8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 8:1

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ١ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ١۪ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 8:1 in the Quran reader

(اے پیمبر) مسلمان تجھ سے لوٹ کے مالوں کو پوچھتے ہیں11 کہہ دے لوٹ کا مال اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا ہے12 تو اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور آپس میں مل جل کے رہو (جھگڑا نہ کرو) اور اگر تم میں ایمان ہے تو اللہ اور اس کے رسول کا کہا مانو1

ف 11 بد کے روز جب مسلمان کو ہاتھ مال غنیمت آیا تو اس کے بارے میں جھگڑا کرنے لگے اور آنحضر ﷺ سے اس کا مصرف پو چھنے لگے، اس پر یہ آیت ناز ہوئی ،۔ ( فتح البیان)12 یعنی اس کے با رے میں کوئی فیصلہ کرنا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے اختیار میں ہے۔ 1 اس آیت میں اللہ تعا کی اطاعت کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی اطاعت کو بھی ایمان کی شرط قراردیا گیا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی طاعت سے مراد، جیسا کہ ظاہر ہے۔ آپ ﷺ کی سنت کی ابتاع ہے۔ لہذا جو شخص آپ ﷺ کی سنت سے منہ موڑکر صرف قرآن کی اطاعت کرنا چاہتا ہے، اگرچہ عملا قطعیکک محال ہے) وہ قرآن کی واضح تصریح کے مطابق دائرہ سے خارج ہے۔ اس آیت کی تشریح میں شاہ صاحب لکھتے ہیں : جنگ میں بعض لڑنے کے لیے آگے بڑھنے اور بعض ( بزرگ) پشت پر رہے جب غنیمت جمع ہوئی تو بڑھنے ( اور لڑنے) والوں ( نوجوانوں) نے کہا یہ ہمارا حق ہے کیونکہ فتح ہم نے کی ہے اور پشتی والوں نے کہا ہے کہ ہماری قوت سے لڑے، حق تعالیٰ نے دونوں کو خاموش کردیا کہ فتح اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہے روز کسی کا پیش نہیں جاتا سو مال اللہ کا ہے آگے بہت دور تک یہی بیان فرمایا فتح اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہے اپنی وقوت نہ سمجھو۔ (کذافی ابن کثیر)
Ayah 8:2

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ Open ayah 8:2 in the Quran reader

ایماندار تو وہی لوگ ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں اور جب ان کو اس کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کے ایمان کو اور بڑھا دیتی ہیں اور وہ (ہر حال میں اپنے مالک پر بھروسہ کرتے ہیں2

ف 2 اوپر بیان فرمایا کہ ایمان اطاعت کو مستلزم ہے۔ اب اس آیت میں اموف طاعت کی تفصیل فرمادی ہے توکل کا مفہوم یہ ہے کہ ظاہری اسباب اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ اصل اعتماد اور بھروسہ اللہ تعالیٰ کے باعث جیسے جیسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت نازل ہوگی اس کے ساتھ تمہارا یمان کے اعتبار سے بھی جیسا کہ حدیث شعب ایمان میں ہے اور دلائل کی کثرت اور قوت سے بھی جیسا کہ حدیث میں ہے لو و زن ایمان ابی بکر بیاھل الارض لور جع، کہ حضرت ابوبکر ؓ کا ایمان کا ایمان تمام اہل زمین کے ایمان سے بھاری ہے اہل حدیث کا یہی مسلک ہے ( کذافی ابن کثیر، کبیر )
Ayah 8:3

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 8:3 in the Quran reader

جو نماز کو درستی سے ادا کرتے ہیں اور ہم نے جو ان کو دیا ہے اس میں سے کرچ کرتے ہیں3

ف 3 اس میں فرض نفل ہر قسم کے نفقات اور جملہ حقوق العباد آجاتے ہیں اور یہ آیت اعمال خیر کی تمام انواع کی شامل۔ ( ابن کثیر )
Ayah 8:4

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 8:4 in the Quran reader

یہی لوگ پکے ایماندار ہیں ان کے لیے (رحمت اور فضل کے یا جنت کے) دجے ہیں ان کے مالک کے پاس اور (گناہوں کی) بخشش اور عزت کی روزی4

ف 4 یعنی جنت کے میوے اور کھانے5 یہاں غزوہ بدر کے لیے روانگی کے واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو 2 ھ میں پیش آیا، مختصر واقعہ یہ ہے کہ نبی ﷺ کو اطلاع ملی کہ قریش کا ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ ابو سفیان سر کردگی میں شام سے مکہ جارہا ہے اور مدینہ کے راستہ پر پہنچ چکا ہے آپ ﷺ مسلمانوں کو مختصر سی جمعیت جو تین سو سے کچھ اوپر تھی لے کر قافلہ کے تعاقب کے لیے نکل کھڑے ہوئے ابو سفیان کو آنحضرت ﷺ کے نکلنے کی اطلاع ہوگئی، اس نے ایک تیز رفتار سوار کے ذریعہ مکہ اطلاع بھیج دی اور خود احتیاط اصل رستہ چھوڑ کر ساحلی اختیار کرلیا۔ مکہ میں جب یہ خبر پہنچتی تو ابو جہل ایک بڑا مسلح لشکر لے کر قافلہ کی حفاظت کے لے روانہ ہوگیا اور آکر بدر میں ڈیرے ڈال دیئے نبی ﷺ کو اطلع ہوئی تو آپ ﷺ نے مسلمانوں کی سامنے ساری صو رتحال رکھ دی کہ ایک طرف تجارتی فافلہ ہے اور دوسری طرف قریش کا لشکر ہے۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ تمہیں دونوں میں سے ایک ضرور ملے گا۔ اس پر بعض صحابہ ؓ کو تردو ہوا۔ وہ جاہتے تھے کہ لشکر کی بجائے قافلہ کا تعاقب کیا جائے اس وقت حضرت ابو بر ؓ ، حضرت عمر ؓ حضرت مقداد ؓ اور حضرت سعد بن معاذ نے اطاعت کی تقریریں کیں، تب آپ ﷺ بدر کی طرف صحابہ ؓ کی کراہت مدینہ سے نکلنے کے وقت نہ تھی جیسا کہ بظاہر آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے لیکن مجموعی واقعہ کی ایک قرار دیکر اس کر اہب کو خروج سے متسل کردیا ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وھم کارھون حال مقدرہ ہو۔ پس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح اس وقت مدینے سے نکلنے سے ہچکچا نا اور خطرے کا سامنا کرنے سے گھبرانا صحیح ثابت نہ وہوا اور بدر کے میدان میں اللہ تعالیٰ نے فتح دی اور مال غنیمت ہاتھ لگا اسی طرح آج بھی انہیں مال غنیمت کی تقسیم میں ناراض نہیں ہونا چاہیے بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف ہے جو حصہ ملے اسے قبول کرلینا چاہیے اس کا نتیجہ ان کے حق میں بہتر رہے گا ( کبیر، ابن کثیر) شاہ صا حب بھی لکھتے ہیں یعنی غنیمت یہ جھگڑا بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ نکلتے وقت عقل کی تد بیر کرنے لگے اور آخر کار صلاح وہی ٹھہری جو رسول ﷺ نے فرمایا تو ہر کام میں یہی اختیار کرو کہ حکم پر برداری میں اپنی عقل کو دخل نہ دو ، ( مو ضح
Ayahs 8:5–6

كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ١۪ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ Open ayah 8:5 in the Quran reader

(لوٹ کا مال بانٹنے میں ان کو جو ناراضی ہوئی وہ ایسی ہی تھی) جیسے تیرے مالک نے تجھ کو حکمت کے ساتھ گھر (مدینہ) سے نکالا اور (اس وقت بھی) مسلمانوں کا ایک گروہ ناراض تھا5

یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 8:6 in the Quran reader

وہ حق بات کھل جانے کے بعد تجھ سے جھگڑتے تھے6 گویا ان کو (زبردستی) موت کی طرف دھکیل رہے ہیں اور وہ (موت کو آنکھوں سے) دیکھ رہے ہیں7

ف 6 یعنی انہیں یہ معلوم تھا کہ آپ ﷺ جو حکم دیتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہی کا حکم ہے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جو اھد ی الطا ئفتین کا وعدہ کیا ہے وہ سچا ہے لیکن پھر یہ آپ ﷺ سے جھگڑ کرو ہے ہیں، ابن کثیر) بعض صحابہ ؓ نے جو اس وقت لشکر سے نہ لڑنے کا مشہورہ دیا تھا اس کی مجادلہ سے تعبیر فرمایا ہے۔7 یعنی سمجھتے ہیں کہ اتنے بڑے مسلح لشکر سے لڑنا اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈالنا ہے۔
Ayah 8:7

وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 8:7 in the Quran reader

(مسلمانو وہ وقت یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے تم سے وعدہ فرمایا تھا کہ ان دو گروہوں (قافلہ یا مکہ والوں کی فوج) میں سے ایک تم کو ضرور ملے گا8 اور تم یہ چاہتے تھے کہ بےہتھیار والا گروہ (یعنی قافلہ نرم نوالہ جس میں لؤائی کا سامان نہ تھا) تمہارے ہاتھ آجائے اور اللہ تعالیٰ یہ چاہتا تھا کہ اپنی باتوں سے حق کو ظاہر کرے اور کافروں کی جڑ کاٹ ڈالے

ف 8 یعنی قافلہ یا کفار پر فتح اور اموال غنیمت۔
Ayah 8:8

لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ Open ayah 8:8 in the Quran reader

اور سچ (اسلام) کو سچ اور جھوٹ (کفر) کو جھوٹ کردے گو مشرک برا جانیں1

ف 1 اس لیے اس نے ایسے اسباب پیدا کردیئے کہ تمہارا مقابلہ تجارتی قافلہ کے بجائے قریش کے لشکر سے ہو اور تمہیں فتح نصیب ہوئی جس سے ان کی سیاسی اور فوجی طاقت پر کاری لگی یہی اللہ تعالیٰ ی وہ حکمت تھی جسے تم نہیں سمجھ رہے تھے اور تم میں سے بہت سے لوگ یہ چاہ رہے تھے کہ لشکر سے مقابلہ کی بجائے تجارتی قافلہ ان کے ہاتھ لگے۔ ( کذافی ابن کثیر و شوکانی )
Ayah 8:9

اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُرْدِفِیْنَ Open ayah 8:9 in the Quran reader

(وہ وقت یاد کرو) جب تم اپنے مالک فریاد کرتے تھے2 اس نے تمہاری (فریاد) سن لی اور فرمایا) کہ میں تمہاری ایک ہزار فرشتوں سے مدد کروں گا انکے پیچھے اور فرشتے ہوں گے3

ف 6 یہ آنحضرت کی دعا کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ حضرت عمر ؓ سے رایت ہے کہ بدر کے روز کافروں کو تعداد ایک ہزار اور مسلمانوں کی تعاداد 317 تھی، جب آنحضرت ﷺ نے یہ صورت حال یہ دیکھی تو قبلہ رخ ہوئے اور ہاتھ اٹھاکر نہایت عاجزی سے دعا فرمانے لگے اے اللہ تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما اے اللہ۔ ! تو نے مجھے جس چیز کا وعدہ کیا ہے۔ وہ عطا فرما، اے اللہ ! اگر تو نے اہل اسلام کے اس گروہ کو ایک کر ڈالا تو روئے زمین پر تیری بندگی کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔ ( مسلم، ابود اؤد)3 یا ایک ہزار پے در پے آنے والے فرشتوں سے تمہاری مدد کرو گا، چناچہ فرشتے نازل ہوئے اور انہوں نے جنگ میں شرکت کی جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے اور صحیح مخاری میں باب شھود الملاکتہ بدرا کے تحت رفاعتہ بن ؓ رافع بدری کی روایت ہے جس میں حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ ج جس طرح بدری صحابہ ؓ سب سے افضل ہیں اسی طرح جو فرشتے بدر میں حا ضر ہوئے وہ دوسرے فرشتوں سے افضل ہیں ْ ۔ ابن کثیر )
Ayah 8:10

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ١ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 8:10 in the Quran reader

اور یہ فرشتوں کی مدد اللہ تعالیٰ نے جو صرف تم کو خوش کرنے کے لیے اور تمہارے دلوں کو اطمینان دینے کے لیے4 ورنہ (درحقیقت) اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی مدد نہیں کرسکتا5 بیشک اللہ تعالیٰ زبردست ہے حکمت والا

