19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف اس سورت کا بنیادی مقصد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ حضرت مریم (علیہا السلام) کے بارے میں صحیح عقائد کی وضاحت اور ان کے بارے میں عیسائیوں کی تردید ہے۔ اگرچہ مکہ مکرمہ میں، جہاں یہ سورت نازل ہوئی، عیسائیوں کی کوئی خاص آبادی نہیں تھی، لیکن مکہ مکرمہ کے بت پرست کبھی کبھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دعوائے نبوت کی تردید کے لیے عیسائیوں سے مدد لیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ بہت سے صحابہ کفار مکہ کے مظالم سے تنگ آکر حبشہ کی طرف ہجرت کر رہے تھے جہاں عیسائی مذہب ہی کی حکمرانی تھی۔ اس لیے ضروری تھا کہ مسلمان حضرت عیسیٰ ، حضرت مریم، حضرت زکریا اور حضرت یحی (علیہم السلام) کی صحیح حقیقت سے واقف ہوں۔ چنانچہ اس سورت میں ان حضرات کے واقعات اسی سیاق وسباق میں بیان ہوئے ہیں۔ اور چونکہ یہ واضح کرنا تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خدا کے بیٹے نہیں ہیں، جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے، بلکہ وہ انبیائے کرام ہی کے مقدس سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ اس لیے بعض دوسرے انبیائے کرام (علیہم السلام) کا بھی مختصر تذکرہ اس سورت میں آیا ہے۔ لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی معجزانہ ولادت اور اس وقت حضرت مریم (علیہا السلام) کی کیفیات سب سے زیادہ تفصیل کے ساتھ اسی سورت میں بیان ہوئی ہیں، اس لیے اس کا نام سورة مریم رکھا گیا ہے۔

Ayahs 19:1–4

كٓهٰیٰعٓصٓ۫ۚ Open ayah 19:1 in the Quran reader

کھیعص (1)

ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّاۖۚ Open ayah 19:2 in the Quran reader

یہ تذکرہ ہے اس رحمت کا جو تمہارے پروردگار نے اپنے بندے زکریا پر کی تھی۔

اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا Open ayah 19:3 in the Quran reader

یہ اس وقت کی بات ہے جب انہوں نے اپنے پروردگار کو آہستہ آہستہ آواز سے پکارا تھا۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِیًّا Open ayah 19:4 in the Quran reader

انہوں نے کہا تھا کہ : میرے پروردگار ! میری ہڈیاں کمزور پڑگئی ہیں، اور سر بڑھاپے کی سفیدی سے بھڑک اٹھا ہے، اور میرے پروردگار ! میں آپ سے دعا مانگ کر کبھی نامراد نہیں ہوا۔

1: جیسا کہ سورة بقرہ کے شروع میں عرض کیا گیا، مختلف سورتوں کے شروع میں جو حروف مقطعات آئے ہیں، ان کا ٹھیک ٹھیک مطلب اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔
Ayah 19:5

وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ Open ayah 19:5 in the Quran reader

اور مجھے اپنے بعد اپنے چچازاد بھائیوں کا اندیشہ لگا ہوا ہے۔ (2) اور میری بیوی بانجھ ہے، لہذا آپ خاص اپنے پاس سے مجھے ایک ایسا وارث عطا کردیجیے۔

2: یعنی میری کوئی اولاد تو ہے نہیں، اور میرے پیچھے میرے چچازاد بھائی اپنے علم اور تقوی کے اعتبار سے اس مقام پر نہیں ہیں کہ وہ میرے مشن کو آگے جاری رکھ سکیں، اس لئے مجھے ان سے اندیشہ ہے کہ وہ دین کی خدمت نہیں کرسکیں گے، لہذا مجھے ایسا بیٹا عطا فرما دیجئے جو میرے علوم نبوت کا وراث ہو، حضرت زکریا ؑ کی اس دعا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے جواب میں بیٹا عطا فرمانے کا تذکرہ پیچھے سورة آل عمران (3: 38 تا 40) میں بھی گزرچکا ہے ان آیتوں کے حواشی بھی ملاحظہ فرمالئے جائیں۔
Ayahs 19:6–7

یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا Open ayah 19:6 in the Quran reader

جو میرا بھی وارث ہو، اور یعقوب ؑ کی اولاد سے بھی میراث پائے۔ (3) اور یا رب ! اسے ایسا بنایے جو (خود آپ کا) پسندیدہ ہو۔

یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ اِ۟سْمُهٗ یَحْیٰى١ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا Open ayah 19:7 in the Quran reader

(آواز آئی کہ) اے زکریا ! ہم تمہیں ایک ایسے لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحی ہوگا۔ اس سے پہلے ہم نے اس کے نام کا کوئی اور شخص پیدا نہیں کیا۔

