5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 5:41

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا١ۛۚ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ١ۙ لَمْ یَاْتُوْكَ١ؕ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ١ۚ یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ١ؕ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ١ۖۚ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:41 in the Quran reader

اے پیغمبر جو لوگ کفر پر پڑتے ہیں ان پر رنج نہ کر6 یہ لوگ یا تو منافق ہیں ان لوگوں میں سے جو منہ سے کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور ان کو دلوں میں ایمان کا نام نہیں اور یا ان لوگوں میں ہے جو یہود ہیں جھوٹی باتیں سننے ولاے جو لوگ تیرے پاس نہیں آئے انکے جاسوس7 لفظ کو اللہ تعالیٰ کے رکھے ہوئے ٹھکانے بےٹھکانے کرتے ہیں8 اور اپنے لوگوں سے کہتے ہیں اگر حضرت محمد کی طرف سے کچھ زور چل سکتا یہی لوگ دونوں قسم کے جن کا اوپر بیان ہو وہ ہیں جو کے دلوں کو اللہ نے پاک کو نہ چا ہا وہ دنیا میں ذلیل ہوں گے اور آخرت میں ان کو بڑی ما پڑے گی

ف 6 کفر پر دوڑے پڑتے ہیں یعنی جب بھی انہیں کوئی مقع ہاتھ آتا ہے تو فورا کفر کی طرف پلٹ جاتے ہیں یا کافروں سے مل جاتے ہیں اس کا تعلق منافقین سے ہے ( کبیر ) 7 جھوٹی باتیں سنتے ہیں یعنی جو کچھ ان کے روسا تورات میں تحریف کرکے اور آنحضرت ﷺ کی نبوت پر طعن پر کہتے ہیں اسے قبول کرلیتے ہیں اور پھر یہ ان لوگوں کے جاسوس بن کر آپ ﷺ کے پاس آتے ہیں جو وازراہ تکبر آپ ﷺ کی مجلس میں آنا پسند نہیں کرتے (کبیر)8 یعنی تورات میں تحریف کرتے ہیں اسکے الفاظ بھی بد دیتے ہیں اور غلط تاویلیں بھی کرتے ہیں جس سے حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دیتے ہیں مثلا انہوں نے رجم (سنگساری) کی بجائے جلدکوڑوں کی کی سزا مقرر کررکھی تھی۔ (کبیر )
Ayah 5:42

سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ١ؕ فَاِنْ جَآءُوْكَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْكَ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 5:42 in the Quran reader

جھوٹ بنانے کے لیے جاسوسی کرنے والے حرام مال خوب چکھنے والے یا رشورت اڑانے والےپھر اگر یہ لوگ تیرے پاس آئیں تو خود ان کا فیصلہ کو رخواہ ان سے الگ رہ3 اور اگر تو ان سے الگ رہے تو تجھے کچھ نقصان نہ پہنچا سیکیں گے اللہ تیرا بچانے واہا ہے اور جو تو ان کا فیصلہ کرنا چا ہے تو انصاف سے فیصلہ کروے کیونکہ اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے

ف 1 علمائے تفسیر نے لکھا ہے کہ یہود میں سے ایک مر اور ایک عورت نے زنا کا ارتکاب کرلیا وہ دونوں شاد ی شدہ تھے۔ ان کے علماے نے باہم مشورہ کر کے طے کیا اس مقدمہ کا فیصلہ محمد ﷺ سے کر الیتے ہیں کیونکہ وہ نرم شریعت لے کر آئے ہیں۔ْ اگر انہوں نے کوڑے مارنے کا حکم دی اتو ہماری مراد بر آئے گی اور اگر انہوں نے سنگسار کرنے کا حکم دیا تو ہم ان کا فیصلہ ٹھکرا دیں گے چناچہ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن کثیر) کتب صحاح میں ہے کہ جب یہودی اپنا یہ مقدمہ لے کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے انہیں تورات پڑھنے کا حکم دیا تو چناچہ ایک آدمی پڑھنے لگا اور جب وہ آیت رجم پر پہنچا تو اس پر ہاتھ رکھ کر اگلی آیت پڑھی دی اس پر حضرت عبد اللہ بن سلام نے اسے ٹوک دیا اور اس کا ہاتھ ہٹاکر آیت رجم پڑھنے کا حکم دیا چناچہ آنحضرت ﷺ کے سامنے سار معاملہ کھل گیا اور آپ ﷺ نے زانی اور زانیہ کو سنگسار کرنے کا حکم دیا اور فرمایا انی احکم بما فی التورات کہ میں تورات کے مطابق تمہارے مقدمہ کا فیصلہ سے رہا ہوں (قر طبی، ابن کثیر)2 سحت کے لفظی معنی مٹانے اور ہلاک کرنے کے ہیں گویا مال حرام وہ چیز ہے جو انسان کی تمام نیکیوں کو اکارت کر کے رکھ دیتی ہے اور ہر اس خس میں مال پر سخت کا لفظ بولا جاتا ہے جس کے لینے میں رہو اور خفیہ طور پر لیا جائے نے اس میں رشوت بھی شامل ہے اور احادیث میں زانیہ کی اجرت کتے شراب اور مردار بیجنے کو سخت کہا گیا ہے سود چوری کا مال اور جوئے سے کمایا ہو امال بھی سحت میں داخل ہے ( کبیر، قرطبی)3 جس زمانے میں یہ آیت نازل ہوئی یہودیوں کی ٖحیثیت محض ایک معاہد قوم کی تھی اور وہ نرمی یعنی اسلامی حکومت کی رعایا نہ تھے اس لیے نبی ﷺ کی عدلت کو اختیا ردیا گیا کہ چاہیں تو انکے مقدمات کا فیصلہ کریں اور چاہیں تو انکار کردیں اور یہی اختیار اسلامی حکومت کو کسی غیرمسلم معاہد قوم کے درمیان فیصلہ کرنے کے بارے میں ہے رہے ذمی لوگ سوا گر وہ اپنے مقدمات اسلامی عدلت میں لائیں تو ان کے مقدمات کا فیصلہ کرنا ضروری ہوگا۔ (المنار ) یہی تفصیل امام شافعی (رح) نے منقول ہے پس اس تخیتر کا تعلق معاہد قوم سے ہے۔ (کبیر) مگر دوسرے علما کا خیال ہے کہ یہ تخیر منسوخ ہے جن میں حضرت عمر ؓ بن عبدالعزیز اور مام نخعی (رح) بھی شامل ہیں سخ اس نے بھی ناسخ منسوخ میں یہی لکھا ہے اور حضرت عکرمہ ؓ سے بھی یہی مروی ہے کہ آیت وان احکم بینھم بما انزل اللہ (مائدہ آیت 48) سے یہ آیت منسوخ ہے امام شافعی کا اصح قول بھی یہی ہے امام زہری (رح) فرماتے ہیں شروع سے یہ طریقہ چلاآیا ہے کہ باہمی حقوق اور احکام وراثت میں اہل کتاب کا فیصلہ ان کے دین کے مطابق کیا جائے ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے اسلامی قانون کے مطابق فیصلہ کے خواہشمند ہوں تو پھر اسی کے مطابق کردیا جائے گا اس تفصیل سے ثابت ہوتا ہے کہ گو بعض جزئیات میں علما کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے تاہم ان کی اکثر یت نسخ کی قائل ہے (قرطبی) 4 یہاں ان کی جہالت اوعناد کا بیان ہے یعنی وہ جانتے ہیں کہ جو مقدمہ آپ ﷺ کے پاس لارہے ہیں اس کا فیصلہ تو رات میں موجود ہے تاہم آپ ﷺ کے پاس اس لیے مقدمہ لاتے ہیں کہ شاید آپ ﷺ کا فیصلہ تورات کی بہ نسبت کچھ ہلکا ہو لیکن جب آپ ﷺ کا بھی وہی ہوتا ہے جو تورات کا ہوتا ہے تو وہ اسے ماننے سے انکار کردیتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ تو وہ تورات پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ آپ ﷺ پر اصل میں یہ اپنی اغراض کے بندے ہیں اور ان کا مقصد جیات ہی دینوی مصالح کا حاصل کرنا ہے۔ (کبیر )
Ayah 5:43

وَ كَیْفَ یُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِیْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 5:43 in the Quran reader

اور تعجب اس پر ہے وہ لوگ تجھ سے کیوں فیصلہ کر انا چاہتے ہیں ان کے پاس تو خود توریت شریف ہے اس میں اللہ تعالیٰ کا حکم موجود ہے اس کے موافق کیوں نہیں فیصلہ کرتے پھر اس کے بعد بھی نہیں اور اصل بات یہ ہے ان میں ایمان ہی نہیں ہے3

