4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 4:78

اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍ١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ١ؕ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ حَدِیْثًا Open ayah 4:78 in the Quran reader

تم جہاں رہو موت تم کو پکڑے گی یعنی موت کے بنجے میں ضرور گرفتار ہو گے گو کی سے ہی مضبوط قلوعوں میں رہو4 اور اے پیمبر اگر ان کو یعنی منافقوں اور یہود کو کوئی بھلائی ہوتی ہے تو کہتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے یہاں تک سچ کہتے ہیں اور کوئی برائی بلا آتی ہے مثلا قحط وگرانی مال یا جان کا نقصان تو کہنے لگتے ہیں یہ تیری وجہ سے ہے5 اے پیغمبر کہہ دے سب خدا کی طرف سے6 تو ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہو بات سمجھنے کے پاس نہیں پھٹتے قریب نہیں آتے7

ف 4 یعنی جب موت سے تمہیں کسی حال میں چھٹکا را نہیں تو پھر اللہ کی راہ میں جہاد سے کیوں ہچکچاتے ہو مقصد جہاد کی ترغیب ہے (کبیر)5 اوپر بیان فرمایا کہ منا فیقن جہاد سے جی چراتے ہیں اور موت سے ڈرتے ہیں۔ اب یہاں ان کی ایک دوسر مذموم خصلت کا ذکر فرمایا جو پہلی بھی بری ہے یعنی نحوست کہ آنحضرت ﷺ کی طرف نسبت کرتے ہیں۔ (کبیر) یہاں الحسنہ سے مرا اد نصرت غلبہ اور خو شحالی وغیرہ ہے اور اس کے مقابلے میں السئیہ سے مراد بلا مصیبت قتل وہزیمت وغیرہ ہے۔6 یہ ان کے کلام کا جواب ہے کہ برائی بھلائی دونوں اسی کی طرف سے اور اسی حکم سے ہیں۔ ہر چیز کا پیدا کرنے والا وہی ہے بلا اور مصیبت کو کسی کی نحوست قرار دینا قطعی غلط ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ منافیقن کا ذکر ہے کہ گر تدبیر جنگ درست آئی اور فتح اور غنیمت ملی تو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوئی یعنی اتفاقا بن گئی حضرت ﷺ کی تدبیر کے قائل نہ ہوتے تھے اور اگر بگڑگئی تو الزام رکھتے حضرت ﷺ کی تدبیر پر اللہ صاحب نے فرمایا کہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یعنی پیغمبر کی تد بیر اللہ کا الہام ہے غلط نہیں اور بگڑ ی کو بگڑا نہ بوجھو یہ اللہ تم کو سدھاتا ہے تمہاری تقصیر پر۔ اگلی آیت میں کھول کر بیان فرمادیا ہے (موضح)7 یعنی تعجب ہے کہ اتنی بدیہی حقیقت بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتی (رازی)
Ayah 4:79

مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ١٘ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ١ؕ وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا Open ayah 4:79 in the Quran reader

اے بندے تجھ کو کو پہچنے وہ تو اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی تجھ کو پہچنے وہ بھی اللہ کی طرف سے لیکن تیرے گناہوں کی شامت سے8 اور اسے پیغمبر ہم نے تجھ کو اللہ کا پیغام لوگوں کو پہنچانے والا بناکر بھیجا اور اللہ کی گواہی تیری پیغمبری پر بس کرتی ہے

ف 8 اس میں برائی اور بھلائی کا ایک قانون بیان فرمادیا ہے کہ بھلائی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور جو برائی پہنچتی ہے اس کا بھیجنے والا بھی گو اللہ تعالیٰ ہی ہوتا ہے مگر اس کا سبب تمہارے اپنے گناہ ہوتے ہیں۔ (دیکھئے سورت شوریٰ آیت 3) اس لیے سلف صالحین کا خام قاعدہ تھا کہ جن کوئی اجتہادی رائے ئ پیش کرتے تو کہتے کہ اگر یہ صحیح ہے تو اللہ تعالیٰ کے طرف سے اور اسی کی توفیق سے اور اگر غلط ہے تو ہماری طرف سے اور شیطان کی طرف سے (ابن کثیر) اوپر کی آیت میں خلق وایجاد کے اعتبار سے حسنتہ اور سیئہ دونوں کو من عند اللہ قرار دیا ہے اور اس آیت میں باعتبار کسب وسبب کے سیئہ کو انسان کی طرف منسوب کردیا ہے لہذا تعارض نہیں ہے۔ کذافی الکبیر) موضح میں ہے بندہ کو چاہیے نیکی اللہ کا فضل سمجھے اور تکلیف اپنی تصصیر سے۔ تصصیروں سے اللہ تعالیٰ واقف ہے اور وہی خبر دیتا ہے۔9 یعنی آپ کا اصل منصب رسالت اور تبلیغ ہے اور اللہ گواہ ہے کہ آپ ﷺ نے اس امانت کے ادا کرنے میں کسی قسم کی تقصیر نہیں کی پھر اس کے بعد بھی اگر کسی کو ہدایت نہیں ہوتی تو آپ ﷺ کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے۔ (کبیر) نیز آنحضرت ﷺ کی عمومی رسالت کا بیان ہے (دیکھیے اعراف 58 اسبا 128)
Ayah 4:80

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ١ۚ وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ Open ayah 4:80 in the Quran reader

جو رسول کا کہا مانے اس نے اللہ کا کہا مانا اور جو کوئی نہ مانے تو ہم نے تجھ کو ان پر سزادل نہیں کیا1

ف 10 یعنی آنحضرت ﷺ چونکہ اللہ کے رسول اور مبلغ ہیں اس لیے ان کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور دیگر احکام شریعت ایسے ہیں جن کو آنحضرت ﷺ کی توضیح کے بغیر سمجھنا ممکن نہیں ہے لہذا قرآن کے لیے کوئی شخص سنت سے بےنیاز نہیں ہوسکتا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی طاعت عین طاعت الہیٰ ہے۔ (تفصیل کے لیے ملا حظہ ہو الرسالتہ للشافع رقم 57 ۔ 85 (الربع)11 یعنی اس کے بعد بھی اگر لوگ گمراہ ہوتے ہیں تو اس کی ذمہ داری آپ ﷺ پر نہیں ہے اس میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی ہے۔ (کبیر )
Ayah 4:81

وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ١٘ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَیَّتَ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَكْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ١ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 4:81 in the Quran reader

اور منافق کہتے ہیں جب تو کوئی حکم دیتا ہے ہمارا کام ماننا ہے مان لیا جب تیرے پس سے اٹھ کر باہر جاتے ہیں تو ان کا ایک گروہ جو تو نے یا انہوں کہا تھا راتوں کو بیٹھ کر اس کے خلاف تجویز کرتا ہے اور وہ جو راتوں کو صلاحیں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ سب لکھتا جاتا ہے1 2 تو ان سے درگرز کر اور پر بھوساکر اور اللہ بس ہے کام بنانے والاف 1

ف 12 یہاں منافقین کی ایک اور مذموم خصلت بیان فرمائی ہے اور ان کو سرزنش کی ہے اور آنحضرت ﷺ کو ان کی حرکات شبیعہ سے چشم پوشی اور اللہ تعالیٰ پر توکل کا حکم فرمایا ہے بیتت کا لفظ اصل میں بیت (گھر) سے ہے اور انسان چونکہ عمو مارات کو اپنے گھر میں رہتا ہے اس لیے بات کے معنی ثب باشی کے ہیں پھر چونکہ رات کے فارغ اوقات میں آدمی اپنے معالات پر غور و فکر کرتا ہے اس لیے بتیت کا لفث کسی معاملہ میں نہایت غور وفکر کرنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ( رازی)
Ayah 4:82

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ؕ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا Open ayah 4:82 in the Quran reader

کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے اور اگر وہ خدا کے سوا اور کہیں سے آیا ہوتا جیسے کافر اور منافق سمجھتے تھے تو اس میں بہت سا اختلاف پاتے2

