16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 16:41

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:41 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے (کافروں کا) ظلم اٹھانے کے بعد6 اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملک چھوڑا اپنا ان کو ہم دنیا میں اچھا ٹھکانا دیں7 گے اور آخرت میں جو بدلہ (ملنے والا ہے) وہ تو (کہیں بڑھ کر ہے کاش یہ کافر (اس بات کو) جانتے ہوتے

ف 6 مراد ہیں وہ مسلمان جو کفار کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ (شوکانی) 7 چناچہ اللہ تعالیٰ نے انناتواں اور غریب الوطن مہاجرین کو دنیا میں عزت، شرف، عظمت، حکومت، دولت ہر چیز عنایت فرمائی۔ (شوکانی)
Ayahs 16:42–43

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:42 in the Quran reader

(یہ اپنا ملک چھوڑنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے (کافروں کے ستائے پر یا ہجرت پر یا جہاد پر) صبر کیا اور اپنے مالک پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:43 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ہم نے تجھ سے پہلے بھی مردوں ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا ان کو وحی بھیجتے رہے (لوگو) اگر تم نہیں جانتے تو کتاب والوں یہود اور نصاری کے عالموں سے پوچھ لو8

ف 8 یعنی وہ تمہیں بتائیں گے کہ دنیا میں جتنے پیغمبر آئے سب کے سب بشر تھے۔ فرشتے یا کسی دوسری مخلوق سے نہ تھے۔ (شوکانی) بعض مقلد حضرات اس آیت سے تقلید کے جائز ہونے پر استدلال کرتے ہیں حالانکہ آیت کے سیاق وسباق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کے مخاطب مشرکین ہیں اور ” اہل الذکر “ سے مراد اہل کتاب ہیں اور آیت میں ایک خاص اعتراض کے حل میں ان کی طرف رجوع کا حکم دیا جا رہا ہے۔ اگر آیت کو عام بھی سمجھ لیا جائے تو بھی عام مسلمانوں کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اپنے علما سے کتاب و سنت کا حکم معلوم کریں نہ کہ کسی خاص و عام کے مسئلے دریافت کریں۔ (مختصراً از وحیدی)
Ayah 16:44

بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ١ؕ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:44 in the Quran reader

اور پیغمبروں کو معجزے اور کتابیں دیکر بھیجا اور (اے پیغمبر اسی طرح ہم نے تجھ پر بھی قرآن اتارا اس لئے کہ تو لوگوں کو سمجھا دے کھول کر بتلاوے جو ان کی طرف اترا9

ف 9 اس آیت میں ” الذکر “ یعنی قرآن کے نازل کرنے کا مقصد یہ بیان فرمایا ہے کہ آنحضرت اپنے قول و عمل سے اس کی توضیح و تشریح فرمائیں کیونکہ آنحضرت کی توضیحات کو سامنے رکھے بغیر قرآن کی توضیحات کو سامنے رکھے بغیر قرآن کے مجملات کو سمجھنا ممکن ہی نہیں ہے۔ مثلاً نماز، زکوۃ اور دیگر احکام اسی بنا پر آنحضرت نے فرمایا : الا انی اوتیت القرآن و مثلہ معہ کہ خبردار ! مجھے قرآن اور اس جیسی ایک اور چیز یعنی سنت دی گئی ہے۔ پس قرآن سے ہدایت حاصل کرنے کیلئے سنت سے بےنیازی اس آیت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ (از وحیدی)
Ayahs 16:45–46

اَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَكَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 16:45 in the Quran reader

اور اس لئے کہ اوہ خود بھی) غور کریں کیا جو لوگ برے برے مگر کر رہے ہیں اور آنحضرت کو تکلیف پہنچانا چاہتے ہیں) ان کو یہ ڈر نہیں ہے کہ اللہ ان کو زمین میں دھنسا مارے (جیسے قارون کو دھنسا مارا) یا جدھر سے ان کو خیال بھی نہ ہو

اَوْ یَاْخُذَهُمْ فِیْ تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَۙ Open ayah 16:46 in the Quran reader

(ادھر سے ان پر اللہ) کا عذاب آدھمکے یا چلتے پھرتے ان کو دھر پکڑے پھر وہ (خدا کو) ہرا نہیں سکتے1

ف 1 یعنی اس کی پکڑ سے بچ کر کہیں نہیں بھاگ سکتے۔ (وحیدی)
Ayah 16:47

اَوْ یَاْخُذَهُمْ عَلٰى تَخَوُّفٍ١ؕ فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:47 in the Quran reader

یا جب ان کا کھٹکا ہوا اس وقت دھر پکڑے2 تو (اے لوگو بات یہ ہے کہ) تمہارا مالک شفقت والا مہربان ہے3

