6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 6:41–43

بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:41 in the Quran reader

(ہرگز دوسرے کسی کو نہیں پکاروگے) بلکہ خاص اللہ تعالیٰ ہی کو پکاروگے پھر اگر وہ چاہے گا تو اس مصیبت کو جس کے لیے پکارتے تھے دور کردے گا اور جنکو تمنے اس کا شریک بنایا تھا ان (سب) کو بھول جاؤ گے (یا چھوڑ دو گے)1

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 6:42 in the Quran reader

(اے پیمبر) ہم تجھ پہلے کتنی امتوں کے پاس پیغمبر بھیج چکے ہیں پھر (جب انہوں نے اپنے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو سختی اور تکلیف میں گرفتار کیا اس لیے کہ وہ عاجزی کریں

فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:43 in the Quran reader

پھر جب ہمارا عذاب آیا تو عاجزی کیوں نہ کی مگر ان کے دل سخت ہوگئے تھے تو (خدا کی طرف تو ان کو مطلق توجہ نہ تھی اور شیطان نے ان کے (برے) کاموں کو ان کے نزدیک اچھا کر دکھایا تھا21 ۔

ف 2 کیا آج ہم مسلمانوں کا یہی حال ہو نہیں گیا ہے جب کوئی جنگ سیلاب قحط یا زلزلہ یا کوئی دوسری اجتماعی آفت ہم پر نازل ہوتی ہے تو کیا ہم میں وہ افراد نہیں پائے جاتے جو اسے محض مادی اسباب کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ اور سزا سمجھنے کو جہالت اور بےوقوفی قرار دیتے ہیں تفسیر احمدی جو ایک نیچری نے لکھی ہے وہ معجزات وغیرہ کے انکار کے سلسلہ میں اس قسم کی تاویلوں سے پر ہے ، (م، ع )
Ayah 6:44

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ Open ayah 6:44 in the Quran reader

پھر جب وہ اس مصیبت کو بھول بیٹھے جو خبردار کرنے کے لیے ان پر آئی تھی ہم نے بھی ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دئیے3 یہاں تک کہ وہ ان چیزوں (نعمتوں میں) جو ان کو ملی تھیں مست ہوگئے اس وقت ایک دم سے ہم نے ان کو پکڑ لیا اور ناامید ہو کر رہ گئے4

ف 3 یعنی انہیں مہلت کے طور پر ہر طرح کی نعمتیں دیں ( سلفیہ)4 یعنی اچانک ایسا عذاب آیا کہ وہ اپنا تمام عیش و آرام بھول گئے اور بچنے کی کوئی امید نہ رہی اور اسی یاس ونا امیدی کی حالت میں تباہ و برباد کردیئے گئے عقل مند آدمی کو چاہیے کہ جن سختی اور مصیبت آئے تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ سمجھ کر برے کاموں سے توبہ کر کے ورنہ غفلت بڑھتی جائے گی اور یکباری گی ایسی سخت پکڑ ہوگی کہ تو بہ کا موقع بھی نہ ملے گا۔ مسند احمد) حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم کسی ایسے آدمی کو دیکھوں جسے اس کی نافرمانیوں کے باو جود اللہ تعالیٰ ہر چیز دے رہا ہے جسے وہ پسند کرتا ہے تو سمجھو کہ اللہ اسے ڈھیل دے رہا ہے پھر نبی ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (کذافی الو حیدی )
Ayah 6:45

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ؕ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 6:45 in the Quran reader

آخر ان ظالموں کی جڑ کٹ اور شکر ہے خدا کا جو سارے جہان کا مالک ہے5

ف 5 یعنی سب ونیست ونا بود کردیئے گئے اور ان کے نیست ونابودکیئے جانے پر ہر چیز نے سکھ کا سانس لیا اور اللہ رب العلمین کے حضور سجدہ شکر ادا کیا خس کم جہاں پاک۔
Ayah 6:46

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:46 in the Quran reader

(قصہ پاک ہوا) (اے پیغمبر) ان لوگوں سے کہہ بھلا بتاؤ تو سہی اگر اللہ تعالیٰ تمہارے کان اور آنکھٰں (یا سماعت اور بینائی چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر کردے تو کوئی اور خدا ہے اللہ کے سوا جو (پھر) یہ چیزیں تم کو لا دے (اے پیغمبر ! دیکھ ہم ان سے پھیر پھیر کر کیسی کیسی دلیلیں بیان کرتے ہیں اس پر بھی یہ نہیں سنتے6

ف 6 منہ پھیر کر اور نظریں چرا کر چل دیتے ہیں اور کسی تنبیہ سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتے حلان کہ یہ کان اور آنکھ اور دل جو اس وقت موجود ہیں شاید پھر نہ ملیں لہذا توبہ میں دیر کرنی نہیں چاہیئے۔ (کذافی المو ضح)
Ayah 6:47

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:47 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دے بھلا بتلاؤ اگر اللہ کا عذاب ایک ہی ایکا یا جتا کر (یا رات یا دن کو) تم پر اتر آئے تو کون تباہ ہوگا وہی نا جو مشرک ہویں7

ف 7 پہیلی آیت میں صرف ام لہ سماعت بصارت اور دل سلب کرلینے پر تنبیہ تھی۔ اب اس آیت میں عام عذاب کے ذکر کے ساتھ تو بیخ کی ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تو تم نجات نہیں پو سکو گے باقی رہے آنحضرت ﷺ اور ان کے پیرو تو انہیں اللہ ضرور بچالے گا کیونکہ پہلے جتنی قومیں تباہ کی گئیں ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی یہ مستقل سنت رہی ہے کہ پہلے رسول اور ان کے متبعین کو ظالم قوم کی بستی سے نکل جانے کا حکم دیا گیا ہے جب وہ نکل گئے تو قومتباہ کردی گئی )
Ayahs 6:48–50

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 6:48 in the Quran reader

اور ہم پیغمبر کو اسی لیے بھیجتے ہیں اور کچھ نہیں کہ (نیکوں کو) خوشخبری سنائیں اور (منکروں کو) ڈرائیں پھر جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے (پیغمبروں کا کہا مانا) ان کو نہ ڈر ہوگا نہ غم

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 6:49 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو نافرمانی کی سزا میں عذب ہوگا

قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 6:50 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دے میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں1 اور (یہ بھی) کہہ دے میں غیب نہیں جانتا2 اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں3 میں تو اسی پر چلتا ہوں جو مجھ کو حکم ہوتا ہے (اللہ کی طرف سے)4 (اے پیغمبر) کہہ دے کیا اندھا اور آنکھ والا برابر ہوسکتے ہیں5 کیا تم غور نہیں کرتے

