8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 8:41

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 8:41 in the Quran reader

اور جان رکھو کہ (لڑائی میں) جو لوٹ تم کو ملے اس میں (چار حصے تو لڑنیوالوں کو ملیں گے اور) پانچواں حصہ اللہ کا ہے اور رسول کا اور ناطے والوں کا اور یتیموں کا اور مسکینوں کا اور مسافروں کا (جن کے پاس را خرچ نہ رہا ہو10 ۔ (جو تقسیم اوپر بیان ہوئی اس پر چلو) اگر تم اللہ پر یقین رکھتے ہو اور اس (مدد) پر جو ہم اپنے بند (حضرت محمد پر) فیصلے کے دن2 اتاری جس دن دونوں فوجیں (اسلام اور کفر کی) گتھ گئی تھیں (ایک دوسرے سے بھڑ گئی تھیں3 اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے

ف 1 وپر کی آیت وقاتلو ھم، الخ۔ میں مقاتلہ کا حکم تھا جس کے نتیجہ میں حصول غنیمت ایک لاذزمی امر تھا اس لیے اس آیت میں مال غنیمت کی تقسیم کے چند مصارف بیان فرما دیئے ( کبیر) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سورة کے آغاز میں جو اس کی تقسیم کا اختیار اللہ و رسول ﷺ کو دیا گیا تھا اسی کی تفصیل ہو ، ( کذافی بعض الحواشی) مطلب یہ ہے کہ کل مال غنیمت کے پانچ حصے کئے جائیں گے۔ چار حصے ان لوگوں کو ملیں گے جنہوں جنگ میں شرکت کی اور خمس پانچواں حصہ ان اغراض کے لیے الگ کرلیا جائے گا جن کا آیت میں ذکر کیا گیا ہے اس خمس کی تقسیم میں سلف کے مختلف اقوال ہیں۔ امام مالک (رح) اور اکثر سلف (رح) کا خیال یہ ہے کہ امام (خلیفہ اسلام) کو اختیار ہے کہ مسلمانوں کو اجتماعی مصلحت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس میں جس طرح چا ہے تصرف کرے اسی پر خلفا اربعہ ؓ کا عمل رہا ہے۔ ( قر طبی) اور سنن ابو داؤد کی حدیث الخمس ھر دود علیکم ( کہ میرے لیے اس غنیمت میں سے پانچو اں حصہ ہے اور یہ پانچواں حصہ بھی تمہاری ہی اجتماعی مصلحت میں صرف کردیا جاتا ہے) سے بھی معلوم ہوتا ہے۔ امام ابن تیمیہ (رح) اور حافظ ابن کثیر (رح) نے اس کو سب سے صحیح قول قرار دیا ہے۔ اس سے آیت سورة حشر اور اس آیت کے درمیان منا فات بھی رفع ہوجاتی ہے ورنہ کہا جائے گا کہ مال غنیمت اور مال فے میں فرق ہے اور سورة حشر میں اموال فے کا بیان ہے یعنی وہ اموال جو دشمن سے صلحا حاصل ہوں ( نیز دیکھئے سورة حشر اور ناتے والوں سے نبی ﷺ کے خاندان کے لوگ مراد ہیں یعنی بنو ہاشم اور ان کے ساتھ بنو المطلب بھی جمہور علمائے سلف کا یہی قول ہے۔ ( ابن کثیر)2 یعنی بدر کے دن جس میں حق اور باطل کا فیصلہ ہوا حق کی فتح ہوئی اور باطل مغلوب ہوا ( ابن کثیر)3 یعنی 17 رمضام 2 ھ بروز جمعہ ( ابن جریر بروایت حضرت علی ؓ یہاں پر جو کچھ ہم نے اپن بندے پر نازل کیا سے مراد وہ آیات ( فرشتے اور نصرت) ہیں جو بدر کے دن ظاہر ہوئیں۔
Ayah 8:42

اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ١ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ١ۙ وَ لٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ۙ۬ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:42 in the Quran reader

جب تم (وادی کے) ورلے سرے پر تھے4 اور وہ (یعنی کافر) پرلے سرے پر تھے ـُپہلے در جو مدینہ سے دور ہے اور قافلہ (جس کے لوٹنے کے لیے تم گئے تھے نیچے کی5 طرف تھا اور اگر (کہیں) پہلے (لڑائی کا) تم میں اور ان میں وعدہ ہوتا تو ضرور کوئی نہ کوئی اپنا وعدہ خلاف کرتا لیکن اس لیے (تم اور وہ اچانک بھڑ گئے) کہ اللہ کو ایک کام کر ڈالنا منظور تھا7 جو ٹھہرا چکا تھا (یعنی جس کا کرنا اس کے علم میں تھا) اور اس لیے کہ جو مرے وہ (پیغمبر کی سچائی کی) دلیل دیکھ کر مرے اور جو جو جیتا رہے وہ بھی دلیل دیکھ کر جیے8 بیشک اللہ سنتا جانتا ہے

ف 4 یعنی وادی بدر کے اس سرے پر جو مدینہ منورہ کی سمت ہے۔ ( کبیر)5 یعنی ساحل بحر کی طرف، یہ منصوب علی الطرفیتہ ہے یا موضع حال میں ہے جیسا کہ جمہور علمان کا خیال ہے جنگ کے اس نقشہ کو بیان کرنے سے مقصد یہ ہے کہ اسو قت بظاہر یہ نظر آرہا تھا کہ دشمن طاقتور ہے اور مسلمان کمزور اور ناتواں ہیں لیکن ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد فرمائی۔ ( روح)6 یعنی تم اپنے مقابلے میں ان کی کثرت تعداد سے ڈرتے اور وہ رسول اللہ صلعم کے رعب اور ہیبت سے ( کذافی الوحیدی)7 مراد اہل اسلام کی فتح اور اہل کفر کی شکست ہے۔ ( ازا بن کثیر)8 یا یہ کہ اتمام حجت ہو اور کسی کے لیے عذر کا ماقع نہ رہے یعنی اس کے بعد اگر کوئی کافر رہے تو دلیل دیکھکر کافر رہے ( اور ہلاکت میں پڑے) اور جو کوئی مسلمان ہو تو وہ بھی دلیل دیکھ کر مسلمان ہو۔ ( وحیدی )
Ayah 8:43

اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًا١ؕ وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 8:43 in the Quran reader

(اے پیغمبر وہ وقت یاد کر) جب اللہ تعالیٰ نے خواب میں تجھ کو کافر تھوڑے سے دکھلائے اور اگر کافروں کو تجھ کو بہت دکھلاتا تو (اے مسلمانو) تم ضرور ہمت ہار دیتے اور لڑنے میں جھگڑتے10 مگر اللہ نے (ان دونوں باتوں سے مسلمانوں کو بچا لیا11 بیشک وہ دلوں بات جانتا ہے