ف 2 یعنی جب غفلت کی حالت نہ ہو بلکہ انہیں عذاب کے آنے کا کھٹکا لگا ہوا ہو اور وہ اس سے چونکتے ہوں مثلاً پہلے سخت آندھی یا زلزلہ آئے جس سے خوف زدہ ہوجائیں اور پھر اس حالت میں ان پر عذاب بھیج دے۔ بعض نے ” تخوف “ کے معنی ” تنقص “ آہستہ آہستہ کم کرنے) کے کئے ہیں۔ یعنی یہ بھی ممکن ہے کہ وہ انہیں اچانک نہ پکڑے بلکہ ان کی جانوں، مالوں اور پیداوار کو آہستہ آہستہ کم کرتا رہے یہاں تک کہ وہ بالکل تباہ ہوجائیں۔ یہ تفسیر حضرت ابن عباس سے منقول ہے اور حضرت عمر نے اپنے ایک خطبہ میں اس معنی کو پسند فرمایا تھا۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ ہرحال میں ان پر عذاب بھیج سکتا ہے۔ (روح) 3 کہ تم گناہ کرتے رہتے ہو مگر بایں ہمہ وہ تم کو رزق اور تندرستی بخشتا ہے اور اس کی طرف سے تمہاری فوراً گرفت نہیں ہوتی۔ (کذافی ابن کثیر)
Ayahs 16:48–49

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ Open ayah 16:48 in the Quran reader

(وہ عذاب اتارتنے میں جلدی نہیں کرتا) کیا ان لوگوں نے ان چیزوں کو نہیں دیکھا جو اللہ نے پیدا کیں میں ان کے سائے کبھی داہنی طرف کبھی بائیں طرف ڈھلتے ہیں (یا صبح کو داہنی طرف سایہ پڑتا ہے شام کو بائیں طرف)

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ وَّ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:49 in the Quran reader

اللہ کو عاجزی کے ساتھ سجدہ کر رہے ہیں4 اور آسمان اور زمین میں جتنے جاندار ہیں اور فرشتے سب اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں اور وہ (اس کی عبادت سے) مقررہ نہیں کرتے5

ف 4 یعنی دنیا کی ہر چیز پہاڑ، درخت اور انسان وغیرہ۔ جس کا سایہ بڑھتا، گھٹتا اور ڈھلتا ہے۔ تکوینی طور پر اللہ تعالیٰ ہی کی فرمانبرداری میں مصروف ہے اور وہ قانون قدرت سے سرموانحراف نہیں کرسکتی۔ یہاں جملہ ایشیا پر ذوی العقول کو غلبہ دے کر ” داخرون “ فرما ای ہے۔ (از روح) شاہ صاحب اس سجدہ کی کیفیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ہر چیز ٹھیک دوپہر میں کھڑی ہے۔ اس کا سایہ بھی کھڑا ہے۔ جب دن ڈھلا، سایہ بھی جھکا، پھر جھکتے جھکتے شام تک زمین پر پڑگیا جیسے نماز میں کھڑے سے رکوع اور رکوع سے سجدہ اس طرح ہر چیز اپنے سایہ سے نماز ادا کرتی ہے۔ (کذا فی الموضح) 5 پہلے ان چیزوں کا سجدہ بیان فرمایا جو زمین میں پائی جاتی ہیں۔ اب یہاں زمین و آسمان میں پائے جانے والے تمام جاندار خصوصاً فرشتوں کا سجدہ بیان کر کے متنبہ فرمایا کہ ایسی مقرب ہستیاں بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے سربسجود ہیں اور ان میں کوئی تکبر یا غرور نہیں پایا جاتا لہٰذا ان کے متعلق یہ سمجھنا قطعی غلط ہے کہ وہ اللہ کی بٹیاں ہیں اور ان کا خدا کی خدائی میں کوئی حصہ ہے۔ شوکانی
Ayah 16:50

یَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۠۩ Open ayah 16:50 in the Quran reader

(یعنی فرشتے) اوپر کی طرف سے اپنے مالک سے ڈرتے ہیں6 کیونکہ مالک ان کے اوپر اپنے عرش پر ہے) اور ان کو جو حکم ہوتا ہے وہ بجا لاتے ہیں

ف 6 یعنی من فوقھم ربھم سے حال ہے۔ ای کونہ تعالیٰ من فوقھم اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یخافون کے متعلق ہو اور مضاف محذوف ہو۔ ای عذاب ربہم اس سے بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ فوق العرش ہے اور تمام اہل حدیث کا اس پر اتفاق ہے (وحیدی)
Ayah 16:51

وَ قَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْۤا اِلٰهَیْنِ اثْنَیْنِ١ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَاِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 16:51 in the Quran reader

اور لوگو اللہ نے فرمایا دو خدا مت بنائو بس وہی ایک خدا ہے تو مجھ ہی سے ڈرو7

ف 7 اور یہ بتایا کہ آسمان و زمین کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی مطیع اور فرمانبردار ہیں۔ اب اس کے بعد شرک سے منع فرمایا۔ (شوکانی)
Ayah 16:52

وَ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَهُ الدِّیْنُ وَاصِبًا١ؕ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَتَّقُوْنَ Open ayah 16:52 in the Quran reader

اور اسی کا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے اور اسی کی عبادت ہمیشہ قائم ہے (یا اسی کی فرمانبرداری لازم ہے) کیا تم خدا کے سوا دوسرے کسی سے ڈرتے ہو8

