10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 10:41

وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:41 in the Quran reader

(اے پیغمبر) اگر ایسی کھلی دلیل بیان کرنے پر بھی یہ لوگ تجھ کو جھٹلائیں تو ان سے کہ دے میرا کام میرے لئے اور تمہارا کام تمہارے لئے مبارک رہے میں جو کرتا ہوں (توحید اور خالص خدا کی عبادت) اس کا میں ذمہ دار ہوں اور جو تم کرتے ہو شرک اور بت پرستی اس کے تم ذمہ دار ہو12

ف 12 ۔ یعنی اگر اتمام حجت کے بعد بھی تکذیب پر اصرار کریں تو انہیں آگاہ کردو کہ مجھ پر تبلیغ قرآن کا جو فریضہ عائد کیا گیا تھا میں نے اس بدوں کسی کمی یا بیشی کے سرانجام دیدیا ہے۔ اب مگر تم اس پر ایمان لانے سے انکار کرو تو تم اپنے اعمال کے خود ذمہ دار ہوگے مجھ پر اس کا کوئی بوجھ نہیں ہوگا۔
Ayah 10:42

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:42 in the Quran reader

اور ان کافروں میں بعضے ایسے بھی ہیں جو صرف تیری طرف کان لگاتے ہیں اس (سن لیتے ہیں پر بتاتے نہیں) بھلا کیا تو بہروں کو سنائے گا گو وہ عقل نہ رکھتے ہوں1

ف 1 ۔ اوپر بتایا کہ کفار دو قسم کے ہیں جو باطن میں یقین رکھتے ہیں اور جو یقین نہیں رکھتے۔ اور جو یقین نہیں رکھتے ان میں بعض تو ایسے ہیں جو بظاہر کان لگا کر ہمارا کلام سنتے ہیں مگر درحقیقت یہ بہرے ہیں کیونکہ ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ (کبیر) ۔
Ayah 10:43

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 10:43 in the Quran reader

اور ان کافروں میں بعضے ایسے ہیں جو صرف آنکھ سے تجھ کو تکتے ہیں بھلا کیا تو اندھوں کو رستہ دکھا سکتا ہے گو وہ سمجھ نہ رکھتے ہوں2

ف 2 ۔ اور بعض ایسے ہیں جو بظاہر پھاڑ پھاڑ کر آپ کی طرف دیکھتے ہیں مگر حقیقت میں یہ اندھے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے بظاہر سننے یا دیکھنے سے یہ توقع ہرگز نہ رکھیں کہ وہ ایمان لے آئیں۔ مقصد تو آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا ہے۔
Ayah 10:44

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 10:44 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ لوگوں پر ذراھی ظلم نہیں کرتا وہ خود اپنے اوپر آپ ظلم کیا کرتے ہیں3

ف 3 ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو دوسرے انسانوں کی طرح پورے حواس دئیے ہیں۔ پھر یہ ضد اور ہٹ دھرمی سے ایمان نہ لائیں تو ان کا اپنا قصور ہے، اللہ کی طرف سے ان پر کوئی زیادتی نہیں ہے۔
Ayah 10:45

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 10:45 in the Quran reader

اور جس دن اللہ ان کو اپنے سامنے اکٹھا کریگا ان کو ایسا معلوم ہوگا جیسے ہو دنیا میں ایک دن بھی نہیں رہے مگر گھڑی وہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچان لیں گے جن لوگوں نے اللہ سے ملنے کو جھٹلایا قیامت کا انکار کیا وہ نقصان میں پڑچکے اور نقصان سے بچنے کی راہ نہ پائی5

ف 4 ۔ یعنی قبر میں رہنا اس دن ایک گھڑی بھر معلوم ہوگا۔ (موضح) ۔ یا دنیا میں جیسے ایک گھڑی رہے ہیں اور تعارف کی یہ کیفیت قبروں سے نکلتے وقت یا شروع شروع میں ہوگی۔ پھر جب حشر کی شدت شروع ہوجائے گی تو سب ایک دوسرے کو بھول جائیں گے جیسا کہ قرآن کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے۔ (کبیر) ۔ 5 ۔ دنیا میں حیوانوں کی سے بےاصولی زندگی بسر کی اور آخرت میں بھی جہنم کا ایندھن بنے۔
Ayah 10:46

وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:46 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) ہم جو ان کافروں سے عذاب کا وعدہ کرتے ہیں اگر تجھ کو اس میں سے کچھ دنیا ہی میں کھلا دیں6 یا ہم تجھ کو (دنیا سے) اٹھا لیں تو بھی تیرا مطلب حاصل ہے یہ سب کافر ہمارے پاس لوٹ کر آنیوالے ہیں7 پھر سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ جو وہ کرتے ہیں اللہ اس کو دیکھ رہا ہے

ف 6 ۔ آپ ﷺ کے دین کا غلبہ اور مخالفین کی ذلت و خواری یعنی قتل و قید۔ الغرض یہ وعدے قرآن کے بیان کے مطابق بعض تو آپ ﷺ کی زندگی میں ظاہر ہوگئے اور کچھ آپ ﷺ کی وفات کے بعد خلفائے ؓ کے زمانہ میں۔ بہرحال آپ ﷺ سچے ہیں۔ موضح میں ہے۔ غلبہ اسلام کو کچھ حضرات کے رو بروہوا اور باقی آپ ﷺ کی وفات کے بعد خلفاء ؓ کے عہد میں ہوا۔ شاید ” اونتوفینک “ میں اس دوسرے دور کی طرف اشارہ ہے۔ (کذافی الکبیر) ۔ 7 ۔ یعنی وہاں ہم آپ ﷺ کو ان کا عذاب دکھا دیں گے۔ اس میں تنبیہ ہے کہ حق پرستوں کی عاقبت محمود اور مخالفین کی عاقبت نہایت مذموم ہوگی۔ (کبیر) ۔
Ayahs 10:47–48

