4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 4:158

بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:158 in the Quran reader

بلکہ اللہ نے اس کو اپنے پاس اٹھالیا11 اور زبردست ہے حکمت والا

ف 11 یعنی جسم اور روح دونوں کے ساتھ اللہ تعال نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو اپنی طرف آسمان پر اٹھلالیا جہا وہ زندہ موجود ہیں۔ قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میں آئیں گے کئی سال یہاں زندگی گزریں گر اور دجال کو قتل کرنے کے بعد اپنی طبعی موت مریں گے حضرت مسیح ( علیہ السلام) کا اپنے ناسوتی بدن کے ساتھ آسمان کی طرف رفع اور ان کی حیات ! یہ امت مسلمہ کا متفقہ عقیدہ ہے جس کی بنیاد قرآنی تصریحات اور ان تفصیلات پر ہے جو احادیث میں وارد ہیں۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں : اتفق اصحاب الا خبار والتفسیر علی ٰ ان عیسیٰ رفع ببدنبہ حیا (تلخیص الجیر 319) کہ تمام اصحاب تفسیر ائمہ حدیث اس پر متفق ہیں کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اپنے بدن سمیت زندہ آسمان پر اٹھائے گئے لہذا حیات مسیح کے انکار سے قرآن و حدیث کا انکار لازم آتا ہے جو موجب تضلیل ہے۔
Ayah 4:159

وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًاۚ Open ayah 4:159 in the Quran reader

اور کوئی کتاب والا ایسا نہیں جو عیسیٰ ٰ کے مرنے سے پہلے اس پر ایمان نہ لا وے12 اور عیسیٰ قیامت کے دن ان پر گو اہ ہوں گے13

ف 12 یعنی یہودی کہ حاضر شوندنزول عیسیٰ ( علیہ السلام) را البتہ ایمان آرند واللہ اعلم (فتح الرحمن اور یہودی و نصاریٰ سب اب پر ایمان لاوینگے کہ یہ مرے نہ تھے۔ (مو ضح) یعنی جب حضرت مسیح ( علیہ السلام) قیامت سے کچھ پہلے نازل ہو نگے تو ان کی طبعی وفات سے قبل جو اہل کتاب اس وقت موجود ہو نگے سب ان کے رسول اللہ ہونے اور آسمان پر زندہ اٹھائے جانے پر ایمان لاچکے ہونگے فاقو وان شئتم : وان من اھل الکتٰب الا یمئو منن بہ قبلموتہ یعنی اگر تم بطور استثنا چاہو تو یہ آیت پڑھو مطلب یہ یہ کہ احادیث کے علاوہ اگر اس پیش گوئی کو قرآن کی روشنی میں دیکھنا چاہو تو یہ آیت پڑھ لو۔ (ابن کثیر شوکانی) محققین کے نزدیک حضرت مسیح ( علیہ السلام) کے قرب قیامت نزول کی روایت متواتر ہیں۔ (دیکھئے ججج الکرامتہ ص 39 ۔ 434 ) اور امام شوکانی نے التو ضح بما تو اتر من احادیث نزول المسیح کے نام کا ایک مستقل رسالہ لکھا ہے جس میں پچاس سے زیادہ احادیث لائے ہیں حضرات النواب مذکورہ کتاب حجج الکرمتہ میں تمام احادیث لے آئے ہیں۔ بنابریں یہ مسئلہ اسلام کے ضرور عقائد سے شمار کیا گیا ہے چناچہ ایک جنبلی علام علامہ محمد بن احمد سفارینی (متوفی 1188 ھ) علامت قیامت کے سلسلسہ میں لکھتے ہیں ونزولہ ثابت بالکتاب والسنتہ والا جماع پھر دلیل میں آیت زیر تفسیر حدیث ابوہریرہ ؓ بیان کر کے لکھتے ہیں والما الاع فقد اجمعت الر متہ نزولہ ولا یخالف فیہاحد من اھل الشریعتہ شرح عقیدہ سفار دینی ج 2 ص 79 ۔ 90) یعنی یہ نزول امت محمدیہ ﷺ کے اتفاق سے قطعی ثابت ہے۔ کوئی بھی مسلمان اس کا مخالف نہیں۔13 یعنی اس وقت یہود کے خلاف گواہی دینگے کہ انہوں نے میری تکزیب کی اور نصاریٰ کے خلاف کہ انہوں نے مجھے اللہ کا بیٹا قرار دیا۔ دیکھئے سورت مائدہ آیت 120)
Ayah 4:160

فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَثِیْرًاۙ Open ayah 4:160 in the Quran reader

تو یہود کی شرارت مثلا پو جنے کو دکھا دینے کی خو اہش کی و جہ سے ہم نے ان پر پاکیزہ چیزیں جن کا سورة انعام مینب آوے گا جو پہلے حلال تھیں حرام کردیں اور اس وجہ سے بھی کہ وہ خدا کی راہ سے لوگوں کو بہت روکتے تھے2

ان کو شرارتوں کے ذکر کے بعد ان پر تشد کا ذکر ہے (کبیر) یہاں طیبات سے مراد ان انعامات کا موقوف کردینا ہے جو باشاہی نبوت ونصرت وغیرہ شکل میں ان کو حاصل تھے۔ وایں مشابہ ایں آیت است وضربت علیہم الزلتہ (فتح الرحمن)2 یعنی اوپر سب شرارتیں جو ان کی ذکر کیں بعض پہلے بیان ہوئیں اور بعض پیچھے لیکن یہ کہ گناہ پر دلیر تھے اس واسطے ان کی شریعت سخت رکھی کہ سرکشی ٹوٹے۔ (موضح)
Ayah 4:161

وَّ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:161 in the Quran reader

اور ان کے سود کھانے کی وجہ سے حالانکہ وس دکھانا ان کو منع ہو تھا3 اور لوگوں کا مال ناحق کھا نے کی وجہ سے4 اور جو ان میں کافر ہیں ان کے لیے ہم نے تکلیف کا عذاب طیار رکھا ہے

ف 3 اس وقت جو توراۃ موجود ہے اس میں بھی متعدد مقامات پر سو دکوحرام قرار دیا گیا ہے۔ (دیکھئے کتاب خروج باب 22 ۔ 25 ۔ 27)4 یعنی رشوت جوا دھوکا اور دوسرے ناجائز ذرائع سے تمام گناہ دو قسم پر ہیں ظلم علی الخلق واعابض عن الحق آیت میں وبصدھم سے ظلم علی الخلق سے ہے (کبیر )
Ayah 4:162

لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوةَ وَ الْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَنُؤْتِیْهِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 4:162 in the Quran reader

لیکن جو ان میں یہودیوں میں پکے عالم ہیں5 اور ایمانداری انہی یہود میں سے یا صحابہ مراد ہیں تو تو ایمان لائے ہیں اس کتاب پر جو تجھ پر اتری قرآن اور اس کتاب پر جو تجھ سے پہلے اتری ( توریت اور انجیل اور وہ پکے عالم ہیں ایمانداری کیسے عمدہ لوگ ہیں درستی سے ادا کرتے ہیں نماز کو اور نہ زکوٰۃ دینے والے اور اللہ تعالیٰ پچھلے دن پر ایمان لانے والے یہی لوگ ہیں جن کو ثواب دینے والے ہیں

ف 5 یعنی اندھی تقلید نہیں کرتے۔ (وحیدی) یہ مومنین اہل کتاب کو بشارت ہے جو حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کے بعد آنحضرت ﷺ پر بھی ایمان لے آئے (کبیر اس آیت میں والمتعیمین الصلوٰۃ منصوب علی ٰ المدح ہے (کبیر )
Ayah 4:163

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ Open ayah 4:163 in the Quran reader

بیشک ہم نے وحی بھیجی تیری طرف جیسے ہم نے وحی بھیجی نوح ( علیہ السلام) او اس کے بعد دوسرے پیغمبر کی طرف6 اور ہم نے وحی بھیجیں ابراہیم ( علیہ السلام) اور اسمعیل ( علیہ السلام) اراسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد اور عیسیٰ ٰ اور ایوب اور یونس ( علیہ السلام) اور ہارون ( علیہ السلام) اور سلیمان ( علیہ السلام) کی طرف اور ہم نے داؤد کو زبور عنایت کی7

