17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 17:81

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ١ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا Open ayah 17:81 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دے سچا دین آگیا اور جھوٹا دین مٹ گیا کیونکہ جوٹ تو (ایک دن) ضرور مٹنے والا ہے4

ف 4 چناچہ چند ہی سال کے بعد آنحضرت فاتحانہ شان کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے ایک روایت میں ہے : آپ کعبہ کے پاس تشریف لے گئے۔ آپ کے ہاتھ میں لکڑی تھی۔ اس لکڑی سے ایک ایک بت پر ضرب لگاتے اور یہ آیت (قل جاء الحق) تلاوت فرماتے جاتے۔ (بخاری)
Ayah 17:82

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ١ۙ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 17:82 in the Quran reader

اور ہم قرآن میں سے جو اتارتے ہیں وہ ندرستی اور رحمت ہے مسلمانوں کے لئے5 اور کافروں کو تو اور زیادہ نقصان دیتا ہے

ف 5 جس سے کفر و نفاق اور شک و ریب کی تمام بیماریوں سے دل پاک ہوجاتے ہیں۔ ویسے قرآن ظاہری امراض کے لئے بھی شفا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ فاتحہ ہر بیماری کے لئے منتر ہے۔ (وحیدی)
Ayah 17:83

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ یَئُوْسًا Open ayah 17:83 in the Quran reader

اور جب ہم آدمی کو کوئی نعمت دیتے ہیں تو (الٹا شکر تو نہیں کرتا) کورا ہوجاتا ہے اور کروٹ پھیر لیتا ہے6 اور جب اس پر مصیبت آتی ہے تو ناامید بن جاتا ہے

ف 6 یعنی بندگی سے سرکتا جاوے (موضح)
Ayahs 17:84–85

قُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ١ؕ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِیْلًا۠ Open ayah 17:84 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان لوگوں سے) کہہ دے ہر کوئی اپنے طریق پر عمل کرتا ہے پھر جو تم میں سے کوئی سیدھے رستہ پر ہے اس کو اللہ خوب جانتا ہے

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:85 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر یہودی تجھ سے پوچھتے ہیں روح کیا ہے کہہ دے روح میرے مالک کا حکم ہے7 اور تم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے علم میں سے کچھ نہیں ملا مگر تھوڑا اور8

ف 7 یعنی اللہ کے حکم سے ایک چیز بدن میں آ پڑی وہ جی اٹھا جب نکل گئی وہ مرگیا۔ اس کے علاوہ روح کی حقیقت کو صرف وہی جانتا ہے۔8 یعنی اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلے میں تمہیں دیا ہوا علم کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ لہٰذا ایسے امور کے متعلق سوال کرنا ہی فائدہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہوے کہ میدنہ میں چند یہودیوں کے روح کے متعلق سوال کرنے پر یہ آیت نازل ہوئی (بخاری مسلم) مگر نسائی کی ایک روایت میں ہے کہ یہود کے اشارے پر قریش نے آنحضرت سے یہ سوال کیا تھا۔ اس بنا پر اس آیت کے مکی اور مدنی ہونے میں بھی اختلاف ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آیت تو مکہ میں ہی نازل ہوچکی ہو مگر جب مدینہ میں یہود نے دوبارہ سوال کیا ہو تو آنحضرت نے اس آیت کو ان کے جواب میں بھی تلاوت فرما دیا ہو۔ (ابن کثیر)
Ayahs 17:86–87

وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَیْنَا وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:86 in the Quran reader

(اے پیغمبر اگر ہم چاہیں تو جو قرآن (وحی کے ذریعہ سے) ہم نے تجھ کو بھیجا ہے اس کو اٹھا لیں (نہ دل میں رہے نہ کتاب میں) پھر تو کوئی حمایت ہمارے مقابلہ میں نہ پائیگا

اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَیْكَ كَبِیْرًا Open ayah 17:87 in the Quran reader

(جو قرآن کو دوبارہ لوٹا لائے) مگر تیرے مالک کا رحم ہے جو قرآن نہیں اٹھایا گیا) بیشک تجھ پر اس کا بڑا فضل ہے9

