7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 7:121–122

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:121 in the Quran reader

اور (بےاختیار) بول اٹھے ہم تو سارے جہان کے مالک پر ایمان لائے

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 7:122 in the Quran reader

جو موسیٰ اور ہارون کا مالک ہے4

ف 4 رب العالمین کے ساتھ رب موسیٰ وھارون اس لیے کہا کہ کسی کو یہ گمان نہ گزرے کہ انہوں نے فرعون کو رب العالمین سمجھتے ہوئے سجدہ کیا ہے۔ اس طرح فرعون اور اس کے مشیروں کی ساری اسکیم خاک میں مل گئی انہوں نے تو جادو گروں کے کو جع کر کے اس لیے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا مقابلہ کرایا تھا کہ لوگوں پر ثابت کردیں کہ موسیٰ ( علیہ السلام) جو معجزے لے کر آئے ہیں وہ بھی ایک جادو ہے مگر جب تمام جادو گروں نے مل کر اس کے خدا کی طرف سے معجزہ ہونے کا اعتراف کیا اور اوہ ایمان لا کر سجدہ میں گرپڑے تو فرعون اور اس کے مشیروں کے لیے کسی طرح ممکن نہ رہا ہو کہ لوگوں کو موسیٰ ( علیہ السلام) کے محض ایک جادو گر ہونے کا یقین دلاسکیں
Ayahs 7:123–124

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:123 in the Quran reader

فرعون نے کہا تم موسیٰ کے خدا پر ایمان لے آئے اور ابھی میں نے تم کو اس پر ایمان لانے کی اجازت نہیں دی ضرور یہ ایک منصوبہ ہے، جو تم نے اس شہر میں گانٹھا کہ اس کہ شہر والوں کو (قبطیوں) کو اس میں سے نکال باہر کرو (اور تم مزے سے شہر کے حاکم بن جاؤ) خیر اب جو تمہارے لیے ہونا ہے وہ) تم کو عملوم ہوجائے گا

لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:124 in the Quran reader

میں ضرور تمہارے ہاتھ پاؤں الٹے سیدھے (یعنی ایک طرف کا ہاتھ دوسری طرف کا پاؤں کٹواؤں گا پھر تم سب کو سولی پر چرھاؤں گا5

ف 5 دنیا میں ہر متکبر اور سرکش حکمران کا یہ قاعدہ ہے یہ جب وہ دلیل کے میدان میں ہار جاتا ہے تو جیل پھانسی اور قتل کی دھمکی دینے پر اتر آتا ہے او اس غرض کے لے ایسے قوانین وضع کرتا ہے جن کی رو سے کسی پر اس کا جر م ثاتب کئے بغیر اسے ہر قسم کی سزا دی جاسکے چناچہ یہی کام فرعون نے کیا۔ جب وہ دلیل کے میدان میں شکست کھا گیا تو سزا دینے کی دھمکی پر اتر آیا اور فی الفور عوام کے سامنے دو قسم کے الزام لگا دئیے، اول یہ کہ ان کی سازش ہے، دوم یہ کہ اس سازش کر ذریعہ مصریوں کو ملک بدر کے حکومت پر قبضہ جما نا چاہتے ہیں اس لیے اولا فسوف تعلمون کہہ کر وعید سنائی اور پھر اس وعید کی وضاحت بھی سنا دی ( کذافی الکبیر )
Ayah 7:125

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 7:125 in the Quran reader

جادوگر کہنے لگے (ہم کو اس کی کچھ پرواہ نہیں، ہم تو (ہرحال ایکدن) اپنے مالک کے پاس لوٹ جانیوالے ہیں6

ف 6 یعنی موت سے کسی حال میں چھٹکارا نہیں وہ کسی شکل میں ضرور آتی ہے اگر ہماری قسمت میں بھی لکھا ہے کہ ہماری زندگی کا خاتمہ پھانسی کے تختے پر ہو تو ہمیں بڑی خوشی سے بھانسی دو ہمیں کوئی پروا نہیں۔
Ayah 7:126

وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا١ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:126 in the Quran reader

اور تو ہم پر قصور کیا رکھتا ہے یہی نا کہ جب ہمارے پاس ہمارے مالک کی نشانیاں آگئیں تو ہم ان پر ایمان لائے مالک ہمارے ہم کو صبر عنایت فرما اور مسلمانی پر (دنیا سے اٹھا1

ف 1 تقم ( ض ع) کے معنی کسی شے سے بہت زیادہ نفرت اوکراہت کا اظہار کرنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارا اگر کوئی گناہ ہے تو صرف یہ ہے کہ ہم اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے ہیں ( ابن عباس ؓ حقیقت یہ ہے کہ کسی فن کو جتنا اس فن والا جانتا ہے کوئی دوسرا نہیں جان سکتا، چناچہ ان جادوں گروں نے جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے معجزہ کو دیکھا تو فورا سمجھ گئے کہ یہ ہرگز جادو نہیں ہوسکتا بلکہ یہ سراسر خدائی معجزہ ہے اس لے ہو اس پر فورا ایمان لے آئے اور ان کے ایمان میں اس قدر بختگی تھی کہ جان تک کی پرواہ نہ کی، مشہور قول کے مطابق وہ قتل کردیئے گئے۔ چناچہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ شروع دن میں وہ جادو گر تھے اور پھر دن کے آخری حصہ میں شہدا میں داخل ہوگئے ( ابو الفدار اور حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ فرعون نے ان کے الٹے ہاتھ پاؤں کٹواڈالے مگر انہوں نے ایمان کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جیسا کہ ان کی اس دعا سے بھی معلوم ہوتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق ہے جسے چاہے اپنی توفیق سے نواز دے، فتح البیان )
Ayah 7:127

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ١ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ Open ayah 7:127 in the Quran reader

اور فرعون کی قوم کے سردار کہنے لگے (جادوگروں کو تو سزا مل گئی) کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم (بنی اسرائیل) کو (یونہی خالی) چھوڑ دے گا کہ وہ ملک فساد مچاتے پھرے2 اور موسیٰ کا گروہ تجھ کو اور تیرے بنائے ہوئے بتوں اور خداؤں کو چھوڑ بیٹھے3 فرعون نے کہا نہیں ان کا بندوبست کریں گے) اب ہم ان کے بیٹوں کو (جو پیدا ہوں) مار ڈالیں گے اور ان کی عورتوں جیتا رہنے دیں گے اور ہم تو (ہر طرح سے) ان پر غالب ہیں4

