6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 6:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ١ؕ۬ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 6:1 in the Quran reader

اصل تعریف خدا تعالیٰ ہی کو سزاوار ہے جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیرا اور اجالا بنایا5 پھر بھی اپنے مالک کے ساتھ شرک کرتے ہیں6

ف 5 اس سے مقصود و جود صانع پر دلیل قائم کرنا ہے (رازی) اللہ تعالیٰ نے یہاں دونوں قسم کی چیزوں کا ذکر فرمایا ہے ایک زمین و آسمان جو جوہر ہیں اور دوسرے اند ھیرا اور اجالا جو اعراض ہیں یعنی دوسری چیزوں کے ذریعہ قائم ہیں مطلب یہ ہے کہ کائنات میں کوئی جو ہر عرض نہیں ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے پیدا نہ کیا ہو اندھیرے اور اجالے سے یہی رات اور سن مراد ہیں یا پھر نور ایمان اور ظلمات کفر (کذافی القرطبی)6 یعنی جن ہر چیز کا خالق ومالک صرف اللہ تعالیٰ ہے اور مشرکین اسے اپنا رب (پالنے والا) تسلیم بھی کرتے ہیں تو ان پر لازم تھا کہ عبادت بھی اسی کی کرتے مگر یہ دوسروں کو اس کے برابر گردانتے ہیں ان کے سامنے سجدے کرتے ہیں انکے نام کی نذریں چڑھاتے او منتیں مانتے ہیں اومشکلات میں ان سے مدد طلب کرتے ہیں بلا شبہ ان کے اس اعتقاد اور عمل میں نہایت ہی تضاد ہے۔ ) (قرطبی، ابن کثیر )
Ayah 6:2

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا١ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 6:2 in the Quran reader

اسی خدا نے تم کو مٹی سے بنایا پھر (ہر ایک شخص کی زندگی کی)7 میعاد ٹھہرا دی اور ایک دوسرا وعدہ اس کے پاس ٹھہر چکا ہے (یعنی قیامت کا وقت) پھر (بھی) تم (اس کی قدرت میں) شک کرتے ہو8

ف 7 یعنی حضرت آد م ( علیہ السلام) کو باقی سب لوگ چونکہ آدم ہی کی اولاد ہیں اس لیے گویا سب مٹی سے پیدا ہوئے (کذافی القرطبی)8 میعاد یعنی فنا کا وقت مقرر کردیا اور دوسراوعدہ اس کے نزددیک قرار پاچکا ہے یعنی اللہ کے سوا کسی کو اس کا علم نہیں پھر تم شک کرتے یعنی اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ جس نے مشت خاک سے تم پیدا کیا وہ دوبارہ تم کو زندہ کرسکے گا، وحیدی)
Ayah 6:3

وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ١ؕ یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ Open ayah 6:3 in the Quran reader

اور وہی ہے اللہ آسمانوں میں اور زمین میں تمہاری چھپی اور کھلی باتوں کو (سب جانتا ہے حالانکہ وہ آسمانوں کے اوپر ہے) اور جو تم کرتے ہو وہ جانتا ہے9

ف 9 اوپر کی آیتوں میں کمال قدرت کا ثابت ہے علما سلف سے مقول ہے کہ اللہ تعالیٰ ہے تو عرش پر لیکن اس کا علم ہر جگہ ہے، صحابہ وتابعین اور اہل سنت کا یہی اعتقاد ہے صرف بعض بدعتی فرقے ہی اللہ تعالیٰ کے عرش پر ہونے کے منکر ہیں اور یہ گمراہو کا اعتقاد ہے کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے۔ (وحیدی)
Ayah 6:4

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 6:4 in the Quran reader

اور ان کافروں کے پاس جب کوئی نشانی ان کے مالک کی نشانیوں میں سے آتی ہے، تو اس سے غافل ہوجاتے ہیں (اس پر خیال نہیں کرتے)10

ف 10 اللہ کی آیات سے مراد وہ آیات بھی ہوسکتی ہیں جو انبیا پر اترقی رہی ہیں جیسے معجزات اور قدرت کی نشانیاں بھی جیسے زلزلہ قحط وغیرہ)
Ayah 6:5

فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ؕ فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 6:5 in the Quran reader

انہوں نے سچ کو بھی جھٹلایا (یعنی قرآن کو یا حضرت محمد کو) جب ان کے پاس آیا اب ان کو اس کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس پر ہنستے رہے11

ف 11 اوپر کی آیات میں توحید اور معاد کو ثابت کیا ہے کہ اب اس آیت میں تقلید کا بطلان ثابت ہو رہا ہے (رازی) جس چیز پر کفار ہنستے رہے اس سے مرد اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ ہے جو اس نے قرآن میں دین اسلام کو غالب اور دشمنوں کے مغلوب کرنے متعلق کیا تھا مطلب یہ ہے کہ اب تو یہ کفار اس وعدہ کو محض مذاق سمجھتے ہوئے اس پر ہنستے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں لین عنقریب مسلمانوں کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا جائے گا اور پھر ایسے واقعات پیش آئینگے جن سے یہ وعدہ حقیقت بن کر ان کے سامنے آجائے گا۔
Ayah 6:6

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا١۪ وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 6:6 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے (یعنی مکہ کے کافروں نے) یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی امتوں کو تباہ کردیا ہم ن ان کو زمین میں ایسا جمایا تھا1 کہ ویسا تم کو نہیں جمایا2 اور آسمان سے ان پر موسلا دھار مینہ برسایا اور ان کے نیچے نہریں بہا دیں3 آخر ان کے گناہوں کی سزا میں ہم نے ان کو غارت کردیا اور ان کے بعد دوسری امت پیدا کی4

