6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 6:121

وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ١ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ١ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:121 in the Quran reader

اور جس جانور پر (کاٹتے وقت) اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا جائے اس کو مت کھاؤ7 اور اس میں سے کھانا گناہ ہے8 اور شیطان تو اپنے دوستوں کے دل میں (وسوسے اور غلط خیالات) ڈالتے ہیں اس لیے کہ وہ تم سے (ناحق) کا جھگڑا کریں اور اگر تم ان کا کہا مان لو تو تم بھی مشرک ہوچکے ضرور ہوچکے9

ف 7 پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمادیا کہ اللہ تعالیے نام کا ذبیحہ حلال ہے اب اس آیت میں بیان فرمایا کہ جس ذبیحہ پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس کا کھانا حرام ہے اس میں میتہ اور وہ جانور یا لتنصیص داخل ہیں جو بتوں کے نام پر ذبح کئے گئے ہوں اور آیت گو اپنے عموم کے اعتبار سے ہر اس چیز کو شامل ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو مگر فقہا نے بالا جماع اس سے ذبیحہ مراد لیا ہے (رازی) مسئلہ اگر کسی ذبیحہ پر عمدا اللہ تعالیٰ کا نام ترک کردیا جائے تو وہ اکثر فقہا نے کے نزدیک حرام مگر جب مسلمان ذبح کرتے وقت بسم للہ بھول جائے تو کھا جائز ہے۔8 یعی جانور کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنا) دیکھئے 415)9 اللہ تعالیٰ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام اور حرام کی ہوئی چیزوں کو حلا قرار دینے والا بھی مشرک ہے کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے کو حاکم بنالیا ، (کبیر) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں شرک فقط یہی نہیں کہ کسی کو سوائے خدا کے پوجے بلکہ شرک کے حکم میں بھی ہے کہ اور کا مطیع ہوئے، ( موضح )
Ayah 6:122

اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:122 in the Quran reader

بھلا ایک شخص جو مردہ تھا ہم نے اس کو جلایا10 اور اس کو (قرآن کی یا ہدایت اور ایمان کی یا یقین کی) روشنی دی وہ اس کو لیے ہوئے لوگوں میں چلتا (پھرتا) ہے اس شخص کی طرح ہوگا جس کا حال یہ ہے کہ اندھیروں میں پڑا ہوا ہے وہاں سے نکل نہیں سکتا11 (جیسے مسلمانوں کی نظر میں ایمان بھلا معلوم ہوتا ہے) اسی طرح کافروں کے نزدیک ان کے کام بھلے معلوم ہوتے ہیں12

ف 10 یعنی وہ کافر تھا اسے مسلمان بنایا (شوکانی)11 بیشتر مفسیرن (رح) کے نز دیک یہ مثال عام ہے اور ہر زمانہ کے مومن اور کافر پر منطبق ہوسکتی ہے۔ فتح القدیر) یعنی شیطان اپنے وساوس کے ذریعے ان کافرو کی نگاہ میں ان کے اعمال کو خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے۔
Ayah 6:123

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا١ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:123 in the Quran reader

اور (جیسے مکر میں جو بڑے لوگ ہیں امیر اور مالدار وہی زیادہ شریر اور بدکار ہیں اسی طرح ہم نے ہر بستی میں جو گنہگار ہیں انہی کو بڑا بنایا ہے اس لیے کہ وہ اس بستی میں مکاری (اور فریب جھوٹ دغا بازی فسق و فجور کریں)1 اور وہ اپنی جانوں سے آپ مکاری کرتے ہیں اور سمجھتے نہیں2

ف 1 یعنی صنادید قریش کی طرح ہر قریہ ارشہر میں بڑے لوگ اپنی قوت اور اقتدار کے ذریعے لوگوں کو زبر دستی ایمان سے روکیں اور فسق وفجور میں پڑے رہیں (رازی) رازی حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ہمیشہ کافروں کے سردار حیلے نکالتے ہیں تاکہ عوام الناس پیغمبر ﷺ کے مطیع نہ ہوجائیں جیس فرعون نے معجزہ دیکھاتو حیلہ نکالا کہ سحر کے زور سے سلطنت لینا چاہتا ہے۔ ( موضح)2 کیونکہ اس کا وبال خود ان پر پڑے گا تو گویا اپنے آپ کو فریب دے رہے ہیں
Ayah 6:124

وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ١ؔۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 6:124 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے (جس سے آنحضرت ﷺ کی تصدیق ہو) تو کہتے ہیں ہم تو کبھی ایمان لانے والے نہیں جب تک اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں کو جو چیز ملی ہے (یعنی پیغمبری) وہ ہم کو نہ ملے3 اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جہان وہ پیغمبری رکھتا ہے4 جن لوگوں نے (یہ) قصور کیا (اور ایسی بےادبی کی بات کہی) ان کو خدا کے پاس ان کی مکاری کی سزا میں جلد زلت ہوگی اور سخت مار پڑے گی

ف 3 یعنی ان کفار کے مکرو فریب کا یہ عالم ہے کہ جب بھی نے کے سامنے آنحضرت ﷺ کی صداقت کا معجزہ ظاہر ہوتا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ جب تک ہم خود اس منصب پر فائز نہ ہوں ایمان نہیں لاسکتے (رازی)4 یعنی نبوت و رسالت محض وہی چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کو پسند کرتا ہے اسے نبوت کی امانت سپرد کردیتا ہے۔
Ayah 6:125

فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:125 in the Quran reader

تو جس شخص کو اللہ تعالیٰ راہ پر لگانا چاہتا ہے اسلام قبول کرنے کے لیے اس کا سینہ کھول دیتا ہے (وہ خوشی سے مسلمان ہوجاتا ہے)5 اور جس شخص کو گمراہ کرنا چاہتا ہے اس کا سینہ تنگ بہت تنگ کردیتا ہے6 گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے7 جو لوگ ایمان نہیں لاتے اللہ تعالیٰ اسی طرح ان پر عذاب بھیجتا ہے8

ف 5 متعدد روایات میں ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے پوچھا اے اللہ کے رسول ﷺ اللہ تعالیٰ کسی کا سینہ کیونکر کھو دیتا ہے ؟ فرمایا ایک نور اس میں ڈال دیتا ہے جس سے سینہ کھل جاتا ہے صحابہ ؓ نے پھر دریافت کیا سینہ کھل جاتا ہے صحابہ ؓ نے پھر دریافت کیا سینہ کھل جانے کی علامت کیا ہے۔ ، فرمایا آخرت کی طرف رحجان دنیا سے بےرغبتی اور موت کے آنے سے پہلے اس کے لیے تیاری کی لگن پیدا ہوجاتی ہے۔ ( ابن کثیر)6 حرج دراصل نہایت تنگ جگہ کو کہتے ہیں یا ایسے گنجان درختوں کو جن تک چر نے والے جانور نہ پہنچ سکتے ہوں حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہی حال کافر کے سینے کا ہے یاک مرتبہ حضرت عمر نے یہ ؓ یہ آیت تلاوت کی پھر فرمایا کہ بنی کنانہ کے کسی چرواہے کو بلا لاؤ چناچہ ایک چرواہے کو بلا یا گیا اس سے حضرت عمر ؓ نے دریافت کیا کہ حرجہ کسے کہتے ہیں ؟ اس نے کہا وہ درخت جو بہت سے درختوں کے درمیان اس طرح گھرا ہو اہو کہ کوئی چرنے والا جانور اس تک نہ پہنچ سکتا ہو۔ حضرت عمر نے فرمایا بس یہی حالت کافر اور منافق کے قلب کی ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے کسی قسم کی خیر بھی راہ نہیں پاتی (ابن کثیر، کبیر)7 یازرو سے آسمان پر چڑھنا چاہتا ہے مگر چڑھ نہیں سکتا۔ یہ اسلام و ایمان سے نفرت کی مثال ہے کہ کافر کے دل پر ایمان لانا اس طرح بھاری ہوتا ہے جیسے کسی کو آسمان پر چڑھنے کی تکلیف دی جائے۔ رازی8 رجس کے لفظی معنی گندگی کے ہیں علمانے نے اس کی تفسیر شیطان عذاب دنیا میں لعنت اور آخرت میں عذاب دنیا میں لعنت اور آّخرت میں عذاب وغیرہ کی ہے مجاہد فرماتے ہیں کہ جفس ہر وہ چیز ہے جو خیر سے خالی ہو۔ اس لفظ میں ان سب معانی کی گنجائش ہے (المنار اوپر بیان فرمایا تھا کہ ہم ایمان کی توفیق نہ دیں گے تو کیونکہ ایمان لے آئیں گے۔ درمیان میں کافر روں کے ان حیلوں کو ذکر فرمایا ہے جن سے وہ مردار کے حلال کرتے تھے، اب اس بات کو جواب دیا جو دلیل دیکھ کر گمراہی کی علامات ہیں ان کو کوئی نشانی راہ ہدایت پر نہ لائے گی، ( موضح)
Ayah 6:126

وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 6:126 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) یہ تیرے مالک کی سیدھی راہ ہے (یعنی اسلام کا دین یا قرآن) جو لوگ سمجھتے ہیں ان کے لیے ہم نے کھول کر (اپنی) آیتیں بیان کردی ہیں

ف 9 یعنی حکم پردازی میں عقل راہ نہ دینا سیدھی راہ ہے۔ (مو ضح )
Ayahs 6:127–128

لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:127 in the Quran reader

ان کے ماک کے پاس ان کے لیے سلامتی کا گھر (یعنی جنت تیار ہے اور ان کے کیے کے بدل (یعنی ان کے نیک کاموں کے بدل) وہی (خدا) ان کا مددگار ہے

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا١ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ١ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا١ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:128 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر اس دن کو یاد کر) جب اللہ تعالیٰ (آدمی اور جن اور شیطان) ان سب کو اکٹھا کریگا10 اے جنو (اے شیطان کے گروہ) تمنے تو بہت آدمیوں کو خراب (گمراہ) کیا11 آدمیوں میں جو (دنیا میں) ان کے (شیطانوں کے) دوست تھے وہ کہیں گے مالک ہمارے ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے سے فائدہ اتھایا12 اور ہمارے لیے جو وعدہ تو نے ٹھہرایا تھا (یعنی قیامت کا یا موت کا) اس وعدے تک آن پہنچے اللہ فرمائے گا (اب) دوزخ تمہارا ٹھکانا ہے اسی میں ہمیشہ رہیں گے مگر جب تک اللہ تعالیٰ چاہے1 بیشک تیرا مالک حکمت والا ہے جاننے والا

ف 10 اور پھر جنوں سے فرمائے گا۔۔۔۔۔۔11 یا ان کو مطیع اور فرماں بردار بناکر خوب مزے سے لوٹے،12 جنوں جنوں کا انسانوں سے فا ئدہ اٹھانا یہ ہے کہ انہوں نے ان کو گمراہی کی طرف دعوت دی اور انسانوں نے اسے قبول کرلیا اور انسانوں نے جنوں سے یہ فائدہ اٹھایا کہ انہوں نے ان سے طرح طرح کے گناہ اور برے کام سیکھے اور آخرت سے غافل ہو کر دنیا پرستی میں مست ہوگئے۔ (کذافی الکبیر )
Ayah 6:129

وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 6:129 in the Quran reader

اور (جیسے جن اور آدمیوں کا ہم نے یہ انجام کیا) اسی طرح ہم (دنیا میں) ایک ظالم کو دوسرے ظالموں پر ان کے اعمال کی سزا میں حکومت دیتے ہیں2

ف 1 یا جب اللہ تعالیٰ چاہے کہ وہ اس میں نہ رہیں۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ دوزخ بآلا خر فناہو جائے گی بلکہ دوزخ تو جنت کی طرح ہمیشہ رہے گی۔ ( دیکھئے سورة ہود آیت 107) لفظ الا ما شا ش اللہ سے جو شبہ پیدا ہوتا ہے اس کے جواب شاہ صا حب (رح) فرماتے ہیں جو فرمایا کہ آگ میں رہا کریں گے مگر جو چاہے اللہ تو یہ اس لے کہ اگر دوزخ کا عذاب دائمی ہے تو اس کے چاہنے سے ہے۔ وہ چاہے تو مو قوف کوے لیکن وہ ایک چیز چاہ چکا ، ( مو ضح)2 پھر وہ انہیں اپنے ظلم وستم کا تختہ مشق بناتا ہے ،۔ دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے اس طرح ہم آخرت میں ظالموں کو ایک دوسرے کا ساتھی بنائیں گے ان اعمال کی و جہ سے جو وہ دنیا میں کیا کرتے تھے یعنی جس طرح وہ دنیا میں گناہوں کا ارتکاب کرنے میں ایک دوسرے کے ساتھی اور مددگار تے اس طرح آخرت کا عذاب بھگتنے میں بھی وہ ایک دوسرے کے شریک حال ہوں گے۔ (وحیدی )
Ayah 6:130

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 6:130 in the Quran reader

اور (اللہ تعالیٰ رمائے گا) جنو اور آدمیو کیا تمہارے پاس تم ہی میں کے پیغمبر نہیں آئے3 جو میری آیتیں تم کو پڑھ کر سناتے اور اس دن کے سامنے آنے سے تم کو ڈراتے کہیں گے ہم نے خود اپنے اوپر گواہی دی4 اور (اصل یہ ہے کہ دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکا دیا اور (اب مجبور ہو کر) اپنے اوپر آپ یہ گواہی دی کہ وہ (دنیا میں) کافر تھے5

ف 3 یعنی وہ رسول انسان تھے جنوں میں سے نہیں تھے ل علما نے سلف وخلف کی اکثریت یا یہی قول ہے کہ کسی جن کو رسول نہیں بنایا گیا ،۔ ( ابن کثیر)4 یعنی تیرے پیغمبر ہمارے پاس آئے اور انہوں نے تیرا پیغام پہنچا یا۔5 حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اس سورت میں اوپر مذکور ہوا کہ اول کافر اپنے کفر کا نکار کریں گے پھر حق تعالیٰ تدبیر سے ان کو قاتل کرے گا۔ (موضح)
Ayah 6:131

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ Open ayah 6:131 in the Quran reader

یہ (پیغمبروں کو بھیجنا) اس وجہ سے ہے کہ تیرا مالک بستیوں کا ظلم سے اجاڑنا نہیں چاہتا جب وہاں کے لوگ (بیچارے) بیخبر ہوں6

ف 6 یعنی ان کے پاس کوئی پیغمبر یا اس کا نائب نہ پہنچا ہو اور اس نے انہیں حقیقت حال سے آگاہ نہ کردیا ہو۔ (دیکھئے سورت اسرا آیت 15)
Ayah 6:132

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:132 in the Quran reader

اور (جنو اور آدمیوں یا مومنوں اور کافروں میں) ہر ایک کے لیے اپنے اپنے اعمال کے موافق بہشت یا دوزخ میں) درجے میں اور تیرا مالک ان کے کاموں سے بیخبر نہیں ہے7

ف 7 اس سے معلوم ہوا کہ جنوں میں سے بھی جو نیک ہیں وہ جنت میں اور جو بدکار ہیں وہ جہنم میں جائیں گے۔ (وحیدی)8 یعنی وہ ان سے بےنیاز ونے کے باوجود ان پر رحم فرماتا ہے۔
Ayah 6:133

وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 6:133 in the Quran reader

اور تیرا مالک بےپروا ہے رحم والا اگر چاہے تو تم کو (اے گنہگار دنیا سے) اٹھالے اور تمہارے بعد جس کو چاہے (اپنے نیک اور مطیع بندوں میں سے) تمہا جانشین (قائم مقام) بنائے جیسے دوسرے لوگوں کو نسل سے تم کو پیدا کیا9

ف 9 یعنی جس طرح تمہیں پہلے لوگوں کا جانشین، بنایا اسی طرح تمہیں تباہ کرکے دوسروں کو تمہارا جانشین بنا سکتا ہے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت جن وانس کے پیدا کرنے پر ہی منحٖصر نہیں ہے بلکہ ان کی بجائے کوئی تیسری قسم کی مخلوق بھی پیدا کرسکتا ہے۔ ، (کبیر )
Ayah 6:134

اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 6:134 in the Quran reader

جس چیز کا تم سے وعدہ ہے (یعنی قیامت) وہ ضرور آنے والی ہے اور تم اس کو روک نہیں سکتے10

