5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 5:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ١ؕ۬ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 5:1 in the Quran reader

مسلمانوں اللہ تعالیٰ حکموں کو پو راکرو3 چار پائے چر نے والے جانور تمہارے لے حلال ہیں4 مگر جو آگے تم کر پڑھ کر سنائے جائیں گے مگر جب احرام باندھے ہو حج یا عمرے کا تو شگار کو حلال نہ سمجھنا جیسے ہر دن یا نیل گائے6 بیشک اللہ جو چاہتا ہے وہ حکم دیتا

ف 3 یہ عقد کی جمع ہے اور مراد احکام شریعت ہیں قرآن نے ان کو عھود بھی فرمایا ہے دیکھئے سورت بقرہ آیت 41 ( عام عہدو پیمان بھی مراد ہوسکتے ہیں یہ حکم اکک قاعدہ کلیہ کی حیثیت رکھا ہے اس کے بعد نیچے اس کی تفصیل بیان ہو رہی ہے (کبیر، ابن کثیر)4 بھمتہ الا نعام میں اضافت نیانیہ ہے یعنی ھیمہ جانوروں میں سے صرف انعام حلال ہیں ارانعام سے مرد اونٹ گائے۔ قربھیڑ بکری ہے، دیکھئے سورت نحل آیت 5، انعام 146، (کبیر، ابن کثیر)5 یعنی اس سورت کی تیسری آیت میں،6 حالت احرام میں شکار بھی م ممنوع ہے اور شکار کرنے والے کسی طریقے سے مدد کرنے کی بھی احادیث میں ممانعت آئی ہے اور حدود حرمین کے اندر بھی یہی حکم ہے دیکھئے آیت 95 ۔ 96 (ابن کثیر )
Ayah 5:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآئِرَ اللّٰهِ وَ لَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ لَا الْهَدْیَ وَ لَا الْقَلَآئِدَ وَ لَاۤ آٰمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رِضْوَانًا١ؕ وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا١ؕ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا١ۘ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١۪ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 5:2 in the Quran reader

مسلمانوں اللہ کی نشانیاں اور اس کے حکموں کی بےعزتی نہ کرو7 نہ حرمت والے مہینے کی8 نہ نیاز کے جانور کی اف 9 نہ ان جا نوروں کی جن کے گلے میں شکن ہوں10 نہ ان لوگوں کو جو عزت والے گھر خانہ کعبہ کو جارہے ہوں اپنے ما لک کا فضل اور اس کی راضامنی چاہتے ہوں11 اور جب احرام کھول ڈالو تو شکار کرو13 اور جن لوگوں نے تم کو مسجد حرام میں آنے سے روکا تھا حدیبیہ کے سال ان کی دشمنی تم سے زیادتی نہ کرئے3 اور آپس میں ایک دوسرے کی نیکی اور پرہیز گاروں میں مدد کر وف 1 ور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہو بیشک اللہ تعالیٰ کا عذاب سخت ہے

ف 7 شعائر یہ شعیرہ (یا سعارۃ) کی جمع ہے اوشعیرہ (نعیلہ) یعنی مشعرۃ (مفعلہ) ہے یعنی وہ چیز جس پر نشان لگایا ہو یا جو بطور علامت مقرر کی گئی ہو اس سے مراد شریعت کے جملہ اور نواہی ہیں۔ ان کو حلال نہ سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کو ترک نہ کرو یا بےحرمتی نہ کرو۔ بعض نے مناسک حج بھی مراد لیے ہیں (کبیر)8 یہ چار مہینے میں ذوالقعدۃ ذوالحجہ۔ محرم اور رجب مطلب یہ کہ ان میں جنگ کر کے ان کی بےحرمتی نہ کرو تفصیل کے لیے سورت توبہ 36 ۔ (کبیر)9 بدیٰ خانہ کعبہ کی نیاز کے جانور یعنی جو قربانی کے جانور خانہ کعبہ بھیجے جائیں ان کو راستے میں مت روکو، یہ جانور گو شعائر اللہ کے تحت ہی آجاتے تھے لیکن ان کے مزید احترام کی خاطر ان کو الگ بیان کردیا گیا ہے10 یہ قلادۃ کی جمع ہے جس سے مراد وہ رسی ہے جس میں جوتی وغیرہ پر وکر بدی کے گلے میں بطور علامت باندھ دی جاتی ہے اس کا اطلاق اس جا نور پر بھی ہوتا ہے جس کے گلے میں یہ پٹہ ڈالاہوا ہو چناچہ ترجمہ اسی کے پیش نظر ہے۔11 دب کے فضل سے مراد رزق ہے ج تجارت وغیرہ کے ذریعہ کمایا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی سے مراد حج یا عمرہ ہے جو طلب ثواب کے لیے کیا جاتا ہے مطلب یہ ہے کہ حج یا عمرہ میں تجارت کی نیت بھی کرلی جائے تو ممنوع نہیں ہے بعض نے فضل سے ثواب ہی مراد لیا ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ نے ثواب اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے مکہ جا رہے ہیں (ابن کثیر) اگر اس کے تحت مشرک بھی داخل ہوں تو معنی یہ ہوں گے کہ وہ بھی اپنے زعم میں اللہ تعالیٰ کی خشنودی حاصل کرنے کے لیے جاتے ہیں لہذا ان کو تکلیف مت دو مگر یہ حکم سورت توبہ آیت 28 کی رو سے منسوخ ہوگا۔ (ابن کثیر قرطبی)12 یہ مربرائے اباحت یعنی احرام کھولنے کے بعد شکار جائز ہے ( ابن کثیر)13 حضرت زید ؓ بن اسلم فرماتے ہیں حدیبیہ کے سال تقریبا ڈیڑ ھ ہزار مسلمان عمرہ کیے بغیر واپس چلے آئے تو ان کے دل میں نہایت غصہ اضطراب تھا۔ اس سال نجد کے کچھ مشرک بھی عمرہ کے لیے مکہ معظمہ جارہے تھے وہ مدینہ کے پاس سے گزرنے لگے تو مسلما نوں نے ارادہ کیا کہ جس طرح مشرکین مکہ نے ہمیں عمرہ سے روک دیا ہے ہم بھی ان کو روک دیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرائی (ابن کثیر) مطلب یہ کہ انہوں نے گو شعائر اللہ کی بےحرمتی کی ہے مگر تم اس سے دشمنی سے مغلوب ہو کر انتقامی کاروائی مت کرو۔ 1 ہر قسم کا نیک کام کرنے کا نام بر ہے اور برائی کر ترک کرنے کا کام تقویٰ ہے باہم تعاون اور عدم تعاون کے لیے ایک اصول مقرر کردیا ہے جس سے اسلامی معاشرہ میں برائیوں کا سدباب ہوسکتا ہے۔ حدیث میں ہے انصر اخاک ظالما او مظلوما کہ مسلمان بھائی کی مدد کرو خواہ وہ مظلوم یا ظالم ہی کیوں نہ ہو اور ظلم ہی کیوں نہ ہو اور ظالم ہونے کی صورت میں اس کی مدد یہ ہے کہ اسے ظلم سے روکا جائے ، (ابن کثیر )
Ayah 5:3

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَ الْمُنْخَنِقَةُ وَ الْمَوْقُوْذَةُ وَ الْمُتَرَدِّیَةُ وَ النَّطِیْحَةُ وَ مَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّیْتُمْ١۫ وَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ١ؕ ذٰلِكُمْ فِسْقٌ١ؕ اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِیْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِ١ؕ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا١ؕ فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:3 in the Quran reader

حرام ہے تم پر مر دار جو اپنی موت سے مرجائے بہتا ہوا دوسری آیت میں ہے اور سور کا گوشت اور جس جانور پر خدا کے سوا کسی کا نام پکارا جائے2 اور جو گلا گھٹ کر مرے اور جو چوٹ لگ کر مرے3 اور جو گر کر مراے اور جو سینگ لگ کر مرے اور جس کو درند نے پھاڑ کھا یا ہو مگر جب تم اس کو مر نے سے پہلے حلال کرلو4 اور جو تھانوں پر ذبح کیا جائے5 اور حرام ہے پائے ڈال کر بانٹا6 یہ سب باتیں یا پانے ڈالنے گہا ہے اور حرام اور گمراہی آج کا ذکر تمہارے دیک کی طرف ناامید ہوئے تو ان سے کافروں سے مت ڈور مجھ سے ڈرو7 آج میں نے تمہارا دین پورا کردیا اور تم پر اپنا احسان تمام کیا اور ادین اسلام کو تمہارے لیے پسند کیا8 پھر جو بھوک سے بیقرار ہوجائے اور گناہ کرنا چاہیے تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہر بان ہے9