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:47 in the Quran reader

اور ہر قوم کی طرف ایک پیغمبر بھیجا گیا پھر جب ان کا پیغمبر آیا اور انہوں نے اس کو جھٹالیا تو انصاف کے ساتھ8 ان کا فیصلہ ہوگیا اور ان پر ظلم نہیں ہوتا9

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:48 in the Quran reader

اور یہ کافر مسلمانوں سے اور پیغمبر سے کہتے ہیں بھلا اگر تم سچے ہو تو یہ عذاب کا وعدہ کب پورا ہوگا

ف 8 ۔ پیغمبر اور اس کے ساتھی بچ گئے اور جھٹلانے والے تباہ ہوگئے۔ (نیز دیکھئے سورة اسراء آیت 51) اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خود اس قوم کا فیصلہ ہوگیا اور وہ اس طرح کہ اس کے دو گروہ ہوگئے۔ جو ایمان لائے بچ گئے اور جو ایمان نہ لائے تباہ ہوگئے۔ 9 ۔ یعنی وہ اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے تباہ کردئیے جاتے ہیں۔ انہیں بےگناہ سزا نہیں دی جاتی اور نہ حجت تمام کئے بغیر ان کا مواخذہ کیا جاتا ہے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : عمل بد آگے سے ہوتے ہیں لیکن رسول ﷺ پہنچ کر سزاملتی ہے۔ (موضح) ۔
Ayah 10:49

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 10:49 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دے میں اپنی جان کے نفع اور نقصان کا تو مالک نہیں10 مگر جو خدا چاہے11 ہر قوم کی ایک معیاد مقرر ہے اتنی میعاد تک وہ دنیا میں رہے گی جب ان کا وقت آگای تو ایک گھڑی آگے پیچھے نہیں ہوسکتے

ف 10 ۔ تو دوسروں کو نفع یا نقصان پہنچانا یا ان پر اپنی مرضی سے عذاب نازل کرنا میرے اختیار میں کیونکر ہوسکتا ہے۔ (وکائی) یہ منکرین نبوت کے پانچویں شبہ کا جواب ہے کہ آنحضرت ﷺ جب ان کو عذاب کی دھمکی دیتے تو وہ متی ھذا الوعد کہہ کر اعتراض کرتے۔ اگلی آیت میں اسی کا جواب ہے۔ (کبیر) ۔ 11 ۔ یعنی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی مشیت ہی پر موقوف ہے۔ وہی جب چاہے گا تم پر عذاب بھیجے گا اور جب تک نہیں چاہے گا نہیں بھیجے گا۔ قاضی شوکانی فرماتے ہیں : اس آیت میں جن لوگوں کو سخت تننبیہ ہے جو مصیبتوں اور مشکل کی گھڑیوں میں۔ جنہیں اللہ کے سوا کوئی ٹال نہیں سکتا۔ نبی ﷺ کو پکارتے اور آپ ﷺ سے مدد طلب کرتے ہیں یا نبی ﷺ سے ایسے چیزیں چاہتے ہیں۔ جنہیں اللہ کے سوا کوئی پورا نہیں کرسکتا۔ یہ مقام صرف اللہ رب العالمین کا ہے جس نے تمام انبیاء، صالحین اور مخلوقات کو پیدا کیا۔ وہی انہیں روزی اور زندگی بخشتا اور جب چاہتا ہے اس دنیا سے اٹھا لیتا ہے۔ پھر کسی نبی یا کسی فرشتے یا کسی نیک سے نیک ندے سے کسی اور چیز کی درخواست کیونکر کی جاسکتی ہے جس پر اسے قدرت ہی حاصل نہیں۔ اس آیت میں نصیحت کا خاص پہلو یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کے بارے میں جو تمام اپنی آدم کے سردار اور تمام انبیاء ﷺ سے افضل میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں تو کوئی ولی۔ امام یا پیر اپنے علاوہ کسی دوسرے کے نفع و نقصان کا مالک کیونکر ہوسکتا ہے۔ سخت تعجب کا مقام ہے کہ پھر بھی کچھ لوگ جو اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے ہیں۔ مردوں کی قبروں پر جھکتے اور ان سے ایسی ایسی مرادیں طلب کرتے ہیں جنہیں پورا کرنے کی قدرت اللہ کے سوا کوئی نہیں رکھتا۔ یہ صریحاً شرک اور کلمہ ” لا الہ الا اللہ “ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور اس سے بڑھ کر افسوس ان کے علما اور مشائخ پر ہے جو انہیں اس کام سے منع نہیں کرتے۔ یہی وہی جاہلیت ہے جو نبی ﷺ سے پہلے عربوں میں پائی جاتی تھی بلکہ اس کا معاملہ اس جاہلیت سے زیادہ سخت ہے کیونکہ عرب مشرکین نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ کو سمجھتے تھے اور بتوں کو صرف اپنا سفارشی خیال کرتے تھے مگر یہ لوگ تو قبر والوں کو نفع و نقصان کا مالک سمجھتے ہیں اور کبھی ان کو علیحدہ اور کبھی اللہ تعالیٰ کیساتھ پکارتے ہیں۔ اس امت کے کتنے ہی لوگ ہیں جنہیں شیطان مردود نے اس ذریعہ سے کفر کی راہ پر ڈال دیا ہے اور وہ یہ سمجھتے ہوئے اس پر آگے سے آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ انھم یعسنون صنعا کہ وہ بڑا نیک کام کر رہے ہیں۔ فانا اللہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت فرمائے۔ (مختصرا شوکانی)
Ayah 10:50

