17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 17:41

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِیَذَّكَّرُوْا١ؕ وَ مَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا Open ayah 17:41 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن میں پھیر پھیر کر (دو دو تین تین بار ایک ایک بات کو) بیان کیا اس لئے کہ یہ لوگ سمجھیں (نصیحت لیں) اور (الٹا یہ ہو رہا ہے کہ) ان کو نفرت بڑھ رہی ہے3

ف 3 حق کی بات سنسنی بھی نہیں چاہیے۔ ماننا کیسا ؟
Ayah 17:42

قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلًا Open ayah 17:42 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان لوگوں سے) کہہ دے اگر خدا کے ساتھ اور معبود بھی ڈھونڈتے طرف صاحب عرش کی راہ پاک ہے وہ اور بلند ہے اس چیز سے کہ کہتے ہیں بلندی بڑی تسبیح ہوتے جیسے یہ لوگ کہتے ہیں تب تو عرش کے مالک تک ضرور کوئی راستہ ڈھونڈ نکالتے4

ف 4 یعنی اس سے لڑنے اور اس کا تختا الٹ دینے کے لئے جاتے کیونکہ وہ بھی اپنے آپ کو خدا سمجھتے اور جب ایسا نہیں ہوا اور تم دیکھ رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ اسی پوری کائنات کا نظام خالص اپنی مرضی سے چلا رہا ہے اور یہ نظام اپنی پوری ہم آہنگی اور تناسب سے چل رہا ہے تو معلوم ہوا کہ اس کے مقابلے میں تم نے جتنی زندہ یا مردہ ہستیوں کو اپنا معبود بنا رکھا ہے وہ سب باطل و بےحقیقت چیزیں ہیں۔ (قرطبی)
Ayah 17:43

سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:43 in the Quran reader

وہ ان کی (نالائق) باتوں سے پاک اور بہت برتر ہے5

ف 5 اس کے مقابلے میں کسی کی کوئی مجال نہیں۔ وہی اس کائنات کا بلاشرکت غیرے خود مختار مالک و حاکم ہے۔
Ayah 17:44

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 17:44 in the Quran reader

ساتوں آسمان اور زمین اور جو ان میں ہیں (فرشتے اور جن اور آدمی) سب اس کی پاکی بیان کرتے6 ہیں اور کوئی چیز (حیوان ہو یا نبات یا جماد) ایسی نہیں جو اللہ کی تعریف پاکی کے ساتھ نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے بیشک وہ تحمل والا بخشنے والاف 7 ہے

ف 6 یعنی اپنی زبان قال سے اس کے ہر عیب اور نقص سے پاک ہونے کی شہادت دے رہے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ آسمان میں ایک بالشت ھبر جگہ ایی نہیں ہے جس میں کوئی فرشتہ سجدہ میں پڑا اللہ کی تسبیح نہ کر رہا ہو۔ (ابن مردویہ) ایک اور حدیث سے ثابت ہے کہ چیونٹی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے۔ (بخاری مسلم)7 تب ہی تو وہ تمہاری سب گستاخیاں اور بتدیمیزیاں دیکھتا ہے مگر قدرت رکھنے کے باوجود تم سے درگزر فرماتا ہے اور تم پر کوئی عذاب نہیں بھیجتا بلکہ نہ تمہارا رزق بند کرتا ہے اور نہ تمہیں اپنی نعمتوں سے محروم کرتا ہے۔
Ayah 17:45

وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاۙ Open ayah 17:45 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) جب تو قرآن پڑھتا ہے تو ہم تجھ میں اور ان لوگوں کے بیچ میں جن کو آخرت پر یقین نہیں ایک گاڑھا پردہ ڈال دیتے ہیں8

ف 8 یعنی اس قرآن میں ایسی تاثیر ہے اور کافروں پر اثر نہیں ہوتا اس واسطے کہ اوٹ میں ہیں۔ آفتاب سے ہمارا روشن ہے اور جس کی اس طرف پیٹھ ہے اس کے حساب میں کہیں نہیں صموضح) اس حجاب کی اور بھی تفسیریں کی گئی ہیں مگر صحیحی یہی ہے کہ یہ عدم تاثیر سے کنایہ ہے۔ (روح)
Ayah 17:46

وَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا Open ayah 17:46 in the Quran reader

(یا ایسا پردہ ڈال دیتے ہیں جو دکھلائی نہیں دیتا) اور ان کے دلوں پر ہم غلاف ڈال دیتے ہیں اس لئے کہ وہ قرآن کو نہ سمجھیں (یا اس لئے کہم نے یہ برا جانا کہ وہ قرآن کو سمجھیں) اور ان کے کانوں میں9 بوجھ ڈال دیتے ہیں بہرا کردیتے ہیں) اور جب تو قرآن میں اکیلے اپنے مالک کا ذکر کرتا ہے (ان کے معبودوں کا نام تک نہیں لیتا) تو نفرت سے پیٹھ موڑ کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں10

ف 9 یعنی جب انہوں نے آخرت سے انکار کیا اور پھر ضد اور ہٹ دھرمی میں اس قدر بڑھ گئے کہ ہزار سمجھانے کے باوجود انکار کرتے ہی چلے گئے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اور آنحضرت کے مابین ایک دبیز پردہ حائل ہوگیا۔ ان کے دلوں پر غلاف چڑھ گئے اور انکے کان ہر نصیحت کرنے والے کی بات سننے سے بہرے ہوگئے مگر وہ بدبخت اس پردے اور بوجھ کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔ (دیکھیے السجدہ :5) لیکن چونکہ ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اس لئے ان تمام چیزوں کی خلق کی نسبت بھی اسی کی طرف کردی گئی ہے۔10 کیونکہ وہ تو شرک ہی کو پسند کرتے ہیں اور توحید سے انہیں چڑ ہے۔
Ayah 17:47

