5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 5:81

وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:81 in the Quran reader

اور اگر وہ اللہ تعالیٰ حضرت محمد پر ایمان لائے ہوتے تو کافروں کو دوست نہ بناتے لیکن بہتیرے ان میں نافرمان ہیں6

ف 6 یا یہ کہ اگر وہ واقعی اللہ تعالیٰ پر اور اپنے نبی حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) یا حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) اور ان پر نازل شدہ کتاب توراۃ انجیل پر ایمان رکھتے تو کبھی مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار سے دوستی قائم نہ کرتے کیونکہ توراۃ میں اسے حرام قرار دیا گیا ہے اور یا یہ کہ اگر وہ کفار اسلام لے آتے تو پھر کبھی ان سے دوستی پیدا نہ کرتے ( کبیر۔ ابن کثیر )
Ayah 5:82

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَهُوْدَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۚ وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُهْبَانًا وَّ اَنَّهُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 5:82 in the Quran reader

اے پیغمبر تو سب لوگوں میں مسلمانوں کا سخت دشمن یہود اور مشرکوں کو پائے گا اور دوستی کے راہ میں مسلمانوں سے نزدیک ان لوگوں پائے گا جو اپنے تئیں نصاری کہتے ہیں7 اس کی وجہ یہ ہے کہ نصاریٰ میں مولوی امشائخ ہیں یعنی عالم بھی ان میں اور درویش بھی اور وہ غرور نہیں کرتے۔

ف 7 یہ ایک دائمی حقیقت ہے جس کا اس زمانہ میں کبھی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے آج بھی جو دشمنی دیہودیوں اور مشرکوں ( گو سالہ پرست اور موتیوں کے پچاریوں) کو مسلمانوں وہ بہر حال عیسائیوں کو نہیں ہے ہاں جن عیسایئوں پر یہود غالب ہے وہ واقعی مسلمانوں ج کے سخت دشمن ہیں (م۔ ع ) 8 یہود اور نصاری کے درمیان جو تفاوت مذکوہ ہوا ہے یہ اس کی علت ہے جس طرح یہود کی عالم کو حبر کہا جاتا ہے جس کی جمع احبار ہے اسی طرح نصاری کے رائیس اور عالم قسیسین کہلاتے ہیں کہ نصاری میں رہبانیت (دنیا سے کنارہ کشی) کی بدعت رائج تھی۔ آنحضرت ﷺ نے لا رھبقا نیتہ فی الا سلام فرماکر اسے ممنوع قراردے دیا بیشک یہود کی قساوت قلبی کی کے مقابلہ میں یہ ممدوح تھی مگر اس سے وہبا نیت کا مطلقا ممدوح ہونا لازم نہیں آتا (کبیر )
Ayah 5:83

وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ١ۚ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:83 in the Quran reader

اور جب اس (کلام) کو سنتے ہیں جو پیغمبر (حضرت محمد) پر اترا (یعنی قرآن شریف کو) تو دیکھتا ہے (حق بات کو پہچان کر) ان کی آنکھیں آنسؤوں سے ابل رہی ہیں1 کہتے ہیں مالک ہمارے ہم ایمان لائے تو ہم کو گواہوں میں لکھ ہے2

ف 1 یعنی وہ روتے ہیں سمعوا کی ضمیر ان علما و رہبان کی طرف پلتی ہے جو ان میں سے مسلمان ہوگئے تھے حضرت ابن عباس ؓ اور عبد اللہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت نجاشی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ قصہ یہ ہے کہ کچھ مسلمان مکہ سے ہجرت کرک کے حبشہ کے عیسائی بادشاہ اصفحہ (رح) نجاشی کے پاس چلے گئے کفار مکہ نے باشاہ کو اکسایا کہ یہ لوگ حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کی اہانت کرتے ہیں اور ان کو عبد (غلام) کہتے ہیں اس پر نجاشی نے مسلمونوں کو اپنے دو بار میں بلایا اور منجملہ دوسرے سوالات کے ایک سوال حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کے متعلق بھی کیا اس حضرت جعفر ؓ طیار نے سو رہ مریم ( علیہ السلام) پڑھ سنائی تو نجاشی نے سن کر کہا کہ بعینہ یہی چیز انجیل میں ہے اور وہ رونے لگا (کبیر، ابن جریر) سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ اس میں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کے ذریعے نجاشی نے نبی ﷺ کو اپنے اور اپنی قوم کے اسلام لانے کی اطلاع دی تھی یہ ستر۔ اور بعض روایا کے مطابق تیس۔ آدمی تھے جو آنحضرت ﷺ کی خد مت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ان کے سامنے سورت یاسین تلاوت فرمائی جسے سن کر وہ رونے گلے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ( ابن جریر مگر یہ آیت عام ہے اور اس صفت کے ساتھ جو بھی متصف ہو وہی اس کے مصدق بن سکتے ہیں (ابن کثیر )
Ayah 5:84

وَ مَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَا جَآءَنَا مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ نَطْمَعُ اَنْ یُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 5:84 in the Quran reader

اور ہم کو کیا ہوا (یعنی کیا وجہ ہے) جو ہم اللہ پر اور جو حق بات ہم تک پہنچی ہے اس پر (یعنی قرآن پر ایمان نہ لائیں اور اس بات کی خواہش نہ کریں کہ ہمارا مالک ہم کو نیک بخت لوگوں کے ساتھ داخل کرے3

یعنی آنحضرت ﷺ کی امت میں داخل فرما (دیکھئے سورت بقرہ 143) یا یہ کہ انبیا اور مومنین جو توحید کی گواہی دیتے ہیں ان کی جماعت میں شمار فرما (کبیر)3 یعنی ہمارا مسلمان کے ساتھ حشر فرمائے۔ اس صورت میں ونطع کا عطف نومن کی ضمیر سے حال ہو اور مطلب یہ ہو کہ ہم کیوں ایمان لائیں حلان کہ ہم یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا پر وردگا اپنے نیک بندوں کے ساتھ ہمارا حشر فرمائے یعنی ہیں ایمان ضرور لانا چاہیے ورنہ اس قسم کی توقع سراسر جہالت اور حماقت ہے
Ayahs 5:85–87

فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:85 in the Quran reader

۔ ان کے اس کہ کے بدل اللہ نے ان کو باغ دئیے جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں (یعنی بہشتیوں میں ان کو لکھ لیا) ہمیشہ ان میں رہیں گے اور نیکوں کا یہی بدلہ ہے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 5:86 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو نہ مانا اور جھٹلایا وہ دوزخی ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 5:87 in the Quran reader

مسلمانوں جو ستھری چیزیں اللہ تعالیٰ نے تم کو حلال کردی ہیں ان کو (اپنے اوپر) حرام نہ کرو اور حد سے بھی) مت بڑھو کیونکہ اللہ حد سے بڑھ جانیوالوں کو پسند نہیں کرتا4

ف 4 نقض عہود کے سلسلہ میں یہود و نصاری سے مباحثہ کے بعد اب اصل موضوع کی طرف پھر تو جہ کی ہے یعنی کہ اوفو ابا لعقود کی تشریح جو اس سورة کا اساسی موضوع ہے (قرطبی۔ کبیر) رہبان نصاریٰ کی مدح کے بعد طیبات کی تحریم سے ممانعت یوں بھی انسب ہے کہ انہوں نے ان با توں کو نیکی میں داخل کررکھا تھا لہذا مومنین کو منع فرمادیا، حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جو چیز شروع میں صاف حلال ہو اس سے پرہیز کرنا برا ہے یہ دو طرح سے ہوتا ہے یاک زہد سے یہ رہبانیت ہے جو ہمارے دین میں پسند یدہ نہیں ہے اس کی بجائے تقویٰ اختیار کیا جائے یعنی ممنوع چیز کے قریب نہ جائے دوم یہ کہ کسی مباح کام کے نہ کرنے کی قسم کھالے یہ بھی بہتر نہیں ہے اسے چاہیے کہ قسم توڑے اور کفارہ ادا کرے۔ ( از موضح) ایک مرتبہ چند صحابہ حضرت عائشہ ؓ کے پاس آئے اور ان سے دریافت کیا کہ آنحضرت ﷺ جب گھر میں ہوتے ہیں تو کیا کرتے ہیں حضرت عائشہ نے آپ ﷺ کے معمولات بتائے ان میں سے وکئی کہنے لگا کہ میں کبھی گوشت نہیں کھاو گا کوئی کہنے لگا کہ عورتوں سے کوئی واسطہ نہ رکھو گا کوئی کہنے لگا کہ میں رات کو بستر پر نہ سووں گا یعنی ساری رات قیام کروں گا آنحضرت ﷺ کو اطلاع ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا لوگوں کو کیا گیا ہے کہ وہ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں حلان کہ میں یہ سب کام کرتا ہوں لہذا جس نے میری سنت سے بےرغبتی کا مظاہر کیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں (بخاری مسلم) اس سلسلہ میں میں اور بھی بہتر سی روایات ہیں جن میں سے بعض میں یہ تصریح ہے کہ یہ آیت ایسے ہی کیس موقع پر نازل ہوئی ( ابن کثیر)
Ayah 5:88