ف 6 یہ ان کے شہ بے (ان تنزل علیہم کتابا من السما کا اصل معاملہ دوسرے یعنی وحی اور دعوت الی ٰ الحق میں آنحضرت ﷺ کا معاملہ دوسرے انبیا سے مختلف نہیں ہے۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر جتنے انبیا ورسل ( علیہ السلام) ہوئے ہیں سب کو الگ الگ معجزات ملے اور تورت کے علاہ کسی کو بی یکبارگی کتاب نہیں دی گئی پھر جب یکبارگی کتاب ان پر نازل نہ کرنے سے ان کی نبوت پر حرف نہیں آتا تو آپ ﷺ کی نبوت کے لیے کیسے وجب قدح ہوسکتا ہے حضرت نوح ( علیہ السلام) صاحب شریعت نبی سب سے پہلے حضرت نوح ( علیہ السلام) تھے اور حضرت نوح ( علیہ السلام) ہی وہ بی ( علیہ السلام) ہیں جن کی قوم پر عذاب نازل ہوا اور رد شرکا وعظ بھی حضرت نوح ( علیہ السلام) سے شروع ہوا اس لیے سب سے پہلے ان کا نام ذکر کی ہے قرطبی۔ ، کبیر) وحی کے اصل معنی تو کسی مخفی ذریعہ سے کوئی بات سمجھا دینا کے ہیں اور ایحا (افعال) یعنی الہام بھی آجاتا ہے۔ (بحث کے لیے الشوریٰ آیت 51)7 یعنی تم زبور کو تو اللہ تعالیٰ کی کتاب تسلیم کرتے ہو حالا ن کہ وہ بھی حضرت داود ( علیہ السلام) پر تورات کی مثل تختیوں کی شکل میں نازل نہیں ہوئ تھی پھر قرآن کے منزل من اللہ ہونے کا کیوں انکار کرتے ہو۔ (کبیر) موجود زیور میں ایک سو پچاس سورتیں ہیں جن میں دعائیں، نصحیتیں اور تمثلیں مذکور ہیں رحلت و حرمت کے احکام نہیں ہیں (وحیدی) یعنی حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ہم کلامی کا شرف بخشا جو اور کسی کو حاصل نہیں ہوا۔ (دیکھئے سورت مقرہ آیت 253) پھر اگر موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کے اس شرف سے دوسرے انبیا پر طعن نہیں آسکتا تو تورات کا یک باری کی نزول کسے مو جب طعن ہوسکتا ہے (کبیر )
Ayahs 4:164–165

وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْكَ١ؕ وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًاۚ Open ayah 4:164 in the Quran reader

اور ہم نے کئی پیغمبر بھیجے جن کا حال ہم پہلے تجھ سے بیان کرچکے ہیں اور کئی پیغمبر ایسے بھیجے جن کا حال نے تجھ سے بیاں نہیں کیا اور موسیٰ سے تو اللہ نے بات کی بو کر8

رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:165 in the Quran reader

ہم نے یہ سب پیغمبر جو خوشی سنانے والے تھے نیکوں کو اور ڈرانے والے تھے بدکاروں کو اس لیے بھیجے کہ پیغمبروں کے آجانے کے بعد کوئی عذر لوگوں کو اللہ کے سامنے باقی نہ رہے1 اور اللہ زبردست ہے حکمت والا

ف 9 یعنی انبیا ( علیہ السلام) کی بعثت کا مقصد تو صرف یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لیے آئیں اور اس کے مطابق اپنے آپ کو درست کرلیں انہیں جنت کی خوش خبری دیں اور جو کفر و نافرمانی پر جمے رہیں انہیں اس طرح ان پر اتمام حجت ہوجائے اور وہ اللہ کے ہاں کوئی عذار پیش نہ کرسکیں کہ ہمارے پاس تو تیری طر سے کوئی خوشخبری دینے یا تنبیہ کرنے ولا نہیں آیا اور یہ مقصد کتاب و شریعت کے نازل کرنے سے حاصل ہوجاتا ہے عام اس سے کہ وہ کتاب یک بارگی دی جائے یا تدریجا نازل ہو، بعثت کے اس مقصد اصلی پر اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ وہ کتاب کے حسب ضرورت تدریجا نازل کرنے سے تو یہ مقصد علی وجہ الا تم حاصل ہوتا ہے پھر ان کا یہ کہنا کہ مو سیٰ ( علیہ السلام) کی طرح یکباری گی کتاب لائیں گے تو مانیں گے ورنہ نہیں یہ محض ضد اور عناد ہے (کبیر )
Ayah 4:166

