6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 6:81

وَ كَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا١ؕ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۘ Open ayah 6:81 in the Quran reader

اور جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں ان سے کیوں ڈرنے لگا حالانکہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان چیزوں کو شریک کرنے سے نہیں ڈرتے جن کی اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نہیں اتاری3 تو (سچ کہو) دونوں طرف والوں میں سے کس کو خاطر جمع رہنا چاہیے اگر تم کو علم ہے4

ف 3 یہ اوپر کی آیت میں دوسرے جواب کا تتمہ ہے یعنی میں تمہارے ان معبودوں سے کیوں ڈروں جبکہ مجھے یقین ہے کہ مجھے کو کوئی نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتے، ڈرناتو تمہیں چاہیے جو بےدلیل اللہ کے ساتھ شریک بناکر ظلم عظیم کا ارتکاب کر رہے ہو۔ (کبیر)4 کیا تم مشرکین جو ان بتوں کے متعلق محض وہم پرستی کی راہ سے یہ سمجھ رہے ہو کہ شاید یہ نفع و نقصان پہنچاسکتے ہیں یا ہم خالص توحید پرست جنہیں یہ یقین اراطمینان حاصل ہے کہ اللہ ہی ہر نفع ونْقصان پر قاد رہے اور اس کے سوا دنیان کی کوئی زندہ یا مردہ ہستی ہمارا ذرہ بھر نقصان نہیں کرسکتی اس امت کے کلمہ پیر پرست بھی اہل توحید سے کہتے ہیں کہ جو شخص بڑئے پیر کی گیارہویں چھوڑدے اس کا بیٹا یا بھینس مرجاتی ہے یا کوئی اور نقصان پہنچ کرجاتا ہے تو ان کا بھی یہی جواب ہے جو حضرت ابراہیم نے فرمایا (سلفیہ بحوالہ فتح )
Ayah 6:82

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠ Open ayah 6:82 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں ظلم (یعنی شرک) نہیں ملایا انہیں کو خاطر جمعی ہے اور وہی راہ پر ہیں5

ف 5 یہ اللہ تعالیٰ کارشاد بھی ہوسکتا ہے اور حضرت ابرہیم ( علیہ السلام) کے قول کی تکمیل بھی، بخاری ومسلم میں حضرت عبد اللہ ؓ بن مسعود سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نال ہوئی تو صحا بہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ ہم میں ایسا کون ہے جس نے اپنے آپ پر ظلم نہ کیا ہو (یعنی کسی گناہ کا ارتکاب نہ کیا ہو) نبی ﷺ نے فرمایا اس کا مطلب وہ نہیں جو تم سمجھ رہے ہو بلکہ ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا تھا ان الشرک لظلم عظیم کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے (بخاری) پس یہ شرک ظلم عظیم ہے خواہ وہ دلائل توحید رب العالمین میں یا رسالت سید المر سلین ﷺ میں (سلفیہ بحوالہ ابن کثیر )
Ayah 6:83

وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:83 in the Quran reader

اور یہ ہماری (بتلائی ہوئی) دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلہ میں6 بتلائی ہم جس کو چاہیں اس کے درجے بلند کردیتے ہیں (اے پیمبر) بیشک تیرا مالک حکمت والا ہے جاننے والا 7

ف 2 اس حجت سے مراد وہ دلائل توحید ہیں جو قوم کے مقابلے میں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے پیش کئے یہ دلائل اللہ تعالیٰ نے قوم کے مقابلہ میں حضرت ابرہیم ( علیہ السلام) کو عطا فرمائے تھے اس سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ باتیں عہد طفولیت کی نہیں ہیں کہ آپ شرک سے درجہ بدرجہ توحید کی طرف بڑھے ہوں کیونکہ اللہ کا نبی معرفت الہی میں کبھی غلطی نہیں کرتا۔ (رازی)7 یعنی چونکہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے اپنی جان کو کوئی پروانہ کی اور اپنے آپ ﷺ کو توحید کی دعوت دینے کے لے وقف کردیا اس لئے ہم نے بھی ان پر بڑے بڑے احسانا فرمائے دنیا ہی میں انہیں یہ انعام دیا کہ نیک اولاد سے نوازار اور ان کے بعد ان کی ذریت میں نبوت اور کتاب اتارنے کا سلسلہ جاری کردیا اور اسی سلسلے کے آخری نبی ﷺ ہیں۔
Ayah 6:84

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ كُلًّا هَدَیْنَا١ۚ وَ نُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 6:84 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم کو (بیٹا) اسحاق اور (پوتا) یعقوب دئیے اور ہر ایک کو راہ پر لگایا8 اور نوح کو تو ہم پہلے ہی (یعنی ابراہیم سے پہلے) راہ پر لگا چکے تھے اور ابراہیم ( یا نوح) کی اولاد میں سے9 (ہم نے) داود اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو راہ پر لگایا اور نیکوں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں

ف 8 یعن حضر ابراہیم ( علیہ السلام) ہی کو را پر لگایا اور نبوت عطاکی، ( دیکھئے سورة مریم آیت 49 (ف 9 ضمیر کا مرجع حضرت نوح ( علیہ السلام) ہیں اسلیے کہ وہ مذکورین سے اقراب ہیں۔ ابن جریر (رح) نے اسی کو اختیار کیا ہے، گویہ ضمیر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی طرف بھی لوٹ سکتی ہے اور سیاق کلام کے پیش نظر بعض نے اسی کو ترجیح دی ہے لیکن اس کے تحت مذکورین میں حضرت لو ط ( علیہ السلام) کی ذریت میں سے نہ تھے مگر ہوسکتا ہے کہ تغلیبا ان کو ذریت قرار دے دیا ہو ( ابن کثیر )
Ayah 6:85

وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 6:85 in the Quran reader

اور زکریا (بن آدن بن بر کیا) اور یحییٰ (بن زکریا) اور عیسیٰ (بن مریم بنت عمران)10 اور الیاس کو بھی11 یہ سب نیک بختوں میں سے تھے

ف 10 حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو حضرت ابرہیم ( علیہ السلام) یا دوسرے قول کے مطابق حضرت نوح ( علیہ السلام) کی ذریت میں شمار کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ لڑکیوں کی اولاد بھی آدمی کی ذریت میں شمار ہوتی ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کی نسبت صرف ماں کی طرف ہے ان کا باپ نہیں تھا، ( ابن کثیر )
Ayah 6:86

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا١ؕ وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:86 in the Quran reader

اور اسمعیل (بن ابراہیم) اور الیسع12 اور یونس (بن متی) اور لوط (بن ہاران) کو بھی اور ان سب کو ہم نے بزرگی دی سارے جہان پر13