ف 9 نبی ﷺ نے خواب میں دکھا کہ کافروں کی تعداد زیادہ نہیں ہے۔ اسی کی خبر آپ ﷺ نے صحابہ ؓ کو دی جس کا فائدہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں ہمت اور ثابت قدمی پیدا ہوگئی جس کا فائدہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں ہمت اور ثابت قدمی پیدا ہوگئی ( کبیر) آپ ﷺ ﷺ کا خواب اس لحاظ سے سچا تھا کہ بعد کو ان کافروں میں سے بہت سے لوگ مسلمان ہوگئے دوسرے یہ کہ مسلمانوں کے ساتھ فرشتے بھی شامل تھے اس لے ان کے مقابلے میں کافروں کی تعداد کم ہی تھی، (کذافی الوحیدی)10 یعنی کوئی کہتا لڑو اور کوئی کہتا نہ لڑو وہ بہت ہیں اور ہم کم ( وحیدی)11 یعنی نہ ہمت ہار جانے کا موقع دیا اور نہ آپس میں جگڑنے اور اختلاف کرنے کا ( وحیدی )
Ayah 8:44

وَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُكُمْ فِیْۤ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 8:44 in the Quran reader

اور (اے مسلمانو) جب تم ان سے بھڑے تو اللہ نے تمہاری آنکھوں میں ان کو کم دکھلایا اور تم کو ان کی آنکھوں میں کم دکھلایا12 اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کو ایک کام جو (اس کے علم میں) ہوچکا تھا کر ڈالنا (پورا کردینا منظور تھا اور اللہ ہی کی طرف سب کاموں کی انتہا ہے1

ف 12 یہ اس وقت کی کیفیت ہے جب جنگ ہونے والی تھی لیکن وہ شروع نہیں ہوئی تھی۔ کافر مسلمانوں کو تھوڑے نظر آتے حتی کہ بعض نے خیال کیا کہ وہ ستر سے زیادہ نہیں ہیں۔ اس سے آنحضرت ﷺ کو خواب کی بھی تائید ہو رہی تھی اور یہ بھی کہ مسلمانوں کو ہمت بڑھ جائے نیزکفار زیادہ تیاری کی ضرورت نہ سمجھیں مگر جب جنگ شروع ہوگئی تو کافروں کو مسلمانوں کی تعداد زیادہ نظر آنے لگی جیسا کہ سورة آل عمران میں فرمایا، یر ونھم مثلیھم رای العین : ( وہ بظاہر ان کے اپنے سے دو گنا دیکھ رہے تھے، ( اس کا فائدہ یہ ہوا کہ جنگ شروع ہونے پر کافروں کے حوصلے پست ہوگئے اور وہ جلدی ہی شکست کھا کر پیچھے کی طرف بھا گنے لگے اور اور مسلمانوں کے حوصلے بر ستور بڑھتے رہے۔۔13 یعنی وہی اسلام کی فتح اور کفر کی شکست ہو اور آنحضرت ﷺ کی سچائی پر معجزانہ دلیل قائم ہوجائے۔ (کبیر ) 1 یعنی وہی جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا۔ اور پھر جب اصل اختیار ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے تو مسلمانوں کو چاہیے کہ اسی کو اپنا مقصود بنائے۔ جک
Ayah 8:45

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 8:45 in the Quran reader

مسلمانو جب تم (کافروں کی) کسی فوج سے بھڑ جاؤ تو جمے رہو اور اللہ تعالیٰ کو بہت یاد کرو تاکہ تم (اپنی) مراد کو پہنچو2

ف 2 یعنی صرف اسی پر بھروسا کرو اور اسی کو اپنا مقصود بنائ۔
Ayah 8:46

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ Open ayah 8:46 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا کہا مانو اور آپس میں ناحق اختلاف کے لیے جھگڑا نہ کرو (اگر کرو گے) تو بودے پن جاؤ گے اور تمہاری ہوا جاتی رہے گی3 اور (لڑائی کی تکلیفوں پر) صبر کرو کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

ف 2 یعنی صرف اس پر بھروسہ کرو اسی سے مددطلب کرو کیونکہ فتح ونصرت کا انحصار ظاہر اسباب پر نہیں بلکہ دل کی استقامت اللہ کی یاد اور اس کی حکم بر داری پر ہے۔ اسی طالوت کے ساتھیوں نے دشمن سے مڈبھیڑ کے وقت یہ دعا کی تھی، ربنا افرغ علینا صبرا وثبت قادامنا وانصر نا علی القوم الکافرین اے ہمارے رب ہمیں صبر کی توفیق دے ہمارے قدم جما دے اور ان کافروں پر ہمیں فتح نصیب کر۔ (بقرہ :250) حضرت سہیل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو وقت دعارد نہیں ہوگی ایک اذان کے وقت دوسرے دشمن سے لڑائی کے وقت ( الحاکم بسند) صحیح) یہ اں ثبات سے مقصود انہتایہ بےجگری سے لڑ نا ہے۔ لہذا یہ آیت الا متح فالقتال او متحیزا الی فئتہ کے خلاف نہیں ہے بلکہ بعض اوقات تحرف اور تحیز ہی ظبات کے حصول کا ماجب بن جاتا ہے ، ( کبیر ) 3 ہوجاتی ہے گی یعنی اقبال کے بعد ادبار نظر اوے گا۔ ( مو ضح) نیز یہ کہ تمہارے درمیان پھوٹ دیکھ کر دشمنوں پر سے تمہارا رعب اٹھ جائے گا اور وہ تم غالب پانے کے لیے اپنے اند جرات محسوس کرنے لگیں گے، جا لریح کنا یتد عن الدولتہ و النصرۃ کما فسرھا مجاھدہ ( روح) یہ صحابہ ؓ کرام کے اتحاد اور صبر کا نتیجہ تھا کہ تیس سال کے اند ر ہی مسلمانوں کی سب پر غلبہ حاصل ہوگیا اور مملکت اسلامی کے حدود مشرق و مغرب میں حیرت انگیز طریقے سے پھیل گئے۔ ( ابن کثیر )
Ayah 8:47

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 8:47 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی طرح مت ہو جو اپنے گھروں سے اتراتے اور لوگوں کو دکھلاتے اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتے نکلے تاکہ لوگ ان کے سلام کو قبول نہ کریں4 اور اللہ تعالیٰ کا علم ان کے کاموں کو گھیرے ہوئے ہے