لٰكِنِ اللّٰهُ یَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَیْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَشْهَدُوْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 4:166 in the Quran reader

اگر کتاب والے تیری پیغمبر اور قرآن کو نہ مانیں تو نہ مانیں لیکن اللہ گواہی دیتا ہے اس کو کی جو اس نے اتارا تجھ پر اس میں کا علم ہے2 اور فرشتے بھی اللہ کے ساتھ گواہی دیتے ہیں اور اللہ بس ہے گواہ2

ف 1 یعنی وحی ہر پیغمبر آتی رہے پھر نیاکام نہیں۔ پر اس کلام میں اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص علم اتارہ اور اللہ تعالیٰ اس حق کو ظاہر کردے چناچہ ظاہر ہوا کہ جس قدرت ہدایت اس نبی سے ہوئی اور کسی سے نہیں ہوئ (موضح) یہ آیت بھی یہود کے مذکورہ سوال کے جواب میں ہے کہ اگر یہود قرآن کے کتاب الیٰ ہونے کا انکار کرتے ہیں تو اس سے قرآن کی صداقت مجروح نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ یہ گواہی دیتا ہے جی قرآن اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور حکمت بالغہ کے ساتھ نازل کیا ہے۔ جو اس کے انتہائی کامل ہونے کی دلیل ہے یہاں بعلمہ کا لفظ بطور محارہ استعمال ہوا ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے ہے فلاں نے یہ کتاب اپنے کامل علم وفضل کے ساتھ تصنیف کی ہے یعنی اپنے پورے علوم سے مدد لی ہے جو اس کتاب کے نہایت عمدہ ہونے کی دلیل ہے، کبیر یا مطلب یہ ہے کہ اس نے یہ قرآن اپنے علم سے یعنی یہ سب جانتے ہیں ہوئے اتارا ہے کہ دنیا بھر کے انسانوں سے بڑھ کر آپ ﷺ ہی اس چیز کے اہل تھے کہ آپ ﷺ پر یہ قرآن نازل کیا جاتا اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علم نفس ذارباری تعالیٰ سے الگ صفت ہے۔2 وکفی باللہ ای کفی اللہ والبا زائد ۃ (قرطبی) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ چند یہو دی نبی ﷺ کے پاس آئے آپ ﷺ نے ان سے فرمایا : اللہ کی قسم میں جانتا ہوں کہ تم کو میرے رسول اللہ ہونے کا خون علم ہے وہ کہنے لگے ہمیں تو اس کا علم نہیں ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی (ابن جریر)
Ayah 4:167

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:167 in the Quran reader

بیشک جو کافر ہوئے اور اور اللہ کی راہ سے (اسلام لانے سے دوسروں کو بھی) روکا وہ بڑی گمراہی میں پڑگئے (کیونکہ وہ خود گمراہ تھے دوسروں کو بھی گمراہ کیا3

ف 3 ان لوگوں سے مراد یہودی ہیں جو نبی ﷺ پر خود بھی ایمان نہ لاتے تھے او لوگوں کو بھی یہ کہہ کر روکا کرتے تھے کہ اس شخص کی کوئی صفت ہماری کتاب میں مذکور نہیں یا یہ کہ نبوت کا دائرہ تو حضرت ہارون ( علیہ السلام) اور داود ( علیہ السلام) کی اولاد تک محدودد ہے یا یہ کہ حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کا لائی ہوئی شریعت منسوخ نہیں ہوسکتی انکی اس قسم کی کوششوں ہی کو قرآن نے دور کی گمراہ فرمایا ہے .
Ayah 4:168

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ طَرِیْقًاۙ Open ayah 4:168 in the Quran reader

بیشک جو کافر ہوئے ار انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا4 اللہ تعالیٰ نے کو بخشنے والا نہیں نہ ان کو کوئی نجات کی پر واہ سمجھاوے گا

ف 4 ان کی گمراہی کی کیفیت بیان کرنے کے بعد اب ان کو وعید سنائی جارہی ہے (کبیر) یعنی گناہوں کا ارتکاب کیا یا آخری نبی کی صفات کو چھپاکر آنحضرت ﷺ پر ظلم کیا یا دوسرے لوگوں کو اسلام کی راہ سے برگشتہ کر کے ان پر ظلم کیا۔ (قرطبی)
Ayah 4:169

