4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 4:1

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءً١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا Open ayah 4:1 in the Quran reader

لوگو اپنے مالک دے ڈرتے رہو جس نے تم کو ایک جان آدم سے پیدا کیا5 اور اسی جان میں سے پہلے اس کی بی بی حوا کی پیدا کیا آدم کی ایک پسلی سے حوا کو نکالا اور ان دونوں یعنی آّدم اور حوا سے بہت سے مرد عورت پھیلا دیئے اور ڈرتے رہو اللہ سے جس کا واسطہ دیتے ہو آپس میں مثلا کہتے ہو خدا کے واسطے ہمارا یہ کام نکال دو اور ناطہ توڑنے سے6 بیشک تم کو تک رہا ہے7

)5 یعنی پوری نوع انسانی ابو ال لبشر آدم (علیہ السلام) کی نسل سے ہے اسی ایک نفس سے اللہ تعالیٰ نے اس کا جوڑا (حوا) پیدا کیا۔ بعض نے منھا کر ترجمہ ای من جنسھتا کیا ہے مگر یہ صحیح نہیں کیونکہ اس سے لازم آّتا ہے کہ نفس واحدۃ نہیں بلکہ دونفسوں انسان کی تخلیق کی ابتدا ہوئی اور ظاہر ہے کہ نص قرآن کے خلاف ہے۔ روح لمعامی) اب یہ سوال کہ آدم ( علیہ السلام) سے ان کی زوج کی تخلیق کیسے ہوئی قرآن نے اسے بیان نہیں نہیں کیا اور احادیث صحین سے یہ تو ثابت ہے کہ عورت پسلی سے پیدا ہوئی ہے اور بعض روایات میں فالھر خلقن من ضلع بھی بھی آیا ہے کہ سب عورتیں پسلی سے پیدا ہوئی مگر کسی صحیح حدیث سے یہ ثابت نہیں ہے کہ خصوصیت کے ساتھ حضرت حوا ( علیہ السلام) (زوج آدم) آدم ( علیہ السلام) کی پسی سے پیدا کی گئی ہیں۔ بلکہ یہ روایت حضرت ابن عباس ؓ پر موقوف ہے اور یہی تصریح چونکہ توراۃ میں بھی وارد ہے اس لیے اغلب یہ ہے کہ یہ روایت اہل کتاب سے اخذ کی گئی ہے۔ اس بنا پسلی سے پیدا کئے جانے والی روایت کتاب سے اخذ کی گئی ہے۔ اس بنا پر پسلی سے پیدا کئے جانے والی روایت کی علما نے تاویل کی ہے کہ اس سے عورت کی فطرت اور طبعیت کی طرف اشارہ ہے اور بعد میں حدیث کا تتمہ فان ذھبت تقنھا کسر تھا اوکما قال سے مزید اس تاویل کی تائید ہوتی ہے۔ واللہ اعلم)6 اس کا عطف اللہ پر ہے ای وتقوا الارحام یعنی قطع رحمی اور رشتے داروں کے ساتھ بد سلو کی سے بچو۔ اس کو الا رحام کسریوم کے ساتھ بڑھنا لحن ہے اور قواعد نحو یہ کی رو سے بھی ضعیف ہے ہاں معنی کے اعتبار سے صحیح ہے یعنی قطع رحمی سے ڈرو جس کے واسطے تم ایک دوسرے سے سوا کرتے ہو۔ (کذافی القرطبی) امام شوکانی فرماتے ہیں کہ تمام عمائے شریعت ولغت کا اتفاق ہے کہ ارحام سے محروم اور غیر محرم تمام رشتے مراد ہیں۔ (فتح القدیر) قرآن و حدیث میں قطع رحمی کی بہت مذمت آئی ہے ایک حدیث میں ہے کہ رحم کا عرش معلمہ کے ساتھ معلق ہے اور کہہ رہا ہے جو شخص مجھے توڑے گا اللہ تعالیٰ بھی اسے توڑے گا اور جو مجھے جوڑے گا اللہ تعالیٰ بھی اسے جو ڑے گا۔ ( بخاری مسلم)7 یعنی تمہارے تمام احوال و اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ (ابن جریر)
Ayah 4:2

وَ اٰتُوا الْیَتٰمٰۤى اَمْوَالَهُمْ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ١۪ وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَهُمْ اِلٰۤى اَمْوَالِكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِیْرًا Open ayah 4:2 in the Quran reader

اور یتیموں کا مال ان کو دے دو اور ستھرا حلال دے کر گندہ حرام مت لو اور ان کے مال اپنے مال اپنے میں گڈ مڈ کر کے مت کھاؤ یہ بڑا گنا ہے8

ف 8 یعنی جب یتیم بالغ ہوجائیں تو ان کے اموال ان کے سپرد کردو اور یہ نہ کرو کہ یتیم کے مال سے اچھی چیز لے ر اس کی جگہ ردی چیز رکھ دو ، بعض نے طیب اور خبیث کے یہ معنی کئے ہیں کہ اپناما حلال مال چھوڑ کر دسرے کا حرام مال مت کھا و (ابن کثیر) اور آیت میں الی بمعنی مع کے ہے یعن ان کے اموال کو ناجائز کھا نے کے لیے اپنے مالوں کے ساتھ مت ملا ایسا کرنا کبیرہ گنا ہے حوب کے معنی گناہ کے ہیں ایک دعا میں ہے۔ ، اللھم اغفر حوبتی اے اللہ مرے گناہ بخش دے۔ (قربطی)
Ayah 4:3

وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْاؕ Open ayah 4:3 in the Quran reader

اور اگر تم کو ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں کا حق برابر نہ دے سکو گے تو دوسری غیر جو عورتیں کو بھلی لگیں ان سے نکاح کرلو دو دو تین تین چار چار9 پھر اگر تم کو کئی عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے میں ڈر ہو کہ برابر انصاف نہ کرسکو گے تو ایک پر قناعت کرو یا لونڈی پر یہ ظلم سے بچنے کی زیادہ نزدیک راہ ہے10

ف 9 آیت کی شان نزول کے بارے میں حضرت عائشہ ؓ عروہ بن زبیر ؓ کے ایک استفسار کے جواب میں فرماتی ہیں کہ بعض یتیم لڑکیاں لوگوں کے دامن پر ورش میں ہوتیں وہ ان لڑکیوں کے مال دار اور قبول صورت ہونے کی وجہ سے ان کے مال و جمال پر گرویدہ ہوجاتے اور ان سے نکاح کرلیتے لیکن ان کو اپنے گھر کی لڑکیاں سمجھ کر پرائے گھر کی لڑکیوں جیسا نہ تو مہر دیتے اروانہ ان کے دوسرے حقوق ہی ویسے ادا کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں انہیں ایسا کرنے سے منع فرمایا کہ اگر یتیم لڑکیوں سے تم ان کے مہر اور نفقات میں انصاف نہیں کرسکتے تو ان کے علاوہ تمہیں دوسری عورتوں س نکاح کی اجازت ہے۔ (قرطبی۔ شوکانی) اس آیت حضرت ابن عباس ؓ اور جمہور علمائے نے لکھا ہے کہ ایک شخص کے لیے بیک وقت چار سے زائد عورتیں اپنے حرم میں رکھنا جائز نہیں ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ سنت سے صراحت کے ساتھ یہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے، حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں وھذالذی قالہ الشافعی مجع علیہ من العلما غیلان بن سلمتہ الظقفی اور بعض دیگر صحابہ ؓ کے متعلق مذکور ہے ہے کہ جب وہ مسلمان ہوئے تو ان کے حرم میں چار عورتیں تھیں۔ آپ ﷺ نے ہر ایک فرمایا ختر منھن اربعا کہ ان میں سے صرف چار کا انتخاب کرلو اور باقی کو طلاق دیدو۔ امام قرطبی لکھتے ہیں رافضی اور بعض دیگر علمائے اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ چار سے زائد بھی جائز ہیں۔ مگر یہ لغت اور سنت سے جہالت کا نتیجہ ہے۔ ان کے مقابلہ میں اسلام کے تعداد ازواج کے مسئلہ پر معاندین نے اعتراضات بھی کئے ہیں جن کے علما نے مسکت جوابات دیئے ہیں10 یعنی قرآن نے انصاف نہ کرسکنے کے اندیشہ کی بنا پر ایک سے زائد بیو یوں شادی نہ کرنے کی تلقین کی ہے اور فرمایا ہے کہ ظلم سے بچنے کی یہ قریب ترین صورت ہے، بعض نے ان لا تعو لوا کے یہ معنی بھی کئے ہیں کہ تمہارے عیال زیدہ نہ ہوجائیں اور تم فقیر نہ ہوجا و مگر پہلے معنی زیادہ صحیح ہیں۔ ابن کثیر )
Ayah 4:4

وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً١ؕ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًا Open ayah 4:4 in the Quran reader

اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دے ڈالو اور اگر وہ اپنی خوشی سے کچھ تم کو چھوڑ دیں تو چین سے اس کو کھاؤ نوش جان کرو2

ف 1 لیکن بعض مفسرین نے اس کے معنی واجبتہ اور فریضتہ کئے ہیں اور اس پر اجماع ہے کہ شوہر کے ذمہ بیوی کا مہر ادا کرنا واجب ہے۔ (فتح القدیر)2 ہاں اگر عورت اپنی خوشی سے بغیر کسی دباو کے مہر معاف کر دے تو نہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے (ابن کثیر
Ayah 4:5

وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِیٰمًا وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِیْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:5 in the Quran reader

اور اپنے مال جن کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا سہارا بنایا ہے نے بیوقوفوں کے حوالے مت کرو اور ان کو کھلاؤ اور پہناؤ اس میں سے اور اچھی طرح نرمی سے ان سے بات کرو3

)3 یہاں بیوقوفوں کی صلا حیت نہ رکھتے ہوں۔ اس میں چھو ٹے بچے اور ناتجر نہ کار بیوی بھی آجاتی ہے اور نادان یتیم بھی۔ یعنی اگر تجربہ کار اور کم عقل ہوں تو وصی یا متولی کو چاہیے کہ یتیم کے مال سے اس کے کھا نے پینے اور لباس کا انتظام کرتا رہے مگر وہ مال اس کے سپرد نہ کرے۔ اس آیت سے علما نے سفیہ (کم عقل) پر حجر کا حکم اخذ کیا ہے کہ حاکم وقت اس کے تصرف پر پابندی لگا سکتا ہے (ابن کثیر )
Ayah 4:6

وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 4:6 in the Quran reader

اور یتیموں کو آزماؤ یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر میں پہنچیں یعنی جوان ہوں پھر اس عمر کو پہنچے پر اگر ان میں صلاحیت دیکھو ہشاری لیاقت نفع کی فکر تو ان کے مال ان کے حوالے کردو4 اور ان کے بڑے ہونے کے خیال سے فضول خرچی کر کے جلدی جلدی ان کا مال مت کھاؤ اور یتیم کا سرپرست یعنی ولی اگر محتاج نہیں ہے تو یتیم کے مال سے بچا رہے اور جو محتاج ہے تو دستور کے موافق کھالیوے5 پھر جب تم ان کے مال ان کے حوالے کرو تو گواہ کردو اس پر اور اللہ بس ہے حساب سمجھنے والاف 6

ف 4 یعنی یتیموں کا امتحان اور ان کی تربیت کرتے رہو جس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ پہلے تھوڑا سامال دے کر ان کو کسی کام پر لگا کے دیکھو کہ آیا یہ اپنے مال کو بڑھاتے یا نہیں پھر جب وہ بالغ ہوجائیں اور ان میں رشد ہو تو با توقف مال ان کے حوالے کردو۔ رشد سے مراد عقلی اور ادینی صلاحیت ہے پس بالغ ہونے کے علاوہ مال کی سپرد داری کے لیے رشد بھی شرط ہے۔ اگر کسی شخص میں رشد نہیں ہے تو خواہ وہ بوڑھا ہی کیوں نہ ہوجائے متولی یا وصی و چاہیے کہ وہ مال اس کے حوالے نہ کرے (قرطبی۔ ابن کثیر)5 یعنی جس سے کم از کم ضرورت پوری ہوسکتے6 یتیم کے متولی یا وصی کو حکم ہے کہ گواہوں کے روبرو مال واپس کرے تاکہ کل کو اس پر کوئی الزام نہ آئے۔
Ayah 4:7

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ١ؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا Open ayah 4:7 in the Quran reader

جو ماں باپ اور ناطے دالے چھوڑ مریں یعنی مال واسباب میں مر دوں کا حصہ اسی طرح عورتوں کا بھی حصہ ہے اس میں جو ماں باپ اور باطے والے چھوڑ مریں تھوڑا یا بہت ہر ایک کا حصہ مقرر ہے7

ف 7 اس آیت میں ایک اصولی حکم دیا ہے کہ ماں باپ اور رشتہ داروں کی چھوڑی ہوئی جائداد میں چاہے وہ کسی نو عیت کی ہو جس طرح مردوں کا حق ہے اسی طرح عورتوں اور چھو ٹے بچوں کا بھی حق ہے اس عرب کے جاہلی دوستو کا رد کرنا مقصود ہے۔ وہ عورتوں اور بچوں کو میت کے متروکہ مال اور جائداد سے محروم کردیتے اور صرف بالغ لڑ کے ہی جائدا پر قبض کرلیتے۔ آیت کی شان نزول ارمردوں اور عورتوں کے حصوں کی تعین بعد کی آیات میں آرہی ہے (ابن کثیر۔ شوکانی )
Ayah 4:8

وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:8 in the Quran reader

اور جب ترکہ بٹ رہا ہو اور وہ ناطے والے جن کو حصہ نہیں پہنچتا اور یتیم اور محتاج آجائیں کچھ ملنے کی امید تو ان میں سے کچھ چٹادو یعنی ترکہ بانٹنے سے پہلے تھوڑا بہت اس کے ساتھ بھی سلوک کردو اور نرنی سے ان سے بات کرو8

ف 8 یعنی ورثہ کو چاہیے کو متر کہ مال میں سے کچھ حصہ بطور صدق و خیرات ان رشتہ داروں یتیموں اور مسکینون کو بھی دیں جو خاندان میں موجود ہوں تقسیم کے وقت موقع پر پہنچجائیں ار اگر یہ لوگ زیادہ کی حرص کریں تو نرمی سے ان سے بات کرو۔ یعنی معذرت کردو یہ وارث ﷺ کا مال ہے تمہار حق نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں فرائض یعنی روثہ کے مقررہ حصے نازل ہونے سے پہلے یہ حکم تھا۔ فرائض نازل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے اب یہ بخشش نہیں ہے اور صدقہ و خیرات میت کی وصیت سے ہی ہوسکتا ہے یہی مذہب جمہور فقہا ائمہ اور ابعہ اور ان کے متبعین کا ہے لیکن بعض اب بھی کچھ صدقہ و خیرات کے قائل ہیں۔ چناچہ بخاری میں حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیت محکم ہے اور روثہ کو حکم ہے کہ تقسیم تر کہ وقت رشتہ داروں صلہ رحمی کر کریں ( ابن کثیر۔ قرطبی)
Ayah 4:9

وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ١۪ فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا Open ayah 4:9 in the Quran reader

لوگوں کو دوسروں کا اولاد کی انتی فکر کرنا چاہیے جیسے اگر اپنی اولاد اس طرح کم سن چھور کر مر نے لگتے ہیں ان کی کتنی فکر کرتے اور اللہ سے ڈرنا چاہیے اور سیدھی سچی بات کہنا چاہیے11

ف 1 یہ حکم میت کے وصیت سن کر نافذ کرنے والوں کو ہے اور ان لوگوں کو بھی جو یتیموں کے سرپرست اور وصی مقرر ہوں۔ ان سب کو ہدایت کی جارہی ہے وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے میت کی اولاد اور یتیموں کو مفاد کا سی طرح خیال رکھیں جس طرح وہ چاہتے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی چھو ٹی اور بےبس اولاد کے مفاد کا خیال رکھا جائے۔ لہذا انہیں یتیموں سے بہتر سے بہتر سلوک کرنا چاہیے اور ان کی عمدہ سے عمدہ تعلیم و تربیت کرنا چایئے یتیموں کے اولیا سے اس آیت کا تعلق انسب معلوم ہو تو ہے کیونکہ بعد میں یت امیٰ کی حق تلفی کرنے والوں کو متعلق جو وعید آرہی ہے اس کے ساتھ زیادہ منا سبت پائی جاتی ہے، ( ابن کثیر۔ قرطبی)
Ayah 4:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠ Open ayah 4:10 in the Quran reader

بیشک جو لوگ یتیموں کا مل ناحق چکھ جاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں یعنی مر نے کے بعد ان کے پیٹ میں انگارے بھرے جائیں گے اور آخرت میں وہ دوزخ میں جانے والے ہیں6

ف 2 علاوہ ازیں احادیث میں بھی ایسے لوگوں کے حق میں سخت وعید آئی ہے ایک حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اخبتنو السبع الموبقات کہ سات مہلک گناہوں سے بچوں ان میں سے ایک گناہ یتیم کا مال کھانا ہے۔ (بخاری مسلم بروایت ابوہریرہ ؓ ایک دسری حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا معراج کے موقع پر مجھے ایسے آدمیوں کے پاس لے جایا گیا جن میں سے اک کا ہو نٹ اونٹ جیسا تھا ان پر کچھ لوگ مقر تھے جو ان کے جبڑے اکھاڑتے اور آگ کا یاک بتھر ان کے منہ میں ڈالتے تھے وہ پھتر ان کے نیچے سے نکل جاتا اور وہ انتہائی زور سے چیختے چلاتے۔ میں نے جبرئیل سے دریافت کیا کہ کہ کون لوگ ہیں انہوں نے جواب دیا ظلم سے یتیموں کا مال کھا نے والے۔ (ابن کثیر )
Ayah 4:11

یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ١ۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ١ۚ وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ١ؕ وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:11 in the Quran reader

اللہ تم کو حکم دیا ہے تمہاری اولاد کے باپ میں تو مرد کو وہ عورتوں کے برابر حصہ ملے گا3 اور اگر دو سے زیادہ عورتیں نری بیٹیاں ہوں اور بیٹا نہ ہو تو بھی تر کہ میں دو تہائی ان کو ملنے گی4 اور اگر ایک ہی بیٹی ہو اس کے ساتھ بیٹا نہ ہو تو آدھا ترکہ اس کے ملے گا اور7 اور میت کے ماں ماں باپ کو ہر ایک کو ترکہ کا چھٹا حصہ ملے گا جب میت کی اولاد ہو6 اگر میت کی اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ اس کے وارث ہوں تو ماں کو ایک تہائی ملے گا اور باقی سب باپ کو7 لیکن اگر میت کے ایک سے زیادہ بھائی یا بہنیں ہو گو ماں کو چھٹا حصہ ملے گا7 اسب حصے میت کی وصیت کو جو اس نے کی تھی پورا کرنے اور قرض ادا کرنے کے بعد کیے جائیں گے9 باپ دادا یا بیٹے پوتے تم کیا جانوں کس سے تم زیادہ فائدہ پہنچنے والا ہے یہ اللہ کا مقرر کیا ہو حصہ ہے اس میں داخل در معقولات مت کرو بیشک اللہ اپنے بندوں کی مصلحت کو جانتا ہے حکمت والا ہے10