ف 4 آیت کے الفا ظ سے بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ فرشتوں نے خود لڑنے میں کوئی محض اس لیے بھیجا ہے تھا کہ ان کے حوصلے بلند ہوں اور انہیں اطمینان رہے کہ انکی مدد کے لیے فرشتے موجود ہیں لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ صحیح مسلم کی ایک حدیث سے صراحتہ معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں نے لڑائی میں بھی حصہ لیا۔ اگرچہ غزوہ بد رکے علاوہ کسی دوسری جنگ میں انہوں نے لڑکر حصہ نہیں لیا) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہی کہ جنگ بد کے موقع پر ایک انصاری مسلمان کسی کافر کا پیچھا کر رہا تھا کہ اچانک اس نے اوپر سے ایک کوڑے کی آواز سنی اور ایک گھڑ سوارنے اپنے گھوڑے کو پکارا حیزوم ! آگے بڑھو۔ اس نے اپنے سامنے کافر کو دیکھا کہ وہ لڑکھڑا کر گرا اور گرتے ہوئے ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا، اس انصاری نے اس واقعہ کا آنحضرت ﷺ سے تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا تم نے سچ کہا یہ تیسرے اسمان کی مدد تھی۔ ( ابن کثیر، بحوالہ صحیح مسلم ) 5 یعنی یہ سمجھو کہ تمہیں جو فتح نصیب ہوئی ان فرشتوں کی وجیہ سے ہوئی حقیقت میں مدد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ چاہتا تو فرشتوں کے بغیر ہی تمہیں فتح نصیب کردیتا مگر جہا کی مشر وعیت سے تمہارے ایمان کا امتحان مقصود ہے شہادت سے تمہارے در جے بلند اور کافروں کا تمہارے ہاتھ سے ذلیل کرنا ہے۔ امم سابقہ میں جو امت تکذیب کرتی اس پر کی طرح کا عذاب نازل ہوجاتا، حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر فرعون کے غرق ہونے تک یہی سلسلہ قائم رہا آخر کار جب جو موسیٰ ( علیہ السلام) پر تورات نازل ہوئی تو جہاد شروع ہو اور اس کے بعد یہی طریقہ جاری ہے۔ ، ( ابن کثیر) جس رات کی صبح کی لڑائی ( جنگ بدر) ہونے والی تھی صحابہ ؓ کرام خونب سوئے حال ن کہ دشمن کی فکر لگی ہوئی تھی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے نیند بھیج دی تاکہ تازہ دم ہوجائیں اور دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کریں، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں بدر کر لڑائی میں مقداد بن ؓ بن اسود کے سو کوئی سوار نہ تھا تمام صحابہ ؓ رات کو سئے پڑے رہے بجز آنحضرت ﷺ کے کہ آپ ﷺ ایک درخت کے نیچے نماز پڑ تھے اور اللہ تعالیٰ کے حضور آہ و رازی کرتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ ( ابو یعلی )
Ayah 8:11

اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ Open ayah 8:11 in the Quran reader

جب خدا تعالیٰ نے تم کو بےڈر بنانے کے لیے تم پر نیند ڈال دی (یا اونگھ)6 اور آسمان سے تم پر پانی برسایا تم کو پاک کرنے کے لیے اور شیطان کا وسوسہ تم سے دور کرنے کے لیے اور تمہارے دلوں پر (صبر اور یقین کی) گرہ باندھنے کے لیے اور تمہارے پاؤں (میدان جنگ میں) جمانے کے لیے7

صحیحین کی ایک روایت میں ہے کہ بدر کے دن آنحضرت ﷺ پر غنودگی طاری ہوگئی پھر آپ ﷺ مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے اور حضرت ابوبکر ؓ سے فرمایا ابوبکر ؓ خوش ہوجاؤ یہ جبر یل ( علیہ السلام) آئے ہیں ان کے دانتوں پر گرد پڑی ہوئی ہے۔ اس قسم کی غنودگی مسلمانوں پر جنگ احد کی موقع پر بھی طاری کی گئی، ( دیکھئے سورة آل عمران رکوع 19)7 یہ بھی اس راہ کا واقعہ ہے کہ رات کو بارش ہونے ریت جم گئی اور زمین اتنی سخت ہوگئی کہ اس پر پاؤں اچھی طرح جم سکتے تھے اس سے فائدہ اٹھاکر مسلمان آگے بڑھے اور پینے کے لے پانی کی بھی سہولت ہوگئی کفار کے پڑاؤ کو جگہ نشیبی تھی بارش کی وجہ سے کیچڑہو گئی اور پاؤں پھسلنے لگے مسلمانوں کے دلوں سے شیطان کی نجاست یعنی گھبراہٹ اور خوف کی کیفیت دو ہوگئی اور صبح ہوئی تو لڑنے کے لیے چاک و چوبند تھے بدر کے موقع پر یہ تیسرا انعام تھا جس سے کافروں پر فتحیاب ہونے میں بڑی مدد ملی ( ابن کثیر)
Ayah 8:12

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓئِكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ Open ayah 8:12 in the Quran reader

(اے پیغمبر) جب تیرا مالک فرشتوں کو حکم دے رہا تھا میں تمہارے ساتھ ہوں (تمہاری مدد پر ہوں) تم (جا کر) مسلمانوں کا دل جماؤ میں کافروں کے دل میں رعب ڈلے دیتا ہوں تم (جا کر کافروں کی) گردنوں پر مارو اور ان کی پور پور پر مارو8

ف 8 یعنی ہاتھپاؤں کی انگلیوں کے جو ڑوں پر مارو کیونکہ لڑنے والا نہی جو ڑو نے سے زیادہ کام لیتا ہے۔
Ayahs 8:13–15

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:13 in the Quran reader

یہ سزا (جو کافروں کو دی جاتی ہے) اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے بیر کیا (خلاف کیا اپنا جتھا الگ بنایا) اور جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے بیر کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو سخت عذاب دینے والا ہے

ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ Open ayah 8:14 in the Quran reader

اب یہ (عذاب تو دنیا میں مارے جانے اور قید ہونے کا) چکھ لو اور یہ (جان لو کہ آخرت میں) کافروں کو (دوسرا عذاب) دوزخ کا عذا ہونے والا ہے جو اس سے کہیں سخت ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ Open ayah 8:15 in the Quran reader

مسلمانو جب تم کافروں کے ریل پیل لشکر سے بھڑ جاؤ (یعنی وہ زیادہ ہوں اور تم کم) تو ان کو پیٹھ نہ دو1

ف 1 یعنی ان کے مقابلہ س بھاگو نہیں، بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ حکم صحابہ ؓ کو بدر کے لیے تھا مگر یہ رائے صحیح نہیں بلکہ یہ حکم سب مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے ہے متعدد احادیث میں کفار کے مقابلہ سے بھاگنے کو گناہ کبیرہ قرار دیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو، پھر آپ ﷺ نے ان سات چیزوں کو ذکر فرمایا جن میں سے ایک کافروں کے مقابلہ سے بھاگنا ہے۔ ( شوکانی، ابن کثیر )
Ayah 8:16

وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 8:16 in the Quran reader

اور جو اس دن (یعنی لڑائی کے دن یا بدر کے دن اپنی پیٹھ کافروں کو دکھائے) (یعنی بھاگے) وہ اللہ کا غصہ لے کر لوٹا اور اس کا ٹھکنہ دوزخ ہے اور وہ (لوٹ جانے کی) بری جگہ ہے مگر جو کوئی کترا کر ایک طرف چلے لڑنے کے لیے2 یا (مسلمانوں کی دوسری) جماعت میں شیک ہونے کے لیے3