ف 5 اس میں یہود کو تنبیہہ ہے جو حد رجم (سنگساری) کا انکار کرتے تھے اور ان کو ترغیب دی ہے کہ وہ اپنے اسلاف۔ انبیا احبار اور علمائے ربانی کا مسلک اختیار کریں۔ (کبیر) بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کے بعد حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) تک سینگڑوں پیغمبر ایسے گزرے ہیں جن پر کوئی نئی کتاب نازل نہیں کی گئی اور وہ اپنے زمانے میں لوگوں کو تورات ہی پر عمل کرنے کی نصیحیت کرتے اور ان کے مابین اسی کے احکام کے مطابق فیصلے کرتے تھے خود حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو کوئی نئی شریعت نہیں دی گئی بلکہ ان کی بعثت کا مقصد تورات ہی کی شریعت کو زندہ کرنا تھا۔ الذین ا اسلموا یہ صفت مدح ہے اور ان انبیا ( علیہ السلام) کے کے مسلمان ہونے کے یہ معنی ہیں کہ وہ دین ابراہیم کے تابع تھے یا للہ تعالیٰ کے فرمانبر دار تھے (قرطبی)
Ayah 5:44

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۚ یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَ١ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 5:44 in the Quran reader

بیشک ہم توریت اتاری اس میں ہدایت ہے اور روشنی خدا کے تابع دار پیمبر جو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل میں آئے یہودیوں کو اسی کے موافق حکم دیتے حکم دیتے رہے5 اور پیمبروں کے علاوہ درویش مشائخ اور مولوی بھی اسی پر حکم دیتے رہے اس واسطے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے وہ حافظ بنائے گئے تھے امانتداری اور اس کی نگہبانی کرتے تھے1 تو اسے یہود یو لوگوں سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈروف 2 میری آیتوں کے بدلے دنیا کا تھوڑا مول مت لو رشوت کھا کر میرے حکم مت چھپاؤف 3 اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اتارے موافق حکم نہ دیں وہی کافر ہیں

ف 1 آیت میں بما استحفظو کی با کا تعلق الریا یو ن والا حبار سے ہے مطلب یہ ہے کہ جس زمانے میں کوئی نبی نہیں ہوتا تھا ویہ درویش اور تعلیم یافت لوگ یہودیوں کے مابین تورات کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے کیونکہ انبیا ( علیہ السلام) نے انہی کو اللہ تعالیٰ کی کتاب تورات کا محافظ قرار دیا تھا اور ان کی ذمہ داری تھی کہ اس میں کو تحریف نہ ہونے پائے اور شھدآ کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ تورات کے من عند الہ ہونے پر گواہ تھے بعض علما نے بما اتحفظوا کی با کا تعلق یحکم سے بیان کیا ہے کہ اللہ کی کتاب کی جو امانت ہ ان کے سپرد کی گئی تھی وہ اس کے مطابق فیصل کرتے تھے۔ ّ (قرطبی، کبیر) یعنی تم بھی اپنے انبیا اور بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تورت میں کوئی تحریف نہ کرو اور حق پر چلتے ہوئے تورات میں کوئی تحریف نہ کرو اور حق بات کہنے اور محمد ﷺ کے جو حالات اس میں مذکور ہیں ان کے بیان کرنے میں لوگوں کو پر واز کرو اور صرف میرے انتقام اور عذاب کا ڈر اپنے دلوں میں رکھو (کبیر)3 حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ حکام پر اللہ تعالیٰ نے تین چیزیں لازم کی ہیں خواہش کی پیرو کی نہ کریں صحیح ٖفیصلہ کرنے میں کسی کی پروانہ کری ن اور رشوت لے کر غلط فیصلہ کریں ، (قرطبیف 4 یہ خطاب یہود سے ہے یعنی جب یہ عمد و تورات کے فیصلے کو چھپاتے ہیں اور اس پر عمل کرنا نہیں چاہتے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ باوجود زبانی دعوی ٰ کرنے کے درحقیقت یہ کافر ہیں مگر آیت کے الفاط عام ہیں مسلمان حاکم پر کفر کا فتوی اسی وقت لگا سکتے ہیں جب وہ قرآن و حدیث کا انکار کرکے ان کے خلاف فیصلہ صادر کرے ایسے شخص کے کافر ہونے میں کچھ شبہ نہیں ہوسکتا اگلی آیات میں ایسے شخص کو ظالم اور فاسق بھی قرار دیا گیا۔ ( قرطبی)
Ayah 5:45

وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ١ۙ وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ١ۙ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 5:45 in the Quran reader

اور ہم نے رات میں ان پر یہ فرح کیا کہ جان کے بدل جان لی جائے اور آنکھ کے بدل آنکھ پھوڑی جائے اور ناک کے بدل ناک کاٹی جانے اور کان کے بدل کا تراشا جائے اور دانت کے بدل دا انت اکھاڑا جائے اور زخموں کے بدل اگر ہو سکے ویسے ہی زخم لگائے جائیں5 پھر جو کوئی اپنا فیصلہ معاف کر دے کے گناہ اتر جائیں گے6 اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اتارے مواقف نہ دیں وہی ظالم ہیں

ف 5 اس آیت میں بھی یہود کی توبیخ ہے یعنی انہوں نے جس طرح رجم (سنگساری) کے حکم کے تبدیل کرندیا تھا اسی طرح ان پر نفوس اور جر دح میں برابر رکھی گئی تھی جواب بھی تورات کی کتاب خروج باب 21 آیت 23 ۔ 25 میں موجود ہے مگر انہوں نے اس کو تبدیل کر کے معطل کر ڈالا اور عملا اس کی خلاف ورزی کر کے ظالم بن گئے آنحضرت ﷺ کے زمانے میں یہو دی قبائل میں سئے بنی نضیر طاقتور اور بنو قریظہ کمزور تھے اس لیے یہوی بنو نضیر کا قصاص بنونضیر سے نہ لیتے تھے۔ (ابن کثیر۔ کبیر) اس آیت کے مشمولات کے حجت ہونے پر ا اجماع ہے پس عورت کے بدلے مرد قتل کیا جائے گا چناچہ آنحضرت ﷺ ن عمر و بن حزم کو جو کتاب لکھ کر بھیجی اس میں یہ حکم بھی لکھا کہ عورت کے بدلے مرد کو قتل کیا جائے اور دوسری حدیث میں ہے المسلمو ن تتکا فا دماھم کہ مسلمانوں کے خون کے برابر ہیں جمہور علما کا یہی مسلک ہے احناف نے آیت کے عموم کے تحت کافر اور غلام کے بد لے مسلمان قتل کرنے کا حکم ثابت کیا ہے مگر صحیحین کی حدیث میں ہے لا یقتل مسلم بکافر کہ کافر کے بدلے مسلمان کو قتل نہ کیا جائے اور متعد آثار سے ثابت ہے غلام کے بدلے آزاد کو قتل نہیں کیا جاتا تھا بنابریں ان دونوں مسئلوں میں جمہور علما نے احناف کی مخالفت کی ہے بلکہ امام شافعی (رح) نے احناف کے خلاف اجماع نقل کیا ہے۔ (ابن کثیر)6 حدیث میں بھی ہے کہ جس مسلمان کو دوسرے سے جسمانی اذیت (زخم) پہنچے اور وہ اسے معاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اس بدولت ایک درجہ بلند کرتا ہے اور گناہ کم کرتا ہے (ترمذی ابن ماجہ )
Ayah 5:46

وَ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 5:46 in the Quran reader

پھر بعد کو ہم نے انہی پیغمبروں کے جو بنی اسرائیل میں آئے تھے قد م بقدم مریم کے بیٹے عیسیٰ ( علیہ السلام) کو بھیجا وہ تو وقت کو سچ بتاتا تھا جو اس سے پہلے آئی تھی اور ہم نے اس کو انجیل دی جس میں ہدایت اور اروشنی تھی اور سچ بتاتی ہے اگلی کتاب توریت کو اور خدا تعالے سے ڈرنے والوں کو راہ دکھلاتی ہے اور نصیحت کرتی ہے7

ف 7 یعنی حضرت مسیح ( علیہ السلام) کوئی نئی شریعت یا نیا دین لے کر نہیں آئے تھے بلکہ وہ تورات ہی کی تصدیق کرنے اور اسی کی شریعت کو زندہ کرنے آئے تھے۔ وہ خود بھی اسی کی شریعت پر چلتے تھے اور انجیل بھی اسی شریعت پر چلنے کا حکم دیتی تھی۔ (ابن کثیر۔ کبیر) تورات انجیل اور پھر قرآن کریم کے متعلق ھد ی ونور کے اوصاف بیان ہوئے ہیں۔ ان کتب منزلہ کا ہدایت ہونا تو احق اعتبار سے ہے کہ یہ مبدا دمعاد کے حقائق کے بیان پر مشتمل ہیں اور نو راد روشنی ہونا اس لحاظ سے ہے کہ انسان کے عملی زندگی میں رہمنائی کا کام دیتی ہے (کبیر )
Ayah 5:47

وَ لْیَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:47 in the Quran reader

اور ہم نے کہہ دیا کہ انجیل والے اس کے موافق حکم دیں جو اللہ نے تعالیٰ انجیل میں اتارا8 اور جو لوگ اللہ کے اتارے موافق حکم نہ دیں وہی فاسق گناہ گار بےحکم نافرمانی میں وہی

