20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

سورة طہ تعارف یہ سورت مکہ مکرمہ کے بالکل ابتدائی دور میں نازل ہوئی تھی۔ مستند روایات سے ثابت ہے کہ حضرت عمر (رض) اسی سورت کو سن کر اسلام لائے تھے۔ ان کی بہن حضرت فاطمہ اور ان کے بہنوئی حضرت سعید بن زید (رض) ان سے پہلے خفیہ طور پر اسلام لاچکے تھے جس کا انہیں پتہ نہیں تھا۔ ایک روز وہ گھر سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کے ارادے سے نکلے۔ راستے میں نعیم بن عبداللہ نامی ایک صاحب انہیں ملے، انہوں نے حضرت عمر سے کہا کہ آپ پہلے اپنے گھر کی خبر لیں جہاں آپ کی بہن اور بہنوئی مسلمان ہوچکے ہیں۔ حضرت عمر غصے کے عالم میں واپس آئے تو بہن اور بہنوئی حضرت خباب بن ارت سے سورة طہ پڑھ رہے تھے۔ حضرت عمر کو آتے دیکھا تو انہوں نے وہ صحیفہ جس پر سورة طہ لکھی ہوئی تھی، کہیں چھپا دیا، لیکن حضرت عمر پڑھنے کی آواز سن چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تم مسلمان ہوچکے ہو، اور یہ کہہ کر بہن اور بہنوئی دونوں کو بہت مارا۔ اس وقت ان دونوں نے کہا کہ آپ ہمیں کوئی بھی سزا دیں، ہم مسلمان ہوچکے ہیں، اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو کلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے، وہ پڑھ رہے تھے۔ حضرت عمر نے کہا کہ اچھا مجھے بھی دکھاؤ، وہ کیسا کلام ہے۔ بہن نے ان سے غسل کروا کر صحیفہ ان کو دکھایا جس میں سورة طہ لکھی ہوئی تھی۔ اسے پڑھ کر حضرت عمر (رض) مبہوت رہ گئے، اور انہیں یقین ہوگیا کہ یہ کسی انسان کا نہیں، اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ حضرت خباب (رض) نے بھی انہیں اسلام لانے کی ترغیب دی، اور بتایا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دعا فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ ابو جہل یا عمر بن خطاب میں سے کسی ایک کو اسلام کی توفیق دے کر اسلام کی قوت کا سامان پیدا فرمادے۔ چنانچہ اسی وقت وہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور اسلام قبول کرلیا۔ جس زمانے میں یہ سورت نازل ہوئی، وہ مسلمانوں کے لیے بڑی آزمائش اور تکلیفوں کا زمانہ تھا۔ کفار مکہ نے ان پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا تھا۔ اس لیے اس سورت کا بنیادی مقصد ان کو تسلی دینا تھا کہ اس قسم کی آزمائشیں حق کے علمبرداروں کو ہر زمانے میں پیش آئی ہیں، لیکن آخری انجام انہی کے حق میں ہوا ہے۔ چنانچہ اسی سلسلہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ نہایت تفصیل کے ساتھ اسی سورت میں بیان ہوا ہے جس سے دونوں باتیں ثابت ہوتی ہیں، یہ بھی کہ ایمان والوں کو آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ بھی کہ آخری فتح انہی کی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ثابت کرنا مقصود ہے کہ تمام انبیائے کرام کی بنیادی دعوت ایک ہی ہوتی ہے کہ انسان خدائے واحد پر ایمان لائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔

Ayah 20:1
1: بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ طٰہٰ رسول کریم ﷺ کے اسمائے گرامی میں سے ایک نام ہے۔ اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ ان حروف مقطعات میں سے ہے جو مختلف سورتوں کے شروع میں آئے ہیں اور ان کے ٹھیک ٹھیک معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا
Ayah 20:2

مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ Open ayah 20:2 in the Quran reader

ہم نے تم پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ تم تکلیف اٹھاؤ (2)

2: اس تکلیف سے مراد وہ تکلیفیں بھی ہوسکتی ہیں جو آنحضرت ﷺ کو کفار کی طرف سے پہنچ رہی تھیں، اس صورت میں مطلب یہ ہے کہ یہ تکلیفیں ہمیشہ باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو دور فرما کر آپ کو فتح عطا فرمائے گا۔ اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ شروع میں ساری ساری رات جاگ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت فرماتے تھے، یہاں تک کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے تھے۔ اس آیت نے ارشاد فرمایا کہ آپ کو اتنی تکلیف اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ چنانچہ اس آیت کے نزول کے بعد آپ نے رات کے شروع حصے میں سونا اور آخری حصے میں عبادت کرنا شروع کردیا۔
Ayahs 20:3–4

اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 20:3 in the Quran reader

البتہ یہ اس شخص کے لیے ایک نصیحت ہے جو ڈرتا ہو۔ (3)

تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىؕ Open ayah 20:4 in the Quran reader

اسے اس ذات کی طرف سے تھوڑ ا تھوڑا کر کے نازل کیا جارہا ہے جس نے زمین اور اونچے اونچے آسمان پیدا کیے ہیں۔

3: یہ نصیحت اس کے لیے کار آمد ہے جو ڈرتا رہتا ہو کہ میرا طرز عمل صحیح ہے یا نہیں، دوسرے الفاظ میں جس کے دل میں حق کی طلب ہو اور جو ہٹ دھرمی یا لاپرواہی کی روش اختیار کرنے کے بعد بےفکر ہو کر نہ بیٹھ گیا ہو۔
Ayahs 20:5–6

اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى Open ayah 20:5 in the Quran reader

وہ بڑی رحمت والا عرش پر استوا فرمائے ہوئے ہے۔ (4)

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى Open ayah 20:6 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اور ان کے درمیان جو کچھ ہے وہ سب بھی اسی کی ملکیت ہے، اور زمین کی تہوں کے نیچے جو کچھ ہے وہ بھی۔

4: اس کی تشریح پیچھے سورة اعراف : 54 کے حاشیے میں گذر چکی ہے۔
Ayahs 20:7–9

وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى Open ayah 20:7 in the Quran reader

اگر تم کوئی بات بلند آواز سے کہو (یا آہستہ) تو وہ چپکے سے کہی ہوئی باتوں کو، بلکہ اور زیادہ چھپی ہوئی باتوں کو بھی جانتا ہے۔ (5)

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى Open ayah 20:8 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کے اچھے اچھے نام ہیں۔

وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 20:9 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) کیا تم تک موسیٰ کا واقعہ پہنچا ہے ؟

5: اور زیادہ چھپی ہوئی باتیں وہ ہیں جو زبان سے کہی ہی نہیں گئیں، بلکہ جن کا صرف خیال دل میں آیا۔ اللہ تعالیٰ ان باتوں سے بھی باخبر ہے۔
Ayahs 20:10–11

اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى Open ayah 20:10 in the Quran reader

یہ اس وقت کی بات ہے جب ان کو ایک آگ نظر آئی تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا : تم یہیں ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ شاید میں اس میں سے کوئی شعلہ تمہارے پاس لے آؤں، یا اس آگ کے پاس مجھے راستے کا پتہ مل جائے۔ (6)

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىؕ Open ayah 20:11 in the Quran reader

چنانچہ جب وہ آگ کے پاس پہنچے تو انہیں آواز دی گئی کہ : اے موسیٰ۔

6: سورة قصص میں آگے اس واقعے کی تفصیل آنے والی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ مدین میں ایک عرصہ دراز گذارنے کے بعد اپنی اہلیہ کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تھے۔ جب صحرائے سینا میں پہنچے تو راستہ بھول گئے۔ اور سخت سردی کا بھی احساس ہوا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آگ کی سی شکل نظر آئی جو در حقیقت ایک نور تھا۔ اس وقت انہوں نے اپنی اہلیہ کو وہاں رکنے کی ہدایت دی۔ اور خود آگ کی طرف چلے۔
Ayahs 20:12–21

اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ Open ayah 20:12 in the Quran reader

یقین سے جان لو کہ میں ہی تمہارا رب ہوں۔ (7) اب تم اپنے جوتے اتار دو ، تم اس وقت طوی کی مقدس وادی میں ہو۔ (8)

وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰى Open ayah 20:13 in the Quran reader

اور میں نے تمہیں (نبوت کے لیے) منتخب کیا ہے۔ لہذا جو بات وحی کے ذریعے کہی جارہی ہے اسے غور سے سنو۔

اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ Open ayah 20:14 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس لیے میری عبادت کرو، اور مجھے یاد رکھنے کے لیے نماز قائم کرو۔

اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى Open ayah 20:15 in the Quran reader

یقین رکھو کہ قیامت کی گھڑی آنے والی ہے، میں اس (کے وقت) کو خفیہ رکھنا چاہتا ہوں، تاکہ ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلہ ملے۔

فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى Open ayah 20:16 in the Quran reader

