9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 9:1

بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَؕ Open ayah 9:1 in the Quran reader

ف 3 (مسلمانو) جن مشرکوں سے تم نے (صلح کا) عہد کیا تھا اب اللہ ت عالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے ان کو یہ صاف ضواب (اور علیحدگی) ہے4 ۔

ف 3 یہ پوری کی پوری سورت مدنی ہے جو فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی چونکہ رسوۃ توبہ اور سورت انفعال میں ذکر ہونے والے واقعات ایک دوسرے کو ایک سورت کا حکم میں رکھا گیا ہے اور ام دو نو کے درمیان بسم اللہ نہیں لکھتی گئی اوری سبع طوال میں ساتویں سورة ہے۔ اس کے متعد نام ہیں جن میں سے مشہور دو میں ایک التو نبہ اور دوسرابراۃ تو نہ اس اعتبار سے کہ اس میں ایک مقام پر بعض اہل ایما کی توبہ قبول ہونے کا ذکر ہے اور برا ۃ اس لحاظ سے کہ اس کے شروع میں مشرکین سے برات کا اعلان کیا گیا ہے نیز اس کو سورة العذاب، سورة العذاب، سورة الفا ضحہ اور الحافرۃ بھی کہا جاتا ہے۔ اس سورة کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الر حیم، نہیں لکھی جاتی، اس کے مفسرین (رح) نے متعدد دو جوہ بیان کئے ہیں مگر سب سے معقول اور سیدھی سادھی بات یہ ہے کہ چونکہ نبی ﷺ نے اس کے شروح میں بسم اللہ نہیں لکھوائی اس لئے صحابہ ؓ کرام نے نہیں لکھی، صحیح روایا میں ہے کہ جب یہ سورة نازل ہوئی تو نبی ﷺ نے حضرت علی ؓ کو بھیجا جنہوں نے ن کہ معظمہ پہنچ کر حج کر موقعہ پر مشرکین کو کہ سورة سنائی اور اس کے ساتھ چاچیزوں کا اعلان کیا۔ (1) جنت میں کوئی غیر مومن داخل نہ ہوگا۔ (2) کوئی شخص ننگا ہو کر خانہ کعبہ کا طواف نہ کرے۔ (3) اس سال کے بعد کوئی مشرکین حج کے لیے نہ آئے اور (4) جن لوگوں سے اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کا معاہدہ موقت ہے اور انہوں نے اس کی خلاف ورزی نہیں کی ان کے ساتھ مدت معاہدہ تک وفا کی جائیگی اور جن سے معاہدہ نہیں ہوا یا جنہوں نے خلاف ورزی کی ہے انہیں چار ماہ کی مہلت ہے۔ ( ابن کثیر، کبیر)4 یعنی اب معاہدہ ختم ہو اور دوستی کے تعلقات کٹ گئے۔ ) ( وحیدی )
Ayah 9:2

فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:2 in the Quran reader

(اے مشرکو) چار مہینے اور ملک میں چل پھر لو اور یہ جانے رہو کہ تم اللہ تعالیٰ کو تھکا نہیں سکتے اور اللہ تعالیٰ کافروں کو (ایک نہ ایک دن ضرور) ذلیل والا ہے کافروں کو5

ف 5 ی اعلان ایام حج 10 ذی الحجہ 9 ھ کو کیا گیا گو یا اس وقت سے 10 ربیع الثانی 10 ھ تک ان کو مہلت دی گئی کہ اس میں اپنے معاملے پر اچھی طرح غور کرلیں لڑنا ہے و لڑائی کے لیے تیار ہوجائیں، ملک چھوڑ کر جانا ہے تو مدت ختم ہونے سے پہلے پہلے نکل جائیں اور اگر اسلام لانا ہے و اسلام لے آئیں۔
Ayah 9:3

وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ١ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:3 in the Quran reader

اور بڑے حج کے دن6 اللہ اور اس کے رسول ی طرف سے منادی کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول (دونوں) مشرکوں سے بےتعلق (جدا اور علیحدہ) ہیں7 پھر اگر (اے مشرکو) تم (کفر سے) توبہ کرو تو یہ تمہارے بہتر ہے اور اگر نہ مانو (اور کفر پر جمے رہو) تو یہ جان رکھو کہ تم اللہ تعالیٰ کو تھکا اور (اے پیغمبر) تو کافروں کو تکلیف کے عذاب کی خوشخبری سنا

ف 6 یوم الحج الا کبر۔ ( بڑے حج کے دن) سے مراد 10 ذی الحجہ ہے جس دن حاجی منیٰ میں آکر قربانی کرتے ہیں۔ ، حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے دریافت کیا کہ بڑے حج کا دن نو نسا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا قربانی کا دن (ترمذی) حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حجتہ الوداع میں قربانی کے دن نبی ﷺ نے جمرات کے درمیان کھڑے ہو کر لوگوں سے دریافت فرمایا کہ آج کونسا دن ہے ؟َ لوگوں نے جواب دیا کہ قربانی دن فرمایا یہی بڑے حج کا دن ہے۔ ( ابوداؤد۔ ابن ماجہ)7 یعنی کسی قسم کا معاہدہ یا دوستی ان سے نہیں۔
Ayah 9:4

اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْئًا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:4 in the Quran reader

مگر ان (مشرکوں میں سے) جن سے تم نے (ایک معین مدت تک) عہد کیا تھا پھر انہوں (اپنا عہد پورا کرنے میں) تم سے کوئی کمی (کوتا ہی) نہیں کی اور نہ تمہارے مقابلہ پر کسی (تمہاری دشمن کی) مدد کی تو جو مدت مقرر ہوچکی تھی اس تک ان کا عہد پورا کرو8 ب بیشک اللہ تعالیٰ پرہیز گاروں سے محبت رکھتا ہے (جو اپنا عہد نہیں توڑتے )

ف 8 ان کے لیے چارمہینوں کی میعاد نہیں ہے۔
Ayah 9:5

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:5 in the Quran reader

پھر جب امان کے مہینے گزر جائیں9 تو مشرکوں جہاں پاؤ قتل کرو اور ان کو قید کرلو اور گھیر لو اور ان کی تاک میں ہر گھات کی جگہ بیٹھو1 پھر اگر وہ (شرک اور کفر سے) توبہ کریں اور نماز کو درستی سے پڑھنے لگیں اور زکوۃ دیا کریں تو ان کے حال پر ان کو چھوڑ دو (ان سے تعرض نہ کرو) بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے2

ف 9 یعنی وہ چار مہینے ان کی ان مشرکین کو مہلت دی گئی تھی، ابن عباس ؓ نے فرمایا مراد وہی ادب کے مہینے ہیں یعنی رجب، ذوالحج اور محرم کی آخری تایخ تک ان کو مہلت ہے۔ شروع صفر سے ان کے خلاف جنگ ہے۔ ( وحیدی) 1 گھات کی جگہ سے مراد وہ راستہ ہے یا جگہ ہے جہاں سے دشمن کے گزر نے کی تو فیق ہو اور جہاں سے اس پر حملہ کر کے اس کا کام تمام کرنا ممکن ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ان مشرکین سے صرف میدان جنگ میں لڑنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ جس طریقے سے بھی تم ان پر قابو پاکر انہیں قتل کرسکتے ہو ضرور قتل کرو، ( کبیر)2 شاہ صاحب اپنے فوائد میں لکھتے ہیں : جن وہ عدم ٹھہر گیا تھا اور دغا ان سے نہ دیکھی ان کی صلح قائم رہی اور جن سے وعدہ کچھ نہ تھا ان کو فرصت ملی چا رمہینے۔ اور حضرت نے فرمایا دل کی خبر اللہ کو ہے۔ ظاہر میں جو مسلمان ہو وہ سب کے برابر امان میں ہے اور ظاہر مسلمان کی حد ٹھہری ایمان لانا کفر سے توبہ کرنا اور نماز اور زکوٰۃ، اس واسطے جب کوئی شخص نماز چھوڑ دے یا زکوٰۃ، تو پھر اس سے امان اٹھ گئی۔ ( مو ضح) یہی وہ مضمون ہے جسے نبی ﷺ نے اپنی اس حدیث میں بیان فرمایا ہے کہ مجھے حکم ملا ہے کہ اس وقت تک لوگوں سے جنگ کروں جب تک وہ لا لہ الا اللہ محمد الر سول اللہ کی شہادت نہیں دیتے نماز قائم نہیں کرتے اور زکوٰۃ ادا نہیں کرتے، ( صحیحین بروایت حضرت عمر ؓ اور یہی وہ آیت اور حدیث ہے جس سے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ان مانعین زکوٰۃ سے جنگ کرتے تھے لیکن زکوٰۃ ادا کرنے سے انکای تھے، حضرت صدیق اکبر استدلال یہ تھا کہ اس آیت اور حدیث میں تعرض نہ کرنے کے لیے تین چیزوں کا بطور شرط ذکر کیا گیا ہے، لوگ شرک وکفر سو تو بہ کریں یعنی لا الہ اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیں نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، اب جب یہ لوگ ان تین شرطو میں سے ایک شرط کو پورا کرنے سے انکار کر رہے ہیں تو ان سے جنگ کرنا واجب ہے۔ ( مختصر ازابن کثیر )
Ayah 9:6

وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 9:6 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) اگر مشرکوں میں سے کوئی شخص تجھ سے پناہ مانگے تو اس کو پناہ دے جب تک وہ اللہ تعالیٰ کا کلام سن لے پھر اس کو اس کے امن کی جگہ پہنچا دے (یعنی اس کی قوم یا گھر یا ملک میں) یہ (حکم) اس لیے (دیا جاتا ہے) کہ ابھی ان لوگوں کو معلوم نہیں ہے3

ف 3 یعنی انہیں اسلام کی حقیقت معلوم نہیں اس لیے اگر کبھی کر ئی حربی کافر تم سے یہ درخواست کرے کہ مجھ اپنے ہاں پناہ دو تاکہ میں قرآن سنوں اور اسلام کے متعلق سمجھ حاصل کروں تو تمہیں اسے پناہ دے دینی چاہیے اب اگر وہ اسلام لانے کے لیے آمادہ نہ ہو اور اپنے ٹھکانے پر واپس جانا چاہے تو تم اسے اس کے ٹھکانے پر پہنچادو۔ پھر جب وہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ جائے تو دوسرے مشرکین کی طرح اسے مارنا اور قتل کرنا بھی جائز ہے اس سے پہلے جائز نہیں یہ حکم ہمیشہ کے لیے ہے۔ ( ابن کثیر )
Ayah 9:7

كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:7 in the Quran reader

مشرکوں کا عہد اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک عہد نہیں ہے4 مگر خیر جن لوگوں سے تم نے (اے مسلمانو) ادب والی مسجد کے پاس عہد کیا تھا5 جب تک وہ تم سے سیدھے رہیں (اپنے عہد پر قائم رہیں) تم بھی ان سے سیدھے رہو6 کیونکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو پرہیز گار ہیں7

ف 4 یا ان کا عہد کیونکر عہد ہوسکتا ہے وہ تو بےایمان ہیں جب بھی عہد کرتے ہیں اسے توڑ ڈالتے ہیں۔ ( وحیدی)5 یعنی صلح حدیبیہ جو آنحضرت ﷺ اور کفار قریش کے درمیان دس سال کے لیے قرار پائی۔ یہ صلح نامہ چونکہ حدود حرم کے اندر طر پایا تھا اس لیے اسے عندالمسجد الحرم فرما دیا۔ ( ابن کثیر)6 یعنی ان سے قتال نہ کرو چناچہ رسول اللہ ﷺ اس معاہدہ پر قائم ر ہے۔ اس معاہدہ میں شرط یہ تھی کہ ایک دوسرے پر حملہ آور نہیں ہوں گے اور نہ دوسرے کے خلاف کسی کی مدد کریں گے۔ اس معاہدہ میں بنو خزاعہ مسلمانوں کے ساتھ شامل تھے اور بنو بکر قریش کے حلیف تھے مگر کچھ عرصہ بعد بنو بکر اور بنو خز اعہ کے مابین لڑائی چھڑگئی اور مشرکین نے معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بن خزاعہ کے خلاف بنو بکر کی مدد کی، یہ چناچہ معاہدہ کی صریح خلاف ورزی تھی اس لیے آنحضرت ﷺ نے رمضان 8 ھ کو مکہ پر حملہ کر کے اسے فتح کرلیا۔ ( ابن کثیر) شاہ صا حب فرمتے ہیں کہ صلح والے تین قسم فرمائے ایک جن سے مدت نہیں ٹھہری ان کو جواب دیا کہ تم کو چار ماہ کی مہلت دی جاتی ہے) مگر فو کے کی صلح میں شامل تھے تو جب تک وہ دغانہ کریں یہ ادب ہے مکہ کا اور تیسرے جن سے مدت ٹھہری وہ صلح قائم رہی لیکن آخر سب مشرکیہن عرب ایمان لائے۔ ( مو ضح)7 اور عہد کا پورا کرنا بھی پرہیز گاری کے لیے ضروری شرط ہے۔ ( وحیدی)
Ayah 9:8

كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ Open ayah 9:8 in the Quran reader

ان کا عہد کس کام کا اور (ان کا حال تو یہ ہے) اگر وہ (اے مسلمانو) تم پر کبھی غالب ہوں تو نہ عزیز داریکا لحاظ رکھیں (یا نہ خدا کا لحاظ رکھیں) نہ عہد کا اپنے منہ (کی باتوں سے) تم کو خوش کرتے ہیں اور دلوں میں ان کے انکار ہے8 اور ان میں اکثر بےایمان ہیں

ف 8 مشرکین سے برات کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے معاہدہ کا کوئی اعتبار نہیں۔ یہ لوگ زبان سے دوستی اور وفاداری کی میٹھی میٹھی باتیں کرتے ہیں اور دل میں یہ ہے کہ اگر کبھی موقع مل جائے تو معاہدہ کو پس پشت ڈال کر ان مسلمانوں کو کچا چبا ڈالیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں الال کے معنی قرابت اور ذمہ کے معنی عہد کے ہیں۔ ( ابن کثیر )
Ayah 9:9

اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:9 in the Quran reader

(جو عہد کا خیال نہیں رکھتے) انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آتوں کو (جن میں عہد پورا کرنے کا حکم ہے) تھوڑی سی قیمت پر بیچ ڈالا9 پھر اللہ کی راہ سے (لوگوں کو) روکنے لگے بیشک یہ لوگ برے کام کررہے ہیں

ف 9 یعنی یہ تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی چند روزہ زندگی کے مفاد کی خاطر اللہ تعالیٰ کے احکام کر رد کردیا۔ پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا کہ خود اسلام کی راہ اختیار نہ کی بلکہ دوسروں کو بھی اسلام کی راہ اختیار کرنے سے رو کتے رہے۔ ( از شو کانی )
Ayah 9:10

لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ Open ayah 9:10 in the Quran reader

کسی مسلمان کے باب میں نہ وہ عزیز داری کا خیال رکھتے ہیں (اپنے عہد کا اور یہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں10

ف 10 یعنی عہد شکنی اور زیادتی جب بھی ہوئی ہے انہیں کی طرف سے ہوئی ہے۔ کہتے ہیں کہ اوپر کی آیات تمام مشرکین کے بارے میں تھی اور یہ آیت خاص یہود کے حق میں ہے۔ ( وحیدی)
Ayah 9:11

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 9:11 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ (شرک اور کفر اور عہد شکنی سے) توبہ کریں اور نماز کو درستی سے ادا کریں اور زکوۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں1 اور جو لوگ سمجھ دار ہیں ان کے لیے ہم تفصیل سے آیتوں کو بیان کرتے ہیں2

ف 1 انہیں اسلامی معاشرہ میں وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو دوسرے مسلمانوں کو حاصل ہیں۔ حضرت شاہ صا حب لکھتے ہیں یہ جو فرمایا کہ بھائی ہیں حکم شرع ہیں۔ اس میں سمجھ لیں کہ جو شخص قرائم سے معلوم ہو کہ ظاہر میں ج مسلمان ہے اور سل سے یقین نہیں رکھتا تو چاہے اسے حکم سے ظاہری میں مسلمان گنیں مگر معتمد اور دوست نہ پکڑیں، ) مو ضح)2 سمجھ دار لوگوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا انجام سمجھتے اور اپنے دلوں میں اللہ کا خوف رکھتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو اس کی بیان کردہ آیات سے صحیح فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ( وحیدی)
Ayah 9:12

وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ Open ayah 9:12 in the Quran reader

اور اگر عہد کرکے یہ لوگ انی قسمیں توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر طعنہ ماریں (شریعت کی توہین کریں یا پیغمبر کی یا قرآن کی) تو ان کفر کے سرداروں سے لڑو ان کی قسمیں کوئی چیز نہیں (محض بےاعتبار ہیں) تاکہ وہ باز آئیں3

