10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 10:81

فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:81 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں ڈالیں موسیٰ نے کہا یہ جو تم لے کر آئے وہ تو جادو ہے1 بیشک اللہ اس کو بھی میٹ دے گا کیونکہ اللہ شریر لوگوں کا کام بننے نہیں دیتا

ف 1 ۔ یعنی جادو تو وہ ہے جو تم لائے ہو نہ کہ وہ جو میں پیش کر رہا ہوں۔
Ayah 10:82

وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 10:82 in the Quran reader

اور اپنے فرمان سے اللہ بات کو حق کر دکھائے گا گو2 نافرمان لوگ برا مانا کریں

ف 2 ۔ یعنی جو اس نے فرمایا کہ ھق کو غالب رکھوں گا یا کلمات سے مراد حکم باری تعالیٰ ہے یا اپنی کتاب میں نازل کردہ آیات کی برکت سے۔ بکلماتہ کے یہ سب طلب ہوسکتے ہیں۔ (کذافی الوحیدی) ۔
Ayah 10:83

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 10:83 in the Quran reader

پھر موسیٰ پر صرف انہی کی قوم سے یعنی بنی اسرائیل میں سے) چند نوجوان لوگ ایمان لائے وہ بھی فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں ان کو آفت میں نہ ڈالے3 اور فرعون مصر کے) ملک میں بڑا زبردست اور حد سے زیادہ بڑھ گیا تھا ان لوگوں کا ڈر بجا تھا

ف 3 ۔ اکثر مفسرین (رح) نے آیت کا یہی مطلب بیان کیا ہے اور ابن جریر نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے ان حضرات کا کہنا ہے کہ یہ کیفیت ابتدائی دور کی ہے۔ بعد میں تو قارون کیس وا سب بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے تھے۔ ” ملئھم “ میں ھم کی ضمیر جمع ہے۔ اس کا مرجع یا تع فرعون ہے (جیسا کہ ترجمہ میں ہے) کیونکہ مصری لوگ فرعون کے لئے بطور تعظیم جمع کی ضمیر استعمال کرتے تھے یا اس کر مرجع بنی اسرائیل کے سردار ہیں۔ یعنی بنی اسرائیل ( علیہ السلام) میں سے جو نوجوان ایمان لائے انہیں ایک طرف فرعون کا ڈر تھا اور دوسری طرف خود اپنے سرداروں کا لیکن حافظ ابن کثیر نے آیات کے اس مطلب کی سخت تردید کی ہے۔ ان کی ترجیح میں ” ذریۃ من قومہ “ میں ” ہ “ کی ضمیر موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف نہیں بلکہ فرعون کی طرف راجع ہے کیونکہ بنی اسرائیل تو پہلے سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی آمد کے منتظر تھے اور ان کے تشریف لانے پر سب کے سب ایمان لے آئے ( اور اس کی تائید اگلی آیت بھی کر رہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام کے تمام بنی اسرائیل حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) پر ایمان لاچکے تھے) البتہ فرعون کی قوم قبطیوں میں سے چند نوجوان ہی ایسے نکلے جو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) پر ایمان لائے۔ اور آیت کا ترجمہ یوں ہوگا ” پھر موسیٰ ( علیہ السلام) پر اس (فرعون کی قوم) قبطیوں میں سے صرف چند نوجوان ہی ایمان لائے اور وہ فرعون اور اپنے سرداروں سے ڈرے کہ کہیں وہ (فرعون) نہیں آفت میں نہ ڈالے “ یہ ترجمہ زیادہ واضح ہے اور علمائے تحقیق نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ (ابن کثیر۔ روح المعانی) ۔
Ayah 10:84

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ Open ayah 10:84 in the Quran reader

اور موسیٰ نے اپنے لوگوں سے کہا بھائیو اگر تم کو اللہ پر یقین ہے تو اس پر بھروسہ رکھو جب تم اس کے تابعدار ہو4

