9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 9:121

وَ لَا یُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً وَّ لَا یَقْطَعُوْنَ وَادِیًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:121 in the Quran reader

اور (اسی طرح) جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کریں تھوڑا ہو یا بہت جو میدان چلیں جس سر زمین کو طے کریں ان کے لئے لکھا جاتا ہے تاکہ اللہ ان کاموں کا بہت اچھا بدلہ ان کو دے یا انکے بہت اچھے کام4 یعنے جہاد کا بدلہ ان کو دے

ف 4۔ اس آیت کی رو سے حضرت امیر المومنین بن عفان کو بھرپور اجر نصیب ہوا جیسا کہ حضرت عبد الرحمن بن حباب سلمی سے روایت ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی ﷺ نے خطبہ دیا جس میں مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ چندہ دینے کی ترغیب دی۔ حضرت عثمان ؓ نے عرض کیا ” میں ایک سو اونٹ پالان سمیت چندہ دیتا ہوں۔ آنحضرت ﷺ نے منبر سے ایک سیڑھی نیچے اتر کر پھر اپیل کی تو حضرت عثمان ؓ نے عرض کیا ” میں مزید ایک سو اونٹ پالان سمیت دیتا ہوں۔ اس پر نبی ﷺ نے تعجب اور خوشی سے اپنا ہاتھ ہلایا۔ گویا کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے اس کے بعد عثمان ؓ کو کسی گناہ کا خطرہ نہیں۔ (ابن کثیر) ۔
Ayah 9:122

وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا كَآفَّةً١ؕ فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُوْنَ۠ Open ayah 9:122 in the Quran reader

اور یہی مناسب نہیں کہ ہر لڑائی میں سب کے سب مسلمان نکل کھڑے ہوں ایسا کیوں نہیں کرتے کہ ہر فرقے میں سے کچھ لوگ نکلیں تاکہ (جو لوگ نہیں نکلے اور مدینہ میں آنحضرت کی صحبت میں رہ گئے) وہ دین کی سمجھ حاصل کریں (قرآن اور حدیث یاد کریں اور جب ان کی قوم کے لوگ جہاد سے لوٹ کر آئیں تو ان کو سنا دیں5 اس لئے کہ وہ بچے رہیں

ف 5۔ یعنی ان کاموں سے بچے رہیں جن سے اس کے بعد منع کیا گیا۔ مفسرین کے ایک گروہ کا خیال ہے کہ جب ان لوگوں کو سخت لعنت ملامت کی گئی جو جہاد کے لئے نکلنے کی بجائے اپنے گھروں میں بیٹھے رہے تھے تو مسلمانوں نے خیال کیا کہ اب کسی کیلئے جہاد کے موقع پر مدینہ میں ٹھہرے رہنا جائز نہیں ہے۔ چناچہ اس کے بعد آنحضرت ﷺ جب بھی کفار سے جہاد کے لئے فوج بھیجنے کا ارادہ کرتے سب کے سب مسلمان جہاد پر جانے کیلئے تیار ہوجاتے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ مطلب یہ ہے کہ تمام مسلمانوں کے لئے جہاد کو نکلنا اس وقت فرض ہے جب آنحضرت ﷺ خود روانہ ہورہے ہوں ورنہ تو انہی لوگوں پر جہاد کے لئے ضروری ہے جن کو حکم دیا جائے۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس آیت کا تعلق علم دین کے حاصل کرنے سے ہے یعنی اگرچہ تمام مسلمانوں کے لئے دین کا علم حاصل کرنے کے لئے نکلنا ضروری نہیں تھا مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر قبیلے میں سیکچھ لوگ نکلتے علم حاصل کرتے اور واپس آکر اپنے قبیلے کے لوگوں کو بھی دین کے احکام سے خبردار کرتے تاکہ وہ بری باتوں سے پرہیز کرتے۔ آیت کے الفاظ میں ان ہر دو مفہوم کا یکساں احتمال ہے اور اس کی رو سے جہاد اور طلب علم دونوں کے لئے نکلنا مسلمانوں کے لئے فرض کفایہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یعنی اس کی ذمہ داری بحیثیت مجموعی سب پر عائد ہوتی ہے اور ان میں سے بعض افراد کا اسے سرانجام دینا ضروری ہے ورنہ سب گنہگار ہوں گے۔ (کبیر۔ ابن کثیر) ۔
Ayah 9:123