ف 8 اگر ڈرتے ہو تو یہ تمہاری سراسر حماقت اور نادانی ہو
Ayahs 16:53–54

وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَیْهِ تَجْئَرُوْنَۚ Open ayah 16:53 in the Quran reader

اور جتنی نعمتیں تمہارے پاس ہیں وہ بھی سب اللہ کی دی ہوئی ہیں پھر جب تم کو تکلیف پہنچتی ہے تو (بھی) اسی کے آگے بلبلاتے ہو (چلاتے ہو اسی سے فریاد کرتے ہو)

ثُمَّ اِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْكُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 16:54 in the Quran reader

پھر جب وہ تمہاری تکلیف دور کردیتا ہے تو (تم میں سے کچھ لوگ (جو اکفر ہیں) اپنے مالک کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں9

ف 9 بعض اپنے مالک کا شکر بجالانے کے ساتھ ساتھ کسی دیوی دیوتا یا کسی بزرگ کے شکر یہ کی بھی نیازیں اور نذریں چڑھانا شروع کردیتے ہیں۔
Ayah 16:55

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١۫ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:55 in the Quran reader

ان کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے دیے کی صجو نعمتیں ہم نے ان کو دی ہیں) ناشکری کریں خیر (چند روز) مرہ10 اٹھا لو آگے چل کر تم کو معلوم ہوگا

ف 10 کہ تمہارا دنیا و آخرت میں انجام کیا ہوتا ہے۔
Ayah 16:56

وَ یَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا یَعْلَمُوْنَ نَصِیْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْ١ؕ تَاللّٰهِ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:56 in the Quran reader

اور یہ لوگ (کافر) ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ حصہ کا ٹھہراتے ہیں جن کو شعور ہی نہیں1 ہے قسم خدا کی (کافرو) جو تم جھوٹ یا جیتے ہو (قیامت کے دن اس کی باز پرس تم سے ہوگی

ف 1 یا جن کی حقیقت انہیں معلوم نہیں ہے مراد میں مٹی اور پتھر کے وہ بت جنہیں مشرکین عرب اپنی جہالت اور لاعلمی سے اپنا معبود دیا اپنے نفع و نقصان کا مالک تصور کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ساتھ اپنے مویشویں اور اپنی کمائیوں سے ان کے نام کی منت اور نذر چڑھایا کرتے تھے حالانکہ مال سب اللہ کا ہے جس میں دوسرے کا حق نہیں اور پھر ان کے پاس اس چیز کی کوئی دلیل بھی نہ تھی۔ (وحیدی)
Ayah 16:57

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ١ۙ وَ لَهُمْ مَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 16:57 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اللہ کی بٹیاں ہیں (فرشتوں کو اللہ کی بٹیاں بناتے ہیں) وہ پاک ذات ہے2 اور ان کو من مانے بیٹے ملے3

ف 2 نہ اس کا کوئی بیٹا ہے اور نہ بیٹی۔ 3 یعنی خدا کے لئے تجیز بھی کرنے لگے ہیں تو بیٹیاں حالانکہ اپنے لئے ان کو ناپسند کرتے ہیں اور جب مانگتے ہیں تو بیٹے۔ (شوکانی)
Ayah 16:58

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ Open ayah 16:58 in the Quran reader

اور ان کافروں کا حال یہ ہے جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خبر دی جاتی ہے کہ تمہارے گھر بیٹی پیدا ہوئی تو مارے رنج کے اس کا منہ کالا پڑجاتا ہے اور گھٹ کر رہ جاتا ہے4

ف 4 کہ یہ بن بلائی مصیبت کہاں سے آن پڑی ہے۔
Ayah 16:59

یَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ١ؕ اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 16:59 in the Quran reader

بیٹی پیدا ہونے کی بری خبر کی وجہ سے اس کو دی گئی تھی لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے دل میں سوچتا ہے کیا اس کو ذلت کیساتھ رہنے دے یا اس کو مٹی میں دبا دے زندہ گارڈ ر سے جیسے اکثر مشرکین کیا کرتے تھے) سنو تو یہ کافر اللہ کے لئے کیا بری تجویز کرتے ہیں5

ف 5 یعنی خود اپنے لئے تو بیٹی کو اس قدر عار اور ننگ سمجھتے ہیں لیکن خدا کے لئے اسے بلاتامل تجویز کردیتے ہیں حالانکہ خدا کیلئے اولاد تجویز کرنا بجائے خود انتہائی جہالت اور ستاخی ہے تلک اذاً قسمۃ صبری یعنی یہ ایک بھونڈی تقسیم ہے۔ (نجم : 22)
Ayah 16:60

لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ١ۚ وَ لِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 16:60 in the Quran reader

جو لوگ آخرت کا یقین نہیں رکھتے6 انہیں کو ایسی بری باتیں مبارک رہیں7 اور اللہ کی تو وہ صفت ہے جو سب سے عمدہ تمام خلوقات کی مشابہت سے پاک اور وہ زبردست ہے حکمت والا

