7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 7:160–161

وَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا١ؕ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:160 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کے ٹکڑے کیے بارہ قبیلے (یعنی بارہ دادوں کے پوتے) بارہ گروہ اور جب موسیٰ کی قوم نے ان سے پانی مانگا تو ہم نے موسیٰ کو حکم دیا اپنی لکڑی پتھر پر مار مارتے ہی بارہ چشمے اس میں سے پھوٹ نکلے ہر قبیلے نے اپنا گھاٹ (پانی لینے کا مقام) معلوم کرلیا اور ہم نے ان پر ابر کا سایہ کیا6 اور ان پر من اور سلوی اتارا (اور ہم نے ان سے کہا) جو مزے مزے کے کھانے ہم نے تم کو دئیے ہیں وہ کھاؤ اور انہوں نے (نافرمانی کرکے) ہمارا کچھ نہ بگاڑا بلکہ اپنا نقصان آپ کرتے رہے

وَ اِذْ قِیْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ وَ كُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَ قُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِیْٓئٰتِكُمْ١ؕ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:161 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا گیا اس گاؤں (بیت المقدس یا اریحا) میں جا کر رہو اور وہاں کی چیزیں جو اس گاؤں میں پیدا ہوتی ہیں) جہاں چاہو اور حطۃ کہو اور دروازے میں جھک کر جاؤ ہم تمہارے گناہ بخش دیں گے (نہیں صرف گناہ بخشے جائیں گے) نیکوں کو اور زیادہ (نعمتیں) ہم دیں گے1

ف 1 یعنی ابھی ایک شہر فتح ہوا ہے آگے یعنی ابھی ایک شہر فتح ہوا ہے آگے سارا ملک ملے گا۔ ( موضح) یا مطلب یہ ہے کہ گناہ معاف کرنے کے علاوہ ان کے درجے بھی بلند ہوں گے ( دیکھئے سو رہ البقرہ آیت 58) اکثر مفسرین کی تحقیق یہ ہے کہ اس قریہ ( شہر) سر مراد ایلتہ ( یا ایلات ہے جو بحر قلزم کے ساحل پر مدین پر مدین اور طور کے درمیان واقع ہے۔ ( کبیر) یہ شہر بحر قلزم کے اند خلیج عقبہ میں اس جگہ واقع تھا جہاں کج این اردن کی بندر گاہ عقبہ پائی جاتی ہے اس کے قریب خلیج عقبہ ہی ہیں یہود یوں نے جو نئی بندر گاہ بنائی ہے اس کا نام نام انہوں نے ایلات ہی رکھا ہے تفہیم القرآن کے حاشیہ نمبر پر لکھا ہے کہ بنی سرائیل کے زمانہ عروج میں یہ شہر بڑاہم تجارتی مرکز تھا۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے بحر قلزم کے جنگی و تجارتی بیڑے کا صدر مقام اسی شہر کو بنایا تھا ،۔ ( ج 2 ص 59)
Ayahs 7:162–163

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ۠ Open ayah 7:162 in the Quran reader

تو جو لوگ ان میں ظالم (بےانصاف شریر گنہگار) تھے انہوں نے اس بات کو چھوڑ کر جو ان کو بتلائی گئی تھی کچھ اور کہنا شروع کیا (کہنے لگے حنطۃ فی شعیرۃ) آخر ہم نے ان کی شرارت کی سزا میں ان پر آسمان سے عذاب اتارا

وَ سْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ١ۘ اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْهِمْ حِیْتَانُهُمْ یَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّ یَوْمَ لَا یَسْبِتُوْنَ١ۙ لَا تَاْتِیْهِمْ١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:163 in the Quran reader

اور (اے پیمبر) ان یہودیوں سے اس گاؤں کا حال تو پوچھ جو سمندر (بحر قلزم) کے کنارے پر آباد تھا2 جب (ان کے باپ دادا) ہفتہ کے دن (خدا کی) نافرمانی کرتے تھے3 جب ان کا ہفتہ کا دن ہوتا تو مچھلیاں (پانی پر تیرتی ہوئیں) ان کے سامنے آجاتیں4 اور جس دن ہفتہ نہ ہوتا (اور کوئی دن ہوتا) تو نہ آتیں ان کے گناہوں کے سبب سے ہم ان کو اس طرح آزمانے لگے5

ف 3) فریب اور حیلہ سازی سے مچھلیوں کا شکار کرتے تھے انہیں حکم تو یہ تھا کہ اس دن کی تعظیم کریں اور اس میں شکار وغیرہ سے بار رہیں مگر انہوں نے دریا کے کنا رے سے پانی کاٹ کر حوض تعمیر کرلیے جب ہفتہ کے دن ان حوضوں میں مچھلیاں آجاتیں تو ان کا راستہ بند کردیتے اور اتوار کے دن پکڑ لیتے اس سے معلوم ہوا کہ کسی حرام کارتکاب کرنے کے لیے حیلہ سازی بھی حرام ہے حدیث میں ہے لا تر تکبو اما ارتکب الیھود فتسحلوا محارم اللہ باونی الحیل کہ یہود کی طرح شریعت میں حیلے نکال کر اللہ تعالیٰ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال مت سمجھو۔ ( ابن کثیر) بائیل کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ سبت کے دن ان کو مکمل طور پر کارو بار بند رکھنے کا حکم تھا مگر وہ اس کی خلاف ورزیاں کرتے رہتے تھے۔4 یا پانی سے سر نکالے ہوئے آجاتیں،5 یعنی ان کے فسق کی وجہ سے ان پر یہ سختی کی گئی تھی،۔
Ayah 7:164

وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَا١ۙ اِ۟للّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 7:164 in the Quran reader

اور جب گاؤں والوں میں سے ایک گروہ نے کہا6 جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہلاک کرنے والا ہے یا سخت عذاب کرنے والا ہے7 ان کو تم کیوں سمجھاتے ہو انہوں نے جواب دیا اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے اوپر8 سے الزام اتارنے کو اور (یہ بھی خیال ہے) شاید وہ لوگ (سمجھانے سے) باز آجائیں

ف 6 یعنی اس بستی کے نیک لوگوں میں سے ایک گروہ نے ان لوگوں سے کہا جو اس حیلہ سازی سے شکار کرنے والوں کو منع کرتے تھے جمہور مفسرین (رح) کا خیال ہے کہ اس بستی کے لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہوگئے تھے ایک ظالم جو حیلہ سازی سے ہفتہ کے دن مجھلیوں کا شکار کرتے تھے، دوسرا گروہ جو ان کے ایسا کرنے سے منع کا شکار کرتے تھے، دوسرا گروہ وہ جو ان کی ایسا کرن سے منع کرتا تھا اور تیسرا گروہ وہ جو خود اگرچہ نیک تھا لیکن دوسروں کو برائی سے منع نہیں کرتا تھا۔ پس یہاں امتہ سے مراد یہی تیسرا گروہ ہے۔ ( ابن کثیر)7 یعنی کیوں ان کے سمجھانے میں وقت ضائع کرتے ہو جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دنیا میں ہلاکت اور آخرت میں عذاب لکھ دیا ہے تو تم انہیں کیسے بچالو گے مطلب یہ ہے کہ خود نیکی کرتے رہو اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو ( مازخوذ ابن کثیر)8 ایسانہ ہو کہ وہ ہمیں بھی اس جرم میں پکڑ لے تاکہ تم امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے فریضہ سے دست کش ہو کر کیوں بیٹھ گئے تھے،
Ayah 7:165