ف 1 ابتدائے ہجرت میں منافقین کی حرکتوں سے چشم پوشی کا حکم تھا اس کے بعد آیت جاھد الکفار والمنا فقین ( کہ کفار اور منافقین سے جہاد کرو) سے یہ حکم منسوخ ہوگیا ہے منافقین سے جہاد کے یہی معنی ہیں کہ ان کو زجرو و ملامت کی جائے اور ان کی حرکتوں چشم پوشی نہ کی جائے تفصیل کے لیے دیکھئے التوبہ آیت 3) مگر امام رازی اس نسخ پر راضی نہیں ہیں (کبیر) 2 منافقین کے مکر و فریب اور مذموم خصائل کے ضمن میں قرآن کی حقانیت کے اثبات کی ضرورت ہے اس لیے پیش آئی کہ منافقین یہ سب مکرو فریب اور سازشیں اس بنا پر کررہے تھے کہ وہ آپ ﷺ کو سچا نبی نہیں سمجھتے تھے۔ لہذا یہاں آنحضرت ﷺ صدق نبوت پر بطور دلیل کے قرآن کو پیش کیا اور قرآن حکیم آنحضرت کے صدق نبوت کے تین وجوہ سے دلیل بنتا ہے اول اپنی فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے۔ (دیکھئے سورت بقرہ آیت 23) دوم امور غیب کی خبروں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے سوم اختلاف وتناقض سے پاک اور مبرا ہونے کی بنا پر یہاں اسی تیسری چیز کو بیان فرمایا ہے (رازی) مطلب یہ ہے کہ ایسا ممکن نہیں کہ ایک انسان برس ہابرس تک مختلف حالتوں میں مختلف موضوعوں پر خصاصا امور غیب سے متعلق۔ اس قدر تفصیل سے گفتگوکر تا رہے مگر اس کی ایک بات بھی دوسری سے متصادم نہ وہ یہ خصوصیت صرف قرآن میں پائی جاتی ہے جو غور و فکر کرنے والے کے لیے اس کے کلام الہی ہونے کی دلیل ہے۔ (شوکانی) اختلاف سے پاک ہونا درجہ فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے بھی ہوسکتا ہے کیونکہ کوئی انسان خواہ کتنا ہی فصیح وبلیغ کیوں نہ ہو جب اتنی بڑی کتاب لکھے گا تو اس کے کلام میں قدرے تفاوت ضررور ہوگا اور ساری کتاب بلاغت میں یکساں مرتبہ کی نہیں ہوگی اور پھر یہ منافقین خفیہ طور پر در نہیں کرتے۔ ہیں اور وحی کے ذریعہ آنحضرت ﷺ کی ان کے بھید من وعن بتادیئے جاتے ہیں اور کبھی یہ نہیں ہوا کہ کسی راز کے افشار میں قرآن نے تھوڑی بہت بھی غلطی یو ہو۔ یہی اس کے کلام الہی ہونے کی دیلیل ہے۔ ( کبیر) فائدہ معلوم ہوا کہ قرآن پاک میں تدبر کے بغیر انسان کے شکوک و شبہات دور نہیں ہوسکتے اور نہ قرآن صحیح طور پر سمجھ میں آسکتا ہے (م۔ ع )
Ayah 4:83

وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ١ؕ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:83 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس کائی امن یا ڈر کی خبر آتی اس کو اڑادیتے ہیں3 اور اگر لاڑانے سے پہلے اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس لے تھے ان سے اس خبر کی تحقیق کرتے تو جن لوگوں کو خبر کو تلاش رہتی ہے ان کو اڑانے والوں میں سے4 وہ خود ان سے یعنی پیغمبر سے اور سرداروں سے اس خبر کو اچھی گر معلوم کرلیتے اور اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم نہ ہوتا یہ کہ اس نے پیغمبر بھیجے اور کتابیں اتاریں تو تم شیطان کے تابع ہوجاتے مگر تھو ڑے5

ف 3 امن کی خبر یہ کہ مسلمانوں کی فتح ہوئی ارخوف کی خوف کی خبر یہ کہ فلاں مقام پر مسلمانوں کو شکست ہوگئی آنحضرت ﷺ مسلمانوں کے مختلف سراپا تھے۔ لڑائی کے لیے بھیجتے رہتے تھے، اس لیے اس قسم کی افواہیں مدینہ میں اکثر پہنچتی رہتی تھیں لیکن منافقین اور بےاحتیاط قسم کو مسلمان بجائے اسکے کہ انہیں سب سے پہلے آنحضرت ﷺ یا آپ ﷺ کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں از خودان افواہوں کی تشہیر شروع کردیتے۔ ان کے اسی شرط حمل کی یہاں مذمت کی جار ہی ہے۔ (شوکانی۔ قرطبی)4 تعلمہ الذینیستنبطو نہ منھم کا دوسر اترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے تو اسے وہ لوگ جان لیتے جو ان میں سے یعنی مسلمانوں سے) تحقیق کی صلا حیت رکھتے ہیں حافظ ابن کثیر شوکانی اور دسرے اکثر مفسرین نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ خبر سن کر از خود اس کی تشیہر کرنے کی بجائے اسے آنحضرت اور آپ ﷺ کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچادیتے تو وہ اس پر غور وخوض کرکے پہلے یہ فیصلہ کرتے کہ آیا یہ صحیح ہے یا غلط اور آیا اس کی اشاعت کرنی چاہیے یا نہیں ؟ اس کے بعد اگر وہ قابل اشاعت ہوتی تو اسے نشر کرتے ورنہ روک دیتے۔ اجتماعی زندگی میں اس ہدایت پر عمل نہا یت ضروری ہے ورنہ جماعتی زندگی بےحد نقصانات پہنچ سکتے ہیں۔5 شاہ صاحب لکھتے ہیں یہ جو فرمایا اگر اللہ کا فضل تم پر نہ ہوتا تو شیطان کے پیچھے چلتے مگر تھوڑے یعنی ہر وقت احکام تربیت کے نہ پہنچتے ہیں تو کم لوگ ہدایت پر قائم رہیں ، ( موضح)
Ayah 4:84

فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِیْلًا Open ayah 4:84 in the Quran reader

تو اے پیغمبر اللہ کی راہ میں کافروں سے لڑو تو اکیلا رہ جائے تو ذمہ دار نہیں مگر اپنا اور مسلمانوں کو بھی لڑنے کے لیے ابھار قریب6 ہے کہ اللہ کافر کے جنگ ہی کو روک دے اور اللہ زور بہت زیادہ ہے قر یش کے غرور کی میں سے

ف 6 اوپر کی آیات میں جہاد کی ترغیب دی اور اس کے بع منافقین کی سرگرمیوں کا ذکر کیا۔ ، اب اس آیت میں فرمایا کہ آپ ﷺ ان منافقین ساتھ ہونے یا نہ ہونے کی پرواہ نہ کریں آپ ﷺ کی ذمہ داری یہ ہے کہ آپ ﷺ خو دبھی جہاد کے لیے نکلیں اور دوسرے مومنوں کو بھی ترغیب دیں۔
Ayah 4:85

مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا Open ayah 4:85 in the Quran reader

قیامت کے دن جو شخص بری بات کی سفارش کرے اس کو ایک حصہ اس سے ملے گا یعنی اس کے وبال میں وہ بھی شریک ہوگا اور اللہ ہر چیز کا نگہبان ہے8

ف 7 اللہ تعالیٰ کی طرف سے عسیٰ کا لفظ یقین کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ پس آیت میں وعدہ کیا جارہا ہے کہ عنقریب کفا رکا زور ٹوٹ جائے گا اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب ہوگا۔۔8 اوپر کی آیت میں آنحضرت کو حکم دی کہ مومنوں کو جہاد کی ترغیب دیں جو اعمال حسنہ میں میں سے یہاں تبایا کہ آپ ﷺ کو اس پر اجر عظیم ملے گا پس یہاں سفاعت حسنہ سے ترغیب جہاد مراد ہے اور شفاعت سیئہ سے اس کا کار خیر سے رکنا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے اشفعر اتوجروا کہ نیک سفارش کرواجر پاو گے۔ (رازی۔ ابن کثیر )
Ayah 4:86

وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا Open ayah 4:86 in the Quran reader

اور جب تم کو کوئی سلام کرے9 تو تم اس کے جواب میں اس سے اچھا سلام کرو یا اتناہی کرو10 بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے

ف 9 جہاد کا حکم دینے کے بعد فرمایا اگر کفار صلح پر راضی ہوجائیں تو تم راضی ہوجا و یا یہ جنگ میں اگر کوئی شخص سلام کہ دے تو اسے قتل نہ کرو (رازی) تحیہ کے معنی درازئی عمر کی دعا کے ہیں اور یہاں مراد سلام ہے (معالم)10 گو یا تناہی جواب دینا فرض اور اس سے بہتر جواب دینا مستحب ہے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تحیہ کے ہر جملہ پر دس نیکیاں ملتی ہیں۔ پس اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبراکا تہ پر (آنحضرت ﷺ نے فرمایا) تیس نیکیاں ملیں گی (ابن کثیر )
Ayahs 4:87–88

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:87 in the Quran reader

اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں وہ تم کو ضرور قیامت کے دن اکٹھا کرے گا اس میں کچھ شک نہیں اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی ہوسکتی ہے

فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوْا١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:88 in the Quran reader

مسلمانوں تم کو کیا ہوگیا ہے تم منافقوں کے باب میں دو گروہ ہوگئے ہو اور ناحق آپس میں جھگڑتے ہو اور اللہ نے تو ان کو موں کو سزا میں الت دیا پھر ان کو کافر بنادیا یا ان کو تباہ کردیا کیا تم یہ چاہتے ہو کہ جس کو خدا نے گمراہ کیا اور کو راہ پر لاؤ اور جس کو اللہ گمراہ کرے اس کے لیے تو ہرگز رہ نہیں نکال سکتاہ

