19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 19:41

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا Open ayah 19:41 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) قرآن میں5 ابراہیم کا ذکر کر وہ بڑا سچا تھا پیغمبر تھا۔

ف 5 اس سورة کا اصل موضوع توحید و نبوت اور حشر کے واقعات بیان کرنا ہے۔ تو حسد کے منکر دو قسم کے لوگ تھے ایک یہود و نصاری جنہوں نے حرت عیسیٰ اور عزیر کو اللہ کا بیٹا قرار دے لیا و راس طرح سڑک میں مبتلا ہوگئے۔ چناچہ پچھلے رکوع میں حضرت مریم اور مسیح کا قصہ بیان کر کے ان کے غلط عقائط کی تردید فرمائی۔ دوسرے مشرکین عرب جو بت پرستی میں مبتلا تھے اور بایں عقیدہ حضرت ابراہیم کے دین پر ہونے کے مدعی تھے۔ یہاں سے حضرت ابراہیم کا قصہ بیان کر کے ان کی تردید مقصود ہے تاکہ معلوم ہو کہ کس طرح حضرت ابراہیم نے اپنے باپ اور قوم کو بت پرستی سے نکالنے کی کوشش کی اور بالآخر وطن اور رشتہ داروں کو چھوڑ کر خدا کی راہ میں ہجرت کی مگر تم ہو کہ ایک طرف تو ان کی اولاد میں سے ہوا اور ان کے دین پر ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہو لیکن دوسری طرف بت پرستی کی لعنت میں گرفتار ہو اور توحید کی آواز اٹھانے والوں کو وطن سے نکل جانے پر مجبور کر رہے ہو۔ اگر تم واقعی حضرت ابراہیم کے دین کے پیرو ہو تو یہ شرک اور توحید پرستوں سے دشمنی چہ معنی وارد ؟
Ayah 19:42

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْئًا Open ayah 19:42 in the Quran reader

جب اس نے اپنے باپ (آذر) سے کہا بوا تو اس کو کیوں پوجتا ہے جو نہ سنتا ہے اور نہ دیکھتا ہے اور نہ تیرے کچھ کام آسکتا ہے6

ف 6 مراد وہ بت ہیں جن کی آزر اور اس کی قوم کے لوگ پوجا کیا کرتے تھے۔
Ayahs 19:43–44

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا Open ayah 19:43 in the Quran reader

باوا مجھ کو وہ علم آچکا ہے جو تجھ کو نہیں آیا (گو میں عمر میں تجھ سے چھوٹا ہوں) تو میرے کہنے پر چل میں تجھ کو سیدھا رستہ بتادوں گا (توحید اور ایمان کا رستہ)

یٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا Open ayah 19:44 in the Quran reader

باوا شیطان کو مت پوج (اس کا کہا مت مان7 کیونکہ شیطان خدا کے مخالف ہے8

ف 7 جب وہ خود خدا کا مخالف ہے تو ظاہر ہے کہ وہ اپنا کہنا ماننے والوں کو بھی خدا کی مخالفت کی راہ پر لگائے گا۔ اس سے کسی قسم کی صحیح ہدایت کی توقع سراسر حماقت ہے۔
Ayahs 19:45–46

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا Open ayah 19:45 in the Quran reader

باوا میں ڈرتا ہوں کہیں (تیرے شرک اور کفر کی وجہ سے) خدا کی طرف سے کوئی عذاب تجھ کو لگ جائے پھر تو (دوزخ میں، شیطان کا رفیق بن جائے)

قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا Open ayah 19:46 in the Quran reader

اس کا باپ غصے ہوا کہنے لگا ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے پھر بیٹھنے والا ہے۔ (ان کو چھوڑ دینے والا ہے) اگر تو واپسی باتوں سے) باز نہ آئے تو میں تجھ کو سنگسار (یا تجھ پر گالیوں کی بوچھاڑ) کروں گا اور (جا) ( ایک وقت تک مجھ9 سے دورہ (یا اپنے تئیں مجھ سے بچا کر رکھ)