ف 10 یا اس سے بچ کر کہیں بھاگ نہیں سکتے
Ayah 6:135

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:135 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہ دے بھائیو تم جو کرتے ہو وہ کرتے رہو میں بھی (جو کرنے کا ہے وہ) کر رہا ہوں11 آگے چل کر تم جان لو گے کس کا انجام اچھا ہوتا ہے1 بیشک ظالم نہیں پنپتے (ان کو بھلائی اور کامیابی نہیں ہوسکتی)2

ف 11 اس میں کفار کو زجر وتوبیخ ہے جو قیامت اور جزا اور سزا اکنکار کرتے تھے جیسے کوئی شخص کہتا ہے کہ اچھا جو کچھ تم کر رہے ہو کرتے رہو میں عبقریب تم سے نبٹ لوں گا۔ ای تفویض ال ھو الیھم علی ٰ سبیل التھدید۔ مطلب نہیں کہ ہماری طرف سے تمہیں کفر وشرک پر رہنے کی اجازت ہے۔ ( کبیر ) 1 لپ کیسے دنیا میں فتح مندی اور آخرت میں جنت نصیب ہوتی ہے۔2 اس کا تعلق اس تہدید سے ہے کہ اعمو علی مکانتکم میں مذکور ہے یعنی تم لوگ چونکہ ظالم اور بدبخت ہو اس سے دینا وآخرت میں تمہیں کوئی بھلائی اور کامیابی نصیب نہیں ہوسکتی (کبیر)
Ayah 6:136

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآئِنَا١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 6:136 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے جو کھیت اور جانور (مویشی) پیدا کیے ہیں ان میں یہ کافر اللہ تعالیٰ کا ایک حصہ لگاتے ہیں3 اور اپنے خیال پر (جو غلط ہے) یوں کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ہے اور یہ ہمارے معبودوں کا ہے (بتوں کا جن کو اللہ کا شریک جانتے ہیں) پھر ان کے معبودوں کا (حصہ ہے تو وہ اللہ کے کام میں نہیں آسکتا اور جو اللہ کا حصہ ہے وہ ان کے معبودوں کو مل سکتا ہے (لاحول ولا قوۃ) کیا برا فیصلہ کرتے رہیں4

ف 3 بعثت وجزا کے متعلق ان کے خیلات کی تردید کے اب یہاں سے ان کی دوسری اعتقاد اوعملی حماقتوں اور جہالتوں کا بیان ہورہا ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جو شخص اہل عرب کے جاہلا نہ نظریات کو جاننا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ سورة انعام کی 130 آیتوں کے بعد دے ایات قد خسر الذین قتلو او لا دھم سفھا بغیر علم۔۔۔۔ الا یہ تک تلاوت کرے ابن العربی فرماتے ہیں کہ ابن عباس نے بالکل صحیح کیا ہے کہ اللہ تعلای کے مقابلے میں بتوں کی ترجیح دینے سے بڑی جہالت اور کون سی ہوسکتی ہے (کبیر، قرطبی) مطلب یہ ہے کہ کھیتی اور مو یشیوں میں سے کچھ حصہ صلہ رحمی اور مسافروں کی مہمان کے لیے مخصوص کرلیتے۔
Ayah 6:137

وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:137 in the Quran reader

اور (جیسے مشرک یہ برا کام کرتے ہیں) اسی طرح بہت مشرکوں کو ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کا مار ڈالنا اچھا بتایا ہے5 ان کو تباہ کرنے کے لیے5 اور ان کے دین میں میل کرنے کے لیے (یعنی جو باتیں دین میں نہیں تھیں ان کو دین میں شریک کنے کو شبہ ڈالنے کے لیے6 اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو یہ مشرک اس کام کو نہ کرتے تو (اے پیمبر) ان کو اور ان کے بہتانوں کو (اپنے حال پر) چھوڑ دے7

ف 4 یہ مشرکین کی پہلی گمراہی اور جہالت کا بیان ہے کہ وہ اپنی کھتی اور جانوروں کی نسل میں جو نیاز اور خیرات نکالتے اور کے دو حصے کرلیتے ایک حصہ اللہ تعالیٰ کے لیے اور دوسرا اپنے بتوں اور کاہنوں کے لیے خرچ کرنے پر جب بتوں اور کاہنوں کے لیے خرچ کرنے پر جب بتوں اور کاہنوں کا حصہ کم پڑجاتا تو اللہ تعالیٰ کے حصے میں سے لے کر اس میں ڈال دیتے اور کہتے کہ اللہ تو غنی ہے اس کو زیادہ مال کی کیا ضرورت ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کا حصہ کم پڑجاتا تو اس میں بتوں کے حصے کے میں سے کچھ نہ ڈالتے حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اب جاننا چاہے کہ اللہ تعالیٰ کی نیاز کہ اس کی راہ جن کی دلوا دیا ہے ان کو دینا اسکا فائدہ اللہ کو نہیں پہنچتا بلکہ اس چیز سے فقیر کا فائدہ ہے اور ثواب ہے فائدہ دینے ولاے کو پھر اگر کسی بزرگ کے واسطے اس وضح پردے جیسے یہاں فرمایا تو شرک ہے ہاں اگر ایصال ثواب کے لیے دے تو صحیح ہے ( کذافی۔ المو ضح)5 یہ ان کی دوسری جہالت اور گمراہی تھی اور اس کا عطف جعلو پر ہے یعنی جیسا کہ کھیتی اور جانوروں میں بتوں کا حصہ مقرر کرنا ان کی جہالت تھی ایسے ہی یہ عقیدہ بھی ان کی انتہا ہی گمراہی تھی ْ (رازی) کہاں شرکا سے مراد یا تو شیاطان ہیں جن کے پیچھے لگ کر وہ اپنی اولاد کو زندہ درگو کردیتے تھے اور یا شرکا سے مراد نت خانوں کے خادم اور پجاری ہیں جن کی ترغیب پر مشرکین اپنی اولاد کو بت خانوں کی بھینٹ چڑھاتے تھے، چناچہ بعض لو منت مال لیتے کہ اگر میرے یاں اتنے بیٹے پیدا ہوں تو ان ا میں سے ایک فلاں بت کے نام پر ذبح کروں گا۔ جیسا کہ نبی ﷺ کے دادا عبدالمطلب نے آنحضرت ﷺ کی والد عبد اللہ کو ذبح کرنے کی مانت مانی تھی۔6 اہل عرب اصل میں حضرت اسمعیل ( علیہ السلام) کے دین پر ہونے کے مدعی تھے لیکن شیطان نے آہستہ آہستہ بت پر ستی قتل اولاد اور بہت سی غلط باتیں ان کے دین میں داخل کردی تھیں فرمایا کہ شیطان نے اس قسم کی گمرہیاں پیدا کر کے ان کے دین کو غلط ملط کر ڈالا تھا۔ (کذافی7 اس سے اشارہ فرمایا ہے کہ اس قسم کی سب باتیں دین میں افترا پر دازی ہے۔
Ayah 6:138

وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:138 in the Quran reader

اور (مشرک) کہتے ہیں یہ جانور اور کھیت اچھوتے ہیں (یعنی ان کو کوئی نہیں کھا سکتا مگر جس کو ہم چاہیں اپنے اپنے خیال کے موافق وہ کھا سکتا ہے8 اور کچھ جانور ایسے ہیں جنکی پیٹھ پر سوار ہونا منع ہے9 اور کچھ جانوروں پر (ذبح کے وقت اللہ کا نام نہیں لیتے (بلکہ بتوں کے نام پر ذبح کرتے ہیں) اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کو10 وہ ان کے جھوٹ باندھنے کی سزا ان کو جلد دے گا

ف 8 یعنی انہوں نے محض اپنے خیال سے کھیتی اور چوپایوں کے حصے مقرر کر رکھے تھے، حجر کے اصل معنی مندش لگانے اور منع کرنے کے ہیں اور یہاں اس کے معنی حرام کے ہیں مطلب یہ ہے کہ جس کھیتی یا چار پائے کو بتوں کے کے نام وقف کرتے اور اس پر بندش لگاتے کہ اس کو بت خانوں کے بجاری اور مردیہی کھاسکتے ہیں عورتوں پر حرام ہے۔ (قرطبی)9 جیسے بحیرہ سائبہ اور حام۔ دیکھئے سورة مائدہ آیت 103 (کبیر)10 یعنی یہ سب جہالت اور وہم پرستی کے کام ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف ان کی نسبت محض جھوٹ ہے اللہ تعالیٰ نے اس قسم کی جہالتوں کا کبھی حکم نہیں دیا۔ ( ابن کثیر )
Ayah 6:139

وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:139 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ان جانوروں کے پیٹ میں (جن کو ہم بتوں کے نام سے چھوڑ رکھا ہے) جو (بچہ) ہے وہ ہمارے مردوں کے لیے خاص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے (اگر زندہ پیدا ہو) اگر مرا ہوا ہو تو سب (مرد اور عورت) اس میں شریک ہیں (یعنی سب کھا سکتے ہیں) اللہ تعالیٰ ان کو اس کہنے کا جلد بدلہ دے گا وہ حکمت والا ہے جاننے والا

ف 1 پنی بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا جائز جانتے تھے یہ رسم عموما بنی ربعیہ اور مضر میں تھی۔ ؟ ( قرطبی)
Ayah 6:140

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۠ Open ayah 6:140 in the Quran reader

بےجن لوگوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ کر جہالت کرکے نادانی سے اپنی اولاد کو مار ڈالا1 اور اللہ تعالیٰ نے جو رزق (روزی) ان کو دیا اس کو حرام ٹھہرایا2 وہ گھاٹے میں پڑگئے گمراہ ہوئے اور راہ پر نہیں آسکتے

ف 2 جیسے بحیرہ، سائبہ وغیرہ جانوروں کو انہوں نے حرام قرار دے رکھا تھا۔3 معروشات جسیے ٹیٹوں ستونوں اور منڈیروں پر چڑھی ہوئی انگور وغیرہ کی بیلیں اور غیر معرو شات وہ در خت اور پو دے جو اپنی جڑوں پر کھڑ ہوتے ہیں۔ مشرکین کی جہالت اور گمراہی ثابت کرے کرنے کے لیے چامسئلے بیان کرنے کے بعد اب اس آیت میں توحید کا اثبات ہے جو قرآن کے اصول اربعہ میں سے پہلی اصل یا پہلا اصول ہے اور قرآن نے ان اصول اربعہ پر مسلسل بحث کی ہے۔ یہ پانچ چیزیں جو یہاں مذکور ہیں ان کا ذکر پہلے بھی (آیت 99) میں آچکا ہے اب یہاں دوسرے انداز سے ان کا اعادہ فرمایا ہے اور ان میں سے اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے کی تر غیب دی ہے (کبیر )
Ayah 6:141

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّ النَّخْلَ وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ١ۖ٘ وَ لَا تُسْرِفُوْا١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 6:141 in the Quran reader

اور وہی خدا ہے جس نے باغ پیدا کیے چھتریوں پر چرھے ہوئے اور بےچڑھے ہوئے3 اور کھجور کے درخت اور کھیت (اناج کے) جن کے پھل طرح طرح کے ہیں ہر ایک کا مزا جدا ہے اور زیتون اور انار جو دیکھنے میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور مزے میں نہیں ملتے (اے بندو) جب یہ درخت اور بیلیں اور کھیت پھلیں تو ان کا پھل کھاؤ اور جس دن کٹیں (یا توڑے جائیں) ان کا حق ادا کردو4 اور بیجا مت اڑاؤ5 (اسراف نہ کرو) کیونکہ اللہ تعالیٰ بےجا اڑانے والوں کو پسند نہیں کرتا

ف 4 یعنی ان میں سے کچھ حصہ فقیروں) مسکینوں بیوأؤں اور یتیموں کو بطور صدقہ دو ، یہ آیت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی تھی، اس وقت رزعی پیدا رکے صدقہ کا یہ حکم عام تھا اور اس کی کوئی مقدار مقرر نہ تھی، مدینہ پہنچ کر 2 ھ میں زکوٰۃ (عشر) کی مقدار اور شرح مقرر ہوئی یعنی بارانی زمین کی پیدا وار میں دسواں حصہ اور جس زمین کو کنویں ی امحنت سے پانی لاکر سیراب کیا جائے تو اس کی پیداوار میں سے پیسواں حصہ۔ تفصیللات حدیث وفقہ کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ ( ابن کثیر، قرطبی) مسئلہ، عشر صرف اقوات یعنی اس پیدار پر ہے جو بطور ذخیرہ جمع کر کے مصنوعی تدبیر کے بغیر رکھی جاسکتی ہو اس بنا پر ہے کیونکہ عشر کی فرضیت کے بعد عہد رسالت اور حضرت ابوبکر صدیق کے دور میں بھی ان سے عشر نہیں لیا گیا پھر اگر ان سے عشر ضروری ہوتا تو عہد صدیقی میں اس کی طرف ضرور توجہ دی جاتی جب کہ ایک عقال کے اوانہ کرنے پر حضرت ابوبکر ؓ صدیق نے اعلان جہاد فرمایا دیا تھا علامہ قرطبی، نے اس مسئلہ پر تفصیل سے لکھا ہے۔ ( دیکھئے قرطبی، زیر آیت)5 اسراف کے معنی کسی چیز میں حد سے تجاوز کرنے کے ہیں، عام کھانے پینے اور مال کے خرچ کرنے میں اسراف ہوتا ہے اور صدقہ خیرات میں بھی یعنی نہ تو ناحق کوئی چیز وصول کرو اور نہ ناحق چرچ ہی کرو بعض نے لکھا ہے کہ یہ خطاب ولاۃ) حکام) سے ہے یعنی حق واجب سے زیادہ وصول نہ کرو جیسا کہ حدیث میں ہے۔ المعتدی فی الصدقہ کما نعھال کہ صدقہ وصول کرنے میں ظلم کرنے والا اسی طرح گنہگار ہے جیسا کہ زکواۃ نہ دینے والا۔ ایک روایت میں ہے کہ ثابت بن قیس بن شماس نے ایک دن میں پانچ سو کھجور کے درخت سے پھل اتارا اور اسی روز سارے کا سارا خرچ کردیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سارا مال صدقہ و خیرات میں دے دینا منع ہے۔ (قرطبی)
Ayahs 6:142–143

وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا١ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 6:142 in the Quran reader

اور چوپائے جانووں میں سے اس نے بوجھ لادنے والے اور زمین سے لگے ہوئے (مثلاً بھیڑ بکری وغیرہ پیدا کیے (لوگو) خدا نے جو تم کو رزق دیا اس میں سے کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر مت چلو کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَۙ Open ayah 6:143 in the Quran reader

(یہ چارپائے حلال جانور نر مادہ ملا کر آٹھ قسم ہیں (یعنی چار جوڑے)7 دو بھیڑ ہیں (نر اور مادہ) اور دو بکری میں (نر اور مادہ) (اے پیمبر) کہہ دے کیا خدا نے (ان بھیڑ بکری میں سے دو نروں کو (یعنی مینڈھے اور بکرے کو) حرام کیا ہے یا دونوں مادوں کو (بھیڑ اور بکری مادہ کو) یا ان دونوں مادوں کے پیٹ میں جو (بچہ) ہے اس کو اگر تم سچے ہو تو مجھ کو سند کے ساتھ بتاؤ8

ف 6 لادنے والے جیسے اونٹ اور بیل اور زمین سے لگے ہوئے بھیڑ اور بکری ( مو ضح) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حمو لتہ لا لفظ تمام بوجھ اٹھانے والے جانوروں کو شامل ہے جیسے اونٹ بیل گھوڑا خچر گدھا اور فرش سے بھیڑ بکری مراد ہے مگر بعد آیت میں ثمانیتہ ازواج کا لفظ حمولتہ وفر شا سے بد ل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان سے یہی آٹھ قسم کے جانور مراد ہیں اور پھر جو جانور اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیئے ہیں ان کو انعام فرمایا ہے ( قر طبی)7 یہ زوج کی جمع ہے عربی زبان میں کسی جوڑے کے ہر فرد کو زوج کہا جاتا ہے اور اس میں تذکیر و تانیث کا اعتبار نہیں ہوتا پس ثمانیہ ازواج کے معنی آٹھ افراد کے ہیں اور آیت میں ترجمہ بھی اسی کے مطابق کیا گیا ہے۔ ( مردی ہے کہ جب مالک بن عوف اور اس کے ساتھیوں نے یہ کہا کہ مافی بطون ھذہ الا نعام خالصتہ لذکورناو محرم علی ٰ زواجنا تو ان کے جواب میں کیسے ہوسکتے ہیں ؟ اگر نر حرام کر رکھا ہے تو سب مادائیں حرام ہوں گی اور اگر بچہ حرام ہے جو بیٹ میں رہ چکا ہے تو نر اور مادہ دونوں حرام ہوں گے مقصود مشرکین کے خود ساختہ محرمات کی تردید ہے کہ بحیرہ سائبہ جانوروں کو انہوں نے اپنی طرف سے حرام کر رکھا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ جانور حلال کئے ہیں۔
Ayah 6:144

وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 6:144 in the Quran reader

اور اونٹ میں سے دو (نر اور ماد) اور گائے میں سے دو (نر اور مادہ)9 (اے پیمبر) کہہ دے کیا خدا نے دونوں نروں کو (یعنی اونٹ اور بیل کو) حرام کیا ہے یا دونوں مادوں کو (یعنی اونٹنی اور گائے کو) یا دونوں مادوں کے پیٹ میں جو (بچہ) ہے اس کو کوئی بات تو کہو اگر کوئی سند نہیں ملتی تو یہ کہو) کیا تم اس وقت حاضر تھے جس وقت اللہ نے اس کا1 حکم دیا پھر جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بےجانے بوجھے لوگوں کے بہکانے کے لیے جھوٹ باندھے اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا2 بیشک اللہ تعالیٰ ظالموں کو راہ پر نہیں لگاتا

ف 9 ہرن بکری جنس میں داخل ہے اور بھینس بیل گائے گور خر گائے اور بیلل کی جنس میں یہ جانور عرب میں اتنے زیادہ نہیں ہوتے۔ چوپاؤں کی مشہور چار قسمیں ہیں جو یہاں مذکور ہیں۔ یعنی بھیڑ بکری، اونٹ اور گائے، (وحیدی) ۔
Ayah 6:145

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:145 in the Quran reader

(اے پیمبر ان مشرکوں سے) کہہ مجھ پر جو اترا ہے (یعنی قران شریف) اس میں سے کوئی چیز کسی کھانے والے پر جو اس کو کھائے حرام نہیں پاتا (ہاں) مگر یہ کہ مردار ہو یا بہتا خون یا سور کا گوشت وہ نجس ہے یا گناہ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی جانور پر دوسرے کا نام پکارا جائے3 پھر جو کوئی (بھوک سے) بیقرار ہوجائے کسی پر زیادتی نہ کرتا ہو نہ حد سے بڑھے تو (اس کو یہ چیزیں بھی بقدر ضرورت درست ہیں) کیونکہ تیرا مالک بخشنے والا مہربان ہے4

ف 1 یعنی ان جانوروں میں سے کسی کے حرام ہونے کا۔2 یعنی اسے نہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے براہ راسست کوئی علم حاصل ہو اہو اور نہ اس کے کسی رسول ﷺ کے واسطے سے مگر وہ غلط طور پر اللہ کا نام لے کر بعض چیزوں کو حلال اور بعض چیزوں کو حرام قرار دے اور اس طرح لوگوں کو گمراہ کرے، مطلب یہ یہ ہے کہ تم لوگوں سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہے۔ (وحیدی)3 اوفسقا عطف علی لخم خنزیر وما بینھما اعتراض واحل لغیر اللہ بہ صفتہ مو ضحتہ اصل میں اھلال کے معنی اواز بلند کرنا کے ہیں یہاں مراد غیر اللہ کے پر کوئی جانور ذبح کرتا ہے جیسے بکرا شیخ سدو کا گا أ سید احمد کبیر کی مر غازین خاں کا تو شہ شاہ عبد الحق کا صخک بی بی فاطمہ کی نذرنیاز پیر فقیر کی یہ سب حرام ہیں ( سلفیہ)4 یعنی مضطر کے لیے بھی ان کا کھانا گناہ تو ہے مگر اللہ تعالیٰ معاف فرمادیگا اس آیت میں اشکال ہے کہ محرکات ان چار چیزوں میں منحصر نہیں ہے بلکہ اس کے و علاوہ بھی ہیں اس بنا پر علما نے آّیت کی تاویل کی ہے، حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ یعنی جن جانوروں کا کھنا دستور ہے ان میں یہی حرام ہیں۔ ( موضح) یا یہ کہ کہا جائے کہ یہ آیت مکی ہے اور مکہ میں ان اشیا کے علاوہ اور کوئی چیز حرام نہ تھی پھر اس کے بعد یہ مدینہ میں سورة المائدہ کے علاوہ اور کوئی چیز حرام نہ تھی پھر اس کے بعد مدینہ میں اور سوتہ بقرہ (آیت 173) نازل ہوئیں تو ان چار چیزوں کے علاوہ چند اور چیزیں بھی حرام قرار دے ت دی گئیں ( دیکھئے مائدہ آیت 3) علاوہ ازیں مدینہ میں نبی ﷺ نے بھی بعض اشیا کو حرام قرار دیا، حد یث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ہر درندے شکاری پرندے کھریلو گدھے اور کتے کو حرام قرار دیا ہے، (بخاری ومسلم) علما حدیث وفقہ کی اکثریت نے اس آیت کی یہی تاویل کی ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت واحل لکم ما وراع ذالکم کے نزول کے بعد بھی بعض رشتے حرام قرار دیئے ہیں مثلا فرمایا ایک عورت سے نکاح حرام ہے۔ مقصد یہ کہ آیت کے عموم میں حدیث سے تخصیص ہوگی لہذا بعض سلف کا آیت کے عموم میں حدیث سے تخصیص ہوگی لہذا بعض سلف کا آیت مذکور سے ان چار کے علاوہ باقی اشیا کو حلال سمجھنا صحیح نہیں ہے بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے مگر یہ صحیح نہیں ہے حاٖ فظ ابن عبد البر نے سورة الانعام کے مکی ہونے پر اجماع نقل کیا ہے اس آیت میں دراصل بحیرہ سائبہ وغیرہ کی حالت کو واضع کرنا ہے جو جاہلیت میں لوگوں نے اپنی رائے سے حرام قرار دے رکھے تھے ورنہ محرمات کا حصہ نہیں فالا ستثنا منقطع (قرطبی، ابن کثیر )
Ayah 6:146

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ١ۚ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ١ۖ٘ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 6:146 in the Quran reader

اور یہودیوں پر ہم نے ہر ناخون والا جانور حرام کردیا تھا9 اور گائے اور بکری کی چربی بھی ان پر حرام کردی تھی (اور اگرچہ گوشت ان کا حلال تھا) مگر جو چربی پیٹھ پر لگی ہو (یا جس چربی کو پیٹھ اٹھائے ہوئے ہو جیسے دنبہ کی چکتی) یا آنتوں میں یا ہڈی سے مل گئی ہو6 یہ (جو ہم نے ان پر ان چیزوں کو حرام کردیا تھا) یہ ان کی شرارت کی سزا ہم نے ان کو دی تھی اور ہم سچے ہیں7

ف 5 امت محمد یہ پر جو چیزیں حرام ہیں ان کا ذکر کرنے کے بعد اب یہود پر حرام کی ہوئی چیزوں کو طرف اشارہ فرمایا ہے جس سے مقصد ان کی تردید ہے (قرطبی) کل ذی ظفر سے مراد ہر وہ جانور اور پرند ہے جس کی انگلیاں بھٹی ہوئی نہ ہوں جیسے اونٹ، شتر مرغ بطخ وغیرہ، (روح المعانی) اور بعض نے اس سے سم درا چوپائے جیسے گھو ڑا گدھا وغیرہ) اور شکاری پر ندے سے مراد لیے ہیں جو پنجہ سے شکار کرتے ہیں۔ ّقرطبی)6 او بمعنی الواؤ۔ یعنی ان چار چیزوں کے علاوہ یہود پر یہ چیزیں بھی حرام کردی گئی تھیں7 یعنی یہ چیزیں جس طرح اب شریعت محمدی میں حرام نہیں ہیں اس سے پہلے بھی حرام نہ تھیں البتہ یہود یوں کو ان کی سرکشی کی سزا دینے کے لیے ہم نے انہیں وقتی طور پر حرام کردیا تھا، ( دیکھئے سورة نسا آیت 23) مقصد یہود یوں کے اس دعوی ٰ کی تر دید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر کوئی چیز حرام نہیں کی ماسوا ان چیزوں کے جو اسرائیل (یعقوب ( علیہ السلام) نے از خود اپنے اوپر حرام کرلی تھیں، (قر طبی۔ ابن کثیر) اور انا لصادقون ( اور ہم سچ کہتے ہیں۔ ) کا مطلب یہ ہے کہ یہود کا یہ دعوی غلط ہے اور صحیح بات وہ ہے جو ہم نے بیان کی ہے۔ ( نیز دیکھئے سورة آل عمران آیت 93)
Ayah 6:147

