9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 9:41

اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:41 in the Quran reader

(مسلمانو) ہلکے ہو یا بھاری نکل کھڑے ہو1 اور اللہ کی راہ میں اپنے جان اور مال جہاد کرو یہ تمہاری لیے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو2

ف 1 یعن تم خوشحال ہو یا تنگدست جو ان ہو یابو ڑھے۔ تندرست ہو یا بیمار، مجرد ہو یا عیال دار ہتھیار بند ہو یا بےہتھیار۔
Ayah 9:42

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ١ؕ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ١ۚ یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۠ Open ayah 9:42 in the Quran reader

(اے پیمبر) اگر سہل سے کچھ فائدہ ملنے والا ہوتا2 اور سفر بھی بیچ کا3 تو ضرور یہ تیرے ساتھ ہولیتے لیکن یہ کٹھن کی راہ ان کو دور معلوم ہوئی اور اب (جب تم تبوک سے لوٹ کر آو گے تو) خدا کی قسمیں کھائیں گے اگر ہم سے ہوسکتا تو ہم ضرور تمہارے ساتھ نکل کھڑے ہوتے (جھوٹی قسمیں کھا کر) اپنی جانوں کو آپ وبال میں ڈال رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے وہ بیشک جھوٹے ہیں

ف 2 یعنی آسانی سے مال غنیمت مل جانے کی توقع ہوتی۔ 3 یعنی بہت لمبا سفر نہ ہوتا جیسے تبوک مدینہ سے تقریبا چارسو میل کے فاصلہ پر ہے اور اس کا راستہ بھ نہایت کٹھن ہے۔ یہ آیت ان منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو غزوہ تبوک میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ ( کبیر )
Ayah 9:43

عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 9:43 in the Quran reader

(اے پیمبر) اللہ نے تمجھ کو معاف کردیا تو نے ان لوگوں کو (گھر میں رہ جانے کی) اجازت کیوں دی (اس وقت تک ٹھہرنا چاہیے تھا) جب تک سچے لوگ تجھ پر کھل جاتے اور جھوٹوں کو (بھی) تو جان لیتا4

ف 4 ہو ایہ کہ جب نبی ﷺ تبوک کی طرف روانہ ہونے لگے تو بعض منافیقن نے بناوٹی حیلے بہانے پیش کر کے آپ ﷺ سے مدینہ ہی میں رہنے کی اجازت چاہی۔ آپ ﷺ نے انہیں سچا سمجھتے ہوئے مدینہ میں رہنے کی اجازت دے دی، اس اجازت دینے پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ناراضگی کا اظہار فرمایا لیکن نہایت لطف و کرم کے اند از میں یعنی پہلے معافی کی اطلاع دی اور پھر قصور بیان فرمایا۔ اس میں پیچھے بیٹھنے رہنے والوں کی مذمت بھی ہے۔ ( قر طبی۔ ابن کثیر) یہاں تو اجازت پر عتاب فرمایا ہے مگر سورة نو رکی آیت فاذن لمن شئت ( کہ آپ ﷺ جسے چاہیں اجازت دے سکتے ہیں) میں اجازت کی رخصت دے دی ہے۔ ( کبیر) بعض نے لکھا ہے کہ عفا اللہ عنک تعظیما برائے دعا استعمال ہوتا ہے اس سے قبل گناہ کا پایا جانا ضروری نہیں ہے۔ ( کبیر)
Ayah 9:44

لَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:44 in the Quran reader

(اے پیمبر) جو لوگ اللہ تعالیٰ پر اور پچھلے دن پر یقین رکھتے ہیں وہ تو تجھ سے جہاد میں اپنی جان و مال کے ساتھ شریک نہ ہونے کی اجازت نہیں مانگتے5 اور الہ پرہیز گاروں کو خوب جانتا ہے

ف 5 کیونکہ انہیں تو خود جہاد کا شوق ہے اور وہ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کب انہیں اللہ راہ میں شہید ہونے کا موقع ملتا ہے۔ ( از وحیدی )
Ayah 9:45

اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِیْ رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ Open ayah 9:45 in the Quran reader

تجھ سے وہی لوگ (جہاد میں شریک نہ ہونے کی) اجازت مانگتے ہیں جن کو خدا اور آخرت کا یقین نہیں اور ان کے دلوں میں شک ہے وہ اپنے شک میں آگے پیچھے ہو رہے ہیں6

ف 6 پس مومنین اور منافقین کے مابین فرق یہ ہے کہ جہاد کا اعلان ہونے پر مومن تو بلاتامل نکل کھڑے ہوتے ہیں مگر جو منافق ہیں وہ بہانے ترشتے ہیں اور ہر ایسے موقع پر مذبذب بھی ہوجاتے ہیں کبی دل کہتا ہے کہ چلو شاید پیغمبر ﷺ سچ ہی کہتے ہوں اور کبھی دل میں میں آتا ہے کہ نہیں ی سب ڈھکو سلے اور ڈراوے ہیں۔ پس دنیا میں چند روز جینا ہے جہاں تک ہو سکے آرام سے دن کا کاٹ لیں۔
Ayah 9:46

وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:46 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ (گھر سے) نکلنا چاہتے ہوتے تو (آخر یہ لوگ مقدور والے ہیں کچھ تو) اس کے لیے ضرور تیار کرتے اور اصل بات یہ ہوئی کہ وہ تو شاید نکلتے بھی) مگر اللہ نے ان کا (اپنی جگہ سے) اٹھنا اور (حرکت کرنا) برا جانا تو ان کو وہیں روک دیا (یا سست بنادیا) اور ان سے کہا گیا جہاں اور (عذور ناتوان عورتیں بچے) بیٹھنے والے ہیں تم بھی ان کے ساتھ اپنے گھروں میں) بیٹھے رہو1

ف 1 اس سے مقصود زجر وتو بیخ اور مذمت ہے۔ ( کبیر )
Ayah 9:47

لَوْ خَرَجُوْا فِیْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاۡاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ یَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ١ۚ وَ فِیْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:47 in the Quran reader

اگر یہ لوگ تمہارے ساتھ نکلتے بھی تو بس یہی ہوتا کہ تم میں خرابی بڑھا دیتے2 اور فساد کی نیت سے تم میں (گھوڑے) دوڑاتے پھرتے3 اور (مشکل یہ ہے کہ) تم میں ایسے لوگ بھی تھے جو ان کی بات سن لیتے4 اور اللہ تعالیٰ شریر لوگوں کو خوب جانتا ہے5

ف 2 کیونکہ اگر یہ اس بددلی کے ساتھ نکلتے بھی تو بجائے اس کے مسلمانوں کے لیے تقویت کا باعث بنتے ان میں بھی بددلی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ معلوم ان سے کتنی خرابیا ظاہر ہوتیں۔ ( از وحیدی)3 یا فساد کی نیت سے تمہارے درمیان دوڑتے پھر تے کبھی کسی کو چغلی کھاتے کبھی ایک مسلمان کو دوسرے سے لڑانے کوشش کرتے ہیں اور کبھی مسلمانوں کے حوصلے پست کر کی کی تدبیریں سو چتے انہی وجوہ کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کو نکلنے کی توفیق نہیں دی۔ (کبیر)4 یعنی ایسے سیدھے سادے لوگ جو ان کی باتوں میں جاتے۔ اس کا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو ان کی جاسوسی کرتے ہیں یعنی تمہاری کمزوریاں انہیں پہنچاتے ہیں۔ (از کبیر )
Ayah 9:48

