7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 7:1
ف 8 حراز مقطعات ہیں تشریح کے لیے دیکھئے سورة بقرہ آیت )
Ayah 7:2

كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ فَلَا یَكُنْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:2 in the Quran reader

یہ کتاب تجھ پر اتاری گئی ہے اس یلے کہ تو اس سے (کافروں کو) ڈرائے اور ایمان والوں کو نصیحت کرے تو کہ اس کے پہنچا دینے میں تیرا دل تنگ نہ ہو9

ف 9 یعنی آپ ﷺ کسی خوف اور جھجک کے بغیر ان لوگوں تک پہنچادیں اور اگر لوگ آپ ﷺ کی مخالفت کریں اور آپ ﷺ کا مذاق اڑائیں تو آپ ﷺ رنجیدہ اور کبیدہ خاطر نہ ہوں کیونکہ آپ ﷺ کے ذمہ صرف پہنچا دینا ہے ہدایت دینا یا نہ دینا آپ ﷺ کا کام نہیں ہے۔
Ayah 7:3

اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:3 in the Quran reader

لوگو جو تمہارے ملک کی طرف سے تم پر اترا، یعنی قرآن و حدیث، اس کی پیروی کرو10 اور اس کے یعنی اللہ کے یا قران و حدیث کے سا دوسرے چہیتوں کی پیروی مت کرو11 تم بہت کم نصیحت لیتے ہو

ف 10 یعنی صرف کتاب وسنت کی ا اتباع کرو۔ (قرطبی) امام رازی فرماتے ہیں کہ رسالتہ کام معاملہ امور سے پورا ہوتا ہے مو سل یعنی خدا اور مرسل یعنی رسول اور مرسل الیہ یعنی امت اوپر کی آیت میں پیغمبر ﷺ کو تبلیغ والذار کا حکم دیا ہے اور اب اس آیت میں امت کو آنحضرت ﷺ کی متابعت کا ، (کبیر ) 11 ایعنی اللہ تعالیٰ کے سوال کسی کی بندگی نہ کردیا قرآن وسنت کے سوا کسی کی بات نہ مانو خواہ وہ کتنا ہی بڑا امام بزرگ محقق یا دانشور ہی کیوں نہ ہو۔ ہر ایک کی بات کو قرآن و حدیث کو کسوٹی پر پرکھا جائے گا اگر کسی بات پر قرآن و حدیث سے تصریح نہیں ملے گی تو اجماع اور اجتہاد کی طر رجوع کیا جائے گا کیونکہ یہ دونوں بھی کتاب وسنت کے فروغ میں سے ہیں۔
Ayah 7:4

وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآئِلُوْنَ Open ayah 7:4 in the Quran reader

اور کتنی بستیاں جب ہم نے ان کو کھپانا (تباہ کرنا) چاہا تو ہارا عذاب (ان بستی والوں پر) آن پہنچا وہ رات کو یا دن کو پڑے سو رہے تھے12

ف 12 یعنی غفلت میں پڑے سو رہے تھے مقصود پیغمبر کی اطاعت سے اعراض پر تنبیہ کرنا ہے کہ ان کفار کو اپینی گرفت میں لے سکتا ہے اور اس کے آنے کا وقت کسی کو معلوم نہیں ہے۔ (کبیر )
Ayah 7:5

فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:5 in the Quran reader

تو جس وقت ہمارا عذان پر آن پہنچا کچھ نہ کہہ سکے مگر یہی کنے لگے بیشک ہم گنہگار تھے13

ف 13 یعنی سوائے اعتراف گناہ کے کچھ بن نہ پڑا اور اپنے تمام جھوٹے معبودوں کو بھول گئے مگر اس وقت کا عتراف گناہ ان کے کس کام آسکتا تھا ؟ جب گناہ سے توبہ کرنے کا وقت تھا اس وقت تو غفلت کی نید سونے ہے۔
Ayah 7:6

فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 7:6 in the Quran reader

یہ تو دنیا میں ہوا اور قیامت میں تو ہم بیشک جن کے پاس پیغمبر آچکے ان سے باز پرس کریں گے اور خود پیغمبروں سے بھی ضوری پوچھیں گے14

ف 14 پہلی تہدید کا تعلق دنیا میں عذاب کے ساتھ تھا اور اب اس آیت میں تہدید اخروی کا مذکور ہے (کبیر) یعنی لوگوں سے تو یہ دریافت کریں گے کہ تم نے ہمارے پیغمبر کی دعوت کو کہا تک قبول کیا اور پیغمبر سے دریافت کریں گے کہ تم نے لوگوں تک ہمارا پیغام پہنچایا تھا یا نہیں ؟ اس سوال سے مقصود تقریع و توبیخ ہے۔ (کبیر )
Ayah 7:7

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآئِبِیْنَ Open ayah 7:7 in the Quran reader

پھر جو کچھ گذرا ہے وہ ہم کو معلوم ہے ان کو سنا دیں گے اور ہم غائب نہ تھے15

ف 15 یعنی ہم سے کچھ سن رہے تھے اور سب کچھ دیکھ رہے تھے اس لیے اگر وہ خاموش رہیں گے یا غلط بات کریں گے تو ہم خود بتادیں گے کہ تم نے یہ جواب دیا تھا اور یہ بات کہی تھ
Ayah 7:8

وَ الْوَزْنُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ١ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:8 in the Quran reader

اور اس دن ٹھیک تل ہوگی16 پھر جن کی تولیں بھاری ہوئیں (نیک اعمال زیادہ ہوئے) وہی لوگ مراد پانے والے ہیں