ف 4 ۔ اس آیت میں اللہ پر توکل کو ایمان اور اسلام کا لازمی نتیجہ قرار دیا گیا ہے جیسا کہ دوسری آیات میں ایمان اور توکل یا عبادت اور توکل کو ایک ساتھ بیان فرمایا ہے۔ (دیکھئے ہود آیت 32 سورة ملک آیت 92 اور سورة فاتحہ آیت 4) ۔
Ayahs 10:85–86

فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 10:85 in the Quran reader

انہوں نے کہا ہم نے اللہ پر بھروسا کیا اور لگے دعا کرنے مالک ہمارے ہم کو ان ظالم لوگوں کے ظلم کا نشانہ مت بنا5

وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 10:86 in the Quran reader

اور اپنی رحمت سے ہم کو کافر لوگوں کے پنجے سے نجات دے

ف 5 ۔ یعنی ان ظالموں کو ہم پر مسلط نہ رکھ کہ وہ ہمیں اپنے ظلم کا نشانہ بناتے رہیں۔
Ayah 10:87

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:87 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو وحی بھیجی تم دونوں اپنی قوم کے لئے مصر میں گھر بنا لو اور اپنے گھروں ہی کو مسجد کرلو6 اور نماز درستی سے ادا کرتے رہو اور (اے موسیٰ ) ایمان والوں کو خوشخبری سنا7

ف 6 ۔ آیت ’ واجعلو بیوتکم قبلۃ (اپنے گھروں کو قبلہ بنالو) کے مفسرین نے کئی مطلب بیان کئے ہیں ایک یہ کہ اپنے گھروں ہی کو مسجد بنا لو۔ یعنی جب فرعون کی طرف سے سکتی اور نگرانی زیادہ ہے اور تمہارے لئے مسجدوں میں آکر نماز پڑھنا ممکن نہیں تو تم گھروں ہی میں نمازیں ادا کرتے رہو۔ کہتے ہیں کہ فرعون ن ان کو مسجدیں بھی مسمار کرا دی تھیں۔ یہ حکم حالت اضطرار میں تھا۔ لہٰذا حدیث ” وجعلت لی الارض “ کے منافی نہیں ہے۔ دوم یہ کہ فرعون کے ظلم و ستم کا مقابلہ کرنے کے لئے گھروں میں بکثرت عبادت کیا کرو تاکہ اسے ظلم سے نجات ملے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ کو جب کوئی مشکل معاملہ درپیش ہوتا آپو نماز پڑھتے۔ (ابو دائود) ۔ تیسرے یہ کہ گھروں کو قبلہ رخ تعمیر کرو اور ان میں خفیہ طور پر نماز پڑھا کرو۔ قبلتہ سے مراد بعض نے کعبہ لیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کعبہ کی طرف منہ کرتے ہوں۔ بعد میں یہود نے ” صخرہ “ کو قبلہ بنا لیا ہو۔ (ابن کثیر۔ روح) ۔ 7 ۔ کہ فرعون کی تباہی کے دن آیا ہی چاہتے ہیں۔ (شوکانی) ۔
Ayah 10:88

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:88 in the Quran reader

اور موسیٰ نے دعا کی مالک ہمارے تو ہی نے تو فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں زینت کا سامان (جیسے سواریاں لباس ہتھیار وغیرہ) اور مال و دولت دے رکھا ہے مالک ہمارے اس لئے دیا ہے کہ وہ تیری (سچی) راہ سے (لوگوں کو) بہکا دیں1 مالک ہمارے ان کے مالکوں کو ملیا میٹ (تباہ و برباد) کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے وہ ایمان نہ لائیں جب تک تکلیف کا عذاب (ڈوبنا) نہ دیکھیں2

ف 1 ۔ ” لیضلوا “ میں لام عاقبت اور انجام کو ظاہر کرنے کے ہے۔ اس اعتبار سے آیت کا مطلب یہ ہوگا ” اے اللہ ان لوگوں کو دنیا کی دولت اور حکومت تو تو نے اس لئے دی تھی کہ اسے نیکی کی راہ میں صرف کریں اور شکر بجا لائیں مگر نتیجہ یہ ہوا کہ ان بدبختوں نے اسے لوگوں کو بہکانے اور گمراہ کرنے میں صرف کیا۔ (قرطبی۔ شوکانی) ۔ 2 ۔ یہ بددعا حضرت موسیٰ نے اس وقت کی جب وہ سمجھاتے سمجھاتے مایوس ہوگئے اور انہیں یقین ہوگیا کہ اب فرعون اور اس کے سردار ایمان لانے والے نہیں جیسا کہ حضرت نوح ( علیہ السلام) نے آخر تنگ آکر اپنی قوم کے حق میں بددعا کی تھی۔ (شوکانی) ۔
Ayah 10:89

قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:89 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم دونوں بھائیوں کی دعا قبول ہوگئی3 تو صبر کئے رہو4 اور نادانوں کی راہ مت چلو5

ف 3 ۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) دعا کر رہے تھے اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) آمین کہہ رہے تھے۔ اس لئے دونوں کی طرف اضافت کردی۔ (شوکانی) ۔ 4 ۔ یعنی دعوت کا کام کرتے رہو۔ آخر کار تمہاری دعا کا اثر ظاہر ہو کر رہے گا۔ (شوکانی) ۔ 5 ۔ جو دعوت کے کام میں حوصلہ چھوڑ بیٹھتے ہیں یا دعا کرتے ہی یہ چاہتے ہیں کہ ان کا مطلب پورا ہوجائے اور اگر فوراً پورا نہ ہو تو شکایت کرنے لگتے ہیں کہ ہم نے بہتری دعائیں کیں مگر پروردگار نے قبول ہی نہ کی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کی دعات اس وقت تک قبول ہوتی رہتی ہے جب تک وہ جلدی نہیں کرتا اور جلدی کرنا یہ ہے کہ وہ گبھرا کر کہتا ہے کہ میں نے اپنے رب سے دعا کی مگر اس نے قبول نہ کی۔ (بخاری مسلم) ۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یعنی شتابی نہ کرو حک کی راہ دیکھو۔ “
Ayahs 10:90–91

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:90 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر کے پار اتار دیا پھر فرعون اور اس کا لشکر6 شرارت اور زیادتی کے لئے ان کے پیچھے لگا7 جب ڈوبنے لگا (اللہ نے سمندر کو ملا دیا) تو کہہ اٹھا اب میں ایمان لایا کہ جس خدا پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں وہی سچا خدا ہے اور میں اس کے تابعداروں میں سے ہوں

آٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:91 in the Quran reader

اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا (حضرت جبرئیل نے یا میکائیل نے) کیا اب ایمان لایا اور پہلے ساری عمر جب ایمان اور توبہ کا وقت تھا نافرمانی کرتا رہا

ف 6 ۔ یعنی سمندر میں ان کے پیچھے گھس گیا۔ فرعون کے بنی اسرائیل کا تعاقب کرنے اور پھر سمندر میں ان کے پیچھے گھسنے کی کیفیت تفصیل سے دوسرے مقامات پر مذکور ہے۔ (مثلاً دیکھئے الشعراء رکوع 4) ۔ 7 ۔ یعنی بنی اسرائیل کو ستناے اور ان پر ظلم کرنے کے لے بغی اس زیادتی کو کہتے ہیں جو قول سے ہو اور عدو جو فعل سے ہو۔ (قرطبی) ۔
Ayah 10:92

فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ Open ayah 10:92 in the Quran reader

اور فسادیوں میں ایک بڑا فسادی تھا8 آج تیرے لاشے کو ہم بچا لیں گے اس لئے کہ جو لوگ تیرے بعد دنیا میں رہ گئے ان کے لئے تو اللہ کی قدرت کی ایک نشانی اور حیرت9 ہو اور البتہ بہت سے لوگ ہماری قدرت کی نشایوں سے غافل ہیں10