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:48 in the Quran reader

(اے پیغمبر) یہ لوگ تو پہلے ہی (جب تو مکہ سے مدینہ آیا تھا) فساد کرانا چاہتے تھے6 اور تیرے کئی کاموں میں انہوں نے کھٹ پٹ کی7 یہاں تک کہ (خدا کا سچا وعدہ آن پہنچا (تیری تائید اور مدد کا) اور اللہ کا بول بالا ہوا اور وہ ناراض رہے8

اس لیے اس نے پسند نہ فرمایا کہ اس قسم کے لوگ تمہارے ساتھ جہاد کے لیے نکلیں جو کفر ونفاق کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر بھی ظلم کرتے ہیں اور دوسروں میں افتراق اور شبہات پیدا کر کے ان پر ان بھی ظلم کرتے ہیں ( ابن کثیر۔ ابن کثیر۔ کبیر)6 اس آیت میں ان کے خبث باطن اور مزید مکاریوں کا پر دہ چاک کیا گیا ہے یعنی آپ ﷺ کے خلاف مکرو فریب کرنا ان کی پرانی عادت ہے۔ پہلے بھی مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی تد بیر کرتے رہے جیسا کہ میدا جنگ تبوک سے واپسی پر دس منا فق آدمی ثینتہ الواد پر آنحضرت ﷺ کو قتل کرنے کے لیے کھڑے ہوگئے تھے۔ ( کبیر)7 یعنی تمہیں ناکام کرنے کے لیے انہوں نے متعدد مرتبہ کتنی ہی تد بیر سوچیں اور روکیں اور مگر و فریب کرنے کے لیے انی انتہائی کو ششیں صرف کیں۔ ( کبیر)8 یعنی ان کے دلوں میں آپ ﷺ کی کامیابی اور اسلام کی ترقی برابر کھلتی رہی۔
Ayah 9:49

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَ لَا تَفْتِنِّیْ١ؕ اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:49 in the Quran reader

اور ان (منافقوں میں) وہ شخص بھی ہے جو کہتا ہے مجھے (گھر میں رہنے کی) اجازت دیجیے اور گناہ میں نہ پھنسا ہے9 سنو یہ تو گناہ میں گرپڑے10 اور بیشک جہنم کافروں کو گھیرے ہوئے ہے11

ف 9 یا مجھے ہلاکت میں نہ ڈالتے کیونکہ سخت گرمی کا زمانہ ہے اگر میں چلا گیا تو بعد میں میرے اہل و عیال کے ہلاک ہوجانے کا خطرہ ہے۔ (کبیر) مروی ہے کہ جدبن قیس ایک منافق نے یہ بہانا بنایا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! رومی عورتیں خوبصورت ہیں اگر میں چلا گیا تو اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکوں گا۔ بنا بریں مجھے معذور سمجھ کر یہاں رہنے کی اجازت دے دیجئے۔ ہاں میں مال خرچ کر کے امداد کروں گا۔ ( ابن کثیر (ف 1 یعنی بہانے تو یہ کرتے ہیں کہ ہم فتنے میں نہ پڑجائیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ فتنہ میں مبتلا ہیں۔ آخر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ کفر سے بڑھ کر بھی دنیا میں کوئی فتنہ ہوگا اور پھر جہاد میں شریک نہ ہونا بجائے خود ایک فتنہ ہے۔ اب تو یہ حیلے بہانے تراش کر مسلمونوں سے پیچھے رہ جائے گے مگر پھر وحی کے ذریعہ ان کی رسوائی ہوگی، (کبیر)11 کہیں بھات نکلنے کا ان کو موقع نہیں مل سکے گا۔ ( وحید)
Ayah 9:50

اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 9:50 in the Quran reader

(اے پیغمبر) اگر (اتفاق سے) تجھ کو کوئی بھلائی پہنچے (مثلاً فتح ہو لوٹ کا مال ملے) تو ان (منافقوں) کو برا لگتا ہے اور کوئی مصیبت پیش آئے (جیسے جنگ احد میں پیش آئی تھی) تو کہنے لگتے ہیں ہم نے تو ُ ہلے ہی سے یہ سمجھ کر) اپنا سبیتا کرلیا تھا12 (اور جہاں یہ باتیں ہوتی ہیں کسی مجلس میں یا پیغمبر کے پاس وہاں سے خوشیاں مناتے اور اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں

ف 12 یہ بھی ان کے خبث باطن اور مکر و فریب کی ایک دلیل ہے کہ ہر ایسے موقع پر اپنی ہو شمندی کا ثبوت دیتے اور کہتے کہ ہم نے تو پہلے ہی بچاؤ کرلیا تھا جیسے جنگ احد کے بعد عبد اللہ بن ابی منافق نے کہا تھا کہ تو اس وجہ سے پلٹ آئے تھے ہمیں معلوم تھا کہ مسلمانوں کو شکست ہوگی اور وہ مارے جائیں گے۔ ایسے ہی وہ منافق جو غزوہ تبوک کے موقع پر مدینہ میں رہ گئے تھے۔ نبی ﷺ اور مسلمانوں کے متعلق یہ مشہور کرتے رہے کہ یہ لوگ ہلاک ہوگئے لیکن جب انہیں اطلاع ملی کہ مسلمان صحیح وسالم واپس آرہے ہیں تو انہیں انتہائی غم ہوا۔ ( کبیر، ابن کثیر )
Ayah 9:51

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 9:51 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دے ہم کو کوئی مصیبت پیش نہیں آسکتی مگر جو اللہ نے ہماری قسمت میں لکھ دی ہے13 وہی ہمارا مالک ہے14 اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسا کرنا چاہیے15

ف 13 سچ ہے : من علم سر اللہ فی القدر ھانت علیہ المصائب کہ جس نے قصا و قدر میں سرالہیٰ کو پا لیا اور اس پر مصائب آسان ہوجاتے ہیں۔ پس انسان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت پر راضی رہے تاکہ اجرو ثوب کا مستحق ہو۔ ( کبیر)14 کام بنانے والا اور حماتی ،۔ وہ جیسے چاہے عالم میں تصرف کرے ( کبیر ) 15 نہ دنیا کے سازوسامان اور نہ دنیا کے کسی شخص پر۔
Ayah 9:52

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ١ؕ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا١ۖ٘ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ Open ayah 9:52 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان لوگوں سے) کہہ دے تم ہمارے لیے دو بھلائیوں سے کسی ایک کے سوا اور کسی بات کا انتظار نہیں کرسکتے اور ہم تو تمہارے لیے (و برائیوں میں سے ایک کے منتظر ہیں) اللہ اپنے پاس سے تم پر کوئی عذاب (جیسے طاعون یا قحط یا اور کوئی بلا) بھیجے یا ہمارے ہاتھوں سے (تم کو عذاب کرے قتل ہو یا قید ہو) تو انتظار کرتے رہو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہے ہیں1