ف 16 یعنی ہر ایک کے نامہ اعمال کو تو لا جائے گا اور اس تولنے میں کوئی کمی یا زیادتی نہیں ہوگی، اوپر کی آیت میں سوال اور حساب کا ذکر ہے اور اس آیت میں وزن اعمال کا۔ حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن اعمال کے صحیفے تولے جائیں گے۔ یہی قول مفسرین کا ہے۔ (کبیر) آخرت میں ہو کا غذ تو لینگے جس کے نیک کام بھاری ہوئے تو برے کام بخشے گئے اور ہلکے ہوئے ت پکڑا گیا (موضح)
Ayah 7:9

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:9 in the Quran reader

اور جن کی توالیں ہلکی ہوں گی نیک عمل کم ہوں گے) انہوں اپنے تئیں تباہ کیا یہ بدلا ہے ہماری آیتیں جھٹلانے کا (یا نہ ماننے کا)1

ف 1 کثر مفسرین (رح) کے نزدیک اس سے مراد کافر ہے کیونکہ قرآن نے ان کو خسر وا انفسھم قرار دیا ہے۔ مومن گنہگار تو آخر کار کسی نہ کسی طرح اللہ تعالیٰ کے جوار رحمت میں پہنچ جائیں گے (کبیر) حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میری امت کے ایک شخص کو قیامت کے روز سب کے سامنے لایا جائے گا اس کے ننانوے اعمال پھیلائے جائیں گے اور ان میں سے ہر اک اتنا لمبا ہوگا جتنی دور نگاہ جاتی ہے۔ پھر پروردگار اس سے دریافت فرمائے گا کیا تم ان میں م سے کسی عمل سے انکار کرتے ہو َ وہ عرض کرے گا نہیں پھر پروردگار فرمائے گا تمہاری ایک نیکی بھی ہمارے پاس ہے اور ا آج تم سے کوئی نے انصافی نہیں کی جائے گی پھر ایک بطاقہ (کاغذ کا ٹکڑا) لایا جائے گا جس میں اشھد ان لا الہٰ اللہ واشھد ان محمد اعبدہ ورسو لہ درج ہوگا وہ عرح کرے گا بھلا یہ ایک پر زہ ان تمام دفتروں کے مقابلے میں کس کام آئے گاَ حکم ہوگا تم پر کئی ظلم نہ ہوگا لہذا صبر کرو پھر وہ تمام دفتر ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور یہ کاغذ کا پرزہ درسرے پلڑے میں لیکن اس پرزے کا پلڑا بھاری رہے گا اور دفتروں کا پلڑا ہلکا (ابن کثیر )
Ayahs 7:10–11

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:10 in the Quran reader

آدمیو ہم نے تم کو زمین جگہ دی تم کو مالک اور متصرف بنایا اور اسی میں تمہاری گذران کے سامان بنائے کھانا پینا کمانا تم بہت کم شکر کرتے ہو

وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ١ۖۗ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ لَمْ یَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 7:11 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے تم کو پیدا کیا پھر تمہاری شکل بنائی2 پھر ہم نے فرشتوں سے کہا آدم علہ السلام کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس جدہ کرنے والوں میں نہ تھا3

ف 2 وپر کی آیت میں تخویف وتر غیب کے ساتھ لوگوں کو انبیا کی دعوت قبول کرنے کی ترغیب دی اور ترغیب میں کثرت نعم کی طرف اشارہ تھا۔ اب یہاں سے انعامات کے بیان کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور خلق آدم سے اس سلسلہ کا آغاز فرمایا (کبیر) مطلب یہ ہے کہ پہلے آدم کا ہیولی بنایا اور پھر اس کی شکل و صورت بنائی۔3 اس سجدہ سے مراد مطلق تعظیم ہے یا حقیق طور پر سجدہ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة بقرہ آیت 24)
Ayah 7:12

قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ١ؕ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 7:12 in the Quran reader

پروردگار نے فرمایا اے ابلیس جب میں نے تجھ کو حکم دیا تو کس چیز نے تجھ کو سجدہ کرنے سے باز رکھا وہ کہنے لگا میں آدم سے بہتر ہوں مجھ کو تو نے آگ سے پیدا کیا اور آدم کو تو نے مٹی سے پیدا کیا2

ف 4 اور آگ مٹی سے افضل ہے اور افضل اپنے سے کم درجہ کو کیسے سجدہ کرسکتا ہے خواہ اس کا حکم دینے ولا اس کا پر رو دگار ہی کیوں نہ ہو۔ اس طرح گویا شیطان نے واضح حکم کی موجوگی میں عقلی قیاس سے کام لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دھتکارا گیا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا حضرت حسن بصری (رح) نے فرمایا سب سے پہلے جس نے دین کے معاملے کو اپنی رائے سے قیاس کیا وہ ابلیس ہے یعنی اللہ تعالیٰ ن اسے آدم ( علیہ السلام) کو سجدہ کرنے کا حکم دیامگر اس نے کہا میں آدم ( علیہ السلام) سے بہتر ہوں۔ ابن سیرین نے فرمایا شرک کی بنیاد بھی قیاس ہی تھا۔ ( ابن جریر) اب بھی نصوص کے مقابلہ میں جو شخص اس طرح عقلی قیاس سے کام لے گا اس میں خصلت شیطانی کا اثر ہے۔ اس کا بھی وہی انجام ہوگا جو ابلیس کا ہوا۔ ( ا، ت )
Ayah 7:13

قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا یَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِیْهَا فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 7:13 in the Quran reader

پروردگار نے فرمایا اگر ایسی شیخی کرتا ہے تو آسمان سے یا بہشت سے یا اپنے مرتبے سے) اتر جا یہ تو تیرے لیے ہونا نہیں جو تو وہاں (آسمان یا بہشت میں) رہ کر غرور کرے نکل جا تو (زلیلوں میں کا ایک) ذلیل ہے5