ف 2 کہ و لوگوں کو توحید کی طرف دعوت دے کر ملک کے امن وامان کو غارت کرتے رہیں ؟ 3 حضرت عبداللہ بن عمر الا ھتک قرات کرتے ہیں یعنی تیری عبادت مگر جمہور مفسرین کا خیال ہے کہ فرعون نے کچھ چھو ٹے چھوٹے بن بنواکر لوگوں کو دئیے تھے کہ میرا تقرب حاصل کرنے کے لیے ان کی پو جا کریں اس لیے وہ لوگوں سے کہا کرتا اناربکم الاعلی ورب ھذہ الا صنام یعنی تمہارا بڑا رب ہوں اور ان بتوں کا بھی رب ہوں امام رازی فرماتے ہیں میرا خیال یہ ہے کہ فرعون دہریہ تھا اور صانع کا منکر وہ کہا کرتا کہ اس عالم کی تد بیر کواکب کرتے ہیں مگر اس عالم کی مربی میں ہوں ۔ اس لیے تمہیں چاہیے کہ میری عبادت کرو۔ ( دیکھئے سورة القصص آیت) اور ہوسکتا ہے کہ اس نے ان ستاروں کی صورتیں کے بت بنوا کر رکھے ہوں، پس الھتہ سے مراد یا تو وہ چھوٹے چھوٹے بت ہیں جن کی فرعون خود بھی پو جا کیا کرتا تھا، بایں صورت لھتک اپنے ظاہری معنی پر محمول ہوگا۔ (کبیر، فتح البیا)4 یعن ہم جو ظلم وستم موسیٰ کی پیدا ئش سے پہلے بنی اسرائیل پر کرتے تھے، اس کا سلسلہ پھر سے شروع کریں گے اس طرح یہ تباہ ہوجائیں گے اور ان کا تخم تک باقی نہ رہے گا ان کے مرد مارے جائینگے صرف عورتیں بچیں گی، وہ کیا کرسکیں گی، ان کو ہم لونڈیاں بناکر اپنے گھروں میں رکھیں گے ،
Ayah 7:128

قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا١ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 7:128 in the Quran reader

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو اور صبر کرو سارا ملک (یا مصر کا ملک) اللہ تعالیٰ کا ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس کو دیتا ہے5 اور آخرت (خاص) پرہیزگاروں کے لیے ہے

ف 5 پہلے بھی ہمارے بچوں کو قتل کیا جاتا رہا ہے اور ہم سے مشقت کے کام لیے جاتے رہے ہیں اور آج تیرے رسول ﷺ ہو کر آنے کے بعد بھی یہی سلسلہ جاری ہے۔
Ayah 7:129

قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا١ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:129 in the Quran reader

وہ یعنی بنی اسرائیل) کہنے لگے تیرے آنے (پیدا ہونے) سے پہلے بھی ہم تکلیف میں رہے اور تیرے آئے بعد بھی6 موسیٰ نے کہا (کیوں گھبراتے ہو) وہ وقت قریب ہے کہ تمہارا مالک تمہارے دشمن کو تباہ کرے اور تم کو ان کا جانشیں بنائے پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو7

ف 7 اس کا شکر کرتے ہو اور اس کے احکام بجالاتے ہو یا تم بھی باشکری ونافر مانی کرنے لگتے ہو ِ ؟ شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ کلام نقل فرمایا مسلمانو کو سنانے کو یہ سورت مکی ہے اس وقت مسلمان بھی ایسے ہی مظلوم تھے پھر بشارت پہنچی پردے میں (مو ضح )
Ayah 7:130

وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:130 in the Quran reader

اور ہم نے فرعون کے لوگوں کو قحطوں اور پیداوار کی کمی کی سزا دی اس لیے کہ وہ ہوشیار ہوں8

ف 8 اوپر کی آیت میں جب موسیٰ ( علیہ السلام) کی زبان سے یہ وعدہ فرمای کہ وہ وقت قریب ہے کہ تمہار امالک تمہارے دشمن کر تباہ کر دے تو اب یہاں سے ان تکالیف ومحن کا بیان شروع کیا جن میں وقتا فوقتا ان کو مبتلا کیا حتی کہ آخر کار تباہ کر دئیے گئے گا کہ ان مشرکین کو کفر پر زجر و تو بیخ ہو اور تنبیہ ہو کہ پیغمبروں کی تکذیب کا انجام تباہی کر صورت میں ظاہر ہوتا ہے (کبیر) آخر میں فرمایا کہ یہ تکالیف ومحن ان پر اس لیے بھیجیں کہ نصیحت حاصل کریں اور اپنی سرکشی سے باز آجائیں ،
Ayah 7:131

فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:131 in the Quran reader

تو جب ان پر کوئی نعمت آتی ! جیسے غلہ کی ازانی صحت کا عمدہ ہونا) تو کہتے یہ تو ہمارا حق ہے9 اور اگر ان پر کوئی آفت آتی جیسے قحط اور گرانی یا بد ہوائی) تو موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کی شومی بتاتے10 سنو ان کی شومی (اور بھلائی سب) خدا کی طرف سے ہے11 لیکن ان میں کے اکثر لوگ اصل حال نہیں جانتے12

ف 9 مگر ان شدائد کے بعد رفاہیت اور خوشحالی آتی تو بجائے اس کے اللہ تعالیٰ کا احسان سمجھ کر شکر گزاری کریں لنا ھذہ کہتے یعنی یہ ہمارے حسن انتظام کا نتیجہ ہے۔10 تمام مفسرین کے نزدیک یہاں التطیر بمعنی تشام بمعنی نحوست ہے یعنی وہ کہتے کہ ان کی نحوست سے ہم پر آفت آئی ہے۔11 یعنی اس نحوست اصل سبب تو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور خیر وشر جو کچھ ان کو پہنچ رہا ہے تمام اللہ تعالیٰ کی قضاوقدرت سے ہے جو ان کے اعمال کے سبب ان کے حق میں لکھا ہے جاچکا ہے۔ (کذافی الکبیر)12 کہ خیر وشرسب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اس نے جو کچھ تقدیر میں لکھا ہے وہ ضرور ہو کر رہتا ہے کسی کی نحوست اور شومی کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے مگر عوام ہیں کہ خیر وشر کو اسباب ظاہری کی طرف نسبت کردیتے ہیں اور یہ سراسر جہا لت ہے۔ ( کبیر ) شاہ صاحب فرماتے ہیں شومی قسمت بد ہے سوا للہ تعالیٰ کی تقدیر سے ہے برائی اور بھلائی کا اثر آخرت میں ہوگا اس کا جواب یہ نہیں فرمایا کہ شومی انکے کفر سے تھی کیونکہ کافر بھی دنیا میں عیش کرتے ہیں۔ اصل حقیقت تھی، سو فرمائی کہ دنیا کے احوال مو قوف بہ تقدیر ہیں۔ (از مو ضح )
Ayah 7:132

وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:132 in the Quran reader

اور (موسی سے) کہنے لگے تو کوئی سی نشانی ہمارے سامنے لا کر ہم پر جادو چلائے تو بھی ہم ماننے والے نہیں1

ف 1 اور پر کی آیت میں ان کی یہ جہالت بیان فرمائی کہ وہ حوادث کو اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر کی طرف نسبت کرنے کی بجائے دوسرے اسباب کو طرف منسوب کرتے ہیں۔ اب اس آیت میں ان کی دوسری جہالت بیان فرمائی کہ اتنی نشانیاں دیکھ لینے کے بعد بھی کم بخت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو جادوگر ہی کہتے رہے اور معجزات اور جادو میں آخر دم تک تمیز نہ کرسکے بلکہ انہوں نے اپنی سرکشی اور تمرد سے بآلا خر قطعی پر یہ اعلان کردیا کہ تم مو سیٰ ( علیہ السلام) جو بھی معجزہ دکھا و ہم کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔ (کبیر )
Ayah 7:133

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 7:133 in the Quran reader

پھر ہم نے ان پر طوفان بھیجا اور ٹڈیاں بھیجیں) اور جوئیں (بھیجیں اور مینڈک (بھیجے) اور خون بھیجا کھلی کھلی نشانیاں2 اس پر بھی وہ اکڑے رہے اور وہ (بڑے شریر لوگ تھے3

