20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsآسان قرآن

Ayahs 20:78–82

فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ Open ayah 20:78 in the Quran reader

چنانچہ فرعون نے اپنے لشکروں سمیت ان کا پیچھا کیا تو سمندر کی جس (خوفناک) چیز نے انہیں ڈھانپا، وہ انہیں ڈھانپ کر ہی رہی۔ (30)

وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى Open ayah 20:79 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنی قوم کو برے راستے پر لگایا، اور انہیں صحیح راستہ نہ دکھایا۔

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى Open ayah 20:80 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل ! ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی، اور تم سے کوہ طور کے دائیں جانب آنے کا وعدہ ٹھہرایا، اور تم پر من وسلوی نازل کیا۔

كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِیْهِ فَیَحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبِیْ١ۚ وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ فَقَدْ هَوٰى Open ayah 20:81 in the Quran reader

جو پاکیزہ رزق ہم نے تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے کھاؤ، اور اس میں سرکشی نہ کرو جس کے نتیجے میں تم پر میرا غضب نازل ہوجائے۔ اور جس کسی پر میرا غضب نازل ہوجاتا ہے وہ تباہی میں گر کر رہتا ہے۔

وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى Open ayah 20:82 in the Quran reader

اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جو شخص توبہ کرے، ایمان لائے، اور نیک عمل کرے، پھر سیدھے راستے پر قائم رہے تو میں اس کے لیے بہت بخشنے والا ہوں۔

30: عربی محاورے کے مطابق ”وہ چیز“ کہہ کر اس کے ناقابل بیان حد تک خوفناک ہونے کی طرف اشارہ ہے۔
Ayahs 20:83–84

وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:83 in the Quran reader

اور (جب موسیٰ کوہ طور پر اپنے لوگوں سے پہلے چلے آئے تو اللہ نے ان سے کہا) موسیٰ ! تم اپنی قوم سے پہلے جلدی کیوں آگئے ؟ (31)

قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى Open ayah 20:84 in the Quran reader

انہوں نے کہا : وہ میرے پیچھے پیچھے آیا ہی چاہتے ہیں، اور پروردگار ! میں آپ کے پاس اس لیے جلدی آگیا تاکہ آپ خوش ہوں۔

31: صحرائے سینا میں قیام کے دوران اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو کوہ طور پر بلایا تھا، تاکہ وہ وہاں چالیس دن تک اعتکاف کریں تو انہیں تورات عطا کی جائے گی۔ شروع میں بنی اسرائیل کے کچھ منتخب لوگوں کے بارے میں بھی یہ طے ہوا تھا کہ وہ بھی آپ کے ساتھ جائیں گے۔ لیکن حضرت موسیٰ ؑ جلدی روانہ ہوگئے، اور ان کا خیال تھا کہ باقی ساتھی بھی پیچھے آرہے ہوں گے۔ لیکن وہ لوگ نہیں آئے۔
Ayah 20:85

قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ Open ayah 20:85 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا : پھر تمہارے آنے کے بعد ہم نے تمہاری قوم کو فتنے میں مبتلا کردیا ہے، اور انہیں سامری نے گمراہ کر ڈالا ہے۔ (32)

32: سامری ایک جادوگر تھا جو بظاہر حضرت موسیٰ پر ایمان لے آیا تھا۔ اور اسی لیے ان کے ساتھ لگ گیا تھا، مگر حقیقت میں وہ منافق تھا۔
Ayah 20:86

فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۚ۬ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا١ؕ۬ اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ Open ayah 20:86 in the Quran reader

چنانچہ موسیٰ غم و غصے میں بھرے ہوئے اپنی قوم کے پاس واپس لوٹے۔ کہنے لگے : میری قوم کے لوگو ! کیا تمہارے پروردگار نے تم سے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا ؟ (33) تو کیا تم پر کوئی بہت لمبی مدت گزر گئی تھی، (34) یا تم چاہتے ہی یہ تھے کہ تم پر تمہارے رب کا غضب نازل ہوجائے، اور اس وجہ سے تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی ؟