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَئِیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:165 in the Quran reader

پھر جب وہ بھول گئے جو ان کو سمجھایا گیا تھا تو ہم نے برے کام سے منع کرنے والوں کو (جو لوگ خاموش تھے ان کو بھی) بچا لیا اور جن لوگوں نے گناہ کیا تھا ان کو ان کی نافرمانی کے بدلے سخت عذاب میں پھانس لیا9

ف 9 یہ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ صرف اہل معصیت ہی ہلاک ہوئے اور باقی دونوں گروہ بچ گئے جیسا کہ مروی ہے کہ جب حضرت عکرمہ نے حضرت ابن عباس ؓ کے سامنے یہ خیال پیش کیا کہ سکوت اختیار کرتے تھے اور انہوں نے بھی ارتکاب کرنے والوں کی مخالفت کی تھی تو حضرت ابن عباس ؓ نے ان کو خلعت پہنایا اور بعض مفسرین کہتے ہیں کہ صرف وہی گروہ عذاب سے محفوظ رہا جو دوسروں کو منع کرتا تھا باقی سب ہلاک کر دئے گئے یہ قول بھی حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے اور اسناد جید کے ساتھ ثابت ہے مگر پہلا قول اصح ہے چناچہ حافظ ابن کثیر حضرت ابن عباس کا یہ دوسرا قول نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں ولکن رجوعہ الی قول عکرمتہ فی نجا ۃ ا الساکن او لی من القول ھذا الانہ تبین حالھم بعد ذٰلک نیز حافظ ابن کثیر نے یہ بھی لکھا ہے کہ قرآن قرآن نے منع کرنے والوں کی نجات اور ظالموں کی ہلاکت کی تو تصریح کردی ہے مگر سکوت کرنے والوں سے سکوت ہی اختیار کیا ہے۔ لان الجزا من جنس العمل لہذا وہ نہ مدح کے مستحق ہیں اور نہ خدمت کے واللہ اعلم، ) ( ج 2 ص 257) تنبیہ : برائی کو دیکھ کر اس سے سکوت اختیار کرنا اس صورت میں جرم ہو تو ہے جب اس برائی سے کراہت نہ ہوجیسا کہ حدیث میں ہے کہ جب کسی قوم میں منکرات کا ارتکاب ہو رہا ہو اور باوجود قدرت کے دوسرے لوگ منع نہ کریں تو اللہ تعالیٰ کا عذاب سب پر آجاتا ہے۔ مزید دیکھئے ( سورة انفال آیت 25)
Ayah 7:166

فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَ Open ayah 7:166 in the Quran reader

پھر جب وہ منع کیے ہوئے کام میں حد سے بڑھ گئے (اور منع کرنے والوں کی ایک نہ سنی) تو ہم نے حکم دے دیا دھتکارے ہوئے بندر بن جاؤ10

ف 10 مفسرین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا واقعی بندر بنا دیے گئے تھے یا ان میں صرف بندروں جیسی صفات پیدا کردی گئی تھیں بظاہر نظم قرآن سے معلوم ہو تو ہے کہ اسن کا یہ مسخ ہونا اخلاقی نہیں بلکہ جسمانی تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مسخ ہونے کے بعد وہ صرف تین دن زندہ ان کی کوئی نسل نہیں چلی۔ ( ابن کثیر) بعض کہتے ہیں کہ پہلے ان پر نافرمانی کی وجہ سے عذاب بھیجا گیا جیسا کہ یہاں بعذاب بیئس فرمایا ہے لیکن جب اس پر بھی باز نہ آئے تو انہیں مسخ کی سزا دی گئی اور بعض کہتے ہیں کہ عذاب بئیس سے مراد یہی مسخ ہے واللہ اعلم ( فتح القدیر )
Ayah 7:167

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْهِمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ یَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖۚ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:167 in the Quran reader

اور (اے پیمبر وہ وقت یاد کر) جب تیرے مالک نے (بنی اسرائیل کو جتلا دیا ( یا فیصلہ کرلیا اور حکم دے دیا) کہ وہ ضرور قیامت تک ان پر ایسے لوگوں کو حاکم کرے گا جو ان کو بڑی تکلیفیں دیتے رہیں گے1 بیشک تیرا مالک جلد سزا دینے والا ہے اور (اس کے ساتھ ہی) وہ بیشک بخشنے والا مہربان (بھی) ہے

ف 1 گزشتہ آیات میں یہود کے بعض نیک و بداعمال کا ذکر فرمایا، اور اس آیت میں بتایا کہ قیامت تک ان پر ذلت و خواری مسلط کردی گئی ہے۔ کبیر) یہودیوں کے پوری تاریخ اس حقیقت کی زندہ شہادت ہے۔ وہ ہر زمانے میں جہاں بھی رہے دوسروں کے محکوم اور غلام بن کر رہے اور آئے دن ان پر ایسے حکمران مسلط ہوتے رہے جنہوں نے انہیں اپنے ظلم وستم کا تختہ مشق بنایا ہمارے زمانے میں جرمنی میں ہٹلر نے ان سے جو سلوک کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اگر کسی جگہ عارضی طور پر انہیں امن وامان نصیب ہوا بھی اور ان کی برائے نام حکومت قائم ہوئی بھی تو وہ اپنے بل بوتے پر نہیں بلکہ سراسر دوسروں کے سہاروں پر۔
Ayah 7:168

وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا١ۚ مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ١٘ وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:168 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کے ٹکڑے کرکے ساری زمین میں ان کے گروہ گروہ کردئیے2 کچھ تو ان میں سے نیک ہیں3 (وہ جو حضرت محمد پر ایمان لائے) اور کچھ اور طرح کے4 اور ہم نے ان کو اچھے اور برے (دونوں طرح سے آزمایا5 اس لیے کہ وہ ہماری طرف رجوع ہوں6