ف 9 کہ اس نے آپ کو اپنا رسول منتخب کیا آپ پر اپنی آخری کتاب نازل فرمائی۔ تمام بنی نوع انسان کا سردار قرار دیا۔ آپ کو مقام محمود اور دوسرے بےانتہا انعامات سے سرفراز کیا۔ (کبیر)
Ayah 17:88

قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا Open ayah 17:88 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان لوگوں سے) کہہ (ایک دو شخص تو قرآن کیا بنا سکتے ہیں) اگر سارے آدمی اور جن مل کر یہ چاہیں کہ اس طرح کا قرآن (بنا) لائیں تو بھی اس طرح کا (بنا کر) نہ لاسکیں گے پڑے ایک کی ایک مدد بھی کریں۔1

ف 1 یہ کفار کے اس دعویٰ کی تردید ہے کہ اگر چاہیں تو ہم بھی ایسا قرآن تصنیف کر کے پیش کرسکتے ہیں۔ قرآن میں تحدی سورة بقرہ :23 یونس 38، ہود 13 طور 34 میں بھی مذکور ہے۔ یہاں سارے قرآن کے متعلق تحدی کی گئی ہے۔ سورة ہود میں دس سورتوں اور بقرہ یونس میں صرف ایک سورة اور سورة طور میں تو سورة کے کچھ حصہ کے متعلق تحدی مذکور ہے۔ (رازی) مگر قرآن کا یہ اعجاز ہے کہ نہ اس زمانے میں کفار مکہ اس کا جواب دے سکے اور نہ آئندہ قیامت تک اس کا جواب ممکن ہے۔ یہاں انسانوں کے ساتھ جنات کو بھی شامل کردیا ہے اس لئے کہ کافر یہ اتہام لگائے کہ کوئی جنی اس (ﷺ) پر القا کرجاتا ہے۔ اور پھر جنوں کو اپنے سے اعلیٰ اور عالم الغیب بھی سمجھتے تھے۔
Ayah 17:89

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:89 in the Quran reader

اور ہم نے تو اس قرآن میں ہر ایک مطلب مثال کی طرح لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے پھیر پھیر کر بیان کیا ہے2 ہے اس پر بھی اکثر لوگ انکار کے سوا کچھ نہیں مانتے3

ف 2 اس سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہم نے ہر طرح سے تجدی کی ہے اور یہ بھی کہ ہم نے دلائل توحید اور نفی شرک پر ہر نوع کے دلائل پیش کئے ہیں یا ہر معنی کو فصاحت و بلاغت کے ساتھ ایسے دلکش پیریہ میں بیان کیا ہے کہ وہ مثال کی طرح ذہن میں اترتے چلے جاتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جس حد تک بیان اور افہام کا تعلق ہے ہم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی (رازی)3 یعنی کسی طرح بھی ایمان لانے کے لئے تیار نہیں ہوتے
Ayahs 17:90–92

وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْۢبُوْعًاۙ Open ayah 17:90 in the Quran reader

اور کہتے (کیا) ہیں ہم تو کبھی تیری بات ماننے والے نہیں جب تک تو ہمارے لئے ایک چشمہ پانی کا زمین سے دبہائے

اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِیْرًاۙ Open ayah 17:91 in the Quran reader

یاد (ایسا تو بھی ہو خود) تیرا ایک باغ ہو کھجور اور انگور کا اور اس کے بیچ میں تو پانی کی بھرپور نہریں بہا دے

اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِیَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ قَبِیْلًاۙ Open ayah 17:92 in the Quran reader

یا جیسا تو کہا کرتا ہے ہم پر آسمان ٹکڑے ٹکڑے کر کے گرا دے4 یا اللہ اور فرشتوں کو ہمارے آمنے سامنے لاکھڑا کر (ہم خود آنکھ سے دیکھیں)

ف 4 بدبختوں کا اشارہ اس آیت کی طرف ہے جس میں ارشاد ہے : ان نشاء تخسف بہم الارض او نسقط الیھم کسفا من السمآء کہ اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کا ٹکڑا گرا دیں۔ (سبا :9)
Ayah 17:93

اَوْ یَكُوْنَ لَكَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِی السَّمَآءِ١ؕ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ١ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۠ Open ayah 17:93 in the Quran reader