ف 2 یعنی جب وہ اپنیی سرکشی پر جم گئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر کچھ سختیاں نازل ہونا شروع ہوئیں جو آخر کار ہلاکت اور غرقابی کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں، الطوفان یعنی اسمان سے موسلا دھا بارش اور دریاوں میں سخت طغیانی الجراد ٹڈی جو ان کی فصلوں کو جٹ کرگئی القمل جوئیں چچڑیاں، چھوٹے کالے کیڑے پسو وغیرہ سب پر قمل کا لفظ پولا جاسکتا ہے الضفادع مینڈک اس کثرت سے کہ ہر چیز اور ہر برتن میں مینڈک ہی مینڈک نظر آتے الدم خون الغرض ان آیات کو مفصلات فرمایا یعنی ایک کے بعد دوسری کچھ قفہ سے آتی، یا جن کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے میں کوئی شبہ نہ تھا (وحیدی) شاہ صاحب فرماتے ہیں سب بلائیں ان پر ایک ہفتہ کے فرق سے آئیں ( مو ضح)3 حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا مقابلہ فرعون سے چالیس برس اس بات پر کہ بنی اسرائیل کو اپنے وطن جانے دے، اس نے نہ مانا ان کی بد عا سے بلائیں ادریائے نیل چڑھ گیا، کھیت اور باغ اور گھر اس سے تلف ہوئے ٹڈی سبز ی کھاگئی اسی طرح ہر چیز میں مینڈک پھل گئے اور ہر پانی لہو بن گیا آکر کار ہرگز نہ مانا ( مو ضح)
Ayah 7:134

وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 7:134 in the Quran reader

اور جب ان عذابوں کے بعد ان پر طاعون آیا4 تو وہ کہنے لگے موسیٰ اپنے مالک سے اس وعدے کے آسرے پر دعا کر جو اس نے تجھ سے کیا ہے5 اگر تو ہم سے اس عذاب کو ٹال دے تو ہم ضرور بالضرور) تجھ پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ روانہ کردیں گے6

ف 4 لفظ رجز کے لفظی معنی عذاب کے ہیں ؟ اس سے مراد طاعون بھی ہوسکتا ہے اور ان پانچ چیزوں کا عذاب بھی جن کو پہلے ذکر ہو رہو چکا ہے۔ یہ دوسر قول زیادہ ررجح ہے۔ ( کبیر) ایک بلاآتی پھر مظطر و لاچار ہوتے بلا دفع ہوجاتی تو پھر منکر ہوجاتے۔5 کہ جب بھی تو دعا کرے گا وہ اسے قبول فرمائے گا۔ یا عہد سے مراد عہد نبوت ہے۔ ( کبیر)6 کہ جہاں چاہیں جائیں اور جیسے چاہیں اپنے رب کی عبادت کریں
Ayah 7:135

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 7:135 in the Quran reader

پھر جب ہم نے ان کا عذاب اس وقت تک ٹال دیا جہاں تک وہ پہنچنے والے تھے7 تو وہ فوراً لگے اپنا اقرار توڑنے (ایمان نہ لائے اور نہ بنی اسرائیل کو چھوڑا)

ف 7 یعنی ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ اس وقت تک جو ان کی ہلاکت کے لیے مقرر تھا
Ayah 7:136

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:136 in the Quran reader

آخر ہم نے ان سے بدلہ لیا اور ہماری نشانیوں کو جھٹلانے اور ان کی پرواہ نہ کرنے کی سزا میں ہم نے ان کو سمندر میں ڈبو دیا8

ف 8 الیم کے معنی گہرے سمندر کے ہیں جب بکرا وہ مرات عذاب دور کرنے کے بعد بھی وہ اپنے کفر اور جہالت سے باز نہ آئے اور عذاب کا مقرر وقت آپہنچا ( کبیر) چناچہ ایک رات حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اپنی قوم فرعون پیچھے لگا۔ بحر قلزم پر جاپکڑا وہاں یہ قوم سلامت گزری گئی اور فرعون ساری قوم سمیت غرق ہو۔ کذافی المو ضح )
Ayah 7:137

وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوْا١ؕ وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ Open ayah 7:137 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور گنے جاتے تھے (یعنی بنی اسرائیل کو جو فرعون کے زمانہ میں بالکل ناتواں اور غریب تھے) اس ملک کے پورب اور پچھم کا مالک بنادیا جس میں ہم نے برکت دی تھی9 اور (اے پیمبر) بنی اسرائیل نے جو (فرعون کے ظلموں پر) صبر کیا تو اللہ تعالیٰ کا نیک کلمہ ان پر پورا ہوا اور فرعون اور اس کی قوم وال جو جو عمارتیں بنواتے اور (ٹٹیوں اور چھتریوں پر) باغات چڑھاتے وہ سب ہم نے غارت کردئیے

ف 9 حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کنے اپنی قوم سے دو وعدے کئے تھے، دشمن کی ہلاکت اور ملک کی وراثت اور خلافت چناچہ پہلا وعدہ پورا ہونے کے بعد اب یہاں دوسرے وعدے کی تکمیل کا بیان ہے، یہامبارک سرزمین سے شام کی سرزمین مراد ہے اور یہ وعدہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی وفات کے بعد حضرت یو شع ( علیہ السلام) کے دور میں پورا ہونا شروع ہوا جب کہ انہوں نے عمالقہ سے جہاکر کے بعض علاقے اپنے قبضے میں لے لیے مگر پورا ملک شام حضرت داوؤد ( علیہ السلام) اور سلیمان ( علیہ السلام) کے عہد میں قبضہ میں آیا۔ (کبیر) اور بعض مصر شام دونوں مراد لیے ہیں اور لکھا ہے کہ فرعون کی تباہی کے بعد بنی اسرائیل مدتوں مصر پر حکمران رہے، قرآن کی بعض آیات سے اس کی تائید ہوتی ہے ( دیکھئے سورة دخان و سورة قصص آیت 5 )
Ayah 7:138

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰى قَوْمٍ یَّعْكُفُوْنَ عَلٰۤى اَصْنَامٍ لَّهُمْ١ۚ قَالُوْا یٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 7:138 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر (بحر قلزم) کے پار اتارا10 تو وہ کچھ لوگوں پر سے ہو کر گذر جو اپنے بتوں پر جمے بیٹھے تھے11 بنی اسرائیل نے کہا موسیٰ جیسے ان لوگوں کے پاس بت ہیں ایسا ہی ایک بت ہمارے لیے بھی بنا دے1 موسیٰ نے کہا تم تو جاہل ہو2