ف 1 جیسے قوم نوح عاد، ثمود وغیرہ زجر کے بعد اب ان کو وعظ و نصیحت کی جارہی ہے،2 یعنی ان کو تم سے بھی کہیں زیادہ قوت اور ساز و سامان دیا تھا مقصد یہ ہے کہ دینوی سازوسامان دعوت حق کی قبولیت میں رکاوٹ بن گیا۔3 یعنی بارشوں اور نہروں کی وجہ سے ان کے باغ اور کھیت سرسبز و شاداب تھے اور عیش و خوش حالی کا دور دورہ تھا۔2 لیکن جب انہوں نے بغاوت سرکشی پر باندھی تو ہم نے ان کا نام ونشان مٹادیا پھر ان کے بعد دوسری امتیں پیدا کیں الغرض منکرین اور کذبین کے ساتھ یہی سلسلہ جاری رہا۔4 اب انو لوگوں کو ذکر ہے جو انبیا کے معجزات کی تاویلیں کرکے ان کی تکذیب کرتے تھے (رازی )
Ayah 6:7

وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 6:7 in the Quran reader

اور اگر ہم تجھر پر (اے پیغمبر) کاغذ پر لکھی ہوئی کتاب اتارتے اور یہ لوگ ہاتھوں اس کو چھو لیتے تب بھی کافر یہی کہتے یہ تو اور کچھ نہیں کھلا جادو ہے5

یعنی یہ لوگ اپنی سرکشی اور کفر کی روش میں اس قدر پختہ ہیں کہ اگر ہم ان پر آسمان سے لکھی لکھائی کتاب بھی اتار دیتے جسے یہ اپنے ہاتھوں سے چھو کر صاف معلوم کرلی کہ یہ کوئی خیالی اور نظری چیز نہیں بلکہ حقیقت س تب بھی اسے کھلا جادو قراردیتے پھر اگر یہ بدبخت قرآن کو جادو قرار دیتے ہیں تو کیا تعجب ہے حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں جس کی قسمت میں ہدایت نہیں اس کا شبہ کبھی نہیں مٹتا (کذافی القرطبی)
Ayah 6:8

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ١ؕ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ Open ayah 6:8 in the Quran reader

اور (کافر) کہتے ہیں اس (پیغمبر) پر فرشتہ کیوں نہ اترا6 اور اگر ہم (اس طرح سے) فرشتہ اتارتے تو ضیہ ہی چک جاتا پھر ان کو (ذرا بھی) مہلت نہ ملتی7

ف 6 نبوت کے منکرین کا یہ تیسرا شبہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو مخلوق کی طرف کوئی رسول ہی بھیجنا تھا تو وہ انسان کی بجائے فرشتہ ہونا چاہیے تھا یا فرشتہ آپ کے ساتھ ساتھ پھرتا اور کہتا ہے کہ اللہ کا پیغمبر ہے اس پر ایمان لے آو ورنہ تمہیں سزا دی جائے گی، (ابن کثیر، کبیر)7 یہ پہلا جواب ہے (رازی) کیونکہ سنت الہیہ یہ ہے کہ جب کوئی قوم اپنے نبی سے معجزہ طلب کرے اور وہ اسے دکھا دیا جائے لیکن اس کے بھی وہ ایمان نہ لائے تو اسے ہلاک کردیا جاتا ہے۔ (قرطبی)
Ayah 6:9

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ Open ayah 6:9 in the Quran reader

اور اگر ہم فرشتے کو پیغمبر بناتے (تو آخر) اس کو بھی ایک مرد بناتے اور وہی شبہ ان پر ڈالتے جو شبہ (اب) وہ کر رہے ہیں8

ف 8 یہ ان کفار کے اعترا کا دوسرا جواب ہے یعنی اگر ان کے مطالبہ کو مانتے ہوئے ہم فرشتہ اتارنا منظو بھی کرلیتے تو وہ بھی انسانی صورت میں ہی آتا کیونکہ اس کی اصلی شکل میں تو یہ اسے دیکھ ہی نہیں سکتے اور جب وہ آدمی کی شکل میں آتا ہے تو یہ پھر یہی شبہ پیش کرتے جو اب پیش کررہے ہیں (رازی )
Ayah 6:10

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 6:10 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) تجھ سے پہلے کئی پیغمبروں پر ٹھٹھا اڑ چکا پھر جنہوں نے ان سے (یعنی پیغمبروں سے) ٹھٹھا کیا تھا ان پر وہی جس پر ٹھٹھا مارتے تھے (یعنی اس کا وبال) الٹ پڑا9

ف 9 یعن خرکار انہیں اسی عذاب نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑاتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ کوئی عذاب نہیں آسکتا یہ محض دھمکی ہے اس سے آنحضرت ﷺ کی تسلی دی ہے (قرطبی)
Ayah 6:11

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 6:11 in the Quran reader

۔ (اے پیغمبر) کہہ دے زمین میں پتو پھر پھر (آنکھ سے) دیکھ لو ( یا سمجھ لو پیغمبروں کو) جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا10

ف 10 اس سے ان لوگوں کو تحذیر کی ہے (رازی) یعنی دنیا کے مختلف خطوں میں جو قومیں پائی گئی ہیں ذرا ان کے حالات اور تاریخ پر غور تو کرو تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ جب قوموں نے اللہ کے رسولوں کی جھٹلایا اور ان کی اطاعت سے انکار کیا انہیں کیسے عبرت ناک انجام سے دو چارہونا پڑا پھر اس سے اندازہ کرلو کہ اب جو تم ہمارے آخری رسول ﷺ اور آخری کتاب کا مذاق اڑا رہے ہو تمہارا انجام کیا ہوسکتا ہے اور کیا ہونا چاہیے
Ayah 6:12

قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ١ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:12 in the Quran reader

۔ (اے پیغبر) کہہ دے (یعنی ان سے پوچھ) آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے (وہ سب) کس کا ہے کہہ دے اللہ کا ہے11 اس نے آپ ہی (بندوں پر) مہربانی اپنے اوپر لازم کرلی ہے12 وہ تم کو قیامت کے دن جس (کے آنے) میں کوئی شک نہیں ضرور اکٹھا کرے گا جن لوگوں نے اپنی جانوں کو نقصان پہنچایا (عقل اور فطرت سے کام لینا چھوڑ دیا) وہ ایمان نہ لائیں گے