ف 11 حضرت الیاس ( علیہ السلام) حضرت ہارون ( علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے، انجیل میں ان کا نام ایلیا مذکور ہے واللہ اعلم، (المنار)12 یعنی اخطوب بن عجوز جو انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے اور حضرت الیاس ( علیہ السلام) کے خلیفہ تھے۔ (المنار13 یعنی اپنے اپنے زمانہ کے تمام لوگوں پر ( وحیدی )
Ayahs 6:87–88

وَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْ١ۚ وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:87 in the Quran reader

اور (نہ صرف ان کو راہ پر لگایا اور بزرگی دی بلکہ) ان کے بعضے باپ دادوں کو اور اولاد کو اور بھائیوں کو بھی اور ہم نے ان کو چن لیا اور ان کو سیدھی راہ بتلائی

ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:88 in the Quran reader

یہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس کو سوجھائے اور اگر وہ لوگ شرک کرتے تو ان کا کیا کرایا (سب) اکارت ہوتا1

ف 1 یعنی بفرض محال اگر نبی ہو کر بھی شرک کر بیٹھے تو ان کا کیا کرایا سب اکارت ہوتا کیونکہ شرک کے ساتھ کوئی بڑے سے بڑا عمل بھی عمل قبول نہیں ہوتا۔ (وحیدی)
Ayah 6:89

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ١ۚ فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ Open ayah 6:89 in the Quran reader

انہی لوگوں کو (پیغمبروں کو) ہم نے کتاب دی اور شریعت اور پیغمبری دی اگر یہ لوگ (یعنی قریش کے کافر مکہ والے) ان چیزوں کو2 نہ مانیں (تو کچھ پرواہ نہیں ہم نے ان (پر ایمان لانے) کیلئے ایسے لوگوں کا تیار کردیا ہے جو ان کا انکار نہیں کرتے3

ف 2 یعنی کتاب شریعت اور نبوت کو اور یہ بھی ترجمہ ہوسکتا ہے کہ اگر اس یعنی نبوت کو نہ مانیں ( ابن کثیر)2 یعنی اہل مدینہ اور انصار اس کی یہ تفسیر حضرت ابن عباس سے منقول ہے (شوکانی) یا مہاجرین اور انصار اور قیامت تک جتنے بھی ان کے اتباع ہوں گے یعنی وہ ان نعمتوں کا انکار نہیں کرتے بلکہ پوری کتاب پر ایمان لاتے ہیں۔ (ابن کثیر )
Ayah 6:90

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 6:90 in the Quran reader

یہی (اٹھارہ پیغمبر) وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ راہ پر لگایا تو بھی انہیں کی راہ پر چل4 (اے پیمبر) کہہ دے میں قرآن سنانے پر (یا اللہ کے حکم پہنچانے پر) تم سے کچھ اجرت (مزدوری) نہیں مانگتا قرآن تو اور کچھ نہیں سارے جہان کے لیے نصیحت ہے5

ف 4 یعنی توحید اور اصول عقائد میں ان کی راہ پر قائم رہیے کیونکہ تمام انبیا باتوں میں متفق ہیں یا مطلب یہ ہے کہ ان کی طرح آپ بھی دشمنوں کی ایذا رسانی پر صبر کریں (وحیدی) اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے جن امور میں کوئی نیاحکم نہیں آیا ان میں نبی ﷺ کو پہلے انبیا ہی رہنے کا حکم تھا، بخاری کی ایک روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اس لیے نبی ﷺ نے سورة ص میں سجدہ فرمایا کیونکہ جس مقام پر یہ سجدہ ہے وہاں حضرت داود کے سجدہ کرنے کا ذکر ہے۔ ( شوکانی) 5 اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ ثقلین ( جن وانس) کی طرف مبعوث ہیں اور آپ کی رسالت قیامت تک کے لیے ہے۔ (وحیدی )
Ayah 6:91

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًا١ۚ وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 6:91 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے6 اللہ کو جیسا پہچاننا چاہیے تھا ویسا نہیں پہچانا جب تو (ضد سے) کہنے لگے اللہ تعالیٰ نے کسی آدمی پر کچھ نہیں اتارا 6 (اے پیمبر) کہہ دے جس کتاب کو موسیٰ لے کر آئے تھے اس میں لوگوں کے لیے روشنی اور ہدایت تھی اس کو کس نے اتارا تھا تم نے اس کے کوئی ورق (الگ الگ) بنا رکھے ہیں جن کو تم بتلاتے ہو اور بہت سے چھپا رکھتے ہو7 اور تم کو (قرآن کی طفیل میں) وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے اور ہن تمہارے باپ داد8 (اے پیمبر) کہہ دے اللہ ہی نے (وہ کتاب اتاری تھی) پھر ان کو اپنی غلط باتوں میں کھیلنے دے10

ف 6 حضرت ابن عباس اور بعض دیگر تابیعن نے کہا ہے کہ اس سے قریش مراد ہیں جو کہ رسالت کے منکر تھے۔ (ابن کثیر) بعض نے گزشتہ سلسلئہ کلام اور بعد کی جوابی تقریر کو قرینیہ بناکرلکھا ہے کہ یہ علمائے یہود کا دعویٰ تھا جسے کفار قریش دلیل بناکر ﷺ کی نبوت سے انکار کیا کرتے تھے یہودی پڑھے لکھے تھے اور ان کے پاس گزشتہ انبیا کا علم بھی تھا اس لیے کفار قریش نبی ﷺ کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے اکثر ان کی طرف رجوع کیا کرتے تھے معلوم ہوتا ہے کہ کسی ایسے ہی موقع پر انہوں نے یہ بات کفار قریش سے بطور جواب کہی اور ضد اروہٹ دھرمی میں اندھے ہوکریہ بھی بھول گئے کہ اس کی زد کا براہ راست ان سے خطاب کر کے جواب دیا ہے (ملخص المنار) مگر ابن جریر نے پہلے قول کو پسند کیا ہے اور حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے، ولاول اضح باقی رہا قل من انزل الکتاب الذی۔۔ الخ تو یہ بھی قریش پر الزام ہے کیونکہ وہ موسیٰ ( علیہ السلام) کی رسالت کے قائل تھے اور پھر صمنا یہود سے خطاب ہے۔ ( ابن کثیر)7 یعنی تم نے توارۃ کے الگ الگ حصے بنا رکھے ہیں جو حصہ تمہارے مطلب کا ہے اسے تو ظاہر کرتے ہو اور جو حصہ تمہارے خود ساختہ عقائد اور من مانی کاروائیوں کے خلاف پڑتا ہے جسے رجم کا مسئلہ اور انبی ﷺ سے متعلق آیات) اسے چھپاتے ہو،8 یعنی بہت سے احکام اور قصے اور بہت سے شریعت کے مسئلے اور حکمت کی باتیں جن کا توراۃ میں ذکر نہیں تھا۔ (کذافی الوحیدی) یا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ توراۃ کے ذریعے تمہیں وہ کچھ سکھا یا گیا جس کا تمہیں اور تمہارے باپ دادا کو کوئی علم نہ تھا اس صورت میں یہ تورات کی تیسری صفت ہوگی (کبیر)9 اس کے یہی معنی حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہیں۔ ( ابن کثیر)10 یعنی پڑے بک بک کرتے رہیں اور بچوں کی طرح اپنے کفریت سے کھیلتے رہیں۔ (وحیدی) عنقریب مرنے کے بعد ان پر ساری حقیقت کھل جائے گی، ( ابن کثیر )
Ayah 6:92

