16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 16:81

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمْ بَاْسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ Open ayah 16:81 in the Quran reader

اور ان گھروں کے سوا جو لوگ بالکل مقدور نہیں رکھتے ان کی آسائش کے لئے) اللہ نے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں سے (جیسے جھاڑ پہاڑ وغیرہ) تمہارے لئے سائے بنائے اور پہاڑوں میں چھپ رہنے کی غار ( یا تراشے ہوئے مکان اور تمہارے لئے کپڑے کے) کرتے بنائے جو تم کو گرمی اور سردی2 اسے بچاتے ہیں اور (لوہے کے) کرتے (زر میں جو شن وغیرہ) جو لڑائی میں) تم کو تمہاری مار سے بچاتے ہیں یعنی ایک دوسرے پر جب وار کرتے ہو) اللہ تعالیٰ اسی طرح جیسے میب نعمتیں تم کو دیں اپنا احسان تم پر پورا کرتا ہے اس لئے کہ تم اس کا حکم مانو3

ف 2 اور سردی سے بھی چونکہ سخت گرمی اور بادسموم سے بچنے کے لئے کپڑوں کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ اس لئے گرمی سے بچنے کا ذکر خصوصیت کے ساتھ فرما دیا۔ (شوکانی) 3 یعنی سلمان بنو اس لئے جو شخص اللہ تعالیٰ کی بےپایاں نعمتوں پر غور کرے گا ضرور ہے کہ وہ یہاں بلکہ میں کی اطاعت اختیار کرے۔
Ayah 16:82

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:82 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ اتنا سمجھانے پر بھی نہ مانیں تو تیرے ذمہ کھول کر اللہ کا حکم دینا ہے4

ف 4 ان کے نہ ماننے سے آپ کا کوئی نقصان نہ ہوگا اس لئے آپ غم نہ کیجیے بلکہ تبلیغ کا فریضہ ادا کرتے جائیے۔ اس میں آنحضرت کو تسلی دی ہے۔
Ayahs 16:83–84

یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ یُنْكِرُوْنَهَا وَ اَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 16:83 in the Quran reader

یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کو خوب پہنچانتے ہیں پھر جان بوجھ کر ان کو نہیں مانتے اور ان میں اکثر ناشکرے ہیں

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 16:84 in the Quran reader

اور وہ دن یاد کرو جس دن ہم ہر امت میں سے ایک گواہ اٹھائیں گے6 پھر جو لوگ دنیا میں کافر7 ہے ان کو بولنے کی یا غدر کرنے کی اجازت نہ ہوگی اور نہ وہ لوٹنے پائیں گے8 کے

ف 5 یعنی خوب دبانتے ہیں کہ یہ ت مام نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی کی ذات عنایت فرما رہی ہے مگر جب عملاً شکر گزاری کا وقت آتا ہے تو سب بھول جاتے ہیں اور بخرک کرنے لگتے ہیں۔ گویا دل میں نعمتوں کا متوار اور اپنے عمل سے انکار کرتے ہیں۔ 6 ان کا پیغمبر اللہ کے سامنے کو ہوگا اور ان کے حق میں ایمان و تصدیق کی گواہی دے گا۔ (بشرطیکہ یہاں لا کر پیروی کی ہوگی اور اگر انحراف کیا ہوگا تو ان کے خلاف کفر و تکذیب کی گواہی دے گا۔ اس میں منکرین نعمت کے لئے وعید ہے۔ شوکانی 7 یعنی ان کا مجرم ہونا اتنا واضح ہوگا کہ ان کے پاس کوئی عذر یا بحث نہیں ہوگی جس کے بیان کرنے کی اجازت دی جائے۔ 8 یا نہ انہیں (اپنے رب کو) راضی کرنے کا موقع دیا جائے گا یعنی نیک عمل کر کے کیونکہ آخرت عمل کا کفر نہیں ہے عمل کا گھر دنیا ہے اور دنیا کی طرف پلٹنا ممکن نہیں۔ (قرطبی)
Ayah 16:85

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 16:85 in the Quran reader

اور جب یہ ظالم (مشرک) عذاب دیکھیں گے (دوزخ میں داخل ہونگے) تو پھر کسی صورت سے) انکا عذاب ہلکا نہ ہوگا اور نہ ان کو مہلت ملے گی9

ف 9 یعنی نہ عذاب کی شدت میں کمی کی جائے گی اور نہ کسی قسم کی مہلت دی جائے گی۔ اذلاتوبۃ لہم ثم (قرطبی)
Ayah 16:86

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِیْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ١ۚ فَاَلْقَوْا اِلَیْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 16:86 in the Quran reader

اور جب یہ مشرک ان کو دیکھیں گے جن کو دنیا میں خدا کا شریک بنایا تھا تو بول اٹھیں گے مالک ہمارے یہی ہیں وہ شریک ہمارے جن کو ہم صدنیا میں) تیرے سوا پکارتے تھے وہ الٹ کر ان کو جواب دیں گے تم تو بالکل جھوٹے ہو10