ف 11 وعط و نصیحت اوتحذیر کے بعد اب دوبارہ اصول ثلاثہ (مبدا معاد، نبوات) کے اثبات پر دلیل قائم کی ہے یعنی آسمان و زمین کا خالق اور مالک اللہ ہی ہے اور اس کی ملکیت میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ ( رازی)12 اور پھر اس نے محض اپنے فضل و کرم سے سے اپنے بندوں سے رحمت کا وعدہ فرمایا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کو رحمان ورحیم ہونے پر کوئی مجبور نہیں کرسکتا اللہ تعالیٰ کی وسعت رحمت کا ذکر بہت ہی احادیث میں بھی مذکور ہے ایک حدیث میں ہے جب اللہ تعالیٰ خلق سے فارغ ہوا تو کتاب میں لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی۔ (رازی)13 یعنی قیامت کا آنا ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی سمجھ دار آدمی انکار نہیں کرسکتا اس سے انکار اگر کوئی کرسکتا ہے تو وہی جو اپنی عقل و فطرت سے کام نہیں لیتا۔
Ayah 6:13

وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:13 in the Quran reader

اور جتنی چیزیں رات اور دن میں بستی ہیں وہ (سب) اس (خدا) کی ہیں اور وہ (ان کی باتوں کو) سنتا ہے (ان کے حالوں کو) جانتا ہے1

ف 1 آیت قل لمن مافی السمٰوٰ ت والا رض میں مکان جگہ کے اعتبار سے تعمیم تھا اذلامکان سوا ھما اور اس آیت میں تعمیم باعتبار زمان ہے کیونکہ رات دن کے علاوہ اور کوئی زمان (وقت) نہیں ہے گویا ہر جگہ اور ہر وقت اس کو حکومت اور اسی کا قبضہ وقتدار ہے۔ (رازی) یاد رہے کہ یہاں سکون بمعنی حلول ہے یعنی رہنا اور سکون جو حرکت کی ضد ہے وہ مراددنہی ہے پھر یہ ثابت کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ تمام مکا نیات کا مالک ہے۔ اسمیع العلیم فرماکر اللہ تعالیٰ کے فاعل مختار ہونے کی طرف اشارہ فرمایا ہے جس سے ایجاب بالذات کی تردید ہوتی ہے (رازی)
Ayah 6:14

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:14 in the Quran reader

۔ (اے پیغمبر) ان کافروں سے کہہ کیا میں خدا کے سوا جو آسمان اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور کسی کو اپنا معبود بناؤ اور وہ (خدا سب کو) کھلاتا اس میں کو کوئی نہیں کھلاتا2 کہہ دے مجھ کو تو یہ حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے (خدا کا) حکم مانوں3 اور شرک کرنے والوں میں شامل نہ ہوں4 ۔

ف 2 یعنی منافع اسی کی ذات سے ہیں اور وہ کسی سے انتقاع کا محتاج نہیں اس ایک جملہ سے اللہ کے سوا جنتے بھی معبود بنا رکھے تھے سب کی نفی ہوجاتی ہے (رازی۔ قر طبی)3 کیونکہ میں اس کا رسول ﷺ ہوں اور رسول کا کام یہ ہے کہ تمام بندوں سے پہلے اور بڑھ کر اپنے مالک کے احکام کا مانے۔4 یعنی مجھے خالص اللہ کا فرما نبر دار ہو کر رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور شرک سے دور رہنے کا یہ کام نہیں کہ اس لعنت میں پڑنے کا خیال بھی اپنے ذہن میں لائیں۔
Ayah 6:15

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 6:15 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دے اگر میں اپنے مالک کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن (قیامت کے دن) کے عذاب کا ڈر ہے5

ف 5 آنحضر ﷺ کی زبان مبارک سے اعلان کر واکر دوسروں کو بتایا گیا کہ اگر بفرض محال معصوم اور نیک ترین بندے سے بھی کسی نافرمانی کا ارتکاب ہوجائے تو وہ بھی ہمارے عذاب سے نہیں بچ سکتا پھر دوسرے کے لے کہ کیونکر ممکن ہے کہ تکذیب انبیا ( علیہ السلام) جیسے جرائم کا ارتکان کرنے کے باوجود ہمارے عذاب سے بےفکر ہو کر بیٹھ رہیں۔
Ayah 6:16

مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 6:16 in the Quran reader

۔ اس دن جس پر سے عذاب ٹل گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر رحم کیا اور یہ بڑی مراد پانا ہے (کھلی کامیابی ہے)6

ف 6 یعنی مراتب عالیہ کا حصول تربہت اونچا مقام ہے اگر کسی سے آخرت کا عذاب ہی ٹل جائے تو یہی اپنی جگہ بڑی کامیابی ہے
Ayah 6:17

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 6:17 in the Quran reader

۔ اور اگر اللہ تجھ کو کوئی تکلیف پہنچائے (جیسے بیماری یا محتاجی یا اور کوئی بلا) تو اس کا ٹالنے والا اس کے سوا کوئی نہیں اور اگر وہ تجھ کو کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ سب کچھ کرسکتا ہے7

ف 7 پھر دوسروں کے آگے سجدے کرنا اور ان کی قبروں پر نذرانے چڑھانا اور سمجھنا کہ وہ حاجات پوری کرسکتے ہیں بہت بڑی حماقت ہے قرآن نے اس بات پر خصوصیت کے ساتھ زوردیا ہے کہ ہر قسم کا نفع وضرر اللہ کے ہاتھ میں ہے اس پر عقیدے پختہ ہو تو انسان شرک میں مبتلا نہیں ہوتا۔
Ayah 6:18