ف 2 اس سے معلوم ہوا کہ غیر خدا کے نام پر جانور ذبح ہو یا غیر خدا کی تعظیم میں وہ مردار ہے (موضح) مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورت بقرہ آیت 173)3 مثلا کسی ایسے آلہ سے قتل کردیا جائے جو تیز نہ ہو اور نہ اسے شرعی طریقہ ہی سے ذبح کیا گیا ہو۔ زمانہ جاہلیت میں جانور کو لاٹھی سے مارتے جب وہ مرجاتے تو اس کا گوشت کھالیتے اسی کو قرآن نے المو قوذۃ فرماکر قرار دیا ہے۔ (ابن کثیر)4 یہ مستثنی ٰ متصل ہے یعنی جو جانور مذکورہ بالا صورتوں میں سے کسی ایک صورت کا شکار ہو مگر ابھی اس میں جان باقی ہو اور تم اسے شرعی قاعدے سے ذبح کرلو تو وہ حرام نہیں رہتا اسے کھان جائز ہے بض نے اسے مستثنی ٰ منقطع مانا ہے یعنی مذکورہ چیزیں تم پر حرام ہیں لیکن جو تم زبح کرو وہ حرام نہیں ہے (قرطبی) زکاۃ شرعی ہے کہ بسم اللہ واللہ اکبر کہہ کر تیز دھار ولی چیز سے حقل کی رگوں کو غلصمہ کے نیچے سے کاٹ کر خون بہا دیا جائے حدیث میں ہے انما الذکوٰۃ فی الحلق کہ ذبح وہ ہے جو حقل میں ہو پھر بحالت اضطراری جس چیز سے بھی جسم کے کسی حصہ سے خون بہا دیا جائے اس ذبیحہ کا کھانا بھی جائز ہے۔ (قرطبی)5 نصب (تھانوں یا استھانوں) سے مراد وہ پتھر ہیں جن کی مشرکن مکہ تعظیم و پرستش کرتے تھے اور ان پر اپنے جا نور ذبح کرتے تھے مطلب یہ ہے کہ ان پتھروں کی تعظیم کے لیے جو جانور زبح کیا وہ حرام ہوگا ورنہ محض ان پتھروں پر ذبح کرنے سے جانور حرام نہیں ہوجاتا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ علیٰ بمعنی لام ہو یہ بھی دراصل ما اھل لغیر اللہ میں داخل ہے مگر ان پتھروں پر بکثرت ذبح کیے جانے کے سبب اس کو الگ ذکر کردیا گیا ہے (کبیر، قرطبی) بعض مفسرین نے الاذلام (پانسوں سے مراد تقسیم کے تیر لیے ہیں جو زمانہ جاہلیت میں جا نور کا گوشت بانٹنے میں استعمال ہوتے تھے اور وہ جوئے کی ایک صورت تھی جسے ہمارے زمانہ میں لاٹری کہا جاتا ہے، چناچہ ترجمہ اس کو ملحوظ رکھا گیا ہے لیکن اکثر مفسرین نے ان سے مراد وہ تیر لیے ہیں جن سے مشرکین مکہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ پیش آمدہ سفر جنگ یا کسی معاملہ میں ان کی قسمت میں کیا لکھا ہے یہ تیر قریش کے سب سے بڑے بت ہبل کے پاس رکھے رہتے تھے ان میں سے کسی پر امرنی ربی (میرے رب نے حکم دیا) لکھا ہوتا تھا کسی پر نہانی ربی (میرے رب نے مجھے منع کیا) اور کسی پر کوئی تحریر نہ ہوتی تھی۔ عرب لوگ کسی پیش آمدہ معاملہ میں وہ تیر گھماتے اور جو تیر نکل آتا اس کے مطابقا عمل کرتے۔ نرد اور سطرنج بھی اسی میں داخل ہیں اور نجومیوں کا حساب لگا کر قسمت بتانا بھی اسی کے تحت آجاتا ہے۔ (قرطبی)7 یعنی اب تمہارے طاقت اس قدر مستحکم ہوگئی ہے کہ تمہارے دشمنوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے اور وہ اس چیز سے قطعی مایوس ہوگئے ہیں کہ تمہارے دین کو نیچا دکھا سکیں آج سے مراد حجتہ الوداع (10 ھ میں عرفہ کا دن ہے جس میں آیت نازل ہوئی۔ ّقرطبی)8 دین کو مکمل کردینے سے مراد یہ ہے کہ اس کے تمام ارکان فرائض سنن حدود اور احکام بیان کردیئے گئے اور کفر وشرک کا خاتمہ کرکے اس نعمت کو مکمل کردیا گیا نبی ﷺ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد 18 دن زندہ رہے بعد وفات پاگئے۔ علمانے لکھا ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آیت ربا (سود کی حرمت) اور آیت کلالہ نازل ہوئی ہیں پس دین کے مکمل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ دین کا بڑا حصہ مکمل کردیا گیا ہے (ابن کثیر، قرطبی)9 یعنی ایسا مجبور اور لاچار آدمی اگر مذکورہ بالا حرام چیزوں میں سے کچھ کھالے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر کچھ مواخذ ہ نہ ہوگا بشر طی کہ خواہ مخواہ حرام کھانے کا شوق نہ ہو اور جان بچانے کی حد سے زیادہ نہ کھائے (دیکھئے سورت بقرہ آیت 173)
Ayah 5:4

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْ١ؕ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ۙ وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ١٘ فَكُلُوْا مِمَّاۤ اَمْسَكْنَ عَلَیْكُمْ وَ اذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 5:4 in the Quran reader

اے پیغمبر لوگ تجھ سے پو چھتے ہیں پھر حلال کون کون سی چیزیں ہیں کہہ دے ستھری پاکیزہ کھانے کی جیزیں10 اور شکاری جانور جو تم نے سدھا رکھے ہوں جن کو تم ان باتوں سے کچھ سکھلاتے ہو کہ جو اللہ نے تم کو سکھلائیں یعنی شکار کا طریقہ اور ادب اور تمیز اگر جا نور کو تمہارے لیے دبوچ رکھیں اور اس سے کھائیں نہیں تو اس کو کھاؤ اگرچہ وہ زبح کرنے سے پہلے مرگیا ہو اور اللہ کا نام اس پر یعنی شکاری جانور کو چھوڑ تے وقت لے11 لیا کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ جلد حسان لینے والا ہے

ف 10 مواشی کا حکم تو فرمادیا۔ پھر لوگون نے اور چیزوں کو پوچھا تو فرمایا ستھر چیزیں تم کو حلال ہیں۔ سو حضرت ﷺ جو چیزیں منع فرمائیں معلوم ہوا کہ وہ ستھری نہیں جیسے پھاڑنے والا جانور مثلا شیر چیتا باز یا چیل اور اس میں داخل ہوئے مردرار خوار سارے کو 3 وغیرہ اور جسئے گدھا اور خچر اور جیسے کیڑے کے مثلا چوہا وغیرہ (از موضح)11 شکاری جا نور سے ہر وہ درندہ یا پرندہ مراد ہے جس کا شکار کے لیے رکھا اور سدھا یا جاتا ہے اور اس کے سدھائے ہوئے ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ شکار پر چھوڑا جائے تو اس کو پانے مالک کے لیے پکڑے اگر وہ شکار پکڑ کر خود کھانے لگے تو اس کا شکار کھانا درست نہیں ہے اور یہی معنی مما امسکن کے ہیں حضرت عدی ؓ نبی ﷺ یہ مسئلہ دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر اسے (یعنی شکاری کتے کو) چھوڑ تے وقت تم نے اللہ کا نام لیا ہے تو اسے کھا و ورنہ مت کھا و اور اگر اس نے شکار سے کچھ کھالیا ہے تو بھی نہ کھا و کیونکہ اس نے دراصل وہ شکار اپنے لیے پکڑا ہے (بخاری )
Ayah 5:5

اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ؕ وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ١۪ وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ١٘ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَ لَا مُتَّخِذِیْۤ اَخْدَانٍ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ١٘ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 5:5 in the Quran reader

آج تم کو سب ستھری چیزیں حلائیں اور کتاب والوں کا کھانا تم کو ہے اور تمہارا کھانا حلال ہے1 اور مسلمان آزاد یا پاک دامن بی بیاں اور تم سے پہلے جن کو کتاب دی یہود اور نصاری ان میں کی آزاد یا پاک دامن2 جب تم ان کا مہر ان کے حوالے کرو اور تمہارا وہ ان کو نکاح میں لا کر بچنے کا ہو نہ مستی نکالنے کا کھلم کھلا زنا کرنے کا نہ چوری چھپے آشنا بنانے کا اور جو کوئی ایمان کی باتوں کو نہ مانے اس کا اگلا کیا دھرا اکارت ہوگیا اور آخرت میں وہ ٹوٹا اٹھانے والے میں ہوگا3

ف 1 حاصل یہ کہ اہل کتاب یہود و نصاریٰ ) کا طعام (جس میں ذبیحہ بھی شامل ہے) مسلمانوں کے لے حلال ہے بشرطیکہ انہوں ن غیر اللہ کے نام پر ذبح نہ کیا ہو۔ حدیث میں ہے کہ ایک یہود عورت نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ایک بھنی ہوئی بکری پیش کی اور آپ ﷺ نے اس میں سے کھالیا۔۔ اس طرح بعض صحابہ ؓ نے وہ چربی کھائی جو خیبر کی جنگ میں یہودیوں سے حاصل ہوئی تھی مگر جو چیزیں ہماری شریعت میں فی نفسہ حرام ہیں جیسے مردار خون اور اسئو کا گوشت وغیرہ ان کا اہل کتاب کے دستر خوان پر کھنا بھی حرام ہے ، (قرطبی، ابن کثیر)2 یعنی ان سے نکاح کرنا درسرت ہے چاہے وہ اپنے دین پر قائم رہیں لیکن اس شر ط کے ساتھ کہ وہ پاک دامن ہوں نہ کہ آزادنش اور آوارہ قسم کی جو انسان کے ایمان کو بھی تباہ کر ڈالیں جمہور کے نزدیک یہاں المحصنات سے یہی منعی مراد ہیں تاکہ حشفا وسو کیلتہ (ردی کھجور اور برا ماپ) کی ضرب المثل صادق نہ آئے (ابن کثیر گو یا دوسری مشرک عورتوں سے ان کو مستثنیٰ قرار دیا ہے اور بہت سے صحابہ ؓ نے اس آیت کے تحت کتابی عورتوں سے نکاح کر رکھتے تھے مگر حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ صرف موحہ کتابیہ سے نکاح جائز سمجھتے تھے۔ (شوکانی)3 اس میں تنبیہ کی گئی ہے کہ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کرنا صرف جائز ہے مستحب اور مستحسن نہیں ہے اور یہ کہ جو شخص اس اجازت سے فائدہ اٹھائے اس اپنے ایمان کی طرف سے ہو شیار رہنا چاہیے ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی غیر مسلم بیوی سے متاثر ہو کر اپنے ایمان واخلاق سے ہاتھ دھو بیٹھے (م۔ ع)
Ayah 5:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِ١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُ١ؕ مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:6 in the Quran reader

مسلمان جب تم کہنیوں تک5 یعنی کہنیوں سمیت اور اپنے سر پر مسح کرو6 اور دونوں پاؤں دو نوں ٹخنوں تک دھو ؤف 7 اور اگر تم کو نہانے کی حاجت ہو تو اچھی طرح پاک ہوجاؤ یعنی غسل کرلو اور جو تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم سے کوئی پاخانہ پھر کر آنے یا تم نے عورتوں سے صحبت کی ہو اور پائی نہ پاؤ پانی نہ ملے یا اس کا استعمال نہ کرسکے تو پاک دامن کا قصد کرو اور منہ اور ہاتھوں پر مسح کرلو8 اللہ تعالیٰ تم کو تکلیف دینا نہیں چاہتا بلکہ تم کو پاک کر چاہتا ہے جب تو پانی کے بدل مٹی سے طہارت کرنے کی اجا زت دی اور اپنا احسان تم پر پو را کرنا اس لیے کہ تم شکر کرو اور شکر کا ثواب حاصل کرو