ف 2 مثلا دشمن کو گھیر نے کے لیے یا اس کو دھوکا دینے کے لیے پیچھے ہٹ۔3 جو تعداد میں زیادہ ہو یا کوئی مغلوب ہو رہا ہو اسکی مدد کے لیے لو ٹے تو کوئی گناہ نہیں یعنی اللہ کا غظب تو جنگ سے بھا گنے والے پر ہے اگر نفون حرب کے تحت نقل و حکت کرتے ہوئے میدان جھوڑ کر پیچھے ہٹ جائے تو گناہ نہیں ہے۔
Ayah 8:17

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ١۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى١ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 8:17 in the Quran reader

تو اے مسلمانوں بدر کے دن در حقیقت) تم نے کافروں کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے (اپنی مدد بھیج کر) ان کو قتل کیا4 اور (اے پیمبر) تو نے وہ مٹھی (کنکریوں کی) پھینکی جب تو نے پھینکی بلکہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی5 (اس میں بہت سے فائدے تھے) اور (ایک فائدہ یہ تھا) کہ مسلمانوں پر اپنی طرف سے ایک بڑا احسان کرے6 بیشک اللہ تعالیٰ (ان کی دعا) سنتا ہے (ان کا حال) جانتا ہے

ف 4 ورنہ خود مسلمانوں کی نہ تعداد زیادہ تھی، اور نہ ان کے پاس اتنا سامان تھا کہ ہو کافروں کے ہر طرح کی مسلح اور عظیم لشکر کو شکست دے سکتے شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ اس لیے فرمایا کہ مسلمان یہ سمجھیں کہ فتح ہماری قوت سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہے الہذا ان کا چاہیے کہ کسی بات میں پنا دخل نہ کر کریں ( از موضح)5 یہ اشارہ ہے اس وقعہ کو طرف بدر کے روز جب معرکہ قتال گرم تھا تو نبی ﷺ نے مٹھی بھر سکنگ ریزے ہاتھ میں کر شاھت الوجو جہ کہتے ہوئے کفار کی طرف پھنکنے جو ان میں ہر ایک لگے اور اس کی ا آنکھوں اور نتھوں میں داخل ہوگئے، اکثر مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ اس آیت میں ر میٰ سے مراد یہی نبی ﷺ کا مٹھی بھر کنکر یاں پھنکنا ہے۔ ( ابن کثیر)6 باوجود یکہ ان کا سامنا اور لشکر کافروں کے مقابلے میں کوئی حقیقت نہ رکھتا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح دی تاکہ وہ اس کی نعمت کو پہچانیں اور اس کا ششرک بجا لائیں۔ ( کذافی ابن جریر )
Ayah 8:18

ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 8:18 in the Quran reader

یہ احسان تو تھا ہی اور (دوسری بات یہ تھی کہ) اللہ کافروں کے منصوبے کو خراب کرنا چاہتا تھا7

ف 7 یہ ایک دوسری بشارت ہے کہ آئندہ بھی اللہ تعالیٰ ہر تد بیر کر کمزور کر دے گا اور یہ اپنی کسی اسی اسکیم میں کا میاب نہ ہو سکیں گے، ( ابن کثیر) یا یہ کہ انہوں نے جو یہ اسکیم بنائی تھی کہ اپنے تجارتی قافلے کو بچا لے جائیں گے اور مسلمانوں کا زور بھی توڑدیں گے ان کا یہ منصوبہ خاک میں ملادیا، وہ خود مارے گئے اور تمہاری قیدی بن گئے اور بھاری مالی نقصان اٹھاکر پسپا ہوئے، ( ک کذاعن ابن عباس )
Ayah 8:19

اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ١ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ١ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْئًا وَّ لَوْ كَثُرَتْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:19 in the Quran reader

(قریش کے کافروں) اگر تم فتح چاہتے تے تو فتح تو تہارے پاس آن موجود ہوئی8 اور اگر (اب) تم (شرک سے اور مسلمانوں کی مخالفت سے) باز آؤ تو تمہارے لیے بہتر ہوگا اور اگر پھر تم9 کروگے تو ہم بھی (پھر مسلمانوں کی مدد) کریں گے اور تمہارا جتھا گو کتنا ہی بہت ہو کچھ بھی تمہارے کام نہ آئے گا اور (تیسری بات یہ تھی کہ) اگرچہ بہت ہو اور یہ کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ساتھ تھا10

ف 8 یہ خطاب کفار سے ہے کی ن کہ مکہ سے روانہ ہوتے وقت انہوں نے کعبہ کے پردے پکڑ پکڑ کر یہ دعا مانگی تھی کہ اے اللہ ! دونوں گر وہوں ( یعنی ہم اور مسلمانوں) میں سے جو اعلیٰ اور ہدایت یافتہ ہو اسے فتح نصیب کر اور ابو جہل نے معرکہ بدر سے پہلی یہ دعا کی تھی کہ اے اللہ ! ہم میں سے جو برسرحق ہے اسے غالب اور جو سرباطل ہے اسے رسو اکر۔ ( ابن جریروغیرہ) اس صورت میں الفتح صاحب لکھتے ہیں ہیں۔ مکی سورتوں میں ہر جگہ کافروں کا یہ کلام نقل فرمایا کہ ہر گھڑ ی کہتے ہیں متی حذا الفتح یعنی کب ہوگا یہ فیصلہ سو اب فرمایا کہ یہ ٖفیصلہ آپہنچا۔ ( مو ضح)9 یعنی پھر مسلمانوں کی مخالفت اور اس نے جنگ کرو گے،10 اور اللہ تعالیٰ کی نصرت اور مدد جس کے شامل حال ہو اے کون شکست دے سکتا ہے۔ ؟
Ayah 8:20

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖ Open ayah 8:20 in the Quran reader

مسلمانو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا کہا مانو اور رسول کا حکم سن کر اس سے منہ نہ پھیر11

ف 11 کفار کو تہدید کے بعد اب مسلمانوں کو تا دیب کی ہے کی جب تمہیں کسی معاملے میں رسو ﷺ کا حکم ہوجائے تو اس کے خلاف کسی کی نہ ن سے۔ ابتدا سورة میں اموال غنیمت کے متعلق اختلاف کو ختم کرنے کے لیے قل الانفال اللہ اولر سول کا اعلان فرمایا تھا اور اطاعت رسول ﷺ کو ایمان کی شرط قراردیا تھا پھر درمیان میں اپنے انعامات کا ذکر فرمائے اور اب پہلے کلام کو بھر اطاعت کی تلقین پر ختم فرمایا۔ ( کبیر۔ (
Ayah 8:21