وَ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 5:88 in the Quran reader

اور جو اللہ تعالیٰ تم کو حلال ستھری روزی دے اس کو کھاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو جس پر تمہارا ایمان ہے5

ف 5 یعنی حلال کو حرام تو بہ ٹھہرا و ہاں ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تقوی ٰ اختیار کرو اور جو چیزیں حرام ہیں ان کے قریب نہ جاو) یہ اس مقام پر دوسرا حکم ہے اور جن صحابہ ؓ نے بعض طیبات کے ترک کی قسمیں کھائیں تھیں انہوں نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کہ ہماری قسموں کا کیا حکم ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (رازی) لغوقسموں سے مراد وہ قسمیں ہیں جو بےساختہ عادت کے طور پر زبان سے یو نہی نکل جاتی ہیں کا ایسی قسموں پر نہ کفارہ ہے اور نہ سزا۔ کفارہ اور سزا ایسی قسموں پر ہے جو دل کے ارادے سے کھائی جائیں اور پھر انکئ خلاف ورزی کی جائے (نیز دیکھے سورت بقرہ آیت 225)
Ayah 5:89

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَ١ۚ فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِیْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ١ؕ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَیْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ١ؕ وَ احْفَظُوْۤا اَیْمَانَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:89 in the Quran reader

۔ اللہ تعالیٰ تم کو لغو قسموں پر نہیں پکڑے گا البتہ ان قسموں پر پکڑے گا جو قصداً تم نے کھائی ہوں6 تو اس کا کفارہ (اتار) یہ ہے کہ دس مسکینوں کو بیچ کا (معمولی) کھانا کھلا دو جو اپنے بال بچوں کو تم کھلاتے ہو7 یا دس مسکینوں کو کپڑا پناؤ یا ایک بردہ آزاد کرو پھر جس کو مقدور نہ ہو تو وہ تین دن روزہ رکھے1 یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم (قصداً ) قسم کھاؤ (پھر اس کو توڑو اور اپنی قسموں کو تھامے رہو2 اللہ اسی طرح اپنے حکم تم سے بیان کرتا ہے اس لیے کہ تم (شریعت کے احکام بتلانے پر) اس کا شکر کرو

ف 7 بعض نے اوسط کے معنی عمدہ کئے ہیں، ابن جریر طبری کہتے ہیں کہ ج اوسط باعتبار مقدار کے ہے یعنی ہر مسکن کو اک عد (10 چھٹانک) غلے دے دے جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک شخص کو پندرہ صا ع ( 60 مد) کھجوریں دی تاکہ رزے کا کفارہ ادا کرے اور فرمایا کہ ساٹھ مسکینوں میں تقسیم کردو۔ ( ابن کثیر ) 1 یعنی کھانا کہ کھلا دتے نہ کپڑا پہنا سکے اور نہ غلام آزاد کرنے کی طاقت ہو تو دو روزے رکھ لے چاہے پے درپے رکھے اور چا ہے الگ الگ کرکے۔ ، عبد اللہ بن مسعود کی قرات میں ج متقا بعات ہے یعنی پے درپے روزے رکھے بعض ائمہ اسی کو اختیار کیا ہے۔2 یعنی حتی المقدور قسم کھانے سے پرہیز کرو لیکن قسم کھالو اور پھر اسے توڑ دو تو اس کا کفارہ ادا کرو حتی المقدور قسم کو پورا کرنے کی کوشش کرو گر جب یہ قسم کسی بہتر چیز کے چھوڑ ن پر ہو تو اسے توڑ کر اس کا کفارہ ادا کردو جیسا کہ حدیث، میں من حلف علی یمبن فری ٰ غیر ھا خیر منھا فلیات الذی ھو خیر ثم لیکفر من یمبنہ۔ کہ جس نے کسی چیز کے کے متعلق قسم کھائی پھر جب اس کے خلاف کو بہتر سمجھا تو وہ بہتر کام کرلے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کردے (کبیر )
Ayah 5:90

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:90 in the Quran reader

مسلمانو شراب اور جوا اور بتوں کے تھان اور پانسے یہ سب پلید ہیں شیطانی کام ان سے (یعنی ان سب پلید کاموں سے بچے رہو تاکہ تم3 مراد کو پہنچو

ف 3 یعنی اس رجس سے بچو شراب کے سلسلے میں یہ تیسرا اور آخری حکم ہے جس کے بعد وہ قطعی حرام قرار دے گئی اس سے قبل دو حکم آچکے تھے پہلا سورت بقرہ آیت 219 میں اور دوسرا سورة نسا آیت 43 میں مگر ان دونوں آیتوں میں شراب کی قطعی حرمت کا ذکر نہ تھا اس لیے حضر عمر ؓ نے بقرہ اور نسا کی آیات نازل ہونے کے بعد کہا اللھم بین لنافی الخمر اے اللہ شراب کے متعلق مزید وضاحت یعنی حرمت کی ضرورت ہے حتی کہ سورت مائدہ کی یہ آیات نازل ہوئیں۔
Ayah 5:91

اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ Open ayah 5:91 in the Quran reader

شیطان یہی چاہتا ہے اور کچھ نہیں کہ شراب اور جوئے سے تم میں آپس میں دشمنی اور کینہ کرا دے اور تم کو خدا کی یاد اور نماز سے باز رکے4 تو اب بھی تم باز آتے ہو یا نہیں5 ۔

ف 4 شراب اور جوئے کی حرام قرار دے کر اب اس آیت میں ان کے کے دینی اور دنیوی مفاسد بیان فرمادیئے ہیں دینی مفسدہ یہ کہ شراب اور جو انماز اور ذکر الہی کٰ سے روکنے اور غافل کرنے کا سبب بنتے ہیں اور دینوی مفسدہ یہ کہ باہم عداوت اور کینسر پیدا کرتے ہیں اور ان دونوں میں ان ہر دو مفاسد کا پایا جانا بالکل واضح ہے ( رازی) علما نے لکھا ہے کہ جس چیز بھی ہار جیت پر شرط بدی جائے وہ جوا ہے اور شطرنج وغیرہ میں گو شرط نہیں بد جاتی مگر یہ نماز سے غفلت کا سبب بنتی ہے اس لیے حرام ہے۔
Ayah 5:92

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْا١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 5:92 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ کا کہا مانو اور (اس کے) رسول کا کہا مانو اور (ان دونوں کی نافرانی سے) بچے رہو 6 پھر اگر تم نہ مانو تو یہ جانے رہو (ہمارا کچھ نہیں بگڑے گا) ہمارے رسول کا کام یہی ہے اور کچھ نہیں کھول کر (اللہ کا حکم) پہنچا دینا7

