7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 7:81–82

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 7:81 in the Quran reader

بیشک تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش بجھانے کو لگا کرتے ہو بلکہ تم جانوروں سے بھی بڑھ گئے ہو یا حد سے بڑھ گئے ہو

وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 7:82 in the Quran reader

اور اس کی قوم نے س یہی جواب دیا8 کہنے لگے لوط اور اس کے لوگوں کو اپنی بستی سے کال باہر کرو یہ لوگ پاکیزہ اور مقدس بننا چاہتے ہیں1

ف 8 اہل سدو کو اس لحاظ سے حضرت لو ط ( علیہ السلام) کی قوم کہا گیا ہے کہ وہ ان کی طرف مبعوث تھے یہ یا شایدان کا ان سے سسرال کا رشتہ ہوگا۔ 1 یعنی ہم گنہگار ناپاک لوگوں میں ان کا کیا کام۔ یہ بات انہوں نے طنزا یا مسخرے پن سے کہی۔ ( رازی )
Ayah 7:83

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ۖ٘ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 7:83 in the Quran reader

پھر ہم نے لوط اور اس کے گھروالوں کو بچا لیا صرف اس کی بی بی رہنے والوں میں رہ گئی2

ف 2 یعنی ان لوگوں میں رہ گئی جو حضرت لو ط ( علیہ السلام) کے ساتھ نہیں نکلے بلکہ اپنے علاقہ ہی میں رہے ان پر عذاب نازل ہوا تو وہ بھی انہی کے ساتھ تباہ ہوگئی۔
Ayah 7:84

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 7:84 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر پتھراؤ کیا (پتھروں کا مینہ برسایا) تو اے پیغمبر دیکھ گنہگاروں کا کیا انجام ہوا3

ف 3 یعنی ان پر وتھروں کا منیہ برسایا اور وہ تباہ وبر باد ہوگئے ان آیات سے معلوم ہوا کہ لو اطت بہت بڑی بےحیا یہ کا کام ہے اور آنحضرت ﷺ نے اس فعل کی مرتکب پر تین مرتبہ مکرو لعنت کی ہے ( روح) اور دیکھئے پغمبروں کی تکذیب اور معاصی پر جسارت کا نتیجہ برا نکلا۔ اس خلاف فطرت فعل کی سز بھی بہت سخت رکھی گئی ہے اکثر علما نے کا خیال ہے کہ اس فعل کے مرتکب کو کم از کم زانی کی سزادی جائے اور اپنی بیوی سے خلاف فطرت فعل کرنا حرام ہے اور اس پر علما کا اجماع ہے بہت سی احادیث میں اس کی ممانعت بھی وارد ہے۔ ( نیرز دیکھئے سورة بقرہ آیت 223)
Ayah 7:85

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 7:85 in the Quran reader

اور ہم نے مدین (جو ایک شہر تھا یا قبیلہ یا چشمہ) والوں کی طرف شعیب کو بھیجا4 جو ان کا بھائی تھا اس نے کہا بھائیو اللہ کو پوجو اس کے سوائی کوئی تمہارا سچا معبود نہیں تمہارے پاس تو تمہارے مالک کی طرف سے ایک نشانی آچکی ہے5 تو ماپ تول پوری کرو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں نقصان نہ6 اور ملک سنور گیا ہے تو اب اس میں خرابی مچاؤ7 اگر تم ایمان دار ہو تو ان باتوں پر عمل کرنا تمہارے حق میں بہتر ہے۔

