7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 7:41–42

لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:41 in the Quran reader

ان کے لیے آگ کا بچھونا ہوگا اور وہ اوپر سے آگ کے لحاف اوڑھیں گے اور ہم ظالموں کو ایسی ہی سزا سزا دیتے ہیں ظالم سے مراد مشرک ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ١٘ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:42 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور ہم تو کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے وہ جنتی ہیں اور ہمیشہ جنت ہی میں رہیں گے4

ف 4 یہ جملہ ہم تو کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے جملہ معترضہ ہے اس لے ترجمہ میں قوسین کے درمیان لکھا گیا ہے اس جملہ کو دمیان میں لانے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ جنت میں جانے لانے سے یہ بتابا مقصود ہے کہ جنت میں جانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو کام فرض کئے ہیں وہ نہایت آسان اور انسانی طاقت کے اند ر ہیں لہذ ہر شخص کو ان کے لیے بجالانے کی کوشش کرنی چاہیئے (کذافی لکبیر، وحیدی )
Ayah 7:43

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰىنَا لِهٰذَا١۫ وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ١ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:43 in the Quran reader

اور ان کے دلو میں جو کچھ کینہ ہوگا وہ ہم نکال ڈالیں گے5 ان کے تلے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور وہ کہتے ہوں گے خدا کا شکر جس نے ہم کو یہ رستہ دکھایا (ایمان کا اور نیک اعمال کا جس کے بدلے میں یہ ہمیشہ کا عیش ملا) اور اگر اللہ ہم کو راہ پر نہ لاتا تو ہم جنت کی راہ نہ پاتے6 بیشک ہمارے مالک کے پیغمبر سچی بات لے کر آئے گھے7 اور ان سے پکار کر کہہ دیا جائے گا یہ جنت ہے تم اپنے کاموں کے بدل اس کے وارث ہوئے8

ف 5 یعنی ان کے دل ایک دوسرے کی طرف سے بالکل صاف اور پاک کردیئے گائیں گے اور ان میں سے کوئی شخص دوسرے کو خلاف نفرت یا حسد کر جذبات نہیں رکھے گا حضرت علی ؓ فرماتے ہیں مجھے امید ہے کہ میں عثمان طلحہ اور زبیران لوگوں میں سے ہوں گے جن کا اس آیت میں ذکر ہے ّکذافی المو ضح)6 حضرت ابوہریر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر جہنمی جنت میں اپنا ٹھکا نہ یکھے گا اوحسرت کرے گا کہ کاش اللہ تعالیٰ مجھے بھی ہدایت دیتا اور ہر جنتی جب جہنم میں اپنا ٹھکانہ دیکھے گا شکر کرے گا کہ اللہ تعالیٰ مجھے ہدایت نہ دیتا تو میرا یہ ٹھکاناہو تا۔ ( ابن جریر۔ نسائی)7 یہ بات اہل جنت کہیں گے کہ وقعی ان کی بات سچی تھی کہ ایمان اور عمل صالح کی جزا جنت ہے۔ ( کبیر)8 نیک اعمال کے بدلے جنت مل جانا بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر کوئی عمل چاہے وہ کتنا ہی نیک ہو خود کوئی نفع نہیں دے سکتا نبی ﷺ نے ایک مرتبہ صحابہ سے فرمایا جان لوتم میں سے کسی کا عمل سے جنت میں داخل نہیں کرے گا صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا آپ کا عمل بھی آپ کو جنت میں داخل نہیں کرے گا فرمایا ہاں میرا عمل بھی نہیں الا یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل و رحمت سے ڈھانک لے (بخاری مسلم) حضرت شاہ صاحب لکھت ہیں جنت کا وارث فرمایا یعنی آدم کی میراث پائی۔ ( مو ضح)
Ayah 7:44

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا١ؕ قَالُوْا نَعَمْ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 7:44 in the Quran reader

اور جنتی دوزخیوں کو پکاریں گے (ان کے چھیڑنے کو اور ان کے زخم پر نمک چھرکنے کو) ہم سے جو ہمارے مالک نے وعدہ کیا تھا وہ تو ہم نے سچ پایا اب تم سے جو تمہارے مالک نے وعدہ کیا تھا اس کو تم نے سچ پایا یا نہیں9 وہ کہیں گے ہاں سچ پایا اتنے میں ایک پکارنے والا ان کے (دونوں گروہوں کے) بیچ میں (یعنی اس طرح کہ دونوں سنیں کار اٹھے گا کہ ظالموں پر خدا کی پھٹکار

ف 9 یہ بات دوزخیوں کور تقریع اور توبیخ کے طور پر کہی جائے گی بالکل انہی الفا ظ کے ساتھ آنحضرت ﷺ نے بدر کے دن جو کافرقتل ہوگئے تھے ان کے نام لے لے کر پکارا تو حضرت عمر نے عرض کی اے اللہ کے رسول آپ مردہ لاشوں کو پکار ہے ہیں اس پر آپ ﷺ نے فرمایا مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد جان ہے جو کچھ میں کہہ رہا ہوں تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے ہو لیکن یہ جواب نہیں دے سکتے قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اذیت اور حسرت میں اضافے کی غرض سے ان کو زندہ کر کے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد انہیں سنوادیا تھا واللہ اعلم (ابن کبیر )
Ayah 7:45

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَۘ Open ayah 7:45 in the Quran reader

جو اللہ تعالیٰ کے رستے سے (لوگوں کو) روکتے ہیں اور اس کو ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں1 اور وہ آخرت کو بھی نہیں مانتے2

ف 1 یعنی اس میں شکوک و شبہات پیدا کو کے لوگوں کو اس سے نفرت دلاتے ہیں یا لوگوں کو دھمکی دے کر راہ حق سے روکتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ راہ سیدھی نہیں ہے صحیح ہو راہ وہ ہے جس پر ہم چل رہے ہیں۔ ( کبیر قرطبی)2 یعنی وہ ظالم جو ان تین صفات سے متصف ہوں گے ان پر لعنت نہیں کی۔ کبیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں حق تعالیٰ نے قرآن شریف میں بےانصاف ( ظالم) فرمایا اکثر گناہوں پر لیکن لعنت نہیں کی مگر ایسوں پر ( مو ضح) مطلب یہ ہے یہ کہ ہو بےمحا باہر قسم کے برے اقوال و اعمال کا رتکاب اس لیے کر رہے ہیں کہ وہ آخرت کے منکر ہیں
Ayah 7:46

وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ١ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١۫ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ Open ayah 7:46 in the Quran reader

اور بہشت اور دوزخ درمیان ایک آڑ ہے3 اور اعراف پر کچھ لوگ ہوں گے جو جنتیوں اور دوزخیوں سب کو ان کے نشان سے پہچان لیں گے5 اور یہ اعراف والے جنتیوں کو پکار کہیں گے سلام علیکم ابھی (یہ اعراف والے یا جنت) جنت میں گئے نہ ہوں گے اور امید رکھتے ہوں گے6

ف 3 جو جنت اور جہنم کے درمیان ایک دیوار ہوگی جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا فضرب بینھم بسور تو ان کے یعنی جنتیوں اور جہنمیوں کے درمیان ایک دیوار بناد ی جائے گی ( حدید 13) اور فتح الر حمن میں ہے وآم مسی باعرف مست یعنی اس حجاب کو اعراف کہا جاتا ہے۔4 اعراف عرف کی جمع ہے اور لغت میں عرف بلند جگہ کو کہتے ہیں۔ لہذا اعراف سے مراد دیوار کی بلندیاں ہیں، جہاں ٹھہرنے والوں کو ایک طرف جنتی اور دوسری طرف جہنمی لوگ نظر آئیں گے۔ امام رازی (رح) لکھتے ہیں کہ یہ قول ابن عباس ؓ کا ہے وعلیہ الا کثرون (کبیر)5 مثلا جنتیوں کے چہرے سفید اور نورانی ہوں گے۔ اور جہنمیوں کے کالے سیاہ جنتویں کے مو ضع وضو چمک رہے ہوں، اعراف میں کون لوگ ہوں گے، اس بارے میں مفسرین کے متعدد اقوال ہیں۔ علامہ قرطبی نے دس اقوال نقل کئے ہیں۔ ان میں سب سے مشہور قول جسے ئ جمہور مفسرین نے کثرت روایات کی بنا پر ترجیح دی ہے کہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی اس لے نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے اور نہ دوزخ میں ( ابن کثیر وغیرہ)6 یعنی جنت میں جانے کی امید رکھتے ہو نگے اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ اعراف والے ابھی جنت میں داخل نہ ہوئے ہوں گے مگر امید رکھتے ہوں گے کہ انہیں آئندہ جنت نصیب ہوگی، دوسرے یہ کہ اعراف والے ان لوگوں کو پیاریں گے جن کا جنتی ہونا انہیں ان کی علامات دیکھ کر معلوم ہوجائے گا حالانکہ وہ ابھی حساب کتاب میں مشغول ہوں گے۔ ( ابن کثیر۔ )
Ayah 7:47

وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:47 in the Quran reader

اور جب انکی نگاہ دوزخیوں کی طرف جا پڑے گی7 تو ان کا عذاب اور برا حال دیکھ کر کہیں گے مالک ہمارے ہم کو ان ظالم لوگوں کے ساتھ مت کر8

ف 7 ان کی نگاہیں پھیری جائیں گی مجہوم کا صیغہ ہے جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اعراف والے جنتیوں کی طرف تو شوق اور رغبت سے دیکھیں گے اور انہیں سلام کریں کے مگر جمہور کی طرف خود نگاہ اٹھانا پسند بھی نہ کریں گے ان پر اتفاقا ان کی نگاہ پڑجائے گی (المنار)8 جہاں وہ اب ہیں یا آیندہ ہوں گے۔
Ayah 7:48

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 7:48 in the Quran reader

اور اعراف والے کچھ لوگوں کو پکاریں گے جن کو ان کے نشان سے پہچان لیں گے کہیں گے9 اب تمہارا جتھا (جماؤ یا خزانہ) کچھ تمہارے کام نہ آیا اور نہ جو تم شیخیاں مارتے تھے (غرور اور تکبر کرتے تھے)

ف 9 کہ یہ جہنمی ہیں یا جن کو وہ دنیا میں پہچانتے ہوں گے۔۔ (وحیدی )
Ayah 7:49

اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ١ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:49 in the Quran reader

(اور جنتیوں کی طرف اشارہ کرکے ان دوزخیوں سے کہیں گے) کیا یہی لوگ ہیں جن کے لیے تم قسمیں کھاتے تھے کہ اللہ ان پر رحمت نہیں کرنے کا10 تم تو مزے سے جنت میں جاؤ ہ تم کو کوئی ڈر ہے نہ تم رنجیدہ ہوگے

ف 10 جیسا کہ قریش کے کھاتے پیتے لوگ جب نبی ﷺ کے پاد غریب مسلمانوں کو دیکھتے تو قسمیں کھاکھا کر کہتے کہ ان لوگوں یہ حیثیت نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت سے نوازے پھر اللہ تعالیٰ نے ان غریب مسلمانوں سے یا اعراف والوں سے فرمائے گا (وحیدی )
Ayah 7:50

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 7:50 in the Quran reader

اور دوزخی جنتیوں کو پکاریں گے اور کہیں گے تھوڑا پانی ہم پر ڈالو یا جو خدا نے تم کو کھانے کو دیا ہے (اس میں سے کچھ ہم کو دو ) وہ کہیں ہم تم کو کیوں کر دے سکتے ہیں) اللہ نے تو جنت کا کھانا پانی کافروں پر حرام کردیا ہے11

ف 11 لہذا ہم تم سے کوئی ہمدردی کا سلوک کرکے اس کی نافرمانی کریں گے۔ (وحیدی) بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اصحاب اعراف کے جنت میں داخل ہونے کے بعد کفار جہنمی لوگ یہ فریاد کریں گے ( شوکانی )
Ayah 7:51

الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَا١ۙ وَ مَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 7:51 in the Quran reader

جنہوں نے اپنے دین کو ہنسی اور کھیل بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے ان کو فریب دیا تھا1 ہم بھی آج کے دن ان کو ھول جائیں گے2 جیسے وہ اس دن کا یعنی قیامت کا آنا بھول گئے تھے اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے3