ف 7 انجیل کے مطابق ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ انجیل جو نبی آخرالزمان ﷺ کے متعلق پیش گوئیا اور دلائل موجود ہیں ان کو چھپانے ان کے غلط تاویلیں کرنے کی کوشش نہ کریں یا یہ کہ نزول انجیل کے وقت جو نصاریٰ تھے ان کو یہ حکم دیا گیا تھا بعض نے لکھا ہے یہ آیت منسوخ ہے اور ان کو یہ حکم اس وقت تھا جب نبی ﷺ کی بعثت نہیں ہوئی تھی آپ ﷺ کی بعثت کے پچھلی تمام بعثتیں منسوخ کر ہوگئی ہیں (کبر قرطبی)
Ayah 5:48

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّ١ؕ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَۙ Open ayah 5:48 in the Quran reader

اور اے پیمبر ہم نے تجھ پر بھی سچی کتاب اتاری یعنی قرآن شریف وہ اگلی کتابوں کو تصدیق کرتی ہے اور ان کی حفاظت کرتی ہے1 تو جو خد انے اتارا اس کے موافق ان لوگوں کو یعنی اہل کتاب کا فیصلہ کر اور خدا کے پاس سے جو سچی بات2 تجھے پہنچتی ہے اس کو چھوڑ کر ان کی خوہشوں پر مت چل لوگو یہود اور نصاریٰ اور مسلمان ہم نے تم میں سے ہر ایک کا ایک رہ اور شریعت دی ہے3 اور اگر اللہ چاہتا ہے تو تم تینوں کو ایک ہی امت ایک ہی دین ایک ہی شریعت رد کردیتا مگر تم کو جو مختلف احکام دینے2 اس اے تمہارا آزمانا منظور بہر حال نیکیوں پر لپکو تم سب کو اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر جانا ہے وہ جن باتوں میں تم دنیا میں اختلاف کرتے تھے تم کو جتادے گا6

ف 1 اوپر کی آیات میں تورات وانجیل کے اوصاف بیان کئے اور اہل کتاب کو ان پر عامل نا ہو کی وجہ سے فاسق کافر اور ظالم قرار دیا اب اس آیت میں قرآن کریم کی توصیٖف بیان کیا ہے اور آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ قرآن کے مطابق فیصلے کرو۔ مھیمن کے معنی محافظ نگہبار اقورشاہد کے آتے ہیں۔ قرآن پاک کتب سابقہ کا محا فظ ہے یعنی جو کچھ ان کتب میں امانت کی گئی ہے اس کو نہا یت صحت کے ساتھ بیان کرتا ہے او یہود کی غلط تاویلات و تحریفات کو واضح کرتا ہے یا معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ کو ہم نے اس قرآن کا امین مقرر کیا ہے (کبیر، قرطبی) پس تورات وانجیل کے ہر مضمون کو قرآن کی کسوٹی پر پر کھ کہ دیکھا جائے گا۔ صحیح اترنے کی صورت میں قبول کرلیا جائے گا ورنہ رد کردیا جائے گا۔ ( 2 مروع ہے کہ چند یہودی آنحضرت ﷺ کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے آپ ﷺ جانتے ہیں کہ ہمارا شمار یہود کے اشراف اور علما میں ہوتا ہے اگرچہ آپ ﷺ متبع ہوجائیں تو تمام یہود آپ ﷺ کی پیروی اختیار کرلیں گے ہمار اپنے قبیلہ کے چند لوگوں سے نزاع ہوگیا ہے ہم آپ ﷺ کے پاس مقدمہ لائیں گے اگر آپ ﷺ ہمارے حق میں فیصلہ فرمائیں تو ہم آپ ﷺ پر ایمان لے آئیں گے اور آپ ﷺ کے حق پر ثابت قدم رہنے کی ہدایت فرمائی گئی (ابن کثیر۔ کبیر)3 اس کے مخاطب یہود و نصاریٰ اور مسلمان ہیں یعنی گوتمام انبیا کا دین ایک ہے مگر اپنے اپنے وقت میں ہر امت کی شریعت (احکام فرعیہ) اور طریق مختلف رہے ہیں ہر بعد میں آنے والے نبی ﷺ کی شریعت میں شرائع سابقہ سے مختلف احکام پائے جاتے ہیں اس طرح نبی آخرالزمان ﷺ کی شریعت ہر لحاظ سے مکمل اور قیامت کے لیے ہے ایک حدیث میں ہے کہ تمام انبیا علاتی بھائی ہیں جن کی مائیں مختلف اور باپ ایک ہے یعنی سب کا دین اور اصول تواک ہیں اختلاف جو کچھ بھی ہے وہ صرف فروعی احکام کی حد تک ہے4 یعنی شرائع کا یہ اختلاف تمہارا امتحان کرنے کے لیے ہے کہ کون حق پر پیرا رہتا ہے اور کون اس سے انحراف اختیار کر ہے تاکہ اس پر جز امترتب ہو سکے (قرطبی، کبیر)5 یعنی خواہ مخواہ کی کج بحثیوں کے چھو ڑکر ان نیکیوں کو اختیار کرنے کی طرف سبقت دکھاو جن کا اب تمہیں اس آخری شریعت میں حکم دیا جارہا ہے۔6 الی اللہ مرجعکم جمیعا یہ جملہ مستانعہ ہے اور نیکیوں کی طرف مسابقت کا جو حکم دی گیا ہے اس کی علت ہے یعنی چونکہ اللہ تعالیٰ کے پاس تم سب کو حاضر ہو کر جواب دینا ہے اور وہاں پہنچ کر ہر قسم کے اختلافات اور شکوک وشہبات دور ہوجائیں گے اس لیے اس دنیا میں ہی نیکی کرلو تاکہ اچھا بدلہ مل سکے (کبیر )
Ayah 5:49

وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ وَ احْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّصِیْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:49 in the Quran reader

اور ہم نے تجھ پر یہ اتارا کہ تو اللہ کے اتارے مو افق ان کا فیصلہ کر اور ان کی خواہشوں پر مت چل اور ڈرتا رہ کہیں وہ تجھ کو کسی حکم سے جو اللہ تعالیٰ نے تجھ پر اتارا بہکانہ دیں7 پھر اگر وہ اس حکم کو جو اللہ تعالیٰ کے اتارے موافق تو دے تو یہ سمجھ لو کے ہ اللہ تعالیٰ ان کو انکے کچھ گناہوں کی سزا دینا ہیں میں دیا چاہتا ہے اور بیشک لوگوں میں بیترے نافرمان ہیں8

ف 7 یعنی یہ اہل کتاب آپس میں دست وگریباں رہیں مگر آپ ﷺ ان کے باہمی اختلاف سے متاثر نہ ہوں اور اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلہ کریں اور ان سے ہوشیار رہیں ایسیا نہ ہو کہ ان کے کسی گروہ کو خوش کرنے یا ان سے مصالحت کی کوئی خواہش آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حکم سے برگشتہ کر دے (دیکھئے2)8 یعنی اس دنیا میں ان کو چلاوطنی جزیہ یا قتل کے سزا دے کیونکہ ان میں انصاف پسند اور حق پر چلنے والے بہت تھوڑے ہیں (کبیر، ابن کثیر )
Ayah 5:50

اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَ١ؕ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 5:50 in the Quran reader

کیا اب کفر کے وقت کا حکم چاہتے ہیں اور جو لوگ یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ ہے بہتر حکم دینے والا ہے اور کون ہے8

ف 9 یعنی کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق کئے ہوئے فیصلہ کو چھوڑ کر کفر وجا ہلیت کے زمانہ کا فیصلہ پسند کرتے ہیں جس کا بنیاد سراسر ذاتی خوہشات پر ہوتی تھی اس جن میں کمزور کا مقابلے میں طاقتور کی طر فداری کی جاتی تھی اسی کا نام یہودیت ہے کہ وہ وضیع کے مقابلہ میں شریعت کی رعایت کرتے کمزور پر حدود قائم کرتے ہیں اور مالدار کی رعایت کرتے (کبیر، قرطبی)
Ayah 5:51

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ١ؔۘ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:51 in the Quran reader

مسلمانوں یہود اور انصاری کو دوست مت بناؤ10 وہ تمہارے خلاف ہیں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو کوئی ان سے دوستی رکھے وہ انہیں میں کا ایک ہے اس کا حشر انہی کے ساتھ ہوگا خدا تعالیٰ ایسے ظالم لوگوں کو کبھی راہ پر نہیں لا نے کا

ف 10 یہودیوں کے قبیلہ بنو قینقاع کی مسلمانوں سے جنگ ہوئی تو منافقوں کے سردار ابن ابی نے یہودیوں کا ساتھ دیا کیونکہ اس کے قبیلہ بنو خزرج کا ان یہودیوں سے معاہدہ تھا لیکن حضرت عبادہ ؓ بن صامت نے بنو خذرج میں سے ہونے کے باجود ان یہودیوں کا ساتھ نہ دیا اور نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کے معاہدے اور انکی دوستی سے براہت کا اعلان کردیا۔ اسی موقع فان حزب اللہ ھم الغالبون تک یہ آیات نازل ہوئیں (ابن جریر وغیرہ) اس آیت میں یہود و نصاریٰ بلکہ تمام کفار کے ساتھ دو ستانہ تعلقات قائم رکھنے سے منع فرمایا ہے (دیکھئے سورة آل عمران :28 ۔ 118)
Ayah 5:52