ف 4 اوپر کی آیات میں افو بالعقود کے تحت حلال اور حرام چیزیں بتائی گئی تھیں اب اس آیت میں اس کے تحت وضو اور تیمم کے احکام بیان فرمائے ہیں جو کہ عقود میں داخل ہیں اور سہولت پر مشتمل ہونے کا اعتبار سے اتمام نعمت بھی ہیں (کبیر، قرطبی) غزوہ مریسیع (5 ھ) میں حضرت عائشہ ؓ کا ہار گم ہوگیا تھا ہا رکی تلاش میں صبح ہوگئی اور پانی موجود نہ تھا صحانہ ؓ نے پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کی رخصت حاصل کی ہے کیونکہ وضو تو پہلے بھی معلوم تھا، اس لیے علما نے اس آیت کو آیت وضو کہنے کی بجائے آیت تیمم بھی کہا ہے (قرطبی) اور بےوضو ہو کی قید جمور اہ علم نے لگا یہ ہے کہ کیونکہ اگر انسان پہلے سے باوضو ہو تو دوبارہ وضو کرنا فرض نہیں بلکہ مستحب ہے۔ (کبیر ) اس آیت میں فرائض وضو کا بیان ہے۔ وضو میں سب سے پہلے نیت ضروری ہے کیونکہ حدیث میں ہے انما الا عمال بالنیات کہ تمام اعمال عبادت کے لیے نیت ضروری ہے اس لیے امام بخاری فرماتے ہیں کہ اس میں ایمان وضو، نماز، ، زکوٰۃ، حج، روزہ۔ الغرض تمام اعمال داخل ہیں پھر قرآن نے اعضا اربعہ کا وضو ذکر کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ ان کے علاوہ باقی سب آداب وسنن ہیں (قرطبی)5 یعنی کہنیوں سمیت حدیث میں ہے جب آنحضرت ﷺ وضو فرماتے تو تو اپنی کہنیوں پر بھی پانی ڈالتے (دارقطنی) مگر مگر یہ حدیث ضعیف ہے (ابن کثیر)6 گوعلمان لکھا ہے کہ سارے سرکا مسح فرض نہیں ہے بلکہ سر کے کچھ حصہ کا مسح کرلیا جائے تو بھی کافی ہے مگر قرآن کے ظاہر اراکثر احادیث کے رو سے سارے سرکا مسح کرنا چاہیے ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے آپ ﷺ نے باقی سرکا مسح عمامہ مبارک پر پور کیا۔ لہذا اس حدیث سے بعض حصہ سر (خصوصاربع راس) کی تخصیص پر استدلال صحیح نہیں ہے) قرطبی) سرکے مسح میں کانوں کا مسح بھی شامل ہے مگر چونکہ یہ احادیث سے ثابت ہے اس لیے بعض سلف نے اس کو مستقل سنت قرار دیا ہے۔ واللہ اعلم (قربطی) سرکے ساتھ گردن کے مسح کا کوئی ثبوت نبی ﷺ یا صحابہ ؓ سے نہیں ملتا۔7 وارجلکم میں لام کے زبر اور زیر کے ساتھ دو قرا تیں مروی ہیں فتح لام والی قرات کی رو سے تو ظاہر ہے کہ پاوں کا ٹخنوں تک دھونا ثابت ہوتا ہے جمہور بلکہ جمیع علما سنت کا یہی مذ ہے ہے اور آنحضرت ﷺ سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ آپ ﷺ پاوں دھو یا کرتے تھے اور مسح نہ فرماتے تھے۔ صحابہ ؓ میں سے صرف حضرت علی ؓ ، ابن عباس ؓ اور حضرت انس ؓ سے (کسرۃ لام والی قرات کی رو سے) وضو میں پاوں پر مسح کی روایات ملتی ہیں مگر ان سے بھی جو رجوع ثابت ہے۔ فتح لیکن مسح کے معنی غسل خفیف بھی آتے ہیں لہذا ان کی مراد یہی معنی ہیں۔ (قرطبی) ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے کچھ صحابہ ؓ کو وضو کرتے دیکھا کہ ان کی ایڑیوں کی خشکی چمک رہی ہے تو نبی ﷺ نے بلند آواز سے دو یاتین مرتبہ فرمایا کہ ان یڑیوں کے لے آگ کا عذاب ہے یعنی ایڑیو ن کو اچھی طرح سے دھو و حتی ٰ کہ خشک رنہ رہنے پائیں (بخاری مسلم) فقہا میں سے ابن جریر، طبری کے متعلق مشہور ہے کہ وہ پاوں غسل اور مسح دونوں میں تھنیر کے قائل تھے مگر حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں دراصل طبری کا یہ مذہب نہیں ہے بلکہ مسح بمعنی ولک یعنی پاوں کو مل دھونے کے معنی میں ہے یعنی امام طبری صرف دھونے کے قائل نہیں تھے بلکہ مل کر دھونے ضروری قرار دیتے تھے (ابن کثیر) مسئلہ وضو میں ترتیب بھی ضروری ہے جیسا کہ فاغسلوا فا سے ثابت ہوتا ہے کہ چہرہ کا پہلے دھونا ضروری ہے لہذا باقی اعضا میں بھی ترتیب ضروری ہوگی ورنہ اجماع لازم آئے گا اور پھر آنحضرت ﷺ نے ہمیشہ وضو مرتب کیا ہے۔8 تیمم کے لیے دیکھئے سورت نسا آیت 43)
Ayahs 5:7–8

وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَكُمْ بِهٖۤ١ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 5:7 in the Quran reader

اور اللہ نے جو احسان تم پر کیا ہے اور اس اقرار کو جو پکا کر کے تم سے لیا اس کو یاد کرو جب تم نے کہا تھا ہم نے سنا اور مانا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور اپنا اقرار نہ تو ڑو کیونکہ اللہ دلوں کی بات جانتا ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ١٘ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا١ؕ اِعْدِلُوْا١۫ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:8 in the Quran reader

تو کھلی کیونکہ نہ جانے گا1 مسلمانو خدا واسطے انصاف کے ساتھ گواہی دینے پر مستعد رہو اور لوگوں کی دشمنی سے بےانصافی نہ کر ائے انصاف کرو انصاف ہی پرہیز گاری تک پہچنے کی نزدیک راہ ہے اور اللہ سے ڈرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کو خبر ہے جو تم کرتے ہو2

ف 1 اس آیت میں نعمت سے مرا اسلام ہے اور میثاق (اقرار) سے مراد وہ عہد ہے جو آنحضرت ﷺ ہر آدمی سے مسلمان ہونے پر لیا کرتے تھے کہ وہ خوشی اور رنج ہرحال اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سمع و اطاعت کرے گا یہ عہد اگرچہ نبی ﷺ لیاکر تے تھ لیکن چونکہ وہ اللہ کے حکم سے تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف منسوب فرمایا فتبا لمنکر السنتہ اور اس سے مراد وہ عہد بھی ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ذریت آدم سے لیا تھا اور یہ بھی کہ یہود کی متنبہ فرمایا ہو کہ آخری نبی آنحضر ﷺ کی متابعت کا جو عہد تم سے لیا گیا ہے اس کو پورا کرو مگر پہلا قول زیادہ صحیح ہے (ابن کثیر)2 آیت کریمہ میں اللہ سے حقوق الہیٰ کی نگہداشت کی طرف اشارہ ہے یعن خاص اللہ تعالیٰ کی رضامندی حا صل کرنے کے لیے حق پر قائم رہو۔ اور شھد دابلقسط سے حقوق العباد کی نگرانی کا حکم ہے۔ (کبیر) یہ تمہید ہے اور اس کے بعد دشمن کے بارے میں کچھ ہدایات دی ہیں جن کا تعلق حقوق العباد سے ہے اس لیے آگے انہی کی تفصلی ہے یعنی کسی نے تمہارے ساتھ کتنی ہی دشمنی کا معاملہ کیوں نہ کیا ہو تم بہرحال اس سے معاملہ کرتے وقت عد ل وانصف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔ یہ آیا یہود بنو نضیر کے بارے میں نازل ہوئیں نبی ﷺ ایک دیت کے سلسلہ میں ان کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ ﷺ کو قتل کرنے کی سازش کی ابن کثیر۔ ابن جریر) شاہ صاحب (رح) لک تھے ہیں اکثر کافروں نے مسلمانوں سے بڑی دشمنی کی تھی پیچھے مسلمان ہوئے تو فرمایا کہ ان سے وہ دشمنی نہ نکالو۔ اور ہر جگہ یہی حکم ہے حق بات میں دوست اور دشمن برابر ہیں۔ ( مو ضح)
Ayahs 5:9–11

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:9 in the Quran reader

جو لوگ ایما لائے اور اچھے کام کئے اللہ نے ان کو بخشش اور بڑا ثواب دینے کا وعدہ کیا ہے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 5:10 in the Quran reader

اور جو کافر ہوئے اور ہماری آیتوں کو جھٹلا یا وہ دوزخی ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ فَكَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 5:11 in the Quran reader

مسلمانوں کا واہ احسان تم پر یاد کرو جب کچھ لوگوں نے تم پر ہاتھ چلانا ہا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے تم سے ان کا ہاتھ روک دیا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھرو سا رکھنا چا ہیئے3