ف 1 مسلمانوں کی مصیبت پر منافقین کو خوشی کا یہ دوسرا جواب ہے کہ ہم ہرحال میں اچھے ہیں۔ دنیا میں یا تو ہمیں فتح ہوگی جو ایک بھلائی ہے یا پھر ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہوں گے تو یہ بھی ہماری عین تمنا ہے کہ ہم جنت کی نعمتوں سے متمع ہوں۔ اس کے بر عکس منافقین ہیں کہ دنیا میں ان کی ذلت و رسوائی ہوگی اور آخرت میں دائمی عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ پس ہم اور تم ایک دوسرے کے متعلق دعا حالتوں میں سے ایک کے منتظر ہیں۔ ( کبیر)
Ayah 9:53

قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ١ؕ اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 9:53 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان لوگوں سے) کہہ دے تم خوشی سے (اللہ تعالیٰ کی راہ مٰں) خرچ کرو یا ناخوشی سے تمہارا خرچ کیا ہوا ہرگز (اللہ تعالیٰ کی درگارہ میں) قبول نہ ہوگا کیونکہ تم نافرمان لوگ ہو2

ف 2 اوپر کی آیت میں تبایا گیا ہے منافقین کے لے بہر حال عذاب ہے۔ اب اس آیت میں فرمایا کہ اس عذاب سے کسی طور رہ نجات نہیں پاسکتے کیونکہ آخرت میں ان کی کوئی نیکی قابل قبول نہیں ہے۔ ( کبیر) غزوہ تبوک کے موقع پر بعض منافقین ایسے بھی تھے جو کہتے تھے کہ ہمیں ساتھ جانے تو معافی دیدی جائے لیکن اس کے عوض ہم مالی اعانت کرنے کا تیار ہیں۔ وہ یہ بات اس لیے کہ کہتے تھے کہ کہیں مسلمانوں میں بالکل ہی بد نام ہو کر رہ جائیں۔ انہی کو دلوں میں نفاق اور اللہ و رسول ﷺ کی دشمنی بھری ہو ان کی مالی امداد کسی طور پر نہیں کی جاسکتی خوشی سے دیں یا مجبورا۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : جدبن قیس نے مال خرچ کرنے کی بات جو کہا تھا اس کا یہ جواب ہے کہ بےاعتقاد کا مال قبول نہیں۔ کذافی الر ازی عن ابن عباس۔ از مو ضح )
Ayah 9:54

وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهٖ وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:54 in the Quran reader

اور ان کی خیرات ان کی طرف سے قبول نہ ہونے کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول (کے حکم) کو نہ مانا اور نماز کے لیے نہیں آتے مگر الکساتے ہوئے3 اور (اللہ تعالیٰ کی راہ میں) خرچ نہیں کرتے مگر برے دل سے4

ف 3 جیسے کسی پر زبر دستی بو جھ لاد دیا جائے۔ چونکہ ان دلوں میں ایمان نہیں ہے اس لیے انہیں نماز ایک بو جھ معلوم ہوتی ہے۔ ج معلوم ہوا کہ کفر اللہ کے ساتھ کوئی نیکی قبول نہیں ہوتی۔ علمانے لکھا ہے کہ لوگوں کے سامنے ہو اتو نماز پڑھ لی اور اکیلا ہوا تو چھوڑ دی۔ یہ بھی کسل فی الصلوٰۃ ہے۔ ( کبیر)4 جیسے کسی کو جرمانہ ادا کرنا پڑے کیونکہ انہیں ثواب سے تو کوئی غرض نہیں۔ جو کچھ دیتے ہیں محض لوگوں کو نکا ہوں میں بدنامی سے بچنے کے لیے دیتے ہیں۔ اسی بنا پر حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ادو ازکوٰۃ اموالکم طیبتہ بھا نفو سکم۔ کہ طبیعت کی خوشی سے اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرو۔ ( رازی )
Ayah 9:55

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:55 in the Quran reader

تو (ے پیغمبر) تو ان کے مالوں اور اولاد (کی کثرت) پر تعجب نہ کرو5 اللہ تعالیٰ اور کچھ نہیں یہی چاہتا ہے کہ ان کو دنیا کی زندگی میں ان چیزوں کا عذاب لگا دے6 اور ان کی جانیں نکلتے وقت وہ کافر رہیں7

ف 5 کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہوتا یہ اس قدر مالدار اور صاحب اولاد کیوں ہوتے۔ ( وحیدی)6 یعنی دنیا میں ان چیزوں کو سعادت مندی خیال نہ کرو یہ دن رات مال جمع کرنے اور اولاد کی فکر میں لگے رہتے ہیں گویا ایک قسم کے عذاب میں گرفتار ہیں۔ ، اس لیے آنحضرت ﷺ نے فرمایا ْ : ھلک المکئرون۔ کہ زیادہ مال جمع کرنے والے ہلاک ہوگئے۔ ( از کبیر)7 یعنی آدم آخردم تک انہیں توبہ کرنے اور سچے دل سے ایمان لانے کی توفیق نصیب نہ ہو بلکہ جب یہ مریں ٍ تو اپنے مال اور اپنی اولاد ہی کی طرف ان کا دھیان ہو نہ آخرت کی فکر نہ خدا سے کوئی غرض۔ اگرچہ ایک مومن کو بھی اپنے مال اور اولاد کی فکر ہوتی ہے مگر چونکہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی اس کے نز دیک ہر چیز پر مقدم ہوتی ہے اس لیے یہ چیزیں اس کے لیے نعمت ہی ہوتی ہیں وبال جان نہیں ہوتی۔ ( وحیدی)
Ayah 9:56

وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ Open ayah 9:56 in the Quran reader

اور (یہ منافق) اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ بیشک وہ تم ہی میں کے ہیں (یعنی سچے مسلمان ہیں) حالانکہ وہ تم میں کے نہیں (مسلمان نہیں ہیں) بلکہ وہ ڈرپوک لوگ ہیں8

ف 8 یعنی محض تمہارے ڈر کے مارے تم میں سے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ نفاق انسان کے اند بزدلی اور دوسروں کا خوپیدا کرتا ہے۔
Ayah 9:57

لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ Open ayah 9:57 in the Quran reader

اگر کہیں بچاؤ کی جگہ (قلعہ یا پہاڑ کی چوٹی) یا سرنگ پالیں تو (خدنے گھوڑے کی طرح) رسی تڑا کر ادھر دوڑ پڑیں9

ف 9 تاکہ انہیں تم سے اور تمہارے معاشرے سے نجات ملے حالانکہ یہ تینوں جگہیں بد ترین جگہیں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس وقت جو ہمارے دریمان بیٹھے ہوئے ہیں نہایت مجبوری کی حالت میں بیٹھے ہوئے اور ور نہ یہ تم سے اور تمہارے معاشرے سے نالاں اور بیزار ہیں۔ ( ابن کثیر۔ کبیر )
Ayah 9:58