فَتَرَى الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْهِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰۤى اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَةٌ١ؕ فَعَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِیْنَؕ Open ayah 5:52 in the Quran reader

جن لوگوں کے دلوں میں کفر اور نفاق کی بیماری ہے وہ تو دیکھتا ہے کہ وہ ان میں یعنی یہود اور نصاری میں دوڑے جاتے ہیں ان کی دوستی پر مرے جاتے ہیں کہتے ہیں ہم کو ڈر ہے ہم پر گردش مصیبت زمانہ کا انقلاب آجائے سو اب کوئی دن میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتح دیتا ہے یا اور کوئی کوئی کام اپنی طرف سے کراتا ہے اس وقت اپنے جی کی چھپائی بات پر پچھتائیں گے1

ف 1 یعنی منافقین جو یہود و نصاریٰ کے ساتھ دوستی کئے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کہیں مسلمان ان سے مغلوب ہوگئے تو ان کی دوستی ہمارے کام آئے گی سو اللہ تعالیٰ نے فرمایا یا تو عنقریب کافر ہلاک ہوں گے اور مسلمانوں کو ان پر فتح ہوگی یا یہ ملک سے چلاوطن ہو نگے چناچہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوا۔ مسلمان کو فتح نصیب ہوئی بنو قریضہ کے یہود قتل ہوئے اور بنو نظیر کو سرزمین مدینہ سے باہر نکال دیا گیا اور یہ لوگ اپنے نفاق پر کف افسوس ملنے لگے (قرطبی، کبیر )
Ayah 5:53

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ اِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ١ؕ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:53 in the Quran reader

اور کوئی دن میں جب ان منافقوں کا نفاق کھل جائے گا مسلمان مسلمانوں سے کیں گے کیا وہی لوگ ہیں جو بڑے زور سے قسمیں کھاتے تھے وہ تمہارے ساتھ ہیں2 ان کے سب کا اچھے بھی کئے تھے اکارت ہوئے اور نقصان میں آگئے

ف 2 اور کافروں کے طرف دار نہیں ہیں مگر اب تو ان کا جھوٹ صاف کھل گیا (وحیدی ) 3 دنیا و آخرت دونوں برباد ہوئیں دنیا میں ذلیل ہوئے اور آخرت میں سخت ترین عذاب کے مستحق قرار پائے (وحیدی )
Ayah 5:54

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤ١ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ١٘ یُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 5:54 in the Quran reader

مسلمانوں جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر جا ئیے یعنی مسلمان ہو کر پھر مرتد ہوجائے تو آگے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پیدا کرے گا جن سے اللہ محبت کرے گا اور وہ اللہ سے محبت کریں گے مسلمانوں پر مہربان کافروں پر کڑے اللہ تعال کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کو چاہے دے اور اللہ کشائش والا ہے خبردار4

ف 4 قتادہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرامائی کیونکہ اسے پہلے سے یہ معلوم تھا نبی ﷺ کی وفات کے بعد بہت سے عرب قبائل اسلام سے مرتد وہو جائیں گے چناچہ جب نبی ﷺ کا انتقال ہو اتوتین مقامات مکہ، مدینہ، بحرین کے علاوہ تمام مقامات سے عرب قبائل کے ارتداد کی خبریں آنے لگیں وہ کہنے لگے ہم نماز تو پڑہینگے لیکن زکوٰۃ ادا نہیں کریں گے۔ اس وقت حضرت ابوبکر ؓ صدیق نے ان مرتدین سے جہاد کی اس لیے حضرت علی ؓ حسن ؓ ضحاک (رح) اور بہت سے دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ اس آیت میں جن لوگوں کا یہ کہہ کر ذکر فرمایا گیا ہے کہ وہ اللہ سے محبت کریں گے اور اللہ ان سے محبت رے گا ان سے مراد حضرت ابوبکر ؓ صدیق اور ان کے ساتھی ہیں (ابن کثیر، شوکانی) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں جب حضرت ﷺ کی وفات پر عرب دین سے پھرے تو حضرت صدیق ؓ نے یمن سے مسلمان بلائے ان سے جہاد کر وایا کہ تمام عرب مسلمان ہوئے یہ ان کے حق میں بشارت ہے (موضح) صاحب الکشاف نے لکھا ہے کہ اہل ردہ کے گیارہ فرقے تھے تین فرقے تو آنحضرت ﷺ کی حیات میں ہی مرتعد ہوگئے بنو مدیح جن کارنیس اسود عنسی تھا اور فیروز دیلمی نے اس کو قتل کیا تھا، مسیلمہ کذاب کی قوم بنو حنیفہ جس سے حضرت ابوطکر ؓ نے جنگ کی اور حضرت حمزہ ؓ کے قاتل وحشی کے ہاتھ سے مسیلمہ کذاب قتل ہوا بنو اسدجن کا رئیس طلیحہ بن خویلد تھا آنحضرت نے خالد ؓ کو اس کو اس کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا تھا (کبیر) ایک مرفوع حیدیث میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے ابومو سی اشعری ؓ کی طرف اشارہ کر ہو فرمایا ھم قوم ھذا کہ وقہ اس شخص کی قوم کے لوگ ہیں ( ابن کثیر )
Ayah 5:55

اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ Open ayah 5:55 in the Quran reader

(مسلمانو یہود اور نصاری تمہارے دوست نہیں ہوسکتے) تمہارے دوست اللہ اور رسول اس کا اور ایمان والے ہیں جو درستی سے نماز کو ادا کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور وہ جھکے رہتے ہیں5

ف 5 اوپر کی آیات میں کفار سے موالا ۃ کو ممنوع قرار دیا اب اس آیت میں انما کلمہ حصر کے ساتھ مومنین سے موالاۃ کا حکم فرمایا یعنی یہود کو مددگار اور ادوست نہ بنا و بلکہ صرف مومنین کو اپنا دوست ارمدد گار سمجھو۔ (کبیر، ابن کثیر) یہاں وھم رالعون کے معنی ہیں فروتنی اور عاجزی کرنے والے۔ چنانطہ قرآن میں ودسرے مقام پر ہے وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ المومنین : 60) کہ وہ لوگ جو صدقہ و خیرات اس حال میں کرتے ہیں کہ ان کے دل کانپ رہے ہوتے ہیں (کبیر۔ ثنائی) بعض علمانے وھم راکعون کو یو تون الزکوٰۃ کے فاعل سے حال قرار دے ت کر یہ ترجمہ کی ہے کہ وہ رکوع کو حالت میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور پھر بعض روایات سے ثابت کیا ہے کہ حضرت علی ؓ نے رکوع کی حالت میں انگو ٹھی صدقہ کی تھی اس پر ان کی تعریف میں یہ آیت نازل ہوئی مگر یہ روایات بہت ضعیف اور کمزور ہیں۔ حافظ ابن کثیر نے ان روایات پر سخت تنقید کی ہے اور ان کے نے اصل قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ان روایات کی رو سے تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ رکوع کی حالت میں زکوٰۃ کی حالت میں زکوٰۃ ادا کرنا زکوٰۃ دینے کی افضل ترین صورت ہے مگر آج تک کسی عالم نے نہ فتوی نہیں دیا۔ (ابن کثیر المنار ) پس صحیح یہ ہے کہ آیت عامومنین کے حق میں نازل ہوئی ہے اور حضرت عبادہ ؓ بن صامت اور ان کے رقا ؓ اس آیت کے اولین مصداق ہیں جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہود کی مولاۃ سے ب رات کا اعلان کردیا تھا امام ابو جعفر محمد بن علی بن حسین ؓ سے پوچھا گیا کہ وہ ولیکم سے مراد حضرت علی ؓ ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت علی ؓ بھی من جملہ مومنین کے ہیں یعنی یہ آیت سب مومنین کے حق میں ہے باقی رہی یہ بات کہ یہاں اقامتہ الصلوٰۃ الخ میں جو صفات مذکورہ ہیں ان سے کیا مقصود ہے تو ہم کہتے ہیں کہ مذکورہ صفات سے منافقین پر طنز مقصود ہے جو ان صفات سے عاری تھے۔ (کبیر) ج
Ayah 5:56

وَ مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ۠ Open ayah 5:56 in the Quran reader

اور جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور ایمان والوں سے دوستی رکھے گا وہ اللہ تعالیٰ کے گروہ میں ہے اور اللہ ہی کا گروہ غالب دے گا6