ف 1 یعنی وہ اسی کو سب کچھ سمجھے بیٹھے تھے خدا اور آخرت سے غافل تھے۔2 یہاں نیسان بمعنی ترک ہے یعنی دوزخ میں ڈال کر ان کی کوئی خبر نہ لیں گے یا یہاں جزائے ئ نسیان کو نسیان سے تعبیر فرمایا ہے یعنی آخرت خواہ کتنا ہی پکاریں ان پر کبھی رحم نہیں کیا جائئے گا۔3 یعنی دین کی عظمت احساس ان کے دلوں سے نکل چکا ہے اور دنیاوی زندگی نے ان کو غرور میں مبتلا کر رکھا ہے اس بنا پر وہ آیات الیٰ کا شدت سے انکار کر رہے ہیں حدیث میں ہے حب الدنیا راو کل خطیئتہ کہ دنیا کی محبت ہر خطا کی جڑ ہے ( رازی )
Ayah 7:52

وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:52 in the Quran reader

اور ہم نے تو ان کافروں کو ایک کتاب بھی پہنچا دی جس میں ہمنے جان کر تفصیل سے ہر ایک حکم بیان کیا ہے وہ ایمان والوں کے لیے ہدایت و رحمت ہے4

ف 4 فرق ثلاثہ کا مکالمہ نقل کرنے کے بعد اب سے آیت کی دعوت دی جارہی ہے۔ (رازی)5 اس میں تکذیب کرنے والوں کی تنبیہ فرمائی ہے کہ کیا قرآن کا شرف بیان کر کے اس پر غور وفکر کر دعوت دی جا رہی ہے (رازی)5 اس میں تکذیب کرنے والوں کو تنبیہ فرمائی ہے کہ کیا قرآن میں جس عذاب دینوی یا اخری کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے وہ اس کے پیش آنے کا انتظار کر رہے ہیں ( رازی )
Ayah 7:53

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 7:53 in the Quran reader

کیا اس کے ہو پڑنے کا انتظار کر رہے ہیں5 جس دن وہ ہو پڑے گا تو جو لوگ دنیا اس کو بھولے بیٹھے تھے وہ کہنے لگیں گے بیشک ہمارے مالک کے پیغمبر سچی بات لے کر آئے تھے (سچ کہتے تھے) اب کوئی ہارے سفارشی ہیں (یعنی کاش کوئی ہمارے سفارشی ہوتے) جو سفارش کریں ہماری یا (اتنا ہی ہو کہ) ہم (دنیا میں) لوٹا دئیے جائیں تو جیسے کام ہم پہلے دنیا میں) کرتے تھے اب وہ نہ کریں دوسرے اچھے کام کریں یہ لوگ اپنی جانیں تباہ کرچکے اور جتنی جھوٹی باتیں بناتے تھے وہ گئی گذریں7

ف 6 شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی کافر راہ دیکھتے ہیں کہ اس کتاب میں خبر ہے عذاب کی ہم دیکھ لیں کہ ٹھیک پڑے تب قبول کرلیں سو جب ٹھیک پڑے گی تو خلاص کہا ملے گی خبر اس لیے ہے کہ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ جن کو ہم اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رہے ہیں وہ کسی آڑے وقت ہمارے کام آئیں مگر اب ان کا کچھ پتہ نہیں (شوکانی )
Ayah 7:54

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا١ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ١ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:54 in the Quran reader

بیشک تمہارا مالک اللہ تعالیٰ ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے8 پھر زمین و آسمان بنانے کے بعد تخت پر چڑھا9 رات سے دن کو ڈھانپتا ہے (اور دن کو رات سے) رات دن کے پیچھے لگی دوڑی آرہی ہے اور سورج اور چاند اور تاروں کو بنایا وہ حکم کے تابعدار ہیں10 سن لو اسی نے سب کچھ بنایا اسی حکومت ہے، اللہ تعالیٰ کی برکت بڑی ہے جو سارے جہان کا مالک ہے

ف 8 اور ہر دن ایک ہزار سال کا ہے۔ (شوکانی) دیکھئے سورت حج آیت 47 ۔ مطلب یہ ہے کہ یہاں دنوں سے ہمارے دن مراد نہیں ہیں جن کا تعلق سورج اور زمین کی گردش سے ہے کیونکہ ان سے لمبا زمانہ یا چھ ادوار مراد ہیں قرآن کی مخلتف آیات پر غور کرنے سے یہ بھی معلوم ہوسکتا ہے کہ ہر دور میں کون سی چیز بنائی گئی دیکھئے سورة فٖصلت آیت 10 ۔۔۔ صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یوم الا حد ( اتوار) سے خلق کی ابتدا ہوتی ہے اور جمعہ کے دن تمام ہوگئی ( ابن کثیر، المار ) 9 استویٰ علی العرش قرآن میں ساتھ مقامات پر آّیا ہے اس کے معنی عرش پر بلند ہونے کے ہیں سلف صالح نے بلاتاویل اللہ کو عرش پر تسلیم کیا ہے۔ چناچہ منقول ہے کہ اس تو کے معنی تو معلوم ہیں مگر اس کی کیفیت ہماری عقل سے با لا ہے اس کا اقرار ایمان ہے اور انکار کفر ہے یہی مذہب آئمہ اربعہ کا ہے پس صحیح عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ساری مخلوق سے الگ عرش پر ہے تاہم اس کا علم وقدرت سب پر حاوی ہے اہل حدیث کا یہی عقیدہ ہے اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عرش آسمان و زمین پر محیط ہے ( ابن کثیر، شوکانی)10 یعنی اللہ تعالیٰ نے جو وقت اور راستہ ان کے لیے مقرر فرمایا ہے وہ اسی پر چلتے رہتے ہیں اور اس سے سرمو انحراف نہیں کرسکتے۔ (کذافی الکبیر ) 11 یعنی جس طرح خلق میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے اسی طرح حکم اور قانون بنانے کا اختیار بھی اسی کو ہے ،
Ayah 7:55

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ Open ayah 7:55 in the Quran reader

اپنے مالک کو گڑگڑا کر چپکے چپکے پکارو کیونکہ وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا12