یا تیرا ایک گھر ہو سونے کا (طلائی) یا تو آسمان میں چڑھ جائے اور صرف چڑھ جانے سے ہم ماننے والے نہیں جب تک (ہواں سے) ہم پر ایک کاتب نہ اتار لائے جس کو ہم (خود) پڑھ لیں (اے پیغمبر ان لوگوں کے جواب میں) کہ دے سبحان اللہ میں ہوں کیا ایک بندہ ہوں5 (اللہ کا) پیام والا

ف 5 جب کفار قریش قرآن کا معارضہ نہ کرسکے تو دوسرے معجزات طلب کرنے شروع کردیئے یہاں قرآن نے ان کے چھ مطالبوں کا ذکر کیا ہے۔ حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ قریش کعبہ کے پاس جمع ہوئے اور آنحضرت کو اپنی مجلس کے پاس بلایا اور یہ مطالبے پیش کئے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور دوسرے رسولو کی طرح آنحضرت نے بھی ان کو یہی جواب دیا کہ میں تو ایک بشر ہوں کیا تم کسی بشیر کے متعلق بتاسکتے ہو کہ وہ اس قسم کے تصرفات کی طاقت رکھتا ہو ؟ اور پھر میں اللہ کا رسول ہوں اور اس کے حکم کا تابع پس اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر ان امور کو کیسے ظاہر کرسکات ہوں۔ امام رازی لکھتے ہیں پیغمبر کی صداقت کے لئے تو ایک معجزہ ہی کافی ہوتا ہے اور آپ کو وہ معجزہ قرآن دیا گیا اب اس کے بعد اگر متعدد معجزات کو معیار صدق قرار دیا جائے تو یہ سلسلہ ختم ہی نہ ہو سکے گا اس نے پیغمبروں نے ایسے موقعوں پر معذرت کردی کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے ہم بشر اور رسول ہیں (کبیر)
Ayah 17:94

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:94 in the Quran reader

اور جب لوگوں پاس ہدایت آچکی (یعنی قرآن) تو ان کو ایمان لانے سے اسی بات نے روکا کہ وہ کہنے لگے کیا اللہ نے آدمی کو پیغمبر بنا کر بھیجا6

ف 6 یعنی یہ بات ان کی سمجھ میں نہ آئی کہ ایک شخص بشر ہوتے ہوئے خدا کا پیغمبر کیسے ہوسکتا ہے اگر خدا کو کوئی پیغمبر بھیجنا ہوت تو کسی فرشتے کو اتار دیتا۔
Ayah 17:95

قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:95 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان لوگوں کا شبہ دور کرنے کے لئے) کہہ دے اگر زمین میں فرشتے چلتے بستے ہوئے تو بیشک ہم ان کی ہدایت کے لئے) آسمان سے ایک فرشتہ کی پیغمبر کو پیغام پہنچانے والا

ف 7 مگر جب زمین پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو بسایا ہے تو ان کی طرف ایک فرشتے کو رسول بنا کر بھیجنے سے کیا فائدہ، رسول کا کام صرف اس پیغام کو پہنچا دینا ہی نہیں ہوتا بلکہوہ لوگوں کے لئے سوہ بھی ہوتا ہے تاکہ وہ اس کی پیروی کرسکیں۔
Ayah 17:96

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:96 in the Quran reader

کہہ کفایت ہے اللہ تعالیٰ گواہ درمیان میرے اور درمیان تمہارے تحقیق وہ ہے ساتھ بندوں اپنے کے اور (ان کے کاموں کو) دیکھ رہا ہے8

ف 8 یعنی اگر میں دعویٰ نبوت میں جھوٹا ہوتا تو وہ میری سخت گرفت کرتا۔ (الحاقہ 66, 62) اور پھر اسے خوب معلوم ہے کہ کون شخص انعام و احسان اور ہدایت پانے کے لائق ہے اور کون عقاب و عذاب اور گمراہی کے۔ (ابن کثیر)
Ayah 17:97

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ نَحْشُرُهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْیًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّا١ؕ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا Open ayah 17:97 in the Quran reader