اِلَّا طَرِیْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:169 in the Quran reader

مگر جہنم کی راہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور اللہ پر یہ آیت آسان ہے5

ف 5 یعنی جب کفر ہی کی حالت میں مرجائینگے اور مرنے سے پہلے توبہ نہ کرینگے تو سیدگی جہنم میں جائیں گے او اس میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کی جہنم میں لے جانا پھر ہمشہ وہاں رکھنا اللہ تعالیٰ پر کچھ مشکل نہیں ہے (وحیدی) لہذا اب بھی ان کے لیے موقع ہے کہ کفر وعناد سے بار آجائیں اور ا آنحضرت ﷺ کی اتباع اختیار کرلیں۔
Ayah 4:170

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:170 in the Quran reader

لوگو پیغمبر یعنی محمد ﷺ ) تمہارے پاس مالک کی طرف سے سچی بات یعنی قرآن یا دین اسلام لیکر آیا ہے تو ایمان لاؤ اور تمہارے لیے بہتر ہوگا یا وہ کام کرو جو تمہارے لیے بہتر ہے اورا گر تم نہ مانو تو اللہ تعالیٰ کو کیا پرواہ ہے اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں زمین میں ہے6 اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے حکمت والا

ف 6 متعدد جو و سے یہود کے شبہ کی تردید اور قرآن کی حقانت ثابت کرنے کے بعد اب سب لوگوں کو آنحضرت ﷺ کی رسالت اور قرآن پر ایمان لانے کی دعوت دی جارہی ہے جن میں یہود بھی شامل ہیں کہ جب یہ رسول برحق اور قرآن بھی اللہ تعالیٰ کی چی کتاب ہے تو تم کو چاہیے کہ اس دعوت کو قبول کرلو، اس میں تمہارا بھلا ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی بہتر ہے۔ ورنہ یادرکھو کہ زمین و آسمان میں جتنی مخلوق ہے سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے وہ تمہیں تمہارے بر اعمال پر سزا ینے کی بھی پوری قدرت رکھتا ہے (کبیر)
Ayah 4:171

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗ١ۚ اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ١٘ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١۫ۚ وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ١ؕ اِنْتَهُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ سُبْحٰنَهٗۤ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ١ۘ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا۠ Open ayah 4:171 in the Quran reader

کتاب والوں اپنے دین میں دین سے حد سے م بڑھو7 اور اللہ تعالیٰ پر وہی بات کہو جو سچ ہے سچ تو یہی ہے کہ مریم ( علیہ السلام) کا بیٹا عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) مسیح اللہ تعالیٰ کا پغمبر تھا اور اس کا کلام تھا8 جو مریم تک اس نے پہنچا دیا اور اس کی روح تھا9 تو اللہ اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ10 اور تین خدا نہ کہو11 ۔ اس سے باز آؤ یہ تمہارے حق میں بہتر ہوگا اللہ تو بس اکیلا معبود ہے12 وہ بیٹا بیٹی سے پاک ہے اس کی تو ملک ہے جو کچھ آسماونوں اور زمین میں ہے1 اور اللہ بس ہے کام بنانے والاف 2

