4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 4:38

وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا Open ayah 4:38 in the Quran reader

اور جو لوگوں کو دکھا نے کے لیے مال خرچ کرے ت ہیں نہ اللہ کی رضا مندی کے لیے اور نہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور نہ پچھلے دن قیامت پر اور شیطان جس کا ساتھی ہو تو برا ساتھی ہے5

ف 5 بخیلوں کی مذمت کے بعد اب ریاکاروں سے خرچ کر نیوالوں کی مذمت کی جارہی ہے اور انہیں شیطان کا ساتھی قرار دیا گیا ہے حدیث میں ہے تین آدمیوں کو سب سے پہلے آگ میں جھو نکا جائے گا اور وہ ہیں ریاکر عالم۔ ریاکار مجاہد اور ریا کر سخی۔ (ابن کثیر) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں : مال دینے میں بخل کرنا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک برا ہے ویسے ہی خلق کے دکھا نے کو دینا۔ قبول وہ ہے جو حقداروں کو دے جن کا اول مذکور ہوا اور پھر خدا کے یقین اور آخرت کی تو قع سے دے (موضح) بخل اور ریاکاری کی مذمت کے بعد ایمان وطاعت اور صدقہ و خیرات کی ترغیب دلائی پھر مزید ترغیب کے لیے فرمایا جب ذرا ذرا اسی چیز کا اللہ تعالیٰ کئی گنا اجر دیتے ہیں پھر لوگ کیوں نیک کاموں میں سستی کرتے اور ریا کاری سے کام لیکر اپنے اجر کو ضائع کرتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص کی تمام نیکیاں لوگوں کو دے دی جائینگی حتی ٰ کہ صرف ذرہ بھر نیکی اس کے پاس رہ جائیگی تو اللہ تعالیٰ اسے کئی گنا بڑھاکر اسے جنت میں داخل فرمادینگے پھر عبد اللہ بن مسعود یہ آیت پڑھ (قرطبہ )
Ayahs 4:39–42

وَ مَا ذَا عَلَیْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِیْمًا Open ayah 4:39 in the Quran reader

اور ان کا کیا بگڑتا اگر وہ اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لاتے اللہ نے جو ان کو دیا اس میں سے خرچ کرتے اس کی راہ میں اور اللہ خبر رہے ان کے حال سے

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:40 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور بلکہ اگر کوئی نیکی ہو تو اس کو دونا کر دتیا ہے اور اس کے علاوہ اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے6

فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا٢ؕؐ Open ayah 4:41 in the Quran reader

پھر کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت پر گواہی دینے کو اس کے پیغمبر کو ایک گواہ بناکر لائیں گے اور تھے کو ان لوگوں پر گواہ بناکر لائیں گے

یَوْمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ عَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُ١ؕ وَ لَا یَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:42 in the Quran reader

اس دن جن لوگوں نے کفر کیا پیغمبر کی نافرمانی کی وہ آرزو کریں گے کاش وہ زمین میں سما جائیں اور زمین پر برابر ہوجائے گ 7 او 5 اللہ سے کوئی بات چھپانہ سکیں اور ان کے ہاتھ پاؤں گواہی دی گے8

ف 7 اوپر کی آیتوں میں قیامت کے دن ظلم کی نفی اور کئی گہا اجر کا وعدہ فرمایا اب یہاں بیان فرما جارہا ہے کہا اچھا یا برا بدلہ پیغمبر کی شہادت سے ملے گا جن کو اللہ تعالیٰ نے مخلوق پر حجت بنا کر بھیجا ہے۔ (کبیر) اس مقصود اکفار کو وعید سنانا ہے جو اس موقعہ پر آزاد کرنیگے کاش ہم آدمی نہ ہوتے اور زمین میں مل کر خاک ہوجاتے۔ دیکھئے سورت النبا : 40 بقرۃ : 143 ۔ (ابن کثیر)8 کفار کے متعلق یہ بھی ہے کہ وہ اپنے شرک سے انکار کرینگے (الا نعام :23) مگر یہ آیت اس کے خلاف نہیں ہے کہ انکار کے بعد جب ان کے ہاتھ پاوں ان کے خلاف گواہی دینگے۔ ( سورت فصٰلت آیت :21 ۔ 23) تو پھر اللہ تعالیٰ سے کوئی بات نہیں چھپا سکیں گے . اور علما نے یہ بھی لکھا ہے کہ قیامت کے دن بہت سے مواقع ہو نگے، کسی موقع پر وہ انکا کرے گے اور دسرے موقع پر اپنے شرک اور بدا عمالی پر افسوس کرینگے۔ (دیکھئے سورت الا نعام : کبیر۔ ابن کثیر )
Ayah 4:43

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:43 in the Quran reader

مسلمانو تم نشہ میں ہو تو نماز کے پاس نہ جاؤ یہاں تک نشہ اتر جائے جو منہ سے نکالتے ہو اس کو سمجھنے لگو1 اسی طرح نہانے کی حاجت ہو تو نماز کے پاس نہ جاؤ مگر رات چلتے ہوئے یہاں تک کہ غسل کرلو2 اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی پا خا نہ سے آئے یعن حاجت ضروری سے فارغ ہو کر یا تم نے عورتوں کو چھوا ہو پھر پانی پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی کا قصد کرو یا سطح زمین کا جو اپاک ہو3 اور منہ اور ہاتھوں پر مسح کرلو4 بیشک اللہ درگزر کرنے والا بخشنے والا ہے