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ Open ayah 6:92 in the Quran reader

اور (جیسے توریت کو ہم نے اتارا اسی طرح) یہ کتاب (بھی یعنی قرآن) ہم نے اتاری برکت والی11 اگلی کتابوں کو سچ بتانے والی اس لیے کہ تو مکہ اور اس کے گردا گرد (تمام جہان کے) لوگوں کو ڈرائے12 اور جو لوگ آخرت کا یقین رکھتے ہیں وہ قران شریف پر (بھی ضرور) ایمان لائیں گے13 اور وہ اپنی نماز کا (بھی ضرور) خیال رکھیں گے14

ف 11 کیونکہ دنیا اور آخرت کی سعادت تہذیب اخلاقی اور تزکیہ نفس میں ہے اور ان دونوں کا بیان قرآن میں جس جامعیت کے ساتھ ملتا ہے کسی دوسری کتاب میں نہیں پایا جاتا ہے (رازی)12 اس آیت میں مکہ معظمہ کو ام القری فرمایا گیا ہے جس کی معنی ہیں تمام بستیوں کی جڑیا ان کا مرجع (کذافی الموضح) اور من حولھا سے مراد قبائل عرب ارسارے طوائف بنی آدم ہیں کیا عرب اور کیا عجم حدیث میں ہے وبعثٹ الی الناس عامتہ کی میں تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔ ( دیکھئے آیت 19 نیز اعراف، 158)13 کیونکہ قرآن مجید آخرت ہی کو درست کرنے کی راہ بتلارہا ہے (وحیدی)14 کیونکہ تمام تمام عبادتوں کی اصل اور آخرت میں کامیابی کی کنجی ہے۔ (وحیدی)
Ayah 6:93

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَ لَمْ یُوْحَ اِلَیْهِ شَیْءٌ وَّ مَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَاسِطُوْۤا اَیْدِیْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 6:93 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے (پیغمبر نہ ہو اور پیغمبری کا دعوے کرے) یا یوں کہے کہ مجھ پر (اللہ کی طرف سے) وحی آئی اور اس پر کوئی وحی نہ آئی ہو1 اور (اسی طرح اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا) جو کہے میں بھی ایسا ہی (قرآن اتار دوں گا2 جیسے اللہ نے اتارا کاش تو ان ظالموں کو اس وقت دیکھے جب موت کی سختیوں (سکرات) میں پڑے ہوں اور فرشتے اپنے ہاتھ پھیلائے (کہہ رہے ہوں) اپنی جانیں نکالو3 آج تم کو ذلت کے عذاب کی سزا ملے گی4 اس لیے کہ تم خدا پر جھوٹ بولتے تھے5 اور تم اس کی آیتوں پر اکڑ جاتے تھے6

ف 1 قرآن کی منزل من اللہ ہونے کو بیان کرنے کے بعد اب نبوت کا جھوٹا دعوی کرنے والوں کے حق میں وعید فرمائی اور اس وعید میں تین باتیں بیان فرمائی ہیں (رازی) آنحضرت ﷺ تو صادق اور امین تھے پھر آپ غلط طور پر نبوت کا دعوی کیسے کرسکتے ہیں۔ اس قسم کا غلط دعوی اگر کوئی شخص کرسکتا ہے تو وہی جو پر لے درجے کا جھوٹا ہے مکار ہو اور اس کا اللہ وآخرت پر ذرہ بھر ایمان نہ ہو جیسے مسیلمہ کذاب اسود عنی سجاح اور دوسرے سارے جھوٹے مدعیان نبوت2 یہ تیسری چیز ہے جیسے اس زمانے میں بعض کفار قریش نضر بن حارث) نے کہا تھا لو نشا لقلنا مثل ھذا سورت انفال 31) اسی طرح مسیلمہ کذاب نے بھی معارضہ کا دعوی کیا تھا مگر قرآن کے باربار چیلنج کرنے کے باوجود قرآن جیسی ایک آیت بھی بناکر پیش نہ کرسکے (ابن کثیر)3 اور انہیں ہمارے حوالے کرو کہ سزا دیں یا انہیں موت کی سختیوں اور عذاب سے تو بچاکر دکھا و (فتح القدیر) آج سے مراد وہ دن ہے جس میں ان پر عذاب قبر کی ابتدا ہوگی اس آیت میں عذاب کی طرف صاف اشارہ ہے (وحیدی)5 یعنی اللہ کے شریک بناتے تھے، (وحیدی)6 اور اس کے بھیجے ہو رسول اور اتاری ہوئی کتاب پر ایمان لانے کو بیوقوفی تصور کرتے تھے
Ayah 6:94

وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ١ۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِیْكُمْ شُرَكٰٓؤُا١ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۠ Open ayah 6:94 in the Quran reader

اور (ہم قیامت کے دن کافروں سے کہیں گے) تم تو اکیلے اکیلے ہمارے پاس آئے جیسے پہلے ہم نے تم کو (دنیا میں) پیدا کیا تھا اور جو (سامان) ہم نے (دنیا میں) تم کو (دنیا میں) تم کو دیا تھا وہ (سب) اپنی پیٹھ پیچھے (دنیا ہی میں) چھوڑ آئے7 اور تمہارے سفارشی (جھوٹے معبود) تو ہم کو تمہارے ساتھ نظر نہیں آتے جن کو تم اپنے کاموں میں (ہمارا) شریک سمجھتے تھے8 اب تمہارے آپس کے (سب) رشتے (اور تعلق) کٹ گئے اور جو تم سمجھتے تھے وہ (سب) گیا گزرا (کوئی تمہارے کچھ بھی کام نہ آیا)