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 8:21 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی طرح مت ہو جو (منہ سے) کہہ دیتے ہیں ہم نے سنا اور وہ سنتے ہیں12

ف 12 مراد منا فق ہیں یا مشرکین اور یہود کا جو کان سے تو اللہ تعالیٰ و رسول ﷺ کا کلام سنتے ہیں مگر ان کے دلوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا یہ سننا اور نہ سننا برابر ہے۔ ( ابن کثیر )
Ayah 8:22

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 8:22 in the Quran reader

بیشک سب جانوروں میں بدتر اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہرے گونگے (کافر ہیں) جو عقل نہیں رکھتے1

ف 1 یعنی کفار جو کان اچھی بات نہ سنیں زبان سے اچھی بات نہ نکالیں اور اللہ کی دی ہوئی عقل سے کوئی کام نہ لیں وہ جا نوروں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ جا نور تو اپنے فطری تقاضوں کے مطابق زند گی بسر کرتے ہیں اور ان لوگوں کو عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے مگر یہ اس غرض کو بھی پورا نہیں کرتے ( رازی
Ayah 8:23

وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 8:23 in the Quran reader

اور اگر اللہ تعالیٰ (ان بہرے گونگے کافروں میں) کچھ بھی بھلائی پاتا تو بیشک ان کو سناتا (اس طرح کہ وہ فائدہ اٹھاتے) اور اگر ان کو سناتا بھی جب بھی وہ منہ پھیر کر چل دیتے2

ف 2 اگر انہیں اسی حال ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں ہے سناتا تو وہ منہ پھر کر چل دیے ہیں یعنی ان لوگوں نے گنا ہو کا ارتکاب کر کر ک کے اپنے اندر سے وہ استعداد ہی ختم کرلی ہے جو ایمان اور راہ ہدایت کی پیروی کے لیے بیج کی حثیت رکھتی ہے پھر جب یہ بیج نہ ہو تو پھل کی امید نہیں ہوسکتی چناچہ دوسری آیت میں فرمایا کلا بل ران علی قلو بھم ماکونوا یکسبون حقیقت یہ ہے کہ ان کے برے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے۔ ( تطفیف۔ 14)
Ayah 8:24

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 8:24 in the Quran reader

مسلمانو جب رسول تم کو ایسے کام کے لیے بلائے جس میں تمہاری زندگی ہے3 تو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو (جواب دو فوراً حاضر ہو) اور یہ سمجھ لو کہ اللہ آدمی اور اسکے دل کے بیچ میں آڑ ہوجاتا ہے4 اور تم کو (آخر) اسی کی طرف جمع ہونا ہے (وہ ہر ایک کام کا بدلہ دے گا)

ف 3 یعنی خدا اور اس کے رسول ﷺ کی دعوت پر لبیک کہنا تم پر لازم ہے لما یحییکم وہ کام جو تمہیں زندگی بخشتا ہے۔ ) میں علمائے سلف سے مختلف اقوال منقول ہیں۔ بعض نے ایمان واسلام اور بعض نے قرآن لیکن اکثر نے اس سے جہاد مرد لیا ہے کیونکہ جہاد دنیا و آخرت میں زندگی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور پھر سیاق کلام کے مناسب بھی یہی ہے لیکن اگر اس سے مراد حق وصواب لیا جائے تو قرآن ایمان جہاد اور برو طاعت کے جملہ امور کر یہ لفظ شامل ہوجاتا ہے مو لانا علامہ لکھتے ہیں اس آیت سے تقلید ناجائز کی جڑ کٹ گئی جب اللہ کا حکم یہ ہے کہ رسول ﷺ کا کہا مانو تو کیونکہ یہ درست ہوسکتا ہے کہ رسول ﷺ کے حکم کی موجودگی میں دوسرے مجتہد یا امام کی بات پر عمل کیا جائے، دوسرے ائمہ تو آنحضرت ﷺ کفش بر دار جب آنحضرت ﷺ کا کہا نہ ماننا اپنے آپ کو تباہ کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اس سے محفوظ رکھے، ( مختصر از وحیدی)4 یعنی حق وا ضح ہوجا نے کے بعد بھی اگر کوئی اللہ و رسول ﷺ کا کہا نہ مانے تو اللہ تعالیٰ کی طرف انسان کی یہ سزا ملتی ہے کہ ہو انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور اس کے بعد اللہ و رسول ﷺ کی دعوت پر لبیک کہنے کی توفیق ملتی جسیے فرمایا فلما زاغوا ارراع اللہ قلو بھم یعنی وہ خود ٹٹرھے ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا۔ ( صف 5) آیت کے یہ معنی حضرت ابن عباس ؓ ارجمہور مفسرین نے بیان فرمائے ہیں ( ابن کثیر) ابن قیم (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ٰٗ آدمی کے دل کے قریب ہے اس لیے وہ انسان کے دل کے حالات سے خوب واقف ہے اسے خوب معلوم ہے کہ تم اللہ و رسول ﷺ کی دعوت پر اخلاص سے لبیک کہہ رہے ہو یا کسی دوسرے جذنہ سے۔ مطلب یہ ہے کہ دلوں میں اخلاص پیدا کرو، ( الفوائد) شاہ صاحب (رح) اس آیت کی تشریح یہ فرماتے ہیں حکم بجا لانے میں دیر نہ کرو شاید اس وقت دل ایسا نہ رہے دل اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ( از مو ضح) امام رازی فرماتے ہیں اللہ کا حائل ہونا موت سے کہنا یہ ہے کہ یعنی موت آنے سے قبل نیکی اور اطاعت بجالا وؤ۔ ، اس کے بعد اونہ الیہ تحشرون کے جملہ سے بھی اس معنی کی تائید ہوتی ہے۔ ( رازی )
Ayah 8:25

وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:25 in the Quran reader

اور اس عذاب سے ڈرتے رہو جو تم میں سے خاص گنہگاروں پر نہیں پڑتا5 اور جانے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب سخت ہے6

ف 5 متعدد احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ جب کسی قوم میں امر بالمعروف و نہی ان المنکر فریضہ سرانجام نہ دیا جائے تو اللہ تعالیٰ اس ہمہ گیر عذاب بھیجے گا۔ ( ابن کثیر)6 مطلب یہ ہے کہ حکم کی بجا آوری میں کاہلی کرنے سے ایک تو دل ہٹتا ہے دم بدم مشکل میں پڑتا ہے۔ دوسرے نیکوں کی کاہلی سے گنہنگار بالکل چھوڑ بیٹھیں گے تو رسم بد پھلیے گی اس کا وبال سب پر پڑے گا۔
Ayah 8:26