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:18 in the Quran reader

اور وہ زبردست ہے اپنے بندوں کے اوپر8 اور وہ حکمت والا خبردار ہے9

ف 8 یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو ولی نہیں بنانا چاہیے (رازی) یعنی عرش معلی ٰ پر جر تمام مخلوقات سے بالا ہے اہل حدیث اللہ تعالیٰ کے فق الفوق ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں احادیث صحیحہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے عرش پر ہونے کا بیان ہے اور یہ عرش آسمانوں کے اوپر ہے۔ ( وحیدی) صفات کمال دوہی ہیں قدرت اور علم پہلے جملہ وھو القاھر فمق عبادہ) میں کمال قدرت کی طرف اشارہ ہے اور (الحکیم الخبیر) سے کمال علم کا ثبات مقصود ہے۔ (رازی) ج یعنی اپنے احکام دینے میں حکمت والا اور اپنے بندوں کے معاملات اور ضروریات سے باخبر ہے !
Ayah 6:19

قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١۫ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ١ؕ اَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ١ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ Open ayah 6:19 in the Quran reader

(اے پیغمرب ان سے) کہہ دے (پوچھ) کس کی گواہی سب سے بڑی گواہی ہے کہ اللہ گواہ ہے مجھ میں اور تم میں10 اور یہ قرآن (الہ تعالیٰ کی طرف سے) مجھ پر اتار گیا ہے اس لیے کہ میں تم کو اور جن لوگوں کو یہ قرآن پہنچے (قیامت تک) ڈراؤں11 کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہیں (اے پیغمبر) کہہ دے میں (یہ) گواہی نہیں دوں گا کہہ دے کوئی وہ اکیلا خدا ہے (اس کا کوئی شریک نہیں میں اس کی گواہی دیتا ہوں) اور میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں12

ف 10 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت روسا اہل مکہ کے جواب میں ہے انہوں نے آنحضرت ﷺ سے مطالبہ کیا کہ آپ ﷺ اپنے صدق بنوت کی شہادت پیش کریں کیونکہ اہل کتاب کہتے ہیں کہ توراۃ میں تمہارے آخری رسول ہونے کا کوئی ذکر نہیں ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اس بات کا اللہ گواہ ہے کہ اس نے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اللہ تعالی، کی گواہی یہ ہے کہ اس نے مجھ پر قرآن اتارا ہے جو اپنے معجز ہونے کے اعتبار سے میرے سچے نبی ہونے کی صریح دلیل ہے اسی کے پیش نظر فرمایا واوحی الی ھذالقرآن الخ (رازی) شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ یہاں گواہی فرمایا قسم کو یعنی میں قسم کھاتا ہوں اللہ کی اس سے زیادہ کیا قسم ہوگی۔ ( موضح)11 ومن بلغ سے جمیع عرب عجم یا جن وانس مراد ہیں اور اس سے مقصد یہ ہے کہ میری رسالت عالمگیر اور قیامت تک کے لیے ہے۔ (رازی) حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی ﷺ نے روم وایران و حبشہ تمام ممالک کو دین اسلام کی دعوت دی۔ (ابن مرودیہ) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جسے قرآن پہنچ گیا اسے گو یا میں نے اپنی زبان سے پہنچا یا (ابن جریر وغیرہ) قرآن مجید اور حدیث پاک کے احکام عالمگیر اور ناقبل تغیر اور قیامت تک کے لیے ہیں قرآن کے احکام کو عہد نبوع تک محدود رکھنا اور تفییر احوال کے ساتھ تغییر فتویٰ کی آڑ میں قرآن کے نصوص سے گلو خلاصی کرانے کی بہانے ڈھو نڈنا تحریف کے مترادف ہے تغییر احوال سے تغییر فتویٰ کا اصول صرف اجتہادی مسائل تک محدود ہے اور ائمہ کی فقہ اور ان کے قتادیٰ اس بات کی کھلی شہادت ہیں پھر جو لوگ فقہ ائمہ کو دائمی احکام کی حیثیت سے پرانی تقلید کے قائل ہیں بھی غلطی پر ہیں صحیح یہ ہے ائمہ نے اپنے زمانہ کے احوال وظرف کو سامنے رکھکر اجتہادی مسائل مسئبظ اور مرتب کئے تھے ( م، ع)12 یا جن کو تم اللہ کا شریک قراردیتے ہو میں انے بیزار ہوں۔ (وحیدی )
Ayah 6:20

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ۘ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:20 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی (یعنی یہود اور نصاری) وہ تو اس پیغمبر کو اس طرح پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں13 جنہوں نے اپنی جانوں کو نقصان پہنچایا وہ ایمان نہ لائیں گے1

ف 13 یعنی اسکے سچے رسول ہونے میں انہیں کوئی شبہ نہیں (دیکھئے بقرہ آیت 146) 1 وپر گزر چکا ہے کہ کفار نے یہود و نصاریٰ سے آنحضرت ﷺ کے متعلق جب اتاستفسار کیا تو انہوں نے آپ کی نبوت سے انکار کیا چناچہ ان کے جواب میں قل ای شئی ل الخ۔ نازل ہوئی آپ کو اس آیت میں بتایا گیا کہ اہل کتاب جھوٹ بولتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا ذکر تورات میں نہیں ہے یہ تو آنحضرت ﷺ کے صدق نبوت کو پورے یقین سے جانتے ہیں مگر ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر انکار کر رہے ہیں ایسے لوگوں سے ایمان کی امید نہیں ہاں جن لوگوں کے دلوں میں اخلاص ہے وہ ضرور ایمان لے آئیں گے (رازی )
Ayah 6:21

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:21 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ پر جھوٹا بہتان لگائے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے (جیسے یہود اور نصاری اور مشرک کرتے تھے) اس سے بڑھ کر اور کون ظالم ہوگا2 بیشک ظالموں کی بھلائی نہیں ہوسکتی