ف 5 (الغصی فی صورۃ الا ستطھام اللتوکید) یعنی شراب اور اجوئے سے باز ّجاو یہی وجہ ہے کہ جب یہ آیت اتری تو صحابہ کرام نے عرض کی۔ انتھینا ربنا : کہ اے ہمارے پروردگار ہم باز آگئے چناچہ راوی کا بیان ہے کہ اس آیت کے بعد لوگوں نے شراب کے مٹکے توڑ ڈالے اور مدینہ کے گلی کوچوں میں شراب پانی کی طرح بہنے لگی (ابن کثیر)6 یعنی جوئے اور شراب سے بازرہنا اللہ تعالیٰ اور اسے رسول کی اطاعت ہے لہذا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت سے ڈرو (کبیر، قرطبی) یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مراد قرآن وسنت کی پیروی اور سنت بھی قرآن کی طرح ایک مستقل ماخذ دین ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا اوتیت القران و مثلہ معہ ْ ۔ کہ مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس جیسی ایک اور چیز (یعنی حدیث) بھی (مشکوٰۃ)7 اس میں وعید ہے ان لوگوں کے لیے جو اس حکم قطعی کے باوجود شراب نوشی اور قما رباز سے باز نہیں آتے (کبیر
Ayah 5:93

لَیْسَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 5:93 in the Quran reader

۔ جو لوگ ایمان لائے اور اچے کام کیے ان پر کچھ گناہ نہیں جو (پہلے) کھا پی چکے8 جب وہ (شرک سے) بچیں اور ایمان پر قائم رہیں اور نیک کام کرتے رہیں پھر (حرام چیزوں سے) بچیں اور (ان کے حرام ہونے کا) یقین رکھیں پھر (سب بری باتوں سے بچیں (یا تقوی پر قائم رہیں) اور اچھے کام کریں اور اللہ نیکوں سے محبت رکھتا ہے9

ف 8 یعنی اس کی حرمت کے نزول سے پہلے جو لوگ شراب نوشی ی قمار بازی کرتے رہے ہیں ان پر اس سے کر ئی مواخذہ نہیں ہوگا یہ آیت اس وقت اتری جب شراب کی حرمت نازل ہونے کے بعد بعض صحابہ ؓ یہ کہنے لگے کہ ہمارے ان بھائیوں کا کیا حال ہوگا جو شراب پیتے اور جوا کھلیتے تھے اور اسی طرح ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے ہاں ح سے کیا بدلہ ملے گا جو جنگ احد میں شہید ہوگئے حلا ن کہ ان کے پیٹو میں شراب تھی ( کبیر، ابن کثیر ) 9 یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہاں مکرر تقوٰیٰ اور ایمان حکم صرف تاکید کے لیے ہو۔ اور دوسرا مطلب وہ ہے جس کی طرف مترجم نے قوسین کے درمیان دی ہوئی وضاحت سے اشارہ فرمایا ہے بعضج نے لکھا ہے کہ اول مرتبہ تقوی ٰ سے مراد شرک سے بچنا ہے اور دوسری بار یہ حکم گنا ہوں سے بچنے کے لیے ہے اور تیسری مرتبہ صغائر سے بچتے رہنا مراد لیا ہے اسی طرح پہلی مرتبہ ایمان سے اللہ و رسول پر ایمان لانا مراد ہے اور دوسری مرتبہ ایمان سے اس پر ثابت قدم رہنا مراد ہے۔ ( فتح القدیر۔ کبیر )
Ayah 5:94

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُهٗۤ اَیْدِیْكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّخَافُهٗ بِالْغَیْبِ١ۚ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:94 in the Quran reader

مسلمانو البتہ خدا تم کو کچھ شکار سے آزمائے گا جس کو تم اپنے ہاتھوں اور برچھوں سے پکڑ سکتے ہو10 ہو تاکہ اللہ یہ کھول دے (یعنی سب کو معلوم ہوجائے کہ کون بن دیکھے اس سے ڈرتا ہے پھر جو کوئی اس کے بعد زیادتی کرے (شکار مارے1 تو اس کو تکلیف کا عذاب ہوگا2

ف 10 آیت لا تحر موا سے بطور استثنا محرمات کا بیان ہو رہا ہے پہلے شراب اور جوئے کی حرمت بیان فرمائی اب اس آیت میں شکار کی حرمت کا بیان ہے (کبیر) جن کو تم اپنے ہاتھوں اور برچھو سے پکڑ سکتے ہو۔ یعنی چھوٹے بچوں کو ہاتھ سے پکڑ سکتے ہو اور بڑے جانوروں کو بر چھا مار کر ،۔ ( ابن کثیر ) 1 یعنی اب جب کہ احرام کی حالت میں خشکی کے جانوروں کا شکار کرنا منع کردیا گیا ہے۔ (قرطبی)2 یہ اور اگلی آیات اس وقت نازل ہوئیں جب مسلمان حدیبیہ میں احرام باندھے ہوئے تھے اور خلاف معمول چھوٹے بڑے جنگلی جانور ان گھروں میں گھس آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ان کے شکار سے منع فرمایا ،۔ (ابن کثیر )
Ayah 5:95

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ وَ مَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْیًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِهٖ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 5:95 in the Quran reader

مسلمانوں جب تم (حج یا عمرے کا) احرام باندھے ہو تو شکار نہ مارو (نہ حرم میں نہ حرم کے باہر)3 اور جو کوئی تم میں سے (احرام کی حالت میں) جان بوجھ کر (یہ جان کر کہ میں احرام باندھے ہوں) شکار کو مار دالے تو چاپئے جانووں میں سے ویسا ہی جانور جس کو مارا ہے4 بدلے میں دے تم میں دو معتبر شخص اس کو ٹھہرا دیں جو نیاز کے طور پر کعبے کو بھیج دیا جائے6 یا کفارہ دے مسکینوں کو کھانا کھلائے یا جتنے مسکینوں کا کھانا ہے اتنے روزے رکھے تاکہ وہ اپنے کیے کی سزا چکھے7 (اپنی بےادبی کا وبال اٹھائے) جو ہوچکا وہ تو اللہ نے معاف کردیا (اب اس کا بدلہ دینا ضروری نہیں8 اور جو کوئی (اس حکم کے بعد) پھر ایسا کرے9 تو اللہ اس سے بدلہ لے گا اور اللہ زبردست ہے بدلہ لینے ولا

حدیث میں ہے کہ محرم نہ تو کسی شکاری کی مدد کرے اور نہ اس شکار کا گوشت کھائے جو محر م کے لیے کیا گیا ہو۔ (بخاری مسلم ابوداود) ہاں موذی جانوروں کی حرام کی حالت میں اور حرم کے اندر قتل کرسکتا ہے۔ (بخاری مسلم) یعنی احرام کی حالت میں جیسا شکار مارے اسی کے مطابق نذرانہ سے خواہ وہ شکار بھول کر ہی کیوں نہ مارا ہو۔ حدیث میں ہے جو شخص احرام کی حالت میں شکار مارڈالے اس کے ذمہ ایک مینڈھا کی قربانی ہے ( ابو داود) اس جسے جانور سے مراد یہ ہے کہ تن وتوش میں اسی سے ملتا جلتا ہو جمہور ائمہ کا یہی مسلک ہے امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک قیمت میں ملتا جلتا مراد ہے۔ ( شوکانی)5 یعنی اس کا بدل تجویز کردیں کہ فلاں جانور اس شکار کے برابر ہوسکتا ہے۔ ( وحیدی ) 6 یعنی اس نذرانہ کو مکہ معظمہ میں لے جاکر ذبح کی جائے اور وہیں اس کا گوشت مسکینوں میں تقسیم کیا جائے اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ( ابن کثیر) جف 7 اس میں آیت میں او تخیر کے لیے ہے یعنی شکار کرنے والے کو اختیار ہے کہ ان تینوں میں سے جو کفارہ جا ہے ادا کردے اکثر ائمہ کرام کا یہی مسلک ہے جن میں ائمہ ثلاثہ بھی شامل ہیں ( ابن کثیر)8 یعنی زمانہ جاہلیت میں یا اس حکم کے آنے سے پہلے احرام کی حالت میں جو شکار تم کرچکے ہو اسے اللہ تعالیٰ نے معاف فرمادیا ہے اب اس کا بدلہ دینا ضروری نہیں ہے۔ (کبیر)9 یعنی جہاں تم پڑے ہوئے ہو وہاں کھا سکتے ہو اور زار راہ نے بان سکتے ہو البحر سے مراد پانی ہے اور اس میں سمندر اور غیر سمندر سب برابر ہیں یہاں شکار سے وہ مچھلی مراد ہے جو شکار کی جائے اور طعام سے مراد وہ زندہ یا مردہ مچھلی ہے جسے سمندر کی موجیں کنارے پر بھینک دیں اکثر صحا بہ ؓ نے اسکی یہی تفسیر کی ہے اس آیت سے جمہور علمانے استدلال کیا ہے کہ سمندر کا مردہ جانور حلال ہے (ابن کثیر) اور منا غالکم سے اشارہ فرمادیا ہے کہ یہ رخصت تمہارے فائدے کے لیے تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ حج کے طفیل حلال ہوئی ہے۔ (کذافی الموضح )
Ayahs 5:96–97