ف 4 مدین کا علاقہ حجاز کے شمال مغرب اور فسلطین کے جنوب میں بحراحمر اور خلیج عقبہ کے کنارے پر واقع تھا اور ا آج بھی اس علاقہ میں جگہ اسی نام سے مشہور ہے امام نو دی نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کا نسب یوں بیان کیا ہے شعیب بن مکائیل بن یشجر بن مدین ابراہیم ( علیہ السلام) واللہ اعلم ( المنار) حضرت شعیب کو اہل مدین کا بھائی اس لیے کہا گیا ہے کہ شاید وہ بھی سب حضرت ارابراہیم کے بیٹے مدین ہی کی نسل سے ہوں گے۔ ( رازی) حضرت شعیب اہل مدین اور اصحاب ایکہ کی طرفف مبعوث ہوئے ہوسکتا ہے کہ یہ ایک ہی قوم ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دو قومیں ہوں۔ ( ابن کثیر۔ ابو الفدار) اور کمال فصاحت کی وجہ سے حضرت شعیب علی السلام خطیب الا نبیا کے لقب سے مشہور ہیں ( ابن کثیر)5 یعنی میری صداقت پر دلائل مو جو ہیں لہذا ضروی ہے کہ جو بات میں کہتا ہوں اس صحیح سمجھو ( ابن کثیر) امام رازی لکھتے ہیں یہاں بینتہ کے معنی معجزہ کے ہیں مگر یہ معجزہ کیا تھا قرآن مجید میں اس کا ذکر نہیں ہے ہے اور قرآن نے تو آنحضرت ﷺ کے بہت سے معجزات بیان نہیں فرمائے علامہ زمخشری لکھتے ہیں کہ مو دی ( علیہ السلام) کے پاس جو عصا لاٹھی) تھا وہ شعیب ( علیہ السلام) ہی نے ان کو عطا کیا تھا یہ دراصل شعیب ؓ کا معجزہ تھا ( ک، ف) مگر اس کرید کی ضرورت نہیں ہے اجمالی طور پر حضرت شعیب کے معجزہ پر ایمان لانا کافی ہے۔ ( 6 اس سے معلوم ہوا کہ اس قوم میں دو بڑی خرابیاں تھیں ایک شرک اور دوسرے کاروبار میں بددیانتی اور حق تلفی شرک سے اللہ تعالیٰ کے حقوق تلف ہوتے ہیں اور کار وبار میں بدیانتی تمام سماجی اور معاشرتی برائیوں کی جڑ ہے اس کے ہوتے ہوئے کوئی قوم راہ راست پر نہیں آسکتی یعنی دو قسم کی خرابیاں فساد فی الارض بنتی ہیں گو یا تم زمین میں امن واصلاح کی بجائے فساد پھیلا رہے ہیں یعنی طرح طرح کے اعتر اضات اور اشبہات پیدا کر کے اسے غلط ثابت کرنا چاہتے ہو۔
Ayah 7:86

وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ١۪ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:86 in the Quran reader

اور ہر رستے پر بیٹھ کر جو لوگوں کو ڈراتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے اس پر ایمان لانے والے کو روکتے ہو اور اس کو یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ کو ٹیڑھا کرنا چاہتے ہو8 تو آئندہ اس طرح مت بیٹھو اور خیال کرو تم کتنے تھوڑے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے تم کو بہت کرو یا9 اور یہ بھی دیکھو کہ فسادیوں کا انجام کیسا ہو کس طرح تباہ و برباد ہوگئے یعنی اگلی امتوں پر نظر ڈالو۔

ف 8 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی قوم کے بد معاش لوگ راستوں میں بیٹھے رہتے وار جو لوگ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے پاس دین سیکھنے کے لیے آتے انہیں ڈراتے اور کبھی ان سے کہتے کہ یہ شخص جھوٹا ہے اس کے پاس مت جا و ( ابن جریر)9 یعنی تمہاری نسل بڑھائی یا تم مفلس تھے اس نے تمہیں مالدار کیا۔
Ayah 7:87

وَ اِنْ كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآئِفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَا١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 7:87 in the Quran reader

اور اگر تم میں سے ایک گروہ کو اس کا یقین ہے جو میں دے کر بھیجا گیا10 اور گروہ کو اس پر یقین نہیں ہے تو صبر کرو11 یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے (اور تمہارے) درمیان فیصلہ کردے12 اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں میں بہتر ہے

ف 10 و ان احکام کو مانتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر نازل کئے گئے۔11 یعنی انتظار کرو۔12 تم کافروں کا تباہ اور ہم مومنوں کو غالب کرے۔
Ayah 7:88

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ۫ Open ayah 7:88 in the Quran reader

اس کی قوم کے سردار متکبر (غروری کہنے لگے شعیب ہم تجھ کو اور جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں ان سب کو اپنی بستی سے ضرور نکال باہر کردیں گے یا تم پھر ہمارے دین میں (مجبور ہو کر آجاؤ گے1 شعیب کہا بھلا اگر ہم اس کو برا سمجھتے ہو2