ف 2 تاکہ ان کی کوئی اجتماعی قوت وجود میں نہ آسکے، آج یہودی اگرچہ ایک ریاست کی شکل میں یاک جگہ یعنی فلسطین میں جمع ہورنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر دوسری حکومتوں کی پشت پناہی اور عرب دشمنی کے تحت یہ سب کچھ ہو رہا ہے، معلوم نہیں اس کا انجام کیا ہوگا۔3 یا جیسے ولوگ جنہوں نے ہفتہ کو روز مچھلی کا شکار کرنے والوں کو منع کیا تھا، رازی)4 یعنی نیک نہیں بلکہ شریر اور بدکار جیسے سود کھانے اور انبیا ( علیہ السلام) تک تک کو قتل کر ڈالنے والے، (کبیر)5 کبھی راحت اور چین دیا اور کبھی تکالیف میں مبتلا کردیا۔ اس طرح کبھی خوشحالی نصیب ہوئی اور کبھی فقرو فاقہ سے دو چار ہوئے ( ابن کثیر)6 یعنی اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور توراۃ کے احکام پر عمل کریں شاہ صا حب فرماتے ہیں کہ یہود کی دولت بر ہم ہوئی تو آپس کی مخالفت سے ہر طرف نکل گئے اور مختلف مذاہب پیدا ہوئے یہ احوال اس امت کو سنا یا ہے کہ یہ سب کچھ ان پر بھی ہوگا، حدیث میں فرمایا ہے کہ اس امت میں بعض بندر اوسئور ہوجائیں گے۔ اللہ گمراہی سے پناہ دے، ( از مو ضح )
Ayah 7:169

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ یَاْخُذُوْهُ١ؕ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْهِ١ؕ وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 7:169 in the Quran reader

پھر ان کے بعد نالائق اولاد ان کی جائے پر تورات کے وارث بنے یہ تو دنیائے دوں (ذلیل دنیا) کا سامان لینے لگے (رشوت کھا کر خدا کے احکام بدلنے لگے) اور کہتے ہیں کہ ہماری مغفرت ہوجائے گی7 اور اگر ویسا ہی سامان پھر آئے تو پھر لے لیں8 کیا ان لوگوں سے تورات کا اقرار نہیں لیا گیا (یعنی جو اقرار تورات میں لکھا ہے) کہ اللہ پر کوئی بات نہ لگائیں گے مگر وہی جو سچ ہے (جو اللہ نے سچ فرمائی ہے) حالانکہ ان لوگوں نے جو اس میں لکھا ہے وہ پڑھ لیا ہے9 اور پرہیز گاروں کے لیے آخرت کا گھر (کہیں) بہتر ہے کیا تم کو عقل نہیں

ف 7 اس لیے کہ ہم اسے کے لاڈ لے بیٹے اور اس کے بر کزیدہ ابنیا کی اولاد ہیں۔8 یعنی گناہ کرنے کے بعد نہ وہ شر مندہ ہوتے ہیں اور نہ ان میں تو نہ کا جذبہ پیدا ہوتا ہے بلکہ گناہوں پر ان کی جرات دبے با کی دن بدن بڑھتی ہی جاتی ہے، چناچہ ایک مرتبہ رشوت لینے کے بعد جو نہی انہیں دوبارہ رشورت لینے کے بعد جونہی انہیں دوبارہ رشوت کا موقع ملتا ہے وہ بلا جھجک اسے قبول کرلیتے ہیں، ان کے علما کا یہ حال ہے لوگوں کو غلط مسئلے باتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ہماری بخشش ہوجائے گی حالانکہ پھر اسی کا ام کو حاضر رہتے ہیں۔ بخشش کی امید تو تب ہے جب پچھلی سرکشی اور گناہوں سے باز رہیں۔ ( کذافی ابن کثیر)9 یعنی یہ خوب جانتے ہیں کہ اللہ نے توراۃ میں کہیں یہ نہیں فرمایا کہ تم جو گناہ چاہو کرتے رہو تمہیں بخش دو گا مگر ان کی جرات اور بےخوفی کا یہ علم ہے کہ گناہ بھی کئے جاتے ہیں اللہ کی آیات کو بیچ کر دنیا بھی کمائے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی وہ باتیں بھی منسوب کئے جاتے ہیں جو اس نے کبھی نہیں کہیں۔ ( کذافی القرطبی)
Ayah 7:170

وَ الَّذِیْنَ یُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 7:170 in the Quran reader

اور (بنی اسرائیل میں سے) جو لوگ تورات کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں10 اور نماز کو درستی سے ادا کرتے رہتے ہیں تو ہم ایسے نیک لوگوں کا ثواب کھونے والے نہیں

ف 10 یعنی اس میں کوئی تحریٖف نہیں کرتے اور اسی برا پر وہ اگلی کتاب یعنی قرآن حکیم پر ایمان لاتے اور اس کے احکام کی پیروی کرتے ہیں۔
Ayah 7:171

وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 7:171 in the Quran reader

اور جب ہم نے طور پہاڑ کو (اکھیڑ کر) ان کے اوپر چھتری کی طرح کھڑا کردیا اور وہ سمجھے اب ان پر گرتا ہے (اور سب کے سب دب کر مرجاتے ہیں ہم نے حکم دیا) جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے اس کو زور سے سنبھالو اس میں جو حکم لکھے ہیں ان پر عمل کرو تاکہ تم پرہیز گار بنو11

ف 11 یہ وقعہ اس وقت پر پیش آیا جب توراۃ کے احکام سن کر بن اسرائیل شرارت سے کہنے لگے کہ اتنے احکام کی پیروی ہم سے نہ ہو سکے گی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے طور کو حکم دیا جو ان کے سروں پر چھتری کی طرح چھا گیا۔ اس حال میں اپنے لیے کوئی چارہ کار نہ پاکر انہوں نے توراۃ کے احکام پر عمل کرنے کا عہد کیا۔ ( ابن کثیر
Ayah 7:172

وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَۙ Open ayah 7:172 in the Quran reader

اور اے پیغمبر وہ وقت یاد کر) جب تیرے مالک نے آدم کی اولاد سے اور (اور اسی طرح خود آدم سے) ان کی پشت سے ان کی اولاد نکالی اور خود ان کو ان پر گواہ کیا12 (ان سے فرمایا) کیا میں تمہارا مالک نہیں ہوں انہوں نے کہا بیشک (تو ہی ہمارا مالک ہے ہم اس بات کے گواہ ہیں تم قیامت کے دن یوں کہنے لگو1 ہم تو اس بات سے (کہ تو ہمارا مالک ہے) بیخبر تھے

ف 12) یعنی جب وہ آدم ( علیہ السلام) کو پیدا کیا تو ان کی پشت سے تمام ذریت پیدا کی جو قیامت تک انکی نسل سے روئے زمین پر پائی جانے والی تھی اور انہیں عقل اور قوت گو یائی عطا فرماکر ان سے اپنی ربوبیت عامہ کا قرار لیا۔ حاٖفظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ذراول کے بارے متعدد احادیث بھی ورد ہیں لہذا اس کو ایک تمیثلی واقعہ کہنا صحیح نہیں ہے جبکہ عقلا بھی اس میں کوئی استحالہ نہیں ہے۔ اور حدیث کل مو لود یو لد علی الفطرۃ کسر بچہ فرطت اسلام پر پیدا ہوتا ہے) میں بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ ( قرطبی، ابن کثیر )
Ayah 7:173

اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 7:173 in the Quran reader

یا یوں کہو کہ ہمارے باپ دادا نے پہلے شرک کیا اور ہم ان کے بعد ان کی اولاد ہوئے2 کیا تو ہم کو اس کام کے بدلہ میں ہلاک کرتا ہے جو خطا کاروں نے کیا3

ف 1 ان تقولی ا یہ اصل میں لئلا تقو لو اس یا کر اھتہ ان تقو لوا ہے یعنی ی عہد تم سے اس لیے لیا کہ ایسانہ ہو کہ تم دنیا میں شرک و نافرمانی کی روش اختیار کرو اور قیامت کے روز تم سے باز پرس کی جائے تو یہ کہہ کر اپنی صفائی پیش کرنے لگے کہ ہم تو اس سے غافل تھے ( کبیر، ابن کثیر)2 یا یہ عذار پیش کرو کہ ہم تو اپنے بڑوں کی دیکھا دیکھی شرک کو راہ پر چلتے رہے ہیں ہمارا قصور کیا ہے مطلب یہ ہے کہ شرک کے بارے میں مقلد کا کوئی عذر قبول نہ ہوگا، ( ابن کثیر۔ کبیر ) ،3 یعنی ہمارے یعنی ہمارے آباؤ اجدانے لہذا وہی مجرم ہیں مطلب یہ ہے کہ اس قسم کے عذار وہاں کوئی موقع نہ و ہوگا کیونکہ ابتدا ہر شخص توحید پر قائم رہنے کا عہد لیا گیا ہے اور پھر اس عہد کی یاددہانی اور تفسیر و تشریح کے لیے رسول بھیجے اور تکابیں نازل فرمائی گئی ہیں۔ کذافی التفاسیر )
Ayah 7:174

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:174 in the Quran reader

اور (جیسے ہم نے یہ مضمون تفصیل کے ساتھ بیان کیا) اسی طرح ہم آیتوں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں اس میں بہت سے فائدے ہیں اور (دوسری غرض یہ ہے) کہ وہ حق بات کی طرف لوٹ آئیں4

ف 4 اور باطل کا چھو ڑدیں یہ قصہ یہود کے سنایا کیونکہ وہ بھی مشرکوں کی طرح اپنے عہد سے پھرے ہوئے تھے ( از مو ضح)5 یعنی اس علم سے اس طرح نگل گیا جس طرح سانپ اپنی کینچلی سے نکل جاتا ہے، (کبیر )
Ayah 7:175

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 7:175 in the Quran reader

(اور اے پیمبر) ان یہودیوں کو اس شخص کا قصہ سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیتوں کا علم دیا تھا اس نے یہ کینچلی اتار دی5 (کافر ہوگیا خدا سے پھر گیا) پھر شیطان اس کے پیچھے لگا تو گمراہوں میں جا ملا6

ف 6 ان الفاظ سے یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ جس شخش کا قصہ یہاں برائے عبرت بیان کیا جا رہا ہے واہ ضرور کوئی متعین شخص ہے لیکن قرآن و صحیح حدیث میں نہ تو اس کے نام کی تصریح ہے اور نہ زمانہ ہی کی تعین مذکور ہے بعض علمائے تفسیر نے اس کا نام بلعم بن اسرائیل میں ایک مستجاب الد عوۃ آدمی تھا اور حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) نے اسے اہل مدین کو ایمان کی دعوت دینے کے لے بھیجا تھا مگر نفسانی خواہشوں سے مغلوب ہو کر انہی میں شامل ہوگیا اور موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کی مخالفت کرنے لگا ،۔ آیت فانلسخ منھا میں غالبا اسی طرف اشارہ ہے، بعض نے امیہ بن ابی مصلت ثقفی کا نام بھی ذکر کیا ہے جو کہ شرئع متقد مہ کا عالم ہونے کے باوجود آنحضرت ﷺ پر ایمان نہ لا یا اور بدر کے دن جو مشرک قتل ہوگئے تھے بڑے بلیغانہ انداز میں ان کے مر ثیے کہتے آنحضرت ﷺ نے اس کے متعلق فرمایا تھا لسانہ مومن وہ قلبہ کافر کہ اس کی زبان تو مومن ہے مگر دل کافر ہے یہی حال عموما شاعروں کا ہوتا ہے۔ بہر حال اسے باوجود علم و فضل کے مسلمان ہونے کی تو فیق نہ ہوئی واللہ اعلم ( ابن کثیر )
Ayah 7:176

وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ١ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ١ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 7:176 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں کی وجہ سے اس کا رتبہ بلند کرتے مگر اس نے زمین پر گرنا چاہا (یعنی دنیا کا فائدہ قبول کیا) اور اپنی خواہش پر چلا تو اس کی مثال کتے کی طرح ہے اگر تو اس کو ڈانٹ کر نکالے (یا بوجھ رکھے اور لادے) تب بھی زبان لٹکائے رہے یا اگر (اپنے حال پر) اس کو چھوڑ دے تب بھی زبان لٹکائے7 رہے یہی مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو (اے پیمبر) یہ قصے ان کو سنا تاکہ وہ سوچیں8

ف 7 یعنی اپنی کج روی پر اصرار کیا اور دعوت ایمان سے مستفید نہ ہوا اس کی مثال اس کتے کی سی ہے ( ابن کثیر) کتے کے متعلق مشہور ہے کہ وہ طبعی طور پر کمر درد واقع ہوا ہے ہو گرم ہوا کہ بسہولت باہر نہیں نکال سکتا اور نہ تازہ ہوائی اہی اندر کھنیچ سکتا ہے اس لیے زبان لٹکائے ہا نہتا رہتا ہے یہی حال دنیا کے حریص بندے کا ہے اسے نصیحت کرو نہ کرو وہ ہر حالت میں اپنی گمراہی پر پکار رہتا ہے اور دنیا کے لالچ میں اس کی زبان لٹکتی رہتی ہے جس طرح ایسے لوگوں کو متعلق دوسرے مقامات پر مذکور ہے، ( دیکھئے بقہ آیت 6 اعراف آیت 192) یہاں آیت میں ہوسکتا ہے تمثیل ہو اور عین ممکن ہے کہ اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اسی قسم کی سزا دی ہو جیسا کہ بلعم بن باعورا کے متعلق بعض تفاسیر میں مذکور ہے۔ ( ما خذ از کبیر، ابن کثیر)8 نصیحت حاصل کریں اور اپنی غلط روش سے باز آجائیں
Ayahs 7:177–178

سَآءَ مَثَلَا اِ۟لْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:177 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور (اس جھٹلانے سے) اپنا ہی بگاڑ کرتے رہے ان کی مثال بری ہے

مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:178 in the Quran reader

جس کو اللہ تعالیٰ راہ پر لگائے وہی راہ پاتا ہے اور جن کو وہ گمراہ کرے وہ تباہ ہوئے9

ف 9 ان کو کوئی بھی سیدھی راہ پر نہیں لگاسکتا آنحضرت ﷺ اپنے خطبہ میں بھی حمدو ثنا کے بعد فرمایا کرتے، من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضللم فلا ھادی لہ یعنی جسے اللہ تعالیٰ سیدھی راہ پر لگائے اسے جوئی کوئی نہیں کرسکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کوئی سیدھی راہ پر نہیں لگا سکتا۔ ( سلم نسائی وغیرہ۔
Ayah 7:179

وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖ٘ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 7:179 in the Quran reader

اور ہم نے دوزخ کے لیے بہت سے جن اور آدمی پیدا کیے ہیں3 ان کے دل ایسے ہیں جن سے دین اور آخرت کی باتیں نہیں سمجھتے (ہمہ تن دنیا میں غرق ہیں) اور ان کی آنکھیں ایسی ہیں جن سے (ہدایتکا رستہ) نہیں دیکھتے اور ان کے کان ایسے ہیں جن سے (حق بات) نہیں سنتے یہ لوگ چارپائے جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ مگر اہ ہیں1 یہی لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں2

ف 13لجھنم میں لام عاقبت بھی ہوسکتا ہے یعنی اپنے حواس سے صحیح فائدہ نہ اٹھانے کی وجہ سے انجام کار جہنم میں جائیں گے گو یا جہنم ہی کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے، اور لام غایت کا بھی ہوسکتا یعنی تکوینی طور پر اللہ تعالیٰ کے علم اور قضا قدر ہمیں وہ جہنم ہی کے لیے پیدا کئے گئے ہیں گو تشریعی طور پر اللہ تعالیٰ نے ان کو عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اور شریعت کا مکلف قرار دیا ہے جیسا کہ بہت ہی احادیث تقدیر میں مذکور ہے اور علما نے تقدیر اور جبری فرق کی وضاحت کی ہے۔ 1 کیونکہ انعام ( چوپائے) کی نقل و حرکت تمام تر اس کے طبعی تقاضے اور تسخیری غایت کے مطابق ہوتی ہے۔ اس کے بر عکس کفار اپنے ارادہ و اختیار سے اپنے خالق کی نافرما کر رہے ہیں، ( ابن کثیر)6 یعنی خواب غفلت میں پڑے ہوئے اور حیات بعد الموت سے بےفکر ہیں۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں خدا اور رسول ﷺ کو پہنچا ننا اور ان کے احکام کو سیکھنا ہر شخص پر فرض ہے اگر کوئی ایسا نہ کرے گا تو دوزخ میں جائے گا۔ ( مو ضح)
Ayah 7:180

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:180 in the Quran reader

اور للہ تعالیٰ کے اچھے (خاصے) نام ہیں اس کو انہی ناموں سے پکارو3 اور جو لوگ اس کے ناموں میں بےدینی کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو4 وہ اپنے کیے کا بدلہ قریب پائیں گے

ف 3 اچھے ناموں سے مراد وہ نام ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی عظمت جلالت شان تقدس اور صفات کمال کا اظہار ہوتا ہے۔ علمانے اس ما حسنی کی تشریح اور ان کے ساتھ دعوت پر مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ رازی کی اطوامع حلیمی کی المنہاج اور قرطبی کی الکتاب الا منی ٰ قابل دیدے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جس نے انہیں شمار کیا، (یعنی ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو پکارا) وہ جنت میں داخل ہوگیا، اللہ تعالیٰ وتر (طاق) ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔ ( بخاری مسلم) یہاں تک تو یہ حدیث متواتر ہے، ترمذی کی ایک روایت میں ان موموں کی تصریح بھی کی گئی ہے مگر وہ نام علمانے بطور تشریح قرآن سے تر تیب نہیں ہیں ان ننانوے نا موں کے علاوہ اور نام بھی قرآن و حدیث میں مذکور ہیں۔ حاصل یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ان ناموں کو ساتھ ہی پکار نا چاہیے اپنی طرف سے کوئی نام نہیں رکھنا چاہیے ( ملحض از ابن کثیر)4 اس کے ناموں میں ایک بےدینی تو یہ ہے کہ ان ناموں کو بگاڑ کر بتوں کے نام رکھے جائیں جیسے اللات عزیٰ منات کہ یہ اللہ عزیز اور منان کی بگاڑی ہوئی شکلیں ہیں۔ ( ابن کثیر) اللہ تعالیٰ کے نام اپنی طرف سے رکھنا بھی الحاد میں داخل ہے۔ ( فتح القدیر) الحاد کے در اصل معنی کجروی کے ہیں اور امام رازی نے الحاد کی تین صورتیں لکھی ہیں۔ شاہ صاحب (رح) نے کجری کی ایک صورت یہ بھی لکھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے کو ٹونے ٹوٹکوں میں استعمال کیا جائے ایسے لوگوں کی دینوی مطلب اگرچہ حاصل ہوجاتا ہے مگر سزا انکو ضرور ملیگی) از مو ضح)
Ayah 7:181

وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 7:181 in the Quran reader

اور ہم نے جو لوگ پیدا کیے ہیں ان میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو سچی بات (لوگوں کو) سمجھاتے ہیں اور سچا انصاف کرتے ہیں5

ف 5 مراد صحا بہ کرام ؓ تابیعن (رح) یعنی سلف صالح اور وہ لوگ جو ان کے راستے کو چھوڑ کر نئے نئے طر یقے اختیار نہیں کرتے، حدیث میں ہے کہ میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا۔ ( بخاری مسلم فراخی کے دروازہ کھول دینگے اور خوب مالا مال کر دینگے حتی کہ کہ وہ دنیا کی نعمتوں سے بد مست ہو کر آخرت کی جو ابدہی کو فراموش کر بیٹھینگے نیز دیکھئے سورة الانعام آیت 54 ۔ 55، ( کبیر، ابن کثیر )
Ayahs 7:182–183

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ Open ayah 7:182 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہم ان کو چپکے چپکے جان سے (یا اس طرح سے کہ) ان کو معلوم نہ ہو (عذاب یا ہلاکت کی طرف کھینچ لے جائیں گے6

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 7:183 in the Quran reader

اور میں ان کو مہلت7 دوں گا بیشک میرا داؤ پکا ہے8

ف 7 یعنی ان پر فورا گرفت نہ کروں گا تاکہ وہ غفلت میں پڑے رہیں اور گناہ پر گنا کرتے جائیں۔ اس کا نام ڈھیل اور استدراج ہے جو کفار کو انکے گناہ کی سزا میں دی جاتی ہے مگر وہ اپنی حماقت سے یہ سمجھتے کہ ہم پر بڑی مہربانی ہو رہی ہے حالانکہ انہیں آخری عذاب کے لیے تیار کہا جارہا ہے۔ ( کبیر)8 جس کی کسی حیلہ اور تد بیر سے مدافعت نہیں کی جاسکتی حضرت ابو موسیٰ الا شعری ؓ سے روایت ہے کہ بن صلعم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ جب وہ اسے پکڑتا ہے تو وہ بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتا ( بخاری ومسلم
Ayah 7:184