ف 8 ۔ یعنی عذاب نازل ہوجانے کے بعد توبہ کرنے اور ایمان لانے سے کیا فائدہ ؟۔ (دیکھئے آیت 15) ۔ حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتا ہے جب تک اس پر جانگنی (غرغرہ) کی حالت طاری نہیں ہوجاتی۔ (ترمذی) ۔ 9 ۔ آج تک جزیرہ نمائے سینا کے مغربی ساحل پر اس مقام کی نشاندہی کی جات ہے جہاں فرعون کی لاش سمندر میں تریتی ہوئی پائی گئی تھی۔ اس زمانے میں اس مقام کو جبل فرعون یا حمام فرعون کہا جاتا ہے اس کی جائے وقوع ابو زنیمہ (جہاں تانبے وغیرہ کی کانیں ہیں) سے چند میل اوپر شمال کی جانب ہے آج قاہرہ کے عجائب گھر میں جن فراعنہ کی لاشیں موجود ہیں۔ ان میں ایک لاش کو اسی فرعون کی لاش بتایا جاتا ہے۔ 7091 ء میں جب فراعنہ کی یہ لاشیں دریافت ہوئی تھیں تو اس فرعون کی لاش پر نمک کی ایک نہ جمی ہوئی پائی گئی تھی جو سمندر کے کھارے پانی میں اس کی غرقابی کی کھلی علامت تھی۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جیسا وہ بےوقت ایمان لایا بےفائدہ ویسا ہی اللہ نے مرگئے پیچھے اس کا بدن دریا سے نکال کر ٹیلے میں ڈال دیا تاکہ بنی اسرائیل دیکھ کر شکر کریں اور عبرت پکڑیں۔ اس کو بدن کے بچنے سے کیا فائدہ ؟۔ (موضح) ۔ تنبیہ۔ فتوحات مکیہ میں فرعون کا ایمان معتبر ہونا مندرج ہے۔ صاحب ” بواقیت “ نے اس کی تردید کی ہے اور لکھا ہے کہ فتوحات کے معتبر نسخوں میں یہ عبارت نہیں ہے۔ 10 ۔ یعنی ان پر غور نہیں کرتے اور ان سے سبق حاصل نہیں کرتے۔ اگر غور کریں تو معلوم ہوجائے گا کہ انسان کی بساط کیا ہے۔ یہ واقعہ محرم عاشورا کے دن پیش آیا۔ (ابن کثیر) ۔
Ayah 10:93

وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:93 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو شام یا مصر کے ملک میں ایک اچھے ٹھکانے پر جگہ دی11 اور کھانے کو عمدہ چیزیں عنایت کیں پھر انہوں نے دین کی باتوں میں اس وقت اختلاف کیا جب عمل ان کے پاس آچکا2 ۃ بیشک اے پیغمبر تیرا مالک قیامت کے دن جن باتوں میں وہ (دنیا میں) اختلاف کرتے رہے ان کا فیصلہ کر دے گا13

ف 11 ۔ یعنی ملک شام دیا کہ کوئی مخالف مند رہا۔ (موضح) ۔ یعنی بلاد مصر اور شام، بیت ا المقدس اور ” غرقابی “ کے بعد بنی اسرائیل کا مصر پر مکمل قبضۃ ہوگیا۔ ابن کثیر) ۔ مگر وہاں زیادہ عرصہ ٹھہرنے کا موقعہ نہیں ملا۔ ان کو حکم تھا کہ ملک شام عمالقہ سے فتح کرکے وہاں چلے جائو چناچہ یوشع کے زمانہ میں ان فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا۔ (ابن کثیر۔ روح) ۔ 12 ۔ یعنی اللہ کی کتاب تورات نازل ہوچکی اور اس میں بیان کردہ احکام کا انہیں پتا چل گیا۔ مطلب یہ ہے کہ آپس میں اختلاف اور تفرق کی وجہ یہ نہ تھی کہ ان کے پاس حقیقت کا علم نہ تھا بلکہ یہ سب کچھ انہوں نے جانتے بوجھتے شرارتِ نفس کی بنا پر کیا۔ بنی اسرائیل کے اختلافات کی داستان بہت طویل ہے۔ 13 ۔ وہاں معلوم ہوجائے گا کہ کون حق پر تھا اور کون باطل پر۔ پھر حق پرستوں کو اپنی نیکی کا انعام اور باطل پرستوں کو اپنی بدعملی کی سزا ملے گی۔
Ayahs 10:94–95

فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ Open ayah 10:94 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر) ہم نے جو تجھ پر اتارا (یعنی قرآن) اس میں اگر تجھ کو شک ہو تو ان لوگوں سے پوچھ لے جو تجھ سے پہلے کی کتاب (توریت) پڑھتے ہیں1 بیشکتیرے مالک کی طرف سے تجھ کو سچی کتاب پہنچ گئی تو ہرگز شک کرنے والوں میں سے مت ہو

وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 10:95 in the Quran reader

اور ان لوگوں میں بھی مت ہو جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا (ایسا کرے گا) تو ٹوٹا پانے والوں میں سے ہوگا

ف 1 ۔ اس سورت کا اصل موضوع آنحضرت ﷺ کی نبوت کا ثبوت اور مخالفین کے شبہات کی تردید ہے۔ یہاں آخر سورة میں پھر اصل موضوع کی طرف التفات کیا ہے۔ (کبیر) مشرکینِ عرب چونکہ ان پڑھ اور اصمانی کتابوں کے علم سے بےبہرہ تھے اس لئے انکو توجہ دلائی ہے کہ اگر تمہیں خود علم نہیں ہے تو ان علمائے یہود سے دریافت کرلو جو توراۃ وغیرہ آسمانی کتابوں کا علم رکھتے ہیں۔ ان میں سے جو منصف مزاج اور خدا سے ڈرنے والے ہیں وہ اقرار کریں گے کہ قرآن واقعی آسمانی کتاب اور محمد ﷺ کے سچے رسول ہیں کیونکہ ان کی کتابوں میں جگہ جگہ آپ ﷺ کی آمد کی بشارتیں موجود ہیں اور آپ ﷺ کی علامات بیان کی گئی ہیں۔ الغرض یہ خطاب تو آنحضرت ﷺ سے ہے مگر مقصود عرب کو توجہ دلانا ہے ورنہ آپ ﷺ کو اپنی رسالت پر شک ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں : خود آنحضرت ﷺ کو کوئی شک نہ تھا اور نہ آپ ﷺ نے کسی سے دریافت کیا۔ (شوکانی) ۔
Ayah 10:96

اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 10:96 in the Quran reader

(اے پیغمبر) جن لوگوں پر تیرے مالک کا قول پورا ہوا وہ ایمان لانے والے نہیں2

ف 2 ۔ یعنی وہ کفر پر مرینگے اور اپنی ضد، تعصب اور ہٹ دھرمی کی بدولت انہیں ایمان لانے کی توفیق نصیب نہ ہوگی۔ (کذافی شوکانی) ۔
Ayah 10:97

وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:97 in the Quran reader

گو ان کے پاس دنیا جہان کی تمام نشایاں معجزے آجائیں جب تک تکلیف کا عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھیں3

ف 3 ۔ مگر اس وقت ایمان لانے کا کوئی فائدہ انہیں نہیں پہنچ سکے گا جیسا کہ فرعون اور اس کی قوم کو کچھفائدہ نہ ہوا۔ (ابن کثیر) ۔
Ayah 10:98

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 10:98 in the Quran reader

پھر کیوں کوئی بستی والے عذاب اترنے سے پہلے ایمان نہ لائے کہ ان کا ایمان ان کو فائدہ دیتا عذاب سے بچ جاتے لیکن یونس پیغمبر)4 کی قوم والے جب ایمان لائے5 تو ہم نے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ان پر سے ہٹا دیا اور ایک وقت معین تک ان کا زندگی کا مزہ لینے دیا6