ف 1 آنحضرت ﷺ سے وہ مطالبہ کرتے کہ اگر تم اللہ کے پیغمبر ہو تو اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کرو کہ ہمیں دنیا سازو سامان اور فراوانی حاصل ہوجائے اس آیت میں اس مطا لعہ کا جواب دی گیا اس سے معلوم ہوا کہ اگر یہ اعتقاد رکھا جائے کہ فلاں مرید کو فلاں پیر نے ایک خزانہ بخش دیا مالدار کردیا تو یہ عقیدہ شرک کی ذیل میں آئے گا (کذافی السلفیہ)2 کہ آئندہ کی جو بات مجھ پو چھتے جا و میں تمہیں بتلاتاجاوں۔ غیب کا جاننا صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ مجھے جو اور جتنا علم ہے اس کی نے اطلاع دی ہے وہ چاہتا تو مجھے اتبا علم بھی دیتا اور چاہتا تو اس سے بھی زیادہ دے دیتا اس سے ثابت ہوا کہ جس کا یہ عقیدہ ہو کہ انبیا کو علم غیب ہوتا ہے تو ہو مشرک ہے جب سید الر سل ﷺ کو علم غیب نہ ہوا تو دوسروں کا کیا ذکر ہے اوجب رسول ﷺ غیب دان ٹھہرے تو پھر کوئی پیر شہید۔ ولی، مجذدب سالک یا عالم عابد کیسے غیب دان ہوسکتا ہے اور کاہن نجومی اور مال کس شمارو قطار میں ہیں۔ از ترجمان نواب)3 بلکہ تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں پھر تم فرشتوں کا طرح آسمان پر چڑھنے کا مجھ سے مطالبہ کیوں کرتے ہو ؟ اور کس معاملے میں اپنی خواہش کی پیروی نہیں کرتا اس سے معلوم ہوا کہ نبی ﷺ نے بندوں تک جتنے احکام پہنچائے چاہے قرآن کی شکل میں احادیث کی صورت میں وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھے لہذا قرآن کی طرٖح سنت کی پیروی بھی ضروری ہے بلکہ سنت کے بغیر قرآن کی پیروی ناممکن ہے جو لوگ سنت کو چھوڑ کر صرف قرآن کی پیروی پر زور دیتے ہیں وہ دراصل اپنی من مانی تاویلات کرنا چاہتے ہیں۔5 یعنی باطل برست اور حق پرست کافر اور مسلمان یا جاہل اور عالم شاہ صا حب (رح) لکھتے ہیں یعنی پیغمبر آدمی کے سوا کچھ اور نہیں ہوجاتے کہ ان سے محال باتیں طلب کرے ایک اندھے اور ایک دیکھتے کا (یہی) فرق ہے ( مو ضح)
Ayah 6:51

وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:51 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) قرآن کے ذریعہ سے اگر ان لوگوں کو ڈرا جو (قیامت کے دن) اپنے مالک کے پاس اکٹھا ہونے کا خوف رکھتے ہیں (وہاں) خدا کے سو ان ان کا کوئی حمایتی ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا اس لیے کہ وہ (گناہوں س) بچتے رہیں6

ف 6 اوپر کی آیت میں پیغمبروں کے متعلق بیان فرمایا کہ وہ مبشر اور منذرہو تے ہیں۔ اب اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو انداز کا حکم دیا ( رازی) یعنی قرآن سن کر اور زیادہ ڈرپیدا ہو اور گنا ہوں سے باز آجاویں آیت سے ان کافروں کا رد مقصود ہے جو یہ گمان رکھتے تھے کہ ان کے معبود اور اٹھاکر وغیرہ اللہ تعالیٰ سے سفارش کر کے ان کو بچالیں گے اسی طرح ان لوگوں کے لے بھی اس میں عبرت ہے جو اپنے بزرگوں کی سفارش پر تکیہ کر کے بےکھٹکے گناہ کرتے رہتے ہیں کیو کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کسی کی سفارش نہیں چل سکے گی، ؟ (وحیدی، ترجمان )
Ayah 6:52

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ١ؕ مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:52 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے مالک کو صبح اور شام پکارتے ہیں اسی کا منہ چاہتے ہیں (یعنی خلوص سے صرف خدا کے طالب ہیں) ان کو (اپنے پاس سے) مت نکال (جیسے کافر کہتے ہیں) تجھ کو ان کا حساب دینا نہیں نہ تیرا حساب ان کو دینا ہے7 اگر تو ان کو نکالے گا تو بےانصافوں میں شریک ہوگا8

ف 7 بلکہ ہر ایک کو اپنے عمل کی جو ابد ہی خود کرنے ہے مطلب یہ ہے کہ ان بےچاروں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے کہ آپ انہیں اپنے سے دوسر کریں8 یعنی خدا کے طالب اگرچہ غیریب انہی کی خاطر مقدم ہے۔ (موضح ) جیسا کہ معلوم ہو کہ مکی زندگی میں نبی ﷺ پر ایمان لانے اور ﷺ کی پیروی اختیار کرنے والے زیادہ تر غلام موالی اور عام بےبس اور بےکس قسم کے لوگ تھے، قریش کے بڑے بڑے سردار کھاتے پیتے لوگ نبی صلعم کو طنعہ دیا کرتے تھے کہ تمہارے ساتھی اس قسم کے گھٹیا طبقہ کے لوگ ہیں۔ اگر ان کو اپنے پاس نہ بیٹھے دیں تو ہم آپ ﷺ کے پاس آئیں گے اور آپ ﷺ کی بات سنیں گے۔ اس بارے میں متعدد روایات ثابت ہیں مثلا حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ قریش کے چند سردار نبی ﷺ وسلم کے پاس سے گزرے، اس وقت آپ ﷺ کے پاس صہیب ؓ خباب ؓ عمار ؓ اور ان جیسے اور غیریب قسم کے لوگ بیٹھے تھے کہنے لگے اے محمد ﷺ کیا آپ ﷺ کو اپنی قوم سے یہی لوگ ملے ہیں۔ ؟َ کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے ہم سے اپنا فضل کیا ہے کیا ہم ان کے پیچھے چلنے والے ہوسکتے ہیں۔ انہیں اپنے پاس سے دفع کریں تو شاید ہم بھی آپ ﷺ کے بات سے لیں اسی کے بارے یہ آیت نازل ہوئی (ابن جریر، ابن کثیر)
Ayah 6:53

وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَا١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:53 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ایک دوسرے سے آزمایا ہے (یعنی شریف کو رذالے اور مالدار کو مفلس سے)9 اس لیے کہ یہ لوگ کہیں کیا انہیں لوگوں پر اللہ نے ہم میں سے چن کر احسان کیا10 کیا اللہ شکر کرنے والوں کو اچھی طرح نہیں جانتا11

ف 9 یعنی سرداران قریش جو یہ مطالبہ کر رہے ہیں۔10 یعنی کیا بلال ؓ ۔ صہیب ؓ خباب ؓ سالم ؓ عبد اللہ ؓ بن مسعود ؓ سعد ؓ بن ابی وقاص ؓ اور دو سے غریب اور بےکس مسلمان ہی اللہ تعالیٰ یو یہ ایسے نظر آئے ہیں کہ اس نے انہیں ہماری قوم میں سے چن لیا ہے۔11 یعنی دولتمندوں کو غریبوں سے آزمایا ہے کہ ان کو ذلیل دیکھتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں کہ کیا یہ لا ئق ہیں اللہ کے فضل کے اور اللہ دل دیکھتا ہے کہ اللہ کا حق مانتے ہیں۔ ( موضح) در اصل اللہ تعالیٰ کے ہاں قدرو منزلت ہے تو انہی لوگوں کی ہے جو اخلاص سے اللہ کا شکر بجا لاتے ہیں چاہے وہ کتنے ہی غریب اور محتاج ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک خالی دینوی حسب و نسب اور خوشحالی کی کوئی قدر نہیں ہے جیسے فرمایا ان اکر مکم عند اللہ اتقاکم ( حجرات) کہ تم میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ باعزت وہ ہے جو سب زیادہ پرہیز گار ہے
Ayah 6:54

وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:54 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) جب تیرے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو کہو سلام علیکم تمہارے پروردگار نے اپنے اوپر (اپنے فضل و کرم سے) یہ لکھ لیا ہے12 کہ مہربانی کرے گا (یعنی) جو کوئی تم میں نادانی سے کوئی گناہ کربیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اپنے تئیں سنوار لے (اپنی حالت درست کرلے نیک کام کرنے لگے) تو وہ بخشنے والا مہربان ہے1

ف 12 پہلی آیت میں انکے طرد سے منع فرمایا اب اس آیت میں ان کے اکرام کا حکم دیا) (رازی) یعنی جھو لوگ کفر وشرک کے غلبہ کے باوجود اس پر آشوب دور میں آپ ﷺ کی دعوت قبول کر کے مسلمان ہو رہے ہیں انہیں امن وسلامیت کو خوشخبری دے دیجئے یعنی یہ کہ اسلام لانے سے وہ اللہ کے عذاب سے مامون ہوگئے۔ اب ان اعمال پر مواخذ نہیں ہوگا جو وہ کفر کی زندگی میں کرتے رہے ہیں۔ المنار، عن ابن عباس ؓ اس سے معلوم ہوا کہ نیک لوگوں کا احترام کرنا چاہیے اور انہیں ناراض نہیں کرنا چاہیے (قرطبی) 1 نادانی سے گناہ کر بیٹھنے کا مطلب اس ک کے انجام بد کو نہ سمجھنا ہے۔ ( دیکھئے سورة نسا آیت 17) اوپر کی آّیتوں میں انذار تھا اب اس آیت میں تبشیر ہے۔ یعنی حق ظاہر ہوجا تے ہیں کہ اس پر عمل کیا جاسکے اور مجرموں کی راہ واضح ہوجائے تاکہ اس سے اجتناب کیا جاسکے ( جلالین) اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو لوگ دعوت و تبلیغ کا کام کرتے ہیں ان کو مخالفین (مجرمین کے) ہتھکنڈوں اور دلائل سے بھی پوری طرح باخبر ہونا چاہیے تا نہ ان کی تردیدی ہو سکے صح بہ کرام میں یہی خوبی تھی کہ ایک طرف تو وہ اسلام کو خوب سمجھتے تھے اور دوسری طرف جاہلیت کے رسم وراج اور قوانین سے پوری واقفیت رکھتے تھے یہ مضمون حافظ ابن القیم کی کتاب الفوائد میں خوب بیان ہوا ہے۔
Ayah 6:55

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 6:55 in the Quran reader

اور ہم اسی طرح کھول کر اپنی آیتیں بیان کرتے ہیں (تاکہ سب لوگ سمجھ جائٰں) اور گنہگاروں کا رستہ صاف معلوم ہوجائے3

ف 3 اوپر کی آیت میں تو یہ بیان ن ہوا کہ اللہ آیات کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ حق واضح ہو۔ اور مجرموں کا راستہ ظاہر ہوجائے اب اس آیت میں مجرموں کے راستہ پر چلنے سے منع فرمایا جس سے یہ بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ ان کا راستہ کیا ہے۔ ، (رازی )
Ayah 6:56

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ١ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:56 in the Quran reader

(اے پیمبر ان کافروں سے) کہہ دے مجھ کو ان کا پوجنا منع ہوا جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہو (اور پوجتے ہو) کہہ دے میں تمہاری خواہشوں پر نہیں چلتا اگر چلوں تو میں گمراہ ہوچکا اور راہ پانے والوں میں نہ رہا3

3 یعنی نزول عذاب کا جو مطالبہ کررہے ہو یہ میرے اختیار میں نہیں ہے
Ayah 6:57

قُلْ اِنِّیْ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ كَذَّبْتُمْ بِهٖ١ؕ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ Open ayah 6:57 in the Quran reader

(اے پیمبر) کہہ تو اپنے پروردگار کی طرف سے ایک دلیل پر (قرآن پر) قائم ہوں اور تم اس کو جھٹلاتے ہو جس (عذاب) کی تم جلدی کرتے وہ میرے پاس (یعنی میرے اختیار میں نہیں ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کسی اختیار نہیں وہ سچی بات بیان کرتا ہے اور وہی سب فیصلہ کرنے والوں میں بہتر (بھی) ہے5

ف 5 معلوم ہوا کہ انبیا کو معجزات پر کوئی اختیار نہیں ہوتا یہ اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے حاصل ہے۔
Ayah 6:58

قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:58 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دے اگر تم جس (عذاب) کی جلدی کرتے ہو وہ میرے پاس (میرے اختیار میں ہوتا تو میرا تمہارا جھگڑا (کب کا) فیصلہ ہوچکتا6 اور اللہ تعالیٰ بےانصافوں کو خوب جانتا ہے7

ف 6 یعنی اگر عذاب کا لانا میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمہاری تکذیب کی وجہ سے اب تک تمہیں ہلاک کرچکا ہوتا، ) رازی ) 7 ۔ کہ کب ان پر عذاب بھیجا جائے اور کب تک انہیں مہلت دی جائے (رازی )
Ayah 6:59

وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:59 in the Quran reader

اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جن کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا8 اور جو کچھ خشکی اور سمندر میں ہے اس کو (بھی وہی) جانتا ہے اور ایک پتہ نہیں گرتا مگر اس کو معلوم رہتا ہے اور نہ کوئی دانہ زمین اندھیروں میں (یعنی زمین کے اندر یا تاریک مقاموں میں) اور نہ کوئی ہرا نہ کوئی سوکھا جو کھلی کتاب (لوح محفوظ میں) نہ ہو9

ف 8 یعنی خلق میں سے کسی ایک کو بھی تو امور غیبہ کا علم حاصل نہیں ہے یہ خاصہ خدا ہے۔ (سلفیہ) اس سے معلوم ہوا کہ جو نجومی یا پنڈت یار تال یا جفار اپنی غیب دامی کا دعوی کرتے اور لوگوں کو آئندہ پیش آنے والی باتیں بتاتے ہیں ہو سب جھوٹے اور ٹھگ ہیں اور ان کے پاس جانا کسی مسلمان کا کام نہیں ہے اس لیے ایک حدیث میں نبی ﷺ کا یہ ارشاد ہے من اتی کاھنا او منجما فقد کفر یما انزل علی محمد کہ جو کسی کاہن یا نجومی کے پاس گیاہ اس نے اس چیز کا انکار کردیا جو محمد ﷺ پر نازل کی گئی (از شوکانی) مزید دیکھئے (لقمان آیت 34)9 یعنی اس کائنات کی چھوٹی سے چھوٹی اور پوشیدہ سے پوشیدہ ہر چیز لوح محفوظ میں درج ہے۔ (رازی )
Ayah 6:60

وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّى١ۚ ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 6:60 in the Quran reader

اور وہی خدا ہے جو قرات کو تم کو سلا دیتا ہے (یا تمہاری جان اٹھا لیتا ہے) اور دن میں جو (کام) تم کرچکے تھے اس کو جانتا ہے10 پھر سوتے سے تم کو ایک مقرری مدت پوری ہونے کے لیے جگاتا ہے11 پھر اسی کی طرف تم کو لوٹ جانا ہے پھر جو کچھ تم (دنیا میں کرتے تھے) وہ تم کو جتلا دے گا12

ف 10 یعنی تمہیں دن کو نیند سے اٹھاتا ہے۔ بعض نے قبروں سے اٹھانا بھی مراد لیا ہے (ابن کثیر11 یعنی تم میں ہر ایک کے لیے جو رزق اور مدت عمر معین ہے وہ پوری ہو (رازی)12 یعنی اچھا کیا ہوگا تو اچھا بدلہ دے گا اور برا کیا ہوگا تو برا بدلہ دے گا اوپر کی آیت میں کمال علم کا بیان تھا اور اس سے کمال قدرت ثابت ہوتی ہے۔ (رازی)
Ayah 6:61

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ Open ayah 6:61 in the Quran reader

اور وہ زبردست ہے اپنے بندوں کے اوپر (عرش معلی پر)1 اور تم پر چوکیدار (فرشتے) مقرر کرتا ہے2 یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی جان اٹھا لیتے ہیں اور (حکم میں) کوتاہی نہیں کرتے3

ف 1 اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر ہے جیسا کہ قرآن کی متعد آیات اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے تاہم اللہ تعالیٰ کی قاھر فق عبادہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے بندوں پر کامل غلبہ اور اقتدار رکھت ہے جنانچہ امام رازی لکھتے ہیں کہ یہاں فوقیتہ سے مراد قہر و قدرۃ ہے نہ کہ فوقیت بمعنی الجھتہ کیوں کہ مکان کی بلندی قہر اور غلبہ کو مستلز م نہیں ہے بغوی لکھتے ہیں کہ : القاھر الغالب وفی القھر زیادۃ معنی القدرۃ وھو منع غیرہ عن بلوغ المررام المراد ( معالم) یعنی قاہر کے معنی لکھتے ہیں کہ یہاں فوقیتہ سے مراد قہر وقدرت ہے یعنی خود قادر ہونے کے لیے ساتھ دوسرے کو مراد حاصل کرنے سے روک دینے والا۔ اللہ تعالیٰ کی صفت قہاریت یہ ہے کہ کائنات کو عدم سے وجود بخشا اور پھر وجود پر قنا اور فساد طاری کرتا رہتا ہے۔ پس ممکنات میں جس قدر بھی کون دفساد ہورہا ہے سب اللہ تعالیٰ کی صفت قہاریت کا مظہر ہے اور آیت قل اللھم مالک الملک الخ۔ صفت قہاریت کے پوری طرح تشیریح کر رہی ہے۔ (کبیر) جو تمہاری آفات سے حفاظت کرتے ہیں نیز تمہارے اعمال کو محفوظ کرتے ہیں علما کے نزدیک یہاں حٖظتہ سے اعمال لکھنے والے فرشتے مراد ہیں۔ ( کبیر) نیز دیکھئے (انفطار آیت 10 ق 18)3 یعنی جس کی جان قبض کرتے ہیں اللہ کے حکم سے اس کے مقررہ وقت پر کرتے ہیں نہ اس سے پہلے نہ اسکے بعد اصل میں جان تو ملک الموت قبض کرتا ہے مگر اس کے ساتھ رحمت اور عذاب کے فرشتے ہوتے ہیں۔ حضرت انس ؓ سے لوگوں نے دریافت کیا کہ آیا موت کا فرشتہ ایک ہے یا بہت سے ؟ تو آپ ﷺ نے انہیں ہی جواب دیا اور دلیل میں یہ آیت تلاوت کی (المنار) نیز دیکھئے سورت سجدہ آیت 11 درحقیقت موت وحیاۃ تو اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے ( حج 66) مگر فرشتے چونکہ اس کی طرف سے مامور ہیں اس لیے ان کی طرف بھی روح قبض کرنے کی نسبت کردی گئی ہے۔ (قرطبی)
Ayah 6:62

ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ Open ayah 6:62 in the Quran reader

پھر یہ سب بندے خدا کی طرف لوٹائے جو اتے ہیں جو ان کا حقیقی مالک ہے4 سن لو اسی کا حکم چلتا ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے5

جس نے اپنے حکم سے انہیں دنیا میں بھیجا تھا،4 جس نے اپنے حکم سے انہیں دنیا میں بھیجا تھا ، 5 موت کے ساتھ ہی آن کی آن میں اعمال کے اثرات ظاہر ہوجائنیگے یالمحہ بھر میں انسان کی عمر بھر کی برائی واضح کردے گا۔ (رازی) یا جلد حساب ہونے والا ہے یعنی مرنے کے بعد (نیز دیکھئے سورت بقرہ۔ 606)
Ayah 6:63

قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ۚ لَئِنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:63 in the Quran reader

(اے پیمبر) کہہ دے تم کو خشکی اور سمندر کے اندھیروں سے کون بچا کر لاتا ہے (ایسے سخت وقتوں میں تم اس سے دعا کرتے ہو آواز سے اور چپکے سے (اور کہتے ہو) اگر وہ ہم کو اس (بلا) سے بچا لے تو ہم ضرور (اس کے) شکر گذاروں میں رہیں گے6

ف 6 مگر بعض ایسے بدبخت بھی ہیں جو مشکل کے وقت بھی دوسروں کو پکارتے ہیں۔
Ayah 6:64

قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:64 in the Quran reader

(اے پیمبر) کہہ دے اللہ تم کو ان اندھیروں سے اور ہر ایک سختی (دکھ بیماری آفت) سے نجات دیتا ہے پھر تم شرک کرتے ہو7

ف 7 یعنی جب نجات پالیتے ہیں تو بجائے شکر گزاری کے کفر کرنے لگتے ہو
Ayah 6:65

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ Open ayah 6:65 in the Quran reader

(اے پیمبر) کہہ دے اسی کو یہ قدرت ہے کہ اوپر سے تم پر عذاب بھیجے8 یا تمہارے پاؤں کے تلے سے9 یا تم میں (پھوٹ ڈال کر) کئی گروہ کردے اور ایک دوسرے کو لڑائی کا مزہ چکھائے آپس میں ایک دوسرے سے لڑیں10 دیکھ ہم کس طرح پھیر پھیر کر آیتوں کو بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھیں11

ف 8 جیسے بارش طوفان بجلی اولے آندھی وغیرہ حضرت ابن عباس ؓ اوپر کے عذاب سے ظالم حکمران بھی مراد لیتے ہیں۔ ( درمنشو ر) 9 جیسے زلزلہ قحط اور زمین میں دھنسنا وغیرہ10 اور یہ وہ عذاب ہے جس سے مسلمان محفوظ نہ رہے حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ تین چیزوں کی درخواست کی پز اوپر اور نیچے سے عذاب کے متعلق تو اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمالی مگر تیسری دعا کہ میرے امت آپس کے تفرقے اور جنگ وجدال سے محفوظ رہے مگر منظور نہیں فرمائی (مسلم)11 وار اپنی روش سے باز آجائیں، حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں عذاب یہ بھی ہے کہ آپس میں لڑادے اور ایک دوسرے کو قتل یا قید کرے حضرت نے سمجھ لیا کہ یہ اس امت پر بھی ہوگا اکثر عذاب الیم شدید عظیم انہی باتو وں کو فرمایا ہے لیکن ان پر جو کافر ہیں ( از موضح )
Ayah 6:66

وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّ١ؕ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 6:66 in the Quran reader

اور قرآن کو تیری قوم (قریش) نے جھٹلایا (یا اللہ کے عذاب کو) اور وہ سچ ہے (اے پیغمبر) کہہ دے میں تم پر داروغہ ہیں ہوں12

ف 12 بہ کی ضمیر عذاب کی طرف بھی راجع ہوسکتی ہے قرآن یا تصریح آیات کی طرف بھی (رازی) یعنی میرا یہ کام نہیں ہے کہ تمہاری تمہاری تکذیب اور بد تمیزی پور خود عذاب نازل کر دوں نہ میرا کام تو صف یہ ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں نہ ماننے کی وعید پر متنبہ کردو، اس کے بعد عذاب بھیجنا یا نہ بھیجنا اللہ کے اختیار میں ہے اور اسے بچنے کی فکر کرنا تمہارا کام ہے۔
Ayah 6:67

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ١٘ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:67 in the Quran reader

اللہ نے جو خبر دی ہے) ہر خبر کا ایک ٹھہرا ہوا وقت ہے، اور اب تم کو معلوم ہوجائے گا13

ف 13 اس میں کفار کو تہدید ہے۔ (کبیر) یعنی اللہ تعالیٰ کو دی ہوئی خیر غلط نہیں ہوسکتی لیکن اس کا وقت آئے گا تو وہ بھی نازل ہوجائے گا اس وقت تم خود جان لو گے کہ جس چیز سے تمہیں باربار ڈرارہا تھا وہ کہاں تک سچی تھی اس عذاب سے مراد آخرت کا عذاب بھی ہوسکتا ہے اور وہ عذاب بھی جو دنیا میں بصورت حرب و قتال کفار پر آیا، (کذافی الکبیر )
Ayah 6:68

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖ١ؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:68 in the Quran reader

اورر (اے پیمبر) جب تو ان لوگوں کو دیکھے جو ہماری آیتوں کو کریدتے ہیں14 تو ان کے پاس سے سرک جا یہاں تک کہ وہ (اس کو چھوڑ کر دوسری بات میں لگ جائیں15 اور اگر (کبھی) شیطان (یہ نصیحت) تجھ کو بھلا دے تو یاد آئے پیچھے (ایسے) ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو1