ف 10 یعنی جن کو انہوں نے معبود بنا رکھا ہے وہ ان کی تکذیب کریں گے کہ ہم نے کب کہا تھا کہ خدا کو چھوڑ کر ہمیں پکارا کرو۔ تم اگر ہمیں پکارتے رہے ہو تو غلط پکارتے رہے ہو اس کی سزا خود بھگتو ہم پر اس کی ذمہ داری کیوں تھوپتے ہو کہتے ہیں کہ مشرکین کو روسا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ بتوں کو گویائی عطا فرمائے گا۔ ( شوکانی) شاہ صاحب لکھتے ہیں جو لوگ پوجتے ہیں بزرگوں کو وہ بزرگ بےگناہ ہیں۔ ایک شیطان اپنا ہی نام رکھ کر آپ کو بجھواتا ہے اس لئے ان کو کہیں گے کہ تم جھوٹے ہو۔ (موضح)
Ayah 16:87

وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَئِذِ اِ۟لسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:87 in the Quran reader

اور آخر کافر لوگ اس دن اللہ کے سامنے سر جھکائیں گے اور عاجز ہو کر جو حکم ہوگا مان لیں گے اور جتنی جھوٹی باتیں دنیا میں بنایا کرتے تھے11

ف 11 نہ کوئی بت ان کے کام آئے گا نہ کوئی مشکل کشا ان کی مشکل آسان کرے گا اور نہ کوئی دیوتا یا ٹھاکر یا غوث یا ہر پیر ایسا ہوگا جو آگے بڑھ کر ان کی سفارش کرسکے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے چھٹکارا دلا سکے۔ (وحیدی)
Ayah 16:88

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ Open ayah 16:88 in the Quran reader

وہ سب کئی گذری ہوجائیں گی جو لوگ (خود) کافر رہے اور (دوسروں) کو اللہ کی راہ سے روکتے رہے (ان کو بھی مسلمان نہ ہونے دیا) ان کو شرارت کے بدل عذاب پر عذاب ہم بڑھاتے جائیں گے (1)

ف 1 کیونکہ ان کا جرم بھی اسی نوعیت کا ہوگا۔ انہیں ایک عذاب تو خود کافر رہنے کا دیا جائے گا اور دوسرا عذاب اس چیز کا کہ انہوں نے دوسروں کو بہکایا اور انہیں اللہ کی راہ سے روکا۔ (قرطبی)
Ayah 16:89

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا عَلَیْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِیْدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 16:89 in the Quran reader

اور (وہ دن یاد کر) جس دن ہم ہر امت میں انہی میں سے ایک گواہ اٹھائیں گے2 اور (اے پیغمبر) تجھ کو ان لوگوں پر یعنی آخری زمانہ کی امت پر) گواہ بنا کر لائیں گے3 اور ہم نے تجھ پر یہ کتاب اتاری یعنی قرآن مجید جس میں ہر چیز کا اچھا بیان ہے4

ف 2 یعنی ان کا پیغمبر جو ان پر اتمام حجت کے لئے گواہی دے گا کہ ان لوگوں نے حق و باطل کی کشمکش میں گیا رویہ اختیار کیا 3 صحیحین میں روایت ہے کہ آنحضرت نے عبداللہ بن معسود کو سورة نسا تلاوت کرنے کا حکم دیا۔ جب وہ اسی سورت کی اس مضمون والی آیت 14 پر پہنچے تو آنحضرت کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ زمانہ فشرت میں بھی توحید پرست لوگ رہے ہیں جو قیامت کے دن بطور شاہد پیش ہوں گے واللہ اعلم دیکھیے سورة بقرہ آیت 43 و نسا آیت 4 4 یعنی حلال و حرام اور ہر اس چیز کا بیان ہے جس پر دنیا و آخرت میں انسان کی ہدایت و ضلالت اور فرلاح و خسران کا انحصار ہے پھر جن احکام کو قرآن نے مجملاً بیان کیا ہے یا ان کے بیان کو چھوڑ دیا ہے۔ ان میں پیغمبر کی اطاعت کو فرض قرار دے کر سنت کی طرف رجوع کا حکم دیا ہو۔ شوکانی
Ayah 16:90

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِ١ۚ یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:90 in the Quran reader

اور مسلمانوں کو (دین کی سچی) راہ بتانے والی اور رحمت اور خوشخبری ہے اللہ تعالیٰ سچ کی راہ پر چلنے کا اور احسان کرنے کا حکم دیتا ہے اور (جو اپنے خرچ سے بچ رہے وہ) ناطے والوں کو5 دینے کا اور بےحیائی (فسق و فجور جیسے زنا لواطت وغیرہ) اور برے کام (جو شرع کے خلاف ہو) اور ظلم سے6 یا بغاوت اور حسد سے منع کرتا ہے البتہ تمک و اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم یاد رکھو (یا اس کا خیال رکھو

