9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 9:81

فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ١ؕ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:81 in the Quran reader

جو لوگ (منافق) پیچھے چھوڑ دئیے گئے5 وہ اللہ کے رسول کو چھوڑ کر بیٹھ رہنے سے بہت خوش ہوئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان و مال سے جہاد کرنا برا سمجھا اور (دوسرے لوگوں کو بھی بہکانے کی نیت سے) کہنے لگے ایسی (سخت) گرمی میں (گرھ سے) مت نکلو6 (سفر نہ کرو اے پیغمبر ان منافقوں سے) کہہ دے برزخ کی آگ کی گرمی اس سے (کہیں) زیادہ سخت ہے، کاش ان لوگوں کو سمجھ ہوتی

(ف 5 یعنی جنگ تبوک میں نبی ﷺ ج کے ساتھ نہ گئے بلکہ جھو ٹے عذر پیش کر کے اجازت لی اور مدینہ منورہ میں ٹھہرے رہے۔ قتادہ ؓ کہتے ہیں ان کی تعداد بارہ تھی۔ ( ابن ابی حاتم وغیرہ)6 یہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ غزوہ تبوک جن دونوں پیش آیا ان دنوں سخت گرمی کا موسم تھا۔
Ayahs 9:82–83

فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:82 in the Quran reader

خیر (دنیا میں) تھوڑا سا ہنس لیں (آخرت میں) ان کاموں کے بدلے جو (دنیا میں) کرتے رہے بہت روئیں گے

فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآئِفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا١ؕ اِنَّكُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ Open ayah 9:83 in the Quran reader

تو (اے پیمغمبر) اگر خدا تجھ کو (صحت اور سلامتی کے ساتھ اس جہاد سے) لوٹا کر ان (منافقوں) کے ایک گروہ کی طرف لے جائے1 پھر وہ (کسی دوسرے جہاد کے لیے) تجھ سے نکلنے کی اجازت چاہیں تو (ان سے) کہہ دے تم میرے ساتھ ہرگز کبھی نہ نکلنا اور ہرگز میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے نہ لڑنا تم تو پہلی ہی بار (جنگ تبوک میں) بیٹھ رہنا پسند کرچکے تو (اب بھی) پھسڈیوں کے ساتھ (گھروں میں) بیٹھے رہو2

ف 1 جو جنگ تبوک کے لیے نہیں نکلے تھے بلکہ گھروں میں بیٹھے رہے تھے۔2 یعنی ان لوگوں کے ساتھ جو بےعذار گھروں میں رہ گئے یا معذور کے ساتھ جیسے عورتیں، بچے، بوڑھے، بیمار، اپاہج، شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں : یہ جو فرمایا کہ اگر پھر لے جاوے اللہ کسی کو فرقہ کی طرف وہ اس واسطے کہ یہ آیت سفر میں نازل ہوئی۔ یہ لوگ مدینہ میں منافق تھے اور فرقے اس واسطے فرمایا کہ بعض پیچھے مرگئے اور سب بیٹھنے والے منا فق نہ تھے۔ بعض مسلمان بھی تھے۔ کہ ان کی تقصیر معاف ہوئی۔ ( مو ضح )
Ayah 9:84

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 9:84 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) ان (منافقوں) میں سے اگر کوئی مرجائے تو اس (کے جنازے) پر کبھی نماز نہ پڑھ اور نہ اس کی قبر پر کھڑا ہو کیونکہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کو نہ مانا اور مرے (بھی تو) نافرمانی کی حالت میں3

ف 3 حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ جنگ تبوک کے کچھ عرصہ بعد منا فق کے سردار عبد اللہ بن ابی کا انتقال ہوگیا، اس کے بیٹے عبد اللہ بن عبداللہ جو مخلص مسلمان تھے۔ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے باپ کے کفن میں شامل کرنے کے لیے کرتہ مانگا۔ آپ ﷺ نے کرتہ دے دیا۔ پھر آئے اور نما زہ جنازہ پڑھا نے کی درخواست کی۔ آپ ﷺ نماز پڑھا نے کے لیے کھڑے ہوئے تو حضرت عمر ؓ نے آپ ﷺ کرتا پکڑ لیا اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ﷺ ! کیا آپ اس شخص کی نماجنازہ پڑھتے ہیں۔ حالانکہ اللہ نے آپ کو منافقین کے لیے دعا کرنے سے منع فرمایا ہے ؟ آپ نے فرمایا ؛ مجھے اختیار دیا گیا ہے یکہ چاہے ان کے لیے ستر مرتبہ بھی بخشش مانگوں انکی بخشش نہیں ہوگی۔ اگر مجھے معلوم ہو کہ ستر مرتبہ سے زیادہ بخشش مانگنے سے اس کی بخشش ہوجائے گی تو میں زیادہ مرتبہ بھ بخشش کے لیے تیار ہوں۔ آخرت آپ نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ( بخاری مسلم) چناچہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد نبی ﷺ کسی منافق کی نماز جنازہ نہ پڑھتے تھے اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوتے تھے جیسا کہ حضرت ابو قتادہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کو جب کسی جنازہ کی اطلاع دی جاتی تو آپ اس کے بارے میں دریافت فرماتے۔ اگر لوگ اس کی تعریف کرتے ( یعنی اس کے سچے مسلمان ہونے کی گواہی دیتے) تو آپ اس کی نماز جنازہ پڑھاتے ورنہ اس کے گھر والوں سے کہہ دیتے کہ اسے جیسے چاہو دفن کردو ( میں اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھا ؤنگا) چناچہ آپ ﷺ اس کی نماز جنازہ نہ پڑھاتے اور اپنی خلافت میں حضرت عمر ؓ کا معمول یہ تھا کہ جس شخص کا حال معلوم نہ ہوتا آپ اس کی نماز جنازہ اس وقت تک نہ پڑھتے جب تک کہ حضرت حذیفہ ؓ بن یمان اس کی نماز جنازہ نہ پڑھتے۔ اس لیے کہ انہیں معلوم تھا کہ مدینہ میں کون کون سے لوگ منافق ہیں ( ابن کثیر) اس آیت اور ان احادیث سے معلوم ہوا کہ کھلے ہوئے فاسق وبد کار قسم کے لوگوں کی نما زہ جنازہ اہل علم اور مقتدیٰ قسم کے لوگوں کو نہیں پڑھنی چاہیے تاکہ لوگوں کو عبرت ہو۔ اور یہی احمد بن حنبل (رح) اور اکثر علمائے اہل حدیث کا مسلک ہے۔ ( کتاب الجنائز مبار کپوری 69 ۔ 70)
Ayah 9:85

وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:85 in the Quran reader

اور ان کے مال اور اولاد (بہت دیکھ کر ان) پر تعجب نہ کرو4 اللہ اور کچھ نہیں یہ چاتہا ہے کہ دنیا میں ان چیزوں کا عذاب ان کو لگا دے اور جب ان کی جان نکلے تو کفر ہی کی حالت میں نکلے5