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:184 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے سوچا نہیں ان کے ساتھی (حضرت محمد) کو کونسا جنون ہے ! یا کوئی جنون نہیں ہے ( و تو کوئی نہیں مگر (اللہ کے عذاب سے کھلا ڈرانے والا ہے)9

ف 9 اوپر کی آیات میں ان کی غفلت اور اعراض پر تہدید بھی اب یہاں سے نبوت پر ان کے شبہات کی تردید ہو رہی ہے مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے کبھی یہ سوچا بھی ہے کہ جن باتوں، توحیدوغیرہ کی طرف آنحضرت ﷺ دعوت دے رہے ہیں ان میں کون ایسی بات ہے جسے جنون سے تعبیر کیا جاسکتا ہے یا یہ یوں ہی آنحضرت ﷺ کی تر دید کے لیے اس قسم کی الزام طرازیاں کر رہے ہیں۔ قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ یہ روایت ملی ہے کہ نبی ﷺ ایک رات صفا پر چڑھے اور صبح تک قریش کے مختلف گھرانوں کا نام لے کر انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے رہے آخر ایک کافر ہنے لگا کہ تمہا را یہ ساتھی مجنون ہوگیا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ( ابن جریر، ابن کثیر) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں آنحضرت ﷺ کو ان کا ساتھی فرمایا اس لیے آپ ﷺ ان میں رہتے تھے اور وہ آپ ﷺ کے حالات سے خوب واقف تھے۔ ( از مو ضح)
Ayah 7:185

اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:185 in the Quran reader

کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی بادشاہت (یا انتظام) میں اور اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا کی ہیں میں غور نہیں کیا10 اور نہ اس میں کہ شاید ان کی موت آ لگی ہو11 تو مرے بعد پھر کس بات پر پیچھے اس کے ایمان لاویں گے

ف 10 یعنی دلائل گونیہ میں غور و فکر سے بھی آنحضرت ﷺ کی صدق نبوت کا اثبات ہوسکتا ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ جس توحید کی طرف دعوت دے رہے ہیں وہی توحید دے رہے ہیں وہی توحید آیات کو نیہ سے ثابت ہورہی ہے، امام رازی فرماتے ہیں : معلوم ہوا کہ امر نبوت توحید کی فرع ہے ورنہ ان انا الا نذیر مبین کے دعویٰ کے بعد الم یتفکروا الخ کی تقریر بےربط ہو کر رہ جائے گی۔ ( کبیر ) 11 یعنی موت کا مقررہ وقت تو کسی کو معلوم نہیں۔ انسان کم از کم نیکی کی طرف راغب ہوجا نا چاہیے کہ شاید اس کی موت کی گھڑ قر یب ہو مگر یہ بدبخت اتنا بھی نہیں سمجھتے (کذافی الو حیدی)12 یا قرآن حکیم سے کوئی بہتر نصیحت اور کسی کتاب میں ہوگی اور محمد ﷺ سے بہتر کوئی سمجھانے والا ہوگا جس کی باتوں پر یہ ایمان لائینگے ( از وحیدی )
Ayah 7:186

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 7:186 in the Quran reader

جس کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی راہ پر لگانے والا نہیں اور وہ ان کافروں کو اپنی شرارت میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیتا ہے13

ف 13 ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے مگر اس کا قانون یہ بھی ہے کہ وہ گمراہ اسی کو کرتا ہے ج ونی کی کا واضح راستہ چھوڑکر بدکاری کا راستہ اختیار کرلیتا ہے۔
Ayah 7:187

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:187 in the Quran reader

(اے پیمبر) یہ لوگ (قریش کے کافر یا یہود) تجھ سے قیامت کو پوچھتے ہیں کہیں اس کا ٹھکانا بھی ہے (وہ کب قائم ہوگی)14 کہہ دے یہ تو صرف میرے مالک ہی کو معلوم ہے وہی اپنے وقت پر قیامت کو دکھلائے گا وہ آسمان اور زمین میں ایک بھاری بات ہے1 وہ نہیں آئے گی مگر اچانک (ایک ہی ایکا دفعۃ) یہ لوگ تجھ سے قیامت کو اس طرح پوچھتے ہیں جیسے تو اس سے واقف ہے کہہ دے قیامت کا علم تو صرف خدا ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے2

ف 14 تو حیدو نبوت اور قضا ق دقدر پر کلام کے بعد بعث ماہ بعد الموت پر گفتگو ہو رہی ہے کیونکہ قرآن میں یہ امور اربعہ اصول وکلیات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ( رازی ) 1 اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ زمین آسمان اس کی دہشت سے کا نپتے ہیں یا یہ کہ کسی مقرب فرشتہ اور نبی مرسل ( علیہ السلام) کو اس کے وقوع کا علم نہیں ہوسکتا۔ ( رازی) حدیث جبر یل ( علیہ السلام) میں آنحضرت ﷺ نے صرف اشراط ساعت بنان فرمائی ہیں اور دوسری روایات میں نزول عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو آثار قیامت میں سے قرار دیا ہے مگر ان کے وقو ع کے بعد بھی قیامت اچانک اور دفعتہ واقع نہیں ہوگی، ( کبیر)4 کہ قیامت کے وقوع کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں ہے یہ لوگ آپ ﷺ سے باربار اس طرح پو چھتے ہیں ہیں جیسا کہ آپ ﷺ نے کرید اور جستجو کے بعد اس کا پورا علم حاصل کرلیا ہے۔
Ayah 7:188

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 7:188 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دے میں اپنی ذات کے نفع نقصان کا (بھی) مالک نہیں مگر جو اللہ چاہے3 اور اگر میں غیب کی بات جانتا ہوتا تو اپنے لیے بہت سی بھلائی کرلیتا اور مجھے کچھ تکلیف نہ پہنچتی4 میں تو کچھ نہیں مگر (ایک بندہ) ایمانداروں کو ڈرانے والا اور خوش خبری دینے والاف 5