ف 5 اس آیت میں تین ایسی جامع چیزوں کا حکم دیا گیا ہے جن پر ان کے سارے انفرادی و اجتماعی معاملات کی درستی کا انحصار ہے بیٹی عدل احسان اور ایثار ذی القربی عدل سے مراد یہ ہے کہ عقیدہ و عمل میں اعتدال کی وہ اختیار کرنا احسان میں فرائض و نوافل کی ادائی اور خلق خدا کے ساتھ ہر قسم کا نیک سلوک آجاتا ہے ایک حدیث میں نہایت اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کو احسان فرمایا ہے اور پھر حقوق العباد کے معاملے میں رشتہ داروں کے حقوق پر خصوصیت کے ساتھ زور دیا گیا ہے۔ 6 اوپر تین بھلائی کے کاموں کا ذکر کر کے ان کے مقابلہ میں تین ایسی برئایوں سے منع کیا گیا ہے جو مسلمانوں کے تمام انفرادی اور اجتماعی معاملات کو بگاڑ کر رکھ دینے والی ہیں۔ اس لئے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ اس آیت میں تمام بھلائیوں اور برائیوں کا ذکر آگیا ہے حضرت عثمان بن مظعون کے دل میں اسی آیت کو سن کر ایمان و اخلاص راسخ ہوا۔ ابوطالب نے جب یہ آیت سنی تو کہنے لگا میرا بھتیجا (ﷺ) مکارم الخاق کی تعلیم دیتا ہے۔ الغرض اس آیت کی جامعیت کا کفار نے بھی اقرار کیا۔ (قرطبی)
Ayah 16:91

وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَیْكُمْ كَفِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 16:91 in the Quran reader

اور اللہ کا قرار پورا کرو جب تم قرار کرو7 اور قسموں کو پکا کرنے کے بعد ان کو8 نہ توڑو جس حال میں تم اللہ تعالیٰ کو اپنا ضامن کرچکے ہو بیشک اللہ تعالیٰ جو تم کرتے ہو وہ جانتا ہے (اگر تم قسم یا عہد کو توڑ دو گے تو وہ تم کو سزا دے گا)

ف 7 احکام الٰہی کا عہد یا باہم ایک دوسرے سے جائز طور پر کئے گئے عہد و پیمان شوکانی 8 یہ مطلب نہیں کہ جن قسموں کو پکار نہ کیا گیا ہو ان کا توڑنا جائز ہے کیونکہ وہ ہر معاملہ جس پر قسم کھائی جائے وہ پکا ہوجاتا ہے اور پھر بلاعذر اس کا توڑنا ناجائز نہیں ہے اگر کسی قسم سے اللہ و رسول کی نافرمانی لازم آتی ہو تو ایسی قسم کا توڑنا ضروری ہے جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص قسم کھائے اور پھر دیکھے کہ خیز دوسری چیز یعنی اس کے توڑنے میں ہے تو اسے چاہیے کہ اس دوسری چیز کو اختیار کرے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔ (بخاری و مسلم) اور یمین لغو کا حکم پہلے گزر چکا ہے۔ (دیکھیے بقرہ آیت 225 اور مائدہ آیت 89)
Ayah 16:92

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا١ؕ تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ١ؕ اِنَّمَا یَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ١ؕ وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:92 in the Quran reader

اور قسم توڑنے میں) اس عورت کی طرح نہ ہو جس نے اپنا کا تا ہوا سوت مضبوط کرنے (بٹنے اور درست کرنے یا محنت اٹھانے) کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کر کے توڑ ڈالا9 تم اپنی قسموں کو آپ میں مکر ( اور فریب یا فساد) کا ذریعہ کرتے ہو اس لئے کہ ایک گروہ کو دوسرے گروہ سے زور آور پاتے ہو1 اللہ تعالیٰ نے جو ایک گروہ کو زبردست کیا ہے اور دوسرے کو کمزور) اس سے تمہاری آزمائش کرتا ہے11 وہ بیشک جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو قیامت کے دن ان کو جکھول کر تم سے بیان کر دے گا

ف 9 یہ ایک تشبیہ ہے جو قسموں کو پختہ کرنے کے بعد ان کو توڑنے والوں کے لئے بیان کی گی ہے۔ ضرویر نہیں کہ ایسی عورت کہیں پائی بھی گئی ہو اگر یہ ان جرتیر اور ابن ابی حاتم کی بعض روایات میں ہے کہ مکہ میں ایک پاگل عورت تھی و نبوت کا تتی اور پھر سے خوب بٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتی۔ حضرت ابن عباس اور مجاہد کہتے ہیں کہ اس آیت میں قسمیں توڑنے والوں کو اس عورت سے تشبیہ دی گی ہے واللہ اعلم فیضا القربی) 10 یعنی کسی گروہ سے اس لئے بدعہدی نہ کرو جب تم نے عہد ……موجود تھے اور یہ سمجھو طاقت ور تھا اور اب تم طاقتور ہوگئے ہو اور یہ کمزور ہوگیا ہے یا اب تمہیں اس سے زیادہ طاقتور کوئی دوسرا حلیف مل گیا جیسا کہ اہل جاہلیت کرتے تھے۔ شوکانی (قرطبی) اور جیسا کہ اس آنے میں اہل مغرب کا عام دستور ہے۔ 11 کہ تم اپنے عہد پر قائم رہتے ہو یا دسروں گروہ کو طاقتور یا کمزور پا کر اپنے عہد کا خیال چھوڑ دیتے ہو۔ (قرطبی)
Ayah 16:93