ف 10 یعنی عاشورہ کے روز حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) نے اس دن شکر کا روزہ رکھاجیسا کہ صحیحین کی حدیث میں ہے۔ ( ابن کثیر)1 ان کی پوجا کر رہے تھے قتادہ اور بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ نجم اور جذام کے قبیلہ سے تھے جو سمندر کے کنارے آباد تھے اور ان کے بت تانبے کی بنی ہوئی گایوں مو رتیں تھیں، واللہ اعلم۔ ( ابن جریر ) 1 بنی اسرائیل پر انعاما بیان کرنے کے بعد اب اس آیت میں ان کی جہالت اور کفر کو بیان فرمایا، موسیٰ ( علیہ السلام) کے اتنے ہیں معجزات اور انعامات دیکھنے کے بعدان کا یہ مطالبہ انتہائی جہالت اور مخالفت پر مبنی تھا، بعض علمائے تفسیر نے لکھا ہے کہ بنی اسرائیل جو ن کہ موحد تھے اس لے ان کی اس بت کے مطالبے سے یہ غرض تھی کہ ہو شرک کریں بلکہ ان کا مطلب یہ تھا کہ ہم اس بات کی تعظیم سے اللہ تعالیٰ کا تقرب چاہیں گے وہ سمجھے کہ یہ شرک نہیں ہے حالانکہ اس کا شرک ہونا انبیا ( علیہ السلام) کا اجماعی مسئلہ ہے جیسا کہ قرآن میں دوسری جگہ فرمایا کہ مشرک بتوں کو اللہ تعالیٰ کے حضور اپنا سفارشی سمجھ کر پوجتے ہیں اور دوسری آیت میں ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ ہاں تقرب کا ذریعہ بناتے ہیں کذافی (الکبیر)2 یعنی افسوس کہ تم اللہ تعالیٰ کی نشان نہیں پہچانتے، اللہ تعالیٰ کی ذات تو وہ ہے کہ نہ اس کی کوئی مورت بن سکتی ہے اور نہ اس کی عبادت میں کسی کو شریک ٹھہر ایا جاسکتا ہے ْ ، پس ی مطالبہ سراسر مشرکانہ مطالبہ ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں جاہل آدمی نرے بےصورت کی عبادت کر کے تسکین نہیں پاتا جب تک سامنے ایک صورت نہ۔ ، وہ بنی اسرائیل نے جب وہ قوم دیکھی کہ گائے کی صورت کی پوجار تے تھے تو انہیں یہ ہوس آئی۔ آخر سونے کا بچھڑا بنایا اور پوجا۔ (مو ضح)
Ayah 7:139

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِیْهِ وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:139 in the Quran reader

بیشک یہ لوگ جس دین پر ہیں وہ تباہ ہونے والا ہے (اللہ تعالیٰ اس کو برباد کریگا) اور جو کام یہ لوگ کر رہے ہیں وہ بھی لغو ہے3

ف 3 یہ بھی ان کے مطالبہ کی تر دید اور اس کا جواب ہے، یعنی اس کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ یہ دنیا میں گمراہی و بربادی اور آخرت میں عذاب کا باعث ہے۔
Ayah 7:140

قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْكُمْ اِلٰهًا وَّ هُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:140 in the Quran reader

موسیٰ نے (یہ بھی) کہا کیا میں خدا کے سوا تمہارے لیے اور کوئی معبود ڈھونڈھ نکالوں اور اسی نے تو تم کو سارے جہان پر بزرگی دی ہے4

ف 4 اس آیت میں بھی ان کے مطالبہ کی تر دید اور انکار و توبیخ کے اسلوب میں اس پر اظہار تعجب ہے ( رازی) یعنی الہ (معبود) کوئی ایسی ہستی نہیں ہوسکتی انسان کو جسے جی چاہے بنالے بلکہ معبود تو وہی ہوسکتا ہے جو انسان کی ہر قسم کے انعامات سے نوازتا رہے اور پھر جس ذات ن تم پر انعامات کئے اور تمہیں تمام عالم پر فضیلت بخشی ہے کی ا اب اس کی شکر گزاری یہی ہے کہ اسے چھوڑ کر دوسروں کی پوجا کرنے لگو ؟ یہ شرکزاری نہیں بلکہ عین ناشکر اور نمک حرام ہے
Ayah 7:141

وَ اِذْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ۚ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 7:141 in the Quran reader

اور (اے بنی اسرائیل وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعون کے لوگوں سے چھڑایا وہ تم کو سخت تکلیف دیتے تھے تمہارے بیٹوں کو تو (چن چن کر) مار ڈالتے اور تمہای عورتوں کو جیتا چھوڑ دیتے اور اس میں تمہارے مالک کا تم پر بڑا احسان ہوا5

ف 5 کہ تم کو ایسی سخت مصیبت سے نجات دی یا دوسرا مطلب یی بھی ہوسکتا کہ اس مصیبت میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری سخت ازمائش تھی اور یہ معنی زیادہ صحیح معلوم ہوتے ہیں ( دیکھئے سورة بقرہ آیت 49) اور اگر اس کے مخا طب وہ یہودی ہوں جو آنحضرت کے زمانہ میں موجود تھے تو مطلب یہ ہوگا کہ تمہارے باپ داداکو فرعون سے نجات دلائی،
Ayah 7:142

وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً١ۚ وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:142 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کا وعدہ کیا اور دس راتوں سے اس وعدے کو پورا کیا تو موسیٰ کے مالک کا وعدہ چالیس رات کا پورا ہوگیا6 اور موسیٰ (طور پہاڑ کو جاتے وقت) اپنے بھائی ہارون سے کہہ گیا تو میری قوم میں میرا خلیفہ (قائم مقام) رہ اور اچھی طرح میل جول اور محبت کے ساتھ) کام چلا اور فسادیوں کے رستے پر مت چل7

ف 6 فرعون سے نجات پانے کے بعد جب بنی اسرائیل جزیرہ نمائے پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو کوہ طور پر طلب فرمایا تاکہ انہیں کتاب عطا کی جائے اور تیس دن کی میعاد مقرر کی گئی اور پھر اس میں مزید دس دن کا اضافہ کردیا گیا تاکہ ان چالیس دنوں میں موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) روزہ رکھیں اور دن رات عبادت اور تفکر و تدبر میں مصروف رہیں جب موسیٰ ( علیہ السلام) چالیس دن کی یہ معاد پوری کرچکے تو اللہ تعالیٰ نے اس کلام فرمایا اور انہیں الواح دیئے اکثر مفسیر ن چالیس دونوں سے ذولقعد اور دس ذوالحجہ کے مراد لیے ہیں اس طرح گو یا حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو الواح 10 ذولحجہ کو ملیں اور یہی وہ دن ہے جب نبی ﷺ پر آیت الیو اکملت لکم الایتہ نازل ہوتی واللہ اعلم ( ازابن کثیر)7 بنی اسرائیل پر اصل سردراری موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کی تھی حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو بنی ( علیہ السلام) تھے لیکن ان کی حیثیت دراصل حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ایک وزیر اور مددگار کی تھی، اور اسی حیثیت سے حضرت موے اللہ تعالیٰ سے انہیں مانگا تھا۔ دیکھئے طحہٰ آیت 30، (کذافی الکبیر )
Ayah 7:143

وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ١ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ١ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:143 in the Quran reader

جب موسیٰ ہمارے (مقرر کیے ہوئے) وقت پر (کوہ طور پر) آیا اور موسیٰ کے مالک نے اس سے باتیں کیں8 موسیٰ نے کہا اے مالک میرے (اپنے تئیں مجھ کو دکھا میں تجھ کو (ایک نظر) دیکھو مالک نے کہا تو مجھ کو اس دنیا کی آنکھ سے ہرگز نہ دیکھ سکے گا9 لیکن اس پہاڑ کی طرف دیکھ اگر وہ اپنی جگہ تھما رہا تو تو بھی مجھ کو آئندہ دیکھ سکے گا10 پھر جب موسیٰ کے مالک نے پہاڑ پر تجلی کی تو اس کو چکنا چور کردیا (ریزہ ریزہ یا زمین کے برابر) اور موسیٰ بےہوش گرپڑا جب ہوش آیا تو کہنے لگا تو پاک ہے میں تیری درگاہ میں توبہ کرتا ہوں11 اور میں (اس زمانے میں) سب سے پہلے یقین لاتا ہوں12