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَ لْیَجِدُوْا فِیْكُمْ غِلْظَةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:123 in the Quran reader

مسلمانو تم پہلے آس پاس کے کافروں سے لڑو اور ایسا کرو کہ کافر لوگوں6 کو تمہاری سختی بہادری معلوم ہو7 اور یہ سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ کی مدد پرہیزگاروں کے ساتھ ہے8

ف 6۔ یعنی کفار میں سے جو لوگ تم سے جتنا زیادہ قریب ہیں اتنا ہی ان سے پہلے جہاد کرو۔ پھر ان سے جہاد کرو جو اُ ن کی بہ نسبت دور ہیں۔ چناچہ اسی ترتیب کے ساتھ نبی ﷺ نے پہلے اپنے خاص قبیلہ قریش سے جنگ کی پھر جزیرہ عرب کے دوسرے قبائل سے اور پھی بنی قریظہ بنی نضیر سے اور پھر خیبر اور فدک کے اہل کتاب سے جو مدینہ کے اردگرد تھے۔ جب ان سب سے فارغ ہوئے تو غزوہ تبوک کی مہم پر ملک شام کے عیسائیوں سے جہاد کے لئے روانہ ہوئے۔ یہی ترتیب آپ ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عمر فاروق ؓ ، شہید محراب ؓ اور دوسرے خلفائے ملحوظ رکھی۔ چناچہ ان کے زمانے میں پہلے ملک شام فتح کیا گیا اور اس کے بعد ایران اور مصر پر حملہ کیا گیا۔ اس طرح مشرق و مغرب میں اسلام کا جھنڈا لہرانیلگا۔ (ابن کثیر) ۔ 7۔ اس لئے کہ کامل مومن وہ ہے جو اپنے مسلمان بھائی کے لئے نرم اور کافر دشمن کے لئے سخت ہو جیسا کہ دوسری آیت میں صحابہ کرام ؓ کی یہ خوبی بتائی گئی کہ وہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم ” کافروں پر سخت اور آپس میں رحم دل “ ہیں اور مومنین کی صفت میں فرمایا : اذلۃ علی المومنین اعزۃ علی الکافرین۔ مومنوں پر نرم اور کافروں پر سخت “ ہوتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا : انا الضحون القتال میں (اپنے ساتھیوں کے ساتھ) بہت ہنس مکھ اور (کافروں کو) بہت قتل کرنے والو ہوں۔ (ابن کثیر) ۔ 8۔ یعنی اگر تم اللہ سے ڈرتے ہوئے اسی پر بھروسہ کرتے ہوئے کافروں سے جنگ کرو گے تو تہ تمہارے ساتھ ہوگا تمہیں کوئی طاقت زک نہیں پہنچا سکے گی۔ (ابن کثیر) ۔
Ayah 9:124

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ اَیُّكُمْ زَادَتْهُ هٰذِهٖۤ اِیْمَانًا١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 9:124 in the Quran reader

اور جب کوئی سورت قرآن کی اترتی ہے تو ان منافقوں میں سے بعضے بعضوں کو یا مسلمانوں کو ہنسی ٹھٹھے سے یوں کہتے ہیں تم میں سے کس کے ایمان کو اس سورت نے بڑھا دیا بات یہ یہ کہ جو ایمان والے ہیں انہی کے ایمان کو اس سورت نے بڑھا دیا اور اللہ کے نئے حکم اترنے کی) وہی خوشی مناتے ہیں9

ف 9۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ جیسا کہ سلف و خلف اکثرعلما کا مسلک ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 9:125

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا اِلٰى رِجْسِهِمْ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:125 in the Quran reader

اور جن لوگوں کے دل میں زنفاق اور کفر کی) بیماری ہے ان کی گندگی پر اور گندگی بڑھا دی1 اور وہ کفر ہی میں مرے

ف 1۔ پچھلی سورتوں کے منکر تھے اب نئی سورت آنے پر جب اس سے بھی انکار کیا تو کفر کا ایک اور رد ا ان کے دلوں پر چڑھ گیا۔
Ayah 9:126