ف 3 یعنی مشیئت الہیٰ سے جو کچھ ہونا ہے ہو رہا ہے۔ سمجھ میں ذاتی طو پر اتنا بھی اختیار وقدرت نہیں کہ میں اپنی جان سے کسی مضرت کو روک سکوں یا کچھ حاصل کرسکوں ( کذافی السلفیہ)4 یعنی نہ میں غیب دان ہی ہوں اگر ایسا ہوتا تو کتنے ہی فائدے ہیں جن پیشگی علم کی وجہ سے میں سمیٹ لیتا اور کتنے ہی نقصانات ہیں جن سے قبل از وقت آگاہ ہونے کی بنا پر میں بچ جاتا۔ یہاں لفظ لو۔ سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ باوجود افصل المرسلین ہونے کی علم غیب نہیں رکھتے تھے، خواہ واقعہ افک ہمارے سامنے ہے کہ اس میں آنحضرت ﷺ کتنے دنوں تک مضطرب اور پریشان رہے آخر کا قرآن میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ کی برات نازل فرمائی تو آپ حقیقت حال سے آگاہ ہوئے۔ اس ایک واقعہ سے ہی آپ ﷺ کو مختار کل اور غیب دان کہنے والے خود ہی فیٖصلہ کرسکتے ہیں،5 اس آیت سے معلوم ہوتا کہ انبیا ﷺ اور اولیا کو جو اللہ تعالیٰ سب لوگوں سے بڑا بنایا ہے۔ سو ان میں بڑائی یہی ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ بتاتے ہیں اور اس بات میں کچھ ان کی بڑائی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عالم میں تصرف کی قدرت دے دی ہو کہ موت وحیات ان کے اختیار میں ہو یا یہ کہ اللہ صاحب نے ان کو غیب دانی دے دی ہو کہ جس کے احوال جب چاہیں معلوم کرلیں ( سلفیہ) اس آیت سے شرک کی جڑ کٹ گئی گئی جب آنحضرت کو جو تمام عالم کے سردار ہیں اپنی جان کے نفع و نقصان کا اختیار نہ ہو نہ غیب کی بات معلوم ہو تو کسی اور نبی یا ولی یا بزرگ یا فقیر یا جن یا فرشتے کو کیا قدرت ہے کہ کسی کو فائدہ یا نقصان پہنچائے یا کوئی غیب کی بات بتائے۔ البتہ اللہ تعال جو غیب کی بات آنحضرت ﷺ کو بنا دیتا وہ آپ کو معلوم ہوجاتی اور آپ لوگوں کو اس کی خبردے دیتے ( از وحیدی )
Ayah 7:189

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:189 in the Quran reader

خدا تعالیٰ وہی ہے جس نے تم کو ایک جان (آدم) سے پیدا کیا6 اور اسی سے اس کا جوڑا نکالا تاکہ اس کا دل اس سے لگ لجائے پھر جب آدم نے حوا کو ڈھانپا (یعنی ان سے صحبت کی اس کو ہلکا سا بوجھ معلوم ہوا وہ چلتی پھرتی رہی جب بوجھل ہوئی تو دونوں نے یعنی حوا اور آدم نے) اپنے مالک اللہ تعالیٰ سے دعا کی اگر تو ہم کو اچھا پورا بچہ7 عنایت فرمائے گا تو ہم بیشک ضرور تیرے شکر گذار ہوں گے

ف 6 یعنی آدم ( علیہ السلام) سے مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورة نسا آیت 1)7 یعنی صحیح وسالم بچہ کوئی جسمانی نقص نہ ہو ،
Ayah 7:190

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 7:190 in the Quran reader

جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اچھا پورا بچہ دیا تو جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دیا تھا اس میں اللہ تعالیٰ کے شریک بنانے لگے8 تو اللہ تعالیٰ برتر ہے ان کے شرک سے9

ف 8 شرک یہ تھا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کا نام عبدالحارث رکھا ( حارث ابلس کا نام تھا جس وہ گروہ ملائ کہ میں مشہور تھا ، ) ،۔ یہ تشریح جمہور مفسرین کی تفسیر کے مطابق ہے اور کی بنیاد حضرت سمر و ؓ کی ترمذی اور حاکم میں یہ روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا۔ جب حوا ( علیہ السلام) چبہ جنا تو ابلیس ان کے پاس آیا، ان کا کوئی لڑا کا زندہ نہ رہتا تھا۔ ابلیس کہنے لگا اس کا نام عبد الحارث رکھو تو وہ زندہ رہے گا چناچہ انہوں نے بچہ کا نام عبدالحارث رکھا اور وہ زندہ بچ گیا۔ یہ سب کچھ شیطان کے اشارے سے تھا لیکن حافظ ابن کثیر اور بعض دوسرے محقق مفسرین نے اس روایت کو ضعیف اور اسرائیلیات سے ما خو ذ قرار دیا ہے خصو صا جب کہ اس میں انبیا ( علیہ السلام) سے شرک جیسے گناہ کی نسبت کی گئی ہے اس کے بجائے انہوں نے امام حسن بصری (رح) کی اس تفسیر کو اختیار کیا ہے کہ لمسکن الیھا تک تو حضرت آدم و حو (علیہما السلام) کا قصہ ہے لیکن اس کے بعد فلما تغشاھا سے عام لوگوں خصوصا مشرکین عرب کی حالت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ امام حسن بصری وغیرہ کا کہنا یہ ہے کہ مگر اس کے بعد سلسلئہ کلام ان کی اولاد میں سے مشرکین کی طرف منتقل ہوگیا ہے اور اس کے نظاتر قرآن میں میں مو جود ہیں جن فرد کے ذکر سے سلسلئہ کلام جنس کی طرف منقتل ہوگیا ہے۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ بعد میں فتعا لی ٰ اللہ عما یشرکو وغیرہ آیات میں جمع کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جس معلوم ہوتا ہے کہ جنس آدم مراد ہے، اگر یہ سارہ قصہ آّدم اور حوا ( علیہ السلام) کے متعلق ہی تسلیم کرلیا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ جعلا لہ شرکائ میں استفہام انکاری ہے کہ کیا آدم ( علیہ السلام) اور حوا نے شرک کیا تھا۔ جیسا کہ مشرکین عرب ان کی طرف شرک کی نسبت کرتے ہیں یعنی نہیں کیا، اس تاویل سے بھی شرک کی نسبت والا اعتراض دفع ہوسکتا ہے ( ابن کثیر۔ (رازی)9 یعنی کفار قریش کر شرک سے یشرکون بصیغہ جمع ہے لہذا اس سے بالا اتفاق مشرکین عرب مراد ہیں جیسا کہ مابعد والی آیت سے ثابت ہوتا ہے۔ ( رازی )
Ayahs 7:191–192

اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ Open ayah 7:191 in the Quran reader

کیا یہ لوگ ان کو اللہ کا شریک بناتے ہیں جو کچھ نہیں پیدا کرتے بلکہ خود اللہ کے پیدا کیے ہوئے ہیں

وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:192 in the Quran reader

اور نہ وہ ان کی (یعنی شرک کرنے والوں کی) مدد کرسکتے ہیں اور نہ اپنی مدد کرتے ہیں10

ف 10 اس سلسلئہ کلام سے مقصود بتوں کی تردید ہے کہ ان میں الو ہیت کی کوئی صفت بھی موجود نہیں مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی ان کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے بھی کر ڈالے تو بھی وہ اپنے آپ کو نہیں بچا سکتے یا یہ نہ تو اپنے خدمت گاروں کو نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ اپنے مخالفین ہی کو مضرت تو پھر ان کی پو جا کیوں ؟ ( رازی )
Ayah 7:193

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ Open ayah 7:193 in the Quran reader

اور (اے مشرکو) اگر تم ان کو سیدھے رستہ پر بلاؤ تو تمہارے ساتھ نہ ہوں1 تم ان کو پکارو یا چپ رہو دونوں تمہارے لیے برابر ہیں