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ١ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 6:147 in the Quran reader

(اے پیمبر) اس پر بھی اگر یہ یہود (یا مشرک) تجھ کو جھٹلائیں تو کہہ دے تمہارے مالک کی رحمت بہت کشادہ ہے اور اس کا عذاب جب آئے گا) تو گنہگار لوگوں سے ٹلنے والا نہیں8

ف 8 یعنی اگر تم اب بھی نافرمانی کی روز چھوڑ کر حق کی سیدھی راہ اختیار کرلو تو اپنے رب کے دامن رحمت کو اپنے لیے کشادہ پاو گے لیکن اگر اپنی موجودہ روش پر اڑے رہے تو یہ مت سمجھو کہ اللہ کا عذاب تم پر سے ٹل گیا ہے۔ جب اس کا عذاب آتا ہے تو مجرموں اروسر کشوں کو کوئی چیز اس سے نہیں بچاسکتی، یہ اللہ تعالیٰ کی ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ہے۔ آیت کے حصہ ذو رحمتہ واسعتہ میں تر غیب ہے۔ اور آخری حصہ میں تر ہیب ہے اور یہ خا ص قرآن کا انداز نصیحت ہے۔ ( ابن کثیر )
Ayah 6:148

سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا١ؕ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا١ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:148 in the Quran reader

قریب میں مشرک یہ کہیں گے (یہ وعدہ پورا ہوا انہوں نے ایسا ہی کہا چناچہ سورة نحل میں مذکور ہے) اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم نہ ہمارے باپ دادا کوئی شرک نہ کرتے اور نہ کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرتے9 (جیسے ان لوگوں نے تجھ کو جھٹلایا) اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے گذرے انہوں نے بھی (اپنے اپنے پیغمبروں کو) جھٹلایا، آخر ہمارے عذاب کا مزہ چکھا10

ف 9 یعنی جب وہ اپنے شرک اور مجرمانہ روش پر قائم رہنے کی دلیل نہیں پاتے تو تقدیر کا سہارالے کر کہتے ہیں کہ ہمارے حق میں خود للہ کی مرضی یہ ہے کہ ہم شرک کریں اور جو چیزیں ہم نے حرام ٹھہرائی ہیں انہیں حرام ٹھہرائیں کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ کی مرضی نہ ہوتی تو ہم سے ان اعمال کا صدور ممکن نہ تھا لہذا ہم جو کچھ کر رہے ہیں اللہ کی مرضی کے مطابق کررہے ہیں لہذا صحیح اور حق ہے۔ مطلب یہ کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی مشیت کو شرک اور محرمات کی صیحت پر بطور دلیل پیش کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ اس کی رضا اور مشروعیت کو مستلزم ہے۔ یہی ان کی سب سے بری غلطی تھی کیونکہ یہ پیغمبروں کی تکذیب کو مستلزم ہے۔ تنبیہ معتزلہ کے نزدیک مشیت اور ارادہ رضا اور امر کو مستلزم ہیں اور اہل سنت کے نزدیک ان میں استلزام نہیں ہے۔ ( روح المعانی)10 یعنی ان کا یہ عذر قطعی اور بےبنیاد ہے۔ اگر یہ صحیح ہوتا تو ان کے اسلاف پر ان جرائم اور تکذیب کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اپنا عذاب کیوں نازل کرتا ،۔ (ابن کثیر )
Ayah 6:149

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ١ۚ فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 6:149 in the Quran reader

(اے پیمبر) کہہ دے تمہاری پاس کوئی دلیل بھی ہے (اس کی کہ اللہ تعالیٰ ان کاموں سے راضی ہے اگر ہے) تو ہمارے (دکھانے کے) اس کو نکالو (پیش کرو) کچھ نہیں تم نرے گمان پر چلتے ہو اور نری اٹکلیں دوڑاتے ہو1

فوائد صفحہ ہذا۔1 یعنی تم جو یہ عذر پیش کر رہے تو وہ کسی عقلی اروعلمی بنیاد پر قائم نہیں ہے بلکہ محض تخمینہ اور گمان ہے اور اللہ پر بہتان باندھتے ہو ( ابن کثیر )
Ayah 6:150

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 6:150 in the Quran reader

(اے پیمبر ان کافروں سے) کہہ دے اپنے گواہوں کو لاؤ جو اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ نے ان چیزوں کو حارم کیا ہے (بحیرہ اور سائبہ وغیرہ) پھر اگر وہ گواہی بھی دیں (کافروں کے موافق کہیں) تو تو ان کے ساتھ ہو کر ان کی سی گواہی مت دے (ان کی بات اور گواہی کو مت مان)3 اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے اور اپنے مالک کے برابر دوسرے کو کرتے ہیں (شرک کرتے ہیں) ان کی خوہشوں پر مت چل

ف 2 یعنی ذات الہی حکمت کاملہ کی مالک ہے اس نے انسان کے فطرتا مجبوت محض نہیں بنایا بلکہ اسے ارادہ اور اختیار دیا ہے تاکہ انسان ہدایت یا گمراہی کو اپنے ارادہ سے اختیار کرے یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اتمام حجت کے لیے پیغمبر بھیجے ان پر کتابیں نازل فرمائیں تاکہ جو شخص ایمان لاتا ہے دلیل سے ایمان لائے اور جو گمراہ ہوتا ہے اتمام حجت کے بعد گمراہ ہو۔ رونہ اگر اللہ تعالیٰ کو اکرام و جبر سے ہی ہدایت پر لانا ہوتا تو کوئی شخص بھی گمراہ نہیں ہوسکتا تھا۔3 کیونکہ جو بھی اس قسم کی گو اہی دے گا وہ کبھی سچا نہیں ہوسکتا۔
Ayah 6:151

قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْ١ۚ وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:151 in the Quran reader

(اے پیمبر ان لوگوں سے) کہہ دے آؤ میں تم کو دو باتیں سناؤ جو تمہارے مالک نے تم پر حرام کی ہیں ( تم کو لازم ہے کہ تم کسی چیز کو خدا شریک مت ٹھہراؤ4 اور ماں باپ سے بھلائی کرو5 اور اپنی اولاد کو محتاجی کے ڈر سے نہ مار ڈالو6 ہم ہی تم کو روزی دیتے ہیں اور ان کو (بھی دیں گے)7 اور بےشرمی کی باتیں (جیسے زنا لواطت وغیرہ) کھلی ہو یا چھپی ان کے پاس نہ پھٹکو8 اور کس جان کا مار ڈالنا اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اس کو مت مارو مگر حق پر (جیسے قصاص یا زنا میں)9 یہ وہ باتیں ہیں جن کا اللہ نے تم کو حکم دیا اور ان کا خلاف کرنا حرام کیا) اس لیے کہ تم سمجھو