ف 5 جو بھی غرور تکبر سے کام لے گا وہ ذلیل و خوار ہوگا۔
Ayah 7:14

قَالَ اَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 7:14 in the Quran reader

ابلیس کہنے لگا اس دن تک مجھے مہلت دے یعنی زندہ رکھ جس دن مرنے کے بعد سب اٹھائے جائیں گے6

ف 6 شیطان صور میں دوسرے نفخہ تک ،
Ayah 7:15

قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ Open ayah 7:15 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اچھا منظور تو ان میں سے جن کو قیامت تک ملت دی گئی7

ف 7 شیطان کو یہ مہلت دینے کے بندروں کا امتحان مقصود ہے اور یہ کہ جس غرض کے لیے انسان کو پیدا کیا گیا ہے وہ پوری ہو۔
Ayah 7:16

قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 7:16 in the Quran reader

ابلیس نے کہا جب جب تو نے مجھ کو بےراہ کردیا میں بھی تیری سیدھی راہ پر ان کی تاک میں بیٹھوں گا8

ف 8 یعنی میں توگمراہوں ہی ان کی بھی راہ ماروں گا۔ (مو ضح)
Ayah 7:17

ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآئِلِهِمْ١ؕ وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ Open ayah 7:17 in the Quran reader

پھر ان کے پاس ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے آؤں گا اور ان کی داہنی طرف سے اور ان کی بائیں طرف سے9 اور تو اکثر آدمیوں کو شکر گذار (موحد) نہ پائے گا

ف 9 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آگے سے مراد ہے کہ انہیں آخرت کے آنے یا نہ آنے سے متعلق شک میں ڈال دو گا پیچھے سے مراد یہ ہے کہ انہیں دنیا پر فریفتہ کروں گا۔ دارئیں سے مراد یہ ہے کہ دین کا معاملہ ان پر مشتبہ کردو گا اور بائیں سے مراد یہ ہے کہ گنا ہوں کو مرغوب بنا کر ان کے سامنے پیش کرونگا ( ابن کثیر ) 1 ابلیس نے یہ بات اپنے گمان کی بنا پر کہی جو واقع سچ ہو کر رہی جیسا کہ دوسری آیت میں ہے کہ ولقد صدق علیھم ابلیس ظنہ فاتبعوہ الا فریقامن المومنین اور ابلیس نے ان پر اپنا گمان سچ کر دکھا یا چانچہ انہوں نے اس کی پیروی کی سوائے تھوڑے سے ایمانداروں کے۔ ( صبا 30)
Ayah 7:18

قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا١ؕ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:18 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا رذالے مرودود (آسمان سے یا بہشت سے) نکل جا جو آدمی تیری راہ پر چلیں گے میں ضرور ان سے اور تجھ سے تم سب سے دوزخ کو بھرو دوں گا2

ف 2 یعنی تم سے اور بنی آدم میں سے جو تمہار امتبع ہوگا۔
Ayah 7:19

وَ یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:19 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے آدم تو اور تیری بیبی دونوں) جنت میں رہو پھر جہاں سے چاہو (جنت کا میوہ) کھاؤ اور اس درخت کے پاس مت پھٹکو (اگر ایسا کرو گے تو گنہگاروں میں (شریک ہوجاؤگے3

ف 3 تشریح کے لے ملاحظہ ہو۔ سورت بقرہ آیت 35)
Ayah 7:20

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَاوٗرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ Open ayah 7:20 in the Quran reader

پھر (میاں بی بی) دونوں کو شیطان نے بہکا یا اس کا (مطلب یہ تھا) کہ ان کا ستر جو ڈھکا ہوا ہے وہ ان دونوں کو کھول دکھائے4 اور کہنے لگا تمہارے مالک نے جو تم کو اس درخت سے منع کیا ہے تو صرف اس لیے کہ اس نے تم دونوں کا فرشتے بن جانا ( یا جنت میں ہمشی رہنا برا سمجھا5

ف 4 علما تفسیر نے لکھا ہے کہ لیبدی میں لام عاقبت کا ہے کیونکہ شیطان کے دل میں یہ نہیں تھا کہ وہ ننگے ہوجائیں گے اور ہوسکتا ہے کہ لام تعلیل کا ہو اور اس کی غرض ہی یہی ہو، ستر کو سوۃ اس لیے کہتے ہیں کہ اس کا ننگا ہونا انسان کو طبعا برا لگتا ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں، گویا ان کو جنت کا لباس پہنایا گیا تھا جس سے ان کے ستر مستور تھے۔ شجرۃ ممنو عتہ کا پھل کھانے وہ وہ کپڑا اتر گیا وہ ہب بن منبہ کہتے ہیں کہ وہ لباس نورانی تھا جس کی وجہ سے ایک دوسرے کو انکے ستر نظر نہیں آتے تھے درخت کا پھل کھانے سے وہ نور سلب ہوگا ی اور ان کو ایک دوسرے کے ستر نظر آنے لگے ( ابن کثیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ عیب ڈھکے تھے، یعنی حاجت استنجا اور حات شہوت جنت میں نہ تھی اور ان کے بد ن پر کپڑے تھے وہ کبھی اتارے نہ تھے کہ اتارنے کی حاجت نہ ہوتی تھی یہ اپنے اعضا سے واقف نہ تھے جب یہ گناہ ہو تو آدم بشریٰ پیدا ہوئے اپنی حاجت سے خبردار ہوئے اور اپنے اعضا، دیکھئے۔ ( مو ضح)5 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا کہ صرف اسلیے کہ تم دونوں فرشتے نہ بن جا و یا ہمیشہ رہنے والوں میں سے نہ ہوجاؤ شیطان نے نا دونوں کو یوں بہکایا کہ اگر تم دونوں اس درخت سے کچھ بھی چکھ لو گے تو تم میں بھی فرشتوں کی سی خصوصیات فطری کمالات پیدا ہوجائیں گے اس کے بعد نہ ۔ تمہیں کھانے پینے کی کوئی حاجت رہے گی اور نہ تم مروگے بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس جنت میں رہو گے۔ ( ابن کثیر) اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ فرشتے مطلق انسان سے افضل ہیں ہاں جزوی فضیلت ضروری ثاتب ہوتی ہے۔
Ayah 7:21

وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَۙ Open ayah 7:21 in the Quran reader

اور ان سے قسمیں کھانے لگا میں بیشک تمہارا خیر خواہ ہوں6

ف 6 لہذا میرکہناما نو تم بڑ فائدے میں رہو گے۔ !
Ayah 7:22

فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ١ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١ؕ وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:22 in the Quran reader

آخر دھوکا دے کر ان کو جھکا لیا7 جونہی انہوں نے وہ درخت چکھا (یعنی اس کے پھل کھائے) ان کے ستر (شرمگاہ) ان کو دکھائی دینے لگی (ینعی بہشتی پوشاک اتر گئی، اور و دنوں شرم سے بہشت کے پتے اپنے اوپر چپکانے ورنے لپیٹنے لگے اور8 پروردگار نے (یہ حال ان کا دیکھ کر) ان کو آواز دی9 کیا میں نے تم کو اس درخت (کے کھانے) سے منع نہیں کردیا تھا اور تم سے نہیں کہہ دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے10

ف 7 یعنی انہیں اطاعت کے مرتبہ سے گراکر معصیت کے مربہ پر لے آیا۔ یاد رہے کہ آدم اور ان کی زوجہ شیطان کی بات پر یقین نہیں لیے آئے تھے بلکہ جذبات سے مغلوب ہو کر انہوں نے معصیت کا ارتکاب کیا،8 یعنی طبعی شرم وحیا کی جے سے اپنے بدن کی درخت کے پتو سے چھپانے لگے۔ اس آیت سے یہ بھی مفہوم نکلا کہ ستر چھپانا اور شرم کرنا انسان کی خلقی عادت ہے اور یہ تقوی ٰ میں داخل ہے اور جو کوئی سترنہ چھپائے وہ جانو و ہے۔ ( وحیدی)9 اس آیت اور اس کے علاوہ بہت سے ی دوسری آیات اور احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں صوت (آواز) ہے اور فرشتے اور آدمی اس کی آواز سن کر سن سکتے ہیں اہل حدیث کا یہی مذہب ہے۔ ( وحیدی)10 لہذا اس کی بات نہ سننا مگر تم اس فریب میں آگئے کہتے ہیں کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) نے عرض کی کہ پروردگار اس نے تیری قسم کھائی اور ہم کو یہ معلوم نہ تھا کہ تیرے بندوں میں کوئی ایسا بھی ہوسکتا ہے جو تیرا پاک نام لے کر چھوٹ کھائے، ( ابن کثیر )
Ayahs 7:23–24

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:23 in the Quran reader

اور دونوں (آدم و حوا) کہنے لگے مالک ہمارے ہم نے اپنے تئیں آپ تباہ کیا اور اگر تم ہم کو نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو بیشک ہم ٹاٹا پانے والے میں ہوں گے

قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 7:24 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم اتر جاؤ تم میں ایک کا ایک دشمن رہے گا اور ایک وقت تک (یعنی مرنے تک یا قیامت تک) تم کو زمین میں رہنا ہے اور فائدہ اٹھانا1

ف 1 یعنی کھانا پینا اور دینوی زندگی کے دوسرے سامان سے متمتع ہونا۔
Ayah 7:25

قَالَ فِیْهَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 7:25 in the Quran reader

(اللہ تعالیٰ نے) یہ بھی) فرمایا تم زمین ہی میں زندگی کاٹوگے اور وہیں مرو گے اور وہیں سے (دوبارہ حشر کے دن نکالے جاؤ گے2

ف 2 یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو بنی آدم کے لیے جائے سکونت قرار دیا ہے کہ مر نے کے بعد اس زمین میں مد فون ہوں اور قیامت کے دن سے زندہ ہو کر نکلیں جیسا کہ سورت طحہٰ میں فرمایا : منھاخلقنا وفیھا نعید کم ومنھا نخرجکم تارۃ اخری۔ اسی مٹی سے ہم نے تم کو پیدا کیا اور اسی میں تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ تمہیں نکالیں گے ( آیت 55)
Ayah 7:26

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى١ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:26 in the Quran reader

آدمیوں ہم نے کپڑا اتارا جو تمہاری شرم گاہ چھپاتا ہے3 اور بناؤ (زیب وزینت سجاوٹ کا سامان اتار یا مال و اسباب اور پرہیز گاری کا لباس یہ سب سے بہتر ہے4 یہ لباس کا پیدا کرنا اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں ہے تاکہ وہ نصیحت لیں5