ف 7 علامہ رازی لکھتے ہیں کہ یہود کے شبہات کا جواب دینے کے بعد اب اس آیت میں نصاری ٰ کے شبہ کی تردید کی جارہی ہے کذافی فتح الرحمن) مگر بعض علمانے لکھا ہے کہ یہ خطاب یہود نصاریٰ دونوں سے ہے اس لیے کہ غلو راہ اعتدال کے چھوڑ دینے کا نام ہے اور یہ افراط وتفریط دونوں صورتوں میں ہے اک طرف نصاری نے حضرت مسیح ( علیہ السلام) کے بارے میں افراط سے کام لے کر ان کو خدا کا بیٹا قرار دے رکھا تھا تو دوسری طرف یہود نے حضرت مسیح ( علیہ السلام) کے بارے میں یہا شک تفریط برتی کہ انکی رسالت کا بھی انکار کردیا۔ قرآن نے بتایا کہ یہ دونوں فریق غلو کر رہے ہیں اعتدال کی راہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نہ تو خدا کے بیٹے ہیں کہ ان کو معبود بنالیا جائے اور نہ ہی جھوٹے نبی ہیں بلکہ وہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں قرطبی) آجکل اس قسم غلو مسلمانوں میں بھی آگیا ہے اور ایسے لوگ موجود ہیں جو نبی ﷺ کو اور اولیا امت کا درجہ اس قدر بڑھا دیتے ہیں کہ انتہائی درجہ کی گستاخی شمار کرتے ہیں حالانکہ اس غلو سے آنحضرت ﷺ کو بشر سمجھنا انتہائی درجہ کی گستاخی شمار کرتے ہیں حالانکہ اس غلو سے آنحضرت ﷺ نے سختی سے منع فرمایا ہے حضڑت عمر ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا لا تطرونی کما اطوت انصارٰی عیسیٰ ٰ ابن مریم فرمنا نا عبد فقولو اعبد اللہ روسولہ یعنی مجھے اس طرح حد سے نہ بڑھا و جس طرح عیسیٰ ( علیہ السلام) ابن مریم ( علیہ السلام) کر بڑھا یا، میں صرف ایک بندہ ہوں لہذا مجھے صرف اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول کہا کرو (ابن کثیر بحوالہ مسند احمد)8 یعنی انہیں کلمہ کن سے بنایا اور اس طرح ان کی پیدائش بن باپ کے ہوئی ورنہ یہ معنی نہیں ہے کہ وہ کلمہ عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) بن گیا (ابن کثیر9 یعنی اس کی پیدا کر وہ روح۔ اس سے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی عظمت کا اظہار مقصود ہے جیسا کہ ناقتہ اللہ (اللہ کی انٹنی بیتی (میرے گھر کو) میں ہے ورنہ تمام لوگوں کو روحیں اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کردہ ہیں جیسے فرمایا اجمیعامنہ (الجاشیہ) یعنی سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اواسی کی پیدا کردہ اریہ من تبعیضہ نہیں ہے بلکہ ابتدا افایت کے لیے ہے (ابن کثیر اور روح بمعنی رحمت بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا انما انا رحمتہ مھداۃ کہ میں اللہ تعال کی رحمت ہوں اور اللہ تعالیٰ کے رسول ( علیہ السلام) لوگوں کو روحانی زندگی بخشتے ہیں اس لیے ان کو روح کہا جاتا ہے۔ (کبیر)10 یعنی حضرت عیسیٰ ٰ بھی اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں پس تم دوسرے پیغمبروں کی طرح ان کو اللہ تعالیٰ کا رسول مانو اور انہیں الو ہیت امقام مت دو (کبیر)11 ثلاثتہ مبصتدا محذوف کو خبر ہے۔ ای الا قایم ثلاثتہ اوٰالھتنا ثلاثتہ . عیسائی بیک وقت خدا کو ایک بھی تسلیم کرتے ہیں اور پھر اقانیم ثلاثتہ کے بھی قائل ہیں۔ یہ اقانیم ثاثتہ کا چکر بھی نہایت پر پیج اور ناقابل فہم ہے (کبیر) جس طرح مسلما نوں میں نور من اللہ کا عقیدہ نہایت ہی گمرہ کن ہے عیسائی کبھی تو اس سے مراد وجودعلم اور حیاۃ بناتے ہیں اور کبھی ان کو باپ بیٹا اور روح القدس سے تعبیر کرلیتے ہیں اور پھر باپ سے وجود روح سے حیات اور بیٹے سے حضرت مسیح ( علیہ السلام) مراد لے لیتے ہیں اور یہ بھی کہتے کہ اقانیم ثلاثتہ سے مراد اللہ تعالیٰ مریم ( علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) ( علیہ السلام) ہیں۔ اس آخری تو جیہ کا قرآن نے بھی ذکر کیا ہے (دیکھئے لمائدہ آیت 116) الغرض عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث سے زیاد بعید از عقل کوئی عقیدہ نہیں ہے اور اس بارے میں ان کے اندر اس قدر انتشار ہے کہ دنیا کے کسی عقیدہ میں نہیں ہے (کبیر۔ ابن کثیر) اس لیے قرآن نے انہیں دعوت دی کہ تم تین خدا وں کے گو رکھ دھند کے چھوڑکر خالص توحید کا عقیدہ اختیار کرلو۔12 یعنی نہ اس کوئی شریک ہے نہ بیو اور نہ کوئی رشتہ دار نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ کسی نے اس کو جنا (ابن کثیر ) فوائد صفحہ ہذا1 اور جس کو تم نے اس کا شریک ٹھہرایا ہے وہ بھی دوسرے انسانوں کی طرح اس کا مملوک اور مخلوق ہے اور جو شخص مملوک یا مخلوق ہو وہ خالق یا مالک کا بیٹا یا شریک کیسے ہوسکتا ہے۔6 یعنی اس کو بیٹے کی ضرروت بھی کیا ہے سارے کام بنانے والا تو وہ خود ہی ہے (ازموضح)
Ayah 4:172