ف 6 یعنی مشرکین جن کا حال اوپر بیان کیا گیا ہے۔ 7 وہی اولاد کے محتاج ہیں۔ ان ہی کو بڑھاپے اور بیماری میں اولاد کے سہارے کی ضرورت ہے اور انہی کا یہ شیوہ ہے کہ عار یا افلاس کے خوف سے بیٹیوں کو زندہ درگور کر ڈالتے ہیں۔
Ayah 16:61

وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَیْهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 16:61 in the Quran reader

اور اگر اللہ بندوں کو ان کی نافرمانیوں پر جھٹ پکڑ لیا کرے تو ساری زمین پر ایک جاندار باقی نہ چھوڑے8 مگر وہ ان کو ایک ٹھہرے ہوئے وعدے تک مہلت دیتا ہے9 جب ان کا وعدہ آ پہنچتا ہے تو ایک گھڑی آگے یا پیچھے نہیں ہوسکتے

ف 9 اللہ تعالیٰ حلم اور پردہ پوشی سے کام لیتا ہے۔ یہاں ” داب 1“ سے مراد یا تو کافر اور گنہگار لوگ ہیں اور یا یہ ہر جاندار چیز کو شامل ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بنی آدم کے گناہوں کی نحوست کا اثر دوسرے جانوروں پر بھی پڑتا ہو جیسا کہ بعض آثار سے ثابت ہے اور یا دوسرے جانوروں پر ہلاکت انسان کے بالتبیع ہو (کذافی ابن کثیر) 9 یعنی جب تک ان کے لئے اس دنیا میں رہنا مقصدر ہے۔
Ayah 16:62

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ مَا یَكْرَهُوْنَ وَ تَصِفُ اَلْسِنَتُهُمُ الْكَذِبَ اَنَّ لَهُمُ الْحُسْنٰى١ؕ لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَ اَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ Open ayah 16:62 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ کے لئے وہ تجویز کرتے ہیں جو اپنے لئے پسند نہیں کرتے10 اور اپنی زبانوں سے جھوٹی باتیں نکالتے ہیں کہ آخرت میں) ان کو بھلائی ہوگی11 بیشک (بھلائی تو نہیں یہ ہوگا) ان کے لئے دوزخ کی آگ موجود ہے بلکہ اور دوزخیوں سے پہلے دوزخ میں12 جائیں گے

ف 10 جیسے بیٹیاں یا اپنی ملکیت ہیں کسی دوسرے کی شرکت یا گستاخی اور بدتمیزی کا معاملہ۔ (ابن کثیر) 11 کہتے ہیں کہ ہم دنیا میں بھی چین اور خوشحلای کے حقدار ہیں اور اگر آخرت آئی تو وہاں بھی انعام واکرام کے مستحق ہونگے۔ (ابن کثیر) 12 یا دوزخ میں جھنک دیئے جانے کے بعد انہیں قطعی فراموش کردیا جائیگا۔ اور وہ وہاں پڑے جلتے رہیں گے۔ مفسرین نے مفرطون کے یہ دونوں معنی بیان کئے ہیں اور دونوں میں کسی قسم کی منافات نہیں ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 16:63

تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِیُّهُمُ الْیَوْمَ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:63 in the Quran reader

قسم اللہ کی یعنی ہم کو اپنی قسم ہم تجھ سے پہلے کئی قوموں کی طرف پیغمبر بھیج چکے ہیں پھر شیطان نے ان کو بہکایا جو کام وہ کر رہے ہیں13 تھے وہی ان کو ان کی نظر میں اچھے کر دکھا ہے14 اب آپ (دنیا میں) شیطان ہی ان کا رفیق ہے1 ہے اور ان کو آخرت میں) تکلیف کا عذاب ہونیوالا ہے

ف 13 یعنی کفر و شرک کے جن برے کاموں کا وہ ارتکاب کر رہے تھے۔ 14 وہ سمجھے کہ بہت اچھے کام کر رہے ہیں چناچہ اس گھمنڈ میں آ کر انہوں نے انبیاء کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ 1 جو ان کے کسی کام نہیں آسکتا اور نہ ان کی فریاد کو پہنچ سکتا ہے۔ بعض مفسرین نے فھم ولیھم الیوم میں ھم ضمیر کا سرمرجع مکہ کو قرار دے کر اس جملہ کا یہ مطلب لیا ہے کہ شیطان جس نے پچھلے لوگوں کو بہکایا تھا وہی آج ان کفار مکہ کا رفیق ہے لہٰذا جو حشر ان کا ہوا وہی ان کا بھی ہوگا۔ اس آیت سے مقصد آنحضرت کو تسلی دینا ہے کہ آپ ان کفار کی حرکتوں سے نجیدہ اور کبیدہ خاطر نہ ہوں۔ (روح)
Ayahs 16:64–65

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ۙ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:64 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) ہم نے تجویز یہ کتاب اس لئے اتاری ہے کہ تو لوگوں سے وہ باتیں کھول کر بیان کردے جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں (توحید اور حشر و نشر کی باتیں) اور یہ کتاب ایمان والوں کو راہ سوجھانے والی اور رحمت ہے