ف 1 شراب کی مذمت اور قباحت کے سلسلے میں سب سے پہلے سورت بقرۃ کی آیت 219 نازل ہوئی جس میں شراب کو مضرت رساں قرار دیا ہے۔ اس پر بہت سے مسلمانوں نے شراب چھوڑدی۔ تاہم بعض لوگ بدستور پیتے رہے۔ اس اثنا میں ایک صحابی نشے کی حالت میں نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو سورت کافرون میں لاعبد کی بجائے اعبد پڑھا جس آیت کے معنی کچھ کے کچھ ہوگئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور لوگوں نے نماز کے اوقات شراب تر کردی تآنکہ سورت مائدہ کی آیت 90 ۔ 91 نازل ہوئی جس سے شراب قطعی طور پر حرام کردی گئی (ابن کثیر) بعض علما نے یہاں وانتم سکا دی (جمع سکران سے نیند کا غلبہ مراد لیا ہے اور اس کے مناسب صحیح بخاری کی وہ حدیث ذکر کردی جس میں ہے کہ رسول ﷺ نے نیند کی حالت میں نماز سے منع فرمایا کہ معلو نہیں کیا پڑھے اور کیا پڑھے مگر صیح یہ ہے کہ اس سے نشہ شراب مراد ہے۔ یہی قول جمہور صحابہ ؓ وتابعین کا ہے اور تمام مفسرین اس پر متفق ہیں کہ یہ آیت شراب نوشی کے بارے میں نازل ہوئی ہے (کبیر۔ ابن کثیر)2 مگر راہ چلتے ہوئے یعنی سفر میں کہ اس کا ذکر آگے آتا ہے۔ (موضح) لیکن اس تفسیر کی بنا پر سفر کے ذکر میں تکرار لازم آتی ہے۔ بنا بریں اکثر سلف (رح) نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ جنا بت کی حالت میں الصلوٰۃ یعنی مواضح صلوٰۃ (مسجدوں) میں نہ جا و ہاں اگر امسجد سے گزرنا پڑے تو اضطراری صورت میں گزر سکتے ہو (ٹھہر نہیں سکتے) ابن کثیر نے اس کو راجح قرر دیا ہے پس یہاں مضاف مخذوف ہے ای لاتھتر بو اموا ضع الصلوٰۃ (جامع البیان ،۔ ابن جریر) اور یہی جمہور علما کا مسلک ہے کہ جنبی یا حا ئضہ کے لیے مردر جائز ہے ٹھہرنا جائز نہیں ہے جیسا آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں جنبی اور حائضہ عورت کے لیے مسجد کو حلال نہیں کرتا۔ ائمہ ثلاثہ کا یہی مسل کے مگر امام احمد جنبل وضو کے بعد جنبی کے لیے مسجد میں ٹھہرنا جائز قرار دیتے ہیں اور ان کی دلیل یہ ہے کہ صحابہ کرام کا یہی عمل تھا (ابن کثیر بحوالہ سنن سعید منصور) مستند روایتوں میں ہے کہ بعض صحابہ ؓ کے گھر مسجد کی طرف اس طرح کھلتے تھے کہ بغیر مسجد سے گزرے وہ مسجد سے باہر نہیں آسکتے تھے اور گھروں میں غسل کے لیے پانی نہیں ہوتا تھا۔ جنا بت کی حالت میں مرور ان پر شاق گزرتا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن کثیر)3 سفر سے مراد مطلق ہے، اکثر علما کے نزدیک مسافت قعر شرط میں اور جائے ضرور سے لوٹے کے تحت ہر وہ چیز آجاتی ہے جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے عورتوں کی چھونے سے مراد راجح مسلک کو بنا پر جماع ہے ورنہ مطلق چھونا نا قض وضو نہیں ہے چناچہ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ میں گھر میں لیٹی ہوتی ّآنحضرت ﷺ نفلی نماز پڑ تھے تو سجدہ کی وقت اپنے ہاتھوں سے میرے سامنے سے ہٹادیتے (صیحین) فعیدا فیبا سے مراد پاک مٹی ہے مطلق جنس ارض نہیں ہے کیونکہ حدیث میں ہے وجعلت ترب تھا لنا طھور کہ زمین کی مٹی خاص طور پر ہمارے سے سحہو بنائی گئی (ابن کثیر)4 تیمم کے سلسلہ میں بعض احادیث میں ہے کہ مٹی پر دو مرتبہ ہاتھ مارے پہلی مرتبہ اس سے چہرے کا مسح کرے اور دوسری مرتبہ کہنیوں تک ہاتھوں کا مگر ان دو ضرب والی روایات میں ضعف پایا جاتا ہے صحیح ترین روایت حضرت عمار ؓ کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا التیمم ضربتہ للوجہ والکفین کہ تیمم کے لیے صرف ایک مرتبہ مٹی پر ہاتھ مارا جائے اور پھر پھر چہرے اور کلائی تک ہاتھوں پر مسح کرلیا جائے۔ امام مالک (رح) امام احمد (رح) اور محدثین اس مسلک کے قائل ہیں
Ayah 4:44

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَةَ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 4:44 in the Quran reader

اے پیغمبر کیا تو نے ان لوگو کو نہیں دیکھا جن کتاب قوریت کا ایک حصہ دیا گیا تھا وہ ہدایت کو بدل گمراہی مول لیتے ہیں اور چاہاتے ہیں تم بھی گمراہ ہوجاؤ5

ف 5 یعنی یہود خود گمرہ ہیں اور تم کو بھی بہکانا چاہتے ہیں (ابن کثیر )
Ayahs 4:45–46

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِكُمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِیًّا١٘ۗ وَّ كَفٰى بِاللّٰهِ نَصِیْرًا Open ayah 4:45 in the Quran reader

اور اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے اس نے بتادیا تو ان سے بچے رہو اور اللہ بس ہے حامی اور اللہ تعالیٰ بس ہے مدد گار

مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا وَ اسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَیًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَ اسْمَعْ وَ انْظُرْنَا لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَقْوَمَ١ۙ وَ لٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:46 in the Quran reader

یہ دشمن تمہارے یہودیوں میں سے یا یہودیوں میں بعضے ایسے بھی ہیں جو لفظوں کو اپنے مقاموں سے پلٹ دیتے ہیں6 اور زبانوں کو مروڑ کر اور او دین پر طعنہ کرنے کو کہتے ہیں ہم نے سنا اور نہ مانا اور سنو تم کو کوئی نہ سنائے اور رغنا اور اگر وہ ان لفظوں کے بدل یوں کہتی ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا8 اور نہ مانا کہ بدے لے او سنو سنو ئم کو کوئی نہ نہ بنائے کے بدل اور انظر نا راعنا کے بدل تو یہ ان کے حق میں بہتر اور دولت رست ہوتا مگر ان پر تو کفر کی وجہ سے اللہ نے پھٹکار کردی ہے وہ ایمان نہیں لانے کے مگر تھوڑا سا9

ف 6 اوپر کی آیت میں بیان فرمایا ہے کہ وہ گمراہی مول لیتے ہیں اب اس آیت میں چند امور کے ساتھ اس گمراہی کی تشریح فرمائی اور ان کلو توا نصیبامن الکتاب اس لیے فرمایا کہ انہوں نے توراۃ میں موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کی نبوت تو معلوم کرلی مگر آنحضرت ﷺ کی نبوت کا ادراک نہ کر سے (کبیر) یعنی تورات کے احکام میں تحریف کرتے ہیں یعنی تورات کے احکام میں تحریف کرتے ہیں (دیکھئے سورت مائدہ :13 ۔ 41) سورت مائدہ میں من بعد مواضعہ ہے یعنی تحریف لفظی کرتے ہیں اور ان الفاظ کو تورات سے نکال ڈالتے ہیں مثلا یہاں عن مواضعہ سے مراد تحریف معنوی ہے یعنی تاویلات فسدہ سے کام لتیے ہیں مگر حضرت ابراہیم کی اپنے اکلوتے بیٹے کی قربانی کہ یہاں اکلوتے بیٹے کی بجائے حضرت اسحاق ( علیہ السلام) کو بنادیا ہے۔ (کبیر۔ شوکانی) ہمارے زما میں بھی تمام بدعتیوں کا شیوہ ہ ہو یا ہے کہ جو آیت یا حدیث امام مجتہد یا پیر ومرشد کے قول کے خلاف نظر آتی ہے اس کی تا ویل کرتے ہیں اور خدا اور رسول ﷺ سے نہیں شرماتے کہ پیر و مرشد اور امام معصوم نہ تھے بخلاف پیغمبر ﷺ کے کہ ان سے خطا نہیں ہوسکتی (وحیدی)7 یعنی زبان کو توڑ مروڑ کے راعینا کہتے ہیں جو کلمہ ششم ہے (دیکھئے سورة بقرہ آیت 104 ان کی ایک گمراہی یہ بھی ہے کہ جب آنحضرت ﷺ سے کوئی حکم سنتے ہیں تو بظاہر سمعنا کہتے ہیں مگر ساتھ ہی فرط عناد کی بنا پر عصینا (نہ مانا) بھی کہہ دیتے ہیں اسی طرح آنحضرت ﷺ کو خطاب کرتے تو کہتے سنو تم کو کوئی نہ سنائے ظاہر میں یہ نیک دعا ہے کہ تم ہمیشہ غالب رہو کوئی تم کو بری بات نہ سنا سکے اور دل میں نیت رکھتے کہ توبہرا ہوجائے ایسی شرارت کرتے (کبیر، ابن کثیر)8 یعنی یہ سب حرکتیں کر رہے ہیں اور پھر دین میں طعن کی غرض سے کہتے ہیں کہ اگر یہ شخص نبی ہوتا تو ہمارا فریب معلوم کرلیتا اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے خبث کو ظاہر فرمادیا ہے اور وہی طعن الٹا آنحضرت ﷺ کی صدق نبوت کے لیے دلیل قاطع بن گیا۔ (کبیر۔ ،9 یعنی اگر یہ اس قسم کی حرکات اور طعن کی بجائے ایسے کلمات استعمال کرتے ہیں جن میں شرارت کی آمیزش نہیں ہوسکتی اور اخلاص سے پیش آتے مثلا عصینا کی بجائے اطعنا کہتے اور غیر مسمع کی بجائے انظونا تو ان کے حق میں بہتر ہوتامگر افسوس ہے کہ یہ بہت ہی تھوڑے احکام پر ایمان رکھتے ہیں پس قلیلا یہاں مصدر معخدوف ایمانا کی صفت ہے۔
Ayah 4:47