ف 1 یہ آیات کب اتریں اور ان میں منافقین سے مراد کون لوگ ہیں اس بارے میں صحابہ ؓ کرام سے مختلف روایات ہیں حضرت زید ؓ بن ثابت سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ غزوہ احد کے لیے نکلے تو کچھ لوگ آپ ﷺ کا ساتھ چھوڑ کر راستہ ہی سے واپس ہوگئے (ابن ابی اور ان کے ساتھی) اس کے بارے میں میں مسلمانوں کے دو گروہ ہوگئے ایک گروہ کہنے لگا کہ ہم انہیں قتل کریں اور دسرا گروہ اس کے خلاف تھا۔ اس پر یہ آیت نازل ہو (بخاری ومسلم) امام شوکانی فرماتے ہیں ؛ نزول کے اسباب میں یہ روایت سب سے اصح ہے۔ دوسری روایت حضرت عبدالرحمن ؓ بن عوف سے ہے کہ عرب کے کچھ لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مسلمان ہوگئے پھر وہ بیمار ہو کر واپس چلے گئے۔ ان کے بارے میں مسلمانوں کے دو گروہ ہوگئے ایک گروہ انہیں منافق قرار دیتا تھا اور دوسرا مسلمان سمجھتا تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی (مسند احمد) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مکہ میں کچھ لوگ اسلام کا کلمہ پڑھتے تھے لیکن مسلمانوں کے خلاف مشرکوں کی مدد کیا کرتے تھے۔ ان کے بارے میں مسلمانوں کی دو رائیں ہوگئی تھیں لہذا اس آیت میں ان منافقین کے مسلمان قرار پانے کے لیے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا بطور شرط ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے ابن جریر اور بعض دوسرے مفسرین نے حضرت ابن عباس ؓ کی تفسیر کی بقہ تمام تفا سیر پر تر جیح دی ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ اہل افک کے بارے میں نازل ہوتی ہے (ابن کثیر، کبیر) آیت میں فئنین منصوب علی الحال ہے اور استفہام انکاری ہے۔ ( شوکانی )
Ayahs 4:89–90

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ١۪ وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:89 in the Quran reader

یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی کافر ہوجا أ جیسے وہ کافر ہوگئے اور سب برابر جاؤ گمراہی اور کفر میں تو جب تک یہ لوگ اللہ کی راہ میں اپنا وطن نہ چھوڑیں اور مسلمانوں کے ساتھ مدینہ میں آن کر نہ رہیں ان میں سے کسی کو دوست مت بناؤ اور اگر یہ لوگ نہ مانیں ہجرت نہ کریں اور کافروں کے شریک رہیں تو ان کو پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کرو اور ان میں سے کسکو کو اپنادوست اور مددگار نہ بناؤ

اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ١ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا Open ayah 4:90 in the Quran reader

مگر جو لوگ ایسی قوم سے مل گئے ہیں جن میں اور تم عہد ہو2 یا وہ لوگ تمہارے پاس آگئے جن کے دل اپنی قوم کے ساتھ ہو کر تم سے لڑنے میں یا تمہارے ساتھ ہو کر اپنی قوم سے لڑنے میں ہچکچا تے ہیں3 تنگ ہوتے ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو ان کو بھی تم پر چڑھا دیتا وہ تم سے ضرور لڑتے4 پھر اگر ایسے لوگ تم سے الگ رہیں اور لڑیں نہیں اور تمہاری اطاعت کریں تو اللہ نے تم کو ستانے کی کوئی راہ نہیں رکھی5

ف 2 یعنی اگر یہ منافقین کیس ایسے قبیلے سے اتصال رکھتے ہوں جس کا تم سے معاہد ہوچکا ہے تو تم انہیں قتل نہ کرو کیونکہ معاہدہ کا احترام اور اس کی پابندی لازم ہے آیت کا یہ مفہوم صحیح ہے بعض نے یصلون سے اتصال مراد لیا ہے مگر صحیح نہیں ہے کیونکہ اتصال نسبی قتال کے مانع نہیں ہوتا بلکہ اس آیت میں ان لوگوں کا استثنا ہے جو کسی معاہد قبیلہ کے جوار میں رہتے یا ان کے حلیف ہوتے، کیونکہ س وقت قبائل عرت دو حصوں میں تقسیم بعض کا معاہدہ مسلمانوں سے تھا اور بعض مشرکین مکہ کے حلیف یا ان کے جوار میں رہتے تھے چناچہ صلح حدیبہ میں بی یہ شق موجود ہے یہاں ان سے مراد بنو بکر۔ بنو اور خزاعتہ وغیر ہم کے قبائل جو اس وقت قریش کے حلیف تھے۔ 3 یہ بھی استثنا کے تحت ہے اور اوجاکم کا عطف یصلون پر ہے ای الا الذین جا و کم اور حصرت صدورھم جا و کی ضمیر سے جملہ حالیہ ہے ای وفد حصرت حمد ورھم حاصل یہ کہ ان لوگوں سے لڑ نا اور ان کو قتل کرنا ک بھی تمہارے لیے جائز نہیں ہے۔ شوکانی)4 یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا تم پر فضل و کرم ہے یہ لوگ اگر تمہارے ساتھ مل کر اپنی قوم (قبیلے) سے۔ لڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو اس کے ساتھ مل کر تم سے لڑ نے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں ورنہ یہ بھی ممکن تھا کہ وہ غیر جانبدار نہ رہتے اور اپنی قوم کے ساتھ مل کر تمہارے خلاف جنگ کرتے (کبیر) ای لو شا اللہ لسلطھم علیکم ولو شا اللہ لقاتلو کم (الکشاف)5 یعنی جب تک وہ غیر جانبدار نہ پالیسی پر کار بند رہیں اور تم سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کریں ان کو کسی طرح تکلیف پہنچانا صحیح نہیں ہے (ابن کثیر )
Ayah 4:91

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَا١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:91 in the Quran reader

اب تم کچھ ایسے لوگ پاؤ گے جو تم سے بھی امن میں رہنا چاہتے ہیں اور اپنی قوم سے بھی جب ان کو کبھی فساد یعنی شرک یا مسلمانوں سے لڑنے کی طرف بلادیں تو اسی وقت پلٹ جائیں6 ایسے لوگ اگر لڑائی سے الگ نہ رہیں اور تمہاری اطاعت نہ کریں اور اپنے ہاتھ جنگ سے روک نہ رکھیں تو ان کو پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کر اور ان لوگوں پر تو ہم نے تم کو کھلی دلیل دی ہے

ف 6 یعنی ایسے منافقین جو دل سے مشرکوں کے ساتھ ہیں لیکن محض مطلب براری ارموقع شناسی خاطر تمہیں اپنے مسلمان ہونے یا غیر جانبدار رہنے کا یقین دلاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ تمہارے خلاف سازش کرتے اور تمہیں مصیبت میں مبتلا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جا نے دیتے اس سے اسد وغطفان بعض قبائل مراد ہیں جو آنحضرت ﷺ کے پاس مدینہ آتے اور ریاکاری سے مسلمان ہوجاتے پھر مکہ واپس جاتے تو بت پرستی شروع کردیتے تو فرمایا کہ ایسے لوگ اگر کنارہ کش نہ رہیں تو ان سے لڑو۔ ( شوکانی۔ کبیر ) یہاں سلط نا مبینا سے یا تو مراد یہ ہے کہ ان سے لڑنے اور ان کو قتل کرنے کے تمہارے پاس دلیل موجود ہے وہ یہ کہ بد عہد ہیں کھلے دشمن ملے تو مسلمانوں کو نقصان پہنچانے سے دریغ نہیں کرتے یا یہ کہ ایسے لوگوں سے لڑنے کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں کھلے اجازت ہے (کبیر )
Ayah 4:92

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَئًا١ۚ وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّ دِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا١ؕ فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ١٘ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:92 in the Quran reader

ف 11 اور مسلمانوں درست نہیں مسلمان کا مار ڈالنا مگر چوک اور بات ہے2 ارجو مسلمان کو چوک سے ماڑدالے تو ایک مسلمان بر وہ مرد ہو یا عورت آزاد کرے اور جس کو مارا اس کے وارثوں کی دیت دیوے خونہا دیوے خو نہامگرجب وہ معاف کردیں3 اگر جس کو مارا وہ دشمن لوگوں میں کا ہو یعنی کافروں کے ملک میں رہتا ہو اور وہ خود مسلمان ہو اس کافر سمجھ کر کسی مسلمان نے مارڈلا تو ایک مسلمان بروہ آزاد کرے4 اور اگر جس کو مارا وہ ایسے لوگوں میں کا ہو جن سے تم نے عہد کیا ہے مثلا ذمی کافر ہو تو جس کو مارا اس کے وارثو کو دیت پہنچا دے اور ایک مسلمان بردہ آزاد کرے5 پھر جس کو مقدور نہ ہو بردہ آزاد کرنے کا وہ لگا تار دو مہینے کے روزے رکھے6 اپنا قصور بخشوانے کو اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے چوک سے مارنے والے کو حکمت وال ہے