ف 3 عمومی انعامات کے بیان کے بعد اب خصوصی انعامات کا ذکر ہے۔ (کبیر) حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ایک سفر کے دوران میں غزوہ ذات الرقاع میں) آنحضرت ﷺ نے ایک جنگ میں پڑا و فرمایا صحابہ کرام ؓ سائے کی تلاش میں ادھر ادھر بکھر گئے آپ ﷺ بھی ایک درخت کے سائے میں لیٹ گئے اور تلوار درخت سے لٹکا دی۔ اتنے میں ایک بدو (غورثبن حارث) آیا اور تلوار سونت کر کہنے لگا اب آپ کو مجھ سے کون بچاسکتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ اس پر تلوار اس کے ہاتھ سے گرگئی آپ ﷺ نے اسے اٹھا لیا اور اس بدو سے فرمایا اب بتاو تمہیں کو ب بچائے گا وہ کہنے لگا آپ بہترین پکڑنے والے نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اتم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں اور یہ کہ میں اس کا رسول ﷺ ہوں وہ کہنے لگا میں عہد کرتا ہوں کہ نہ آپ ﷺ سے خود جنگ کرو نگا اور نہ آپ ﷺ سے جنگ کرنے والوں کی م دد کرونگا اس پر آپ ﷺ نے اسے چھوڑ دیا۔ حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک دیت کے سلسلہ میں نبی ﷺ بن نضیر مدینہ کے یہودیوں کے ایک قبیلہ کے ہاں تشریف لے گئے انہوں نے آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو ایک دوسرے کو سائے میں بٹھا یا اور آپس میں اسکیم بنائی کہ ان کے اوپر چٹان یا چکی کا پاٹ گرادیا جائے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو خبردار کردیا اور آپ ﷺ نے وہاں سے اٹھ گئے (ابن کثیر، فتح البیان) ممکن ہے قرآن نے اس ایک آیت میں ان متعدد وقعات کی طرف اشارہ فرمادیا ہو اور یہ بھی ہوتا ہے کہا یک آیت ایک وقعہ کے متعلق نازل ہوتی ہے پھر یاد دہانی کے لیے دوسرے واقعہ میں اس کی طرف اشارہ کردیا جاتا ہے (المنار۔ قرطبی )
Ayah 5:12

وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۚ وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا١ؕ وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعَكُمْ١ؕ لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّكٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 5:12 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ اے مسلمانوں تم سے پہلے بنی اسرائیل سے اقتدار لے چکا ہے اور ہم نے ان میں بارہ نقیب سردار مقرر کیے تھے4 اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے فرمایا قسم ہے میں تمہارے ساتھ ہوں تمہاری مدد کروں گا اگر تم نماز کو درستی سے ادا کرو گے اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے جو پیغمبر میں بھیجوں اور ان کی عزت کرتے رہو گے یا ان کی مدد کرتے رہو گے اور اللہ تعالیٰ کی قرض حسنہ دیتے رہو گے تو میں ضرور تمہارے گناہ تم پر سے اتاردوں گا معاف کردوں گا اور تم کو آخرت میں ان باغوں میں لے جاؤں گا جن کے تلے نہریں پڑی بہ رہی ہیں پھر جو کوئی ایسا پکا اقرار کر کے تم میں سے پلٹ جائے تو وہ سیدھے رستے سے بہک گیا

ف 4 یعنی سمع وطاعت کا یہ عہد سے نہیں لیا گیا بلکہ تم سے پہلے بنی اسرائیل سے بھی اسی قسم کا عہد لیا گیا تھا مگر انہوں عہد شکنی کی اور ذلت ومسکنت میں گرفتا رہو گئے لہذا مسلمانو تم ان جیسے نہ بنو۔ ( کبیر) بنی اسرائیل کے کل بارہ قبیلے تھے اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ہر ایک قبیلہ پر ایک سردار خود ہی اس قبیلہ سے مق ر کرنے کا حک دیا تھا تاکہ وہ ان کے حالات پر نظر رکھے اور انہیں اپنے وعہد پر قائم رہنے کی ہدایت کرتا رہے بعض مفسرین ؓ نے لکھا ہے کہ یہ نقباان جبارین قوم کی خبر لانے کے لیے مقرر کئے تھے جن کا ذکر آگے آرہا ہے (ابن کثیر) ظاہر الفاظ سے پہلی بات صحیح معلوم ہوتی ہے آنحضرت ﷺ نے بھی لیلہ اعقبہ میں جب سمع وطاعت پر بیعت لی تھی تو ان پر اور نقیبہ ہی مقرر کئے تھے (قرطبی)
Ayah 5:13

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةً١ۚ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ١ۙ وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:13 in the Quran reader

پھر ان لوگوں جو اپنا اقرار توڑ اسی وجہ ہم کے ان کو پھٹکار دیا اون کے دل سخت کر دئیے1 وہ توریت شریف کے لفظوں کو اپنے اپنے ٹھکانے سے بد ل دیتے ہیں3 اور جو نصیحت ان کو کی گئی تھی اس میں سے ایک حصہ بھلا بیٹھے4 اور چند آدمیوں کے سوا ہمیشہ ایک نہ ان کو چو ری تجھ کر معلوم ہوتی رہے گی تو بال فعل ان کا قصور معاف کر اور ان سے در گزر کر7 کیونکہ اللہ تعالیٰ نیکوں سے محبت رکھتا ہے جو قصور معاف کردیتے ہیں

ف 1 یعنی اس کی راہ میں خرچ کرتے رہو گے، جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ اس کا کئی گنا بدلہ عنایت فرمائے گا اس لیے قرآن کی متعدد آیات میں اس مال خرچ کرنے کو قرض کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے یہ خطاب یا تو بنی اسرائیل سے ہے اور یا اس کے مخاطب صرف نقبا ہیں (کبیر)2 یعنی ان کے دلوں میں نفاق بھر گیا ہے قسیتہ یا قا سیتہ اصل میں اس سکے کو کہتے ہیں جس میں ملاوٹ ہو، یہ قسوۃ سے جس کے معنی شدت اوسختی کے ہیں خالص سونا اور چاندی نرم ہوتے ہیں اور جتنی ان میں ملاوٹ زیادہ ہو اتنا ہی وہ زیادہ سخت ہوجاتے ہیں اس تشبیہ کی رعایت سے ان کے دلوں کو جن میں نفاق بھرا ہوتا ہے قاسیتہ فرمایا ہے (قرطبی۔ کبیر) یعنی ایک لفظ کی بجائے دوسرالفظ رکھ دیتے یا اس کی غلط تاویل کرتے اور اپنے ہی کرتب سے انہوں نے نبی ﷺ کی ان صفات کو بد ڈالا تھا جو تورات میں مذکورتھیں (قرطبی)4 یعنی تورات کے بہت سے حصہ پر عمل تر کردیا جیساک آنحضرت ﷺ پر ایمان لانا اور زانی کو سنگسار کرنا وغیرہ (کبیرہ۔ ابن کثیر)5 خاتنتہ بمعنی مصدر ای الخیانتہ اور صفتہ ای علی ٰ فرقتہ خائنتہ (کبیر) یعنی ان سے آئے سن کسی ہ کسی خیانت اور بد عہد ی کا ظہو رہوتا رہے گا یا ان میں ہمیشہ ایسے لوگ موجود رہیں گے جو خیا نت اور بد عہد ی کا ارتکاب کرتے رہنیگے اور آپ ﷺ کو ہرگز ان کی طرف سے امن نصیب نہ ہوگا۔6 یعنی ان میں چند لوگو ایسے ہیں جو کسی خیانت وبد عہدی کا مظاہرہ نہیں کرینگے ان سے خا ص کر عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھ مراد ہیں یا پھر تمام وہ تمام لوگ جنہوں نے کفر کے باوجود کسی قسم کی خیانت یا بد عہدی نہیں کی (کبیر)7 یعنی ان کی انفرادی خیانتوں اوابدعہد یوں سے نہ کر ان بد عہد یوں سے جو اجتماعی طور پر ہو کرتے ہیں۔ کیونکہ اس صورت میں تو وہ واضع طورپ حربی قرار پائیں گے جن کی سرکوبی بہر حال کی جائے گی (المنار) یا یہ کہ نوجوان میں سے خیانت کا ارتکاب نہیں کرتے اور اپنے عہد پر قائم ہیں ان کی دوسری لغزشوں سے درگزر فرمائیں (کبیر) ان دونوں صورتوں میں یہ آیت محکم رہے گی ورنہ اسے آیت قتال سے منسوخ کہا جائے گا۔ (کبیر )
Ayah 5:14

وَ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى اَخَذْنَا مِیْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١۪ فَاَغْرَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ سَوْفَ یُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:14 in the Quran reader

اور جو لوگ کہتے ہیں ہم نصاری ہیں ان سے بھی ہم نے اقرار لیا تھا جیسے اسرائیل سے لیا تو جو نصیحت ان کو کی گئی تھی اس کا ایک حصہ وہ بھی بیٹھے آخر اس کی سزا یہ ہوگی تم نے ان سے آپس میں یا ان میں اور یہود میں قیامت تک عداوت اور دشمنی ڈال دی اور آخرت قیامت کے اللہ تعالیٰ ان کے جو کو کچھ وہ دنیا میں کرتے ہیں بتلا دے گا10

ف 8 یعنی اللہ کے مددگار چونکہ یہ لوگ اپنے اس دعویٰ میں جھوٹے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے نصاری سے اقرار لیا بلکہ یہ فرمایا کہ ہم نے ان لوگوں سے اقرار لیا جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ یہود کی طرح نصاری ٰ سے بھی ہم نے توحید اور نبی آخرالزمان پر ایمان لانے کا عہد لیامگر انہوں نے بھی اس عہد کو توڑ ڈالا (کبیر، قرطبی)9 چناچہ اس وقت بھی ان میں باہم مذہبی عداوت پائی جاتی ہے اور پھر خود عیسائیوں کے بھی بہت سے فرقے ہیں جو آپس میں ایک دوسرے کے دشمن اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں (کبیر)10 یعنی دنیا میں اس سزا کے علاوہ آخرت میں ان کو سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ جب آدمی اللہ کے کلام سے اثر پکڑ نا اور حکم شرع پر محبت سے قائم رہنا چھو ڑدے ارفقط مذہب کا جھگڑا اروحمیت رہ جائے تو وہ راہ سے بہک جائے ( مو ضح)
Ayah 5:15

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ١ؕ۬ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 5:15 in the Quran reader