اُحِلَّ لَكُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِلسَّیَّارَةِ١ۚ وَ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 5:96 in the Quran reader

تمہارے اور دوسرے مسافروں کے فائدہ کے لیے (گو احرام باندھے ہوں10 دریا کا شکار اور اس کا کھانا حلال ہے اور جنگل کا شکار جب تک تم احرام باندھے ہو تم پر حرام اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو جس کے پاس تم اکٹھا ہوگے

جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ الْهَدْیَ وَ الْقَلَآئِدَ١ؕ ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 5:97 in the Quran reader

۔ خدا تعالیٰ نے کعبے کو جو عزت والا گھر ہے لوگوں کا گذارہ بنایا11 اور (اسی طرح) ادب والے مہینے کو12 اور (اسی طرح) نیاز کے جانور کو13 اور (اسی طرح) لٹکن والے جانور کو یہ اس لیے کہ14 تم سمجھ لو جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں سے اس کو اللہ جانتا ہے اور یہ بھی سمجھ لو کہ آسمان اور زمین کیا) اللہ ہر چیز کو جانتا ہے15

ف 11 اوپر کی آیت میں محرم کے لیے شکار کو حرام قرار دیا اب اس آیت میں بتایا کہ جس طرح حرم کو اللہ تعالیٰ نے وحشی جانوروں اور پرندوں کے لیے سبب امن قرار دیا ہے اسی طرح اسے لوگوں کے لیے جائے امن بنادیا ہے اور دینوی اور اخروی سعادتوں کے حصول کا ذریعہ بنایا ہے (کبیر) یعنی اہل مکہ کی معاش کا مدار اسی پر ہے کہ لوگ دور دراز سے حج اور تجارت کے ارادے سے یہاں پہنچے ہیں اور ہر قسم کی ضروریات ساتھ لاتے ہیں جس سے اہل مکہ رزق حاصل کرتے ہیں او لوگ یہاں پہنچ کر امن وامان پاتے ہیں حتی کہ جاہلیت میں بھی حرم کے اندر کوئی شخص اپنے باپ یا بیٹے کے قاتل تک کو کچھ نہ کہتا تھا اور عبادت وثواب کے اعتبار سے بہترین جگہ ہے الٖغرض یہ تمام چیزیں لوگوں کے قیام کا سبب ہیں (کبیر۔ فتح القدیر 912 ادب والے مہینے چاہیں ذولقعدہ، ذوالحج، محرم اور رجب ان چار مہینوں میں لوگ امن سے سفر اور تجارت کرتے اور اپنے لی سال بھر کا آذوقہ جمع کرلیتے اس اعتبار سے یہ مہینے بھی گویا لوگوں کی زندگی قائم رہنے کا ذریعہ ہیں۔ (کبیر)13 ان کو لوگوں کے لیے قیام کا سبب ہوتا اس اعتبار سے کہ ہدی کا گوشت مکہ کے فقرا میں تقسیم ہوتا او ہدی اور قلا دہ والے جانور کوئی شخص لے کر چلتا تو اس کا تمام عرب احترام کرتے۔ مقصد کعبہ کی عظت کو بیان کرنا تھا اس کے با لتبع ان چیزوں کا بھی ذکر کردیا کیونکہ ان کا تعلق بھی بیت اللہ کعبہ۔ سے ہے (کبیر)14 یعنی یہ کہ اس نے ان چیزوں کو قیام کا سبب بنایا ہے۔15 یعنی اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کی تمام تفصیلات جاننا ہے اور اسے خوب معلوم ہے کہ تمہاری دینی ومعاشی مصلحتیں کس چیز میں اور کسی چیز میں نہیں۔
Ayah 5:98

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌؕ Open ayah 5:98 in the Quran reader

جانو تم کہ اللہ کا عذاب سخت ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان (بھی) ہے16 ۔

ف 16 لہذا تم ایک طرف اس کے عذاب سے بھی پناہ مانگتے رہو اور دوسری طرف اس کی رحمت کے امید وار بھی رہو اصل ایمان یہ ہے کہ بندے پر خوف ورجا کی حالت طاری رہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا مومن کے خوف اور رجا و تولا جائے تو دونوں برابر نکلیں (کبیر)17 یعنی جب انہوں نے یہ حکم دیا تو اپنا فریضہ ادا کردیا اور تم پر حجت قائم ہوگئی اب کسی شخص کا کوئی عذر قابل قبول نہ ہوگا۔ (ابن کثیر )
Ayahs 5:99–100

مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:99 in the Quran reader

۔ پیغمبر کے ذمے کچھ نہیں مگر (خدا کا حکم پہنچا دینا17 اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم کھولتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو (تو اس کے سامنے نفاق نہیں چلنے کا)

قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 5:100 in the Quran reader

(اے پیمبر) کہہ دے گندا اور سترا برابر نہیں1 اور اگرچہ گندے کا بہت ہونا تم کو اچھا معلوم ہو2 تو عقل والوں اللہ تعالیٰ سے ڈرو تاکہ تم اپنی مراد کو پہنچو۔

ف 1 یعنی حرام اور حلال یا کافر اور مومن اس میں ترغیب وترہیب ہے (کبیر )
Ayah 5:101

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَسْئَلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 5:101 in the Quran reader

مسلمانو ایسی باتیں مت پوچھو جو اگر بیان کی جائیں تم سے تو تم کو بری لگیں (جن کا کھولنا تم کو برا لگے)3 اور اگر ایسے وقت میں پوچھو گے جب قرآن اتر رہا ہے (اور پیمبر زندہ ہیں) تو (خواہ مخواہ) تم سے بیان کی جائیں گی4 (اب تو جو تم پوچھ چکے) اللہ نے اس سے درگذر کی5 اور اللہ بخشنے والا بردبار ہے دیکھتا ہے پر جلدی سزا نہیں دتا

ف 2 یعنی رزق حرام کی فراوانی اور اس پر عیش و عشرت گو بظاہر کتنی خوش کن کیوں نہ ہو مگر انسان کو چاہیے کہ رزق حلال پر قناعت کرے خواہ وہ طاہر میں کتنا ہی حقیر ارکم کیوں نہ ہو، ج3 یعنی بلا ضرورت سوال کرو گے اور تمہاری مصلحت کے خلاف اس کا حکم اتر آیا ہے تو خواہ مشکل میں پڑ جاو گے اور پھر بجا نہ لانے کی صور میں اللہ تعالیٰ کے رسول کے نافرمان قرار پاو گے۔4 اور اسی طرح تم بہت سی چیزوں کو اپنے اوپر فرض قرار دے لوگے اس بنا پر متعدد روایات میں آنحضرت ﷺ کی کثرت سوال سے منع فرمایا ہے ایک موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ ہے جس کے سوال کے سبب کوئی ایسی چیز حرم ہوگئی جو پہلے حرام نہ تھی۔ (دیکھئے بقرہ آیت 108 ۔ ابن کثیر)5 دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور معافی ہے کہ اس نے ان چیزوں کے بیان نہیں کیا اور تمہا رے لیے ان کے ذکر نے اور نہ کرنے کی گنجائش باقی چھوڑدی (کبیر۔ ابن کثیر )
Ayah 5:102

قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِیْنَ Open ayah 5:102 in the Quran reader

ایسی باتیں کچھ لوگ تم سے پہلے (اپنے پیغمبروں سے) پوچھ چکے ہیں پھر (جب بتادی گئیں تو ان پر نہ چلے)6

