312) 1۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی یہ فیصلہ نہ کرلیا ہوتا کہ دنیا میں لوگوں کو مہلت دی جائے گی تاکہ اپنی عقل و فہم سے کام لے کر جس راستہ کو چاہیں اختیار کریں اور جس راستہ کو چاہیں چھوڑ دیں اور قیامت ہی کی دن انہیں ان کے اچھے یا برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا تو کبھی کا اللہ تعالیٰ حقیقت کو بےنقاب کرکے ان لوگوں کو پکڑ چکا ہوتا جو ایمان کا راستہ چھوڑ کر کفرو شرک کے راستہ پر چل رہے ہیں۔ (از ابن کثیر۔ قرطبی) ۔
Ayah 10:20

وَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ۠ Open ayah 10:20 in the Quran reader

اور یہ (مکہ کے مشرک) کہتے ہیں اس پیغمبر پر اگر یہ سچا پیغمبر ہے اس کے مالک کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری کہہ دے غیب کی خبر اللہ ہی2 کو معلوم ہے اور بس تو انتظار کرتے رہو میں بھی تمہایر ساتھ انتظار کر رہا ہوں3

ف 2۔ مثلاً مکہ کے پہاڑ سونے کے کردیتا یا ہمارے باپ دادا کو زندہ کرکے ہمارے سامنے لا کھڑا کرتا یا کوئی فرشتہ اتار دیتا جو ہمارے ساتھ بازاروں کا اور گلی کوچوں میں چل پھر کر اعلان کرتا کہ واقعی محمد (ﷺ) کو اللہ ہی نے اپنا پیغمبر بنا کر دنیا میں بھیجا ہے۔ 3۔ یعنی اس کے سوا کوئی غیب کی بات نہیں جانتا۔ لہٰذا مجھے معلوم نہیں کہ وہ اس قسم کی کوئی نشانی اتارے گا کہ نہیں۔ اور اگر اتارے گا تو کب اتارے گا۔ نشانی اتارنا یا نہ اتارنا اس کی مرضی پر موقوف ہے۔ اگر تم سمجھے ہو کہ وہ نشانی اتارے گا تب تم ایمان لائو گے تو بیٹھے انتظار کرتے رہو میں بھی دیکھوں گا کہ تمہارا یہ مطالبہ پورا ہوتا ہے یا نہیں ؟۔
Ayah 10:21

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَا١ؕ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا١ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ Open ayah 10:21 in the Quran reader

اور جب لوگوں کو تکلیف لگ جاتی ہے اس کے بعد ہم ان کو اپنی مہربانی کا مزہ چکھاتے ہیں آرام اور راحت دیتے ہیں تو ہماری آیتوں میں چال بازی4 کرنے لگتے ہیں (اے پیغمبر) کہہ دے اللہ کی5 چال بہت تیز ہے اور ہمارے فرشتے تمہاری چالیں سب لکھتے جاتے ہیں6

ف 4۔ انہیں جھٹلاتے اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ (ابن کثیر) ۔ 5۔ اللہ کی چال سے مراد ہو سزا ہے جو وہ مشرکین کو ان کی مکاریوں اور چالبازیوں پر دیتا ہے اور وہ ہے اس کا انہیں ان کا باغیانہ روش پر چھوٹ دینا اور انہیں اپنے رزق اور نعمتوں سے نوازتے رہنا تاکہ وہ جی بھر کر اپنا نامہ اعمال سیاہ کرتے رہیں۔ 6۔ یعنی جب تمہارا نامہ اعمال خوب سیاہ ہوجائے گا تو اچانک موت کا پیغام آجائے گا اور تم اپنے اعمال کا حساب دینے کے لئے دھر لئے جائو گے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : سختی کے وقت آدمی کی نظر اسباب سے اٹھ کر اللہ پر رہتی ہے جب کام بن گیا تو لگا اسباب پر نگاہ رکھنے۔ سو ڈرتا نہیں کہ اللہ پھر ایک اسباب کھڑا کردے۔ اسی تکلیف کا اس کے ہاتھ میں سب اسباب تیار ہیں۔ ایک اسی کی صورت آگے اور فرمائی۔ (موضح) ۔
Ayah 10:22

هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 10:22 in the Quran reader

وہی خدا ہے جو خشکی اور تری زمین اور پانی میں تم کو لئے پھرتا ہے یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور موافق ہوا سے وہ لوگوں کو لے کر چلتی ہیں اور لوگ اس پر خوش ہوجاتے ہیں (ایک ہی ایکا) زور کی آندھی چلنے لگتی ہے اور ہر طرف سے پانی کی لہر ان پر آپہنچتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اب بلا میں گٹھ گئے (طوفان سے ہلاک ہوئے) بس اس وقت خالص خدا ہی کو مان کر اس سے دعا کرنے لگتے ہیں اے خدا اگر تو ہم اس بلا سے چھڑا دے تو بیشک ہم تیرے شکر گزار ہوں گے8

ف 7۔ اور اپنے تمام بتوں اور معبودوں کو بھول جاتے ہیں اور صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے آہ وزاری کرتے ہیں۔ (ابن کثیر) ۔ 8۔ یہ تو اللہ تعالیٰ نے مشرکین عرب کا حال بیان فرمایا مگر ہمارے زمانے کے بعض نام کے مسلمانوں کا حال اس سے بھی بدتر ہے ان پر جب کوئی بڑی مصیبت آتی ہے مثلاً دریا میں ڈوبنے یا آگ میں جلنے لگتے ہیں تو بھی شرک سے توبہ نہیں کرتے اور وہی ” یا خواجہ خضر “ یا علی مدد کا نعرہ لگاتے ہیں بلکہ مرتے اور ڈوبتے وقت بھی اللہ کو نہیں پکارتے۔ لاحول ولا قوہ الا باللہ۔ (ازوحیدی)
Ayah 10:23

فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:23 in the Quran reader

پھر جب خد ان کو اس مصیبت سے چھڑا دیتا ہے تو ملک میں ناحق کی شرارت کرنے لگتے ہیں لوگو تمہاری شرارت کا وبال خود تمہاری جان پر پڑے گا یہ دنیا کی زندگی کا چند روزہ مزہ ہے پھر آخر تم کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے ہم تم کو جو تم کرتے تھے اس کی سزا دے کر جتلا دیں گے9

ف 9۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ” مکرو فریب “ عہد شکنی اور بغی (فساد و شرارت) ایسے کام ہیں جن کا وبال ان کے کرنیوالوں پر ہی پڑتا ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (درمنشورِ ) نیز حدیث میں ہے کہ یہ گناہ ایسے ہیں کہ دنیا میں بھی ان کی سزا ملے گی اور آخرت میں بھی (ابن کثیر) ۔
Ayah 10:24

اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤ١ۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 10:24 in the Quran reader

دنیا کی زندگی مثال10 ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا پھر زمین کا سبزہ اس کی وجہ سے (خوب) گھنا ہوا نکلا کچھ آدمیوں کے کھانے کا کچھ جانوروں کا یہاں تک کہ جب زمین نے اپنا سنگار پورا کرلیا اور دلہن کی طرح بن سنور گئی اور وہاں کے رہنے والے سمجھے کہ اب کیا ہے1 لے ڈالا (ایک ہی ایکا) رات یا دن کو ہمارا عذاب اس ان2 پہنچا ہم نے کاٹ کر ساری کھیتی تباہ کر کے اس کو ایسا کردیا جیسے کل وہاں کھیت ہی نہ تھا3 جیسے ہم نے یہ مثال بیان کی ایسے ہی ہم سوچنے والوں کے لئے اپنی آیتیں کھول کر بیان کرتے ہیں4