ف 4 کہ اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نگا ہوں میں ناپسند یدہ ہوتے تو وہ انہیں اتنا خوش حال کیوں بناتا۔5 یعنی دن رات مال جمع کرنے اور اولاد کی فکر میں لگے رہیں اور آخری دم تک انہیں توبہ کرنے اور سچے دل سے ایمان لانے کی توفیق نصیب نہ ہو۔ بلکہ یہ مریں تو اپنے مال اور اپنی اولاد ہی کی طرف ان کا دھیان ہو نہ آخرت کی فکر اور نہ خدا سے کوئی غرض اگرچہ ایک مومن کو بھی اپنے مال اور اولاد کی فکر ہوتی ہے مگر چونکہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی اس کے نزدیک ہر چیز پر مقدم ہوتی ہے اس لیے یہ چیزیں اس کے لیے نعمت ہی ہوتی ہیں جان کا وبال نہیں ہوتیں۔
Ayahs 9:86–87

وَ اِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ جَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَ قَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:86 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) جب کوئی (قرآن کی) سورت (اس مضمون کی) اترتی ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ساتھ ہو کر جہاد کرو تو ان میں (منافقوں میں) جو مقدور والے ہیں (ہٹے کٹے خاصے تندرست مالدار) تجھ سے (گھ میں رہ جانے کی) اجازت مانگتے ہیں اور کہتے ہیں ہم کو (یہیں) چھوڑ دے ہم (دوسرے) بیٹھ رہنے والوں کیساتھ رہیں گے

رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:87 in the Quran reader

انکو بھی پسند آیا کہ گھر بیٹھنے والیوں (عورتوں) کے ساتھ (بیٹھے رہیں اور ان کے دلوں پر مہر ہوگئی تو و (کچھ) نہیں سمجھتے (کہ جہاد میں کیا فائدہ ہے6

ف 6 ان پر نہ اللہ تعالیٰ و رسول کی بات کا ثر ہوتا ہے اور نہ کسی سمجھانے والے کی نصیحیت کا۔
Ayah 9:88

لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْخَیْرٰتُ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 9:88 in the Quran reader

لیکن پیغمبر اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان والے ہیں انہوں (تو) اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کیا یہی لوگ ہیں جن کو بھلائیاں ملیں گی1 اور وہی مراد کو پہنچیں گے

ف 1 دنیا میں فتح اور سرفرازی اور آخرت میں جنت اور اس کی نعمتیں۔
Ayah 9:89

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:89 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے باغ تیار رکھے ہیں جن کے تلے نہریں پڑی بہہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے یہی بڑی کامیابی ہے2

ف 2 دنیا کی زندگی اور آرام و آسائش اس کے مقابلے میں کچھ نہیں۔
Ayah 9:90

وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَهُمْ وَ قَعَدَ الَّذِیْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:90 in the Quran reader

اور گاؤں والے (بھی بنی غفار) عذر کرتے ہوئے آئے3 ان کو گھروں میں رہنے کی) اجازت مل جائے اور جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا (اسلام کا جھوٹا دعوی کیا) وہ بیٹھ رہے (عذر کرنے کو بھی نہ آئے ان میں جو کافر ہیں4 ان کو دکھ کی مار پڑے گی5 ۔

ف 3 جو مدینہ کے اطراف اور دورسر صحرائی علاقوں میں رہتے تھے۔4 یعنی دل سے کافر ہیں چاہے زبان سے ایمان کا دعویٰ ہی کیوں نہ کرتے ہوں۔5 دنیا میں قید اور قتل ہوں گے اور آخرت میں آگ کا ایندھن بنیں گے۔
Ayah 9:91

لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:91 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ج ولوگ کمزور ہیں6 ان پر تو کوئی گناہ نہیں (اگر وہ جہاد میں نہ جائٰں) اور نہ بیماروں پر اور نہ ان پر جن کو خرچ نہیں ملتا7 جب وہ اللہ اور اس کے رسول کے خیر خواہ ہوں8 (ایسے) نیک لوگوں پر کوئی الزام نہیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے9

ف 6 یعنی معذور ہیں جیسے لنگڑے، لولے، اپاہج۔ اندھے، بوڑھے، عورتیں اور بچے۔7 جس سے جہاد کی تیاری کرسکیں اور ہتھیار سواری وغیرہ فراہم کرسکین۔8 وہ کام نہ کرتے ہوں جس سے انہیں نقصان ق اور ان کے دشمنوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہو۔ صحیح حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا الدین النعیحتہ۔ دین خیر خواہی کا نام ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کس کے لیے فرمایا : للہ ولکتابہ وارسولہ ولائمتہ المسمین وعامتھم۔ یعنی اللہ کے لیے اس کی کتاب کے لیے اس کے رسول ﷺ کے لیے مسلمانوں کے امام کے لیے اور مسلم عوام کے لیے ( شوکانی) عام لوگوں کی خیر خواہی میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ جب مجاہدیں جہاد پر گئے ہوئے ہوں تو یہ لوگ شہر میں بیٹھے رہیں۔ نہ جھوٹی خبریں پھیلائیں نہ فساد وبر پاکریں مجاہدین کی خدمت کریں اور ان کے بال بچوں کی خبر گیری کریں۔ ( از وحیدی)9 یعنی یہ لوگ معذور ہیں۔ اگر جہاد میں شرکت نہ کریں تو ان پر کچھ گناد نہیں ہے۔ اس کی تفسیر کرتے ہوئے نبی ﷺ نے تبوک کے سفر میں صحابہ کرام سے فرمایا تم اپنے پیچھے مدینہ میں کچھ ایسے لوگوں کو چھوڑ کر آئے ہو ہو کہ تم نے جو مسافت طے کی جو مال خرچ کیا ہے اور جس وادی کو پار کیا ہے۔ ان سب اعمال میں وہ تمہارے ساتھ رہے ہیں۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول ﷺ وہ ہمارے ساتھ کیسے ساتھ کیسے ہو نگے حالانکہ وہ تو مدینہ میں رہ گئے ہیں ؟ فرمایا انہیں صف عذر نے تمہارے آنے سے روک دیا ہے۔ اور دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ مگر وہ اجر میں تمہارے ساتھ شریک ہیں ( ابن کثیر بحوالہ صحیحین)
Ayah 9:92

وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ١۪ تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 9:92 in the Quran reader

اور نہ ان لوگوں پر (کچھ گناہ ہے) جو تیرے پاس اس لیے آتے ہیں کہ تو ان کو سواری دے (تاکہ وہ جہاد میں جائیں) جب تو کہتا ہے میرے پاس تو سواری نہیں جس پر میں تم کو چڑھا دوں تو خرچ نہ ملنے کے غم میں وہ آنکھوں سے آنسو بہتے ہوئے لوٹ جاتے ہیں10

ف 10 متعدد صحیح روایات میں ہے کہ یہ انصار ؓ کے مختلف قبیلوں کے ساٹھ آدمی تھے جو جہاد میں شرکت کے شوق میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے مگر چونکہ سواریوں کی انتظام نہ تھا اس لیے نبی ﷺ نے انہیں جہاد میں شرکت سے معذور قراردے دیا اس پر وہ دلوں میں حسرت لئے روتے ہوئے واپس ہوگئے جیسا کہ اس آیت میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔ ( فتح القدیر وغیر ہ
Ayah 9:93

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَ هُمْ اَغْنِیَآءُ١ۚ رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ١ۙ وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:93 in the Quran reader