اَوَ لَا یَرَوْنَ اَنَّهُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُوْبُوْنَ وَ لَا هُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 9:126 in the Quran reader

کیا یہ منافق یہ بھی نہیں دیکھتے کہ وہ ہر سال ایک دو بار بلا میں پڑتے ہیں (دکھ بیماری موت قحط وغیرہ) پھر بھی (اپنے نفاق اور شرارت سے) توبہ نہیں کرتے اور نہ ان کو نصیحت ہوتی ہے2

ف 2۔ اکثر جنگ و جہاد کے وقت منافق معلوم ہوجاتے تھے۔ (موضح) ۔
Ayah 9:127

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ١ؕ هَلْ یَرٰىكُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوْا١ؕ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:127 in the Quran reader

ور جب کوئی سورت اترتی ہے تو یہ منافق ایک دوسرے کو تکنے لگتے ہیں3 پھ ریہ کہہ کر (دیکھو) تم کو کوئی دیکھتا تو نہیں آنحضرت کے پاس سے یا خطبہ یا مسجد میں سے) چل دیتے ہیں اللہ نے ان کے دلوں کو ایمان اور بھلائی کی طرف سے) پھیر دیا ہے4 کیونکہ وہ بےسمجھ لوگ ہیں5

ف 3۔ بھاگ نکلنے کی نیت سے یا انکار اور ٹھٹھے کی نیت سے (کبیر) ۔ 4۔ یا اللہ ان کے دلوں کو پھیر دے۔ یہ ان کے حق میں بدعا ہے۔ 5۔ تب ہی وہ وپنی فلاح سے غافل اور بھلائی سے بےفکر ہیں۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں : کلام اللہ میں جہاں منافقوں کے عیب آتے وہ آپس میں دیکھتے کہ ہم کو کسی نے پرکھا نہ ہو پھر جلدی سے اتھ جاتے۔ (موضح) ۔
Ayah 9:128

لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:128 in the Quran reader

(لوگو) تمہارے پاس تم ہی میں کا یعنے عربی قرشی) ایک پیغمبر آچکا تمہاری تکلف اس کو ناگوار ہے6 تمہاری بھلائی کی اس کو لولگی ہے مسلمانوں پر بہت شفقت کرتا ہے7 مہربان

ف 6۔ یعنی دنیا میں جہنم کی زندگی بسر کرلو۔ ذلیل و خوار رہو اور آخرت میں جہنم کی آگ کا ایندھن بنو۔ یہ چیز اس کو بہت ناگوار گزرتی ہے۔ یوں بھی آنحضرت نہایت آسان شریعت لے کر مبعوث ہوئے ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے۔ بعثت بالحنفیۃ السحۃ کہ مجھے آسان حنیف شریعت دے کر بھیجا گیا ہے۔ 7۔ رات دن اس کی یہی کوشش ہے اور وہ اسی فکر میں لگا رہتا ہے کہ جس طرح بھی ہوسکے تم دوزخ سے بچ جائو اور دنیا و آخرت کی فلاح حاصل کرلو۔ (۔۔۔ ) ۔ شاہ صاحب (رح) نے حریض علیکم کا ترجمہ کیا ہے۔ ” تلاش رکھتا ہے تمہاری “ اس کی وضاحت میں فرمایا : چاہتا ہے میری امت زیادہ ہوتی رہے۔ (از موضح) ۔
Ayah 9:129

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ۖۗ٘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 9:129 in the Quran reader

(اے پیغمبر) اس پر بھی اگر یہ لوگ نہ مانیں8 تو کہہ دے اللہ مجھ کو بس ہے اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اسی پر میں بھروسا رکھتا ہوں اور وہ بڑے تخت (یعنی عرش) کا مالک ہے (یا وہ تخت کا مالک بڑا ہے)9

ف 8۔ یعنی اس سہولت اور حرص کے باوجود جو شریعت آپ ﷺ لے کر آئے ہیں اس کے ماننے سے انکار کردیں۔ 9۔ حضرت ابو الدردا فرماتے ہیں کہ جو شخص صبح اور شام سات مرتبہ یہ وظیفہ (حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم) پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی تمام فکروں کیلئے کافی ہوجاتا ہے۔ (ابن کثیر) ۔