ف 2 کفار کے ساتھ جنگ کی اجازت نازل ہوئی تو یہ عین ممکن تھا کہ کسی شخص کو کافر حربی سمجھ کر مسلمان قتل کردیں اور بعد میں معلوم ہو کہ وہ مسلمان تھا۔ اس لیے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان کو قتل خطا کے احکام بیان فرمادیئے (کبیر) ّآیت میں الا بمعنی لکن ہے اور مستثنی منقطع ہے یعنی کسی حال میں مسلمان کو قتل کرنا جائز نہیں ہے لیکن اگر غلطی سے مارا جائے تو اس پر کفارہ ہے جس کا بعد میں مذکور ہے آیت کے سبب نزول میں مختلف روایات مذکور ہیں مروی ہے کہ عیاش بن ابی ربعیہ مسلمان ہونے کے بعد ہجرت کر مدینہ چلا آیا اور یہ آنحضرت ﷺ کی ہجرت سے پہل کا واقعہ ہے چناچہ ابو جہل اور حارث بن زید بن ابی اینسہ مدینہ آکر اسے واپس لے گئے اور مکہ پہنچ کر اسے کوڑوں س پیٹا اور اس کی مشکیں کس دیں۔۔ عیاش نے حارث سے کہا کہ ابو جہل تو ماں کی طرف سے میرا بھائی ہے تم کون مارنے والے ہو اور قسم کھائی کہ اگر مجھے تنہا مل گیا تو تجھے قتل کرڈالوں۔ بعد میں حارث بھی مسلمان ہوگیا عیاش نے اسے قتل کر ڈالا اور پھر جب معلوم ہوا کہ وہ مسلمان ہوچکا تھا تو اس پر پشیمان ہوا اور آیت نازل ہوئی۔ (کبیر۔ شوکانی)3 یعن جب اس طرح کوئی مسلمان غلطی سے مارا جائے تو اس کے دو حکم ہیں ایک کفاہ اور دوسرے دیت (خون بہا) کفارہ تو یہ ہے کہ مسلمان غلام کو آزاد کرے اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے اور اس کے وارثوں کی دیت ادا کرے کفارہ تو کسی حال میں ساقط نہیں ہوتا۔ ہاں دیت اگر وارث معاف کردیں تو ساقط ہوسکتی ہے مگر یہ اس وقت ہے جب مقتول کے وارث بھی مسلمان ہوں یا کافر ہوں لیکن ان سے معاہدہ ہو یا ذمی ہوں جیسا کہ آگے آرہا ہے۔4 لیکن اگر اس کے وارث حربی کافر ہوں تو پھر قاتل کے ذمہ صرف کفارہ ہے یعنی ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا یا دو ماہ مسلسل روزے رکھنا مقتول کے وارثوں کو خون بہا ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ دشمن ہیں (قرطبی)5 اس جملہ کا بظاہر تو مطلب یہ ہے کہ اگر وہ مقتول مسلمان ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہو جن سے تمہارا معاہدہ ہے یا ذمی ہیں تو اس صورت میں بھی دو چیزیں واجب ہوں گی کفارہ اور دیت (خون بہا) جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے مگر بعض نے لکھا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ مقتول معاہد یا ذمی ہو (مسلمان نہ ہو) تو اس صورت میں بھی کفارہ اور وارثوں کو خون بہا ادا کرنا پڑے گا حنفی مذہب میں تو پوری یدت ادا کرنی پڑے گی مگر دوسرے فقہا کے نزدیک نصف دیت ہوگی۔ ایک حدیث میں ہے کہ یافر کا خون بہا مسلمان سے نصف ہوگا۔ (نسائی۔ ابن ماجہ) ایک دوسری روایت میں ہے کہ نبی ﷺ کے زما نہ میں خون بہا کی نقد قیمت آٹھ سو دینار یا آٹھ ہزار درہم تھی اور اہل کتاب کا خون بہا مسلمان سے نصف ہے ( ابوداود)6 اگر کسی شرعی عذر۔ مرض حیض یا نفاس۔ کے بغیر ایک بھی روزہ نئے سرے سے دومہینے کے روزے رکھنے پڑینگے۔ ّقرطبی)
Ayah 4:93

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا Open ayah 4:93 in the Quran reader

اور جو کوئی مسلمان کو جان کر قصد کر کے مار ڈالے تو اس کا بدلہ جہنم ہے وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اور اللہ تعالیٰ غضب اس پر اترے گا اور اللہ تعالیٰ کی پھٹکار اس پر پڑے گی اور اللہ تعالیے نے ان اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے

ف 7 قتل خطا کا حکم بیان کرنے کے بعد اب اس آیت میں قتل عمہد قصد قتل کرنے کا حکم بیان کیا ہے اس کا ایک حکم تو بیانب ہوچکا ہے یعنی اس صورت میں قصاص یا دیت واجب ہے۔ (یکھئے سورت بقرہ آت 17) یہاں صرف اس کے گناہ ارر وعید کا ذکر ہے متعدد آیات میں قرآن نے اس جرم کو شرباللہ کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ یہاں فرمایا کہ ایسے شخص اللہ تعالیٰ کا غضب اور لعنت ہے اور آخرت میں بڑا عذاب ہے جس میں سہ ہمیشہ رہے گا۔ اس بنا پر بعض علما نے سلف سے منقول ہے کہ اس کی توبہ قبول نہیں ہوتی مگر اکثر علمائے سلف کے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ توبہ تو مشرک کی بھی قبول ہوجاتی ہے لیکن یہ توبہ اس وقت ہے جب اپنے آپ کو قصاص کے لیے پیش کردے۔ (شوکانی) حدیث میں ہے کسی مسلمان کا خون صرف تین صورتوں میں سے ایک حلال ہے اس نے کسی کو قتل کردیا ہو اس کے بدلہ میں قتل کیا جائے یا شادی شدہ ہونے کے بعد جرم زنا کا ارتکاب کرے یا وہ اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہوجائے (بخاری) مزید دیکھئے سورت الفرقان آیت 68)
Ayah 4:94

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا١ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِیْرَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَتَبَیَّنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:94 in the Quran reader

مسلمانوں جب تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد میں سفر کرو تو تحقیق کیا کرو اور جو شخص تم سے سلام علیک کرے یا تمہاری اطاعت قبول کرے یا کلمہ پڑھے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ صلعم) اس کو یہ نہ کہو کہ مسلمان نہیں ہے1 تم دنیا کا سازو سمان چاہتے ہو کہ اس کو مار کر اس کا مال لے لیں گے تو اللہ تعالیٰ کے پاس بہت سے غنیمتیں ہیں پہلے تم خود بھی ایسے ہی تھے2 پھر اللہ تعالیٰ نے تم احسان کیا اسلام کو عزت دی یا تم کو اسلام کی توفیق دی تو تحقیق کرلیا کرو بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے کامو سے خبر دار ہے

ف 1 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص بکریاں چرارہا تھا کہ مسلمانوں کا ایک سریہ (دستہ) اس کے پاس سے گزرا۔ اس نے اسلام علیکم کہ الیکن مسلمانوں نے اسے قتل کر ڈالا اور اور اس کا مال لے لیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری وغٖیرہ) چناچہ آنحضرت ﷺ نے مقتول کے وارثو کے پاس اس کی دیت بھیج دی اور اس کی بکریاں بھی واپس کردیں۔ (بخاری وغیرہ) اس قاتل اور مقتول کے بارے میں اختلاف ہے یا حافظ ابن عبدالبر (رح) نے الا ستصاب میں نقل کیا ہے کہ قاتل محلم بن جثامہ اور مقتول عامر بن اضبط ہے۔ آنحضرت نے محلم کے حق میں بد دعا کی اور وہ اضبط ہے۔ آنحضرت ﷺ نے محلم کے حق میں بد دعا کی اور وہ ساتویں دن مرگیا اسے تین مرتبہ دفن کیا گیا جب بھی دفن کرتے زمین اس کی لاش باہر پھینک دیتی۔ آخر کار اسے کسی گھاٹی میں ڈال دیا گیا اور بعض روایات میں ہے کہ اس سریہ میں مقداد ؓ بن اسود تھے انہوں نے اس کو قتل کیا اس پر آپ ﷺ نے مقداد ؓ کو مخاطب کر کے فرمایا تم نے کیسے مسلمان کو قتل کر ڈالا نے الا الہ الا اللہ کا اقرار کیا کل اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کا کیا جواب دو گے محض کچھ مال غنیمت کے لالچ میں تم نے یہ اقدام کیا۔ (فتح القدیر) علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ عین ممکن ہے کہ یہ مختلف واقعات یکے بعد دیگرے پیش آئے ہوں اور سب کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ہو (قرطبی، شوکانی) یہاں تبین یعنی تحقق کرلینے کا حکم سفر کے ساتھ خاص ذکر کیا ہے مگر یہاں سفر کی قید بیان کے لیے ہے یعنی یہ حادثہ جس کے متعلق آیت نازل ہوئی ہے سفر میں پیش آیا تھا ورنہ تحقیق کا حکم جس طرح سفر میں ہے اسی طرح حضر میں بھی ضروری ہے (قرطبی)2 یعنی یہی حالت پہلے تمہاری تھی۔ تم کافروں کے شہر میں رہتے تھے اور اپنے ایمان کو چھپاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے دین کا غالب کر کے تم پر احسام کیا ( قرطبی)
Ayah 4:95

لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةً١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:95 in the Quran reader

جو لوگ معذور ہیں یعنی بیمار یا لولے لنگڑے اندھے نہیں ہیں اور جہاد سے بیٹھے رہیں ان لوگو کے برابر نہیں ہوسکتے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جو اپنے مال اور جان سے جہاد کرتے ہیں بیٹھنے والوں پر جو معذور نہ ہوں ایک درجہ کی فضیلت دی ہے اور سب سے اللہ نے اچھا وعدہ کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں سے زیادہ ایک بڑا ثواب دیا ہے3