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ وَ اِذْ هُمْ نَجْوٰۤى اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 17:47 in the Quran reader

ہم خوب جانتے ہیں جس لئے وہ قرآن کو سنتے بس (اس پر ٹھٹھا اڑانے اور جھٹلانے کو) جب وہ تیری طرف کان لگاتے ہیں اور (ہم خوب جانتے ہیں) جب وہ کانا پھوسی کرتے ہیں جس وقت یہ ظالم (ایک دوسرے سے) کہتے ہیں تم تو اس مرد کے کہنے پر چلتے ہو جس پر کسی نے سمجھا دو کیا ہے11

ف 11 اس کی عقل میں فتور آگیا ہے اس لئے بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے۔ مروی ہے کہ عتبہ نے اشراف قریش کی دعوت کی یا حضرت علی نے آنحضرت کے اشارے سے دعوت کی اور آپ نے ان کو قرآن پڑھ کر سنایا تو انہوں نے آحضرت کی شان میں یہ الفاظ استعمال کئے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ (قرطبی)
Ayah 17:48

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا Open ayah 17:48 in the Quran reader

(اے پیغمبر) دیکھ تو سہی تجھ پر کیا کیا باتیں لگاتے ہیں وہ (خود) بہک گئے ہیں تو12 (ٹھیک) رستے پر نہیں آسکتے

ف 12 یعنی ایک بات نہیں جو آپ کے بارے میں کہتے ہوں بلکہ مختلف اوقات میں مختلف باتیں کہتے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ آپ جادوگر ہیں کبھی کہتے ہیں کسی دوسرے نے آپ پر جادو کردیا ہے۔ کبھی کہتے ہیں کہ آپ شاعر ہیں کبھی کاہن اور کبھی مجنوں (دیوانہ) کہتے ہیں ان کی یہ متضاء باتیں خود اس بات کی دلیل ہیں کہ انہیں حقیقت کا کچھ پتہ نہیں۔ اس حال میں یہ کیسے امید کی جاسکتی ہے کہ انہیں ہدایت کا صحیح راستہ مل سکے یا مطلب یہ ہے کہ ان باتوں سے دوسروں کو ہدایت سے روکنے کے لئے کوئی راستہ نہیں پاتے۔ (قرطبی)
Ayahs 17:49–51

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:49 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ کیا جب ہم (مرے پیچھے) ہڈیاں اور چورا (ریزہ ریزہ یا خاک) ہوجائیں گے کیا ہم پھر نئے بن کر جی اٹھیں گے (

قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًاۙ Open ayah 17:50 in the Quran reader

اے پیغمبر) کہہ دے تم (اگر) پتھر ہوجائو یا لوہا

اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَكْبُرُ فِیْ صُدُوْرِكُمْ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِیْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ۚ فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ١ؕ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَرِیْبًا Open ayah 17:51 in the Quran reader

یا کوئی اور چیز جو تمہارے1 دلوں میں بڑی معلوم ہو تو اب (یہ کافر) کہیں گے (جب ہم پتھر یا لوہا ہوجائیں گا تو لون ہم کو دوبارہ زندہ کریگا (اے پیغمبر) کہہ دے وہی (تم کو دوبارہ زندہ کرے گا) جس نے پہلی بار تم کو پیدا کیا2(یہ سن کر اب (تعجب سے) تیرے سامنے اپنے سر لٹکائیں گے اور پوچھیں گے بھلا (بتلائو تو) یہ کب ہونا ہے (قیامت کب آئیگی) کہ دے3 عجب نہیں کہ وہ نزدیک ہو

ف 1 تو پھر اللہ تعالیٰ تمہیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھا لے گا۔ (قرطبی)2 یعنی جب اس نے تمہیں پہلی بار پیدا کردیا حالن کہ کسی چیز کا پہلی بار پیدا کرنا مشکل اور دوبارہ بنانا آسان ہوتا ہے۔ تو اس کے لئے پھر کیا مشکل ہے کہ تمہیں دوبارہ زندگی دے جبکہ اس کے لئے پہلی اور دوسری مرتبہ پیدا کرنا دونوں آسان ہیں۔3 یعنی قیامت جب آنے والی ہے تو وہ چاہے کتنی دور ہو اس یقریب ہی سمجھو اور اپنی نجات کی فکر کرو
Ayah 17:52

یَوْمَ یَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 17:52 in the Quran reader

جس دن وہ (خدا) تم کو (قبروں سے) بلائیگا تم اس کی تعریف4 کرتے ہوئے چلے آئو گے اور خیال کرو گے کہ ہم تھوڑی ہی دیر ٹھہرے5

ف 4 یعنی اس کے مطیع و فرمانبردار بن کر رہو۔ اس نے جو تمہارے ساتھ سلوک کیا ہے اس پر اس کی حمد و ثنا کرتے ہوئے آئو گے یہ یہ مطلب ہے کہ تم اس کے بلانے پر اس کے حضور حاضر ہونگے الحمد اللہ ( اور سب تعریف اللہ ہی کے لئے سزا وار ہے) یا وہ دوبارہ زندہ کرنے کی وجہ سے مستحق حمد وثناء ہے بعض نے بحمدہ کے معنی بدعائہ یا کم بھی کئے ہیں کیونکہ نفخ صور جس کی وجہ سے لوگ قبروں سے نکل کھڑے ہونگے وہ دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے دعوت ہوگی (قرطبی)5 یعنی دنیا میں یا قبر میں یا پہلے نفخہ سے دوسرے نفخہ تک تھوڑا ہی عرصہ ٹھہرے۔
Ayah 17:53

وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 17:53 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) میرے (مسلمان) بندوں سے کہہ دے (آپس میں یا جب کافروں سے بحث کریں، وہ بات منہ سے نکالیں جو اچھی ہے کیونکہ شیطان (سخت کلامی کرا کر) لوگوں کو لڑاتا ہے بیشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے6

ف 6 کفار کی مسلسل ایذا رسانی سے مسلمان بہت تنگ آگئے اور ان سے گالی گلوچ بھی ہوگئے۔ جس سے اشعتال بڑھ گیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی مطلب یہ ہے کہ کفایہ اگر بحث و مکالمہ میں جہالت طعن وتشنیع، الزام تراشی، اور ہنسی ٹھٹھے کی باتیں بھی کریں تب بھی مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے آپ پر قابو رکھیں اور زبان سے خلاف حق یا اشتعال انگیز بات نہ نکالیں کیونکہ اس سے فائدہ کی بجائے الٹا نقصان ہوتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کو باہم حسن سلوک سے پیش آنے کی تلقین ہو جیسا کہ حدیث میں ہے الونوا عباد اللہ اخوانا کہ بھائی بھائی بن کر رہو۔ (قرطبی)
Ayah 17:54

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ یَّشَاْ یُعَذِّبْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 17:54 in the Quran reader

تمہارا مالک تم کو خوب جانتا ہے کہ تمہارا انجام کیا ہوگا دوزخ میں جائو گے یا بہشت میں) اگر چاہتے تم پر رحم کرے یا اگر چاہے تم کو عذاب دے اور ہم نے اے (پیغمبر) تجھ کو ان کا ذمہ دار نہیں بنایا۔7

ف 7 اس سے مقصود آنحضرت کو تسلی دینا ہے کہ اگر یہ راہ ہدایت پر نہ آئیں تو آپ غم نہ کریں کیونکہ راہ ہدایت پر لانا آپ کا کام نہیں ہے۔
Ayah 17:55

وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ وَّ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا Open ayah 17:55 in the Quran reader

(اے پیغمبر) تیرا مالک (ان مشرکوں کو تو کیا) سارے آسمان اور زمین میں جو لوگ ہیں ان سب کو خوب جانتا ہے8 اور ہم تو (اگلے زمانہ میں بھی) ایک پیغمبر لو دوسرے پیغمبر پر بزرگی دے چکے ہیں9 اور ہم نے دائود کو زبور عنایت10 کی

ف 8 کہ ان میں سے کسے اپنی آخری رسالت کے لئے منتخب کرے۔ یہ جواب ہے کفار مکہ کے اعتراض کا جو وہ عموماً آنحضرت پر کیا کرتے تھے کہ اللہ کی نگاہ میں ان کا مقام اتنا بڑا کیسے ہوسکتا تھا کہ انہیں محمد (ﷺ) اپنی رسالت کے لئے نہ صرف منتخب فرمائے بلکہ اپنے تمام انبیاء پر فضیلت بھی دے اور ان پر ایسی شریعت نازل کرے جو تمام شریعتوں کو منسوخ کرنے والی ہو۔ (شوکانی)9 اور یہ بزرگی بھی علم کی بنا پر تھی بلاشبہ انبیاء (علیہم السلام) مرتاب میں مختلف ہیں اور سب سے افضل ہمارے پیغمبر آنحضرت ﷺ ہیں۔ (نیز دیکھئے بقرہ 253)10 یعنی آنحضرت پر قرآن اتارنے پر کیوں تعجب کرتے ہو حالانکہ ہم اس سے پہلے حضرت دائود کو زبور دے چکے ہیں … زبور کا ذکر خاص طور پر اس لئے فرمایا کہ آنحضرت کے خاتم النبین ہونے اور اس امت کے بہترین امت ہونے پر زبور کے مضامین شہادت دے رہے تھے۔ (دیکھیے انبیاء 105) ہوسکتا ہے کہ کفار سے جہاد کرنے میں مشابہت کی وجہ سے دائود کا تذکرہ کردیا ہو۔ (کذافی الموضح)
Ayah 17:56

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا یَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَ لَا تَحْوِیْلًا Open ayah 17:56 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان لوگوں سے) کہہ دے خدا کے سوا تم جن کو (خدا کا شریک) سمجھتے ہو تو اتنا بھی اختیار نہیں رکھتے کہ کوئی تکلیف تمہاری دور کردیں یا اس کو سرکا دیں11(کسی اور پر ڈال دیں

ف 11 پھر کیوں انہیں سجدہ کرتے اور مدد کے لئے پکارتے ہو۔
Ayah 17:57

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ١ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا Open ayah 17:57 in the Quran reader

جن لوگوں کو یہ مشرک (خدا کا شریک سمجھ کر) پکارتے ہیں (مثلاً حضرت عیسیٰ یا فرشتے) وہ خود اپنے رب کی طرف ذریعہ تلاش کرتے ہیں کہ کون اللہ کے زیادہ ہوتا ہے1 اور اس کی مہربانی کی امید رکھتے ہیں (جیسے دوسرے بندے رکھتے ہیں) اور اس کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں (بلکہ مقرب لوگوں کو اور زیادہ ڈر ہے) اس لئے کہ تیرے مالک کا عذاب ڈرنے ہی کی چیز ہے