ف 1 یعنی دو باتوں میں سے ایک بات ناگزیر ہے یا تمہیں اپنے وطن سے نکلنا پڑے گا یا ہماری ملت یعنی شرک و کفر کو پھر سے اختیار کرنا ہوگا ْ اب تم سوچ لو کہ اپنے لیے ان میں سے کونسی سزا پسند کرتے ہو ؟ عود کے معنی کسی چیز کی طرف لوٹ آنے کے ہیں حضرت شعیب ( علیہ السلام) خود تو کبھی شرک وکفر میں مبتلا نہیں رہے پھر ان کے دین میں لوٹ آنے کے کیا معنی ہوں گے ؟ اور پھر حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے اپنے اس وقل کی تکذیب نہ کرنے سے یہ شکال اور بھی قوی ہوجاتا ہے ہے علما نے اس کے مختلف جوابات دیئے ہیں اول یہ کہ ان کے اکثر ساتھی چونکہ کفر سے نکل کر اسلام میں داخل ہوتے تھے اس لیے انہوں نے تفلیبا شعیب کو بھی ان لوگوں میں شامل سمجھ کر یہ بات کہدی، دوم یہ کہ بعثت سے قبل جب تک حضرت شعیب ( علیہ السلام) نے دعوت و تبلیغ کا آغاز نہیں کیا تھا۔ اور پنی قوم کے کفر و شرک پر خاموش رہے تھے تو کفار نے گمان کرلیا ہوگا کہ شاید یہ بھی ہمارے دین پر ہیں، اس لیے انہوں نے اولتعودن کہ دیا ورنہ حقیقت یہ نہیں تھی، سوم یہ کہ عود بمعنی صیو ورۃ ہو یعنی ابتدا کسی چیز کو اختیار کرنا تو ترجمہ ہوگا یا تم ہمارا دین اختیار کرلو۔ چہار م یہ کہ عوام کو دھو کا دینے کے لیے ان سرداروں نے یہ بات کہہ دی ہو اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) نے بھی مشا کلتہ اس ابہام کے مطابق جواب دے دیا ہو ( کذافی الکبیر الرازی) وضح رہے کہ آیت میں معک کا تعلق اخراج سے ہے ایمان سے نہیں ہے
Ayah 7:89

قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا١ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا١ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ Open ayah 7:89 in the Quran reader

جب اللہ نے ہم کو تمہارے غلط دین شرک اور کفر سے نجات دی اگر پھر ہم تمہارے دین میں آجائیں تو بیشک اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے اللہ پر جھوٹ باندھا3 اور ہم سے تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ تمہارے دین میں پھر آجائیں مگر ہاں خدا کی مرضی ہو جو ہمارا مالک ہے (تو یہ اور بات ہے4 ہمارے مالک کا علم سب کو گھیروے ہوئے ہے (وہ سب کچھ رتی رتی جانتا ہے) اللہ پر ہی ہمارا بھروسہ ہے5 مالک ہمارے ہمارا اور ہماری قوم کا انصاف سے فیصلہ کردے6 اور تو ہی سب فیصلہ کرنے والوں میں بہتر ہے

ف 3 پھر بھی ہم تمہارے دین میں لوٹ آئیں گے ؟ حضرت شعیب ( علیہ السلام) ج کا یہ سوال انکار کے لیے ہے یعنی جب دلائل وبرہیم کی روشنی میں ہم تمہارے دین کو باطل سمجھتے ہوئے اس سے بیز ارہو چکے ہیں تو اسے دوبارہ اختیار کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔3 یہ ان کی بات کا دوسر اجواب ہے جس میں تصریح کردی ہے کہ ہم ایسا نہیں کرسکتے مطلب یہ ہے کہ اگر ہم تمہارے دین میں آجائیں تو ان کا صاف مطلب یہ ہوگا کہ اب تک جو ہم نبوت کا دعویٰ کرتے تھے اور تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے رہے تھے وہ سب جھوٹ اور اللہ تعالیٰ پر بہتان تھا۔ یہاں بھی بعد اذ نجانا اللہ کہنا یا تو ان مومنوں کے اعتبار سے ہے جو حضرت شعیب ( علیہ السلام) پر ایمان لے آئے تھے اور یا ان کے زعم کے مطابق حضرت شعیب ( علیہ السلام) نے کہہ دیا ہے کہ وہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کو ان کے دعویٰ نبوت سے پہلے دین میں داخل سمجھتے تھے۔4 اس لیے کہ وہ جو چاہے کرسکتا ہے چناچہ اب ہم ی دعویٰ کر رہے ہیں کہ دوبارہ تمہارا دین اختیار نہ کریں گے وہ بھی اپنے بل بوتے پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کو دی ہوئی توفیق کی بنا پر کر رہے ہیں، کیونکہ ارادہ خواہ کتناہی نیک کیوں نہ ہو اس کا پورا ہونا اللہ تعالیٰ ہی کی مشیئت پر مو قوف ہے اس استثبا سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کو اپنے خاتمہ بالخیر پر یقین نہ تھا انبیا کو تو اپنے خاتمہ بالخیر کا یقین ہو تو ہی ہے مگر یہ بات صرف اظہار عجز اور تفو یض کے طوپر کہی ہے یا دوسرے مومنین کے اعتبار علامہ واحدی لکھتے ہیں کہ ابنیا ( علیہ السلام) اور اکابر امت ہمیشہ ہی برے انجام سے پناہ مانگتے رہے ہیں۔ حضرت خلیل ( علیہ السلام) کی دعا واجنبنی وبی ان نعبد الا صنام، اور آنحضرت ﷺ عموما ی دعا فرتے رہتے یا مقلب القلوب ثبث قلو بنا علی دینک اے دلوں کو استقامت بخشنے والے ہمیں اپنے دین پر ثابت قدمی کی توفیق تمہارے جبرو اکراہ سے تو ہم کفر اختیار نہیں کرسکتے ہاں بالفرض اللہ تعالیٰ کی مشیت ہی ( معاذ الہ) یہی ہو تو دوسری بات ہے ( رازی)5 ہم اسی سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں راہ حق پر ثابت قدم رہنے کی توفیق دے۔6 یعنی ان معاندین کے مقابلے میں ہماری مدد فرمایا ان پر عذاب نازل فرماکر ہمارے حق پر ادران کے باطل پر ہونے کو خوب واضح کردے ( رازی )
Ayah 7:90

وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:90 in the Quran reader

اور اس کی قوم کے سردار جو کافر تھے (آپس میں کہنے لگے (قسم خدا کی) اگر تم شعیب کے کہنے پر چلے تو بیشک جب تو تم برباد ہوئے7

ف 7 یعنی آبائی دین سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور جن ناجائز ذرائع سے دولت کما رہے ہیں ان کو بھی تر کرنا پڑے گا یہ بات قوم شعیب ( علیہ السلام) کے سرداروں تک محدود نہیں بلکہ ہر مانے میں دنیا پر ستوں نے اخلاق ودیانت کے اصول لوں کی پابندی سے یہی خطرہ محسوس کیا ہے۔ اور ان کا ہمیشہ یہ خیال رہا ہے کہ تجارت اور دیگر دنیاوی معاملات بددیانتی اور دغابازی کے بغیر نہیں چل سکتے اور سمجھتے رہے ہیں کہ راست بازی سے کاروبار تباہ ہوجاتے ہیں۔
Ayah 7:91

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۚۖۛ Open ayah 7:91 in the Quran reader

آخر زلزلہ (بھونچال یا چیخ) نے ان کو آ دبایا صبح کو اپنے گھرو میں اوندھے (مرے پڑے تھے)8

ف 8 ان پر عذاب دونوں طرح سے آیا یعنی رجفتہ ( زلزلہ) بھی جیسے یہاں مذکور ہے اور صیحتہ (چیخ) بھی جیسا کہ سورة ہود میں مذکور ہے۔ ( ابن کثیر )
Ayah 7:92

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ۛۚ اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:92 in the Quran reader

جن لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا (وہ ایسے مر مٹے) گویا اپنے گھروں میں کبھی رہے ہی نہ تھے۔ جن لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا وہی بباد ہوئے9

ف 9 جو ایمان لائے ان
Ayah 7:93

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ١ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 7:93 in the Quran reader

(جب شعیب کی قوم تباہ ہوگئی یا تباہ ہونے کو تھی تو شعیب نے ان سے منہ پھیرلیا اور کہنے لگا بھائیو میں نے تم کو اپنے مالک کے پیغام پہنچا دیے اور تمہاری خیر خواہی کی (لیکن تم نے میری نصیحت نہ سنی) تو ایسے کافر لوگوں کا میں کیا غم کھاؤ10

ف 10 ۔ یعنی ہرچند تم میرے عزیز تھے مگر جب تم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا تو کافروں کی ہلاکت پر مجھے کچھ افسوس نہیں کرنا چاہیے
Ayah 7:94

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ Open ayah 7:94 in the Quran reader

اور جب ہم نے کسی بستی میں کوئی پیغمبر بھیجا11 تو وہاں کے رہنے والوں پر ہم نے محتاجی (مثلاً قحط وغیرہ) اور بیماری (طاعون وغیرہ بھیجی اس لیے کہ وہ گڑگڑائیں

ف 11 ۔ اور پھر بستی والوں نے ان کی تکزیب کی تو ہم نے ان کو تکالیف و شدائد میں گرفتار کرلیا کیونکہ سنت الٰہی یہی رہی ہے (رازی) ط
Ayah 7:95

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 7:95 in the Quran reader

پھر ہم نے مصیبت کی جگہ (ان کو) آرام دیا2 یہاں تک کہ وہ بڑھ گئے3 اور کہنے لگے ہمارے باپ دادا پر بھی رنج اور خوشی دونوں آتے ہیں4 (سختی ہوئی ہے تو آرام بھی ہوا ہے) آخر ایک ہی ایکا ہم نے ان کو دھر پکڑا اور ان کو خبر نہ تھی5