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ Open ayah 9:58 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) ان میں بعضے ایسے ہیں جو زکوۃ (کے بانٹنے میں) تجھ پر آنکھ مارتے ہیں10 پھر اگر ان کو اس میں سے (جتنا وہ چاہتے ہیں) مل جائے تو خوش ہیں اور اگر ان کو اس میں سے (اتنا) ملے تو بگڑ بیٹھے ہیں1

ف 10 یہ بھی منافقین کا شیوہ تھا کہ صدقات کی تعظیم میں وہ پیغمبر ( علیہ السلام) پر عیب لگانے سے بھی باز نہیں آتے تھے۔ حضرت الشیخ فرماتے ہیں یعنی منجملہ دوسرے اسباب طعن کے ایک سبب یہ بھی تھا نہ کہ صرف یہی ایک سبب تھا بلکہ کہی وجوہ سے طعن کرتے تھے، ( کبیر) چناچہ صدقات تقسیم فرماتے تو کہتے دیکھئے کیسی خویش پر وری ہے اور دوست نوازی ہو رہی ہے۔ مطلب یہ ہوتا کہ ہمیں کیوں نہیں ملتا۔ ) ابن کثیر ) 1 حضرت ابو دسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کچھ مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے کہ ایک شخص مقداد بن خویصرہ تمیمی ( حرقوص بن دمیر) آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول ﷺ ! انصاف سے کام لیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اگر میں انصاف سے کام نہ لوں تو اور کون لے گا ؟ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ اگر آپ اجازت دیں میں اس کا سر قلم کر ڈالوں۔ فرمایا : جانے دو اس لیے کہ اس کی نسل سے ایسے پیدا ہوں گے کہ تم ان کی نماز اور ان کے روزے کے مقابلے میں اپن نماز روزے کی حقیر محسوس کرو مگر یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل سے جائے اور اس کے ساتھ خون وغیرہ کی کوئی آمیزش نہ ہو۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ کے کہتے ہیں کہ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ( کبیر۔ ابن کثیر) بعض نے رو یات میں ہے کہ ابو الجو اظ منا فق نے بھی اسی قسم کا اعتراض کیا۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس سے اور اس کے ساتھیوں سے محتاط رہو کہ یہ منا فق ہیں۔ ( کبیر )
Ayah 9:59

وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ Open ayah 9:59 in the Quran reader

اور اگر وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے دئیے پر خوش رہتے اور کہتے اللہ تعالیٰ ہم کو بس کرتا ہے (اگر اب کے ہم کو نہیں ملا تو خیر) آگے چل کر ہم کو اپنے فضل سے اللہ دے گا اور اس کا رسول دے گا ہم تو اللہ تعالیٰ ہی سے لو لگائے بیٹھے ہیں2

ف 2 تو ان کے حق میں بہترہو تا۔ اللہ تعالیٰ ان پر فضل کرتا، مگر ان ناشکروں کا اتنی توفیق کہا جو اس قسم کا کلمہ خیر زبان سے نکال سکیں۔ یہ تو جب بات کریں گے ایسی ہی کریں گے جس میں اللہ و رسول ﷺ کی برائی ہی کا پہلو نکلتا ہو۔ ( وحیدی)
Ayah 9:60

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:60 in the Quran reader

خیرات تو انہیں لوگوں کا حق ہے ( اوروں کا نہیں) فقیر اور مسکین اور خیرات کے تحصیل کرنے والے اور جن کا دل ملانا منظور ہے اور غلام اور قرض دار (جو اپنا قرضہ نہ ادا کرسکیں) اور مجاہد (اللہ تالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے) اور مسافر یہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے حکمت والا

ف 3 منافقین کا طعن دور طعن دور کرنے کے لیے معارف صدقات بیان فرما دیئے کہ تقسیم صدقات میں پیغمبر کو اختیار نہیں ہے لہذا پیغمبر پر طعن نے سود ہے۔ اس آیت میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان کئے ہیں اور وہ بھی کمہ انما کے ساتھ جو حٖصر کے معنی دیتا ہے یعنی اصناف ثانیہ ( آٹھ قسم کے لوگوں) کو علاوہ اور کسی کو زکواۃ دینا جائز نہیں ہے۔۔ اس حصر کی اس سے بھی تائید ہوتی ہے کہ آنحضرت ﷺ سے ایک شخص نے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : اگر تو ان آٹھ قسموں میں سے ہے تو تیرا حق بنتا ہے ورنہ نہیں۔ اور فرمایا : غنی اور تندرست توانا کے لیے صدقہ لینا جائز نہیں ہے۔ ( ابن کثیر) 1 ۔ فقیر اور مسکن 2 ۔ دونوں کے معنی حاجتمند کے ہیں۔ ایک حدیث میں آنحضرت نے مسکن کی تشریح کرتے ہو فرمایا : مسکین وہ ہ جو اپنی حاجت بھر مال نہ پاتوہو، نہ اپنی احتیاج ظاہر ہونے دیتا ہو۔ اور نہ سوال ہی کرتا ہو۔ ( بخاری مسلم) 3 ۔ عاملین سے مرا وہ لوگ ہیں جو صدقات وصو کرنے پو مامور ہوں، ان کی تنخواہ زکوٰۃ کی مد سے دی جاسکتی ہے۔ چا ہے وہ محتاج نہ بھی ہوں۔ 4 ۔ مئو لفتہ قلوبھم سے مراد وہ لوگ ہیں جو کو اسلام پر ثابت قدم رکھنا مطلوب ہو۔ اس بارے میں میں امام (خلیفہ) کو اختیار ہے کہ جیسے مناسب سمجھے ان پر خرچ کرے فی الرقاب
Ayah 9:61

وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ١ؕ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:61 in the Quran reader

اور ان (منافقوں) میں بعضے ایسے ہیں جو پیغمبر کی بدی کرتے ہیں کہتے ہیں وہ تو نرا کان ہے4 (اے پیغمبر) کہہ دے کہ کان ہے تو تمہاری بہتری کا5، اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتا ہے اور مسلمانوں کی بات مان لیتا ہے (کیونکہ مسلمان جھوٹے نہیں ہوتے) اور تم میں ایمانداروں کے لیے وہ رحمت6 اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر کو ستاتے ہیں ان کو تکلیف کا عذاب ہوگا (آخرت میں یا دنیا اور آخرت دونوں میں )