ف 10۔ یعنی یہ دنیا جس کی لذتوں میں بدمست ہو کر تم ہماری آیتوں کو جھٹلا رہے ہو، غیر ثابت اور جلد فنا ہوجانے میں اس کی مثال ایسی ہے… 1۔ یعنی اس سے فائدہ اٹھانے اور اس سے غلے، میوے اور سبزیاں اگانے کو ہمیں پوری قدرت حاصل ہے۔ 2۔ یعنی پک کر زرد ہوگئی پھر کٹی یا کوئی فوج آپڑی کہ کچی کاٹ ڈالی یعنی موت ناگہانی آتی ہے۔ (از موضح) ۔ 3۔ یہی وہ انسانی زندگی کا ہے۔ روح پانی کی طرح آسمان سے اترتی ہے بدن اس سے مل کر خوب پھلتا پھولتا ہے جب جوانی پر آتا ہے، علم وہ ہنر سیکھتا ہے اور امید ہوجاتی ہے کہ چند روز جی کر مزے اڑائیں گے تو یکایک موت آتی ہے اور تمام امیدوں کو خاک میں ملا دیتی ہے اور ایسے معلوم ہوتے ہیں کانھالم تکن اسی لئے حدیث میں آیا ہے کہ قیامت کے روز اس شخص کو جو دنیا میں سب سے زیادہ خوشحال تھا آگ میں ایک غوطہ دے کر نکالا جائے گا پھر اس سے پوچھا جائے گا ” کیا تم نے کبھی خوشحالی دیکھی ؟ “ وہ جواب دے گا ” نہیں “ پھر اس شخص کو جو دنیا میں سب سے بدحال تھا، نعمت (جنت) میں غوطہ دے کر نکالا جائے گا پھر اس سے پوچھا جائے گا کیا تم نے کبھی بدحالی دیکھی ؟ وہ جواب دے گا ” نہیں “۔ (ابن کثیر) ۔ 4۔ تاکہ ان پر غور کریں اور ان سے سبق لیں۔
Ayah 10:25

وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ١ؕ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 10:25 in the Quran reader

اور اللہ (لوگوں کو) اس گھر کی طرف بلاتا ہے جو ہلاکت5 اور تباہی سے) بچا ہوا ہے اور جس کو چاہتا ہے وہ راہ پر لگا دیتا ہے

ف 5۔ اوپر کی آیت میں دنیا اور اس کے سرعت زوال کا ذکر کرکے لوگوں کو اس کی طرف مائل ہونے سے نفرت دلائی۔ اب اس آیت میں جنت کی ترغیب دی اور جنت کا نام ” دار السلام “ رکھا یعنی جو ہر قسم کے ذلت و آلام سے پاک ہے اور اس میں سلامتی ہی سلامتی ہے۔ فرشتے ہر طرف سے اس میں سلام کریں گے اور اہل جنت بھی ایک دوسرے کو سلام کا تحفہ پیش کریں گے۔ تحتھم فیھا سلام۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے ذریعہ لوگوں کو جنت کی دعوت دی ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری اور میری امت کی مثال ایسی ہے کہ ایک بادشاہ نے ایک محل بنایا پھر اس میں ایک شاندار دعوت کا اہتمام کیا اور لوگوں کو بلانے کے لئے اپنا ایک قاصد بھیجا۔ بعض لوگوں نے اس قاصد کو کہا مانا ( اور محل میں آکر خوب مزے مزے کے کھانے کھائے) اور بعض لوگوں نے اس کی بات نہ مانی ( اور کھانوں سے محروم رہے) ۔ اس مثال میں بادشاہ سے مراد اللہ تعالیٰ ہے، محل سے مراد جنت اور قاصد سے مراد میں (محمد رسول اللہ ﷺ ) ہوں۔ لہٰذا جو آپ ﷺ کی بات مانے گا وہ اسلام میں داخل ہوگا اور جو اسلام میں داخ (رح) ہوگا وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو جنت میں داخل ہوگا وہ اس کی نعمتوں سے لذت اندوز ہوگا۔
Ayah 10:26

لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ١ؕ وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:26 in the Quran reader

جن لوگوں نے بھلائی کی ان کو بھلای اس کے بدلے میں ملے گی اور کچھ بڑھ کر بھی6 اور ان کے چہروں پر نہ کا ایک چھانے گی اور نہ رسوائی (بلکہ خوشی اور روشنی) یہی لوگ جنتی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (یعنے جنت میں)

ف 6 ۔ جنت کی دعوت دینے کے بعد اس کی سعادتوں کا ذکر فرمایا دیا۔ (ابن کثیر) اس آیت کریمیہ میں ” الحسنی “ سے مراد جنت اور اس کی نعمتیں ہیں اور ” زیادہ “ سے اللہ تعالیٰ کا یدار جیسا کہ متعدد صحیح احادیث میں آنحضرت ﷺ نے اس کی یہی تفسیر فرمائی ہے مثلاً حضرت صہیب ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی اور پھر فرمایا : جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو ایک منادی کرنیوالا پکارے گا۔” اے جنت والو ! اللہ نے تم سے ایک وعدہ کیا تھا وہ اس آج پورا کرنا چاہتا ہے۔ وہ عرض کریں گے وہ کونسا وعدہ ہے کیا اس نے ہمارے معازین (نیک اعمال کے تول) بھاری نہیں کردئیے ؟ یا اس نے ہمیں سرخرو بنا کر جنت میں داخل اور آگے سے محفوظ نہیں کردیا۔ اس وقت پردہ اٹھے گا اور اللہ کا دیدار نصیب ہوگا۔ اللہ کی قسم روایت باری تعالیٰ سے زیادہ پسندیدہ اور آنکھوں کو سرور بخشنے والی چیز ان کے لئے کوئی نہ ہوگی۔ (مسلم) اس بنا پر اکثر صحابہ ؓ ، تابعین ؓ اور بعد کے علما نے بھی اس کی یہی تفسیر کی ہے۔ (نیز دیکھئے سورة القیامہ آیت 32) ۔
Ayah 10:27

وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:27 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے برائیاں کہیں تو برائی کا بدلہ دیسی ہی برائی ان کو برائی سے بڑھ کر سزا نہ ملے گی اور سروائی ان پر چھا جائے گی اللہ سے ان کو کوئی بچانے والا نہیں7 جیسے ان کے مونہوں پر اندھیری رات کے ٹکڑے اوڑھا دیئے ہیں یہی لوگ دوزخی ہیں وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے

ف 7 ۔ اوپر محسنین کا ذکر فرمایا اب ان لوگوں کی حالت بیان کی جو سینئات کا ارتکاب کرتے ہیں۔ (کبیر) دراصل تو دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بچانے والا نہیں ہے مگر دنیا میں انسان بہت سے سہارے تلاش کرلیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ ان کے ذریعہ میں نے اپنی مراد حاصل کرلی ہے مگر آخرت میں اس قسم کے اسباب سب ختم ہوجائیں گے اور ہر ایک کو یہ یقین ہوجائے گا کہ اب اللہ کی پکڑ اور اس کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں ہے جیسا کہ سورة قیامہ میں ہے “۔ کلا لا ولد، الھار بامہ یومئذ المستقر “ ہرگز کوئی پناہ کی جگہ نہ ہوگی اور رب ہی کے پاس اس روز ٹھکانا ملے گا۔ (ابن کثیر) ۔
Ayah 10:28

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 10:28 in the Quran reader

اور جس دن ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے یعنی قیامت کے دن پھر ہم مشرکوں سے کہیں گے تم اور جن کو تم نے خدا کا شریک بنایا تھا اپنی جگہ8 ٹھہرے رہو پھر ان کے آپس میں ہم بگاڑ کردیں گے9 اور جن کو انہوں نے (خدا) کا شریک بنایا تھا وہ اپنے پوجتے والوں سے کہنے لگیں گے تم جھوٹے ہو تم ہی کو نہیں پوجتے تھے

ف 8 ۔ اس آیت میں بھی کفار کی فضیحت کا بیان ہے۔ (کبیر) یعنی مشرکین اور ان کے معبودوں کو ایک جگہ جمع ہونے کا حکم دیں گے تاکہ ان کے معاملے کا فیصلہ کیا جائے۔9 ۔ یعنی ان کے درمیان دنیا میں جو دوستی یا عبدیت و معبودیت کا تعلق تھا وہ منقطع ہوجائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ مشرکین تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بت ہمارے شفیع بنیں گے مگر یہ قیامت کے دن ان سے اظہار برأت کرینگے اس میں مشرکین کی انتہائی رسوائی کی طرف اشارہ ہے۔ (کبیر) ۔
Ayah 10:29

فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِیْنَ Open ayah 10:29 in the Quran reader

تو ہم میں تم میں اللہ کی گواہی بس ہے ہم کو تمہارے پوجے کی مطلق خبر نہ تھی1

ف 1 ۔ جتنے مشرک ہیں وہ درحقیقت اپنے خیال اور وہم شیطان کی پرستش کرتے ہیں گونام نیک لوگوں کا لیتے ہیں۔ قیامت کے دن معلوم ہوگا کہ وہ نیک لوگ ان سے کس قدر بیزار ہوں گے۔ (از موضح) ۔ اس سے ثابت ہوا کہ قیامت کے دن ان معبودوں کا یہ کہنا بالکل صحیح ہوگا کہ تم ہماری پرستش کرتے تھے اور چونکہ ان کے ظاہری معبود بےحس بت تھے اس لئے ان کا یہ کہنا بھی صحیح ہے کہ ہم تمہاری عبادت بالکل بیخبر تھے۔ پس ان دونوں جملوں میں تعارض یا تضاد نہیں ہے۔ (کبیر) ۔
Ayah 10:30

هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 10:30 in the Quran reader

اس جگہ ہر شخص جانچ لے گا2 جو عمل اس نے آگے بھیجا3 اور سب لوگ اپنے سچے مالک خدا کی طرف لوٹائے جائیں گے اور جتنی باتیں جھوٹ باندھتے تھے وہ سب ہوا ہوجائیں گی

ف 2 ۔ یعنی خوب جان لے گا اور مشاہدہ کرلے گا کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے اور اس کے اعمال کا اسے کیا بدلہ ملتا ہے۔ پس یہاں مجازاً اتبلا بمعنی انکشاف ہے۔ من قبیل اطلاق السبب علی المسبب۔ 3 ۔ مثلاً یہ کہ بت یا معبود اللہ کے مقرب ہیں اور یہ اللہ سے ہماری سفارش کریں گے تو ان کے سفارش لازماً قبول کی جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ مطلب یہ ہے کہ اس قسم کی تمام جھوٹی اور لغو باتیں ہوا ہوا جائینگی اور ان کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی۔ حضرت عبد اللہ ﷺ بن مسعود سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن ان لوگوں کے سامنے ان کے معبود لائے جائیں گے۔ وہ آگے آگے اور یہ ان کے پیچھے پیچھے چلیں گے یہاں تک کہ جہنم میں داخ (رح) ہوجائیں گے پھر نبی ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (در منشور) مگر اس حدیث پر یہ آیت اسی وقت شاہد بن سکتی ہے۔ جبکہ ” تبلو “ کی بجائے ” تتلو “ پڑھا جائے۔ ای تتبع کل نفس ما اسلفت کیونکہ قیامت کے روز جنت یا جہنم کی طرف انسان کا عمل اس کی رہنمائی کرے گا۔ (رازی) ۔
Ayah 10:31

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 10:31 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ان لوگوں سے) پوچھ تو سہی تم کو آسمان اور زمین سے کون روزی دیتا ہے4 اور تمہارے کانوں اور آنکھوں کا کون مالک ہے5 اور مردے سے زداہ اور زادے سے مردہ کون نکالتا ہے6 اور دنیا کے کاموں کو کون چلاتا ہے کون انتظام کرتا ہے تو اس کے جواب میں یہ مشرک ضرور کہیں گے کہ اللہ7 پھر تو یہ کہہ اچھاتو پھر تم شرک سے کیوں نہیں بچتے8

ف 4 ۔ بت پرستوں کے فضائح بیان کرنے کے بعد اب یہاں سے بت پرستی کی تردید میں دلائل کا بیان شروع ہوا ہے۔ (کبیر) الغرض یہاں تین چیزوں کو بطور دلیل پیش کیا ہے۔ اول یہ کہ رزق اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے کیونکہ رزق کا اصل سبب بارش اور زمین کی نباتات ہے اور یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں جس سے ثابت ہوا کہ رزق اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ 5 ۔ دوم حواس جن میں سب سے اشرف سمع اور بصر ہیں جو انسان کے علم کا ذریعہ بنتے ہیں اور یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں اگر چاہے تو تمہیں اندھا بہرا کردے۔ (کبیر) ۔ 6 ۔ سوم۔ موت و حیاۃ۔ جیسے جاندار سے نطفہ یا سرسبز لہلہاتی کھیتی سے خشک دانہ وغیرہ۔ 7 ۔ اللہ تعالیٰ ہی ان تمام چیزوں کا مالک ہے اسی کا سب اختیار ہے اور اسی نے سب کو پیدا کیا ہے۔ الغرض دنیا و آخرت کی تمام خیرات اللہ کی رحمت اور اس کے احسان سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ (کبیر) ۔ 8 ۔ یا اس سے کیوں نہیں ڈرتے ؟ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے وقت کے کافر بھی اس بات کے قائل تھے کہ کوئی اللہ کے برابر نہیں اور کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا مگر بتوں (یا بزرگوں) کو اس کی جناب میں اپنا وکیل اور وسیلہ سمجھ کر مانتے تھے اس سے کافر ہوگئے۔ سو اب بھی جو کوئی کسی مخلوق کے لئے عالم میں تصرف ثابت کرے اور اپنا وکیل ہی سمجھ کر اس کو مانے اس پر شرک ثابت ہوجاتا ہے گو اللہ کے برابر نہ سمجھے اور اس کے مقابلہ کی طاقت اس کو نہ ثابت کرے۔ (سلفیہ) ۔
Ayah 10:32

فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 10:32 in the Quran reader

پھر یہی تو اللہ ہی تمہارا سچا مالک جو یہ سب کام کرتا ہے اور سچ بات معلوم ہوجانے پر اس کو نہ ماننا گمراہی نہیں تو پھر کیا ہے تم کدھر پھرے جا رہے ہو9

ف 9 ۔ یعنی اس کے باوجود تمہارا دل کیسے مانتا ہے کہ حق کو چھوڑ کر گمراہی اور توحید کو چھوڑ کر شرک کی راہ اختیار کرو ؟
Ayah 10:33

كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:33 in the Quran reader

(اے پیغمبر) اسی طرح10 تیرے مالک کا فرمانا ان گنہگاروں پر پورا ہوا کہ وہ ایمان لانے والے نہیں11

ف 10 ۔ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ کا رب ہونا ثابت ہوا یا جس طرح یہ ثابت ہوا کہ حق کے بعد گمراہی کے سوا کچھ نہیں یا جس طرح یہ ثابت ہوا کہ یہ لوگ راہ راست پھرے ہوئے ہیں۔ (کبیر۔ ابن کثیر) ۔ 11 ۔ یعنی چونکہ اللہ کے علم میں تھا کہ یہ لوگ سرکش و نافرمان ہوں گے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی قسمت میں ایمان لکھا ہی نہیں۔ (از موضح) ۔
Ayah 10:34

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 10:34 in the Quran reader

(اے پیغمبر) سے پوچھ تمہارے (ھہرائے ہوئے) شریکوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو مخلوق کو شروع میں پیدا کرے پھر فنا کر کے) اس کو دوبارہ پیدا کرے کہ دے (اللہ شروع میں مخلوق کو پیدا کرتا ہے پھر مار کر) دوبارہ ان کو پیدا کریگا تو تم کدھر الٹے جا رہے ہو12

ف 12 ۔ یعنی اس کے باوجود تم کیسے گوارا کرتے ہو کہ توحید کو چھور کر شرک کی الٹی راہ اختیار کرو جو سراسر ” افک “ یعنی جھوٹ ہے۔ (کبیر) ۔
Ayah 10:35

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَهْدِیْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیْۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّهْدٰى١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 10:35 in the Quran reader

( اے پیغمبر) ان سے پوچھ تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو سچی راہ پر لگا سکے وہ اس کا کیا جواب دیں گے تو ہی کہ دے اللہ سچی رہ پر لگاتا ہے کیا جو سچی راہ پر لگاتا ہے اس کی تابعداری بہتر ہے یا اس کی جس کو خود راہ معلوم نہیں13 مگر ہاں جب وہ راہ پر لگا یا جائے تو تم لوگوں کو کیا ہوا ہے کیسا انصاف کرتے ہو1

ف 13 ۔ یعنی جو خود ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں ہوسکتا۔ اس سے مراد بت ہیں۔ 1 ۔ کیسے فیصلے کرتے ہو ؟ ان کے باطل مذہب غلط مسلک پر تعجب کا اظہار ہے۔ (کبیر) ۔
Ayah 10:36

وَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:36 in the Quran reader

اور ان مشرکوں میں اکثر نرے گمان (اٹکل) پر چلتے ہیں2 تو گمان کہیں یقین کا کام دے سکتا ہے3 بیشک اللہ جانتا ہے جو وہ نادانی اور حماقت کی باتیں کر رہے ہیں