وَ اللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ۠ Open ayah 16:65 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ ہی نے آسمان سے پانی برسایا پھر زمین کو مرے بعد اس پانی یس جلایا2 جو لوگ (دل لگا کر) سنتے ہیں ان کے لئے اس میں (خدا کی قدرت کی) نشانی ہے3

ف 2 پہلے مردے کی طرح خشک پڑی تھی۔ نہ اس میں زندگی کے کوئی آثار تھے۔ نہ گھاس پھونس نہ پھول پتیاں اور نہ کیڑے مکوڑے۔ اتنے میں بارش ہوئی اور وہ دیکھتے دیکھتے چند دنوں میں ہری بھری اور ترو تازہ ہوگئی اور اس میں ہر قسم کی سرسبزی و شادابی آگئی اور جگہ جگہ پانی کے چشمے پھوٹنے لگے کو یا مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندگی نصیب ہوئی۔ 3 اس سے وہ با آسانی سمجھ سکتے ہیں کہ جو خدا زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندگی عطا فرما سکتا ہے وہ انسانوں کو بھی انکے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرسکتا ہے۔ اس کے لئے کوئی چیز مشکل نہیں ہے۔
Ayahs 16:66–67

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَیْنِ فَرْثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ Open ayah 16:66 in the Quran reader

اور (لوگو) تم کو چوپائے جانوروں (گائے، بکری، اونٹ) ہیں بھی سوچنے کا موقع ہے ان کے پیٹوں میں جو چیزیں ہیں گوبر اور خون میں سے ہم تم کو خالص دودھ پلاتے ہیں (نہ اس میں خون کا رنگ ہے نہ گوبر کی بو ہے) پینے والے اس کو مزے سے (غٹ غٹ) پی جاتے ہیں

وَ مِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَ الْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 16:67 in the Quran reader

اور (اسی طرح) کھجور اور انگور کے پھلوں سے تم شراب بناتے ہو اور عمدہ کھانا4 جو لوگ عقل رکھتے ہیں ان کے لئے اس میں (خدا کی قدرت کی) نشانی ہے

ف 4 یعنی انکے پھلوں سے تم نشہ آور شراب بھی کشید کرتے ہو اور کھانے پینے کی دوسری عمدہ چیزیں بھی جیسے شربت سرکہ اور شکر وغیرہ واضح رہے کہ یہ آیت مکی ہے اور شراب مکہ میں حرام نہ ہوئی تھی بلکہ ہجرت کے بعد مدینہ میں حرام ہوئی تھی نزول آیت کے وقت لوگ اسے بلاتامل استعمال کرتے تھے۔ تاہم دوسری عمدہ چیزوں سے اس کا الگ ذکر کر کے اور اس کے لئے لفظ سکر استعمال کر کے متنبہ فرما دیا ہے کہ اس کا استعمال اچھا نہیں۔
Ayah 16:68

وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَۙ Open ayah 16:68 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) تیرے مالک نے شہد کی مکھی کو سکھلایا5 یا کہ پہاڑوں اور درختوں اور چھتوں میں گھر بنا (یعنی چھتے لگا)

ف 5 یعنی اس کی فطرت میں یہ چیز ڈالی صوفیہ کرام نے وحی کو حقیقی معنی پر مجمول کیا ہے اور وہ حیوانات کی جمیع صاف میں انبیاء اور رسل کے قائل ہیں اور فلاسفہ جملہ حیوانوں میں نفس ناطقہ مانتے ہیں مگر یہ شرعاً ثابت نہیں۔ (روح)
Ayah 16:69

ثُمَّ كُلِیْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِیْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا١ؕ یَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:69 in the Quran reader

پھر ہر قسم کے پھل (اور پھول) چوستی6 رہ پھر الوٹ کر) اپنے مالک کے آسان رستوں میں چلی جا7 (اور چھتے میں داخل ہوجا) اس کے پیٹ سے ایک پینے کی چیز نکلتی ہے (یعنی شہد) کئی طرح کے رنگ کی8 اس میں لوگوں کی تندرستی (شفا)9 ہے (کئی بیماریوں کے لئے) جو لوگ غور کرتے ہیں ان کے لئے اس میں (خدا کی قدرت کی) نشانی ہے10