5 ۔ غلاموں کی آزادی حاصل کرنے میں۔ دی جائے۔ 6 ۔ غارمین سے مراد وہ قرضدار ہیں جو اپنے مال سے پوراقرض ادا کریں تو فیقر ہوجائیں۔ صرف جہاد اور غزوہ ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مجاہد کی زکوٰۃ سے مدد لی جاسکتی ہے۔ ( ابو داؤؤد) ابن السبیل ( مسافر) یعنی اگر اثنائے سرف کیسی حادثہ سے اس کا مال تباہ ہوگیا ہو اور گھر سے سفر خرچ منگوانے کی کوئی صورت نہ وہ تو مال زکوٰۃ سے اس کی مدد کی جاسکتی ہے۔ زکو ٰۃ کے ان تمام مصارف میں زکوٰۃ صرف کان واجب نہیں ہے بلکہ حسب اور آنحضرت ﷺ نے اس کی اجا زت دی ہے۔ ( کتاب اللسوالا بی عبید بروایت حضرت معاذ)4 یعنی کان کا کچا ہے۔ ہر ایک کی بات سن کر اس پر اعتبار کرلیتا ہے ( از کبیر)5 یعنی ہاں ک تمہاری بات اس حد تک صحیح ہے کہ محمد ﷺ ہر ایک کی بات سن لیتے ہیں مگر یہ الزام صحیح نہیں ہے کہ ہر بات سن کر اس پر اعتبار کرلیتے ہیں۔ اعتبار صرف اس بات کا کرتے ہیں جو سچی اور حقیقی ہوتی ہے جھوٹی با کو سن تو لیتے ہیں مگر اس پر صبر اور در گذر سے کام لیتے ہیں۔ یہ چیز تمہارے حق میں بہتر ہے۔ ورنہ یہ چھوٹی عذروں کی بنا پر یا تو کبھیکے قتل ہوچکے ہوتے۔ یا مدینہ سے باہر نکال دیے گئے ہوتے ( ازکبیر)6 یہاں ایمان والوں سے وہ لوگ مراد ہیں جو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں چاہے دل سے ایمان دار نہ ہوں۔ ایسے لوگوں کے سامنے رحمت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ ان کے رازک کھولتے نہیں بلکہ اپنی اصلاح کرلینے کا موقع دیتے ہیں، ( فتح القدیر )
Ayah 9:62

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:62 in the Quran reader

(مسلمانو) یہ لوگ تم کو راضی کرنے کے لیے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں اور اگر ان میں ایمان ہوتا تو (پہلے اللہ اور اس کے رسول کو راضی کرتے) اللہ اور اس کے رسول کو راضی کرنا زیادہ ضرور تھا7

ف 7 منافقین اپنی خلوتوں اور تنہا ئیوں میں مسلمانوں اور آنحضرت ﷺ پر پھتبیاں کستے۔ یا نبی ﷺ کو اگر ان کی اطلاع ہوجاتی ہے وہ قسمیں کھاکھا کر مسلمانوں کو راضی کرنے کی کوشش کرتے اور اللہ و رسول کی پروا نہ کرتے۔ منافقین کی اسی حرکت کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔
Ayahs 9:63–64

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:63 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے بیر کرے (ان کی مخالفت پر کمر باندھے) اس کے لیے دوزخ کی آگ (تیار) ہے ہمیشہ اس میں رہے گا یہ بڑی رسوائی ہے

یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا١ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ Open ayah 9:64 in the Quran reader

منافق یہ ڈرتے ہیں (ایسا نہ ہو کہیں) مسلمانوں پر ایسی کوئی سورت اترے جو ان کے دل کی بات مسلمانوں کو بتلا دے (اے پیغمبر ان لوگوں سے کہہ دے اچھا ہنسو جس سے تم ڈرتے ہو خدا اس کو ضرور کھولے گا1

ف 1 اور تم رسوا ہو کر رہو گے۔ اس بنا پر سورة کا نام سورة الفا ضحہ ہے۔ یعنی منافقین کے راز کھو لنے والی اور ان کو رسو کرنے والی۔ نیز اس سورة کو سو رہ حافرہ بھی کہتے ہیں کیونکہ اس سورة نے منافقین کے سینے کی باتوں کو کھود کر رکھ دیا ہے اور ان کے راز ہائے سربستہ کی قلعی کھول دی ہے۔ ( کبیر )
Ayah 9:65

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 9:65 in the Quran reader

اور (اے پیمبر) اگر تو ان (منافقوں) سے پوچھے ( یہ کیا باتیں ہیں) تو کہیں گے ہم تو یونہی گپ شپ اور دل لگی کرتے تھے2 (اے پیغمبر ان سے) کہ دے کیا تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی ٹھٹھا لگاتے ہو3

ف 2 تبوک جاتے ہوئے کچھ منافقین بھی مسلمانوں کے ساتھ ہو لئے تھے لیکن راستے میں موقع بےموقعہ اللہ و رسول پر پھبتیاں کستے رہتے تھے، ایک موقع پر ان میں سے یک شخص کہنے لگا، اس شخص کہنے لگا۔ اس شخص کو دیکھو ( یعنی نبی ﷺ شام کے رومی قلعے فتح کرنا چاہتا ہے۔ بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ دوسرا بو لا کیا رومیوں کو بھی اس نے عربوں کی طرح کمزور سمجھ رکھا ہے۔ ؟ نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ان کی اس قسم کی باتوں سے مطلع فرمادیا ہے۔ چناچہ آپ ﷺ نے انہیں بلا بھیجا اور ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تم نے اس قسم کی باتیں کی ہیں َ ؟ وہ کہنے لگے۔ ہم تو یو نہی راستہ کا ٹنے کے کے گپ بازی اور اسنسی مذاق کی باتیں کر رہے تھے، امام رازی (رح) فرماتے ہیں۔ اس آیت کی شان نزول میں بھی اس قسم کی روایات مروی ہیں۔ مگر آیت کا مفہوم سمجھنے کے لیے صرف یہی بات کافی ہے کہ انہوں نے طعن و استہزا کے طور پر کوئی بات کہی اور آنحضرت ﷺ کے سامنے اس کو گپ بازی کا عنوان دے دیا۔ ( کبیر۔ ابن کثیر)3 وہ لوگ بار بار معذرت کرتے۔ مگر آنحضرت ﷺ یہی فرماتے رہے۔ ( کبیر )
Ayah 9:66

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 9:66 in the Quran reader

بہانے مت کرو (باتیں نہ بناؤ) تم ایمان لا کر (یعنی ایمان کا دعوی کرکے) پھر کافر ہوگئے4 اگر ہم تم میں سے بعضوں کے قصور معاف بھی کردیں تو بعضوں کو ان کے قصور وار ہونے کی وجہ سے سزا دیں گے5

ف 4 یعنی اظہار ایمان کے بعد ہم نے صریح کفر کیا۔ کبیر) جو شخص دین کی باتوں میں ٹھٹجا کرے اگرچہ دل سے منکر نہ ہو تو وہ کافر ہوگیا۔ اگر یہ نہ بھی ہو تب بھی وہ منا فق تو لازما ہے۔ اصل یہ ہے کہ دین کی باتوں میں ظاہر و باطن کا با ادب رہنا ضروی ہے۔ ( از مو ضح)5 یعنی جس نے نفاق سے توبہ کرلی ہے اور آئندہ مخلص ہو کر زندگی بسر کرے گا۔ اسے تو ہم معاف کرتے ہیں۔ مگر جو اپنے کفر پر مصر رہے اسے ضرور عذاب ہوگا۔ مروی ہے کہ مخشی بن حمیر نے توبہ کے بعد اپنا نام عبد الرحمن رکھ لیا اور دعا کی کہ اے اللہ مجھے شہادت کی موت نصیب ہو چناچہ یمامہ کے دن شہید ہوگیا ( معالم، کبیر )
Ayah 9:67

اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 9:67 in the Quran reader

منافق مرد ( جو تین سو تھے) اور منافق عورتیں (جو ایک سو ستر تھیں) سب ایک دوسرے کے چٹے بٹے6 کہتے ہیں بری بات (کفر اور گناہ) کرو اور اچھے کام نہ کرو اور (خرچ کرنے کا وقت آئے تو) مٹھیاں بند کرلیتے ہیں (ایک پیسہ اللہ کی راہ میں نہیں خرچتے) یہ لوگ اللہ کو بھول گئے اللہ نے بھی ان پر فضل کرنا چھوڑ دیا5 بیشک منافق وہی شریر لوگ ہیں8

ف 6 معلوم ہوا کہ کچھ عورتیں بھی منا فق تھیں۔ ( کبیر)7 اللہ نے انہیں بھلادیا، کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے فضل و رحمت سے محروم کردیا، اس تاویل کی ضروت اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شان میں بھولنے کی نسبت کرنا منا سب نہیں ہے کیونکہ وہ بھولنے سے پاک ہے۔ ( وحیدی)8 یعنی فسق میں حد کمال تک پہنچ چکے ہیں ( کبیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : بےاعتقاد کی صلاجیت کیا معتبر اسے فاسق ہی کہنا چاہیے۔ ( مو ضح )
Ayahs 9:68–69

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ هِیَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:68 in the Quran reader

اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں کے لیے دوزخ کی آگ کا وعدہ فرمایا ہے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے یہ (آگ) ان کو بس کرتی ہے (ان کی شرارت کی پوری سزا ہے) اور (اس کے سوا) اللہ نے ان پر لعنت بھی کی ہے اور ان کے لیے وہ عذاب ہے جو ٹلنے والا نہیں

كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 9:69 in the Quran reader

(منافقو تم) ان لوگوں کی طرح ہو1 جو تم سے پہلے گذر گئے وہ زور میں تم سے زیادہ تھے اور مال اور اولاد (بھی) تم سے زیادہ رکھتے تھے وہ اپنے کے موافق (جو ان کی تقدیر میں تھا دنیا کے) مزے اٹھا چکے تم نے بھی اپنے کا مزہ اٹھایا جیسے تم سے پہلے لوگوں نے اپنے حصے کا مزہ اٹھایا اور جیسے انہوں نے گپ شپ کی تم نے بھی گپ شپ کی2 یہی وہ لوگ ہیں جن کا کیا کرایا دنیا اور آخرت (دونوں میں) اکارت ہوا اور یہی وہ لوگ ہیں جو نقصان میں پڑگئے

ف 1 یا تمہارے کر توت بھی ان لوگوں جیسے ہیں۔ اعمال کے ضائع ہونے اور آخرت میں خائب و خاسر ہونے میں ان سے تشبیہ دی گئی ہے ( کبیر)6 یعنی جیسے انہوں نے اپنے انبیا ( علیہ السلام) اور دن کا مذاق اڑا رہے ہو۔
Ayah 9:70

اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 9:70 in the Quran reader

کیا ان (منافقوں) کو ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے گذر چکے ہیں نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور ابراہیم کی قوم (کلدانی جس کا بادشا نمرود تھا) اور مدین والے (شعیب کی قوم) اور الٹی بستیوں والے3 (لوط کی قوم) ان (سب قوموں) کے پاس ان کے پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آئے پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا (بےقصور عذاب نہیں کیا) لیکن یہ لوگ (خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے4

ف 3 یعنی جن کی بستیاں اللہ کے عذاب سے الٹ گئیں ،۔ مراد لوط ( علیہ السلام) کی قوم ہے جس کا صدر مقام سدرم شہر تھا۔ ( از قرطبی)4 انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور اس کے ابنیا ( علیہ السلام) کو جھٹلا یا۔ اس لیے انہوں نے خود اپنے عذاب کو دعوت دی۔ سورة اعراف میں ان قوموں کو وقعات گزر چکے ہیں۔ اور آگے سورة ہود میں مزید تفصیل آرہی ہے۔
Ayah 9:71

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:71 in the Quran reader

اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں5 اچھی بات سکھلاتے ہیں اور بری بات سے منع کرتے ہیں اور نماز کو درستی کے ساتھ (وقت پر جماعت سے ادا کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا کہا مانتے ہیں یہی لوگ ہیں جن پر اللہ ضرور رحم کرے گا بیش اللہ تعالیٰ زبردست ہے حکمت والا

ف 5 جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ل المومن اللمئو من کا لنبیان یشد بعضہ بعضا۔ ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کے مانند ہے جس کی بعض اینٹیں بعض کو سہارا دیتی ہیں۔ دوسری حدیث میں ہے : مثل المئو منین فی توادھم وتر جھم کمثل الجسدالواحد اذا اشتر کی عنہ عضوتد اعی ٰ لہ سائر الجسد باالحمنیٰ والسھر۔ آپس کی محبت، ہمدردی اور شفقت میں مسلمانوں کی مثال جسم کی ہے جس کے اگر ایک عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو بقیہ سارے اعضا بخار اور بےچینی کی صورت میں اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ ( ابن کثیر )
Ayah 9:72

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:72 in the Quran reader

مسلمان مرد اور مسلمان عورتوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان باغوں کا وعدہ کا وعدہ فرمایا ہے جن کے تلے نہریں پڑی بہہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور جنت العدن میں (رہنے کے لیے) عمدہ مکانوں کا (جو موتی اور جواہر سے بنے ہوں گے1 اور سب نعمتوں سے بڑھ کر خدا کی رضا مندی ہوگی2 یہی بڑی کامیابی ہے

ف 1 جنات یعنی ہمیشہ رہنے کا مقام۔ اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنت کے ایک مخصوص حصہ کا نام ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ جنت عدن میں لوگ اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوں گے۔ ( ابن کثیر)2 جیسا کہ ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ جنت والوں سے فرمائے گا : اے جنت والو ! کیا تم خوش ہوگئے وہ عرض کریں گے۔ اے ہمارے پروردگار ہم خوش کیوں نہ ہو تو نے ہمیں وہ کچھ عنایت فرمایا ہے جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں تمہیں ان تمام نعمتوں سے بڑھ کر ایک اور نعمت نہ دوں َ ؟ وہ عرض کریں گے۔ اب اس سے بڑھ کر اور کون سی نعمت ہوسکتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ میں تمہیں اپنی خوشنودی سے نوازتا ہوں اب کبھی تم سے ناراض نہ ہوں گا۔ ( ابن کثیر) خوشنودی تست مطلب ما۔ یارب رحمے بیا ربما۔ ( ترجمان
Ayah 9:73

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 9:73 in the Quran reader

اے پیمبر کافروں سے اور منافقوں سے جہاد کر3 اور ان پر سختی کر4 اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بری جگہ جانے والے ہیں