ف 6 یہ بنی اسرائیل کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ان کا حال یہ تھا کہ اپنے انبیا سے ایک چیز خواہ مخواہ کرید کرید کر دریافت کرتے اور جب وہ حرام قرار دے دی جاتی تو اس سے باز نہ آتے اور فرض قرار دے جاتی تو یحانہ لاتے اس طرح دونوں حالتوں میں نافرمان ٹھہر تے یہ ساری آفت بلا ضرورت کثرت سوال سے آتی اس کی اس روش کی متعدد مثالیں سورة بقرہ میں گزرچکی ہیں بعض روایات میں ہے کہ جب آیت وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا آل عمران 97) نازل ہوئی تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر سواک کیا کہ اے اللہ کے رسول کیا حج ہر سال فرض ہے اس نے یہی سوال دو تین مرتبہ کیا مگر آنحضرت ﷺ نے کوئی جواب نہ دیا پھر فرمایا کہ اتر میں نعم (ہاں) کہہ دیتا تو ہر سال فرض ہوجاتا اور تم بجانہ لاتے تو کافر ہوجاتے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں : یا یھا الذین امنو الا تسئلو ( ابن کثیر )
Ayah 5:103

مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِیْرَةٍ وَّ لَا سَآئِبَةٍ وَّ لَا وَصِیْلَةٍ وَّ لَا حَامٍ١ۙ وَّ لٰكِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:103 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے کوئی حکم نہیں دیا بحیرہ کا اور نہ سائبہ کا اور نہ وصیلہ کا اور نہ حام کا لیکن کافر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور بہتیرے ان میں عقل نہیں رکھتے7

ف 7 اوپر کی آیتوں میں ایسی باتوں کے متعلق کرید اور سوال سے منع فرمایا ہے جن کے لوگ مکلف نہ ہوں اب اس آیت میں ایسے امور اپنے اوپر لازم کرلینے سے منع فرمایا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لازم نہ ہوں (کبیر) اہل عرب زمانہ جاہلیت میں بتوں کے نام پر جانور چھوڑدیتے پھر ان سے انتفاع حرام سمجھتے یہاں چارقسم کے جانور بیان کئے ہیں بحیرہ۔ وہ اونٹنی جو پانچ جو پانچ بچے دے چکنے کے بعد چھٹی مرتبہ نہ بچے کہ جنم دیتی تو اس کا کان چیر کر چھوڑ دیتے۔ سائبہ وہ اونٹنی جو کسی بیمار سے شفا یاب ہونے یا کسی مراد کے کے پورا ہونے پر بطور نذرانہ بتوں کے نام پر چھوڑ دی جاتی۔ وصیلہ وہ بکری جو نر اور مادہ کو جنم دیتی تو نر کو بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے اور اسے وصیلہ کہتے حام اسی نسل کشی کے اونٹ کو ہیں جس کے نطفہ سے دس بچے پیدا ہوجاتے اسے بھی بتوں کے نام پر کھلا چھوڑ دیتے تفاسیر میں ان کو دوسری تشریحات بھی مذکور ہیں۔ (ابن کثیر، کبیر) اس آیت میں رائے سخن گو مشرکین اہل عرب کی طرف مگر آیت اپنے عموم کے اعتبار سے تمام ان لوگوں کی مذمت کررہی ہے جو نظر واستڈلال اور حق سے اعراض کرکے اپنے باپ دادا کے رسم و رواج یا مذہبی پیشواوں کی اندا دھند تقلید کررہے ہیں اللہ تعالیٰ نے بہت سی آیات ہیں ایسے لوگوں کی مذمت کی ہے (نیز بقرہ آیت 170)
Ayahs 5:104–105

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 5:104 in the Quran reader

اور جب ان سے (یعنی ان کافروں سے) کہا جتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو اتار (یعنی قرآن شریک اس کی اور پیغمبر کی طرف آجاؤ (یعنی قرآن و حدیث پر عمل کرو) تو کہتے ہیں ہم کو تو وہی طریق بس ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا بھلا اگر ان کے باپ دادے نرے بےعلم اور گمراہ ہوں (تب بھی یہ انہیں کی پیروی کریں گے)8

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ۚ لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:105 in the Quran reader

۔ مسلمانوں تم اپنے تئیں سنبھالو اگر تم راہ پر رہو تو کسی کی گمراہی سے تمہارا نقصان نہ ہوگا تم سب کو اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ جانا ہے وہ تم کو جو تم کرتے تھے (اس کا بدلہ دے کر) جتا دے گا1

ف 1 یعنی شرائع و احکام کی اس قدر و ضاحت اور باربار ترغیب و ترہیب کے باوجود اگر یہ لوگ جہالت پر اصرار کریں تو تم ان کی گمراہی اور جہالت کی پروا نہ کرو خود کو ٹھیک رکھو تو ان لوگوں کی جہا لت کا تم پر کوئی وبال نہ ہوگا۔ (کبیر) بعض نے اس آیت سے یہ سمجھ لیا ہے کہ انسان بس اپنی نجات کی فکر کروے دوسروں کی اصلاح ضرورت نہیں ہے چناچہ اس غلظ فہمی کا ازالہ کرتے ہوئے حضرت ابوبکر ؓ صدیق نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا لوگو ! تم اس آیت کو پڑھتے ہو اور اس کا غلط مطلب لتیے ہو میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ لوگ برائی کو دیکھیں ارا سے بدلنے کی کوشش نہ کریں تو بصید نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے عذاب میں سب کو گرفتار کرلے، (کبیر، ابن کثیر) بس آیت کا مطلب یہ ہے کہ باوجود امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے لوگ باز نہ آئیں تو ایسی صورت میں ان لوگوں (امر بامعروف کرنے واولں) پر کچھ بوجھ نہیں ہوگا ( ابن کثیر )
Ayah 5:106

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَیْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةُ الْمَوْتِ١ؕ تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِیْ بِهٖ ثَمَنًا وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۙ وَ لَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ١ۙ اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِیْنَ Open ayah 5:106 in the Quran reader

مسلمانو جب تم میں سے کوئی مرنے لگے تو وصیت کے وقت آپس کی گواہی تم میں سے (یعنی مسلمانوں میں سے یا عزیزوں میں سے) دو معتبر شخصوں کی ہونا چاہیے2، یا اگر تم سفر میں ہو اور وہاں موت کی مصیبت آلگے تو غیر ہی (یعنی کافر یا جن سے قرابت نہ ہو) دو شخص سہی3 (پھر جب یہ دونوں گواہ وارثوں کے پاس آویں اور وارثو) تم (میں سے کسی) کو شک پیدا ہو تو (عصر کی) نماز کے بعد ان دونوں گواہوں کو کھڑا کرو4 وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھائیں ہم کو اس گواہی سے (یا قسم سے یا اللہ تعالیٰ کے پاک نام سے) دنیا کمانا منظور نہیں ہے کہ جسکے لیے ہم گواہی دیں (یا قسم کھائیں) وہ ایسا کریں تو بیشک ہم (خدا کے) قصور وار ہیں5

ف 2 یعنی دو دیندار اور راست باو و قابل اعتماد شخصوں کی۔3 اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان کسی کافر کو اپنے معاملہ میں اسی وقت شاہد بنا سکتا ہے جب مسلمان گواہ بننے کے لیے میسر نہ ہوں بعض صحابہ اور تابعین کا یہی مسلک ہے اور امام ارازی فرماتے ہیں کہ او من غیر کم کی تفسیر غیرک مسلم سے کرنا سیاق آیت کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ (کبیر، شوکانی4 یا کسی بھی نماز کے بعد لیکن اکثر علما عصر کی نماز کے بعد ہی کے قائل ہیں کیونکہ اس وقت جھوٹی شہادت دینے والے پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہوتا ہے، (شوکانی)5 خلاصہ یہ کہ مسلمان کو چاہیے کہ مرتے وقت اپنی وصیت پر دو معتبر مسلمانوں کو گواہ بنائے لیکن سفر کی حالت میں مسلمان گواہ نہ مل سکیں تو کافروں کی بھی گواہ بناسکتا ہے پھر اگر ان کافروں کی گواہی کے متعلق شبہ پیدا ہوجائے تو عصر کی نماز کے بعد ان سے اس گواہی پر حلف لیا جاسکتا ہے اس کے بعد بھی اگر کسی طور معلوم ہوجائے کہ انہوں نے جھوٹی قسم کھائی ہے یا خیانت کا ارتکاب کیا ہے تو میت کے وارثو میں سے دو آدمی جو سب سے زیادہ قریبی عزیز ہوں ان کے خلاف حلف اٹھا کر اپنا حق وصول کرسکتے ہیں (فتح القدیر)
Ayah 5:107