ف 6 شعیہ حضرات علی ؓ کی امامت بلا فصل ثاتب کرتے ہیں ان کے استدلال کا مدار تو اس بات پر ہے کہ یہ آیت خالص کر حضرت علی ؓ کے حق میں نازل ہوئی ہے مگر ہم نے یہ ثاتب کیا ہے کہ آیت عبادہ ؓ بن صامت اور ان کے رفقا ؓ کے حق میں نازل ہوئی ہے اور حضرت علی ؓ فی الجملہ ان میں داخل ہی اسکے علاوہ جب اس آیت میں تمام صیغے جمع کے ہیں تو پھر صرف حضرت علی ؓ کیسے مراد ہوسکتے ہیں اور پھر جب آیت کے نزول کے ساتھ ہی مومنین کی ولادت ثابت ہوگئی تو آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعدتک اس کو ملتوی رکھنا نے معنی ہے نیز ولی کے معنی دوست اور مددگار کے بھی آتے ہیں اور والی اور متصف کے بھی سیاق وسباق معنی اول کا مئو ید ہے تو بلا قرینہ سیاق کیخلاف دوسرے معنی لینے کے لیے کونسی وجہ جواز ہوسکتی ہے۔ امام رازی (رح) نے آٹھ دلائل سے ثاتب کیا ہے کہ آیت ولی کے پہلے معنی مراد ہیں اور دوسرے معنی دلائل کے خلاف ہیں۔ (کبیر )
Ayah 5:57

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ الْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:57 in the Quran reader

مسلمانو جن لوگوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنایا گلی کتاب والے اور کافر مشرک یا منا فق ان کو دوست مت بنا أ ور اگر تم ایمان ہے تو خدا سے ڈرتے رہو کافروں سے دوستی نہ کرو1

ف 1 اوپر کی آیت میں خاص کر یہود و نصاریٰ کی مولاۃ سے منع فرمایا۔ اب یہاں بالعموم تمام کفار سے مولاۃ کو منع قرار دیا ہے (کبیر) اس آیت کی رو سے ان اہل بد عت سے دوستی رکھنا بھی حرام ہے جنہوں نے دین کو ہنسی کھیل بنا رکھا ہے۔ کیونکہ جب ان میں بھی وہی وصف پایا جاتا ہو جو اہل کتاب ہی میں پایا جاتا ہے تو لازما ان کا حکم بھی وہی ہونا چاہیے جو اہل کتاب کا ہے۔ (نفع القدیر) یعنی اس کی نقلیں اتارتے ہیں تمسخر سے اس کے الفاظ بدلتے ہیں اور اس پر آوازے کستے اور شور ہنگامہ برپا کرتے ہیں۔ (ابن کثیر کبیر )
Ayah 5:58

وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:58 in the Quran reader

ور جب تم لوگوں کو نماز کے لیے پکارتے ہو اذان دے کر تو یہ لوگ نماز یا اذان کو ہنسی اور کھیل مقرر کرتے ہیں3 یہ جو نماز یا اذان سے ٹھٹھا کرتے ہیں اس وجہ سے کرتے ہیں وہ بےعقل لوگ ہیں3

ف 2 ان میں اگر کچھ بھی عقل ہوتی تو اذان کی آواذ سن کر ان کے دل نرم پڑتے اور وہ حق کی طرف متوجہ ہوتے یا کم از کم مسلمانوں سے مذہبی اختلافات رکھنے کی باوجود اس قسم کی گھٹیا حرکات نہ کرتے۔
Ayah 5:59

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:59 in the Quran reader

اے پیمبر کہہدے کتاب والوتم ہم میں کچھ نہیں یہی عیب نکالتے ہوتا کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور جو ہم پر اترا اس پر یعنی قرآن مجید اور جو ہم سے پہلے اترا اس پر ایمان لائے اور یہی کہ تم میں اکثر فاسق نافرمان ہیں5

(4 یعنی پہلی کتابوں پر جیسے تورات، زبور اور انجیل وغیرہ مطلب یہ ہے کہ تما جانتے ہو کہ ہمارا ایمان ان ہی چیزوں پر ہے جنہیں تم بھی صحیح مانتے ہو پھر ہم سے کیوں دشمنی کرتے ہو یہاں استفہام برائے تعجب ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہود کا ایک گروہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو اور آپ ﷺ سے سوال کیا کہ کن پیغمبروں کو سچامانتے ہو آپ ﷺ نے منجلہ دوسرے پیغمبروں کی حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کا نام بھی ذکر فرمایا تو انہوں نے حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کی رسالت سے انکار کردیا اور کہنے لگے کہ پھر تو تمہارا دین بہت برا دین ہے (کبیر)5 یعنی اصل بات یہ ہے کہ تم میں سے اکثر لوگ خاص اور بدکار ہیں اور تمہا ری ساری مذہبی اجارہ داری گروہی تعصب اور غلط قسم کی روایات پر قائم ہے اس لیے تم اپنے علاوہ کسی دوسرے میں بھی کوئی اچھی بات دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ یہاں فسق سے مراد فسق فی الدین ہے یعنی مذہبی روایات کے نقل کرنے میں عدول نہیں ہو (کبیر )
Ayah 5:60

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ١ؕ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ Open ayah 5:60 in the Quran reader

اے پیمبر کہہ دے میں تم کو وہ دین والے بتلاؤں جن کو اللہ کے پاس اس سے برابدلہ ملنے والاف 6 جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان پر غصہ ہوا اور ان میں سے کتنوں کو بندر اور سو ربنایا اور جنہوں نے شیطان بچھڑئے کو پو جا7 بدتر ہیں درجے ہیں اور سیدھی راہ سے بہت بھٹکے ہوئے8

ف 6 (ای فی زعمکم) یعنی تم تو ہم میں عیب نکالتے ہو اور کہتے ہو کہ ہمارا دین برا ہے لیکن ذرا اپنی تاریخ پر بھی غور کرو اور اپنے ان اسلاف کے بارے میں بھی کچھ کہنے کی جرات کرو جن کا انجام اللہ کے ہاں اس سے بھی کہیں بدتر ہونے والا ہے جس کا تم ہمارے بارے میں دعوی ٗ کرتے ہو (ماخوذ از کبیر)7 یعنی یہ لوگ تمہارے ہی آباو اجداد تھے جو دین کا مذاق اڑانے اور مختلف جرائم کے مرتکب ہونے کی وجہ سے اللہ کی لعنت اور اس کے غضب میں مبتلا ہوئے ہیں ان میں سے بہت سوں (اصحاب سبت) کی صورتیں مسخ کردی گئیں اور وہ شیطان کے بہکانے سے تھی دواصل شیطان کی عبادت تھی۔8 یعنی تم ہمیں کتنا ہی گمراہ کہہ لو لیکن یہ بات مانے بغیر چارہ نہیں کہ تمہارے باپ دادا گمراہ تھے اور ان کا انجام اللہ کے ہاں ہم سے کہیں بدتر ہوگا۔
Ayah 5:61

وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:61 in the Quran reader

اور یہ لوگ جب تمہارے پا آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے9 حالا ن کہ جب آئے اس وقت کافر تھے اور جب گئے اس وقت بھی کافر اور اللہ خوب جنتا ہے جو وہ اپنے دل میں کفر ونفاق چھپائے ہوئے تھے10

ف 9 یہود سے وہ منافق مراد ہیں جو مدینہ اور اس کے قریب و جوار میں رہتے تھے (رازی)10 یعنی ان کے دلوں میں مسلمانوں کے متعلق نہایت ہی بغض وحسد بھرا ہوا ہے ورنہ ان پر کچھ نہ کچھ اثر تو ضرور ہوتا (کبیر )
Ayah 5:62

وَ تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:62 in the Quran reader

اور اے پیغمبر تو ان سے بہتروں کو دیکھتا ہے وہ جھوٹ بولنے یا شرک کرنے اور ظلم و زیادتی کرنے اور حرام کھا جانے پر دوڑے پڑے ہیں11 بیشک برے کام کرتے رہے

ف 11 اثم سے مراد وہ گناہ ہے جس کا نقصان کرنے والے کو ہوتا ہے جیسے جھوٹ، شرک کفر و بدعت اور عدون وہ گنا ہے جس سے دوسرے کو بھی نقصال پہنچتا ہے جیسے ظلم و زیادتی حق تلفی وغیرہ۔ سھت حرام مال جو بھی ناجائز ذریعے سے کما یا جائے (دیکھئے آیت 42)
Ayah 5:63

لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:63 in the Quran reader

ان کے مشائخ اور مولوی جھوٹ بولنے اور حرام کا مال کھا جانے سے ان کو منع کیوں نہیں کرتے ہیں بیشک برا کام کرتے رہے1

ف 1 جنہوں نے سچ بات کہنے اور منکر ات سے روکنے سے اپنی زبانوں کو گنگ بنا لیا ہے ایسے مشا ئخ اور مولویوں کو یقینا گناہ کرنے والوں سے بھی سخت سزاملے گی (ابن جریر )
Ayah 5:64

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ١ؕ غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا١ۘ بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ١ۙ یُنْفِقُ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ؕ وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ١ۙ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 5:64 in the Quran reader

اور یہودی کہتے ہیں اللہ کا ہاتھ ان دونوں تنگ ہے2 انہیں کے ہاتھ تنگ اور وہ ایسا بےادبی کا کلمہ کہنے سے پھٹکارے گئے3 نہیں اس کے دونوں ہاتھ کشادہ ہیں جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے4 اے پیمبر جو تیرے پر ور دگار کی طرف سے تجھ پر اتارا ہے یعنی قرآن وہ ان میں سے یعنی یہود و نصاری ٰ بتیروں کی شرارت کفر کو ضرور بڑھادے گا5 اور ہم نے ان میں یعنی یہودیوں میں آپس میں قیامت دشمنی اور کینہ ڈال دیا ہے ان میں کبھی اتفاق نہیں ہوسکتا جب وہ مسلمانوں سے لڑنے کے لے آگ سلگا تے ہیں یعنی سامان کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کو بھجا دیتا ہے6 اور ملک میں فساد کے لیے دورے پھرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فسادیوں کو نہیں چاہتا