ف 2 یعنی قحط کی بجائے خوب ارزانی کی اور بیماری کی بجائے تندرستی دی۔3 یعنی ان کی آبادی بڑھ گئی اور مال و دولت کی خوب ریل پیل ہوگئی اور وہ اپنی پچھلی سختیوں کو بھول گئے،4 یعنی اگر ہم قحط اور دوسری سختیوں میں مبتلا ہوئے ہیں تو محض زمانے کی گردش کی وجہ سے ہوئے ہیں کہ اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے، دنیا میں اس یا ہوتا ہی رہتا ہے۔ موسم کے تٖغیر سے حالات بدلے تے رہتے ہیں کبھی بیماری اور کبھی تندرستی کبھی خوش حالی اور کبھی بدحالی۔ یہ حالات ہمیں کو نہیں بلکہ ہمراے باپ دادا کو بھی آتے ہیں ہیں مگر جلدی ہی ٹلتے بھی رہے ہیں۔ اس قسم کے حالات پیش آنے میں انسانوں کے اعمال کا کوئی دخل نہیں ہے۔ ایسی توجیہات اب بعض مسلمانوں بھی کرنے لگے ہیں۔5 یعنی اللہ تعالیٰ کو اس طرح فراموش کر بیٹھے تو یکایک اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا اور ایسا عذان آیا کہ آن کی آن میں سب نیست ونابود ہوگئے۔ اس کے بر عکس مومنین خوشحالی میں لشکر اور تنگدستی میں صبر کرتے ہیں جیسا کہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے م : مومن کا معاملہ بھی خوب ہے اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہرحال میں اس کے لیے بہتر ہوتا ہے اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے وار خو شحالی نصیب ہوتی ہے تو شکر کرتا ہے۔ (بخاری ومسلم) اس آیت کی تشریح میں شاہ صاحب لکھتے ہیں بندے کو دنیا میں گناہ کی سزا پہنتی ہے تو امید ہے کہ تو بنہ کرے اور جب گناہ راست آگیا تو اللہ تعالیٰ کا بھلا وا ہے اور اگاربیچ گیا تو کام آخر ہوا ّ موضح )
Ayah 7:96

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 7:96 in the Quran reader

اور اگر یہ بستیوں والے ایمان لاتے (اللہ کی طرف رجوع ہوتے) اور (برے کاموں کفر اور شرک سے) بچے رہتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے6 مگر انہوں نے تو (ہمارے پیغمبروں کو) جھٹلایا تو (ہم نے بھی) ان کے کاموں کی سزا میں ان کو دھر پکڑا

ف 6 آسمانوں سے بارش برساتے اور زمین سے خوب غلے اور پھل اگاتے
Ayahs 7:97–99

اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآئِمُوْنَؕ Open ayah 7:97 in the Quran reader

کیا یہ بستیوں والے اس سے نہیں ڈرتے کہ ہمارا عذاب راتوں رات ان پر آپڑے اور وہ سو رہے ہوں

اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 7:98 in the Quran reader

یا یہ بستیوں والے اس سے نہیں ڈرتے کہ دن دہارے ان پر ہمارا عذاب آن پڑے اور وہ کھیل رہے ہوں (یعنی دنیا کے دھندوں میں لگے ہوں)

اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ١ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 7:99 in the Quran reader

کیا اللہ تعالیٰ کے داؤں سے (اس کی تدبیر اور اس کے انتظام سے) نہیں ڈرتے اللہ کے داؤں سے وہی لوگ نہیں ڈرتے جو تباہ ہونے والے ہیں7

ف 7 ۔ اللہ تعالیٰ کے داؤ سے مراسد کسی شخص کے خلاف ایسی خفیہ تدبیر کرنا ہے کہ جب تک وہ عین اس کے سر پر پہنچ جائے اسے کوئی ہوش نہ آئے اور نہ ہی کچھ پتہ چلے کہ س کی شامت آنے ولی ہے، یہ خفیہ تدبیر چونکہ کافروں کے مکرو فریب کے جواب میں ہوتی ہے یا اس کی سزا دینے کے لیے کی جاتی ہے اس لیے اسے بھی بطور مجانست مکر کہہ دیا ہے ( مزید دیکھئے سورة بقرہ آیت 15)
Ayah 7:100

اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ١ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 7:100 in the Quran reader

کیا جو لوگ ایک ملک والوں کے تباہ ہوئے پیچھے ان کی جگہ لیتے ہیں ان کو یہ معلوم نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو بھی ان کے گناہوں کے بدل مصیبت میں ڈال دیں8 اور ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں وہ نصیحت کی بات) نہیں سنتے9