الزام تو انہی لوگوں پر ہے جو مالدار ہو کر پھر تجھ (جہاد میں نہ جانے کی) اجازت چاہتے ہیں11 ان لوگوں نے (گھر بیٹھنے والیوں (عورتوں) کے ساتھ رہنا پسند کیا اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی وہ (کچھ) نہیں جانتے12

ف 11 حالانکہ انہیں سواری اور زاد سفر سب میسر ہے۔12 گویا دیوانے ہوگئے ہیں جو جہاد اور اس کی فضیلت اور ثواب کو بالکل بھول گئے ہیں۔
Ayah 9:94

یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ١ؕ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ١ؕ وَ سَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:94 in the Quran reader

(مسلمانو) جب تم جہاد سے لوٹ کر ان منافقوں کے پاس آئو گے تو یہ تم سے بہانے بنائیں گے (اے پیغمبر) کہہ دے بہانے مت بنائو ہم تمہاری بات کبھی نہیں ماننے کے ہم کو تمہارے احوال اللہ بتاچکا ہے اور آگے چل کر اللہ اور اس کا رسول (دونوں) تمہارے کام دیکھیں گے1 پھر (آخر) تم اس (خدا) کی طرف لٹوائے جائو گے جو چھپا اور کھلا (سب) جانتا ہے وہ تم کو جتلا دے گا جو تم دنیا میں کیا کرتے تھے2

ف 1: " کہ آئندہ تمہارا رویہ کیسا رہتا ہے ؟ آیا تم موجودہ روش سے باز آتے ہو یا اسی پر جمے رہتے ہو " فالمفعول الثانی محذوف۔ یہ وعید ہے اور " ورسولہ " فاعل پر مفعول کی تقدیم سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وعید کا مدار اللہ تعالیٰ کا علم ہے (روح) 2 ۔ پھر جیسے تمہارے اعمال ہوں گے ویسا ہی تمہیں ان کا بدلہ ملے گا۔ (ابن کثیر)
Ayah 9:95

سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ رِجْسٌ١٘ وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:95 in the Quran reader

(مسلمانو) اب کوئی دن میں جب تم ان کے پاس لوٹ جائو گے تو تم سے اللہ کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو3 اچھا تو تم ان سے الگ ہی رہو4 کیونکہ وہ گندے (ناپاک) ہیں5 اور جو وہ (دنیا میں) کرتے تھے اس کے بدل ان کا ٹھکانا دوزخ ہے

ف 3 ۔ یعنی انہوں نے جو جہاد میں حصہ نہیں لیا اور گھروں میں بیٹھے رہے اس پر انہیں معذور سمجھتے ہوئے اغماض اور چشم پوشی کرو اور کسی قسم کی ملامت نہ کرو۔ (کبیر) 4 ۔ یعنی ان سے قطع تعلق کرلو اور کسی قسم کا میل جول نہ رکھو۔ پہلے فقرے میں اعراض کے معنی درگزر اور چشم پوشی کے ہیں اور یہاں اس کے معنی قطع تعلق کے۔ یعنی وہ تو صرف چشم پوشی چاہتے ہیں مگر تمہیں ہدایت دی جاتی ہے کہ ان سے قطع تعلق ہی کرلو۔ حضرت ابن عباس سے یہی تفسیر منقول ہے۔ ایک حدیث میں بھی ہے جب آپ مدینہ واپس آگئے تو آپ نے فرمایا۔ لاتجالسوھم ولا تکلموھم۔ کہ ان سے ہم مجلسی اور گفتگو ختم کردو۔ ھؤلاء طلبو اعراض الصفح فاعطوا اعراض المقت۔ یہ گھروں میں بیٹھے رہنے والے تقریباً اسی آدمی تھے۔ (کبیر) 5 ۔ اس میں قطع تعلق کے سبب کی طرف اشارہ ہے کہ وہ خیالات اور اعمال کے اعتبار سے گندے ہیں لہذا صحبت طالح ترا طالح کند۔ کے تحت تمہیں چاہیے کہ ان سے دور رہو مبادا ان سے متاثر ہوجاؤ (از کبیر)
Ayah 9:96

یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ١ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 9:96 in the Quran reader

قسمیں اس لئے کھائیں گے کہ تم ان سے راضی ہوجائو پھر اگر تم ان سے راضی بھی ہوجائو تو اللہ ان شریر بدکار لوگوں سے راضی نہیں ہوسکتا6

ف 6 ۔ یعنی ان کے قسمیں کھانے اور حیلے کرنے کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ تم ان سے درگزر کرو اور چشم پوشی سے کام لو اور پھر یہ چاہتے ہیں کہ ان سے راضی بھی ہوجاؤ مگر اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوگا۔ اس میں اشارہ ہے کہ مسلمانون کے لیے کسی صورت بھی ان سے راضی ہونا جائز نہیں ہے (از کبیر) شاہ صاحب لکھتے ہیں، جس شخص کے حالات سے معلوم ہوتا ہو کہ وہ منافق ہے اس کی طرف سے تغافل تو جائز ہے مگر اس سے محبت اور دوستی روا نہیں۔ (از موضح)
Ayah 9:97

اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:97 in the Quran reader

گنوار لوگ کفر اور نفاق میں شہر والوں سے زیادہ بڑھے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو اپنے پیغمبر پر حکم اتارے ان کو نہ جاننے کے وہ زیادہ لائق ہیں کیونکہ جہالت ان کے خمیر میں ہے7 اور اللہ جانتا ہے حکمت والا

ف 7 ۔ ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو مدینہ منورہ سے دور دیہاتی اور صحرائی علاقوں میں رہتے تھے۔ یہ لوگ دراصل اسلام کی دعوت کو سمجھ کر سچے دل سے مسلمان نہیں ہوئے تھے بلکہ محض اسلام کی بڑتی ہوئی طاقت سے مرعوب ہو کر مسلمان ہوگئے تھے۔ انہیں شہر مدینہ منورہ میں آنے، مسلمانوں سے میل جول رکھنے اور آنحضرت ﷺ کی صحبت سے فیض یاب ہونے کا بہت کم موقع ملا تھا اس لیے یہ نرے گنوار اور اجڈ قسم کے لوگ تھے جن کے دلوں میں نہ نرمی پیدا ہوئی تھی اور نہ انہیں علم کی ہوا لگی تھی اس لیے ان میں جو منافق تھے ان کا نفاق بھی اہل مدینہ کے نفاق سے سخت تھا۔ امام رازی لکھتے ہیں بدوی اور شہری لوگوں کی طبیعتوں میں وہی فرق پایا جاتا ہے جو ایک باغ کے میوے اور پہاڑی درخت کے میوے میں محسوس ہوتا ہے۔ (کبیر) شاہ صاحبت لکھتے ہیں بدویوں کی سرشت میں بےحکمی، مفاد پرستی اور جہالت رچی بسی ہوئی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال حکمت سے نہ ان پر زیادہ ذمہ داری ڈالی اور نہ ان کو درجات کی بلندی عطا ہوئی (موضح)
Ayah 9:98

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآئِرَ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:98 in the Quran reader

اور بعضے گنوار ایسے ہیں (اللہ کی راہ میں) جو خرچتے ہیں اس کو ڈنڈ (تاوان جرمانہ) سمجھتے ہیں8 اور تم پر (اے مسلمانو) زمانہ کی گردش تاکتے رہتے ہیں9 انہی پر بری گردش پڑے اور اللہ (ان کی باتیں) سنتا ہے اور ان کے حال جانتا ہے