ف 4 نہ اس کی ذات میں، نہ اس کی صفات میں اور نہ اس کے اختیار ات وحقوق میں۔5 قرآن مجید کی متعدد آیات میں جہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور شرک سے بچنے کا حک دیا گیا ہے وہاں والدیں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی تاکید بھی کی گئی ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت کے بعد بندوں کے حقوق میں سب سے مقدم حق انسان پر اس کے والدین کا ہے۔6 پیدا ہو چکنے کے بعد یا جب کہ وہ ماؤں کے پیٹ میں ہو (مثلا کوئی دوائی کھلا کر قبل از وقت حمل گر ادینا (نیز دیکھئے سورة اسرا آیت 31)7 یعنی ہر متنفس کا رزق تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے تم ان کے رازق نہیں ہو۔ ( دیکھئے سورة ہود 6)8 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ چھپ کر زنا کرنے کو عیب نہ سمجھتے تھے، اور صرف اس زنا کو عیب سمجھتے جو علانیہ کیا جائے لہذا اللہ تعالیٰ نے اسے ہرحال میں حرام قرار دیا ہے یعنی پوشیدہ یاعلانیہ بلکہ یہاں تک فرمایا کہ بےحیائی کے ذرائع کے بھی قریب تک نہ جاؤ، حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ غیور ہیں اور اپنی غیرت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ظاہر اور باطن فواحش کو حرام قرار دیا ہے۔ ( ابن کثیر، ابن جریر)9 النفس یعنی جس جان کو مارڈالنا اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ اس سے مراد ہر انسانی جان ہے۔ حدیث میں ہے کہ کسی مسلمان کو خون تین حالتوں کے سوا حلال نہیں ہے۔ 1 ۔ شادی شدہ ہو کر زنا کا ارتکان کرے 2 ۔ کسی مسلمان کو ناحق عمدا قتل کر ڈالے 3 ۔ مرتد ہوجائے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ شروع کر دے۔ ( ابن کثیر )
Ayah 6:152

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١ۚ وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ١ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۚ وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَۙ Open ayah 6:152 in the Quran reader

اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جاؤ مگر اس طرح سے کہ اس کی بہتری ہو (یعنی اس کا مال بڑے اس کو فائدہ ہو تو مضائقہ نہیں جب تک وہ پورا جوان نہ ہو10 اور ماپ اور تول کو انصاف سے پورا کرو ہم ہر شخص پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے11 اور جب بات کہو تو انصاف کی کہو گو ناطے والے کا مقدمہ ہو1 اور اللہ تعالیٰ کا قول پورا کرو2 یہ وہ باتیں ہیں جن کا تم کو خدا نے حکم دیا اس لیے کہ تم کو نصیحت ہو (اور تم ان اخلاف کرنے سے پرہیز کرو)

ف 10 یعنی وہ بالغ ہوجائے اور اس میں اپنے معاملات کو نپٹا نے کی خود صلاحیت پیدا ہوجائے، دیکھئے سورة نسا آیت 6)11 لہذا اگر پورا اور اپنے کی کوشش کرے مگر بھول چوک سے غلطی کر بیٹھے تو اس سے بار پرس نہ ہوگی یہی معنی الا وسعھا کے ہیں۔ (ابن کثیر ) 1 یعنی رشتہ داری یا قرابت عد ل و انصاف میں مانع ہونے پائے اور ہر حالت اور ہر زنا میں عدل و انصاف سے کام لو۔ ( ابن کثیر)2 یعنی اللہ تعالیٰ کے تمام اوامر ونواہی بجا لوأ بجا لوؤ اور کتان وسنت کے مطابق عمل کرو، اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کرنے سے یہی مراد ہے (ابن کثیر، ) یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ ایک ہی ہے اور وہی سیدھی اور جنت تک پہنچانے والی ہے مگر شیطان نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے اس کے اردگ دبہت سے راہیں بناڈالی ہیں۔ حضرت ابن مسعود ؓ اور دیگر صحابہ ؓ سے رایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک سیدھی لکیر کھینچی اور فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کی سیدھی راہ ہے پھر آپ ﷺ نے ان کے دائیں اور بائیں کئی لکریں بنائیں اور فرمایا ان میں سے ہرا راہ پر شیطان بیٹھا ہے جو لوگو کو دوزخ کی طرف بلاتا ہے اس کے بعد آپ ﷺ نے سیدھی راہ پر ہاتھ رکھا اور یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ( ابن کثیر )
Ayah 6:153

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 6:153 in the Quran reader

اور (خدا نے یہ بھی فرمایا ہے) یہ میری سیدھی راہ ہے اس پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو وہ تم کو خدا کی راہ سے ہٹا دیں گی2 یہ وہ باتیں ہیں جن کا خدا تعالیٰ نے تم کو حکم دیا ہے اس لیے کہ تم ان کا خلاف کرنے سے) بچے رہو

اس آیت میں جس طرح ادیان باطلہ سے منع فرمایا گیا ہے اس طرح اسلام میں بھی تفرقہ پسندی سے روک دیا گیا ہے پس جو راہ کتاب وسنت کے سوا ہو جس پر تین مشھود لھا بالخیر گزرے ہیں وہ سب راستے ممنوع ٹھہرے خواہ تقلید مذاہب اربعہ ہو یہ اہل بدعت کے مشارب ہوں۔ پرانی اور ہر قسم کی بد عات گمرہ کن ہیں۔ مسلمان کو حکم ہے اللہ کا بندہ اور رسول ﷺ کی امت بن کر رہے۔ خود ائمہ دین اور سارے مجتہدین سلف وخلف نے یہی وصیت کی ہے کہ کوئی ان کی تقلید نہ کرے بلکہ سب کے سب کتاب وسنت کی اتباع کریں یہی طریقہ اہل حدیث و جماعت نے اختیار کیا ہے اور اسی کی طرف دعوت دی ہے۔ ( ما خوذ از تر جمان النواب) 4 یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور تقوی کی راہ ہے، حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کون ہے جو ان آیتوں پر میری بیعت کرتا ہے پھر آپ ﷺ نے قل تعالوا سے لعلکم تقتون تک ان تین آیتوں کی تلاوت کر کے فرمایا جس نے ان کو پورا کیا اللہ تعالیٰ کے ذمہ اس کا جر ہے اور جس نے ان میں سے کسی چیز میں کمی کی اور اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا ہی میں پکڑ لیا تو وہی اس کی سزا ہے اور جسے اس نے مہلت دی اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے چاہے اسے سزادے اور چاہے اسے معاف فرما دے ( ابن کثیر بحوالہ ترمذی وغیرہ ) 5 نیک بندے سے مراد حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو تورات دی اور ان کو اپنی نعمت سے نوازا، اس کلام سے مقصود مذکرہ وصیت کی تقریر و تحقیق ہے۔ (کذافی الروح )
Ayah 6:154

ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِیْۤ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:154 in the Quran reader

پھر (ایک بات اور بھی ہے وہ یہ ہے کہ اس سے پہلے ہم نے موسیٰ کو کتاب (توریت) دی نیک (بندے پر پورا فضل کرنے کو اور ہر چیز کا پورا بیان کرنے کو (یا ہر چیز کا اس میں پورا بیان ہے) اور لوگوں کو6 راہ دکھانے کو اور مہربانی کو (یا اس میں ہدایت اور مہربانی ہے) اس لیے کہ وہ اپنے مالک سے ملنے پر یقین لائیں (آخرت پر وہاں کے عذاب اور ثواب پر)

ف 6 یعنی بنی اسرائیل کو۔
Ayahs 6:155–156

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ Open ayah 6:155 in the Quran reader

اور یہ کتاب (قرآن شریف) برکت والی ہم نے اس کو اتارا تو (اے مکہ والو) اس پر چلو اور (اس کے جھٹلانے سے) چے رہو اس لیے کہ تم پر اللہ کی رحمت ہو

اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآئِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا١۪ وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِیْنَۙ Open ayah 6:156 in the Quran reader

یہ کتاب ہم نے اس لیے اتاری) کہیں تم ایسا نہ کہو یا اس کو برا جان کر کہ تم ایسا کہو ہم سے پہلے دو ہی گروہوں (یہود اور نصاری پر کتاب اتری اور ہم تو ان لوگوں کے پڑھنے پڑھانے سے بیخبر تھے7

ف 7 یعنی چونکہ ہم ان کی زبان نہ نانتے تھے۔ اس لیے ان کی کتابوں کا مطالعہ کرنے اور ان کے سمجھنے سے قاصر رہے۔ ( قرطبی)
Ayah 6:157

اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ١ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا١ؕ سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:157 in the Quran reader

یا ایسا نہ اگر ہم کتاب اترتی تو ہم ان سے بڑھ کر راہ پاتے لو اب تو تمہارے پاس تمہارے مالک کی طرف سے دلیل اور ہدایت اور رحمت (سب چیزیں آچکیں8 پھر اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلائے اور ان سے الگ ہوجائے (یا لوگوں کو روکے ان پر ایمان لانے سے) جو لوگ ہماری آیتوں سے الگ ہوجاتے ہیں یا لوگوں کو ان پر ایمان لانے سے روکتے ہیں) ان کو ہم اس الگ ہوجانے یا لوگوں کو ایمان لانے روکنے پر بری مار کی سزا دیں گے