اور جس کو اللہ راہ دکھلائے وہی راہ پائیگا اور جس کو وہ بہکائے تو (اے پیغمبر) خدا کے سوا اور کوئی لوگ اس کے دوست نہ ہونگے1(جو اس کو راہ پر لائیں) اور ہم قیامت کے دن ان کو منہ کے2 بل اندھے اور گونگے اور بہرے اٹھائیں گے3(آخر) ان کا ٹھکانا دوزخ ہے ہر بار جب تھمے کی (ذرا شعلہ کم ہوگا) تو ہم اور زیادہ ان بھڑکا دیں4 کے

ف 1 نبوت پر ان کے شبہات کا جواب دینے کے بعد اب وعید فرمائی مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان اپنے بل بوتے پر یا اپنی عقل، علم یا کسی اور چیز کی بنیاد پر راہ حق نہیں پاسکتا اور نہ اس پر ثابت قدم رہ سکتا ہے بلکہ یہ محض اللہ تعالیٰ کی توفیق اور دستگیری ہے جو کسی کو راہ حق دکھاتی ہے اور اگر انسان کی بدبختی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی توفیق انسان کے شامل حال نہ ہوت ودنیا کی کوئی طاقت اسے راہ راست پر نہیں لاسکتی۔ اس سے مقصود آنحضرت کو تسلی دینا ہے۔ (کبیر)2 یعنی منہ کے بل چلیں گے جیسے دنیا میں پائوں کے بل چلتے تھے۔ حضرت انس سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے دریافت کیا : اے اللہ کے رسولچ لوگ منہ کے بل کیسے چلائے جائیں گے ؟ فرمایا جس ذات نے انہیں پائوں کے بل چلایا وہ انہیں منہ کے بل بھی چلا سکتی ہے۔ (بخاری مسلم) یا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن انہیں منہ کے بل گھسیٹ کر دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ جیسے فرمایا : یوم یسحبون فی النار علی وجوھھم (دیکھیے سورة القمر 48) فو اندھے، گونگے اور بہرے یعنی جمال الٰہی کے دیدار اور جنت کی نعمتوں کے دیکھنے سے محروم ہوں گے اور نہ ہی کوئی خوش کن خبر بن سکیں گے اور نہ کوئی دلیل بیان کرنے کی طاقت ہوگی ورنہ اس حواس خمسہ ظاہرہ کے اعتبار سے تو وہ بہت سننے اور دیکھنے والے ہوں گے۔ ہوسکتا ہے کہ ان کی مختلف حالتوں کے اعتبار سے فرمایا ہو۔ (دیکھیے مریم 38)4 یعنی عذاب کبھی ہلکا نہ ہوگا جیسے فرمایا : لاجفف عنھم العذاب (بقرہ 86)
Ayahs 17:98–99

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:98 in the Quran reader

یہ سزا انکو اس لئے ملے گی کہ انہوں نے ہماری آنیوالا کو نہ مانا اور کہنے لگے کیا جب ہم (مرے پیچھے) ہڈیاں اور چورا ہوجائیں گے تو پھر نئے سرے سے کیا ہم پیدا ہو کر اٹھا کھڑے کئے جائیں گے

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَ جَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:99 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے یہ نہیں جانا کہ اللہ جس نے آسمان پیدا کئے اور زمین (اتنی بڑی بڑی چیزیں) وہ ان کے آدمی بھی (دوبارہ) پیدا کرسکتا ہے5 اور اسی نے ان لوگوں کے (دوبارہ پیدا ہونے کی) ایک میعاد مقرر کر رکھی ہے جس میں کچھ شک نہیں6(یعنی قیامت کا دن) اس پر بھی ظالم انکار کے سوا کچھ نہیں مانتے

ف 5 جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے قائل ہوں اور حشر کا انکار بھی نہ کریں یا اس کے معنی مطلق دوبارہ پیدا کرنے کے ہیں۔ نبوت پر ان کے شبہات کا جواب دینے کے بعد اب حشر و نشر کے انکار پر ان کے شبہ کا جواب دیا۔ (بیکر) دسوری جگہ فرمایا : لخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے بڑا ہے۔ (غاقر :57)6 یعنی یعنی سب کے دوبارہ اٹھائے جانے کا ایک وقت مقرر ہے جس کی آمد میں کوئی شبہ نہیں۔ لہٰذا تمہارا محض تاخیر کو دیکھ کر دوبارہ اٹھائے جانے سے انکار کرنا سراسر حماقت ہے۔
Ayah 17:100

قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّیْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْیَةَ الْاِنْفَاقِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا۠ Open ayah 17:100 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ان لوگوں سے کہہ دے اگر میرے مالک کی رحمت کے خزانے تمہایر ہاتھ میں ہوتے تو تم خرچ7 ہوجانے کے ڈر سے بخیلی کرتے اور آدمی بخیل ہے8

ف 7 یعنی کسی کو پھوٹی کوڑی نہیں دیتے۔ اس لئے آنحضرت کی نبوت و رسالت پر بھی حسد و بخل کرتے ہو۔ اوپر کی آیات میں ان کے جمود اور کفر کی مذمت تھی۔ اس آیت میں ان کے بخل کی مذمت ہے اور یہ دو بری صفات ہیں جن میں سے ایک کا ضرر لازم ہے اور دوسری کا متعدی ہے۔ ماقبل سے وجوہ ربط میں مختلف اقوال منقول ہیں مگر ان میں تکلف ہے۔ (روح)8 یا ” بڑاتنگ دل واقع ہوا ہے۔ “
Ayah 17:101

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى تِسْعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ فَسْئَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰمُوْسٰى مَسْحُوْرًا Open ayah 17:101 in the Quran reader

اور ہم موسیٰ کو انوکھی نشانیاں دے چکے ہیں9 تو (اے پیغمبر) بنی اسرائیل سے پوچھ لے جب موسیٰ ان کے پاس آیا (فرعون کے عذاب سے ان کو چھڑانے کے لئے) تو فرعون اس سے کہنے لگا میں تو سمجھتا ہوں اے موسیٰ کسی نے تجھ پر جادو کردیا ہے0 1

ف 9 یعنی ایسے نو معجزے د کے چکے ہیں جو ان کی نبوت پر کھلی نشانی تھے اس میں آنحضرت کو تسلی دی ہے اور قریش کو اس مطالبہ کا جواب دیا ہے جو انہوں نے نبی ﷺ سے کیا تھا کہ ہم آپ پر ایمان لائیں گے جب تک کہ آپ یہ کام کر کے نہ دکھا دیں مطلب یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو نو معجزے دیئے مگر نہ ماننے والوں نے پھر بھی نہ مانا۔ ان آیات تسعہ “ کا ذکر سورة اعراف میں گزر چکا ہے یعنی طوفان ٹٹڈی، جوئیں، مینڈک، خون، عصا، یدبیضا، قحط اور پیداوار کی کمی بعض نے تسع آیات سے نواحکام عامہ مراد لئے ہیں جو10 یہ بالکل اسی قسم کا الزام ہے جو کفار مکہ آنحضرت کو دیتے تھے۔ ان تبتعون الا رجلاً مسحورا (فرقان 8) ہر زمانے میں باطل پرست ناقابل تردید دلائل سن کر حق پرستوں کے بارے میں اسی طرح کی باتیں کیا کرتے ہیں۔
Ayah 17:102

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ بَصَآئِرَ١ۚ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا Open ayah 17:102 in the Quran reader

موسیٰ نے جواب دیا تو (خوب) جان چا ہے کہ ان نشانیوں کو آسمان اور زمین کے بادشاہ نے غور کرنے یک لئے اتارا ہے11 اور میں سمجھتا ہوں اے فرعون تو تباہ ہونے والاف 12 ہے

ف 11 کو لوگ انہیں دیکھ کر اپنے رب کی قدرت اور وحدانیت کے قائل ہوجائیں۔ (وحیدی)12 یعنی مجھ پر تو کسی نے جادو نہیں کیا مگر تو جو ان معجزات کو دیکھ لینے کے باوجود اپنی اڑ پر قائم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تیری تباہی کے دن قریب آگئے ہیں۔ (وحیدی)
Ayah 17:103

فَاَرَادَ اَنْ یَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ جَمِیْعًاۙ Open ayah 17:103 in the Quran reader

پھر فرعون نے چاہا کہ بنی اسرائیل کو (مصر کے) ملک سے اکھیڑ دیئے نکالدے یا مار ڈالے) آخر ہم نے اس کو اور اس کے ساتھ والوں کو ڈبو دیا

ف 13 ان کی غرقابی کا واقعہ سورة یونس میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔ (سورۃ : رکوع 9)
Ayah 17:104