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:50 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان لوگوں سے) کہہ دے بھلا بتائو تو سہی اگر خدا کا عذاب تم پر رات کو یا دن کو آن پڑے ( تو ہرحال میں وہ عذاب ہی ہے) گناہگار لوگ کیسے (ہولناک) چیز کی جلدی مچا رہے ہیں12

ف 12 ۔ یہ ان کے سوال متی ھذا الوعدہ کا دوسرا جواب ہے یعنی اگر بالفرض عذاب آگیا تو اس کے وقو ع کے بعد ایمان لانا فائدہ مند نہیں ہوسکے گا اور آخرت میں دائمی عذاب سامنے ہے پس جب حالت یہ ہے تو اس کے آنے کی کیوں جلدی مچا رہے ہیں (کبیر)
Ayahs 10:51–52

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 10:51 in the Quran reader

کہا پھر جب سچ مچ عذاب آن ہی پڑے گا تب اس پر یقین کرو گے اس وقت تو تم سے یہ کہا جائیگا اب تم کو یقین آیا اور تم تو عذاب آنے سے پہلے1 اس کو غلط سمجھ کر اس کی جلدی مچا رہے تھے

ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:52 in the Quran reader

پھر اس کے بعد قیامت کے دن گنہگاروں سے کہیں گے ہمیشہ کے عذاب کا مزہ چکھو جیسا تم دنیا میں کرتے تھے اسی کا بدلہ تم کو مل رہا ہے

ف 1 ۔ یعنی عذاب آنے پر ایمان کب قبول ہوگا اس واسطے بھی تو عبث ہے۔ (موضح) ۔
Ayah 10:53

وَ یَسْتَنْۢبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠ Open ayah 10:53 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) کافر تجھ سے دریافت کرتے ہیں کیا یہ عذاب یا قیامت کا ہونا) سچ ہے کہہ دے ہاں ہاں بیشک میرے مالک کی قسم یہ سچ ہے اور تم (ہم کو) تھکا نہیں سکتے2

ف 2 ۔ جب کفار کو ان کے سوال ” متی ھذا الوعد “ کا مذکورہ جواب دیا گیا تو انہوں نے اسی سلسلہ میں آنحضرت ﷺ سے دوبارہ سوال کیا ” احق ھو “ کہ کیا یہ عذاب برحق ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا : قل ای وربی مطلب یہ ہے کہ عذاب برحق ہے اور تم ہمارے عذاب سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے اور نہ اس کو کسی طور روک سکتے ہو۔ (کبیر) ۔
Ayah 10:54

وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:54 in the Quran reader

اور جس جس شخص نے (دنیا میں) میں شرک کیا اگر اس کے پاس جتنا کچھ (مال و اسباب اور قیمتی سامان) زمین میں ہے سب ہو تو بھی وہ اس کو اپنی چھڑائی میں دے ڈالے اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو دل ہی دل میں شرمندہ ہوں گے3 اور انصاف سے ان کا فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا4

ف 3 ۔ یعنی جس عذاب کا وہ ساری عمر مذاق اڑاتے ہے۔ جب وہ ان کی توقع کے بالکل خلاف یکایک سامنے آجائے گا تو ان کی عجیب کیفیت ہوگی۔ ایک طرف وہ سخت شرمندہ ہوں گے اور ان کے ضمیر انہیں کوس رہے ہوں گے لیکن دوسری طرف وہ اپنی شرمندگی کو اپنے ساتھیوں اور ماننے والوں سے چھپانا بھی چاہیں گے کہ کہیں وہ ملامت نہ کریں۔ اس لے دل ہی دل میں شرمندہ ہوں گے اور بظاہر مطمئن بننے کی کوشش کریں گے۔ بعض نے ” اسروا “ کے معنی اظہار بھی کئے ہیں۔ (از کبیر۔ شوکانی) ۔ 4 ۔ اس لئے کہ یہ عذاب ان کے کرتوتوں کا ثمرہ ہوگا۔
Ayahs 10:55–56

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:55 in the Quran reader

سن لو اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سن لو اللہ کا وعدہ (عذاب یا قیامت آنے کا) سچ ہے مگر اکثر لوگ ص اپنی بہتری کی باتیں) نہیں جانتے5

هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 10:56 in the Quran reader

وہی چلاتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کی طرف قیامت کے دن تم لوٹ کر جائو گے

ف 5 ۔ اور جہالت سے اپنے آپ کو تباہ کرتے ہیں اور شرک و کفر میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
Ayah 10:57