ف 12 یعنی دعاذات و خشوع کے ساتھ ہونی چاہیے اور دعا میں اخفا مستحب ہے کیونکہ اس سے اخلاص پیداہو تا ہے اور ریاکاری راہ نہیں پاتی اور لایحب المعتدین کے معنی یہ ہیں کہ حدود شریعت سے تجاوز کسی صورت بھی اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں اور ایسی چیز کی دعا کرنا ممکن ہو۔ مثلام دنیا میں ہمیشہ زندہ رہوں یا یہ کہ آخرت میں انبیا کا مرتبہ حاصل ہوجائے وغیرہ دعا میں حد سے تجاوز ہے اسی طرح چیخا چلایا جائے اور ادعئیہ یا ثورہ کو چھوڑ کر مقفی کلام اور اشعار پڑھ کر دعا کی جائے وغیر بھی اعتدا فی الد عا میں داخل ہے۔ ( شوکانی وغیرہ) ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ لوگ بلند آواز سے دعا کرنے لگے آنحضرت ﷺ نے فرمایا لوگو اپنے تئیں آرام دو ، ( یعنی ذرا آہستہ پکا رو) کیونکہ تم کسی گونگے یا غائب کو نہیں پکار ہے ہو بلکہ جسے پکار رہے وہ سننے والا بھی ہے اور تم قریب بھی ہے۔ ( بخاری ومسلم)
Ayah 7:56

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:56 in the Quran reader

اور جب اللہ کے پیغمبر اور اس کی کتاب کے آنے سے ملک سنور گیا ہو تو اس میں خرابی نہ مچاؤ13 ا اور اللہ کو اس کے عدل سے ڈر کر اور اس کے فضل کی امید رکھ کر پکارو کیونکہ اللہ کی رحمت نیک لوگوں سے نزدیک ہے2

ف 13 یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور شرک کے کام مت کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ سے کفر کرنا اور معاضی کا رتکاب ہی فساد فی الارض ہے۔ (شوکانی ) 1 یعنی دعا کرتے وقت اللہ تعالیٰ کو خوف بھی ہو اور دعا کی قبولیت کی دل میں طع بھی۔ ( شوکانی) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ پر دیر مت ہو اور ناامید بھی مت ہو طمع میں یہ چیز بھی داخل ہے کہ انسان دعا کے بعد مایوس نہ ہوجیسا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم میں سے کسی کی دعا اسی وقت تک قبول ہوتی ہے جب تک وہ جلدی نہ کرے ارجلدی یہ ہے کہ انسان یہ کہہ کے میں نے اپنے رب سے دعا کی مگر اس نے قبول نہ کی۔ ( بخاری۔ مسلم)2 اس میں ترغیب ہے اور قریب فصیل کے وزن پر ہے جب یہ مسافت کے لیے آئے تو اس میں تذکیر وتانیث برابر ہوتی ہے اور اگر نسب کے لیے ہو تو بلا اختلاف قریبتہ (مو نث) بولا جاتا ہے ( شوکانی )
Ayah 7:57

وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:57 in the Quran reader

اور وہی خدا ہے جو مینہ سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے وہ خوش خبری دیتی ہیں یہاں تک کہ جب یہ ہوائیں بوجھل بادل کو لاد لاتی ہیں تو ہم اس کو مری (اجاڑ سوکھی) بستی کی طرف ہانک لے جاتے ہیں پھر وہاں (یا اس بادل سے) پانی برساتے ہیں پھر پانی سے ہر قسم کے پھل اگاتے ہیں اسی طرح ہم مردوں کو بھی زمین سے نکالیں گے4 تاکہ تم سوچو5

ف 3 یہاں رحمت سے راد بارش ہے۔ ( شوکانی)4 جیسے پانی سے ہر طرح کے پھل نکالتے ہیں۔ (وحیدی)5 یعنی جس ذات پاک نے مردہ زمین کو دم بھر میں زندہ کردیا وہ انسانوں کو بھی ان کے مرجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرسکتی ہے اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عظمت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ ( شوکانی )
Ayah 7:58

وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:58 in the Quran reader

اور جس بستی کی مٹی اچھی ہے وہاں خدا کے حکم سے پیداوار اچھی ہوتی ہے اور جس کی مٹی خراب ہے وہاں پیداوا نہیں ہوتی مگر مشکل سے یا تھوڑی وہ بھی نکمی6 ہم اسی طرح پھیر پھیر کر اپنی نشانیاں ان لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں جو شکر گزار ہیں

ف 6 اور یہی مومن اور منافق ( یا کافر) کے دل میں کی مثال ہے جیسا کہ تابعین سے مروی ہے کہ ( شوکانی) حضرت ابو موسیٰ ٰ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے جو علم و ہدایت دے کر بھیجا ہے اس کی مثال اس باران رحمت کی ہے جو ایک زمین پر بر سی اس کے جو حصے زرخیز تھے انہوں نے پانی کو جذب کرلیا اور خوب گھاس اور چارہ اگایا بعض حصے سخت تھے انہوں نے پانی کو روک رکھا جو لوگوں نے پیا اور اس سے اپنے کھیتوں کو بھی سراب کیا اور بعض حصے چٹیل میدان تھے انہوں نے نہ پانی کو روکا اور نہ کوئی سبزہ اگایا یہی مثال اس شخص کی ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے دن کو سمجھ کر اس دو سروں کو فائدہ پہنچا یا اور اس شخص کی بھی جو نہ خود سمجھا اور نہ اس نے دوسروں کو فائدہ پہنچا۔ ( ابن کثیر )
Ayah 7:59

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:59 in the Quran reader

(قسم خدا کی) ہم نے نوح (بن ملک بن متوشلخ) کو اس کی قوم کی طرف بھیجا7 اس نے کہا بھائیو اللہ تعالیٰ کو پوجو اس کے سوا کوئی تمہارا سچا معبود نہیں (اگر تم اور کسی کو پوجو و گے تو) مجھ کو تم پر بڑے دن کے عذاب (یعنی قیامت کے دن یا طوفان کے دن) کا ڈر ہے

