Ayahs 20:124–128ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کی حقیقت بیان کرنے کے بعد معاد کا مسلہ بیان فرمایا ، اور اس سلسلے میں آدم (علیہ السلام) کی تخلیق اور ان کی انابت کا ذکر ہو۔ ابلیس کے انکار اور اس کی سرکشی کا بیان ہوا۔ آدم (علیہ السلام) کو جنت میں ملنے والی سہولتیں شیطان کے وسوسہ اندازی کے نتیجے میں چھین لی گئیں اور دونوں میاں بیوی کو زمین پر اترنے کا حکم ہوا۔ اللہ نے ساتھ ساتھ یہ بھی بتلا دیا کہ تم میں سے بعض ایک دوسرے کے دشمن ہوگے۔ نوع انسانی کے لئے ایک مقررہ وقت یعنی قیامت تک کے لئے زمین پر رہائش پذیر ہونا ہوگا۔
اس غلطی پر آدم (علیہ السلام) سخت نادم ہوئے۔ انہوں نے گڑگڑا کر اللہ سے معافی مانگی تو اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی ، ان کو برگزیدہ بنایا اور پھر ان کو راستہ دکھایا۔ اب اس جنت کے مقام تک پہنچنے کی صورت یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت آئے ، اس کے پیغمبر آئیں اور کتابیں نازل ہوں ، تو جو کوئی اس ہدایت کی پیروی کرے گا وہ گمراہ نہیں ہوگا ، اور پھر آخرت میں جنت کے مقام تک پہنچنے میں کوئی مشقت بھی نہیں اٹھائے گا۔
ذکر الٰہی سے اعراض :
اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری ضروری بات کا ذکر کیا ہے ومن اعرض عن ذکری جس نے میری یاد سے روگردانی کی۔ ذکر سے مراد یا بھی ہے اور نصیحت بھی۔ پہلے گزر چکا ہے کہ قرآن پاک اور دیگر کتب سماویہ اور صحائف نصیحت نامے اس وقت کے لوگوں کے لئے باعث فوز و فلاح تھے۔ قرآن پاک کے متعلق خاص طور پر اللہ نے فرمایا وقد اتینک من لدنا ذکرا۔ ہم نے اپنی طرف سے آپ کو ا کی ذکر یعنی نصیحت نامہ عطا کیا ہے۔ جہاں تک خدا تعالیٰ کی یاد سے غفلت کا تعلق ہے تو یاد بھی جبھی ہوگی ۔ جب اس پر ایمان لائیں گے اور ایمان لانے کا ذریعہ بھی وحی الٰہی یعنی قرآن پاک ہے۔ تو فرمایا جس نے اعراض کیا میری یاد سے یا میرے نصیحت نامے سے فان لہ معیشۃ ضنکا تو اس کے لئے تنگی والا گزران ہوگا۔
تنگی معیشت کی توجیہات :
آیت ہذا کا ظاہری مفہوم تو یہی ہے کہ جو آدمی اللہ تعالیٰ کے احکام سے روگردانی کرے گا۔ اس کی معیشت تنگ ہوجائیگی اور وہ دنیا میں عسرت کی زندگی بسر کریگا۔ مگر ہم دنیا میں دیکھ رہے ہیں کہ اللہ کے بڑے بڑے نافرمان اور سرکش لوگ اور حکومتیں بڑی آسودہ حال ہیں اور یہ لوگ نہایت عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ برخلاف اس کے حضور ﷺ کا (موارد الظمان ص 180 وابن ماجہ ص 291 وترمذی ص 346 (فیاض) فرمان ہے اشد البلاء الانبیاء دنیا میں سب سے زیادہ مصائب انبیاء (علیہم السلام) پر آتے ہیں۔ گویا اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزاروں اور مقربین کے لئے اس دنیا کی معیشت زیادہ تنگ ہے۔ اس اشکال کے پیش نظر مفسرین کرام نے اس آیت کریمہ کے تین توجیہات بیان کی ہیں۔
(1) بےاطمینانی :