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:57 in the Quran reader

لوگو تمہارے پاس تمہارے مالک کی طرف سے نصیحت آئی یعنے قرآن اور دلوں میں جو کفر اور شرک اور شک کی بیماریاں ہیں ان کی دو6 اور ہدایت اور رحمت ایمانداروں کیلئے اے پیغمبر کہہ دے اللہ کے فضل اور رحمت پر وہ خوش ہوں7

ف 6 ۔ اوپری آیتوں میں قرآن کے معجز ہونے سے آنحضرت ﷺ کی نبوت کو ثابت کیا۔ اب قرآن کے کتاب ہدایت و رحمت ہونے سے آنحضرت و کی صداقت پر استدلال کی طرف اشارہ ہے۔ امام رازہ فرماتے ہیں : پہلی دلیل کی حثیت برحان انی کی ہے اور اس کی حیثیت برھان لمتی کی ہے۔ یہاں قرآن کی چار صفات بیان فرمائی ہیں جن سے انسان کے مراتب کمال کے درجات اربعہ کی طرف اشارہ ہے۔ (کبیر) قرآن کتاب موعظتہ ہے جو ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہونے کی وجہ سے انسان کی اصلاح کرتی ہے اور دل میں جو کفر و نفاق، حسد و ریا اور اخلاقی ذمیمہ کی بیماریاں ہیں ان سے شفا بخشتی ہے۔ اس لئے یہ شفاروحانی ہے۔ (خازن) ۔ 7 ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ہاں فضل سے مراد قرآن اور رحمت سے مراد اسلام ہے۔ بعض تابعین نے ان سے ایمان اور قرآن مراد لیا ہے مگر بہتر یہ ہے کہ ان کو عام رکھا جائے اور قرآن و ایمان و اسلام بطریق اولیٰ مراد ہوں (شوکانی) ۔
Ayah 10:58

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 10:58 in the Quran reader

انہی دونوں چیزوں پر خوش ہونا چاہیے یہ اس سے بہت رہے جو وہ (دنیا کا مال اسباب) سمیٹتے ہیں8

ف 8 ۔ دنیا کا مال و اسباب فانی اور آنے جانے والی چیز ہے پھر اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے مقابلہ میں اس کی کیا حیثیت ہوسکتی ہے کہ اس پر خوش ہوا جائے۔ اوپر فرمایا تھا کہ تمام دنیا کا مال و متاع بدلہ میں دینے پر نجات نہیں مل سکے گی لہٰذا اللہ کے فضل و رحمت کا ذخیرہ جمع کرو جو آخرت میں نجات کا ذریعہ بن سکے۔ (سید احمد حسن) ۔
Ayah 10:59

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 10:59 in the Quran reader

اے پیغمبر ان لوگوں سے) پوچھ بھلا بتلائو تو سہی اللہ نے جو روزی تمہارے لئے اتاری پھر تم نے اس میں سے کچھ حلال ٹھہرائے کچھ حرام9 (اے پیغمبر) کہہ دے کیا اللہ نے تم کو یہ حکم دیا یا تم اپنی طرف سے اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو1

ف 9 ۔ جیسے سائبہ، وصیلہ اور حام کو حرام اور حام کو حرام اور مردار کو حلال ٹھہرالیا۔ ان چیزوں کا بیان سورة مائدہ اور انعام میں گزر چکا ہے۔ 1 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اپنی خواہشوں سے حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دینا افتراء علی اللہ ہے۔ (ابن کثیر) ۔ قاضی شوکانی فرماتے ہیں : ” اس آیت میں ان مقلد حضرات کے لئے سخت تنبیہ ہے جو افتا کی کرسی پر براجمان ہوجاتے ہیں اور حلال و حرام و جواز و عدم جواز کے فتو سے صادر کرتے ہیں حالانکہ ان کا مبلغ علم صرف اتنا ہوتا ہے کہ امت کے کسی ایک شخص نے جو بات کہدی ہے اسے نقل کردیتے ہیں گویا انہوں نے اس شخص کو ایک شارع کی حیثیت دے رکھی ہے کتاب و سنت کے جس حکم پر اس نے عمل کیا اس پر یہ بھی عمل کریں گے اور جو چیز اسے انہیں پہنچی یا پہنچی مگر وہ اسے ٹھیک طرح سمجھ نہ سکا یا سمجھا مگر اپنے اجتہاد و ترجیح میں غلطی کر بیٹھا وہ ان کی نظر میں منسوخ اور مرفوع الحکم ہے حالانکہ جس کی یہ لوگ تقلید کر رہے ہیں وہ بھی اس شریعت اور اس کے احکام کا اسی طرح پابند تھا جس طرح خود یہ لوگ۔ اس نے اجتہاد سے کام لیا اور جس رائے پر پہنچا اسے بیان کردیا۔ اگر اس نے غلطی نہیں کی تو اسے دوہرا اجر ملے گا اور اگر غلطی کی تو اکہرا اجر پائے گا۔ وہ شخص تو اپنی جگہ معذور ہے مگر یہ حضرات کسی طرح بھی معذور قرار نہیں دئے جاسکتے جنہوں نے اس کی آراء کو ایک مستقل شریعت اور قابل عمل دلیل بنا لیا۔ اہل علم کے نزدیک کسی مجتہد کی تقلید کی بنا پر اس کے اجتہاد پر عمل کرنا صحیح نہیں ہے۔ (شوکانی) ۔
Ayah 10:60