ف 8 یعنی کس ی واسطہ کے بغیر۔ ( سورة بقرہ آیت آیت 253)9 یعنی جب تک تو دنیا میں زندہ ہے مجھے نہیں دیکھ سکتا باقی رہا آخرت میں اللہ تعالیٰ کی روئیت تو وہ مومنوں کے حق میں متعدد صحیح احادیث سے ثابت ہے، مزید تشریح کے لیے دیکھئے ( سورة قیامہ آیت 22 ۔ 23)10 یعنی جب میں تجلی فرماؤں۔۔۔۔11 کہ تیری اجازت کہ بغیر تجھے دیکھنے کی درخواست کر بیٹھا (رازی)12 یعنی تجھ پر اور تیری عظمت و جلال پر یا اس پر کہ کوئی تجھے قیامت سے پہلے دیکھ سکتا، (کبیر) شاہ صاحب فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو حق تعالیٰ نے بزرگی دی کہ فرشتہ کے بغیر خود کلام فرمایا ان کو شوق ہوا کہ دیدار بھی دیکھوں اس کی برداشت نہ ہوئی۔۔۔۔ مگر آخرت کو وجود برداشت ہوگی وہاں دیکھنا یقنی ہے۔ ( از مو ضح )
Ayah 7:144

قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ١ۖ٘ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:144 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ میں نے تجھ کو اپنی پیغمبری اور (بےواسطہ) ہم کلامی سے لوگوں پر بزرگی دی (یا امتیاز بخشا یا چن لیا) تو جو میں نے تجھ کو دیا وہ لے لے (یعنی پیغمبر اور (خدا کا) شکر کرتا رہ1

ف 1 یعنی جو چیز مل گئی اس پر قناعت کر اور کسی ایسی چیز کا مطالبہ نہ کر تیری طاقت سے باہر ہے۔ اس سے مقصود موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو تسلی دینا ہے کہ رؤیت سے روک پر گرفتہ خاطر نہ ہوں (رازی)
Ayah 7:145

وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ١ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا١ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:145 in the Quran reader

اور ہم نے (تورات شریف کی) تختیوں میں موسیٰ کے لیے ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی تھی2 تو (ہم نے موسیٰ سے کہا) ان تختیوں کو زور سے سنبھال اور اپنی قوم سے کہہ دے ان میں جو اچھی باتیں ہیں ان پر عمل کریں3 (اور یہ بھی کہہ دے کہ) میں تم کو اب نافرمان لوگوں کا ٹھکانا دکھاتا ہوں4

ف 2 یعنی تمام احکام و مواعظ جن کی حلال و حرام معلوم کرنے سلسلہ میں بنی اسرائیل کو ضرورت پیش آسکتی تھی۔ ( کبیر)3 اچھی باتیں یعنی کرنے کے کام ہیں او بری باتیں جن سے بچنے کا حکم ہے۔ ( مو ضح) یا عزیمت کی راہ اختیار کریں اور وہ کام کرنے کی کوشش کریں جن کا اجر دوسرے کاموں سے زیادہ ہے۔ (کذافی الکبیر)4 یعنبی اگر تم نے ان باتوں پر عمل نہ کیا تو تمہیں جلدی معلوم ہوجائے گا میری نافرمانی کرنے والوں کو انجام کیا ہوتا ہے اور انہیں کسی قسم کی تباہی وبر بادی سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ ( ابن جریر) بعض نے لکھا ہے کہ دار الفا ستمین سے مراد اہل شام ہیں گویا اس میں وعدہ ہے کہ ملک شام تمہاہا سے قبضہ آئے گا، (کبیر) یا یہ کہ اگر تم نے نافرمانی کی تو تم کو اسی طرح ذلیل کریں گے جس طرح شام کا ملک ان سے چھین کر تم کو دیا، ( کذافی امو ضح)
Ayah 7:146

سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:146 in the Quran reader

جو لوگ ناحق زمین میں اکڑے پھرتے ہیں ان (کے دلوں) کو میں اپنی آیتوں سے (یا اپنی قدرت کی نشانیوں سے) پھیر دوں گا اور (ایسے دل پھیردوں گا) اگر وہ (دنیا جہان کے) سب معجزے دیکھیں تو بھی ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر ہدایت کا رستہ دیکھ پائیں تو اس پر نہ چلیں5 اور اگر گمراہی کا رستہ دیکھ پائیں تو اس پر چلنے لگیں یہ (دلوں کا پھیرنا) اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان کی کچھ پرواہ نہ کی6

ف 5 یعنی انہیں یہ سزا دوں گا کہ وہ میری عظمت شریعت اور احکام کو سمجھ نہ سکیں گے اور پھر جاہل سے رہنے کی وجہ سے دنیا آخرت دونوں میں ذلیل ہوں گے نیز۔ دیکھئے، ( سورة الانعام آیت 110) اسی لیے بعض سلف کا قول ہے کہ متکبر شخص علم حاصل نہیں کرسکتا اور جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے ایک ساعت کی ذلت گوارا نہیں کرسکتا وہ جاہل رہ کر ہمیشہ کی ذلت مول لیتا ہے۔ ( ابن کثیر) یعنی یہ سب اس کے اپنے کئے سزا ہوگی جیسا کہ دوسری آیت فرمایا ی فلما زاوغوا اذاغ اللہ قلو بھم، جب وہ خود ٹیڑہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں ٹیڑھا کردیا۔ (صف آیت 5) معلوم ہوا کہ ہدایت و ضلالت اور اسی طرح جنت و دوزخ دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں موضح)
Ayah 7:147

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:147 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو اور آخرت کا دن آنے کو جھٹلایا ان کا کیا کرایا سب اکارت ہو ان کو7 وہی بدلہ ملے گا جیسے کام جیسے کام کرتے تھے (یا جو ان کے کاموں کا بدلہ ہے)

ف 7 یعنی انہوں نے کفر کی حالت میں اگر کوئی نیک عمل کئے بھی مگر خاتمہ کفر پر ہوا تو ان کے تمام اعمال بےکار ہوجائیں گے اور انہیں ان کا وئی بدلہ نہ ملے گا۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ان حکموں کی توفیق نہ ہوگی اور جو اپنی عقل سے کریں گے قبول نہ ہوگا ( مو ضح)
Ayah 7:148

وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:148 in the Quran reader

(موسی تو طور پہاڑ پر گئے ہوئے تھے) اور موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچے اپنے زیوروں کا (گلا کر) ایک بچھڑا بنا لیا ایک بدن (جیسے گائے کا بدن ہوتا ہے گوشت اور خون کا) آواز بھی گائے کی8 ان لوگوں نے اتنا بھی نہ سمجھا کہ نہ تو وہ ان سے بات کرتا ہے اور نہ ان کو سیدھا رستہ بتائے9 یہ لوگ (صریح) ظلم (ارو بےانصافی) کرکے بکھیڑا بیٹھے