ف 7 اوپر بیان فرمایا ہے کہ ہدایت الہی اور اس کے برکات سے مستفیض ہونے یا نہ ہونے میں لوگوں کی دو قسمیں ہیں ایک پاکیزہ فطرت ( طیب) جو ہدایت الہیٰ اور اس برکات سے خود بھی فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے علم وعمل سے دوسروں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے دوسرے وہ جو شررت پسند اربد فرطرت ہوتے ہیں یہ لوگ باران ہدایت سے فائدہ اٹھانے کی بجائے الٹے چھاڑیاں اور کانٹے بن کر نکل آتے ہیں اور ان کے دلوں کی زمین چونکہ شور ہوتی ہے اس یے ان پر باراب رحمت چنداں فائدہ بخش نہیں ہوسکتی اس کے بعد اب یہاں سے تاریخی شواہد کے طور پر پہلی قوموں کے واقعات بیان کر کے گویا تاریخی شواہد کے طور پر پہلی قوموں کے وقعات بیان کر کے گویا تاریخی ثبوت پیش کیا ہے کہ ہمیشہ سے لوگ دو قسم کے چلے آئے ہیں ( از ماخوذ ابن کثیر) حضرت نوح چونکہ سب سے پہلے نبی مرسل تھے جو مشرک قوم کی طر بھیجے گئے جیسا کہ حدیث شفاعتہ کبری اور بعض دوسری رایات سے معلوم ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے انہی کا قصہ بیان فرمای ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں آدم ( علیہ السلام) سے لے کر دن قرن ایسے گزرے ہیں بنی آدم توحید پر قائم رہے اور حضرت نوح ( علیہ السلام) کی قوم سب سے پہلی قوم ہے جس نے اپنے بعض نیک لوگوں کی یاد تازہ رکھنے کے لیے ان کے مجسمے بنائے اور پھر انکی پوجا کرنے لگی ان مجسموں کے نام سورة نوح میں مذکور ہیں قوم نوں ملک عراق میں آباد تھی جو حضرت ابراہیم کا مو لد ہے حضرت نوح ( علیہ السلام) کا زمانہ تقریبا 3800 ق م تا 2850 ق م ہے۔ ( ابن کثیر، ابو الفدار )
Ayah 7:60

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 7:60 in the Quran reader

اس کی قوم کے سردار کہنے لگے۔ ہم تو بیشک سمجھتے ہیں تو کھلی گمراہی میں ہے8

ف 8 کہ اپنے آبائی دین کو چھوڑ کر ہمیں بھی ایک نئے دین ( تو حید) کی طرف کھنچنا چاہتا ہے انبیا ( علیہ السلام) کے واقعات یہ بات قرآن نے نما یاں طور پر بیان کی ہے کہ ان کی دعوت توحید کی مخالفت کرنے والوں میں امرا کا طبقہ ہر زمانہ پیش پیش رہا ہے کیونکہ ایک انقلابی دعوت کا پہلا نشانہ یہی لوگ بنتے ہیں۔
Ayahs 7:61–62

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:61 in the Quran reader

نوح نے کہا بھائیو میں تو گمراہ نہیں ہوں (مجھ میں گمراہی کی کون سی بات ہے) البتہ اس کا بھیجا ہو اہوں جو سارے جہان کا مالک ہے

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:62 in the Quran reader

میں تم کو اپنے مالک کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری بھلائی چاہتا ہوں (تمہارا خیر خواہ ہوں اور اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے9

ف 9 کیونکہ میری طرف وحی میری طرف وحی آتی ہے اور تمہاری وحی نہیں آتی۔ ( شوکانی )
Ayah 7:63

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:63 in the Quran reader

کیا تم کو اس بات پر تعجب ہا کہ تمہارے مالک کا ارشاد تم ہی میں سے ایک مرد کی زبان پر تم کو پہنچا اس لیے کہ وہ تم کو اس کے عذاب سے ڈرائے اور اس لیے کہ تم گناہوں سے بچو اور اس لیے کہ تم پر رحم ہو1

ف 1 اشارہ فرمایا کہ انبیا کی دعوت قبول کرن لینے سے دلوں میں تقوی ٰ پیدا ہوتا ہے اویہی تقوٰ آخرت میں جالب رحمت بنے گا۔ (رازی)
Ayah 7:64

فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ Open ayah 7:64 in the Quran reader

آخر ان لوگوں نے، نوح کی قوم نے، اس کو جھٹلایا تو ہم نے اس کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ کشتی میں (بیٹھے) تھے بچا لیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کو ڈبو دیا2 کیونکہ وہ اندھے لوگ تھے

ف 2 یعنی آخر مخالفین طوفان سے ہلاک ہوگئے اور ان مومنین نے نجات پائی۔ جو سفینہ میں سوار تھے، طوفان نوح کا تخمینی سال 3200 ق م ہے۔ بیان کرتے ہیں کہ حضرت نوح ( علیہ السلام) کا یہ سفینہ سہ 3 منزلہ تھا، توریت میں اس کی پیمائش حسب ذیل ہے۔ طول 300 ہاتھ عرض 50 ہاتھ اونچائی ہاتھ توریت کے بیان کے مطابق یہ جہاز تقرینا پانچ ماہ چلتا رہا۔ سر زمین عراق میں اب بھی اس طوفان کے آثار ملتے رہتے ہیں۔
Ayah 7:65

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 7:65 in the Quran reader

اور ہم نے عاد کی قوم کی طرف ہود کو بھیجا3 اس نے کہا اے بھائیو اللہ کو پوجو اس کے سوا کوئی تمہارا سچا معبود نہیں کیا تم اس کے عذاب نہیں ڈرتے