ف 3 اب اس رکوع میں روثہ کے تفصیل حصص کا بیان ہو رہا ہے۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ دونوں آیتیں اور اس سورة کے خاتمہ والی آیت علم وراثت میں اصول کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وراثت کے تمام مسائل ان تین آیات سے منتنبط ہیں اور وراثت سے متعلق احادیث بھی ان آیات ہی کی تفسیر ہیں۔ ( ایک حدیث میں ہے کہ جب حضرت جابر ؓ بن عبد اللہ بیمار ہوئے تو آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ ان کی عیات کے لیے تشریف لے گئے جابر ؓ نے آنحضرت ﷺ سے اپنے مال کے بارے میں دریافت کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور بعض روایت میں ہے سعد بن ربیع وفات پاگئے اور ان کے چچا نے ان کا سارا ورثہ سنبھال لیا۔ سعد ؓ کی دو لڑکیاں تھیں ان کی بیوی نے آنحضرت ﷺ سے ورثہ کا سوال کیا تو یہ آیت نازل ہوئی مطلب یہ ہے کہ جب اولاد میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں موجود ہوں تو لڑکے کو لڑکی سے دوگنا حصہ ملے گا۔ اس کو دو حصو دینے کو جہ سے ہے کہ مرو پر نہ نسبت عورت کے معاشی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہوتی ہیں اس بنا پر اس کو عورت سے دوگنا حصہ دینا عین قرین انصاف ہے۔ ( قرطبی۔ ابن کثیر)4 یہی حکم دو لڑکیوں کا بھی ہے۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ سعد ؓ بن ربیع کی دو لڑکیاں ہی تھیں جب کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی ہے چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان کو دہ تہائی حصہ کا حکم دیا۔ (ابو داود۔ ترمذی) پھر اس سورت کی آخری آیت میں جب دو بہنوں کو تہا حصہ دیا گیا ہے تو دو بیٹو کو بدر جہ اولی ٰ دیا جاتا ہے چاہیے۔ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ دو لڑکیوں کا دوتہائی حصہ قرآن و حدیث دونوں سے ثابت ہے۔ (ابن کثیر۔ ) اس حکم سے چند صورتیں مستثنی ہیں (1) حدیث میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا لا نورث مابر کنا صدقتہ لہذا آنحضرت ﷺ کی میراث تقسیم نہیں ہوگی۔ (دیکھئے سورت مریم آیت 6) عمدا قتل کرنے والا اپنے مقتول کا وارث نہیں ہوسکتا یہ حکم سنت سے ثابت ہے اس پر امت کا اجماع ہے 3) حدیث میں ہے لا یرث المسلم الکافر کہ کافر مسلمانوں کا وارث سے محروم ہوگا۔ قرطبی)5 اس سے بھی معلوم ہوا کہ جب ایک بیٹی کو حصہ نصف ہے تو دو یا دو سے زیادہ بیٹیوں کا حصہ دو تہائی ہونا چاہیے۔ ، یعنی میت کی اولاد ہونے کی صورت میں ماں باپ دونوں میں سے ہر ایک کل ترکہ کا چھٹا حصہ ملے گا بشرطیکہ ذوی الفروض میں دوسرا اور کوئی موجود نہ ہو۔ مثلا میت کی ایک بیٹی اور ماں باپ میں تو تر کہ اور باقی دو حصے باپ کو دے دیئے جائیں (ابن کثیر)7 یہ ماں باپ کی دوسری حالت ہے یعنی اگر میت کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے ماں پاب زندہ ہوں تو ماں کو ایک تہائی حصہ ملے گا اور بقیہ د وتہائی حصہ باپ کو مل جائے گا اور اگر ماں باپ کے ستھ میت کے مرد ہونے کی صورت میں بیوی اور عورت ہونے صورت میں اس کا شوہر بھی زندہ ہو تو شوہر کا حصہ۔ جس کا ذکر آتے آرہا ہے۔ پہلے نکالنے کے بعد باقی ماندہ میں سے ماں کو ایک تہائی اور باپ کو دو تہائی حصہ ملے گا۔ اس صورت میں تو بعض علما کل مال سے ماں کو ایک تہائی دینے کے قائل ہیں مگر اصح یہی ہے کہ بقیہ میں سے ایک تہائی دی جائے گا، چناچہ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں : وھو قول الفقھا السبعہ الائمہ الا ربعتہ جمھور العلم (ابن کثیر)8 یہ ماں باب کی تیسری حالت بیان ہے یعنی اگر میت کے کوئی اولادنہ ہو اور ماں باپ کے علا وہ صرف بھائی ہوں (خواہ ماں باپ دونوں سے یا صرف ماں سے یا صرف باپ سے) تو باپ کی موجودگی میں انہیں کیوئی حصہ نہیں ملے گا البتہ وہ ماں کا حصہ تہائی سے چھٹا کردیں گے اور اگر ماں کے ساتھ سوائے باپ کے کوئی دوسرا ورث نہ ہو تو بقیہ سارا حصہ 5 6 باپ کو مل جائے گا اور یہ یاد رہے کہ اخوۃ جمع کا لفظ ہے اویہ جمہور علما کے نزدیک وہ کو بھی شامل ہے لہذا گر صرف ایک بھائی ہو تو وہ ماں کا تہائی سے چھٹا حصہ نہیں کرسکتا۔ (ابن کثیر)9 میت کے مال سے اول متعلقہ ادا کئے جائیں پھر کفن ودفن پر صرف کیا جائے پھر باقی ماندہ سے حسب مراتب قرض ادا کیا جائے گا پھر ثلث مال سے وصیت کا نفاذ ہو اس کے بعد ورثہ کے درمیان باقی تر کہ کے حصے کئے جائیں۔ (قرطبی) قرآن میں گو قرض کا ذکر وصیت کے بعد ہے مگر سلف وخلف کا اس پر اجماع ہے کہ ادائے قرض پر مقدم ہے لہذا پہلے قرض ادا کیا جائے پھر وصیت کا نفاز ہونا چاہیے امعان نظر کے بعد آیت کے فو یٰ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے نیز حضرت علی ؓ بن ابی طالب سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے وصیت سے قبل قرض ادا کرنے کا حکم ادا کرنے حکم فرمایا (ترمذی) اس حدیث میں حارث اعو گو مجروح ہے مگر کان حافظا اللفرائض معتنیا بھا وبا لحساب (ابن کثیر) الہذا یہ حجت ہے اور یہ روایت دار قطنی نے حارث اعور کی بجائے عاصم بن ضمرۃ عن علی ؓ ذکر کی ہے اور قرآن میں اس تقدیم ذکری کے علما نے متعد جوابات دیئے ہیں۔ (قرطبی)10 یعنی اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے۔ میراث کا یہ قانون اس لیے مقرر فرمایا کہ تم اپنے نفع و نقصان کو نہیں سمجھتے اگر تم اپنے اجتہاد سے ورثہ تقسیم کرتے تو تو حصوں کا ضبط میں لانا مشکل تھا۔ (قرطبی ابن کثیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں یعنی ان حصوں میں عقل کا دخل نہیں اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں وہ سب سے دانا تر ہے۔ (موضح)
Ayah 4:12

وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ١ۚ فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ۙ غَیْرَ مُضَآرٍّ١ۚ وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌؕ Open ayah 4:12 in the Quran reader

اور تمہاری بی بیاں جو مال متاع چھور جائیں اس میں آدھا حصہ تمہارا ہے اگر ان کی اولاد بیٹا یا بیٹی نہ ہو11 اگر ان کی اولاد ہو تو تم کو چو تھا حصہ ان کے ترکے میں سے ملے گا مگر پہلے وہ وصیت پوری کی جاے گی جو انہوں کی اور قرضہ ادا کیا جائے گا اور تم مال متاع چھوڑ کر اس میں چوتھائی حصہ تمہاری بی بیوں کا ہے اگر تم کو اولاد نہ وہ اگر تم کو اولاد ہو تو تمہارے ترکے میں سے کو آٹھو اں حصہ ملے گا1 مگر پہیلے وہ وصیت پوری کی جائے تم نے کی اور قرضہ ادا کیا جائے گا اور اگر کوئی مرد کلالہ ہو یا کوئی عورت کلالہ ہو اور اس مرد یا عورت کا خیانی یعنی صرف ماں کی طرف سے بھائی یا بہن ہو3 تو ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا اگر وہ اس سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے4 یہ ساری تقسیم بھی جو وصیت کی جائے اس کے پورا کرنے اور قرض ادا کرنے کے بعد ہوگی جب میت نے کسی کو نقصان پہنچانا نہ چاہا ہو5 یہ اللہ کا حکم ہے اور اللہ سب جانتا ہے تحمل والا گناہ دیکھتا ہے پر فورا سزا نہیں دیتا

ف 11 یہ بیوی کی ایک حالت ہے۔ اولاد کی عدم موجودگی میں پوتوں کا بھی یہی حکم ہے اس پر علما کا اجماع ہے۔ (قرطبی۔ شوکانی) 1 ی دوسری حالت ہے پھر بیوی ایک ہو یا ایک سے زیادہ سب چوتھائی یا آٹھوین حصہ میں شریک ہوں گی، اس پر علما کا اجماع ہے۔ قرطبی۔ ابن کثیر)2 کوئی مرد یا عورت مرجائے اور اس کا باپ اور اولاد نہ ہو تو اس کے ورثہ کو کلا لہ کہا جاتا ہے۔ کلالہ کی یہی تشریح حضرت ابوبکر ؓ حضرت عمر ؓ اور حضرت علی ؓ سے مروی ہے اور اسی کو جمہور اہل علم نے قبول کیا ہے بعض ایسی میت کو بھی کلالہ کہتے ہیں۔ (قرطبی، شوکانی) بھائی بہن تین طرح کے ہوتے ہیں۔ عینی یعنی یک ماں باپ سے علاتی یعنی باپ کی طرف اخیافی یعنی صرف ماں کی طرف سے۔ یہاں بالا تفاق اخیافی بھائی بہن مراد ہیں جیسا کہ ایک قرات میں بھی ہے۔ (ابن کثیر)4 اور ان میں سے ہر ایک کو برابر حصہ ملے گا یعنی مرد کو عورت پر فضلیت نہیں ہوگی جیسا کہ آیت میں شرکا فی الثلث کہا یک تہائی میں سب شریک ہوں گے اسے معلوم ہوتا ہے۔ اسی کی مطابق حضرت عمر ؓ نے فیصلہ فرمایا او ظاہر ہے کہ ایسا فیصلہ محض اجتہاد سے نہیں ہوسکتا۔ (ابن کثیر) اس کے مطابق حضرت عمر ؓ نے فیصلہ فرمایا ( ابن کثیر) فائدہ اخیافی بھائی چاراحکام میں دوسرے وارثوں سے مختلف ہیں (1) یہ صرف ماں کی جہت سے ورثہ لیتے ہیں (2) ان کے مرد عورت کو مساوی حصہ دیا جاتا ہے (3) ان کو صرف میت کے کلام ہونے کی صورت میں حصہ ملتا ہے (4) خواہ کتنے ہی ہوں ان کا حصہ ثلث سے زیادہ نہیں ہوتا مثلا ایک میت کا شوہر۔ ماں دو اخیافی اور دوسرے عینی بھائی بھی موجود ہوں تو جمہور اہل علم کے نزدیک شوہر کو نصف ماں سدس ملے گا اور بقیہ تہائی حصے میں اخیافی بھائیوں کے ساتھ عینی بھائی شریک ہوں گے، حضرت عمر ؓ نے اسی قسم کے ایک مقدمہ یہی فیصلہ صادر ررماتا تھا اور صحابہ ؓ میں سے حضرت عثمان ؓ ، ابن مسعود، ابن عباس اور زید ؓ بن ثابت اور ائمہ میں سے امام مالک (رح) اور شافع (رح) کا یہی مسلک ہے البتہ حضرت علی ؓ اخیافی بھائیوں کو دیگر سگے بھائیوں کو وصبہ ہونے وجہ سے محروم قرار دیتے ہیں شوکانی اس دوسرے مسلک کو تر جیح دی ہے۔ ( ابن کثیر۔ فتح القدیر) 5 مھیر صار یہ منصوبہ علی الحال ہے اور اس کا تعلق وصیت اور قرض دونوں سے ہے۔ وصیت میں نقصان پہنچا نا ایک تو یہ ہے کہ تہائی مال سے زیادہ وصیت کرے ایسی صورت میں تہائی سے زائد وصیت کا نفاذ نہیں ہوگا دوسری صورت یہ ہے کہ کسی وارث کو مزید رعایت سے زائد مال دلو ایا جائے اس کا بھی اعبتار نہیں ہوگا۔ الا یہ کہ تمام ورثہ برضاروغبت اسے قبول کرلیں اور قرض نقصان پہنچانا یہ ہے کہ محض وارثو کا حق تلف کرنے کے کے لیے مرنے ولا ہے اپنے ذمہ کسی ایسے قرض کا اقرار کرے جو حقیقت میں اس کے ذمہ نہ ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ وصیت میں نقصان پہنچا نا کبیرہ گناہ ہے جو مسند احمد میں حضرت ابوہریر ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی ستر برس تک نیک عمل کرتا رہتا ہے مگر مرتے وقت وصیت میں ظلم کرتا ہے جہنم میں چلا جاتا ہے۔ (ابن کثیر۔ قر طبی )
Ayahs 4:13–15

تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 4:13 in the Quran reader

یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر چلیں تو اللہ ان کو آخرت میں ایسے باغوں میں لے جائے گا جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے

وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا١۪ وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 4:14 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی حدوں سے بڑھ جائے تو اللہ اس کو دوزخ میں لے جائے گا وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اور ذلت کی مار کھائے گا

وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآئِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَیْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْهُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰى یَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِیْلًا Open ayah 4:15 in the Quran reader

مسلمانو تمہاری عورتوں میں سے بدکاری کریں اور خاوند دعوی کرے تو چار مسلمان مردوں کی گواہی مانگوں اگر وہ چار گوہ گواہی دیویں کہ ہم نے اس عورت کو اپنی آنکھوں سے زنا کرتے دیکھا ہے تو ایسی عورتوں کو گھروں میں قید رکھو یہاں تک کہ موت ان کا کام تماکردے یا ان کے لیے کوئی دوسرا راستہ نکالے

ف 1 اوپر کی آیات میں عورتوں کے ساتھ احسان اور ان کے مہر ادا کرنے اور مردوں کے ساتھ ان کے وراثت میں شریک قرار دیکر ان کے حقوق کی حفاظت کا بیان تھا۔ اب یہاں سے عورتوں کی تادیب اور ان پر سختی کا بیان ہے تاکہ عورت اپنے آپ کو بالکل ہی آزاد نہ سمجھے (قرطبی) پہلی آیت میں زنا کار عورتوں کی سزابیان کی کہ زنا شہادت سے ثابت ہوجائے تو انہیں تاعمر گھر میں محبوس رکھا جائے یہاں تک کہ وہ مرجائیں۔ یا اللہ تعالیٰ انکے بارے میں کوئی دو سری سزانازل فرمادے۔ اسلام زنا کار عورتوں کے لیے یہ پہلی سزا ہے جو بعد میں حد زنا نازل ہونے سے منسوخ ہوگئی۔ سورت نور جو سو کوڑوں کی سزا نازل ہوئی یہاں سبیلا سے اسی طرف اشارہ ہے دوسری آیت میں زانی مرد اور زنا کار عورت کے متعلق یہ حکم دیا گیا کہ ان کو اذیت دسیجائے اوذلیل کیا جائے حتی ٰ کہ تا ئب ہوجائیں یہ سزا بھی پہلی سزا کے ساتھ ہی ہے۔ بعد میں یہ دونوں سزائیں منسوخ وہ گئیں چناچہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا خذ واعنی خذ قدجعل اللہ لھن سبیلا البکر نالبکر جلد مائتہ وتغریب عام والثیب جلد مائتہ والر جم۔ کہ لو اللہ تعالیٰ نے نے کے متعلق راہ نکال دی جب کنوارا کنواری سے زنا کرے تو اس کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی چلا وطنی ہے اور شادی شدہ شادی شدہ سے زنا کرے تو انکے لیے سو کوڑے اور سنگسار ہے۔ ( مسلم۔ ابو داود) سلسلہ بیان کے لیے دیکھئے سورت نور آیت 2 (ابن کثیر قرطبی)
Ayahs 4:16–17

وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا١ۚ فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:16 in the Quran reader

اور ان دو مردوں کو جو تم میں سے بدکاری اغلام کریں یا مرد اور عورت کو جو زنا کریں تنگ کرو پھر اگر توبہ کریں اور نیکی پر لگ جائیں اس بر فعل کو چھور دیں تو ان کو چھوڑ دیں تو ان کو نہ ستاؤ بیشک اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والے والا مہر بان ہے1

اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓئِكَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:17 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ پر انہی کی توبہ قبول کرنا ہے جو نادانی سے برا کام کر بیٹھتے ہیں پھر جلدی دے یعنی مرنے سے پیشتر توبہ کرلیتے ہیں دل میں نادم ہو ہوتے ہیں اور عہد کرتے ہی کہ اب ایسا نہ ہوگا تو اللہ ان کو معاف کردیتا ہے اور اللہ جاننے والا ہے حکمت والا

ف 2 یہا علی اللہ کے معنی یہ ہیں کہ ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے ذمہ لے لیا ہے رونہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز لازم نہیں ہے۔ (قرطبی) بحھالہ یعنی اگر کبھی نادانی اور جذبات سے مغلوب ہو کر گناہ کا ارتکاب کر بھی لیتے میں تو من قریب یعنی جلد ہی توبہ کرلیتے ہیں۔ بعض علما نے لکھا ہے کہ یہاں بجھالتہ کی قید احتراز کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ بیان واقعہ کے لیے ہے یعنی ہر گناہ جہالت اور نادانی کی وجہ سے ہوتا ہے اور من قریب کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ع موت کے آثار مشاہدہ کرنے سے پہلے پہلے تائب ہوجاتے ہیں۔ ان دو شرطوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمالیتا ہے۔ (قرطبی۔ ابن کثیر) توبہ کے شرائط کے لیے دیکھئے سورت مریم آیت 8 ۔
Ayah 4:18

وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:18 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی جو یرے کام کرتے رہتے ہیں جو موت ان میں سے کسی کے مہر پر آن کھڑی ہوتی ہے تو کہنے لگتا ہے سب میں نے تو بہ کی3 اور ندان لوگوں کی جو کفر میں مرتے ہیں اور اللہ کا عذاب دیکھ کر توبہ کرتے ہیں ان دونوں قسم کے لوگوں کے لے تو ہم نے تکلیف کا عذاب تیار کیا ہے

ف 3 یعنی ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی، ترمذی میں عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ان اللہ یقبل توبتہ العبد مالم یفر غر کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندے کی توبہ قبول فرماتا ہے جب تک وہ جان کنی کی حد تک نہیں پہنچ جاتا۔ (ترمذی) اس معنی میں اور بھی بہت سی مسند اور مرسل ورایات موجود ہیں (ان کثیر۔ قرطبی)
Ayah 4:19

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ۚ وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا Open ayah 4:19 in the Quran reader

مسلمانوں کو درست نہیں کہ عورتوں کو مال اسباب کی طرح سمجھ کر زبر ستی ان کے مالک بن جاؤ اور ان کی قید مت کرو اس نیت سے کہ جو تم نے ان کو دیا ہے اس میں کچھ اڑا لو5 مگر جب وہ کھلی بدکاری کریں6 اور عورتوں سے اچھی گزر ان کرو7 پھر اگر وہ تم کو نہ بھاویں و ایسا ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت برکت سے8