ف 1 یعنی اس کی عبادت اور اطاعت کر کے وسیلہ (تقرب الٰہی) چاہتے ہیں اور ان کی ساری تگ و دو اسی لئے ہے کہ اس بارے میں کون دوسروں سے آگے نکلتا ہے حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ” میرے لئے وسیلہ طلب کرو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ وسیلہ کیا چیز ہے ؟ اللہ تعالیٰ کا تقرب پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (فتح البیان) افسوس کہ آج کل اس امت کے مسلمان بھی اس شرک میں مبتلا ہیں۔ اولیاء و صلحاء پر امت، پیروں، بزرگوں اور شہیدوں سے وہی عقیدہ رکھتے ہیں جو مشرکین اپنے بتوں سے رکھتے تھے، ان کو حاجت روا اور صاحب تصرف سمجھتے ہیں اور ان کے نام کی نیازیں دیتے ہیں تاکہ وہ تکالیف کو دور کریں وغیرہ۔ (وحیدی)
Ayah 17:58

وَ اِنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 17:58 in the Quran reader

اور (نافرمان لوگوں کی) کوئی بستی ایسی نہیں ہے جس کو ہم قیامت سے پہلے ہی (قیامت میں تو سب ہی تباہ ہونگے) تباہ نہ کریں یا اس پر سخت عذاب نہ اتاریں2 یہ بات کتاب (لوح محفوظ) میں لکھ لی گی ہے3

ف 2 تباہ کرنے سے مراد بالکل غارت کردیتا اور عذاب اتارنے سے مراد قحط بیماری یا جنگ وغیرہ میں مبتلا کرنا ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک ” قریہ “ سے مراد ہر بستی ہے یعنی مومنوں کی ہو یا کافروں کی، اور ” اہلاک “ سے مراد طبعی ویرانی اور ” تعذیب “ سے کسی آفت وغیرہ میں مبتلا کرنا ہے اور ان کے نزدیک آیت کا مطلب یہ ہے کہ روئے زمین کی کوئی ایسی بستی نہیں جسے ہم قیامت سے پہلے پہلے یا تو طبعی موت بھیج کر ویران نہ کردیں یا کسی سخت آفت میں مبتلا نہ کردیں۔ بہرحال دونوں میں سے کوئی مطلب لیا جائے۔ مقصود کفار مکہ کو ڈرانا ہے کہ خواہ تم ہر طرح امن سے رہتے ہو مگر ایک نہ ایک دن تمہاری گرفت ہوگی۔ اس آیت میں ان نشانیوں کی طرف اشارہ ہے جو قیامت سے پہلے رونما ہونے والی ہیں۔ (ماخوذ از روح و شوکانی)3 یعنی ہماری حتمی اور اٹل فیصلہ ہے جسے کوئی طاقت نافذ ہونے سے نہیں رو سکتی۔
Ayah 17:59

وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ١ؕ وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا١ؕ وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا Open ayah 17:59 in the Quran reader

اور ہم نے جو نشانیاں بھیجنا موقوف رکھا تو اس وجہ سے کہ اگلے لوگوں نے ان کو جھٹلایا اور ہم نے ثمود کو اونٹنی دی کھلم کھلا4 انہوں نے اس پر ظلم کیا5 اور ہم جو نشانیاں بھیجتے ہیں تو صرف (لوگوں کو) ڈرانے کے لئے اور6

ف 4 مفسرین کا بیان ہے کہ اہل مکہ نے آنحضرت سے فرمائش کی کہ صفا پہاڑی سونے کی بنادی جائے اور مکہ کے گرد جو پہاڑ ہیں انہیں سرکا دیا جائے۔ حضرت جبریل آئے اور کہنے لگے ” اگر آپ چاہیں تو ان کی فرمایش پوری کردی جائے لیکن یہ بھی ایمان نہ لائے تو انہیں کوئی مہلت نہ دی جائے گی اور اگر آپ چاہیں تو ان کی فرمائش پوری نہ کی جائے اور انہیں مہلت دی جائے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (فتح القدیر) مطلب یہ ہے کہ ہم جو ان لوگوں کی فرمائش پر نشانیاں نہیں بھیج رہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان سے پہلے لوگوں کے پاس جب ایسی نشانیاں آئیں اور انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے اپنی سنت کے مطابق ان پر عذاب نازل کردیا۔ چناچہ قوم ثمود کی مثال ان کے سامنے موجود ہے۔ اس طرح اگر یہ بھی چاہتے ہیں تو ہم ان کی فرمائش پوری کرسکتے ہیں مگر اس کے بعد انہیں مہلت نہیں ملے گی۔ جیسا کہ سورة انعام وغیرہ میں گزر چکا ہے۔ (ابن کثیر)5 یعنی اسے ستایا اور آخر کار اسے مار ڈالا۔ پھر دیکھ لو ان کا کیا حشر ہوا ؟6 یعنی عذاب سے ڈرانے کے لئے کیونکہ اگر وہ نہیں ڈرینگے تو ان پر عذاب نازل ہوجائے گا۔
Ayah 17:60

وَ اِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِی الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ نُخَوِّفُهُمْ١ۙ فَمَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا طُغْیَانًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 17:60 in the Quran reader