کتاب والوں تمہارے پاس ہمارا رسول محمد آیا ہے بہت سی باتیں کتاب توریت اور انجیل کی جو تم چھپاتے تھے ان کو کھول کر بیان کرتا ہے11 اور بہت سی باتیں چھوڑ بھی دیتا ہے بیشک اللہ تعالیٰ کی طرف تمہارے پاس نور آیا ہے1 یعنی حضرت محمد یا دین اسلام اور قرآن جو بیان کرنے والا ہے2

ف 11 یہود و نصاریٰ کے نقض عہد اور اعراض عن الحق کا ذکر کرنے کے بعد اب ان کو آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کی دعوت دی ہے (کبیر) ایک یہ کہ بہت سے احکام جو وہ چھپا یا کرتے تھے ان کو بیان کرتے ہیں جیسے رجم کی آیت سبت والوں کا قصہ جن کو مسخ کرکے بندر خنزیر بنادیا گیا تھا اور ا آنحضرت ﷺ کی صفات سے متعلق آیات الغرض یہود و نصاری ان تمام باتوں کو چھپایا کرتے تھے چناچہ ایک مرتبہ چند یہو دی آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور رجم کے بارے میں سوال کرنے لگے آپ ﷺ نے ان کے سب سے برے علام ابن صوریا کو قسم دلائی اور اس سے دریافت فرمایا کہ رجم کی آیت تورات میں ہے یا نہیں َ ؟ بآلاخر اس کو قسم کی وجہ سے اعتراف کرنا پڑا اس پر یہ آیت نازل ہوئی (ابن جریر) 1 یعنی آنحضرت ﷺ کا دوسرا وصف یہ ہے کہ آپ ﷺ ان کی بہت سے چوریوں اور خیانتوں در گزر کرتے ہیں تاکہ وہ متاثر ہو کر اسلام کے قریب آجائیں لیکن وہ ایسی باتیں ہیں جن کا دین میں اظہار ضروری نہیں ہے۔ (کبیر، قرطبی)2 نور سے مراد شریعت اسلام ہے۔ اور کتاب مبین سے مراد قرآن پاک ہے یعنی یہ کتاب دین کے وہ تمام احکام بیان کرتی ہے جن کی لوگوں کو راہ ہدایت پانے کے لیے ضرورت ہے۔
Ayah 5:16

یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 5:16 in the Quran reader

اللہ اس سے یعنی اس نور یا کتاب سے ان لوگوں کو جو اس کی مرضی پر چلتے ہیں اپنے حکم سے دوزخ سے بچاؤ کی راہیں دکھلاتا ہے اور اندھیرے کفر سے ان کو نکال کر اجالے اسلام میں لاتا ہے اور ان کو شریعت کا سیدھا راستہ بتلاتا ہے جس میں نہ افراط ہے نہ تفر یط3

ف 3 یعنی جس شخص کا مطلب رضا الہی ٰ اور دین حق کی پیروی کرنا ہے اس کے لیے یہ کتاب راہ ہدایت دکھاتی ہے مگر جنہوں نے نظر و استدلال کو چھوڑکر اپنا دین ہی بزرگوں کی تقلید کر بنالیا ہے وہ اس کی ہدایت سے مستفیض نہیں ہوسکتے ّ (ماخوذ از کبیر )
Ayah 5:17

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّهْلِكَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:17 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ کافر ہو گے جو کہتے ہیں مریم کا بیٹا مسیح ( علیہ السلام) وہی خدا ہے4 اے پیغمبر کہہ دے اگر اللہ تعالیٰ مریم کے بیٹے مسیح اور اس کا کی مال اور زمین پر جتنے لوگ ہیں سب کو تباہ کرنا چاہے تو اس کے سامنے کسی کو کچھ چل سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی5 باشاہ ہت ہے آسمانوں اور ان کے بیچ میں وہ جو چاہتا ہے کہ بناتا ہے6 اور اللہ تعالیٰ سب کچھ کرسکتا ہے

ف 4 یعنی خدا اور مسیح ( علیہ السلام) ایک چیز ہیں اور ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے زمانہ قدیم میں یہ صرف عیسائیوں کے ایک فرقے یعقوب کا عقیدہ تھا مگر اس زمانہ میں عیسائیوں کے جو تین فرقے پرر ٹسٹنٹ کیتھو لک اور آرتھو ڈیکس پائے جاتے ہیں وہ سب کے سب کے سب اگرچہ ثلیث کے قائل ہیں لیکن ان کا اصل مقصد مسیح لوہیت ہے گویا وہ سب کے سب خدا اور مسیح ( علیہ السلام) کے ایک چیز ہونے کے کر قائل ہیں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان سب پر کافر ہونے کا حکم لگایا ہے (المنار)5 وہ مالک کل ارمختار ہے اور سب چیزوں پر اے قدرت اور تفوق حاصل ہے وہ چاہے تو سب کی آن کی آن میں فنا کرسکتا ہے اگر مسیح ( علیہ السلام) خدا ہوتے کم از کم اپنی والدہ کو تو بچاسکتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی والدہ کو فوت کرلیا اور ان کو بھی وقت مقرر پر فوت کرے گا تو یہ بچ نہیں سکیں گے جس سے صاف ظاہرہ کہ وہ تو خدا ہیں اور نہ خدا کے بیٹے ہیں بلکہ اس کے بندے اور رسول ( علیہ السلام) ہیں۔ (کبیر۔ قرطبی)6 اور جس کو جیسے چاہتا ہے بناتا ہے آدم ( علیہ السلام) کو اس نے ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا کیا تو عیسیٰ ( علیہ السلام) کو بغیر ماں کے پیدا کردینا اس کے لیے کیا مشکل تھا محض باپ کے بغیر باپ کے پیدا ہونے سے کوئی بندہ خدا نہیں بن جاتا۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی جگہ نبیوں کے حق میں ایسی بات فرماتے ہیں تاکہ ان کی امت والے ان کو بندگی کی حد سے زیادہ چڑھائیں واللہ نبی اس لائق کا ہے کو میں ، (موضح)
Ayah 5:18

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ١ؕ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١٘ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 5:18 in the Quran reader

اور یہود اور نصاری کہتے ہیں ہم خدا کے بیٹے اور اس کے چہتے پیارے ہیں اے پیغمبر کہہ دے پھر تمہارے گناہوں کے بدلے تم کو7 عذاب کیوں کرتا ہے تم نہ بیٹھے ہو نہ چہتیے جو آدمی اس نے پیدا کیے ہیں انہی میں سے تم بھی ہو وہ جس کو چاہے بخش دے جس کو چا ہے عذاب دے8 اور اللہ تعالیٰ ہی کی باشاہت ہے آسمانوں اور زمین اور ان کے بیچ میں اور سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے9

ف 7 حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ یہود کی ایک جماعت کو اسلام کی طرفک دعوت دی اور ان کو عذاب الہیٰ سے ڈارایا اس پر ہو کہنے لگے کہ تم ہمیں اللہ کے عذاب سے کیسے ڈراتے ہو ہم تو اللہ تعالیٰ ٰٗ کے بیٹ اور اس کے محبوب ہیں، چناچہ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انجیل میں ہے کہ حضرت مسیح ( علیہ السلام) نے نصاری ٰ سے کہا میں اپنے اور تمہارے باپ کے پاس جاتا ہوں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دونوں گروہ اللہ تعالیٰ کے ابنا اور احبا ہونے کے مدعی تھے بعض نے یہاں مضاف محذوف مانا ہے ای نحن ابنا رسل اللہ واحباہ، حاصل یہ ہے کہ اہل کتاب اپنے آپ کو دوسروں سے فائق سمجھتے ہیں اور ان کا دعویٰ تھا کہ ہمارے اسلاف کی وجہ سے ہمیں عذاب نہیں ہوگا۔ قرآن نے ان کی تردید کی (قرطبی، کبیر)8 یعنی یہ قانون ہے کہ گناہ کریگا اسے سزا ملے گی اور جس کے عمل نیک ہوں گے اسے انعام ملے گا جس طرح دوسرے لوگوں پر نافذ ہوگا تم پر بھی نافذ ہوگا پھر تمہاری ایسی کونسی خصوصیت ہے جس کی بنا پر تم اپنے آپ کو اس کے بیٹے اور چہتیے کہتے ہو (ابن کثیر، قرطبی)9 اس میں یہود یوں کے لیے تبنہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے آخرکار تمہیں اس کے حضور میں پیش ہونا ہے وہاں تمہاری جو بھی سزا ہوگی تمہیں مل کر رہے گی لہذ اتم اب بھی اپنی بداعمالی سے باز آجاو (ابن کثیر، شوکانی)
Ayah 5:19

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ١٘ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:19 in the Quran reader

کتاب والوں ہمارا رسول محمد تمہارے پاس اس وقت آیا جب رسولوں کا توڑ پڑگیا تھا دین کی بائیں تم سے بیان کرتا ہے10 ایسا نہ ہو کہ تم کہنے لگو یا اس لیے کہ تم یہ نہ کہو ہمارے پاس تو کوئی خوشخبری سنانے والا نہیں آیا نہ ڈارنے والاف 1 اب تو تمہارے پاس خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا آچکا ہے2 اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے

ف 10 یعنی ایک مدت سے رسولوں کی آمد کا یہ سلسلہ منقطع ہوچکا تھا۔ حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) بن اسرائیل کے آخری نبی تھے انکی بعثت پر بھی تقریبا چھ سال گزر چکے تھے اور کوئی نبی نہیں آیا تھا پھر آخری نبی آنحضرت ﷺ مبعوث ہوئے اس آیت پر حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کے بعد کوئی رسول نہیں آیا تھا سو فرمایا کہ تم افسوس کرتے کہ ہم رسولوں کے وقت میں نہ ہوئے کہ تربیت ان کی پاتے، اب بعد مدت تم و رسول کی صحبت میسر ہوئی غنیمت جانو اور اللہ تعالیٰ قادر ہے اگر تم قبول کر وگے اور خلق کھڑی کر دیگا تم سے بہتر۔ یہ جیسے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھ ان کی قوم نے جہاد کرنا پسند نہ کیا اللہ نے ان کو محروم کردیا۔ اور دن کے ہاتھ سے ملک شام فتح کرایا (موضح) 1 اس آیت میں آنحضرت ﷺ کی بعثت کا اساسی مقصد بیان فرمایا ہے یعنی عرصہ دراز سے کسی الوا العزم رسول کے نہ آنے کی وجہ سے شرائع میں تغیر وتبدل اور تحریف ہوچکی تھی اور حق و باطل میں امتیاز با قی نہ رہا تھا جو لوگوں کے لیے شرئع سے اعراض کرنے کا واضح عذر تھا پس آنحضرت ﷺ نے تبدل و تغیر اور تحریف سے ملت ابراہیمی کو پاک کر کے لوگوں کو شریعت حقہ سے روشناس کر یا تاکہ ان پر اتمام حجت ہوجائے اور عذر کی کنجائش باقی نہ رہے (کبیر قرطبی)2 یعنی محمد ﷺ ۔ لہذا اب تم اپنے کفر پر جمے رہنے کے لیے اللہ کے ہاں کوئی عذار نہیں پیش کرسکتے (کبیر)
Ayah 5:20