ف 9 یہ کسی سے قطع تعلق کر کے اس سے رخصت ہوجانے کا سلام ہے۔ (دیکھیے قصص 5 ز)
Ayah 19:47

قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا Open ayah 19:47 in the Quran reader

ابراہیم نے (نرمی کی اور) کہا تو سلامت رہے10 میں اب تیرے لئے اپنے مالک سے بخشش چاہ مونگا کیونکہ وہ مجھ پر بہت مہربان ہے (تو شاید تیرے باب میں میری دعا قبول فرما لے

ف 10 ہوسکتا ہے کہ جس مشرک سے ایمان کی توقع ہو اس کے لئے استغفار کرنا اس وقت جائز ہو پھر ہماری شریعت میں یہ منسوخ ہوگیا ہو۔ (دیکھیے برأت آیت :54)
Ayah 19:48

وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ١ۖ٘ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا Open ayah 19:48 in the Quran reader

اور میں تم سے اور جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو ان سے الگ ہوتا ہوں۔11 اپنے مالک و (بس اسی کو) پکارتا ہوں مجھے امید ہے کہ اپنا مالک کو پکار کر میں بےنصیب نہ ہوں گا۔

ف 11 یعنی وطن سے نکل کر پردیس کی حالت میں جب میں اسے پکاروں گا تو وہ میری دعا ضرور قبول فرمائے گا اور کسی مرحلے پر مجھے بےیارو مددگار نہ چھوڑے گا۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے بتوں کی طرح نہیں ہے کہ انہیں کتنا ہی پکارتے رہو وہ خاک نفع نہیں پہنچا سکتے۔
Ayah 19:49

فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا Open ayah 19:49 in the Quran reader

پھر جب ابراہیم ان سے اور جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے (یعنی تبونکھ) ان سے الگ ہوگیا (اور اکیلا رہ گیا) تو ہم نے اس کو اسحاق (بیٹا) اور یعقوب (پوتا) دیا اور ہر ایک کو (ان دونوں میں سے) ہم نے پیغمبر بنایا

ف 1 تاکہ اس کا دل ان میں لگ جائے اور غربت وطن کی وحشت نہ ہو۔
Ayah 19:50

وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠ Open ayah 19:50 in the Quran reader

اور ہم نے اپنی رحمت2 کا حصہ ان کو دیا (پیغمبری دی اور دولت اور حکومت اور سب سے بڑھ کر یہ نعمت دی) سچی زبان ان کے لئے بلند کردی

ف 2 یعنی ان کا ذکر خیر ہمیشہ کے لئے لوگوں کی زبان پر جاری کردیا۔ چناچہ یہودی، عیسائی اور مسلمان سب ان کی تعظیم کرتے ہیں اور نماز میں درود ابراہیمی بھی حضرت ابراہیم کی دعا کی مقبولیت کا ہی ثمرہ ہے۔ (شوکانی)
Ayah 19:51

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١٘ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا Open ayah 19:51 in the Quran reader

اور اے3 پیغمبر قرآن میں موسیٰ کا ذکر وہ ہمارا خاص بندہ اور میرے خدا کا بھیجا ہوا لوگوں کو اللہ کا پیغام سنانیوالا تھا۔

ف 3” بھیجا ہوا “ رسول کے اور ” اللہ کا پیغام سنانے والا “ نبی کے لفظ معنی ہیں اور قرآن میں یہ دونوں لفظ عموماً ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوئے ہیں۔ تاہم بعض مقامات ایسے ہیں جن سے دونوں کے مرتبہ یا کام کی نوعیت کے اعتبار سے فرق معلوم ہوتا ہے اور دونوں میں تفایر پایا جاتا ہے (دیکھیے سورة حج 56) شاہ صاحب لکھتے ہیں : ” جس کو اللہ کی وحی آئی وہ نبی، ان میں جو خاص ہیں امت رکھتے ہیں یا کناب وہ رسول ہیں “
Ayah 19:52

وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا Open ayah 19:52 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو طور یہاں پر داہنی طرف سے دیا برکت والے کنارے سے) پکارا اور ہم نے اس کو بھیجا کہنے کو نزدیک بلایا (یا ہم نے اس کو نزدیک بلایا بلند کر کے)

ف 4 دائیں طرف سے حضرت موسیٰ کی دائیں طرف مراد ہے کیونکہ وہ درخت جس سے آواز آرہی تھی اسی طرح واقع تھا اور نہ پہاڑ کی بجائے خود دائیں یا بائیں جانب نہیں ہوتی۔ (شوکانی) آنحضرت کی بعثت سے پہلے عیسائیوں نے اس درخت کی جگہ جو گرجاتعمیر کیا تھا اور جو اب تک قائم ہے وہ کوہ طور کی مشرقی سمت ہے۔ ” یہ آواز حضرت موسیٰ کو اس وقت دی گئی جب وہ ” مدین “ سے مصر واپس آرہے تھے۔ اگر اس گرجا کا جائے وقوع صحیح ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت موسیٰ اس وقت کوہ طور کی شرقی سمت سے گزر رہے تھے۔
Ayah 19:53

وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا Open ayah 19:53 in the Quran reader

اور ہم نے اپنی مہربانی سے اس کو (یعنی اس کی مدد کے لئے) اس کے بھائی6 ہارون پیغمبر کو دیا

ف 5 بھید کہنے سے مراد بازداری کی باتیں کرتا ہے اور دوسرے معنی یعنی ” بلند کر کے نزدیک بلایا ۔ اس لحاظ سے ہیں کہ تابعین کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو اتنا قریب کیا کہ انہوں نے لوح محفوظ پر قلم چلنے کی آواز سنی کذا قال السدی (شوکانی ابن کثیر) حضرت ہارون اگرچہ عمر میں حضرت موسیٰ سے بڑے تھے مگر انہیں پیغمبر اس وقت ملی جب حضرت موسیٰ نے درخواست کی۔ (دیکھیے آیت 30-29)
Ayah 19:54

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ Open ayah 19:54 in the Quran reader

اور اے پیغمبر قرآن میں اسمعیل کا کر کر وہ وعدے کا سچا تھا اور7 وہ اللہ کا بھیجا ہوا (اس کا پیغام (لوگوں کو) سنانے والا تھا8

ف 7 یہ پانچواں قصہ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم کے لڑکے تھے اور تمام عرب حجاز کے باپ (ابن کثیر) گو تمام انبیاء ہی وعدہ کے سچے ہوتے ہیں۔ مگر حضرت اسمعیل کے وعدہ کی سچائی تھی اور ان میں یہ صفت نمایاں طور پر پائی جاتی تھی، یہاں کے وعدے کی سچائی ہی تو تھی کہ انہوں نے اپنے والد سے وعدہ کیا کہ ذبح ہوتے وقت صبر کروں گا پھر بےدھڑک چھری کے نیچے لیٹ گئے اور چوں تک نہ کی، اور جس عبادت کا بھی التزام کیا اور منت مانی اسے پوری طرح ادا کیا ابن کثیر)8 اس سے حضرت اسحقٰ پر حضرت اسمعیل کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے کہ کیونکہ حضرت اسحاق کو صرف نبی اور حضرت اسمعیل کو رسول نبی فرمایا گیا ہے۔ نیز صحیح مسلم میں نبی ﷺ کا ارشاد ہے :” اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کی اولاد میں سے اسمعیل کو منتخب فرما لیا۔ (ابن کثیر)
Ayahs 19:55–56

وَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا Open ayah 19:55 in the Quran reader

اور اور اپنے گھر والوں کو نماز پڑھنے اور زکواۃ دینے کا حکم کرتا اور وہ اپنے مالک کا یارا تھا