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:93 in the Quran reader

اور اگر خدا چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا سب کا دین اور مذہب ایک ہی ہوتا مگر وہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے1 راہ پر لاتا ہے اور تم جو دنیا میں کر رہے ہو (قیامت میں) تم کو اس کی ضرور باز پرس ہوگی

ف 1 یعنی اسے قدرت حاصل تھی کہ تمہارے درمیان اختلافات نہ رہنے دیتا مگر اس کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ تمہیں اپنے حق خودارادیت کا پورا موقع دے۔
Ayah 16:94

وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَا وَ تَذُوْقُوا السُّوْٓءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَكُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:94 in the Quran reader

اور اپنی قسموں کو آپ میں مکر فریب یا فساد کا ذریعہ مت کرو ایسا نہ ہو کہ اسلام پر تمہارا قدم جم جانے کے بعد پھر اکھڑ جائے3 قسم توڑ کر پھر کافروں میں شریک ہو ائو) اور اللہ کی راہ سے روکنے کی سزا میں4 تم کو تکلیف پہنچے اور سخت عذاب ہو5

ف 2 اس سے معلوم ہوا کہ کافر کو بد عہدی کر کے نہ ماریئے۔ ایسی باتوں سے کفر تو مٹتا نہیں الٹا وہاں آتا ہے۔ (موضح) 3 یعنی ایسا نہ ہو کہ تمہاری بدعہدی کو دیکھ کر لوگ مرتد ہوجائیں یا نقض عہد کرنے والا خود کفر میں مبتلا ہوجائے۔ (شوکانی) 4 اور تم لوگوں کو سلام سے روکنے کا ذریعہ بن جائو اور تم پر اس کا وبال آجائے۔ 5 اور آخرت کے عذاب عظیم میں مبتلا کردیئے جائو۔ مطلب یہ کہ اسلام کو بدنام نہ کرو کہ ایمان لانے والے شک میں پڑجائیں جس کا گناہ تم پر پڑے گا۔ (موضع)
Ayah 16:95

وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:95 in the Quran reader

اور اللہ کے ساتھ جو عہد کیا تھا (قسم کھائی) اس کے بدل دنیا کا تھوڑا سا فائدہ مت قبول کرو کیونکہ اللہ کے پاس جو تم کو ثواب ملنے والا ہے وہ تمہارے لئے (دنیا کے مال و متاع سے کہیں) بہتر ہے6 اگر تم سمجھو

ف 6 اوپر کی آیتوں میں باہمی معاہدوں کی پابندی پر زور دیا۔ اب بتایا کہ ایمان لا کر جو اللہ تعالیٰ سے عہد باندھا ہے اس کے توڑنے سے بچو، یعنی مال کی طمع میں آ کر شریعت کی خلاف ورزی نہ کرو جو مال خلاف شرع ہاتھ آوے وہ موجب وبال ہے جو مال شریعت کے موافق ہاتھ آئے تمہارے حق میں وہی بہتر ہے۔ (موضح)
Ayah 16:96

مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ١ؕ وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:96 in the Quran reader

(اسکی وجہ یہ ہے کہ) تمہارے پاس جو ہے وہ نبڑنے والاف 7 ہے اور اللہ کے پاس جو ہے وہ ہمیشہ باقی رہے گا (اس کو فنا اور زوال نہیں ہے) اور جن لوگوں نے صبر کیا8 ان کو ہم ضرور ان کے بہتر کاموں کا بدلہ دیں گے9

ف 7 چاہے وہ مقدار کے لحاظ سے کتنا ہی زیادہ ہو۔ 8 یعنی جنہوں نے دنیوی لالچ کے مقابلے میں حق و صداقت کا دامن ن چھوڑا۔ 9 فرض سنت، مستحب سب بہتر کام ہیں اس لئے ان سب کا اجر ملیگ ا۔ اس اعتبار احسن کے مقابل ہمیں حسن کو مباح کہا جائے گا جو باعث ثواب نہیں ہوتا کیونکہ جزا صرف طاعت کے کاموں پر ملتی ہے۔ (شوکانی) یا دوسرا ترجمہ یہ ہوسکتا ہے کہ ہم انہیں ان کے اعمال کا بہترین بدلہ دیں گے جیسا کہ فرمایا : من جاء بالحسنۃ فلہ مشر امثالھا۔ یا ہم کسی عمل کے ادنیٰ فرد کی جزا بھی اس کے اعلیٰ فرد کے مطابق دیں گے۔ (کذافی الشوکانی والقرطبی)
Ayah 16:97