ف 3 کافروں سے تلوار کے ذریعہ اور منا فقوں سے انہیں نصحیت اور لعنت وملالت کر کے، ( شوکانی)4 یعی اب تک جو آپ ﷺ ان سے نرمی اور چشم پوشی کا معاملہ کرتے رہے ہیں۔ اسے ختم کیجئے اور ان کے ہر قصور پر سختی سے گرفت کیجئے اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب منافقین بر ملا نفاق کا اظہار کریں تو کفار کی طرح ان کے ساتھ بھی جہاد باسیف کیا جائے ابن جریر طبری (رح) نے اسی کو ترجیح دی ہے مگر بعض صحابہ ؓ نے کہا ہے کہ ان پر سختی کی جائے اور زبان سے طعن و ملامت کیا جائے تلوا سے مقاتلہ نہ کیا جائے ہاں ان پر حدعد الہیٰ ضرور قائم کی جائیں، حافظ ابن کثیر (رح) مختلف اقوال نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : ان اقوال میں اختلاف نہیں ہے اصل بات یہ ہے کہ مختلف حالات میں حسب موقع سزا دی جاسکتی ہے۔ ( ابن کثیر )
Ayah 9:74

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا١ؕ وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا١ۚ وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَكُ خَیْرًا لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّتَوَلَّوْا یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ مَا لَهُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:74 in the Quran reader

(یہ منافق) اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم نے یہ بات نہیں کہی حالانکہ بلا شک وہ کفر کی بات کہہ چکے5 (اور اسلام لانے کے بعد (یعنی اسلام کا دعوی کرنے کے بعد) پھر وہ کافر بن گئے اور ایسی بات چاہی جس کو نہ کرسکے6 اور یہ لوگ بگڑے کیوں اس پر نا اور تو کوئی بات نہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے اپنی مہربانی سے ان کو مال دار بنادیا7 تو اب بھی اگر یہ لوگ ان حرکتوں سے توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا8 اور اگر نہ مانیں (اور نفاق پر جمے رہیں) تو اللہ تعالیٰ ان کو دنیا اور آخرت (دونوں) میں تکلیف کا عذاب دے گا اور (ساری) زمین پر ان کا کوئی حمایتی اور مددگار نہ ہوگا

ف 5 اس آیت میں کن منافقین کا ذکر ہے اور وہ کلمہ کفر کیا ہے جس کی طرف قرآن نے یہاں اشارہ فرمایا ہے۔ اس بارے میں مفسرین (رح) کے کئی اقوال ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ سبھی منافقین کا حال تھا کہ وہ کفر کی باتیں کرتے رہتے تھے اور جب ان سے دریافت کیا جاتا تو قسمیں کھاکھا کر انکار کردیتے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ آیت جلاس بن سوید اور ودیعہ بن ثابت کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ اس طرح کہ جب غزوہ تبوک کے مقعہ پر کثرت سے منافقین کے متعلق قرآن اترنا شروع ہوا تو یہ دونوں کہنے لگے اگر محمد ﷺ ہمارے بھائیوں کے بارے میں جو ہمارے سردار ہیں سچ بات کہتے ہیں تو ہم گدھو سے بدتر ہیں۔ اس پر ایک سچے مسلمان عامر بن قیس یا زید بن اقم نے کہا ہاں محمد ﷺ سچے ہی ہیں اور تم لوگ گدھوں ستے بدتر ہو۔ پھر عامر یہ بات آنحضرت ﷺ تک پہنچادی۔ جب آپ ﷺ نے جلا سے دریافت کیا تو وہ قسمیں کھاکھا کر کہنے لگا کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ عام ؓ نے بھی قسم کھائی کہ میں سچ کہتے ہوں۔ اور پھر اللہ حضور دعا کی کہ یا اللہ ! اس بارے میں میں اپنے رسول ﷺ پر وحی نازل فرما۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ نے زید بن ارقم کو دعا دی او فی اللہ با ذنک کو جو کچھ سنو اللہ اسے پورا کر دے۔ اور بعض روایات میں عمیر بن سعد کا نام بھی مذکور ہے اور بعض کہتے ہیں کہ ی منا فقوں کے سرار عبد اللہ بن ابھی کے بارے میں تری ہے ایک مرتبہ ایک سرف میں اس نے یہ بات کہی تھی کہ جب ہم مدینہ واپس پہنچیں گے تو عزت ولا شخص ذلیل کو نکال باہر یگا اور ذلیل سے مراد نبی ﷺ کو لیا۔ اس کی یہ بات جب نبی ﷺ وسلم تک پہنچی آپ ﷺ نے اسے سے دریافت کیا وہ قسمیں کھاکھا کر انکار کرے گا ( فتح القدیر)6 بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے غزوہ تبوک کے سفر میں ایک رات نبی ﷺ کو قتل کرنے کی سازش کی بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے عبد بن ابی کو مدینہ کو بادشاہ بنانے کے لیے اسے تاج پہنانے کا پروگرام بنایا اور بعض مفسرین (رح) کا قول ہے کہ یہاں اس طرف اشارہ ہے کہ جلاس نے اس شخص کو قتل کرنے کا ارادہ کیا جس نے نبی صلعم تک اس کی بات پر پہنچائی تھی۔ ( شو کانی) پہلے یہ لوگ فاقوں مرتے تھے اور ان کے شہر مدینہ، جس کا ان دنوں یثرت نام تھا، کی بھی کوئی حیثیت نہ تھی لیکن نبی ﷺ کی تشریف آوری کے بعد ان کا شہر پورے عرب کا مرکز بن گیا اور ان کی تجارت کا دائرہ بھی وسیع ہوگیا اور جنگوں کی وجہ سے بہت سا مال غنیمت بھی ان کے ہاتھ آیا جس سے یہ لوگ مالدار ہوگئے۔ آیت میں اسی طرف اشارہ ہے کہ یہ منافقین اتنے فراموش ہیں کہ جن اللہ و رسول ﷺ کی بدولت انہیں یہ خو شحالی نصیب ہوئی انہیں کے خلاف یہ بگڑ بگڑ کے اپنے دلوں کے فساد ظاہر کر رہے ہیں۔8 کہتے ہیں کہ جلاس نے توبہ کرلی اور وہ سچا مسلمان ہوگیا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ منافق کا اور کافر کی تو بہ قبول ہوسکتی ہے۔
Ayahs 9:75–77

وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 9:75 in the Quran reader

اور ان (منافقوں) میں بعضے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا اگر وہ اپنے فضل سے ہم کو (مال اور دولت) دے تو ہم ضرور خیرات کریں گے اور ضرور نیک ہو کر رہیں گے

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 9:76 in the Quran reader

پھر جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے (روپیہ پیسہ دیا) تو لگے اس میں بخیلی کرنے اور (اقرار سے) پھرگئے

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 9:77 in the Quran reader

اور انہوں نے (اپنے عہد) خیال تک نہ کیا آخر انجام اس کا یہ ہوا کہ اس دن تک جب وہ خدا سے ملیں گے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں نفاق جما دیا اس لیے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا اور اس لیے بھی کہ وہ جھوٹ بولتے تھے1