33: اچھے وعدے سے مراد کوہ طور پر تورات دینے کا وعدہ ہے 34: یعنی مجھے کوہ طور پر گئے ہوئے کوئی ایسی لمبی مدت تو نہیں گذری تھی کہ تم میرا انتظار کیے بغیر اس بچھڑے کو معبود بنا بیٹھو
Ayahs 20:87–89

قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ Open ayah 20:87 in the Quran reader

کہنے لگے : ہم نے اپنے اختیار سے آپ کے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی، بلکہ ہوا یہ کہ ہم پر لوگوں کے زیورات کے بوجھ لدے ہوئے تھے، اس لیے ہم نے انہیں پھینک دیا۔ (35) پھر اسی طرح سامری نے کچھ ڈالا (36)

فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى١۬ فَنَسِیَؕ Open ayah 20:88 in the Quran reader

اور لوگوں کے سامنے ایک بچھڑا بنا کر نکال لایا، ایک جسم تھا جس میں سے آواز نکلتی تھی۔ لوگ کہنے لگے کہ : یہ تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے، مگر موسیٰ بھول گئے ہیں۔

اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْهِمْ قَوْلًا١ۙ۬ وَّ لَا یَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا۠ Open ayah 20:89 in the Quran reader

بھلا کیا انہیں یہ نظر نہیں آرہا تھا کہ وہ نہ ان کی بات کا جواب دیتا تھا اور نہ ان کو کوئی نقصان یا نفع پہنچا سکتا تھا ؟

35: بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ فرعون کے لشکر کا چھوڑا ہوا مال غنیمت تھا، اس دور میں مال غنیمت کو استعمال کرنا جائز نہیں تھا۔ اس کے بجائے اسے ایک میدان میں رکھ دیا جاتا تھا، اور آسمان سے ایک آگ آکر اسے جلا دیتی تھی، شاید ان زیورات کو پھینکنے کا یہی مقصد ہو کہ آسمانی آگ انہیں آ کر جلا دے۔ اس کے برخلاف عام طور پر تفسیروں میں یہ روایت مذکور ہے کہ بنی اسرائیل جب مصر سے نکلے تھے تو نکلنے سے پہلے انہوں نے فرعون کی قوم کے لوگوں سے بہت سے زیورات عید کے موقع پر پہننے کے لیے مستعار لیے تھے وہ سارے زیورات مصر سے نکلتے ہوئے ان کے ساتھ تھے۔ چونکہ یہ زیورات دوسروں کی امانت تھی۔ اس لیے بنی اسرائیل کے لیے جائز نہیں تھا کہ وہ انہیں مالکوں کی اجازت کے بغیر استعمال کریں۔ دوسری طرف انہیں واپس کرنے کا بھی کوئی راستہ نہیں تھا اس لیے حضرت ہارون ؑ نے ان سے کہا کہ یہ زیورات یہیں پھینک دو ، اور ان کے ساتھ وہی معاملہ کرو، جو دشمن سے حاصل کیے ہوئے مال غنیمت کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی روایت بہت مستند نہیں ہے۔ اور احتمال یہ بھی ہے کہ سامری نے اپنا شعبدہ دکھانے کے لیے لوگوں سے کہا ہو کہ تم اپنے زیور نیچے پھینکو، میں تمہیں ایک تماشا دکھاتا ہوں۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ عام لوگوں نے جو زیورات پھینکے، اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ”قذف“ کا لفظ استعمال فرمایا ہے، اور سامری نے جو کچھ پھینکا، اس کے لیے دوسرا لفظ ”القاء“ استعمال فرمایا ہے۔ اس میں یہ بھی امکان ہے کہ یہ صرف اسلوب کی تبدیلی ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ سامری کے پھینکنے سے مراد اس کی شعبدہ بازی کی کاریگری ہو، کیونکہ القاء کا لفظ جادوگروں کے کرتب کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ 36: جب سارے لوگوں نے اپنے زیورات پھینک دئیے تو سامری بھی کوئی چیز مٹھی میں دبا کر لایا، اور حضرت ہارون ؑ سے کہا کہ کیا میں بھی پھینک دوں ؟ حضرت ہارون ؑ نے سمجھا کہ وہ بھی کوئی زیور ہوگا، اس لیے فرمایا کہ ڈال دو۔ اس پر سامری نے کہا کہ آپ میرے لیے دعا فرمائیں کہ جب میں ڈالوں تو جو کچھ میں چاہتا ہوں، وہ پورا ہوجائے۔ حضرت ہارون ؑ کو اس کی منافقت معلوم نہیں تھی، اس لیے دعا فرما دی۔ حقیقت میں وہ مٹھی میں زیور کے بجائے مٹی لے کر آیا تھا۔ اور اس نے وہ مٹی ان زیورات پر ڈال کر انہیں پگھلایا۔ اور ان سے ایک بچھڑے کی سی مورت بنا لی جس میں سے آواز نکلتی تھی۔
Ayahs 20:90–92

وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ Open ayah 20:90 in the Quran reader

اور ہارون نے ان سے پہلے ہی کہا تھا کہ : میری قوم کے لوگو ! تم اس (بچھڑے) کی وجہ سے فتنے میں مبتلا ہوگئے ہو، اور حقیقت میں تمہارا رب تو رحمن ہے، اس لیے تم میرے پیچھے چلو اور میری بات مانو (37)

قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْهِ عٰكِفِیْنَ حَتّٰى یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰى Open ayah 20:91 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ : جب تک موسیٰ واپس نہ آجائیں، ہم تو اسی کی عبادت پر جمے رہیں گے۔

قَالَ یٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْۤاۙ Open ayah 20:92 in the Quran reader

موسیٰ نے (واپس آکر) کہا : ہارون ! جب تم نے دیکھ لیا تھا کہ یہ لوگ گمراہ ہوگئے ہیں تو تمہیں کس چیز نے روکا تھا۔

37: قرآن کریم کی اس آیت نے بائبل کی اس روایت کی واضح طور پر تردید فرما دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حضرت ہارون ؑ خود بھی (معاذ اللہ) بچھڑے کی پرستش میں مبتلا ہوگئے تھے (دیکھئے خروج 1 تا 6) یہ روایت اس لیے بھی قطعی طور پر لغو ہے کہ حضرت ہارون ؑ نبی تھے، اور کسی نبی کے شرک میں ملوث ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 20:93

اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ Open ayah 20:93 in the Quran reader

کہ تم میرے پیچھے چلے آتے ؟ بھلا کیا تم نے میری بات کی خلاف ورزی کی ؟ (38)

38: جب حضرت موسیٰ ؑ کوہ طور پر جارہے تھے تو حضرت ہارون ؑ کو اپنا نائب بناتے ہوئے انہوں نے فرمایا تھا کہ : اصلاح کرتے رہنا اور مفسدوں کے پیچھے نہ چلنا۔ یہاں اپنی اسی ہدایت کی طرف اشارہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب یہ لوگ گمراہی میں پڑگئے تھے تو آپ کو چاہیے تھا کہ ان سے الگ ہو کر میرے پاس چلے آتے۔ اس طرح آپ مفسدوں کے ساتھی بھی نہ بنتے۔ اور میرے ذریعے ان کی اصلاح بھی کرتے۔
Ayahs 20:94–95

قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْ١ۚ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ Open ayah 20:94 in the Quran reader

ہارون نے کہا : میرے ماں کے بیٹے ! میری داڑھی نہ پکڑو، اور نہ میرا سر۔ حقیقت میں مجھے یہ اندیشہ تھا کہ تم یہ کہو گے کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا، اور میری بات کا پاس نہیں کیا۔ (39)

قَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ Open ayah 20:95 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا : اچھا تو سامری ! تجھے کیا ہوا تھا ؟

39: یعنی میرے چلے جانے سے قوم دو ٹکڑوں میں بٹ جاتی، کچھ لوگ میرا ساتھ دیتے، اور کچھ ان گمراہوں کا جو مجھے قتل تک کرنے کے درپے تھے جیسا کہ سورة اعراف :150 میں حضرت ہارون ؑ کی زبانی بیان فرمایا گیا ہے۔ لہذا آپ نے جو فرمایا تھا کہ اصلاح کرتے رہنا۔ مجھے اندیشہ تھا کہ ایسا کرنے سے آپ اس کے حکم کی خلاف ورزی ہوجاتی۔
Ayah 20:96

قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ Open ayah 20:96 in the Quran reader