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 10:60 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بادنھتے ہیں انہوں نے قیامت کے دن کو کیا سمجھ رکھا ہے2 بیشک اللہ تو لوگوں پر فضل کرتا ہے کہ ان کو جلدی عذاب نہیں کرتا لیکن بہت لوگ شکر نہیں کرتے3

ف 2 ۔ یعنی ان سے کیا برتائو کیا جائے گا۔ (فتح الرحمن) ۔ کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے گناہوں پر ان کی کوئی پکڑ نہ ہوگی اور انہیں یونہی چھوڑ دیا جائے گا۔ 3 ۔ اس کی نرمی اور استدارج (مہلت) کو دیکھ کر گناہوں پر اور دلیر ہوجاتے اور اس کے دئیے ہوئے رزق میں سے جسے چاہتے ہیں حلال اور جسے چاہتے ہیں حرام قرار دے لیتے ہیں۔ اس قسم کی ناشکرگزاری میں مشرکین بھی مبتلا تھے اور اہل کتاب بھی کہ انہوں نے اپنی طرف سے بہت سی چیزوں کو مشروع قرار دے رکھا تھا۔ (ابن کثیر) ۔
Ayah 10:61

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 10:61 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) تو کسی حالت میں ہو کوئی کام کرتا ہو اور قرآن میں سے کچھ بھی پڑھ کر سنائے اور اے لوگو) تم کوئی بھی کام کرو جب تم اس میں لگے رہتے ہو ہم تم کو دیکھتے رہتے ہیں اور تیرے مالک سے چیونٹی برابر کوئی چیز چھپی نہیں نہ زمین میں نہ آسمان میں اور نہ چیونٹی سے کم نہ اس سے بڑی کوئی چیز سے جو کس کتاب (لوح محفوظ) میں نہ ہو4

ف 4 ۔ اس آیت میں ایک طرف تو آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ لوگوں کو ہمارا پیغام پہنچانے کے لئے آپ جو کوشش کر رہے ہیں وہ سب ہماری نظر میں ہے اور دوسری طرف مخالفین کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ حق کی مخالفت کرکے یہ نہ سمجھ لینا کہ ہم تمہاری حرکتوں سے بیخبر ہیں اور تم سے کوئی باز پرس نہ ہوگی۔ (کنز فی الروح) ۔
Ayah 10:62

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ Open ayah 10:62 in the Quran reader

سن رکھو جو لوگ اللہ کے ولی (دوست) ہیں نہ ان کو ڈر ہوگا نہ غم5

ف 5 ۔ آخرت میں یا دنیا و آخرت دونوں میں۔
Ayah 10:63

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ Open ayah 10:63 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے6 اور پرہیز گار رہے7

ف 6 ۔ یعنی انہوں نے قرآن و سنت کے مطابق اپنے اعتقاد کو درست کیا۔ 7 ۔ یعنی تنیک اعمال کرتے اور گناہوں سے بچتے رہے۔ اُو پر کی آیت میں اولیا اللہ (اللہ کے دوستوں) کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ انہیں نہ کوئی ڈر ہوگا اور نہ غم۔ اس آیت میں اولیاء اللہ کی خود تشریح فرمادی اور وہ یہ کہ ان سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا عقیدہ قرآن و سنت کی مطابق درست ہے اور جن میں تقویٰ پایا جاتا ہے۔ معلوم ہوا کہ ہر انسان جو اپنے اندر عقیدہ و عمل کی صحت پیدا کرلے گا وہ اللہ کا ولی ہوسکتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ عقیدہ و عمل میں اخلاص کے اعتبار سے لوگوں کے مراتب ہوں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے ارشاد نبوی منقول ہے کہ ” اولئا اللہ “ وہ ہیں جنہیں دیکھ کر اللہ یاد آئے۔ (درمنشور) عام لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے جس سے کوئی امر فرق عادت صادر ہو وہ اللہ کا ولی ہوتا ہے جو سراسر غلط ہے۔ خرق عادت امور تو شیطانوں سے بھی صادر ہوجات ہیں۔
Ayah 10:64

لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ Open ayah 10:64 in the Quran reader

ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی خوشی ہے اور آخرت میں بھی8 اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں9 یہی بڑی کا مبابی ہے

ف 8 ۔ اولیاء اللہ کے لئے آخرت میں بشارت یعنی جنت ہے اور دنیا میں ان کے لئے کئی طرح کی بشارتیں ہیں۔ ایک بشارت تو قرآن کی متعدد آیات میں یہ دی گئی ہے کہ ان پر کوئی خوف و غم نہ ہوگا اور انہیں سچے خواب دکھائے جاتے۔ جیسا کہ احادیث میں ہے۔ الرویا الادقہ بشری المومن۔ کہ سچا خواب مومن کے لئے بشارت ہے۔ ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ لوگوں میں قبولیت حاصل ہوتی ہے اور لوگ مدح و ستائش سے ان کا ذکر کرتے ہیں جیسا کہ صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ یہ مدح مومن کے لئے دنیا میں بشارت ہے۔ (روح طعانی۔ شوکانی) ۔ 9 ۔ لہٰذا اس کے وہ وعدے بھی پورے ہوں گے جو اس نے اہل ایمان سے کر رکھ ہیں۔
Ayah 10:65

وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ؕ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 10:65 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) تو ان کافروں کی باتوں سے رنجیدہ نہ ہو کیونکہ ساری عزت اللہ ہی کی ہے10 اور وہ سب سنتا جانتا ہے11