ف 8 یہی قصہ سورة طحہٰ میں بھی بیان ہوا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرئیل کے پاس قبیطوں کے زیورات تھے جنہیں وہ مصرے سے نکلتے وقت اپنے ساتھ لے آئے تھے، جب حضرت موسیٰ ٰ طور پر تشریف لے گئے تو ان میں سے ایک شخص سامریے ان سے یہ زیورات لے لیے اور انہیں آگ میں گلا کر بچھڑے کی شکل کا ایک مجسمہ بنا ڈالا اس آیت میں اس مجسمہ بنانے کو خود بنی اسرائیل کی طرف منسوب کیا گیا ہے کہ سامری نے ان کی اجازت اور رضامندی سے بنایا تھا اور وہ اپنے لیے اس قسم ایک معبود کی خواہش رکھتے تھے ( ابن کثیر، کبیر) مفسرین (رح) کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا بچھڑا واقعی گوشت پوست اور خون کا بن گیا تھا۔ او اس میں جان پڑگئی تھی یا وہ محض ایک مجسمہ رہا جس میں ہوا داخل ہوتی یا داخل کی جاتی تو اس سے بچھڑے کی سی کی آواز نکلتی تھی ؟ جو مفسرین اس کے واقعی جاندار بچھڑ اہونے کے قائل ہیں وہ اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت جبریل ( علیہ السلام) حضرت مو سیٰ ( علیہ السلام) کے پاس گھوڑے پر سوا ہو کر آئے سامری نے انھیں دیکھ لیا او ان کے گھوڑے کے پاؤں تلے کی کچھ مٹی لے لی اور انہوں نے آیت سورة طحہٰ فقبضت قبضتہ من اثر الر سول۔ کے معنی کے ہیں چناچہ اس مٹی کو جب انہوں نے بچھڑے کے اس مجسمہ پر ڈالا تو وہ سچ مچ کا بچھڑا بن گیا لیکن یہ کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں ہے اس لیے علمانے کوئی قطعی بات کہنے سے احتراز کیا۔ ( ابن کثیر) نیز دیکھئے سورة طحہٰ آیت 88 ۔ 96)9 پھر و خدا کیسے ہوسکتا ہے ؟ اگر بالفرض اس میں جان بھی پڑگئی ہے تو وہ ایک حیوان عاجز ہے معلوم ہوا کہ کے لیے متکلم اور ہادی ہونا ضروری ہے متکلم ہونے کے معنی یہ ہیں کہ وہ صاحب امرونہی ہو اور ہادی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے ہدایت پر قدرت ہو۔ رازی )
Ayah 7:149

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:149 in the Quran reader

اور جب (ان کے منہ ہاتھوں پر آن پڑے10 اور سمجھ گئے کہ انہوں نے غلطی کی (سیدھی راہ سے بھٹک گئے) تو کہنے لگے اگر ہمارا مالک ہم پر رحم نہ کرے گا اور (ہمارے گناہ) نہ بخشے گا تو بیشک ہم تباہ ہوجائیں گے

ف 10 یعنی نادم ہوئے، یہ موسیٰ ( علیہ السلام) کے میقات سے لوٹنے کے بعد کا وقعہ ہے۔ ( قرطبی)
Ayah 7:150

وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ١ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ١ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ١ۖ٘ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:150 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (یہ خبر سن کر) غصہ میں بھرا ہوا رنج کرتا ہوا اپنی قوم کی طرف لوٹا1 تو کہنے لگا تم نے میرے پیچھے یہ کیا بری حرکت کی کیا تم اپنے مالک کے وعدے سے بھی شتابی کر بیٹھے2 (چالیس راتیں بھی پوری نہ ہونے دیں) اور تختیاں (مارے غصہ کے ایک طرف) ڈال دیں اور اپنے بھائی (ہارون) کا سر پکڑ کر کھینچنے لگا (یعنی ان کے بال اور داڑھی کو) ہارون کہنے لگا میرے ماں جائے بھائی3 ان لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھ کو مار ڈالیں4 تو (میری بےعزتی کرکے دشمنوں کو مجھ پر مت ہنسا اور ان گنہگاروں کے ساتھ مجھ کو مت بنا5

ف 1 کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو طور پر خبر دے دی تھی کا سامری نے آپ کے بعد کی قوم کو گمراہ کردیا ہے۔ ( دیکھئے سورة طہ ٰ آیت 85)2 یعنی میں جاتے وقت تم کو کہہ گیا تھا کہ جب تک میں واپس نہ آؤں میری نصیحتوں پر کار بند رہنا اور کوئی نئی حرکت نہ کر بیٹھنا میں اللہ کی طرف سے احکام لے آؤں گا مگر جب میں مقررہ میعاد ( 30) دن تک واپس نہ آیا تو تم نے سمجھ لیا کہ میں مر کھپ گیا ہوں اس پر تم نے دین میں ایک بد عت ایجاد کرلی کہ خدا پر ایمان کے ساتھ بچھڑے کی بھی پوجا کرنے لگے اس طرح میرے بعد تم بہت برے خلیفہ ثاتب ہوئے ہو یا تم نے بہت براکام کیا ہے۔ ( المنار، کبیر)3 حضرت مو سیٰ ( علیہ السلام) حضرت ہارون ( علیہ السلام) کے سگے بھائی ہی تھے مگر حضرت ہارون ( علیہ السلام) کے سگے بھائی ہی تھے مگر حضرت ہارون ( علیہ السلام) نے ان کی سفقت حاصل کرنے کے لیے یا بن امر) کہا ہے4 یعنی میں نے ان کے بچھڑے کی پوجا سے باز رکھنے کی پوری کوشش کی ہے ( دیکھئے سورة طحہٰ آیت 90) مگر یہ لوگ مجھے مانے پر پل پڑے اور خطرہ لاحق ہوگیا کہ کہیں یہ مجھے قتل ہی نہ کر ڈالیں5 یعنی یہ نہ سمجھو کہ میں بھی ان کے جرم میں شریک ہوں۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ شماتت اعدا یعنی اس بات سے ہمیشہ پناہ مانگتے کہ کسی مصیبت پر دشمنوں کو خوشی حاصل ہو۔ ( بخاری )
Ayah 7:151

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ١ۖ٘ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 7:151 in the Quran reader

(جب ہارون نے یہ سب حال موسیٰ کو سنایا تو موسیٰ لگے دعا کرنے) موسیٰ نے کہا مالک میرے مجھ کو اور میرے بھائی کو بخش دے6 اور ہم کو اپنی رحمت میں شریک کرلے اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے

ف 6 یعنی میری اس زیادتی کو معاف فرما جو مجھ سے غصہ کی حالت میں ہاروں ( علیہ السلام) کو ڈانٹنے میں ہوئی او ہارون ( علیہ السلام) کی کی اس کوتاہی سے درگزر فرما جو ممکن ہے۔ ان سے لوگوں کو سمجھانے میں ہوئی ہو۔
Ayah 7:152

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ Open ayah 7:152 in the Quran reader

(حق تعالیٰ نے فرمایا) بیشک جو لوگ بچھڑا لے بیٹھے (اس کو پوجنے لگے) ان پر ان کے مالک کا اب غضب اترے گا7 اور دنیا ہی کی زندگی میں ذلیل ہوں گے اور ہم جھوٹ باندھنے والوں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں8

ف 7 اللہ تعالیٰ کا ان پر غضب یہ وہوا کہ جب تک ان میں سے بعض نے بعض کو قتل نہیں کیا اس وقت تک ان کی توبہ قبول نہ ہوی، نیز دیکھئے سورة بقرہ آیت 54 ( قرطبی)8 ابو قلا بہ یہ آیت تلاوت کی اور فرمایا قیامت تک ہر مفتری کی یہی سزا ہے امام مالک اور سفیان بن عینیہ نے کہا کے مفترین کے معنی مبتد عین یعنی اہل بدعت کے ہیں اور ہر بدعتی قیامت تک ذلیل و خوار ہوتا رہے گا۔ ( قر طبی، معالم )
Ayahs 7:153–154

وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا١٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:153 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے برے کام کیے پھر ان کے بعد توبہ کی اور ایمان لائے تو بیشک تیرا مالک توبہ کے بعد (یا ان گناہوں کے بعد جن سے توبہ کی ہے) البتہ بخشنے والا مہربان ہے

وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ١ۖۚ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ Open ayah 7:154 in the Quran reader

اور جب موسیٰ کا غصہ دب گیا تو اس نے تختیاں اٹھا لیں (جن کو غصے میں ایک طرف پٹخ دیا تھا) اور ان میں جو لکھا تھا وہ ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے الک سے ڈرتے ہیں9

ف 9 بعض علما نے تفسری (رح) سے منقول ہے کہ وہ الواح ٹوٹ گئی تھیں مگر ان تختیوں کا ٹوٹنا صحت کے ساتھ ثابت نہیں ہے۔ قرآن میں القی کا لفظ آیا ہے جس کے معنی ڈال دینے کے ہیں۔ اس سے ٹوٹنا لازم نہیں آتا بلکہ قرآن کے پیرا یہ بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ مو سیٰ ( علیہ السلام) نے وہ الواح صحیح واسالم حالت میں دوبارہ اٹھالیں۔ ( کبیر )
Ayah 7:155

وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا١ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ١ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا١ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ١ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ Open ayah 7:155 in the Quran reader

اور موسیٰ نے ہمارے وعدے پر لانے کیلئے اپنی قوم میں سے ستر مردوں کو چنا1 جب زلزلے (یا بجلی) نے ان کو آ دبایا2 تو موسیٰ نے عرض کی مالک میرے اگر تو چاہتا تو ان سب کو مجھ سمیت پہلے ہی ہلاک کردیتا3 کیا ہم میں سے چند بیوقوفوں نے جو ایک حرکت کی تو اس کی سزا میں ہم کو ہلاک کرتا ہے4 یہ سب کچھ نہیں تیری آزمائش ہے5 تو جس کو چاہتا ہے اس آزمائش سے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے راہ پر لگاتا ہے ( بہرحال) تو ہی ہمارا سنبھالنے والا (کام بنانے والا والی وارث) ہے تو ہمارے قصور معاف کر اور ہم پر رحم کر اور سب بخشنے والوں میں ت بہتر بخشنے والا ہے6

ف 1 اللہ تعالیٰ موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو حکم دیا کہ ایک مقررہ وقت پر قوم کے ستر نمائندوں کے ساتھ کوہ طور پر حاضر ہوں تاکہ قوم کی طرف سے گوسالہ پرستی کے جر م کے معافی مانگیں چناچہ موسیٰ نے ان ستر نمائندوں کا انتخاب فرمایا اور مقررہ وقت پر کوہ طور پہنچ گئے۔ ( قرطبی، ابن کثیر)2 اس زلزلہ یا صاعقہ کا سبب نہ تو قرآن کی کسی آیت میں مذکور ہے اور نہ اس بارے میں نبی ﷺ ہی سے کوئی حدیث مفسرین کے اس بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں یہ دعا کی : یا للہ ہمیں وہ چیز دے جو تو نے نہ پہلے کسی کو دی اور نہ آئندہ کسی کو دے گا، یہ دعا اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آئی۔ سدی (رح) کہتے ہیں جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کا کلام سنا تو کہنے لگے، ارنا اللہ جھر ۃ اس پر یہ عذاب نازل ہوا، بعض نے لکھا ہے کہ یہ زلزلہ ان پر بیعیبت زدہ ہونے کی وجہ سے طاری ہوگیا تھا، بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ لوگ بنی اسرائیل کے علما تھے۔ انہوں نے عام لوگوں کو بچھڑے کی پوجا سے منع نہ کیا تھا، اسلیے جونہی یہ کوہ طور پر پہنچے انہیں زلزلہ یا بجلی آدبایا وغیرہ وغیرہ مگر ان اقوال میں سے کسی ایک قطعی نہیں کہہ سکتے ( قرطبی۔ ابن کثیر)3 یعنی نکلنے سے پہلے تاکہ اپنی بنی اسرائیل ان کی ہلاکت پنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں اور مجھ پر الزام نہ رکھ سکتے کہ میں نے انہیں ہلاک کردیا ہے چونکہ ایسا نہیں ہو اسلیے ہمیں اب بھی ہلاکت نہ فرما (کذفی، تو حیدی)4 حرکت سے مراد اللہ تعالیٰ کو نکھوں سے یکھنے کا مطا لبہ بھی ہوسکتا ہے اور بچھڑے کی پوجا بھی اگر مراد بچھڑے کی پوجا ہے تو یہ اس بات کی دلیل بنی اسرائیل کے سمجھ دار لوگوں نے بچھڑے کی پوجا نہ کی بلکہ اس جرم کا ارتکان ان کے صرف جاہل عوام نے کیا تھا اور اس وقت انہی کی اکثریت تھی،5 یعنی جنہوں نے بچھڑے کی پو جا کی یا تجھے آنکھوں سے دیکھنے کا مطالبہ کیا، حقیقت میں یہ سب کام تیری طرف سے ایک آزمائش تھے تو جس طرح چاہتا ہے اور امتحان لیتا ہے۔ ( ابن کثیر)6 یعنی تیرے سوا اور کوئی گناہ بخشنے والا نہیں ہے۔ ( ابن کثیر )
Ayah 7:156

وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 7:156 in the Quran reader

اور اس دنیا میں ہمارے لیے بھلائی لکھ دے (مثلاً تندرستی مالداری) اور آخرت میں بھی (مثلاً جنت اور وہاں کی نعمتیں) ہم تو تیری طرف رجوع ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرا عذاب جو ہے تو جس پر میں چاہتا ہوں اس پر اتارتا ہوں اور میری مہربانی تو ہر چیز پر ہے (آدمی جانور درخت پتھر سب پر)7 اب میں اپنی مہربانی (آخرت میں) ان لوگوں کیلئے لکھ دوں گا 8 جو (گناہ اور شرک سے) بچے رہتے ہیں اور (فرض) زکوۃ ادا کرتے ہیں9 اور جو ہماری آیتوں پر یقین لاتے ہیں10

ف 7 یعنی میرا عذات تو صرف ان کافروں اور نا فر مونوں کے لیے مخصوص ہے جنہیں ان کی نافرمانی پر سزا دینا چاہتا ہے کیونکہ عذاب دینا میری صفات میں سے نہیں ہے بلکہ وہ محض میرا ایک فعل ہے جو صفت عدل کے تقا ضے میں ظاہر ہوتا ہے۔ میری صفت اور نظام کائنات میں اصل چیز رحمت ہے جس سے کائنات کی ہر چیز فیض یاب ہو رہی ہے۔ حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے دعا کی الھم ارحمنی ومحداولا تر حم منا احدا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا لقد تحجرت وسعا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی رحمت واسع کو محددو کردیا ابن کثیر) اگر اللہ تعالیٰ کے غضب کی طرح اس کی رحمت بھی خاص نیکو کاروں کے لیے ہوتی اور کفر و نافرمانی پور فو را امو اخذ ہوتا تو روئے زمین ہی چلنے والے چھوڑ تا۔ (خاطر :45)8 یعنی جو ان صفات سے متصف ہو نگے اور وہ امت محمد ﷺ ہے۔ ( ابن کثیر)9 دوسرے ارکان و فرائض کو چھوڑ کر خاص طو پر زکواۃ کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ یہود یوں میں مال کی محبت پائی جاتی تھی اور اس بنا پر وہ جتنی کوتاہی ادائے وکوٰۃ میں کرتے تھے کوئی اور فریضہ کرنے میں نہ کرتے تھے۔10 یہ آیت تمام احکام شریعت پر حاوی ہے زکوٰۃ حقوق مالی) الصلوۃ ( حقوق بدنی) اور ایمان میں ہر قسم کی آفت آجاتی ہے، ( رازی) یہا تک حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) دعا کا جواب ختم ہوگیا، اب اگلی آیت سے موقع کی منا سبت یہود و نصاری ٰ کو نبی ﷺ کی پیروی اختیار کرنے کی دعوت دی جا رہی ہے اور بتایا جارہا ہے کہ دنیا و آخرت میں رحمت الہیٰ کے حصول کے لیے مندر جہ بالا صفات کے علاوہ نبی ﷺ کی پیروی بھی ضروی۔ ہے ( کبیر )
Ayah 7:157

اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ١٘ یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 7:157 in the Quran reader

یہ لوگ وہ ہیں11 جو اس پیغمبر ان پڑھ نبی (یعنی حضرت محمد) کی12 پیروی کرتے ہیں جس کا ذکر اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں13 وہ ان کو اچھے کام کرنے کا حکم دیتا ہے اور برے کاموں سے منع کرتا ہے اور ستھری (پاکیزہ) چیزیں ان کے لیے حلال کرتا ہے اور پلید (ناپاک) چیزیں ان پر حرام کرتا ہے14 اور ان پر سے بوجھ اتار دیتا ہے اور وہ پھندے (کھول دیتا ہے) جو ان پر پڑے تھے15 پھر جو لوگ اس پیغمبر پر ایمان لائے اور اس کی عزت کی اور اس کی مدد کی اور اس نور پر چلے جو اس کے ساتھ اتارا گیا1 یہی لوگ مراد پانے والے ہیں

ف 11 یعنی اس زمانہ میں میری رحمت کے خاص طو پر مستحق وہ ہیں۔۔۔۔۔ ( قر طبی)12 یہاں آنحضرت ﷺ کی صفات تسعہ مذکور ہیں اور ان پڑھ نبی لقط سے یہاں اس طرف اشارہ ہے کہ ان پڑھ ہونے کے باوجود آپ میں جو کمال علم پایا جاتا ہے وہ آپ ﷺ کا ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔ چناچہ علوم نبوت جو احادیث کی شکل میں جود ہیں ان کو پڑھ کر عرب جیسی ان پڑھ قوم دنیا کی انتہائی تعلیم یافتہ اور سب ترین قوموں کی رہنما بن گئی۔13 آج بھی توراۃ وانجیل میں وہ مقامات موجود ہیں جن میں بنی سرائیل کو نبی ﷺ کی آمد کی بشارت دی گئی ہے، مثال کے طور پر دیکھئے استثنا باب 18 آیت 17 ۔ 22) باب 32 ۔ آیت 21) باب 3 آیت 1 ۔ 2 متی۔ باب 4 آیت 23 ۔ 12 وغیرہ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے تفسیر المنار)14 یعنی جو طیب چیزیں ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے حرام کردی گئی تھیں یا انہوں نے خود انہوں اپنے اوپر حرام کرلیا تھا، ( جیسے اونٹ گو شت اور چربی وغیرہ) وہ انیں حلال قرار دیتا ہے اور جب ناک چیزوں کو انہوں نے حلال قرار دے رکھا ہے تھا۔ ( جسے سوہ کا گوشت اور شراب وغیرہ) وہ انہیں حرام قرار دیتا ہے اور پھر جو چیزیں بھی شریعت نے حلال قراردی ہے وہ طیب ہی ہے اور جو حرام قرار دی ہے وہ خبیث ہی ہے۔ ( ابن کثیر ) 15 یعنی ان کے علمانے ان پر خو خود ساختہ پاپند یاں لا کر دین میں تنگی پیدا کر رکھی تھی۔ آنحضرت ﷺ ان پاپند یوں کو توڑ کر دین میں آسانی پیدا کرتے ہیں۔ احادیث میں ان پا بندوں کو توڑ کر دین میں آسانی پیدا کرتے ہیں، احادیث میں ان سہولتیں کو تفصیل سے ذکر ملتا ہے جو اسلام میں امت محمدی ( علیہ السلام) کو خاص طور حاصل ہوتی ہیں۔ اور آنحضرت ﷺ نے جو مع کلمات سے ان کو بیان بھی فرما دیا ہے جیسے فرمایا بعثت بال حنیفتیہ المحتہ کہ مجھے آسان حنیفی دین دے کر بھیجا گیا ہے، نیز فرمایا الدین یسر کہ دین میں آسانی ہے۔ ایک دوسری حدیث میں ہے لا ضررو لا ضر اوفی الاسلام کہ اسلام میں مضرفت رسانی بالکل ممنوع ہے۔ نیز آپ صحا بہ کرام کو ہمیشہ تلقین فرماتے ایسر و الا تعبر وا کہ احکام میں سہولت کو سامنے رکھو تنگی پیدا نہ کرو۔ ( ابن کثیر، کبیر ) فوائد صفحہ ہذا1 یعنی قرآن اور سنت دونوں پر ) ( ابن کثیر کبیر )
Ayah 7:158

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 7:158 in the Quran reader

(اے پیمبر) کہہ دے میں تم سب لوگوں کی طرف (عرب ہوں یا عجم) اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں2 جس کی آسمانوں اور زمین میں بادشاہت ہے اس کے سوا کوئی سچا خدا نہیں وہی جلاتا ہے وہی مارتا ہے تو (لوگو) اللہ تعالیٰ پر اور اس کے پیغمبر ان پڑھ نبی پر ایمان لاؤ جو اللہ تعالیٰ اور اس کی باتوں پر یقین رکھتا ہے3 اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ4

ف 2 یعنی میری رسالت عالمگیر ہے اور دائمی بھی، صحیح بخاری میں ہے کہ کہ حضرت ابوبکر ؓ سب سے پہلے اس پر ایمان لائے اور حدیث میں ہے، بعثت الی الناس کا فتہ کہ میں ج سب لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں یہاں یا یھا الناس سے خطاب اور جمیعا سے تاکید صراحت کے ساتھ اس پر دال ہیں۔ ابن کثیر)3 یعنی قرآن پاک یا اس کی نازل کردہ تمام کتابوں پر (روح المعانی)4 آنحضرت ﷺ کی پیروی یہ ہے کہ زندگی، انفراد دی ہو یا اجتماعی، کے ہر گوشہ میں آپ ﷺ ہی کی ہدایت اور نقش قدم پر چلا جائے اس میں اشارہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیروی کے علاوہ ہدایت کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ خلاف پمیر کسے رہ گزید کہ ہر کز بمنزل نخواہد رسید نیز دیکھئے، ( سورة النجم آیت 3 ۔ 4)
Ayah 7:159

وَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰۤى اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 7:159 in the Quran reader

اور موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو سچی بات بتلاتے ہیں اور سچائی کے ساتھ (لوگوں کا) انصاف کرتے ہیں5

ف 5 مراد ہیں وہ یہودی جو تورات پر قائم رہے یا نبی ﷺ پر ایمان لے آئے جیسے عبد اللہ سلام اور ان ساتھی، ( کبیر )