وہ بولا : میں نے ایک ایسی چیز دیکھ لی تھی جو دوسروں کو نظر نہیں آئی تھی۔ اس لیے میں نے رسول کے نقش قدم سے ایک مٹھی اٹھالی، اور اسے (بچھڑے پر) ڈال دیا۔ (40) اور میرے دل نے مجھے کچھ ایسا ہی سمجھایا۔

40: رسول سے مراد حضرت جبرئیل ؑ ہیں جو حضرت موسیٰ ؑ کے لشکر کے ساتھ تھے۔ عام طور سے مفسرین نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ حضرت جبرئیل ؑ انسانی شکل میں ایک گھوڑے پر سوار تھے، اور سامری نے دیکھا کہ گھوڑے کا پاؤں جس جگہ پڑتا، وہاں زندگی کی کچھ آثار پیدا ہوجاتے تھے۔ سامری نے سمجھا کہ اس مٹی میں جو زندگی کے آثار پیدا ہورہے ہیں، ان سے یہ کام بھی لیا جاسکتا ہے کہ کسی بےجان چیز پر ڈالنے سے اس میں زندگی کے کچھ خصوصیات پیدا ہوجائیں، چنانچہ اس نے ایک مٹھی اس مٹی کی لے کر بچھڑے پر ڈال دی جس سے آواز نکلنے لگی۔ لیکن بعض مفسرین مثلاً حضرت مولانا حقانی نے تفسیر حقانی جلد 3 ص 272، 273 میں فرمایا ہے کہ یہ سامری کی طرف سے ایک جھوٹا بہانہ تھا، ورنہ بچھڑے میں آواز خلا میں ہوا کے گذرنے سے نکلتی تھی، چونکہ قرآن کریم نے نہ کوئی تفصیل خود بیان فرمائی، نہ کسی مضبوط حدیث سے ثابت ہے، اور نہ کوئی دینی ضرورت اس کے جاننے پر موقوف ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ اس تفصیل کو اللہ تعالیٰ ہی کے حوالے کیا جائے۔
Ayahs 20:97–98

قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ١۪ وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًا١ؕ لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا Open ayah 20:97 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا : اچھا تو جا، اب زندگی بھر تیرا کام یہ ہوگا کہ تو لوگوں سے یہ کہا کرے گا کہ مجھے نہ چھونا۔ (41) اور (اس کے علاوہ) تیرے لیے ایک وعدے کا وقت مقرر ہے جو تجھ سے ٹلایا نہیں جاسکتا۔ (42) اور دیکھ اپنے اس (جھوٹے) معبود کو جس پر تو جما بیٹھا تھا ! ہم اسے جلا ڈالیں گے، اور پھر اس (کی راکھ) کو چورا چورا کر کے سمندر میں بکھیر دیں گے۔

اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَسِعَ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا Open ayah 20:98 in the Quran reader

حقیقت میں تم سب کا معبود تو بس ایک ہی اللہ ہے، جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

41: سامری کے جرم کی سزا اس کو یہ دی گئی کہ تمام لوگ اس کا بائیکاٹ کریں، نہ کوئی اسے چھوئے اور نہ وہ کسی کو ہاتھ لگائے۔ اب یہ بھی ممکن ہے کہ اس کو یہ سزا قانونی حکم کے ذریعے دی گئی ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے، جیسا کہ بعض روایات میں آیا بھی ہے، کہ اس کے جسم میں کوئی ایسی بیماری پیدا ہوگئی تھی کہ کوئی شخص اسے ہاتھ لگاتا تو اس کو بھی اور ہاتھ لگانے والے کو بھی بخار چڑھ جاتا۔ 42: اس سے مراد آخرت کے عذاب کا وعدہ ہے۔
Ayahs 20:99–102

كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ١ۚ وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ Open ayah 20:99 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ماضی میں جو حالات گزرے ہیں ان میں سے کچھ واقعات ہم اسی طرح تم کو سناتے ہیں، اور ہم نے تمہیں خاص اپنے پاس سے ایک نصیحت نامہ عطا کیا ہے۔ (43)

مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وِزْرًاۙ Open ayah 20:100 in the Quran reader