ف 8 بینتہ سے مراد آنحضرت ﷺ ہوں تو معنی یہ ہو ن گے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کے لے موجب و رحمت میں جو آپ ﷺ کی اتباع کرینگے یا بینہ سے خود قرآن مجید مراد ہے جو کہ ہدایت اور رحمت پر مشتمل ہے۔ ( قر طبی، ابن کثیر )
Ayah 6:158

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّكَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِیْمَانِهَا خَیْرًا١ؕ قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 6:158 in the Quran reader

یہ لوگ اور کچھ نہیں اسی کی راہ دیکھتے ہیں کہ فرشتے ان کے پاس جان نکالنے کو آموجود ہوں یا خود پروردگار آجائے یا تیرے پروردگار کی کچھ بڑی نشانیاں آجائیں1 جس دن تیرے مالک کی کچھ بڑی نشانیاں آجائیں گی تو جو شخص اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا اس نے ایمان میں کوئی نیک کام نہ کیا ہو تو اس کا ایمان کوئی فائدہ نہ دے گا2 اے پیمبر کہہ دے ان تین باتوں میں سے کسی بات کی راہ دیکھتے رہو ہم بھی راہ دیکھ رہے ہیں قیامت ہی میں ہمارا تمہارا فیصلہ ہوجائے گا۔

یعنی ان تین چیزوں سے کسی ایک کے منتظر ہیں اور ان آیات سے مراد علامات قیامت ہیں اور وہ احادیث میں بکثرت مذکور ہیں مگر دس علامات وہ جو حذیفہ ؓ سے صحت کے ساتھ ثابت ہیں۔ (روح) جامع البیان میں ہے یعنی وہ نشان جو ان کے ایمان لانے پر مجبور کردیں مگر جمہور مفسرین کے نزدیک یہاں بعض آیات سے خاص کر سورج کا مغرب سے طلوع ہونا مراد ہے۔ کذافی المو ضح) حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ اس جملہ کی آنحضرت ﷺ نے یہی تفسیر فرمائی ہے اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک روایت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے نبی ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہوجاتا اور جب وہ طلوع ہوگا مگر اس وقت ایمان لانا کسی کو فائدہ نہ دیگا پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی بلکہ یہ تعین متعدد احادیث سے ثابت ہے۔ (کذافی الروح وابن کثیر بحوالہ صحیحین) اس کا عطف امنت پر ہے یعنی ایمان کی عدم قبولیت کے لیے ان دونوں چیزوں کا عدم شرط ہے جس سے مفہوما یہ ثابت ہوتا ہے کہ نفع کے لیے منع المخلو کے طور پر اک چیز کا تحقق ہی کافی ہے یعنی جب سورج مغرب سے طلوع ہوچکے گا تو اس کے بعد اس شخص کا ایمان قبول نہ ہوگا جو پہلے نہ ایمان لایا اور انہ اس نے معاصی سے تائب ہو کر کار خیر ہی کیا کیونکہ اس وقت ایسے شخص کا ایمان لانا یا عمل کرنا اپنے ارادہ اختیار سے نہ ہوگا بلکہ محض مجبوری کی بنا پر ہوگا کالا یمان عند الغوغرۃ اور کوئی ایما یا عمل اسی وقت معتبر ہوتا ہے جب وہ ارادہ یا اختیار سے ہو الغرض یہاں نفی عموم ہے عموم نفی نہیں ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تین چیزوں ایسی ہیں کہ جب وہ ظاہر ہوجائیں گی تو کسی ایسے شخص کو جو اس سئے پہلے ایمان نہیں لایا تھا ایمانلانا اسے کوئی فائدہ نہ پہنچا سکے گا سورج کا مغرب سے طلو ع ہونا دجال اور دبتہ الارض کا ظہور، مگر صحیح یہ ہے کہ اس سے صرف طلوع شمس من المغرب ہی مراد ہو، حافظ ابن حجر ؓ نے فتح الباری میں نقل کیا ہے کہ طلوع شمس والی علامت کے ظہور کے بعد لوگ ایک سو بیس سال تک باقی رہیں گے۔ طلوع شمس میں مغرب کی کیفیت احادیث میں مذکور ہے، ( روح المعانی )
Ayah 6:159

اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 6:159 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپن دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا3 اور کئی فرقے بن گئے تجھ کو ان سے کچھ غرض نہیں4 ان کا کام خدا کے حوالے ہے بس وہی ان کو جتائے گا جو وہ دنیا میں کرتے رہے5

ف 3 مراد یہود و نصاری ہیں جنہوں نے گمراہی میں مبتلا ہو کر اپنے دین میں فر قہ بندیاں قائم کرلیں یا تفریق دین کے یہ معنی ہیں کہ کتاب کے بعض حصوں پر ایمان لائے او بعض کے ساتھ کفر کیا اور خود مسلمانوں میں سے پیدا کر کے اس میں تفرقہ پیدا کر رہے ہیں، کذا المودی عن عائشتہ ؓ (ابن کثیر)4 یعنی آپ ﷺ ان سے بری ہیں اور ان کا آپ ﷺ سے کوئی تعلق نہیں (کذافی الکبیر)5 اور پھر ان کو ان کے لیے سزادے گا یہ وعید ہے۔ (کبیر )
Ayah 6:160

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 6:160 in the Quran reader

جو شخص قیامت کے دن ایک نیکی لے کر آئے گا اس کو دس ویسی ہی نیکیوں کا ثواب ملے گا6 اور جو کوئی ایک برائیہ لائے گا اس کو اتنی ہی ایک برائی کی سزا ملے گی7 اور ان پر ظلم نہ ہوگا

ف 6 یہاں حسنہ او سیئہ عام ہیں جو ہر قسم کی نیکی اور برائی کو شامل ہیں اور یہاں عشر امثال (دس گنا بدلہ) سے مقصد تحدید نہیں ہے بلکہ کئی دس گنے ہوسکتے ہیں جیسا کہ ایک حدیث قدسی میں ہے کہ ساتھ گنا تک اور اس سے بھی زیادہ ثواب ملتا ہے۔ جیسا کہ سورة بقرہ آیت 245، میں گزر چکا ہے۔ (رازی)7 بشر طی کہ دنیا میں توبہ نہ کرلی ہو اگر توبہ کرے یا اس کی نیکیاں برائیوں سے زیادہ ہوں یا اللہ تعالیٰ اپنے رحم و کرم سے معاف فرمادے تو یہ سزا بھی نہیں ملے گی، حدیث میں ہے کہ اگر کوئی شخص نیکی کا قصد کرے اور عمل نہ کرے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اگر اور اگر برائی کا قصد کرے اور برائی نہ کرے تو اس کا گناہ نہیں لکھا جاتا، (مسلم۔ ابن ماجہ بردیت انس بن مالک) حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ترک سیئہ تین قسم کا ہے اول یہ کہ اللہ تعالیٰ سے ڈر کر برایہ کا ترک کرے یہ چونکہ عمل اور نیت سے اس لیے اسے ایک نیکی کا ثواب ملے گا جیسا کہ الصحیح کے بعض الفاظ میں ہے فانما تر کھا من جزانی کہ اس نے مجھے سے ڈر کر برائی کر ترک کیا دوم یہ کہ نسیان اور ذہول کی وجہ سے برای نہ کرسکے اس صورت میں نہ تو اس پر گناہ ہوگا اور نہ کچھ ثواب ہی ملے گا تیسرے یہ کہ باوجود کوشش کے برائی نہ کرسکے ایسی برائی کا اس پر گنا ہوگا جیسا کہ حدیث میں ہے جب دو مسلمان تلوار سے ایک دوسرے کو قتل کر نیکی کوشش کرتے ہیں قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے لوگوں نے سوال کیا مقتول کا کیا گناہ ہے فرمایا کہ وہ بھی دوسرے کو قتل کرنے کوشش میں تھا۔ ( ابن کثیر) بعض سلف نے یہاں نیکی سے مراد توحید کا اقرار اور اور برائی سے مراد شرک لیا ہے واللہ اعلم ( قرطبی ، )