ف 4 ۔ یہ تیسرا قصہ ہے یعنی جن قوموں پر انبیاء کی تکذیب کی بدولت عذاب بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ان میں یونس ( علیہ السلام) کی قوم کے سوا کسی کو یہ توفیق نصیب نہ ہوئی کہ عذاب ختم ہوجانے سے پہلے توبہ کر کیا ایمان لے آتی۔ اگر وہ ایسا کرتی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا اور اس سے عذاب ٹال دیتا۔ اول تو ان میں سے کوئی قوم ایمان نہیں لائی اور اگر لائی بھی تو اس وقت جب عذاب نے اسے آدبوچا (جیسے فرعون اور اس کے ساتھی) اور ظاہر ہے کہ اس وقت ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ (شوکانی) مفسرین کے عام بیان کے مطابق قوم یونس کا مرکز ” نینویٰ “ کا مشہور شہر تھا جس کے آثار آج بھی دجلہ کے مشرقی ساحل پر موجودہ شہر موصل (شمالی عراق) کے بالمقابل پائے جاتے ہیں۔ موصل شہر کے قریب ” یونس نبی “ کے نام سے ایک بستی بھی پائی جاتی ہے۔ 5 ۔ عذاب ختم ہونے سے پہلے یا اس کی نشانیاں دیکھ کر (شوکانی) 6 ۔ یعنی موت تک انہیں مہلت دی۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : کہ یونس ؓ نے اپنی قوم کے لوگوں کو توحید کی دعوت دی۔ جب انہوں نے اس دعوت کو قبول کرنے سے انکار کیا تو یونس ( علیہ السلام) یہ کہتے ہوئے بسی سے نکل گئے کہ تم پر فلاں دن عذاب آئے گا۔ انبیا کا قاعدہ تھا کہ جب وہ اپنی قوم کو عذاب سے خبردار کردیتے تو اپنی بستی سے باہر چلتے جاتے۔ اس کے بعد جب یونس ( علیہ السلام) کی قوم والوں نے عذاب کے آثار دیکھے تو عورتوں، بچوں اور مویشیوں سمیت گھروں سے نکل آئے اور خوف کے مارے چیخ پکار اور توبہ تلا کرتے ہوئے خدا کے حضور گڑگڑانے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں صدق واخلاص دیکھ کر ان کی توبہ قبول فرمائی اور ان پر سے عذاب ٹال دیا۔ (احسن الفوائد) ۔ بعض مفسرین (رح) کا خیال ہے کہ ان پر سے صرف دنیا کا عذاب ٹالا گیا جس کی آیت میں تصریح کی گئی ہے مگر صحیح یہ ہے کہ ان پر سے عذاب آخرت بھی ٹال دیا گیا۔ (ابن کثیر) ۔
Ayah 10:99

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:99 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) اگر تیرا مالک چاہتا تو زمین میں جتنے لوگ ہیں (آدمی اور جن اور شیطان) سب ایمان لے آتے7 کیا تو لوگوں کو زبردستی مومن بنائے گا8

ف 7 ۔ یعنی اگر اللہ چاہتا تو فرشتوں کی طرح جنوں اور انسانوں کی فطرت بھی ایسی بنا دیتا کہ کہ وہ کفرو نافرمانی کر ہی نہ سکتے یا ان سب کے دل ایمان و اطاعت کی طرف پھیر دیتا لیکن اس طرح چونکہ جنوں یا انسانوں کی و علیحدہ نوع کی حیثیت سے پیدا کرنے کا مقصد ہی فوت ہوجاتا۔ اس لئے اس نے اپنی مرضی سے ان کی فطرت میں یہ چیز رکھی ہے کہ وہ عقل سے کام لے کر چاہے ایمان وطاعت کا راستہ اختیار کریں یا کفرو نافرمانی کی۔ 8 ۔ نبی ﷺ کی ازراہِ شفقت یہ زبردست خواہش تھی کہ اللہ کے سب بندے ایمان لے آئیں، اس لئے اس آیت میں آپ کو یہ کہہ کر تسلی دی گئی کہ یہ چونکہ ہونے والے بات نہیں اس لئے آپ ﷺ کیوں اپنے آپ کو رنج و کرب میں مبتلا کرتے ہیں۔ (کذافی الوحیدی) ۔
Ayah 10:100

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:100 in the Quran reader

اور کوئی شخص اللہ کے بحکم ایمان نہیں لاسکتا9 اور اللہ انہی لوگوں پر شرک اور کفر کی گندگی ڈالتا ہے جو عقل سے کام نہیں لیتے10