ف 3 عاد عرب کے ایک قدیم ترین قوم تھی، جو جنوب عرب میں اباد تھی، قرآن کے بیان کے مطابق اس کا مسکن احقاف اک علاقہ تھا جو حجاز یمن اور عمان کے دورمیان واقع ہے اور اب ربع خالی کے نام سے مشہور ہے۔ یمن کا شہر حضرموت ان پا یہ تخت تھا۔ ان کا نسب یوں مذکور ہے، عاد بن عوض بن ارم بن سام بن نو ح۔ ( ابو لفدا) ہود ( علیہ السلام) کی قوم عاد قرآن میں عاد رام یا عاداولی ٰ کے نام سے مذکور ہے، عادبن عوض بن ارم بن سام بن نو ح۔ ( ابو الفدا) ہود ( علیہ السلام) کو قوم عاد قرآن میں عاد ارم یا داولی کے نام سے مذکور ہے، حضرموت کے قریب ایک مقام پر حضرت ہود ( علیہ السلام) کی قبر بتائی جاتی ہے ( المار بحوالہ تاریخ بخاری) حضڑت ہود پہلے شخص ہیں جنہوں نے بو لنے میں عربی زبان استعمال کی یہ یمینی ان کے بیٹے قحطان کے اور نجد وحجاز کے تمام عرب ان کے لڑکے فانع کی اولاد ہیں . ( ابن عساکر )
Ayahs 7:66–69

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 7:66 in the Quran reader

اس کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے ہم تو بےشبہ سمجھتے ہیں تو احمق ہے اور ہم بیشک خیال کرتے ہیں کہ تو جھوٹآ ہے (جو کہتا ہے کہ میں اللہ کا بھیجا ہوا ہوں)

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:67 in the Quran reader

ہود نے کہا بھائیو میں احمق نہیں ہوں البتہ اس کا بھیجا ہوا ہوں جو سارے جہان کا مالک ہے

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ Open ayah 7:68 in the Quran reader

میں تم کو اپنے مالک کے پیغام پہنچاتا ہوں اور میں تمہارا خیر خواہ ایماندار (دوست) ہوں

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:69 in the Quran reader

کیا تم کو اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے مالک ارشادتم ہی میں سے ایک مرد کی زبان پر تم کو پہنچا اس لیے کہ وہ تم کو اس کے عذاب سے ڑائے اور تم اللہ کا وہ احسان یاد کرو جب نوح کی قوم کے بعد تم کہ ان کا جنشین کیا اور بدن کا پھیلا بھی تم کو زیادہ دیا4 تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تمہارا بھلا ہو ( یا تم مراد کو پہنچو)

ف 4 یعنی تم کو قوی اور زیردست بنایا۔ اور قوم نوح ( علیہ السلام) کے بعد ایک زبر دست قوم کی حیثیت سے تمہیں زمین پر آباد کیا یہاں خلفا سے یہی معنی مراد ہیں یہ مطلب نہیں ہے کہ قوم نو ھ کے وطن عراق میں انکا جانیشن مقرر کیا ( قر طبی) بعح علمائے تفسیر نے قوم عاد کی جسمانی قوت اور انکے قدر قامت کی لمبائی کے بارے میں عجیب و غریب روایات نقل کی ہیں، مثلا یہ کہ عاد کی قوم کا ایک لمبا آدمی سو ہاتھ کا اور اسب سے چھوٹے قد کا ساٹھ ہاتھ کا ہوتا تھا۔ اور بعض روایا میں ہے کہ اس کا ایک آدمی اتنے پتھر کو اکیلا اٹھا لیتا تھا جسے ہمارے زمانہ کے پانچ سو آدمی بھی نہیں اٹھا سکتے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ تمام روایات تاریخی کہانیوں کی حیثیت رکھتی ہیں جن پر کوئی اعتماد نہیں کیا جاسکتا، البتہ یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ عاد کے لوگ غیر معمولی جسمانی قوت اور قدو قامت رکھتے تھے جیسا کہ سورة ہود شعرا اور فصلت میں میں مذکور ہے۔ ( فتح البیان )
Ayahs 7:70–71

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:70 in the Quran reader

انہوں نے یعنی ہود کی قوم نے کہا کیا تو اس لیے ہمارے پاس آیا کہ ہم اکیلے ایک خدا کو پوجنے لگیں اور ہمارے باپ دادا جن معبودوں کو پوجتے تھے ان کو چھور بیٹھیں اچھا اگر تو سچا ہے تو جس عذاب سے ہم کو ڈراتا ہے وہ لے کے آ

قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 7:71 in the Quran reader

ہود نے کہا تمہارے مالک کا عذاب غہ تو تم پر ہوچکا (یعنی اب اس کے آنے میں، کیا تم مجھ سے ان ناموں میں جھگڑتے ہو جو نام ہی نام ہیں حقیقت کچھ نہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے گھڑ لیے ہیں اللہ نے ان کی کوئی سند نہیں ا اتری2 بھلا تو ٹھیرے رہو میں بھی تمہارے ساتھ ٹھہرا ہوں عذاب کا انتظام کرتے رہو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں

ف 1 کسی بارش کا کسی کو ہوا کا کسی کو پانی کا کسی کو دولت کا اور کسی کو بیماری کا خدا کہتے ہو حلان کہ ان میں سے کوئی بھی در حقیقت کسی چیز کا خدا نہیں ہے۔ یہ صرف نام ہیں ان کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں ہے۔ (وحید ی وغیرہ ) 2 اس نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ میں نے اپنی خدائی کی اس قسم کے اختیارات فلاں کو مشکل کشا فلاں کو گنچ بخش، فلاں کو غوث، فلاں دستگیر اور فلاں کو داتا صاحب بنادیا، یہ اور اس قسم کے دوسرے القا لوگوں نے اختراع کر کے ان بزرگوں کی طرف منسوب کردیئے ہیں اور شرک کا موجب بنتے ہیں
Ayah 7:72

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 7:72 in the Quran reader

آخر ہم نے ہود کو اور اس کے ساتھ ایمان والوں کو اپنی مہربانی سے بچا لیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کی جڑی (یا پچھاڑی) کاٹ دی اور وہ (کبھی) ایمان لانے والے نہ تھے3