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰۤى اَدْبَارِهَاۤ اَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصْحٰبَ السَّبْتِ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 4:47 in the Quran reader

کتاب والوں یہودیوں ہم نے جو اتارا قرآن اس پر ایمان لاؤ وہ سچ بتاتا ہے اس کتاب کو جو تمہارے پاس ہے یعنی تورات کو اس سے پہلے کہ ہم منہ کو میٹ کر گدی کی طرح صاف وسپاٹ کردیں یا ان پر پھٹکار کریں جیسے ہفتے والوں پر پھٹکار کی تھی۔1 اور خدا کا حکم تو ہو کر رہے گا

ف 1 کی شرارتوں کو بیان کرنے بعد اب اس آیت میں ان کو ایمان کی دعوت دی اور ہٹ دھرمی کی بنا پر احکام خداوندی بجا نہ لانے پر وعید سنائی کیونکہ یہود عالم تھے اور علم و معروف کے باوجود ہٹ دھرمی سے کام لے رہے تھے ( ْ کبیر) اس وعید کا تعلق یا تو قیامت کے کے دن سے ہے یا دنیا میں چہروں کو مسخ کردینا مراد ہے اور اصحاب سبت جیسی لعنت سے مراد یہ ہے کہ جس طرح ان کو بندر خنزیر منادیا تھا تمہیں ویسا ہے بنادیا جائے۔ اصحاب سبت کے قصہ کے لیے دیکھئے سورت اعراف آیت 163)
Ayah 4:48

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا Open ayah 4:48 in the Quran reader

وہ کسی کے روکے روکنے والا نہیں بیشک اللہ شرک کو تو بخشنے والا نہیں اور شرک کے سوا جو گناہ ہیں جس کو چاہے بخژ دے اور جس کو چاہے نہ بخشے عذاب کرے2 اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اس بڑا گناہ باندھا3

ف 2 یہود کو تہدید وعید فرمانے کے بعد اس آیت میں اشارہ فرمایا کہ یہ تہدید شرک وکفر کی وجہ سے ہے ورنہ دوسرے گناہ تو قابل عفو و مغفرت ہی اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت ہیں جسے چاہے اللہ تعالیٰ معاف فرماسکتے ہیں (کبیر) یہود نصاریٰ کی طرح نام کے مسلمان جو شرک میں گرفتار ہیں اولیا اللہ کے نام کا روزہ رکھتے ہیں ان کی قبروں کو پو جتے ہیں ان کے نام پر جا نور کا ٹتے اور اسکی منتیں مانتے ہیں اٹھتے بیٹھتے ان کو پکار تے ہیں وہ بھی مشرکوں کے حکم میں آتے ہیں (وحیدٰ3 یعنی ناقابل عفو گناہ کا ارتکاب کیا۔ (مزید دیکھئے سورت لقمان 130)
Ayah 4:49

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ بَلِ اللّٰهُ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:49 in the Quran reader

اے پیمبر کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے تئیں آپ پاک اور مقدس کہتے ہیں یہ سب غلط ہے بلکہ جس کو چاہتا ہے پاک اور مقدس کرتا ہے اور ایک تاگے4 برارب بھی ان پر ظلم نہ ہوگا

ف 4 فتیل دراصل اس پتلے سے دھاگے کو کہتے ہیں جو کھجور کی کٹھلی کے کٹاو پر نظرآتا ہے۔ یہ محاورہ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ان پر ذرہ و معصوم سمجھتے اور اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور محبوب ہونے کا دعویٰ کرتے۔ ان کی تردید فرمائی کہ کسی کو پاکباز انسان قرار دینا تو اللہ تعالیٰ کا کام ہے اپنی طرف آپ کرنا انسان کے لیے مہلک ہے حدیث میں ایاکم واتما دح فانہ الذحج کہ خود پسندی اور اپنی تعریف سے بچو یہ تو اپنے آپ کو ذبح کرنے دینے کے مترادف ہے۔ نیز حضرت عمر ؓ سے مروی ہے وہ اپنی ہی رائے کو پسند کرنا ہے۔ (ابن کثیر )
Ayahs 4:50–51

اُنْظُرْ كَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖۤ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:50 in the Quran reader

اے پیغمبر دیکھ اللہ پر کیساتھ جھوٹ باندھتے ہیں اور یہی یعنی یہ جھوٹ کھلا گناہ ہونے کے لیے بس کرتا ہے

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا Open ayah 4:51 in the Quran reader

اے پیمبر کیا تو نے ان لوگوں کو نئیں دیکھا کعب بن اشرف اور اس کے ساتھی یہودی جن کو اللہ تعالیٰ کی کتاب کا ایک حصہ ملا وہ بت اور شیطان کو ماننے لگے5 اور کافروں مکہ کے مشرکوں کو کہتے ہیں کہ مسلمانوں سے تو یہ زیادہ ٹھیک راہ پر ہیں6

ف 5 الجبت بت کو کہتے ہیں اور جادوگر کاہن ٹونے ٹوٹکے اور اس قسم کی سب چیزیں الجبت میں داخل ہیں۔ حدیث میں ہے اطیر ۃ والعیافتہ والطرق من الجبت شگون لینا پرندوں کو اڑاکر اور زمین پر لکیریں کھینچ کر فال گری کرنا جنت میں شامل ہیں اور الطاغوت سے مراد شیطان ہے اور ہر وہ شخص معاصی کی دعوت دے اس پر یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ عرب میں بتوں کے ترجمان ہوتے تھے جو ان کی زبان سے جھوٹ نقل کرتے اور لوگوں کو گمراہ کرتے ان کو طاغوت کہا جاتا تھا (کبیر)6 یہودیوں کی آنحضرت ﷺ سے مخالفت ہوئی تو انہوں نے مشرکین مکہ سے رابطہ قائم کرلیا اور ان سے کہنے لگے کہ تمہارا دین مسلمانوں سے بہتر ہے۔ یہ سب کچھ اس حسد کی وجہ سے تھا کہ نبوت اور ریاست دینی ہمارے سوا دوسروں کو کیوں مل گئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ان کو الزام دیا۔ تفسیر معالم میں ہے کہ یہ یہود کعب بن اشرف تھے جو غزوہ احد کے بعد مکہ مکرمہ گئے اور مشرکین کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے ان کے بتوں کو بھی سجدہ کرگزرے۔
Ayahs 4:52–53

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یَّلْعَنِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:52 in the Quran reader

ان ہی لوگوں پر اللہ نے پھٹکار کی ہے جس کو اللہ پھٹکار اس کا کوئی مددگار تو نہ پائے گا

اَمْ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا یُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِیْرًاۙ Open ayah 4:53 in the Quran reader

جو اس کو عذاب سے بچائے بھلاان کے پاس سلطنت کا کوئی حصہ ہے اگر ہو تو لوگوں کو کھجور کی گٹھلی کے شگاف برابر بھی نہ دیں7