لَنْ یَّسْتَنْكِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَ لَا الْمَلٰٓئِكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ١ؕ وَ مَنْ یَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یَسْتَكْبِرْ فَسَیَحْشُرُهُمْ اِلَیْهِ جَمِیْعًا Open ayah 4:172 in the Quran reader

عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) مسیح اللہ تعالیٰ کا بندہ ہونے سے کبھی برا نہیں ماننے کا اور نہ خدا کے نزدیک والے فرشتے برا مانیں گے3 اور جو خدا کی بندگی میں شرم کرے اس سے کیناوے اور اپنے تئیں بڑا سمجھے تو خدا ان سب کو اپنے پاس اکٹھا کرنے ولا ہے

ف 3 اس میں عیسائیوں ارمشرکین دونوں کے غلط عقیدہ کی تردید ہے کیونکہ عیسائی حضرت مسیح ( علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا اور مشرکین فرشتوں کو خدا کی بیٹاں کہتے تھے، اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ دونوں خدا کی بندگی کا اقرار کرتے ہیں اور اس کا بندہ ہونے پر کچھ بھی شرم محسوس نہیں کرتے یہی حال ہمارے نبی ﷺ کا تھا جب کوئی شخص آپ ﷺ کا بندہ کہتا تو آپ کو بےانتہا خوشی ہوتی کیونکہ اس مالک الملک اور شہنشاہ مطلق کا بندہ ہونا انتہائی عزت وشرف کا مقام ہے نہ کہ کسی ذلت و رسوائی کا امام ابن القیم (رح) نے اپنی کتاب انوار القلوب میں لکھا ہے کہ آدمی کے لیے بندگی کے مقام سے زیادہ عزت کا کوئی مقام نہیں ہے اکر م الخلق محمد ﷺ کو تین مقامات پر جو کہ نہایت عزت کے مقامات ہیں لفظ عبد (بندہ) کہہ کر ذکر گیا ہے۔ (از فوائد سلفیہ )
Ayahs 4:173–174

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَ اسْتَكْبَرُوْا فَیُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 4:173 in the Quran reader

پھر لوگ دنیا میں ایما رکھتے تھے اور نیک کام کر تھے ان کو ان کا پو را ثواب دے گا اور اپنے فضل سے زیادہ بھی دے گا اور جن لوگوں نے دنیا میں اس کی بندگی سے شرم کی اور اپنے تئیں بڑا سمجھا جیسے فرعون یا نمرود نے خود اپنے تئیں خدا کہا تو ان کو تکلیف کا عذاب کرے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کے سوانہ کوئی ایسا حماتی پائینگے نہ مددگار جو اللہ کے عذاب سے ان کو چھڑ ائے کا کچھ سفارش یا مدد کرے

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:174 in the Quran reader

لوگوں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے دلیل آچکی ہے یعنی سند وہ کیا ہے قرآن یا پیغمبر یا معجزے اور ہم نے تم کو جگمگا تا نور بھیجا4

ف 4 جب اللہ تعالیٰ نے تمام فرق ضالتہ منافقین کفار یہود نصاری ٰ پر دلائل قائم کر دئے اور ان کے شہبات کی بھی مکمل طور پر تر دید فرمادی تو اب اس آیت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے کی عام دعوت دی ہے یہاں ابران سے مراد آنحضر ﷺ کی ذات ہے کیونکہ آپ ﷺ کا کام ہی اثبات حق اور ابطال اور البطال باطل تھا۔ اور نووامبینا سے مراد قرآن پاک ہے جو انسانوں کو ضلالت کے اندھروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی کی طرف لاتا ہے اور دل میں نو ایمان پیدا ہونے کا سبب بنتا ہے (راز ی)
Ayahs 4:175–176