ف 3 الہ تعالیٰ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر ان کے تباہ کئے جانے کی کیفیت تفصیل مثلا سورت ذاریات (آیت 41 اور سورت الحاقہ آیت 7 میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر طوفان خیز آندھی چلائی جو مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہی۔ وہ آندھی اس قدر تندوتیز تھی کہ جس چیز پر سے گزرتی اسے چورا کر ڈالتی حتی کہ ان کے پٹخ پٹخ کر ہلاک کر ڈالا۔ ان کی لاشیں اس طرح دکھائی دیتیں جیسے کھجور کے کھو کھلے تنے میں ( ابن کثیر) قرآن نے یہاں اور دوسرے مقامات پر بھی تصریح فرمائی ہے کہ عاد اولی کا نام ونشان تک باقی نہ چھوڑا اور عرب مئورخین بھی بالا تفاق ان کو عرب ہائدہ میں شمار کیا ہے، صرف حضرت ہود ( علیہ السلام) اور ان کے متبعین اس عذاب سے محفوظ رہے اور بقول بعض ان کی نسل عادثانیہ کے نام سے معروف ہے۔ بعض آثار قدیمہ سے انکے متعلق معلومات بھی ملتی ہیں۔
Ayah 7:73

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 7:73 in the Quran reader

اور ہم نے ثمود کی طرف4 صالح کو بھیجا5 اس نے کہا بھائیو اللہ تعالیٰ کو پوجو اس کے سوا کوئی تمہارا سچا معبود نہیں ہے تمہارے پاس تو ایک نشانی (بھی) تمہارے مالک کی طرف سے آچکی یہ خدا پاک کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے6 تو اس کو چھٹآ پھرنے دو اور اللہ تعالیٰ کی زمین کھاتی رہے، چرتی رہے، اور برائی سے اس کو ہاتھ نہ لگاؤ پھ دکھ کا عذاب تم کا آن پکڑے7

ف 4 ان کا شمار بھی عرب کی قدیم ترین قوموں میں ہے عاد کے بعد سب سے مشہور قوم یہی تھی اس بنا پر بعض نے اسے عاد ثانیہ بھی لکھ دیا ہے ان کا مسکن مغربی عرب کا واہ علاقہ تھا جو آج بھی الحجر کے نام سے معروف ہے ( ابو الفد) مدینہ اور تبوک کے درمیان شام کو جا نے والی شاہراہ پر ایک شہر مدائن صالح کے نام سے مشہور ہے یہی قوم ثمود کا صد مقام تھا، وہاں اب بھی اچھی خاصی تعداد میں وہ عمارتیں پائی جاتی ہیں جو ثمود نے پہاڑوں کر تراش کر بنائی تھیں اور ان کے اردگر بڑا وسیع میدا ہے صحیح روایا میں ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر جب نبی ﷺ یہاں سے گزرے تو آپ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو ہدایت فرمائی کہ اس علاقہ سے جلدی گزرجائیں کیونکہ یہ عذاب سے تباہ ہونے والی قوم کا علاقہ ہے اور مقام پر آنحضرت ﷺ نے ایک کنویں کی نشا ند دہی کر کے بتایا کہ یہی وہ کنوا ہے جس سے حضرت صالح ( علیہ السلام) کی اونٹنی پانی پیا کرتی تھی۔ اور مسلمان کو ہدایت فرمائی کہ اس کنویں کے سوا کسی دوسرے کنویں سے پانی نہ لیں۔ یہ کنواں اب بھی موجود ہے مگر خشک ہوچکا ہے نیز ایک کو ہستانی درے ( فج کو دکھا کر آنحضرت ﷺ نے بتایا کہ یہی وہ جگہ ہے جس سے حضرت صالح ( علیہ السلام) کی اونٹنی پانی پینے کے لیے آیا کرتی تھی (ابو الفدا) یہ جگہ اب بھی فج النقتہ (اونٹنی کا درہ) کے نام سے معروف ہے۔ ، بعض سیاحت ناموں میں مذکور ہے کہ جس پہاڑی سے وہ اونٹنی بطور معجزہ برآمد ہوئی تھی اس میں اب تک شگاف موجود ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اس چٹان کا الکاتبہ لکھا ہے۔ (البدایہ)5 حافظ بغوی نے ان کا نسب نامہ یوں بیان کیا ہے۔ صالح بن عبیدبن آصف بن ماشح بن عبید بن ثمود (معالم) بن عاثر بن ارم بن سام بن نوح اور ثمود کے دو بھائی اور تھے جن کے بام پر جد یس اور طسم دو قبیلے مشہور ہیں۔ ( ابن کثیر) بعض نے لکھا ہے کہ جزیرہ نمائے سینا کے مسرق کنارہ پر حضرت صالح ( علیہ السلام) کی قبر موجود ہے جو آج بھی زیارت گاہ خلائق ہے اور اسی جزیرہ میں جبل موسیٰ ( علیہ السلام) کے قریب صالح ( علیہ السلام) کی اونٹنی کا نقد معروف ہے۔6 اسے ناقتہ اللہ اللہ کی اونٹنی فرماکر اس کی عظمت در معجزانہ شاکی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ بعض روایات میں جنہیں ابن جریر (رح) اور بعض دوسرے مفسرین (رح) نے ابو الطفیل سے نقل کیا ہے یہ قصہ مذکور ہے کہ صالح ( علیہ السلام) کی قوم نے ان سے درخواست لی کہ ہمیں کوئی معجزہ دکھا یا جائے اسے دیکھ کر ہم ایمان لے آئیں گے حضرت صالح ( علیہ السلام) ان پختہ عہد لے لیا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کی، دفعتا ایک ایک چٹان بھٹی اور اس میں سے ایک اونٹی نکل آئی چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو معجزانہ اور حضرت صالح ( علیہ السلام) کے صدق نبوت کی نشانی کے طور پر پیدا فرمایا تھا اس لیے وہ اللہ کی اونٹنی کہلائی اور قرآن نے متعدد مقامات پر اس اونٹنی کا جس انداز سے ذکر کیا ہے اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ نا قہ معجزہ کی حیثیت رکھتی تھی بلکہ سورت شعرا میں یہاں تک بیان کیا گیا ہے کہ حضرت صالح ( علیہ السلام) کی قوم نے ایک نشانی کا مطالبہ کیا اس کے جواب میں حضرت صالح ( علیہ السلام) نے ابن کے سامنے یہ اونٹنی پیش کی، ( دیکھئے رکو ع 8)7 یعنی اگر اسے ستاؤ گے، مارو گے یا زخمی کرو گے تو اللہ تعالیٰ کا عذاب تم پر نازل ہوجائے گا۔
Ayahs 7:74–75