ف 2 ۔ یعنی ان مشرکین میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو اللہ تعالیٰ کا قرار تو کرتے ہیں مگر اس اقرار کی بنیاد ظن اور تخمین پر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے متعلق اپنے اسلاف سے سنی سنائی باتوں کی اتباع کرت ہیں۔ ورنہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ان کی بت پرستی کی بیاد کسی دلیل پر نہیں ہے بلکہ اپنے باپ دادا کی پیروی کر رہے ہیں اور انہوں نے یہ گمان کرلیا ہے کہ ہمارے باپ دادا ٹھیک تھے۔ اس صورت میں اکثر بمعنی کل ہوگا۔ (کبیر) ۔ یہی حال ہمارے زمانہ کے جاہل مسلمانوں کا ہے جو بزرگوں کی قربیں پوجتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ بزرگ اور اولیاء اللہ کے کارخانہ کے مختار ہیں۔ ایسے ہی بہت سے احمقوں نے شاہ پری، جن پری وغیرہ بنا رکھے ہیں۔ (از سلفیہ) ۔ 3 ۔ یعنی دین کی بنیاد تو یقین پر ہے۔ محض اٹکل پچواء۔ باپ دادا کی اندھی تلقید پر نہیں ہے۔ یہاں ” ظن “ سے مراد وہ ظن ہے جو حسن کے خلاف ہو ورنہ ” ظن “ کے معنی یقین بھی آجاتے ہیں۔ (دیکھئے سورة بقرہ آیت 04) اور جو خبر متواتر نہ ہو اس کو بی اہل اصول ظنی کہہ دیتے ہیں۔ اگر وہ صحیح اور حسن کے درجہ میں ہو تو واجب العمل ہیں۔ یہ امت محمدیہ کا اجماعی اور متفقہ عقیدہ ہے۔ اس لئے حدیث کو محض ظنی کہہ کر ہم رد نہیں کرسکتے۔
Ayah 10:37

وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫ Open ayah 10:37 in the Quran reader

اور یہ قرآن ایسا نہیں ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اس کو اپنے دل سے بنا لے اس کی ایک سورت بھی کسی سے نہ بن سکی بلکہ وہ اگلی کتابوں کو سچ بتاتا ہے اور ان میں جو باتیں ہیں ان کو کھول کر بیان کرتا ہے4 کوئی شبہ نہیں وہ اللہ کی طرف سے اترا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے

ف 4 ۔ تین ید یہ۔۔ توراۃ و انجیل اور جملہ کتب الہیہ شامل ہیں یعنی ان کو چاہیے کہ ظن وتخمین کی پیروی چھوڑ کر اسی کتاب کی اتباع کریں۔ جو دلائل و برامین پر مشتمل ہے اور عقائد وا اعمال میں سے ہر چیز کو نہایت توضیح اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ اس کا تعلق آیت ” انت بقران غیر ھذا او بدلہ “ سے ہے یعنی قرآن پاک ایسا معجزہ کامل ہے کہ میں کیا کوئی بھی اس کی نظیر اپنی طرف سے تصنیف کرکے پیش نہیں کرسکتا۔ واللہ اعلم (روح المعانی) ۔
Ayah 10:38

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:38 in the Quran reader

کیا یہ لوگ قرآن کی نسبت کہتے ہیں کہ اس کو پیغمبر نے بنا لیا ہے5 (اے پیغمبر) کہہ دے اچھا اگر تم سچے ہو تو ایک سورت تو اس کی سی بنا لائو اور اللہ کے سوا جن جن کو تم بلا سکو اپنی مدد کے لئے بلا لو

ف 5 ۔ یعنی اگر اس کے باوجود تمہارا یہ خیال ہے کہ … اور پیغمبر نے جھوٹ بول کر کہہ دیا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔
Ayah 10:39

بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا یَاْتِهِمْ تَاْوِیْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:39 in the Quran reader

ہوا یہ کہ ان لوگوں نے جس کو سمجھ نہ سکے اس کو جھٹلایا6 اور ابھی تک اس کی حقیقت ان پر کھلی نہیں7 گلے لوگوں (کافروں) نے بھی اسی طرح (جیسے انہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا8 تو (اے پیغمبر) دیکھ ان ظالموں کا کیسا انجام ہوا9