ف 3 آسمان سے پانی اتارا جس سے روئی اگتی ہے اور تم اس سے کپڑ بنتے ہو ( قر طبی) یہاں انزل بمعنی خلق ہے یعنی پیدا کیا۔ ( مفر دات حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ یعنی دشمن نے جنت کے کپڑے تم سے اتروائے پھر ہم نے تم کو دنیا میں لباس کی تدبیر سکھا دی۔ ( مو ضح)4 یعنی اس ظاہر لباس کے علاوہ جس سے تم صرف بد ن ڈھانکتے ہو یا زینت کا کام لیتے ہو ایک اور معنی لباس بھی ہے جو ہر لبا س بہتر ہے لہذا تمہیں اس کا اہتمام کرنا چاہیے اور وہ ہے پرہیز گاری یعنی خوف خدا، ایمان اور عمل صالح، کا لباس بعض نے کہا ہے کہ لباس صوفی لوگ پہنتے ہیں مگر یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ بہت سے سلف صالح جن کی پرہیز گاری ضرب المثل تھی عمدہ قسم کے لباس پہنا کرتے تھے بعض نے زرہ وغیرہ فوجی لباس مراد لیا ہے جو دشمن سے بچاؤ کا سبب بنتا ہے ( قر طبی، روح) ہاں یہ ضرور ہے کہ جس لباس کی ممانعت آئی ہے وہ نہ پنا جائے حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں اب وہی لباس پہنو جس میں پرہیز گا ری ہو یعنی م دیہ ریشمی لباس نہ پہنے اور دامن دراز نہ رکھے اور جو منع ہوا ہے سو نہ کرے اور عورت بہت پاریک نہ پہنے کہ لوگوں کو بد ن نظر آوے اور اپنی زینت نہ دکھا وے۔ ( از مو ضح)5 اور اللہ تعالیٰ کی اس بہت بڑٰی نعمت کی قدر کریں یا نصیحت حاصل کریں اور قبائح سے اجتناب کریں۔
Ayah 7:27

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:27 in the Quran reader

آدمیو (خیال رکھو) شیطان تم کو بہکا نہ دے (وہ تمہارا دشمن ہے جیسے اس نے تمہارے ماں باپ کو بہشت شے نکلوایا ان کے کپڑے اتروائے ان کا ستر ان کو دکھانے کو کیونکہ وہ شیطا اور اس کا کنبہ یا اس کا لشکر تم کو دیکھ لیتا ہے جہاں سے تم اس کو نہیں دیکھتے6 ہم نے شیطانوں کو ان کا دوست بنادیا ہے جو بےایمان ہیں (کافر اور مشرک)

ف 6 اور ایسے دشمن سے تو بہت زیادہ محتاط اور چو کنا رہنا چاہیے جو ہم کو دیکھے مگر ہم اس کو نہ دیکھ پائیں اس آیت سے بعض اہل علم نے یہ استدلال کیا ہے کہ جنوں کے دیکھنا ممکن نہیں ہے مگر یہ استدلال کصحیح نہیں ؛ ہے کہ کیونکہ اگر کسی وقت ہمیں دیکھ رہے ہوں اور ہم انہیں نہ دیکھ رہے ہوں تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کا دکھائی دینا کسی وقت بھی ممکن نہیں ہے، یہ قضیتہ مطلقتہ لا دائمتہ لہذا صحیح یہی ہے کہ جنوں کی رؤیت ممکن ہے احادیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جنوں کو دیکھا ہے۔ ، ( فتح القدیر) اور زکو ٰۃ رمضان کی نگرانی کے قصہ میں مذکور ہے کہ حضرت ابور ہریرہ ؓ نے ایک جن کو پکڑ لیا اور صحیح مسلم میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا، آج رات میری نماز قطع کرنے کے لیے میرے پاس سرکش جن آگیا اگر میرے بھائی سلمان ( علیہ السلام) کی دعانہ ہوتی تو میں اسے پکڑ کر مسجد کے ستون سے باندھ دیتا اروصبح کو مدینہ کے بچے اس سے کھیلتے نیز یہ بھی ثابت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے نصیین کے جنوں کو دیکھا ہے اب رہا امام شافعی کا یہ فرمانا کہ جو شخص جنات کو رؤیت کا دعوی ٰ کرے اس کی شہادت مردود ہے تو اس سے امام شافعی کا مطلب یہ ہے کہ ان کو ان کی اصلی شکل پر دیکھنے کا دعو یٰ کرے (قر طبی روح )
Ayah 7:28

وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:28 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ (یعنی مشرک) کوئی برا کام (جیسے شرک کرنا کعبے کا طواف ننگے ہو کر کرنا) کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے بڑوں کو ایسے ہی کرتے پایا اور اللہ تعالیٰ نے ہم کو اس کام کا حک کیا اے پیغمبر کہہ دے اللہ تعالیٰ برے کام کا حکم نہیں دیتا7 کیا جو بات تم کو معلوم نہیں اس کو اللہ تعالیٰ پر لگاتے ہو8

ف 7 یہاں فواحش سے راد وہ عبادات ہیں جو انہوں نے از خود ایجاد میں مشرکین کے انپی بےحیائی اور بدکاری پر قائم رہنے کے دو عذر پیان کئے گئے ہیں ایک یہ کہ ہم نے اپنے بڑوں کو ایسا کرتے پایا ہے اور دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے کا حکم دیا ہے کہ پہلا عذر چونکہ بطور واقعہ صحیح تھا اس لیے اس کی بطور تر دید نہیں فرمائی گئی یوں متعدد آیات میں بتایا ہے کہ باپ دادا کے نقش قدم پر چلتے رہنا کوئی دلیل نہیں ہے۔ ( دیکھئے سورة بقرہ آیت 170، مائدہ آیت 104) شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی سن چکے کہ پہلے باپ ن شیطان کا فریب کھایا پھر باپ کی سند کیوں لاتے ہو، ( موضح) رہا دوسرا عذر تو چونکہ بطور واقعہ مطلب یہ کہ جب انبیا کی زبان سے ان افعال کا منکر اور قبیح ہونا ثابت ہوچکا ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قسم کے فواحش کا حکم دے ( کبیر ) 8 اس آیت میں ان لوگوں کو بھی سخت تنبیہ ہے نو محض آبائی رسوم کو دین سمجھ کر اس عمل پیرا ہونے کو ثواب سمجھتے ہیں
Ayah 7:29

قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ١۫ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ۬ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ Open ayah 7:29 in the Quran reader

(اے پیمبر) کہہ دے میرے مالک نے تو انصاف کا حکم دیا9 ہے اور یہ کہ جہاں نماز پڑھو اپنے منہ سیدھے کرلو10 اور نرے اسی کے تابعدار ہو کر اس کو پکارو11 جیسے تم کو پہلے پیدا کیا ویسے ہی پھر (دوبارہ) پیدا ہوگے1

ف 9 لہذا تم اس کی پیروی اور اپنی بےحیائی اور بدکاری سے باز آجاؤ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ انصاف سے مراد لا الہ الا اللہ یعنی خالص توحید ہے جیسا کہ سورة آل عمران کی آیت، شھد اللہ انہ لا الہ الا ھو۔۔۔ قائما بالقسط سے معلوم ہوتا ہے۔ رازی)10 یعنی قبلہ کی طرف سیدھی کرلو ہر نماز میں یا ہر جگہ جہاں تم نماز پڑھو۔ (کبیر)11 یعنی خالصتہ اسی کی عبادت کرو اور اس کو پکار نے اور اس کی عبادت کرنے میں دوسرے کو شریک نہ کرو الٖغرض اس آیت میں تین باتوں کا حکم دیا ہے جس کے معنی یہ ہی کہ عبادت شرک اور ممنوع چیزوں پر مشتمل ہو وہ فواحش میں داخل ہے۔ ( کذافی الکبیر ) 1 یعنی جس طرح پہلے کچھ نہ تھے اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا ہے اسی طرح تمہارے مرجانے کے بعد وہ تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا ( کبیر )
Ayah 7:30

فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ١ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 7:30 in the Quran reader

اسی لیے ایک گروہ (مومنوں) کو راہ پر لگایا اور ایک گروہ (کافروں) کو گمراہ کیا جن کی تقدیر میں گمراہی لکھ دی گئی تھی2 انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو اپنا دوست بنا اور اس پر بھی وہ سمجھتے ہیں کہ ہم راہ پر ہیں3

ف 2 یا تم آخرت میں دو گروہ بن کر پلٹو گے ایک مومنوں کا گروہ اور دوسرا کافروں کا گروہ3 یعنی ان پر ضلالت اس لے ثابت ہوئی ہے کہ وہ شیطان کے کہنے پر چلتے رہے اور یہ سمجھتے رہے کہ ہم صحیح راستے پر چل رہے ہیں۔ ( کبیر)
Ayah 7:31

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا١ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠ Open ayah 7:31 in the Quran reader

آدمیو ہر مسجد میں جاتے وقت یا ہر نماز کے اپنا بناؤ کرلیا کرو4 اور کھاؤ اور پیو اور اڑاؤ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اڑانے والوں کو پسند نہیں کرتا5

ف 4 یعنی طواف اور نمازیں ستر عورت فرض ہے مرد کے لیے کمر تازانو تک اور عورت کے لے چہرہ اور ہاتھوں کے سوا سارا بدن اور کپڑے باریک جس سے بدن یا بال نظر آویں معتبر ہیں، (کذافی المو ضح) جب اوپر آیت میں قسط (عدل و انصاف) کا حکم دیا اور لباس اور اکل شرب بھی فی الجملہ قسط میں داخل تھے اس لیے ان میں اسراف سے منع فرمادیا۔ (کبیر) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں عورتیں اور مرد ننگے ہو کر طواف کرتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ( فتح القدیر)5 اسراف یہ ہے کہ آدمی حلال کو حرام ٹھہرالے یا حلال سے تجاوز کر کے حرام میں جا پڑے حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں اور فرمایا مت اڑاؤ یعنی منع کام میں خرچ نہ کرو۔ ( موضح)
Ayah 7:32

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ١ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 7:32 in the Quran reader

اے پیمبر ان سے پوچھ اللہ تعالیٰ نے جو بناؤ اپنے بندوں کے لیے زمین سے یا جانو یا درخت سے نکالا ہے اور کھانے پینے کی ستھری چیزیں ان کو کس نے حرام کیا اے پیمبر کہہ دے یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں تو مومنوں کے لیے ہیں (اور کافروں کے لیے بھی) اور قیامت کے دن تو خاص مومنوں ہی کے لیے ہیں6 ہم اسی طرح جیسے یہ بیان کیا، اللہ کو ایک جاننے والون کے لیے کھول کر آیتوں کو بیان کرتے ہیں

ف 6 اس آیت میں زبتہ اللہ سے عمدہ لباس اور تمام وہ چیزیں مراد ہیں جن سے انسان کو تجمل حاصل ہوسکتا ہے اور الطیبات سے عمدہ قسم کے لذیذکھانے مراد ہیں جن کو شریعت نے حرام قرارنہ دیاہو مطلب یہ ہے کہ خوش پوشی اور عمدہ قسم کے صحت بخش کھانے اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرائے ہو اس آیت میں ان لوگوں کی سخت تر دید ہے جو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کے ترک استعمال کو درویشی سمجھتے ہیں اور گھٹیا قسم کا کھانا کھانے ارولباس پہننے ہی کو بڑ ی نیکی خیال کرتے ہیں حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ جب اپنے بندے کو کوئی نعمت عطا فرماتا ہے تو چاہتا ہے کہ اس کا اثر اس پر ظاہرہو۔ ( نسائی، ابن ماجہ) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں یعنی جو نعمت ہے مسلمان کو واسطے پیداہوئی ہے میں کافر بھی شریک ہوگئے آخرت میں صرف انہوں کو کے لیے) ہے مزید دیکھئے سورة احقاف آیت 20 ( قرطبی، ابن کثیر )
Ayah 7:33