ف 8 اور انہیں تباہ کر ڈالیں ج جیسا کہ ان کو تباہ کر ڈا لا جن کی جگہ یہ آباد ہوئے ہیں۔ ابن کثیر)9 آخراک اللہ تعالیٰ کا عذاب آتا ہے اور وہ بھی تباہ کردیئے جاتے ہیں اس فقرہ کا دیا گیا ترجمہ اس صورت میں ہے جب اسے اصبناھم بذنوبھم پر معطور نہ جائے کہ اور اگر اسے اصبنام ھم بذجو بھم پر معطوف مانا جائے اور ہمارے خیال میں زیادہ صحیح یہی ہے۔ تو ترجمہ یوں ہوگا اور ہم نے ان کے دلوں پر مہر لگا دیں کہ پھر وہ نصیحت کی کوئی بات نہ سن سکیں مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنی زمین کے کسی حصے میں آباد فرماتے ہے انہیں ہر آن اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے اور کہ جانتے ہوئے اور انپنی زندگی گزارنے نے چاہیے کہ اگر ظلم و انصاف کا ارتکاب کریں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں بھی اسی طراح تباہ و برباد کردے گا جس طرح اس نے پہلی امتوں کو تباہ کردیا۔ پہلی امتوں پر جو تباہی آئی وہ ناگہانی حادثہ نہ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ سزا تھی ،
Ayah 7:101

تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 7:101 in the Quran reader

(اے پیغمبر) یہ وہ بستیاں ہیں10 جن کے کچھ حال ہم تجھ کو بتاتے ہیں11 اور بیشک ان کے پیغمبر ان کے پا نشانیاں لے کر آچکے وہ (نشانیاں دیکھنے پر بھی) ان باتوں پر ایمان لانے کے لائق نہ ہوئے جن کو (نشانیاں دیکھنے سے) پہلے جھٹلا چکے تھے1 (جیسے ان لوگوں کے دلوں پر مہر تھی، اللہ تعالیٰ ایسے ہی کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے2

ف 10 یہاں القرٰ سے مراد گذشتہ اقوام خمسہ نوح ( علیہ السلام) عاد، ثمود، قوم لوط اور قوم شعیب ( علیہ السلام) کی بستیاں ہیں۔ 1 کیونکہ کفرو شرک ان کی سرشت اور خمیر میں پڑگیا تھا اور وہ اسے کسی حال میں چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھے،2 یعنی جس طرح پہلی امتوں کو ضد اور ہٹ دھرمی کی کی وجہ سے ان کے دلو کی صلاحتیں سلب کرلی گئی تھیں اور انہیں ایمان نصیب نہیں ہو اتھا اسی طرح ان کے دل مسخ ہوچکے تھے اور ان میں ایمان کی صلاحیت باقی نہیں رہی (رازی )
Ayah 7:102

وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ١ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:102 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں میں اکثر لوگوں کو اپنے اقرار پر قائم نہ پایا3 اور ہم نے ان میں اکثر لوگوں کو نافرمان تو البتہ پایا4

ف 3 من عھد ( کوئی بھی اقرار) کا لفظ نکرہ استعمل ہوا ہے اس لیے اس سے مراد ہر قسم کا اقرار ہے چا ہے وہ فطری ہو یا شرعی یا عرفی4 نافرمان یعنی کسی قرار کا پاس نہ کرنے والے۔
Ayah 7:103

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:103 in the Quran reader

پھر ان (پیغمبروں) کے بعد (جن کا ذکر اوپر ہوچکا) ہم نے مسی کو اپنی نشانیاں دے فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی طرف بھیجا انہوں نے ان نشانیوں کو نہ مانا (ان کو جادو کہنے لگے) تو اے پیغمبر) دیکھ فسادیوں کا کیا برا انجام ہوا5

ف 5 سب کے سب غرق کردیئے گئے اور ان کی سرای شان و شوکت خاک میں ملادی گئی یہ چھٹا قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے دبسط کے ساتھ بیان فرمایا ہے دوسرے کسی قصے کو اس طرح بیان نہیں کیا، وجہ یہ ہے کہ جس طرح مو سیٰ ( علیہ السلام) کے معجزات تمام ابنیا سے اقویٰ تھے اسی طرح ان کی امت بھی جہالت اور سرکشی میں سب سے بڑھی ہوئی تھی۔ ( رازی )
Ayahs 7:104–105

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:104 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا اے فرعون میں اس کا بھیجا ہوا (تیرے پاس آیا) ہوں جو سارے جہان کا مالک ہے

حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 7:105 in the Quran reader

اس لائق ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ پر کوئی بات نہ کہوں مگر جو سچ ہے6 میں تمہارے مالک کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں تو بنی اسرائیل کو میرے کردے7