ف 7 اوپر کی آیت میں یہود کو جہالت بیان کی کہ وہ بتوں کی پوجا کو اللہ تعالیٰ کی عبادت پر ترجیح دیتے ہیں اس آیت میں ان کے بخل اور حسد کو بیان فرمایا ہے (کبیر) بخل تو یہ ہے کہ نعمت اللہ تعالیٰ نے کسی کو دی ہو دوسروں سے اسے روک لینا۔ اور حسد یہ ہے کہ یہ نعمت اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو دی ہے اس پر جلے بھنے اور آرزو کرے کہ اس سے چھین جائے اور مجھے مل جائے پس حسد اور بخل دونوں میں یہ بات قدر مشترک ہے کہ دوسروں سے نعمت کو رکنا اور یہ گوارا نہ کرنا کہ اپنی ذات کے سوا دوسروں کو بھی فائدہ پہنچے (کبیر، قرطبی) یہود میں یہ دونوں صفتیں اتم اور اکمل طوپر پائی جاتی تیں۔ قرآن نے یہ بتایا کہ یہ مسلمان پر حسد کرتے ہیں اور ان کے بخل کا یہ حال ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ملک و سلطنت میں ان کو اختیار ہوتا تو کسی کو تل برابر بھی کچھ نہ دتیے نقیر دراصل اس نقطہ کر کہتے ہیں جو گٹھلی کی پشست پر ہوتا ہے اور یہ قلت ضرب المثل ہے۔
Ayah 4:54

اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا Open ayah 4:54 in the Quran reader

یا جو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے لوگوں کو دیا قرآن شریف او نبوت اور حکومت اور دشمنوں پر غلبہ اس پر چلتے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہم نے ابراہیم کی اولاد داؤد اور سلیمان کو کتاب اور پیغمبر دی تھی اور ہم نے ان کو بڑی سلطنت بھی دی تھی1

ف 1 مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بیٹے اسحاق ( علیہ السلام) کی اولاد میں مدت دراز تک نبوت اور بادشاہی رہی اور حضرت داود ( علیہ السلام) ، حضرت سلیمان ( علیہ السلام) اور دوسرے اولو العزم پیغمبر ہو گزرے ہیں۔۔ اب بنو اسمعیل ( علیہ السلام) میں سے آنحضرت ﷺ کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمادیا گیا ہے تو یہ کیوں حسد کررہے ہیں۔ یہاں من فضلہ سے مراد نبوت اور دین دنیا کی وہ عزت مراد ہے جو نبوت کی برکت سے حاصل ہوئی الکتاب سے مراد کتاب الہیٰ ادر الحمت سے اس کا فہم اور اس پر عمل مراد ہے اور ملک عظیم سے مراد سلطنت اور غلبہ وقتدار ہے۔ (رازی۔ ابن کثیر )
Ayahs 4:55–56

فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُ١ؕ وَ كَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِیْرًا Open ayah 4:55 in the Quran reader

پھر ان میں سے یعنی یہود میں سے یا ابراہیم کی اوالاد میں سے کوئی تو اس پر ایمان لایا اور کوئی رک ریا اس سے ایما لانے سے یا لوگوں کو اس نے روک دیا ایمان لانے سے اس کو دوزخ کی دہکتی آگ بس کرتی ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًا١ؕ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:56 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے انکار کیا ان کو ہم آگ میں ڈالیں گے ہم بار جب ان کی کھا گل جانے گی تو ہم ان پر دوسری کھالیں چڑھائیں گے اس لیے کہ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں بیشک اللہ تعالیٰ زبر دست ہے حکمت والاف 3

ف 2 اٰ من بہ میں بہ کی ضمیر ایتا کی طرف بھی راجع کرسکتی ہے جو اتینا سے مفہوم ہوتا ہے یعنی بعض تو اس ایتا انعام پر ایمان لے آئے اور بعض نے اعراض کیا اور لوگوں کو بھی روکنے کوشش کی، لہذ آپ ﷺ نے ان کے کفر سے لگیر نہ ہوں (ابن کثیر) اور اگر اس ضمیر کا مرجع آنحضرت ﷺ کو مانا چائے تو معنی یہ ہوں گے کہ یہ سب کچھ دیکھ لینے کے باوجود یہود میں سے کچھ لوگ تو آنحضرت ﷺ پر ایمان لانا چاہتے ہیں انہیں بھی روکنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی سزا کے لیے جہنم کافی ہے۔ ْ ( فتح القدیر۔ کبیر) یہاں بتا کہ یہ سزا صرف اہل کتاب کے ایک گروہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ سب کفار کو ملے گی ، (کبیر) بدلناھم جود اغیر ھا سے اہل جہنم کے عذاب کی سختی بیان کرنی مقصود ہے بعض آثار و روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ دن میں سینگڑو مرتبہ چمڑوں کی یہ حالت تبدیل ہوگی اران کے چمڑے ستر گز مو ٹے ہوں گے اور ایک جہنمی کی ڈاڑھ احد کی مثل ہوگی۔ اس طرح ان کو دئمی عذاب ہوتا رہے گا ، (ابن کثیر۔ کبیر )
Ayah 4:57

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١٘ وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِیْلًا Open ayah 4:57 in the Quran reader

اور جو لوگ سب کتابوں اور سب پیغمبروں پر ایمان لانے ہماری کسی آیت کا انکار نہیں کیا اور نیک کام کیے ان کو ہم باغوں میں لے جا ئیمن گے جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے ان کو صاف ستھری بی بیاں ملیں گے نہ ان کو حیض آئے گا نہ نفاس اور ہم ان کو گھنے ہوئے سایہ میں لے جائیں گے4

ف 4 قرآن پاک میں عموما دندہ اور وعید کو ایک ساتھ بیان فرمایا گیا ہے اور اس اسلوب کی وجہ سے قرآن کو لتابا متشابھا فرمایا ہے اور وعظ تذکیر کا یہ مئو ثر ترین انداز ہے۔ آیت سے بعض نو سمجھا ہے کہ عمل صالح ایمان کا غیر ہے کیونکہ یو دونوں عطف کے ساتھ مذکور ہیں مگر قرآن نے متعدد آیات میں عمل صالح پر زور دینے کے لیے عمل صالح کو الگ عطف سے ساتھ بیان کردیا ہے۔ ورنہ یہ بھی ایمان میں داخل ہے (ابن کثیر، شوکانی) آیت میں ظلا ظلیلا (گھنے سائے) نہایت درجہ کی راحت سے کنا یہ ہے۔ (کبیر) گھنے سائے تفسیر میں امام ابن جریر (رح) نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جنت میں ایک درخت ہے جس کے سایہ میں سوار سو برس تک چلے گا پھر بھی اسے طے نہ کرسکے گا۔ وہ ہمیشگی کا درخت ہے۔ (ابن کثیر )
Ayah 4:58

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا١ۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 4:58 in the Quran reader

مسلمانو اللہ تم کو حکم کرتا ہے کہ امانتیں امانت والوں کو پہنچاؤ اور جب لوگوں کا مقدمہ فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو اللہ تعالیٰ تم کو اچھچی نصیحت کرتا ہے بیشک اللہ تعالیٰ سنتا دیکھتا ہے5