(اے پیغمبر وہ تجھے یاد کر) جب ہم نے تجھ سے کہا کہ تیرے مالک نے لوگوں کو گھیر لیا ہے7 اور جو دکھائو اہم نے تجھ کو دکھلایا وہ صرف اس لئے کہ لوگوں کی جانچ ہو8 اور اسی طرح وہ درخت جس پر قرآن میں لعنت کی گی ہے9 اور ہم ان (کافروں) کو (اپنی قدرت کی نشانیوں سے) ڈراتے ہیں لیکن ہمارے ڈرانے سے کچھ (فائدہ نہیں ہوتا ان کی سخت شرارت اور بڑھ جاتی ہے10

ف 7 لوگوں سے مراد کفار مکہ ہیں اور ان کا احاطہ کرلینے سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنا پورا زور لگانے کے باوجود محمد ﷺ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے اور نہ آپ کی دعوت کو پھیلنے سے روک سکے۔ اس سے مقصود آنحضرت کو حوصلہ دلانا ہے کہ آپ بےخطر اپنی دعوت پیش کرتے رہئے ان لوگوں کی مخالفت کی کوئی پروا نہ کیجیے۔ یہ آپ کا بال تک بیکا نہیں کرسکتے۔8 کہ کون اسے سچا مان کر اپنے ایمان کا ثبوت دیتا ہے اور کون سا یجھٹلا کر کفر کی دلدل میں پڑا رہتا ہے یا کفر کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ مراد معراج کا واقعہ ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے کہ جب نبی ﷺ نے واپسی کے عبد اسے لوگوں سے بیان فرمایا تو قریش نے اس کی سخت تکذیب کی اور آپ کا حد سے زیادہ مذاق اڑایا بلکہ خود مسلمانوں میں سے بعض ل وگ اسلام سے پھرگئے۔ ” رئویا “ کا لفظ خواب کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے مگر یہاں اس سے مراد ” آنکھ کا دکھاوا “ ہے کیونکہ اگر یہ محض خواب ہوتا تو لوگوں کے امتحان کی یہ صورت پیدا نہ ہوسکتی تھی حضرت ابن عباس اور دوسرے اکثر مفسرین نے اس کی یہی تفسیر کی ہے۔ (ابن کثیر و شوکانی)9 اسے بھی لوگوں کے لئے آزمائش بنایا۔ مراد زقوم کا درخت ہے یعنی تھوہر یا ناگ پھنی (دیکھیے سورة خان 43) اور اس پر لعنت ہے مراد اس کے کھانے والے پر لعنت ہے اور آزمائش یہ ہے کہ جب نبی ﷺ نے لوگوں کو بتایا کہ آپ نے جنت اور دوزخ دیکھی اور دوزخ میں زقوم کا درخت دیکھا تو منکرین نے مذاق اڑایا اور کہا کہ دوزخ کی آگ میں سبز درخت کیسے ہوسکتا ہے۔ (ابن کثیر)10 اسی لئے جب قرآن میں زقوم کا بیان ہوا تو ابوجہل نے کھجور اور مکھن منگوایا اور دونوں کو ملا کر کھانے لگا اور بولا ” یہ ہے زقوم “ اسی کو نوش جان کرو ہم اس کے علاوہ کسی زقوم کو نہیں جانتے۔ (ابن کثیر)
Ayahs 17:61–62

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًاۚ Open ayah 17:61 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کر) جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو پھر سب سے سجدہ کیا مگر ابلیس نے وہ کہنے لگا کیا میں ایسے شخص کو سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی سے بنایا

قَالَ اَرَءَیْتَكَ هٰذَا الَّذِیْ كَرَّمْتَ عَلَیَّ١٘ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّیَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:62 in the Quran reader

کہنے لگا بتلا تو سہی تو نے جو اس کو (آدم کو) مجھ پر بزرگی دی (تو کیوں بزرگی دی) اگر مجھ کو قیامت تک تو مہلت دے تو میں ضرور اس کی اولاد کی جڑ کاٹ ڈالوں گا مگر تھوڑے1

ف 1 کہ وہ میرے مکر و فریب میں آنے سے بچ جائیں گے۔
Ayahs 17:63–64

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا Open ayah 17:63 in the Quran reader

(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا چل دور ہو جو شخص ان میں سے تیری پیروی کریگا تو (اے شیطان تیری اور ان کی) تم سب کی سزا جہنم ہے پوری سزا

وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 17:64 in the Quran reader

اور ان میں سے جس کو تو اپنی آواز سے پھسلا سکے پھسلا (یا جس کو تو اپنی آواز سے گھبرا سکے گھبرا) اور ان پر اپنے (لشکر کے) سوار اور پیارے چڑھالا (ہر طرح سے ان کو بہکا) اور مال اور اولد میں ان کا ساجھی (شریک) بن جا اور ان سے (جھوٹے جھوٹے وعدے کر اور شیطان تو ان سے جو وعدہ کرتا ہے اس میں دغا ہی دغا ہے2

ف 2 صورت سے مراد شیطان کا لوگوں کو نافرمانی کی طرف دعوت دینا ہے۔ بعض علمائے سلف نے اس سے مراد گانا بجانا بھی لیا ہے۔ (قرطبی) مال میں شیطان کی شرکت یہ ہے کہ حرام کاموں میں صرف کیا جائے اور بتوں یا پیروں، بزرگوں کی نیاز دی جائے اور اولاد میں شرکت یہ ہے کہ اسے گمراہی اور بداخلاقی کی تعلیم دی جائے یا سمجھا جائے کہ فلاں نے بخشا ہے۔ مشرکین عرب اپنی اولاد کے نام عبدالعزی وعبد الشمس وغیرہ رکھتے اور ہمارے زمانہ میں رسول بخش حسین بخش، پیر بخش، غلام جیلانی وغیرہ مشرکانہ نام رکھے جاتے ہیں۔ (وحیدی بتصرف)
Ayah 17:65