ف 4 مسلمانوں کے کو لڑائی میں ثبات اور کثرت ذکر الہیٰ کا حکم دین کے بعد ابن کفار کے تشبہ سے منع فرمایا ہے۔ ( ابن کثیر) ان سے مراد ہیں ابو جہل اور اس کے ساتھی جو باجے گاجوں اور گانے والی لو نڈیوں سمیت ابو سفیان کے تجاریت قافلہ کر بچانے مکہ سے نکلے، جب حجفہ کے مقام پر پہنچے تو انہیں اگرچہ معلوم ہوگیا کہ قافلہ تو مسلمانوں کو زد سے بچ کر نکل آیا ہے مگر وہ کہنے لگے کہ ہم تو اس وقت تک مکہ واپس نہ جائیں گے جب تک مقام بدر پہنچ کر خوب شرابیں نہ پی لیں اور اونٹ ذبح کر کے گانا بجانا نہ کرلیں اور ہمارے نکلنے کی سارے عرب میں دھوم نہ مچ جائے۔ علمائے تفسیر لکھتے ہیں کہ وہ بدر میں وارد ہوئے تو شراب کے بجائے موت کے پیالے پئے اور گانے والیوں کی بجائے نوحہ گر عورتوں نے حلقہ بدوش ماتم کیا یا للہ العلم غیب، ( کبیر) شاہ صاحب لکھتے ہیں جہ اس عبادت ہے، عبادت پر اترا دے یا دکھانے کو کرے تو قبول نہیں ( موضح) جملہ ویصدون عن سبیل اللہ کا عطف بطر پر ہے علی قدیر نہ حال بتا ویل اسم الفا عل۔ ( روح )
Ayah 8:48

وَ اِذْ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیْ جَارٌ لَّكُمْ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَیْهِ وَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكُمْ اِنِّیْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 8:48 in the Quran reader

اور (ائے پیغمبر وہ وقت یاد کر) جب شیطان ان کافروں کے کاموں کو ان کی نظر میں بھلا دکھلانے لگا اور کہنے لگا آج کے دن تو لوگوں میں ایسا کوئی نہیں جو تم پر غالب آئے اور میں تمہاری کمک پر ہوں5 جب دونوں فوجیں مسلمانوں کی اور قریش کے کافروں کی آمنے سامنے ہوئیں تو الٹے پاؤں چل دیا اور کہنے لگا میں تم سے الگ ہوں6 میں دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھتے7 میں اللہ تعالیٰ سے درتا ہوں8 اور اللہ تعالیٰ کا عذاب سخت ہے

ف 5 یعنی ان کے ذہنوں یہ غرور بھر دیا، فالقول مجاز عن الو سو ستہ ابن جریر (رح) وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ قریش اور بنو کنانہ میں سخت دشمنی تھی جب قریش مسلمانوں سے مقابلہ کے لیے نکلے تو انہیں ڈرہوا کہ کہیں پیچھے سے بنو کنا ہم پر حملہ نہ کردیں اس وقت شیطان بنو کنانہ کے ایک سردار سراقہ بن مالک کی صورت میں ان کے ساتھ شریک ہوگیا اور اپنے ساتھ ایک جھنڈا اور شیطا نوں کا ایک لشکر بھی لے آیا۔ اسی وقت قریش سے اس نے وہ بات کہی جو اس آیت میں مذکور ہے ( ابن کثیر) واضح رہے کہ شیطان کا انسانی شکل میں آنان مستبعدا نہیں فالقول علی مضاۃ ا حقیقی۔ 7 یعنی سب کچھ بھول گیا اور بھاگ نکلا۔7 یعنی مجھے وہ فرشتے نظر آنے لگے ہیں جو مسلمانوں کی مدد کے لیے آئے ہیں اور تمہیں نظر نہیں آرہے،8 صرف اپنا پیچھا چھڑانے کے لیے اس نے یہ بہانہ بنایا ورنہ اس مردود کو اللہ تعالیٰ کا ڈر کہاں تھا َ ؟ ( از وحیدی) حدیث میں ہے کہ عرنہ کے دن جب شیطان اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نزول اور بڑے بڑے گناہوں کی اس کی طرف سے معافی کو دیکھتا ہے تو اس کی ذات کی انتہا نہیں رہتی لیکن بدر کے دن جب اس نے حضرت جبریل ( علیہ السلام) کو دیکھا کہ وہ فرشتوں کی صفو کی تر تیب دے رہے ہیں تو عرفہ کے دن سے بھی زیادہ ذلیل نظر آنے لگا۔ ( مو طہ )
Ayah 8:49

اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:49 in the Quran reader

(یہ وہ وقت تھا) جب منافق اور جن کے دل میں (شرک کی) بیماری تھی کہنے لگے ان مسلمانوں کو ان کے دین نے دھوکا دیا9 اور (اللہ ان کا جواب یوں دیتا ہے) جو کوئی اللہ پر بھروسا کرے تو اللہ تعالیٰ تو زبردست حکمت والا ہے10

ف 9 یعنی ان کے دینی جو ش نے ان کو بالکل دیوانہ بنادیا ہے۔ دیکھ رہے ہیں کہ ان کی تھوڑی سی تعداد ہے کوئی سروسامان بھی نہیں ہے حتی ٰ کہ لڑنے کے لیے ایک کے علاوہ دوسرا گھوڑا بھی نہیں ہے مگر چلے میں قریش کے مسلح اور عظیم الشان لشکر سے مقا بلہ کر کے پاگل ہی تو ہیں جو اپنی خو دعوت دے رہے ہیں ( کبیر ابن کثیر) صاحب (رح) فرماتے ہیں۔ مسلمانوں کی دلیری دیکھ کر منافق طعن کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ غرور نہیں توکل نہیں ہے۔ ( موضح)10 اور زبر دست پر جس کا بھر وسا ہو اس کا دل یقینا مظبوط ہوگا اس لیے مسلمان قریش کے عظیم الشان لشکر کے مقابلہ میں خوش اور آمادہ ہیں۔ ج ( کذافی الو حیدی)
Ayah 8:50

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ یَتَوَفَّى الَّذِیْنَ كَفَرُوا١ۙ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ١ۚ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 8:50 in the Quran reader

اور (اے یمبر) کاش تو (وہ حال) دیکھتا جب فرشتے (بدر کے دن) ان کافروں کی جان نکال رہے تھے سامنے اور پیچھے (دونوں طرف) سے ان کو مار رہے تھے1 اور (کہتے جاتے تھے) جلانے والے عذاب کا مزہ چکھو

ف 1 کفار کے احوال بیان کرنے کے بعد اب ان کی موت کی حالت بیان کی ہے ، ( کبیر) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ بدر میں کافر جب مسلمانوں پر حملہ آور ہوتے تو فرشتے ان کے منہ پر ضرب لگاتے اور جب وہ پیٹھ موڑ کر بھاگتے تو ان کی پیٹھ پر ضرب لگاتے۔ اس صورت میں الذین کفروا سے مراد وہ کفارہوں گے جو بدر کے دن قتل ہوئے۔ ( ابن کثیر، الروح ج۔ ) دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے ( اے پیغمبر کاش تو کافروں کا حال اس وقت دیکھے جب فرشتے ان کی جان نکال رہے اور انہیں آگے پیچھے چار چوٹ کی مار دے رہے ہوتے ہیں اور ( کیے جاتے ہیں) جلانے والے عذاب کا مزہ چکھو اس صورت میں یہ آیت بدر کے مقتول کافروں کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ تمام کافروں کے بارے میں عام ہوگی، جیسا کہ قرآن کی بعض دوسری آیات میں یہی مضمون عمومی انداز میں بیان ہوا ہے، دیکھئے سورة انعام آیت 93) اور احادیث میں کافر کی جان کنی کی حالت کا بہت ہی ہولناک منظر پیش کیا گیا ہے۔ ( مختصرا ازابن کثیر )
Ayah 8:51