ف 4 یعنی جو لوگ تادم مرگ شرک میں مبتلا رہتے ہیں اور موت کے آثار دیکھ کر تو بہ کرنا چاہتے ہیں انکی توبہ بھی قبول نہیں ہوتی حضرت ابو ذر ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتے ہیں کہ جب تک حجاب نہ گرے صحابہ ؓ نے دریافت کیا کہ حجاب گرنے سے کیا مراد ہے فرمایا یہ کہ جان نکلنے اور وہ مشرک ہو (ابن کثیر) بعض نے لکھا ہے کا فرمرنے کے بعد جب عذاب کا مشاہدہ کریں گے تو اس وقت تو بہ کریں گے مگر وہ تو بہ قبول نہ ہوگی۔ (قرطبی)5 زنا وغیرہ کے سلسلہ میں ضمنا توبہ کے احکام بیان فرمانے کے بعد اب یہاں سے پھر عورتوں کے حقوق کا بیان ہو رہا ہے اور اسے مقصد عورتوں کو اس ظلم و زیادتی سے نجات دینا ہے جو جاہلیت میں ان پر روا رکھی جاتی تھیں۔ (کبیر قرطبی اس کے مخاطب تو شوہر کے اولیا میں جیسا کہ امام بخاری (رح) اور بعض دوسرے محدثینن نے اس آیت کی شان نزول میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں میت کو اولیا دوسری چیزوں کی طرح اس کی بیوی کے بھی مالک ہوتے۔ ان میں سے اگر کوئی چاہتا تو اس سے خود شادی کرلیتا یا کسی دوسرے سے اس کی شادی کردیتے اور مہر خود لے لیتے اور اگر چاہتے تو عورت کو کلیتا شادی سے ہی روک دیتے حتی کہ وہ مرجاتی اور اس کے مال کے وارث بن جاتے عورت کے اولیا کو اس سلسلہ میں کچھ اختیار نہ ہوتا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور عورت پر انکے تسلظ کو ختم کردیا۔ (ابن کثیر، قرطبی) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے مخاطب شوہر ہوں چناچہ بعض علما نے اس کی شان نزول میں لکھا ہے کہ وہ عورتوں کو طلاق نہ دیتے اور تنگ کرتے رہتے تاکہ اگر مرجائیں تو ان کے وارث بن جائیں اور اگر طلاق لینا چاہے تو مہر میں سے کچھ مال بطور واپس کرے اس پر یہ آیت نازل ہوئی پہلی صورت میں اس کا حاصل یہ ہے کہ خاوند کے مرنے کے بعد اسے نکاح سے روکنا جائز نہیں ہے بلکہ وہ جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے اور اولیا اس طرح زبر دستی سے اس کے وارث نہیں بن سکتے اور دوسری صورت میں یعنی جب کہ شوہر مخاطب ہوں تو خلاصہ یہ ہوگا کہ شوہر کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ عورت سے مہر واپس لینے کی غرض سے اسے تنگ کرتا رہے اور طلاق نہ دے یہ دوسری صورت زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے اور ابن عطیہ وغیرہ نے اسی کو پسند کیا ہے اس لیے کہ آیت کے بقیہ حصے کا تعلق قطعا شوہروں کیساتھ ہے کیونکہ فاحشہ کے ارتکاب کی صورت میں خاوند ہی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اسے روک رکھے تاکہ اس سے مہرو وغیرہ جو کچھ دیا ہے واپس لیکر طلاق دے۔ شوہر کے اولیا کو یہ اختیار نہیں ہے (فتح القدیر۔ قرطبی) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خطاب عام مسلمانوں سے ہو جس میں شوہر والیاں میت اور دوسرے مسلمان سبھی آجاتے ہیں۔ فتح القدیر۔ کبیر)6 بعض صحابہ ؓ اوتابعین نے کہا ہے کہ یہاں فاحشہ مبینہ سے مراد زنا ہے مگر صحیح یہ ہے کہ اسے عام رکھا جائے یہ اور فحش کلامی بد خلقی ایذار سانی زنا اور اس قسم کے جملہ ذائل کو شامل ہو اور مطلب یہ ہوگا کہ اگر زیادتی عورت کی طرف سے ہو تو تم ان کو خلع لینے پر مجبور کرسکتے ہوتا کہ وہ لیا ہو امال واپس کردیں۔ اس پر یہ استثنا اخذ اموال سے ہوگا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عضل مذکور سے استثنا ہو یعنی تمہا رے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ ان کو روک رکھو الا یہ کہ وہ فاحشہ کا ارتکاب کریں تو اس صورت میں ان کو روک سکتے ہو۔ (کبیر۔ قرطبی)7 یہ عورتوں سے متعلق تیسرا حکم ہے کہ بہتر طریقے سے ان کے ساتھ بسر کرو۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا خیر کم خیر کم لا ھلہ وانا خیر کم الا ھلی یعنی تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنے گھر و والوں کے لے بہتر ہے اور میں اپنے گھر والوں سب سے بہتر ہوں۔ (ابن کثیر۔8 یہ بھی حسن معاشرہ کا تتمہ ہے یعنی اگر کسی اخلاقی کمزوری یا بد صورت ہونے کی وجہ سے تمہیں ان سے نفرت ہوجائے اور ان کو طلاق دینا چاہو تو بھی فو را طلاق نہ دو بلکہ بہتر طریق سے ان کو اپنے پاس رکھو ہوسکتا ہے کہ ان کی صحبت سے خیر کثیر یعنی اولاد حاصل ہوجائے اور تمہاری نفرت محبت میں تبدیل ہوجائے ایک حدیث میں ہے کہ کوئی مومن مرد کسی مومن عورت کو بنظر کراہت نہ دیکھے اگر اسے اس کی ایک عادت باپسند ہے تو دوسری عادت اچھی بھی ہوگی۔ (ابن کثیر) اس کے دوسرے یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ اگر نفرت کے سبب تم ان سے مفارقت اختیار کرنا چاہو تو ہوسکتا ہے کہ اس مفارقت میں ان کے لیے خیر کثیر مضمر ہو مثلا ان کو بہتر خاوند مل جائے (کبیر)
Ayah 4:20

وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ١ۙ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْئًا١ؕ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:20 in the Quran reader

اور اس پر بھی اگر تم ایک بی بی کو چھوڑ کر جگہ ایک جوروں اور دیا ہے تم نے ایک کو ان میں سے خزانہ پس مت لو ان میں سے کچھ کیا بہتان لگا کر اور صریح کنہگار بن کر واپس لینا چاہتے ہیں

ف 1 یہ عورتوں کے متعلق چوتھا حکم ہے جب پہلی آیت میں بیان فرمایا کہ اگر سو عشرت عورت کی جانب سے ہو تو مہر واپس لینے کے لیے اسے تنگ کرنا جائز ہے۔ یہاں بتایا کہ جب زیادتی حرام ہے۔ (کبیر) یعنی کہ بلا وجہ تنگ کر کے ان سے مہر واپس لو گے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی بہتان باندھ کر واپس لے رہا ہے اور اس صورت میں تم ان پر دو ہر اظلم کروگے بلا وجہ تنگ کرنا اور مہر واپس لینا۔ اس لیے اسے اثمامبینا فرمایا (کبیر) آپ سے ثابت ہوا کہ جماع کے بعد دیا ہوا مہر واپس نہیں ہوسکتا چناچہ مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک شخص نے کسی عورت سے نکاح کرلیا۔ جب اس کے پاس گیا تو معلوم ہوا کہ وہ زنا سے حاملہ ہے اس پر وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو آنحضرت ﷺ نے ان کے دومیان تفریق کرادی اور مہر واپس لینے سے منع فرمادیا۔ (ابوداود) اس آیت سے دوسرا مسئلہ یہ بھی ثابت ہوا کہ زیادہ مہر کوئی حدمعین نہیں ہے خاوند اپنی حثیت کے مطابق جتنا مہر دینا چاہے دے سکتا ہے۔ چناچہ حضرت عمر ؓ نے ایک مرتبہ خطبہ دیا کہ لوگوں زیادہ غلو کے ساتھ مہر نہ باندھا نہ کرو۔ خطبہ کے بعد ایک بڑھیا نے یہی آیت پیش کی۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے کہا یا اللہ ! مجھے معاف فرمادے عمر ؓ سے تو ہر زیادہ فقیہ ہے۔ (ابن کثیر )
Ayah 4:21

وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:21 in the Quran reader

اور واپس کسے لوگے اور تم وہ جڑ چکے یعنی صحبت کرچکے اور انہوں نے تم سے پکا عہد لیاف 2

ف 6 پختہ عہد سے مراد عقدہ نکاح ہے بعض نے اس کی تفسیر خطبئہ نکاح سے بھی کی ہے۔ (ابن کثیر )
Ayah 4:22

وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًا١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:22 in the Quran reader

اور جن عورتوں کو تمہارے پاب نکاح میں لائے اگر ان سے صحبت نہ کی ہو ان سے تم نکاح نہ کرو مگر جو جاہلیت کے زمانہ میں ہوچکا بیشک یہ کام بڑی بےحیائی اور غضب کا ہے اور براطریق ہے3

ف 3 جاہلیت کے دستو رکے مطا بق بیٹے کے لیے باپ کی منکو حہ (سوتیلی ماں) سے شادی کرلینا چائز تھا۔ چناچہ حضرت قیس ؓ نے اسلت نے اپنے والد کی وفات پر جب اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کرنا چاہا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اسے سخت حرام قرار دیا۔ (ابن کثیر) حدیث سے ثابت ہے کہ ایسا نکاح کرنے والا واجب القتل ہے۔ (مسند احمد )
Ayah 4:23

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُمْ وَ رَبَآئِبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ١٘ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ١٘ وَ حَلَآئِلُ اَبْنَآئِكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ١ۙ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ Open ayah 4:23 in the Quran reader

مسلمانو حرام تم پر تمہاری مانیں اور بیٹیا اور بہنیں اور پھو پھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور وہ عور تیں جنہوں نے تمکو دودھ پلایا اور دودھ بہنیں اور جوروں کی مائیں ساسیں خوشدامنئیں اور جوروں کی بیٹیاں جو تمہاری پرورش میں ہیں جن سے تم صحبت کرچکے ہو لیکن اگر تم نے ان سے صحبت نہیں کی تو کچھ گناہ نہیں تم پر ان کی بیٹیوں سے نکاح کرنے میں7 اور تمہارے نطفے سے جو بیٹے ہیں ان کی بی بیاں8 نہ لے پالک کی بی بی وہ حلالہ ہے اور دو بہنیں کا اکٹھا کرنا نکاح میں مگر جو گزر چکا اس کا گناہ اب تم پر نہیں10 بیشک اللہ بخشنے وال مہربان ہے