ف 2 جب ان پر کوئی سخت وقت آتا اور تنگدستی میں ہوتے ہیں تو اس قسم کے کفر بات بکتے جیسا کہ آج کل بعض جاہل قسم کے مسلمان اس قسم کے کلمات کہہ دیتے ہیں حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ایک یہودی نے اللہ تعالیٰ کی طرف بخل کی نسبت کی اس پر یہ آیت ناز ل ہوئی۔ (ابن جریر)3 یعنی ان کے ہاتھ تنگ ہوں اور ہو پھٹکارے جائیں، ان کے حق میں بددعا ہے۔ (ابن کثیر)4 یعنی وہ انتہائی سخی اور فیاض ہے زمین و آسمان کے تمام خرانے اس کے ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے اور اسے دن رات کا خرچ کچھ بھی کم نہیں کرتا۔ (بخاری ومسلم وغیرہ) قرآن و حدیث سے اللہ تعالیٰ کے لے یہ ہاتھ ثابت ہیں قدرت وغیرہ کے معنی کر کے اس کی تاویل کرنا سلف کے خلاف ہے اہل حدیث اس قسم کی آی تو اور حدیثوں کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کے ظاہر معنی پر ایمان لاتے ہیں اور کیفت اللہ تعالیٰ ٗ کے سپرد کرتے ہیں اور اس کی کسی بھی مخلوق کی مشابہت سے پاک جانتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ کی ذات بےمثل ہے ویسے ہی اس کی صفات بھی بےمثل ہیں (م۔ وحیدی)5 در اصل یہ لوگ دلائل کے وضح ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ کی نبوت کا انکار محض حسد و بغض اور حب جاہ ومال کی وجہ سے کررہے تھے یہی وجہ تھی کہ قرآن کے تدریجی نزول کے ساتھ ان کے کفر و انکار میں بھی اضافہ اور غلو ہورہا تھا قرآن نے ان کے دلوں کی اسی کیفیت کو بیان فرمایا ہے کہ نزول قرآن سے وہ اپنے کفر اور شرارت میں مزید ترقی کرتے جائیں گے ، (ماخوذ از کبیر)6 یعنی اللہ تعالیٰ کی ان پر دوسری پھٹکار یہ ہے کہ ان میں باہم فرقہ بند ی اور عداوت پائی جاتی ہے اس لیے مسلمانوں کے خلاف جتنے منصوبے بناتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ناکام بنا یے جاتے ہیں چناچہ یہودیوں نے مسلمانوں کے خلاف جتنی شرارتیں کیں اور ان سے جتنی جنگیں لڑیں ان سب کر تاریخ اس حقیقت کی کھلی شہادت ہے۔
Ayahs 5:65–66

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 5:65 in the Quran reader

اور اگر کتاب والے ان سب قصروں پر بھی قرآن پر ایمان لاتے اور خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہیں یا گناہوں سے بچجتے ہیں تو ہم ان کے اگلے گناہ اتاردیتے ہیں معاف کردیتے اور ضرور ان کو مسلمانوں کے ساتھ نعمت کے باغوں میں لے جاتے یعنی بہشت میں

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ١ؕ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 5:66 in the Quran reader

اور اگر وہ توریت اور انجیل اور اور کتابوں کو جو ان کے پروردگار7 کی طرف سے ان پر اتریں قائم رکھتے تو سر کے اوپر پاؤں کے نیچے دونوں طرف سے کھاتے ہیں ایک گروہ تو ان میں سیدگا ہے9 اور اکثر ان میں بدکار ہیں10

ف 7 یعنی ان پر عمل کرتے وار ان میں تحریف نہ کرتے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ وما انزل الیھم سے قرآن مجید مراد ہے (ابن کثیر)8 ہر قسم کی فراوانی مراد ہے یعنی اوپر سے پانی برستا اور نیچے (زمین) سے غلہ اور میوہ پیدا ہوتا اور انہیں روزی کمانے کے سلسلے میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا۔ (قابن کثیر)9 یعنی افراط وتفریط سے بچ کر اعتدال کی راہ چلنے والا اس گروہ سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو مسلمان ہوگئے تھے جیسے عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی (کبیر)10 یعنی بقیہ یہو دی جو ایمان نہیں لائے۔
Ayah 5:67

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:67 in the Quran reader

اے پیمبر تیرے پروردگار کی طرف سے جو تجھ پر اترا وہ لوگوں کو بےکھٹکے پہنچا دے سنادے اور اگار تو ایس نہ کرے کچھ پہنچائے کچھ نہ پہنچائے اور ڈر سے تو گویا تو نے اللہ کا پیغام بالکل نہیں پہنچا یا1 اور اللہ تجھ کو لوگوں سے جو یری جان لینا چاہیں بچالے گاف 2 کیونکہ اللہ تعالیٰ کافر لوگوں کو راہ پر نہیں لاتا3

ف 1 یعنی اللہ تعالیٰ کے پیغام میں سے اگر کچھ چھپا لیاتو گویا سرے سے اس کا پیغام ہی نہیں پہنچا یا خصو صا یہود و نصاری اور منافقین کے متعلق اعلانات اس آیت ان لوگوں کی تردید ہے جو نبی ﷺ کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے قرآن کی بعض آیات عام مسلمانوں تک نہیں پہنچائیں بلکہ صرف علی ؓ اور اہل بیت کو بتائیں۔ حضرت علی ؓ نے ان کے اس خیال کی تردید فرمائی ہے چناچہ مروی ہے کہ ابو حجیفہ نے حضرت علی ؓ سے دریافت کیا کہ آپ اہل بیت کے پاس کچھ اور آیتیں ایسی ہیں جو اس قرآن میں نہیں ہیں انہوں نے جواب دیا۔ نہیں ہر گر نہیں اس ذات کی قسم جس نے دانے پھاڑ کر اگایا اور جان کو پید کیا البتہ فہم ہے جو اللہ تعالیٰ کسی کو قرآن کو بارے میں عطا فرماتا ہے (بخاری) حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ج شخص یہ کہتا ہے کہ نبی ﷺ نے وحی کا کچھ حصہ چھپالیا وہ جھوٹا ہے۔ ( بخاری۔ مسلم) مام زہری (رح) فرماتے ہیں کہ حجتہ الوداع کے موقع پر چالیس ہزار کے مجمع نے ابلاغ رسالت اور ادا مانت کی شہادت دی ہے اور آنحضر ﷺ نے اپنے خطبہ میں دریافت فرمایا تم سے میرے متعلق پوچھا جائے گا تو تم اللہ تعالیٰ کے سامنے کیا جواب دو گے سب نے بیک وقت کہا ہم گو اہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ نے پہنچا دیا اور اللہ کی امانت کا) حق ادا کردیا اور امت کی پوری خیر خواہی کی اس پر آپ ﷺ نے فرمایا الھم ھل بلغت کہ اے اللہ 1 میں پہنچا دیا کہ ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا الھم اشھد اے اللہ ( گواہ ہیو) ابن کثیر۔ کبیر)6 اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ کو اپنی خاص نگرانی میں لے لیا ہے چناچہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی ﷺ نے رات کا پہرہ موقوف فرمادیا (حاکم بہیقی) اور اور یہی بات دوسرے متعدد صحابہ ؓ سے بھی مروی ہے (ابن کثیر)3 یعنی اللہ تعالیٰ کفار کو ان کے ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دیگا (کبیر) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ یعنی اگر وے (وہ) دشمن ہوں تو تم بےفکر پہنچا و اور خطرہ نہ کرو (نوضح) یا مطلب یہ ہے کہ ہدایت و گمراہی اللہ کے ہاتھ میں ہے اس لیے اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو غم نہ کرو ( ابن کثیر)
Ayah 5:68

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:68 in the Quran reader

کہہ دے کتاب والو جب تم تورات اور انجیل کو اور جو کتاب تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے اتریں ان کو قائم کرو گے ان پر عمل کر وگے اس وقت تک تمہارا دین کچھ بھی نہیں ہے اے پیمبر اور تجھ پر جو اترا قر ن مجید تیرے پروردگار کی طرف سے یعنی اہل کتاب میں سے بتہیروں کی شرارت اور کفر کر بڑھا دیگا5 تو کافر لوگوں کا رنج نہ کر6