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۙ Open ayah 8:51 in the Quran reader

(اے کافرو) یہ تمہارے ان کاموں کا بدلہ ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں آگے بھیجے اور اس وجہ سے کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا2

ف 2 یعنی یہ عذاب عین عدل ہے کیونکہ اس نے تمہارے سمجھانے کے لیے اپنے رسول ( علیہ السلام) بھیجے کتابیں نازل فرمائیں مگر تم نے ایک نہ مانی یہی مضمون ایک حدیث میں بھی بیان ہوا ہے۔ (آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ میرے بندوں ! میں نے طلم اپنے اوپر حرام قرار دے لیا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام ٹھہر ایا ہے لہذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ میرے بندو ! یہ تمہارے اپنے اعمال ہیں جن کو میں شمار کرتا رہتا ہوں لہذا جو نعمت پائے اسے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور جو سزاپائے اسے اپنے آپ ہی کو ملامت کرنی چاہیے۔ ( صحیح مسلم بروایت ابو ذر ؓ
Ayahs 8:52–53

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:52 in the Quran reader

(قریش کے کافروں کی وہی گت ہوئی) جیسے فرعون کے لوگوں اور اس سے پہلے لوگوں گت ہوئی انہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کے بدل ان کو پکڑ لیا بیشک اللہ تعالیٰ زور آور ہے سخت عذاب والا

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:53 in the Quran reader

یہ (جو عذاب ان لوگوں کو دیا گیا تو) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جو نعمت کسی قوم کو دیتا ہے (عزت یا حکومت یا دولت) تو پھر اس نہیں بدلتا جب تک وہی قوم اپنے دل کی حالت نہیں بدلتی3 اور اس لیے کہ اللہ (سب کچھ) سنتا جانتا ہے4 ۔

ف 3 یعنی اعتقاد اور نیت جب تک بہ بد لے تو اللہ تعالیٰ کی نعمت چھینی نہیں جاتی۔ ( مو ضح) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اپنی عطا کردہ نعمت سے بایں صوت محروم کرتا ہے جب وہ اپنے عقائد و اعمال اور اخلاق کو بد ل کر اپنے آپ کو اس نعمت کا قطع غیر مستحق ثابت کردیتی ہے۔ مثلا ایمان کی بجائے کفر شکر کی بجائے ناشکری اور نیکی کی بجائے گناہ کرنے لگتی ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ بھی اس سے اپنی عطا کردہ نعمت واپس لے لیتا ہے اور اسے مختلف قسم کے عذابوں میں مبتلا کردیتا ہے۔ فرعون کی قوم اور اسی طرح قریش کو اللہ تعالیٰ نے بڑی شان و شوکت اور خو شحالی سے نوا زا تھا لیکن ان سے اپنی نعمتیں چھینن لیں۔ اس زمانے میں مسلمان جو ساری دنیا میں ذلت، غلامی اور دوسروں کی حاشیر برداری کی زندی گی بسر کر ہے ہیں وہ بھی ان کی اپنی بد اعمالیوں کی سزا ہے ورنہ یہ عجیب معلوم ہوتا ہے کہ ایک قوم کتاب اللہ اور سنت رسول ( علیہ السلام) پر ایمان رکھتی ہو پھر بھی دنیا میں ذلیل و خوار رہے ( از وحیدی)4 اس کے بندے جیسا طرز عمل اختیار کرتے ہیں ویسا ہی وہ انہیں بدلہ دیتا ہے ( وحیدی بتغیر)
Ayah 8:54

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ كُلٌّ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 8:54 in the Quran reader

(اس قوم کی گت ایسی ہی ہوتی ہے) جیسے فرعون والوں کی گت اور ان سے پہلے لوگوں کی انہوں نے اپنے مالک کی آیتوں کو جھٹلایا پھر ہم نے ان کو ان کے گناہوں کی سزا میں ہلاک کر ڈالا اور فرعون والوں کو ڈبودیا اور یہ سب کے سب گنہگار تھے5

ف 5 اگر گنہگار نہ ہوتے اور صحیح طرز عمل اختیار کر ن تو اللہ تعالیٰ کو ان سے کوئی ذاتی بیر نہ تھا کہ انہیں بلاوجہ ہلاک یا غر کردیتا۔
Ayahs 8:55–56

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ Open ayah 8:55 in the Quran reader

تحقیقی بدتر چلنے والوں کے بیچ زمین کے نزدیک اللہ وہ لوگ ہیں کہ کافر ہوئے پس وہ نہیں ایمان لاتے

اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 8:56 in the Quran reader

(یہ کافر وہ ہیں) جن سے تو نے عہد کیا پھر ہر بار وہ اپنا عہد توڑ ڈالتے ہیں اور (اللہ تعالیٰ سے) نہیں ڈرتے6

ف 6 اوپر کی آیت میں جب تمام کفار کا یہ وصف بیان فرمایا کہ وہ ظالم ہیں تو اب یہاں بعض کفار کی خصوصی شرارتون کا ذکر فرمایا۔ ( کبیر) وھم لا یتقون، کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہے کہ وہ بد عہدی کے انجام سے نہیں ڈرتے، ان سے مراد خاص طو پر مدینہ منورہ کے یہودی ہیں جن سے مدینہ منورہ پہنچ کر نبی ﷺ نے حسن جوار اور باہمی تعاون کا معاہدہ کیا تھا لیکن اسلام کی بڑھتی ہوئی قوت انہیں ایک نظر نہ بھائی تھی چناچہ کبھی وہ اوس خزرج کے کے درمیان جاہلی عصبیت ابھار کر ان کو آپس میں لڑانے کی کوشش کرتے اور کبھی اسلام کے دشمنوں کی ہتھیاروں سے مدد کر کے معاہدہ باربار خلاف ورزی کرتے اور جب ان سے کہا جاتا تو کہہ دیتے کہ ہمیں یاد نہیں رہا تھا لیکن جوں ہی موقع ملتا پھر کوئی ایسی حرکت کر گزرتے جو معاہدہ کے خلاف ہوتی حتی کہ اس معاہدہ کے ہوتے ہوئے ان کا سردار کعب بن اشرف ( جو بدر میں قریش کی شکست سے انتہائی سیخ پا ہوا تھا) مکہ پہنچا اور وہاں مقتولین کفار بدر کے ہیجان انگیز مرثیے پڑھ کر قریش کے نو جوانوں کو مسلمانوں انتقام لینے کا جوش دلا تا رہا۔ ایسے ہی لوگ ہیں جن کو یہاں سر الدوآبہ ( بد ترین جانور) فرمایا ہے۔ ( از ابن کثیر )
Ayah 8:57

فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 8:57 in the Quran reader

پھر (اے پیغمبر) اگر لڑائی میں تو ان پر قابو پائے تو ان کو سخت سزا دے کر ان کافروں پر رعب ڈال جو ان کے پیچھے ہیں تاکہ ان کو عبرت ہو7

ف 7 یعنی انہیں بد عہدی کی ایسی سخت سزا دو کہ ان کے پیچھے جو دوسرے ایسے کفار موجود ہیں اور جن سے تمہارا معاہدہ ہے وہ بھی مر عوب جائیں اور انہیں ایسی عبرت حاصل ہو کہ معاہدہ کی خلاف ورزی کا نام تک نہ لیں۔ ( از وحیدی)
Ayah 8:58

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ۠ Open ayah 8:58 in the Quran reader

اور اگر (اے پیمبر) تجھ کو کسی قوم کی طرف سے دغا کا اندیشہ ہو (جس سے تو نے عہد کیا ہے) تو سیدھے طور سے اس قوم کو ان کا عہد واپس کرو) کیونکہ اللہ دغا بازوں کو پسند نہیں کرتا1

ف 1 مطلب یہ ہے کہ ان پر حملہ کرنا چاہو تو انہیں پہلے سے مطلع کردو کہ اب تمہارے اور ہمارے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہے کیونکہ ہمیں اند یشہ ہے کہ تم معاہدہ کی خلاف ورزی کرنے والے ہو لیکن اگر معاہدہ ختم کئے بغیر ان پر چڑھ دوڑ وگے تو یہ دغا معاہدہ کی خلاف ورزی ہوگی اور اللہ تعالیٰ دغا کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ( وحیدی) چناچہ آنحضرت ﷺ کے خلفا کی یہی سیرت رہی کہ نقص عہد کی خطرہ کی صورت میں معاہدہ کے خاتمے کا اعلان فرمادیتے اور پھر حملہ آور ہوتے۔ ( ازابن کثیر، قر طبی) مگر جب کسی قوم نے بد عہد ی کردی ہو تو اس پر بیخبر ی میں حملہ کرنا بھی جائز ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل مکہ کے ساتھ کیا ( کبیر )
Ayah 8:59

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا١ؕ اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ Open ayah 8:59 in the Quran reader

اور کافر لوگ ہرگز یہ نہ سمجھ کہ وہ (ہمارے) قابو سے نکل گئے کہ وہ ہم کو ہرگز تھکا نہیں سکتے2

ف 2 کبھی ہمارے قابو سے باہر نہیں جاسکتے۔ ہم جب چاہیے ان کی گردن مروڑ دیں اور جس قسم کا عذاب چاہیں ان پر نازل کردیں، ( کذافی )
Ayah 8:60

وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ١ۚ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 8:60 in the Quran reader

اور (اے مسلمانو) تم کافروں کے (مقابلہ کے لیے) جہاں تک تم سے ہوسکے اپنا زور تیار رکھو اور گھوڑے باندھے رکھو3 اس سامان سے اللہ تعالیٰ کے دشمن اور تمہارے دشمن پر دھاک رہے گی اور ان کے سوا دوسروں پر بھی جن کو تم نہیں جانتے4 اللہ تعالیٰ ان کو جانتا ہے اور تم جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کروگے تھوڑا ہو یا بہت) تم کو پورا ملے گا اور تمہار حق مارا نہ جائے گا5

ف 3 یعن تمہیں دشمن کے مقابلے کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے اور ضرورت اور زمانہ کے حالات کے مطابق جس قدر اسلحہ حرب اور مسلح افواج تم بہم پہنچا سکتے وہ بہم پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ (کذافی الکبیر و ابن کبیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں کہ ترھبو ن بہ فرمایا تاکہ سمجھ لیں کہ فتح کا نحصار صرف اسباب پر نہیں اس کا دارومدار اللہ تعالیٰ کی نصرت وامداد پر ہے ( موضح)4 جن کے دلوں کا حال تم نہیں جانتے لیکن وہ ہر آن موقع کی تلاش میں ہیں کہ کبھی تمہیں کمزور پائیں تو حملہ کردیں یا تمہارے کھلم دشمنوں سے مل جائی ایسے لوگ نبی ﷺ کے زمانے میں یہودی اور منا فق تھے۔5 یعنی تمہیں اس کا پورا پورا بدلہ ملے گا اور معمولی سے معمولی خرچ کو بھی رائیگاں نہ جانے دیا جائے گا ارویہ جو آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک نیکی دس گنے سے ساتھ سو گنے تک بلکہ اس سے بھی زیادہ بڑھتی ہے تو اس کا مدار حسن نیت پر ہے۔
Ayah 8:61

وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 8:61 in the Quran reader

اور اگر کافر صلح کی طرف جھکیں تو تو بھی صلح کی طرف جھک جا6 اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر بیشک وہ سنتا جانتا ہے7

ف 6 کیونکہ اسلام میں طاقت کے استعمال کا مقصد زمین میں خون ریزی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے کلمے کو بلند اور کفر و شرک کے فتنہ کا قلع قمع کرنا ہے، اگر یہ مقصد صلح کی صورت میں حاصل ہو تو ہو تو قبول کرلینا چاہیے چناچہ آنحضرت ﷺ نے قریش سے معاہدہ کر ہی لیا تھا لہذا یہ آیت آیتہ قتال سے منسوخ نہیں ہے۔ ( ابن کثیر)7 یعنی اگر دشمن دل میں کھوٹ رکھے گا تو اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے اور ہو تمہارے نیتوں کو بھی خوب جانتا ہے اس میں نقض عہد پر سر زنش ہے۔ ( کبیر )
Ayah 8:62

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 8:62 in the Quran reader

اور اگر وہ کافر (ظاہر میں صلح کر کے) تجھ سے دغا کرنا چاہیں تو (ان سے مت ڈر کیونکہ) اللہ تجھ کو بس ہے8 اسی نے اپنی مدد سے اور مسلمانوں سے تجھ کو زور دیا9

ف 8 وہ ان کی تمام مکاریوں اور چالباز یوں کو اپنی قدرت کاملہ سے بیکار کر دے گا۔ 9 ہر قسم کی تائید اللہ ہی کی طرف سے حاصل ہوتی ہے۔ کبھی اسباب ظاہری کے بغیر جس کی طرف حسبک اللہ میں اشارہ ہے اور کبھی اسباب ظاہری ہے جس کی طرف وبالمومنین سے اشارہ فرمایا ہے۔ ( کبیر) مطلب یہ ہے کہ ظاہری باطنی دونوں قسم کے اسباب سے آپ ﷺ کو قوت بخشی ،
Ayah 8:63