فرماتے ہیں کہ اس مقام پر معیشت کی تنگی سے مراد عسرت کی زندگی نہیں بلکہ بےاطمینانی اور بےسکونی مراد ہے اور آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص قوم یا ملک اللہ کی یاد اور اس کے نصیحت نامے سے اعراض کرے گا۔ اس کو اطمینان اور سکون نصیب نہیں ہوگا خواہ اس کے پاس آرام و راحت کے کتنے ہی سامان کیوں نہ موجود ہوں۔ چناچہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ حکمران ہوں یا امرا ، سرمایہ دار ہو یا کارخانہ دار ، دولت مند ہو یا لینڈلارڈ ان کے ہاں سکھ اور چین ہمیشہ مفقود رہتا ہے ، ایسے لوگ ہر وقت پریشان اور مضطرب رہتے ہیں۔ کیونکہ اطمینان قلب اور سکون کے لئے تو اللہ کی یاد کی ضرورت ہے جو ان کو نصیب نہیں ہوتی۔ اللہ کا فرمان ہے الا بذکر…………القلوب (الرعد 28) دل کی تسکین تو ذکر الٰہی سے ہوتی ہے۔ اگر کسی کے پاس سونے کے پہاڑ بھی ہوں تو ان سے اطمینان قلب نہیں خرید جاسکتا ، اسی لئے ان کی زندگی کو تنگی سے موسوم کیا گیا ہے۔ اطمینان اور سکون والی حیات طیبہ کا نسخہ اللہ تعالیٰ نے سورة النحل میں بیان فرمایا ہے من عمل صالحا من ذکر اوانثی وھو ممومن فلنحیینہ حیوۃ طیبۃ جس شخص نے ایمان لانے کے بعد نیک اعمال انجام دیے ہم اسے پاکیزہ زندگی عطا کرتے ہیں جس میں اسے سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ برخلاف اس کے ذکر الٰہی سے اعراض کرنے والوں کے حصے میں حیات خبیثہ آتی ہے۔ جس میں برائیاں ہی برائیاں ہوتی ہیں۔ حرص اور لالچ ہوتا ہے جو ان کے دل و دماغ پر مسلط ہو کر انہیں بےسکونی کی زندگی گزارنے پر مجبور کرتا رہتا ہے۔ جو شخص نہ حقوق ادا کرتا ہے اور نہ فرائض ، اسے اطمینان قلب کیسے حاصل ہوسکتا ہے ؟ اسی لئے فرمایا کہ میری یاد سے منہ موڑنے والوں کی معیشت تنگ کردی جائے گی۔ یہ پہلی توجیہہ ہے۔
(2) معصیت کی زندگی :
مفسرین کرام معیشت کی تنگی کی دوسری توجیہہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ذکر الٰہی سے اعراض کرنے والے معصیت کی زندگی بسر کریں گے۔ ان کی فکر فاسد اور عقیدہ بگڑا ہوا ہوگا۔ اخلاق خراب اور اعمال قبیح ہوں گے۔ ایسے لوگوں کا نیکی میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اس لئے یہ معصیت کی ندگی گزاریں گے اور معیشت تنگ ہوجانے سے یہی مراد ہے۔
(3) برزخ کی زندگی :
مفسرین کرام کا ایک طبقہ منجملہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ، ابو سعید خذری ؓ ، ابوہریرہ ؓ وغیرہم فرماتے ہیں کہ معیشت کی تنگی سے مراد برزخ کی زندگی کی تنگی ہے اس دنیا کی زندگی تو کسی نہ کسی طرح کٹ جائے گی ، لیکن درمیان میں برزخ یعنی قبر کی زندگی بھی درپیش ہے۔ اس زندگی کا کچھ نمونہ حضور ﷺ نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ بعض آدمیوں کی قبر اس قدر تنگ ہوجائے گی کہ وہ اس شخص کو اتنا دبوچے گی کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں داخل ہوجائیں گی۔ اور بعض کے متعلق فرمایا کہ ان پر ننانوے سانپ مسلط کردیئے جائیں گے جو صاحب قر کو ہر وقت ڈستے رہیں گے ۔ کہیں بچھوئوں کا ذکر بھی آتا ہے کہیں یہ بھی فرمایا کہ نافرمانوں پر ہتھوڑا بردار فرشتے مسلط کردیئے جائیں گے ، ان کے پاس اتنے زبردست ہتھوڑے ہوں گے کہ اگر کسی پہاڑ پر مار دیا جائے تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہوجائے۔ فرمایا کہ ذکر الٰہی سے اعراض کرنے والوں کو اتنی سخت سزا دی جائے گی۔ اس کو معیشت کی تنگی سے تعبیر کیا گیا ہے۔