ف 7 اس میں سے کچھ بھی اپنے ساتھ نہ لائے اور انہ وہ تمہارے کسی کام آیا۔ (وحیدی)8 اور کہتے تھے کہ جس طرح اللہ اس بات کا حقدار ہے کہ ہم اس کی عبادت کریں یہ بھی حق رکھتے ہیں یہ بات ان سے تقریع اور توبیخ کے طور پر کہی جائے گی ( ابن کثیر )
Ayah 6:95

اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰى١ؕ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 6:95 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ ہی دانے اور گٹھلی کا پھاڑنے والا ہے9 زندے کو مردے سے نکالتا ہے اور مردے کو زندے سے نکالنے والاف 10 یہی تو تمہارا خدا ہے پھر تم کیسے پھرے جاتے ہو11

ف 9 یعنی جب وہ پھٹتے ہیں تو ان سے ہرے بھرے کھیت اور درخت اگتے ہیں۔ (کذافی الوحیدی) توحید ونبوت اور اس کی بعض تفریعات پر بحث کے بعد اب دوبارہ سانع حکیم کے وجود کا اثبات اور اس کے کمال علم وقدرت کا بیان شرع کیا ہے جو اس سورت کا اصل موضوع ہے۔ (رازی)10 جیسے جاندار کو نطفہ سے اور نطفہ ی افضلہ کو جاندار سے سرسبز لہلہاتی کھیتی کو خشک دانے سے اور خشک دانے کو سرسبز لہلہلاتی کھیتی سے پیدا کرتا ہے۔11 سچے خدائے پاک وبر تر کو چھوڑکر اور روں کو اپنا معبود بناتے ہو۔
Ayah 6:96

فَالِقُ الْاِصْبَاحِ١ۚ وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَكَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 6:96 in the Quran reader

صبح کی روشنی (پو) پھوڑنے والا اور رات کو اس نے آرام کے لیے اور سورج اور چاند کو حساب کے لیے بنایا12 یہ زبردست علم والے خدا کا باندھا ہوا اندازہ ہے13

ف 12 یا حساب سے بنایا پہلے ترجمہ کے لحاظ سے لوگوں کو دن مہینے اور سنہ معلوم ہوتے ہیں کہ او انہی کے مطابق وہ اپنے تمام کام سرانجام دیتے ہیں دوسرے ترجمہ کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ چاند اور سورج اپنے، مقرر اوقات پر درہ کرتے ہیں حساب سے چلتے ہیں نہ وقت سے پہلے طلوع ہوتے ہیں اور نہ وقت سے پہلے غروب ہوتے ہیں۔ (وحیدی) یعنی رات دن اور چاند سورج کا یہ نظام اس زبر دست خدا کا انتظام ہے جس کا علم آسمان و زمین کے ذرہ ذرہ پر محیط عموما قرآن میں لیل ونہار اور وشمش وقمر کی خلق اور تسخیر کو اسمائے حسنی ٰ میں سے ان دو صفاتی ناموں کے ساتھ ختم کیا گیا ہے۔ (ابن کثیر )
Ayah 6:97

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:97 in the Quran reader

اور اسی (خدا) نے تمہارے لیے تارے بنائے کہ جنگل اور دریا کے اندھیروں میں (رات کو) ان سے راہ کا پتہ لگا لو1 جو لوگ علم رکھتے ہیں ان کے لیے ہم نے کھول کر نشانیاں بیان کردی ہیں

ف 1 یہ تاروں کا ایک فائدہ ہے دوسری آیت میں تاروں کو آسمان کے لے زینت اور شیطان کے لیے سنگساری (رجوم) کا سامان فرمایا ہے (دیکھئے سورت الصافات آیت 16 سورت ملک بعض سلف کا قول ہے کہ جو شخص ان تین فائدوں کے علاوہ کواکب کے متعلق اور کسی قسم کا عقیدہ رکھتا ہے وہ غلطی پر ہے اور اللہ تعالیٰ پر بہتان بابدھتا ہے۔ (ابن کثیر )
Ayah 6:98

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ Open ayah 6:98 in the Quran reader

اور اسی (خدا) نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا (یعنی حضرت آدم سے) پھر (تمہارے لیے) ایک ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک سونپے جانے کی2 جو لوگ سمجھ رکھتے ہیں ان کے لیے ہم نے کھول کر نشانیاں بیان کردی ہیں3

ف 2 ٹھہر ن کی جگہ یعنی ماں کا رحم اور ایک سونپے جانے کی یعنی باپ کی پشت حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ اور مفسرین کی ایک جماعت سے اس کے برعکس بھی منقول ہے یعنی مستقر باپ کی پشت) اور مستودع (ماں کا رحکم) بعض نے ان سے دنیا اور آخرت ی اقبر بھی مراد لی ہے مگر حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں پہلا قول زیادہ واضح ہے شاہ صاحب لکھتے ہیں اول ماں کے پیٹ میں سپرد ہوتا ہے تاکہ آہستہ آہستہ دنیا میں رہنے کی صلاحیت پیدا کرے پھر دنیا میں آکر ٹھہر تا ہے پھر سپرد ہوگی قبر میں تاکہ آہستہ آہستہ آخرت کا اثر قبول کرسکے پھر جا ٹھہرے گا جنت یا دوزخ میں ( مو ضح) 3 اوپر دلائل آفاقی بیان فرمائے ہیں اور اس آیت میں دلائل نفسی کی طرف اشارہ ہے اور دلائل آفاقی سے دلائل انفسی کا سمجھنا ذرا زیادہ غور کا محتاج ہے اس لئے یہاں سمجھ کا لفظ فرمایا ہے اور اول کے متعلق علم کا واللہ اعلم (وحیدی)4 یعنی ہر قسم کی نبا تات۔ ، (فتح لقدیر)
Ayah 6:99

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا١ۚ وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:99 in the Quran reader

اور اسی (خدا) نے آسمان سے پانی برسایا پھر اسی پانی سے ہم نے ہر چیز کے مول کے (یا کھوئے یا انک ہوئے یا سوئے) نکالے4 پھر اس میں ہری ہری کونپلیں (شاخیں) نکالیں ان سے ہم گتھے ہوئے (جڑے ہوئے) دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے گابھے میں سے گھچے (زمین پر) لٹکے ہوئے (یا جھجھکے ہوئے) اور انگور کے باغ اور زیتون اور انار جو ایک دوسرے سے (صورت میں) ملتے ہیں اور (مزے میں) نہیں ملتے5 ان چیزوں کے پھل دیکھو جب یہ پھلیں اور ان کا پکنا دیکھو6 بیشک ان چیزوں میں ایمان والوں کے لیے نشانیاں ہیں