ف 3 جہاد کے فرض عین ہونے کی صورت میں تو کسی شخص کو باعذر گھر میں بیٹے رہنے کی اجازت نہیں ہوسکتی اور ایسی صورت میں جہاد میں شامل نہ ہونا صریح نفاق ہے مگر جب نفیر عام نہ ہو اور امام کی طرف سے یہ اعلان کیا جائے کہ جو شخص جہاد کے لیے نکل سکتا ہو نکلے اور جو اپنے کام کی وجہ سے نہیں نکل سکتا اسے اپنے گھر میں بیٹھے رہنے کی اجازت ہے آیت میں اسی صورحال کے پیش نظر فضیلت کا ذکر ہے کہ امام کی اجازت کے باوجود جو لوگ گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں اور جو اپنی خوشی سے جہاد میں شریک ہوتے ہیں یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے زید ؓ بن ثابت سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے مجھے بلایا۔ میں کتابت کے لیے حاٖضر ہوا تو عبد اللہ ابن ام مکتوم جو نابینا تھے آگئے اور کہنے لگے اے اللہ کے رسول ﷺ اگر میں جہاد کرسکتا تو ضرور جہاد کرتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ پر وحی نازل فرمائی اور غیر اولی الضر کا کلمہ نازل ہوا اور آنحضرت ﷺ نے مجھے لکھو ادیا (بخا ری مسلم) معلوم ہوا کہ جس شخص کی نیت جہاد کی ہو مگر کسی عذر کی بنا پر جہاد میں شریک نہ ہو سکے اس کو مجاہدین کے برابر ثواب ملتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے کسی غزوہ سے واپس ہوتے ہوئے فرمایا مدینہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم نے کوئی وادی طے نہیں کی مگر وہ اجر وثواب میں تمہارے شریک ہیں ان کو صرف عذار نے تمہارے ساتھ آنے سے روک دیا ہے۔ بعض دوسری روایات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے ایک حدیث میں ہے کہ جب کوئی شخص بیمار پڑجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کی حکم دیتے میرے بندے کے لیے اس عمل کا ثواب لکھ دو جو حالت صحت میں کیا کرتا تھا جب تک کہ یہ تندرست نہ ہوجائے یا میں اس کی روح قبض نہ کرلوں (قرطبی )
Ayahs 4:96–97

دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:96 in the Quran reader

وہ کیا ہے کئی درجے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور بخشش ہے اور مہربانی ور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہر بان ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْ١ؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا١ؕ فَاُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ Open ayah 4:97 in the Quran reader

جن لو گو کی فرشتے جان نکاتلے ہیں اور وہ گنہگار ہیں4 تو فرشتے ان سے کہتے ہیں تم پڑے پڑے کیا کرتے رہے5 وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم اس ملک میں بےبس تھے اس لیے مکہ سے مدینہ جاسکے فرشتے کہتے ہیں کیا للہ تعالیٰ کی زمین کشادہ نہ تھی یعنی تنگ تھوڑی تھی تم کو اگر مدینہ کو نہیں جاسکتے تھے اور کہیں اس میں نکل جانا تھا تو ان لوگوں کا ٹھکا نا جہنم ہے اور وہ بری جگہ ہے

ف 4 ان لوگوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو مکہ معظمہ اور دوسرے مقامات پر اسلام لا چکے تھے لیکن مجبوری کے بغیر مدینہ کی طرف ہجرت نہیں کر رہے تھے اور دارالا سلام کی زندگی چھوڑ کر دارالکفر میں رہنے پر قانع تھے۔ روایات میں ہے کہ اہل مکہ کی ایک جماعت مسلمان ہوگئی اور ان لوگوں نے آنحضرت ﷺ کے سامنے اظہار ایمان بھی کیا مگر جب آنحضرت ﷺ نے ہجرت کی تو انہوں نے مکہ میں اپنی قوم کے پاس رہنا پسند کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی (قرطبی)5 یعنی فرشتے تقریع اور توبیخ کے انداز میں ان سے پو چھتے ہیں کہ تم مسلمان تھے یا کافر دارالکفر میں پڑے کیا کرتے رہے اور مدینہ کی طرف ہجرت کیوں نہیں کی ؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے لوگ مسلمان ہونے کے باوجود بلاعذر ترک ہجرت کی بنا پر ظالم کی موت مرے ہیں۔ (قرطبی)
Ayah 4:98

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًاۙ Open ayah 4:98 in the Quran reader

جانے کی مگر جو مرد اور عورتیں اور بچے ایسے بےبس ہیں کہ نہ ان کو کوئی تدبیر کرتی بن پڑتی ہے نہ رستہ معلوم ہے1

ف 1 اس آیت میں ان لوگوں کو مستثنی ٰ قرار دیا ہے جو واقعی بےبس اور معذور تھے اور ہجرت نہیں کرسکتے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں میں اور میر والدہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے معذور قرار دیا ہے اور ان لوگوں میں عیاش بن ابی ربیعہ ابن ہشام وغیر ہم بھی شامل ہیں جن کے حق میں آنحضرت ﷺ کفار کے پنجے نجات کے لیے دعا کیا کرتے تھے۔ (قرطبی، ابن کثیر) فائدہ حضرت ابن عباس ؓ کی والدہ ام الفضل بنت حارث ہیں اور ان کا نام لبابہ ہے جو میمود ؓ بنت حارث ام المومنین کی بہن تھیں حارث نو بہنیں تھیں جن کے حق میں رسول اللہ ﷺ نے الا خوات المو منات فرمایا تھا، ان میں اک اسما بنت عمیس خثمیہ تھیں جو ماں کی طرف سے میمونہ ؓ کی بہن تھیں اور جعفر ؓ بن ابی طالب کی بیوی۔ جعفر ؓ کے بعد حضرت ابوبکر ؓ نے ان سے نکاح کرلیا اور حضرت ابوبکر ؓ کے حضرت علی ؓ کے نکاح میں آگئیں ؓ (قرطبی) ہجرت کے ساتھ فی سبیل اللہ کا ذکر کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ ہجرت کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے سوا اور کچھ نہیں ہونا چاہیے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے جس شخص ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف ہے اس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف ہے اور جس شخص کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہے یا کسی عورت سے شادی کرنے کی غرض سے ہے تو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی (بخاری ومسلم )
Ayahs 4:99–100

فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:99 in the Quran reader

تو ایسوں کی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دے اور ہجرت نہ کرنے کی پر سش نہ کرے اور اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا

وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِیْرًا وَّسَعَةً١ؕ وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:100 in the Quran reader

او جو کوئی اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنا وطن چھوڑے2 وہ زمین میں رہنے کی بہت جگہ اور روزی میں کشادگی پائے گا اور جو کوئی اپنے گھر سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرتا ہوا نکلے پھر موت اس کو آن پکڑے اپنے مقام پر پہنچنے سے پہلے تو اللہ تعالیٰ پر اس کو ثواب ٹھہر چکا3 اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہر بان ہے

ف 3 مراغما یہ مرغم کی جمع ہے اور ہجرت کر کے نکلنے اور وار ہجرت پالینے کو مراغما اس لیے فرمایا ہے کہ جو شخص ہجرت کر کے نکلتا ہے گویا وہ تمام قریش کی ناک کو خاگ آلود کردیتا (قرطبی) اس آیت میں اگرچہ ان لوگوں کو مدینہ کی ہجرت کرن کی ترغیب دی گئی ہے جو مکہ اور دسرے مقامات پر دارالکفر میں پڑے زندگی بسر کر رہے تھے اور ہجرت نہیں کر رہے تھے لیکن یہ آیت عام ہے اور متعد احادیث میں ہجرت کی ترغیب دی گئی ہے۔ّ (فتح القدیر) عکرمہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب ہجرت نہ کرنے کے بارے میں وعید نازل ہوئی تو جندع ؓ بن صمرۃ لیثی جو مکہ میں مستضعفین میں سے تھے بیمار تھے۔ چناچہ انہوں نے حالت مرض میں سفر شروع کردیا حتی کہ تنعیم میں پہنچ کر انتقال کر گئے اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ، اسی طرح خالد ؓ بن حزام کے متعلق بھی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی اروراستہ میں سانپ کے ڈسنے سے وفات پاگئے (قرطبی) فائدہ ہجرت کے معنی ہیں دارالحرب سے دارالاسلام کی طرف منتقل ہونا، یہ آنحضرت ﷺ کی زندگی میں فرض تھی اور اس کی فرضیت تاقیامت باقی ہے جس ہجرت کو آنحضرت نے لا ھجرۃ بعد الفتح فرماکر منسوخ فرمایا ہے وہ خاص مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت تھی اسی طرح اہل بدعت کی آبادی سے بھی ہجرت کرنا چاہیے امام مالک (رح) فرماتے ہیں کسی شخص کے لیے ایسے مقام پر رہنا جائز نہیں ہے جہاں سلف کو گالیاں دی جاتی ہوں۔ علی ہذالقیاس جس علاقہ میں حلال روزی نہ ملتی ہو یا دین میں فتنہ کا خوف ہو وہاں سے ہجرت کی بھی ترغیب آئی ہے۔ (قرطبی)
Ayah 4:101

وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ١ۖۗ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 4:101 in the Quran reader

اور جب تم مسافر ہو زمین میں تو نماز قصر کرنے میں گھٹانے میں تم پر کچھ گناہ نہیں ہے4 اگر تم کو ڈر ہو کافروں کے ستانے کاف 5 بیشک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں

ف 4 مغرب اور صبح کی نماز کے علاوہ دوسری نمازوں میں چار کی بجائے دو رکعت پڑھنے کا نام قصر ہے تم پر کچھ گناہ نہیں کے الفاظ سے ثابت ہوتا ہے کہ حالت سفر میں قصر واجب نہیں۔ اس کی صرف اجازت ہے یہی اکثر علمانے سلف کا مسلک ہے مگر آنحضرت ﷺ کی سنت کو دیکھتے ہوئے امام شافعی احمد بن جنبل اور اکثر محدثین کے نزدیک قصر افضل ہے، بعض علما نے حضرت عائشہ ؓ کی حدیث فرضت الصلوٰۃ رکعیتن ( کہ نماز دو رکعت فرض ہوئی) کے پیش نظر قصر کو واجب مانا ہے مگر حضرت عائشہ ؓ کی اس حدیث کے متن میں اضطراب ہے اور حضرت عائشہ ؓ کا عمل اور فتویٰ اس کے خلاف ہے اور پھر حضرت ابن عباس ؓ اور عبداللہ بن عمر ؓ قصر کو سنت کہتے ہیں ناین المذھب عن قولھا۔ ) قرطبی) سفر سے مراد بظاہر تو عام سفر ہے جسے عرمیں سفر کہا جاتا ہو اب رہی میلوں کی یا دونوں کی مقدار کی تعین تو نہ قرآن کی کسی آیت میں اس کا صاف ذکر ہے اور نہ نبی ﷺ کی کسی صریح حدیث میں بنا بریں جن ائمہ اور علمانے کسی مقدار کی تعین کی ہے انہوں نے عموما نبی صلعم کے سفروں کے دیکھتے ہوئے اپنے اجتہادی سے کی ہے تاہم سب سے بہتر دلیل مقداد سفر میں صحیح مسلم میں حدیث انس ؓ ہے جس کی رو سے نو کوس تک کا سفر ہونا چاہیے نیز کسی صحیح حدیث میں نبی صلعم سے یہ ثابت نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے کسی سفر میں فرض نماز سے پہلے یا بعد میں سنت ادا کی ہو ہاں رات کے وقت اور صبح کی سنتیں آپ ﷺ ہر سفر میں پڑھا کرتے تھے اور کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ (زادالمعاد) صحابہ ؓ میں سے ابوبکر ؓ ، عمر ؓ اور ابن عمر ؓ کا اسی پر عمل تھا (بخاری) البتہ بعض صحابہ ؓ سفر میں فرض نماز سے پہلے اور بعد میں سنتیں اور نفل پڑھا کرتے تھے اس لیے یہ جائز ہیں۔ مسافر اگر مقیم کے پیچھے نماز پڑھے گا تو قصر نہیں کریگا، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ ابو القاسم ﷺ کی سنت ہے (مسند احمد)
Ayah 4:102

وَ اِذَا كُنْتَ فِیْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْۤا اَسْلِحَتَهُمْ١۫ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِكُمْ١۪ وَ لْتَاْتِ طَآئِفَةٌ اُخْرٰى لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْا حِذْرَهُمْ وَ اَسْلِحَتَهُمْ١ۚ وَدَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَ اَمْتِعَتِكُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْكُمْ مَّیْلَةً وَّاحِدَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَنْ تَضَعُوْۤا اَسْلِحَتَكُمْ١ۚ وَ خُذُوْا حِذْرَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:102 in the Quran reader

اور وے پیغمبر جبتو لوگوں میں ہو اور دشمن کا ڈرہو پھر تو نماز پڑھانا چاہے ان کو تو ان کے دو گروہ کر ایک گروہ ان میں سے تیرے ساتھ نماز میں کھڑا ہوا اپنے اپنے ہتھیار لیے رہے جب وہ وجدہ کریں تو دوسرا گروہ جو نماز نہیں پڑھتا وہ تمہارے پیچھے رہے دشمن کی طرف منہ کیے ہوئے6 اور دوسرا گر وہ اوے جس نے نماز نہیں پڑھی وہ تیرے ساتھ ایک رکعت نماز پڑھے اور اپنا بچاؤ اور ہتھیار لیے رہے1 کافر تو یہ چاہتے ہیں اگر تم ذرا اپنے ہتھیار اوسامان سے غافل ہوجاؤ تو وہ ایک بارگی تم پر ٹوٹ پڑیں اور اگر بارش یا بیماری کی تم کو تکلیف تو ہتھیار اتار دینا کوئی گناہ نہیں تم پر مگر دشمن سے ہوشیار ہو2 بیشک اللہ نے کافروں کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے

ف 5 کافروں کے ستانے کا ڈر اس وقت تھا جب یہ حکم آیا اس تقریب سے ہر وقت کے لیے معافی ملی۔ (موضح) یہ آیت چونکہ جہاد کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہے اس لیے اس میں نماز میں قصر کی اجازت کیساتھ تمہیں کافروں کے ستانے کا ڈر ہو کو الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں۔ باقی رہا عام سفر جس میں دشمن کا خوف نہ ہو تو اس میں قصر کے حکم سے یہ آیت ساکت ہے اسے نبی صلعم نے اپنے وقل وعمل سے واضح فرمایا ہے حضرت عمر ؓ سے ایک شخص نے سوال کیا کیا وجہ ہے کہ لوگ سفر میں قصر کر رہے حالانکہ قرآن میں خوف کے ساتھ مقید ہے حضرت عمر ؓ نے فرمایا خود مجھے بھی اس تعجب ہو اتھا اور میں نے آنحضرت سے اس کا ذکر کیا آپ ﷺ نے فرمایا یہ ایک صدقہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم پر کیا ہے لہذا تم اس کا صدقہ قبول کرو ( بخاری مسلم) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں نبی ﷺ مدینہ سے مکہ سے تشریف لے گئے اور اس وقت رب العٰلمین کے سوا کسی کا خوف نہ تھا مگر آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھی، (ترمذی۔ نسائی)6 دوسر ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے جب وہ سجدہ کرلیں یعنی آپ ﷺ کے ساتھ ایک رکعت پوری کرلیں تو پیچھے چائیں فتح القدیر)7 یعنی آپ دوسری رکعت میں آپ کے ساتھ شامل ہوں اور ایک رکعت نماز پڑھیں۔ فوائد صفحہ ہذا1 یہ صلوٰۃ خوف کی صرف ایک صورت کا ذکر ہے جبکہ دشمن موجود ہیں اور اس کے حملہ کا خطرہ ہو مگر عملا جنگ نہ ہو رہی جنگ نہ ہو رہی ہو۔ ابن العربی لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے چودہ مرتبہ صلوٰۃ خوف پڑھی ہے، امام احمد بن جنبل (رح) فرماتے ہیں۔ پس صلوٰۃ خوف میں تمام احایث صحیح اور ثابت ہیں۔ لہذا جس صورت میں نماز ادا کرلی جائے جائز ہے حافظ ابن لقیم (رح) زادالمعاد میں فرماتے ہیں سب احادیث کا مر جع چھ ساتھ صورتوں کی طرف ہے ت جن میں ہر صورت پر حسب موقع عمل کیا جاسکتا ہے۔ ( زادامعاد )
Ayah 4:103

فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْ١ۚ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا Open ayah 4:103 in the Quran reader

پھر جب تم خوف کی نماز پڑہ چکو تو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اللہ کی یاد کرتے رہو3 پھر جب خاطر جمع ہو تو نماز کو درستی ادا کرو4 کیونکہ نماز مسلمانوں پر واجب ہے بندھے وقتوں پر