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ Open ayah 19:56 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) قرآن میں ادریس کا ذکر وہ بڑا سچا تھا9 (اور) نبی تھا

ف 9 یہ چھوٹا قصہ حضرت ادریس کا ہے بعض مفسرین نے حضرت ادریس کو بنی اسرائیل کے انبیاء میں شمار کیا ہے اور دلیل یہ دی ہے کہ معراج کے موقع پر جب نبی ﷺ کی ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے نبی ﷺ کو مرحبا بالنبی الصلاح وارمغ الصالح “ کہہ کر خطاب کیا اور حضرت آدم اور ابراہیم کی طرح ” مرحبا بالنبی الصالح والامغ الصالح کہہ کر خطاب کیا اور حضرت آدم اور ابراہیم کی طرح ” مرحبا بالوالد الصالح نہیں کہا اور امام بخاری کا خیال بھی یہی ہے (فتح الباری ج 13، ص 224) لیکن اکثر مفسرین کی تحقیق یہ ہے کہ ان کا زمانہ حضرت نوح سے بھی پہلے کا ہے بلکہ ان کو حضرت نوح کا جد اعلیٰ قرار دیا ہے ابن جریر اور ابن کثیر نے اسی رائے کو ترجیح دی ہے
Ayah 19:57

وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا Open ayah 19:57 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو بلند جگہ اٹھا لیا10

ف 10 یعنی بلند مرتبہ عطا فرمایا ہے جیسا کہ حدیث معراج میں ہے کہ چاہیے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز میں رونا جائز ہے (ابن کثیر)
Ayahs 19:58–59

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١٘ وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ١٘ وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَا١ؕ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩ Open ayah 19:58 in the Quran reader

یہ پیغمبر وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا آدم کی اولاد میں سے اور ان لوگوں کی (اولاد میں سے) جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) چڑھا لیا تھا اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد میں سے اور (یہ) ان لوگوں میں سے ہیں جن کو ہم نے ہدایت کی (سچی راہ بتلائی اور ان کو (ساری خلقت میں سے پیغمبر کے لئے چن لیا۔ جب ان لوگوں کو اللہ کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو سجدے میں گرپڑے اور روتے جائے12

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ Open ayah 19:59 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ایسے نالائق پیدا ہوئے جنہوں نے13 نے نماز کو تو گنوا دیا اور (دنیا کے) مزوں میں لگ گئے تو ان کی گمراہی ضرور ان کے سامنے آئے1

ف 11 نماز کے گنوانے کا مطلب یہ بھی ہے کہ اسے صحیح وقت اور صحیح طریقہ سے پڑھنا چھوڑ دیا۔ 1 یعنی ضرور اس کے انجام بد سے دوچار ہونگے بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ غی جہنم میں ایک وادی ہے۔ (ابن کثیر)
Ayahs 19:60–61

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًاۙ Open ayah 19:60 in the Quran reader

مگر جو کوئی توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھے کام کرے تو ایسے لوگ بہشت میں جائیں گے اور ان پر کچھ ظلم نہ ہوگا

جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا Open ayah 19:61 in the Quran reader

ف 2 (وہ بہت کیا ہے) ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن کا اللہ نے اپنے بندوں کو بن دکھائے وعدہ کیا ہے (بندوں نے ان باغوں کو نہیں دیکھا) بیشک اس کا وعدہ آ کر رہے گا (یا اس کا وعدہ ضرور پورا ہوگا )

ف 2 یعنی ان کا کوئی اجر مارانہ جائے گا جیسا کہ حدیث میں ہے التائب من الذنب کمن لاذنب لہ کہ گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص جیسا ہے جس نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ (کذافی ابن کثیر)
Ayahs 19:62–63

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا١ؕ وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:62 in the Quran reader

وہاں کوئی بیہودہ بات سننے میں نہ آئیگی البتہ سلام (کی آواز) سنتے رہیں گے اور وہاں ان کو صبح شام کھانا ملتا رہے گا

تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا Open ayah 19:63 in the Quran reader

ف 3 یہی وہ بہشت ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے ان کو کریں گے جو پرہیز گار میں4

ف 3 یعنی اتنی اتنی دیر کے بعد جتنی دیر دنیا میں صبح سے شام تک ہوتی ہے یا ہر آن جب بھی انہیں کھانے کی خواہش ہو کیونکہ جنت میں دنیا کی طرح نہ دن ہوگا اور نہ رات، بلکہ ہمیشہ ایک سا وقت رہے گا۔ (ابن کثیر)4 یعنی اللہ و رسول کی اطاعت کرتے ہیں اور کفر و شرک اور گناہ سے بچتے ہیں۔
Ayah 19:64

وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ١ۚ لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّاۚ Open ayah 19:64 in the Quran reader

اور اے فرشتوں ہمارے پیغمبر سے کہہ دو ) ہم نہیں اترتے مگر تریے مالک کے حکم5 جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو ان کے بیچ میں6 ہے سب اسی کا ہے اور تیرا مالک (کسی چیز کو) بھولنے والا نہیں7

ف 5 یعنی جب اس کا حکم ہوتا ہے تو زمین پر یا آپ پر وحی لے کر اترتے ہیں اور اس کے حکم کے بغیر نہیں اتر سکتے۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ) آنحضرت نے حضرت جبریل سے فرمایا آپ ہمارے پاس جتنا آتے ہیں اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے۔ “ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (بخاری) دوسری روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ کئی روز تک حضرت جبرئیل نہ آئے۔ نبی ﷺ کو بڑی فکر ہوئی۔ اس پر حضرت جبریل یہ آیت لے کر نازل ہوئے۔ مجاہد کہتے ہیں کہ کچھ دنوں کے بعد جبریل فرمایا :” آپ ہمارے پاس جتنا آتے ہیں اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے “ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (بخاری) دوسری روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ کئی روز تک حضرت جبریل نہ آئے نبی ﷺ کو بڑی فکر ہوئی۔ اس پر حضرت جبریل یہ آیت لے کر نازل ہوئے مجاہد کہتے ہیں کہ کچھ دنوں کے بعد جب جبریل آئے تو آپ نے فرمایا :” اے جبریل ! آپ نے آنے میں اتنی دیر کیوں کردی ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور یہ (یعنی وحی کا رک جانا) غالباً اس وقت کا واقعہ ہے جب یہود کے اشارے پر مشرکین نے اصحاب کہف روح اور ذی القرنین کے متعلق سوالات کئے تھے آپ نے انشاء اللہ ! نہ کہا چناچہ کچھ دنوں کے بعد جبریل آئے اور یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن کثیر، کبیر)6 یعنی ہر زمانہ (ماضی، حال، استقبال) اور ہر مکان اسی کا ہے اسے ہر چیز کا پورا علم ہے اور اس کے احاطہ علم سے کوئی چیز باہر نہیں رہ سکتی۔7 یعنی اتنے دنوں تک آپ پر جو وحی نہیں آئی۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ آپ کا رب آپ کو بھول گیا اور اس نے آپ کو چھوڑ دیا تھا۔ جیسا کہ یہ مشرکین باتیں بنا رہے ہیں۔
Ayah 19:65

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ١ؕ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠ Open ayah 19:65 in the Quran reader

وہ مالک ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو ان کے بیچ میں ہے اس کا (بھی) تو اسی کی پوجا کر اور اس کی پوجا پر جمارہ8 کیا تو اس کے جوڑ کا اور کوئی بھی سمجھتا ہے9