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةً١ۚ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:97 in the Quran reader

مرد ہو یا عورت جو کوئی ایمان کے ساتھ نیک کام کرے تو ہم (دنیا میں) اس کی زندگی پاک زندگی کریں گے10 اور ان کو ایسے لوگوں کو) ہم (قیامت میں) ضرور ان کے بہتر کاموں کا بدلہ دیں گی

ف 10 پاک زندگی میں حلال روزی قناعت سچی عزت سکون و اطمینان دل کی تو نگری اللہ کی محبت اور لذت سبھی چیزیں شامل ہیں۔ مطلب یہ کہ ایمان اور عمل صالح سے اخروی زندگی ہی نہیں بلکہ دنیوی زندگی بھی نہایت سکھا اور چین سے گزرے گی۔ شوکانی)
Ayah 16:98

فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 16:98 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر) جب تو قرآن پڑھنا چاہیتو شیطان مردود (کے وسوسوں) سے اللہ تعالیٰ کیپ ناہ مانگا کرف 11

ف 11 یعنی قرآن کی تلاوت کرنے سے پہلے اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پڑھا کرو۔ اس حکم کو اکثر علماء سلف نے استحباب کے لئے اور بعض نے وجوب کے لئے قرار دیا ہے۔ اس موقع پر اس حکم کے بیان کئے جانے کی مناسبت یہ معلوم ہوتی ہے کہ پچھلی آیت میں نیک اعمال کا ذکر کیا گیا تھا سا لئے یہاں استعاذہ کا ذکر کیا گیا جو نیک اعمال کو شیطانی وساوس سے پاک رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ (فتح القدیر)
Ayahs 16:99–101

اِنَّهٗ لَیْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:99 in the Quran reader

کیونکہ جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے مالک پر بھروسہ رکھتے ہیں ان پر شیطان کا کچھ زور نہیں چلتا ( اعوذ باللہ پڑھتے ہی شیطان بھاگ جاتا ہے)

اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَهٗ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 16:100 in the Quran reader

شیطان کا زور بس انہیں پر چلتا ہے جو اس سے دوستی رکھتے ہیں (اس کا دم بھرتے ہیں کہا مانتے ہیں) اور اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں

وَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰیَةً مَّكَانَ اٰیَةٍ١ۙ وَّ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:101 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ان کافروں کا یہ حال ہے) جب ہم ایک آیت کے میل دوسری آیت اتارتے ہیں1 اور اللہ جو اتارتا ہے (اس کی مصلحت کو خوب جانتا ہے تو کہتے ہیں تو تو بس اپنے دل سے (آیتیں سنا لیتا ہے (بٹ لیتا ہے اور کہتا ہے اللہ نے اتاریں) بات یہ ہے کہ کان کافروں میں اکثر بےعلم ہیں2

ف 1 اور پہلی آیت کا حکم منسوخ کردیتے ہیں۔ نسخ پر بحث کے لئے دیکھئے۔ ( سورة بقرہ آیت 106) اب یہاں سے کفار کے شبہات کا جواب دیا جا رہا ہے۔ (شوکانی) 2 انہیں پہلی شریعتوں کا علم نہیں۔ اگر ہوتا تو سمجھ لیتے کہ اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ سے یہ قاعدہ رہا ہے کہ وہ ایک حکم اتارتا ہے اور پھر جب چاہتا ہے اسے مسنوخ کر کے دوسرا حکم دے دیتا ہے۔
Ayah 16:102

قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 16:102 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ان کافروں سے کہہ دے اس قرآن کو تو پاک روح نے (حضرت جبریل نے) سچائی کے ساتھ (یا حکمت کے ساتھ) تیرے ملک کے پاس سے اتارا ہے اس لئے کہ ایمان والوں ( کے دلوں) کو (ایمان پر) مضبوط کر3 اور مسلمانوں کو ہدایت اور خوشخبری ہو4

ف 3 اور وہ ناسخ و منسوخ دونوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھیں اور اس لئے کہ جب وہ اس حکمت کو سمجھیں گے جو بعض احکام کے ناسخ و منسوخ ہونے میں پائی جاتی ہے تو ایمان پر ان کے قدم جمیں گے اور ان کے عقائد پختہ ہوں گے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : قرآن پاک میں اکثر اللہ تعالیٰ نے نسخ فرمایا ہے اس پر کا فرشتہ کرتے ہیں۔ اس کا جواب سمجھا دیا۔ یعنی ہر وقت موافق اس حکم کے حکم بھیجے تو یقین والوں کا ایمان قوی ہو کہ ہمارا رب ہرحال سے خبر رکھتا ہے۔ (موضح) 4 یعنی ہرحال میں اس کے موافق راہ سمجھا دے اور ہر کام پر ایسی خوش خبری سنا دے۔ (موضح)
Ayah 16:103

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ١ؕ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:103 in the Quran reader