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِیْلًا Open ayah 17:65 in the Quran reader

جو میرے (خاص) بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہ چلے گا اور (اے پیغمبر) تیرا مالک بس ہے کام بنانے والاف 3

ف 3 یعنی میرے بندوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ گمراہ رف وہی ہوں گے جن کا ایمان کچا اور کمزور ہوگا۔
Ayah 17:66

رَبُّكُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 17:66 in the Quran reader

(لوگو) تمہارا مالک وہ ہے جو سمندر میں تمہارے لئے جہاز چلاتا ہے اس لئے کہ تم اس کا فضل چاہو4 (سوداگری کر کے روپیہ پیدا کرو) بیشک وہ تم پر مہربان ہے5

ف 4 روزی کو قرآن میں اکثر فضل فرمایا ہے۔ دنیا میں جو نعمتیں بھی انسان کو حاصل ہیں یہ محض اللہ کا فضل ہی ہے کسی استحقاق کی بنا پر نہیں ہے۔5 اس کی مہربانی نہ ہوتی تو تم نہ کبھی سمندر میں جہاز چلا سکتے اور نہ سوداگری کے لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ جاسکتے۔
Ayah 17:67

وَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا Open ayah 17:67 in the Quran reader

اور جب سمندر میں تم آفت میں گرفتا رہوتے ہو (طوفان آتا ہے یا ڈوبنے کا ڈر ہوتا ہے) تو اللہ کے سوا جن جن کو تم پکارا کرتے تھے۔ سب بھول جاتے ہیں پھر جب تم کو خشکی میں بجا لاتا ہے تو (خدا سے) پھر بیٹھتے ہو اور آدمی بڑا ناشکرا ہے6

ف 6 یہ تو زمانہ جاہلیت نے ان لوگوں کا حال تھا جو مشرک تھے اور اللہ و رسول نے انہیں مشرک قرار دیا مگر ہمارے زمانے کے بعض لوگوں کا کمال یہ ہے کہ وہ سخت سے سخت مصیبت میں بھی اللہ کے ساتھ یا اللہ کے علاوہ دوسروں کو مدد کے لئے پکارنا نہیں بھولتے اور پھر بھی ان کی توحید میں کوئی فرق نہیں آتا۔ 7 اس سے بڑھ کر احسان فراموشی اور کیا ہوگی کہ جونہی اپنا کام نکل گیا محسن کی طرف پلٹ کر بھی نہ دیکھا۔
Ayahs 17:68–69

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ یُرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:68 in the Quran reader

(خشکی میں آنے سے کیا ہوتا ہے) کیا تم کو اس کا ڈر نہیں کہ وہ (اگر چاہے) خشکی کے کنارے تم کو دھنسا دے یا آندھی کا پتھرائو کرے (یا اولے برسائے) پھر (اس کے عذاب سے) بچانیوالا کسی کو تم نہ پائو

اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَكُمْ فِیْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَیُرْسِلَ عَلَیْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ فَیُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ١ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَیْنَا بِهٖ تَبِیْعًا Open ayah 17:69 in the Quran reader

کیا تم کو یہ ڈر بھی نہیں رہا کہ اللہ تعالیٰ تم کو دوبارہ سمندر میں لیجائے پھر ہوا کا ایک جھکڑ بھیجے اور تمہاری ناشکری کی سزا میں تم کو ڈبو دے اور تم کو کوئی (حمایتی) نہ لے جو اس بات کو ہم سے پوچھے (ہم پر دعویٰ کرے)

ف 8 کو تو نے ان پر جھگڑ کیوں بھیجا اور کیوں انہیں غرق کردیا۔ سب اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں کوئی چوں تک نہیں کرسکتا۔
Ayah 17:70

وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا۠ Open ayah 17:70 in the Quran reader

اور ہم نے آدم کی اولاد کو ( اور جانوروں پر) عزت دی9 اور خشکی اور تری میں انکو سواری دی1 اور مزے مزے کی چیزیں کھانے کو دیں اور ہم نے ان کو اپنی بہترین مخلوقات پر بزرگی دی بڑی2 بزرگی

ف 9 ان کی شکل و صورت دوسرے تمام جانوروں سے اچھی بنائی۔ ان کے کھانے پینے کا بہتر انتظام کیا اور انہیں عقل و نطق اور تمیز عطا فرمائی جبکہ جانور اس نعمت سے محروم ہیں اور پھر تمام مخلوق کو اس کے فائدے کے لئے مسخر کردیا۔ (از قرطبی) 1 خشکی اور تری میں سفر کے لئے قسم قسم کی سواریاں دے دیں۔ 2 اللہ تعالیٰ نے بہتیری مخلوقات “ کے لفظ کو مجمل رکھا یہع اور اس کی تفصیل بیان نہیں فرمائی۔ بہرحال اس سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی جتنی مخلوقات ہے اس میں سے اکثر پر انسانوں کو بزرگی حاصل ہے۔ بعض اہل علم نے بہتری کے لفظ کو تمام کے معنی میں لیا ہے اور بعض نے یہاں یہ بحث بھی چھیڑی ہے کہ انبیاء اور فرشتوں میں سے کون افضل ہے مگر اس آیت سے اس بحث کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
Ayah 17:71

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ١ۚ فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓئِكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 17:71 in the Quran reader