ف 9 ۔ یعنی جس طرح تکوینی طور پر دنیا کی کوئی نعمت کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی اسی طرح کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی اسی طرح کسی شخص کو ایمان کی نعمت حاصل ہونے یا نہ ہونے کا انحصار بھی اللہ تعالیٰ کے اذن پر ہے۔ کوئی شخص اس نعمت کو نہ خود پاسکتا ہے اور نہ کسی دوسرے کو عطا کرسکتا ہے۔ اس لئے اگر نبی چاہے بھی کہ تمام لوگوں کو مومن بنا دے تو نہیں بناسکتا۔ اس سے مقصود بھی آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا ہے (شوکانی) 10 ۔ یعنی اگرچہ ایمان کی توفیق دینے نہ دینے کا کلی اختیار اللہ تعالیٰ ہی کو ہے مگر اس کا قاعدہ یہ ہے اس نعمت سے وہ انہی لوگوں کو محروم رکھتا ہے اور انہی کو کفر و شرک کی نجاست میں پڑے رہنے کے لئے چھوڑتا ہے جو اس کی عطا کی کردہ عقل سے کام نہیں لیتے اور جس راستے پر اپنے باپ دادا کو چلتے دیکھتے ہیں اس پر آنکھیں بند کرکے چلتے رہنا پسند کرتے ہیں۔ (کذافی فکبیر والشوکانی) ۔
Ayah 10:101

قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:101 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ان لوگوں سے کہہ ذرا دیکھو تو آسمان اور زمین میں کیا کیا اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں اور جن کی قسمت میں ایمان نہیں ان کو نہ نشانیوں سے کچھ فائدہ ہوتا ہے نہ ڈرانیوالوں (پیغمبروں یا ڈراو وں1) سے

ف 1 ۔ یا جو طے کرلیتے ہیں کہ چاہے کچھ ہوجائے ہم ہرگز اپنے باپ دادا کے راستہ کو چھوڑ کر ایمان نہیں لائیں گے۔ (کذافی فی الوحیدی) ۔
Ayahs 10:102–104

فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 10:102 in the Quran reader

تو کیا یہ تیرے مانے کے کافر میں ایسے ہی عذابوں کا انتظار کر ریہ ہیں جیسے ان سے پہلے لوگوں پر عذاب ہوچکے ہیں (اے پیغمبر) کہہ دے اگر یہ بات ہے تو انتظار کرتے رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں2

ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 10:103 in the Quran reader

پھر ہم اپنے پیغمبروں اور ایمان والوں کو بچا دیتے ہیں ایسے ہی ہمارا ذمہ ہے ہم ایمان والوں کو اب بھی بچا دیں گے اور مشرکوں کو تباہ کریں گے

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۖۚ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 10:104 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دے لوگو اگر تم کو میرے دین میں کچھ شک ہے (کہ شاید اسلام سچا دین نہ ہو) تو میں تو کسی حال میں تم کو شک ہو یا یقین ہو اللہ کے سوا تم جن کو پوجتے ہو ان کو پوجنے والا نہیں البتہ میں اللہ کو پوجتا ہوں جو ایک دن تمہاری جان لے گا (تم کو مارے گا) اسی کے پاس جائو گے) اور مجھ کو اسی کی طرف سے یہ حکم ہوا ہے کہ ایمان داروں میں رہوں

ف 2 ۔ آنحضرت ﷺ کفار کو عذاب سے ڈراتے تو وہ اس کا مذاق اڑاتے۔ اس پر اس آیت میں ان کو وعید سنائی کہ تم از خود اپنے اوپر عذاب کو دعوت دے رہے ہو جو ان سے پہلے کی کسی قوم پر نازل ہوا۔ (شوکانی) ۔
Ayah 10:105

وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ۚ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 10:105 in the Quran reader

اور یہ کہ سب دنیوں سے الگ ہو کر اس دین اسلام پر اپنا منہ سیدھا رکھ اور ہرگز مشرکوں میں مت ہو3

ف 3 ۔ حنیف نام ہے (دین ابرہاہیم ( علیہ السلام) والوں کا۔ اور عرب شرک کرتے اور اپنے آپ کو حنیف کہے جاتے۔ (احسن الفوائد) ” اور ہرگز مشرکوں میں مت شامل) ہو “۔ یعنی ماسوی اللہ کی طرف التفات بھی شرک ہے۔ جسے اہل دل شرک خفی کہتے ہیں۔ (کبیر) ۔
Ayah 10:106

وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:106 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کو مت پکار جو نہ تیرا فائدہ کرسکتے ہیں (نقصان4 پھر اگر تو ایسا کرے بالفرض تو بیشک تو بھی ظالموں میں سے ہوگا5

ف 4 ۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے سوا زمین و آسمان کی ہر زندہ یا مردہ ہستی اور ہر جاندار یا بےجان چیز آگئی۔ یہ مطلب نہیں کہ پہلے تو کسی بزرگ یا نبی کی قبر کے بارے میں یہ غلط عقیدہ قائم کرلیا جائے کہ وہ نفع و نقصان پہنچا سکتی ہے اور پھر اسے سجدے کئے جائیں اور اس سے مرادیں طلب کی جائیں۔ اس آیت کی اس طور پر تاویل کرنا اللہ کی کتاب سے کھیلنا اور اس کا مذاق اڑانا ہے۔ مطلب مشرکین کو سمجھانا ہے کہ ہر قسم کے نفع و نقصان کا اختیار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ (فتح القدیر) ۔ 5 ۔ کیونہ شرک کے برابر کوئی ظلم نہیں ہے جیسے فرمایا : ان الشرک لظم عظیم۔ یہاں پر ” فعل “ کنایہ ہے۔ دعا سے ای ان دعوت ما لا ینفع ولا یضرالخ۔ (روح) ۔
Ayah 10:107

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ١ؕ یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 10:107 in the Quran reader

اور اگر اللہ تعالیٰ تجھ کو کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر تجھ کو کوئی فائدہ پہنچانا چاہے تو اس کے فضل کو کوئی پھیر دنیے والا روکنے والا نہیں وہ اپنے بندوں میں سیجس کو چاہے فائدہ (یا فائدہ اور نقصان دونوں) پہنچائے اور وہی گناہوں کو) بخشنے والا مہربان ہے6

ف 6 ۔ مسند احمد اور ترمذی میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے عبد اللہ بن عباس ؓ کو مخاطب کرکے فرمایا : ہر قسم کی مدد اللہ تعالیٰ سے طلب کرو کیونکہ تمام دنیا تم کو ضرر پہنچانا چاہیے یا نفع جب تک اللہ تعالیٰ کی مرضی نہ ہو نہ تمہیں کچھ نفع پہنچا سکتی ہے نہ ضرو۔ (احسن الفوائد) عامر ؓ بن قیس کہتے ہیں کہ قرآن کی تین آیتوں نے مجھے سارے جہان سے بےنیاز کردیا۔ ایک یہ آیت دوسری : ما یفتح اللہ للناس من رحمتہ فلا ممسک لھا وما یعسک فلا مرسل لہ : جو رحمت (رح) اللہ لوگوں کے لئے کھولے اسے کوئی روک رکھنے والا نہیں ہے، اور جسے کوئی روکے اسے کوئی کھولنے والا نہیں ہے۔ اور تیسری آیت : وما من دابۃ فی الارض الی علی اللہ رزقھا۔ کہ زمین میں کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو۔ (فتح القدیر بحوالہ بیہقی) ۔
Ayahs 10:108–109

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 10:108 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دے لوگو تمہارے پاس سچ آچکا (یعنی قرآن یا دین اسلام یا پیغمبر تمہارے مالک کی طرف سے پھر جو کوئی راہ پر لگ جائے (سیدھی راہ اختیار کرے) تو وہ اپنے ہی فائدے کے لئے راہ پر لگتا ہے اور جو کوئی بھٹک جائے وہ بھٹک کر اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور میں تمہارا کروڑی نہیں ہوں1

وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ١ۖۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 10:109 in the Quran reader

(اے پیغمبر) تیری طرف جو وہی آتی ہے اس پر چلتا رہ اور (کافروں کی) ایذا ہی پر) صبر کر یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے لڑائی کا حکم اتارے اور اللہ سب فیصلہ کرنے والوں میں بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

ف 1 ۔ یعنی تمہارا نگران اور ذمہ دار نہیں ہوں کہ اگر تم سیدھی راہ پر نہ آئو تو مجھ سے باز پرس ہو۔