اور ہم کو خوب معلوم ہے وہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص اس کو سکھا جاتا ہے (ان5 بیوقفوں نے اتنا بھی نہ سمجھا) جس کا نام لگاتے ہیں اس کی تو زبان عجمی ہے (عرب کے سوا دوسرے ملک کی زبان) اور یہ قرآن تو صاف عربی زبان میں ہے

ف 5 یہ قرآن پر ان کا دوسرا طعن تھا اس شخص کی تعیین کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض نے ابن مغیرہ کے رومی غلام جبر کا نام ذکر کیا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس کا نام یلیش تھا۔ جو بنی الحضرمی کا غلام تھا اور عجمی کتابیں پڑھا کرتا تھا۔ بہرحال ان میں سے جو بھی ہو کفار مکہ نے محض یہ دیکھ کر کر کہ وہ شخص توراۃ انجیل پڑھنا جانتا ہے اور محمد ﷺ پر جو قرآن نازل ہوتا ہے اس میں بھی پیچھے انبیاء کے واقعات بیان کئے گئے ہیں بےتکلف یہ الزام تراش ڈالا کہ یہی وہ شخص ہے جو محمد ﷺ کو قرآن کی آیات تصنیف کر کے دے رہا ہے۔ العیاذ باللہ (شوکانی)
Ayah 16:104

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۙ لَا یَهْدِیْهِمُ اللّٰهُ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:104 in the Quran reader

جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر یقین نہیں رکھتے اللہ تعالیٰ ان کو (حق بات کی ہدایت نہیں کرتا6 اور ان کو آخرت میں تکلیف کا عذاب ہوگا

ف 6 چناچہ وہی اس قسم کی بےسروپا باتیں بکا کرتے تھے، جلایہ بھی کوئی سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ قرآن جیسی فصیح و ملیغ کتاب کو ایک ایسا شخص تصنیف کر ڈالے جس کی اپنی زبان عربی نہیں ہے
Ayah 16:105

اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 16:105 in the Quran reader

جھوٹ تو وہ لوگ بٹتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں ہوتا اور وہ جھوٹے ہوتے ہیں7

ف 7 باقی رہا نبی تو وہ اہل ایمان کا سردار ہوتا ہے اس سے قطعی بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایک لفظ بھی جھوٹ باندھے یہ کفار کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ محمد ﷺ کو خود تصنیف کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔
Ayah 16:106

مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:106 in the Quran reader

جس شخص پر زبردستی کی جائے8 اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو (تو اس پر کچھ گناہ نہ ہوگا)9 لیکن جو کوئی ایمان لائے پیچھے دل کھول کر (یعنی رضا مندی اور خوشی سے) کفر کرے تو ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا غضب اترے گا اور ان کو بڑے عذاب ہوگا

ف 8 اور وہ اپنی جان بچانے کے لئے زبان سے کفر کا کلمہ کہہ دے یا کفر کا کوئی کام کر بیٹھے۔ 9 اوپر کفار کے شبہات ذکر کر کے اس شخص کا حکم بیان فرمایا جو ایسے شبہات سے متاثر ہو کر ایمان سے بھر جاوے۔ اب یہاں اس کے بارے میں فرمایا جس پر کوئی ظالم جبر کرے اور وہ اپنی جان بچانے کی خاطر کلمہ کفر زبان سے کہہ دے۔ یہ رخصت ہے لیکن اگر مرنا قوبل کرلے اور منہ سے بھی کلمہ کفر یا خلاف اسلام کوئی بات نہ نکالے تو ایسا شخص شہید اکبر ہوگا جیسا کہ متعدد صحابہ کے واقعات میں مذکور ہے۔ (کذافی) متعدد روایات سے ثابت ہے کہ یہ آیت حضرت عمار بن یاسر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ مشرکین نے عمار کو پکڑ لیا اور انہیں اتنی اذیت دی کہ انہوں نے جان بچانے کی خاطر بعض وہ باتیں کہہ دیں جو وہ ان سے کہلوانا چاہتے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے آنحضرت سے دریفات کیا تو آپ نے فرمایا : اگر کبھی دوبارہ ایسا سابقہ پڑجائے تو اس طرح جان بچانے میں کچھ حرج نہیں۔ (بیہقی وغیرہ)
Ayahs 16:107–108

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 16:107 in the Quran reader

یہ (غضب اور عذاب ان پر اس لئے ہوگا) کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں پسند کیا اور اس وجہ سے کہ) اللہ تعالیٰ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا (سچی راہ پر نہیں لگاتا)

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ سَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 16:108 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے دلوں اور جن کے کانوں اور جنی کی آنکھوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر کردی ہے1 اور یہی لوگ خدا کے عذاب سے جو ان کو ہونے والا ہے غافل ہیں

ف 1 نہ وہ حق بات کو سمجھتے ہیں نہ سنتے ہیں اور نہ ان نشانیوں کو دیکھتے ہیں جو حق کی طرف رہنمائی کرنے والی ہیں۔
Ayahs 16:109–110