جس دن ہم سب لوگوں کو ان کے سردار سمیت (یا ان کی کتاب سمیت) بلائیں3 گے پھر ن کو ان کی کتاب داہنے ہاتھ میں دی جائیگی وہ (خوشی سے) اس کو پڑھنے لگیں گے (اپنی نیکیاں لکھی دیکھ کر خوش ہونگے) اور گٹھلی کے دھاگے برابر بھی ان پر ظلم نہ ہوگا اور جو4

(شوکانی)3 مثلاً پکارا جائے :” اے محمد (ﷺ) کی امت، اے موسیٰ (علیہ السلام) کی امت والے ! علی ہذا القیاس یا اے قرآن کے ماننے والو ! اے توراۃ کے ماننے والو ! اے انجیل پر عمل کرنے والو۔ “ بعضوں نے امام سے مراد ” نامہ اعمال “ لیا ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا :” وکل شی حصینہ فی امام مبین اور ہر چیز کو ہم نے ایک واضح امام میں شمار کر رکھا ہے۔ (یٰسین :12) حافظ ابن کثیر نے اسی قول کو راجح قرار دیا ہے اور امام سے مراد ہر وہ شخص ہوسکتا ہے جس کی دنیا میں پیروی کی جاتی ہے۔ چناچہ اہل ایمان کے امام انبیاء (علیہم السلام) اور کفار و مشرکین کے امام ان کے سرداران باطل ہونگے جیسے فرمایا : وجعلنا ھم اتم یدعون الی النار (قصص 4) سلف میں بعض اہل علم کا قول ہے کہ اس آیت میں اصحاب حدیث کی بڑی فضیلت ہے کیونکہ ان کا امام محمد ﷺ کے سوا کوئی نہیں۔ (ابن کثیر)4 وہ خوشی سے اپنا نامہ اعمال دوسرے کو دکھائیں گے جیسا سورة حاقہ آیت 19 میں مذکور ہے تفصیل کے لئے دیکھئے سورة نساء 49)
Ayahs 17:72–73

وَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 17:72 in the Quran reader

اس دنیا میں اندھا رہا (اس نے ہدایت کا رستہ اختیار نہیں کیا) وہ آخرت میں اور زیادہ اندھا اور راہ سے دور بھٹکا ہوا ہوگا (وہاں نجات کا رستہ نہ ملے گا)

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَهٗ١ۖۗ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِیْلًا Open ayah 17:73 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ یہ کافر تو تجھے ان حکموں سے جو ہم نے تجھ کو بھیجے بہکانے ہی کو تھے ان کا مطلب یہ تھا کہ تو ہم پر جھوٹ باندھے5 اور تو ایسا کرتا (ان کی مرضی کے موافق جھوٹا قرآن بٹ لیتا) تو وہ تجھ کو دوست بنا لیتے

ف 5 کفار مکہ خود تو راہ پر کیا آتے ان کی یہ برابر کوشش رہی کہ کسی طرح آپ خلاص توحید کی دعوت پیش کرنے سے باز آجائیں یا ان احکام کا ایک حصہ چھوڑ دیں یا بدل دیں جو خدا کی طرف سے آپ کو دیئے جا رہے ہیں۔ یا قرآن سے وہ حصہ حذف کردیں جس میں شرک بت پرستی کی مذمت ہے تو ہم ایمان لانے کے لئے تیار ہیں اور آپ کو مقصد سے پھیرنے کے لئے کبھی فریب کاریوں سے، کبھی لالچ سے اور کبھی دھمکیوں سے انہوں نے بہتیرے جتن کئے لیکن آپ کا جواب ہر موقع پر یہ رہا ” خدا کی قسم ! اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ میں چاند اور دوسرے ہاتھ میں سورج بھی رکھ دیں تب بھی میں اس کام کو چھوڑنے والا نہیں جو اللہ نے میرے ذمے کیا ہے۔
Ayah 17:74

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَیْهِمْ شَیْئًا قَلِیْلًاۗۙ Open ayah 17:74 in the Quran reader

اور اگر ہم تجھ کو مضبوط (ثابت قدم) نہ رکھتے تو تو ان کی طرف ذرا6 سا جھکنے ہی کو تھا

ف 6 یا تو ان کی طرف تھوڑا سا جھک جاتا معلوم ہوا کہ آپ نے تھوڑا سا جھکنے کا ارادہ بھی نہ کیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا نہ ہوتی تو عین ممکن تھا کہ آپ کے دل میں تھوڑا بہت جھکنے کا خیال تو آجاتا جب یہ آیت اتری تو آپ نے فرمایا : اللھملا تکلنی الی نفسی طرفۃ عین اے اللہ مجھے ایک ملحہ کے لئے بھی میرے نفس کے سپرد نہ کیجیو۔ (قرطبی)
Ayah 17:75

اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَیٰوةِ وَ ضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا Open ayah 17:75 in the Quran reader

اگر تو ایسا کرتا (جھکنے کے قریب ہوتا) تو ہم تجھ کو دوہری سزا زندگی میں اور دوہری سزا مرنے کے بعد چکھاتے پھر تجھ کو ہمارے مقابلہ میں کوئی مددگار نہ ملتا اور7

ف 7 اس لئے کہ کسی کا مرتبہ جتنا بلند ہوتا ہے گناہ کرنے پر اسے اتنی ہی سخت سزا ملتی ہے۔ چناچہ ازواج مطہرات کے متعلق سورة احزاب :30 میں ہے۔ یضاعف لھا العذاب فعفین یعنی کھلی برائی کا ارتکاب کرنے پر اسے دہری سزا دی جائے گی۔ (قرطبی)
Ayah 17:76

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِیُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَ اِذًا لَّا یَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:76 in the Quran reader