ف 2 یعنی اگر میں نے جھوٹ بولا تو مجھ سے بدتر کوئی کوئی نہیں اور اگر میں نے سچ پہنچا یا اور تم نے جھٹلایا تو تم سے زیادہ گنہگار کوئی نہیں بس اپنی فکرو۔ (موضح) اوپر کی آیات میں منکرین پر خسران کا حکم لگا یا اب اس آیت میں اس خسران کا سبب بیان فرمادیا، (رازی) چناچہ خسران کا پہلا سبب افتر ال علی اللہ قرار دیا ہے او اہل علم جانتے ہیں کہ کفار مکہ کے دین کی بنیاد ہی افترا پر تھی بتوں کو شراکا اللہ قرار دینا فرشتوں کو بنات اللہ کہنا اور بحیرہ سائبہ وغیرہ کی تحریم وغیرہ سب چیزیں افتر پر مبنی تھیں اسی طرح یہود و نصاریٰ کے دین میں بہت سے افزا شامل ہوئے تھے مثلام تورات وانجیل کو ناقابل نسخ وتغییر مانتے اپنے آپ کو ابنا اللہ واحبارۃ احباہ کہتے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے متعلق بہت سی جہالت کی باتیں کرتے دوسرا سبب خسران تکذیب آیات اللہ ہے جس میں معجزات کی تکذیب بھی داخل ہ (رازی )
Ayah 6:22

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 6:22 in the Quran reader

اور جس دن ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے پھر ہم مشرکوں سے کہیں گے وہ تمہارے شریک کدھر گئے جن کو تم (خدا تعالیٰ کا) شریک سجھتے تھے

ف 3 اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ مشرکین قیامت کے دن اپنے شر کا انکار کریں گے اور دوسری آیت میں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے (نسا 43) اس کی توضیح میں حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ پہلے تو وہ انکار کرینگے لیکن پھر جب ان کے ہات پاوں بولنے لگے گے تو اس وقت سب حقیقت واضح ہوجائے گی۔ (یٰس :65)
Ayah 6:23

ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:23 in the Quran reader

پھر کوئی بہانہ (یا کوئی جواب یا کوئی عذر) ان کو نہ ملے گا مگر (جھوٹ بولنا) یوں کہیں گے اللہ تعالیٰ کی قسم جو ہمارا مالک ہے ہم شرک نہیں کرتے تھے3

ف 4 یعنی وہاں نا کا شرک ان کے کچھ کام نہ آئے گا،5 یعنی کان لگالگا کر سنتے ہیں جب قیامت کے دن کفار کے کچھ اوحوال بیان فرمائے و اب بتایا کہ ان کے ایمابن لانے کے امید نہیں ہے (رازی )
Ayahs 6:24–25

اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:24 in the Quran reader

(اے پیغمبر) دیکھ (یعنی غور کر) اپنے اوپر آپ کیسا جھوٹ بولے اور جتنی باتیں بناتے تھے سب ان سے گئی گذریں4

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 6:25 in the Quran reader

اور ان میں (یعنی مشرکوں میں) بعضے ایسے بھی ہیں جو تیری طرف کان لگاتے ہیں5 اور ان کے دلوں پر ہم نے پردے ڈال دئیے ہیں اور ان کے کانوں کو بہرا کردیا ہے وہ اس کو سمجھ نہیں سکتے اور اگر وہ سب نشانیاں (تمام جہان کے معجزے) دیکھیں تو ایک پر بھی بھی ایمن نہ لائیں6 (وہ تو جہالت اور ہٹ دھرمی میں) یہاں تک (پہنچے ہیں) کہ جب تیرے پاس جھگرتے آتے ہیں تو کافر (مردود) کہتے ہیں (قرآن ہے کیا) اس میں (کیا رکھا ہے) اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں اور کچھ نہیں7

حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ کفار کے بڑے بڑے سردار جن میں ابو سفیان، ولید بن مغیرہ اور ابو جہل وغیرہ بھی شریک تھے آنحضرت ﷺ کی مجلس میں حاضر ہو کی قرآن سننے اور پھر آپس میں اس قسم کا تبصرہ کرنے لگے چناچہ آیت میں اسی صورت حال کی طرف اشارہ ہے۔ ( قرطبی) چونکہ یہ قرآن اور آنحضرت کی رسالت کو برحق جاننے کے باوجود کفر کی روش پر جمے ہوئے ہیں اسی لیے ہم نے ان کو یہ سزا دی۔7 حالا ن کہ قرآن میں تمام اخلاق حکمت اور زشریعت کی باتیں بھری ہوئی ہیں اور اس میں جو قصے بیان کئے گئے ہیں وہ سب سچے واقعات ہیں او صرف عبرت و نصیحیت کے لیے بیان کئے گئے ہیں۔ ، (وحیدی )
Ayah 6:26

وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْهُ١ۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:26 in the Quran reader

اور وہ (لوگوں کو) اس سے روکتے ہیں اور خود بھی الگ رہتے ہیں8 اور یہ لوگ کچھ نہیں مگر اپنے تئیں آپ تباہ کرتے ہیں اور سمجھتے نہیں9

ف 8 یعنی صرف قرآن پر طعن کرنے پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ قرآن سننے اور آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے سے دوسرے لوگوں کو بھی منع کرتے ہیں (کذافی الکبیر) بہت سے بدعت پرست علما اپنے مانے والوں کو اس لیے قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے سے منع کرتے ہیں کہ کہیں وہ عشق وجذب۔ باگل پن کی بھول بھلیوں سے نکل کر وہابی نہ بن جائیں لا حول ولا وقوۃ الا باللہ العلی العظیم،9 حضرت ابن عباس ؓ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ کفر غلو اور تمادی کے سبب اپنے آپ کو ہلاکت کر گڑھے میں ڈال رہے ہیں اور یہ نہیں سمجھے س کفر و معصیت کا انجام دوزخ ہوگا۔ (کبیر )
Ayahs 6:27–28