جو لوگ اس سے منہ موڑیں گے، تو وہ قیامت کے دن بڑا بھاری بوجھ لادے ہوں گے۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهِ١ؕ وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًاۙ Open ayah 20:101 in the Quran reader

جس (کے عذاب) میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور قیامت کے دن ان کے لیے یہ بدترین بوجھ ہوگا۔

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًاۚۖ Open ayah 20:102 in the Quran reader

جس دن صور پھونکا جائے گا، اور اس دن ہم سارے مجرموں کو گھیر کر اس طرح جمع کریں گے کہ وہ نیلے پڑے ہوں گے۔

43: حضرت موسیٰ ؑ کا واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان فرمانے کے بعد اس آیت میں بتایا جارہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک پر اس جیسے واقعات کا جاری ہونا جبکہ آپ امی ہیں، اور آپ کے پاس ان معلومات کے حصول کا کوئی ذریعہ نہیں ہے، اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں، اور جو آیات آپ تلاوت کر رہے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی نازل فرمائی ہوئی ہیں۔
Ayah 20:103

یَّتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا Open ayah 20:103 in the Quran reader

آپس میں سرگوشیاں کر رہے ہوں گے کہ تم (قبروں میں یا دنیا میں) دس دن سے زیادہ نہیں ٹھہرے۔ (44)

44: قیامت کا دن ان کے لیے اتنا ہولناک ہوگا کہ وہ دنیا کی ساری زندگی کو ایسا سمجھیں گے جیسے وہ دس دن کی بات ہو۔
Ayahs 20:104–113

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا۠ Open ayah 20:104 in the Quran reader

جس بارے میں وہ باتیں کریں گے اس کی حقیقت ہمیں خوب معلوم ہے۔ (45) جبکہ ان میں سے جس کا طریقہ سب سے بہتر ہوگا، وہ کہے گا کہ تم ایک دن سے زیادہ نہیں ٹھہرے (46)۔

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ Open ayah 20:105 in the Quran reader

اور لوگ تم سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں (کہ قیامت میں ان کا کیا بنے گا ؟) جواب میں کہہ دو کہ میرا پروردگار ان کو دھول کی طرح اڑا دے گا۔

فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ Open ayah 20:106 in the Quran reader

اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا کر چھوڑے گا۔

لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ Open ayah 20:107 in the Quran reader

کہ اس میں تمہیں نہ کوئی بل نظر آئے گا، نہ کوئی ابھار۔

یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗ١ۚ وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا Open ayah 20:108 in the Quran reader

ان دن سب کے سب منادی کے پیچھے اس طرح چلے آئیں گے کہ اس کے سامنے کوئی ٹیڑھ نہیں دکھا سکیں گے۔ اور خدائے رحمن کے آگے تمام آوازیں دب کر رہ جائیں گی، چنانچہ تمہیں پاؤں کی سرسراہٹ کے سوا کچھ سنائی نہیں دے گا۔

یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا Open ayah 20:109 in the Quran reader

اس دن کسی کی سفارش کام نہیں آئے گی، سوائے اس شخص (کی سفارش) کے جسے خدائے رحمن نے اجازت دے دی ہو، اور جس کے بولنے پر وہ راضی ہو۔

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا Open ayah 20:110 in the Quran reader

وہ لوگوں کی ساری اگلی پچھلی باتوں کو جانتا ہے، اور وہ اس کے علم کا احاطہ نہیں کرسکتے۔

وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا Open ayah 20:111 in the Quran reader

اور سارے کے سارے چہرے حی وقیوم کے آگے جھکے ہوں گے، اور جو کوئی ظلم کا بوجھ لاد کر لایا ہوگا نامراد ہوگا۔

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا Open ayah 20:112 in the Quran reader

اور جس نے نیک عمل کیے ہوں گے جبکہ وہ مومن بھی ہو تو اسے نہ کسی زیادتی کا اندیشہ ہوگا، نہ کسی حق تلفی کا۔

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا Open ayah 20:113 in the Quran reader

اور ہم نے اسی طرح یہ وحی ایک عربی قرآن کی شکل میں نازل کی ہے، اور اس میں تنبیہات کو طرح طرح سے بیان کیا ہے، تاکہ لوگ پرہیزگاری اختیار کریں، یا یہ قرآن ان میں کچھ سوچ سمجھ پیدا کرے۔