ف 10 ۔ عزت یعنی غلبہ، اقتدار اور فتحمندی۔ مطلب یہ ہے کہ جب غلبہ و اقتدار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہی جسے چاہے غالب اور جسے چاہے مغلوب کرتا ہے۔ تو ان کافروں کی دھمکیوں، ان کے کفر و شرک اور طعن وتشنیع سے آپ ﷺ کو رنجیدہ خاطر ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ آخر کار غلبہ اور اقتدار آپ ﷺ کو اور آپو کے پیش کردہ دین کو ہی حاصل ہوگا۔ نیز دیکھئے سورة مجادلہ آیات 12 سورة منافقون آیت 8 ۔ (کبیر، شوکانی) ۔ 11 ۔ وہ عنقریب آپ ﷺ کے مخالفین سے مجھ لے گا۔ (کبیر) ۔
Ayah 10:66

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 10:66 in the Quran reader

سن رکھو جتنے آسمانوں میں ہیں (فرشتے) اور جتنے زمین میں ہیں (جن اور آدمی) سب اللہ ہی کے ہیں12 اور جن لوگوں کی یہ مشرک پیروی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کو پکارتے ہیں (شریک سمجھ کر) وہ شریک نہیں ہیں1 یہ مشرک اور کچھ نہیں صرف گمان اور اٹل پچو باتوں) کی پیروی کرتے ہیں اور کچھ نہیں مگر خیال دوڑاتے ہیں خیالی پلائو پکاتے ہیں2

ف 12 ۔ تو یہ کفار و مشرکین بھی جو آپ ﷺ کی مخالفت کر رہے ہیں اسی کی ملکیت ہوئے وہی ان کے معاملے میں جس طرح چاہتا ہے تصرف فرماتا ہے۔ لہٰذا آپ ﷺ کو ان کی ایذارسانی اور طعن وتشنیع سے رنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ اپ ﷺ کی کوئی ایسی تکلیف نہیں پہنچا سکتے جس کی اللہ نے اجازت نہ دی ہو۔ اس آیت میں ان لوگوں کی بھی سخت تردید ہے جو مالک کو چھوڑ کر اس کی مملوکات۔ ملائکہ، انسان، جمادات و نباتات، بتوں، قبروں، اور بزرگوں۔ کی پرستش کرتے ہیں۔ اسی لئے کے بعد شرک کی تردید فرمائی ہے۔ (شوکانی۔ ابن کثیر) ۔ 1 ۔ یعنی حقیقت میں تو کوئی بھی اللہ کا شریک نہیں ہے انہوں نے اپنے خیال و وہم میں ان کو شریک سمجھ کر ان کی پیروی اختیار کر رکھی ہے۔ (کبیر) پس نفی حقیقت اور نفس الامر کے اعتبار سے ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” ما “ استفہامیہ برائے انکار ہو۔ (روح المعانی) ۔ 2 ۔ علق سے کام نہیں لیتے اور نہ دلیل کو دیکھتے ہیں۔ اگر عقل سے کام لیتے اور دلیل پر غور کرتے تو انہیں صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی حق اور اکیلا معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا۔
Ayah 10:67

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 10:67 in the Quran reader

خدا وہی ہے جس نے رات کو اس لئے بنایا کہ تم اس میں آرام کرو اور دن کو اس لئے کہ ہر چیز کو دیکھ بھالو اس میں سننے والوں کے لئے البتہ نشانیاں ہیں جو غور سے سنتے ہیں3

ف 3 ۔ یعنی ان میں صرف یہی حکمت نہیں ہے جو ذکر کی ہے بلکہ رات اور دن کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے بہت سے دلائل ہیں۔ (روح) ۔
Ayah 10:68

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:68 in the Quran reader

کافر (اہل کتاب یا مشرک) کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے بیٹا بنیا ا4 وہ اس سے پاک ہے (کہ اس کا کوئی بیٹا بیٹی ہو) وہ تو بالکل بےف 5 پرواہ ہے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے تمہارے پاس اس بات کی ( کہ اللہ کا کوئی بیٹا یا بیٹی ہے) کوئی دلیل نہیں ہے6 کیا تم اللہ پر وہ بات لگاتے ہو جس کو نہیں جانتے7

ف 4 ۔ یہاں ان کے ایک اور غلط عقیدہ اور باطل خیال کی تردید کی ہے۔ مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتے۔ ان کے اس عقیدہ کی بنیاد بھی چونکہ محض ظن وتخمین پر تھی اس لئے یہاں ” ان یتبعون الالظن “ کے تحت اس کی بھی تردید فرمادی۔ (سید احمد حسن) ۔ 5 ۔ یہ اس تردید کی دلیل ہے کہ اللہ کسی کا محتاج نہیں کہ اس کو بیٹے بیٹی کی ضرورت ہو۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ پھر اولاد کا حاصل کرنا، شہوت و لذت کو چاہتا ہے اور اولاد نہیں حاصل کرتا ہے جو فانی ہو تاکہ اس کے فنا ہونے کے بعد اولاد اس کی قائم مقام ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ازلی اور ابدی ہے اور شہوت و لذت سے پاک اور بالا۔ لہٰذا اس کی طرف اولاد کی نسبت سرے سے محال ہے۔ (رازی۔ شوکانی) ۔ 6 ۔ دلیل سے ان کے عقیدہ کو رد کرنے کے بعد مزید انکار و توبیخ کے طور پر فرمایا کہ ان کے پاس اس کا قطعاً کوئی دلیل نہیں ہے۔ (کبیر) اس سے معلوم ہوا کہ ہر وہ بات جس کے ساتھ اس کی دلیل نہ ہوقابلِ التفات نہیں ہوتی۔ (شوکانی) ۔ 7 ۔ نہایت مبالغہ کے ستھ ان کے زعم کی تردید ہے یعنی محض جہالت سے اللہ تعالیٰ پر بہتان تراشی کر رہے ہیں۔ (از شوکانی) ۔
Ayah 10:69