فَاِنْ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّاۤ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْهِمُ الْاَوْلَیٰنِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَ مَا اعْتَدَیْنَاۤ١ۖ٘ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:107 in the Quran reader

پھر اگر معلوم ہو کہ انہوں نے اپنے تئیں گنہگار کیا تو وہ6 دو گواہ ان کی جگہ کھڑے ہوں جن کو (میت کے) بہت نزدیک کے دو رشتہ داروں نے گواہی کے لائق سمجھا ہو7 اور وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہیں کہ ہماری گواہی پہلے دونون گواہوں کی گواہی سے زیادہ معتبر ہے اور ہم نے کوئی ناحق بات نہیں کہی۔ ایسا کیا ہو تو بیشک ہم گنہگار ہیں

ف 6 یعنی انہوں نے جھوٹی گواہی دی یا جھوٹی قسم کھائی یا خیانت کا ارتکاب کیا (شوکانی)7 مترجم لکھتے ہیں کہ یہ ترجمہ قرات حٖفص پر ہے لیکن اکثر یوں تر جمہ کیا ہے تو ان کی جگہ دو اور شخص ان لوگوں میں سے (گواہی کے لیے) کھڑے ہوں جن کا حق پہلے دو گوا ہوں نے دبایا ہے یعنی میت کے قریبی رشتہ دارْوں میں اس سے اس لیے کہ وہ گواہی دینے اور قسم کھا نے کے دواسروں کی بہ نسبت زیادہ حق دار ہیں۔ (کذافی، شوکانی) میت کے وارثوں سے قسم اس لیے گئی کہ ان کافروں نے دعوی ٰ کیا تھا کہ وہ مسروقہ پیالہ مرنے والے نے ہمارے ہاتھ بیچ ڈالا تھا اور وارث اس بیع سے انکار کرتے تھے اور مدعی کے پاس گواہ موجود نہ تھے اس لیے منکر (وارثوں) پر قسم عائد کی گئی (کبیر )
Ayah 5:108

ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَاۤ اَوْ یَخَافُوْۤا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌۢ بَعْدَ اَیْمَانِهِمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:108 in the Quran reader

اس (تدبیر) سے (جو اوپر بیان ہوئی) یا تو ٹھیک ٹھیک8 گواہی دینے کی زیادہ امید ہوگی (یعنی جیسی کی تیسی اور جوں کی توں) یا یہ ہوگا کہ وہ (یعنی وصی اور گواہ) ڈریں گے ایسا نہ ہو ہماری قسم کھانے کے بعد پھر (وارثوں کو) قسم دی جائے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور اسکا حکم سنو اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت پر نہیں لگاتا

ف 8 اس آیت میں اظہار کو شہادت فرمایا ہے مدعی اظہار کرکے یا مدعا علیہ جیسے اقرار کو کہہ کردیتے ہیں کہ اس نے اپنی جان پر شہاددت دی (کذافی الموضح ) 9 لہذا جھوٹی قسم نہ کھا و اور وصیت میں کسی وارث کی حق تلفی نہ کرو۔ (شوکانی) آیت کی شان نزول میں مذکور ہے کہ ایک مسلمان (بدیل) اور دو نصرانی تیم داری اور دعی ایک سفر پر گئے بدیل بیمار پڑگیا اور اس نے اپنے سامان کی فہرست بناکر اس میں رکھ دی اور سامان اپنے نصرانی ساتھیوں کے سپرد کردیا کہ میرے وارثوں کو پہنچا دینا۔ ان نصرانیوں نے اس سامان میں سے چاندی کا ایک جام (پیالہ) اڑالیا وہ پیالہ پکڑ گیا وارثوں نے آنحضرت ﷺ کے حضور دعوی کیا اس اس پر یہ آیت نازل ہوئی آخر وراثوں نے قسم کھاکر اس پیالے کی قیمت وصول کرلی ( ملخصا ازا بن کثیر)10
Ayah 5:109

یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:109 in the Quran reader

(اے پیغمبر اس دن کو یاد کر) جس دن کو یاد کر) جس دن اللہ تعالیٰ پیغمبروں کو (اپنے سامنے) اکٹھا کریگا (یعنی قیامت کے دن) پھر فرمائے گا تم کو (اپنی اپنی امت کی طرف سے) کیا کیا جواب ملا10 وہ عرض کریں گے ہم کو کیا معلوم تو ہی غیب کی باتیں خوب جانتا ہے11

شرائع اور احکام کا ذکر کرنے کے بعد اب قیامت کے بعض احوال ذکر فرما دیئے تاکہ نافر مانی کرنے والے کو زجر اور تنبیہ ہو (کبیر) مطلب یہ ہے کہ قیامت کے روز پیغمبروں سے سوال ہوگا کہ جو دعوت تم نے دی تمہاری امتوں نے اسے کس حد تک قبول کیا پیغمبروں سے یہ سوال امتوں کو زجر و علامت کے لے ہوگا۔ ( ابن کثیر)11 یعنی ہم تو صرف ان کے ظاہری جواب کی حد تک واقف ہیں جو ہماری زندگی میں انہوں نے دیا اور اسی کے متعلق پیغمبر شہادت بھی دیں گے ( دیکھئے سورة نسا آیت 41، وبقرہ 143) باقی رہا کہ فی الحقیقت ہماری دعوت کو دل سے قبول کیا یا نہیں اور ہمارے بعد ہماری امتیں کہاں تک اس پر ثابت قدم رہیں تو اس کا علم تیرے سوا کسی کو نہیں پس بحمد اللہ آیات میں تعارض نہیں ہے (کذافی الکبیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ ان کو سنایا جو مفر رور ہیں پیغمبروں کو شفاعت پر تاکہ معلوم کریں کہ اللہ تعالیٰ کے آگے کوئی کسی کے دل پر گواہی نہیں دتیا اور کوئی کسی کی شفاعت نہیں کرتا (کذافی المو ضح )
Ayah 5:110

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْكَ وَ عَلٰى وَ الِدَتِكَ١ۘ اِذْ اَیَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١۫ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا١ۚ وَ اِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ١ۚ وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْهَا فَتَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 5:110 in the Quran reader

اس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا مریم کے بیٹے عیسیٰ میں نے جو (دنیا میں) تجھ پر اور تیری ماں پر احسان کیا تھا وہ یاد کر جب میں نے روح القدس سے تیری مدد کی تھی1 تو لوگوں سے گود میں رہ کر اور بڑے ہو کر (یکساں) باتیں کرتا اور جب میں نے تجھ کو کتابت (لکھنا) اور حکمت اور تورات اور انجیل سکھلائی اور جب مٹی سے چریا کی مورت بانتا2 میرے حکم سے پھر اس میں پھونک مارتا تو وہ (سچ مچ) میرے حکم سے چڑیا ہوجاتی اور مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے چنگا کردیتا اور جب تو میرے حکم سے مردوں کو (قبر سے زندہ نکال دیتا3 اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے روکا (وہ تجھ کو قتل نہ کرسکے)4 جب تو ان کے پاس معجزے لے کر آیا پھر ان میں جو کافر تھے وہ کہنے لگے یہ تو کچھ نہیں مگر کھلا جادو ہے5