3: ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ میراث پانے سے حضرت زکریا ؑ کا مطلب مال و دولت کی میراث نہیں تھا ؛ بلکہ علوم نبوت کی میراث پانا مراد تھا ؛ کیونکہ حضرت یعقوب ؑ کی اولاد سے مالی وراثت پانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، لہذا انکی دعا اس اصول کے خلاف نہیں جو معروف حدیث میں آنحضرت ﷺ نے بیان فرمایا ہے کہ انبیاء ؑ کا ترکہ ان کے وارثوں میں تقسیم نہیں ہوتا۔
Ayah 19:8

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا Open ayah 19:8 in the Quran reader

زکریا نے کہا : میرے پروردگار ! میرے یہاں لڑکا کس طرح پیدا ہوگا جبکہ میری بیوی بانجھ ہے، اور میں بڑھاپے سے اس حال کو پہنچ گیا ہوں کہ میرا جسم سوکھ چکا ہے۔ (4)

4: یہ تعجب کا اظہار در حقیقت فرط مسرت میں اللہ تعالیٰ کے اس انعام پر شکر ادا کرنے کا ایک اسلوب تھا۔
Ayah 19:9

قَالَ كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَیْئًا Open ayah 19:9 in the Quran reader

کہا : ہاں ! ایسا ہی ہوگا۔ تمہارے رب نے فرمایا ہے کہ یہ تو میرے لیے معمولی بات ہے، اور اس سے پہلے میں نے تمہیں پیدا کیا تھا جب تم کچھ بھی نہیں تھے۔ (5)

5: یعنی جس اللہ تعالیٰ نے تمہیں عدم سے وجود عطا فرمایا ہے، وہ یقیناً اس بات پر بھی قادر ہے کہ تمہیں بڑھاپے میں اولاد عطا فرما دے۔
Ayahs 19:10–11

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا Open ayah 19:10 in the Quran reader

زکریا نے کہا : میرے پروردگار ! میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرما دیجیے۔ (6) فرمایا : تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم صحت مند ہونے کے باوجود تین رات تک لوگوں سے بات نہیں کرسکو گے۔ (7)

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:11 in the Quran reader

چنانچہ وہ عبادت گاہ سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آئے، اور ان کو اشارے سے ہدایت دی کہ تم لوگ صبح و شام اللہ کی تسبیح کیا کرو۔

6: یعنی کوئی ایسی نشانی بتا دیجئے جس سے مجھے یہ پتہ چل جائے کہ حمل قرار پا چکا ہے 7: یعنی جب حمل قرار پائے گا تو تم سے بولنے کی قوت تین دن کے لیے سلب کرلی جائے گی۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمد کر سکوگے
Ayahs 19:12–16

یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ١ؕ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ Open ayah 19:12 in the Quran reader

(پھر جب یحی پیدا ہو کر بڑے ہوگئے تو ہم نے ان سے فرمایا) اے یحی ! کتاب کو مضبوطی سے تھام لو۔ (8) اور ہم نے بچپن ہی میں ان کو دانائی بھی عطا کردی تھی۔

وَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةً١ؕ وَ كَانَ تَقِیًّاۙ Open ayah 19:13 in the Quran reader

اور خاص اپنے پاس سے نرم دلی اور پاکیزگی بھی۔ اور وہ بڑے پرہیزگار تھے۔

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا Open ayah 19:14 in the Quran reader

اور اپنے والدین کے خدمت گزار ! نہ وہ سرکش تھے، نہ نافرمان۔

وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۠ Open ayah 19:15 in the Quran reader

اور (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) سلام ہے ان پر اس دن بھی جس روز وہ پیدا ہوئے، اس دن بھی جس روز انہیں موت آئے گی، اور اس دن بھی جس روز انہیں زندہ کر کے دوبارہ اٹھایا جائے گا۔

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ١ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ Open ayah 19:16 in the Quran reader

اور اس کتاب میں مریم کا بھی تذکرہ کرو۔ اس وقت کا تذکرہ جب وہ اپنے گھر والوں سے علیحدہ ہو کر اس جگہ چلی گئیں جو مشرق کی طرف واقع تھا۔

8: کتاب سے مراد تورات ہے، اور مضبوطی کے ساتھ تھامنے کا مطلب یہ ہے کہ اس پر خود بھی پورا پورا عمل کرو۔ اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرو۔
Ayahs 19:17–18

فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا١۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا Open ayah 19:17 in the Quran reader

پھر انہوں نے ان لوگوں کے اور اپنے درمیان ایک پردہ ڈال لیا۔ (9) اس موقع پر ہم نے ان کے پاس اپنی روح (یعنی ایک فرشتے) کو بھیجا جو ان کے سامنے ایک مکمل انسان کی شکل میں ظاہر ہوا۔

قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا Open ayah 19:18 in the Quran reader