ف 3 یعن جن لوگوں کی حالت یہ ہو کہ وہ صرف تم سے معاہدہ کر کے اسے توڑ تے ہوں بلکہ تمہارے دین کا مذاق بھی اڑاتے ہوں تو سمجھ لو کہ ایسے ہی لوگ ائمتہ الکفر، ( کفر کے سردار) ہیں ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں لہذا تم ایسے لوگوں کو کسی قسم کو موقع دیئے بغیر پر سر پیکار ہوجاؤ شاید تمہاری تلواریں ہی انہیں ان کے کرتوتوں سے باز رکھ سکیں۔ معلوم ہوا کہ دین اسلام پر طعن کرنے والا اور پیغمبر ( علیہ السلام) کی اہا نت کرنے والا واجب القتل ہے۔ ( ابن کثیر )
Ayah 9:13

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:13 in the Quran reader

(مسلمانو) تم کیوں ان لوگوں سے نہ لڑو جنہوں نے اپنی قسمیں توڑ ڈالیں اور پیغمبر کو (مکہ سے) نکال دینا چاہا اور انہوں ہی پہلے تم سے چھیڑ خانی شروع کی4 کیا تم ان سے ڈرتے ہو (جو نہیں لڑتے) اگر تم کو ایمان ہے تو اللہ تعالیٰ کا ڈر تم کو زیادہ ہونا چاہیے5

ف 4 اوپر کی آیت میں ائمہ کفر کے ساتھ مقاتلہ کا حکم تھا۔ اب اس آیت میں اس مقاتلہ کے وجوہ واسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوتے تین اسباب بیان فرمائے ہیں۔ نقض عہد کی صلح حدیبہ ہوجا نے کے بعد بھی ہو بنو خزاعہ کے خلاف ( جو مسلمانوں کے حلیف تھے) بن بکر کی پیٹھ ٹھو نکتے اور اسلحہ وغیر سے ان کی مدد کرتے رہے حلا ن کہ ان کا ایسا کرنا صلح کے معاہدہ کی صریح خلاف ورزی تھی اور جب آنحضرت ﷺ مکہ میں تھے تو ملک سے نکال دینے کے لیے آپ ﷺ کے خلاف منصوبے سوچتے رہے جیسا کہ سورة انفعال آیت 30) میں گزر چکا ہے اور پھر بدر کے موقع پر جب ان کا تجارتی قافلہ گیا بچ گیا تھا تو انیں واپس چلاجا چاہیے تھا لیکن یہ نہیں گئے اور انہوں نے خواہ مخواہ جنگ چھیڑ ی۔5 کیونکہ نفع و نقصان اس کے ہاتھ میں ہے اور جب وہ لڑنے کا حکم دے رہا ہے تو تمہیں ضرور لڑنا چاہیے ( وحیدی )
Ayahs 9:14–15

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 9:14 in the Quran reader

ان سے لڑو اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں ان کو سزا دے گا اور ان کو ذلیل کرے گا اور تم کو ان پر فتح دے گا اور مسلمانوں میں سے ایک گروہ کے دل ٹھنڈے کرے گا (یعنی بنی خزاعہ کے)

وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:15 in the Quran reader

اور ان کے دلوں کا غصہ دور کردے گا6 (جو قریش کی عہد شکنی سے ان کو پیدا ہوا ہے) اور اللہ تعالیٰ جن کو چاہے ان کو توبہ کی توفیق دے گا7 اور اللہ جانتا ہے حکمت والا

ف 6 ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے پانچ وعدے فرمائے جو سب کے سب پورے ہوئے۔ فاللہ الحمد۔ ( وحیدی)7 چناچہ قریش کے سراداروں اور عام لوگوں میں کتنے ہی ایسے ہیں جنہیں فتح مکہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے توبہ کی تو فیق دی اور وہ مسلمان ہوئے جیسے عکرمہ بن ابی جہل م ابو سفیان اور سہیل بن عمرو وغیر ھم۔ ( وحیدی)
Ayah 9:16

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 9:16 in the Quran reader

(مسلمانو) کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (بےجانجے پر تالے) تم (یونہی) جھوٹ جاؤگے اور ابھی تک اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو نہیں کھولا جنہوں نے تم میں سے جہاد کی اور اللہ اور اس کے رسول کے سوا کسی کو اپنا راز دار نہیں بنایا8 اور اللہ تعالیٰ کو خبر ہے جو تم کرتے ہو9

ف 8 یعنی انتائی محبوب اور دوست، اس شرط کے ذکر سے مقصد یہ ہے کہ جہاد تو منافق بھی شریک ہوجاتے ہیں مگر یہ جہاد مقبول نہیں ہوتا تا وقتیکہ ظاہر وہ باطن میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی خیر خواہی نہ ہو۔ ( ابن کثیر)9 مطلب یہ ہے کہ تمہیں یقینا آزمائش کی بھٹی سے گزار کر رہے گا تاکہ پتہ چل جائے کہ تم میں وقعہ کون سچا اور مخلص تھا اور کون جھوٹا اور منا فق اشارہ ہے اس طرف کہ جہاد کی مشرو عیت کی ایک حکمت مومنین ثابت قدمی کو جا نچنا بھی ہے، یہ معنی نہیں ہیں کے بغیر کوئی جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا، ( نیز دیکھئے سوہ عنکبوت آیت 1 ۔ 3 و آل عمران آیت 179)
Ayah 9:17

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 9:17 in the Quran reader

مشرکوں کا یہ کام نہیں کہ اللہ کی کی مسجدوں کو آباد رکھیں حالانکہ اپنا کفر (اپنی زبان سے) خود مانتے ہیں1 ان لوگوں کا کیا کرایا سب اکارت ہوا2 اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہیں

ف 1 یا ایسے کام کرتے ہیں جن سے ان کا مشرک ہونا صاف معلوم ہوجاتا ہو۔ جیسے بتوں یا قبروں یا ستاروں کی پوجا کرنا یا زبان ایسی باتیں نکالتے ہوں جو صریحا شرک ہیں جیسے قریش جب تلبیہ کرتے تو یوں کہتے : لبیک لا شریک لک الا شریکا ھو لک تملکہ وما ملک ( اللہ ہم حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں، مگر وہ شریک کا تو مالک ہے اور وہ کسی چیز کا مالک نہیں ہے۔ ( وحیدی) مطلب یہ ہے کہ مسجدیں جو اللہ تعالیٰ کے نام پر اراسی کی عبادت کے لیے بنی ہیں مشرکین کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ انہیں آباد رکھیں ج اور ان کے متولی یا خادم بن کر ان پر اجارہ داری قائم کریں، یہ حکم اگرچہ تمام مساجد کے متعلق ہے مگر یہاں مسجد حرام مراد ہے جو اس وقت مشرکین کے قبضہ میں تھی۔ یعنی مسلمانوں کو چاہیئے کہ اس پر سے ان کی اجارہ داری ختم کرنے کے لیے کوئی کسر اٹھانہ رکھیں۔2 یعنی انہوں نے اگر کچھ نیک کام کئے بھی ہیں جیسے مسجد حرام اور حاجیوں کی خدمت وغیرہ تو ان کے شرک کی وجہ سے وہ سب اکارت گئے۔ ( ابن کثیر )
Ayah 9:18

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 9:18 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی انہی لوگوں سے ہوتی ہے3 جو اللہ تعالیٰ پر اور پچھلے دن پر یقین رکھتے ہیں اور نماز کو درستی سے ادا کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور خدا کے سوا اور کسی سے نہیں ڈرتے تو ایسے لوگوں کو راہ پانے امید ہوسکتی ہے

ف 3 یعنی انہی لوگوں کو ان کی تولیت کا حق پہنچتا ہے اور وہی ان کے خادم اور آبادی کارہو سکتے ہیں بعض احادیث میں بھی انما عمار والمساجد ھم اھل اللہ کہ مساجد کے آباد کار تو اہل اللہ ہی ہوسکتے ہیں۔ مسجدیں تعمیر کرنے انہیں آباد رکھنے اور ان میں عبادت کے لے بیٹھنے کی احادیث صحیحہ میں بہت فضیلت آئی ہے مثلا ایک حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : جب تم کسی کو باربار مسجد کی طر آتے جاتے دیکھو تو اس کے مومن ہونے کی شہادت دو ۔ ترمذی۔ دوسری حدیث میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے مسجد بنائے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔ ( بخاری مسلم )
Ayah 9:19

اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 9:19 in the Quran reader

(مشرکو) کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانا اور ادب والے (کعبہ کی) مسجد کو آباد رکھنا اللہ تعالیٰ اور پچھلے دن پر ایمان لانے اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے کی طرح کردیا (دونوں کو برابر سمجھا) اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ برابر نہیں ہوسکتے اور اللہ تعالیٰ بےانصاف لوگوں کو راہ پر نہیں لگاتا4

ف 4 یعنی یہ کام گو فضیلت کے ہیں مگر ایمان باللہ اور جہاد کے مقابلے میں کچھ حثیت نہیں رکھتے اور پھر ایمان کے بغیر یہ مقبول بھی نہیں، ( کبیر) مشرکین مکہ کو اس بڑا فخر تھا کہ ہم کعبہ کے متولی ہیں حاجیوں کی خدمت کرتے ہیں۔ لہذا مسلمانو جہاد اور ہجرت کی وجہ سے ہم سے افضل نہیں ہوسکتے۔ چناچہ جنگ بدر کے بعد حضرت ابن عباس ؓ قید ہو کر آئے تو ان کی حضرت علی ؓ سے اس قسم کی بحث بھی ہوئی۔ حضرت اعباس ؓ کہنے لگے، اگر تم ایمان جہاد اور ہجرت میں ہم سے سبقت رکھتے ہو تو ہم اس کے مقابلے میں مسجد حرام کی خدمت کرتے اور حاجیوں کو پانی پلاتے رہے ہیں پس تم ہم سے کسی صورت افضل نہیں ہوسکتے۔ بعض روایات میں ہے کہ ایک جمعہ کو چند مسلمان نبی ﷺ کے منبر کے پاس اس مسئلہ میں بحث کرنے لگے، ایک نے کہا کہ مسلمان ہونے کے بعد حاجیوں کو پانی پلانے سے بہتر کوئی عمل نہیں۔ دوسرا کہنے لگا کہ میرے نزدیک مسجد حرام کی خدمت افضل ہے تیسرے نے کہا۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد تمام عبادات و اعمال سے افضل ہے۔ آخرت کار حضرت عمر ؓ نے ان لوگوں کو ڈانٹا اور خاموش کرایا،۔ پھر جمعہ کے بعد ان لوگوں نے نبی ﷺ سے یہی مسئلہ پوچھا تو یہ آیات نازل ہوئیں، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین اور ان تمام لوگوں کا رد فرمایا جو خانہ کعبہ اور حاجیوں کی خدمت کو ایمان اور اور جہاد فی سبیل اللہ کا ہم مرتبہ سمجھتے تھے کیونکہ ایمان تو ہر چیز کی روح اور اصل ہے اس کے بغیر کسی بڑے سے بڑے عمل کا بھی اعتبار نہیں ہے اور جہاد سے سچے اور جھوٹے مسلمان کے مابین تمیز ہوجاتی ہے اور یہ دین کی حٖفاظت اور اعلا کلمتہ اللہ کا واحد ذریعہ ہے اس لیے اس کا درجہ ایمان کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ ( ابن کثیر، و کبیر )
Ayah 9:20

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 9:20 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی5 اور اپنی جان اور مال سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کیا ان کا درجہ اللہ کے نزدیک بڑا ہے (بہت بڑا) اور وہی لوگ (حشر میں) کامیاب ہوں گے6

ف 5 رسول اللہ ﷺ کی رفاقت میں اپنے گھر بار اور رشتہ داروں کو چھوڑا۔ (وحیدی ) 6 اس آیت میں مہاجرین کی بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے جن میں سے حضرت ابوبکر ؓ ، عمر ؓ ، عثمان ؓ ، علی ؓ ، ابو عبیدہ ؓ ، بن جراح، طلحہٰ ؓ زبیر ؓ اروبہت سے دوسرے صحابہ کرام شامل ہیں، قرآن خود ان کے آخرت میں فا ئز وسر خرو ہونے کی شہادت دے رہا ہے معلوم ہوا کہ جو لوگ انہیں بر بھلا کہتے اور ان پر لعنت بھیجتے ہیں وہ خود لعنتی اور نامراد ہیں۔ (وحیدی)
Ayahs 9:21–22

یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:21 in the Quran reader

ان کا مالک ان کو اپنی مہربانی اور رضا مندی اور ایسے باغوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ہمیشہ آرام ہے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 9:22 in the Quran reader

ہمیشہ ہمیشہ ان باغوں میں رہیں گے7 بیشک اللہ تعالیٰ کے پاس (بہت) بڑا ثواب (موجود) ہے اس کے ثواب کا خزانہ کم نہیں ہوسکتا

ف 7 جب مالک خود ان لوگوں سے راض اور انہیں اپنی رحمت اور جنت کی خوشخبری دے رہا ہے تو ڈوب مرنا چاہیے۔ ان لو گو کو جو ان کے خلاف اپنی زبانیں کھولتے ہیں۔ اگر ان میں ذرہ بھر بھی غیرت اور شرم وحیا ہے۔ ورنہ سیدھی طرح اپنی بدتمیزی اور گستاخی سے تو بہ کر کے ان کا وہ مقام تسلیم کرنا چاہیے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ان کو دیا ہے۔ ( کذافی الو حیدی)
Ayah 9:23

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 9:23 in the Quran reader

مسلمانو اگر تمہارے باپ اور بھائی ایمان کو چھوڑ کر کفر کو پسند کریں تو تم ان سے (بھی) دوستی نہ رکھو (چہ جائے کہ خیر کافروں سے) اور جو کوئی تم میں سے ان کی دوستی رکھیں تو وہی بےانصاف ہیں1

ف 1 یعنی بعض لوگ دل سے مسلمان ہیں لیکن برادری سے تعلق توڑ بھی نہیں سکتے کہ اپنے اسلام کا اعلان کردیں ان کا حال یہاں سے سمجھو۔ ( از مو ضح )
Ayah 9:24

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِ۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:24 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان مسلمانوں سے) کہہ دے اگر تمہارے باپ دادا بیٹے پوتے (نواسے) بھائی بی بیاں کنبے والے اور جو مال تم نے کمائے ہیں اور جس سوداگری کے خراب ہوجانے سے ڈرتے ہو اور جن مکانوں کو تم پسند کرتے ہو تم کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ عزیز ہیں تو پڑے رہو جب تک اللہ تعالیٰ اپنا حکم بھیجے اور اللہ تعالیٰ گنہگاروں کو راہ پر نہیں لگاتا2

ف 2 یہ دونوں آیتیں مسلمانوں کے کسی خاص گروہ یا واقعہ سے متعلق نہیں ہیں بلکہ عام اور ہر زمانے کے لیے ہیں۔ ان میں تمام مسلمانوں کے یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ و رسول ( علیہ السلام) کی محبت انہیں دنیا کی ہر چیز سے زیادہ ہونی چاہیے حتی کہ اگر کبھی ایساہو کہ ایک طرف اللہ و رسول کا حکم ہو اور دین اسلام کو بچا نے کے لیے جان ول مال سب کچھ قربان کردینے کی ضرورت ہو اور دوسری طر ما باپ اور دیگر خویش وقارب کی محبت ہو اور مالی دوسرے دنیوی مفادات و خطرات سدراہ ہو رہے ہوں تو مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ہر شخص اور ہر مصلحت سے بےپرواہ ہو کر اللہ و رسول ( علیہ السلام) کے حکم کی پیروی کرے اور کوئی دینوی مفاد یا خطرہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اسے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے باز رکھ سکے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر آن ہر شکل میں عذاب آسکتا ہے مثلا دشمنوں سے مغلوب کر کے یا تم پر ظالم حکمران مسلط کر کے تمہیں ذلت و رسوائی میں مبتلا کر کے وغیرہ، یہی مضمون ہے جس کو نبی ﷺ نے اپنی متعدد احادیث میں بار بار واضح فرمایا ہے، مثلا صحیح بخاری میں آپ ﷺ کا ارشاد ہے مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ تم میں سے اس کے والد، بیٹے اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوجاؤں۔ ( ابن کثیر ) ْ حضرت عمر ؓ نے ایک مرتبہ آپ ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کے سوائے اپنی جان کے آپ ﷺ مجھے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کی جان سے بھی زیادہ محبوب ہوں فرمایا ہاں عمر ؓ اب تیرا ایمان معتبر ہے۔ ( بخاری) ایک مرتبہ صحابہ ؓ کرام کو جہاد کی تر غیب دیتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا جب تم بیلوں کی دم پکڑ کر کھیتی باڑی پر راضی ہوجاؤ گے اور جہاد چھوڑ بیٹھو گے تو اللہ تعالیٰ پر ایسی ذلت مسلط کر دیگا جس سے اس وقت تک کبھی نہ نکل سو گے جب تک اپنے دین۔ جہاد فی سبیل اللہ کی طرف واپس نہیں آؤ گے۔ (ابن کثیر بحوالہ ابو داؤد)
Ayah 9:25