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:63 in the Quran reader

اور اسی نے مسلمانوں کے دلوں کو ملا دیا اگر تو (اے پیمبر) ساری زمین کا مال خرچ کرتا تو ان کے دل نہ ملا سکتا مگر اللہ تعالیٰ ہی نے ان کا دل ملا دیا بیشک وہ زبردست ہے حکمت والاف 10 ۔

ف 10 یہ اس بھائی چارے اور الفت کی طرف اشارہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں میں پیدا کر کے انہیں ایک مظبوط جب تھے کی شکل دے دی تھی حالانکہ عرب مختلف قبائل میں منقسم تھے، اور آئے دن معمولی معمولی باتوں پر ان کے درمیان ایسی ایسی جنگیں چھڑتی رہئی تھیں جن کا سلسلہ بر سوں بلکہ بعض اوقات صدیوں تک ختم نہ ہوتا تھا۔ ایسی ایک قوم کو ملاکر شیر و شکر کردینا اور چند بر سوں میں تمام جاہلی عصبیتوں کو مٹاکر دینا یقینا انسانی طاقت سے باہر اور دوسرا سرا للہ تعالیٰ ہی کا فضل و کرم تھا۔ اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے خاص آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے یہ احسان جتلایا کہ جب ہماری تائید و نصرت نے آپ ﷺ کو اس طرح تقویت پہنچائی تو آئندہ بھی آپ ﷺ کو ہم پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ ہم آپ ﷺ کو بےیارو مدد گا نہیں چھوڑیں گے۔ احادیث میں باہمی الفت و محبت کی بہت فضیلت آئی ہے۔ ( از ابن کثیر )
Ayah 8:64

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:64 in the Quran reader

اے پیمبر اللہ تعالیٰ کافی ہے تجھ کو ان تمام مسلمانوں سمیت جنہوں نے تیری پیروی کی11

ف 11 ور فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو کا فی ہے، اس سے شاید کوئی خیال کرتا کہ اللہ تعالیٰ کی تائید صرف آنحضرت ﷺ کے ساتھ خاص ہے۔ اس لیے یہاں دوبارہ اس حملہ کو لاکر ساتھ مومنین کا بھی اضافہ کردیا کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کی پیروری کرنے والے تمام مومنوں کو کافی ہے۔ ( کذافی الوحیدی)
Ayah 8:65

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ١ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 8:65 in the Quran reader

اے پیمبر مسلمانوں کو کافروں سے لڑنے کا شوق دلا اگر تم (مسلمانوں) میں سے بیس صبر کرنے والے شخص ہوں تو دو سو کافروں پر غالب ہونا چاہیے1 اور اگر تم (مسلمانوں) میں سے سو شخص ہوں تو ایک ہزار (کافروں) پر غالب ہونا چاہیے اس لیے کہ کافر ایسے لوگ ہیں جن کو (دین کی) سمجھ نہیں2

ف 1 یعنی ایک مسلمان دس کافروں پر بھاری ہونا چاہیے اور اپنے سے دس گنا تعداد کے مقابلہ میں پیٹھ دے کر بھاگنا جائز نہیں ہے۔ پہلے یہی حکم نازل ہوا تھا پھر وہ حکم نازل ہوا جس کا ذکر اگلی آیت میں آرہا ہے اور پہلے حکم میں تخفیف کردی گئی۔ ابن کثیر)2 یعنی بےمقصد لڑتے ہیں اور ان میں کوئی جذبہ اور اخلاقی قوت نہیں ہوتی جو انہیں میدان جنگ میں ڈٹے رہنے پر مجبور کرے۔ لہذا یہ ان سرفروش مجاہدین کا کیسے مقابلہ کرسکتے ہیں جن کی بڑی تمنا شہادت کی فضیلت حاصل کر ناہو، اسی لیے حضرت عمر ؓ نے ایران کے کافروں کو لکھا تھا کہ میں تم سے لڑنے کے لیے ایسے لوگوں کو بھیج رہا ہوں جنہیں اللہ کی راہ میں شہید ہونے میں اتناہی مزہ آتا ہے۔ جتنا تمہیں شراب پینے میں، ( کذافی الوحیدی)
Ayah 8:66

اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا١ؕ فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 8:66 in the Quran reader

اب اللہ تعالیٰ نے تم کو ہلکا کردیا اور تمہاری کمزوری (جو اس کے علم میں تھی) کھل گئی تو اگر تم میں سے سو شخص صبر کرنے والے ہوں وہ دو سو (کافروں پر غالب ہوں اور اگر تم میں سے ایک ہزار شخص ہوں تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے دو ہزا (کافروں پر) غالب ہوں اور اللہ تعالیٰ (اپنی مدد سے) صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے3

ف 3 یعنی انہیں اللہ پر ایمان اور اس کے ثواب پر یقین نہیں ہے اور جس کو یقین ہے اس کو مت کا کیا ڈر ؟۔ صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب گزشتہ آیت نازل ہوئی تو مسلمانوں کی اپنے سے دس گنا کفار کے مقابلے میں ڈٹے رہنا کا حکم دشوار معلوم ہوا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں اپنے سے دو چند کے مقابلے میں ثابت قدم رہنا ضروری اور بھاگنا فرار دیا گیا ہے۔ اب یہ حکم قیامت تک کے لیے قائم ہے۔ اگر کفار دو چند سے زیادہ ہوں تو بھاگنا گناہ نہیں لیکن لڑنا اور جمے رہنا بہر حال افضل ہے جیسا کہ عہد نبوی اور خلفائے راشدین ؓ کے عہد کے بعض واقعات سے معلوم ہوتا ہے، ( از ابن کثیر و قرطبی )
Ayah 8:67

مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا١ۖۗ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:67 in the Quran reader

پیغمبر کو نہیں چاہیے کہ اس کے پاس قیدی رہیں جب تک ملک میں (کافروں کو) خوب قتل نہ کرے4 تم دنیا کا سامان چاہتے ہو5 اور اللہ تعالیٰ (تم کو) آخرت (کا ثواب دینا) چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ زبردست ہے، حکم والا

ف 4 اور ان کا زور نہ توڑدے البتہ جب ان کا زرو ٹوٹ جائے تو نبی ﷺ کو اختیار ہے کہ ان کو قید کرنے بعد چا ہے فد یہ لے کر چھوڑ دے چا ہے بطور احسان رہا کر دے جیسا کہ آیت سورة محمد ﷺ حتی اذا اتخنتمو ھم فشد دوا ا ثاق فاما منا بعد واما فدآ : میں اس کی اجازت دی گئی ہے۔ ( از وحیدی)5 اس لیے تم بدر میں گرفتا ہونے والے قیدیوں کو قتل کرنے کی بجائے انہیں فدیہ لے کر رہا کرنا پسند کرتے ہو۔
Ayah 8:68

لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 8:68 in the Quran reader

اگر اللہ تعالیٰ آگے سے ایک نہ لکھ چکا ہوتا تو تم نے جو (مال قیدیوں سے) لیا اس (قصور) میں تم پر بڑا عذاب اترتا6

ف 6 ان دو آیتوں میں جو جنگ بدر کے بعد نازل ہوئیں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ سمیت تمام مسلمانوں پر عتاب فرمایا کہ ان سے ایک ایسی غلطی سرزد ہوگئی جو منا سب نہ تھی متعدد روایات میں ہے کہ جب جنگ بدر کے قیدی آنحضرت ﷺ کے پاس لائے گئے تو ّآپ ﷺ نے ان کے بارے میں میں مشہورہ طلب فرمایا حضرت ابوبکر ؓ نے رائے دی کہ انہیں قتل کردیا جائے۔ اکثر مسلمانوں کی رائے حضرت ابوبکر ؓ سے متفق تھی کچھ انسانی اور رشتہ داری کی محبت کی وجہ سے اور کچھ مالی فائدہ پیش تطر نبی ﷺ نے حضرت ابوبکر ﷺ کی رائے کو پسند فرمایا اور فدیہ فرمالیا ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب قیدی لائے تو حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ تمہیں اختیار ہے فد یہ لے کر چھوڑ دو یا قتل کرو مگر فدیہ لینے کی صورت میں آئندہ مسلمانوں کی ستر آدمی شہید ہوں گے چناچہ صحابہ ؓ کرام نے فدیہ قبول کرلیا ک۔ یہ صورت چونکہ بہتری نہ تھی اسلئے ان آیتوں میں عتاب آمیز لہجہ میں اس پر کراہت کا اظہار فرمایا، یہاں کتاب من اللہ سبق سے رمراد کئی باتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ اگر اس امت کے لیے غنیمت حلال نہ کردی گئی ہوتی جیسا کہ حدیث : واحلت لی الغنائم سے معلوم ہو تو ہے، ابن جریر نے اسی کو پسند فرمایا۔ دوم یہ کہ بدر میں جو صحابہ ؓ شریک ہوئے ہو مغفور نہ ہوتے وغیرہ ( ابن کثیر، فتح القدیر) شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ وہ بات یہ لکھ چکا کہ ان قیدیوں میں بہت سو کی قسمت میں مسلمان ہونا لکھا تھا۔ ( موضح) الغرض اگر یہ بات پہلے سے نہ لکھی ہوتی تو عذاب عظیم نازل ہوتا۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عذاب کا آنحضرت ﷺ نے مشاہدہ فرمایا اور اگر یہ کونے لگتے۔ (ابن کثیر )
Ayah 8:69

فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 8:69 in the Quran reader

(جو ہوا سو ہوا) اب جو تم نے کمایا (لوٹ کا مال یا فدیہ کا مال) اس کو کھاؤ وہ حلال اور پاکیزہ ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو اللہ بخشنے والا مہربان ہے7

ف 7 مروی ہے کہ ان دو آیتوں کے نزول کے بعد صحابہ ؓ نے فدیہ کے مال سے اپنے ہاتھ کھینچ لئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اس میں پچھلی غلطی معافی دیتے ہوئے فدیہ کا مال کو کھانا جائز قرار دیا گیا۔ ( کبیر )
Ayah 8:70

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤى١ۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 8:70 in the Quran reader

اے پیغمبر جو (بدر کے) قیدی تمہارے ہاتھ میں ہیں (یعنی مسلمانوں کے قبضے میں) ان سے کہہ دے اگر اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں بھلائی دیکھے گا (سچائی اور ایمان کا ارادہ) تو جو (فدیہ) تم سے لیا گیا ہے اس سے بہتر تم کو (دنیا میں) دے گا اور (آخرت میں) تم کو بخش دے گا8 اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے1

ف 8 جب بدر کے قیدی لائے گئے تو بعض نے اسلام کا اظہار کیا اور کہا کہ میں نے اکراہ وجبر کے تحت جنگ میں شرکت کی تھی ان میں حضرت عباس ؓ بھی تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ان کو فدیہ کی معافی نہ دی گئی، چناچہ حضرت عباس کہا کرتے تھے کہ مجھ سے فدیہ میں بیس اوقیہ سونا لیا گیا اس کے بدلے مجھ اللہ تعالیٰ نے مجھے دنیا میں یہ دیا کہ میرے پاس بیس ایسے غلام ہیں جن میں سے اہر ایک سوداگری کرتا ہے علاوہ ازیں، مجھے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی بھی امید ہے۔ ( حاکم، بیہقی) 11 بدر کے قید یہوں میں آنحضرت ﷺ کے چچا عباس اور آپ ﷺ کے داماد ابو العاص اور آپ ﷺ کے چچازاد بھائی نوفل اور عقیل بھی شامل تھے، حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ ابو لعاض ؓ کو چھڑانے کے لیے آپ ﷺ کی صاحبزادی زینب نے مکہ سے ایک ہار بھیجا جو انہیں حضرت خدیجہ نے دیا تھا۔ اسے دیکھ کر آنحضرت ﷺ پر رقت طاری ہوگئی اور آپ ﷺ نے صحابہ ؓ سے فرمایا کہ اگر تم راضی ہو تو میں زینب ؓ کے قیدی کو یہ ہار لیے بغیر رہاکر دوں۔ تمام اصحاب ؓ اسے بخوشی منظور کرلیا پھر آپ ﷺ نے اپنے چچا عباس ؓ سے فدیہ طلب فرمایا تو وہ کہنے لگے میرے پاس تو کچھ نہیں ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ آپ کا وہ مال کہاں ہے جسے آپ نے اور آپ کی بیوی ام الفضل نے نل کر زمین میں دفن کیا ہے۔ یہ سنتے ہی حضرت عباس بولے بیشک آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اس لیے کہ اس سونے کا میرے اور ام فضل کے سوا کسی کو علم نہیں ہے پھر حضرت عباس ؓ نے اپنا اور اپنے دو بھتیجوں کا اور اپنے حلیف عتبہ بن عمروکا فدیہ ادا کیا۔ ( ابن کثیر )
Ayah 8:71

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:71 in the Quran reader

اور اگر یہ قیدی تیرے ساتھ دغا کرنا چاہیں گے2 تو یہ تو پہلے ہی اللہ سے دغا کرچکے ہیں2 (جب تو اس کے رسول سے لڑنے کو آئے تھے) پھر اللہ نے ان کو گھٹوا دیا (یا ان کو تیرے ہاتھ میں پکڑا دیا اور للہ ان کے دلوں کی بات جانتا ہے حکمت والا

ف 2 اور یہ سے بچنے کے لیے جھوٹ موٹ کہہ دیں کہ م اسلام قبول کرتے ہیں یا مسلمانوں سے جنگ نہ کرنے کا جو انہوں نے معاہدہ کیا ہے اس کو توڑیں۔
Ayah 8:72