ف 5 درمیان میں کفار کے احوال اور ان کے حق میں وعید کا ذکر آگیا تھا اب دوبارہ سلسلئہ احکام کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ یہود امانت میں خیانت کرتے اور فیصلہ میں رشوت لے کر جوا کرتے۔ مسلمانوں کو ان باتوں سے دور رہنے کا حکم دیا۔ یہاں امانت سے مراد گو ہر قسم کی امانت ہے اس کا تعلق مذہب ودیا نت سے ہو یا دنیاوی معاملات سے لیکن یہود کتمان حق کر کے امانت علمی میں خیانت کے مرتکب تھے بعض روایات میں ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے عثمان بن طلحتہ بن ابی طلحتہ احجبی سے کعبی کی کنجی لے لی۔ اس پر جبرائیل نازل ہوئے اور کنجی واپس کردینے کا حکم دیا (ابن جریر) آیت میں ہر قسم کے ذمہ کو اس کے اہل کے سپر کرنے کا حکم دیا ہے نیز حکم دیا ہے کہ ہر قسم کے فیصلوں سے عدل و انصاف کو ملحوظ رکھا جائے صحیحین کی ایک روایت میں خیانت درامان کو نفاق کی ایک خصلت قرار دیا ہے۔ نیز آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب تک حاکم بےانصافی پر اتر آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے اس کے حوالے کردیتا ہے اور ایک اثر میں ہے کہ ایک دن عدل کرنا جالیس سال کی عبادت بہتر ہے (ابن کثیر )
Ayah 4:59

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۠ Open ayah 4:59 in the Quran reader

مسلمانو اللہ تعالیٰ کا حکم مانو اور اس کے رسول کا حکم مانو اور حکومت والوں کا جو تم میں سے ہوں6 پھر اگر تم اور حا کم وقت کسی بات میں جھگڑا کرو تو اس کو اللہ تعالیٰ اور رسول کی طرف رجوع کرو اگر تم کو اللہ اور پچھلے دن پر ایمان ہے7 یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اور اس کا انجام بہت اچھا ہے1

ف 6 مو ضح کا ترجمہ اوفائدہ یہ ہے اولی الا مر اختیار والے باشاہ اور قاضی اور جو کسی کام پر مقرر ہو اس کے حکم پر چلنا ضروری ہے جبتک وہ خلاف خدا اور سول ﷺ حکم نہ کرے اگر صریح خلاف کرے تو وہ حکم نہ مانے ایک امیر کی اطاعت کے سلسلہ میں آپ ﷺ نے فرمایا انما الطاعتہ فی المعروف کہ امیر کی اطاعت صرف معروف یعنی نیکی میں ہے (ابن کثیر بحوالہ صحیحین)7 اس آیت میں ایک نہایت اہم حکم دیا ہے یعنی باہمی نزاع کی صورت میں اللہ و رسول ﷺ کی طرف رجوع ہونا شرط ایمان ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت تو قرآن کی اتباع ہے اور رسول ﷺ کی اطاعت ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی کے بعد آپ ﷺ کی سنت کی اطاعت ہے اور یہ اطاعتیں مستقل ہیں اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کی طرح رسول اللہ ﷺ کی حدیث بھی اسلامی قانون کا مستقل ماخذ ہے۔ حضرت نواب صاحب لکھتے ہیں۔ اس آیت سے مقلدین دلیل لیتے ہیں تقلید کے واجب ہونے پر لیکن یہ دلیل نہیں ہوسکتی اولی الا مر سے بادشاہ اور حکام مراد ہیں (دیکھئے فوائد موضح) لیکن اگر سلف (رح) سے یہ منقول ہے کہ علمائے دین مراد ہیں تو اس میں اول تو کسی عالم کی تخصیص نہیں ہے دوسرے ہر فرض تسلیم عالم کی تقلید کا حک اسی وقت تک ہے کہ اس کا حکم قرآن و حدیث کے موافق ہو پھر خود رائمہ اربعہ نے اپنی تقلید سے منع فرمایا ہے اور قرآن نے حکم دیا ہے کہ ائمہ (رح) کی اتباع میں جھگڑ اہو تو اللہ و رسول ﷺ کی طرف رجوع ہونا چاہیے (ترجمان) 1 اگر دو مسلمان جھگڑتے ہیں ایک نے کہا چل شرع کی طر رجوع کریں دوسرے نے کہا میں شرع کو (کچھ) نہیں سمجھتا یا مجھے شرع سے کام نہیں وہ بیشک کافرہوا (موضح)
Ayah 4:60

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاكَمُوْۤا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْۤا اَنْ یَّكْفُرُوْا بِهٖ١ؕ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:60 in the Quran reader

اے پیمبر کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو منہ سے کہتے ہیں وہ ایمان لائے اور اس پر جو اترا تجھ پر یعنی قرآن پر اور جو اترا تجھ سے پہلے اور پیغمبروں پر باوجود اس کے وہ چاہتے ہیں کہ مقدمہ شیطان کے پاس لے جائیں اور ان کو حکم ہو ہوچکا کہ شیطان کی بات نہ مانیں اور شیطان چاہتا ہے کہ ان کو ہکا کر دور پھینک دے2

ف 2 اوپر کی آیتوں میں تمام مسلمانوں پر واجب کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں اب یہاں فرمایا کہ منافق ہمیشہ رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہیں اور کبھی آنحضرت ﷺ کے فیصلے اور حکم پر راضی نہیں ہوتے (رازی) اس حد تک مفسرین متفق ہیں کہ یہ آیات منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہیں اور بظاہر ہر آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب میں سے کسی منا فق کے بارے میں نازل ہوئی ہیں تاہم اس کے تحت مختلف اسباب نزول مذکور ہیں (رازی) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ معتب ن قشیر اور رافع بن زید میں جھگڑا ہوگیا مسلمانوں نے ان سے کہا چلو نبی ﷺ سے فیصلہ کر اتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں جابلی کاہنوں کے پاس چلتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی (فتح البیان) گو اس کے شان نزول خاص ہے مگر آیت میں ہر اس مسلمان کی مذمت ہے جو کتاب وسنت کو چھوڑ کر دوسرے باطل طریقے سے فیصلہ کروانے کی کوشش کرے اور اسی کا نام طاغوت ہے (ابن کثیر )
Ayahs 4:61–62

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًاۚ Open ayah 4:61 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے اس طرف آؤ جو اللہ تعالیٰ نے اتار اور رسول کی طرف یعنی اللہ اور رسول کا حکم یعنی اللہ اور رسول کا حکم سے اپنا جھگڑا فیصلہ کرو تو منا فقوں کو دیکھتا ہے رک کر منہ پھیر لیتے ہیں

فَكَیْفَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ ثُمَّ جَآءُوْكَ یَحْلِفُوْنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّاۤ اِحْسَانًا وَّ تَوْفِیْقًا Open ayah 4:62 in the Quran reader

پھر اس وقت ان کا کیا حال ہوگا کیسے ذلیل اور خوار ہوں گے جب انہی کے کاموں کی سزا میں ان پر کوئی مصیبت آن پڑے گی اور اللہ کی قسم کھاتے ہوئے تیرے پاس آئیں گے کہ ہم جو دوسروں کو پاس پاس اپنا مقدمہ لے گئے تھے تو صرف سلوک اور میل جول چاہتے ہیں تھے3