ف 4 قرآن نے چودہ ناتے حرام قرار دیئے سات نسبی اور سات رضاعی سسرال وغیرہ کی جانب سے (ابن عباس) یہاں تک سات نسبی رشتوں کی حرمیت کا بیان تھا ماں کے حکم میں نانی اور دادی بھی شامل ہیں اور بیٹی کے حکم میں پوتی اور نواسی بھی آجاتی ہے اور بہن سگی ہو یا علاتی یا اخیافی بہر حال حرام ہے اور پھو پھی میں دادا کی بہن بھی داخل ہے اور خالہ کا لفظ ماں نانی دادی سب کی بہنوں کو شامل ہے اور بھتیجی اور بھانجی کے حکم میں پوتی اور نوسی بھی آجاتی ہے (قرطبی)5 یعنی نسبی ماں اور بہن کی طرح رضاعی ماں اور بہن بھی حرام ہے ایک حدیث میں ہے ہر وہ رشتہ جو نسب سے حرام ہے رحاعت سے بھی حرام ہوجاتا ہے۔ یہ یادر رہے کہ قرآن نے مطلق رضاعت کو حرمت کا سبب قرار دیا ہے۔6 یعنی مطلقا حرام خواہ جماع سے پہلے اپنی بیوی کو طلاق دی ہو یا اس کا انتقال ہوگیا ہے جمہور سلف کا یہ مسلک ہے۔ (فتح القدیر)7 ربیبہ یعنی بیوی کے دوسرے خاوند سے جو لڑکی ہو وہ بھی حرام ہے بشرطیکہ اپنی بیوی اس لڑکی کو ماں سے جماع کرلیا ہو اگر قبل از جماع طلاق دیدی ہو تو عورت کی لڑ کی سے نکاح جائز ہے۔ اس پر علما کا اتفاق ہے۔ (ابن کثیر۔ قرطبی)8 یعنی صرف صلبی بیٹوں کی بیویاں نہ کہ منہ بو لے بیٹوں کی بیویاں دیکھئے سورت احزاب آیت 27)9 یہ محل رفع میں ہے ای و حرمت علیکم اجمع بین ا الا ختین اسی طرح آنحضرت ﷺ نے ایک عورت اور اس عورت کی پھوپھی کو بیک وقت نکاح میں رکھنے سے منع فرمایا ہے نیز حدیث کی رو سے عورت اور اس کی خالہ کو بیک وقت نکاح میں رکھنا بھی منوع ہے۔ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کے علاوہ سنت بھی ایک مستقل مآخذ شریعت ہے ( ابن کثیر۔ قرطبی)10 یعنی پہلے جو ایسے رشتے ہوچکے ہیں ان کا کچھ گناہ نہیں ہے اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ان کو برقرار رکھا جائے گا۔
Ayah 4:24

وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ۚ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ١ؕ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِیْضَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:24 in the Quran reader

اور حرام ہیں تم پر خاوند والی عورتیں مگر جن کے تم مالک ہوجا و1 یہ حکم ہے اللہ کا تم کو2 ان کے سوا اور عورتیں تم کو حلال ہیں3 اس طرح کہ تم ان کو اپنے مال کے بدلے مہر یا قیمت دے کرلینا چاہو اور تمہاری نیت نکاح4 یا لونڈی بنانے کی ہو نہ زنا کرنے کی پھر جن عورتوں سے تم مزے اٹھاؤ یعنی صحبت کرو ان کا حق جو ٹھہرا تھا وہ ان کو دے دو5 اور ٹھہر انے کے بعد اگر آپس میں راضی ہوجاؤ تو اس میں کچھ گناہ نہیں تم پر6 بیشک اللہ تعالیٰ خبر دار ہے حکمت والا

ف 1 اوپر آیتہ التحریم میں مذکورہ محارم تو بہر صورت حرام ہیں خواہ وہ ملک یمین ہی میں آجائیں اس بنا پر علما نے لکھا ہے کہ ملک یمین کے ساتھ جمع بین الا ختین بھی حرام ہے۔ (ابن کثیر) اب یہاں فرمایا کہ شوہر والی عورتیں بھی حرام ہیں ہاں دارالحرب سے قیدی بن کر آجائیں تو اموال غنیمت کی تقسیم کے بعد کے حصہ میں آئیں گی ان کے لیے استبر کے بعد ان سے صحبت جائز ہے خواہ دارالحرب میں ان کے خاوند موجود ہی کیوں نہ ہو استبرا یہ ہے کہ عورت ایک حیض سے پاک ہوجائے یا اگر حاملہ ہے تو واضع حمل ہوجائے صحیح مسلم اور سنن میں ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ 8 ھ غزوہ اوطاس دیار غطفان میں ایک وادی کا نام ہے) میں دوسرے اموال غنیمت کیسا تھ عورتیں بھی قیدی بن کر آئیں صحابہ کرام ؓ نے اس خیال سے کہ ان کے شوہر دارالحرب میں موجود ہیں۔ ان سے صحبت کرنے میں تامل کیا۔ اس یہ آیت نازل ہوئی (شوکانی۔ قرطبی فائدہ اخصان کے معنی محفوظ ہونے کے ہیں قرآن میں یہ لفظ چند معانی میں استعمال ہوا ہے اور المحصنات کا لفظ شادہ شدہ نیز آزاد عورت پر بھی بولا جاتا ہے جیسے اگلی آیت میں اور مائدہ آیت 5 میں اور پاکدامن پر جیسے محصنات غیر مسافحات اور مسلمان ہونے پر جیسے فاذا احصن (فتح القدیر)6 یعنی جن مح اور کا اوپر ذکر ہوا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس کا ماننا تم پر لازم ہے۔ ( ابن کثیر 93 بشرطیکہ حدیث میں ان کی حرمت نہ آئی ہو مثلا آنحضرت ﷺ نے کسی عورت کے ساتھ اس کی خالہ یا پھوپھی کے بیک وقت نکاح میں رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ (ابن کثیر) ایسی ہی چند صورتیں اور بھی ہیں (وحیدی)10 موضح میں ہے کہ ان مذکورہ محارم کے سوا سب حلال ہیں مگر چار شرطوں کے ساتھ اول یہ کہ طلب کرو یعنی دونوں طرف سے ربانی ایجاب و قبول ہو۔ دوسرے یہ کہ مال یعنی مہر دینا قبول کرو تیسرے یہ کہ ان عورتوں کو قید (دائمی قبضہ) میں لانا غرض ہو ) ( صرف) مستی نکا لنے کی غرض نہ ہو۔ جیسے زنا میں ہوتا ہے) یعنی وہ عورت اس مرد کی بندی ہوجائے چھوڑے بغیر نہ چھوٹے یعنی کسی مہینے یا برس (مدت) کا ذکر نہ آوے اس سے معلوم ہوا کہ متعہ حرام ہے اور حلالہ بھی کیونکہ اس میں بھی جماع کے بعد طلاق کی نیت ہوتی ہے چوتھی یہ کہ چھپی یاری نہ ہو یعنی لوگ نکاح کے شاہد ہوں کم سے کم دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں یہی شرط اربعہ اس آیت سے مفہوم ہوتی ہیں ، (م۔ ع)5 یعنی نکاح کے بعد جن عورتوں سے صحبت کرو ان کے پورے مہران کے حوالے کردو۔ اکثر مفسرین سلف وخلف نے یہی معنی ج کئے ہیں کہ استمتاع سے نکاح کے بعد صحبت مراد ہے رافضیوں نے اس سے متعہ کو جواز ثابت کیا ہے مگر علمائے سنت بالا جماع اس کو حرمت کے قائل ہیں ہجرت کے ابتدائی برسوں میں بیشک آنحضرت ﷺ نے اس آیت کی رو سے نہیں بلکہ) بعض مواقع پر حسب ضرورت متعہ کی اجازت دی اور یہ اجازت جاہلی عرف کی بنا پر تھی جسے دلیل استصحاب کہا جاتا ہے مگر بعد میں اس کی حرمت کا اعلان کردیا خصوصا حجتہ الوداع کے خطبہ میں آنحضرت ﷺ نے یا یھا الناس انی کنت اذنت لکم فی الا ستمتاع من النسا و وان اللہ حرم ذالک الی یوم القیامتہ کے اے لوگو میں نے تمہیں عورتوں سے نکاح متعہ کی اجازت دی تھی اب اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت تک کے لیے حرام کردیا ہے بعض طرق میں حضرت ابن عباس ؓ کی طرف اس کی حلت کی نسبت مروی ہے مگر انہوں نے اس سے رجوع کرلیا تھا۔ ( ابن کثیر۔ معالم )
Ayah 4:25

وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِكُمْ١ؕ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَانْكِحُوْهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ١ۚ فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 4:25 in the Quran reader

اور تم میں سے جس کو آزاد جو کسی کی لونڈی باندی نہ ہو مسلمان بی بیوں سے نکاح کرنے کا مقدر نہ ہو7 تو جن عورتوں کے تم مالک ہو تمہاری لونڈیاں مسلمان ان سے سہی اور اللہ خوب جانتا ہے تمہارے ایمان کو تم آپس میں ایک ہے ہو8 نکاح کرلو نڈیوں سے ان کے مالکوں کی اجازت سے9 اور دستور کے موافق ان کے مہر ان کے حوالے کردو10 مگر یہ ضروری ہے کہ وہ لونڈیاں پاک دامن ہوں نہ رنڈیا اعلانیہ زنا کرنے والی نہ چھپے یاروں والی)11 پھر جب وہ نکاح میں آجائیں اور کوئی بےحیائی کا کام زنا کریں تو آرزو عورتوں کی آدھی سزا ان کو ملے گی12 یہ لونڈیا سے نکاح کرنا اس لیے درست ہے جو تم میں ڈرے گناہ میں پڑجانے سے13 اور اگر صبر کرو تو یہ بہتر تمہارے لیے14 اور اللہ بخشنے والا مہر بان ہے