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا١ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:20 in the Quran reader

اے پیغمبر یاد رکھ بنی اسرائیل کو یاد دلا جب موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا بھائیوں اللہ تعالیٰ نے جو تم پر احسان کیا اس کو یاد کرو اس نے تم میں کئی نبی پیدا کیے اور تم کو غلامی سے باد شاہ بنادیا اور تم کو وہ دیا جو دنیا جہان میں کسی کو نہیں دیا3

ف 3 اس کا تعلق آیت : ولقد اخذ اللہ میثاق بنی اسرائیل کے ساتھ ہے یعنی ان سے عہد لیا اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے ان کو انعامات الہیٰ یاددلا کر جبارین (عمالقہ) سے جنگ کا حکم دیا لیکن اسرائیل نے عہد شکنی کی اور عمالقہ کے ساتھ جنگ کرنے سے انکار کردیا۔ (کبیر) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین نعمتوں کا خصوصیت سے ذکر کیا ہے یعنی ان سے جلیل القدر انبیا مبعوث کئے جیسے حضرت اسحاق ( علیہ السلام) ، حضرت یعقوب ( علیہ السلام) ، حضرت یوسف ( علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہم السلام) دوم یہ کہ ان کو آزادی اور حکومت دی اور توحید کا علمبر دار بنایا جبکہ دوسری تمام قومیں شرک میں مبتلا تھیں (کبیر، قر طبی)
Ayah 5:21

یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَرْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:21 in the Quran reader

بھائیوں پاک زمین شام کے ملک یا بہت المقدس یا کوہ طور داخل ہوجاؤ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے یعنی دبا کی حکومت تمہاری قسمت میں رکھی ہے4 اور پیٹھ موڑ کر مت پھر و پھر الٹے نقصان میں آجاؤ5

ف 4 یا جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے تمہارے دادا حضرت یعقوب ( علیہ السلام) سے وعدہ فرمایا تھا کہ اسے آپ کی اولاد میں سے اہل ایمان کی وارث بناوں گا (ابن کثیر) بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) جبل لبنان پر چڑھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا دیکھوْ ! جہاں تک تمہاری نظر پہنچے گی وہ ارض مقدس ہے اور تیری ذریت کی میراث ہے۔ کبیر)5 حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کا بنی اسرائیہ سے یہ خطاب س موقع پر ہے جب وہ مصر سے نکلنے کے بعد جزیرہ نمائے سینا میں خمیہ زن تھے اران پر من وسلویٰ اتررہا تھا۔ (ابن کثیر) تاریخی اور اثرمی تحقیقات کے مطابق خروج کا زمانہ 440 ق م ہے اور فلسطین پر فوج کشی کا زمانہ 400 ق م ہے گو اس مدت کے بیان میں موسیٰ ( علیہ السلام) نے خطاب کیا اور صحیفہ استثنا کے بیان کے مطابق دریائے یرون کے اس پار اب کے میدان میں تقریر ارشاد فرمائی۔
Ayah 5:22

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّ فِیْهَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ١ۖۗ وَ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى یَخْرُجُوْا مِنْهَا١ۚ فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ Open ayah 5:22 in the Quran reader

وہ کہنے لگے اے موسیٰ وہاں تو بڑے زبر دست لوگ رہتے ہیں یعنی لمبے چو ڑے بڑے تن و تو ش کے6 اور ہم تو ہرگز وہاں جانے والے نہیں جب تک وہاں سے نکل نہ جائیں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو بیشک ہم جا داخل ہوں گے7

ف 6 قوت ایمانی کے کمزور ہونے کی وجہ سے اپنی مرعبیت کا اظہار کر رہے ہیں ؎( یہ اطلاع فارس کے مقام پر پیش کی گئی) لیکن جس انداز سے بعض تفسیری روایات میں ان لوگوں (جبارین کا نقشہ پیش کیا گیا ہے وہ تمام اسرائیلی روایات ہیں جن کو ایک معمولی عقل کا انسان بھی تسلیم نہیں کرسکتا خصوصا عوج بن عنق کا فسانہ جس کے متعلق حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یہ سب من گھڑت افسانے ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ حدیث میں ہے کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کا قد ساٹھ ہاتھ تھا اور اس کے بعد سے لوگ برابر گھٹ رہے ہیں۔ (بخاری مسلم پھر عوج بن عنق کا قد تین ہزار تین سو تنتیس ہاتھ کیسے ہوسکتا ہے (ابن کثیر)7 یعنی ان کو آپ معجزانہ طور پر اس سر زمین سے نکال دیں تو ہم جانے کے لیے تیار ہیں۔
Ayah 5:23

قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْهِمُ الْبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ١ۚ۬ وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:23 in the Quran reader

دو آدمی جو خدا سے ڈرتے ہوں گے یو شع اور کالب اور خدا تعالے نے ان پر فضل کیا تھا8 کہنے لگے ایکیبارگی حملہ کر کے ان کے دروازے میں گھس پڑو جہاں تم دروازے کے اند گھس گئے پھر تم ہی غالب ہوگئے اور اگر تم کو ایمان ہے تو اللہ پر بھروسا رکھو وہ کمزوروں کو زور آوروں پر غالب کرتا ہے

ف 8 اللہ تعالیٰ نے ان دو آدمیوں کا ذکر بطور نکرہ فرمایا ہے اور کسی حدیث میں بھی ان کے ناموں کی صراحت نہیں آئی تاہم تورات کی ایک روایت کے مطابق حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے تمام مفسرین نے ان کا نام یوشع بن نون اور کالب بن یافنا بتایا ہے اور یہ دونوں ان بارہ نقیبوں میں تھے جن کا ذکر گزر چکا ہے (ابن کثیر قرطبی)
Ayah 5:24

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ Open ayah 5:24 in the Quran reader

کہنے لگے اے موسیٰ ہم تو ہرگز وہاں نہیں جانے کے کبھی نہیں جانے کے جب تک وہ لوگ عمالقہ وہاں ہیں تو ایسا کرو تم جاؤ اور تمہارا پروردگار دونوں لڑو ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے9

ف 9 ان برعکس صحابہ ؓ کرام نے ہر موقعہ پر عزم وہمت کا ثبوت دیا۔ اس کا انداز ہ جنگ بدر کے واقعہ سے ہوسکتا ہے کہ جب مہاجرین ؓ کے بعد آنحضرت ﷺ نے انصار کی رائے معلوم کرنی چاہی تو حضرت سعد بن معاذ ؓ اپنی تقریر میں فرمایا اے اللہ کے رسول ﷺ اگر آپ ہمیں لے کر اس سمندر میں کود نا چاہیں تو ہم میں سے کسی کو انکار نہ ہوگا۔ ہم حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھیوں کی طرح نہیں ہیں جنہوں نے کہا تھا آپ اور آپ کا پروردگار جا کر جنگ کریں ہم تویہاں بیٹھے ہیں۔ (ابن کثیر )
Ayah 5:25

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 5:25 in the Quran reader

مو سی ٰ ( علیہ السلام) نے دعا کی پروردگار میرا زور اپنی جان پر چلتا ہے اپنے بھائی ہارون پر میں ان لوگوں کو کیا کروں یہ میری سنتے ہی نہیں تو ہمارا ساتھ اس نافرمانی قوم سے چھڑاؤ1

ف 1 یعنی ہم کو ان سے علیحدہ کردے ایسا نہ ہو کہ تیرا عذاب نازل ہو اور ان کے ساتھ ہم بھی اس کی لپیٹ میں آجائیں (کبیر، ابن کثیر )
Ayah 5:26

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۚ یَتِیْهُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:26 in the Quran reader

پروردگار نے فرمایا اچھا ان کی سزا یہ ہے چالیس برس تک اس ملک میں بیت المقدس میں جانا ان کو نصیب نہ ہوگا جنگل میں حیران پھر تے رہیں گے کسی طرف رستہ نہ ملے گا تو ایسے نافرمان لوگوں کا رنج مت کرو2

ف 2 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد یہ لوگ چالیس سال تک بیابان (دشت فاران بیابان شور اور دشت صین) میں پڑے بھٹکتے رہے، جب چالیس سال گزر گئے (یعنی تقریباتو (اولا) حضرت ہارون ( علیہ السلام) اور ان کے کچھ عرصہ بعد حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کوہ عباریم پر وفات پاگئے (حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی عمر اس وقت ایک سو بیس سال تھی) اور ہر اس شخص کا نتقال ہوگیا جس کی عمر چالیس سال زیادہ تھی جب چالیس ساگزرگئے تو حضرت یوشع ( علیہ السلام) جو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد ان کے خلیفہ مقرر ہوئے۔ باقیماندہ لوگوں کو لے کر ورانہ ہوئے اور انہوں نے مشرق کی جانب سے دریائے اور دن پار کر کے اریحا فتح کیا یہ فلسطین کا پہلا شہر تھا پھر تھوڑی مدت میں بیت امقدس فتح کرلیا (ابن جریری) شاہ صاحب لکھتے ہیں اہل کتاب کو قصہ سنایا اس پر کہ اگر تم پیغمبر کی رفاقت نہ کرو گے تو یہ نعمت اوروں کو نصیب ہوگی آگے اس پر قصہ سنایا ہابیل قابیل کا کہ حسد مت کرو حسد والا مردود ہے۔ (موضح )
Ayah 5:27