ف 3 آیت کا پہلا حصہ جملہ معترضہ ہے اور ثم جاعوت سے پہلی آیت کے ساتھ مربوط ہے ان آیات کی دوسری شان نزول یہ بھی بیان کی گئے ی ہے کہ مدینے میں ایک یہودی اور ایک مسلمان (منافق) کی کسی معاملہ میں نزاع ہوگئی یہو دی کو معلوم تھا کہ آنحضرت ﷺ حق فیصلہ کریں گے اور رعایت سے کام نہیں لیں گے اس لیے منافق سے کہا کہ چلو محمد ﷺ سے فیصلہ کرواتے ہیں منانفق کہا تم یہودیوں کے عالم رکعب بن اشرف کے پاس چلیں آخر دونوں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم ﷺ نے بیان سن کر یہودی کو سچاقرار دیا۔ منا فق نے باہر آکر کہا کہ اچھا اب عمر ؓ کے پاس چلیں یہ آنحضرت ﷺ کے حکم سے مدینے میں فیصلہ کرتے تھے۔ منافق نے غالبا یہ خیلا کیا ہوگا کہ حضرت عمر ؓ حمیت مذہبی کے باعث یہو دی کے مقابلے میں اس کی رعایت کریں گے چناچہ وہ دونوں حضرت عمر ؓ کے پاس آئے یہودی نے سارا ماجرا کہہ سنایا کہ حضرت ﷺ کے پاس سے آئے ہیں اور انہوں نے مجھے سچا قرار دیا ہے حضرت عمر ؓ یہ سن کر گھر کے اندر تشریف لے گئے اور تلوار لاکر منافق کا سرقلم کردیا اور فرمایا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فیصلہ پسند نہ کر اس کے بارے میں میرا فیصلہ یہ ہے منا فق کے ورثا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور حضرت عمر ؓ پر قتل کا دعویٰ کردیا اور قسمیں کھا نے لگے کہ حضرت عمر ؓ کے پاس تو اس لیے گئے تھے کہ شاید باہم صلح کرادیں رسول اللہ ﷺ نے فرمای کہ میں یہ یقین نہیں کرسکتا کہ عمر ؓ کسی مسلمان کو ناحق قتل کردیں اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور حضرت جبرائیل ( علیہ السلام) نے آنحضرت کو بتایا کہ عمر ؓ نے حق ارباطل کے درمیان فیصلہ کردیا ہے۔ چناچہ اس روز سے آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو فارق کا لقب عطا فرمایا۔ (قرطبی۔ (فتح الباری باب سکرلانہار) اختلاف الفاظ کے ساتھ یہ قصہ معالم اور ابن کثیر میں بھی مذکور ہے مگر ابن کثیر میں فاروقی کی وجہ تسمیہ والا حصہ ساقط ہے۔ ( م۔ ع)
Ayah 4:63

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰهُ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ۗ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا Open ayah 4:63 in the Quran reader

یہی ہو وہ لوگ جن کے دلوں کی باتیں اللہ جانتا ہے تو ان سے درگزر کر یعنی ان کو سزا مت دے خامود ہوجا اور ان کو سمجھادے اور ایسی بات کہہ دے جو ان کے دل پر چوٹ لگائے اف 4

ف 4 یعنی ان منافقوں کے دل کا چور اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے تم کو معلوم نہیں تم ان سے اپنا ظاہری معاملہ درگزر کا رکھو اور ان کو دلپذیر نصیحت کرتے رہو شاید کسی کے دل میں کوئی بات اترجائے (ا، ت )
Ayah 4:64

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:64 in the Quran reader

اور ہم نے جو رسول بھیجا وہ اسی لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کا کہا مانا جائے5 اور اگر یہ لوگ جس وقت انہوں نے قصورو لیا تھا تیرے پاس آن کو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے اور پیغمبر بھی یعنی تو بھی ان کے لیے معافی چاہتا تو بیشک وہ اللہ تعالیٰ کو برا معاف کر نیوالا مہربان پاتے

ف 5 اطاعت رسول کی دوبارہ ترغیب دی ہے (رازی) یعنی اللہ کے رسول دنیا میں اس لیے آتے ہیں کہ جمیع امور میں اللہ تعالیٰ کی توفیق واعانت سے ان کی اطاعت کی جائے معلوم ہوا کہ ہر رسول صاحب شریعت ہوتا ہے۔ (ابن کثیر، رازی ) 6 جب ان لوگوں نے آنحضرت ﷺ کے فیصلے سے انحراف کر کے معصیت کا ارتکاب کیا ہے تو ان کو چاہیے تھا کہ بجائے حیلہ بازیوں اور سخن سازیوں کے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے اور رسول اللہ ْْﷺ سے بھی اپنے لیے مغفرت کی دعا کر واتے اگر ایسا کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرماتا اور ان پر رحم کرتا (تنبیہ) اس جگہ حافظ ابن کثیر نے ایک بدوی کی حکایت نقل کردی ہے جس نے آنحضرت ﷺ کے روضئہ مبارک کے پاس آکر یہ آیت پڑھتے ہوئے کہا کہ یا حضرت ﷺ میں اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں اور آپ ﷺ کو سفیع بناتا ہوں اس پر قبر انور کے پاس بیٹھنے والے ایک شخص نے کہا۔ خواب میں آنحضرت ﷺ نے مجھ سے فرمایا ہے کہ اس بدوی کو بخش دیا گیا لیکن یہ ایک حکایت ہے جو آیت کی مناسبت سے درج کردی ہے یہ آیت کی تفسیر یا حدیث نہیں ہے الصارم المنکی (ص 238) میں لکھا ہے کہ اس حکایت کی سند نہایت کمزور ہے آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی حیات مبارکہ میں آپ ﷺ سے دعائے مغفرت کرائی جاسکتی تھی مگر آپ ﷺ کی وفات کے بعد قبر مبارک سے استشفاع پر استدلال ککسی طرح صحیح نہیں ہے۔ (ترجمان نواب)
Ayah 4:65

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 4:65 in the Quran reader

اے پیمبر تیرے پروردگار کی قسم اللہ تعالیٰ خود ہی اپنی قسم کھا تا ہے وہ مومن نہ ہوں گے جب تک اپنے جھگڑوں کا فیصلہ تھے سے نہ کرائیں پھر تیرے فیصلے سے ان کے دلوں میں کچھ اداسی نہ ہو اور خوشی خوشی مال کر منظور کرلیں1

ف 1 اس آیت سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے فیصلہ کے خلاف دل میں ذرہ بھر بھی تنگی اور باپسند ید گی محسوس کی جائے تو یہ ایمان کے منا فی چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہش نفس میرے لائے ہوئے طریقہ کے تابع نہ ہوجائے بعض نے کہا ہے کہ یہ ّآیت پہلے قصہ کے ساتھ ہی متعلق اور بعض نے لکھا ہے کہ حضرت زبیر ؓ اور ایک انصاری کے درمیان شراج حرۃ کے پانی کے بارے میں نزاع ہوگئی آنحضرت ﷺ نے حضرت زبیر ؓ سے رعایت کی سفارش کی اور فرمایا اپنے باغ کو پانی دے کر اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دے اس پر انصاری نے کہا یہ اس لے کہ زبیر ؓ تمہارے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ اس رشتے کی رعایت کی ہے اس پر آنحضرت ﷺ کو تکلیف محسوس ہوئی اور فرمایا کہ زبیر ؓ اپنے باغ کو اتنا پانی دو کہ دیوار تک چڑھ آئے پر اس کے لیے چھوڑ دو اس پر انصاری اور زیادہ تلملا یا اور یہ آیت نازل ہوئی (بخاری تفیسر و کتاب الشرب) معلوم ہے کہ آنحضرت ﷺ کا ہر فیصلہ تنقید ہے بالا ہے اور ہر حاکم وقت کے فیصلہ سے بلند ہے اور یہ اس لے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں (م، ع)
Ayah 4:66

وَ لَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِیْتًاۙ Open ayah 4:66 in the Quran reader

اور اگر ہم ان کو یعنی ان منافقوں کو حکم دیتے کہ اپنے آپ کو مارڈالو جیسے اسرائیل کو بچھڑے پو جنے کی سزا میں دیا تھا یا اپنے دیس سے نکل جاؤ تو ان لوگوں میں چندد لوگوں کو سواکائی اس پر عمل نہ کرتا اور اگر یہ لوگ یعنی منافق جو ان کو نصحیت کی جاتی ہے کہ دل وجان سے اللہ کا حکم مانو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اس پر چلتے توی ان کے حق میں بہتر ہوتا اور دین پر خوب جمے رہتے کیونکہ مسلمان اپنے دین پر ثابت قدم رہتا ہے