ف 6 شہد کی مکھیاں ایک عجیب و غریب طریقہ سے اپنا کام کرتی ہیں۔ پہلے چھتا بناتی ہیں پھر سب مل کر ایک بڑی مکھی کو اپنا سردار مقرر کرتی ہیں جسے ” یعسوب “ کہا جاتا ہے۔ پھر اس کے ماتحت چھتا میں شہد بھرنا شروع کرتی ہیں۔ اسی کی طرف یہاں اشارہ ہے۔ (ابن کثیر) 7 چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات شہد کی مکھیاں رس چوسنے کے لئے بہت دور نکل جاتی ہیں اور پھر بےتکلف اپنے چھتا میں واپس آجاتی ہیں نہ راستہ بھولتی ہیں اور نہ کوئی مکھی اپنے چھتے کے علاوہ دوسرے چھتے میں داخل ہوتی ہے۔ (ابن کثیر) 8 یعنی کوئی شہد سفید ہوتا ہے کوئی سرخ اور کوئی زرد اور یہ اختلاف محض ضائع حکیم کی قدرت کا مظہر ہے۔ (روح) 9 شہد ایک مفید اور لذیذ غذا بھی ہے اور ایک فائدہ مند اور صحت بخش دوا بھی۔ اس کے بہت سی بیماریوں میں شفا بخش ہونے کے بارے میں متعدد احادیث بھی ثابت ہیں۔ ایک حدیث میں ہے آنحضرت نے فرمایا : شفا تین چیزوں میں ہے فصد کھلوانے میں شہد کے پینے میں اور آگ سے داغنے میں اور میں اپنی امت کو آگ سے داغنے سے منع کرتا ہوں۔ اسی طرح ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ آنحضرت نے ایک شخص کے لئے شہد تجویز فرمایا۔ شہد کے استعمال سے اس کی استہال کی تکلیف بڑھ گئی۔ اس کے دو تین مرتبہ آنحضرت کے سامنے تردد ظاہر کرنے پر آنحضرت نے فرمایا :” اللہ نے سچ فرمایا ہے تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے تم اسے شہد پلاتے رہو۔ “ اس نے مزید شہد پلایا اور وہ تندرست ہوگیا۔ (بخاری مسلم) 10 یعنی جس طرح جانوروں کے پیٹ سے دودھ، انگوروں کھجروں سے رزق حسن اور مکھی کے پیٹ سے شہد پیدا ہوتا ہے اسی طرح اس قرآن سے جاہلوں کی اولاد سے عالم پیدا ہوں گے۔ دور نبوت میں یہی ہوا اور کافرون کی اولاد کامل ہوئی۔
Ayah 16:70

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۙ۫ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 16:70 in the Quran reader

اور لوگو) اللہ ہی نے تم کو پیدا کیا پھر وہی تمہاری جان نکالتا ہے اور تم میں سے کوئی نکمی (خراب) عمر کو پہنچ جاتا ہے اس لئے کہ بہت کچھ) جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے2 بیشک اللہ جانتا ہے قدرت والاف 3(سب کچھ کرسکتا ہے)

ف 1 حیوانات میں قدرت کے دلائل بیان کرنے کے بعد اب خود انسان کے اندر جو دلائل پائے جاتے ہیں ان کو بیان فرمایا اور حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی ابدتائے نشات سے لے کر عالم شباب، کہولت اور سب سے آخر میں شیخوختہ ان مختلف اطوار پر غور کرے تو صانع حکیم کے علم وقدرت کا عجیب نقشہ سامنے آتا ہے کہ عمر کی اس منزل میں پہنچ کر انسان بالکل بچہ بن جاتا ہے اور اس کی بےبسی کا عالم یہ ہوتا ہے کہ اس کے ہوش و حواس سلب ہوجاتے ہیں اور کوئی اس کی حفاظت کرنے والا نہیں ہوتا۔ اسے قرآن نے ارزدل العمر قرار دیا ہے۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت نکمی عمر کی طرف لوٹائے جانے سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ فتح القدیر) 2 یعنی اس امت میں بھی کامل پیدا ہو کر پھر ناقص ہونے لگیں گے۔ (موضح)
Ayah 16:71

وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ١ۚ فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِهِمْ عَلٰى مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَهُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ١ؕ اَفَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 16:71 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ایک کو دوسرے سے زیادہ روزی دی ہے پھر جن کو زیادہ روزی ملی ہے وہ اپنی روزی اپنے غلاموں کو دنیے والے نہیں اور غلاموں کو مال و دولت میں) اپنے برابر کرنے والے3 نہیں کیا یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کے منکر ہیں4 ہیں

ف 3 پھر اللہ کے عبید (غلاموں) کو اس کے شریک کیوں قرار دیتے ہو 4 یعنی کفران نعمت کر کے دوسروں کو اس کا شریک گردانتے ہیں۔
Ayah 16:72

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِیْنَ وَ حَفَدَةً وَّ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ یَكْفُرُوْنَۙ Open ayah 16:72 in the Quran reader

اور اللہ نیتم ہی میں سے تمہاری بیبیوں کو بنایا اور تمہاری بی بیوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے اور نواسے پیدا کئے (یا بیٹیاں یا سسرالی رشتہ دار) اور تم کو مزیدار چیزیں کھانے کو دیں کیا یہ لوگ جھوٹ کو (بوتوں کو) تو مانتے ہیں5 اور اللہ کے احسان کو نہیں مانتے6