ف 6 کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اور رسول کا کام یہ ہے کہ بھیجنے ولاے کا پیغام بلاکم وک اس پہنچا دے اور اس میں اپنی طرف سے کوئی تبدیلی نہ کرے لہذا میری ہر بات صحیح اور سچی ہوگی حقیق علی، کے معنی واجب کے ہیں یا لائق کے اور اگر علی ہو تو حقیق کے معنی قائم اور ثابت کے ہوں گے۔7 یعنی انہیں اپنی غلامی سے آزاد کرو تاکہ وہ میرے ساتھ کسی ایسی جگہ چلے جائیں جہاں وہ اپنے اور تیرے رب کی پوری آّزاد کے ساتھ عبادت کرسکیں، حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے اس مطالبہ کا پس منظر یہ تھا کہ حضرت یو سف ( علیہ السلام) کے زمانہ میں ان کے بھائی مصر میں آّکر آباد ہوگئے تھے اور وہیں ان پھیلی جو بنو اسرائیل کہلائی، ، مصر آمد کے وقت بن اسرائیل کی تعداد تقریبا پونے چار سو تھی مگر جب سفر خروچ کیا تو اس وقت چھ لاکھ صرف لڑنے والے مرد تھے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کی زندگی تک تو انہیں پوری طرح قتدارحاصل رہا لیکن اس کے بعد اس زمانے کے ذاعنہ انیں غلام بنالیا اور مصر میں ان کی کی حالت اچھوتوں سے بھی بدتر ہوگئی وہ چونکہ مسلمان تھے اس لیے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے مشن میں جہاں یہ چیز شامل تھی کہ فرعون کو توحید کی دعوت دی جائے وہاں یہ بھی ضرور تھا کہ اگر فرعون دعوت حق کو قبول نہ کرے اور بنی اسرائیل پر ظلم وستم سے باز نہ آئے تو بن اسرائیل کو اس کی غلامی سے نجات دلاکر کسی دوسرے جگہ لے جایا جائے جہاں وہ آزادنی کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرسکیں یہاں فارسل میں حرف فاتفر یع کے لیے ہے اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) یہ مطالبہ اس وقت کیا جب فرعون نے ہر طرح دوسرے مقامات پر مذکور ہے واضح رہے کہ حضرت یو سف ( علیہ السلام) کے مصر میں داخل ہونے اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے بحیثیت ایک پیغمبر کے مصر میں جانے کے درمیان چا رسو سال کی مدت ہے ( فتح القدیر)
Ayahs 7:106–110

قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:106 in the Quran reader

فرعون نے کہا اگر تو کوئی نشانی لے کر آیا ہے تو وہ (کہاں ہے) اگر تو سچا ہے لا بتلا

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 7:107 in the Quran reader

(یہ سنتے ہی) موسیٰ نے اپنی لکڑی ڈال دی وہ اسی وقت ایک کھلا اژدہا بن گئی

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 7:108 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ (گریبان میں سے یا بغل کے نیچے سے باہر نکالا تو دیکھنے والوں کو اسی وقت سفید (چمکتا ہوا) دکھلائی دیا

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 7:109 in the Quran reader

فرعون کی قوم کے سردار کہنے لگے یہ تو بیشک بڑا پکا جادوگر ہے

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ١ۚ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 7:110 in the Quran reader

تمہارے ملک سے تم کو نکالنا چاہتا ہے، یعنی تمہاری سلطنت خود لیا چاہتا ہے تو اب کیا صلاح دیتے ہو8

ف 8 ماذا فی محل نصب مفعل التا مرون بخذالجارای بای شی تامرو ن ای تشیرون یہ فرعون کی بات ہے جو اس نے معجزات دیکھنے کے بعد اپنے وزیروں اور مشیروں سے کہی کہ کہیں ایسانہ ہو کہ موسیٰ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کو آزادی کے بہانے مصر کے لوگوں کو یہاں سے نکلا دے اور خود حکومت مصر پر قابض ہوجائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وزیروں اور مشیروں نے فرعون سے یہ بات یہ ہو سورة شعر ٰ کے سیا ق کلام کے یش نظر علمانے یہ دونوں کے احتمال ذکرکئے ہیں مگر پہلا احتمال زیادہ صحیح ہے علامہ زمحشری لکھتے ہیں کہ اصل یہ کلام فرعون کا ہے جیسا کہ سورت شعرٰ میں مذکور ہے یہاں پر کی طر اس کی نسبت مجازی ہے یعنی انہوں نے بھی بطور تبلیغ حق بات کہی اور اس کے بعد ارجہ کے ساتھ جو اب ملا کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے اور قوم کی طرف سے بھی ہرحال سورة شعر کے ساتھ اس قصہ کو ملا کر پڑھنے سے کوئی اشکال باقی نہیں رہتا شوکانی روح،
Ayah 7:111