ف 6 یعنی اگر خاوند بیوی باہمی رضامندی ہے طے شدہ مہر میں کمی پیشی کرلیں تو کچھ حرج نہیں ہے۔ ( ابن کثیر)7 یعنی اگر کسی شخص کی مالی حالت اس امر کیا اجازت نہیں دیتی کہ آزاد مسلمان عورت سے نکاح کرے تو کسی دوسرے مسلمان کی لو نڈی سے نکاح کرلے بشرطیکہ وہ لونڈی مسلمان ہو کسی شخص کو اپنی لو نڈی سے نکاح کرنے اجازت نہیں ہے مگر یہ کہ اسے آزاد کر دے اور پھر اس سے نکاح کرے۔ (فتح القدیر)8 تم سب حضرت آدم ( علیہ السلام) کی اولاد ہو اور تمہاری ملت بھی ایک ہے پھر محضر لو نڈی ہونے کی وجہ سے اس سے نکاح ترددنہ کرو (شوکانی)9 یعنی جیسا کہ آزاد مسلمان عورت سے نکاح کے لیے ولی (سرپرست) کی اجا زت ضروری ہے اسی طرح لونڈی سے نکاح کے لیے بھی اس کے مالک کی جازت ضروری ہے۔ ،10 اجو رھن کے لفظ سے بعض نے سمجھا ہے کہ مہر لونڈی کا حق ہے لیکن اکثر علمائے سلف کے نزدیک یہ مہر لو نڈی کے مالک کا ہوگا ان کی طرف اجور کی اضافت مجازی ہے۔ (فتح القدیر)11 چھپی یاری منع فرمایا تو نکاح میں شاہد لازم ہوئے (موضح)12 یعنی آزاد مسلمان مرد یا عورت زنا کرے تو اس کی سزا سو کوڑے یا سنگسار ہے لین سنگساری کی تضیف نہیں ہوسکتی اس لیے علما نے لکھا ہے کہ یہاں نصف عذاب سے مراد پچاس کوڑے ہیں مگر جب لونڈی شادی شدہ نہ ہو تو اس پر تعزیر ہے حد نہیں ہے۔13 مذکورہ شر طوں کے لونڈی سے نکاح صرف اسی صورت میں جائز ہے جب بدکاری میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو۔14 اس سے اکثر علما نے استدلال کیا ہے کہ لو نڈی سے نکاح نہ کرنا ہی بہتر ہے کیونکہ ایسی منکوحہ لونڈی کی اولاد بھی اس کے مالک کی غلامی ہوتی ہے (ابن کثیر )
Ayahs 4:26–27

یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُبَیِّنَ لَكُمْ وَ یَهْدِیَكُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 4:26 in the Quran reader

اللہ چاہتا ہے اگلے نیک لوگوں کی راہ تم بیان کردے اور تم کو اس پر چلائے اور گناہ سے نیکی کی طرف پھرائے اور اللہ جانتا ہے حکمت والا

وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْكُمْ١۫ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا Open ayah 4:27 in the Quran reader

اور اللہ تو تم کو گناہ سے پھرانا اور نیکی پر لگانا چاہتا ہے1 اور جو لوگ مزوں پر لگے ہیں ہو چاہتے ہیں کہ تم ایک طرف خوب جھک پڑو2

ف 1 یعنی اللہ تعالیٰ اپنے احکام اس لیے بیان فرمارہا ہے کہ تم کو حلال و حرام کا پتا چل جائے اور پہلے لوگوں کے عہدہ طریق کی ہدایت ہوجائے پہلے لوگوں سے مراد انبیا ( علیہ السلام) اور ان کی امتوں کے نیک لوگ ہیں۔ (ابن کثیر، شوکانی)2 یعنی شہوت پر ستوں کے کہنے میں نہ آو مراد یہود و نصاریٰ یا مجوسی ہیں جو محارم کے ساتھ بھی نکاح جائز سمجھتے تھے ،۔ (رازی قرطبی )
Ayah 4:28

یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْ١ۚ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا Open ayah 4:28 in the Quran reader

اور اللہ تمہارا بوجھ کرنا چاہتا ہے اور آدمی پیدا ئش سے کمزور بنا ہے13

ف 3 یعنی اللہ تعالیٰ کو انسان کی کمزوری کا خوب علم ہے اس لیے احکام شریعت میں اس کی سہولت کا خیال رکھا گیا ہے اور دن میں سختی نہیں برتی گئی۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں تمہارے پاس نہایت آسان حنفیفی شریعت لے کر آیا ہوں۔ (رازی، شوکانی )
Ayah 4:29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ١۫ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 4:29 in the Quran reader

مسلمانوں آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طور سے مت کھاؤ مگر سودا گری کر کے آپس کی خوشی سے5 اور نہ خون کرو اپنا6 بیشک اللہ تم پر مہربان

ف 4 نفوس کے احکام کے بعد اب اموا میں اتصرف کے احکام کا بیان ہے۔ (رازی) کسب معاش کے جتنے ناجائز ذریعے ہیں سب بالباطل میں ّآجاتے ہیں حتی کہ حیلہ سازی کے ساتھ کسی کا مال کھانا بھی حرام ہے اور اپنے مال کو غلط طریقوں سے اڑنا بھی اسی میں داخل ہے (کبیر، ابن کثیر)5 ہاں تجارت کے ذریعہ جس میں پورے طور پر رضا مندی ہو کما و اور کھا و پورے طور پر رضا مندی میں یہ چیز بھی داخل ہے کہ جب تک بائع اور مشتری اس مجلس میں بیع سے الگ نہ ہوں اس وقت تک ایک دوسرے کو بیع رد کرنے کا حق ہے۔ ( ابن کثیر شوکانی)6 خود کشی حرام ہے۔ حدیث میں ہے کہ جس آلہ سے کو کہ انسان اپنے آپ کو قتل کرے گا دوزخ کے اندر اس آلہ سے اس کو عذاب پہنچا یا جائے گا۔ (ابن کثیر اور یہ معنی کئے گئے ہیں کہ معاصی اک ارتکاب کر کے اپنے آپ کو یا ایک دوسرے کو قتل نہ کرو (شوکانی )
Ayah 4:30

وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:30 in the Quran reader

تمہاری ہلاکت وہ نہیں چاہتا اور جو کوئی ظلم زور سے ایسا کر یعنی خون کرے یا کسی کا مال ناحق اڑالے تو ہم ضرور اس کو قیامت کے دن دوزخ میں ڈالیں گے اور اللہ پر یہ دوزخ میں ڈالنا آسان ہے8

ف 7 ذٰ لک اشارہ قتل نفس کی طرف بھی ہو کھانے کی طرف بھی حضرت ابن عباد ؓ فرماتے ہیں کہ ابتائے سورت سے یہاں تک جتنے مناہی بیان ہوئے ہیں ان سب کی طرف اشارہ ہے۔ (ابن جریر، کبیر)8 یہ انداز بیان تہدید میں مبالغہ پر دال ہے (کبیر) موضح میں ہے یعنی مغرور نہ ہوں کہ ہم مسلمان دوزخ میں کیونکر جاویں گے اللہ تعالیٰ پر یہ آسان ہے کبیرہ گناہ وہ ہے جن کے متعلق قرآن یا حدیث میں صاف طور پر دوزخ کی وعید آئی ہو یا اللہ تعالیٰ کے غصہ کا اظہار ہو یا شریعت میں اس پر حد مقرر فرمائی گئی ہو اور سیئات وہ گنا ہیں جن سے صرف منع کیا گیا ہو اور ان پر وعید وارد نہ ہوئی ہو۔ (کبیر۔ ابن کثیر )
Ayah 4:31

اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا Open ayah 4:31 in the Quran reader

اگر تم بڑے گناہوں سے بچتے رہو گے جو تم کو منع ہوئے یعنی کبیرہ گناہوں سے اور نیکیاں کرتے رہو گے تو ہم چھوڑ یعنی صغیرہ گناہ تم پر سے اتاردیں گے10 اور آبرو کی جگہ میں تم کو لے جائیں گے11

ف 10 یعنی اگر تم کبا ئر سے اجتناب کرتے رہو گے تو صغیرہ گناہ تمہارے تمہارے نیک اعمال کی وجہ سے ہم معاف کردیں گے بعض روایات کبائر کا شمار بھی آیا ہے مثلا اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا کسی جان کو ناحق قتل کرنا قمار بازی شراب خوای پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا وغیرہ مگر ان کی کوئی تہدید نہیں ہے اس لیے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ من اسبع الی السبعین بل الی سبعما ئتہ (رازی) اور روایات میں ہے کہ اصرار کے ساتھ کوئی گناہ صغیرہ نہیں ہے اور تو بہ کے بعد کوئی کبیرہ نہیں ہے۔ (قرطبی کبیر)11 یعنی بہشت میں ( وحیدی)
Ayah 4:32

وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْا١ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ١ؕ وَ سْئَلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 4:32 in the Quran reader

اور اللہ نے جو تم میں سے کسی کو دوسرے سے زیادہ دیا ہے اس کی ہوس نہ کرو12 مرد اپنی کمائی کا ثواب پائیں گے اور عورتیں اپنی کمائی کا ثواب پائیں گے13 اور اللہ سے اس کا فضل مانگوں14 بیشک اللہ ہر چیز جانتا ہے

ف 1 یعنی یہ نہ کہو کہ کاش یہ درجہ یا مال مجھے مل جائے یہ حسد ہے اور احادیث میں اس کی مذمت آئی ہے حضرت ام سلمہ ؓ نے نبی ﷺ سے دریافت کیا کہ مرد لوگ جہاد کرتے ہیں اور شہادت کے مراتب حاصل کرلیتے ہیں اور ہم اس سے محروم ہیں۔ اس پر یہ ّ آیت نازل ہوئی۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں تقرب نیک اعمال سے ہے مرد کو محض مرد ہونے کی وجہ سے خورت پر عمل میں فضیلت نہیں ہے اور عورت محض عورت ہونے کی وجہ سے نیک عمل کے ثواب سے محروم نہیں تم بجائے کہ حسد کے اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل چاہا کرو۔ (ابن کثیر۔ معالم )
Ayah 4:33

وَ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١ؕ وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا۠ Open ayah 4:33 in the Quran reader

اور ماں باپ اور ناتے والے جو مال چھوڑ مریں ہم نے اس کے وارث ٹھہرائیے اور جن لوگوں سے تم نے قسمیں کھا کر قول کیا ان کو اپنا بھائی بنایا ان کو ان کا حصہ دو2 بیشک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے

ف 2 جاہلیت میں دو شخص آپس میں عقد مولاۃ باندھ لیتے جس کی رو سے ایک دوسرے کی مدد کرتے اور ایک دوسرے کے وارث بھی ہوتے۔ ابتدا ہجرت میں ّآنحضرت ﷺ نے بھی مہاجرین ؓ اور انصار ؓ کے درمیان مواخاۃ کا رشتہ قائم کیا تھا آیت میں والذین عقدت الخ سے اسی عہد کی طرف اشارہ ہے۔ اس عہد کی رو سے وراثت کا حکم کے بعد میں سورت انفال کی آیت وَأُولُو الأرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ (75) سے منسوخ ہوگیا۔ آنحضرت ﷺ نے بھی اعلان فرمادیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دیدیا ہے اب آئندہ حلف سے وارث نہیں ہوسکتے آیت میں موالی سے مراد عصبہ میں اور عصہ کی وراثت لا قرب فالا قرب کا اصول مقرر ہے یعنی اول سب سے زیادہ قریبن ہوگا۔ اور اس پر علما کا اجماع بھی ہوچکا ہے لہذا صلبی لڑکے کی موجودگی میں پوتا وارث نہیں ہوسکتا ( دیکھئے فتح الباری ج 2 ص 294، انصار دبلی ٰ لمحلیٰ ج 9 ص 271، احکام جصاص ج 2 ص 224)
Ayah 4:34

