20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 20:1–8

مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ Open ayah 20:2 in the Quran reader

ہم نے نہیں اتارا آپ پر قرآن اس لئے کہ آپ مشقت میں پڑجائیں

اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 20:3 in the Quran reader

مگر یہ نصیحت ہے اس کے لئے جو ڈرتا ہے

تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىؕ Open ayah 20:4 in the Quran reader

یہ اتارا ہوا ہے اس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا ہے زمین اور بلند آسمانوں کو

اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى Open ayah 20:5 in the Quran reader

وہ بڑا مہربان ہے جو عرش پر قائم ہے

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى Open ayah 20:6 in the Quran reader

اس کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں اور جو ان کے درمیان ہے اور جو کچھ گیلی زمین کے نیچے ہے

وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى Open ayah 20:7 in the Quran reader

اور اگر ظاہر کریں آپ بات ، پس بیشک وہ جانتا ہے پوشیدہ بات کو اور اس سے بھی زیادہ مخفی بات کو

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى Open ayah 20:8 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کہ سوا کوئی معبود نہیں اور اس کے نام ہیں بھلے

تفسیر : نام اور کوائف : یہ سورة اپنے پہلے لفظ طٰہٰ کے نام سے موسوم ہے ۔ اس کا عام فہم نام طٰہٰ ہی ہے۔ تاہم مفسر قرآن صاحب روح المعانی سید محمود آلوسی بغدادی (رح) فرماتے ہیں کہ اس سورة کا دوسرا نام کلیم بھی ہے کہ اس سورة مبارکہ میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کا تفصیل کے ساتھ ذکر ہے۔ اس سورة کی ایک سو پینتیس آیات اور آٹھ رکوع ہیں۔ یہ سورة 1301 کلمات اور 5242 حروف پر مشتمل ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں 6 نبوت سے پہلے نازل ہوئی۔ اس امر کا ثبوت یہ ہے کہ 6 نبوت میں جب مسلمان مہاجرین کا پہلا قافلہ حبشہ پہنچا تو وہاں پر حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ نے یہ سورة نجاشی بادشاہ کے سامنے تلاوت کی تھی۔ گزشتہ سورة مریم اور سورة کا زمانہ نزول قریب قریب ہی ہے۔ عمر ؓ کے قبول اسلام میں طٰہٰ کا حصہ : محمد ابن اسحاق ابن خزیمہ (رح) کی روایت کے مطابق حضرت عمر ؓ 6 نبوی میں اسلام لائے اور سورة طہ کی ابتدائی آیات ہی ان کے اسلام لانے کا سبب بنیں۔ مورخین اور مفسرین بیان کرتے ہیں کہ 6 نبوی میں ایک روز حضرت عمر ؓ اس ارادے سے تلوار لے کر نکلے کہ آج محمد کا کام تمام کروں گا۔ راستے میں ایک شخص نعیم ابن عبداللہ ؓ سے ملاقات ہوئی جو خود اسلام لاچکے تھے۔ پوچھا عمر ؓ ! کہاں کا ارادہ ہے ۔ جواب دیا کہ ہم محمد سے بہت تنگ آچکے ہیں ، لہٰذا آج اس شخص کا خاتمہ کرنے جارہا ہوں۔ حضرت نعیم ؓ نے کہا کہ پہلے اپنے گھر کی خبر تو لو۔ تمہاری بن اور بہنوئی تو مسلمان ہوچکے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمر ؓ غصے میں آگئے اور فوراً اپنے بہنوئی سعید ابن زید ؓ کے گھر کا رخ کیا ۔ اتفاق کی بات ہے کہ اس وقت ایک غریب صحابی حضرت خباب ابن ارت ؓ حضرت عمر ؓ کی بہن اور بہنوئی کو سورة طہ پڑھا رہے تھے ۔ جب حضرت عمر ؓ مکان کے قریب پہنچے تو تلاوت کی دھیمی سی آواز بھی سنی۔ اتنے میں آپ نے دروازے پر دستک دی تو اہل خانہ پر دہشت طاری ہوگئی کہ اب خیر نہیں۔ انہوں نے سورة طٰہٰ کے اوراق چھپا دیے اور حضر ت خباب ؓ بھی گھر کے کسی کونے میں دبک کر بیٹھ گئے ، کیونکہ وہ حضرت عمر ؓ کے جلال سے واقف تھے ۔ گھر میں داخل ہو کر آپ نے پوچھا کہ تم لوگ کیا پڑھ رہے تھے۔ بہن نے ٹالنے کی کوشش کی تو حضرت عمر ؓ نے انہیں پیٹنا شروع کردیا۔ غرضیکہ بہن اور بہنوئی دونوں کی خوب پٹائی کی۔ بالآخر انہیں کہنا پڑا کہ ہم ایمان لاچکے ہیں اور تم کچھ بھی کرلو اب ہم یہ دین ترک کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ حضرت عمر ؓ کے دل کا نرم گوشہ بیدا ہوا تو بہن سے کہا کہ ذرا مجھے بھی وہ چیز دکھائو جو تم ابھی ابھی پڑھ رہے تھے۔ بہن نے کہا کہ پہلے غسل کرلو کیونکہ یہ خدا کا مقدس کلام ہے جس پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں ۔ حضرت عمر ؓ نے غسل کیا ، آپ کی بہن فاطمہ ؓ نے آپ کو سورة طٰہٰ کے اوراق دیے۔ اس سورة مبارکہ کی ابتدائی آیات ہی پڑھ کر حضرت عمر ؓ کا دل پلٹ گیا ، اور کہنے لگے ، یہ تو واقعی بڑا پاکیزہ کلام ہے ۔ آپ کا نرم پہلو دیکھو کر حضرت خباب ؓ بھی باہر آگئے اور فرمایا کہ مجھے یقین ہے کہ اللہ کے نبی کی کل والی دعا حضرت عمر ؓ کے حق میں قبول ہوچکی ہے کہنے لگے میں نے حضور ﷺ کی زبان مبارک سے یہ دعا (ترمذی ص 528) (فیاضی) سنی تھی اللھم اعز الاسلام بعمر وابن الھشام اولعمر ابن الخطاب اے اللہ ! عمرو بن ہشام (ابوجہل) یا عمر بن خطاب ؓ کے ذریعے اسلام کی تائید فرما۔ یہ سن کر حضرت عمر ؓ نے کہا کہ مجھے حضور ﷺ کی خدمت میں لے چلو ، چناچہ آپ کو وہاں لے جایا گیا۔ اور پھر آپ کے اسلام لانے کا واقعہ پیش آیا جس کا ذکر تفاسیروتاریخ میں مذکور ہے۔ بہرحال یہ آیات حضرت عمر ؓ کے ایمان لانے کا سبب بنیں۔ چونکہ حضرت عمر ؓ 6 نبوی میں اسلام لائے ، لہٰذا معلوم ہوا کہ اس سورة کا نزول اس سے پہلے ہوچکا تھا۔ مضامین سورة : دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی چار بڑے مضامین بیان ہوئے ہیں (1) توحید کا اثبات اور شرک کی تردید (2) رسالت جس کے ضمن میں حضور خاتم النبیین ، حضرت موسیٰ اور ہارون اور ضحرت آدم (علیہ السلام) کا تذکرہ بیان ہوا ہے۔ (3) معاد ینی قیامت اور جزائے عمل (4) وحی الٰہی اور قرآن کریم کی حقانیت وصداقت۔ اس سلسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام انسان وحی الٰہی کے محتاج ہیں کیونکہ اس کے بغیر حقیقی راہنمائی حاصل نہیں ہوسکتی گزشتہ سورة کے آخر میں اللہ نے فرمایا ہے انما یسرنہ بلسائک ہم نے اس قرآن حکیم کو آپ کی زبان میں آسان کردیا ہے ، اسی ربط میں اس سورة کی ابتدائی میں فرمایا ہے ما انزلنا علیک القرآن لتشقی ہم نے قرآن آپ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں۔ ان چار بنیادی مضامین کے علاوہ اس سورة مبارکہ میں مشرکین وکافرین کی ایذاء رسانیوں کے خلاف حضور ﷺ کو تسلی بھی دی گئی ہے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کی پاک سیرت کا تذکرہ بھی تسلی کے مضمون کا ہی حصہ ہے جس میں اللہ کے ان انبیاء نے جابر و سرکش فرعون کے سامنے اپنی پاکیزہ سیرت کا اظہار کیا ، اس سورة میں حضور ﷺ کو صبر سے کام لینے کا درس بھی دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اس سوۃ میں تلاوت قرآن کا طریقہ تبلیغ دین کا طریقہ جزائے عملی ، آدم (علیہ السلام) کی لغزش اور ان کا زمین پر ہبوط اور دیگر ذیلی مضامین بھی بیان ہوئے ہیں۔ حروف مقطعات : اس سورة مبارکہ کی ابتداء حروف مقطعات سے ہوتی ہے ۔ طٰہٰ مفسرین کرام نے ان حروف کی مختلف تعبیریں کی ہیں بعض (البحرالمحیط ص 224 ج 6 (فیاض) فرماتے ہیں کہ طٰہٰ اللہ تعالیٰ کے اسمائے پاک میں سے ہے حضرت علی ؓ کی روایت میں ایسا ہی آتا ہے۔ بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ حضور ﷺ کے اسماء میں سے ہے امام جلال الدین سیوطی (رح) فرماتے ہیں یٰسٓ اور طٰہٰ حضور اکرم ﷺ کے نام ہیں بعض کہتے ہیں طٰہٰ حبشی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی رجل کے ہیں یعنی اے شخص یہ لفظ لاکر گویا حضور ﷺ کو خطا کرکے آپ کو تسلی دی گئی ہے۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے (الفوذالکبیرص 108) ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کشفی طور پر حروف مقطعات کی سمجھ عطا فرمائی ہے اور وہ یہ کہ کسی سورة کی ابتداء میں آنے والے یہ حروف سورة کے اجمالی عنوان کو ظاہر کرتے ہیں۔ گویا یہ حروف سورة کی ایک قسم کی مبہم سی سرخی ہوتی ہے شاہ صاحب یہ بھی فرماتے ہیں کہ طٰہٰ انبیاء کے مراتب منازل کی طرف اشارہ ہے جس کے ذریعے وہ اپنی توجہ ہر وقت عالم بالا کی طرف مبذول رکھتے ہیں بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ حروف مقطعات کے ہر حرف کو کسی اسم کا مخفف سمجھنا چاہیے ، مثلاً طٰہٰ میں طٰ کا اشارہ طاہر کی طرف ہے یعنی اے پیغمبر ! طاہرالعقیدۃ والا خلاق والعمل ، جن کا عقیدہ ، اخلاق اور عمل پاک ہے آپ کو اس خطاب کے ساتھ مخاطب کیا گیا۔ اسی طرح طٰہٰ کا اشارہ ہادی کی طرف ہے کہ آپ اللہ کی مخلوق کو ہدایت دینے والے ہیں۔ تاہم زیادہ صحیح اور اسلم بات (تفسیر جلالین ص 4 (فیاض) وہی ہے جو امام جلال الدین سیوطی (رح) نے بیان کی ہے کہ اللہ اعلم بمرادہ بذلک یعنی ان حروف کی مرادکو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ، اور ہمارا اس پر ایمان ہے۔ اس سے زیادہ جاننا ہمارے لئے ضروری بھی نہیں ہے۔ ہمارے جاننے کے لئے کثیر تعداد میں محکمات موجود ہیں۔ اگر ہم انہی پر عمل پیرا ہوجائیں تو بہت بڑی بات ہے ، چہ جائیکہ ہم متشابہات کی تفصیل میں جانے کی سعی لاحاصل کرنے لگیں۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) نے بھی اپنے طریقے پر حروف طٰ سے متعلق بعض اشارے بھی کیے ہیں۔ مثلاً طٰ سے کوہ طور مراد ہے۔ جہاں پر موسیٰ (علیہ السلام) سے ہم کلام ہوئے۔ چونکہ اس سورة مبارکہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تفصیل سے ذکر آیا ہے ، لہٰذا اس سے طور بھی مراد ہوسکتا ہے۔ اسی طرح طٰ سے فرعون کی طغیانی بھی مراد ہوسکتی ہے کہ یہ ذکر بھی اس سورة میں موجود ہے۔ انہ طغی (آیت 43) اللہ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو فرعون کی طرف بھیجا تھا کیونکہ وہ سرکش ہوچکا تھا۔ باقی رہا طٰ تو اس سے شاہ صاحب آدم (علیہ السلام) کا جنت سے ہبوط مراد لیتے ہیں کہ اس بات کا ذکر بھی آگے اسی سورة میں آرہا ہے قال اھبطا منھا (آیت ۔ 123) یعنی تم دونوں (آدم اور حوا) اس جنت سے نکل کر زمین پر اتر جائو۔ حضور ﷺ کے لئے تسلی : سورۃ کی ابتداء حضور ﷺ کی تسلی کے مضمون سے ہوتی ہے۔ اے پیغمبر ! ما انزلنا علیک القرآن لتشقی ہم نے آپ پر قرآن اس لئے تو نہیں اتارا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں۔ تشقیٰ کے دو معانی آتے ہی یعنی شقاوت (بدبختی) اور مشقت (تکلیف میں پڑنا) یہاں پر اس سے مراد مشقت اٹھانا ہے۔ اس جملے کا پس منظر یہ ہے کہ نبوت کے ابتدائی دور میں حضور ﷺ رات کو لمبا قیام کرتے تھے۔ صحیح احادیث کے مطابق بعض اوقات آپ کے پائوں متورم (سوج) جاتے تھے ۔ اور سردی کے موسم میں کبھی پھٹ بھی جاتے تھے۔ تو اللہ نے آپ کو تسلی دی کہ آپ قیام کے دوران لمبی قرات میں اس قدر محنت نہ کریں بلکہ جیسا کہ سورة المزمل می فرمایا فاقرء وا…………القران (آیت۔ 20) اتنا قرآن پڑھو جتنا آسانی سے پڑھ سکو۔ اسی لئے یہاں فرمایا کہ یہ قرآن ہم نے اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں۔ حضور ﷺ کفار ومشرکین کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے بھی سخت پریشان رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ اتنا غمزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ ﷺ کا کام تو ابلاغ ہے ، آگے قبول کرنا یا نہ کرنا ان کی ذمہ داری ہے ، لہٰذا آپ اس کے لئے فکر مند نہ ہوں ۔ حضور ﷺ کی پریشانی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کفار ومشریکن آپ پر طعنہ زنی کرتے تھے ، بیہودہ اعتراضات اور ناجائز نکتہ چینی کرتے تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی ہر طرح کی پریشانی دور کرنے کے لئے تسلی دی کہ آپ پر قرآن اس لئے نازل نہیں کیا گیا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں۔ آپ حوصلہ رکھیں اور اپنا کام کرتے جائیں۔ قرآن بطور تذکرہ : فرمایا ، یہ قرآن مشقت میں ڈالنے والی چیز نہیں ہے ، بلکہ الا تذکرۃ لمن یخشیٰ یہ تو نصیحت یا یاددہانی ہے۔ اس شخص کے لئے جسے محاسبہ اعمال کا خوف ہے۔ البتہ جو شخص بےخوف ہے ، اسے آگے کی فکرہی نہیں ہے ، وہ نہ تو ایمان لائے گا اور نہ نصیحت حاصل کرے گا۔ سورة آلعمران میں فرمایا وما یذکر الا اولو الا لباب (آیت۔ 7) قرآن پاک سے صرف وہی لوگ نصیحت پکڑتے ہیں۔ جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ جو لوگ عقل کو صحیح طور پر استعمال نہیں کرتے ان کی مثال جانوروں کی ہے جن کا کام کھانا ، پینا اور جفتی کرنا ہے ، اس کے علاوہ کچھ نہیں جانتے۔ فرمایا تنزیلا ممن خلق الارض والسموت العلی یہ قرآن کریم اس ذات کا نازل کردہ ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا۔ یہ کسی مخلوق کا کلام نہیں۔ بلکہ اس ذات کا کلام ہے جو الرحمن نہایت ہی مہربان ہے۔ علی العرش استوی اور عرش پر قائم ہے اللہ تعالیٰ کی صفت رحمان کا ذکر گزشتہ سورة مریم میں کم وبیش سولہ مرتبہ آیا ہے۔ کہ دیکھو ! اللہ تعالیٰ تو اپنی مخلوق پر بڑا ہی مہربان ہے۔ یہ انسانی ہی ہیں جو غلط کام کرکے اپنے آپ کو اس کی رحمت سے محروم کرلیتے ہیں۔ استوی علی العرش کے الفاظ بھی کئی سورتوں میں ذکر ہوئے ہیں۔ اس کو متشابہات میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان الفاظ کا معنی تو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر قائم ہے لیکن اس استویٰ کی حقیقت اور کیفیت انسانی ذہن میں نہیں آسکتی۔ اللہ تعالیٰ کا عرش پر مستوی ہونا ہمارے کسی جگہ بیٹھنے کی طرح نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ہمارے لئے مکانیت لازمی ہے جب کہ خدا تعالیٰ لامکان ہے۔ اسی طرح ہمارے دائیں بائیں ، آگے پیچھے ، اوپر نیچے جہت ہوتی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ جہت سے بھی پاک ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کے استویٰ علی العرش ہونے کو ہم نہیں سمجھ سکتے ، ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر قائم ہے جیسا کہ اس کی ذات کے ساتھ لائق ہے۔ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کا عرش پر بیٹھنا اسی طرح تصور کرتا ہے جیسا کہ کوئی بادشاہ تخت پر بیٹھتا ہے ، تو وہ گمراہ ہوگا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو مادیت سے بھی پاک ہے۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) کا فلسفہ : بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ استوی بلندی سے کنایہ ہے ۔ اس مسئلہ کو امام شاہ ولی اللہ (رح) اپنے فلسفہ میں اس طرح سمجھاتے ہیں کہ جنت کے کل آٹھ طبقات ہیں جن میں سے بلند ترین طبقہ جنت الفردوس ہے اور جس کا ذکر سورة الکہف میں بھی گزر چکا ہے کانت لھم………نزلا (آیت۔ 107) شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ جنت کے نچلے حصے سے اوپر والے حصے تک پچاس ہزار سال کی مسافت کی بلندی ہے۔ جنت کا سلسلہ ساتوں آسمانوں کے بعد شروع ہوتا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جنت کے بلند ترین حصے یعنی جنت الفردوس کے اوپر عرش الٰہی ہے اس عرش پر اللہ تعالیٰ کی تجلی پڑتی ہے جسے تجلی اعظم کہا جاتا ہے اس تجلی کی وجہ سے پہلے عرش رنگین ہوتا ہے اور پھر ساری کائنات رنگین ہوتی ہے۔ یہ تجلیات کب سے پڑ رہی ہے اور کب تک پڑتی رہیں گی۔ اس کو کوئی شخص اپنی عقل سے نہیں جان سکتا۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ عرش سے لے کر ساری کائنات کا مجموعہ بمع عرش اور جنت شخص اکبر ہے اور خدا کی ذات اس سے بالکل جدا اور دراء الوراء ہے۔ اللہ تعالیٰ خود تو غیب الغیب میں ہے ، البتہ اس کی تجلی عرش پر اور پھر ساری کائنات پر پڑتی ہے ، لہٰذا اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے کی کیفیت کو کوئی نہیں جان سکتا۔ ہمارے لئے اس پر ایمان لانا ہی کافی ہے ۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ انسانی ذہن صرف اس درجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ لفظ اللہ یار رحمان خدا تعالیٰ کا نام یا صفت ہے یہ کوئی مادی جسم نہیں ہے جو عرش پر بیٹھا ہو ، بلکہ استویٰ علی العرش کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تجلیات ہمہ وقت عرش پر پڑ رہی ہیں۔ خدا تعالیٰ کا تسلط اور علم : آگے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے لہ مافی السموت وما فی الارض وما بینھما وما تحت التریٰ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان ہے ، اور جو کچھ گیلی زمین کے نیچے ہے۔ مطلب یہ کہ بلند سے بلند اور پست سے پست ہر گجہ اس کی پیدا کردہ اور اسی کے تصرف میں ہے اور اس لحاظ سے اسی کی ملکیت ہے۔ یہ تو خدا کی قدرت کا حال ہے ، اور اس کے علم کا حال یہ ہے وان تجھر بالقول اگر آپ بلند آواز سے بات کریں فانہ یعلم السر واخفی پس بیشک وہ تو پوشیدہ اور مخفی ترین بات کو بھی جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تعالیٰ تو دل کے وساوس سے بھی واقف ہے اللہ تعالیٰ کا عم اس قدر وسیع ہے کہ وہ پوشیدہ ترین اشیاء کو بھی جانتا ہے ، وہ علیم کل اور قادر مطلق ہے۔ وہ بڑا مہربان ہے۔ اس نے یہ کتاب نازل فرمائی ہے۔ خدا تعالیٰ کی واحدانیت : فرمایا اللہ لا الہ الا ھو وہ اللہ ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ یہ مرکزی مضمون کا پہلا حصہ ہے جو تمام مکی سورتوں میں بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے ، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ اس کے سوا کوئی خالق ، مدبر ، علیم کال ، ناقع اور ضار نہیں اللہ کے سوا تمام معبود خودساختہ ہیں ، سب مخلوق ہیں کسی کو کوئی اختیار نہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں لہ الاسماء الحسنی اس کے بھلے نام ہیں۔ اسے کسی بھی نام سے یادکرو ، درست ہے۔ وہ رحمن اور رحیم ہے ، ستار اور غفار ہے ، واجد اور ماجد ہے ، لطیف اور خبیر ہے ، رقیب اور مجیب ہے۔ حضور نے فرمایا جو ان اسمائے پاک کو یاد کریگا اور ان پر ایمان لائے گا ، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ مشرک لوگ اعتراض کرتے تھے کہ مسلمان ہمیں تو وحدانیت کا درس دیتے ہیں اور خود کبھی رحمن اور کبھی خدا کہتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا یہ بیوقوفی کا اعتراض ہے ذات صرف ایک ہے باقی کی صفات ہیں اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
Ayahs 20:9–12

وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 20:9 in the Quran reader

اور کیا آئی ہے آپ تک بات موسیٰ (علیہ السلام) کی

اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى Open ayah 20:10 in the Quran reader

جب کہ دیکھا انہوں نے آگ کو اور کہا اپنے گھر والوں کو ، تم ٹھہرو ! بیشک میں نے آگ دیکھی ہے۔ تاکہ میں لائوں تمہارے پاس اس میں سے کوئی شعلہ سلگا کر ، یا پائوں میں آگ پر کوئی راستہ دکھانے والا

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىؕ Open ayah 20:11 in the Quran reader

پس جب وہ پہنچے اس (آگ) تک تو (وہاں سے) ندا آئی ، اے موسیٰ

اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ Open ayah 20:12 in the Quran reader

بیشک میں تیرا پروردگار ہوں ، پس اتار دو تم اپنے جوتے۔ بیشک تم ایک مقدس وادی طویٰ میں ہو

حضور ﷺ کے لئے تسلی : اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کے لئے تسلی کا مضمون بیان کیا ہے۔ اس سلسلے میں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ ان دونوں انبیاء کو سخت دشمنوں سے واسطہ پڑا تو انہوں نے صبر کا دامن تھامے رکھا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ناکام کیا۔ یہ سورة اس وقت نازل ہوئی جب حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے ، مقصد یہ تھا کہ جس طرح موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے سخت تکلیف برداشت کیں تو اس کے بعد اللہ نے انہیں کامیابی عطا کی ، اسی طرح اے پیغمبر ! آپ کو بھی سخت مصائب کا سامنا کرنا ہوگا اور اس کے بعد آپ کی کامیابی کے دروازے کھلیں گے ، لہٰذا آپ صبر سے کام لیں اور تبلیغ دین کام جاری رکھیں۔ آخری فتح آپ ہی کی ہوگی۔ آیات کا پس منظر : یہاں سے موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کی ابتداء ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وھل اتک حدیث موسیٰ اے پیغمبر ! کیا آپ تک موسیٰ (علیہ السلام) کی بات پہنچی ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ قرآن پاک میں بہت سے جگہوں پر مذکور ہے ۔ سورة الاعراف میں اس واقعہ کی کافی تفصیلات ذکر کی گئی ہیں۔ سورة القصص میں تو اس واقعہ کی ابتداء موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے کی گئی ہے۔ پھر سورة شعراء میں نبوت و رسالت ملنے کے بعد کے واقعات کی تفصیل ہے اور اس مقام پر اس واقعہ کی ابتداء اس وقت سے کی گئی ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین میں دس سال کا عرصہ گزارنے کے بعد مصر کی طرف روانہ ہوئے۔ اس واقعہ کا پس منظر یہ ہے کہ قوم فرعون کا ایک آدمی ایک کمزور اسرائیلی پر تشدد کررہا تھا۔ وہاں سے موسیٰ (علیہ السلام) کا گزر ہوا تو اسرائیلی نے آپ سے مدد کی درخواست کی۔ آپ پر اس وقت جوانی کا عالم تھا ، اللہ نے زبردشت جسمانی طاقت عطا فرمائی تھی۔ آپ نے اس اسرائیلی کو قبطی کے ظلم سے چھڑانے کے لئے قبطی کو ایک مکا رسید کیا۔ اگرچہ آپ نے ایسا قتل کے ارادے سے نہیں کیا تھا۔ مگر وہ مکا اس شخص کو اس طور لگا کہ وہ وہیں ہلاک ہوگیا۔ جب فرعونیوں کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی تلاش شروع کردی۔ اس دوران کسی خیرخواہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو خبر دے دی کہ لوگ تمہیں گرفتار کرنا چاہتے ہیں ، لہٰذا یہاں سے فوراً چلے جائو۔ آپ خاموشی کے ساتھ تن تنہا مصر سے نکلے اور چلتے چلتے مدین پہنچ گئے۔ وہاں پر آپ کی ملاقات اللہ کے نبی شعیب (علیہ السلام) سے ہوئی۔ انہوں نے سارا واقعہ سن کر آپ کو تسلی دی اور کہا نجوت مین القوم الظلمین (القصص 35) ڈرو نہیں۔ اب تم فرعون کے عمل داری سے باہر آ چکے ہو ، اور تمہیں ظالم لوگوں سے نجات حاصل کرچکی ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ ہمیں ایک خدمت گزار کی ضرورت ہے ، تم ہمارے پاس ہی رہو۔ اگر تم آٹھ یا دس سال ہماری خدمت کرنا قبول کرلو ، تو میں اپنی بیٹی کا نکاح بھی تم سے کر دوں گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ پیش کش قبول کرلی۔ آپ شعیب (علیہ السلام) کے پاس ٹھہر گئے ، نکاح بھی ہوگیا۔ دس سال کا عرصہ گزرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے اپنی والدہ اور بھائی کو ملنے کے لئے مصر واپس جانے کی اجازت چاہی۔ چناچہ اجازت ملنے پر آپ نے اپنی بیوی اور بکریوں کا ایک ریوڑ ساتھ لیا اور مصر کی طرف روانہ ہوگئے اس مقام پر دوران سفر پیش آنے والے واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ وادی مقدس میں قیام : مدین سے مصر جاتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک جگہ پر رات بسر کرنے کا ارادہ کیا۔ اس دوران آپ کی بیوی کو کچھ تکلیف ہوگئی بعض مفسرین دروازہ کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ تاریک رات میں بکریاں بھی ادھر ادھر ہوگئیں اور آپ کو سخت پریشانی لاحق ہوئی۔ آپ نے سفر کے لئے ایک غیر معروف راستہ اختیار کیا تھا ، جس سے آپ اچھی طرح واقف بھی نہ تھے ، لہٰذا آپ کو راستہ بھول جانے کا بھی خطر ہ تھا۔ آپ اسی شش وپنج میں تھے اذرانارا جب کہ آپ کو دور کہیں آگ نظر آئی۔ اندھیری رات میں شعلہ نکلتا ہوا نظرآیا تو آپ کے دل میں امید کی کرن پھوٹی فقال لاھلہ امکثوا تو آپ نے اپنے گھروالوں سے کہا ، تم یہیں ٹھہرو۔ انی انست نارا میں نے آگ دیکھی ہے۔ میں اس کے پاس جاتا ہوں لعلی اتیکم منھا بقبس تاکہ اس میں سے کوئی شعلہ سلگا کر تمہارے لئے لے آئوں ۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ رات کے وقت آپ کو آگ کی ضرورت شدت سے محسوس ہوئی۔ ایک تو روشنی کی ضرورت تھی ، دوسرا کھانا پکانے کے لئے آگ کی ضرورت تھی۔ آپ کے پاس حقچاق موجود تھا مگر کوشش کے باوجود اس سے آگ نہیں نکلتی تھی ، لہٰذا آپ نے آگ کی تلاش میں اس طرف جانے کا ارادہ کیا جہاں روشنی ہورہی تھی ۔ چونکہ آپ راستہ بھول چکے تھے ، اس آگ کی طرف جانے کا دوسرا مقصد یہ تھا اواجد علی النار ھدی کہ شاید میں وہاں سے کوئی راستہ بتلانے والا آدمی لے آئوں۔ ظاہر ہے کہ جہاں آگ جل رہی ہے۔ وہاں کوئی آگ جلانے والا بھی ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ وہ صحیح راستے کی طرف راہنمائی بھی کرسکے۔ مفسرین نے لفظ امکثوا پر کلام کیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تو صرف آپ کی بیوی تھی تو انہوں نے فردواحد کے لئے جمع کا صیغہ کیوں استعمال کیا۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ بعض اوقات کسی واحد شخص کے لئے جمع کا صیغہ احتراماً بھی بولا جاتا ہے ، جیسے ہم مہمان کو کہتے ہیں کہ آپ تشریف رکھیں ، حالانکہ وہ ایک آدمی ہوتا ہے۔ البتہ ابوحیان (رح) تفسیر بحر محیط والے فرماتے ہیں (البحر المحیط ص 227 ج 6 (فیاض) کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ صرف آپ کی بیوی ہی نہیں تھی بلکہ دو بچے یا ایک بچہ ، ایک خادم اور بکریوں کا ریوڑ بھی تھا ، اس لئے آپ نے سب کے لئے جمع کا صیغہ استعمال کیا کہ تم سب یہیں ٹھہرو ، میں آگ کے قریب جاتا ہوں۔ حجاب نوری یاناری : فلما اتھا جب موسیٰ (علیہ السلام) آگ کے پاس پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہے گئے کہ روشن ہونے والی چیز آگ نہیں بلکہ کچھ اور ہی چیز تھی ، وہ تو اللہ تعالیٰ کا حجاب نوری یا ناری تھا جو اس درخت پر وارد ہورہا تھا جہاں سے روشنی باہر آرہی تھی ، مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے حجابات ایسے ہیں کہ اگر ان کو کھول دیا جائے ، تو جہاں تک ان کا اثر پہنچے ہر چیز جل جائے۔ بہرحال جب موسیٰ (علیہ السلام) آگ والی جگہ پر پہنچے تو عجیب نظارہ دیکھا ایک سر سبز و شاداب درخت تھا جس سے آگ بڑے زور شور کے ساتھ نکل رہی تھی۔ آگ جتنی زیادہ بھڑکتی ، درخت کی سرسبزی وشادابی میں اتنا ہی نکھار آتا۔ اور درخت جس قدر شباب ہوتا ، آگ اتنی ہی زیادہ بھڑکتی آگ کا کام جلا ڈالنا ہے مگر وہ درخت کی شادابی میں اضافہ کررہی تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے درخت کے قریب جانے کا ارادہ کیا تاکہ درخت کی کوئی سلگتی ہوئی شاخ گرے تو اسے لے کر اپنے قافلے کے پاس جائیں مگر آپ جتنا آگ کے قریب جاتے ، آگ اتنا ہی دور ہٹ جاتی۔ آپ گھبرا کر پیچھے آتے تو آگ واپس اپنی جگہ پر آجاتی۔ عجیب منظر تھا۔ ندائے غیبی : فرمایا ، جب موسیٰ (علیہ السلام) آگ کے قریب پہنچے نودی یموسیٰ تو آواز آئی ، اے موسیٰ ! (علیہ السلام) انی انا ربک بیشک میں تیرا پروردگار ہوں۔ یہ بات موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے مزید حیرانگی کا باعث بنی ، آگ کا درخت بلا تشبیہ ، غیبی ٹیلیفون کا کام دے رہا تھا۔ شیخ الاسلام (تفسیر عثمانی ص 405 (فیاض) مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) نے امام احمد (رح) اور وہب تابعی (رح) کے حوالے سے یہ بات نقلی کی ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ غیبی آواز سنی تو آپ نے کئی بار لبیک لبیک کہا۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ جب ادھر سے یا موسیٰ کی آواز آئی تو آپ کو یقین ہوگیا تھا کہ یہ آپ کے پروردگار کی آواز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ میں ضروری علم پیدا کردیا تھا جس کی وجہ سے آپ کو شبہ نہیں رہا تھا کہ اللہ کے علاوہ کسی جن شیطان کی آوار بھی ہوسکتی ہے۔ حضرت مولیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا ، پروردگار ! میں تیری آواز سن رہا ہوں ، آہٹ پارہا ہوں مگر تجھے دیکھنے سے قاصر ہوں۔ دوسری طرف سے آواز آئی۔ اے موسیٰ ! میں تیرے اوپر ہوں ، تیرے ساتھ ہوں ، تیرے سامنے ہوں ، تیرے پیچھے ہوں حتیٰ کہ تیری جان سے بھی زیادہ قریب ہوں۔ کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ہر جہت سے ، ہر ہرذرے سے اور اپنے ایک ایک لا سے مذکورہ آواز سنی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ خصوصی انعام فرمایا کہ ان سے براہ راست گفتگو کی۔ سورة نساء میں موجود ہے وکلم اللہ موسیٰ تکلیما (آیت۔ 164) اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے براہ راست کلام فرمایا۔ جوتے اتارنے کا حکم اللہ نے اپنا تعارف کرانے کے بعد فرمایا فاخلع نعلیک اے موسیٰ (علیہ السلام) ! اپنے جوتے اتار دو کیونکہ انک بالواد المقدس طوی اس وقت تم ایک پاک وادی طویٰ میں ہو۔ اس کو پاکیزہ وادی کیوں کہا گیا ہے ؟ ہوسکتا ہے کہ بعض دیگر مقامات کی طرح اللہ نے اس خطے کو پہلے سے مقدس بنارکھا ہو۔ یا وہ جگہ اس وجہ سے مقدس تھی کہ وہاں خدا تعالیٰ کی تجلیات کا نزول ہورہا تھا۔ بہرحال وہ مقدس مقام تھا جہاں جوتا اتارنے کا حکم ہوا۔ مفسرین کرام (البحرالمحیط ص 231 ج 6) کا ایک گروہ جوتا اتارنے کی وجہ یہ بتاتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا جوتا گدھے کی کھال کا بنا ہوا تھا ، اور ہوسکتا ہے کہ ان کی شریعت میں گدھا حرام ہو اور اس لئے جوتا ناپاک ہو امام ابوبکر حصاص (رح) فرماتے ہیں کہ اگر جوتا اتارنے کی یہی وجہ تھی کہ وہ ناپاک تھا ، تو ہماری شریعت میں تو ہر کھال کا جوتا پاک ہے۔ خواہ وہ کھال کسی حرام جانور کی ہو۔ حضور ﷺ کا فرمان (مسلم ص 159 ج 1 (فیاض) ہے اذاربغ الاھاب ، فقد طھر ہر رنگا جانے والا کچا چمڑا باغت کے بعد پاک ہوجاتا ہے۔ اس سے جوتا بھی بناسکتے ہیں۔ نماز کے لئے مصلیٰ بھی ، اور پانی نکالنے کے لئے اس کا ڈول بھی بناسکتے ہیں۔ ایسا چمڑا پاک ہوجاتا ہے اور اس سے کھانے کے برتن بھی بنائے جاسکتے ہیں۔ البتہ کتے کے متعلق بعض فقہا کا اختلاف ہے کہ اس کی کھال دباغت کے بعد بھی استعمال ہوسکتی ہے یا نہیں۔ خنزیر اور انسانی کھال کو بھی کسی صورت میں استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔ خنزیر اس لئے کہ یہ سراپا ناپاک جانور ہے۔ اللہ نے اسے واضح طور پر حرام قرار دیا ہے اور انسان کی کھال تکریم انسانی کی بناء پر ناقابل استعمال ہے۔ اللہ نے فرمایا ولقد کرمنا بنی ادم (بنی اسرائیل 70) ہم نے آدم کے بیٹے کو عزت بخشی ہے۔ انسان کی کھال اگرچہ پاک ہے مگر اس کا استعمال حرام ہے۔ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ کا گزر ایک مردار بکری پر ہوا تو آپ نے لوگوں سے فرمایا ، تم نے اس کی کھال کیوں نہیں استعمال کی ؟ عرض کیا ، یہ تو مردار ہوگئی ہے ہم اس کو ذبح نہیں کرسکے۔ آپ نے فرمایا ، اس کا کھانا تو بےحرام ہے ، مگر دباغت کے بعد اس کی کھال استعمال ہوسکتی ہے۔ امام ابوبکر حصاص (رح) فرماتے (احکام القرآن للجصاص ص 271 ج 3 (فیاض) ہیں کہ وادی مقدس میں جوتے اتارنے کا حکم اس وجہ سے بھی ہوا کہ اس پاک مقام پر ادب کا یہی تقاضا تھا تاکہ ننگے پائوں وہاں کی برکات حاصل ہوسکیں۔ مساجد وغیرہ میں جوتا اسی لئے اتارا جاتا ہے کہ یہ متبرک مقام ہوتے ہیں۔ اور اس وادی طویٰ کے متعلق تو اللہ نے خاص طور پر جوتا اتارنے کا حکم دیا۔ کیونکہ وہاں اللہ تعالیٰ کی تجلیات پڑ رہی تھیں اور خاص واقعات پیش آرہے تھے دنیوی آداب کے متعلق تورات میں مذکور ہے کہ قدیم زمانے میں لوگ بادشاہوں کے دربار میں جاتے تھے تو جوتا اتار لیتے تھے کیونکہ ایسا کرنا شاہی دربار کے آداب میں شامل تھا ، غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے وادی طویٰ میں بطور ادب موسیٰ (علیہ السلام) کو جوتے اتارنے کا حکم دیا۔ جوتے سمیت نماز : اگر جوتا پاک ہو تو ہمارے شریعت میں اس کو مسجد میں لے جانا اور اسے پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے۔ خود حضور ﷺ نے جوتے سمیت نماز ادا کی ہے۔ اس وقت جوتے عام طور پر چپل نما ہوتے تھے۔ جنہیں آسانی سے پہنا اور اتارا جاسکتا تھا۔ آپ نے دوران نماز اپنا جوتا اتار پھینکا۔ آپ کی اتباع میں صحابہ کرام ؓ نے بھی جوتے اتار دیے ، نماز کے بعد حضور ﷺ نے پوچھا کہ تم نے کیوں جوتے اتارے ، تو صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ آپ کی اتباع میں ، کیونکہ ہم سمجھے کہ جوتے اتارنے کا حکم نازل ہوگیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے جبرائیل (علیہ السلام) نے آکر بتایا تھا کہ میرے جوتے میں نجاست لگی ہوئی ہے ، لہٰذا میں نے اسے اتار دیا ، تمہیں تو ایسا کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ عرب کے پتھرلیے اور ریگستانی علاقے میں نجاست لگنے کا احتمال بہت کم ہوتا ہے ، لہٰذا وہاں پاک جوتوں کے ساتھ نمازادا کی جاسکتی تھی۔ اور جہاں ہماری گلیوں بازاروں کی طرح گندگی ہو ، وہاں جوتے کا پاک رہنا ممکن نہیں ، لہٰذا ایسے جوتے مسجد میں نہیں لے جاسکتے ، نہ ان کو پہن کر نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ ہمارے جوتوں میں نجاست جذب ہوجاتی ہے جو اچھی طرح دھوئے بغیر دور نہیں ہوتی ، لہٰذا احتیاط کرنی چاہیے۔ البتہ نیا جوتا جو بالکل پاک ہو اسے پہن کر اب بھی نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ امام ابوبکرحصاص (رح) فرماتے ہیں کہ جس جوتے کے ساتھ حضور ﷺ نماز ادا فرما رہے تھے ، اس میں معمولی سی غلاظت لگی ہوگی۔ کیونکہ نجاست کا علمہوجانے کے بعد آپ نے نماز جاری رکھی۔ اگر نجاست کی مقدار زیادہ ہوتی ، تو حضور ﷺ ساری نماز دہرالیتے ، مگر آپ نے ایسا ہیں کیا۔
Ayahs 20:13–16

وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰى Open ayah 20:13 in the Quran reader

اور میں نے منتخب کیا ہے تو کو ، پس سنو (اس چیز کو) جو وحی کی جاتی ہے

اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ Open ayah 20:14 in the Quran reader

بیشک میں اللہ ہوں نہیں کوئی معبود سوائے میرے۔ پس میری ہی عبادت کرو اور قائم کرو نماز کو خاص میری یاد کے لئے

اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى Open ayah 20:15 in the Quran reader

بیشک قیامت آنے والی ہے۔ قریب ہے کہ میں اس کو پوشیدہ رکھوں ، تاکہ بدلہ دیا جائے ہر ایک نفس کو جو اس نے کوشش کی

فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى Open ayah 20:16 in the Quran reader

پس نہ روکے تجھے اس (قیامت) سے وہ جو نہیں ایمان لاتا اس پر۔ پیروی کی اس نے اپنی خواہش کی۔ پس تم بھی ہلاک ہوجائو گے

تفسیر : ربط آیات گزشتہ آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کچھ واقعہ بیان ہوا ہے جب آپ مدین سے چل کر وادی طویٰ کے قریب پہنچے ، تو اندھیری رات میں آپ کو روشنی اور تپش کے لئے آگ کی ضرورت محسوس ہوئی۔ آپ نے دور ایک مقام پر آگ جلتی دیکھ کر اپنے گھر والوں کو وہیں ٹھرنے کا حکم دیا اور خود آگ کی تلاش اور کسی راستہ بتانے والے کی جستجو میں وہاں پہنچے۔ آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب آپ نے دیکھا کہ وہ آگ ایک سرسبز و شاداب درخت سے نکل رہی تھی مگر اس درخت کو جلاتی نہیں تھی۔ آپ نے آگے بڑھنا چاہا تو غیب سے آواز آئی ، اے موسیٰ ! میں تیرا پروردگار ہوں ، تم ایک مقدس وادی میں پہنچ چکے ہو ، لہٰذا بطور ادب اپنے جوتے اتار کر برہنہ پا ہوجائو۔ انتخاب برائے نبوت و رسالت : امام ابواللیث (رح) چوتھی صدی کے عظیم فقیہہ ہوئے ہیں۔ آپ نے قرآن پاک کی تفسیر بھی لکھی ہے ، آپ کا شمار صوفیائے کرام میں بھی ہوتا ہے اور آپ نے تصوف کے موضوع پر بھی کتابیں لکھی ہیں آپ کے حوالے سے تفسیر حسینی (تفسیر حسینی ص 29 ج 2 (فیاض) والے اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ اگلی آیت وانا اخترتک سے لے کر واتبع ھوہ فتردی تک کا خطاب سابقہ آیات کے برخلاف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے نہیں بلکہ حضور ﷺ سے ہے۔ اس کے بعد وما تلک بیمینک سے پھر روئے سخن موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف ہے تاہم اکثر مفسرین فرماتے ہیں کہ ان آیات میں بھی خطاب موسیٰ (علیہ السلام) سے ہی ہے۔ اللہ نے جوتے اتارنے کا حکم دے کر فرمایا وانا اخترتک اور میں نے تجھے منتخب کرلیا ہے۔ فاستمع لما یوحی پس اس چیز کو خوب کان لگا کر سن لو جو وحی کی جاتی ہے۔ نبوت و رسالت کوئی کیسی چیز نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہوتا ہے وانھم………………الاخیار (ص 47) اللہ تعالیٰ انہیں اپنے نیک بندوں میں سے منتخب فرماتا ہے اللہ تعالیٰ انہیں برگزیدہ اور معصوم بناتا ہے۔ انہیں گارنٹی حاصل ہوتی ہے کہ ان سے کوئی گناہ نہیں سرزد ہونے دیا جاتا۔ توحید الٰہی : فرمایا جو وحی تمہاری طرف کی جاتی ہے اسے غور سے سنو اور پھر اللہ تعالیٰ نے بنیادی باتوں میں سے تین باتوں کا یہاں ذکر فرمایا ہے سب سے پہلے مسئلہ توحید بیان فرمایا ہے ، پھر نماز کی تاکید کی ہے اور اس کے بعد وقوع قیامت کا بیان ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے اننی انا اللہ بیشک میں اللہ ہوں لا الہ الا انا میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ سورة محمد میں اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ فاعلم انہ لا الہ الا اللہ (آیت 19) خوب اچھی طرح جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ لہٰذا عبادت بھی اسی کی کرنی چاہیے۔ تمام انبیاء نے لوگوں کو سب سے پہلے توحید ہی کی دعوت دیا اور کہا یقوم………………غیرہ (ھود 84) لوگو عبادت صرف اللہ کی کرو کہ اس کے سوا تمہرا کوئی معبود نہیں۔ خود حضور ﷺ جب تبلیغ دین کے لئے مختلف مقامات پر جاتے تو اسی توحید کا درس دیتے۔ آپ عکاظ کے میلے میں گئے تو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرکے فرمایا (موارد الطبان ص 406 (فیاض) لوگو ! قولو لا الہ الا اللہ تفلحوا کہہ دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ تمہاری فلاح اسی بات میں ہے ، لوگ آگے سے پتھر مارتے ، برا بھلا کہتے ، مگر آپ ان کو اللہ کی وحدانیت کی طرف ہی بلاتے ۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی کرکے سب سے پہلی بات یہی کی کو خوب اچھی طرح سن لو ، میں تمہارا پروردگار ہوں ، میرے سوا کوئی معبود نہیں فاعبدنی پس عبادت بھی میری ہی کرو۔ عبادت انتہائی درجے کی تعظیم کو کہتے ہیں جو کہ قول ، فعل ، عمل اور مال سے ہوتی ہے۔ جب انسان اس تصور کے ساتھ تعظیم کرتا ہے کہ جس ذات کی تعظیم کی جارہی ہے وہ مافوق الاسباب تمام چیزوں پر تصرف رکھتا ہے۔ ہر چیز کو جانتا ہے نافع اور ضار ہے ، تو ایسی تعظیم خواہ کھڑے ہو کر ہاتھ باندھ کر کی جائے یا رکوع سجود میں ، وہ معبود سمجھ کر ہی کی جائیگی۔ اسی طرح کوئی دیگر پاکیزہ کلمات کہہ کر تعریف کی جائے یا اس کے نام پر نذر ونیاز دی جائے ، یا مشکل میں اس کو پکارا جائے ، یہ عبادت ہی تصور ہوگی ، اسی لئے اللہ نے فرمایا کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ، لہٰذا عبادت بھی میری ہی کرو ۔ کسی دوسری ذات کی عبادت روا نہیں۔ اقامت نماز اور ذکر الٰہی : اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے خطاب میں دوسری بات یہ فرمائی واقم الصلوٰۃ لذکری اور نماز قائم کرو خاص میری یاد کے لئے ، توحید کے بعد نماز کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ تمام عبادات میں سے نماز کو سب سے زیادہ فضیلت حاصل ہے اس کو ام العبادات المقربۃ کہا گیا ہے ، یعنی نماز اللہ کے قریب کرنے والی عبادات کی جڑ اور بنیاد ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ نماز میں اللہ کی یاد ہوتی ہے ، اس کی حمدوثنا کی جاتی ہے۔ کلام پاک کی تلاوت ہوتی ہے ، تسبیح وتنزیہہ اور تکبیر وتہلیل ہوتی ہے ، اور یہ تمام چیز ذکر الٰہی پر مشتمل ہیں۔ اللہ کا ذکر کرنے سے انسانوں کا تعلق اپنے خالق کے کے ساتھ درست ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے واذکر ربک…………الغفلین (الاعراف 205) صبح وشام اپنے پروردگار کا ذکر کرو۔ اور غافل ن بنو۔ سورة البقرہ میں بھی ہے فاذکرونی اذکرکم (آیت 152) تم مجھے یاد کرو ، میں تمہیں یاد کروں گا ، یعنی اس کا بدلہ عطا فرمائوں گا۔ حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو بندہ مجھے اپنے جی میں یاد کرتا ہے ، میں سھی اس کو اپنے جی میں یاد کرتا ہوں۔ اور جو شخص مجھے کسی مجلس میں یاد کرتا ہے۔ میں اس کو اس سے بہتر مجلس یعنی فرشتوں کی مقدس مجلس میں یاد کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ دیکھو میرا فلاں بندہ مجھے یاد کررہا ہے۔ میرا بندہ جب جہاد میں دشمن سے ٹکر لے رہا ہوتا ہے تو اس وقت بھی میری اد سے غافل نہیں ہوتا۔ دنیادار اول فول بکتے ہیں ، گانے گاتے ہیں ، شراب نوشی کرتے ہیں ، مگر ایمان والے اس وقت بھی اللہ کا ذکر کرتے ہیں جب وہ جان ہتھیلی پر رکھ چکے ہوتے ہیں ۔ اس لئے فرمایا کہ کلمہ توحید کہنے کے بعد اہم ترین چیز نماز کی طرف توجہ دیں تاکہ میرا ذکر ہو اور میرے ساتھ تمہارا تعلق درست ہو۔ وقوع قیامت : اس کے بعد عقیدے میں سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والی بات وقوع قیامت پر ایمان ہے ۔ فرمایا ان الساعۃ اتیۃ بیشک قیامت آنے والی ہے بعض مفسرین نے ساعۃ کو فتح کی گھڑی پر بھی محمول کیا ہے مگر صحیح بات یہی ہے کہ یہاں پر ساعۃ سے مراد قیامت ہے۔ اس پر یقین رکھو اور اس کے لئے تیاری کرو کیونکہ وہ بلا شبہ واقع ہونے والی ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ قیامت کا وقوع کب ہوگا ، فرمایا اکاد اخفیھا قریب ہے کہ میں اس کے وقت کو پوشیدہ رکھوں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ محاورہ ہے جو انتہائی مبالغے کے لئے استعمال ہوتا ہے اس قدر مبالغہ کہ میں اس کو اپنے آپ سے بھی پوشیدہ رکھوں ، حالانکہ کوئی ذات کسی چیز کو اپنے آپ سے تو پوشیدہ نہیں رکھ سکتی مقصد یہ ہے کہ قیامت برپا ہونے کے وقت کا علم سوائے ذات باری تعالیٰ کے کسی کے پاس نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ لا یجلیھا……………………بغتۃ (الاعراف 187) قیامت کے وقت کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کسی نبی اور فرشتے کو بھی وقت وقوع قیامت کی خبر نہیں۔ یہ تو اچانک ہی آجائے گی۔ لوگ اپنے اپنے کام کام میں مشغول ہوں گے۔ کسی کے وہم و گمان میں بنی نہیں ہوگا مگر قیامت کا بگل بج جائے گا۔ غرضیکہ اللہ نے اس کا علم اپنے ساتھ مخصوص رکھا ہے۔ اور وقوع قیامت کی غایت یہ ہے لتجزی کل نفس بما تسعی تاکہ ہر نفس کی اس کی کوشش اور محنت کا بدلہ دیا جائے۔ اس دنیا میں انسان کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ نہیں مل سکتا۔ نہ تو اس کے نیک اعمال کی پوری جزا ملتی اور نہ جرائم کی پوری سزا ملتی ہے۔ بہت سے گنہگار اور مجرمین اس دنیا میں سزا سے بچ جاتے ہیں۔ اگر کوئی عدالت سزا دینے کی کوشش بھی کرتی ہے تو کئی بےگناہ بھی اس کی زد میں آجاتے ہیں۔ پورا پورا فیصلہ اور پوری پوری جزاوسزا تو قیامت کو ہی ممکن ہوسکے گی۔ اس وقت نیکی اور بدی کا ذرہ ذرہ جدا ہوگا۔ نیکوکار اور مجرم لوگ علیحدہ علیحدہ ہوں گے ہر ایک کی کار گزاری کا پورا پورا حساب ہوگا ، کوئی چیز خلط ملط نہیں ہوگی۔ اس دنیا کا بڑے سے بڑا جج بھی وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ اس نے سارے واقعات پر محیط ہو کر کوئی فیصلہ کیا ہے ، لہٰذا ہر جگہ غلطی کا امکان ہے ، صحیح صحیح فیصلے قیامت کو ہی ہوں گے۔ ان ربک………………یختلفون (السجدہ 25) ان کے درمیان قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہی فیصلہ کریگا جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ قیامت کا واقع ہونا بھی ضروری ہے تاکہ ہر ایک کو اس کی کوشش کا پھل مل سکے اور اس کام کے لئے قیامت کے علاوہ کوئی دوسرا موقع نہیں ہے۔ منکرین قیامت سے خبرداری : آگے اللہ نے قیامت کے منکرین کو خبردار کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے فلا یصدنک عنھا من لا یومن بھا پس نہ روکے آپ کو قیامت سے جو شخص جو اس پر ایمان نہیں لاتا۔ منکرین قیامت کا یہی نظریہ ہے کہ کوئی قیامت نہیں آئے گی ، نہ کوئی حشر نظر ہوگا ، نہ میزان قائم ہوگی اور نہ کوئی پل صراط ہے جس پر سے گزرنا ہے۔ یہ لوگ جنت اور دوزخ کے بھی انکاری ہیں۔ اس لئے سزا اور جزا کے بھی قائل نہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ سب باتیں لوگوں کو ڈرانے کے لئے بنائی گئی ہیں اور ان کی حقیقت کچھ نہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کا پراپیگنڈا تمہیں قیامت کے تیاری سے روک نہ دے۔ ایسے دشمن سے خبردار اور ہوشیار رہنا ایسا شخص واتبع ھوہ محض اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے ۔ اور خواہشات کی اتباع ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے واضح کردیا ہے ولا تتبعوا………………مبین (البقرہ 168) شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ، گویا جو شخص صحیح قانون کو چھوڑ کر غلط راستہ اختیار کرتا ہے۔ وہ اپنی خواہشات کی پیروی کررہا ہے اور شیطان کے نقش قدم پر گامزن ہے۔ اللہ نے اس سے خبردار کیا ہے اگر شخص کہیں تمہیں وقوع قیامت کے فکر سے آزاد نہ کردے۔ ابو تراب (رح) فرماتے ہیں صحبۃ الا شرار تو جب بغض الا خیار یعنی اگر تم برے لوگوں کی مجلس اختیار کرو گے تو یقینا تمہارے اندر نیک لوگوں کے لئے نفرت پیدا ہوجائے گی۔ اشرار کی صحبت اخیار کے لئے بغض پیدا کرنے والی چیز ہے۔ اگر تم نیک لوگوں سے بدظن ہوجائو گے تو ہلاکت میں پڑ جائو گے فتردی کا یہی معنی ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو خطاب کرکے یہ بات تمام لوگوں کو سمجھائی ہے کہ منکرین قیامت کی صحبت سے محتاط رہیں ، وہ تمہیں ورغلا کر ہلاکت کے گڑھے میں نہ دھکیل دیں۔ اس کے برخلاف قیامت پر پورا پورا یقین رکھو اور اس کے لئے تیاری بھی کرو۔
Ayahs 20:17–24

وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:17 in the Quran reader

(اللہ تعالیٰ نے فرمایا) اور کیا ہے تیرے داہنے ہاتھ میں اے موسیٰ

قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى Open ayah 20:18 in the Quran reader

کہا (موسیٰ نے) یہ میر لاٹھی ہے ، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور پتے جھاڑتا ہوں بکریوں پر ، اور میرے لئے اس میں دوسرے فائدے بھی ہیں

قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:19 in the Quran reader

فرمایا (اللہ تعالیٰ نے) اس لاٹھی کو ڈال دو (نیچے) اے موسیٰ

فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى Open ayah 20:20 in the Quran reader

پس انہوں نے اس کو ڈال دیا ، پس اچانک وہ ہوگیا ایک سانپ دوڑتا ہوا

قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى Open ayah 20:21 in the Quran reader

فرمایا (اللہ نے) اس کو پکڑ لو ، اور ڈرو مت ، ہم اس کو پلٹا دیں گے اس کی پہلی حالت پر

وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 20:22 in the Quran reader

اور ملائو اپنے ہاتھ کو اپنے بازو میں ، نکلے گا وہ سفید ہو کر بغیر کسی عیب کے۔ یہ دوسری نشانی ہے

لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ Open ayah 20:23 in the Quran reader

تاکہ ہم دکھائیں تجھ کو اپنی بڑی نشانیوں میں سے بعض

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ Open ayah 20:24 in the Quran reader

تم جائو فرعون کی طرف ، بیشک وہ حد سے بڑھ گیا ہے

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر کرکے حضور نبی کریم (علیہ السلام) اور آپ کے صحابہ کو تسلی دی۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے طور پر حجاب نوری یا ناری کا مشاہدہ کیا ، تو وہاں سے آواز آئی ، اے موسیٰ ! میں اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ لہٰذا میری ہی عبادت کرو اور میری یاد کے لئے نماز پڑھو۔ ایسا ہی حکم اللہ نے حضور ﷺ کو بھی دیا ہے اتل ما اوحی الیک……… …………والمنکر (العنکبوت 45) ہماری ازل کردہ کتاب یعنی قرآن حکیم کی تلاوت کریں اور نماز قائم کریں۔ بیشک نماز بےحیائی اور ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے۔ نماز اللہ کا ذکر ہی تو ہے ۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے من نسی عن الصلوٰۃ فلیصلھا اذاذکرھا جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا سوتا رہ جائے ، تو جس وقت یاد آئے اسی وقت ادا کرے ، یہی اس کا کفار ہے۔ اس کے بعد اللہ نے قیامت کے متعلق فرمایا کہ وہ آنے والی ہے اور میں نے اس کے وقت کو مخفی رکھا ہوا ہے۔ میرے سوا اس کا علم کسی کے پاس نہیں ہے۔ وقوع قیامت کا مقصد یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ مل سکے۔ اللہ نے فرمایا کہ آپ قیامت میں شک کرنے اور اس کا انکار کرنے والوں سے ہوشیار رہیں کہ کہیں وہ تمہارا عقیدہ بھی کمزور نہ کردیں۔ عصائے موسوی : آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کیے گئے دو خصوصی معجزات کا ذکر کیا ہے۔ یہ معجزات اور نشانیاں آپ کی نبوت و رسالت کی دلیل ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے وما تلک بیمینک یموسی اے موسیٰ ! تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے۔ اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ میں ایک لاٹھی یا چھڑی تھی جو عموماً اپنے پاس رکھتے تھے۔ خاص طور پر دوران سفر تو آپ لاٹھی ضرور ساتھ رکھتے تھے۔ اس لئے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ لاٹھی پاس رکھنا سنت انبیاء ہے اور اس کے بہت سے فائدے بھی ہیں۔ خود حضور ﷺ کے پاس بھی کبھی لاٹھی اور کبھی چھوٹا نیزہ ہوتا تھا ، جسے نماز کے وقت سترے کے طور پر بھی گاڑھ لیا جاتا تھا۔ بہرحال لاٹھی پاس رکھنا کوئی بری بات نہیں ہے بلکہ اس کا کچھ نہ کچھ فائدہ ہی ہے ۔ چونکہ اللہ اس لاٹھی کی ہیئت تبدیل کرنا چاہتا تھا۔ اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) سے خاص طور پر سوال کیا کہ دیکھو تو بھلا تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کو اس کے متعلق خود موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے تصدیق مطلوب تھی وگرنہ اللہ تعالیٰ تو بذات خود جانتے تھے کہ یہ لاٹھی ہی ہے۔ بہرحال اس سوال کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا قال ھی عصای ہولا کریم ! یہ تو میری لاٹھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوال کا جواب تو اتنا ہی کافی تھا ، مگر موسیٰ (علیہ السلام) نے اس جواب کو خود لمبا کردیا اور بعض بن پوچھے سوالات کے جوابات بھی دے دیئے ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا جو لطف آرہا تھا ، وہ اسے دراز کرنا چاہتے تھے تاکہ اس نعمت سے مزید لطف اندوز ہوسکیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوال کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ یہ میری لاٹھی ہے اور ساتھ اس کے فوائد بھی گنوادیئے اتوکوا علیھا میں اس لاٹھی پر بوقت ضرورت ٹیک بھی لگا لیتا ہوں۔ اس کے علاوہ واھش بھا علی غنمی کے ذریعے میں اپنی بھیڑ بکریوں کے لئے درختوں سے پتے بھی جھاڑ لیتا ہوں۔ تاکہ جانوروں کی خوراک کا بندوبست ہوسکے۔ عرض کیا ولی فیھامارب اخری میرے لئے اس لاٹھی میں بعض مزید فوائد بھی ہیں۔ مثلاً یہ لاٹھی دشمن سے لڑائی کے وقت کام دیتی ہے ، کسی درندے کا حملہ ہوجائے تو اس سے دفاع کیا جاسکتا ہے یا کسی سانپ ، بچھو اور کیڑے مکوڑے کو مارنے کا کام بھی دیتی ہے علاوہ ازیں اس کو کندھے پر رکھ کر اس کے ساتھ سامان لٹکایا جاسکتا ہے عرض کیا ، یہ لاٹھی میرے لیے بڑی مفید چیز ہے۔ مفسرین کرام بحث کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو یہ سوال کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ پھر اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کا جلال اور دہشت طاری تھی ، اور اللہ تعالیٰ اس سوال کے ذریعے اس دہشت کو دور کرنا چاہتے تھے ، اس کی مثال بالکل ایسی ہے۔ جیسے کسی بچے کے ہاتھ میں کوئی پھل یا کوئی کھلونا ہو اور اس پر خوفزدگی کی حالت طاری ہو تو دیکھنے والا اسے بہلانے کے لئے سوال کردے کہ دیکھو ! یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے ؟ بعض فرماتے ہیں کہ سوال کا منشاء یہ تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اچھی طرح یقین ہوجائے کہ یہ وہی لاٹھی ہے جسے وہ ہمیشہ اپنے پاس رکھتے ہیں اور یہ کوئی دوسری چیز نہیں ہے۔ ہوسکتا تھا کہ لاٹھی کی ہیئت تبدیل ہونے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو شبہ پیدا ہوجاتا کہ انہوں نے لاٹھی کی بجائے کسی اور چیز کو پکڑ رکھا تھا ، لہٰذا اللہ نے اچھی طرح تسلی کرادی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ میں لاٹھی ہی ہے۔ لاٹھی سانپ بن گئی : جب یہ بات واضح ہوگئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ میں لاٹھی ہی ہے تو اللہ نے فرمایا قال القھا یموسیٰ اے موسیٰ ! اس لاٹھی کو نیچے پھینک دو ۔ فالقھا پس موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ لاٹھی اپنے ہاتھ سے نیچے ڈال دی۔ فاذا ھی حیۃ تسعیٰ پس اچانک وہ دوڑتا ہوا سانپ تھا۔ اس لاٹھی کی ہیئت یکدم بدل گئی اور وہ سانپ بن گیا جو زندہ تھا اور ادھر ادھر دوڑہا تھا قرآن پاک میں لاٹھی کے سانپ بن جانے کے متعلق تین قسم کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اس مقام پر حیۃ کا لفظ ہے جو بڑے چھوٹے ہر قسم کے سانپ کو کہا جاتا ہے۔ کسی جگہ جآن کا لفظ ہے جو لمبے لمبے اور پتلے سانپ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اور کہیں ثعبان ہے جس کا معنی اژدھا یعنی بہت بڑا جسیم سانپ ہوتا ہے بعض فرماتے ہیں کہ لاٹھی سے بننے والا سانپ عام طور پر تو چھوٹا سا سانپ ہی ہوتا تھا ، لیکن جب کسی دشمن کے مقابلے میں ظاہر کرنا مقصود ہوتا تھا تو وہ بہت بڑا اژدھا بن جاتا تھا۔ بہرحال جب لاٹھی کو نیچے پھینکا گیا تو وہ ایک دوڑتا ہوا سانپ بن گیا۔ انقلاب ماہیئت : لاٹھی کا سانپ بن جانا انقلاب ماہیت کہلاتا ہے جب تک وہ لاٹھی کسی درخت کا حصہ تھی تو اس پر زندگی کے آثار موجود تھے ، وہ درخت کی جڑوں کے ذریعے خوراک بھی حاصل کرتی تھی اور پتوں کے ذریعے آکسیجن بھی لیتی تھی۔ خوراک اور آکسیجن انسانی ، حیوانی اور نباتاتی زندگی کے لئے لازمی ہیں ، ورنہ زندگی قائم نہیں رہ سکتی ، مگر جب وہ لاٹھی درخت سے الگ ہو کر خشک لکڑی کی حیثیت اختیار کرگئی تو وہ بےجان ہوچکی تھی جیسے کوئی پتھر یا لوہا وغیرہ ہو۔ یہ ایک مردہ حقیقت تھی ، مگر جب اس کے ماہیت تبدیل ہوئی تو وہ سانپ کی شکل میں ایک زندہ حقیقت بن گئی۔ یہ ایک معجزہ تھا جو کہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہے اور کسی انسان کے بس کی بات نہیں کوئی بڑے سے بڑا سائنسدان بھی آج تک کسی مردہ جسم میں جان نہیں ڈال سکا۔ سائنس کے شعبہ کیمسٹری کے ماہرین مرکبات تیار کرنے میں بڑی مہارت رکھتے ہیں۔ کوئی سی دو یا زیادہ چیزیں ملا کر تیسری چیز بنا لیتا قدیم زمانے سے چلا آرہا ہے مگر آج تک کیمسٹری کا کوئی ماہر سونا یا چاندی بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ مشہور ہے کہ ہر ناکامی پر کیمیا گر یہی کہتے ہیں ، کہ ” صرف ایک آنچ کی کسررہ گئی ہے “ وہ کسر نہ آج تک پوری ہوئی ہے اور نہ سونا تیار ہوا ہے۔ اور آگے بھی قیامت تک یہ کسر پوری نہیں ہوگی اسی لئے امام غزالی (رح) کا قول ہے من تتبع الکیمیاء افلس جو شخص کیمیا گری کے پیچھے پڑگیا ، وہ مفلس ہوگیا۔ ایسا شخص تجربات میں اپنی پونجی ضائع کر بیٹھے گا۔ مگر سونا نہیں سن سکے گا۔ بہرحال خشک لکڑی کی لاٹھی کو زندہ سانپ میں تبدیل کردینا کسی انسان کا کام نہ تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایسا ہوا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی خوفزدگی : جب موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی سانپ بن گئی تو آپ پر خوفزدگی کی حالت طاری ہوگئی قال خذھا ولا تخف اللہ نے فرمایا ، اے موسیٰ ! اس کو پکڑ لو اور خوف نہ کھائو۔ یہاں پر اشکال پیدا ہوتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو تو اللہ نے نبوت و رسالت عطا فرمائی تھی اور خوف کھانا تو بنی کی شان نہیں ، پھر یہ کیسے ہوا۔ مفسرین کرام اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ یہ خوف عقلی اور عقیدے کے اعتبار سے نہیں تھا ، بلکہ طبعی خوف تھا۔ اور طبعی لوازمات تمام انبیاء میں پائے جاتے ہیں جو کہ منصب نبوت کے منافی نہیں موت وحیات ، بیماری اور تندرستی ، کھانا پینا ، رونا ہنسنا ، خوشی اور غمی اور اسی ترح خوف و دہشت طبعی امور ہیں جو تمام انسانوں بشمول ابنیاد پر وارد ہوتے رہتے ہیں۔ مطلب یہ کو موسیٰ (علیہ السلام) کی سانپ کو دیکھ کر خوفزدگی نبوت کے منافی اسر نہیں تھا۔ مفسر قرآن مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) اپنی تفسیر ” بیان القرآن “ میں فرماتے ہیں کہ خوف دواطراف سے ہوتا ہے۔ اگر یہ خوف مخلوق کی طرف سے ہو تو اللہ کا نبی خوفزدہ نہیں ہوتا ، اور اگر یہی خوف اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہو تو اللہ کا نبی بھی خوفزدہ ہوجاتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقع قرآن میں موجود ہے۔ نمرود کے حکم پر آپ کو برہنہ کرکے اور اچھی طرح جکڑ کر آگ میں پھینکا گیا۔ مگر آپ پر خوف طاری نہ ہوا کیونکہ یہ کاروائی مخلوق کی طرف سے کی گئی تھی۔ ہاں ! اگر خوف والی بات اللہ کی طرف سے ہو تو پھر اللہ کے نبی بھی ڈر جاتے ہیں کہ کہیں اس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے قہر کا نزول نہ ہو۔ حدیث شریف (مسلم ص 95 ج 1 (فیاض) میں آتا ہے کہ جب کالی گھٹائیں چھا جاتی یا تیز بارش آتی تو حضور ﷺ بےچین ہوجاتے اور اس بےچینی کی وجہ سے کبھی اندر جاتے اور کبھی باہر تشریف لاتے ۔ حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا ، حضور ! لوگ بادت دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ ان کے ذریعے باران رحمت ہوگی مگر آپ پر غم وخوف طاری ہوجاتا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے ؟ فرمایا ، عائشہ ؓ ! میں اس بات سے خوف کھاتا ہوں کہ یہ بادل ایسا ہی نہ ہو۔ جیسا قوم عاد پر اٹھا تھا ۔ قحط سالی کے دوران کالی گھٹائیں دیکھ کر وہ بھی بڑے خوش ہوئے تھے کہ اب بارش آئے گی ، زمین میں ہر یالی آئے گی ، ان کی فصلیں اور درخت بار آور ہوں گے اور قحط سالی دور ہوجائے گی ، مگر اللہ نے پانی کی بجائے ان بادلوں کے ذریعے آگ برسا کر اس قوم کو بھسم کردیا تھا۔ فرمایا ، بادل دیکھ کر مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں یہ بھی رحمت کی بجائے زحمت کے بادل نہ ہوں۔ بہرحال لاٹھی کو سانپ میں تبدیل کردینا چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا۔ اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) پر خوفزدگی کی حالت طاری ہوگئی ، تو اللہ نے فرمایا ، موسیٰ ! ڈرو نہیں بلکہ اسے پکڑ لو۔ یہ سانپ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ مفسرین کرام یہ بھی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں موسیٰ (علیہ السلام) نے سانپ کو پکڑنے کی کوشش کی مگر ہاتھ پر کپڑا لپیٹ لیا کہ کہیں یہ ڈس نہ دے ، مگر اللہ نے فرمایا کہ اس کو بلاخوف پکڑ لو سنعیدھا سیرتھا الاولی ہم اس ساپ کو اپنی اصلی حالت پر لوٹا دیں گے ۔ چناچہ جونہی موسیٰ (علیہ السلام) نے سانپ کے جبڑے میں اپنا ہاتھ ڈالا ، وہ فوراً لاٹھی بن گیا۔ اب وہ سانپ نہیں تھا بلکہ وہی دوشاخہ لاٹھی تھی جو اکثر موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ میں ہوتی تھی گویا یہ پہلی نشانی یا معجزہ تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوا۔ یدبیضا : اب اللہ تعالیٰ نے دوسری نشانی کے لئے فرمایا واضمم یدک الی جناحک اپنے ہاتھ کو اپنے بازو کے اندر یعنی بغل میں رکھو تخرج بیضاء پھر اسے نکالو گے تو یہ بالکل سفید اور روشن ہوگا۔ سورج کی طرح چمکدار ہوگا من غیر سوء فرمایا اس کی یہ حالت بغیر کسی عیب کے ہوگی۔ مطلب یہ کہ تمہارا ہاتھ اس طرح سفید نہیں ہوگا۔ جس طرح برص کے مریض کے جسم کا بعض حصہ سفید ہوجاتا ہے یہ تو بیماری ہے جس کا علاج نہ تو قدیم زمانے کے یونانی اطباء کرسکے اور نہ آج کے ماہر ڈاکٹر اس میں کامیاب ہوئے ہیں۔ فرمایا اس قسم کی بیماری والی سفیدی نہیں بلکہ تمہارا ہاتھ سورج کی سی چمک دمک کا حامل ہوگا۔ ایۃ اخری یہ تمہاری نبوت و رسالت کی دوسری نشانی ہے۔ فرمایا ، اللہ نے یہ دو نشانیاں تمہیں خاص طور پر عطا فرمائی ہیں لنریک من ایتنا الکبری تاکہ م دکھائیں تمہیں اپنی بڑی نشانیوں میں سے بعض۔ یہاں پر من تبعیضیہ ہے۔ یعنی ہم تمہیں جو بڑی بڑی نشانیاں دکھلانا چاہتے ہیں۔ ان میں سے دو یہ ہیں گویا عصا کا سانپ بن جانا یا یدبیضا کا ظاہر ہونا اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ اور یہ کسی انسان کا کام نہیں۔ جادوگر اس قسم کے شعبدے دکھاتے ہیں۔ مگر ان کی حقیقت تبدیل نہیں ہوتی ، بلکہ محض نظر بندی کی وجہ سے کسی چیز کی ماہیت تبدیل شدہ نظر آتی ہے۔ یہ محض ہاتھ کی صفائی ہوتی ہے وگرنہ حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔ اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی کی ماہیت کو سانپ میں تبدیل کردیا تھا۔ فرعون کے لئے تبلیغ : یہ دو نشانیاں عطا کرنے سے موسیٰ (علیہ السلام) کی خوفزدگی دور ہوگئی۔ اب اللہ نے حکم دیا اذھب الی فرعون فرعون کے پاس جائو انہ طغی کیونکہ وہ سرکش ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت رسالت عطا کرنے کے بعد پہلا حکم یہ دیا کہ فرعون کے پاس جا کر حق تبلیغ ادا کرو اس کے سامنے اللہ کی توحید بیان کرو اور اسے ایمان لانے کی دعوت دو ۔ اس واقعہ کو مختلف سورتوں میں مختلف عنوانات کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ آگے آرہا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بھی فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا۔ یہاں پر اللہ نے بنیادی طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز فرمایا ، پھر ان کی درخواست پر ہارون (علیہ السلام) کو بھی معاون کے طور پر ساتھ جانے کا حکم دیا۔