مریم نے کہا : میں تم سے خدائے رحمن کی پناہ مانگتی ہوں۔ اگر تم میں خدا کا خوف ہے (تو یہاں سے ہٹ جاؤ)

9: علیحدہ جاکر پردہ ڈالنے کی وجہ بعض مفسرین نے یہ بیان کی ہے کہ غسل کرنا چاہتی تھیں، اور بعض نے کہا ہے کہ عبادت کے لئے تنہائی اختیار کرنا مقصود تھا، علامہ قرطبی نے اسی کو ترجیح دی ہے۔
Ayahs 19:19–20

قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ١ۖۗ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا Open ayah 19:19 in the Quran reader

فرشتے نے کہا : میں تو تمہارے رب کا بھیجا ہوا (فرشتہ) ہوں (اور اس لیے آیا ہوں) تاکہ تمہیں ایک پاکیزہ لڑکا دوں۔ (10)

قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا Open ayah 19:20 in the Quran reader

مریم نے کہا : میرے لڑکا کیسے ہوجائے گا، جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں ہے، اور نہ میں کوئی بدکار عورت ہوں ؟

10: پاکیزہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے نسب اور اپنے اخلاق و عادات کے اعتبار سے پاکیزہ ہوگا۔
Ayahs 19:21–22

قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ١ۚ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا١ۚ وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا Open ayah 19:21 in the Quran reader

فرشتے نے کہا : ایسے ہی ہوجائے گا۔ تمہارے رب نے فرمایا ہے کہ : یہ میرے لیے ایک معمولی بات ہے۔ اور ہم یہ کام اس لیے کریں گے تاکہ اس لڑکے کو لوگوں کے لیے (اپنی قدرت کی) ایک نشانی بنائیں۔ اور اپنی طرف سے رحمت کا مظاہرہ کریں (11) اور یہ بات پوری طرح طے ہوچکی ہے۔

فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا Open ayah 19:22 in the Quran reader

پھر ہوا یہ کہ مریم کو اس بچے کا حمل ٹھہر گیا (اور جب ولادت کا وقت قریب آیا) تو وہ اس کو لے کر لوگوں سے الگ ایک دور مقام پر چلی گئیں۔

11: انسان کی پیدائش کا عام طریقہ تو یہ ہے کہ وہ مرد اور عورت دونوں کے ملاپ سے پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو اس طرح پیدا فرمایا کہ ان کی پیدائش میں نہ کسی مرد کا کوئی دخل تھا، نہ کسی عورت کا، اور حضرت حواء کو چونکہ انہی کی پسلی سے پیدا کیا گیا، اس لیے ان کی پیدائش میں مرد کا تو فی الجملہ دخل تھا، عورت کا کوئی دخل نہیں تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے پیدائش کی چوتھی صورت اپنی قدرت سے ظاہر فرمائی کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو باپ کے بغیر صرف ماں سے پیدا فرمایا۔ اس سے ایک تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظاہرہ مقصود تھا اور دوسرے وہ ایک پیغمبر کی حیثیت میں لوگوں کے لیے رحمت بن کر تشریف لا رہے تھے۔
Ayahs 19:23–25

فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا Open ayah 19:23 in the Quran reader

پھر زچگی کے درد نے انہیں ایک کھجور کے درخت کے پاس پہنچا دیا۔ وہ کہنے لگیں : کاش کہ میں اس سے پہلے ہی مرگئی ہوتی، اور مر کر بھولی بسری ہوجاتی۔ (12)

فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا Open ayah 19:24 in the Quran reader

پھر فرشتے نے ان کے نیچے ایک جگہ سے انہیں آواز دی کہ : غم نہ کرو، تمہارے رب نے تمہارے نیچے ایک چشمہ پیدا کردیا ہے۔

وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘ Open ayah 19:25 in the Quran reader

اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلاؤ، اس میں سے پکی ہوئی تازہ کھجوریں تم پر جھڑیں گی۔

12: ایک پاکباز عورت کو کنوارے پن میں بچہ پیدا ہونے کے تصور سے جو بےچینی ہوسکتی ہے، وہ ظاہر ہے۔ اگرچہ عام حالات میں موت کی تمنا کرنا منع ہے، لیکن کسی دینی نقصان کے اندیشے سے ایسی تمنا منع نہیں۔ اور ایسا لگتا ہے کہ شدید بےچینی کے عالم میں حضرت مریم (علیہا السلام) کو فرشتے کی دی ہوئی بشارتوں کی طرف وقتی طور سے دھیان نہیں رہا۔ اس لیے بےساختہ یہ کلمات زبان سے نکلے۔
Ayah 19:26

فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ Open ayah 19:26 in the Quran reader