ف 6 ۔ محمد ﷺ نہ تو پڑھے لکھ ہیں اور نہ انہوں نے کسی عالم کی صحبت پائی ہے۔ ان کے مقابلے میں تم میں بڑے بڑے شاعر اور نامور ادیب موجود ہیں۔ جنہیں اپنی زبانی دانی اور فصاحت و بلاغت پر غرہ ہے۔ ان سب کو ہلا کر ایک ہی ایسی صورت بنا کر پیش کردو جس میں قرآن کی سی فصاحت و بلاغت اور دوسری کو خوبیاں پائی جاتی ہوں۔ اگر تم ایسا کرسکو تو تمہارا یہ گمان صحیح ہوسکتا ہے کہ یہ قرآن بھی محمد ﷺ نے از خود یا دوسرے کی مدد سے تصنیف کرلیا ہے۔ لیکن اگر تم ایسا نہ کرسکو اور یقینا تم ایسا نہ کرسکے گے تو معلوم ہوا کہ تمہارا یہ گمان سراسر بےبنیاد اور فسدو عناد اور تعصب پر مبنی ہے۔ نیز دیکھئے بقرہ آیت 32) ۔ 7 ۔ یعنی یہ لوگ جو قرآن کو جھٹلا رہے اور اس پر ایمان لانے سے انکار کرر ہے ہیں، اس کی بنیا دجہالت، ہٹ دھرمی اور باپ دادا کی اندھی تقلید پر ہے۔ انہوں نے نہ اس پر کبھی غور کیا اور نہ اس کے مضامین و مطالب سمجھنے کی کوشش کی۔ محض یہ دیکھ کر کہ قرآن ان کے موروثی عقائد و خیالات کی تردید کرتا ہے۔ انہوں نے جھٹ سے اس کا انکار کردیا۔ ورنہ قرآن کا ایسے حقائق کے بیان پر مشتمل ہونا جو ان کے فہم سے بالاتر ہیں اور ان کے ہدف ادراک سے باہر ہیں کسی طور وجہ تکذیب نہیں بن سکتا۔ (روح۔ کبیر) ۔ یہی حال ان حضرات کاتبی ہے جو محض اپنے گزرگوں اور اماموں کی تقلید کے چکر میں پھنس کر صحیح سے صحیح حدیث سے انکار کردیتے ہیں حالانکہ اگر وہ ان صحیح احادیث پر غور کرتے اور انہیں سمجھنے کی کوشش کرتے تو کبھی کسی صحیح حدیث کو رد نہیں کرسکتے تھے۔ (کذافی الوحیدی) ۔ 8 ۔ یعنی ان کے قرآن کو جھٹلانے کی اگر کوئی بنیاد ہے تو وہ یہ کہ وہ اس کی تاویل و تفسیر سمجھنے سے قاصر ہیں اور قرآن جن اخبار غیبیہ پر مشتمل ہے ان کا وقوع ان کی آنکھوں کے سامنے نہیں ہے۔ ورنہ اگر وہ غور و فکر کرتے اور جن امور کی پیش گوئی قرآن میں کی گئی ہے ان کے وقوع کا انتظار کرتے تو ان کا انکار از خود ہی زائل ہوجاتا۔ (ازروح المعانی۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں۔ یعنی جو وعدہ ہے اس قرآن میں وہ ابھی ظاہر نہیں ہوا۔ (موضح) ۔ 9 ۔ سب کے سب تباہ و برباد ہوئے۔ اسی طرح اب یہ بھی اپنی تباہی و بربادی کا سامان کر رہے ہیں۔ (کبیر) ۔
Ayah 10:40

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 10:40 in the Quran reader

اور ان کافروں میں بعضے ایسے ہیں جن کے دل میں اس کا یقین ہے اور بعضے ایسے ہیں جن کے دل میں اس کا یقین نہیں10 اور (اے پیغمبر) تیرا مالک شریروں کو خوب جانتا ہے11

ف 10 ۔ یعنی ان میں دو طرح کے لوگ ہیں۔ بعض ایسے ہیں جنہیں یقینی طور پر معلوم ہے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہی اور اس جیسی معجز کتاب تصنیف کردینا کسی انسان کے بس میں نہیں ہے مگر وہ ہٹ دھرمی سے اس کی تکذیب کئے جار ہے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو بالکل عقل کے اندھے اور سمجھ کے کورے ہیں انہیں اس قرآن کے خدائی کلام ہونے کا واقعی یقین نہیں ہے۔ اس جملے کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کافروں میں سے بعض ایسے ہیں جو آئندہ چل کر اس قرآن پر ایمان لے آئینگے اور بعض ایسے ہیں جو اپنے کفر پر مصر رہیں گے۔ (کذافی الروح) ۔11 ۔ جو خواہ مخواہ تعصب اور ہٹ دھرمی سے قرآن کے برحق ہونے سے انکار کئے جا رہے ہیں حالانکہ دل میں ان کے برحق ہونے کا یقین رکھتے ہیں یا خدا خوب جانتا ہے کہ کون ان میں سے اگر کفر پر مصر ہے گا اور کون اس کفر سے باز آجائے گا۔ ای و غیر المسلمین (کذانی الکبیر) ۔