45: یعنی جن دنوں کا شمار وہ صرف دس دن سمجھ کر کر رہے تھے، ان کی صحیح تعداد ہم جانتے ہیں 46: یعنی جس شخص کو زیادہ سمجھ دار سمجھا جاتا تھا، وہ تو کہے گا کہ ہمارے دنیا میں قیام کی مدت یا قبروں میں رہنے کی مدت صرف ایک ہی دن تھی۔
Ayah 20:114

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا Open ayah 20:114 in the Quran reader

ایسی ہی اونچی شان ہے اللہ کی، جو سلطنت کا حقیقی مالک ہے۔ اور (اے پیغمبر) جب قرآن وحی کے ذریعے نازل ہورہا ہو تو اس کے مکمل ہونے سے پہلے قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کرو۔ (47) اور یہ دعا کرتے رہا کرو کہ : میرے پروردگار ! مجھے علم میں اور ترقی عطا فرما۔ (48)

47: جب حضرت جبرئیل ؑ قرآن کریم کی آیتیں وحی کے ذریعے آنحضرت ﷺ پر نازل کرتے، تو آپ اس ڈر سے کہ کہیں بھول نہ جائیں، ساتھ ساتھ ان آیتوں کو دہراتے رہتے تھے جس سے ظاہر ہے کہ آپ کو سخت مشقت ہوتی تھی۔ اس آیت میں آپ سے فرمایا گیا ہے کہ آپ کو یہ محنت اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ خود ہی قرآن کریم کو آپ کے سینہ مبارک میں محفوظ فرما دے گا۔ یہی بات سورة قیامہ : 16 تا 18 میں بھی فرمائی گئی ہے۔ 48: آنحضرت ﷺ کو اس دعا کی تلقین فرما کر یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ علم ایک ایسا سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں، اور انسان کو علم کے کسی بھی درجے پر قناعت کر کے نہیں بیٹھنا چاہیے، بلکہ ہر وقت علم میں ترقی کی کوشش اور دعا کرتے رہنا چاہیے۔ اس دعا میں یاد داشت کی قوت کی دعا بھی شامل ہے، اور معلومات کی زیادتی اور ان کی صحیح سمجھ کی بھی
Ayahs 20:115–116

وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ Open ayah 20:115 in the Quran reader

اور ہم نے اس سے پہلے آدم کو ایک بات کی تاکید کی تھی، پھر ان سے بھول ہوگئی، اور ہم نے ان میں عزم نہیں پایا۔ (49)

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى Open ayah 20:116 in the Quran reader

یاد کرو وہ وقت جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو، چنانچہ سب نے سجدہ کیا، البتہ ابلیس تھا جس نے انکار کیا۔

49: جس تاکید کا یہاں ذکر ہے، اس سے مراد ایک خاص درخت کا پھل نہ کھانے کی تاکید ہے۔ اس واقعے کی تفصیل اور اس سے متعلق سوالات کا جواب سورة بقرہ : 34 تا 39 میں گذر چکا ہے۔ اور یہاں آدم ؑ کے بارے میں جو فرمایا گیا ہے کہ ہم نے ان میں عزم نہیں پایا، اس کا ایک مطلب بعض مفسرین نے یہ بیان فرمایا ہے کہ ان سے درخت کا پھل کھانے کے سلسلے میں جو غلطی ہوئی، اس میں ان کے عزم کو دخل نہیں تھا، یعنی انہوں نے نافرمانی کے ارادے سے حکم کی خلاف ورزی نہیں کی، بلکہ ان سے بھول ہوگئی۔ اور دوسرے مفسرین نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ ان میں ایسا پختہ عزم نہیں تھا کہ شیطان کے بہکائے میں نہ آتے۔ اس سے انسان کی اس سرشت کی طرف اشارہ ہے جس میں شیطان اور نفس کے بہکائے میں آنے کی صلاحیت موجود ہے۔ چونکہ قرآن کریم نے عزم کی نفی کو بھول ہوجانے کے ساتھ ملا کر ذکر کیا ہے، اس لیے یہاں پہلے معنی زیادہ بہتر معلوم ہوتے ہیں۔