20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsآسان قرآن

Ayahs 20:40–41

اِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗ١ؕ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ١ؕ۬ وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا١۫۬ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ١ۙ۬ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى Open ayah 20:40 in the Quran reader

اس وقت کا تصور کرو جب تمہاری بہن گھر سے چلتی ہے، اور (فرعون کے کارندوں سے) یہ کہتی ہے کہ : کیا میں تمہیں اس (عورت) کا پتہ بتاؤں جو اس (بچے) کو پالے ؟ (16) اس طرح ہم نے تمہیں تمہاری ماں کے پاس لوٹا دیا، تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی رہے، اور وہ غمگین نہ ہو۔ اور تم نے ایک شخص کو مار ڈالا تھا، (17) پھر ہم نے تمہیں اس گھٹن سے نجات دی، اور تمہیں کئی آزمائشوں سے گزارا۔ (18) پھر تم کئی سال مدین والوں میں رہے، اس کے بعد اے موسیٰ ! تم ایک ایسے وقت پر یہاں آئے ہو جو پہلے سے مقدر تھا۔

وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ Open ayah 20:41 in the Quran reader

اور میں نے تمہیں خاص اپنے لیے بنایا ہے۔

16: فرعون کی اہلیہ نے جب بچے کو پالنے کا ارادہ کرلیا تو ان کو دودھ پلانے والی کی تلاش شروع ہوئی، لیکن حضرت موسیٰ ؑ کسی بھی عورت کا دودھ منہ میں نہیں لیتے تھے۔ حضرت آسیہ نے اپنی کنیزیں بھیجیں کہ وہ کوئی ایسی عورت تلاش کریں جس کا دودھ یہ قبول کرلیں۔ ادھر حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ بچے کو دریا میں ڈالنے کے بعد بےچین تھیں۔ انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ کی بہن کو دیکھنے کے لیے بھیجا کہ بچہ کا انجام کیا ہوا۔ یہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے اسی جگہ پہنچ گئیں جہاں فرعون کی کنیزیں پریشانی کے عالم میں دودھ پلانے والی عورتوں کو تلاش کر رہی تھیں۔ ان کو موقع مل گیا، اور انہوں نے اپنی والدہ کو یہ خدمت سونپنے کی تجویز پر پیش کی، اور انہیں وہاں لے بھی آئیں، جب انہوں نے بچے کو دودھ پلانا چاہا تو بچے نے آرام سے دودھ پی لیا، اور پھر اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق بچہ دوبارہ ان کے پاس آگیا۔ 17: یہ سارے واقعات تفصیل سے سورة قصص میں آنے والے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ آپ نے مظلوم اسرائیلی کو ایک ظالم سے بچانے کے لیے اسے ایک مکا مارا تھا۔ ان کا مقصد اسے ظلم سے باز رکھنا تھا، قتل کرنا مقصود نہیں تھا، لیکن وہ مکہ ہی سے مرگیا۔ 18: ان آزمائشوں کی تفصیل حضرت عبداللہ بن عباس نے ایک طویل روایت میں بتائی ہے جو تفسیر ابن کثیر میں مروی ہے اور اس کا مکمل ترجمہ معارف القرآن جلد 6 ص 84 تا 103 میں موجود ہے
Ayahs 20:42–49

اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ Open ayah 20:42 in the Quran reader

تم اور تمہارا بھائی دونوں میری نشانیاں لے کر جاؤ، اور میرا ذکر کرنے میں سستی نہ کرنا۔ (19)

اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ Open ayah 20:43 in the Quran reader

دونوں فرعون کے پاس جاؤ، وہ حد سے آگے نکل چکا ہے۔

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى Open ayah 20:44 in the Quran reader

جاکر دونوں اس سے نرمی سے بات کرنا، شاید وہ نصیحت قبول کرے، یا (اللہ سے) ڈر جائے۔

قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى Open ayah 20:45 in the Quran reader

دونوں نے کہا : ہمارے پروردگار ! ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں وہ ہم پر زیادتی نہ کرے، یا کہیں سرکشی پر آمادہ نہ ہوجائے۔

قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى Open ayah 20:46 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا : ڈرو نہیں، میں تمہارے ساتھ ہوں، سن بھی رہا ہوں، اور دیکھ بھی رہا ہوں۔

فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ١ؕ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى Open ayah 20:47 in the Quran reader

اب اس کے پاس جاؤ، اور کہو کہ ہم دونوں تمہارے رب کے پیغمبر ہیں، اس لیے بنو اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دو ، اور انہیں تکلیفیں نہ پہنچاؤ، ہم تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں، اور سلامتی اسی کے لیے جو ہدایت کی پیروی کرے۔

اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى Open ayah 20:48 in the Quran reader

ہم پر یہ وحی نازل کی گئی ہے کہ عذاب اس کو ہوگا جو (حق کو) جھٹلائے، اور منہ موڑے۔

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:49 in the Quran reader

(یہ ساری باتیں سن کر) فرعون نے کہا : موسیٰ تم دونوں کا رب کون ؟

19: یہاں یہ سبق دینا مقصود ہے کہ ایک داعی حق کو ہر وقت اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم رکھنا چاہیے اور ہر مشکل میں اسی سے مدد مانگنی چاہیے۔
Ayah 20:50

قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى Open ayah 20:50 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا : ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو وہ بناوٹ عطا کی جو اس کے مناسب تھی، پھر (اس کی) رہنمائی بھی فرمائی۔ (20)

20: یعنی یہ اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اور حکمت ہے کہ جس مخلوق کے لیے جو بناوٹ مقرر کردی۔ اس کو اسی کے مطابق کائنات میں اپنی ڈیوٹی بجا لانے کا طریقہ بھی سکھا دیا۔ مثلاً سورج کو کائنات میں روشنی اور حرارت پیدا کرنے کے لیے ایک خاص بناوٹ عطا فرمائی تو اسے یہ طریقہ بھی سکھا دیا کہ وہ کس طرح اپنے نظام شمسی کے ساتھ گردش کرے، اسی طرح ہر جان دار کو یہ سکھا دیا کہ وہ کس طرح چلے، اور کس طرح اپنی غذا حاصل کرے۔ مچھلی کا بچہ پانی میں پیدا ہوتا ہے، اور کسی کے سکھائے بغیر تیرنا شروع کردیتا ہے۔ پرندے ہوا میں اڑنا خود بخود سیکھ لیتے ہیں غرض ہر مخلوق کو اس کی ساخت کے مناسب زندہ رہنے کا طریقہ اللہ تعالیٰ ہی سکھاتے ہیں
Ayahs 20:51–58

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:51 in the Quran reader

فرعون بولا : اچھا پھر ان قوموں کا کیا معاملہ ہوا جو پہلے گزر چکی ہیں ؟ (21)

قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘ Open ayah 20:52 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا : ان کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب میں محفوظ ہے۔ میرے رب کو نہ کوئی غلطی لگتی ہے، نہ وہ بھولتا ہے

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى Open ayah 20:53 in the Quran reader

یہ وہ ذات ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے فرش بنادیا، اور اس میں تمہارے لیے راستے بنائے، اور آسمان سے پانی برسایا، پھر ہم نے اس کے ذریعے طرح طرح کی مختلف نباتات نکالیں۔

كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:54 in the Quran reader

خود بھی کھاؤ، اور اپنے مویشیوں کو بھی چراؤ، یقینا ان سب باتوں میں عقل والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى Open ayah 20:55 in the Quran reader

اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا تھا، اسی میں ہم تمہیں واپس لے جائیں گے، اور اسی سے ایک مرتبہ پھر تمہیں نکال لائیں گے۔

وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى Open ayah 20:56 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اس (فرعون) کو اپنی ساری نشانیاں دکھائیں، مگر وہ جھٹلاتا ہی رہا، اور مان کر نہیں دیا۔

قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:57 in the Quran reader

کہنے لگا : موسیٰ ! کیا تم اس لیے آئے ہو کہ اپنے جادو کے ذریعے ہمیں اپنی زمین سے نکال باہر کرو ؟

فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى Open ayah 20:58 in the Quran reader

اچھا تو ہم بھی تمہارے سامنے ایسا ہی جادو لا کر رہیں گے۔ اب تم کسی کھلے میدان میں ہمارے اور اپنے درمیان مقابلے کا ایسا وقت طے کرلو جس کی خلاف ورزی نہ ہم کریں، نہ تم کرو۔

21: اس سوال سے فرعون کا مقصد یہ تھا کہ مجھ سے پہلے بہت سی قومیں گذر چکی ہیں جو توحید کی قائل نہیں تھیں، اس کے باوجود وہ زندہ رہیں، اور ان پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا۔ اگر توحید کے انکار سے انسان عذاب الٰہی کا مستحق ہوجاتا ہے تو ان قوموں پر عذاب کیوں نہیں آیا ؟ حضرت موسیٰ ؑ نے اس سوال کا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر ہر شخص کا اور اس کے کیے ہوئے کاموں کا پورا پورا حال معلوم ہے۔ وہ اپنی حکمت ہی سے فیصلہ فرماتا ہے کہ حق کا انکار کرنے والوں میں سے کس کو اسی دنیا میں سزا دینی ہے، اور کس کی سزا آخرت تک موخر کرنی ہے۔ اگر کسی کافر قوم کو دنیا میں کسی عذاب کا سامنا نہیں ہوا۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ سے معاذ اللہ کوئی بھول چوک ہوگئی ہے بلکہ یہ اس کی حکمت کا فیصلہ ہے کہ اس کو دنیا کے بجائے آخرت میں عذاب دیا جائے۔
Ayahs 20:59–60

قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى Open ayah 20:59 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا : تم سے وہ دن طے ہے جس میں جشن منایا جاتا ہے۔ (22) اور یہ بھی طے ہے کہ دن چڑھے ہی لوگوں کو جمع کرلیا جائے۔

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى Open ayah 20:60 in the Quran reader

چنانچہ فرعون (اپنی جگہ) واپس چلا گیا، اور اس نے اپنی ساری تدبیریں اکٹھی کیں، پھر (مقابلے کے لیے) آگیا۔

22: یہ کوئی تہوار تھا جس میں فرعون کی قوم جشن منایا کرتی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اس دن کا انتخاب اس لیے فرمایا تاکہ ایک بڑا مجمع موجود ہو اور اس کے سامنے حق کی فتح کا مظاہرہ ہوسکے
Ayahs 20:61–66

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى Open ayah 20:61 in the Quran reader

موسیٰ نے ان (جادوگروں سے) کہا : افسوس ہے تم پر ! اللہ پر بہتان نہ باندھو (23) ورنہ وہ ایک سخت عذاب سے تمہیں مل یا میٹ کردے گا، اور جو کوئی بہتان باندھتا ہے، نامراد ہوتا ہے۔

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى Open ayah 20:62 in the Quran reader

اس پر ان کے درمیان اپنی رائے قائم کرنے میں اختلاف ہوگیا، اور وہ چپکے چپکے سرگوشیاں کرنے لگے۔

قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى Open ayah 20:63 in the Quran reader

(آخر کار) انہوں نے کہا کہ : یقینی طور پر یہ دونوں (یعنی موسیٰ اور ہارون) جادوگر ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور پر تم لوگوں کو تمہاری سرزمین سے نکال باہر کریں، اور تمہارے بہترین (دینی) طریقے کا خاتمہ ہی کر ڈالیں۔

فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى Open ayah 20:64 in the Quran reader

لہذا اپنی ساری تدبیریں پختہ کرلو، پھر صف باندھ کر آؤ، اور یقین رکھو کہ آج جو غالب آجائے گا، فلاح اسی کو حاصل ہوگی۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى Open ayah 20:65 in the Quran reader

جادوگر بولے : موسیٰ ! یا تو تم (اپنی لاٹھی پہلے) ڈال دو ، یا پھر ہم ڈالنے میں پہل کریں ؟

قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى Open ayah 20:66 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا : نہیں، تم ہی ڈالو۔ بس پھر اچانک ان کی (ڈالی ہوئی) رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے نتیجے میں موسیٰ کو ایسی محسوس ہونے لگیں جیسے دوڑ رہی ہیں۔

23: یعنی کفر کی راہ اختیار نہ کرو۔ کیونکہ کفر کا ہر باطل عقیدہ اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھنے کے مترادف ہے
Ayahs 20:67–69

فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى Open ayah 20:67 in the Quran reader

اس پر موسیٰ کو اپنے دل میں کچھ خوف محسوس ہوا۔ (24)

قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى Open ayah 20:68 in the Quran reader

ہم نے کہا : ڈرو نہیں، یقین رکھو تم ہی تم سربلند رہو گے۔

وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى Open ayah 20:69 in the Quran reader

اور جو (لاٹھی) تمہارے دائیں ہاتھ میں ہے، اسے (زمین پر) ڈال دو ، ان لوگوں نے جو کاریگری کی ہے، وہ اس سب کو نگل جائے گی، ان کی ساری کاریگری ایک جادوگر کے کرتب کے سوا کچھ نہیں، اور جادوگر چاہے کہیں چلا جائے، اسے فلاح نصیب نہیں ہوتی۔

24: یہ طبعی خوف تھا، اور اس لیے تھا کہ جو شعبدہ ان جادوگروں نے دکھایا، وہ بظاہر اس معجزے سے ملتا جلتا تھا۔ جو حضرت موسیٰ ؑ دکھا چکے تھے۔ لہذا خوف یہ تھا کہ لوگ حضرت موسیٰ ؑ کے معجزے کو بھی کہیں جادو ہی نہ سمجھ بیٹھیں۔
Ayahs 20:70–72

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى Open ayah 20:70 in the Quran reader

چنانچہ (یہی ہوا اور) سارے جادوگر سجدے میں گرا دیے گئے۔ (25) کہنے لگے کہ : ہم ہارون اور موسیٰ کے رب پر ایمان لے آئے۔

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:71 in the Quran reader

فرعون بولا : تم ان پر میرے اجازت دینے سے پہلے ہی ایمان لے آئے، مجھے یقین ہے کہ یہ (موسیٰ) تم سب کا سرغنہ ہے جس نے تمہیں جادو سکھلایا ہے۔ اب میں نے بھی پکا ارادہ کرلیا ہے کہ تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹوں گا، اور تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی چڑھاؤں گا۔ اور تمہیں یقینا پتہ لگ جائے گا کہ ہم دونوں میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے۔

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 20:72 in the Quran reader

جادوگروں نے کہا : قسم اس ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ ہمارے سامنے جو روشن نشانیاں آگئی ہیں ان پر ہم تمہیں ہرگز ترجیح نہیں دے سکتے۔ اب تمہیں جو کچھ کرنا ہو، کرلو۔ تم جو کچھ بھی کرو گے اسی دنیوی زندگی کے لیے ہوگا۔

25: یعنی اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق جب حضرت موسیٰ ؑ نے اپنا عصا زمین پر پھینکا تو اس نے ایک اژدہا بن کر جادوگروں کے بنائے ہوئے جعلی سانپوں کو ایک ایک کر کے نگل لیا۔ اس پر جادوگروں کو یقین ہوگیا کہ یہ جادو نہیں، بلکہ حضرت موسیٰ ؑ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔ چنانچہ وہ سجدے میں گرپڑے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قرآن کریم نے ان کے لیے سجدے میں گرگئے کے بجائے سجدے میں گرا دئیے گئے۔ فرمایا ہے۔ اس میں اشارہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے جو معجزہ دکھلایا وہ اس درجہ مؤثر تھا کہ اس نے انہیں بےساختہ سجدے میں گرا دیا۔
Ayah 20:73

اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:73 in the Quran reader

ہم تو اپنے رب پر ایمان لاچکے ہیں، تاکہ وہ ہمارے گناہوں کو بھی بخش دے، اور جادو کے اس کام کو بھی جس پر تم نے ہمیں مجبور کیا۔ (26) اور اللہ ہی سب سے اچھا اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔

26: اندازہ لگائیے کہ جب ایمان دل میں گھر کرجاتا ہے تو وہ انسان کی سوچ اور اس کے ارادوں میں کتنا بڑا انقلاب پیدا کردیتا ہے۔ یہ وہ جادوگر تھے جن کی سب سے بڑی معراج یہ تھی کہ فرعون ان کو انعام و اکرام سے نواز کر اپنی خوشنودی اور تقرب عطا کردے۔ چنانچہ مقابلے پر آنے کے وقت فرعون سے ان کا سب سے پہلا سوال یہ تھا کہ : اگر ہم غالب آگئے تو ہمیں کوئی اجرت بھی ملے گی ؟ (دیکھئے سورة اعراف : 13 لیکن جب حق کھل کر ان کے سامنے آگیا اور اس پر ایمان و یقین دل میں گھر کر گیا تو انہیں نہ فرعون کی ناراضی کا خوف رہا، نہ اپنے ہاتھ پاؤں کٹوانے یا سولی پر لٹکنے کا۔ اللہ اکبر !
Ayahs 20:74–76

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى Open ayah 20:74 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اپنے پروردگار کے پاس مجرم بن کر آئے گا، اس کے لیے جہنم ہے جس میں نہ وہ مرے گا اور نہ جئے گا۔ (27)

وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ Open ayah 20:75 in the Quran reader

اور جو شخص اس کے پاس مومن بن کر آئے گا جس نے نیک عمل بھی کیے ہوں گے، تو ایسے ہی لوگوں کے لیے بلند درجات ہیں۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ Open ayah 20:76 in the Quran reader

وہ ہمیشہ رہنے والے باغات جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ صلہ ہے اس کا جس نے پاکیزگی اختیار کی۔

27: مرے گا تو اس لیے نہیں کہ وہاں کسی کو موت نہیں آئے گی۔ اور جینے کی جو نفی کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جینا چونکہ موت سے بھی بدتر ہوگا۔ اس لیے وہ جینے میں شمار کرنے کے لائق نہیں ہوگا۔ اعاذنا اللہ من ذلک۔
Ayah 20:77

وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى Open ayah 20:77 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ پر وحی بھیجی کہ : تم میرے بندوں کو لے کر راتوں رات روانہ ہوجاؤ (28) پھر ان کے لیے سمندر میں ایک خشک راستہ اس طرح نکال لینا کہ نہ تمہیں (دشمن کے) آپکڑنے کا اندیشہ رہے، اور نہ کوئی اور خوف ہو (29)

28: جادوگروں سے مقابلے میں فتح پانے کے بعد بھی حضرت موسیٰ ؑ کافی عرصے مصر میں رہے۔ اور اس دوران فرعون کو ان کی تبلیغ بھی جاری رہی، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے متعدد نشانیاں بھی دکھائی جاتی رہیں، جن کا ذکر سورة اعراف میں گذرا ہے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو ٰیہ حکم دیا کہ تمام بنی اسرائیل کو لے کر راتوں رات مصر سے نکل جائیں 29: یعنی تمہارے راستے میں سمندر آئے گا، تم اپنا عصا اس پر مارو گے تو اس میں تمہاری قوم کے گذرنے کے لیے خشک راستہ بن جائے گا۔ اس کی تفصیل سورة یونس : 89 تا 92 میں بھی گذری ہے، اور سورة شعراء : 60 تا 66 میں بھی آئے گی۔ چونکہ یہ راستہ اللہ تعالیٰ نے صرف تمہارے لیے پیدا کیا ہوگا۔ اس لیے فرعون کا لشکر اس سے گذر کر تمہیں نہیں پکڑ سکے گا۔ لہذا نہ تمہیں پکڑے جانے کا خوف ہوگا، نہ ڈوب جانے کا