وَّ قُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِیْفًاؕ Open ayah 17:104 in the Quran reader

اور فرعون کے ڈبوئے پیچھے ہم نے بنی اسرائیل سے کہہ دیا (اب) تم اس ملک میں بسو پھر جب قیامت کا وعدہ آ لگے گا تو ہم تم (سب) کو سمیٹ کر (یا لپیٹ کر) لے آئیں1 گے

ف 1 یعنی اچھے برے مومن کافر سب کو حشر کے میدان میں جمع کریں گے تاکہ ان کا دائمی فیصلہ کردیا جائے۔
Ayah 17:105

وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۘ Open ayah 17:105 in the Quran reader

اور قرآن کو ہم نے سچائی کے ساتھ اتارا اور2 اترا بھی سچائی کیساتھ3 اور ہم نے تو تجھ کو (اے پیغمبر) اور کچھ نہیں صرف (مومنوں کو) خوشخبری سنانیوالا اور (کافروں کو) ڈرانیوالا بنا کر بھیجا ہے (تیرا ہی کام ہے)

ف 2 یعنی اس میں جو بات بھی ہے سراسر حق ہے۔3 جیسے ہم نے اتارا ویسے ہی وہ اترا درمیان میں کسی نے تصرف نہیں کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کا ذکر کر کے جو قرآن کا ذکر فرمایا تو اس سے مقصود کفار قریش کو متنبہ کرنا ہے کہ آنحضرت سے الٹی سیدھی فرمائشیں کرنے کی بجائے اسی قرآن پر کیوں غور نہیں کرتے جو آنحضرت کی نبوت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
Ayah 17:106

وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِیْلًا Open ayah 17:106 in the Quran reader

اور قرآن کے ہمنے حصے حصے کردیئے4 اس لئے کہ تم اسے ٹھہر ٹھہر کے (ایک ایک دو دو چار چار دن کے فاصلے سی لوگوں کو سنائو اور اسلئے ہم نے اس کو یک دم نہیں اتارا5 آہستہ آہستہ اتارا

ف 4 یعنی اس کی سورتیں اور آیتیں جدا جدا رکھیں5 تاکہ اس کے پڑھنے یاد کرنے اور اس پر عمل کرنے میں آسانی ہو اور اس کے مطالب موقع پر محل کے اعتبار سے ذہن نشین ہوجائیں اور آئندہ کسی آیت کے بےموقع استعمال کی گنجئاش باقی نہ رہے۔
Ayah 17:107

قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًاۙ Open ayah 17:107 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان کافروں سے) کہہدنے تم قرآن کو مانو یا نہ مانو6 جو لوگ قرآن اترنے سے پہلے علم دئے گئے تھے انکو جب پڑھ کر سنایا جاتا ہے7 تو ٹھنڈیوں کے بل وہ سجدے میں گرپڑتے ہیں

ف 6 یعنی متہارے ماننے یا نہ ماننے سے اس کی عظمت نہ بڑھتی ہے اور نہ حشی ہے یہ تہدید و انکار کے طور پر ان لوگوں سے خطاب ہے جو قرآن کے بنیات و دلائل کی موجودگی میں معجزات کا مطالبہ کرتے تھے۔ (کبیر)7 یعنی وہ اہلم علم جو پچھلی آسمانی کتابوں کی تعلیمات سے وقف ہیں اور وحی و نبوت کی حقیقت کو سمجھتے ہیں جس ورقہ بن نوفل عمر و بن نفیل اور عبداللہ بن سلام (وغریہ کبیر)
Ayah 17:108

وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا Open ayah 17:108 in the Quran reader

اور کہنے لگتے ہیں ہمارا مالک اخلاف وعدگی سے یا ہر برائی سے) پاک ہے بیشک جو وعدے ہمارے مالک کا تھا وہ پورا ہو8

ف 8 یعنی قرآن کو سن کر وہ فوراً سمجھ جاتے ہیں کہہ یہ وہی نبی آخر الزامات اور وہی آخری کتاب ہے جس کے بھتیجنے اور توڑنے کا پچھلی کتابوں میں وعدہ فرمایا تھا۔ (کذا فی شکانی)
Ayah 17:109

وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْكُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا۩ Open ayah 17:109 in the Quran reader