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 8:26 in the Quran reader

اور (اے مہاجرین) جب تم زمین (مکہ) میں تھوڑے سے تھے کمزور (یعنی ہجرت سے پہلے) تم ڈرتے تھے کہیں (کافر) لوگ تم کو اچک نہ لے جائیں (یعنی ایک دم تباہ نہ کردیں) پھر اللہ نے تم کو (مدینہ میں) جگہ دی اور (بدر کے دن) اپنی مدد (فرشتوں سے) تم کو زور دیا اور تم کو حلال چیزیں کھانے کو دیں7 اس لیے کہ تم شکر کرو

ف 7 جیسے مال غنیمت جو تم سے کسی امت کے لیے حلال نہ تھا۔ ( کبیر )
Ayah 8:27

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:27 in the Quran reader

مسلمانو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے خیانت نہ کرو8 اور اپنی (آپس کی) امانتوں میں بھی جان بوجھ کر چوری نہ کرو9

ف 8 یعنی مال غنیمت میں خیا نت نہ کرو یا آنحضرت سے بےوفائی اور غداری نہ کرو بلکہ ان سے ایمان و اطاعت کا جو عہد باند ھا ہے اسے پورے اخلاص سے بھاؤ، امام زہری (رح) وغیرہ کا بیان ہے کہ جب بنو قریظہ کے یہودی گھر گئے اور انہیں اپنے قلعہ سے اترنے کا حکم دیا گیا تو انہوں نے حضرت ابو لبابہ ؓ سے دریافت کیا کہ ہم سعد بن معاذ ؓ کے حکم پر اتر اٗیں ؟ ابو لبابہ ؓ نے اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا کہ نہیں یعنی ایسا کرنے سے گلا کٹ جائے گا اور قتل کردیئے جاؤ گے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی، حضرت ابو لبانہ ؓ کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا اور انہوں نے تو بہ کے ارادہ سے اپنے آپ کو مسجد نبوی ؓ نے ستو ن سے س باندھ تو نو روزٍ تک نہ کچھ کھایا نہ پیا تک کہ بےہوش ہر کر گرپڑے۔ ک کہ جس میں مانت نہیں اللہ تعالیٰ کی توبہ قبول فرمائی اور آنحضرت ﷺ نے تشریف لاکر انہیں ستو ن سے کھولا ( کبیر، ابن کثیر)9 آ نحضرت ﷺ نے کم ہی کوئی خطبہ دیا ہوگا جس میں یہ ارشاد نہ فرمایا ہو لا ایمان المن لا اما نتہ لہ ولا دین لمن لا عھد لہ۔ کہ جس میں امانت نہیں اس میں ایمان نہیں ہے اور جو اپنے عہد کو پو رانہ کرے اس کا دین نہیں ہے۔ ( رازی ابن حبانی) نیز فرمایا کہ کا کام ہے۔ ( ابن کثیر )
Ayah 8:28

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 8:28 in the Quran reader

اور یہ جان لو کہ تمہارے مال اور اولاد یہی تمہار خرابہ ہیں10 اور اللہ تعالیٰ کے پاس تم کو بڑا ثواب ملنے والا ہے

ف 10 یعنی بہت بڑی آزمائش میں کہ تم شکر اور اطاعت بجا لاتے ہو یا ان میں مشغول ہو کر نافرمانی کرتے ہو۔ ( ابن کثیر )
Ayah 8:29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 8:29 in the Quran reader

مسلمانو اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے چھٹکارے کی صورت نکال دے گا1 اور تمہارے گناہ تم پر سے اتار دے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے

ف 1 مال واولاد کے فتنہ ڈارنے کے بعد اب تقوی کی تعلیم دی، یہاں فرقانا سے مراد تو یہ ہے کہ تمہارے اہل و عیال اور اموال جو مکہ کافروں کے قبض میں ہیں ان کے بچاؤ کی صورت نکال دے گا ی اتمہارے اند نور بصریت پیدا کردے گا۔ جس سے تم زندگی کے ہر موڑ اور ہر نشیب و فراز پر معلوم کرسکو گے کہ کونسی چیز حق ہے اور کونسی باطل ؟ فر قان کے راہ نجات اور نور بصیرت دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ ( ابن کثیر، کبیر )
Ayah 8:30

وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ Open ayah 8:30 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر وہ وقت یاد کر) جب (تو مکہ میں تھا) کافر داؤں کرنے لگے کہ تجھ کو قید کریں یا قتل یا (ملک سے) نکال باہر کریں2 اور وہ (اپنا) داؤں کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ (اپنا) داوں کر رہا تھا اور اللہ تعالیٰ سب داؤں کرنے والوں سے بہتر داؤں کرنے والا ہے3

ف 2 آیت واذکر و اذانتم قلیل الخ میں مو منوں پر انعام ذکر فرمایا تھا اب اس آیت میں آنحضرت پر اپے انعام کا ذکر کیا ہے جو یحبل لکم فر قانا کی ایک مثال ہی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ بھی مکہ میں تھے لیکن قریش کو یقین ہوگیا تھا کہ آپ ﷺ بھی عنقریب مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والے ہیں اسی وقت انہوں نے اپنے دارالند وہ میں رؤسا مکہ کا ایک نمائندہ اجتماعی بلایا کہ تاکہ آپ ﷺ کے بارے میں کسی قطعی فیصلہ پر پہنچا جاسکے اس اجتماع میں شیطان بھی ایک بوڑھے نجدی کی شکل میں شریک ہوگیا۔ کسی نے تجویز پیش کی کہ اس شخص ( محمد ﷺ کو بیڑیا پہناکر کسی جگہ قید کردیا جائے اور مرتے دم تک رہ انہ کیا جائے لیکن اس بوڑھے نے اس تجویز کو یہ کہتے ہوئے رد کردیا کہ اس کے جو ساتھی قید سے باہر ہیں وہ برابر وقوت پکڑ تے اور اسے چھڑانے کے لیے زور لگاتے رہیں گے، دوسری تجویز یہ آئی کہ اسے اپنے ہاں سے نکال باہر کیا جائے کیونکہ جب یہ ہم میں مو جود نہ ہوگا تو ہمیں اس سے کوئی بحث نہ ہوگی کہ کہاں جاتا ہے اور کیا کرتا ہے لیکن اس بوڑھے نے اسے بھی یہ کہتے ہوئے رد کردیا کہ یہ شخص جادو بیان ہے جہاں جائے گا اپنے گرد لوگوں کو جمع کرلے گا آخر کار ابو جہل نے یہ تجویز پیش کی اور اس بوڑھے نے بھی اس کی پرزور تائید کی کہ تمام قبائل میں ایک نوجوان کو منتخب کیا جائے اور پھر یہ تمام نوجوان مل کر یکبارگی محمد ﷺ پر ٹوٹ پڑیں اور اس کا کام تما کردیں اس طرح محمد ﷺ کا خون تمام قبائل میں بٹ جائے گا۔ اور بنو عبد مناکو دیت قبول کرلینے کے سوا کوئی چارہ نہ رہے گا، چناچہ اس تجویز کے مطابق نو جوان منتخب کئے گئے اور وہ ایک مقررہ رات کو نبی ﷺ کے دروازے پر جمع ہوگئے کہ جو نہی آپ ﷺ گھر سے باہر نکلیں آپ ﷺ پر یکبارگی حملہ کردیا جائے لیکن نبی ﷺ انکی آنکھوں میں خاک جھو نکتے ہوئے اپنے گھر سے نکل گئے اور انکی ساری خفیہ تجویز ناکام ہو کر رہ گئی نبی ﷺ کا یہ معجزہ سیرت کی تمام کتابوں میں مذکور ہے اور حضرت ابن عباس ؓ کی یہ روایت عین قر ان کے مطابق ہے ( رازی، ابن کثیر)3 یعنی انہوں نے سازش کی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے وہ سازش ناکام کردی نیز معنی مکر کے لیے دیکھئے سورة آل عمران آیت 54 (رازی)
Ayah 8:31