یہ لوگ تو تجھ کو گھبرا کر مکہ سے نکالنے والے تھے اور ایسا کرتے بھی تو تیرے بعد وہ (کیا بہت دنوں ٹھہرتے نہیں) چند روز ٹھہرے8

ف 8 چناچہ بعد میں جب آنحضرت ہجرت کر کے مدینہ چلے آئے تو ڈیڑھ سال کے بعد ان کے بڑے بڑے سردار بدر میں مارے گئے اور اس کے پانچ چھ سال بعد خود مکہ بھی فتح ہوگیا جس سے ان کی تمام شان و شوکت اور حکومت خاک میں مل گئی۔ (ابن کثیر)
Ayah 17:77

سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیْلًا۠ Open ayah 17:77 in the Quran reader

تجھ سے پہلے جتنے پیغمبر ہم نے بھیجے ان کا یہی قاعدہ رہا ہے9 اور تو ہمارا قاعدہ بدلتا نہ پائے گا

ف 9 جونہی ان کی قوم نے ان کو نکالا ان پر عذاب آگیا اور وہ تباہ ہوگئی (ابن کثیر (رح)
Ayah 17:78

اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّیْلِ وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ١ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا Open ayah 17:78 in the Quran reader

(اے پیغمبر) سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک نماز درستی سے بڑھتا رہ10 اور صبح کی نماز بھی (ادا کر) کیونکہ11 صبح کی نماز میں فرشتے (بھی شریک ہوتے ہیں12

ف 10 یعنی ظہر سے عشا تک چار نمازی اکثر مفسرین نے یہی معنی بیان کئے ہیں بعض نے دلوں کے معنی غروب بھی کئے ہیں۔ البتہ اس پر مفسرین کا اجماع ہے کہ یہاں نماز سے پانچ فرض نمازیں مراد ہیں۔ (شوکانی)11 لفظ معنی ہیں صبح کی قرأت اور صبح کی نماز کو قرأت سے تعبیر کرنا اس بنا پر ہے کہ اس میں عموماً قرأت لمبی ہوتی ہے اور مستحیب ہے اور اس سے نماز میں قرأت کی اہمیت بھی ثابت سے ہوتی ہے اور صحیح احادیث میں یہ بیان ہوا ہے کہ سورة فاتحہ کے بغیر نہیں ہوتی۔ (قرطبی)12 جیسا کہ حیدث میں ہے کہ صبح کی نماز میں رلت اور دن کے فرشتے جمع ہوتے ہیں (بخاری مسلم) آیت میں پانچوں نمازوں کے اوقات کی طرف رہنمائی کردی گئی ہے۔ جبریل نے دو روز عملاً نماز پڑھا کر ان اوقات کی تعیین کردی۔ نماز فجر غلس یعنی تاریکی میں افضل ہے اور عصر کی نماز سوج نہ ہونے سے پہلے پڑھنا ضروری ہے اس کے بعد وقت کر اہت ہے اور اس میں نماز کو منافق کی نماز قرار دیا ہے۔ (ابن کثیر و قرطبی)
Ayah 17:79

وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا Open ayah 17:79 in the Quran reader

اور رات کو کسی وقت جاگ اٹھ (تہجد کی نماز پڑھ) یہ زیادہ ہے تیرے1 لئے عجب نہیں کہ (اس کی برکت سے) تیرا مالک تجھ کو (قیامت میں) مقام محمود تک پہنچا ہے2

ف 1 یعنی فرض نماز کے علاوہ یہ خاص طور آپ کے حق میں نفل ہے کیونکہ آپ مغفور الذنب ہیں بعض نے لکھا ہے یعنی یہ آپ پر ایک زائد فرض ہے حضرت عائشہ کی ایک روایت میں بھی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : وتر مسواک، اور تہجد مجھ پر فرض ہیں اور تمہارے لئے نفل مگر یہ دوسری احادیث صحیحہ کے خلاف ہے۔ واللہ اعلم (قرطبی)2 اللہ تعالیٰ کی طرف سے عی وعدہ ہے اور اس کا وقوع ضروری ہے مقام محمود ‘ کے لفظ معنی ہیں ” ایسا مقام جس کہ تمام لوگ حمد تعریف کرینگے ” اکثر علما کے نزدیک اس سے مراد مقام شفاعت ہے بلکہ بعض نیح اجماع نقل کیا ہے شوکانی شاہ صاحب لکھتے ہیں : نیند سے جاگ کر قرآن پڑھا کر یہ حکم سب سے زیادہ تجھ پر کیا ہے کہ تجھ کو بڑا مرتبہ دینا ہے وہ تعریف کا مقام ہے شفاعت (کبری) کا جب کوئی پیغمبر نہ بول سکے گا۔ تب حضرت اللہ تعالیٰ سے عرض کر کے خلق کو چھوڑ دیں گے تکلیف سے
Ayah 17:80

وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا Open ayah 17:80 in the Quran reader

اور دعا کر مالک میرے مجھ کو (مدینہ میں) بہتری کے ساتھ لیجا اور (مکہ سے) بہتری کے ساتھ نکال لے چل اور مجھ کو اپنی درگاہ سے زور دار سلطنت عطا فرما3 (یا ایسی زور دار دلیل جس سے سب دشمن ہار جائیں)

ف 3 معلوم ہوا کہ یہ آیت اس وقت اتری جب آنحضرت کو ہجرت کا حکم دیا گیا چناچہ آپ آبرو مندانہ طور پر مدینہ وارد ہوئے۔ انصار سے دین کی مدد بھی ہوئی۔ (کذا فی الموضح)