اور ٹھڈیوں کے بل روتے ہوئے گرتے ہیں قرآن (سننے)

ف 9 یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے اور زیادہ عاجزی و تواضح کرتے ہیں اور قرآن اور آنحضرت پر ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس تکرار سے مقصود دو مختلف حالتوں کو ظاہر کرنا ہے یعنی سجدہ ریز ہونا اور قرآن کو سن کر روانا یا یہ تکرار فعل کو ظاہر کرنے کے لئے ہے۔ (کبیر) شاہ صاحب لکھتے ہیں : نماز میں سجدہ دوبارہ ہوتا ہے اس واسطے دوبارہ فرمایا پہلی بار قرآن کی اعجازی تاثیر کے نتیجے میں اور دوسری بار خشوع و خضوع کے لئے موضح واضح رہے کہ احادیث قرآن کی تلاوت کے وقت رونے کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ مثلاً یہ کہ رونے والی آنکھ دوزخ میں نہیں جائے گی۔ (وحیدی)
Ayah 17:110

قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ١ؕ اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ۚ وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا Open ayah 17:110 in the Quran reader

اور کہہ دیجئے سب نہ چلا کر پڑھو (ایسے زور کی آواز سے کہ باہر والے سب سنیں) اور نہ ایسی آہستہ (کہ مقتدی بھی نہ سنیں اور بیچ بیچ میں ایک راہ اختیار کرے10

ف 10 مشرکین عرب کے ہاں خدا کے لئے اللہ کا نام تواریخ تھا مگر وہ اس کے نام رحمن سے مانوس نہ تھے بلکہ وہ اس نام سے سخت وحشتک ھاتے حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ ایک روز آنحضرت نے دعا میں فرمایا :” یا اللہ یا رحمٰن “ تو مشرکین کہنے لگے کہ اس بےدین کی طرف دیکھو ہمیں رئومیودوں کے پکارنے سے منع کرتا ہے اور خود وہ معبودوں کو پکارتا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازمل فرمائی۔ ابن جریر اللہ تعالیٰ کے اسماء کے حسنیٰ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ ان میں حمد وثناء اور تسبیح و تقدیس کے معانی مفہوم ہوتے ہیں۔ کذافی لکبیر (مزید دیکھیے سورة اعراف 18)
Ayah 17:111

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِیْرًا۠ Open ayah 17:111 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) کہدیجئے تعریف خا ہی کو سزا وار ہے جس نے اولاد نہیں رکھی) اس کا کوئی بیٹا بیٹی نہیں ہے) اور نہ کوئی سلطنت میں اس کا ساجھی ہے اور نہ اس کو ذلت سے بچنے کے لئے کسی حمایت کی ضرورت12 ہے اور اس کی بڑائی کرتا رہ پوری بڑائی۔13

ف 11 حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس زمانے میں نازل ہوئی جب نبی ﷺ مکہ میں چھپ کر رہے تھے چناچہ جب آپ اپنی صحابہ کو نماز پڑھتے تو مشرکین قرآن کو اس کے اتارنے اور اس کے لانے والے کو گلیاں دیتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ بیچ کا لہجہ اختیار کیجیے تاکہ آپ کے ساتھی سن بھی سکیں اور مشرکین کو گالیاں دینے کا موقع نہ مل سکے۔ (بخاری مسلم) حضرت عائشہ نے اس آیت میں ’ دصلاۃ “ مراد دعا ہے۔ (بخاری)112 اس میں مشریکن کے اس بہبود عقیدہ کی تردید ہے کہ جس طرح دنیا کے بادشاہوں کو وزیروں، گورنروں اور مصاحبوں کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ ان کی سلطنت برقرار نہیں رہ سکتی اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی سلطنت کو برقرار رکھئے اور خود ذلت سے محفوظ رہنے کے لئے (فرشتوں، دیوتائوں اور اوتاروں کا محتاج ہے۔ (ولیعاذ باللہ)13 اس کو آیت ” عزہ “ کہا جاتا ہے اور صدر اول میں یہ آیت چھوٹے بچوں کو یاد کرائی جاتی تھی سوتے وقت اس کا پڑھنا آفتوں سے حافظت کا موجب بنتا ہے۔ (ابن کثیر)