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 7:111 in the Quran reader

جب مشورہ ہوچکا تو سب نے فرون سے کہا موسیٰ اور اس کے بھائی کو ابھی رہنے دے9 اور اطراف کی بستیوں میں نقیبوں کو روانہ کر

ف 9 یعنی انکے بارے میں بھی کوئی فیصلہ نہ کیا جائے اور ان کا معاملہ چند روز ملتوی رکھا جائے (ارجہ اصل میں ار حجئہ ہمزہ ساکن اور اک مضمومہ کے ساتھ ہے۔
Ayah 7:112

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 7:112 in the Quran reader

وہ ہر ایک پکے، ماہر جادوگر کو تیرے پاس لے آئیں10

ف 10 چناچہ فرعون نے ایسا ہی کیا، ( دیکھئے سورة قصص وشعریٰ یہ عبادت کلام میں مخذوف ہے۔
Ayahs 7:113–116

وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 7:113 in the Quran reader

اور جادوگر فرعون کے پاس حاضر ہوئے کہنے لگے اگر ہم (موسی پر) غالب ہوئے تو ہم کو (سرکار سے) انعام تو ضرور ملے گا

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 7:114 in the Quran reader

فرعون نے کہا ہاں ہاں (انعام ملے گا) اور اس کے سوا تم بیشک بادشاہی مصاحبوں میں شریک ہوگے

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ Open ayah 7:115 in the Quran reader

جادوگروں نے موسیٰ سے کہا موسیٰ یا تو تم پہلے اپنی لکڑی ڈالو اور یا ہم (پہلے ڈالیں)

قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:116 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا (اگر تم ڈالتے ہی ہو تو پہلے) تم ہی ڈالو جب جادوگروں نے (اپنی رسیوں اور لاٹھیوں کو ڈالا) تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا (نظر بندی کی) اور ان کو ڈرا دیا اور لوگوں کے خیال میں) بڑا جادو لے کر آئے1

ف 1 دوسری آیت میں ہے کہ انہوں نے اپنی لاٹھیا اپنی لاٹھیاں اور رسیاں زمین پر پھینک دیں جس سے زمین پر سانپ ہی سانپ دوڑتے معلوم ہونے لگے یخیل الیہ من سحر ھم انھا تسعی، اس سے معلوم ہوا کہ جادو سے کسی چیز کی حقیقت نہیں بد جاتی صرف دیکھتے میں وہ ایک دوسری چیز نظر آتی ہے اس کے بر عکس معجزہ چونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے اس لیے اس میں ایک چیز کی حقیقت بھی بدل سکتی ہے۔
Ayahs 7:117–118

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ۚ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚ Open ayah 7:117 in the Quran reader

اور ہم نے (اسی وقت) موسیٰ کو وحی بھیجی تو بھی اپنی لکری ڈال ( انہوں نے ڈالی) وہ لکڑی اژدہا بن کر جادوگروں کے سارے سوانگ نگلنے لگی

فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 7:118 in the Quran reader

آخر جو سچی بات تھی وہ تو رہ گئی (عصا قائم رہی) اور جادوگروں کا کیا کرایا سب ہوا ہوا2

ف 2 چناچہ اس معجزہ کو قرآن نے حق اور جادو کو باطل سے تعبیر فرمایا ہے لیکن ہر جادو محض تخیل نہیں ہوتا جمہور اہل سنت کا مسلک یہ ہے یہ سحر کئی قسم کا ہوتا ہے بعض قسم کا جادو تو وقعی تخیل ہوتا ہے مگر بعض قسم کے جادو مبنی بر حقیقت ہوتے ہیں جیسا کہ لبید بن اعصم یہو دی کا آنحضرت ﷺ پر جادو چلانا اس لیے سرے سے جادو کی حقیقت کا نکار صحیح نہیں ہے ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کے مقابلے میں جس جادو کا ذکر ہو رہا ہے وہ محض دھوکا تھا۔ ( روح )
Ayahs 7:119–120

فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَۚ Open ayah 7:119 in the Quran reader

اور فرعون اور اس کے ساتھی اسی جگہ (میدان) ہار دئیے اور ذلیل ہو کر (شہر کو لوٹ گئے اور ذلیل ہوگئے

وَ اُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۚۖ Open ayah 7:120 in the Quran reader

اور جادوگروں کو (جیسے) کسی نے سجدہ میں ڈال دیا3

ف 3 یعنی اس طرح بےاختیار ہو کر گرپڑے جیسے اندر سے کسی چیز نے انہیں یک لخت گرادیا ہو۔