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 10:69 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان لوگوں سے) کہہ دے جو لوگ اللہ پر جھوٹ بادنھتے ہیں وہ پنپنے والے نہیں (ان کو کبھی فلاح نہ ہوگی8

ف 8 ۔ یعنی جھوٹ بکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کرنے والے تو کسی طور بھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ (شوکانی)
Ayah 10:70

مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 10:70 in the Quran reader

دنیا میں تھوڑا سا مزہ اڑا لیں9 پھر ہمارے پاس ان کو آخر لوٹ کر آنا مرنا ہے پھر ہم ان کو ان کے کفر کی سزا میں سخت عذاب (کا مزہ) چکھائیں گے

ف 9 ۔ بس زیادہ سے زیادہ یہ کہ اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھ کر کچھ دنیا کمالیں پھر موت کے عبد ان کفریات کی خوف سزا ملے گی۔
Ayah 10:71

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 10:71 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) ان کو نوح کا قصہ سنا جب اس10 نے اپنی قوم سے کہا بھائیو اگر میرا رہنا (تم میں) اور خدا کی آیتیں پڑھ کر سنانا تم کو بھاری لگتا ہے (گراں گذرتا ہے شاق ہوتا ہے) تو میں نے تو اللہ پر بھروسا کیا تم اپنے شریکوں کے11 ساتھ مل کر ایک بات ٹھہرا لو (میرے مار ڈلانے کی تدبیر کرلو) پھر اس بات کو چھپائو نہیں12 پھر جو کچھ کرنا ہے وہ کر ڈالو اور مجھ کو ذرا بھی مہلت نہ دو13

ف 10 ۔ نبوت پر کفار کے شبہات اور مدلل جوابات بیان کرنے کے بعد یہاں تین انبیاء کے قصے بیان فرمائے۔ تاکہ آپو کو تسلی ہو اور کفار کی ایذارسانی سے آپ ﷺ طول نہ ہوں اور ان انبیا کو اسوہ بنائیں۔ نیز کفار کو بھی تنبیہ ہے کہ وہ دنیا میں سب سے پہلے اور پھر سب سے آخر غرق ہونے والی قوموں کے انجام پر غور کریں اور اس قسم کی گستاخیوں سے باز آجائیں۔ پھر ان تاریخی قصوں کو کسی قسم کی کمی بیشی کے بغیر ایک امی نبی کا بیان کرنا بجائے خود ان کے صدق نبوت پر دلیل بھی ہے۔ (کبیر) ۔ 11 ۔ یعنی ان بتوں کے ساتھ مل کر جنہیں تم جہالت اور بےشرمی سے خدا کا شریک قرار دیتے ہو۔ 12 ۔ یعنی میرے مار ڈالنے کی جو اسکیم تم تیار کرو اس پر اچھی طرح غور کرلو تاکہ اس کا کوئی پہلو تم پر ڈھکا چھپا نہ رہے۔ (شوکانی) ۔ 13 ۔ یعنی سمجھانے سے برا مانتے ہو تو جو کرسکو میرا کرلو۔ (موضح) ۔
Ayah 10:72

فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:72 in the Quran reader

پھر اگر تم (میری بات ماننے سے) منہ پھیر لو (تو میں تم سے کچھ مزدوری تو مانگتا نہ تھا (کہ میرا نقصان ہو) میری مزدوری تو خدا ہی پر ہے1 اور اسی کی طرف سے مجھ کو حکم ہوا کہ فرمانبرداروں میں شریک رہوں

ف 1 ۔ یعنی میری دعوت بالکل بےلاگ ہے وہی اس کا مجھے ثواب دے گا۔ تمہارے ماننے یا اعراض کرنے سے میرے ثواب میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ میری طرف سے تمہیں ایمان لانے کی دعوت بھی تمہارے ہی فائدے کے لئے ہے۔ (کبیر۔ شوکانی)
Ayah 10:73

فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓئِفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 10:73 in the Quran reader

آخر نوح کی قوم کے لوگوں نے اس کو جھٹلایا پھر ہم نے اس کو اور اس کے ساتھ جو مومن کشتی میں سوار تھے ان کو طوفان سے بچا دیا اور جن لوگوں نے ہعماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کو ڈبو دیا اور نوح کے ساتھیوں کو ان کا جانشین کردیا2 تو (اے پیغمبر) دیکھ جن کو خدا کے عذاب سے ڈرایا گیا تھا ان کا کیا انجام ہوا3

ف 2 ۔ یعنی ان کے بعد وہی دنیا میں بسنے والے رہ گئے۔ (شوکانی) ۔ 3 ۔ کیسے تباہ و برباد کردیے گئے۔ اس میں آپ ﷺ کو اور صحابہ ؓ کرام کو تسلی ہے اور ان لوگوں کے لئے مقام عبرت ہے جو آج بھی آنحضرت ﷺ کی تکذیب کر رہے ہیں۔ (شوکانی) ۔
Ayah 10:74