ف 14 یعنی ان پر نکتہ چینیاں کرتے ہیں اور الٹے سیدھے معنی پہناکر ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ (قرطبی)15 اس میں اس شخص کے لیے بڑی تنبیہ ہے جو اہل بدعت کی مجلسوں میں بیٹھتا ہے جو کتاب وسنت کو چھوڑ کر اپنی خواہشوں اور بدعتوں کو پیروی کرتے ہیں ایسا شخص اگر ان بدعتوں کو ان حرکات سے باز نہیں رکھ سکتا تو کم سے کم درجہ یہ ہے کہ ان سے میل جول نہ رکھے اور نہ ان کی مجلسوں میں بیٹھے اہل بد عت کی صحبت اس صحبت سے بھی کئی درجہ بدتر ہے جس میں گناہوں کا علانیہ ارتکاب کیا جاتا ہے خصوصا اس شخص کے لیے جو علمی اور زہنی اعتبار سے پختہ نہ ہو۔ ( شوکانی) اہل بد عت کی مجلسوں میں شریک ہونا ان کی توقیر اور حوصلہ افزائی ہے۔ حدیث میں ہے من وقر صاحب بد عتہ فقد اعان علی ھدم الا سلام۔ کہ جس نے کیسی نے بدعتی کی تو قیر کی اس نے اسلام کی عمارت گرانے میں مدد کی۔ ( قر طبی) 1 یعنی جب جہلا دین پر نکتہ چینی کریں تو انکی مجلس سے سرک جاتے اور اگر خطرہ ہو کہ باتو میں مشغول ہو کر وہاں سے سرکنا بھول جاوے گا تو نصیحت کرنے کے وقت کے علاوہ ان میں بیٹھنا موقوف کرد یا جائے ( از موضح)
Ayah 6:69

وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:69 in the Quran reader

اور پرہیز گاروں کو ان لوگوں کا جو (ہماری آیتوں کو کریدتے ہیں) کوئی حساب نہیں دینا ہوگا لیکن نصیحت تو کرنا چاہیے شاید وہ بھی آئندہ اس برے کام سے) بچیں2

ف 2 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب مشرکین کے ساتھ بیٹھنے کی ممانعت ہوگئی تو مسلمانوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ اس قطع تعلق کی صورت میں ہم نہ مسجد میں جاسکتے ہیں اور نہ طواف کرسکتے ہیں اس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ تم ان کے پا بیٹھ سکتے ہو لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ان کو نصحیت کرتے رہو شاید کہ وہ اس قسم کی یا وہ گوئی سے باز آجائیں ( کبیر قرطبی) مگر اس صورت میں بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت سورة نسا انکم اذا مثلھم سے منسوخ ہے (دیکھئے نسا آیت 140) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ یعنی کوئی جانے کہ ایسے جاہلوں کو پاس نصیحت کو بھی نہ بیٹھو تو اپنے اوپر گناہ نہیں ان کے گمراہ رہنے کا لیکن نصیحت بہتر ہے کہ شاید ان کو ڈرہو تو نصیحت والا ثواب پاوے۔ (مو ضح) اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ پرہیز گا اگر ان کی مجلس میں بیٹھ جائیں تو کچھ حرج نہیں ہے لیکن ہم نے اعراض کا جو حکم دیا ہے تو اس کی نصحیت کے پیش نظر کہ شاید تمہارے اعراض کی وجہ سے وہ اس قسم کی بیہودگی سے باز آجائیں واللہ اعلم (ابن کثیر )
Ayah 6:70

وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا١ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:70 in the Quran reader

اور (اے پیمبر) جن لوگوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا لیا ہے3 اور دنیا کی زندگی نے ان کو فریب دے رکھا ہے (دھوکے میں ڈال رکھا ہے) ان کو (ان کے حال پر) چھور دے اور قران کے ذریعے سے نصحیت کرتا رہ ایسا نہ ہو کوئی جان اپنے کیے کے بدلے ہلاکت میں پڑجائے4 اللہ کے سوا نہ اس کا کوئی حمایتی نہ ہو اور نہ سفارشی اور اگر وہ سب طرح کی چھڑایاں (فدیے) دے تو بھی اس کی طرف قبول نہ ہوں یہی ہیں وہ لوگ جو اپنے کیے کے دل آفت میں پھنس گئے (یا ہلاکت میں پڑگئے یا ذلیل و خوار ہوئے) ان کو پینے کے لیے گرم کھولتا پانی ہے اور تکلیف کا عذاب کیونکہ وہ دنیا میں کفر کرتے رہے5

ف 3 کھیل کود اور تماشے ہی کو اپنا دین بنالیا ہے ان کے حال پر چھوڑ دے یعنی ان کی کوئی پر انہ کرو۔ (وحیدی) یا کہ کہ تھو ڑی دیر کے لیے دنیا میں ان کو مہلت دیجئے آخر کار یہ عذاب الیم میں گرفتار ہونے والے ہیں۔ (ابن کثیر)4 یعنی قیامت کے روز اپنے اعمال کی سزا میں گرفتار ہو یا ذلیل ہو۔ (وحیدی) شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ چھوڑ دے یا صحبت نہ رکھ ان سے مگر نصیحت کردی کہ کوئی بیخبر نہ پکڑا جاوے ( موضح) 5 یعنی جن لوگوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے دین کے معاملہ میں کسی احتیاط سے کام نہیں لیتے بلکہ اپنی خواہشوں کے مطابق حلال حرام کو مسئلے بنارکھے ہیں اور اپنے آبا و اجداد کی تقلید کو ہی ذریعہ نجات سمجھ رکھا ہے اور پھر دنیا کی محبت کا ان کے دلوں پر اس قدر تسلط ہے کہ اصل حقیقت کو چھوڑ بیٹھے ہیں ایسے لوگوں پر آخرت میں نجات کے تمام ذرائع مسدود کردئے جائیں گے یعنی نہ ان کا کوئی حمایتی ہوگا اور نہ سفارشی اور نہ ان سے فدیہ قبول کیا جائے گ الغرض ان کی ہلاکت کے سپرد کردیا جائے گا اور کوئی چیز بھی ان سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دفع نہیں کرسکے گی، (رازی)
Ayah 6:71

قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ كَالَّذِی اسْتَهْوَتْهُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَ١۪ لَهٗۤ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَهٗۤ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَا١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:71 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان کافروں سے) کہہ دے کیا ہم اللہ تعالیٰ کے سوا ان کو پکاریں جو ہمارا نہ بھلا کرسکتے ہیں نہ برا کرسکتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ ہم کو (سچی سیدھی) راہ پر لگا چکا تو ہم الٹے پاؤں (کفر کی طرف) لوٹ جائیں6 جیسے کسی کو بہتنے (شیطان غول بیابانی) جنگل میں بہکا کر حیران کردیں (وہ چاروں طرف پھرے) اس کے کچھ ساتھی ہوں جو اس کو راہ پر بلائیں (کہیں) ادھر آ7 (اے پیمبر) کہہ دے اللہ تعالیٰ نے جو راہ بتائی وہی (سیدھی سچی) ہدایت اور حکم کیے گئے ہیں ہم یہ کہ مطبع ہوئیں واسطے پروردگار عالموں کے