ف 8 یعنی اس کی بندگی کرتے رہیے اور اس راہ میں جو مصائب و مشکلات پیش آئیں ان کا پورے صبر کے ساتھ مقابلہ کیجیے اگر ہماری طرف سے کبھی یاد فرمای یا مدد اور تسلی دینے میں کچھ تاخیر ہوجائے تو گھبرانے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔9 اور جب اس کے جوڑ کا آپ کسی کو نہیں سمجھتے تو پھر اس کے سوا چارہ کیا ہے کہ اس کی بندگی کے راستے پر چلتے رہیے
Ayahs 19:66–67

وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا Open ayah 19:66 in the Quran reader

اور آدمی (جو قیامت کا انکار کرتا ہے) کہت ہے کیا جب میں مر جائوں گا تو پھر (دوبارہ جلا کر (قبر سے) نکالا جائوں گا

اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْئًا Open ayah 19:67 in the Quran reader

اس آدمی کو اتنا شعور نہیں کہ پہلے جب وہ کچھ نہ تھا ہم نے اس کو پیدا کردیا10

ف 10 تو کیا جو ذات پاک اسے عدم سے وجود میں لے آئی ہے اس کے لئے یہ مشکل ہے کہ مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندگی دے سکے۔ یہ بعث یعنی دوبارہ زندہ کرنے کی سب سے قومی دلیل ہے۔ (شوکانی)
Ayahs 19:68–69

فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ Open ayah 19:68 in the Quran reader

تو قسم تیرے مالک کی ہم تو ان آدمیوں کو (جو قیامت کے منکر ہیں) اور شیطانوں کو (جنہوں نے آدمیوں کو بہ کیا ا) اکٹھا کرینگے پھر جہنم کے گرد گھنٹوں پر گرے ہوئے ان کو حاضر کرینگے

ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّاۚ Open ayah 19:69 in the Quran reader

پھر ہر جماعت میں سے ہم اس کو الگ کرلیں گے جو خدا کے مقابلہ پر بہت دلیر تھا11

ف 11 یعنی ہر باغی گروہ میں سے اس کے لیڈر اور پیشوا کو جس نے اسے کفر و شرک میں پھنسایا اور خدا کے مقابلے میں سرکشی کی راہ دکھائی، نکال کر الگ کھڑا کرینگے اور ایسے لوگوں کو سب سے پہلے جہنم میں جھونکیں گے۔ ان کے بعد ان کے متبعین کی باری آئے گی۔ یاد رہے کہ یہاں ” عتیا “ کا لفظ ” عتو “ کے مثل مصدر ہے۔ (شوکانی)
Ayahs 19:70–71

ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا Open ayah 19:70 in the Quran reader

پھر ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو دوزخ میں زیادہ جلنے کے لائق ہیں (یا جو دوزخ میں پہلے جانے کے سزا وار ہیں)

وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا١ۚ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ Open ayah 19:71 in the Quran reader

اور تم میں سے کوئی ایسا نہیں جو دوزخ میں نہ جائے1 یا دوزخ پر سے نہ گذرے) یہ تو تیرے مالک پر لازم ہے اس نے فیصلہ کرلیا ہے

ف 1 لغت کے اعتبار سے ” وارد “ ہونے ” کے معنی “ داخل ہونا “ اور ” اوپر سے گزرنا “ دونوں ہوسکتے ہیں اس لئے بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہاں ” ورود “ سے مراد ” پل صراط “ سے گزرنا ہے اور یہ ” پل صراط “ چونکہ جہنم کے اوپر رکھی جائے گی اس لئے یہ جہنم پر سے گزرنا ہی ہے اور متعدد صحیح روایات سے ثابت ہے کہ ہر نیک و بد اور ہر کافر و مومن کو اسی سے گزرنا پڑے گا اور جن مفسرین نے اس کے معنی داخل ہونے کئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ تحلتہ القسم “ کے طور پر ہر مومن و کافر ایک مرتبہ جہنم میں داخل ہوگا مگر مومنوں پو ہآگ ٹھنڈی اور باعث رحمت بنادی جائے گی۔ بعض روایات اس معنی کی بھی تائید ہوتی ہے مگر پہلے معنی اولیٰ ہیں کیونکہ ان سے کتاب و سنت کے دلائل کے مابین تطبیق ہوجاتی ہے۔ (شوکانی)
Ayah 19:72

ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا Open ayah 19:72 in the Quran reader

پھر جو پر ہیگز گار ہیں (شرک اور کفر سے بچے رہے ہیں ان کو تو ہم دو خ سے نکا لیں گے اور کافروں کو اسی میں گھنٹوں کے بل پڑا رہنے دین گے2

ف 2 یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جب پچھلی آیت میں رود “ کے معنی دخول کے لئے جائیں اور اگر وارد ہونے کے معنی اوپر سے گزرنا لئے جائیں تو اس آیت کا ترجمہ یوں ہوگا، پھر ہم پرہیز گاروں کو (دوزخ میں گرنے سے) بچا لیں گے اور کافروں کو اسی میں گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔
Ayahs 19:73–74

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا١ۙ اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا Open ayah 19:73 in the Quran reader

اور جب ہماری کھلی کھلی (صاف مضمون کی) آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کافر ایمان والوں سے کہت یہیں (بھلا یہ تو بتائو) دونوں فرقوں میں (یعنی ہم میں اور تم میں کس فرقے کے مکان اچھے ہیں اور کس کی مجلس شاندار ہے۔

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءْیًا Open ayah 19:74 in the Quran reader

اور ہم نے تو ان سے پہلے کتنے جتھوں کو تباہ کردیا جو ان سے اچھا سامان اور ان سے اچھی نمود رکھتے تھے3

ف 3 تو یہ کس شمارقطار میں ہیں۔ حقیقت میں دنیا کے ٹھاٹ بھاٹ اور جاہ و جلال پر پھولنا اور نادار مسلمانوں کو حقیر جاننا پر لے درجے کی حماقت ہے۔
Ayah 19:75

قُلْ مَنْ كَانَ فِی الضَّلٰلَةِ فَلْیَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا١ۚ۬ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَ١ؕ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا Open ayah 19:75 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان لوگوں سے) کہہ دے جو گمراہ ہوتا ہے تو اللہ اس کو اور ڈھیلا چھوڑ دیتا ہے خوب ڈھیلا جب وہ اس کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ ہے (دنیا کا) عذاب (قید ہونا قتل ہونا جیسے جنگ بدر میں ہوا) یا قیامت اس وقت (بچہ) جان لیں گے کس کا مکان برا ہے (مومنوں کا یا ان کا) اور کس کا جتھا کمزور ہے

ف 4 یعنی جس طرح گمراہوں کو ڈھیل دیتا ہے اور وہ بدی کے راستے میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اس طرح ہدایت یافتہ لوگوں کو بھی مزید نیک کام کرنے کی توفیق دیتا جاتا ہے جس سے وہ اس کی خوشنودی کے راستوں پر بڑھتے چلے جاتے ہیں پھر ایمان کے بعد اخلاص کی دولت سے نوازنا بھی ” زادھم ھدی “ میں داخل ہے۔ (کبیر)
Ayah 19:76

وَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًى١ؕ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ مَّرَدًّا Open ayah 19:76 in the Quran reader

اور جو لوگ سیدھی راہ پر ہیں ان کو اور زیادہ اللہ (نیک کام کرنے کی) ہدایت کرتا جاتا ہے۔ اور قائم رہنے والی نیکیاں5 تیرے مالک کے نزدیک اچھا بدلہ رکھتی ہیں اور اچھا انجام6

ف 5 ایمان اور جمیع اعمال صالحہ ان میں داخل ہیں کیونکہ ان کا نفع دائمی ہے باقیات صالحات سے مراد ہیں وہ اعمال جن کا ثواب مرنے کے بعد قائم رہتا ہے حدیث میں ہے کہ ” لا الہ الا اللہ واللہ اکبر سبحان اللہ بھی الہاقیات الصالحات میں سے ہیں۔ (دیکھیے سورة کہف آیت 3)6 لہٰذا فکر بھی انہی کی ہونی چاہیے نہ کہ دنیا کے چند روز عیش و آرام کی۔
Ayahs 19:77–78