ف 4 تورات اور انجیل کی اقامت کے معنی یہ ہیں کہ ان میں جو عہد ان سے دلائل موجود ہیں ان کا اقرار کریں اور تورات وانجیل کے احکام وحدود پر عمل پیرا ہوں (کبیر) مطلب یہ ہے کہ اگر پورے طور پر ان کتابوں پر عمل نہ کرو گے تو نہ تمہاری کوئی حیثیت اور نہ تمہاری کوئی دینداری ّابن کثیر)5 تشریح کے لے حاشیہ آیت 64 ۔ 6 اس لیے کہ جو کچھ کر رہے ہیں اس سے اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچا رہے ہیں اور اس کا وبال خود بھگت کر رہینگے (کبیر)7 اوپر کی آیت میں بتایا کہ ال کتاب جب تک ایمان لاکر عمل صالح کریں ان کا کوئی مذہب نہیں ہے اس آیت میں بتایا کہ سب کا یہی حکم ہے۔ ، بظاہر تو الصا ئبین منصوب آنا چاہیے تھا مگر سیبو بہ اور خلیل نے لکھا ہے کہ یہ مرفوع بالا بتداعلی نیتہ التا خیر ہے یعنی اصل میں ولاھم یحزنون کے بعد ہے اسی الصر بئون کذلک اور اس کے مو خر لانے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ دواصل یہ سب فرقوں سے زیادہ گمراہ فرقہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ ان فرقوں میں سے جو بھی ایمان لاکر عمل صالح کریگا اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمائے گا حتی کہ اگر صابی بھی ایمان لے آئیں تو ان کے بھی یہ رعایت مل سکتی ہے۔ (کبیر) الصابئین کی تشریح کے لے دیکھئے سورت بقرہ آیت 62 اور آنحضرت ﷺ کے مبعوث ہونے کے بعد آپ ﷺ کی رسالت پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔ (ابن کثیر )
Ayah 5:69

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئُوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 5:69 in the Quran reader

جو لوگ زبان سے مسلمان ہیں اور دل میں منافق ہیں اور یہودی صابی7 اور نصاری ان میں سے جو اللہ پر اور پچھلے دن پر ایمان لائیں دلد سے یقین کریں اور چھے کام کریں تو ان کو قیامت کے دن نہ ڈ ہوگا نہ غم

ف 8 یہ تشریح اس صورت میں ہے ج ان الذین امنو سے منافق مرادلیے جائیں جو بظاہر ہر مسلمان اور احقیقت میں کافر تھے (م، ع)
Ayah 5:70

لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا١ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْ١ۙ فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ Open ayah 5:70 in the Quran reader

دینا کے مال و اسباب جاتے رہنے کا ہم تو بنی اسرائیل سے عہد لے چکے ہیں0 اور ہم نے ان کی طرف کئی رسول بھیجے10 ہر بار جب کوئی رسول ان کے پاس ایسے حکم لے کر آیا جو ان کو دل چاہتے تھے11 تو بعضوں کو چھٹلایا بعضوں کو مار ڈالا

ف 9 اس مقصود بنی اسرائیل کی سرکشی اور وفائے عہد سے انحراف کو بیان کرنا ہے گویا اس کا تعلق ابتدائے سورت (اوفو بالعقود) سے ہے (کبیر) یعنی ان سے عہد لیا کہ توحید و شریعت پر قائم رہیں گے اور جو رسول ان کی طرف بھیجے جائیں گے ان کی بات سنیں گے اور مانیں گے (ابن کثیر)10 یعنی شرائع اور احکام کی تعریف وارتشریح کے لے (کبیر)11 تو ان سے دشمنی کی پس کلما کا جواب محذوف ہے ای نا صبوہ کیونکہ بعد کا کلام اس پر دال ہے (کبیر )
Ayah 5:71

وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:71 in the Quran reader

اور سمجھے کہ کوئی بلا نہیں آئے گی22 تو اندھے اور بہرے ہوگئے13 پھر اللہ تعالیٰ نے ان کا قصور معاف کردیا1 4 پھر بہتیران میں کے اندھے اور بہرے ہوگئے اور اللہ تعالیٰ ان کاموں کو دیکھ رہا ہے16

ف 12 لفظ فتنتہ کے اصل معنی آزمائش کے ہیں مطلب یہ کہ ہم کیسے ہی گناہ کرلیں خواہ انبیا تک قتل کریں چونکہ ہم اللہ کے بیٹے اور چہتیے ہیں اس لیے ہم پر دنیا میں کسی قسم کی ادربار و نحوست یا غلبہ دشمن کوئی بلا نازل نہیں ہوگی (کبیر ) 13 مگر ان پر بلا نازل ہوئی چناچہ جب وہ پہلی مرتبہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے زما نہ میں حق سے بہرے اور اندھے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بابل کے کافر اور ظالم بادشاہ بخت نصر کو مسلط کردیا جس نے ان کی مسجد اقصی ٰ کو جلا ڈالا ان کے اموال لوٹے اور ان کی اکثریت کو لونڈی غلام بنا کر بناکر بابل لے گیا ( دیکھئے بن بنی اسرائیل آیت 4 ۔ 8)14 یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو بخت نصر کی غلامی سے نجات دی اور انہوں نے اپنی حالت سدھاری اور کچھ عرصہ کے لیے ٹھیک رہا15 یعنی پھر دوبارہ جیسی سرکشی پر اتر آئے یہاں تک کہ انہوں نے حضرت زکریا ( علیہ السلام) اور حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) جیسے جلیل القدر انبیا کو قتل کر ڈالا اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) سے انتہائی توہین آمیز سلوک کیا بلکہ انہیں قتل کرنے کے درپے ہوئے بعض نے گمراہی کے پہلے دور کو حضرت زکریا ( علیہ السلام) حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) کے زمانہ کے ساتھ اور یہاں کثیر منھم فرمانے سے اشارہ ہے کہ ان میں سے بعض حق پرست مسلمان ہوگئے تھے جیسے حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے رفقا اور ہوسکتا ہے کہ لتفسدن فی الارض مرتین ان دو دو روں کی طرف اشارہ ہو (کبیر)16 اس سے تہدید مقصود ہے (کبیر )
Ayah 5:72

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 5:72 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ تو کافرو ہوگئے جو کہتے ہیں مریم کا بیٹا مسیح وہ خدا ہے1 اور مسیح مریم کے بیٹے نے خودیوں کہا اے بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کو پو جو جو میرا بھی مالک ہے اور تمہارا بھی مالک ہے2 کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرے تو اللہ تعالیٰ جنت کر اس پر حرام کرچکا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ظلاموں کا یعنی مشرکوں کا کوئی مددگار نہ ہو3

ف 1 سلسلئہ بیان کے لیے دیکھئے آیت 17، یہود کے بعد اب نصاری ٰ کی گمراہیوں کا بیان اوان پر تہدید شروع ہورہی ہے (کبیر) ان لوگوں سے عیسائیوں کا کوئی خاصک فرقہ نہیں بلکہ سب کے سب عیسائی مراد ہیں کیونکہ وہ سب تثلیث کے قائل ہیں گو تعبیر و تشریح میں ان کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے اس لیے صحیح یہ ہے کہ سب کافر ہیں (ابن کثیر، ابن جریر)2 حضرت مسیح ( علیہ السلام) کا یہ بیان نصاریٰ کے عقیدہ کی تردید میں حجت قطعی کی حیثیت رکھتا ہے (کبیر) اور انجیل یوحنا باب 7 آیت 3 میں حضرت مسیح ( علیہ السلام) کا یہ قول آج بھی موجود ہے یہی ہمیشہ رہنے والی زندگی ہے کہ وہ تجھ حقیقی الہٰ کو اور اس یسو ( علیہ السلام) مسیح ( علیہ السلام) کو پہچانیں جسے تو نے رسول بنا کر بھیجا ( المنار)3 یہ وعید ہے یعنی عذاب سے کسی طور پر بھی نجات نہیں پاسکیں گے (کبیر )
Ayah 5:73

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ١ۘ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَهُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:73 in the Quran reader

نے بیشک وہ لوگ تو کافر ہوچکے جو کہتے ہیں اللہ تین کا ایک ہے4 جیسے اس وقت کے بھی نصاری یہی کہتے ہیں حالانکہ ایک خدا کے سوا اور کوئی سچا معبود د نہیں ہے اور اگر ایسا نہیں ہے اور اگر ایسا کہنے سے یہ لوگ باز نہ آئیں گے5 تو ان سے اہل کتاب میں سے جو تین خدا کہہ کر کافر ہوئے ان کو تکلیف کا عذاب ہوگا

ف 4 یعنی باپ بیٹا اور روح القدس تثلیث کا ہر پہلو ذکر کر کے ان کی ضلالت کو واضح فرمایا ہے (دیکھئے آیت 17)5 اور خالص توحید نہ کریں گے جس کی طرف انبیا دعوت دیتے رہے ہیں (وحیدی)
Ayah 5:74

اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:74 in the Quran reader

تو کیا اس قدر ڈرانے پر بھی خدا کے آگے تثلیث سے تو بہ نہیں کرتے اور اپنا گناہ اس سے نہیں بخشواتے اور اللہ بخشنے والا مہر بان ہے6

ف 6 مر کا لفظ الا ستفہام ( کبیر) یعنی ان کا یہ جرم انتہائی سنگین اور صریحا شرک کی حدتک پہنچا ہوا ہے تاہم اگر توبہ کرلیں تو ان کا یہ قصور معاف ہوسکتا ہے ( ابن کثیر )
Ayah 5:75

مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌ١ؕ كَانَا یَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُبَیِّنُ لَهُمُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 5:75 in the Quran reader

مریم کا بیٹا مسیح فقط ایک پیغمبر تھا جیسے اور پیغمبر نہ خدا اس سے پہلے کئی پیغمبر گر چکے7 اور اس کی ماں مریم بڑی ایمان دار8 یا بڑی سچی یا ولی تھی دونوں کھانا کھاتے تھے اے پیغمبر دیکھ ہم کس طرح ان سے دلیل بیان کرتے ہیں پھر دیکھ ایسی روشن دلیلیں سننے پر بھی وہ کیسے پھرے جاتے ہیں10

ف 7 اور ان کی ذات سے بھی ایسے ایسے معجزات کا ظہور ہوا جو انسانی طاقت سے باہر تھے تو جس طرح یہ تمام انبیا اپنے ان معجزات کی بنا پر خدا نہیں ہوگئے مسیح ( علیہ السلام) بھی محض بن باپ کے پیدا ہونے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے مردوں کو زندہ اور بیماروں کو شفا یاب کرنے کی وجہ سے خدا نہیں بن سکتے (کبیر، قرطبی)8 یعنی عبودیت کے اعلی مقام پر فائز تھیں جو نبوت کے بعد دوسرا درجہ ہے (دیکھئے التحریم آیت 12 ۔ النسا :69) بنیہ نہیں تھیں ج جیسا ابن حزم وغیرہ کا خیال ہے کیونکہ جمہور علما کے نزدیک انبیا رجال سے ہوئے ہیں (دیکھئے سورت یوسف :109 ۔ النحل 43، الا نبیا :7) ابو الحسن اشعری نے اس پر اجماع نقل کیا ہے (ابن کثیر)9 یعنی یہ دونوں عام انسانوں جیسے انسان تھے جن میں تمام بشر خاصیتیں اسی طرح موجود تھیں جس طرح دوسرے انسانوں میں پائی جاتی ہیں ( ابن کثیر)10 یعنی اب وہ اپنے کر وہی تعصب کی بنا پر اپنے غلط عقیدے سے چمٹے رہیں تو چمٹے رہیں ورنہ کوئی عقلی یانقلی دلیل ان کے پاس نہیں ہے جس کے بودے پن کو دو اور دو چار کی طرح واضح نہ کردیا گیا ہو (ابن کثیر) یہ نصاری کے عقیدہ کی ترید پر دوسری دلیل ہے (کبیر) مطلب یہ ہے کہ جن کی تم عبادت کرتے ہو ان میں الوہیت کا کوئی وصف بھی نہیں ہے، ان کا دوسروں کو نفع و نقصان پہنچا نا تو کجا خود اپنے سے دشمن کے ظلم کو دفع کرنے کے لیے اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعا کرتے رہے کہ اے اللہ مجھ سے مصیبت کلیہ وقت ٹال دے پھر اس کے بعد بھی اگر تم اس سمیع وعلیم کو چھوڑ کر حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو اپنا معبود بناو تو اس بڑھ کر جہالت اور کیا ہوسکتی ہے (ابن کثیر، رازی )
Ayahs 5:76–77

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا١ؕ وَ اللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 5:76 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دے کیا تم اللہ جو چھوڑ کر ایسے کو پو جتے ہو جو نہ تمہارے برے کا مالک ہے نہ بھلے کا اور اللہ تعالیٰ ہی سنتا ہے جانتا ہے11

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ۠ Open ayah 5:77 in the Quran reader

ے پیغمبر کہہ دے کتاب والوں اپنے دین میں ناحق بات کہہ کر حد سے مت بڑھو12 اور ان لوگوں کے خیال ہر مت چلو اپنے باپ دادوں کے جو تم سے پہلے گمراہ ہوچکے اور بہتیروں کو گمراہ کر گئے اس سیدھے رستہ سے بہک گئے1 ب

ف 12 یہود و نصاری کی الگ الگ تردید کے بعد اب دونوں کو مظاطب فرمایا ہے (کبیر) نصاری نے حضرت مسیح ( علیہ السلام) کے معاملہ میں غلو کیا ہے اور ایک بشر جسے اللہ تعالیٰ نے نبوت بخشی تھی اور اسے اپنی قدرت کا ملعہ کی نشانی دے دی اور ان کی پسلیوں کو ریزہ ریزہ کرڈالا (کبیر، ابن کثیر) یہ حقیقت ہے کہ دین جو بھی خرابی آئی ہے وہ اسی غلو (یعنی راہ اعتدال کو چھوڑنے) کی وجہ سے آتی ہے اسی لیے آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو باربار نصیحت فرمائی کہ میرے معاملہ میں حد سے نہ بڑھنا اور مجھے بشریت کے مقام سے اٹھاکر خدائی کے مرتبہ تک نہ پہنچا دینا ( ماخوذ از وحیدی) 1 پہلے فرمایا کہ گمراہ ہوئے پھر فرمایا کہ سیدھی راہ سے بہک گئے گویہ دو نو بظاہر ایک ہی ہیں مگر علما نے لکھا ہے کہ اول سے مراد ی ہے کہ وہ گمراہ ہوئے اور دوسرے ضلو سے مراد یہ ہے کہ وہ اب تک اس گمراہی پر جمے ہوئے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پہلی گمراہی سے مراد عقیدہ کی گمراہی ہو اور ادوسری سے عمل کی گمرہی مراد ہو (کبیر )
Ayah 5:78

لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ Open ayah 5:78 in the Quran reader

نی اسرائیل کافروں پر داؤد اور عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کی زبان سے پھٹکار پڑچکی ہے یہ پھٹکار اس لیے پری ہے کہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے بڑھ جاتے تھے2

ف 3 پہلے حضرت دواد نے ان لوگوں پر لعنت فرمائی ہے جنہوں نے سبت کا قانون توڑا اور پھر حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے اصحاب مائدہ پر لعنت فرمائی جو یہ معجزہ دیکھنے کے باوجود ایمان نہ لائے بعض علمانے نے لکھا ہے کہ یہود اللہ کے بیٹے اور چہیتے ہونے کا دعوی کرتے تھے قرآن نے فرمایا کہ تم تو انبیا کی زبان پر معلون ہو اور فرمایا کہ یہ لعنت نافرمانی میں حد سے گزر جانے کی وجہ سے ہوئی تھی (کبیر۔ ابن کثیر) یہ ان کی معصیت ور اعتدال کی تفسیر ہے (کبیر) یعنی وہ امر بالمعرو ونہی عن المنکر کا فریضہ بھلا بیٹے تھے اور ان کے نیک لوگ یہ سمجھنے لگے کہ اگر کچھ لوگ برے کا کر رہے ہیں تو کرتے رہیں انکا وبال خود ان پر ہوگا ہم تو اپنی جگہ پر نیک ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں پہلے یہ خرابی آئی کہ آج یک شخص دوسرے سے ملتا ہے تو اسے برائی پر ٹوکتا اور اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا لیکن کل یہی شخص اس کے ساتھ کھانے پینے لگتا۔ جب یہ معاملہ حد سے بڑھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل آپس میں ْٹکرادیئے اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی پھر صحابہ ؓ سے فرمایا سن رکھو یعنی اللہ تعالیٰ کی قسم کھاکر کہتا ہوں تم لوگ نیکی کا حکم کرتے رہو اور برائی سے روکتے رہو ورنہ اللہ تعالیٰ تم پر بھی اسی طرح لعنت فرمائے گا جس طرح اس نے بنی اسرائیل پر لعنت فرمائی (ابو داد ترمذی) حدیث میں ہے کہ جن کوئی ی قوم ام بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ چھوڑ بٹھتی ہے اس کی دعاقبول نہیں ہوتی (ابن کثیر) یعنی اسلاف کی وہ حالت تھی اور اب جو موجود ہیں ان کی یہ حالت ہے (کبیر) جیسے کعب بن اشرف اور مدینہ کے یہودی قبائل کے دوسرے افراد مسلمانوں کی دشمنی میں مکہ کے مشرکین سے دوستی رکھتے تھے مجاہد فرماتے ہیں منافقین مراد ہیں جنہوں نے مومنین کی بجائے کفار سے دوستانہ تعلقات قائم کر رکھے تھے، (کبیر ابن کثیر )
Ayahs 5:79–80

كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 5:79 in the Quran reader

بری بات کر بیٹھتے تو اس سے ایک دوسرے کا منع نہ کرتے بیشک برا کام کرتے تھے3

تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 5:80 in the Quran reader

اے پیغمبر تو ان میں سے ال کتاب میں سے بہیترے لیے دیکھے گا جو کافروں سے دستی کرتے ہیں4 انہوں نے اپنے لیے بری تیاری کی ہے وہ کیا جس سے اللہ ان پر غصے ہو اور آخرت میں ہمیشہ عذاب میں رہیں گے5

ف 5 یعنی کفار (مشرکین مکہ) سے دوستی قائم کرکے انہوں نے مسلمانو کے خلاف جو تیار کی ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا میں ان پر اللہ کا غضب ہو اور وہ آخرت میں بھی دائمی عذاب کے مستحق قرار پائے