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ Open ayah 9:25 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تو بہت سے معرکوں میں تمہاری مدد کرچکا ہے اور حنین کے دن (بھی)3 جب تم اپنے بہت ہونے پر اترا گئے تھے4 پھر تمہارا بہت ہونا تمہارے کچھ کام نہ آیا اور زمین اتنی بڑی (لنبی چوڑی) ہوتے سا تھے تم پر تنگ ہوگئی (کوئی امن کا مقام تم کو نہ ملا) پھر تم پیٹھ موڑ کر بھاگے5

ف 3 حنین، مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ایک واد ہے۔ وہاں فتح مکہ (رمضان 8 ھ) کے ایک مابعد شوال 8 ھ میں مسلمانوں کی ہوازن، ثقیف، بنو جشم، بنو سعد اور بعض دوسرے قبائل سے جنگ ہوئی تھی ) ( ابن کثیر وغیرہ)4 نبی ﷺ کے ساتھ دس ہزار مہاجرین ؓ اور انصار ؓ کا لشکر تھا جو فتح مکہ کے لیے آپ ﷺ کے ساتھ مدینہ سے آئے تھے اور دوہزار آدمی آپ ﷺ کے ساتھ اہل مکہ ( طلقا) میں سے شامل ہوگئے تھے۔ اس طرح مسلمانوں کا کل لشکر بارہ ہزار لڑنے والوں پر مشتمل تھا جب کہ مقابلے میں دشمنوں کی تعداد صرف چار ہزار کے قریب تھی اس پر بہت سے مسلمانوں میں غرور کا جذبہ پیدا ہوگیا۔ حتی ٰ کہ بعض نے کہا آج ہم قلت تعداد کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوں گے۔ یہ کلمہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا۔ ( ابن کثیر۔ کبیر) فف 5 ہو یہ کہ ہوازن کے بہت سے لوگ کمین گوہوں میں چھپ گئے۔ جب دونوں فوجوں کا آمنا سامنا ہو اتو انہوں مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ کردیا۔ یہ دیکھ کر مسلمان حواس باختہ ہوگئے اور ان میں سے اکثر بھاگ کھڑ ہوئے صرف 100 سو کے قریب مسلمان نبی ﷺ کے ساتھ رہ گئے۔ آپ ﷺ کے چچا عباس ؓ آپ کے خچر کی لاگا اور آپ اور آپ ﷺ کے چچا زاد بھائی ابو سفیان ؓ بن حارث آپ ﷺ کی رکاب تھامے رہے آپ ﷺ بلند آواز سے فرما رہے تھے الی عباد اللہ الی انا رسول اللہ۔ اللہ کے بندو ! میری طرف آؤ میں اللہ کا رسول ﷺ ہوں اور کبھی فرماتے انا النبی لا کذب انا بن عبد المطلب ( میں اللہ کا سچا نبی ہوں میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں) تب بھاگنے والے مسلمانو پلٹنا شروع ہوئے۔ ( ابن کثیر )
Ayah 9:26

ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:26 in the Quran reader

پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر اور مسلمانوں پر (جو بھاگ گئے تھے یا جو نہیں بھاگے تھے یا سب پر) اپنی تسلی اتاری اور ایسے لشکروں (فرشتوں) کو اتا جن کو تم نے نہیں دیکھا اور کافروں پر عذاب کیا (ان کو مارا) اور کافروں کی یہی سزا ہے6

ف 6 اس جنگ میں بھی جنود ( فرشتے) نازل ہوئے مگر تحقیق یہ ہے کہ یہ فرشتے کافروں پر عب ڈالنے کے لی اترے تھے، انہوں نے اس لڑائی میں عملا حصہ نہیں لیا تھا، لڑائی صرف بدر میں لڑی۔ (وحیدی) سائب بن یسار ؓ کہتے ہیں کہ یزید بن عامر سوائی نے جنگ حنین میں کافروں کا ساتھ دیا تھا۔ بعد میں وہ مسلمان ہوگئے تھے ہم جنگ حنین میں اس رعب کی کی کیفیت دریافت کرتے تو تو وہ ایک کنکری ٹب میں پھینک کر کہا کرتے کہ جس طرح یہ ٹن کی آواز آتی ہے اسی طرح کی آواز ہم اپنے پیٹوں میں محسوس کرتے تھے اور اس سے ہماری دل لرز جاتے تھے، واللہ اعلم، ( ابن کثیر)
Ayah 9:27

ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:27 in the Quran reader

پھر اس کے جس کو اللہ تعالیٰ چاہے گا توبہ کی توفیق دے گا (وہ مسلمان ہوجائے گا) اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے7 ۔

ف 7 چناچہ غزوہ حنین کے تقریبا بیس روز بعد ہوازن کے بقیہ لوگ مسلمان کے بقیہ لوگ مسلمان ہو کر جعرانہ کے مقام پر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے ان کے قیدی جو تقریبا چھ ہزار کی تعدان میں تھے انہیں واپس کردیتے ہیں لیکن مال واپس نہ کیا بلکہ اسے لڑنے والوں میں تقسیم فرمادیا۔ ( ابن کثیر )
Ayah 9:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا١ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:28 in the Quran reader

مسلمانو مشرک تو نرے گندے ہیں1 تو اس سال کے بعد ادب والی مسجد کے نزدیک نہ آئیں2 اور اگر تم کو محتاجی کا ڈر ہو3 تو آگے چل کر اللہ تعالیٰ تم اپنے فضل سے اگر چاہے گا تو مالدار کردے گا4 بیشک اللہ جانتا ہے حکمت والا

ف 1 گندے ہونے یہ سے مراد نہیں ہے کہ ان کے بد ن گندے ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ عقائد اعمال اور اخلاق کے اعتبار سے گندے ہیں۔ اکثر علما نے سلف (رح) نے اس کا یہی مطلب بیان کیا ہے۔2 یعنی آئندہ سے حدود حرم میں بھی ان کا داخلہ سر سے بند ہے۔ اس سے صرف ذمی اور غلام مستثنیٰ ہیں جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس سال کے بعد ذمی اور خدام کے سوا کوئی مشرک حرم میں داخل نہیں ہوسکتا۔ اس بنا پر 9 ھ کو حج کے موقع پر سورة تو بہ کے کی ابتدائی آیات کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا گیا الا لا یحجن بعد العام مشرک ولایطون فن بالبیت عریان، کہ آئندہ کوئی مشرک حج میں شریک نہیں ہو سکے گا اور نہ کوئی ننگاہو کر طواف ہی کرسکے گا۔ اور نہ کوئی ننگا ہو کر طواف ہی کرسکے گا۔۔ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ اس کے بعد آنحضرت نے مشرکین اور یہود و نصاری کو جزیرہ عرب سے نکال دینے کا حکم دے دیا تھا۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کی آخرت وصیت کے مطابق حضرت عمر ؓ نے ان کو جزیرہ عرب سے خارج کیا۔ ( ابن کثیر، قرطبی) مسجد حرام میں تو مشرک داخل نہیں ہوسکتا۔ مگر دوسری مساجد میں کسی ضرورت کے مطابق مشرک داخل ہوسکتا، جیسا کہ نبی ﷺ نے بعض مشرکوں کو اپنی مسجد میں آنے کا اجازت دی تھی اور ثمامہ کو مسجد کو ستون سے باند ھنے کا وقعہ تو مشہور ہی ہے۔ ( از وحیدی)3 برات کے اعلان سے بعض لوگوں کے دلوں میں اندیشہ پیدا ہوا کہ مشرکین جو سامان تجارت اور کاروبار کی بندش وغیرہ کا اندیشہ نہ کرو۔4 آئندہ کے لے اللہ تعالیٰ اسباب روزق کے دروازے کھول دیگا چناچہ ایک تو جہاد کی و جہ سے غنیمت اور جزیہ کا بہت سال مسلمانوں کو حاصل ہو تو وہ مالدار ہوگئے اور پھر تمام غریب مسلمان ہوگئے اس لیے حج میں آنے والوں کی کمی بھی نہ ہوئی ( وحید)
Ayah 9:29