ف 8 ۔ " یعنی زکوۃ ہو یا جہاد کے لیے چندہ " اسے جب دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی خاطر اور دلی جذبہ کے ساتھ نہیں بلکہ محض چٹی یا جرمانہ سمجھ کر بادل نخواستہ ادا کرتے ہیں کہ اگر ادا نہ کریں گے تو مسلمان انہیں مشتبہ نگاہوں سے دیکھیں گے اور ان کے درمیان زندگی بسر کرنی دو بھر ہوجائے گی۔ (از کبیر) 9 کہ کب کوئی بلائے ناگہانی اترتی ہے اور تم اس کے چنگل میں پھنس کر مغلوب و مقہور ہوتے ہو یا یہ کہ کب پیغمبر مرتا ہے اور مشرکین کو تم پر غلبہ ہوتا ہے۔ (کبیر)
Ayah 9:99

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ١ؕ سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 9:99 in the Quran reader

اور بعضے گنوار ایسے بھی ہیں جو اللہ اور پچھلے دن قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو خرچتے ہیں اپنے حق میں اللہ تعالیٰ کی نزدیکی اور پیغمبر کی دعا کا سبب10 سمجھتے ہیں سن لوگ بیشک ان کا خرچنا ان کی نزدیکی ہے خدا ند کریم سے اللہ ان کو ضرور اپنی رحمت میں لے لے گا بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے

ف 10 ۔ اس آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ اعراب (گنواروں) میں کچھ مخلص مسلمان بھی ہیں جو مال کے خرچ کرنے کو جرمانہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کے قرب اور پیغمبر (علیہ السلام) کی دعا حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ (ابن کثیر)
Ayah 9:100

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:100 in the Quran reader

اور مہاجرین اور انصار میں سے جن لوگوں نے اول ہجرت کی اور پہلے اسلام لائے1 اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی2 اللہ ان سے راضی ہو وہ اللہ سے راضی ہوئے (خدا ان سے خوش وہ خدا سے خوش اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے تلے نہریں پڑی رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یہی بڑی کامیابی ہے3

ف 1 بعض اعراب (گنواروں) کا اخلاص اور ان کو رحمت کی خوش خبری سنانے کے بعد ان سے اعلی مراتب کے لوگوں کی طرف اشارہ فرمایا یعنی مہاجرین اور انصار جنہوں نے ہجرت و نصرت دین میں پہل کی۔ ان کی تعیین میں مفسرین سے مختلف اقوال منقول ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اول سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی اور بعض نے بیعت رضوان (صلح حدیبیہ) میں شامل ہونے والے اور بعض نے بدری صحابہ مراد لیے ہیں۔ اور انصار سے مراد وہ لوگ ہیں جو بیعت عقبہ (اولی و ثانیہ) میں شریک ہوئے اور پھر وہ لوگ جو مدینہ میں حضرت مصعب بن عمیر کی آمد پر مسلمان ہوگئے تھے۔ مگر ہجرت و نصر کے اعتبار سے درجہ بدرجہ سبھی صحابہ مراد لیے جاسکتے ہیں۔ پھر صحابہ میں سب سے افضل حضرت ابوبکر کا درجہ ہے جو اسلام میں بھی اول ہیں اور ہجرت میں بھی آنحضرت ﷺ کے ساتھی ہیں۔ پھر بالترتیب دوسرے خلفا کے درجے ہیں۔ ان کے بعد باقی عشرہ مبشرہ جن میں طلحہ، زبیر، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید، عبدالرحمن بن عوف اور ابو عبیدہ بن جراح ؓ شامل ہیں۔ پھر بدری عقبی صحابہ کا درجہ ہے اور ان کے بعد وہ جو بیعت رضوان میں شریک ہوئے۔ صحابہ کی فضیلت کی اس ترتیب میں اہل السنت و الجماعۃ تقریبا متفق ہیں گو بعض علما حضرت علی کی افضیلت کے بھی قائل ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ حضرت نے حضرت ابوبکر کے بعد ہجرت کی تھی۔ (از کبیر و ابن کثیر) 2 ۔ ان سے مراد وہ صحابہ ہیں جو بعد میں ایمان لائے اور ہجرت بھی کی جیسا کہ سورة انفال آیت 75 میں مہاجرین اور انصار کا تزکرہ کرنے کے بعد فرمایا : والذین امنوا من بعد وھاجروا کہ جو ان کے بعد ایمان لائے اور پھر ہجرت بھی کی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " اتبعوھم باحسان " سے قیامت تک کے وہ تمام مسلمان مراد ہوں جو صحابہ کرام کے نقش قدم پر ہیں اور ان کے قول و عمل میں احسان پایا جاتا ہے۔ بہرحال ان سے اصطلاحی تابعین ہی مراد نہیں ہیں۔ (کبیر۔ شوکانی) 3 ۔ چونکہ رضائے الٰہی کے حصول اور جنت میں داخل ہونے کی خوشخبری جس علت پر مترتب ہورہی ہے وہ دائمی ہے یعنی ہجرت و نصرت میں پہل، اس لیے یہ بشارت بھی دائمی ہے۔ لہذا ان صحابہ میں سے العیاذ باللہ کسی ایک کے متعلق ارتداد کا تصور بھی نہیں ہوسکتا۔ پھر کتنے بدبخت اور لعنتی ہیں وہ لوگ جو ان حضرت کے خلاف عموما اور ان افضل ترین ہستیوں (حضرت ابوبکر و حضرت عمر) کے خلاف خصوصا زبان درازی، سب و شتم اور تبرا بازی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں اور ان کو برے القاب سے یاد کرتے ہیں۔ از وحیدی
Ayah 9:101

وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ١ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ١ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ١۫ لَا تَعْلَمُهُمْ١ؕ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ Open ayah 9:101 in the Quran reader

اور مسلمانو تمہارے گرد آس پاس چاروں طرف جو گنوار ہیں ان میں بعضے منافق ہیں اور مدینہ کے رہنے والوں میں سے بعضے نفاق پر اڑے بیٹھے ہیں یا نفاق پر جم گئے ہیں (اے پیغمبر) تو ان کو نہیں جانتا ہم ان کو نہیں جانتے ہیں4 تو اب ہم ان کو دنیا میں دوبارہ عذاب دیں گے5 پھر بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے6