ف 5 یعنی ان کا احسان مانتے ہیں کہ ان ہی نے بمیاری سے شفا دی، بیٹا دیا یا روزی بخشی۔ 6 جو سچا معبود ہے اور تمام احسانات اسی کے ہیں مگر یہ بتوں اور بزگروں کے احسان مانتے ہیں کہ تندرستی بیٹے اور روزی یہ دیتے ہیں حالانکہ یہ سب جھوٹ باطل ہے سچی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ دینے والا اللہ تعالیٰ ہے جس کے مشرک شکر گزار نہیں ہوتے۔ (کذافی الموضح )
Ayah 16:73

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَۚ Open ayah 16:73 in the Quran reader

اور یہ لوگ (مشرک) اللہ کے سوا ان چیزوں کو پوجتے ہیں جو آسمان اور زمین سے روزی دینے کا کوئی اختیار ہی نہیں رکھتے7 نہ ان کو صکچھ بھی) طاقت ہے8

ف 7 یعنی نہ وہ آسمان سے پانی برسا سکتے ہیں اور نہ زمین سے کوئی چیز اگا سکتے ہیں اور نہ جو چیز اگے اسے باقی رکھ سکتے ہیں۔ 8 یا نہ وہ ایسا اختیار حاصل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے محبور محض ہیں۔
Ayah 16:74

فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:74 in the Quran reader

تو اللہ تعالیٰ کے لئے (دنیا والوں کی طرح) مثالیں نہ بیان کرو9 اوہ مخلوقات کی مشابہت سے پاک ہے اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے10

ف 9 مشرک کہتے ہیں کہ جس طرح بادشاہوں کے وزیر اور درباری اس کی سلطنت میں دخیل ہوتے ہیں اور بادشاہ کو ان کی بات سننی پڑتی ہے اسی طرح ہمارے یہ معبود اوتار اور بیٹھا کر بھی اللہ کی سرکار میں صاحب اختیار ہیں اس واسطے ہم ان کو پوجتے ہیں۔ سو یہ مثال غلط ہے، بادشاہ تو سب کام خود نہیں کرسکتے مگر اللہ تعالیٰ ہر چیز آپ کرتا ہے اور اس پر کسی کارتی برابر بھی دبائو نہیں ہے (وحیدی، موضح)
Ayah 16:75

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ یُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّ جَهْرًا١ؕ هَلْ یَسْتَوٗنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:75 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ ایک مثال بیان کرتا ہے ایک شخص غلام ہے دوسرے بندے کے ملک جو کسی بات کا اختیار نہیں رکھتا11 اور ایک شخص وہ ہے جس کو ہم نے اپنے پاس سے اچھی دولت دے رکھی ہے وہ پیچھے اور کھلے اسمیں سے خرچ کرتا رہتا ہے کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے12 ہیں شکر اللہ کا بس تم قائل ہوچکے) لیکن بات یہ ہے) ان کافروں میں اکثر ان باتوں کو نہیں جانتے1

ف 10 مگر اپنی بےوقوفی سے اللہ تعالیٰ کو دنیا کے بادشاہوں پر قیاس کرتے ہو اور سمجھتے ہو کہ اللہ ان کی سفارش رد نہیں کرسکتا۔ یہ تمہاری بےعقلی اور بےسمجھی ہے۔ لہٰذا تم اللہ کے لئے اس قسم کی مثالیں بیان نہ کرو۔ اب آگے دو مثالیں بیان کی جاتی ہیں ان پر غور کرو۔ (وحیدی) 11 یعنی ایسا غلام ہے جو اپنے مالک کی اجازت کے بغیر ایک کوڑی بھی خرچ نہیں کرسکتا۔ 12 ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔ بس یہی مثال ہے بت اور اللہ تعالیٰ کی بلکہ بت اس غلام سے بھی کیا گزرا ہے کیونکہ وہ تو پھر بھی ہوش و حواس اور شعور رکھتا ہے اور اپنے نفس سے حتی الوسع دفاع کرسکتا ہے مگر یہ بےجان اور بےشعور بت کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ پھر کس قدر بےانصافی ہے کہ تم اسے خدائے زوا الجلال کے برابر شمار کرتے ہو جو ہر چیز کا مالک اور ہر چیز پر کامل اختیار اور قدرت رکھنے والا ہے۔ یہی مثال ایک کافر اور مومن کی بھی ہوسکتی ہے۔ کافر بتوں کا مملوک اور اپنے اوہام و خواہشات کا کان پکڑا غلام ہے۔ کیا وہ اس مومن کے برابر ہوسکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے علم و دولت سے نوازا ہے۔ (وحیدی) 1 ورنہ ہرگز خدا کو چھوڑ کر ان بتوں کی پوجا نہ کرتے۔
Ayah 16:76

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَیْنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبْكَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ هُوَ كَلٌّ عَلٰى مَوْلٰىهُ١ۙ اَیْنَمَا یُوَجِّهْهُّ لَا یَاْتِ بِخَیْرٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیْ هُوَ١ۙ وَ مَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ١ۙ وَ هُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ Open ayah 16:76 in the Quran reader