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠ Open ayah 9:29 in the Quran reader

کتاب والے (یہود اور نصاری) جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور نہ پچھلے دن پر5 اور نہ جو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا اس کو حرام جانتے ہیں اور سچے دین کو نہیں مانتے6 (اسلام کو قبول نہیں کرتے) ان سے لڑو یہاں تک کہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں7

ف 5 مشرکین عرب سے مقاتلہ اور جہاد کا حکم دینے کے بعد اب اہل کتاب سے جہاد کا حکم دیا کیوں کہ وہ اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اہل کتاب گو اللہ و آخرت پر ایمان کا دعویٰ کرتے تھے لیکن حقیقت میں اعتقادی عملی اعتبار سے ان کی حالت کھلے کھلے کافروں اور مشرکوں کی سی تھی۔ اگر واقعی ان کا اللہ پر ص صحیح ایمان ہوتا عیسائی ( علیہ السلام) کو اور یہود عزیز ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار نہ دیتے۔ معلوم ہوا۔6 یعنی نہ وہ اس شریعت کو مانتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعہ مقرر فرمائی ہے اور نہ دین حق کے تابع ہوتے ہیں۔7 یہ پہلی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اہل کتاب سے لڑنے کا حکم دیا، چناچہ اس حکم کے مطابق آنحضرت ﷺ نے شام کے نصاری ٰ سے لڑنے کے لیے غزوہ تبوک کی تیاری کی اور مسلمانوں کو تیار رہنے کی ہدایت فرمائی۔ یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جہاد کا مقصد ان کو تلوار کے زور سے اسلام میں داخل کرنا نہیں ہے ہے بلکہ وہ اگر اطاعت قبول کرلیں اور جزیہ ادا کرتے ر ہیں تو اس کے عوض اسلامی حکومت ان کے جان و مال کی حفاظت کی زمہ داری ہوگی۔ ، اہل کتاب اور محبوس کے علاوہ دسرے غیر مسلموں سے جزیر کے قبول کرنے یا نہ کرنے میں علما اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک تمام غیر عرب کافروں اور مشر کوں سے جزیہ لیا جاسکتا ہے (وحیدی)
Ayah 9:30

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ یُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 9:30 in the Quran reader

اور یہودی کہتے ہیں کہ عزیر (پیغمبر) اللہ تعالیٰ کا بیٹآ ہے8 اور نصاری کہتے ہیں کہ مسیح اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہے یہ ان کی منہ کی باتیں ہیں9 لگے اگلے کافروں کی سی باتیں بنانے10 اللہ تعالیٰ ان کو غارت کرے کہاں (یا کیسے) بہک گئے ہیں (یا کیسے بہکائے جا رہے ہیں)

ف 8 اوپر کی آیت میں دعویٰ کیا تھا کہ یہود و نصاری اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے اس آیت میں اسی کی تشریح ہے۔ اس وقت یہود کے بعض فرقے عزیر کا اللہ تعالیٰ بیٹا مانتے تھے مگر موجود زمانے کے یہودی اس سے انکار کرتے ہیں۔9 یعی عقل و نقل سے اس کو کوئی دلیل پیش نہیں کی جاسکتی۔10 یعنی اہل کتاب ہو کر بھی مشرکوں کی ریس کرنے لگے (موضح) اور پہلی مشرک اور کافر قوموں کی طرح یہ بھی گمراہ ہوگئے۔
Ayah 9:31

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ١ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:31 in the Quran reader

ان لوگوں نے اپنے مولویوں اور درویشوں (عالموں اور مشائخین) کو اور مسیح مریم کے بیٹے کو اللہ کے سوا (جو اکیلا خدا ہے) خدا بنا لیا11 حالانکہ ان کو (خدا کے پاس سے) اور کچھ نہیں یہی حکم ملا تاھ کہ ایک (اکیلے سچے) خدا کی پرستش کریں اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں (سب جھوٹے معبود ہیں) وہ ان لوگوں کے شرک سے پاک ہے۔

ف 11 یہ ان کے اوصاف قبیحہ کی دوسری قسم ہے اس معنی میں کہ جسے وہ حلال کہیں سے یہ حلال سمجھیں اور جسے وہ حرام کہیں سمجھیں جیسا کہ عد ؓ بن حاتم کی ایک روایت میں آنحضرت ﷺ نے اس کی یہی تفسیر بیان فرمائی ہے۔ ( ترمذی وغیرہ) بالکل یہی طرز علم فی زماننا مقلدین فقہا کا ہے۔ کہ قرآن و حدیث کے نصوح پر عمل کی بجائے اپنے ائمہ کے اقوال پر جمے رہتے ہیں۔ (رازی )
Ayah 9:32

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 9:32 in the Quran reader

(یہ لوگ) چاہتے کہ اللہ کے نور (قرآن یا دین یا پیغمبر کی پیغمبری) کو اپنے منہ سے (جھوٹی باتیں بنا کر) بجھا دیں اور اللہ تو ماننے والا نہیں جب تک اپنے نور کو پورا نہ کرے گو کافر برا مانیں1

ف 1 اس آیت میں رؤسا یہود و نصاری ٰ کی تیسری صفت قبیحہ کا بیان ہے کہ وہ تحریک اسلام کو کچلنے کے لیے مختلف قسم کی سازشیں کر رہے ہیں۔ یہاں جھوٹی باتوں کو پھو نک مارنے سے تشبیہ دی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے دن کو ( نور) یعنی چراغ سے، یا ان کے دلائل حقہ کو جو آنحضرت ﷺ کی صداقت ظاہر کر رہے تھے ان کو نور فرمایا ہے کیونکہ صدق وصواب کی طرف رہنمائی کرنے میں دلائل حقہ بھی نور یعنی روشنی کے مثل ہوتے ہیں۔ ( کبیر )
Ayah 9:33

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:33 in the Quran reader

وہی خدا ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت کی باتیں (معجزے اور شریعت کے احکام) اور سچا دین (اسلام) دے کر بھیجا اس لیے کہ اس کو (یعنی پیغمبر کو یاس اسلام کے دین کو) ہر دین پر غالب کرے گو مشرک برا مانیں2

ف 2 اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کا دین اس لیے نہیں آیا کہ وہ دوسرے دین۔ یہودیت۔ عیسائیت، سرمایا داری ، کمیونزم، سوشلز ،۔ سے مغلوب ہو کر یا اس سے مصلحت کر کے دنیا میں زندہ رہے بلکہ دین اسلام کا اول و آخرت یہ ہے کہ وہ دوسرے ادیان اور نظام مہائے زندگی کو ختم کر کے ایک ہمہ گیر نظام زندگی کی حیثیت سے زندہ رہے۔ یہاں ظہور غلبہ سے مراد دلائل وبراہین کا غلبہ بھی ہوسکتا ہے اور سیاسی غلبہ بھی۔ پہلی قسم کا ظہور تو دائمی مگر دوسری قسم کا ظہور ایک مرتبہ تو ہم دور نبوت و خلافت میں دیکھ چکے ہیں اور دوسری بار اس وقت ہوگا جب عیسیٰ ( علیہ السلام) کا نزول اور حضرت امام مہد کا ظہور ہوگا۔ ( کبیر، ابن کثیر )
Ayah 9:34

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:34 in the Quran reader

مسلمانو (اہل کتاب کے) بہت سے مولوی اور مشائخ لوگوں کے مال ناحق کھا جاتے ہیں3 اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے (لوگوں کو) روکتے ہیں اور جو لوگ سونا اور چاندی گاڑ رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس کو خرچ نہیں کرتے4 (زکوۃ نہیں دیتے) ان کو تکلیف کے عذاب کی خوش خبری سنا5