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ١ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ١ؕ وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا Open ayah 4:34 in the Quran reader

مرد عورتوں پر حاکم ہیں ایک تو اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر بڑائی دی ہے اور دوسرا اس وجہ سے کہ مردوں نے اپنا مال عورتوں پر خرچ کیا3 اب جو نیک بخت بی بیاں ہیں وہ مردوں کا کا مانتی ہیں ور ان کی پیٹھ پیچھے4 عزت اور مال کا بچاؤ کرتی ہیں اللہ کی کے بچاؤ5 سے اور جب بی بیوں سے تم کو شرارت کا ڈرہو نافرمانی اور چڑ ھنے کا انکو سمجھاؤ اور اپنی ہٹ پر قائم رہیں تو ان کا بستر الگ کردو اور اگر اس پر بھی نا آئیں تو ان کو مارو6 پھر اگر وہ تمہارے کہنا مان لیں تو ناحق کا الزام لگانے کی فکر نہ کرو یعنی ان کو مت ستاؤ بیشک اللہ سب سے اوپر ہے بڑا

ف 3 شریعت نے خانگی شیرازہ بندی کے لیے مرد کو گھر کا قوام (نگران ذمہ دار) قرار دیا ہے اور عورت کو اس کے ما تحت رکھا ہے۔ ، قرآن نے اس کی دو وجہیں بیان کی ہیں ایک تو یہ کہ مرد کو طبعی طور پر امتیاز حاصل ہے کہ وہ منتظم بنے اور دسرے یہ کہ گھر کے سارے اخراجات بیوی کے نفقہ سمیت مرد کے ذمہ ہیں۔ اس بنا پر گھر کانگران بننے کا حق مردکو ہے عورت کو نہیں یہی حاْل حکومتی امور کا ہے کہ مسلمان کا امیر یا خلیفہ عورت نہیں ہوسکتی بلکہ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے اس کی مذمت فرمائی ہے۔ لن یغلح قوم ولوا امر ھم امئرۃ (کبیر۔ شوکانی)4 اس آیت کی تشریح وہ حدیث کرتی ہے جس میں نبی ﷺ کا ارشاد ہے بہترین بیوی وہ ہے جسے اگر تم دیکھو تو تمہیں خوش کرے اگر تم اسے کسی بات کا حکم دے تو وہ تمہارے اطاعت کرے اور جب تم تھر میں نہ ہو تو تمہارے پیچھے وہ تمہارے مال کی اواپنے نفس کی حفاظت کرے (ابن کثیر ابن جریر بردایت ابوہریرہ )5 یعنی اللہ تعالیٰ نے خاوندوں کو عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت کا حکم دیکر کا حکم دیکر ان کے حقوق محفوظ کردیئے ہیں اس کے بدلے میں وہ خاوندوں کی غری حاضری میں ان کے مال اور عزت وآبرو کی حفاظت رکھتی ہیں۔ (کذافی شافی) یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ان کے مال و عزت اور حقوق کے حفاظت کرتی ہیں اور خیا نت سے کام نہیں لیے تیں (کذافی الشوکانی ) 6 یعنی بآّخر اگر باز نہ آئیں تو انا کا چہرہ بجا کر تھوڑا سا مار سکتے ہو۔ ( شافی) آنحضرت ﷺ نے بعض ناگزیر حالات میں مارنے کی اجازت دی ہے مگر ساتھ ہی اسے ناپسند بھی فرمایا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کیا کوئی شخص اپنی بیوی کو اس طرح مارتا ہے جس طرح غلام کو مارا جاتا ہے پھر رات کو اس سے ہمبستری کرتا ہے ؟ اور کسی حالت میں ایسی مار پیٹ کی اجازت نہیں ہے جو جسم پر نشان چھوڑ یا جس سے کوئی ہڈی ٹوٹ جائے۔ (ابن کثیر )
Ayah 4:35

وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا Open ayah 4:35 in the Quran reader

اور جو تم ڈرو کہ میاں بی بی میں کھٹ پٹ ہویگ تو ایک پنج خاوند کے کہنے میں سے اور ایک پنج عورت کے کہنے میں سے مقرر7 کرو اگر یہ دونوں میاں بی بی کو ملا دینا چاہیں گے تو اللہ ملادے گا ان کو8 نے شک اللہ تعالیٰ جانتا ہے خبر دار ہے

ف 7 دو حکم ّپنج) مقرر کرنے کا اختیار حاکم کو ہے اور یہ اس وقت ہے جب تعلقا زیادہ خراب ہوجائیں ارجدئی کا اندیشہ ہو اکثر علما کے نزدیک ان حکموں کو یہ بھی اختیار ہوگا کہ اگر وہ صلح کرانے میں ناکام رہیں تو میاں بیوی کے درمیان تفریق کا فیصلہ کردیں، تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ اس پر علما کا اجماع ہے (ابن کثیر)8 یعنی وہ دونوں حکم اگر نیک نیتی سے صلح کر انے کی کوشش کرینگے تو اللہ تعالیٰ ان کی کوشش میں برکت عطا فرمائے گا (ابن کثیر )
Ayah 4:36

وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙ Open ayah 4:36 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ کی بند گی کرو اس کا ساجھی کسی کو مت بناؤ یا مشرک نہ کرو نہ تھوڑا نہ بہت کھلایا چھپاف 9 او ماں باپ سے نیکی کرو اور ناطے والوں10 اور یتیموں12 اور محتاجوں12 اور نزدیک ہمسایہ اور غیر ہمسایہ13 اور پاس بیٹھنے والے اور مسافر2 اور لونڈی غلام سے3 بیشک اللہ ان لوگوں کو نہیں چاہتا جو اترا نے بڑھ مارتے ہیں

ف 9 یعنی یہ ہیچ صورت ( ثنائی) اور اس کا ساجھی نہ بنا نا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کر ہر چیز کا مالک کو مختار تسلیم کیا جائے اور اس کی کسی صفت میں کسی زندہ یا مردہ مخلوق کو شریک نہ قرار دیا جائے۔ تمام مرادیں اور حاجات اسی سے مانگی جائیں کہ وہی عالم میں متصرف ہے اور کوئی نہیں (م، ع)10 توحید کا حکم دینے کے بعد درجہ رشتہ داروں اور دوسرے لوگوں کے حقوق بیان فرمائے ہیں۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : اول اللہ تعالیٰ ج کا پھر ماں باپ کا اور ان کا درجہ بدرجہ (موضح) صحیحین میں بردایت انس ؓ ، آنحضرت ﷺ کے ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ رشتہ داروں سے حسن سلوک عمر میں برکت اور رزق میں فراخی کا سبب ہے۔ (ابن کثیر)11 حدیث میں ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں اور یتیم کی پر ورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے اور یہ فرماتے ہوئے آپ ﷺ انگشت شہادت اور بیچ کی انگلی اوپر اٹھا تے ہوئے اشارہ فرمایا۔ (صحیح بخاری)12 صحیحین میں حضرت ابو ہر یر ؓ سے روایت ہے کہ ختاج کی ضرورت پوری کرنے والے کو جہاد کا ثواب ہوجاتا ہے۔ (ابن کثیر)13 قریبی ہمسایہ سے مراد رشتہ دار ہمسایہ اور غیر ہمسایہ سے مراد غیر رشتہ دارہمسا یہ ہے ہمسائیگی کے حقوق کے نگہداشت متعدد چار حدیث میں وارد ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جبر ئیل مجھے ہمسایہ کے بارے میں اتنی وصیت کرتے رہے کہ میں نے خیال کی کہ شاید وہ اسے وارث قرار دید ینگے (بخاری مسلم بردایت ابن عمر) دوسری حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے تین مرتبہ بتا کید فرمایا۔ اللہ کی قسم تم سے وہ شخص مومن نہیں ہوسکتا جس کا ہمسایہ اس کی شرارتوں سے امن نہیں پاتا۔ (صحیحین بردایت ابوہریرۃ) 1 پاس پیٹھنے والے سے مراد ہمنیشن دوست بھی ہوسکتا ہے اور سفر کا ساتھی بھی۔2 مسافر مراد اکثر سلف کے نزدیک مہمان بھی ہے۔ ارشاد نبوی ہے مسلمانوں کو چاہیے کہ عزت اور خاطر داری کریں۔ (ا، ت)3 صحیح احادیث میں ہے کہ مرض الموت میں آنحضرت ﷺ اپنی امت کو نصحیت کرتے ہوئے باربار فرماتے الصلوۃ وما ملکت ایمانکم دیکھو دو چیزوں کا خیال رکھنا ایک نماز کا اور دوسرے لونڈی غلام کا (ابن کثیر) حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ آدمی کو اتنا ہی گناہ کافی ہے کہ وہ ان لوگوں سے اپنے ہاتھ کو روکے جن کی معاش کا وہ ذمہ دار ہے (مسلم )
Ayah 4:37

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًاۚ Open ayah 4:37 in the Quran reader

لوگوں پر اپنی جتاتے ہیں تکبر اور خود پسندی کرتے ہیں آپ نجیلی کرتے ہیں او لوگوں کو بھی نجیلی سکھا تے ہیں اور جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے دیا حضرت کے پتے اور نشان یا دین کا علم یا مال و دولت اس کو چھپاتے ہیں ہم نے ایسے ناشکروں کے لیے ذلت کا عذاب تیار رکھا ہے4

ف 4 اس آیت میں بخل کی مذمت کی گئی ہے اور بخیل کے لیے کافر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے کیونکہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو چھپانے والا ہوتا ہے۔ بعض سلف نے اس آیت میں بخل کے لفظ کو یہود یوں کے بخل پر محمول کیا ہے جو آنحضرت ﷺ کی صفات اور علامات کو لوگوں سے چھپاتے تھے۔ (ابن کثیر )