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:27 in the Quran reader

اور (اسے پیمبر) اگر تو ان کو اس وقت دیکھے جب دوزخ پر ٹھہرائے جائیں تو عجب تماشا یا بڑا ہولناک سانحہ دیکھے گا) یہ کہتے ہوں گے کاش پھر ہم دنیا میں بھیج دئیے جائیں اور (اب کی بار) اپنے مالک کی آیتوں کو جھٹلائیں نہیں اور ایماندار ہوجائیں

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 6:28 in the Quran reader

(یہ جو آرزو کریں گے وہ بھی سچے۔ بلکہ جس بات کو پہلے وہ چھپاتے تھے وہ ان کے سامنے کھل گئی1 اور اگر (بالفرض) دنیا میں پھر بھیج دئیے جاویں تو پھر ویسے ہی کام کریں جن سے منع کیے گئے تھے اور کچھ شک نہیں یہ جھوٹے ہیں3

ف 1 اس سے قبل (یعنی آخرت میں ہی) جس شرک وکفر اور نفاق کو رہ جھوٹی قسمیں کھاکر چھپانے کی کوشش کریں گے اس کی حقیقت کھل جائے گی اور ان کے اپنے ہاتھ پاوں ان کے خلاف گواہی دیں گے اس وقت وہ محض ندامت کر مارے یہ آرزو کریں گے بعض نے من قبل سے دنیا چھپانا مراد لیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں ہے یا اس سے روسا کفار مراد ہیں۔ یعنی وہ قرآن اور آنحضرت ﷺ کی صدقت کو جانتے تھے مگر اپنے اتباع سے چھپاتے تھے۔ قیامت کے دن یہ حقیقت ان کے اتباع پر کھل جائے اور ان کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ ہمیں دھوکہ دیتے رہے ہیں۔ (ابن کثیر۔ کبیر ) 2 یعنی پھر شرک اور کفر ونفاق کی روش اختیار کریں گے کیونکہ ان کی یہ آرزو ایمان کی محبت کی سبب نہیں بلکہ محض ندامت کی وجہ سے ہوگی۔ ؟ (کبیر)3 اس لیے آخرت میں اپنی اس آرزوے سے اظہار میں بھی جھوٹ ہی سے کام لیں گے۔ (وحیدی)
Ayah 6:29

وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ Open ayah 6:29 in the Quran reader

(اور کافر یہ ہے بھی) کہتے ہیں کہ جو کچھ زندگی ہے دنیا ہی کی زندگی ہے اور کچھ نہیں اور مرے پیچھے ہم اٹھنے والے نہیں4

ف 4 یعنی کوئی آخرت کا ثواب و عقاب نہیں ہے یہ محض لوگوں کو الو بنانے کے لیے ایک ڈھکو سلا ہے اس زندگی کے جو چند دن ملے ہیں ان میں خوب مزے اڑالو۔
Ayah 6:30

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:30 in the Quran reader

اور (اے پیمبر) اگر تو ان کو اس وقت دیکھے جب اپنے پروردگار کے سامنے ٹھہرائے جائیں گے5 پروردگار فرمائے گا کیا یہ سچ نہیں ہے (یعنی مرے بعد جی اٹھنا) وہ کہیں گے بیشک شچ ہے اپنے پروردگار کی قسم پروردگار فرما دے گا تم جو (دنیا میں اس زندگانی کا) انکار کرتے تھے اب اس کے عذاب کا مزہ چکھو

ف 5 تو ایک عجیب تماشا یا بڑا سانحہ دیکھے گا پہلی آیت میں ان کے انکار حشر ونشر کو بیان کیا تھا اب اس آیت میں قیامت کے دن ان کی حالت کا ذیر ہے۔ ( کبیر )
Ayah 6:31

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَا١ۙ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ Open ayah 6:31 in the Quran reader

جن لوگوں نے اللہ سے ملنے کو (مرے بعد پھر جی کر) جھٹلایا وہ گھاٹے میں پڑگئے یہاں تک کہ جب ایک دم قیامت ان کے سر پر آپڑے گی تو کہیں گے ہائے افسوس ہم نے قیامت کے باب میں جو قصور کیا اور اپنے (گناہوں کے) بوجھ اپنی پیٹھ پر لادے ہوں گے سن لے کیا برا بوجھ لادے پھریں گے

یعنی آخرت میں ان کا یہ انکار اقرار کی صورت اختیار کرے گا مگر اس وقت اس ایمان واقرار کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔
Ayah 6:32

وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:32 in the Quran reader

اور دنیا کی زندگی کچھ نہیں مگر کھیل اور دل بہلانا7 اور البتہ پرہیز گاروں کے لیے آخرت کا گھر بہتر ہے8 کیا تم کو عقل نہیں