ف 3 رشوت لے کر غلط مسئلے بتاکر آنحضرت ﷺ کے متعلق بشارتوں کو چھپا کر اور ان کو غلط معنی پہنا کرلو گوں کو دین کی حفاظت اور تبلیغ دین کا چکمہ دے کر۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں۔ فی زمانا وہ بھی بہت سے علما اور مشائخ اسی طرح کے حیلے حوالوں سے لوگوں کے مال ہضم کر رہے ہیں ،۔ ( کبیر، ابن کثیر)4 ان سے مراد یہود و نصاری ٰ کے علما بھی ہوسکتے ہیں جن کا بیان پہلے سے چلا آرہا ہے اور عام لوگ بھی ( کبیر) کنز کے معنی مال جمع کرنے کے ہیں اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا یہ ہے کہ زکوٰۃ ادا کرے ضرورت مند کو قر ض دے اور حق دار کا حق ادا کرتار ہے۔ ( از مو ضح)5 بعض صحابہ ؓ جیسے ابو ذر غفاری ؓ نے اس آیت کی رو سے مطلق مال جمع کرنے کو حرام قرار دیا ہے۔ مگر جمہور صحابہ ؓ جیسے حضرت عمر ؓ ، ابن عمر ؓ ، ابن عباس ؓ ، جابر ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ اس طرف گئے ہیں کہ جس ما کی زکوٰۃ دے دی جائے وہ اس وعید کے تحت نہیں آتا حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ مطلق مال جمع کرنے پر یہ وعید اس وقت تھی جب زکوٰۃ فرض نہیں ہوئی تھی۔ پھر زکوٰۃ فرض کر کے اللہ تعالیٰ نے اسے مالوں کی پاکیز گی کا ذریعہ بنادیا ( بخاری مسند احمد )
Ayah 9:35

یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْ١ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ Open ayah 9:35 in the Quran reader

جس دن وہ دوزخ کی آگ میں گرم کیا جائے گا (اس چاندی سونے کو آگ سے تاپیں گے) پھر ان لوگوں کی پیشانیاں اور پسلیاں اور پیٹھوں کو اس سکے داغیں گے اور ان سے کہا جائے گا یہ ہے جو تم نے اپنے لیے دنیا میں) جمع کرکے رکھا تھا تو (آج) اپنے جمع کیے کا مزہ چکھو6

ف 6 اسی مضمون کو آنحضرت ﷺ نے ایک حدیث میں یوں بیان فرمایا ہے : جو شخص سونے چاندی کا مالک ہو کر اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اس کے لیے اسی مال کی سلاخیں بنائی جائیں گی جنہیں آگ میں گرم کر کے اس کے دونوں پہلوؤں، پیشانی اور پیٹھ کو داغا جائے گا۔ یہ سب کچھ ایک ایسے دن میں ہوگا جو پچاس ہزار سال لمبا ہوگا۔ ( بخاری مسلم )
Ayah 9:36

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:36 in the Quran reader

جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین بنائے (تب ہی سے) اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی کتاب (یعنی قرآن یا لوح محفوظ) میں (یا اس کے حکم سے) مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ٹھہر گئی7 ان میں چار ادب کے مہینے ہیں8 یہی سیدھا دین ہے9 تو ان (ادب کے مہینوں) میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو10 اور مشروں سے سب مل کر (یا ہر مہینے میں) لڑو جیسے وہ تم سے سب مل کر (یا ہر مہینے میں) لڑتے ہیں11 اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ (کی مدد) پرہیز گاروں کے ساتھ ہے

ف 7 یہود و نصاری ٰ کی طرح مشرکین عرب بھی تغییر احکام کے لیے حیلہ سازی سے کام لیتے تھے مثلا دین ابراہیم ( علیہ السلام) میں یہ سنت چلی آرہی تھی کہ حرمت کے مہینوں میں لڑائی اور ظلم و زیادتی ممنوع تھی حتی ٰ کہ ان مہینوں میں کوئی شخص اپنے باپ کے قاتل سے بھی تعرض نہ کرتا تھا۔ مگر عرب کے بعض قبائل نے ان مہینوں میں لڑائی اور لوٹ ما کرلیتے تھے۔ قرآن نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ سال کے بارہ مہینے ہیں اور ان میں چار مہینے حرمت کے ہیں۔ سال میں بارہ مہینے ہیں اور ان میں چار مہینے حرمت کے ہیں۔ سا میں بارہ مہینے کی تصریح کی وجہ بیان کرتے ہوئے بعض نے لکھا ہے کہ عرب میں قمری مہینے رائج تھے جن کے حساب سے سال 355 دن کا ہوتا ہے، مگر شمسی حساب سے سال کے 365 دن بنتے ہیں، عرب لوگ قمری حساب کو شمسی حساب کر مطابق کرنے کے لیے کچھ عرصہ کے بعد سال قمری کو 13 مال کا قرار دے لیتے اور اسے کبیہ کہتے تاکہ کا روبار اور حج کے لیے منا سب مو سم نکل آئے۔ قرآن نے ان کی تردید کی۔ ( کبیر۔ ابن کثیر)8 یعنی رجب، ذوالحجہ اور محرم، جیسا کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ ان چا رہ مہینوں کی عرب بہت تعظیم کرتے تھے۔ ان میں ج لڑائی حرام سمجھتے۔ ( ابن کثیر)9 یا یہ کہ صحیح حساب ہی یہ ہے یعنی ان چار مہینوں کا ادب کرنا اور سال میں بارہ مہینوں کا ہونا (رازی)10 جنگ کر کے گناہ کر کے مطلب ی ہے کہ، ان مہینوں کی حر مت بر قرار رکھو اور ان میں لڑنے جھگڑنے، خونریزی اور گناہ کرنے سے پرہیز کرو۔ ( کبیر)11 یعنی ان سے خود لڑائی میں پہل نہ کرو لیکن اگر مشرکین لڑنے سے باز نہ آئیں تو سب مل کر ان سے لڑو جس طرح وہ ملکر تم سے لڑتے ہیں، بعض مفسرین (رح) نے فیھن کی ضمیر سے تمام مہینے مراد لیے ہیں اس لیے وہ حرمت کے مہینوں مراد لیے ہیں اس لیے وہ حرمت کے مہینوں میں بھی مقاتلہ جائز قرار دیتے ہیں اور لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے خود طائف کا محاصرہ ذولقعدہ میں کیا تھا مگر یہ رائے صحیح نہیں کیونکہ آنحضرت ﷺ نے طائف کا محاصرہ جیسا کہ صحیحین میں ہے شوال میں شروع کیا اور ذوالقعدہ تک جاری رہا اور یہ جائز ہے۔ ( فتح القدیر)
Ayah 9:37

اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَةٌ فِی الْكُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ١ؕ زُیِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 9:37 in the Quran reader

مہینہ کا سرکا دینا اور زیادہ کفر ہے1 کافر اس کی وجہ سے گمراہ ہوتے ہیں (غلطی میں پڑجاتے ہیں) ایک سال تو اس مہینے میں لڑنا حلال کرلیتے ہیں اور ایک سال اس میں لڑنا حرام جانتے ہیں ان کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو (چار مہینے حرام کیے ہیں ان کی گنتی (کسی طرح) پوری کرلیں2 پھر جس مہینہ کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اس کو حلال کرلیں3 ان کے برے کام ان کو بھلے دکھائے گئے ہیں (شیطان نے یہ سوجھایا ہے) اور اللہ کافر لوگوں کو راہ پر نہیں لگاتا

ف 1 زمانہ جاہلیت میں مشرکین ان چار مہینوں کی حرمت کے قائے ل تھے مگر ضرورت پڑنے پر حیلہ سازی کرتے اور کسی حرام مہینے میں جنگ کرنے پڑتی تو اسے سرکا کر اس کی جگہ کوئی اگلا غیر حرام مہینہ رکھ دیتے اور اسے م نسیئی کہتے اور حج کے موقع پر اس کے علان اکا اختیار بنو کنانہ کو تھا۔ چناچہ آخر میں ابو ثمامہ جنا دہ بن عوف کنانہ یہ اعلان کیا کرتے تھے۔ حافظ ابن کثیر (رح) لکھتے ہیں یہ نسیئی کی رسم صرف محرم اور صفر کے مہینوں میں ہوتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے زیادۃ فی الکفر فرماکر اس کی تر دید فرمائی ( کبیر)2 سال میں چار مہینوں کی گنتی پوری کرلیں۔ آگے پیچھے ہوجائیں تو کوئی ہرج نہیں۔ ( وحیدی)3 محرم کو سرکا کر صفر کی جگہ رکھ لیا تو گو یا انہوں نے محرم کے حلال قرار دے لیا۔ اب جب صفر کو محرم کی جگہ رکھ لیا اور اگلہ مہینہ محرم ہوا گو یا نیا سال شروع ہوگیا کبیہ کی رسم سے سال کے چودہ مہینے بھی ہوجاتے۔ ( وحیدی )
Ayah 9:38

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِیْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ١ؕ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَةِ١ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 9:38 in the Quran reader