ف 5 یا ایک کے پتے دوسروں کے پتوں سے ملتے ہیں مگر پھل نہیں ملتے۔ (وحیدی)6 یہ محل استدلال کہے اور یہاں پر اس آیت سے مقصد استدلال کپورا ہوجاتا ہے (رازی) ایک پھل کی پہلے کونپل نکلتی ہے پھر وہ کچا پھل بنتا ہے پھر اس کا رنگ بدلتا جاتا ہے اور وہ برا بھی ہوتا جاتا ہے (وحیدی )
Ayah 6:100

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَصِفُوْنَ۠ Open ayah 6:100 in the Quran reader

اور ان مشرکوں نے جنوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا7 حالانکہ اللہ ہی نے جنوں کو پیدا کیا8 اور ان لوگوں نے نادانی سے اللہ کے لیے بیٹوں اور بیٹیوں کو تراش لیا وہ ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں پاک اور برتر ہے

ف 7 اوپر کی آیات میں جب اپنی الوہیت کے ثبوت میں علم علوی اور عالم سفلی سے براہین خمسہ ذکر فرمادیں تو اب بتایا کہ بعض فرقے ایسے بھی تھے جو اور واح خبیثہ اور جنات کی پرستش کرتے اور مصیبت کے وقت ان کے نام کی رہائی دیتے اور کائنات میں ان لا تصرف مانتے تھے ان سب کی اس آیت میں تردید فرمائی کہ بےسمجھ انہوں نے جنوں کو اللہ تعال کا شریک ٹھہرا لیا اور اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں گھڑلیں چناچہ مشرکین عرب ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹاں کہا کرتے تھے، فرمایا اللہ تعالیٰ ان گھڑی ہوئی باتوں سے پاک ہے بعض سلف نے فرمایا کہ یہ آیت ان بےدینیوں مجوسیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو اللہ تعالیٰ کو انسانوں، جانوروں چوپایوں اور ہر قسم کے خیرات کا اور شیطان (ابلیس کو درندوں سانپوں اور ہر قسم کے شر ور کا خال قرار دیتے تھے (وحیدی وغیرہ) یہ قول حضرت ابن عباس کا ہے اور مجوس کو زنا دقہ فرمایا ہے امام رازی لکھتے ہیں کہ زیر نظر آیت کو مذکورہ توحیات میں سے یہ توجیہ بہترین (کبیر ٌ8 پھر مخلوق کو خالق کا شریک ٹھہرانا سراسر حماقت ارجہالت نہیں ہے تو کیا ہے۔
Ayah 6:101

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَنّٰى یَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ١ؕ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 6:101 in the Quran reader

وہ آسمانوں کا اور زمین کا انوکھا پیدا کرنے والا ہے9 اس کی اولاد (بیٹا یا بیٹی) کہاں سے ہوگی جب کہ اس کی کوئی جورو نہیں ہے10 اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے

ف 9 یعن ان کا پہلے کوئی نمونہ موجود نہ تھا اس نے ان کو ایجاد فرمایا مشرکین کی تردید کے بعد ان کی تردید کی ہے جو اللہ تعالیٰ کی اولاد مانتے تھے۔ (رازی)10 اور بیٹا وہی ہوتا ہے جو بیوی کو ذریعے پیدا ہو اور اگر کسی کو بیوی کے بغیر بنایا جائے تو وہ مخلوق ہوتا ہے نہ بیٹا جیسا کہ آسمان زمین کی پیدائش یا آدم ( علیہ السلام) کی خلق (رازی )
Ayah 6:102

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْهُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 6:102 in the Quran reader

یہی اللہ تعالیٰ تمہارا مالک ہے اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے وہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اسی کو پوجو11 اور وہی ہر چیز کا نگہبان ہے

ف 11 یعنی صرف اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کرو اور اس کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہوئے یقین رکھو کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہی ہر چیز کا خالق حفیظ رقیب اور بڑارازق ہے (ترجمان )
Ayahs 6:103–104

لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١٘ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ١ۚ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:103 in the Quran reader

آنکھیں اس کو نہیں دیکھ سکتیں اور وہ آنکھوں کو دیکھتا ہے اور وہ مہربان ہے (یا لطیف ہے، کثیف نہیں)

قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 6:104 in the Quran reader

خبردار1 تمہارے مالک کی طرف سے تم کو دل کی آنکھیں (دلیلیں) پہنچ چکیں (جو اللہ تعالیٰ نے اوپر بیان کیں اب جو کوئی دیکھے2 تو اپنا ہی فائدہ کرے گا اور جو اندھا بن جائے3 تو اپنا ہی برا کرے گا اور میں تم پر داروغہ (کڑوڑی) نہیں ہوں4

ف 1 یعنی آنکھ میں یہ قوت نہیں ہے کہ اس کو دیکھ لے مگر جو وہ آپ کو دکھادے اس واسطے کے لطیف ہے (مو ضح) متعدد احادیث میں ہے کہ قیامت کے دن مومنین کو اللہ تعالیٰ کو دیدار نصیب ہوگا، چناچہ یہ اہل سنت و حدیث کا متفقہ عقیدہ ہے بعض سلف نے لکھا ہے کہ ادراک کے معنی کسی چیز کی حقیقت کو پالینے کے ہیں اور رو یت کے معنی آنکھ سے دیکھنے کے پس ادراک اخص ہے اور رویت اعم اور اعم کے نفی سے اخص کی نفی لاز م نہیں آتی مطلب یہ ہے کہ آیت میں ادراک کی نفی ہے لہذا دنیا رویت ہوسکتی ہے جیسا کہ آخرت میں ہوگی حضرت عائشہ ؓ آنحضرت کے لیے رویت کی نفی کرتی تھیں اور ان کے استدلال کی بنیاد بھی اسی آیت پر تھی جو قرب الی الصواب معلوم ہوتا ہے مگر حضرت ابن عباس ؓ رویت کے قائل تھے اور کبھی وہ یہ بھی فرماتے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے دل کی آنکھ سے دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے (ابن کثیر) مزید دیکھئے سورة النجم (آیت 11 ۔ 13)2 یعنی غور وفکر کر کے ایمان لائے،3 یعنی ان دلیلوں پر غور نہ کرے اور ایمان نہ لائے۔4 کہ تمہیں تمہارے چاہینے یا نہ چاہنے کے باوجود سیدھی راہ پر ڈال سکوں ہدایت دینا یا نہ دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے میرا کام تو یہ ہے کہ بندوں تک اس کا پیغام پہنچا دوں سو وہ پہنچا رہا ہوں
Ayah 6:105

وَ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَ لِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَ لِنُبَیِّنَهٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:105 in the Quran reader