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:74 in the Quran reader

اور (خدا کا وہ احسان) یاد کرو جب تم کو عاد کے بعد (ان کا) جانشین بنایا اور تم کو زمین میں بسایا تم اس کی نرم مٹی اینٹیں بنا کر) محل کھڑے کرتے ہو اور پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے ہو تو اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور ملک میں دھند مت مچاؤ (فساد نہ پھیلاؤ خلق اللہ کو مت ستاؤ یا اللہ کی اونٹنی کو)

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:75 in the Quran reader

صالح کی قوم میں جو سردار متکبر (گھمنڈی مغرور) تھے وہ ان لوگوں سے جو غریبوں میں ایمان لائے تھے پوچھنے لگے1 کیا تم کو معلوم ہے کہ صالح اپنے پروردگار کا بھیجا ہوا ہے انہوں نے کہا بیشک صالح جو دے کر بھیجا گیا ہے ہم کو تو اس پر یقین ہے2

ف 1 یعنی طنزا پوچھنے لگے۔2 یعنی نہ صرف ان کے رسول ہونے پر یقین ہے بلکہ ان کے دیئے ہوئے ایک ایک حکم کی صحت پر بھی یقین ہے۔
Ayahs 7:76–77

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 7:76 in the Quran reader

وہ متکبر (غروری) کہنے لگے ہم تو جس پر تم ایمان لائے ہو اس کو نہیں مانے

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 7:77 in the Quran reader

اور آخرت انہوں نے اونٹنی کاٹ ڈالی3 اور اپنے پروردگار حکم کو نہ مانا اور (اونٹنی کو مار کر ڈیٹ پنے سے) کہنے لگے صالح اگر تو پیغمبر ہے تو وہ (عذاب) ہم پر لے کر آتا جس کا کا ہم کو ڈراوا دکھاتا تھا4

یہ کام گو ایک شخص نے سر انجام دیا لیکن سب ہی مجرم قرار دیئے گئے اور اسب ہی پر عذاب آیا سورة قمر میں ہے فنا دا و صحبھم فتعاطی فعقر چناچہ انہوں نے رفیق کو پکارا س نے تلوار پکڑی اور ( انٹنی کاٹ ڈالا آیت 29) علمائے تفسری نے اس اشقی (بد بخت کا نام قداربن سالف لکھا ہے جو حرام زادہ تھا اس کے ساتھی آٹھ غنڈے اور تھے اور جو اپنی قوم کے سردار تھے ( دیکھئے سورة نحل آیت 48)4 یعنی کہتا تھا کہ دیکھنا اس اونٹنی کو ہاتھ نہ لگا بیٹھنا ورنہ اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے۔
Ayah 7:78

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ Open ayah 7:78 in the Quran reader

پھر نیچے سے ان کو بھونچال نے آ دبایا اور اوپر سے کڑک شروع ہوئی صبح کو اپنے گھر میں اوندھے (مرے پڑے تھے)5

ف 5 سورة ہود میں ہے کہ صالح ( علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ انہوں نے اونٹی کو کاٹ ڈالا ہے تو حضرت صالح ( علیہ السلام) نے انہیں تین دن کی مہلت دی جب یہ تین دن پورے ہوگئے تو ان پر عذاب نازل ہوا (دیکھئے آیت 25 سورة ود) علمائے تفسیر نے لکھا ہے کہ حضرت صالح ( علیہ السلام) اور آیت آپ کے اہل ایمان ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ نے بچالیا ان کے سوا ساری قوم ہلاک وہ گئی ان میں سے صرف ایک شخص ابو رغال ان دونوں حرم مکہ میں مقیم تھا وہ عذاب سے محفوظ رہا لیکن جب وہ حرم چھو کر طائف کی طرف روانہ ہو اتو وہ بھی ہلاک ہوگیا اور راستہ میں دفن کردی گیا کہتے ہیں کہ وہ ب نو ثقیف کا جدا اعلی ٰ ہے عبد اللہ بن عمرو سے ایک روایت میں ہے کہ جب ہم آنحضرت ﷺ کے ساتھ غزوہ طائف کے لے نکلے تو آنحضرت ﷺ نے راستہ میں فرمایا یا یہ ابو رغال کی قبر ہے جو ثقیف کا باپ ہے۔ ( ابن کثیر )
Ayah 7:79

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 7:79 in the Quran reader

تو صالح نے ان کی طرف سے منہ پھیرلیا6 اور کہنے لگا بھائیو میں نے تم کو اپنے مالک کو پیغام پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کی لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے

ف 6 یعنی عذاب آیا یا عذاب آنے کا وقت ہوا۔ حضرت صالح کی قوم پر دو طرح کا عذاب آیا یعنی اوپر سے صحیحتہ (چیخ) اور نیچے سے رجفتہ یعنی زلزہ ( ابن کثیر )
Ayah 7:80

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:80 in the Quran reader

اور (اے پیمبر) لوط کو یاد کرو7 جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا تم وہ بےشرمی کا کام (لواطت اغلام لونڈے بازی) کرتے ہو جو تم سے پہلے سارے جہان میں کسی نے نہیں کیا۔

ف 7 عربی انساب کی کتابوں اور بائیبل کی کتاب پیدائش سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لو ط ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بھتیجے تھے کتاب پیدائش میں یہ بھی مذکور ہے کہ ان کے والد کا نام حاران تھا اور وہ بابل کے ایک شہر میں پیدا ہوئے تھے اپنے والد کی وفات کے بعد حضرت لو ط ( علیہ السلام) بھی اپنے چچا حضرت ابراہیم کے ساتھ عراق سے نکل کھڑے ہوئے اور کچھ مدت تک شام و فلسطین میں دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دتیے رہے آخر کار حضرت ابراہیم نے انہیں ج مستقل طور پر شرق اور دن کے علاقہ میں سکونت رکھنے کا حکم دیا تاکہ وہاں کی بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح کی جائے اس علاقہ کا صدر مقام سدوم تھا جو بحیرہ مرادر کے قریب کسی جگہ پر واقع تھا سدوم کے علاقہ وہ اس علاقہ چار اور بڑے شہر تھے اور وہ سب کے سب نہایت آباد اور زرخیز تھے۔