ف 6 یعنی توحید کی سیدھی راہ چھوڑ کر پھر شرک میں مبتلا ہوجائیں اگر ہم ایسا کریں تو ہماری مثال ایسی ہوگی آیت سے مقصود بت پرستوں کی تردید ہے اور آیت قل انی نھیت ان اعبد الذین الخ کی تاکید ہے (رازی)7 مگر وہ ان کی کوئی بات نہ سنے اور ان بھتنوں کی بات پر چلتا رہے جس کے نتیجہ میں آخر کار تباہ و برباد ہو (وحیدی) یہ آیت ان مشرکین کے جواب میں نازل ہوئی جنہوں نے مسلمانوں کو شرک کی دعوت دی بعض نے لکھا ہے کہ یہ آیت حضرت عبد الر حمن بن ابی بکر الصدیق کے بارے میں نازل ہوئی جو حضرت بلاتے اور حضرت صدیق ان کو ایمان کی دعوت دیتے، بآ لا خر عبد الر حمن مسلمان ہوگئے مگر علمائے محققین نے لکھا ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے ایک مرتبہ مروان نے اسی آیت کو عبدالر حمن کے بارے میں میں بطور طعن پڑھا تو حضرت عائشہ ؓ نے اس کی پر زور تردید کی اور فرمایا کہ آل ابوبکر کے بارے میں کوئی ایسی آیت نازل نہیں ہوئی جس سے ذم کا پہلو نکلتاہو۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ کی یہ تردید اصح اسناد اواولیٰ بالقبول ہے۔ واللہ اعلم۔ (فتح الباری تفسیر سورت احقاف )
Ayahs 6:72–73

وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:72 in the Quran reader

اور یہ کہ قائم رکھو نماز کو اور ڈرو اس سے اور وہی خدا ہے جس کے سامنے تم (قیامت کے دن) اکٹھے ہوگے

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ یَوْمَ یَقُوْلُ كُنْ فَیَكُوْنُ١ؕ۬ قَوْلُهُ الْحَقُّ١ؕ وَ لَهُ الْمُلْكُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ١ؕ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:73 in the Quran reader

اور وہی خدا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو درستی کے ساتھ پیدا کیا اور جس دن فرمائے گا ہوجا وہ ہوجائے گی (یعنی دفعۃً پھر سب موجود ہوجائیں گے)1 اس کی بات سچی اور جس دن صور (بگل) پھونکا جائے گا اس دن اسی کی بادشاہت ہوگی2 (وہ) غائب اور حاضر اور ظاہر (سب) کا جاننے والا ہے3 اور وہ حکمت والا خبردار4

ف 1 یعنی حشر کے دن جب وہ تمام مردوں کو زندہ کرنا چاہے گا2 یعنی دنیان میں مجازی طور پر جن لوگوں کو بادشاہ کہا جاتا ہے ان کی مجازی بادشاہی بھی اس روز ختم ہوجائے گی لمن الملک الیوم اللہ الو احد القھار۔ (حم السجدہ نیز سورت فاتحہ آیت مالک یوم الدین پہلے ایک صور پھو نکا جائے گا تو گھبرا جائے گی پھر دوبارہ پھونکا جائے گا تو ساری خلقت فناہو جائے گی پھر تیسری بار پھونکا جائے گا تو سب زندہ ہو کر ایک جگہ جمع ہوجائے گی، بعض نے لکھا ہے کہ نفخہ در اصل دوبارہ ہوگا بہلے کو نفخہ فزع یاصعق (فنا) کہا جاتا ہے اور دوسرے کو نفخہ قیام واللہ اعلم (قرطبی، ابن کثیر) ایک شخص کے سوال پر نبی ﷺ نے فرمایا صور ایک نر سنگا ہے ( مسند امام احدمی) دوسری حدیث میں ہے کہ صور اسرافیل اپنے منہ میں لیے اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کر رہے ہیں جس دن انہیں حکم ملے گا وہ اس میں پھونک ماریں گے۔ (مسلم) پس صحیح یہی ہے کہ صور ایک قرن (نر سنگا) ہے اور اہل سنت کا اس پر اجماع ہے۔ ، ( فتح البیان) جو لوکہتے ہیں کہ صور جمع ہے صورۃ کی اور اس سے مراد مخلوق کی صورتیں ہیں تو قرآن و احادیث صحیحہ کی رو سے یو قول مردود ہے مزید تفصیل کے لیے دیکھئے سورت انحل آیت 87) قرطبی)3 یعنی جو بندوں کے اعتبار سے غیب (پوشیدہ اور شہادت حاضر ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کے لیے تو وئی بھی چیز پوشیدہ نہیں ہے سب حاضر ہی حاضر ہے۔ ( وحیدی)4 جو خدا یہ صفات رکھتا ہے وہ اس لائق ہے کہ تم اس کی فرمانبرداری اختیار کرو اسی کے بندے بن کر رہو اور سمجھو کہ تمہیں ہر عمل کا بدلہ پانا ہے۔
Ayah 6:74

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةً١ۚ اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:74 in the Quran reader

اور (اے پیمبر وہ وقت یاد کر) جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا5 کیا تو بتوں کو خدا بناتا ہے (ان کی پوجا کرتا ہے) میں تجھ کو اور تیری قوم کو کھلا گمراہ سمجھتا ہوں

ف 5 اوپر کی آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا بطال کرتے ہوئے مشرکین مکہ کے غلط عقا ئد پر تبقید کی گئی اب شرک کی تردید کے لیے حضرت ابراہیم کا قصہ بطور تائید بیان فرمایا ہے کہ وہ توحید کے سب سے بڑے داعی اور شرک سے بیزار تھے اور مسلمانوں کے سجھایا کہ دیکھو انہوں نے کسی طرح قوم سے علحدگی اختیار کی، مشرکین مکہ حضرت ابراہیم کے دین پر ہونے کے دعویدار تھے جب ابراہیم موحد تھے تو اب شرک کے جواز پر تمہارے پاس کون سی دلیل باقی رہ جاتی ہے حضرت ابراہیم کے قصہ کا ماقبل سے ربط بیان کرتے ہوئے حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اوپر جو فرمایا کہ مسلمان کو چاہیے کہ کافروں سے کہیں کہ ہم دیوانے کی طرح بہکتے نہیں اس پر آگے قصہ فرمایا حضرت ابراہیم کا کہ جب اپنے نزدیک معبود برحق پالیا پھر قوم کے بہکائے نہ بہکے (مو ضح) علمانے انسان کی اکثریت نے حضرت ابراہیم کے والد کا نام آرخ یا تارخ لکھا ہے ممکن ہے آرخ نام اور آزر لقب ہو مجاہد کہتے ہیں کہ آزر ایک بت کا نام تھا شاید اس کی خدمت میں زیادہ رہنے کی وجہ سے خوان کا نام بھی آزر پڑگیا ہو واللہ اعلم ( ابن کثیر )
Ayah 6:75

وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ Open ayah 6:75 in the Quran reader

۔ اور (جیسے ابراہیم کو ہم نے یہ سمجھ دی) اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمان اور زمین کی بڑی چیزیں دکھلانے لگے (تاکہ وہ ان چیزوں سے حق تعالیٰ کے وجود پر دلیل لے)6 اور تاکہ وہ (پورے) یقین والوں میں سے ہوجائے7

ف 6 اور اس سے دلائل دینتا کے مراتب کے طرف اشارہ ہے (رازی) کہ ہم نے ان کو نظام کائنات کا اسرا سمجھا دیئے جو معرفت توحید کی بہت بڑی دلیل ہے واضح رہے کہ یہ رویت بصری نہیں تھی بلکہ رویت بلحاظ بصیرۃ کے تھی جیسا کہ بعد کی تفصیل سے ثابت ہوتا ہے۔7 یعنی انہیں عین الیقین حاصل ہو اور پورے اطمینان قلب کے ساتھ اپنی قوم کو توحید دعوت سے سکیں
Ayahs 6:76–77

فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّیْلُ رَاٰ كَوْكَبًا١ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ Open ayah 6:76 in the Quran reader

جب وہ تارا ڈوب گیا تو کہنے لگا ڈوبنے والوں کو میں پسند نہیں کرتا (خدا ایسا ہونا چاہیے جو ہمیشہ ایک چال میں رہے)

فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 6:77 in the Quran reader

پھر جب چاند کو جگمگاتا ہوا دیکھا کہنے لگا یہ میرا مالک ہے جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہنے لگا اگر میرا مالک (جو اصلی مالک اور سچا خدا ہے) مجھ کو راہ پر نہ لگائے9 تو میں بھی ضرور گمراہ لوگوں میں ہوجاؤں گا

ف 8 حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے اپنی قوم سے یہ بات یا تو تو استفہام انکاری کے لہجہ میں فرمائی یعنی کیا یہ میرا رب ہے یا بطور ایسے مفروضہ کے جو صحیح نہیں ہوسکتا تھا کہ آگے چل دلنشیں طریقہ سے ان کے عقیدہ کی غلطی واضح کی جاسکے کیونکہ وہ لوگ کو اکب (ستاروں) کی پرستش کرتے تھے اور انہیں کو اپنے رب سمجھتے تھے۔ (رازی)9 یعنی سیدھی اور سچی راہ پر قائم رکھے گا۔
Ayah 6:78

فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّیْ هٰذَاۤ اَكْبَرُ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:78 in the Quran reader

پھر جب سورج کو جھلکتا ہوا دیکھا (بہت چمکتا ہوا) کہنے لگا یہ میرا مالک ہے یہ سب سے بڑا ہے پھر جب وہ (بھی) ڈوب گیا تو کہنے لگا بھائیو (میری قوم کے لوگو) میں تو ان چیزوں سے بیزار ہوں (الگ ہوں) جن کو تم (خدا کے ساتھ) شریک مانتے ہو10

ف 10 اب اصل بات کھولی اور اپنا عقیدہ واضح کیا پہلی تمام باتیں صرف اس لیے تھیں کہ یہ جاہل لوگ اصل حقیقت کے قاتل ہوں اور اپنے عقیدہ کی غلطی پر غور کریں۔ (وحیدی) اکثر علمائے تفسیر نے لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے پیدا ہونے کے بعد ان کو ایک غار (سرب) میں ڈال گیا تھا تاکہ بادشاہ قتل نہ کردے اور یہ کوکب قمر اور شمس کا ْقصہ وہیں پیش آیا اور حضرت ابراہیم نے تدریجا اللہ تعالیٰ کی خالقیت اور توحید کی معرفت حاصل کی مگر صحیح یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی یہ ساری گفتگو قوم کے ساتھ مناظرہ کے دوران میں ہے جیسا کہ آخر میں یاقوانی بری مما نشر کون اس پر فددلالت کرتا
Ayah 6:79

اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 6:79 in the Quran reader

میں نے کرلیا جس نے یکسو ہو کر اپنا منہ اس کی طرف کرلیا جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرک نہیں ہوں11

ف 11 س سے منہ موڑ کر کسی اور کے در پر بیٹھ رہنے میں جہالت گمراہی اور دنیا و آخرت کی تباہی کو سوا کچھ نہیں ہے۔
Ayah 6:80

وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِ١ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْئًا١ؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 6:80 in the Quran reader

اور اس کی قوم اس سے بحثنے لگی ابراہیم نے کہا کیا تم اللہ (کی وحدانیت میں) مجھ سے بحثتے ہو وہ تو مجھ کو راہ پر لگا چکا اور جنکو تم اس کا شریک سمجھتے ہو (بتوں اور جھوٹے معبودوں کو) میں ان سے نہیں ڈرتا ہوں ہا اگر میرا مالک کچھ چاہے1 میرے مالک کے علم میں سب چیزیں سما گئی ہیں (اس کا علم سب پر حاوی ہے) کیا تم غور نہیں کرتے2

ف 1 قوم کے ساتھ یہ مناظرہ ہوا تو ان کی قوم نے عقیدہ کی صحت پر بہت سے دلائل پیش کئے مثلا انہوں نے ( انا وجد نا ابائ علی امتہ) کی دلیل پیش کی نیز حضرت ابرہیم ( علیہ السلام) دھمکی دی کہ بت تمہیں آفات وبلیات میں مبتلا کردیں گے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) و قد ھدان سے پہلی لیل کا جواب دیا کہ دلیل یقینی کے مقابلے میں تمہارا دین آبا نے معنی ہے اور انکی دھمکی کے جواب میں فرمایا کہ پروردگار کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اور بات ہے مگر یہ تمہارے بت اور جھوٹے پروردگار میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ (رازی)2 کہ یہ بےجان بت کچھ حقیقت نہیں رکھتے، (ابن کثیر )