ف 2 اس آیت کا تعلق بھی منافقین سے ہے اور اس میں ان کو اخلاص اور ترک نفاق کی ترغیب دی گئی ہے (رازی) یعنی چاہیے تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کا حکم مانے میں جان سے بھی دریغ نہ کیا جائے (مگر یہ ایسے ہیں کہ) اگر کہیں ان کو اللہ تعالیٰ اپنی جانیں ہلاک کر ڈالنے یا اپنے گھر چھوڑ دینے کا حکم دے دیتا تو یہ اس کو کب بجالانے والے تھے جو حکم ہم نے انہیں دیئے ہیں وہ نہایت آسان اور محض ان کی خیر خواہی کے لیے ہیں نصیحت مانیں اور ان احکام پر چلیں نفاق جاتا رہے گا ایمان کامل نصیب ہوگا اس امر کو غنیمت سمجھیں۔ (از موضح) فائدہ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام چونکہ وعدہ وعید اس لیے ان کو لفظ وعظ سے تعبیر فرمایا ہے (رازی)
Ayahs 4:67–69

وَّ اِذًا لَّاٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ لَّدُنَّاۤ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:67 in the Quran reader

اور اس وقت رہ ایساکر تے ہم ان کو اپنے پاس سے جزا ثواب دیتے

وَّ لَهَدَیْنٰهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا Open ayah 4:68 in the Quran reader

اور ان سیدھی راہ پر ضرور لگا دیتے

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِیْقًاؕ Open ayah 4:69 in the Quran reader

ور جو لوگ اللہ تعالیٰ اور رسول کا کہا مانیں جنت میں ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ نے سرافراز کیا یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اونیکوں کار کے ساتھ اور ان لوگوں کا ساتھ اچھا ساتھ ہے3

ف 3 صدیق یہ صدق سے مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی جو جملہ امور دین کی تصدیق کرنے ولا ہو اور کبھی کسی معاملہ میں خلجان اور رشک اس کے دل میں پیدا نہ ہو یا وہ جو رسول ﷺ کی تصدیق میں سبقت کرنے کی وجہ سے دوسرے کے لیے اسوۃ بنے اس اعتبار سے اس امت کے صدیق حضرت ابوبکر ؓ ہی ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ دوسرے افاضل صحابہ ؓ کے لیے نمومہ بنتے ہیں حضرت علی ؓ بھی اول مسلمانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ مگر چھوٹے بچے ہونے کی وجہ سے دوسروں کے لیے نمونہ نہیں بن سکتے چونکہ نبی کے بعد صدیق کا درجہ ہے اس لیے علما اہل سنت کا اجماع ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ آنحضرت ﷺ کے بعد سب سے افضل ہیں شہدا یہ شہید کی جمع ہے اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جان دی اور امت محمد ﷺ کے بھی شہدا ہونے کا شرف حاصل ہے اور صالحین سے مراد وہ لوگ ہیں جو عقیدہ وعمل کے اعتبار سے ہر قسم کے فساد سے محفوظ رہے۔ ( رازی) مجموعہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ صحابہ ؓ کے دل میں استیاق پیدا ہوا کہ جنت میں آنحضرت ﷺ کی رفاقت حاصل ہوجائے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی صحیح مسلم میں ربیعہ بن کعب سلمی ٰ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی کہ جنت میں آپ ﷺ کا ساتھ نصیب ہو آپ ﷺ نے فرمایا : کثرت سجود (کثرت نوافل) سے میری مدد کرو ترمذی کی ایک حدیث میں ہے التاجر الصدوق الامین لنبتین والصد یقین والشدآ کہ امانتدار اور سچ بولنے والا تاجر قیامت کے دن انبیا اور شہدا کے ساتھ ہوگا (ابن کثیر۔ رازی)
Ayah 4:70

ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ عَلِیْمًا۠ Open ayah 4:70 in the Quran reader

یہ اللہ کا فضل ہے کہ کہا ماننے والوں کو بھی بڑے درجے والوں کے ساتھ رکھے گا اور اللہ کا جاننا بس کرتا ہے4

ف 4 یعنی اطاعت واخلاص پر رفاقت کا درجہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل و کرم ہے اور لوگوں کی حالت معلوم ہے (رازی) اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم فرمایا اور اس کی ترغیب کے سلسلہ میں یہ بھی بتایا کہ اطاعت سے انبیا صدیقین شہدا اور صالحین کی رفاقت حاصل ہوگی اب اس آیت میں جہاد کا حکم فرمایا ہے جو سب سے مشکل طاعت ہے اور منافقین کے بارے میں محتاط رہنے کا حکم دیا ہے۔ (رازی )
Ayahs 4:71–73

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا Open ayah 4:71 in the Quran reader

مسلمانو اپنا بچاؤ لیے رہو ور جتھے نکلو یا سب مل کر نکلو5

وَ اِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَّیُبَطِّئَنَّ١ۚ فَاِنْ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیَّ اِذْ لَمْ اَكُنْ مَّعَهُمْ شَهِیْدًا Open ayah 4:72 in the Quran reader

اور تم سے کوئی ایسا بھی کہ وہ جہاد کے لیے نکلنے میں ضرور دیر کر گا پھر اگر اتفاق سے تم پر کوئی مصیبت آن پڑے مثلا زخمی ہو یا مارے جاؤ یا شکست ہو تو کہے گا اللہ نے مجھ پر فضل کیا میں ان کے ساتھ موجود نہ تھا ورنہ میں بھی مارا جاتا یا زخمی ہوتا

وَ لَئِنْ اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَیَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْۢ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهٗ مَوَدَّةٌ یّٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ مَعَهُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 4:73 in the Quran reader

اگر اتم پر خدا کا فضل ہو فتح ہو لوٹ کا مال ملے تو اس طرح کہے گا جیسے تم میں اور اس میں کبھی کی دوستی نہ تھی کاش بھی ان کے ساتھ اور خوب فائدہ کہا کماتا1

ف 1 مراد منافقین ہیں اور ان کو ظاہری اختلاط اعتبار سے منکم کہہ دیا ہے مگر مفسرین کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ ان سے مراد ضعیف الا یمان ہیں پس منکم اپنے معنوں میں ہے۔ (رازی) یعنی ان کو تمہاری فتح کی خوشی ہے ارونہ تمہیں نقصان پہنچنے کا غم انہیں تو صرف مطلب سے مطلب ہے۔ فتح اوشکست دونوں حالتوں میں اس قسم کا وطیرہ اختیار کرتے ہیں کہ جیسے بالکل اجنبی ہوتے ہیں اور تمہارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے پر آیت کان لم تکن بینکم وبینہ مودۃ جملہ معترضہ ہے اور یا لیتنی الخ لیقولن کا مقولہ ہے (رازی ) اوپر کی آیتوں میں جہاد سے مبطین اور پیچھے رہنے والے اور دوسروں کو روکنے ولے) کی مذمت کے بعد اب مخلصین کو ترغیب دی جارہی ہے (رازی) شریٰ یشری کے معنی بیچنا اور خرید نا دونوں آتے ہیں یہاں ترجمہ بیچنا کا کیا گیا ہے اور اکثر مفسرین نے اسی کو ترجیح دی ہے لیکن اگر اسے خرید نے کے معنی میں لیا جائے تو ّآیت کا مطلب یہ ہوگا کہ جو منافق گھر میں بیٹھے رہنے کی وجہ سے آخرت کے بدلے دنیا خرید کر رہے ہیں ان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کو نکلیں۔ (فتح القدیر۔ ابن جریر) ف
Ayah 4:74

فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١ؕ وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:74 in the Quran reader