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ١ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ١ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ١ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 5:27 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ان لوگوں کو آدم کے دونوں بیٹوں ہابیل اور قابیل کا سچا قصہ تو سنا3 جب دونوں نیاز چڑھائی پھر ایک کی ہابیل کی نیاز قبول ہوئی اور دوسرے کی قبول نہیں ہوئی قابیل جل گیا حسد سے کہنے لگا میں تو ضرور تیری جان لوں گا ہابیل نے کہا کیوں میرا کیا قصور ہے اللہ تو پر پیز گاروں کی نیاز قبول کرتا ہے4

ف 3 اوپر کی آیات میں یہ بیان فرمایا تھا کہ مخالفین ہر طرح سے مسلمان پر مصائب وشدائد لانا چاہتے ہیں (وھمو ان یبسطوا الیکم الخ) مگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے مسلمانوں کی حفاظت کررہا ہے اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کے لیے کچھ واقعات بیان فرمائے جن سے یہ ثابت کرنا مقصو ہے کہ جس شخص کو بھی اللہ تعالیٰ نے دینی اور دنیاوی نعتوں سے نوا زا ہے لوگ اس سے ہمیشہ حسد وبغض سے پیش آتے رہے ہیں چناچہ یہود و نصاری کی مخالف بھجی ان کے تمرد اور حسد وبضض پر منبی ہے فلا تاس علی القوم الفا سقین لہذا ان پر افسوس اور غم نہ کیجئے اب یہاں ابنی ادم کا قصہ بیان کیا ج و اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے کیونکہ ایک بھائی کا دسرے کو قتل کرنا حسش کی بنا پر تھا۔ الغرض ان جملہ واقعات ان جملہ واقعات سے آنحضرت کو تسلی دینا مقصود ہے اور ہوسکتا ہے کہ بتانا مقصود ہو کہ یہود اپنے زعم میں اللہ تعالیٰ کے محبوت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ( نحن ابنا اللہ واحبنا ہ) اور انبیا کی اولاد ہونے پر ان کو فخر ہے مگر کفر اروحسد وعنادے ساتھ یہ نسبی شرف ان کے لیے مفید نہیں ہوسکتا اور آدم کے دو بیٹوں کا قصہ اس پر شاہد ہے (کبیر۔ قرطبی) اس سے مقصد تحذیر عن الحسد ہے حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ یہ دونوں آدمی بنی اسرائیل سے تھے یہود کا حسد بیان کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ ٰٗ نے بطور مثال یہ واقعہ بیان کیا ہے جیسا کہ من اجل ذلک کتبنا الایہ کی تفریع اس پر دال ہے (کبیر۔ قرطبی) بالحق یعنی یہ کوئی باطل قصہ یا افسانہ نہیں ہے بلکہ امر واقعی ہے (کبیر)4 یہاں تقوی ٰ سے مراد شرک سے بچنا ہے کیونکہ معاصی گناہ قبولیت عمل کو مانع نہیں ہوتے اس پر اہلسنت کا اجما ہے (قرطبی)
Ayah 5:28

لَئِنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنِیْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْكَ لِاَقْتُلَكَ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:28 in the Quran reader

اگر تو مجھ مار ڈالنے کے لیے ہاتھ مجھ پر چلائے گا تو میں اپنا ہاتھ تیرے ما رڈالنے کے لیے تجھ پر نہیں چلاؤں گا میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہان کا مالک ہے5

ف 5 یعنی میں تیرے قتل کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھا ونگا ورنہ مدافعت تو ضروری ہے اس پر امت کا اجماع ہے (قرطبی) اگر مقتول بھی اپنے قتل کے درپے ہو تو ایسی صورت میں دونوں جہنمی ہیں جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ قاتل کے ساتھ مقتول بھی جہنمی ہیں جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ قاتل کے ساتھ مقتول بھی جہنم میں جائے گا کیونکہ وہ اپنے ساتھی کے ساتھ مقتول بھی جہنم میں جائے گا کیونکہ وہ اپنے ساتھ کو قتل کرنے کے در بے تھا۔ ( بخاری )
Ayah 5:29

اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۚ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 5:29 in the Quran reader

میں چاہتا ہوں کہ تو میرا اور اپنا دونوں کا گناہ سمیٹ لے اور دوزخیوں میں شریک ہوجائے اور ظالموں کی یہی سزا ہے2

ف 6 میرے گناہ کے ساتھ یعنی جو مجھ اس صورت میں ہوتا جب بھی تجھے قتل کرنے کے درپے ہوتا جیسا کہ اوپر کی حدیث میں بیان ہوچکا ہے یا یہ کہ میرے گناہوں کا بوجھ بھی تجھ پر ڈالا جائے گا جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن ظالم کو لایا جائے گا اور اس کی نیکیاں مظلوم کو دیدی جائیں گی اور مظلم کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے (قرطبی)
Ayahs 5:30–31

فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِیْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 5:30 in the Quran reader

آخر قابیل کے نفس نے اس کو یہی سوجھایا کہ اپنے بھائی کو مار ڈالے پھر اس کو مار ڈالا اور ٹوٹے والوں میں شریک ہوگیا

فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَهٗ كَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَةَ اَخِیْهِ١ؕ قَالَ یٰوَیْلَتٰۤى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْءَةَ اَخِیْ١ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ٤ۚۛۙ Open ayah 5:31 in the Quran reader

پھر اللہ تعال نے ایک کوا بھیجا وہ زمین کو کر ید تا تھا اور دوسرے کوے کو اس میں چھپاتا اس کو یہ بتلانے کو کہ اپنے بھائی کو لاش کیوں کر چھپا نے8 اس وقت قابیل کہنے لگا ہائے اس کی خرابی اس کوے سے بھی گیا گزرا مجھے اتنا ہوسکا کہ اس کوے کی طرح ہوتا اور اپنے بھائی کی لاش چھپاتا دیتا پھر لگا پچھتا نوں

ف 7 یعنی اس کی دنیا بھی برباد ہوگئی اور آخرت میں بھی سخت ترین عذاب کا مستحق قرار پایا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا میں کوئی شخص ظلم کی راہ سے قتل نہیں ہوتا مگر آدم ( علیہ السلام) کا پہلا بیٹا یعنی قابیل بھی اس کے وبال میں شریک ہوتا ہے کیونکہ اس نے سب سے پہلے قتل کی سنت جاری کی (بخاری مسلم)8 اور نقل میں یو آیا ہے کہ ایک کوے نے زمین کھود کر دوسرے کوے کو دفن کیا اس نے کوے کی خیر خواہی دوسرے کوے کے لیے دیکھی تو اپنے فعل پر پشمیان ہوا (از مو ضح) مگر یہ اسرائیلی روایات سے ماخوذ ہے۔ قرآن کے ظاہر الفاظ جو چیز معلوم ہوتی ہے ہو یہی ہے یہ اسے زمین کرید تے دیکھا ہے اس نے سمجھ لیا کہ اسے دفن کردینا چاہیے (قرطبی)
Ayah 5:32

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ١ؔۛۚ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ١٘ ثُمَّ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ Open ayah 5:32 in the Quran reader

اسی واسطے لکھا ہم نے اوپر اسرائیل کے یہ کہ جو کوئی مار ڈالے بےفساد کیے کسی کو ناحق مار ڈالے اس نے گویا سب آدمیوں کو مار ڈالا2 اور جس نے ایک کو جلا یا تو گو یا سب آدمیوں کو جلا یا3 اور البتہ ہمارے رسول ان کے پاس یعنی بنی اسرائیل کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے اس پر بھی ان میں سے بیترے حد سے بڑھے ہوئے ہیں جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور ملک میں دھندمچانے کو دوڑ تے پھرتے ہیں5

ف 1 یعنی بھائی کے مر نے پر نہ کہ اپنے فعل پر کیونکہ اگر وہ اپنے فعل پر ندامت کا اظہار اور تو بہ کرتا گناہ معاف ہوجاتا اور دنیا میں جو قتل ہوئے ہیں اس کا گناہ اس پر نہ ہوتا (قرطبی)6 یعنی ایسے شخص کو ناحق مار ڈالے جس نے نہ کوئی خون کیا ہو نہ ازراہ بغاوت کوئی فساد برپا کیا ہو۔ گناہ کی شدت بیان کرنے کے لیے جمیعا کہ دیا ہے کہ گو یا سب کو قتل کرڈالا ورنہ اسے گناہ تو ایک کے قتل کا ہی ہوگا یا مطلب یہ ہے کہ جیسے سب کے قتل کرنے سے انسان جہنم میں جائے گا کسی ایک مسلمان کے ناحق قتل کردینے کی سزا بھی جہنم ہے یعنی تشبیہ نہ نفس عتاب کے لحاظ سے ہے کہ کمیت و کیفیت عذا کے اعتبا سے (قرطبی کبیر ) 3 یعنی اگر کسی ایک شخص کو ظالم کے ہاتھ سے بچا لے گا تو اسکا ثواب اتنا ہے گویا سب لوگوں کو بچیا (کذافی الموضح)4 یعنی لوگوں پر ظلم اور دست درازی کرتے رہتے ہیں اور ناحق خون کرنے سے باز نہیں آتے اور اب پیغمبر اور جماعت حقہ کے قتل اور ایذار سانی کے درپے ہیں پھر ان کے مصرف ہونے ہونے میں کیا شبہ ہے ہوسکتا ہے جو کھلے کھلے معجزات دیکھ کر بھی اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے۔5 یعنی اس حکومت کے خلاف بغاوت کرتے ہیں جو اللہ روسول ﷺ کی احکام کو نافذ کرنے ولی ہے ارواسلام کی سرزمین میں ڈاکہ زنی لوٹ مار اور قتل وغا رت کا بازار گرم رکھتے ہیں۔
Ayah 5:33

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ١ؕ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 5:33 in the Quran reader