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 16:109 in the Quran reader

آخرت میں یہی لوگ ضرور ٹوٹا پائیں گے (گھاٹے میں پڑیں گے)

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَ صَبَرُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:110 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے آفت میں پڑنے کے بعد (مشرکوں کی ایذائیں اٹھانے کے بعد) ہجرت کی2 پھر جہاد کیا اور تکلیفوں پر صبر کیا تو تیرا مالک ان امتحانوں کے بعد ان کو ضرور بخشنے والا ہے رحمت کرنے والاف 3

ف 2 یعنی ان مشرکوں کے مک میں سے اپنے گھر بار چھوڑ کر درالسلام میں چلے گئے۔ 3 مکہ کے بعض مسلمان کافروں کے مظالم سے تنگ آ کر بظاہر کچھ لچک کھا گئے تھے۔ یا بعض الفاظ ناجائز منہ سے کر ڈالے مگر اس کے بعد ایمان کے تقاضے ممکن حد تک پورے کئے یعنی ہجرت کی جہاد میں حصہ لیا اور اپنے موقف پر خوب ڈٹے رہے۔ اسی پر اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ غلطی معاف فرما دی۔ (شوکانی)
Ayah 16:111

یَوْمَ تَاْتِیْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 16:111 in the Quran reader

جس دن4 ہر شخص اپنی ذات کے لئے بحث کرے گا اور اپنا بچائو کرنے کے لئے کوشش کریگا اور جو کام اس نے کیا ہے اس کا پورا بدلہ اس کو مل جائے گا اور لوگوں پر ظلم نہ ہوگا کسی کی نیکی5 ضائع نہ ہوگی

ف 4 یعنی یہ بخشش اور رحمت اس دن ہوگی جب …… 5 یعنی قیامت کے دن کسی کی طرف سے کوئی نہ بول سکے گا اور نہ اس دن ظلم چل سکے گا۔
Ayah 16:112

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْیَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً یَّاْتِیْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 16:112 in the Quran reader

اور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان کی (مراد مکہ ہے) وہاں کے لوگ (ہر طرح) امن اور اطمینان سے6 سے تھے ہر طرف سے ان کی روزی فراغت کے ساتھ چلی آتی تھی7 پھر انہوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی اس کی آیتوں کو جھٹلایا اس کے پیغمبر کو ستایا) تو اللہ تعالیٰ نے انکے کاموں کی سزا میں اس بستی کو بھوک اور خوف کے لباس کا مزہ چکھایا8

ف 6 نہ باہر سے دشمن کا کھٹکا تھا اور نہ اندر سے کس طرح کی فکر و تشویش 7 روزی کمانے کے لئے کوئی مشقت برداشت کرنا نہ پڑتی تھی گویا ہر طرف سے غلے اور پھل خودبخود چلے آتے تھے کھانے پینے کو کسی چیز کی کمی نہ تھی۔ 8 یعنی امن و اطمینان کی جگہ خوف و ہراس اور فراخی رزق کو جگہ بھوک اور قحط نے انہیں اس طرح گھیر لیا جیسے کپڑا اپنے پہننے والے کے بات کو گھیر لیتا ہے۔
Ayah 16:113

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 16:113 in the Quran reader

اور ان لوگوں پاس انہی میں کا (یعنی عربی) ایک پیغمبر آچکا لیکن انہوں نے اس کو جھٹلایا آخر خدا کے عذاب نے ان کو دھر پکڑا اور وہ قصور وار تھے ( اس عذاب کے سزا وار تھے9

ف 9 غالباً اس آیت کو بنیاد بنا کر اکثر مفسرین نے اس بستی سے مراد مکہ معظمہ لیا ہے ورنہ اس کی تعیین کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ اگر یہ صحیحی ہے تو جس عذاب یا بھوک اور خوف کے لباس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد وہ قحط ہے جس میں مکہ والے کئی برس تک مبتلا رہے ہیاں تک کہ وہ جلی ہوی ہڈیاں اور مردار جانور تک کھا گئے اور یہ قحط اس سے لئے واقع ہو کہ آنحضرت نے بد دعا فرمائی تھی کہ ا اے اللہ ان لوگوں پر اپنی سختی نازل فرما اور ان پر قحط اور خشک سالی کی صورت میں ایسا ہی عذاب بھیج جیسا یوسف کے زمانہ میں آیا تھا بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ان آیات میں کسی متعین بستی کا تذکرہ نہیں ہعے۔ محض ایک تباہ شدہ بستی کی مثال دے کر اہل مکہ کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر تم نے ہماری نعمتوں کی ناشکری کی تو تمہارے ساتھ یہی معاملہ کیا جائے گا۔ قاضی شوکانی نے اس دور سے رائے کو راجح قرار دیا ہے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : ایسے بہت سے شہر ہوتے ہیں پر احوال فرمایا مکہ کا۔
Ayah 16:114

فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 16:114 in the Quran reader