ف 4 پہلے منافقین اعراب (بدویوں) کا ذکر فرمایا پھر اعراب میں سے مخلصین کا تذکرہ کیا۔ ان کے بعد مہاجرین و انصار کو خوش خبری دی اور انکے لیے بلند مراتب کا بیان فرمایا۔ اب ان ضمنی مباحث کے بعد پھر منافقین کا تذکرہ شروع کیا جو مدینہ اور اس کے ماحول میں رہتے ہوئے اپنے نفاق میں اتنے مشاق اور ماہر ہوگئے ہیں کہ آں حضرت ﷺ باوجود اپنی فراست نافذہ اور قوت حدس کے ان سب کو معین طور پر نہیں پہچان سکتے گو بعض کو ان کے لہجے اور دوسری علامات سے پہچانتے ہوں۔ (دیکھیے سورة محمد آیت 30) لہذا جن روایات میں یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بعض منافقین کے نام بھی حضرت حذیفہ کو بتا دئیے تھے وہ اس آیت کے منافی نہیں ہے کیونکہ یہاں کلی طور پر سب کو جاننے کی نفی ہے۔ (کبیر۔ ابن کثیر 9 5 ۔ ایک تو دنیا میں غم واندوہ اور فکر مندی کا عذاب جس میں منافقین ہمیشہ مبتلا رہتے۔ یحسبون کل صیحۃ علیہم۔ کہ وہ ہر لمحہ اپنے تئیں خطرہ میں محسوس کرتے رہتے ہیں اور پھر رسوئی بھی جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے بعض منافقین کے نام لے کر ان کو مسجد سے نکال دیا اور مرنے کے بعد قبر کا عذاب۔ اسی کو دوسرا عذاب فرمایا۔ (کبیر) 6 ۔ یعنی دوزخ کا عذاب۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : مرتین، یعنی دنیا میں تکلیف پر تکلیف پاویں گے پھر آخرت میں پکڑے جاویں گے۔ (از موضح)
Ayah 9:102

وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:102 in the Quran reader

اور کچھ مدینہ والے ایسے لوگ ہیں جو منافق نہیں تھے انہوں نے اپنے قصور کا اقرار کیا7 انہوں نے اچھا کام کیا تو ایک برا ملا دیا8 قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرے بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے9

ف 7 اوپر ان منافقین کا ذکر فرمایا جو غزوہ تبوک میں بوجہ نفاق پیچھے رہ گئے تھے۔ اب ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو غلطی اور سستی سے غزوہ میں شرکت نہیں کرسکے ورنہ وہ حقیقت میں منافق نہیں تھے (ابن کثیر) یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے جرم کا اعتراف کرلیا 8 ۔ یعنی مسلمان ہونے کے بعد نماز روزہ بھی کرتے رہے جہاد میں بھی شریک رہے مگر اب یہ غلطی ہوگئی کہ غزوہ تبوک میں نہ نکلے۔ (قرطبی) 9 ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ آیت ابولبابہ اور ان کے ساتھیوں کے حق میں نازل ہوئی ہے وہ سچے مسلمان تھے اس لیے جب آنحضرت ﷺ غزوہ سے واپس تشریف لے آئے تو انہوں نے اپنے گناہ کا اعتراف کرتے ہوئے مسجد نبوی کے ستونوں سے اپنے آپ کو باندھ لیا اور قسم کھائی کہ جب تک آنحضرت ﷺ اپنے دست مبارک سے نہیں کھولیں گے کچھ کھائے پئے بغیر یہیں بندھے رہیں گے۔ آخر کار ان کی توبہ قبول ہوئی اور آنحضرت ﷺ نے ان کو اپنے دست مبارک سے کھولا۔ (ابن جریر)
Ayah 9:103

خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:103 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ان لوگوں کے مالوں میں سے10 لے تو زکوۃ سے ان کو گناہوں سے پاک کرے گا اور ان کے درجے بلند کرے گا اور ان کے لئے دعا کر اس لئے کہ تیری دعا سے ان کو تسلی ہوجاتی ہے11 اور اللہ سنتا جانتا ہے

ف 10 ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب ان لوگوں کی توبہ قبول ہوگئی تو یہ اپنے اموال لے کر آنحضرت صلی اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ ہمارا صدقہ قبول فرمائیے اور ہمارے لیے استغفار کیجیے مگر آپ نے صدقہ قبول کرنے سے انکار فرما دیا کہ مجھے اللہ نے حکم نہیں دیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (وحیدی) 11 ۔ اس لیے آنحضرت ﷺ کا معمول تھا کہ جب کوئی شخص صدقہ (فرض زکوۃ یا نفلی صدقہ) لے کر حاضر ہوتا تو اس کے لیے دعا فرماتے : اللہم صل علی ال فلان۔ کہ اے اللہ فلاں کے گھر والوں پر اپنی رحمت نازل فرما۔ (بخاری و مسلم)
Ayah 9:104

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 9:104 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو اب تک یہ معلوم نہیں کہ اللہ ہی تو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور خیرات (بھی وہی) لیتا ہے اور اللہ ہی بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔1

ف 1 ۔ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ صدقہ قبول فرما کر اپنے دائیں ہاتھ میں لے لیتا ہے اور اس کی اس طرح پرورش کرتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے گھوڑے کے بچے کو پالتا ہے حتی کہ ایک کھجور کا ثواب احد پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔ (ترمذی)
Ayah 9:105

وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 9:105 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) ان لوگوں سے کہہ دے تم عمل کرتے رہو اچھے یا برے آگے چل کر اللہ اور اس کا رسول اور مسلمان تمہارے عمل دیکھیں گے2 اور تم خود قریب میں اس خدا کی طرف لوٹائے جائو گے جو چھپا اور کھلا سب جانتا ہے وہ تم کو جتلا دے گا جو تم کرتے تھے نیک کر نیکی کا برے کو برائی کا بدلہ ملے گا

ف 2 ۔ یعنی اگر اب قصور ہوگیا تو آئندہ آنحضرت ﷺ اور خلفاء کے دور میں جو جہاد ہونے والے ہیں ان میں خوب کام کرلو۔ (از موضح)
Ayah 9:106

وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:106 in the Quran reader

اور کچھ لوگ ایسے ہیں جن کا معاملہ ڈھیل میں ہے اللہ کے حکم پر ان کو یا عذاب کرے یا معاف کرے اور اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے حکمت والاف 3

ف 3 ۔ جو لوگ غزوہ تبوک میں شریک نہیں ہوئے اور مدینہ سے نہیں نکلے وہ تین طرح کے تھے ایک منافقین، دوسرے حضرت ابو لبابہ اور ان کے ساتھی جن کا اوپر ذکر گزر چکا ہے اور تیسرے کعب بن مالک اور ان کے دو ساتھی مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ جنہوں نے اگرچہ آنحضرت ﷺ کی واپسی پر کوئی جھوٹا عذر بنا کر پیش نہیں کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول نہ فرمائی اور ان کے معاملے کو موخر رکھا۔ اس آیت میں انہی کے معاملے کو ڈھیل میں رکھے جانے کا ذکر ہے۔ حضرت ابولبابہ اور ان کے ساتھیوں کی توبہ جلد ہی قبول کرلی گئی تھی جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکیے۔ آیت 117 تا 118)
Ayah 9:107

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 9:107 in the Quran reader

اور ان منافقوں میں وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے ضد سے اور کفر سے اور مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کے لئے اور اس شخص کا انتظار کرنے کیلئے جو پہلے اللہ اور اس کے رسول سے لڑ چکا ہے ایک اپنی علیحدہ مسجد مسجد قبا کے مقابل بنا لی اور وہ تو ضرور قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے بھلائی کے سوا اور کوئی نیت نہیں کی تھی اور اللہ گواہ ہے کہ وہ4 جھوٹے ہیں