جو لوگ دنیا کی زندگی کو دے کر آخرت لیتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑنا چاہیے2 اور کوئی اللہ کی راہ میں اس کا بول بالا کرنے کے لیے لڑے نہ دنیا کے واسطے پھر وہ لڑائی ماراجائے یا دشمنوں پر غالب ہو یہ حال ہی اہم اس کو بڑا ثواب دیں گے3

3 یعنی مسلمانوں کو چاہیے کہ زندگی دنیا پر نظر نہ رکھیں آخرت چاہیں اور سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں ہر طرح نفع ہے (موضح) مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ کی راہ جنگ کے دو ہی نتیجے ہوسکتے ہیں یعنی شہادت یا فتحمندی اور دونوں مسلمان کے حق میں خوش کن ہیں کیونکہ دونوں ہی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر عظیم کا وعدہ ہے۔ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلص مجاہدین کے لیے دو چیزوں میں سے ایک کی ضمانت دی ہے اگر شہید ہوجائے تو سے جنت میں داخل کرے گا اور زندہ واپس آئے تو اجر و غنیمت کے ساتھ واپس آئے گا (قرطبی)
Ayah 4:75

وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا١ۚ وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا١ۙۚ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:75 in the Quran reader

اور مسلمانو تم کو کیا ہوگیا ہے تم اللہ کی راہ میں کافروں سے نہیں لڑتے اور بےبس مرد اور عورتوں اور بچوں کے چھڑانے کے لیے کافروں کی قید میں ہیں اور سختی اور تکلیف اٹھا رہے ہیں جو کہہ رہے ہیں تنگ آکر یہ دعا کر رہے ہیں مالک ہمارے ہم کو اس بستی سے نکال جہاں کے یہ لوگ ظالم ہیں یعنی کافر اور مشرک یا ہمارے اوپر ظلم کر ہے اور ہماری حمایت پر کسی کو اپنی طرف سے کھڑا کر اور ہماری مدد کے لیے کسی کو اپنی طرف سے مقرر کر

ف 4 اس کا تعلق بھی ترغیب جہاد سے ہے یعنی دو وجوہ کی بنا پر تمہیں کفار سے لڑنا ضروری ہے اول اعلائے کلمتہ اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے دوم ان مظلوم مسلمانوں کے نجات دلانے کے لیے جو کفار کے چنگل میں بےبس پڑئے ہیں (قرطبی) مکہ معظمہ میں بہت سے ایسے لوگ رہ گئے تھے جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہجرت نہ کرسکے تھے اور ان کے تعارب ان پر تشدد کرنے لگے تھے نانہ اسلام سے پھیر کر ان کو پھر سے کافر بنالیں پس القریتہ الظالم اھلھا سے مکہ مراد ہے۔ اور مشرک ہونے کی وجہ سے یا مظلوم مسلمانوں کی ستانے کی وجہ سے اس کے باشندوں کو ظالم فرمایا ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں اور میر والدہ بھی ان بےبس مسلما نوں شامل تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے معذور قرار دیا ہے (رازی۔ ابن کثیر) مدینہ میں آنحضرت ﷺ ان مستضعفین کے حق میں نام لے لیکر دعا فرمایا کرتے تھے اللھم انج الوالید بن الولید وسلم تہ بن ہشام و عیاش بن ابی ربعیہ والمستضعفین من المو منین۔ یا اللہ ولید بن ولید بن ہشام، عیاش، بن ابی ربیعہ اور مکہ میں گھرے ہوئے دوسرے بےبس مسلمانوں کو رہائی دلا (بخاری )
Ayah 4:76

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْۤا اَوْلِیَآءَ الشَّیْطٰنِ١ۚ اِنَّ كَیْدَ الشَّیْطٰنِ كَانَ ضَعِیْفًا۠ Open ayah 4:76 in the Quran reader

جو لوگ ایماندار ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ شیطان کی روہ میں لڑتے ہیں تو شیطان کے دوستوں سے لڑو بیشک شیطان کا مکر و فریب بودا ہے5

ف 5 جہاد کی فرضیت اور ترغیب کے بعد اس آیت میں بتایا کہ جہاد کی ظاہر صورت کا عتبار نہیں ہے بلکہ جہاد اپنے مقصد کے اعتبار سے جہاد ہے۔ مومن ہمیشہ اعلا کلمتہ اللہ کے لیے جہاد کرتا ہے اور کافر کسی طاغوتی طاقت کو بچانے یا مضبوط کرنے کے لیے لڑتے ہیں لہذاتم ان سے خوب لڑو شیطان خواہ اپنے دوستوں کے کتنے ہی مکر و فریب سمجھا دے مگر تمہارے خلاف و کامیابی نہیں ہوسکتی (رازی)
Ayah 4:77

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ قِیْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَیْدِیَكُمْ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْیَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَةً١ۚ وَ قَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ١ۚ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ؕ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ١ۚ وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى١۫ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:77 in the Quran reader

اے پیغمبر تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کے حکم ہوا اپنے ہاتھ رولے رہو یعنی لڑائی نہ کرو اور نماز ادا کرتے رہو اور زکوٰۃ دیتے رہو پھر جب ان پر جہاد فرض ہوا تو ایک فرقہ ان میں کا لوگوں سے ایسا ڈرنے لگا یعنی کافروں سے جیسے وہ خدا سے ڈرتا تھا یا اس سے بھی زیادہ ڈرنے لگا اور کہنے لگا پروردگار تو نے جہاد کیوں ہم پر فرض کیا ہم کو انپی موت سے مرنے دیا ہوتا جو نزدیک ہے2 اے پیمبر کہہ دے مزہ چند روزہ ہے ور پرہیز گار خدا ترس کے لیے آخرت بہتر ہے وہ کبھی فنا نہیں ہوتی اور کھجور کٹھلی تاگے برابر بھی تم پر ظلم نہ ہوگا3

ف 1 یعنی جب تک مسلمان مکہ میں تھے اور کافر ایذا دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو لڑنے سے روکے رکھا اور صبر کا حکم دیا فرمایا اب جو (مدینہ منورہ) میں لڑائی کا حکم آیا ہے تو ان کو سمجھنا چاہیے کہ ہماری مراد ملی لیکن کچے مسلمان کنارہ کرتے رہیں اور موت سے ڈرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے برابر آدمیوں سے خطرہ کرتے ہیں۔ (موضح) روایات میں ہے مسلمانوں نے مکی زندگی میں کئی دفعہ چاہا کہ ظالموں سے دو بدو نمٹیں مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو حکم ہوتا کہ ابھی نماز اور زکوٰۃ (نفاق مال) کا جو تم کو حکم ہوا ہے اس کی خوب عادت ڈالو تاکہ تمہاری تربیت ہوجائے۔ مدینہ منورہ میں بھی ہجرت کے ابتدائے برسوں میں مسلمانوں کی خواہش یہی تھی لیکن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے لڑائی کی اجازت آگئی تو اب بعض خام قسم کے مسلمان اس سے ہچکیمانے لگے اس پر یہ آیت نازل ہوئی (ابن کثیر۔ قرطبی)2 شاہ صاحب کر ترجمہ یہ ہے کہ کیوں نہ جینے دیا ہم کو تھوڑی سی عمر جواب آگے ہے۔3 دنیا کی بےثباتی کا ذکر کے کر جہاد کی ترغیب دی ہے۔ صحیح مسلم میں اور اس کی انگلی میں تھوڑی سی نمی رہ جائے ایسی ہی مثال دنیا ارآخرت کی ہے۔ نیز فرمایا کہ میری اور دنیا کی مثال ایک مسافر کی ہے جو ایک درخت کے نیچے دوپہر کو آرام کرتا ہے اور پھر ورانہ ہوجاتا ہے۔ (معالم، قرطبی)