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:31 in the Quran reader

اور جس وقت ہماری آیتیں ان کافروں کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ہم سن چکے ہم سن چکے ہم بھی اگر چاہیں تو ایسا قرآن کہہ ڈالیں (تصنیف کرلیں) یہ ہے کیا اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں بس4

ف 4 جمہور مفسرین کے قول کے مطابق یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ وہ ایران کا سفر کر تارہتا تھا اس لیے اس نے رستم اور اسفند یا رو غیر کی کہانیاں یاد کرلی تھیں ایک مرتبہ مکہ آیا اور قرآن سنا تو وہ بات کہنے لگا جس کا اس آیت میں مذکور ہے۔ ( کبیر۔ ابن کثیر )
Ayah 8:32

وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 8:32 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر وہ وقت یاد کر) جب ان کافروں نے دعا مانگی یا اللہ تعالیٰ اگر یہ قرآن سچ ہے تیرے ہی پاس سے اترا ہے تم ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی تکلیف کا عذاب ہم پر لے آ5

ف 5 صحیح بخاری میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ یہ دعا کرنے والا ابو جہل تھا چونکہ باقی سب بےا سے پسند کیا تھا اس لیے اسے سب کی طرف منسوب کردیا گیا۔
Ayah 8:33

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 8:33 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب کرنے والا نہیں جب تک تو ان میں موجود ہے6 اور اللہ ان کو عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ استغفار کرتے ہیں7

ف 6 یعنی جب تک آپ ﷺ ان میں موجود تھے اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیجنے والا نہیں تھا کیونکہ اس کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ کیس قوم پر اس وقت تک عذاب نازل نہیں کرتا جب تک اس کا رسول ( علیہ السلام) ان میں موجود رہتا ہے۔ چناہ حضرت نوح ( علیہ السلام) ہود، صالح اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کے وقعات ہمارے سامنے ہیں۔ ( ابن کثیر)7 یعنی یہ بھی اللہ تعالیٰ کا قاعدہ ہے کہ جب تک کوئی قوم اپنے گنا ہوں پر نادم ہو کر استغفار کرتی رہتی ہے وہ اسے ہلاک نہیں کرتا نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ کنہگاروں کو دو چیز پناہ ہیں ایک میرا وجود اور دوسرے استٖغفار، ( مو ضح) منقول ہے کہ مشرکین طواف کے وقت عغرانک غفرانک کہا کرتے تھے یا مقصد یہ ہے کہ ان میں استغفار کرنے والے موجود ہیں یعنی مسلمان اور بعض نے یہ تاویل بھی کی ہے کہ انکے اندر اللہ تعالیٰ کے علم میں ایسے لوگ موجود ہیں جو آئندہ چل کر مسلمان ہو نگے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرینگے اس لیے ان پر عذاب استیصال نہیں آسکتا جیسا کہ انہوں نے دعا کی تھی۔ ( ابن کثیر، کبیر )
Ayah 8:34

وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ١ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:34 in the Quran reader

اور (اے پیمبر) جب تو مکہ سے چلا آیا اب ان میں کون سی بات ہے جو اللہ ان کو عذاب نہ کرے حالانکہ وہ لوگوں کو ادب والی مسجد سے روکتے ہیں8 اور وہ اس ادب والی مسجد کے متولی نہیں ہیں اس مسجد کے متولی وہی ہیں جو پرہیز گار ہوں9 (شرک سے بچتے ہوں) لیکن ان میں اکثر (لوگ) نہیں جانتے

ف 8 اس پر انہوں نے ایسی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے کسی توحید پرست انسان کو اس کا طواف کرنے یا اس میں عبادت کر نیکی اجازت نہیں دیتے اس عذاب سے عذاب استیصال مراد نہیں ہے بلکہ ان کا مسلمانوں ہو ہونے والی جنگوں میں قید اور قتل ہونا مراد ہے۔ چناچہ جنگ بدر میں میں ان کے بڑے بڑے سے سردارمارے گئے اور ان میں بہت سے لوگ قید ہوئے اور پھر حدیبہ کے بعد فتح مکہ کی اجازت دیدی گئی ( ابن کثیر)9 یعنی جو شرک پر ییز کرنے والے ہیں اور وہ آنحضرت ﷺ اور انکے صحابہ ؓ ہیں۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت سے سوال پر آپ ﷺ نے فرمایا ہر پرہیز گار مومن مبری آل ہے، ( ابن کثیر )
Ayah 8:35

وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً١ؕ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 8:35 in the Quran reader

اور کعبے کے پاس ان کی نماز یہی ہے سیٹیاں اور تالیاں بجانا1 تو (اے کافرو) اب اپنے کفر کی سزا میں عذاب (کا مزہ) چکھو2

ف 1 حضرت ابن عمر ؓ اور ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ کہ قریش ننگے اور سیٹیا بجا بجا کر خانہ کعبہ کو طواف کیا گیا ہے۔ ( ابن کثیر)2 عذاب سے مراد وہ جانی اور مالی نقصان جو انہیں بدر کے دن پہنچا، ( ابن کثیر )
Ayah 8:36

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ Open ayah 8:36 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کافر ہیں وہ اپنے مالوں کو اس لیے خرچ کرتے ہیں کہ لوگوں کو اللہ ی راہ سے اسلام قبول کرنے سے روکیں3 یہ لوگ ابھی اور خرچ کریں گے پھر ان کو (یہ مال خود ایک) افسوس ہوگا پھر مغلوب ہوں گے4 اور جو کافر ہیں وہ (قیامت کے دن) دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے

ف 3 کلبی (رح) ، ضحاک (رح) ، اور مقاتل (رح) کہتے ہیں کہ بدر میں قریش کے بارہ سرداروں نے ایک ایک دن اپنے ذمہ لیا تھا کہ ہر روز ایک شخص لشکر کو کھانا کھلائے گا چناچہ ان میں سے کسی ایک کی طرف سے ہر روز دس اونٹ ذبح کیے جاتے تھے، پھر جب شکست ہوگئی تو مکہ بہنچ کر صفوان بن امیہ عکرمہ بن ابی جہل اور بعض دوسرو لوگوں نے جن کے باپ ی ابیٹے بدر میں مارے گئے تھے ابو سفیان وغیرہ سے کہا کہ جو مال تجارت قافلہ لایا ہے اسے محمد ﷺ سے انتقام لینے میں صرف کیا جائے چناچہ اس سب راضی ہوگئے۔ انہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ( ابن کثیر، قر طبی ) 4 پہلے سے خبر دار کردیا کہ آئندہ جب بھی یہ مسلمانوں کے خلاف کوئی کار وائی کریں گے انہیں اسی طرح ناکامی اور حسرت کا سامنا کرنا پڑگا جس طرح اب بدر میں ان کا یہ حشر ہوا ہے چناچہ اس کے بعد جنگ احد میں بھی ایک طرح ناکامی کے ساتھ لو ٹنا پڑا۔ ( کذافی الوحیدی وغیرہ۔
Ayah 8:37

لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 8:37 in the Quran reader

تاکہ اللہ تعالیٰ ناپاک کو پاک سے جدا کرے5 اور ناپاک (چیزوں یا لوگوں) کو ایک کے اوپر ایک رکھ کر ان سب کا ڈھیر لگا کر اس کو جہنم میں جھونک دے یہی لوگ ہیں جو گھاٹے میں رہے

ف 5 یعنی کافر کو مومن سے یا بدبخت کو نیک بخت سے یا شیطان کی راہ میں خرچ کئے ہوئے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کئے ہوئے مال سے ،۔
Ayah 8:38

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:38 in the Quran reader

(اے پیمبر ان کافروں سے کہہ دے اگر یہ آنحضرت کی دشمنی اور شرارت سے اب بھی) باز آئیں تو ان کے اگلے قصور معاف کردئیے جائیں گے6 اور اگر پھر ایسا کریں تو اگلے لوگوں میں اللہ کی عادت گذر چکی ہے7

ف 6 یعنی کفر سے بھی تائب ہو کر اسلام میں داخل ہوجائیں اور اطاعت وانابت اختیار کرلیں تو ان کے اگلے قصو یعنی کفر سمیت تمام گناہ ماسوا حقوق العباد کے معاف کردیئے گے، حدیث میں ہے الا سلما یحبت ماقبلہ والتوبتہ بحب ما قبلھا کہ اسلام لانے سے پہلے کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور سچی تو بہ سے بھی کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ حضرت عمر بن عاص کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل کو اسلام کی طرف مائل کیا تو میں نے نبی ﷺ کی خد مت میں حاضر ہو کر عرض کی ہاتھ پھلائے کے میں بیعت کرو لیکن جب آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ پھیلا تو میں نے عرض کی کہ ایک شرط کرنا چاہتا ہوں ج فرمایا، کیا شرط کرنا چاہتے ہو میں نے عرض کیا یہ کہ میرے لیے آپ ﷺ مغفرت کی دعا فرمائیں کہ میرے پہلے سارے گناہ معاف کردیئے جائیں۔ فرمایا کیا تمہیں نہیں معلوم کہ اسلام لانے سے پہلے کے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور اسی طرح ہجرت کرنے سے بھی پہلے تمام گناہ معاہوجاتے ہیں۔ ( ابن کثیر، مسلم)7 یعنی اگر اسلام کو اکھیڑ نے اور مسلمانوں کی طاقت ختم کرنے کا پروگرام بنائیں تو جس طرح پہلے لوگ تباہ و برباد ہوئے جنہوں نے انبیا کو ستا یا اور ان سے جنگ کی، اسی طرح یہ بھی تباہ وبر باد ہوں گے یا جس طرح جنگ بدر میں حشر ہوا ہے وہی اب ان ہوگا۔ ( ابن کثیر )
Ayah 8:39

وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:39 in the Quran reader

مسلمانو، کافروں سے لڑو اس غرض سے کہ شرک دنیا میں نہ رہے8 اور سارا حکم اللہ ہی کا چلنے لگے9 پھر اگر یہہ لوگ (کفر سے) باز آجائیں اور (مسلمانوں کو نہ ستائیں) تو اللہ ان کے کاموں کو دیکھ رہا ہے10

ف 8 یا مسلمانوں کو ظلم وستم کا نشانہ بنانا ختم ہوجائے۔ لفظ فتنہ کے لغوی معنی تیانے اور آزمانے کے ہیں اس لیے اس سے مراد شرک بھی ہوسکتا ہے اور مسلمانوں کو دین اسلام سے پھیر نے کے لیے ستانا بھی مفسرین نے اس کے یہ دونوں مطلب بیان کئے ہیں۔ ( از ابن کثیر)9 یعنی سب مذاہب پر اسلام کا غلبہ ہوجائے جیسا کہ نزول مسیح ( علیہ السلام) کے وقت ہوگا۔ اس کو نبی ﷺ نے ایک حدیث میں یوں بیان فرمایا مجھے یہ حکم ملا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے جنگ کرتارہوں جب تک وہ لا الہ الا اللہ کے قائل نہیں ہوجاتے چناچہ جب وہ اس کے قائل ہوجائیں گے تو مجھ سے اپنے خون اور مال بچالیں الہ یہ کہ ان پر کوئی اسلام کا قانونی حق عائد ہوتا ہو تو وہ ان سے وصول کیا جائے گا۔ اور ان کا حساب و کتاب ( یعنی جس حد تک دلوں کی حالت کا تعلق ہے) اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہوگا۔ (بخاری ومسلم)10 جیسے کام کریں گے ویسا ہی بد لہ ان کو دیا جائے گا ( از وحیدی )
Ayah 8:40

وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ Open ayah 8:40 in the Quran reader

اور اگر نہ مانیں11 تو (مسلمانو) تم یہ سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارا حمایتی ہے کیا اچھا حمایتی ہے اور کیا اچھا مددگار12

ف 11 یعنی مسلمونوں کو ستانا اور اور لڑنا ترک نہ کریں تو۔۔۔ (از وحیدی) جس کا حمایتی اور مددگار ہو اس کو دنیا کی کوئی طاقت مغلوب نہیں کرسکتی اللہ کا دین ضرور غالب رہے گا۔ ( وحیدی )