مسلمانو تم کو کیا ہوگیا ہے جب تم سے کہا جاتا ہے اللہ کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکل کھڑے ہو تو زمین پر ڈھیر ہوجاتے ہو4 کیا تم آخرت کے بدل دنیا ہی کی زندگی پر راضی ہو تو (اگر ایسا ہے تو سخت غلطی کر رہے ہو کیونکہ) آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کا مزہ (بالکل) بےحقیقت ہے اور کچھ نہیں5

ف 4 یعنی نکلنے سے ہچکچاتے ہو اور گھروں میں بیٹھے رہنا پسند کرتے ہو، کفار کے قبائح بیان فرمایا کہ جب ان کے خلاف جہاد ضروری ہونے کے اتنے اسباب موجود ہیں اور اس میں فوائد بھی ہیں تو پھر محض دنیا کے حقیر مفاد کی خاطر جہاد نہ کرنا انتہائی کمزوری ہے ( کبیر) علمانے تفسیر (رح) اس پر متفق ہیں کہ اس آیت میں ان لوگوں پر عتاب ہے جنہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے نکلنے میں پس وپیش کی تھی۔ وا ضح رہے کہ غزوہ تبوک کا واقعہ فتح مکہ کے بعد 9 ھ میں طائف سے واپسی پر پیش آیا۔ ان دنوں سخت گرمی کا موسم تھا اور کھجوریں پک رہی تھیں اس لیے بعض نام کے مسلمان جہاد پر روانہ ہونے سے جی چرانے لگے اس غزوہ کا پس منظر یہ تھا کہ جب اسلامی سلظنت کا دائرہ سارے ملک عرب میں پھیل گیا تو ملک شام پر قبیلہ غسان حکمران تھا جو شاہ روم کے تابع تھ وہ اس کی فکر میں لگا کہ شاہ روم کو بلا کر عرب پر چڑھائی کی جائے، نبی ﷺ کو جب اس کی خبر ہوئی تو آپ ﷺ نے ارادہ فرمایا کہ ملک شام کی سرحد پر پہنچ کر رومی فوجوں کر عرب پر حملہ آور ہونے سے رکا جائے، اس سلسلہ میں آپ ﷺ نے شاہ روم کے خط بھی لکھا جس میں اسے دین اسلام کی دعوت دی اور وہ اسلام لانے پر آمادہ بھی ہوگیا لیکن اس کی قوم نے اس کا ساتھ نہ دیا اس لے وہ اسلام سے محروم رہا۔ جب شام والوں نے نبی ﷺ کے ارادہ کی خبر پائی تو شاہ روم کو اطلاع دی لیکن اس نے مدد کرنے کی ذمہ دار قبول نہ کی۔ آنحضرت ﷺ مسلمانوں کی لے کر تبوک تک تشریف لے گئے لیکن کوئی جنگ نہ ہوئی اور اس علاقہ کے لوگوں نے اطاعت قبول کرلی اگرچہ مسلمان نہیں ہوئے پھر حضرت عمر ؓ کے زمانہ خلافت میں سارا ملک شام فتح ہوا۔ ( مختصر از مو ضح)5 کیونکہ دنیا فانی اور آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ تم میں سے کوئی شخص سمندر میں اپنی انگلی ڈبوئے اور پھر دیکھے کہ اس کی انگلی کتنا پانی لے کر پلٹتی ہے، ( مسلم) دوسری حدیث میں ہے اللھم لاعیش الا عیش الا خرۃ۔ کہ یا اللہ زندگی صرف آخرت کی ہی زندگی ہے۔ ( بخاری مسلم )
Ayah 9:39

اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَیْئًا١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 9:39 in the Quran reader

اگر تم نہ نکلو گے تو تم کو (دنیا اور آخرت میں) تکلیف کا عذاب کرے گا اور تمہارے بدل دوسرے لوگوں کو (اپنے پیغمبر کے ساتھ جانے کے لیے) لے آئے گا اور تم اس کا (یعنی اللہ تعالیٰ کا) کچھ بگاڑ نہ کرسکوگے اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے6

ف 6 یہ نہ سمجھو کہ اگر جہاد کے لے ہم نہ نکلیں گے تو اللہ تعالیٰ کا کام بگڑ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کی کوئی پروا نہیں۔ وہ اپنے پیغمبر کی ہر طرح سے غالب کرسکتا ہے۔ اس کے بعد ایک دوسرے طریقے سے جہاد کی ترغیب دی ہے۔ ( کبیر )
Ayah 9:40

اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا١ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى١ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَا١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:40 in the Quran reader

اگر تم پیغمبر کی مدد نہ کرو (تو اللہ تعالیٰ کو کچھ پرواہ نہیں) اللہ پہلے بھی اکیلا اس کی مدد کرچکا ہے جب (مکہ کے) کافروں نے اس کو نکال دیا صرد دو دم (ایک آنحضرت دوسرے ابوبکر صدیق)7 جب دونوں غار (ثور) میں (چھپے ہوئے) تھے جب پیغمبر اپنے ساتھی (ابوبکر)8 سے کہہ رہا تھا غم مت کھا بیشک اللہ کی مدد ہمارے ساتھ ہے9 آخر اللہ تعالیٰ نے اپنی تسلی پیغمبر پر (یا ابوبکر پر) اتاری اور (اپنے) پیغمبر کی ایسی فوجوں سے مدد کی جن کو تم نے نہیں دیکھا10 اور کافروں کی بات (شرک) کو ہیٹا کردیا اور اللہ کا سدا بول بالا ہے (اسی کی بات باور رہے گی سچا دین ہمیشہ غالب ہوگا) اور اللہ زبردست ہے حکمت والا

ف 7 یہاں باتفاق مفسرین (رح) ثانی اثنین سے حضرت ابوبکر ؓ مراد ہیں اور اکثر منا صب دینیہ میں حضرت ابوبکر ؓ دوسرے درجے پر فائز رہے ہیں۔ ، سب سے پہلے مسلمان ہوئے اور لوگوں کو دعوت الی اللہ دی جس پر بہت سے جلیل قدر صحا بہ مسلمان ہوئے، غزوات میں آپ ﷺ سے الگ نہیں ہوئے۔ مر ضالموت میں آپ ﷺ کے قائم مقام کی حیثیت سے مصلیٰ پر کھڑے ہوئے اور پھر آپ ﷺ کے پہلو میں دفن ہوئے۔ اس طرح اول و آخر حضرت صدیق اکبر کو ثانی اثنین ہونے کا شرف حاصل رہا ہے ( ازکبیر)8 یہاں صاحب ہونے کا شرف بھی حضرت ابوبکر ؓ کر حاصل ہے۔ شاد صاحب لکھتے ہیں کہ رفیق غار حضرت ابوبکر ؓ تھے صرف یہی حضرت ﷺ کے ساتھ تھے دوسرے اصحاب دوسرے اصحاب بعض پہلے نکل گئے تھے بعض بعد میں آئے۔ ( از مو ضح)9 یہ اس وقت کا ذکر ہے جب مکہ والوں نے آپ ﷺ کے قتل کی قرار داد پاس کی۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آنحضرت ﷺ رات کے وقت حضرت ابوبکر ؓ کی معیت میں مکہ سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور کفار کے تعاقب سے بچنے کے لیے آپ ﷺ نے غار ثور میں پناہ لی۔ وہاں تین چھپے رہے پھر مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ آپ ﷺ کی گرفتاری پر انعام مقرر ہوچکا تھا اس لیے دشمنوں نے آپ ﷺ کی تلاش میں ہر ممکن کوشش کی حتی کہ بعض لوگ غار کے سرے پر پہنچ گئے اور آپ ﷺ کو ان کے پاؤں نظر آنے لگے، حضرت ابوبکر ؓ کو آنحضرت ﷺ کے متعلق اندیشہ لاحق ہوا اندیشہ ظاہر کیا کہ الہ کے رسول ﷺ اگر انہوں نے ذرا بھی نیچے جھانک لیا تو وہ یقینا ہمیں دیکھ لیں گے مگر آنحضرت ﷺ کے سکون میں ذرا بھر فرق نہ آیا۔ حضرت ابوبکر ؓ کو تسلی دیتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا لا تحزن ان اللہ معنا۔ اس میں حضرت ابوبکر ؓ بھی شامل ہیں۔ ( کبیر)10 یہ جنگ بدر میں فرشتوں کی امداد کی طرف اشارہ ہے اور اس اک عطف فقد نصرہ اللہ پر ہے۔ ( رازی )