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:33 in the Quran reader

اے پیمبر کہہ دے میرے مالک نے تو صرف برے بےشرمی کے کاموں کو جیسے زنا اغلام وغیرہ کو حرام کیا ہے کھلم کھلا ہوا یا چھپا کر اور گناہ کو اور ناحق ستانے کو یعنی ظلم کو اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے کو بھی اس نے کوئی سند نہیں اتاری اور اللہ تعالیٰ پر وہ بات لگانے کو جو تم کو معلوم نہیں7

ف 7 اوپر کی آیت میں یہ فرمایا کہ لوگوں نے اپنی طرف بہت سی چیزیں چرا کر رکھی تھیں اب اس آیت محرمات کو بیان فرمادیا، (رازی) جب مسلمانوں نے کپڑے پہن کر طواف کرنا شروع کیا تو کفار نے ان پر عیب لگایا اس پر یہ آیت ناز ل ہوئی ( قر طبی) الفواحش، یہ فاحشتہ کی جمع ہے اور انہتائی قبیح فعل کو کہتے ہیں الا ثم سے تمام چھوٹے بڑے گناہ مراد ہیں اور شراب کو بھی اثم کہہ لیتے ہیں اور البغو کے معنی لوگوں پر ظلم اور زیادتی کے ہیں الغرض یہاں محرمات کی پانچ قسمیں بیان فرمائی ہیں وہ بھی انما اور کوئی چیز حرام نہیں ہے حالانکہ بہت سے دوسری شیا کو حر مت بھی قرآن و حدیث میں مذکور ہے امام رازی فراتے ہیں کہ کہ دراصل جنایات پانچ ہی قسم کی ہیں 1 ۔ جنایتہ علی الا نساب اور اس کا سبب زنا ہے اور الفواحش سے یہی مراد ہے دو جنایتہ علی العقل جس کے دوسرے معنی شراب نوشی کے بیں اور الاثم میں اسی طر اشارہ ہے سوم جنایتہ علی الاعراض چہارم جنایتہ علی النفوس والا موال اور البغی بغیر الحق میں ان دونوں کی حرمت کی طر اشارہ ہے بنجم جنایتہ علی الادیان اور یہ دو قسم کی ہے۔ 1 ۔ توحید میں طع کرنا جس کی طرف وان تشر کو اباللہ سے اشارہ فرمایا ہے اور 2 ۔ بغیر علم کے فتویٰ دینا جس کی طرف وان تقولو اعلی اللہ مالا تعلمون ؟ سے اشارہ فرمایا ہے غرض کہ جملہ جنایات میں یہ پانچ اصول کی حیثیت رکھتی ہیں اور باقی ان کے فروغ اور تواضع ہیں اس بنا پر انما کے ساتھ حصر صحیح ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں آتا، (کبیر )
Ayahs 7:34–36

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 7:34 in the Quran reader

اور ہر گروہ کی تباہی کی جس نے اپنے پیغمبر کو جھٹلایا ایک مقرر مدت ہے جب ان کی مدت آگئی تو ایک گھڑی نہ پیچھے رہ سکتے ہیں نہ آگے بڑھ سکتے ہیں

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ١ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:35 in the Quran reader

آدمیو جب تمہارے پاس تم میں ہی سے (یعنی آدمی) پیغمبر آئیں اور میری آیتیں سنائیں تو جو لوگ گناہوں سے بچیں گے اور نیک کام کریں گے ان کو نہ ڈر ہوگا اور نہ غم

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:36 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلائیں اور ان کے ماننے سے اکڑ بیٹھیں گے وہ دوزخی ہیں ہمیشہ دوزخ ہی میں رہیں گے1

ف 1 اور پر بیان فرمایا کہ ہر ایک کے لیے ایک وقت مقرر ہے جس میں تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی اب یہاں بتایا گیا جو لوگ فرماں بردار ہوں گے مرنے کے بعد ان پر کسی قسم کا خوف وحزن نہ ہوگا مگر جو سرکش ہوں گے وہ سخت عذاب میں گرفتار ہوں گے۔ اسی قسم کا خطاب سورة بقرہ میں حضرت آدم ( علیہ السلام) کے قصہ کے آخر میں بھی مذکو رہے، ( دیکھئے بقرہ آیت 36)
Ayah 7:37

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 7:37 in the Quran reader

تو اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے2 ایسے لوگوں کے لیے جو حصہ قرآن میں لکھا گیا وہ ان کو پہنچے گا3 یہاں تک کہ جب ہمارے فرشتے ان کی جان نکالنے کو آموجود ہوں گے تو ان سے کہیں گے اب وہ کدھر ہیں جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجتے تھے و یعنی کافر اور شرک کہیں گے معلوم نہیں ہم کو چھوڑ کر کہاں غائب ہوگئے اور اس وقت اپنے اوپر آگ گواہی دیں گے یعنی اقرار کریں گے بیشک وہ کافر تھے

ف 2 اس کا تعلق اوپر کی آیت والذین کذبو وبایتنا سے ہے یعنی دو قسم کے لوگ تو بہت ہے بڑے ظالم ہیں۔ پہلی قسم کے جو ٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والی یا اللہ تعالیٰ کی طرف کسی حکم کی چھوٹی نسبت کرنے والے آجاتے ہیں اور دوسری قسم میں تمام وہ لوگ شامل ہیں جو قرآن کے کتاب الہی ٰ ہونے سے انکار کرتے ہیں یا آنحضرت ﷺ کی نبوت کر منکر ہیں۔ ( کبیر )
Ayah 7:38

قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ١ؕ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًا١ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ١ؕ۬ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:38 in the Quran reader