اور ہم اسی طرح آیتوں پھیر پھیر کر لاتے ہیں5 اور اس لیے کہ وہ کہیں (تو ان پڑھ نہیں ہے بلکہ) تو پڑھا ہوا ہے6 اور اس لیے کہ جو لوگ علم والے ہیں ان کو صاف سمجھا دیں7 ۔

ف 5 یہاں تک الوہیت میں آنحضرت ﷺ کی نبوت پر شبہات کو بیان کیا ہے کبھی مومنوں کو خوش خبری کبھی کافروں کو تنبیہ کبھی گزشتہ قوموں کے وقعات کے ذریعے نصیحت اور کبھی اوامر ونواہی کا بیان تاکہ جو لگ عقل و فہم رکھتے ہیں وہ ان کے ذریعے راہ ہدایت پائیں اور مخالفین پر حجت قائم ہو6 یعنی ہم تصرف آیات یعنی پھیر پھیر کر اس لیے بیان فرماتے ہیں کہ اگر ایک طرف آیات کے ذریعہ عقل وفہم والے راہ ہدایت پائیں گے تو دوسری طرف ضدی اور آباو اجداد کے رسم وراج سے چمٹے رہنے والے کا فرو مشرک آپ ﷺ سے یہ کہہ کر کمر ہوں گے کہ یہ قرآن جسے تم ہمارے سامنے بڑھ رہے ہو تم پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل نہیں ہوا بلکہ تم نے اسے کسی سے سیکھ لیا، ہے مشرکین اس قسم کے کئی اقوال دوسری آیات میں مذکور ہیں۔ (رازی قرطبی) 7 آیتوں کے بھیربھیر کر بیان کرنے کی پہلی حکمت یہ بیان کی ہے کفار اور معاند یہ کہیں کہ تم نے کسی سے یہ ْقرآن بذریعہ مذاکرہ اور مدارسہ سیکھ کر جمع کرلیا ہے تاکہ اس طرح زیادہ گمراہوں، اب یہاں دوسری حکمت بیان کی تاکہ اہل علم کے لیے بیان اور فہم حاصل ہو۔ (رازی)
Ayah 6:106

اِتَّبِعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:106 in the Quran reader

جو تیرے مالک نے تجھ کو حکم بھیجا اس پر چل اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور مشرکوں کا خیال چھوڑ دے8 ۔

ف 8 یعنی ان کے اس قسم کے لیے بنیاد سے متاثر ہو کر دعوت وتبلغ کر ترک نہ کرو اس سے مقصد آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا ہے۔ (کبیر )
Ayah 6:107

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكُوْا١ؕ وَ مَا جَعَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 6:107 in the Quran reader

اور اگر اللہ تعا الیٰ چاہتا تو وہ شرک نہ کرتے (بلکہ سب ایمان لاتے)9 اور ہم نے تجھ کو ان پر داروغہ نہیں کیا اور نہ تو ان کا پاسبان ہے (ان پر تعینات ہے کہ وہ بھٹکنے نہ پائیں۔

ف 9 یعنی آپ ﷺ ان کی حماقتوں اور کفر سے متاثر نہ ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے اندر ایمان وکفر دونوں کی استعداد رکھی ہے اور اس سے ان کا امتحان مقصود ہے کہ شکر گزار بنتے ہیں یا کفر اختیار کرتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کو فرشتوں کی طرح بھی بنا سکتا تھا کہ فطری طور پر مومن اور تابعدار ہیں لیکن یہ اسکی حکمت کے خلاف تھا
Ayah 6:108

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ١۪ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:108 in the Quran reader

اور (اے مسلمانو) یہ مشرک اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں ان کو (یعنی بتوں کو) برا مت کہو نہیں تو وہ اللہ کو نادانی سے اور گدھے پن سے برا کہنے لگیں گے10 (جیسے ہم نے ان مشرکوں کو انکی دانست میں ان کے عمل اچھے کردئیے ہیں و سمجھتے ہیں کہ ہم اچھے کام کر رہے ہیں11 ایسے ہم ہم نے ہر فقرے کے کاموں کو ان کے نزدیک بھلا کردیا ہے پھر ان سب کو اپنے مالک کے پاس لوٹ کر جانا ہے وہ ان کو جتا دے گا جو کرتے تھے برا یا بھلا ویسا ہی بدلہ دے کر

ف 10 اور تم اس کا سبب بنو ایک جائز کام اگر کسی بڑی خرابی کا ذریعہ بنتا ہو تو اسے چھوڑدینا ضروری ہے11 یعنی انسان کی فطرت ہی ایسی بنائی ہے کہ ہو اپنے ہر کام کو چاہے وہ فی نفسہ اچھا ہو یا برا اچھا ہی سمجھتا ہے لین اس میں غور و فکر کی صلاحیت بھی رکھی ہے کہ برے کام کو پوری آزادی ہے چھو ڑکر نیک راستہ اختیار کرسکتا ہے۔
Ayah 6:109

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ مَا یُشْعِرُكُمْ١ۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:109 in the Quran reader

اور یہ مکہ کے کافر سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر تو ان کے پاس ایک نشانی لے کر آئے12 تو ہو ضرور اس پر ایمان لائیں گے اے پیمبر کہہ دے نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں اسی کے اختیار میں ہیں اور اے مسلمانو تم کیا جانو شاید جب یہ نشانیاں آئیں تو یہ ایمان لائیں یا نہ لائیں13

ف 12 جیسے صفا کی پہاڑی کو سونے کا بنا دینادیا جائے13 یا یہ ایمان نہ لائیں گے، کیونکہ ان مقصد حق کی تلاش و جستجو نہیں بلکہ محض دل لگی ہے
Ayah 6:110

وَ نُقَلِّبُ اَفْئِدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ۠ Open ayah 6:110 in the Quran reader

اور ہم ان کے دل اور آنکھیں الٹ دیں گے جیسے پہلی بار نشانی پر ایمان نہیں لائے14 اور ہم ان کو ان کی شرارت میں بہکتا چھوڑ دیں گے15

ف 14 یعنی جیسا کہ انہوں نے پہلی دفعہ چاند کے پھٹ جانے کی عظیم الشان نشانی دیکھی اور وہ ایمان نہیں لائے بہ کی ضمیر کامر جع آنحضرت ﷺ ہیں یا پھر قرآن۔15 یعنی جن کو اللہ تعالیٰ ہدایت دیتا ہے وہ پہلی دفعہ ہی حق کی بات سن کر انصاف سے قبول کرتے ہیں اور جس شخص نے پہلے ہی ضد سے یہ ٹھان رکھی ہے کہ زمانے کا ہی نہیں وہ معجزہ دیکھر کر بھی کچھ حیلہ بنالیتا ہے مثلا فرعون نے کتنے ہی معجزے دیکھے پر وہ ایمان نہ لایا۔ (از موضح)
Ayah 6:111

وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ Open ayah 6:111 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر (آسمان سے) فرشتے اریں اور مردے ان سے بات کریں اور ہر چیز کو ہر نشانی کو جو وہ چاہتے ہیں اور ہر جاندار کو ان کے سامنے لا کر اکٹھا کردیں1 جب بھی وہ ایمان لانے والے نہیں مگر اللہ تعالیٰ چاہے تو وہ اور بات ہے لیکن ان میں سے اکثر نادان ہیں2

ف 1 اوپر آیت وما یشعر کم انھا اذا جات لایو منو ن الخ میں جو مجملا بیان ہوا ہے یہاں اسی کی تفصیل ہے (رازی) یعنی اگر ہم نے کے تمام مطالبات پورے کردیں جیسے فرشتوں کو نازل کرنا اور مردوں کا کلام کرنا وغیرہ بلک مزید بر آں ہر چیز گروہ در گروہ یا آمنے سامنے لاکھڑی کردیں تو پھر بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے،2 کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر کے ساتھ ہے۔
Ayah 6:112

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:112 in the Quran reader

اور اے پیمبر جس طرح مکہ کے کافر تیرے دشمن ہیں ہم نے اسی طرح شریر آدمیوں اور جنوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنایا3 (اس لیے کہ) ایک دوسرے کو ملمع دار باتیں فریب کے لیے سکھائیں4 اور اگر تیرا مالک چاہتا تو وہ کافر یا یہ یشطان ایسے کام نہ کرتے5 تو انکو اور ان کے بہتانوں چھور دے6

ف 3 ای جعلنا الک عدوا کما جعلنا من الا نبیا) لہذا آپ ﷺ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ جس طرح پہلے انبیا شریر دشمنوں کے مقابلہ میں صبر و استقامت سے کام لیا آپ ﷺ بھی ان کی ایذار سانی پر صبر کیجئے اور مایوسی اور گھبراہٹ کو اپنے اندر راہ نہ پانے دیجئے4 یعنی اپنو سے سیدھی سادے لوگوں کو فریب دینے کے لیے چوری چھپے ایک دوسرے کو طرح طرح کو حیلے بازیاں اور مکار یاں سکھاتے ہیں5 وہ چونکہ اتمام حجت کے لیے انہیں امتحان کا پورا پورا موقع دینا چاہتا ہے اور کسی کو اپنی نافرمانی سے زبر دستی باز رکھنا اس کی حکمت اروتکوینی نظام کے خلاف ہے اس لیے وہ انہیں ڈھیل دے رہا ہے، یعنی ان کی کوئی پروانہ کریں اور نہ ان کی بداعمالیوں پر رنجیدہ خاطر ہوں بلکہ ان کا معا ملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں وہ خود ان سے نبٹ لے گا۔ ( نیز سورة مدثر آیت )
Ayah 6:113

وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْئِدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:113 in the Quran reader

اور اس لیے بھی7 کہ جو لوگ آخرت کا یقین نہیں رکھتے (نرے بےایمان اور ملحد ہیں) ان کے دل ان باتوں پر جھک جائیں اور اس لیے کہ وہ ان باتوں سے خوش ہوں اور اس لیے کہ جو برے کام وہ کیا کرتے ہیں یہ بھی کریں8

ف 7 یہ شیاطین ایک دوسرے کا چالبازیاں اور مکاریاں سکھاتے ہیں ( وحیدی) اس کا عطف غیر و دار ہے ای لیغرو ابذالک ولتصغی الیہ الخ۔ یہ توجیہ ان سب توجیہات سے ہتر ہے جو اس مقام پر ذکر کی گئی ہیں۔ ( رازی)8 یعنی اس وحی کے مطابق شیاطین کے پیش نظر یہ سب مقاصد ہیں۔ رازی) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ کئی آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جب کفار کہنے لگا کہ مسلمان اپنا مارا ہو جانور کھاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے مارے ہوئے جانور کو حرام سمجھتے ہیں فرمایا کہ ایسی فریب کی باتیں شیطان کرتے ہیں تاکہ انسان کو شبہات میں ڈا لا جائے عقل کا حکم اللہ کا ہے۔ آگے پھر واضح طورسمجھا یا گیا کہ ہر جانور کو مانے والا اللہ ہی ہے اور اس کے نام میں برکت ہے سو جو اس کے نام پر ذبح ہو وہ حلال ہے اور جو اس کے نام کے بغیر مرگیا وہ مردرار ہے۔ (از مو ضح)
Ayah 6:114

اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 6:114 in the Quran reader

اے پیمبر ان لوگوں کو کہہ دے کیا میں اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی فیصلہ کرنے والے کو ڈھونڈوں اور اسی نے تم پر یہ کتاب قرآن اتار دی جس میں کھلا بیان ہے اور ہر قضیے کا فیصلہ اس سے ہوسکتا ہے9 اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی (یعنی یہود اور نصای وہ دل میں خوب جانتے ہیں کہ قرآن ہے تیرے مالک کی طرف سے اترا ہے10 خیر تو تو ہرگز شک کرنے والوں میں مت ہو11

ف 9 ا پر کی آیات میں یہ بتادیا کہ یہ کفار کسی صورت ایمان نہیں لائیں گے لہذا ان کے لیے آیات کا نازل کرنا بےفائدہ ہے اب یہاں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو مفصل کتاب نازل فرمائی ہے ہو آپ ﷺ کی نبوت کو صداقت پر دلیل کے لے کافی ہے (کبیر) کفار مکہ یہ چاہتے تھے کہ ان کے اور نبی ﷺ کے درمیان جو مخالفت ہے ان کی بارے میں اہل کتاب کو حکم بنالیا جائے پھر جو فیصلہ وہ دیں اسے تسلیم کرلیا جائے، اس میں ان کی اس تجویز کا جواب دیا جا رہا ہے۔10 کیونکہ ان کے انبیا بھی انہی نبی ﷺ بشارت دیتے رہے ہیں اور ان کی کتابوں میں بھی آپ ﷺ کی علامات موجود ہیں۔11 یعنی اس بارے میں اہل کتبا کے دلوں میں قرآن کے سچاہو نے کا یقین ہے خطاب تو آنحضرت ﷺ سے ہے مگر اس سے مراد سارے مسلمان ہیں۔ (کبیر
Ayah 6:115

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا١ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:115 in the Quran reader

اور تیرے مالک کا فرمان اسچائی اور انصاف کے ساتھ پورا ہوا12 اس کی باتوں کوئی کوئی بدلنے والا نہیں13 اور وہ سنتا جانتا ہے