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ اعْتَصَمُوْا بِهٖ فَسَیُدْخِلُهُمْ فِیْ رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ یَهْدِیْهِمْ اِلَیْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاؕ Open ayah 4:175 in the Quran reader

پھر لوگ ایمان لائے اللہ پر اور اس کا اسہارا لیا ان کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت جنت سے اورٖل دیدار سے الہی میں داخل کرے گا اور اپنے تک پہنچنے کی سیدھی راہ ان کو سوجھائے گا

یَسْتَفْتُوْنَكَ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِ١ؕ اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ١ۚ وَ هُوَ یَرِثُهَاۤ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهَا وَلَدٌ١ؕ فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ١ؕ وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 4:176 in the Quran reader

اے پیغمبر لوگ تجھ سے کلالہ کا حکم دریافت کرتے ہی5 کہہ دے اللہ تم کو کلالہ کے پاب میں یہ حکم دیتا ہے اگر کوئی آدمی مرجائے اس کی اولاد نہ ہو اور نہ باپ6 اور اس کی ایک حقیقی یا علاتی بہن ہو تو7 اس کو آدھا ترکہ ملے گا8 اور اگر وہ بہن مرجائے تو یہ بھائی اس کا 4 وارث ہوگا اس کا سارا مال لے لے گا اگر اس کی اولاد نہ ہو ن باپ اگر دو بہنیں اور بھائی مرجائے تو دونوں کی دو تہائی تر کہ ملے گا1 اور اگر کوئی کلالا ہو کر نہ جائے نہ اولاد ہو نہ باپ اس کے وارث بھائی بہن ہوں مرد عورت ملے جلے تو مرد کر نہ دہرا حصہ ملے گا اور عورت کو ایک حصہ اللہ تمہارے نہ بکنے کے لیے یا تمہارے بہکنے کو برا جان کر یہ حکم بیان فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے2

ف 5 سورت کی ابتدا احکام اموال سے ہوئی تھی اب آخرت انہی احکام کے ساتھ سورت کے ختم کیا جارہا ہے درمیان سورت میں مخالفین سے مجادلہ اور ان کی تردید ہے (رازی) کلالہ پر بحث آیت 11 میں گزر چکی ہے، بخاری ومسلم اور حدیث کی دوسری کتابوں میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ میں بیمار ہوا اور بیہوش تھا َ نبی ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے آپ ﷺ نے وضو فرمایا اور وضو سے بچے ہوئے پانی کے میرے منہ پر چھینٹے دیئے۔ جس میں مجھ ہوش آگیا میں نے عرض کی میں کلالہ میری میراث کیسے تقسیم ہوگی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (ابن جریر)6 بعض علمانے اس سے استدلال کیا ہے کہ جن کی اولاد نہ ہو خواہ اس کا باپ زندہ یہ ہو اسے کلالہ کہ جائے گا مگر جمہور علمائے کے نزدیک اس یہ ہے من لا ولد لہ الا والد کہ جس کی نہ اولاد ہو اور با نہ باپ اس لیے تشریح میں نہ باپ کا لفظ بڑھا دیا ہے۔ ، مزید دیکھئے آیت 11 (ابن کثیر)7 یہا بہن سے عینی یا علاتی بہن صرف باپ کی طرف سے) مراد ہے کیونکہ اخیافی بہن ( جو صرف ماں کی طرف سے ہو) کا حکم سے پہلے گزرچکا ہے۔ (ان کثیر)8 ولد کا لفظ بیٹا بیٹی پر بولا جاتا ہے۔ اس بنا پر بعض نے کہا ہے کہ بیٹی صورت میں بہن محرم رہیگی حضرت ابن عباس ؓ امام داود ظاہر اور علما کی ایک جماعت کا یہی مسلک ہے لیکن اکثر صحابہ تابعین اور بع کے اہل علم کا مسلک یہ ہے کہ بیٹی کی موجودگی میں بہن بحیثیت حصہ اپنا حصہ لے گی جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں حضرت معاذ ؓ نے بیٹی کو نصف اور باقی بہن و بطور عصبہ یا۔ اور دوسری صحیح حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے خود بیٹی کو نصف پوتی کو سد میں اور باقی ماندہ بہن کردیا۔ یہاں ولد سے مراد صرف لڑکے ہیں (شوکانی ) 1 اور یہی حکم دو سے زیادہ بہنوں کا ہے۔ (شوکانی )