ف 7 دنیا کے سریع الزوال ہونے کے اعتبار سے اس کو لہو ولعب فرمای ہے رازی یعنی آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کے مقابلے میں دنیا کی زندگی اور لذتیں ایسی ہی ہیں جیسے بچوں کا کھیل تماشا جو تھوڑی دیر میں ختم ہوجاتا ہے حضرت شداد بن اوس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا عقلمند وہ ہے جس نے اپنے نفس کا حساب لیا اور موت کے بعد آنے والی زندگی کے لیے عمل کیا اور عاجز (احمق) و ہے جس نے اپنے نفس کو اپنے خواہشوں کے پیچھے لگادیا او پھر اللہ سے بخشش کی آرزو رکھی ترمذی) 8 یعنی ان لوگوں کے لیے جو اپنی زندگی میں۔ شرک کفر نفاق اور کبائر سے بچتے ہیں ورنہ کافر کے لیے تو دنیا کی زندگی ہی بہتر ہے جیسا کہ حدیث میں ہے الدینا سجن المو من وجنتہ اللکافر کہ مومن کے لیے تو دنیا قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت ہے (کبیر) نبی کریم ﷺ نے جب تک نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا آپ کی قوم کے تمام لوگ آپ ﷺ کو امین اور صادق کہتے تھے لیکن جونہی آپ ﷺ نے اپنی نبوت کا اعلان کیا اور انہیں اللہ تعالیٰ کی آیات سنانا شروع کیں تو ان میں سے اکثر آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے اور آپ ﷺ کو (نعوذ باللہ) جھوٹا قرار دینے لگے ابو جہل سے بڑھ کر آپ کا کون دشمن ہوگا۔ لیکن حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ اس نے نبی ﷺ سے گفتگو کرتے ہوئے کہ انا لا تکذبک ولکن نکذب ماجئت بہ ہم آپ ﷺ کی تو جھوٹا نہیں کہتے لیکن جو پیغام آپ ﷺ لے کر آئے ہیں اسے جھوٹا قرار دیتے ہیں ایک دوسرے موقع پر اسی ابو جہل نے اخنس بن شریق سے تنہائی میں کہا اللہ کی قسم محمد ﷺ ایک سچا انسان ہے اور ساری عمر میں اس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا لیکن جب نوار، سقایت حجابت اور نبوت سب بنی قصی ہی کے حصہ میں آجائیں تو بتاو باقی قریش کے پاس کیا رہ گیا۔ ( حاکم، ابن ہشام) اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی ہے کہ یہ لوگ جو آپ کی تکذیب کر رہے ہیں وہ حقیقت میں آپ ﷺ کی نہیں بلکہ ہماری آیات تکذیب ہے کیونکہ شخصی لحاظ سے تو یہ آپ ﷺ کی تکذیب کر ہی نہیں سکتے اس سے مراد دراصل وہ کفار ہیں جو بشر کے نبی اور رسول ہونے کا محال سمجھتے ہیں (ابن کثیر)
Ayahs 6:33–34

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 6:33 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ہم جانتے ہیں کہ ان کی (کافروں کی) باتوں سے تجھ کو رنج ہوتا ہے (وہ جو تجھ کو جھٹلاتے ہیں) تو وہ تجھ کو (اصل میں) نہیں جھٹلاتے لیکن یہ ظالم اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا (ظاہر میں) انکار کرتے ہیں9

وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا١ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 6:34 in the Quran reader

اور تجھ سے پہلے بہت پیمبر جھٹلائے جا چکے ہیں پھر انہوں نے جھٹلائے جانے اور ستائے جانے پر صبر کیا یہاں تک کہ ہماری مدد ان کے پاس آپہنچی اور اللہ تعالیٰ کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں اور (دوسرے) پیغمبروں کے کچھ قصے تو تجھ کو معلوم ہوچکے ہیں1

ف 1 اس آیت میں ایک دوسرے طریقے سے آنحضرت ﷺ کو تسلی دی ہے (کبیر) کلمات الہ سے مراد یہ ہے کہ اس نے جو آپ ﷺ کو غالب اور ان مشرین کو مغلوب کرنے کا وعدہ کیا ہے اسے پوراہو نے سے کوئی چیز روک نہیں سکتی لہذا جس طرح انہوں نے صبر و استقامت کا مظاہر کیا اسی طرح آپ بھی صبر و استقامت سے اپنی دعوت پیش کرتے رہیں اور کسی بےچینی کو اپنے اندر راہ پانے دیں۔
Ayah 6:35

وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 6:35 in the Quran reader

اور اگر تجھ پر کافروں کا منہ پھیرنا (ایمان نہ لانا) سخت گذرتا ہے تو اگر تجھ سے ہوسکتا ہے کہ زمین میں ایک سرنگ یا آسمان تک ایک سیڑھی ڈھونڈھ نکالے اور ان کو ایک نانی لا کر بتلا دے2 اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کو راہ پر لگا دیتا (کفر کا نام باقی نہ رہتا) دیکھ تو ہرگز نادانوں میں شریک مت ہو3

ف 2 تو آپ ایسا بھی کر کے دیکھ لیجئے لیکن یہ چونکہ آپ سے کبھی نہیں ہوسکتا تو بلاوجہ کڑھنے سے کیا فائدہ بہتر ہے کہ آپ انجام کار کو ہم پر چھوڑ تے ہوئے پورے سکون و اطمینان سے اپنی دعوت کے کام میں لگے رہیں۔3 یعنی ایسا مت خیال کیجئے کہ کہ کسی نشانہ (معجزہ) لانے سے یہ راہ ہدایت پر ضروری آجائیں گے ہدایت اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہے آپ کے ذمہ صرف پیغام پہنچادینے ہے اس حقیقت کو پیش نظر رکھیں اور ان لوگوں کے ایمان نہ لانے پر ہرگز کوئی غم یا افسوس نہ کریں اللہ تعالیٰ کو تکوینی طور پر اس سب کو مومن بنانا ہوتا تو یہ اس لیے سامنے کوئی مشکل بات نہ تھی مگر ایسا کرنا اس کی حکمت کے خلاف ہے لہذا اس قسم کے جاہلاہ نظریے کو پانے دل میں جگہ نہ دیجئے
Ayah 6:36

اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَؐ Open ayah 6:36 in the Quran reader

(اے پیغمبر تیری بات) وہی لوگ مانتے ہیں جو (سمجھ کر) سنتے ہیں اور مردوں کو (کافروں کو) اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) جلا اٹھا دے گا پھر اسی کی طرف لوٹائے جاویں گے4

ف 4 اس آیت میں آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کو مردوں سے مشابہ قرار دیا ہے جن کو جتنا پکارا جائے وہ کوئی جواب نہیں دے سکتے یعنی ان کافروں کے ضمیر مردہ ہوچکے ہیں۔ اور ان میں فہم وفکر کی قوت ختم ہوچکی ہے ان کو اگر عقل آئے گی تو اس وقت جب اللہ تعالیٰ ان کو دنیا سے اٹھائے گا اور ان محاسبہ کرے گا۔
Ayah 6:37