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 10:74 in the Quran reader

پھر نوح کے بعد ہم نے کئی پیغمبر اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں معجزے لے کر آئے لیکن جن باتوں کو پہلے جھٹلا چکے تھے وہ ان پر ایمان لانے والے نہ تھے ہم حد سے بڑھنے والوں کے دلوں پر اسی طرح مہر کردیتے ہیں4

ف 4 ۔ یہاں نوح (علیہ السلام) کے بعد جن پیغمبروں کے مبعوث ہونے کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ ان ہود ( علیہ السلام) ، صالح ( علیہ السلام) ، ابراہیم، ( علیہ السلام) لوط ( علیہ السلام) اور شعیب (علیہم السلام) خاص طور پر قابل ذکر ہیں جن کا تذکرہ قرآن کے دوسرے مقامات پر مرقوم ہے۔ اور الیٰ تومھم کے الفاظ سے اشارہ فرما دیا ہے کہ حضرت نوح ( علیہ السلام) اور ان کے بعد جنتے پیغمبر ہوئے ہیں ان میں سے کسی کی رسالت بنی نوع انسان کے لئے عام نہیں تھی بلکہ خاص خاص اقوام کی طرف مبعوث ہوتے رہے ہیں۔ البتہ حضرت نوح کی بعثت میں اختلاف ہے اور صحیح یہی ہے کہ وہ بھی خاص طور پر اپنی قوم کی طرف ہی مبعوث تھے اور طوفان سے روئے زمین کے لوگ غرق نہیں ہوئے بلکہ خاص علاقہ تباہ و برباد ہوا ہے۔ یہ درجہ آنحضرت ﷺ کو حاصل ہے کہ ان کی رسالت عام بھی ہے اور پھر قیامت تک کیلئے باقی بھی رہے گی۔ (کبیر۔ روح) یہاں حد سے بڑھنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو تعصب، ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اپنی غلط روش پر اڑتے رہتے ہیں اور چاہے کتنے ہی معجزے دیکھ لیں اور دلیلیں سن لیں مگر جس چیز سے ایک مرتبہ انکار کر بیٹھے اسے کبھی ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ آخر کار یہ سزا دیتا ہے کہ انہیں کبھی راہ ہدایت پانے کی توفیق نہیں ہوتی۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کا ان کے دلوں پر مہر لگانے کا۔ (دیکھئے سورة بقرہ آیت 7) ۔
Ayahs 10:75–76

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 10:75 in the Quran reader

پھر ان (پیغمبروں) کے بعد موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کی قوم کے لوگوں یا سرداروں کی طرف اپنی نشانیاں دے کر بھیجا وہ اکثر بیٹھے اور وہ نافرمان لوگ تھے5

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:76 in the Quran reader

پھر جب ہمارے پاس سے سچی بات ان کو پہنچی (عصا اور ید بیضا وغیرہ) کہنے لگے بیشک یہ تو کھلا جادو ہے

ف 5 ۔ یہ قوم موسیٰ و ہارون کا دوسرا قصہ ہے جو غرق ہونے میں قوم نوح کی مثال ہیں اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دی ہے قریش آپ ﷺ کو بھی جادوگر بتلا رہے ہیں مگر ان میں سے بعض تو ان جادوگروں کی طرح ایمان لے آئیں گے اور جو فرعون کی طرح اپنے کفر پر اڑے رہے وہ تباہ و برباد ہوں گے (سید احمد حسن) ۔
Ayah 10:77

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ Open ayah 10:77 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا تم سچ بات کو جب وہ تمہارے پاس آئی (جادوکہتے ہو) بھلا یہ کیا جا دو ہے اور جادوگر تو کبھی کامیاب نہیں ہوتے6

ف 6 ۔ حالانکہ تم دیکھ رہے ہو کہ میں دلیل وبرہان کی رو سے کامیاب ہوں تو پھر یہ جادو کیسے ہوسکتا ہے۔ اس میں آئندہ جادوگروں کے ساتھ مقابلہ میں کامیابی اور ان کی ناکامی کی طرف بھی اشارہ فرما دیا ہے۔
Ayahs 10:78–80

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:78 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ جس طریقہ پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا اس سے ہم کو پھیر دے اور تم دونوں بھائیوں کو ملک کی سرداری مل جائے اور ہم تو تم دونوں کی بات ماننے والے نہیں7

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 10:79 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا (اپنے لوگوں کو حکم دیا) جو پکا اپنے کامل جادوگر ہو اس کو میرے لے کر آئو

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 10:80 in the Quran reader

جب جادوگر آن موجود ہوئے تو موسیٰ نے ان سے کہا جو تم کو ڈالنا ہے وہ ڈالو

ف 7 ۔ دنیا کے ہر متکبر و ظالم کا ہی قاعدہ ہے کہ جب اسے نصیحت کی جائے تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ نصیحت میری ریاست اور سرداری کو چھیننے کے لئے جارہی ہے۔ اپنے شیطانی نفس پر قیاس کرکے وہ ہر شخص کے بارے میں یہی خیال کرتا ہے کہ اس کا مقصد دنیا کمانا اور اقتدار حاصل کرنا ہے۔ فرعون اور اس کے اہل کاروں نے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے بارے میں بھی یہی خیال کیا۔