اور ان کی سزا ہی ہے کہ ایک یک کر کے ماڑ ڈالے یا سولی دیے جائیں یا ایک طرف کا یا دوسری طرف کا پاؤں ان کا کا ٹا جائے مثلا داہنا پا یاں پاؤں یا قید کے جائیں یا دیس نکالا ہو یہ تو دنیا میں کی روئی اور آخرت میں ان کو بڑی مار پڑے گی

ف 6 اکثر مفسرین کے نزدیک یہ آیت قبیلہ عکل اور عرینہ کے ان لوگو کے بارے میں میں نازل ہوئی ہے جن کاْقصہ حضرت انس ؓ نے یوں بیان کیا ہے کہ یہ لوگ مسلمان ہو کر مدینہ منورہ آئے لیکن وہاں کی آب وہوا انہیں موافق نہ آئی وہ بیمار ہوگئے نبی ﷺ نے انہیں مدینہ سے باہر صدقہ اونٹوں میں رہنے کا حکم دیا کہ ان کا دودھ اور بیشاب پیئیں یہ لوگ وہاں چلے گئے تندرست ہونے کے بعد وہ اسلام سے پھرگئے اور چر واہے (لیسار نوبی) کو قتل کر کے اونٹ ہنکا لے گئے۔ آنحضرت ﷺ نے ان کے تعاقب میں سوار بھیجے جو انہیں پکڑ کر مدینہ منورہ لے آئے نبی ﷺ نے حکم دی ان کے ہاتھ پاوں کاٹ ڈالے جائیں اور انکی آنکھیں میں لو ہے کی گرم سلائیاں پھیری جائیں یہ 6 ھ کا واقعہ ہے مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے گرم سلائیاں پیھر نے کا حکم اس لیے دیا تھا کہ انہوں نے چرواہے کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا۔ (بخاری۔ مسلم) یہ سزا ان حربیوں کی ہے جو حکومت اسلامی کے باغی بن کر ملک کے اندر فساد پھیلا نے میں سرگرم رہتے ہیں حاکم وقت ان سزاوں میں سے جو سزا مناسب سمجھے ان کو سے سکتا ہے عام اس سے کہ وہ مشرک یا یہودی ہوں یا باغی مسلمان ہوں (قرطبی )
Ayah 5:34

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهِمْ١ۚ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 5:34 in the Quran reader

مگر جو لوت تمہارے ہاتھ میں آنے سے پہلے توبہ کرلیں یعنی گرفتار سے پہلے تو جان رکھو اللہ بخشنے والا مہربان ہے7

ف 7 یعنی ایسے لوگوں کا قصو معاف کردیا کیونکہ ان کا گرفتا ہونے سے پہلے ازخود اپنے آپ کو حوالے کردینا یہ معنی رکھتا ہے کہ انہوں نے اپنے جرائم سے توبہ کرلی ہے مگر انہوں نے جو حقوق بندوں کے تلف کیے ہو نگے وہ معاف نہیں ہو کئے جاسکتے ان میں بہر حال ان کو پکڑا جائے گا اسی طرح شراب، زنا سرقہ وغیرہ کی حد بھی توبہ سے معاف نہیں ہوسکتی ہاں ان گناہوں پر دنیا میں اللہ تعالیٰ پردہ ڈال دے تو عند الہ توبہ سے معاف سکتے ہیں (قرطبی)
Ayah 5:35

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:35 in the Quran reader

مسلمانو اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس تک پہنچنے کا وسیلہ ڈھونڈو اور دین کے دشمنوں سے اس کی راہ میں یعنی اس کی رضامندی کے لیے لڑو تاکہ تم مراد کو پہنچوں8

ف 8 یعنی رسول کی اطاعت میں جو نیکی کرو وہ قبول ہے اور بغیر اس کے عقل سے کرو سو وہ قبول نہیں (موضح) لفظ وسیلتہ توست الیہ سے فعیلتہ کے وزن پر ہے اس کی جمع ہے رسائل آتی ہے اس سے مراد ہر وہ نیکی یا عبارت ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو اور وسیلتہ جنت میں ایک بلند درجہ بھی ہے جو نبی ﷺ کے لے مخصوص ہے حدیث میں ہے یہ جس نے میری لیے وسلیہ کی دعا کی اس کے لیے میری شفاعت حلال ہوگئی (قرطبی) یہود کو اپنے نسب پر فخر تھا اور اس خوشی فہمی میں ہر قسم کے جرائم کا ارتکاب کرتے رہتے تھے اور اپنا آپ کو اللہ تعالیٰ کا محبوب سمجھتے تھے جیسا کہ اوپر کی آیات میں گزرچکا ہے اب اس آیت میں مسلمانوں کو تعلیم دی ہے کہ تم اگرچہ بہتر امت ہو اور تمہارا نبی ﷺ بھی سب سے افضل ہے مگر تمہیں چاہیے کہ نیک اعما کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو تاکہ آخرت میں فلاح حاصل کرسکو یعنی یہود کی طرح بدعمل نہ بنو (کبیر)
Ayah 5:36

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لِیَفْتَدُوْا بِهٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:36 in the Quran reader

جو کافر ہوئے اگر ان کے پاس زمین میں جو کچھ ہے مال و متاع اور اتنا ہی اور اس لیے کہ اس کو دے کر اپنے تئیں قیامت کے عذاب سے چھڑا لیں تو بھی عذاب سے چھڑا ویں تو بھی ان کی طرف قبول نہ ہوگی اور ان کو تکلیف کو عذاب ہوگا1 دوزخ کی آگ سے نکلنا چاہیں گے

ف 1 حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ایک جہنمی کو لایاجائے گا اور اس سے پوچھا جائے گا کہ اگر تمہارے پاس زمین بھر سونا ہو تو کیا تم اسے اپنے فدیہ میں دے دو گے وہ کہے گا ہاں اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم جھوٹ بولتے ہو میں نے تمہیں اس سے کہیں ہلکی چیز کا مطالبہ کیا تھا یعنی یہ کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہر انا) مگر تم نے اسے پورا نہ کیا (ابن کثیر بحوالہ صحیح مسلم آیت سے مقصود یہ ہے کہ ان لازما عذاب ہوگا اور کسی صورت اس سے رہائی نہیں پاسکیں گے (کبیر )
Ayah 5:37

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْهَا١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 5:37 in the Quran reader

اور اس میں نکلنے نہ پائیں گے اور ان کو ہمیشہ عذاب ہوتا رہے گا2

ف 2 یہ آیت کفارکے حق میں ہے جیسا کہ اوپر کی آیت میں انا بصراحت ذکر کیا گیا ہے را ہے گنہگار مسلمان تو صحیح احادیث میں ہے کہ ان کو گناہوں کی سزا بھگت لینے کے بعد جہنم سے نکال لیا جائے گا۔ (ابن کثیر )
Ayah 5:38

وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَیْدِیَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 5:38 in the Quran reader

چور مرد چور عورت دونوں کے داہنے ہاتھ کاٹ ڈالو یہ سزا ہے ان کے کام کی اور عذاب ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور اللہ تعالیٰ زبر دست ہے حکمت والا

ف 3 اوپر کی آیت میں محارمین ( جو فساد پھیلاتے ہیں اور لوٹ مار کرتے ہیں) کی سزا تو یہ بیان فرمائی کہ ان کے ہاتھ پاوں کاٹ دیے جائیں اب اس آیت میں چوری کی حد قانونی سزا بیان فرمائی کہ مرد ہو یا عورت ان کے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں مگر آیت میں عموم اور اجمال ہے حدیث میں ہے تقطع ید السا ق فی ربع دینار فصاعدا کہ کم از کم چوتھائی دینار سرقہ ہو تو کلائی کے پاس سے اس کا دہنا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا (قرطبی) مسئلہ اگر کوئی شخص قبر یا مسجد سے چوری کرے تو اس کے بھی یہی سزادی جائے گی جمہور علما نے کا یہی مذہب ہے اور نالامن نمہ فرما کر اشارہ فرمایا کہ یہ عقوبت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے علاوہ ازیں مسرقہ مال اس کے مالک کو واپس کرنا پڑیگا (دیکھئے قرطبی)
Ayah 5:39

فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ یَتُوْبُ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:39 in the Quran reader

پھر جو کوئی قصور کے بعد یعنی چوری کر کے تو بہ کرلے اور چھے کام کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف کر دے بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے4

ف 4 یہاں ظلم سے مراد مسرقہ چوری ہے یعنی جس نے چوری کے بعد توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلی اللہ تعالیٰ ان کا گناہ معاف فرامائے گا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ توبہ کرلینے سے چوری کی حد اس سے ساقط ہوجائے گی۔ نبی ﷺ کی خدمت میں چورتوبہ کرتے ہوئے آتے لیکن آپ ﷺ ان پر حد جاری فرماتے دار قطنی کی ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ ایک چورکا ہاتھ کٹوایا اور پھر اس سے فرمایا تب الی الہ یعنی توبہ کرو اللہ تعالیٰ تمہارا قصور معاف فرمائے ( از فتح القدیر ( یہ باکل صحیح ہے کہ حد دو کفارہ میں محض ان کی حیثیت زواجر کی نہیں ہو ہے مگر ساتھ ہی توبہ کی بھی ضرورت ہے۔ (ماخوذ از قرطبی)
Ayah 5:40

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:40 in the Quran reader

اے چوری کی معافی پر تعجب کرنے والے کیا تو نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ ہی کی باد شاہ ہت ہے آسمانوں اور زمین میں وہ جس کو چاہے عذاب دیتا ہے اور جس کو چاہے معاف کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ کرسکتا ہے5

ف 5 یہ اس لیے فرمایا کہ کوئی تعجب نہ کرے کہ چورکو تھوڑی خطا پر بڑی سزا فرمائی ہے ( موضح) اس آیت کا خطاب تو آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن مراد تمام لوگ ہیں یا ہر شخص سے شخص سے خطاب ہے (فتح البیان) یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں سے کسی کو رعایت نہیں مل سکتی جو بھی جرم کا ارتکاب کرے گا اسے ضرور سزا ملے گی اس معاملہ میں کسی شریف کو وضیع پر فوقیت حاصل نہیں ہے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی جرم پر سزا چاہے مقرر فرمادے اسے مخلوق پر اختیار کلی حاصل ہے قرطبی)