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاؕ Open ayah 19:77 in the Quran reader

(اے پیغمبر، کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں کو نہ مانا اور کہتا ہے (اگر سچ آخرت میں بہشت ملے گی تو) مجھ کو ضرور مال ملے گا اور اولاد بھی ملے گی۔

اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ Open ayah 19:78 in the Quran reader

کیا اس کو غیب کی بات معلوم ہوگئی یا اس نے اللہ سے کوئی اقرار لے لیاف 8 ہے (کہ ضرور اس کو بہشت ملے گی،

ف 7 اوپر کی آیات میں صحت حشر کے دلائل بیان فرمائے اور ان ن کے شبہات کا ازالہ فرمایا اب ان کا قوال نقل فرمایا جو حشر میں طعن کرتے ہوئے اس کا مذاق اڑاتے تھے صحیحین میں ہے کہ حضرت خباب بن ادت لوہار کا کام کرنے تھے اور ان کا عاص بن وائل (ایک ملدار کافر) پر کچھ قرض تھا۔ وہ ایک روز) تقاضے کے لئے اس کے پاس گئے کافر کہنے لگا ” میں تمہارا قرض اس وقت تک ادا نہ کروں گا جب تک تم محمد (ﷺ) کی رسالت سے انکار نہ کردو “ خباب نے کہا ” اللہ کی قسم میں محمد ﷺ کی رسالت سے ہرگز انکار نہ کروں گا یہاں تک کہ تم مر کردو بد “ زندہ ہوجائو ” کافر کہنے لگا “ جب میں مر کر دوبارہ زندہ ہوں گا تو تم میرے پاس آنا، اس وقت میرے پاس خوب مال بھی ہوگا اور اولاد بھی میں تمہارا قرض ادا کردوں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ چار آیات فرداً تک نازل فرمائیں۔ پہلی آیت میں اس کے طعن کو نقل فرمایا اور پھر ” اطلع الغیب سے اس کے استہزا کا جواب دیا۔ (کبیر)8 یعنی یہ بات ” کہ وہ جنت میں جائے گا اور واں دولت پائے گا تو ہہی کرسکتا ہے جس نے علم غیب پر اطلاع پالی ہو یا ” عالم الغیب نے خود اسے اطلاع دے دی ہو۔ (کسیر)
Ayah 19:79

كَلَّا١ؕ سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّاۙ Open ayah 19:79 in the Quran reader

ہرگز نہیں9 وہ بکتا ہے ہم اس کو لکھ رکھیں گے اور اس کا عذاب خوب بڑھائیں10

ف 9 یہ کلمہ اجر ہے اور اسے اس کی غلطی پر متنبہ کیا ہے یعنی یہ دونوں باتیں نہیں ہیں10 یعنی اسے دوہرا عذاب دیں گے ایک عذاب کفر کا دوسرا استہزا اور مذاق اڑانے کا
Ayah 19:80

وَّ نَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا Open ayah 19:80 in the Quran reader

اور جس کا ذکر کرتا ہے (یعنی مال اور اولاد کا اس کے مرنے پیچھے، وہ (سب) ہم لے لیں گے اور وہ اکیلا11 (بیک بینی و دو گوش ہمارے پاس آئیگا12

ف 11 یعنی قیامت کے دن جب اس کے پاس نہ مال ہوگا اور نہ اولاد (دیکھیے سورة کہف آیت 8)12 یعنی انکی سفارش کر کے اللہ کے عذاب سے ان کے بچائو کا سبب بنیں۔ مسئلہ حشر و نشر بیان کرنے کے بعد اب ان کے بتوں کی پرستش کی تردید ہے۔ (کبیر)