لہذا کوئی شخص تمہیں اس سے ہرگز غافل نہ کرنے پائے جو اس پر ایمان نہ رکھتا ہو، اور اپنی خواہشات کے پیچھے چلتا ہو، ورنہ تم ہلاکت میں پڑجاؤ گے۔

وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:17 in the Quran reader

اور موسیٰ یہ تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے ؟

قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى Open ayah 20:18 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا : یہ میری لاٹھی ہے، میں اس کا سہارا لیتا ہوں، اور اس سے اپنی بکریوں پر (درخت سے) پتے جھاڑتا ہوں، اور اس سے میری دوسری ضروریات بھی پوری ہوتی ہیں۔

قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:19 in the Quran reader

فرمایا : موسیٰ ! اسے نیچے پھینک دو۔

فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى Open ayah 20:20 in the Quran reader

چنانچہ انہوں نے اسے پھینک دیا۔ بس پھر کیا تھا۔ وہ اچانک ایک دوڑتا ہوا سانپ بن گئی۔

قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى Open ayah 20:21 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا : اسے پکڑ لو، اور ڈرو نہیں۔ ہم ابھی اسے اس کی پچھلی حالت پر لوٹا دیں گے۔

7: سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو یہ یقین کیسے آیا کہ یہ آواز اللہ تعالیٰ کی طرف سے آرہی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو یہ اطمینان عطا فرمادیا کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی سے ہم کلام ہیں۔ اور حالات بھی ایسے پیدا کردئیے گئے کہ انہیں یہ یقین آجائے۔ مثلاً بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ آگ کے پاس پہنچے تو یہ عجیب منظر نظر آیا کہ وہ آگ ایک درخت کے اوپر شعلے مار رہی ہے۔ مگر درخت کا کوئی پتہ جلتا نہیں ہے۔ انہوں نے انتظار کیا کہ شاید کوئی چنگاری اڑ کر ان کے پاس آجائے۔ مگر وہ بھی نہ آئی۔ پھر انہوں نے کچھ گھاس پھونس لے کر اسے آگ کے قریب کیا، تاکہ اس میں آگ لگ جائے تو وہ آگ پیچھے ہٹ گئی۔ اس وقت یہ آواز سنائی دی اور آواز کسی ایک جہت سے نہیں، بلکہ چاروں طرف سے آتی محسوس ہو رہی تھی، اور موسیٰ ؑ صرف کان سے نہیں، بلکہ تمام اعضاء سے یہ آواز سن رہے تھے 8: کوہ طور کے دامن میں جو وادی ہے اس کا نام طوی ہے، اور یہ ان مقامات میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے خصوصی تقدس عطا فرمایا ہے، اور جوتے اتارنے کا حکم ایک تو اس وادی کے تقدس کی وجہ سے تھا اور دوسرے یہ موقع جب کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہم کلامی کا شرف مل رہا تھا، ادب اور عجز ونیاز کے اظہار کا موقع تھا، اس لئے بھی جوتے اتار دینا مناسب تھا۔
Ayahs 20:22–26

وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 20:22 in the Quran reader

اور اپنے ہاتھ کو اپنی بغل میں دباؤ، وہ کسی بیماری کے بغیر سفید ہو کر نکلے گا۔ (9) یہ (تمہاری نبوت کی) ایک اور نشانی ہوگی۔

لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ Open ayah 20:23 in the Quran reader

(یہ ہم اس لیے کر رہے ہیں) تاکہ اپنی بڑی نشانیوں میں سے کچھ تمہیں دکھائیں۔

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ Open ayah 20:24 in the Quran reader

(اب) فرعون کے پاس جاؤ۔ وہ سرکشی میں حد سے نکل گیا ہے۔

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ Open ayah 20:25 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا : پروردگار ! میری خاطر میرا سینہ کھول دیجیے۔

وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:26 in the Quran reader

اور میرے لیے میرا کام آسان بنا دیجیے۔

9: یعنی جب ہاتھ کو بغل سے نکالو گے تو سفیدی سے چمک رہا ہوگا، اور یہ سفید برص وغیرہ کی کسی بیماری کی وجہ سے نہیں ہوگی
Ayahs 20:27–33

وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ Open ayah 20:27 in the Quran reader

اور میری زبان میں جو گرہ ہے اسے دور کردیجیے (10)

یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪ Open ayah 20:28 in the Quran reader

تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں۔

وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ Open ayah 20:29 in the Quran reader

اور میرے لیے میرے خاندان ہی کے ایک فرد کو مددگار مقرر کردیجیے۔

هٰرُوْنَ اَخِیۙ Open ayah 20:30 in the Quran reader

یعنی ہارون کو جو میرے بھائی ہیں۔

اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ Open ayah 20:31 in the Quran reader