ف 2 کہ مبادا تمہیں غافل پاکر وہ تم پر اچانک حملہ کردے۔3 یعنی ہرحال میں اللہ تعالیٰ کی یاد میں مصروف رہو۔ یاں تک کہ عین اس وقت بھی جب معر کہ قتال گرم ہو جمہور مفسرین نے اس کے یہی معنی کئے ہیں، بعض مفسرین نے اس کے یہ معنی بتائے ہیں کہ جب نماز پڑھنا چاہو تو معر کہ قتال گرم ہونے کی وجہ کھڑے، بیٹھے لیٹے جس طرح نماز پڑھ سکتے ہو پڑھ لو۔ لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔ (قرطبی) 4 یعنی جب خوف کی حالت ختم ہوجائے اور تم میدان جنگ سے پلٹ کر اپنے گھروں میں آجاتو نماز کے اس کے جملہ ارکان شرئط اور حددد کے ساتھ مقررہ اوقات پر ادا کرو۔ اور قصر نہ کرو۔ ( قرطبی) دوسرا مطلب جیسا کہ شاہ صاحب (رح) نے لکھا ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر خوف کے وقت نماز میں کوتاہی ہو تو نماز کے بعد اللہ تعالیٰ کو اور طرح سے یاد کرو نماز میں قید ہے کہ وقت پر ہو اور اللہ تعالیٰ کا ذکر ہرحال میں دورست ہے (موضح) بعض نے لکھا ہے کہ جنگ احد کے موقع پر یہ آیت نازل ہوئی ہے بہت سے مسلمان زخمی ہوچکے تھے مگر آنحضرت نے دشمنوں کے تعاقب میں دوبارہ نکلنے کا حکم صادر فرمایا اور یہ حکم بھی صرف انہی کو تھا جو احد میں شریک تھے (دیکھئے آل عمران 72) یعنی زخمی ہونے میں تو دشمن بھی تو تمہارے ساتھ شریک تھے، گو تمہیں یہ خصوصیت حاصل ہے کہ تم بوجہ ایمان کے اللہ کے ہاں اجر وثواب کے امید وار ہو اور ان کو بوجہ کفر کے یہ نعمت حاصل نہیں ہے لہذا ان کے تعاقب میں کمزروی مت دکھاو (قرطبی)
Ayahs 4:104–105

وَ لَا تَهِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ یَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ١ۚ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا یَرْجُوْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا۠ Open ayah 4:104 in the Quran reader

اور کافروں کے پیچھا کر کرنے میں ان سے لڑنے میں ہمت نہ ہارو یا نامردی نہ کرو یا اپنے تئیں ذلیل مت بناؤ اگر تم لڑائی میں تکلیف پہنچتی ہے تو ان کو بھی تکلیف پہنچتی ہے جیسے تم کو تکلیف پہنچتی ہے اور تم خدا سے وہ امید رکھتے ہو جو کافر نہیں رکھتے5 اور اللہ تعالیٰ جانے والا ہے حکمت والا

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْمًاۙ Open ayah 4:105 in the Quran reader

اے پیغمبر ہم نے تجھ پر جو سچی کتاب اتاری تو اس لیے کہ لوگوں کا فیصلہ تو اس طرح کرے جس طرح اللہ نے تجھ کو دکھلا یا6 اور دغا بازوں کا طرف وار مت بن7

ف 6 یعنی شریعت کے قواعد کے مطابق فیصلہ کرو جیسے اللہ نے تجھ کو دکھلا یا یعنی وحی بھیج کر یا کسی اور طریقے سے آپ ﷺ کو سمجھایا حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں یہ ادراک اللہ کا آنحضرت ﷺ کے ساتھ ٰ خاص تھا کہ آپ ﷺ کی رائے اللہ تعالیٰ کے سمجھانے سے ٹھیک ہوتی تھی اس لیے آپ ﷺ کا فیصلہ واجب الا تباع ہے، آنحضرت ﷺ کے بعد یہ ممصب کسی اور کو حاصل نہیں ہے۔ اور امام یا مجتہد کی ہر بات صحیح نہیں ہوتی لہذا اس پر عمل کرنا بھی ضروری نہیں ہے (کذافی اللوحیدی) 7 ان آیات کی شان نزول کے تحت عطا نے لکھا ہے کہ انصار کے قبیلہ بنی ظفر میں ایک شخص طعمہ یا بشر بن ابیر تھا۔ اس نے ایک انصاری کی زرہ چرالی اور اسے ایک یہودی کے گھر میں پھینک دیا۔ یہود نبی ﷺ کے پاس پہنچا کہ بنی ابریق طعمہ اور اس کے بھائیوں) نے یہ زرہ چوری کر کے میرے گھر میں پھینک دی۔ جب بنی ظفر کے لوگوں کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے آپس میں صلاح مشورہ کر کے ایکا کرلیا اور پھر شور مچا تے نبی ﷺ کے پاس پہنچے کہ یہود دی جھوٹا ہے زرہ اسی نے چرائی ہے طعمہ اور اس کے بھائی اس الزام سے بری ہیں، قریب تھا کہ آنحضرت ﷺ اس یہو دی کے خلاف فیصلہ صادر فرمادیتے اور بنی ابیرق پر الزام رکھنے پر اسے سرزنش بھی کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (ابن جریر) عغا بازوں سے مرد طعمہ اور اس کے بھائی ہیں، یعنی آپ ﷺ ان کی حمایت نہ کریں۔ اصل یہی مجرم ہیں۔ معلوم ہوا کہ متہم شخص کی حمایت چائز نہیں ہے اور کافروں ذمی کا مال بھی مسلما نن کے مال کی محفوظ ہے۔ (قرطبی)
Ayah 4:106

وَّ اسْتَغْفِرِ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 4:106 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ8 بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے

ف 8 یعنی آپ ﷺ نے جو طعمہ کو بری اور یہودی کو مجرم قرار دینے کا ارادہ کیا تھا اس پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کیجئے۔ (قرطبی۔ ) انبیا ( علیہ السلام) کو باوجود معصوم ہونے استغفار کا حکم رفع درجات کے لیے دیا جاتا ہے اور علما تفسیر نے یہ بھی کئے ہیں کہ ان گنہگا روں کے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے۔
Ayah 4:107

وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ Open ayah 4:107 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے تئیں آپ دغا رہے ہیں ان کی طرف سے مت جھگڑ یعنی ان کا طرفدار مت بن کیونکہ اللہ تعالیٰ دغا باز بدکار کو پسند نہیں کرتا1

ف 1 مطلب یہ ہے کہ جو شخص دغا کرتا ہے سب سے پہلے اپنے آپ سے دغا کرتا ہے۔
Ayah 4:108

یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَ لَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَ هُوَ مَعَهُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا Open ayah 4:108 in the Quran reader

لوگوں سے اپنی چوری چھپاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے نہیں چھپاتے2 اور وہ ان کے ساتھ ہے3 ان کی ہر ایک بات دیکھتا ہے اور سنتا ہے جب رات کو ایسی تجویز کرتے ہیں جس سے وہ راضی نہیں4 ہے اور وہ جو کچھ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے5

ف 2 یعنی ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ گنا ہوں کا ارتکاب کرنے میں لوگوں سے تو شرم کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ سے جو ان کے ظاہر و باطن کو جنتا ہے شرم نہیں کرتے۔3 یعنی جاننے، دیکھنے اور سننے کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے ورنہ بذاتہ تو اللہ تعالیٰ مستوی علی العرش ہے ، ( قرطبی، ابن کثیر)4 جیسے جھوٹی شہادت پر ایکا کرنا ارنے قصو پر چوری کا الزام لگانا۔5 تو اس سے بچ کر کہاں جائے گے۔
Ayah 4:109

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ جٰدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١۫ فَمَنْ یُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنْهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَمْ مَّنْ یَّكُوْنُ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 4:109 in the Quran reader

سنو جی تم لوگوں نے دنیا کی چند روزہ زندگی میں تو ان کی یعینی چور اور اس کی قوم کی طرف ہو کر جھگڑ کرلیا اب یہ تو کہو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے کون جھگڑے گا ان کی طرف سے یا کون ان کا وکیل بنے گا6

ف 6 جو ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلا سکے، اس کے مخاطب بنی ظفر اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو طعمہ اور اس کے بھائیوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے، (قرطبی، ابن کثیر )
Ayah 4:110

وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ یَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:110 in the Quran reader

اور جو کوئی دوسرے کے ساتھ برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش چاہے ت للہ تعالیٰ بخشنے والا مہر بان پایے گا7

ف 7 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس ّآیت میں بنی بیرق سے توبہ کے لیے کہا جا رہا ہے۔ آیت میں ہر قسم کے گناہوں کی پاداش سے محفوظ رہنے کا راستہ بتایا گیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار السو وہ گنا ہے جن سے انسان اپنے علاوہ دوسروں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ جسے جھوٹی شہادت اور بےگناہ کو متہم کرنا۔ اور او یظلم نفسہ سے ان گناہوں کی طرف اشارہ ہے جن سے انسان صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے جیسے ترک صلوٰۃ اور شراب نوشی وغیرہ۔ ضحاک فرماتے کہ حضرت حمزہ ؓ کا قاتل وحشی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حا ضر ہوا اور عرض کی کہ مجھے اپنے فعل پر سخت ندامت ہے کیا میر توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حدیث میں ہے کہ کسی شخص سے گناہ سرزد ہوجائے اور وہ وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنے تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے ،
Ayah 4:111

وَ مَنْ یَّكْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا یَكْسِبُهٗ عَلٰى نَفْسِهٖ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:111 in the Quran reader

اور جو کوئی گناہ کرتا ہے تو وہ اپنا نقصان آپ کرتا ہے8 اور اللہ تعالیٰ سب جانتا ہے حکمت والا

ف 8 یعنی وہی اس کی سزا بھگتے گا کوئی دوسرا اس گناہ میں نہیں پکڑا جائے گا، کسب کا لفظ ہر اس فعل پر بولا جاتا ہے جس سے کوئی نفع یا نقصا حاصل ہو۔ اس بنا پر اللہ تعالیٰ کی طرف کسب کی نسبت نہیں ہوسکتی۔ (قرطبی)
Ayah 4:112