ف 1 اوپر کی آیتوں میں بتوں سے ہر قسم کی قدرت کی نفی تھی اب اس آیت میں ان سے علم کی نفی کی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے بت جن کی یہ پوجا کر رہے ہیں ان میں نہ تو نفع و نقصان پہنچا نے کی قدرت ہے اور از علم و شعور رہی ہے تو پھر تم کتنے احمق ہو کہ ان سے یہ امید رکھتے ہو کہ وہ تمہیں سیدگے راستے پر چلائیں گے، ( کبیر )
Ayah 7:194

اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 7:194 in the Quran reader

بیشک تم جن کو (یعنی بتوں کو) اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری طرح (اللہ کے) بندے ہیں2 اچھا ان کو پکارو اگر سچے ہو تو وہ تمہارا مطلب پورا کریں3

ف 2 یعنی تمہارے عقیدہ کے مطابق اگر ان میں عقل وفہم ہے بھی تو زیادہ سے زیادہ ان کا تمہارے جیسا بندہ ہونا ثابت ہوسکتا ہے مگر یہ تو تمہاری طرح کی جاندرا بھی نہیں ہیں۔ جیسا کہ بعد کی آیت میں امثا لکم ہونے کی بھی نفی کردی ہے۔ (کذافی الکبیر) 3 تمہاری دعاؤں کو قبول اور تمہاری مرادوں کو پو را کریں ،
Ayah 7:195

اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 7:195 in the Quran reader

کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہیں کیا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ (چیزوں کو) تھامتے ہیں کیا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہیں کیا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہیں4 کہہ دے تم اپنے (ٹھہرائے ہوئے) شریکوں کو پکارو پھر (تم سب مل کر) مجھ پر (اپنا داؤں چلاؤ اور ذرا بھی فرصت نہ دو5

ف 4 تو پھر تمہاری عقل کہاں چر گئی کہ انہیں مدد کے لیے پکارتے اور ان کے سامنے ماتھے رگڑ تے ہو ؟ اس آیت سے مقصد یہ ہے کہ انسان بہر حال ان بتوں سے بہتر ہے کیونکہ ان اعظا اربعہ کی وجہ سے اس میں قویٰ مدر کہ اور محر کہ پائے جاتے ہیں اور اصنام میں کسی قسم کی حس و حرکت نہیں ہے۔ ( کبیر)5 یعنی پنا جو زور میرے خلاف لگا سکتے ہو لگا لو اس میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھو
Ayah 7:196

اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ١ۖ٘ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 7:196 in the Quran reader

میرا تو سنبھالنے والا (اور بچانے والا) اللہ تعالیٰ ہے جس نے قرآن کو اتارا اور ہی نیک بندوں کا حامی ہے6

ف 6 یہ جواب ہے مشرکین کی ان دھمکیوں کا جو وہ نبی ﷺ کو دیا کرتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ تم ہمارے ان معبودوں کو برا کہنے سے باز جاؤ ورنہ تم ان کے غضب میں گرفتار ہو کر بتا ہوجاؤ گے نیز اس میں توحید کی دعوت بھی ہے کہ جب یہ اصنام قدرت و علم سے جاری ہیں تو لوگ عقل و فکر رکھتے ہیں ان کو چاہیے کہ اللہ تعال وحدہ لا شریک کی عبادت کریں جس نے انسانوں کو ہدایت کے لے کتاب کامل نازل فرمائی ہے اور وہ ہر طرح سے محافظ بھی ہے۔ (کبیر )
Ayah 7:197

وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:197 in the Quran reader

اور جن کو تم پکارتے ہو اس کے سوا نہ وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ اپنی آپ مدد کرتے ہیں7

ف 7 یہی بات پہلے بھی بیان فرمائی تھی اس کا دوبارہ تذکرہ اس لیے کیا گیا ان پر مشرکین کے بو قوفی خوب واضح ہوجائے ( شو کانی )
Ayah 7:198

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْا١ؕ وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 7:198 in the Quran reader

اور اگر تم ان کو سیدھے رستہ کی طرف بلاؤ تو (تمہاری) ایک نہ سنیں اور دیکھنے میں تجھ کو ایسا معلوم پڑتا ہے کہ) وہ دیکھ رہے ہیں اور وہ دیکھتے (ویکھتے خاک) نہیں8

ف 8 یعنی مشرکین نے اپنے بتوں کی صورتیں بناتے وقت ان کیا آنکھیں ایسی بناتے کہ ان کی طرف دیکھنے والے کو ایس امعلوم ہو کہ وہ سچ مچ دیکھ کر رہے ہیں مگر جب درحقیقت دیکھنے والے کو ایسامعلوم ہو کہ وہ سچ مچ دیکھ کر رہے ہیں مگر جب در حقیقت وہ بےجان بت ہیں تو دیکھوں گے کیسے ( ابن جریر) یا آیت کے معنی یہ کہ مشرکین بظاہر تو آنکھیں رکھتے ہیں مگر بصیرت کے اندھے ہیں اس لیے کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی ( جامع البیان، ابن کثیر )
Ayah 7:199

خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 7:199 in the Quran reader

اے پیمبر) درگذر اپنا طریق کرلے اور اچھی بات کا حکم کر9 اور جالوں سے الگ ہوجا10

ف 9 خذ العفو، یعنی حتی الو سع تحمل اور صبر سے کام لو اور یہاں پر آنحضرت ﷺ کو حسن اخلاق کی تعلیم دی ہے اور آنحضرت ﷺ کے واسطہ سے ہر وہ شخص مخاطب ہے جو دعوت اسلامی کافر یضہ سرانجام دے رہاہو جیسے فرمایا وجا دلھم بالتیھی احسن ولو کنت فظاغلیظ القلب ال ان فضو امن حولک ( کبیر) اس کے بعد وامر بالعرف کے حک سے اشارہ فرمایا کہ عفودر گذر کا تعلق صرف حسن اخلاق کی حد تک ہے ورنہ اقامت حدود میں کسی قسم کی چشم پوشی ہوسکتی، ( ایضا)10 یعنی اگر معاندا رویہ اختیار کریں اور بےفائدہ تکرار کریں تو بجائے الجھنے کے خامشی اختیار کرلو خواہ وہ اس خاموشی کو کوئی معنی پہنادیں شعبی کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی صلعم نے حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) سے اس کا مطلب دریافت کیا انہوں نے جواب دیا اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو حکم دیا ہے جو شخص بھی آپ ﷺ پر زیادتی کرے اس سے در گذر فرمائیں اور جو آپ ﷺ کو محروم کرے آپ ﷺ اسے دیں اور جو قطع رحمی کرے آپ ﷺ اس سے صلح رحمی کریں ( ابن جریر) امام جعفر صادق (رح) فرماتے ہیں مکار اخلاق کے مو ضوع پر اس سے جامع تر قرآن میں کوئی آیت نہیں ہے۔ (کبیر) بعض علما نے کا خیال ہے کہ خذالعفو کا حکم آیت قتال سے منسوخ ہے۔ ابن جریر نے اسی کو تر جیح دی ہے۔ نیز دیکھئے سورة بقرہ آیت 109، ( ابن کثیر )