تو اللہ تعالیٰ نے جو تم کو پاکیزہ اور حلال روزی دی ہے اس کو کھائو اور اگر تم خاص خدا کو پوجتے ہو تو اس کی نعمت کا شکر (بھی) کروف 1

ف 1 یعنی اگر تم واقعی اللہ ہی کی بندگی کرتے ہو جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے تو ضروری ہے کہ حلال و حرام کی تعیین اپنی عقل اور مصلحتوں کے بل بوتے پر اپنی مرضی سے نہ کرو بلکہ صرف انہی چیزوں کو کھائو جنہیں اللہ نے حلال اور طیب قرار دیا ہے۔ (شوکانی بتصرف)
Ayah 16:115

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:115 in the Quran reader

اس نے تو تم پر (کچھ) حرام نہیں کیا مگر مردار اور خون اور سور کا گوشت اور جس جانور پا للہ کے سوا اور کسی کا نام پکارا جائے2 پھر جو شخص (مارے بھوک کے) بےقرار ہو ( اور دوسرے بھوکے پر) ظلم نہ کرے نہ ضرورت سے زیادہ کھائے تو اللہ بخشے والا مہربان ہے

ف 2 یعنی جس جانور کو بھی غیر اللہ کے نام سے شہرت دی جائے۔ مثلاًً شیخ سدو کا بکراہ یا سید احمد کبیر کی گائے یا فلاں شاہ کا مرغا وغیرہ۔ ہرحال میں وہ جانور حرام ہوگیا اور اھل کا لفظ ذبح کے علاوہ اس کو بھی شامل ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے۔ ملعون من ذبح لغیر اللہ (سسن ابی دائود) لہٰذا جس پر غیر اللہ کا نام آگیا تو اس میں ایسی خباثت آگئی جو مردار ہیں بھی نہیں کیونکہ مردار پر تو صرف اللہ کا نام نہیں لیا گیا۔ مگر ” اھل لغین اللہ ہمیں اس جانوروں کی روح اس کے خالق کے سوا دوسرے کے نام پر بھینٹ چڑھا دی گئی اور یہ شرک ہے لہٰذا ایسا ذبیحہ حرام ہے یہ آیت شریفہ قرآن میں چار متربہ آئی ہے۔ اس کے معنی مارفع بہ الصوت بغیر اللہ “ ہیں نہ کہ ” ماذبح باسم غیر اللہ “ گویہ اس میں بطریق اولیٰ داخل ہے جس کی بنا پر بعض مفسرین نے اھل کی تفسیر ” ذبح “ جو اس وقت کی صورت حال کے پیش نظر اور بیان واقعہ کے لئے ہے۔ ہمارے دور میں اس نئے شرک کا وقوع ہوا ہے اس لئے برصغیر پاک و ہند کے علما نے اسے خوب حل فرمایا ہے اور شاہ عبدلاعزیز کی تفسیر عزیزی اس پر شاہد عدل ہے (ترجمان نواب)
Ayah 16:116

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 16:116 in the Quran reader

اور تمہاری زبانوں سے جھوٹ نکلتا ہے اس کے بنا ہنے کے) لئے یوں مت کہو یہ حلال ہے اور یہ حرام3 ہے تاکہ خدا پر جھوٹ باندھنے لگو4 بیشک جو لوگ خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کبھی با مراد نہ ہونگے

ف 3 دوسرا ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے اپنی زبانوں کے جھوٹ بنا لینے سے یہ مت کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے 4 اس سے ملوم ہوگا کہ تحلیل و تحریم کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو ہے یا اس کے دیئے ہوئے اختیار کی بنا پر اس کے رسول کو کسی دوسرے کا اس حق کو استعمال کرنا اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا ہے۔
Ayahs 16:117–118

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۪ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:117 in the Quran reader

یہ (جس مطلب کے لئے خدان پر جھوٹ باندھتے ہیں) تھوڑا سا چند روزہ دنیا کا فائدہ ہے اور اس کا نتیجہ نہایت خراب ہے ان کو (آخرت میں) تکلیف کا عذاب ہونے والا ہے

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:118 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) ہم نے یہودیوں پر وہ چیزیں جو ہم تجھ سے پہلے بیان کرچکے ہیں ( سورة انعام کے ستر ہویں رکوع میں) ان کی شرارت اور سرکشی کی وجہ سے) حرام کردی تھیں اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا تھا وہ خود اپنے پر آپ ظلم کرتے تھے5

ف 5 مطلب یہ ہے کہ اسلامی شریعت سے زائد یہودیوں کی شریعت میں جو چیزیں حرام پائی جاتی ہیں ان سے کوئی یہ نہ مجھے کہ یہ چیزیں ہمیشہ کے لئے بلکہ یہ تو وقتی طور پر یہودیوں کی اپنی شرارت اور سرکشی کی بدولت ان پر حرام کی گئی تھیں ورنہ ان کی حرمت ابدی نہیں ہے۔ (کذافی شوکانی دیکھئے سورة انعام)