ان کے ذریعے میری طاقت مضبوط کردیجیے۔

وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:32 in the Quran reader

اور ان کو میرا شریک کار بنا دیجیے۔

كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ Open ayah 20:33 in the Quran reader

تاکہ ہم کثرت سے آپ کی تسبیح کریں۔

10: بچپن میں حضرت موسیٰ ؑ نے ایک انگارہ زبان پر رکھ لیا تھا جس کی وجہ سے ان کی زبان میں تھوڑی سی لکنت پیدا ہوگئی تھی۔ اسی لکنت کو یہاں ”گرہ“ سے تعبیر فرمایا ہے
Ayahs 20:34–38

وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 20:34 in the Quran reader

اور کثرت سے آپ کا ذکر کریں۔ (11)

اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا Open ayah 20:35 in the Quran reader

بیشک آپ ہمیں اچھی طرح دیکھنے والے ہیں۔

قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:36 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا : موسیٰ ! تم نے جو کچھ مانگا ہے تمہیں دے دیا گیا۔

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ Open ayah 20:37 in the Quran reader

اور ہم نے تم پر ایک اور مرتبہ بھی احسان کیا تھا۔

اِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا یُوْحٰۤىۙ Open ayah 20:38 in the Quran reader

جب ہم نے تمہاری ماں سے وحی کے ذریعے وہ بات کہی تھی جو اب وحی کے ذریعے (تمہیں) بتائی جارہی ہے۔

11: اگرچہ تسبیح اور ذکر تنہا بھی کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر اچھے رفقاء میسر ہوں، اور ماحول ساز گار ہو تو یہ رفاقت خود بخود اس تسبیح اور ذکر کا داعیہ بن جاتی ہے
Ayah 20:39

اَنِ اقْذِفِیْهِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْهِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِهِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّیْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗ١ؕ وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ١ۚ۬ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْۘ Open ayah 20:39 in the Quran reader

کہ اس (بچے) کو صندوق میں رکھو، پھر اس صندوق کو دریا میں ڈال دو۔ (12) پھر دریا کو چھوڑ دو کہ وہ اسے ساحل کے پاس لاکر ڈال دے، جس کے نتیجے میں ایک ایسا شخص اس (بچے) کو اٹھالے گا جو میرا بھی دشمن ہوگا، اور اس کا بھی دشمن۔ (13) اور میں نے اپنی طرف سے تم پر ایک محبوبیت نازل کردی تھی۔ (14) اور یہ سب اس لیے کیا تھا کہ تم میری نگرانی میں پرورش پاؤ۔ (15)

12: فرعون کو کسی نجومی نے یہ کہہ دیا تھا کہ بنی اسرائیل کا ایک شخص تمہاری سلطنت کو ختم کرے گا۔ اس لیے اس نے یہ حکم جاری کردیا تھا کہ بنی اسرائیل میں جو کوئی بچہ پیدا ہو اسے قتل کردیا جائے۔ جب حضرت موسیٰ ؑ پیدا ہوئے تو ان کی والدہ کو فکر ہوئی کہ ان کو بھی فرعون کے آدمی قتل کر ڈالیں گے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل پر الہام فرمایا کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ کر دیائے نیل میں ڈال دو۔ 13: چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ وہ صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس پہنچ گیا، اور فرعون کے کارندوں نے بچے کو اٹھا کر فرعون کے پاس پیش کیا، اور اس کی بیوی حضرت آسیہ نے اسے آمادہ کرلیا کہ اسے اپنا بیٹا بنا کر پالیں۔ 14: حضرت موسیٰ ؑ کی شکل و صورت میں اللہ تعالیٰ نے ایسی معصومیت رکھ دی تھی کہ جو بھی آپ کو دیکھتا، آپ سے محبت کرتا تھا، اسی وجہ سے فرعون بھی انہیں اپنے گھر میں رکھنے پر راضی ہوگیا 15: یوں تو ہر شخص کی پرورش اللہ تعالیٰ ہی کی نگرانی میں ہوتی ہے، مگر یہاں مطلب یہ ہے کہ عام طور سے پرورش کے جو اسباب ہوتے ہیں کہ ماں باپ اپنے خرچ اور ذمہ داری پر بچے کی پرورش کرتے ہیں، وہ حضرت موسیٰ ؑ کے معاملے میں اختیار نہیں فرمائے گئے۔ اس کے بجائے اللہ تعالیٰ نے براہ راست ان کی پرورش ان کے دشمن سے کرائی۔