ف 4 ۔ یہ اور اس کے بعد کی چند آیات کی شان نزول یہ ہے کہ آنحضرت کے مدینہ منورہ تشریف لانے سے قبل قبیلہ خزرج میں ایک شخص حنظلہ غسیل ملائکہ کا والد ابوعامر راہب نامی تھا۔ رسول اللہ ﷺ اسے راہب کی بجائے فاسق فرماتے۔ اس نے جاہلیت میں عیسائی بن کر راہبانہ زندگی اختیار کرلی تھی۔ لوگ اس کی درویشی کے معتقد تھے اور اس کی بڑی تعظیم کرتے تھے۔ آنحضرت ﷺ مدینہ تشریف لائے تو مسلمانوں نے ایک جمعیت کی شکل اختیار کرلی اور اس متحدہ طاقت نے جند بدر میں بھی کفار کو شکست فاش دی تو یہ دیکھ کر ابو عامر چراغ پا ہوگیا اور اسلام دشمنی پر کمر باندھ لی۔ اس کے بعد مکہ پہنچا اور قریش کو آنحضرت ﷺ کے خلاف جنگ پر ابھارتا رہا حتی کہ معرکہ احد پیش آیا۔ اس جنگ میں اس بدبخت نے دو گڑھے کھدوائے تھے جن میں سے ایک گر کر نبی ﷺ زخمی ہوئے تھے۔ نبی ﷺ نے اس کے حق میں بد دعا بھی کی تھی کہ وہ اپنے وطن سے دور تنہا اور بیکسی کی موت مرے۔ چناچہ بالآخر جنگ حنین کے بعد جب اس نے دیکھا کہ اسلام کی جڑیں مضبوط ہوگئی ہیں۔ جزیرہ عرب میں مسلمانوں کو عروج حاصل ہوگیا ہے تو وہ بھاگ کر عیسائیوں کے بادشاہ ہرقل کے پاس پہنچ گیا تاکہ اس سے مسلمانوں کے خلاف مدد حاصل ہوجائے۔ ہرقل نے اس سے مدد کا وعدہ بھی کرلیا اس لیے اس نے مدینہ کے منافقین کو لکھا کہ میں عنقریب ایک لشکر جرار لے کر محمد ﷺ سے لڑنے آرہا ہوں۔ تم فی الحال ایک الگ اڈہ قائم کرو جہاں اسلام کے خلاف سازشیں کی جاسکیں اور میرے ساتھ رابطہ قائم رکھ سکو۔ چناچہ منافقین نے مسجد قبا کے قریب مسجد کے نام سے ایک اڈہ بنانا شروع کردیا اور اس کی تکمیل کے بعد مسلمانوں کے قلوب سے شک و شبہ دور کرنے کے لیے آنحضرت ﷺ کو دعوت دی کہ یہاں تبرک کے طور پر ایک نماز پڑھا جائیں۔ نبی ﷺ اس وقت تبوک روانہ ہونے کی تیاری کر رہے تھے اس لیے آپ ن نے فرمایا کہ اللہ نے چاہا تو واپسی پر میں تمہاری مسجد میں آخر نماز پڑھوں گا۔ جب آنحضرت ﷺ تبوک سے واپس ہو کر مدینہ کے بالکل قریب پہنچ گئے تو حضرت جبرائیل یہ آیات لے کر نازل ہوئے جن میں اس مسجد ضرار کا پول کھولا گیا ہے۔ آپ نے مالک بن دخشم اور معن بن عدی کو حکم دیا کہ اس جگہ کو جس کا نام ازراہ فریب مسجد رکھا گیا جا کر فوراً پیوند خاک کردیں۔ انہوں نے حکم کی تعمیل کی اور اس جگہ کو فوراً جلا کر ختم کردیا۔ اس جگہ من حارب اللہ ورسولہ سے یہی بدبخت ابو عامر مراد ہے۔ (کبیر۔ ابن کثیر)
Ayah 9:108

لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًا١ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ١ؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ Open ayah 9:108 in the Quran reader

(اے پیغمبر) تو اس مسجد میں کبھی کھڑا (تک بھی) نہ ہو وہاں وہ مسجد جس کی شروع دن سے بنیادی پرہیز گاری پر ہوئی ہے (اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے لئے وہ اس لائق ہے کہ تو اس میں کھڑا ہوا اور نماز پڑجائے)5 اس میں وہ لوگ ہیں جو خوب پاکی کرنا پسند کرتے ہیں اور اللہ خوب پاکی کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے7

ف 5 ۔ مراد مسجد قبا ہے جیسا کہ آیت کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے۔ چناچہ مسجد قبا میں نماز کی فضیلت میں مروی ہے کہ " اس میں ایک نماز عمرہ کے برابر ہے "۔ اور صحاح میں ہے کہ نبی ﷺ پیدل و سوار اس مسجد میں نماز کے لیے تشریف لایا کرتے۔ بعض صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد نبوی وہ مسجد ہے جس کی بنیاد پہلے روز سے تقوی پر رکھی گئی ہے اور اکثر مفسرین نے یہی مسجد مراد لی ہے مگر ان دونوں قسم کی احادیث میں تعارض نہیں ہے کیونکہ اگر مسجد قبا وہ مسجد ہوسکتی ہے جس کی بنا تقوی پر رکھی گئی ہے تو مسجد نبوی بطریق اولی اس صفت کی مستحق ہے۔ (از ابن کثیر و کبیر) 6 ۔ یعنی ڈھیلے استعمال کرنے کے بعد پانی سے بھی استنجاء کرتے ہیں کیونکہ قبا سے قریب رہنے والے انصار کا یہ معمول تھا اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ اسی پر اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ تعریف فرمائی ہے۔ (کبیر۔ ابن کثیر) 7 ۔ جو ظاہر اور باطن دونوں کو پاک رکھتے ہیں
Ayah 9:109

اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:109 in the Quran reader

بھلا جو شخص اللہ کے ڈر سے اس کی رضا مندی کے لئے اپنی (عمارت کی) بنیاد رکھے وہ اچھا ہے یا جو ایک پھس پھس پھٹے ہوئے کگار کے کنارے پر اپنی (عمارت کی) بنیاد رکھے پھر وہ کگار (دہڑام سے) اس کو (یعنے عمارت کو) دوزخ کی آگ میں لے گرے8 اور اللہ تو بےانصاف لوگوں کو راہ پر نہیں لگاتا9

ف 8 ۔ یا وہ عمارت دھڑام سے اپنے بنانے والے کو لے کر دوزخ کی آگ میں جا پڑے 9 ۔ یعنی بےانصافی کی یہ شامت پڑتی ہے کہ نیک عمل کرنا بھی چاہیں تو بن نہیں آتا۔ (از موضح)
Ayah 9:110

لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 9:110 in the Quran reader

ان لوگوں نے جو عمارت بنائی اس کی وجہ سے ہمیشہ (مرے تک) ان کے دلوں میں نفاق رہے گا مگر1 جب ان کے دل ہی کٹ جائیں (لینے مرجائیں) اور اللہ ان کے دلوں کا حال جانتا ہے حکمت والا

ف 1 یعنی انہوں نے یہ عمارت بنا کر اللہ و رسول کی دشمنی کا کام کیا ہے جس کا یہ اثر ہوا کہ ان کے دلوں میں ہمیشہ کے لئے جب تک موت انہیں ٹکڑے ٹکڑے نہ کر دے، نفاق جم گیا۔ پس ” ریب “ سے مرد نفاق ہے۔ کذا فی الکبیر
Ayah 9:111

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ١ؕ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ١۫ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:111 in the Quran reader

بیشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کی جان اور مال کو مول لے لیا ہے اس کے بدل ان کو بہشت ملے گی وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں (جان اور مال کی پرواہ نہ کر کے) لڑتے ہیں پھر (کافروں کو) مارتے ہیں اور مارے جاتے ہیں (کافروں کے ہاتھ سے شہید ہوتے ہیں) اللہ کا یہ وعدہ پکا ہے اس نے ذمہ لیا ہے توریت اور انجیل اور قرآن میں اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کون اپنے قول کا پورا کرنے والا ہے تو مسلمانو یہ جو سودا تم نے کیا ہے اس کی خوشی منائو اور یہی تو بڑی کامیابی ہے2

ف 2 منافقین کے بیان سے فارغ ہونے کے بعد اب اس آیت میں جہاد کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ مروی ہے کہ لیلتہ العقبہ میں جب ستر آدمیوں سے آپ نے بیعت تو شرط کی کہ ایک اللہ کی عبادت کرنا اور اس کے ساتھ شرک نہ کرنا اور میری ذات کی اس طرح حفاظت کرنا جس طرح تم اپنے جان و مال کی حفاظت کرتے ہو۔ انصار نے کہا اگر ہم یہ کرلیں تو ہمارے لئے کیا ہوگا ؟ فرمایا ” الجنہ “ کہ تمہارے لئے اس کے بدلہ جنت ہوگی۔ انصار نے اس پر اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور کہا ہمیں منظور ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی : ذکرہ الحافظ (کبیر۔ ابن کثیر)
Ayah 9:112

اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:112 in the Quran reader

ہی (یہ لوگ ایسے میں ہر ایک گناہ سے) توبہ کرنے والے اللہ کی عبادت اخلاص کے ساتھ کرنے والے اللہ کی طرف تعریف کرنے والے ہرحال میں شکر گزار روزہ رکھنے والے3 رکوع کرنے والے سجدہ کرنیوالے (یعنی غازی) اچھی بات کا حکم دینے والے بری بات سے منع کرنے والے اور اللہ تعالیٰ نے جو حدیں باندھ دیں ان کو سنبھالنے والے4 اور (اے پیغمبر) ایسے مسلمانوں کو جنت لو اللہ کی رضا مندی کی خوشخبری دے

ف 3 اس کے لفظی معنی گھومنے اور سیاحت کرنے والوں کے ہیں۔ اکثر صحابہ اور مفسرین نے اس سے ” روزہ رکھنے والے “ مراد لئے ہیں۔ بعض نے مجاہدین یا وہ طالب علم بھی مراد لئے ہیں جو دینی علم کی طلب میں شہر بشیر سفر کریں۔ (کبیر) شاہ صاحب فرماتے ہیں، بےتعلق رہنا روزہ ہے یا ہجرت یا دل نہ لگانا دنیا کے مرہون میں۔ (کذافی الموضح) 4 ” حکم شرعی کے بغیر کوئی کام نہ کریں۔ “ یعنی اس کی موکدہ شریعت کی ہرحال میں پابندی کرنے والے مطلب یہ ہے کہ صرف دوسروں ہی کو نصیحت نہیں کرتے بلکہ خود بھی عمل کرتے ہیں۔
Ayah 9:113

مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 9:113 in the Quran reader

پیغمبر کو نہیں چاہیے نہ ایمان والوں کو کہ مشرکوں کے بخشش کی دعا مانگیں گو وہ ان کے رشتہ دار ہوں جب ان کو یہ معلوم ہوگیا کہ وہ یعنے مشرک دوزخی ہیں5

ف 5 ابتدا سورت سے لے کر یہاں تک مشرکین اور منافقین سے کلی طور پر اظہار برأت کا اظہار بھی لازم ہے اور ان کے لئے استغفار جائز نہیں۔ (کبیر) اس آیت کی شان نزول کے بارے میں متعدد روایات ہیں۔ صحیحین میں حضرت سعید بن مسیب اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ابو طالب کی وفات کے وقت آنحضرت اس کے پاس تشریف لے آئے اور آپ نے فرمایا :” چچا ! لا الہ الہ اللہ کہہ دیجیے تاکہ میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں تیرے بارے میں کچھ عرض کرسکوں ابوجہل اور ابن امیہ بھی پاس بیٹھے تھے وہ کہنے لگے ابو طالب کیا تو عبدالمطلب کے دین سے منہ موڑ رہا ہے آنحضرت تلقین کرتے رہے اور کافر اپنی بات دہراتے رہے۔ آخر کار مرتے وقت ابو طالب علی ملۃ عبدالمطلب کہہ کر مرگیا۔ آنحضرت نے فرمایا :” میں تیرے لئے اس وقت تک مغفرت کی دعا کرتا رہوں گا جب تک مجھے اس سے منع نہ کردیا جائے۔ “ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ دوسری مقبولیت مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ نے جب کہ ایک ہزار صحابہ آپ کے ہمراہ تھے اپنی والدہ حضرت آمنہ کی قبر پر دعا کرنے کی اجازت طلب کی تو اللہ تعالیٰ نے اجازت نہ دی جس پر آنحضرت خوب روئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن کثیر) علاوہ ازیں اور بھی روایات مذکور ہیں۔ حافظ ابن حجر عسقلانی شرح بخاری فتح الباری میں لکھتے ہیں یہ سارے واقعات نزول آیت کا سبب بن سکتے ہیں مگر جن روایات میں یہ مذکور ہے کہ آنحضرت کے والدین کو زندہ کیا گیا اور ایمان لا کر پھر فوت ہوگئے یہ سب روایات حسب تصریح حافظ ابن کثیر و دیگر محققین پایہ ثبوت سے ساقط ہیں لیکن اس مسئلے میں سکوت میں ہی احتیاط ہے۔ (ت ۔ ن )
Ayah 9:114

وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ١ؕ اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ Open ayah 9:114 in the Quran reader

اور ابراہیم نے جو اپنے باپ کے لئے مغفرت کی دعا مانگی تھی تو کچھ نہیں مگر ایک وعدے کی وجہ سے جو اس نے اپنے باپ سے کیا تھا پھر جب ابراہیم کو یہ کھل گیا کہ اس کا باپ خدا کا دشمن ہے تو وہ اس سے الگ ہوگیا بیزار ہوگیا محبت چھوڑ6 دی بیشک ابراہیم بڑا نام دل برویا تھا7

ف 6 حضرت ابراہیم نے اپنے مشرک باپ سے یہ وعدہ اس وقت کیا تھا جب وہ اس سے جدا ہو کر بغرض ہجرت اپنے وطن سے نکلے تھے (دیکھیے سورة مریم آیت 47) چناچہ حسب وعدہ حضرت ابراہیم نے اپنے باپ کے لئے دعائے مغفرت کی بھی۔ (دیکھیے شعرا آیت 42) مگر یہ اس وقت تک کی کیفیت کا ذکر ہے جب تک انہیں امید تھی کہ ان کا باپ شرک سے توبہ کر کے مسلمان ہوجائیگا آخر مایوس ہونے کے بعد برأت کا اعلان فرما دیا۔ (کبیر) اگر کوئی کافر فرشتے دار فوت ہوجائے تو مسلمان اس کی تجہیز و تکفین میں شریک تو ہوسکتا ہے مگر اس کے لئے دعائے مغفرت نہیں کرسکتا۔ (از ابن کثیر)7 یا خدا کے حضور بہت آہیں بھرنے والے اور حلیم تھے کہ اگر کوئی سختی سے پیش آتا تو آپ نرمی سے جواب دیتے۔ (از ابن کثیر)
Ayah 9:115