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:37 in the Quran reader

اور (کافر) کہتے ہیں اس کے مالک کی طرف سے اس پر کوئی نشانی کیوں نہیں اتری تو5 تو کہہ دے اللہ (ایک صاف اور کھلی) نشانی (بھی) اتار سکتا ہے مگر ان میں کے اکثر لوگ (خدا کی حکمت اور مصلحت کو) نہیں جانتے6

منکرین نبوت یہ شبہ بھی پیش کرتے کہ اگر یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں تو اپنے ساتھ کوئی محسوس معجزہ کیوں نہیں لاتے جسے دیکھ کر ہر شخص کو معلوم ہوجاتا کہ یہ واقعی اللہ کی طرف سے بھیجا ہو ارسول ہے6 خدا کی حکمت اور مصلحت یہ ہے کہ اگر صاف کھلی نشانی اجائے جیسے مائدہ جو حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے زمانے میں تارا گیا یا اور نٹنی جو حضرت صالح کے عہد میں بھیجی گئی اور پھر بھی یہ لوگ ایمان نہ لائیں تو اللہ کے قانون کے مطابق ان کی مدت مہلت ختم ہوجائے گی اور فورا عذاب ’ آجائے گا لیکن اللہ کی رحمت کا تْقاضا یہ ہے کہ ان کو ہلاک نہ کیا جائے مگر یہ اس بات کو نہیں مانتے (رازی)
Ayah 6:38

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ١ؕ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:38 in the Quran reader

اور جو جاندار زمین میں چلتا ہے اور جو پرندہ اپنے دونوں بازوؤں سے اڑتا ہے (ان میں سے) ہر ایک کی جماعت ہے تمہاری طرح7 ہم نے کوئی چیز نہیں چھوڑی جو کتاب (لوح محفوظ) میں نہ لکھی ہو پھر8 (قیامت کے دن یہ سب) اپنے مالک کے سامنے اکٹھا ہوں گے9

ف 7 مطلب یہ ہے کہ جمیع بہائم اور پرندے تمہاری طرح کی امتیں ہیں اور جس طرح ان کے رزق اور مصالح کی رعایت کی گئی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کے مصالح کی بھی رعایت کی ہے اور ان کے مطالبہ کے مطابق آیات نازل کرن خود ان کے مصلحت کے خلاف ہے (رازی) یا مثل تمہاری ہیں طرح ہیں (فتح البیان)8 یعنی لوح محفوظ میں (موضح) جو کہ تمام مخلوقات کے احوال پر پوری طرح حاوی ہے کہ ایک حدیث میں ہے جف القلم بما ھو اکاسو الی یوم القیامتہ کہ قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس کی تحریر سیاہی خشک ہوگئی ہے (رازی ) اور اس سے مرد قرآن پاک بھی ہوسکتا ہے۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ اور یہی اظہر ہے اس لحاظ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں دین سے متعلق تمام اصول (بنیاد دی امور بیان کردیئے اور جب جزئیات کا ذکر نہیں کیا وہ آنحضرت ﷺ نے اپنے وقل و عمل سے بیان فرمادی ہیں اور مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ پیغمبر جس چیز کا حکم دیں اسے بجا لاو اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جاو پس آنحضرت ﷺ کی حدیث بھی کتاب الہی ہے چناچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جو عورت وسمہ یا بناوٹی بال لگاتی ہے اس پر اس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت بھیجی ہے ایک عورت نے کہا میں سارا قرآن پڑھا ہے مگر مجھ کوئی آیت ایسی نہیں ملی جس میں ایسی عورتوں پر لعنت ہو حضرت عبدا للہ بن مسعود نے فرمایا اگر تم قرآن پڑھ لیتیں تو معلوم ہو ہوجاتا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ما ماتاکم الرسول فخذ وہ الخ۔ الغرح حدیث کے وحی ہونے پر قرآن میں بہت سے دلائل مذکور ہیں۔ (رازی، ابن کثیر)9 کفار کو تہدید ہے کہ جب اللہ تعالیٰ زمین کے کسی معمولی سے جانور یا پرندے کے حالات سے بھی ناواقف نہیں ہے اور اس اک نامہ اعمال محفوظ ہے اور اس کا اے بد لہ بھی ملیگا تو تم اپنے بارے میں یہ کیوں سمجھ رہے ہو کہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ نہیں دیا جائے گ (کذافی الکبیر )
Ayah 6:39

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:39 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں (ان کی مثال ایسی ہے گویا) وہ اندھیرے میں گونگے اور بہرے ہیں10 جس کو چاہے اللہ تعالیٰ گمراہ کرے اور جس کو چاہے سیدھی راہ پر لگا دیوے11

ف 10 یعنی کفر اور خوہشات کے اندھیروں میں۔11 لیکن وہ مراہ اسی کو کرتا ہے جو اپنی صلا حیتوں کو برکار نہیں لاتا۔ (دیکھئے اعفراف۔ آیت 176) ج
Ayah 6:40

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 6:40 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان کافروں سے) کہہ (بھلا) بتلاؤ تو سہی اگر تم پر خدا کا عذاب آجاوے یا تم پر قیام آن کھڑی ہو تو کیا (اس وقت بھی) اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو پکارو گے اگر تم اپنے دعوے میں) سچے ہو12

ف 12 یعنی اپنے اس دعوی میں کہ جن کہ تم اللہ کے سوا پکاتے ہو وہ تم پر آئی ہو بلاٹال سکتے ہیں۔ یہ تو ان کفارو مشرکین کا حال تھا لیکن آج خود مسلمانوں نے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو سخت میں بھی نعرہ لگاتے ہیں تو یاعلی، یا غوث اعظم اور یارسول اللہ کا گویا ان کی حالت کفا رو مشرکین سے بھی بدتر ہے۔