اب کھاؤ، اور پیو، اور آنکھیں ٹھنڈی رکھو۔ (13) اور اگر لوگوں میں سے کسی کو آتا دیکھو تو (اشارے سے) کہہ دینا کہ : آج میں نے خدائے رحمن کے لیے ایک روزے کی منت مانی ہے، اس لیے میں کسی بھی انسان سے بات نہیں کروں گی۔ (14)

13: حضرت مریم (علیہا السلام) جس جگہ تشریف لے گئی تھیں، وہ کچھ بلندی پر واقع تھی، (اور شاید یہی جگہ بیت اللحم کہلاتی ہے جو بیت المقدس سے چند میل کے فاصلے پر ہے) اس کے نیچے نشیب میں سے فرشتہ ان سے دوبارہ ہم کلام ہوا، اور انہیں تسلی دی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے کھانے پینے کا یہ انتظام فرما دیا ہے کہ نیچے ایک چشمہ بہہ رہا ہے اور معمولی کوشش سے تازہ کھجوریں آپ پر خود بخود جھڑ جائیں گی جن میں پوری غذائیت بھی ہے، اور تقویت کا سامان بھی۔ 14: بعض پچھلی شریعتوں میں بات چیت نہ کرنے کا روزہ رکھنا بھی عبادت کی ایک شکل تھی جو آنحضرت ﷺ کی شریعت میں منسوخ ہوگئی۔ اب ایسا روزہ رکھنا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو یہ ہدایت دی گئی کہ وہ ایسے روزے کی منت مان کر روزہ رکھ لیں۔ اور کوئی بات کرنا چاہے تو اسے اشاروں سے بتادیں کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے تاکہ خواہ مخواہ لوگوں کے سوال و جواب سے مزید تکلیف نہ ہو۔
Ayah 19:27

فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا Open ayah 19:27 in the Quran reader

پھر وہ اس بچے کو اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں (15) وہ کہنے لگے کہ : مریم تم نے تو بڑا غضب ڈھا دیا۔

15: بچے کی پیدائش کے بعد حضرت مریم (علیہا السلام) پوری طرح مطمئن ہوچکی تھیں کہ جس اللہ تعالیٰ نے یہ بچہ اپنی خاص قدرت سے پیدا فرمایا ہے، وہی ان کی براءت بھی ظاہر فرمائے گا، اس لیے اب اطمینان کے ساتھ خود ہی بچے کو لے کر لوگوں کے سامنے تشریف لے گئیں
Ayahs 19:28–29

یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ Open ayah 19:28 in the Quran reader

اے ہارون کی بہن (16) نہ تو تمہارا باپ کوئی برا آدمی تھا، نہ تمہاری ماں کوئی بدکار عورت تھی۔

فَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا Open ayah 19:29 in the Quran reader

اس پر مریم نے اس بچے کی طرف اشارہ کیا۔ لوگوں نے کہا : بھلا ہم اس سے کیسے بات کریں جو ابھی پالنے میں پڑا ہوا بچہ ہے ؟

16: یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت مریم (علیہا السلام) حضرت ہارون ؑ کی اولاد میں سے ہوں، اور ان کے قبیلے کی طرف منسوب کر کے ان کو ہارون کی بہن کہہ دیا گیا ہو جیسے حضرت ہود ؑ کو ”عاد کا بھائی“ کہا گیا ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے کسی بھائی کا نام ہارون ہو، اور چونکہ وہ نیک نام بزرگ تھے، اس لیے ان کی قوم نے ان کا حوالہ دیا ہو۔
Ayah 19:30

قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ Open ayah 19:30 in the Quran reader

(اس پر) بچہ بول اٹھا کہ : میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی ہے، اور نبی بنایا ہے۔ (17)

17: یعنی بڑے ہو کر مجھے انجیل عطا کی جائے گی، اور نبی بنایا جائے گا، اور یہ بات اتنی یقینی ہے جیسے ہو ہی چکی۔ دودھ پیتے بچے کا اس طرح بولنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھلا ہوا معجزہ تھا جس نے حضرت مریم (علیہا السلام) کی براءت بالکل واضح کردی۔
Ayahs 19:31–33

وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا٢۪ۖ Open ayah 19:31 in the Quran reader

اور جہاں بھی میں رہوں، مجھے بابرکت بنایا ہے، اور جب تک زندہ رہوں، مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہے۔ (18)

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ١٘ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا Open ayah 19:32 in the Quran reader

اور مجھے اپنی والدہ کا فرمانبردار بنایا ہے، اور مجھے سرکش اور سنگ دل نہیں بنایا۔

وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا Open ayah 19:33 in the Quran reader

اور (اللہ کی طرف سے) سلامتی ہے مجھ پر اس دن بھی جب میں پیدا ہوا، اور اس دن بھی جس دن میں مروں گا، اور اس دن بھی جب مجھے دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔

18: یعنی جب تک میں اس دنیا میں زندہ رہوں گا مجھ پر نماز اور زکوٰۃ فرض رہے گی۔