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ هَدٰىهُمْ حَتّٰى یُبَیِّنَ لَهُمْ مَّا یَتَّقُوْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 9:115 in the Quran reader

اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ کسی قوم کو راہ دکھانے کے بعد گھر گمراہ کر دے اور ان سے مواخذہ کرے) یہاں تک کہ ان کو وہ باتیں نہ بتادے جن سے وہ کہتے ہیں بیشک اللہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے2

ف 1۔ اس میں ان مسلمانوں کو تسلی دی ہے جنہوں نے اوپر کی آیت کے نزول سے پہلے اپنے کافر کافر رشتہ داروں کے لئے دعائے مغفرت کی تھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی پر اس کے گمراہ ہونے کا حکم نہیں لگاتا جب تک کہ عنہی عنہ کام کی وضاحت نہ کردے۔ اگر اس وضاحت قبل کوئی برے کام کا ارتکاب کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا آنحضرت اور مسلمانوں پر اس استغفار سے کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) ۔2۔ اسی واسطے تمہیں منع کردیا۔ (موضح) ۔
Ayah 9:116

اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:116 in the Quran reader

بیشک آسمان اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کی ہے وہی جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے اور (مسلمانو) اللہ کے سوا نہ کوئی تمہارا حمایتی ہے نہ مددگار3

ف 3۔ انہوں نے بعض لوگوں کو غزوہ تبوک میں گھروں میں ٹھہرنے کی جازت دیدی یا مشرکین کیلئے دعائے مغفرت کی۔ (تذکیر) ۔
Ayah 9:117

لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:117 in the Quran reader

بیشک اللہ نے پیغمبر کو معاف کردیا اور مہاجرین اور انصار کو3 جنہوں نے سخت وقت میں پیغمبر کا ساتھ دیا (اور ساتھ بھی دیا تو ایسے وقت میں) جب کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل ڈگمگا گئے تھے2 پھر اللہ نے ان کو (دوبارہ) معاف کیا کیونکہ وہ ان پر بہت مہربان اور رحم کرنے والا ہے5

ف 4۔ یعنی بعض مخلص صحابہ تک اس سخت وقت میں جنگ پر جانے سے کسی نہ کسی حد تک جی چرانے لگے تھے مگر چونکہ ان کے دلوں میں ایمان واخلاص تھا اس لئے آخر کار وہ اپنی اس کمزوری پر قابو پاگئے۔ (کبیر) ۔ 5۔ یعنی مہاجرین و انصار کے دل کے خطرات بھی معاف کردیے۔ (از موضح) ۔
Ayah 9:118

وَّ عَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَ ظَنُّوْۤا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَیْهِ١ؕ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوْبُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 9:118 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے ان تین شخصوں کو بھی معاف کردیا جو ڈھیل میں ڈال دیئے گئے تھے4 یہاں تک کہ جب زمین اتنی کشاد ہوتے سا تھے ان پر تنگ ہوگئی7 ان کی جان ان پر دوبھر ہوگئی اور وہ سمجھ گئے کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب یا غصے سے کہیں پناہ نہیں مگر اس کے پاس تب اللہ نے ان پر کرم کیا یا ان کو توبہ کی توفیق دی تاکہ وہ توبہ کریں بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے8

ف 6۔ یہ بی لقد تاب اللہ کے تحت ہے اور ان سے مراد ہیں حضرت کعب بن مالک مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ۔ دیکھئے آیت 601۔ (ابن کثیر) ۔ 7۔ کوئی ان سے بات تک نہ کرتا اور نہ اپنے پاس بیٹھنے کی اجازت دیتا یہاں تک کہ ان کی بیویوں کو بھی بات چیت کی اجازت نہ تھی۔ آنحضرت ﷺ نے ان سے مکمل بائیکاٹ کا حکم دے دیا تھا۔ حضرت کعب ؓ نے ایک لمبی حدیث میں اس بائیکاٹ اور پھر توبہ قبول ہونے کی پوری تفصیل بیان کی ہے۔ (ابن کثیر) ۔ 8۔ معلوم ہوا کہ توبہ کا قبول کرنا محض اللہ کا فضل و کرم ہے ورنہ اس پر کسی کا زور نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ساتھ مہاجرین ؓ و انصار ؓ کے (توبہ کے قبول ہونے میں) وہ تین شخص بھی داخل ہوئے پچاس دن میں ان پر سخت حالت گزری کہ موت سے بدتر۔ (موضح) ۔
Ayah 9:119

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 9:119 in the Quran reader

مسلمانو اللہ سے ڈرو (اس کے پیغمبر کے خلاف نہ کرو) اور سچوں کے ساتھ رہو9

ف 9۔ اور وہ آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ میں۔ (ابن کثیر) یہ تین سچ کہنے سے بخشے گئے نہیں تو منافقین میں ملتے (موضح) ۔ حضرت کعب ؓ بن مالک کا بیان ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا انعام مجھ پر یہ ہے کہ میں نے آنحضرت ﷺ کے سامنے سچ بولا ورنہ میں بھی جھوٹ بول کر ہلاک ہوجاتا جیسے دوسرے ہلاک ہوگئے۔ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : تم راستبازی پر مضبوطی سے قائم رہو اس لئے کہ راست بازی نیکی کی اور نیکی جنت کی راہ دکھاتی ہے۔ آدمی سچ بولتا اور سچ بولنے کی کوشش کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں اسے صدیق لکھ دیا جاتا ہے۔ (بخاری مسلم) ۔
Ayah 9:120

مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِیْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا یُصِیْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَطَئُوْنَ مَوْطِئًا یَّغِیْظُ الْكُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّیْلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 9:120 in the Quran reader

مدینہ والوں کو اور جو ان کے گردا گرد گائوں والے رہتے ہیں10 یہ مناسب نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر کو چھوڑ کر پیچھے رہ جائیں اور اس کی جان کی فکر نہ کر کے اپنی جان بچانے کی فکر میں پڑجائیں اس لئے کہ ان لوگوں کو یعنے جہاد کرنے والوں کو خدا ج کی راہ میں پیاس ہو تکلیف ہو بھوک ہو اس مقام پر چلیں جن سے کافر خفا ہوں1 دشمن کو کچھ بھی نقصان پہنچائیں2 ہر ہر کے بدل ان پانچوں کاموں میں ان کا نیک عمل خدا کے پاس لکھ لیا جاتا ہے بیشک اللہ نیکوں کی محنت برباد نہیں کرتا3

ف 10۔ مزینہ، جہینہ، اشجع، اسلم اور غفار وغیرہ قبائل کے لوگ۔ 1۔ یعنی بستیاں، زمینیں، مکانات اور کھیتیاں یا کوئی بھی ایسی جگہ جس میں آنے اور چلنے پھرنے سے ان کے دل میں غصہ اور جلن پیدا ہو اور خوف زدہ ہوں۔ (ابن کثیر۔ کبیر) 2۔ انہی قتل کریں، قیدکریں یا ان سے مال غنیمت حاصل کریں۔ 3۔ جس کا ثواب انہیں ضرور ملے گا۔