6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 6:161–163

قُلْ اِنَّنِیْ هَدٰىنِیْ رَبِّیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ١ۚ۬ دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ۚ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:161 in the Quran reader

اے پیمبر کہہ دے مجھ کو تو میرے مالک نے سیدھا رستہ دکھلایا ٹھک دین ابراہیم کا طریق جو ایک طرف کا (یعنی خدا کی طرف) ہو رہا تھا اور مشرکوں میں سے نہ تھا (جیسے قریش کے کافر کہتے ہیں)

قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:162 in the Quran reader

اے پیمبر کہہ دے میری نماز اور قربانی (یا ہر ایک عبادت یا دین) اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ تعالیٰ ہی کیلیے ہے جو سارے جہان کا مالک ہے

لَا شَرِیْكَ لَهٗ١ۚ وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 6:163 in the Quran reader

اسکا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو یہی حکم ہوا ہے8 اور (اس امت میں سب سے پہلے اس کا تابعدار ہوں9

ف 8 توحید کے اثبات اور مشرکین اہل جاہلیت کی تردید کے بعد اب سورت کے آخر میں چند حقائق کا اعلان فرمایا ہے (آیت وما کان من المشرکین۔ میں مشرکین کی تردید ہے جن میں مشرکین عرب کے علاوہ یہود و نصاری اور مجوس بھی شامل ہیں۔ وبذالک امرت یعنی اس کے ساتھ کسی دوسرے کی بندگی نہ کروں اور میرا ہر چھاٹا اور بڑاعمل صرف اسی کی رحا جوئی کے لیے ہو،9 حضرت عمران بن جعین ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ حضرت فاطمہ ؓ کی طرف سے قربانی کا جانور ذبح کرنے لگے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا فاطمہ آؤ اور اپنے جانورکو ذبح ہوتے دیکھو اس لیے کہ اس کے خون کا پہلا قطرہ جب زمین پر گرے گا تمہارے سب گناہ معاف کردئیے جائیں گے اور فرمایا کہ ان صلای ونسکی سے وانا اول املسلیمن تک یہ آیت تلاوت کرو (قرطبی، وشوکانی بحوالہ حاکم )
Ayah 6:164

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّ هُوَ رَبُّ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ وَ لَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَیْهَا١ۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ۚ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 6:164 in the Quran reader

اے پیمبر کہہ دے کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور مالک ڈھونڈوں حالانک وہی ہر چیز کا مالک ہے10 اور جو کوئی شخص برا کام کرے گا تو اس کا وبال اسی پر پڑے گا اور کوئی شخص دوسرے کا بوجھ اپنے اوپر نہ لے گا1 پھر تم (سب) کو اپنے مالک کی طرف لوٹ جانا ہے وہ تم کو وہ باتیں بتادے گا جن میں تم اختلاف کرتے تھے2

ف 10 اور اس کے سواتم جن جھوٹے معبودون کی بندگی کرتے ہو وہ کسی چیز کے مالک نہیں بلکہ خود دوسری کے محتاج ہیں۔ مروی ہے کہ کفار نے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی کہ اپنے آبائی دین کو اختیاکر لو اور ہمارے معبودوں کی عبادت کرو جس الہ کی تم عبادت کرتے ہو اسے تر کردو ہم دنیا و آخرت میں تمہارے ہر نقصان کے ذمہ دار ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی، (قرطبی ) فوائد صفحہ ہذا1 یعنی اس پر کسی دوسرے عمل کی ذمہ داری نہ ہوگی یہ اس متعارض معبودوں کی آیت سے متعارض نہیں ہے جس میں ارشاد ہے کہ تم اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور انکے ساتھ کچھ دوسرے بو جھ بھی ( عنکبوت 13) اس لے کہ دوسرے بوجھوں سے مراد انہی لوگوں کے بو جھ ہیں جنہیں یہ گمراہ کریں گے (قر طبی) اور حدیث من سن سنتہ سیتہ الخ سے بھی اس کی تا ئید ہوتی ہے۔2 اس وقت معلوم ہوجائے گا کہ کون صحیح راستے پر تھا اور کون غلط راستے پر۔
Ayah 6:165

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖ٘ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 6:165 in the Quran reader

اور وہی خدا ہے جس نے تم کو زمین میں نائب بنایا3 اور تم میں سے ایک کے درجے دوسرے پر بلند کیے3 اس لیے کہ تم کو آزمائے اس میں جو تم کو دیا5 بیشک تیرا مالک جلد سزا دینے والا ہے6 اور اس کے ساتھ ہی وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے۔

ف 3 اپنا پہلی امتوں کایا آپس میں ایک دوسرے کا۔4 شکل و صورت مال وجاہ۔ علم و عقل وغیرہ میں۔ (کبیر)6 یہ عذاب گو آخرت میں ہوگا مگر کل ماھو آت فھو جلد ہی آنے والا ہے جیسے فرمایا۔ وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَمَا أَمْرُ السَّاعَةِ إِلا كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ (نحل :77) یہ کفار کے لیے تخویف ہے۔ (قرطبی، ) الحمد للہ کہ آج صفر المظفر 1389 ھ کو تفسیر ورۃ انعام ختم ہوئی اور بعد از صلوۃ عصر تفسیر سورت اعراف شروع کی والحمد للہ المنعم العلام۔