ف 12 چونکہ پیغمبروں سے سوال امتوں کے سرکش لوگوں کی زجر وتوبیخ کے لیے ہوگا اور سب سے زیادہ ملامت کے لائق نصاری ٰج ہو نگے جنہوں نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو الوہیت کا مقام دے دیا تھا اور اور اللہ تعالیٰ کے لیے بیوی اور اولاد ثابت کی تھی تعالیٰ اللہ عن ذالک اس بنا پر تمام پیغمبروں کی موجودگی میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ اپنے انعامات بیان فرمائیں گے اور اور پھر ان سے سوال ہوگا اس سے مقصد عیسائیوں کی تردید ہے (کبیر ) 1 یعنی حضرت جبریل ( علیہ السلام) کو تمہاری نصرت و تائید کے لیے مقرر کردیا تھا۔6 یہاں خلق کا لفظ صر ظاہری شکل و صورت بنانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے کہ حدیث میں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تصویر بنانے والوں سے فرمائے گا احیو اما خلقتم کہ تم نے خلق کیا اسے زندہ کرو۔ پیدا کرنے اور زندگی دینے کے معنی میں خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ (دیکھئے آل عمران آیت 49)3 اس آیت میں باذنی (میرے حکم سے) کا لٖفظ چار مرتبہ آیا ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہو تکا حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) یہ معجزات نہ دکھا سکتے تھے اور یہی حال ہر نبی کے معجزات کا ہے۔4 بدبخت اتنا نہ سمجھ سکے کہ مدر زاد اندھے او کوڑھی کو شفایاب اور مردے کو زندہ کرنا کسی جادو گر کے لیے ممکن نہیں چاہے وہ جادو میں کتنا ہی کمال کیوں نہ رکھتا ہو اور یوں بھ ی جادو کرنا اور کرانا فاسق و بدکار قسم کے لوگوں کا کام ہے حالانکہ وہ خود دیکھ رہے تھے کہ حضر عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) انہیں اللہ کی اطا عت اور عبادت کا حکم دیتے تھے ( از وحیدی) سچ ہے کل ذی نعمتہ محسود کہ ہر صاحب نعمت پر لوگ حسد کرتے ہیں۔ (کبیر) یہودیوں نے جس طرح حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو قتل کرنے کی سازش کی اور پھر جس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے شر سے محفوظ رکھا اور انہیں اپنی طرف اٹھالیا اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورت آل عمرن آیت 55 ونسا آیت 158)
Ayah 5:111

وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ١ۚ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 5:111 in the Quran reader

اور جب میں نے حواریوں کے دل میں ڈالاف 6 کہ مجھ پر اور میرے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ کہنے لگے ہم ایمان لائے اور گواہ رہ کہ ہم حکم بردار ہیں

ف 2 حواریوں کے قریب وہی معنی ہیں جو ہمارے ہاں انصار کے ہیں اور ان سے مراد حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کی دعوت قبول کرنے والے ہی ان کی تعداد بارہ تھی بائیبل میں عموما ان کے لیے لکھا ہے کہ یہ بھی بنی تھے اس صورت میں وحی کا لفظ معروف معنی میں استعمال ہوا ہے اور اگر یہ مان لیں کہ اوہ نبی نہیں تھے تو وحی کا لفظ صرف الہام کے معنی میں ہے جو غیر انبیا کو بھی ہوتا رہتا ہے (کبیر )
Ayah 5:112

اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:112 in the Quran reader

(اے پیمبر) یاد کر جب حواریوں نے مریم کے بیٹے عیسیٰ سے کہا کیا تیرے پروردگار سے یہ ہوسکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتارے7 عیسیٰ نے کہا اللہ تعالیٰ سے ڈرو اگر تم میں ایمان ہے8

ف 7 حواری اللہ و رسول پر ایمان رکھتے تھے جیسا کہ اوپر کی آیت میں مذکور ہے اس لیے ان کا یہ سوال اللہ کی قدرت پر شک کے طور پر نہ تھا بلکہ دلی اطمینان حاصل کرنے کے لیے تھا جیسا کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے مردوں کو زندہ کرنے کے متعلق سوال کیا تھا (ابن کثیر)8 کیونکہ ایسے معجزات تعین کے ساتھ طلب کرنا تحکم اور تعنت کے مترادف ہے ( کبیر) یا یہ کہ اپنے اند تقویٰ پیدا کرو اور اسے مائدہ کے حصول کا ذریعہ بنا و جیسے فرمایا : ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا (الطلاق) یعنی جو اللہ سے ڈرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنا دے گا (ابن کثیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں فرمایا ڈرو اللہ سے یعنی بندہ کو چاہیے کہ اللہ کو نہ آزماوے کہ میرا کہا مانتا ہے یا نہیں اگرچہ خداوند (رب تعالی) بتیری مہربانی فرماتا ہے۔ ، ( از موضح )
Ayah 5:113

قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَیْهَا مِنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:113 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ہم کو خدا کی قدرت میں کوئی شبہ نہیں ہے نہ اس کا امتحان منظور ہے ہم چاہتے ہیں کہ اس خوان میں سے کھائیں9 اور ہمارے دل تسلی پائیں اور ہم کو پورا یقین ہوجائے جو تم نے ہم سے کہا تھا وہ سچ ہے10 اور ہم اس نشانی پر گواہ رہیں11

ف 9 یعنی ہم یہ مائدہ محض معجزہ ہونے کی حثیت سے نہیں بلکہ چند امور کے پیش نظر طلب کر رہے ہیں جن کچھ کھانا چاہتے ہیں۔10 یعنی یہ کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی برکت کی امید پر مانگتے ہیں اور معجزہ ہمیشہ مشہور رہے آزمانے کو نہیں ( از موضح)11 یعنی بنی اسرائیل کے سامنے ہم آپ کے سچا رسول ہونے کی گواہی دے سکیں۔
Ayah 5:114

قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَ١ۚ وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 5:114 in the Quran reader

۔ (اس وقت) مریم کے بیٹے عیسیٰ نے (دعا کی) کہا یا اللہ مالک ہمارے آسمان سے کھانے کا ایک خوان ہم پر اتار اور ہمارے اگلوں اور پچھلوں کی عید ہو اور تیری (قدرت کی) ایک نشانی ہو1 اور ہم کو روزی دے تو بہتر روزی دینے والا ہے2

ف 1 یعنی تیری توحید نبی کی صحت رسالت پر دلیل قائم ہو۔ (کبیر) امام رازی (رح) لکھتے ہیں : وہ خوان یکشنبہ کو اترا۔ وہ نصاری ٰ کی عید ہے جسے ہمارے لیے یوم جمعہ (کذافی المو ضح) یعنی تیرے سوا کوئی روزی دینے والا نہیں۔
Ayah 5:115

قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مُنَزِّلُهَا عَلَیْكُمْ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّیْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 5:115 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں (اتارنے کو تو) یہ کو ان تم پر اتاروں گا لیکن پھر جو کوئی تم میں سے ناشکری کرے اور میرا (حکم نہ مانے) تو اس کو ایسا عذاب دوں گا کہ ویسا عذاب سارے جہان میں کسی کو نہیں دینے کا4

ف 3 علما کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ خوان اترا یا نہیں ؟ اکثر علما کا قول یہ ہے کہ وہ اترا اور یہی بات صحیح بھی ہے۔ (شوکانی) لیکن نظم قرآن دونوں کو متحمل ہے کسی ایک معنی میں صاف نہیں رہی حدیث غمار جس میں ہے کہ مائدہ نازل ہوا سو اس کا وقف صحیح ہے۔ ترجمان) باقی رہے یہ کوائف کہ خوان کیسے اترا، کتنا بڑ تھا اور اس پر کون کون سے کھانے تھے تو اس بارے میں کوئی بات صحت کے ساتھ ثاتب نہیں (قرطبی)4 یہ عذاب دنیا میں بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ حضرت عمار کے حدیث میں ہے کہ خوان کے اتر نے کے بعد انہوں نے ناشکری اور خیانت کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بندر اور خنزیر بنادیا۔ (دیکھئے آیت 78) اور آخرت میں بھی جیسا کہ عبد اللہ بن عمر نے فرمایا تین قسم کے لوگوں کو قیامت کے دن سے سے سخت عذاب ہو (1) منافقین (2) اصحاب مائدہ میں سے جنہوں نے کفر کیا، اور (3) آل فرعون دیکھئے نسا آیت 145 (ابن کثیر) حضرت شاہ صاحب اپنے فوائد میں لکھتے ہیں شاید حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کی اس دعا کا اثر ہے کہ اس کی امت آسودگی مال ہمیشہ رہی اور جوئی ان میں ناشکری کرے تو شاید آخرت میں سب زیادہ عذاب پاوے اس میں مسلمانوں کے لیے عبرت ہے کہ اپنا مد عا خرق عادت کی کی راہ سے طلب نہ کریں کیونکہ اس کی شکر گزاری بہت مشکل ہے اسباب ظاہری پر قناعت کریں تو بہتر ہے اس قصہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ حق تعالیٰ کے آگے حرایت کی پیش نہیں جاتی۔ (ماخوذاز مو ضح)
Ayah 5:116

وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ١ؕ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:116 in the Quran reader

اور اے پیغمبر وہ وقت بھی یاد کر) جب (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ فرمائے گا مریم کے بیٹے عیسیٰ کیا تو نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو اللہ تعالیٰ کے سوا خدا بنا لو5 وہ کہے گا تو پاک ہے6 مجھ سے کہیں ہوسکتا ہے کہ میں وہ بات کہوں جو ناحق ہے7 اور گر میں نے یہ بات کہی ہوگی تو تجھ کو ضرور معلوم ہوگی8 تو تو میرے دل تک کی بات جانتا ہے9 اور (البتہ) میں تیرے دل کی بات نہیں جانتا بیشک تو ہی غیب کی باتیں خوب جانتا ہے10

ف 5 اس کا تعلق اوپر کی آیت واذقال اللہ یعیسی ابن مریم 1) کے ساتھ ہے گویا پہلے طور پر تمہید حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) پر اپنے انعامات شمار کئے ہیں اور اب اصل مقصد شروع ہوا ہے یہ مخاطبہ قیامت کے دن ہوگا بعض نے لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھانے کے بعد یہ مکالمہ ہوچکا ہے مگر پہلا قول زیادہ صحیح ہے کیونکہ ابتدا میں آیت کہ ما یحبع اللہ الرسول اور اخر میں ھذا یوم ینفع الصاد قین صدقھم سے جن سے تینا قیامت کا دن مراد ہے۔ ، ( کبیر، قرطبی) اس غرض بھی نصاریٰ کو تو بیح ہے، ( ابن کثیر ) 6 تیرا کوئی شریک نہیں پھر بھلا میں اور عمیری وعدہ تیرے شریک کیسے ہوسکتے ہیں۔7 یعنی میں تو تیرے بندوں میں سے ایک بندہ ہوں پھر بندے کی کیا مجال کہا پنے آقا کے مقابلہ میں خدائی کا دعویٰ کرے8 یعنی بالفرض میں نے ایسی کوئی بات کہی ہو تو تجھے اس کا ضرور علم ہوگا کیونکہ تجھ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہ سکتی9 تو زبان سے نکلا ہوئی بات کیوں نہ جانے گا !10 تیرے سوا کسی کو علم غیب نہیں جس بندے کے پاس جو بھی علم ہے وہ سب تیرا عطاکردہ ہے اور کسی کا علم تیرے علم کے مقابلہ میں اتنی بھی حیثیت نہیں رکھتا جتنی سمندر کے مقابلہ میں پانی کا یاک قطرہ۔
Ayah 5:117

مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِیْ بِهٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ۚ وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْ١ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 5:117 in the Quran reader

میں نے تو ان سے وہی کہا تھا جو تو نے مجھ کو حکم دیا تھا اور کچھ نہیں لینے اللہ تعالیٰ کو پوجو جو میرا مالک ہے اور تمہارا بھی مالک ہے11 اور جب تک میں انمیں رہا اور ان کا حال دیکھتا رہا پھر جب تو نے مجھ کو اپنے پاس اٹھا لیا12 آسمان پر بلا لیا) تو تو ہی ان کا نگہبان رہا اور سب چیزیں تیرے سامنے ہیں (تجھے سب چیزوں کی خبر ہے)13

یعنی صرف اللہ ہی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے !12 لفظ وفات قرآن پاک میں تین معنی میں آیا ہے ایک موت جیسے اللہ یتوفی الا نفس حین موتھا (الزمر) دوسرے خواب جیسے ھو الذی یوفکم بالیل (انعام) تیسرے رفع جیسا کہ اس آیت میں ہے (دیکھئے آیت عمران آیت 55 والسنا آیت 158 (ترجمان نواب) 13 یعنی ان میں میری مو جو دگی کے وقت بھی تو ہی شہید تھا اور میرے الگ ہونے کے بعد بھیہ تو ہی شہید ہے شھید اسمائے حسنیٰ سے ہے اور شہید بمعنی رویت وعلم بھی ہوسکتا ہے۔ اور شہادت یا عتبار کلام بھی مراد ہوسکتی ہے ( رازی) مگر دوسرے کو حق کے مطلق شہید یا شاہد کا لفظ جب کوئی خاص قرینہ نہ ہو) شبہات باالکلا کے معنی میں ہی استعمال ہوتا ہے (م، ع )
Ayah 5:118

اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ١ۚ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 5:118 in the Quran reader

اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں (تو جو چاہے وہ کرسکتا ہے تیرے ملک میں ہیں) اور اگر تو ان کو بخش دے (یہ بھی ممکن ہے) کیونکہ تو زبردست ہے حکمت والا ہے14

ف 14 یعنی تعذیب وغفران دونوں پر تجھے پوری قدرت حاصل ہے کہ ان سے جو سلوک کرنا چاہے کرے اور تیرا کو کام بھی حکمت سے خالی نہیں ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن بعض لوگوں کو دیکھ کر آنحضرت ﷺ ھو ال اصحابی فرمائیں گے مگر آپ کو بتایا جائے گا کہ تم نہیں جانتے کہ تمہارے مرنے کے بعد انہوں نے دین کو بد ل ڈالا تو یہ سن کر آنحضرت بھی یہی عرض کریں گے وکنت علیھم شھیدا۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض فاسق لوگوں کی بھی سفاعت ہوگی ( قرطبی، رازی )
Ayah 5:119

قَالَ اللّٰهُ هٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْ١ؕ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 5:119 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہی دن تو وہ دن ہے جب سچوں کو ان کی سچائی کام آئے گی1 ان کے لیے باغ ہیں جن کے تلے نہریں پڑی بہہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اللہ تعالیٰ ان سے خوش وہ اللہ تعالیٰ سے خوش یہ (یعنی جنت کا ملنا اللہ تعالیٰ کا راضی ہونا) بڑا مراد پانا ہے2

ف 1 یعنی دنیا میں جو لوگ اپنے ایمان و خلوص میں سچے تھے ان کا یہ صدق وخلوص آج (قیا مت کے دن ان کے کام آئے گا۔ ( قرطبی)2 اس کے مقابلے میں دنیا کی بڑی سے بڑی کامیابی کوئی وقعت نہیں رکھتی !
Ayah 5:120

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا فِیْهِنَّ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:120 in the Quran reader

۔ آسمانوں اور زمین اور ان کے بیچ میں اللہ تعالیٰ ہی کی بادشاہت ہے اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے3

ف 3 آخر سورت میں انصاری کی تردیدی کے سلسلہ میں یہ خاتمہ نہایت منا سب ہے یعنی و ہی اکیلا تمام انسانوں کا خدا ہے اور خدا ہونے کا حق رکھتا ہے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) ان کی والدہ اور روح القدس سب اسی کے بندے ہیں جو کسی طرح اس کی خدائی میں شریک قرار نہیں دیئے جاسکتے (کبیر، ابن کثیر) اصل میں اس سورة کو ابتدا احکام شریعت کے بیان سے ہوئی اس کے بعد یہود و نصاری ٰ سے منا ظرہ کا ذکر آیا اب آخر میں یہ آیت لاکر اشارہ فرمادیا کہ اس سورت میں چو کچھ بیان ہوا ہے اوہ سارے کا سارہ قطعی اور حجت ہے (کبیر )