اور اللہ ایک اور مثال بیان کرتا ہے وہ مرد ہیں ایک ان میں گونگا جو بہرہ بھی ہوتا ہے وہ غلام ہے ض کچھ نہیں کرسکتا2 اپنے مالک پر (اس کا رہنا) ایک بوجھ ہے جہاں کہیں وہ (یعنی مالک) اس کو بھیجتا ہے وہ کام بنا کر نہیں3 آتا کیا یہ (بےمصرف غلام) اور وہ (ہوشیار اور عقلمند) شخص برابر ہے جو (اپنے کا متو درست رکھتا ہی ہے دوسرے لوگوں کو بھی سیدھی روش سکھلاتا ہے اور آپ بھی سیدھی روش پر ہے4

ف 2 نہ اپنا کچھ کرسکتا ہے اور نہ دوسروں کے کام آسکتا ہے۔ 3 کیونکہ نہ حواس رکھتا ہے اور نہ عقل، اس لئے کسی بھی کام کے لائق نہیں پھر اس کے بھیجنے سے فائدہ کی بجائے الٹا نقصان ہوتا ہے۔ 4 بت بہرے گونگے غلام کی طرح ہیں اور اللہ تعالیٰ اس عاقل و دانا شخص کی طرح یا کافر بہرے گوگنے غلام ہیں اور مومن عاقل و دانا شخص کی طرح پھر ان کو برابر کیسے قرار دیا جاسکتا ہے
Ayah 16:77

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 16:77 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین میں5 غیب کی باتیں اللہ ہی کو معلوم ہیں اور قیامت کا قائم ہونا ( اللہ تعالیٰ کے نزدیک) ایسا ہے جیسے آنکھ جھپکنا یا اس سے بھی کم6 بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ کرسکتا ہے

ف 5 غیب سے مرد وہ باتیں ہیں جو بندوں کے لحاظ سے پوشیدہ ہیں۔ 6 یعنی یا اس سے بھی کم ویژن اللہ تعالیٰ قیامت کو لاسکتا ہے اس کے لئے کوئی کام ذرہ مشکل نہیں ہے۔
Ayah 16:78

وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا١ۙ وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:78 in the Quran reader

اور (لوگو) اللہ تعالیٰ نے تم کو تمہاری مائوں کے پیٹوں سے نکالا اس وقت تم کچھ نہیں جانتے تھے اور تم کو سننے کو کان دیئے اور دیکھنے کو آنکھیں دیں اور سوچنے سمجھنے کو دل دیئے اس لئے کہ تم شکر کرو7

ف 7 یعنی اس خدا کا شکر کرو جس نے تمہیں بےبہا نعمتیں عطا فرمائیں اور اس کے سوا کسی کو نہ پوجو۔ (وحیدی)
Ayah 16:79

اَلَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیْ جَوِّ السَّمَآءِ١ؕ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:79 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا وہ ادھر بیچ آسمان کے حکم کے تابعدار ہیں اڑ رہے ہیں اللہ تعالیٰ ہی ان کو سمھلاتا ہے8 بیشک جو ایماندار ہیں ان کے لئے اس میں (ایک قدرت) کی نشانی ہے9

ف 8 ان کے پروں بازوئوں اور (دموں) کی ساخت ایسی رکھی ہے کہ ہوا ان کا بوجھ اٹھا لیتی ہے اور وہ اس میں نہایت آسانی سے اڑتے رہتے ہیں۔ 9 یعنی بعض لوگ معاش کی فکر میں مشغول ہونے کی وجہ سے ایمان لانے سے رکے ہوئے ہیں۔ پس فرمایا کہ تم ماں کے پیٹ سے تو کچھ نہیں لائے۔ اسباب کمائی کان آنکھ دل اللہ نے دیئے ہیں اور اڑتے جانور ادھر میں کس کے بھروسے جیتے ہیں۔ (موضح)
Ayah 16:80

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُیُوْتِكُمْ سَكَنًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُیُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَهَا یَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَ یَوْمَ اِقَامَتِكُمْ١ۙ وَ مِنْ اَصْوَافِهَا وَ اَوْبَارِهَا وَ اَشْعَارِهَاۤ اَثَاثًا وَّ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 16:80 in the Quran reader

اور اللہ نے تمہارے گھروں کو تمہارے لئے ٹھکانا بنایا ( کام کاج کر کے ان میں آرام لیتے ہو) اور چوپائے جانوروں کی کھالوں سے تمہاریلئے ڈیرے بنائے جب تم سفر میں کوچ کرتے ہو10 اور جب تم ٹھہرتے ہو تو ان کو ہلکا (پھلکا) پاتے ہو (اسو جہ سے سفر میں سالتھ لیجاتے ہو) اور ان کی اون اور روئیں اور بالوں سے کسی طرح کے سامان اور کام کی چیزیں ایک وقت تک1

ف 10 یعنی چمڑے کے خیمے بناتے ہو جو عرب میں بہت استعمال ہوتے ہیں۔ اس سورة میں خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ اس بنا پر اس کو ” سورة النعم “ بھی کہتے ہیں۔ 1 یعنی زندگی یا جب تک قیامت نہیں آئے گی تم انہیں استعمال کرنے والوں سے فائدہ اٹھاتے رہو گے۔