ف 12 یہاں کلمہ یا کلمات سے مراد قرآن ہے یعنی قرآن معجزہ اور آپ ﷺ کے صدق نبوت کی دلیل ہونے کے لیے کافی ہے کیونکہ قرآن کے تمام مضامین دو قسم کے ہیں اخبار اراحکام یہاں صدق کا تعلق اخبار سے ہے اور عدل کا حکام سے اور مطلب یہ ہے کہ قرآن کی تمام خبریں خواہ ان کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات سے ہو یا گزشتہ وقعات یا مستقبل کے وعدے اور حوادث سے وہ سب پوے طوپر سچے ہیں اور اس میں جتنے احکام ہیں وہ سب عل و انصاف پر مستمل ہیں ان میں کسی قسم کی تبدیلی یا تر میم کی گنجائش نہیں ہے ایسی کامل کتاب کی موجودگی میں پھر ان شیطان وساوس یا عقلی شہبات کی کوئی کنجائش باقی نہیں کبیر) پھر ذبیحہ جیسے اہم مسئلہ میں یہ اپنی کج فہمی سے کیوں داخل دے رہے ہیں۔13 یعنی نہ تو اس قسم کے شہبات قرآن کے معجزہ ہونے پر اثر انداز ہوسکتے ہیں اور نہ اس کے اوامر نواہی میں کوئی ترمیم جائز ہے یا جیسے توراۃ وانجیل میں تحریف ہوئی قرآن میں ہو سکے گی۔ (رازی)
Ayah 6:116

وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:116 in the Quran reader

اور (اے پیمبر اگر تو ان لوگوں کے کہنے پر چلے جو دنیا میں (یا مکہ میں زیادہ ہیں تو وہ تجھ کو خدا کی راہ سے بہک یہ لوگ صرف اپنے خیال پر چلتے رہیں اور نہیں مگر اٹکلیں دوڑاتے ہیں1

ف 1 اور اس اٹکل کی بنا پر انہوں نے بہت سی حلال چیزوں کو حرام ٹھہرا لیا ہے۔ موجودہ دور میں اکثر لوگوں کا یہی رویہ ہے، (وحیدی)
Ayahs 6:117–118

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:117 in the Quran reader

بیشک تیرا مالک جو کوئی اس کی راہ سے بھٹک گیا اس کو خوب جانتا ہے اور وہ راہ پانے والوں کو (بھی) خوب جانتا ہے

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:118 in the Quran reader

اگر تم کو اللہ تعالیٰ کے حکموں کو یقین ہے تو اس جانور کو کھاؤ جس پر (کاٹتے وقت یا شکار کرتے وقت) اللہ کا نام لیا جائے2

ف 2 اور جو اپنی موت مرے یا اسے ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہ لیا جائے مت کھاؤ وہ مردار اور حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ لازمی تقاضا ہے (کبیر )
Ayah 6:119

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآئِهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 6:119 in the Quran reader

اور جس جانور پر (کاٹتے وقت) اللہ کا نام لیا گیا اس میں سے کیوں نہ کھاؤ (فراغت سے کھاؤ وہ حلال ہے) اور اللہ نے جو جو چیزیں تم پر حرام کیں ہیں وہ کھول کر تم سے بیان کردیں3 ان میں بھئی جس کے کھانے پر مجبور ہوجاؤ وہ درستے ہے4 اور بہت لوگ (عرب کے مشرک) اپنی خواہشوں پر لوگوں کو بہکاتے ہیں ان کو علم (ولم) کچھ نہیں (مثلاً سانڈھ وغیرہ کو حرام کہتے ہیں) بیشک تیرا مالک حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے5

ف 3 وہ کھول کر تم سے بیان کردیں بعض مفسرین کے لکھا ہے کہ اس سے سورة مائدہ کی آیت و حرمت امیتتہ اخ۔ کی طرف اشارہ ہے مگر اس پر یہ اعتراض لازم آتا ہے کہ سورة مائدہ مدنی ہے جو انعام کے بعد نازل ہوئی ہے پھر اس سے مائدہ کی طرف کیسے اشارہ ہوسکتا ہے اس بنا پر علمائے تفسیر (رح) نے لکھا ہے کہ اس سے وہ تفصیل مراد ہے جو اسی سورت کی آیت قل لا جد فیما اوحی الی محرما۔۔۔۔ آیت میں آرہی ہے اور یہ تفصیل چونکہ عنقریب ہی ذکر ہو رہی ہے اس لیے وقد فصل صیغہ ماضی سے اس کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے (کبیر، قرطبی) بعض ن اس سے سورة نحل کی آیت 115 مرادلی ہے جو غالبا اس سے پہلے مکہ میں نازل ہوچکی تھی مطلب یہ ہے کہ محرمات کی جو تفصیل اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے ان میں وہ حلال جانور شامل نہیں ہے جو اللہ تعال کے نام پر ذبح کی جائے پھر اسے نہ کھانے اور میرے ہوئے یا غیر اللہ کے نام پر ذبح کیے ہوئے جانوروں کو کھانے کی کیا وجہ ہے۔ (4 یعنی مجبوری اور اضطراری کی حالت میں ان جا نوروں کا کھنا حلال ہے، ( دیکھئے، سورة بقرہ آیت 173)5 یعنی جو لوگ حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دیتے ہیں کہ (وحیدی) اس سے مقصود تہدید وتحویف ہے (کبیر )
Ayah 6:120

وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:120 in the Quran reader

اور کھلا گناہ اور چھپا گناہ (دل کا گناہ) دونوں چھوڑ دو6 جو لوگ گناہ سمیٹتے ہیں وہ اپنے کیے کی سزا جلدی پائیں گے

ف 6 یعنی حلال و حرام صر کھانے کی چیزوں میں منحصر نہیں ہے بلکہ ہر ظاہر و باطن گناہ سے اجتناب ضروری ہے (وحیدی) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی کافروں کے بہکانے پر نہ ظاہر میں عمل کرو اور نہ دل میں شبہ رکھو۔ (موضح) علمانے لکھا ہے کہ ظاہر گناہ وہ ہے جو ہاتھ پاؤں کے ذریعے کیا جائے جیسے چوری زنا وغیرہ اور چھپنے گناہ وہ ہیں جن کے کرنے کا دل میں عزم ہو یا جو عقیدہ سے تعلق رکھتے ہیں جیسے شرک وکفر اور نفاق وغیرہ یا جن گناہوں کا نقصان عام لوگوں پر واضح ہو وہ ظاہر کہلاتے ہیں اور جن کے نقصان سے چند مخصوص آدمیوں کے سوا دوسرے واقف نہ ہوں وہ باطن کہلاتا ہیں۔ ( المنار)