وَ مَنْ یَّكْسِبْ خَطِیْٓئَةً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِهٖ بَرِیْٓئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:112 in the Quran reader

اور جو کوئی خطا صغیرہ یا گناہ کرے پھر ایک بےقصور پر اس کو تھوپ دے جیسے طعمہ نے کیا) تو طوفان اور کھلا گناہ سر پر لیا9

ف 9 خطیئتہ کا لفظ غیر ارادی گناہ پر بھی بولا جاتا ہے اور اس کے کے بر عکس اثم وہ ہے جو ارادی طور پر کیا جائے مطلب یہ ہے کہ خود گناہ کا ارتکاب کرنے کے بعد کسی بےقصوی آدمی کو اس سے ملوث کرنے ی کوشش کرنا بہت بڑا گنا ہے کسی نے گناہ شخص پر تہمت لگانے کو بہتان کہا جاتا ہے (قرطبی)
Ayah 4:113

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ وَ رَحْمَتُهٗ لَهَمَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ اَنْ یُّضِلُّوْكَ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَضُرُّوْنَكَ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ١ؕ وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا Open ayah 4:113 in the Quran reader

اور اے پیغمبر اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تجھ پر نہ ہوتی تو ان میں کا یک گروہ یعنی طعمہ کی قوم کے لوگ تجھے بہکادینے پر مستعد وہ ہی گیا تھا10 اور درحقیت وہ اپنے تئیں بہکار رہے ہیں کیونکہ اس کا وبالی انہی پر پڑے گا اور تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے11، اور اللہ تعالیٰ نے تجھ پر کتاب اتاری ہے قرآن شریف اور حدیث اور حدیث شریف111 ور جو تو نہیں جانتا تھا وہ تجھ کو سکھلایا اور اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے تجھ پر1

ف 10 مگر اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت سے ان کے بہکانے کا کوئی اثر نہ ہوا اللہ کی رحمت یہ کہ آپ ﷺ کو واقعہ کی حقیقت سے مطلع فرمادیا۔11 کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی حفاظت کا خاص انتظام کیا ہے۔ 1 یعنی وحی کے ذریعہ آپ ﷺ کو وہ علم دیا جو آپ ﷺ کے پہلے حاصل نہیں تھا۔ (دیکھئے سورت اشوریٰ آیت 52) اور یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑافضل ہے۔ ( قرطبی )
Ayah 4:114

لَا خَیْرَ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:114 in the Quran reader

اکثر ان کے صلاح و مشورہ میں بھلائی نہیں ہوتی جب کوئی اصلاح کرتے ہیں بری بات کے لیے مگر وہ صلاح جو خیرات دینے سے یا لوگوں سے میں ملاپ کرنے کے کے کی جاوے نے شک اچھی ہے3 اور جو کوئی خدا کی کی رضا مندی حاصل کرنے کے لیے ایسا کرے نہ نا سوری تو ہم اس کو بڑا ثواب دیں گے

ف 2 نجو یٰ دوسروں سے علیحدٰ ہو کر صلا و مشورہ کرنے کو کہتے ہیں یہ مصدر ہے اور مبالغہ کے طور پر عدل ورضی کی طرح جمع پر بولا جاتا ہے اور الا کے بعد نجو یٰ مخذوف ہے ن ای الا نجویٰ ج من امر بصد قتہ الخ3 معررو کا لفظ جمیع اعمال خیر کو شامل ہے حتی ٰ کہ کہ کسی کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا بھی معروف میں داخل ہے۔ حدیث میں ہے ولو ان تلقی اخاک بو۔ حہ طلق اور اصلا بین الناس کا لفظ مسلمانو کے درمیان ہر قسم کے اختلافات ختم کرنے کو شامل ہے حدیث میں ہے جس نے دو مسلمانوں میں صلح کر ادی ہے اس کے لئے آگ سے براۃ لکھی جاتی ہے ( قرطبی)
Ayah 4:115

وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا۠ Open ayah 4:115 in the Quran reader

اور جو کوئی سچی راہ کھل جانے کے بعد یعنی پیغمبری معلوم ہوجانے کے بعد پھر پیغمبر کا خلاف کرے اور مسلمان کو رستہ کے سوا دوسرا رستہ لے4 ہم اس کو اسی راہ پر چلنے دیں گے اسی حال پر چھوڑ دیں گے اور آخرت میں اس کو دوزخ میں لے جاکر ڈال دیں گے اور وہ بری جگہ ہے جا نے کی5

ف 4 یعنی جو شخص یا گروہ وہ شریعت کے خلاف راستہ اختیار کرے اور حق معلوم ہوجانے کے باوجود مسلمانوں کی سیدھی اور صاف روشن ہے ہٹ جائے تو ہم بھی اسے ٹیڑھی راہ پر لگا دیتے ہیں جو اس کو جہنم میں لے جا کر ڈال دیتی ہے۔ مومنوں کی راہ میں دراصل تو کتاب و سنت کی راہ ہے اور کسی اجماعی مسئلے کی مخالفت کرنا بھی غیر مومنوں کی راہ پر چلنا ہے۔ (قرطبی) امت محمد یہ کو اللہ تعالیٰ نے یہ شرف بخشا ہے کہ وہ اجتماعی طور پر غلطی اور خطا سے محفوظ رہی ہے اور رہے گی ،۔ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا ساری امت صدیوں ایک غلط راہ پر چلتی رہے۔ اس بارے میں بہت سی صحیح احادیث وارد ہیں حتی ٰ کہ بعض علما ان کے تواتر کے قائل ہیں امام شافع (رح) نے اجماعی کے حجت ہونے کا اس آیت سے استنباط کیا ہے اور یہ استنباط بہت قوی اور عمدہ ہے ( ابن کثیر) شیخ الا سلام ابن تیمہ (رح) نے اپنی کتاب معارج الو صول میں اس پر مٖصل بحث کی ہے اور امام شافعی (رح) کے استدلال کی پر زور تائید کی ہے (م، خ) مذکورہ بالا واقعہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آجانے کے بعد جب نبی ﷺ نے طعمہ چوری کی حد جاری کرنے کا حکم دیا تو وہ مرتد ہوگیا اور مدینہ سے بھاگ کر مکہ کے مشرکین جاملا۔ ، اس آیت میں اس کے اسی طرزعمل کی طرف سے اشارہ کیا گیا ہے۔ ویسے یہ آیت عام ہے اور اس میں ان لوگوں کے لیے سخت وعید ہے جو نبی ﷺ کی سنت اور سلف صالحین کے مسلک سے منہ موڑ کر دوسروں کی پیروی کرتے ہیں اور آئے دنئی نئی بدعات ایجاد کرتے رہتے ہیں۔ یہ بتا نے کی ضرورت نہیں ہے کہ تقلید کی ایجاد بھی بعد کی صدیوں میں ہوئی سلف صالح کے دور میں اس کا قطعا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہم کتاب وسنت کی کسی دلیل سے اس کی گنجائش نکلتی ہے۔
Ayah 4:116

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:116 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ شرک کو نہیں بخشے گا جو کوئی مشرک اس کی مغفرت نہ ہوگی اس سے کم درجہ نگاہ کو جس کا چاہے بخش دیوے6 اور جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا وہ پرلے سرے کا گمراہ ہوگیا7

ف 6 معلوم ہوا کہ مشرک کے سوا مسلمان گنہگار ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گے اس سے ان لوگوں کو رد نکلتا ہے جو مر تکب کبیرہ کو دائمی جہنمی کہتے ہیں۔ (قرطبی)7 اوپر سے منا فقوں کا ذکر آرہا ہے جو پیغمبر ﷺ کے ٖٖٖ فیصلوں کو پسند نہ کرتے او جدا راستے پر چلتے تھے، اس آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شرک کو نہیں بخشا معلوم ہوا کہ اسلام کے سوا کسی دوسرے دین (طریقہ) کو محبوب رکھا جائے اور اس کو معمولی بنایا جائے تو یہ مشرک ہے۔ ، کیونکہ اسلام کے سوا جو دین بھی ہے سب شرک ہے اگرچہ پرستش کا شرک نہ بھی کیا جائے (ازموضح)
Ayah 4:117

اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًا١ۚ وَ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا شَیْطٰنًا مَّرِیْدًاۙ Open ayah 4:117 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کے سوا جن کو پکارتے ہیں وہ بس عورتیں ہی ہیں8 بلکہ در حقیقت شیطان سرکش ہی کو پکارے ہیں9

ف 8 اناثا سے مراد یا تو بت ہیں جن کے نام (اللات منات عزی) سب مئو نث تھے اور یا فرشتے مراد ہیں جنہیں وہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ آیت میں غیر اللہ کے پکارنے کو شرک قرار دیا ہے۔ جو شخص بھی غیبی مدد کے لیے کسی کو اللہ کے سوا پکار تا ہے وہ مشرک ہے کیونکہ عبادت دراصل اسی پکارنے کا نام ہے۔ ( قرطبی۔ ابن کثیر)9 کیونکہ شیطان ہی نے انہیں بتوں یا فرشتوں کی پرستش پر لگایا ہے ْ ( قرطبی)