16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 16:119–122

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:119 in the Quran reader

جن لوگوں نے نادانی سے برا کام کیا (ان شہوت غالب ہوئی) پھر اس کے بعد توبہ کی اور (اپنے تئیں) درست کرلیا پھر تو تیرا مالک ان کا طرف دار ہے تیرا مالک توبہ کے بعد ضرور بخشنے والا مہربان ہے

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِیْفًا١ؕ وَ لَمْ یَكُ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 16:120 in the Quran reader

بیشک ابراہیم لوگوں کا) پیشوا تھا ( یا تمام کمالات کا مجمعہ) خدا کا تابعدار بندہ ایک طرف والا (یک بگا) اور وہ (جیسے قریش کے کافر سمجھتے ہیں) مشرک نہ تھا

شَاكِرًا لِّاَنْعُمِهٖ١ؕ اِجْتَبٰىهُ وَ هَدٰىهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 16:121 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر گزار خدا نے اس کو (پیغمبری سے سرفراز کرنے کے لئے چن لیا تھا اور سیدھی راہ سمجھائی تھی

وَ اٰتَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَؕ Open ayah 16:122 in the Quran reader

توحید کی اور ہم نے اس کو دنیا میں بھلائی دی تھی (عزت و آبرو آل اولاد) اور آخرت میں بھی وہ بیشک (ہمارے) نیک بندوں میں ہے1

ف 1 انہوں نے خود دعا کی تھی۔ والحقی بالصالحین یعنی مجھے نیک بندوں سے ملا دے (سعراء 83) سو اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی (شوکانی)
Ayah 16:123

ثُمَّ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 16:123 in the Quran reader

پھر (بڑی فضیلت ابراہیم کی یہ ہے کہ ہم نے تجھ کو حکم دیا ایک طرف والے ابراہیم کے دین پر چلنے کا (حالانکہ تم تمام پیغمبروں کا سردار ہے) اور وہ مشرک نہیں تھا2

ف 2 یعنی حلال و حرام اور دین سے متعلق تمام معاملات میں اصل چیز نہ یہودیت و نصرانیت ہے اور نہ شرک جس کا ارتکاب یہ کفار مکہ کر رہے ہیں۔ بلکہ اصل حضرت ابراہیم کی ملت ہے جو خلاص توحید سے عبارت تھی اور اس میں وہ چیزیں حرام نہ تھیں جو بعد میں یہودیوں پر ان کی شرارت کے بدولت حرام قرار دی گئیں۔ اس لئے آپ کے لئے پیروی کے لائق اگر کوئی چیز ہے تو وہ صرف ملت ابراہیم ہے۔ (کذافی ابن کثیر)
Ayah 16:124

اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:124 in the Quran reader

فہتہ کا دن تو انہی لوگوں کے لئے مقرر ہوا تھا (یعنی انہی لگو وں کو اس کی تعظیم کا حکم ہوا تھا) جنہوں نے اس میں اختلاف کیا3 اور (اے پیغمبر) تیرا مالک قیامت کے دن ج باتوں میں وہ اختلاف کر رہے ہیں ان کا فصلہ کر دے

ف 3 یعنی ہفتہ کے دن کی تعظیم جیسے ملت اسلام میں نہیں ہے۔ حضرت ابراہیم کی شریعت میں بھی نہ تھی یہ دن تو بعد میں صرف ان لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا تھا جنہوں نے اس میں اختلاف کیا تھا۔ اختلاف کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ نے ان پر جمعہ کے دن کی تعظیم واجب کی تھی مگر انہوں نے اس میں اختلاف کر کے ہفتہ کا دن مقرر کرلیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر اسی دن کی تعظیم ہی فرض کردی کہ اس میں شکار نہ کرو۔ اس کی تائید حضرت ابوہریرہ کی اس روایت سے ہوتی ہے جس میں ہے کہ ہم سب امتوں سے زمانہ میں آخر ہیں مگر قیامت کے روز سب سے پہلے ہونگے۔ بات اتنی ہے کہ انہیں ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں کتاب بعد میں ملی پھر ان پر صرف جمعہ کا دن مقرر کیا گیا تھا مگر انہوں نے اختلاف کیا اور اللہ نے ہمیں ہدایت دی۔ لہٰذا اس میں لوگ ہمارے بعد میں یہود کی تعظیم کا دن کل اور نصاریٰ کی تعظیم کا دن پرسوں ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 16:125

اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 16:125 in the Quran reader

(اے پیغمبر) لوگوں کو حکمت (اور تدبیر) اور اچھی نصیحت سے4(جسم میں سختی نہ ہو ملائمت سے سمجھا کر) اپنے مالک کی راہ کی طرف بلا اور ان سے بحث کر تو اس طور سے جو پسندیدہ ہو5 بیشک تیرا مالک خوب جانتا ہے کون اس کی راہ سے بھٹک گیا ہے اور جن لوگوں نے راہ پائی ان کو بھی وہ خوب جانتا ہے6

ف 4 یعنی دعوت میں صرف ان چیزوں کا خیال رکھا جائے ایک حکمت اور دوسری اچھی نصیحت حکمت کا مطلب یہ ہے کہ نہایت سنجیدہ طریقہ سے مخاطب کی ذہنیت کا لحاظ کرتے ہوئے بات پیش کی جائے اور اچھی نصیحت کا مطلب یہ ہے کہ نہایت نرمی اور دلسوزی سے کی جائے تاکہ مخاطب سن کر متاثر ہو اور سمجھے کہ میری ہی فائدہ کی خاطر یہ بات کہی جا رہی ہے۔ 5 یعنی نہایت نرمی اور محبت سے اخلاق و تہذیب کے دائرہ کے اندر رہتے ہوئے نہ کہ جھڑک کر اور آرام سے باتیں بنا کر۔ 6 یعنی دعوت و تبلیغ میں اصل چیز اپنے دین کے اصولوں اور اس کی تعلیمات پر کار بند ر ہنا ہے نہ کہ سچ یا جھوٹ، یا جس طر بھی ممکن ہو اپنی بات کا قائل کرلینا۔ لہٰذا یہ فکر نہیں کرنی چاہیے کہ کون ہماری بات مانتا ہے اور کوئی نہیں مانتا نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
Ayah 16:126

وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ لَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ Open ayah 16:126 in the Quran reader

اور اگر بدلہ لو اتنا ہی جتنا تم کو نقصان پہنچا ہے7 اور جو تم (لوگوں کی ایذا پر) صبر کرو تو یہ صبر کرنے والوں کے لئے (بدلہ لینے سے) بہتر ہے8

ف 7 اس سے زیادتی نہ کرو 8 اللہ تعالیٰ خود ظالم سے ان کا بدلہ لے گا اور اپنے ہاں سے انہیں صبر کرنے کا اجر عظیم عطا فرمائیگا شاہ صاحب لکھتے ہیں : پہلے جو فرمایا کہ سمجھائو بھلی طرح اس میں رخصت دی کہ بدی کے بدلے بدی بری نہیں، پھر صبر اور بہتر ہے۔ (موضح)
Ayah 16:127

وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 16:127 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) صبر کر اور اللہ ہی کی مدد سے تو صبر کرسکتا ہے اور ان کا رنج مت کر9 اور نہ ان کے (مکر اور فریب) سے دل تنگ ہو (وہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے

ف 9 یعنی کافروں کی گمراہی اور بری حرکات کا
Ayah 16:128

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ۠ Open ayah 16:128 in the Quran reader

(اللہ تیرا بچانے والا اور نگہبان ہے) کیونکہ اللہ تعالیٰ ان یہ لوگوں کے ساتھ ہی جو پرہیز گار ہیں (شرک اور کفر اور گناہوں سے بچتے ہیں) اور جو نیک ہیں10

ف 10 خلق خدا کے ساتھ نیکی کرتے ہیں دوسرے خواہ ان سے کتنا ہی برا رویہ اختیار کریں وہ جواب ہمیشہ بھلائی سے دیتے ہیں۔