قیاتم کے دن اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا تم بھی ان امتوں کے ساتھ جو تم سے پہلے جن اور آدمیوں کی گذر چکی ہیں دوزخ میں جب ایک امت دوزخ میں جائے گی تو اپنی بہن پر لعنت کرے گا4 یہاں تک کہ جب سب کے سب دوزخ میں اکٹھے ہوں گے تو ان میں کی پچھلی امت اگلی امت کے لیے5 کہے گی مالک ہمارے انہی لوگوں نے یعنی اگلوں نے ہم کو گمراہ کیا6 تو ان کو دوزخ کا دونا عذاب کر اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم سب کو دونا عذاب ہوگا مگر تم نہیں جانتے7

ف 3 یعنی جس عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے وہ اس صورت میں ال کتاب سے مراد قرآن ہے جیسا کہ مترجم نے تصریح کردی ہے اور یہ ہوسکتا ہے کہ یہاں الکتاب سے مراد لوح محٖفوظ ہو یعنی جو سعادت و شقاوت اور رزق وعمر وغیرہ چیزیں اور ان کے لیے لوح محفوظ میں مقدر ہیں وہ ان کو حاصل ہو کر رہیں گی۔ اور ان کے ظلم و بدکار کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان میں کوئی کی نہیں کریگا شاید یہ توبہ کرلیں اور اپنے گناہوں سے باز آجائیں یہ معنی یہ آیت کے مابعد سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں کیونکہ جعی اذا جائ تھم رسلنا یتوفو نھم میں ان کے فوت ہونے کو اس نصیب کے حصول کے لے غایت قرار دیا ہے اور یہ جبھی ہوسکتا ہے کہ یہ عمرورزق اور سعادت و سقادت ہی ہوسکتے ہیں، ( کبیر)4 اس میں بھی کفار کی حالت کا بیان ہے اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام کفار ایک ساتھ جہنم میں نہیں جائیں گے بلکہ ان میں سابق اور مسبوق ہوں گے (رازی) اور اپنی بہن پر لعنت کرے گی یعنی اپنی پہلی ہم مذہب امت پر جو اس سے پہلے جہنم میں داخل ہوچکی ہوگی، مثلا یہودی دوسرے دوسرے یہود پر اور نصاریٰ دوسرے نصاری پر اور مشرکین دوسرے مشرکین پر ( وحیدی)5 یعنی جہنم میں بعد میں داخل ہونے والے پہلے داخل ہونے والوں کے بارے میں یا پیروی کرنے والے میں کہیں گے ( رازی)6 یعنی ہم تو اپنے متقد میں کی تقلید میں یا انہی کی باتوں پر ایمان لاکر شرک و بدعت اور منکر رات ی راہ پر چلتے رہے۔7 کہ ہر ایک عذاب کس قسم ہوگا، اور جہنم کا عذاب چونکہ مسلسل اروغیر منتہی ہوگا اور ایک درد کے بعد دوسرا درد شروع ہوجائے گا اس اعتبار سے اسے ضعٖ ( دوگنا) فرمایا ہے ورنہ یہ معنی نہیں کہ گناہ کے استحقاق سے بڑھ ر ہو گ، (کبیر )
Ayah 7:39

وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 7:39 in the Quran reader

اور اگلی امت پچھلی سے کہے گی تم کچھ ہم سے اچھے نہیں رہے8 اب اپنے کیے کے بدل عذاب کا مزہ چکھو (یہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا یا اگلی امت کہے گی)1

ف 8 یعنی اگر ہم مجرم و بدکار تھے تو تمہار احال کونسا بہتر تھا تم نے اپنی مرضی سے کفر کی روش اختیار کی، (ابن کثیر۔ قرطبی) 1 اس سے مقصود تخویف وزجر ہے۔ (کبیر )
Ayah 7:40

اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 7:40 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان پر اکڑ بیٹھے نہ ان کے لیے آسمان کے دروازے کھلیں گے2 اور نہ وہ جنت میں جائیں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں گھس جائے13 اور گنہگاروں کافروں کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں

ف 2 اوپر کی آیت میں جو وعید مذکور ہے یہ کہ اس کا تمتہ ہے اس سے معلوم کہ آسمانوں کے دروازے بہت سی صحیح احادیث میں ان دروازوں کا ذکر موجود ہے۔ دروازے نہ کھولے جانے کا مطلب تو یہ ہے کہ ان کے اعمال اور دعا کے اوپر جانے کے لیے درد ناک کھلتے یا یہ کہ مرنے کے بعد ان کی اراوح کے لیے دروازے نہیں کھلتے جیسا کہ مومن کی صعود کے لیے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ چناچہ ایک طویل حدیث کے ضمن میں ہے کہ مومن کی روح اوپر چڑھتی ہے تو اس کے لیے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور فرشتے مرحبا کہہ کر اس کا استقبال کرتے ہیں حتی کہ وہ ساتویں آسمان پر چلی جاتی ہے مگر جب کافر روح آسمان تک پہنچتی ہے تو اس کے لیے دروازہ نہیں کھولا جاتا بلکہ اسے زجر و توبیخ کے ساتھ واپس کردیا جاتا ہے بعض نے اس کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ ان پر خیر و برکت نازل نہیں ہوتی بہر حال آیت میں بہت بڑی وعید اور تہدید ہے۔ ( کبیر)3 یہ تعلیق بالمحال کے قبیل سے ہے اور اور اونٹ چونکہ باعتبار جسامت بڑاجانور ہے اس لیے اس کے داخل ہونے کا ذکر ہے کردیا ہے مطلب یہ ہے کہ ان کا جنت میں داخل ہونا محال ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہاں فرماتے یہاں الجمل کے معنی موٹے رسے کے ہیں اور سوئی کے ساتھ اس کا ذکر زیادہ مناسب ہے۔ ( کبیر۔ ابن کثیر )