ف 1 حضرت ابو امامہ ؓ باہلی سے روایت ہے کہ ایک شخص ثعلبہ بن حاطب نے نبی ﷺ سے درخواست کی کہ میرے لیے اللہ سے دعا کیجئے کہ میں مالدار ہوجاؤں۔ نبی ﷺ نے اسے بہتیرا سمجھا یا کہ اے ثعلبہ ! تھوڑا سامال جس پر تم اللہ کا شکر ادا کرو زیادہ مال سے بہتر ہے جس پر تم اس کا شکر ادا نہ کرو مگر وہ نہ مانا اور بار بار دعا کی درخواست کرتا رہا۔ آخر نبی ﷺ نے اس کے لیے دیا فرمائی اور وہ شخص اتنا مالدار ہوگیا کہ اس کی بھیڑیں مدینہ میں نہ سماتی تھیں اور اسے مدینہ چھوڑ کر باہر سکونت اختیار کرنی پڑی۔ پہلے وہ باقاعدہر نماز میں شریک ہوتا تھا مگر آہستہ آہستہ اس نے نمازوں میں شریک ہونا چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ جمعہ اور نماز جنازہ تک میں شریک نہ ہوتا پھر جب آیت خذمن اموالھم صد قتہ۔ ان لوگوں کے مال کی زکوٰۃ وصول کیجئے نازل ہوئی تو نبی ﷺ نے بھڑوں کا زکوٰۃ لینے کے لیے اس کے پاس ایک آدمی بھیجاتو وہ کہنے لگا یہ تو جزیہ ہے جو کافروں سے وصول کیا جاتا ہے لہذا اس نے زکوٰۃ ادا کرنے سے بھی انکار کردیا۔ نبی ﷺ نے اس کے حق میں فرمایا : ویج ثعلبہ۔ ثعلبہ تم پر افسوس ہے اس پر یہ تین آیتیں نازل ہوئیں، ثعلبہ تم پر افسوس ہے اس پر تین آیتیں نازل ہوئیں، ثعلبہ کو پتہ چلا کہ میرے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں ہیں تو وہ شرمسارہو اور وہ شرمسار ہوا اور نبی کی خدمت میں زکوٰۃ لے کر حاضر ہوا۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے اس کی زکوٰۃ وصول کرنے سے انکار فرمادیا بعد میں حضرت ابو بکر، حضرت عمر ؓ اور حضرت عثمان ؓ نے بھی اس کی زکوٰۃ قبول نہ کی اور حضرت عثمان ؓ کی خلافت میں اسی نفاق پر اس کا انتقال ہوگیا۔ ( ابن کثیر )
Ayahs 9:78–79

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِۚ Open ayah 9:78 in the Quran reader

کیا ان کو (یہ بھی) معلوم نہیں کہ اللہ تو ان کے بھید ان کی کانا پھوسی (سب) جانتا ہے اور یہ کہ اللہ غیب کی باتوں سے بھی خوب واقف ہے

اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ١ؕ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:79 in the Quran reader

(یہ منافق ہی تو ہیں) جو دل کھول کر خیرات کرنے والے مسلمانوں پر اور جو (بیچارے) محنت مزدوری کے سوا کچھ مقدور نہیں رکھتے ان کی خیرات پر (دونوں پر) آنکھ مارتے ہیں (عیب لگاتے ہیں)2 پھر ان (سب) ٹھٹھے مارتے ہیں اللہ نے (بھی) اس ٹھٹھے کا ان کو بدلہ دیا3 اور ان کے لیے (آخرت میں) تکلیف کا عذاب (تیار) ہے

ف 2 غزوہ تبوک کے موقع پر جب نبی ﷺ نے چندہ کی اپیل کی تو بڑے بڑے مالدار منافقین ہاتھ سکیڑ کر بیٹھ رہے لیکن جب مخلص اہل ایمان چندہ لانے لگے تو یہ ان پر باتیں چھانٹنے لگے جب کوئی تھوڑا مال یا غلہ لاکر پیش کرتا تو یہ کہتے کہ بھلا اللہ کے پاس کل آٹھ ہزار درہم تھے انہوں نے چاہزار درہم لاکر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کردیئے۔ ایک دوسرے صحابی حضرت عاصم ؓ نے مزدوری کر کے آٹھ سیر جو حاصل کئے۔ ان میں سے چار سیر جو انہوں نے آنحضرت ﷺ کو چندہ دیا۔ منافقین آپس میں کہنے لگے کہ عبد الر حمن کو ریا ونمود مطلوب ہے اور عاصم ؓ اپنے آپ کو خواہ مخواہ چندہ دینے والوں میں شامل کرنا چاہتا ہے۔ منافقین کے اسی طعن کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ ( از بن کثیر، قر طبی وغیرہ)3 لفظی ترجمہ یہ ہے کہ اللہ نے ان پر ٹھٹھامارا لیکن مطلب یہی ہے کہ اللہ نے بھی ان کے ٹھٹھے کا بدلہ دیا، یعنی انہیں ذلیل و خوار کیا اور مسلمانوں کو ان پر ہنسایا۔ ( وحیدی )
Ayah 9:80

اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:80 in the Quran reader

(اے پیغمبر) تو ان کے لیے (خدا سے) بخشش مانگے یا نہ مانگے اگر ستر بار (بھی) ان کے لیے بخشش مانگے تب بھی اللہ تعالیٰ ہرگز ان کو بخشنے والا نہیں4 یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو نہ مانا (ان کا حکم نہ سنا اور دین پر ٹھٹھے لگائے) اور اللہ تعالیٰ شریر لوگوں کو راہ پر نہیں لگاتا

ف 4 کیونکہ بخشے جانے کے لائق نہیں ہیں۔ اس آیت میں ستر کا لفظ عربی محاورے کے مطابق کثرت کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ یعنی آپ ﷺ ان کے حق میں کتنا ہی استغفار کریں اللہ تعالیٰ انیں ہرگز بخشنے والا نہیں ہے۔ اس آیت کی تشریح میں شاہ صاحب فرماتے ہیں یہاں سے فرق نکلتا ہے بےاعتقاد اور گناہ گا رکا۔ گناہ ایسا کون سا ہے کہ پیغمبر ﷺ کے بخشانے سے بخشانہ جائے اور بےاعتقاد لوگ پیغمبر ﷺ کا ستر استغفار فائدہ اب بےاعتقاد لوگ پیغمبر کی شفاعت پر کس دلیل سے بھر وساکر سکتے ہیں۔ آدمی سے بدی ہو یا نماز روزہ نہ ہو اور وہ شرمندہ ہے تو وہ گنہگار ہے اور جو بد کام کو عیب نہ جا نے اور خدا کے عائد کردہ فرض کے کرنے اور نہ کرنے کو برابر سمجھنے اور کرنے والوں پر طعن کرے وہ بےاعتقاد ہے ایسے شخص کو پیغمبر ﷺ کا استغفار بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