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا١ۚ وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:72 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے (مکہ سے) ہجرت کی اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کی (یعنی مہاجرین) اور جن لوگوں نے (ان مہاجرین کو اپنے ملک میں) جگہ دی اور ان کی مدد کی (یعنی انصار) یہ آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے5 اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت نہیں کی (بلکہ کافروں ہی کے ملک میں پڑے ہوئے ہیں) تو (اے مسلمانو) تم ان کے وارث نہیں ہوسکتے جب تک وہ ہجرت نہ کریں (یعنی ان کا ترکہ تم کو نہ ملے گا) اور اگر وہ تم سے دین میں مدد چاہیں تو تم پر (ان کی) مدد کرنا واجب ہے6 مگر اس قوم کے مقابلہ میں جس سے تم سے عہد ہوچکا ہو7 اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے

ف 3 یعنی اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے سے انکار رک چکے ہیں اور رسول ﷺ کو جھٹلا چکے ہیں۔4 اگر پھر دغا بازی اور بےایمانی سے کام لیں گے تو پھر اللہ تعالیٰ اس نے یہی معاملہ کرے گا۔ اس میں آنحضرت ﷺ کو بشارت دی ہے اور قیدیوں کے لیے وعید ہے کہ ان میں سے جو بھی نقض عہد اور خیانت کرے گا ان پر دوبارہ تمکن حاصل ہوگا جیسا کہ بدر میں دیکھ چکے ہو۔ یہاں امکن کا مفعول مخذوف ہے ای نامکنک منھم ( کبیر، روح)5 لفظ اونیا سے مراد اولیا فی النصرۃ والمعونتہ ( ورثہ) بھی دوسرے مفہوم کے اعتبار سے اس آیت میں ہیں بھائی چارے کی طرف اشارہ ہوگا جو ہجرت کے بعد نبی صلعم نے مہا جرین ؓ اور انصار کے درمیان قائم کیا اور جس کی بنا پر رواج جاہلیت کے مطابق ایک دوسرے کے وارث بنتے تھے یہاں تک کہ میراث کی آیت نازل ہوئی اور یہ طریقہ منسوخ ہوگیا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ مہاجرین اور انصار کی بہت سی آیات میں تفریف کی گی ہے مگر علما نے اس پر اجماع ہے کہ مہاجرین انصار سے افضل ہیں۔ ( ابن کثیر) مثلا پر حملہ کرسکتے ہو۔ ( ابن کثیر۔ (7 کہ آپس میں ایک دوسرے سے جنگ نہ کریں گے، تم معاہدہ کر پس پشت ڈالتے ہوئے ان کی مدد نہیں کرسکتے بلکہ ان مسلمانوں سے یہی کہا جائے گا کہ دارالکفر کو چھوڑ کر دارالا سلام میں چلے آئیں۔ ( از (وحیدی) فگ
Ayah 8:73

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌؕ Open ayah 8:73 in the Quran reader

اور کافر ایک دوسرے کے وارث ہوں گے (یا ایک دوسرے کے مددگار ہیں) اگر تم ایسا نہ کرو گے8 تو ملک میں دھوم مچ جائے گی اور بڑی خرابی پڑے گی9

8 یعنی کفار سے ترک موالات ( دوستی و میراث) اور باہم دوستی و تعاون۔ حدیث میں ہے کہ کافر اور مسلمان ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوسکتے۔ ( ابن کثیر)9 یعنی آئے دن جنگ رہیگی اور رات دن کے اور میرث کے دعوے چلتے رہے گے۔ مطلب یہ ہے کہ کافر اور مو منوں کے باہم موالات اور مل جل کر رہنے سے امنب قائم نہیں رہ سکتا ( ابن کثیر )
Ayah 8:74

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 8:74 in the Quran reader

اور جو لوگ کہ ایمان لائے اور وطن چھوڑا اور جہاد کیا (یعنی مہاجرین) اور جن لوگوں نے (ان مہاجرین کو) جگہ دی اور (ان کی) مدد کی (یعنی انصار) یہی پکے مسلمان ہیں ان لوگوں کے اللہ تعالیٰ کی بخشش ہے (آخرت میں) اور عزت کی روزی (دنیا میں)10

ف 10 انکے مقابلے میں جو لوگ دارالاسلام قائم ہوجانے کے باوجود اس کی طرف ہجرت نہ کریں اور کافروں کی غلامی میں رہنے پر قانع ہوں ان اسلام کچا ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں۔ کہ دنیا میں عزت کی روزی سے مرادمال غنیمت اور فے ہے جو خالص ان لوگوں کو حق ہے جو سردرار کے ساتھ شریک جنگ ہوں ( موضح)
Ayah 8:75

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓئِكَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 8:75 in the Quran reader

اور جو لوگ بعد کو ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی11 اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کیا وہ تم ہی میں سے ہیں12 اور ناطے رشتے والے ایک دوسرے کے وارث ہونے میں اللہ کی کتاب کی رو سے زیادہ حق دار ہیں1 بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے2 ۔

ف 11 یعنی جنگ بدر کے بعد اس وقت جب اسلام ایک طاقت بن گیا یا صلح حدیبیہ کے ہجرت کی۔ بہر حال اس سے ہجرت اولی ٰکے بعد کے مہاجرین ؓ مراد ہیں جن کا ذکر والذین اتبعو ھم باحسان ( تو بہ : 100) میں مذکور ہے وھذاھوالا صح۔ ( روح) آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں جو مومن تھے یہ ان کی چوتھی قسم ہے۔ اول مہاجرین ؓ اولین دوم انصار ؓ ، سوم وہ مسلمان جو دارالکفر میں رہے اور انہوں نے نے ہجرت نہیں کی چہارم جنہوں نے ہجرت اولی کے بعد ہجرت کرلی اور پھر جہاد میں مسلمانوں کے برابر شریک رہے، ( از کبیر)12 یعنی مہاجرین اور لین اور انصار کے ساتھی شمار ہوں گے، دنیا یا میں آخرت میں جیسا کہ متفق علیہ بلکہ متواتر حدیث میں ہے۔ المرمع من احب کہ قیامت کے دن انسان اسی کے ساتھ اٹھے گا جس سے محبت اور دوستی رہی ہے۔ ( ابن کثیر ) 1 یعنی اب آئندہ سے میراث دینی بھائی چارے کی بنا پر بلکہ رشتہ داری کی بنا پر تقسیم ہوگی، اس سے وہ آیت منسوخ ہوگئی جس میں مہاجرین انصار کو ایک دوسرے کا وارث ہونا قرار دیا گیا تھا۔ (ابن کثیر)2 وہی جانتا ہے کہ کس کا حق مقدم اور کس کا حق مئوخر ہے۔ لہذا اس کے تمام احکام سراسر علم و حکمت پر مبنی ہیں