اس کے برخلاف اہل ایمان اور ذکر الٰہی سے شغف رکھنے والوں کے قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوگی۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ نیک آدمی کی قبر ستر ستر ہاتھ کشادہ ہوجائے گی ، جنت کی طرف سے اس میں کھڑکی کھل جائے گی۔ جس کے ذریعے جنت کی خوشبو آنے لگے گی اور اس شخص کے نیک اعمال بہترین شکل میں متشکل ہو کر اس کے سامنے آئیں گے ، یہ اس کی برزخ کی حیات طیبہ ہوگی ، قبر میں اس کی پاس فرشتے بھی آئیں گے ، مگر انہیں کسی قسم کی وحشت نہیں ہوگی کیونکہ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ لا الہ الا اللہ کہنے والے کسی شخص پر وحشت نہیں ہوگی۔
آخرت میں بدترین سلوک :
جب برزخ کی زندگی ختم ہوجائے گی تو آخرت کی منزل آئے گی۔ اس منزل میں اللہ نے اعراض کرنے والوں کا حال اس طرح بیان فرمایا ہے ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی قیامت کے دن ایسے شخص کو ہم اندھا کرکے اٹھائیں گے۔ یہ اندھا پن ایک خاص وقت تک کے لئے بطور سزا ہوگا اور جب حساب کتاب کا وقت آئے گا تو بینائی واپس کردی جائے گی بہرحال ایسے لوگوں کو اندھا پن کی یہ ذلت ورسوائی برداشت کرنا پڑے گی۔ قال رب لم حشرتنی اعمی وقد کنت بصیرا وہ کہے گا اے میرے پروردگار تو نے کیوں اٹھایا مجھے اندھا اور بیشک میں تو دیکھنے والا تھا قال کذلک اتتک ایتنا فنسیتھا وکذلک الیوم تنسی اللہ تعالیٰ فرمائے گا اسی طریقے سے آئیں تیرے پاس ہمارے آیتیں پس تو نے ان کو فراموش کردیا اور اسی طرح آج کے دن تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ کیا جائے گا وکذلک نجزی من اسرف ولم یومن بایت ربہ اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں اس کو جو اسراف کرتا ہے اور اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ ایمان نہیں لاتا اور پھر حساب کتاب کے بعد فرمایا ولعذاب الاخرۃ اشد وابقی ذکر الٰہی سے اعراض کرنے والے کے لئے آخرت کا عذاب شدید اور دیرپا ہوگا۔ ایسے شخص کو جو سزا برزخی زندگی میں ملی یا حشر کے دن اٹھتے وقت ملی وہ اس کے جرائم کے مقابلے میں ناکافی تھی ، لہٰذا آخرت کی سخت اور دائمی سزا میں بھی مبتلا ہوگا۔ اللہ نے یہ انجام بھی بیان فرمادیا۔
مقامات عبرت :
فرمایا : افلم یھدلھم کم اھلکنا قبلھم من القرون کیا ان لوگوں کے لئے یہ بات واضح نہیں ہوئی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی قوموں کو ہلاک کیا۔ نزول قرآن کے زمانے کے لوگ ہوں یا بعد والے ، سب کے لئے ایک ہی حکم ہے۔ جب انہوں نے ظلم ، زیادتی اور نافرمانی کو شعار بنالیا تو اللہ نے فرمایا کہ ہم انہیں ہلاک کرکے نیست ونابود کردیا۔ آج ان کی حالت یہ ہے یمشون فی مسکینھم لوگ ان کے مسکنوں پر سے گزرتے ہیں۔ دنیا کی بڑی بڑی تہذیبوں کے شہر اب کھنڈرات میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ لوگ قدیم مصری ، یونانی ، ایرانی ، بابلی ، کلدانی ، گندھارا ، ہڑپہ وغیرہ کے لوگوں کی تباہ حال بستیوں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں کہ کبھی یہ لوگ بھی دنیا میں برسراقتدار تھے۔ ان کے علم ، فن اور ہنر کا طوطی بولتا تھا مگر آج ان کا نام لیوا بھی کوئی نہیں ہے۔ یہ عبرت کے مقامات میں جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے۔ فرمایا ، یادرکھو ! ان فی ذلک لایت لاولی النھی ان باقیات میں عقلند لوگوں کے لئے نشانیاں اور دلائل ہیں۔ ان کو دیکھ کر اہل خردسمجھ جاتے ہیں کہ نافرمانی ، غرور اور تکبر کا نتیجہ ہمیشہ برا ہوتا ہے اور اس سے بچنا چاہیے۔ اس کی بجائے اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لانا چاہیے ، اس کی اطاعت کو شعار بنانا چاہیے۔ اس کے بھیجے ہوئے پیغمبروں پر ایمان لانا چاہیے اور اس کے ارسال کردہ نصیحت نامے کو دستور العمل کے طور پر قبول کرلینا چاہیے۔ اسی میں حیات طیبہ پاجانے کا راز ہے اور اسی میں انسانیت کی فلاح ہے۔
Ayahs 20:129–130ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ذکر اور نصیحت سے اعراض کرنے والوں کا انجام بیان فرمایا تھا۔ ایک تو ان کی معیشت تنگ ہوجائے گی ، یعنی وہ سکون اور اطمینان سے محروم ہوجائیں گے اور ان کی قبر کی زندگی بھی بڑی تنگی میں گزرے گی۔ اور دوسری بات یہ کہ جب حشر میں اٹھیں گے تو اندھے ہوں گے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نصیحت کے طور پر سابقہ قوموں کی ہلاکت اور بربادی کا حال بھی بیان فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ ان واقعات میں صاحب عقل لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ دراصل یہ آیات سورة ہذا کی ابتدائی آیات کے ساتھ مربوط ہیں وہاں بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ قرآن آپ کو مشقت میں ڈالنے کے لئے نہیں نازل کیا گیا ، بلکہ الا تذکرۃ لمن یخشی (آیت 3) یہ تو ایک نصیحت نامہ ہے اس شخص کے لئے جو ڈر گیا۔
اس سورة مبارکہ کا بیشتر حصہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور دوسری طرف فرعون اور اس کے حواریوں کے حالات پر مشتمل ہے۔ درحقیقت یہ واقعات بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو تسلی دلائی ہے کہ دیکھو ! اللہ کے پہلے نبیوں کو کس قدر تکالیف آئیں مگر وہ اپنے مشن پر قائم رہے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں کامیابی عطا فرمائی۔ اسی طرح آپ کو اور آپ کے صحابہ ؓ کو بھی بڑے مشکل حالات سے گزرنا پڑرہا ہے مگر بالآخر کامیابی آپ کی ہوگی۔ مشکلات کے یہ سارے بادل چھٹ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ آپ کو دنیوی اور اخروی فلاح نصیب کریگا۔
قانون امہال و تدریج :
آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کے نافرمانوں کی ہلاکت وتباہی تو یقینی ہے مگر اللہ تعالیٰ ان کو خاص وقت تک مہلت بھی دیتا ہے تاکہ لوگ توبہ کرکے معصیت سے باز آجائیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا قانون امہال و تدریج ہے۔ سنستدرجھم (اعراف 182) ان کو بتدریج پکڑیں گے۔ واملی…………متین (اعراف 183) میں ان کو مہلت دیتا ہوں۔ بیشک میری تدبیر مضبوط ہے اگر اللہ کا قانون امہال و تدریج نہ ہوتا تو یہ لوگ فوری طور پر سزا کے مستحق ہوجاتے مگر اللہ کا یہ طے شدہ قانون ہے کہ وہ مجرموں کو مہلت دیتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ولو لاکملۃ سبقت من ربک اگر تیرے پروردگار کی طرف سے یہ بات پہلے سے طے شدہ نہ ہوتی ، اور طے شدہ بات یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے قانون امہال و تدریج کے ذریعے نافرمانوں کو مہلت دیتا ہے اگر یہ بات نہ ہوتی لکان لزاما تو افراد اور قوموں کی ہلاکت لازم ہوجاتی اور دوسری یہ کہ واجل مسمی کو ہر کام کے لئے ایک وقت مقرر ہے ۔ ہر شخص اور قوم کے عروج وزوال کا وقت مقرر ہے۔ مجرموں کی سزا صالحین کی جزا کا وقت مقرر ہے ، پیدائش اور موت کا وقت مقرر ہے۔ جس طرح ہر انسان کی انفرادی طور پر عمر مقرر ہے اسی طرح بحیثیت مجموعی قوموں کی عمر بھی مقرر ہوتی ہے۔ طو فرمایا اگر خدا تعالیٰ کا قانون امہال و تدریج اور ہر کام کا مقرر وقت نہ ہوتا تو افراد اور قوموں کی ہلاکت لازم ہوجاتی۔
صبر کی تلقین :
آگے تسلی کے مضمون کے طور پر حضور ﷺ سے خطاب ہے کہ اگر کفار ومشرکین آپ کو تکلیفیں پہنچاتے ہیں طعن وتشنیع کرتے ہیں تو آپ دل برداشتہ نہ ہوں بلکہ فاصبر علی مایقولون جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں آپ اس پر صبر کریں۔ مشرک اور کافر لوگ اہل ایمان پر طعن کرتے تھے۔ ان کے دین کو برا بھلا کہتے تھے اور جسمانی تکلیفیں بھی پہنچاتے تھے ، تو اللہ نے فرمایا کہ آپ اس کے جواب میں صبر کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھیں۔
صبر بہت بڑی حقیقت اور ملت ابراہیمیہ کا اہم ترین اصول ہے ۔ جس طرح توحید ، شکر ، ذکر ، تعظیم شعائر اللہ وغیرہ ملت ابراہیمیہ کے اصول ہیں ، اسی طرح صبر بھی ایک اصول ہے۔ ہر تکلیف کے مقابلے میں صبر کرنا پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر مشکل وقت میں نماز اور صبر سے استعانت حاصل کرنے کی تلقین کی ہے ، اور واضح طور پر فرمایا ہے ان اللہ مع الصبرین (البقرہ 153) اللہ تعالیٰ ہمیشہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ تو یہاں پر بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دشمن کی ایذا رسانیوں اور طعنہ زنی پر آپ صبر کا دامن تھامے رکھیں۔
قرآن میں صلوٰۃ خمسہ کا ذکر :
فرمایا مصائب وآلام کے مقابلے میں ایک تو صبر کریں اور دوسرا کام وسبح بحمد ربک اپنے پروردگار کی تسبیح بیان کریں اس کی تعریف کے ساتھ ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس تسبیح وتحمید سے مراد نماز کا التزام ہے کیونکہ نماز تسبیح وتحمید اور مناجات سے ہی عبارت ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی کئی آیات میں صلوٰت خمسہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ مفسر قرآن فرماتے ہیں کہ سورة بنی اسرائیل کی آیت اقم الصلوٰۃ لدلوک الشمس الی غسق الیل وقران الفجر۔ میں پانچوں نمازوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ سورج کے ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی کے عرصہ میں چار نمازیں ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء آجاتی ہیں جب کہ قرآن الفجر میں فجر کی نماز کا بیان ہے۔ تو اس طرح گویا پانچوں نمازوں کا ذکر اس ایک آیت میں آگیا ہے۔ اور پھر حافظوا………………الوسطی (البقرہ 238) تمام نمازوں اور خاص طور پر نماز عصر کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی طرح بعض مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اوقات کا ذکر اور تسبیح وتحمید کا ذکر کرکے بھی نماز کی ادائیگی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ کیونکہ نماز کی ابتداء ہی تسبیح وتحمید سے ہوتی ہے۔ سبحانک اللھم وبحمدک…الخ اس آیت کریمہ میں بھی تسبیح وتحمید کے عنوان سے پانچوں نمازوں کے اوقات کا تعین کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ، اپنے پروردگار کی تسبیح و تنزیہہ بیان کرو قبل طلوع الشمس سورج کے طلوع ہونے سے پہلے۔ ظاہر ہے کہ اس سے فجر کی نماز مراد ہے کیونکہ طلوع شمس سے پہلے یہی نماز ادا کی جاتی ہے۔ پھر فرمایا وقبل غروبھا سورج کے غروب سے پہلے اللہ کی تسبیح وتحمید بیان کرو یعنی نماز پڑھو ، اور یہ وقت نماز عصر کا ہے یہ دو نمازوں کا ذکر ہوگیا ، جو کہ بڑی اہم نمازیں ہیں۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ اللہ کا دیدار ایمان والوں کو نصیب ہوگا۔ اور اس کا سب سے قوی ذریعہ فجر اور عصر کی نمازیں ہیں ، لہٰذا کوشش کرنی چاہیے کہ یہ دونوں نمازیں کسی طرح فوت نہ ہونے پائیں۔ صبح کے وقت نیند کا غلبہ ہوتا ہے اور نماز کے فوت ہوجانے کا خطرہ۔ اور عصر کا وقت کاروبار کا وقت ہوتا ہے اور اس مصروفیت کی وجہ سے نماز رہ جاتی ہے ، لہٰذا ان دونوں نمازوں کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ ایک روایت (بخاری ص 81 ج 1 (فیاض) میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں من صلی البردین دخل الجنۃ ان نمازوں کو صحیح طور پر بروقت ادا کرنے والے جنت کے مستحق ہوجائیں گے۔
آگے فرمایا ومن انای الیل فسبح اور رات کی گھڑیوں میں بھی اللہ کی تسبیح بیان کرو ، یعنی نماز پڑھو۔ اور یہ عشاء کی نماز ہے جسے عربی میں عتمہ بھی کہتے ہیں۔ جب مغرب کا وقت ختم ہوجاتا ہے تو عشاء کا وقت شروع ہوجاتا ہے ، رات کی نمازوں میں تہجد کی نماز بھی آتی ہے مگر وہ نفلی نماز ہے جس کا ذکر سورة بنی اسرائیل میں اس طرح آیا ہے ومن الیل فتھجد بہ نافلۃ لک بہرحال اس مقام پر انای الیل سے عشاء کی نماز مراد ہے جو کہ فرض ہے۔ یہ تین نمازیں ہوگئیں۔
پھر فرمایا و اطراف النھار اور دن کی دونوں اطراف میں بھی تسبیح وتحمید کرو یعنی نماز پڑھو۔ ظاہر ہے کہ دن کے ابتدائی نصف کے اختتام پر ظہر کا وقت ہوتا ہے اور دوسرے نصف کے اختتام پر مغرب کی نماز کا وقت ہوجاتا ہے۔ تو گویا اطراف النہار سے ظہر اور مغرب کی نمازیں مراد ہیں۔ اس طرح گویا اس ایک آیت میں پانچوں نمازوں کا ذکر آگیا ہے۔ صحیحین کی روایت (مسلم ص 36 ج 1 (فیاض) میں فرضیت نماز کے متعلق آتا ہے۔ ان اللہ افترض علیکم خمس صلوٰۃ فی یوم ولیلۃ اللہ تعالیٰ نے تم پر شب وروز میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ چناچہ اس آیت میں انہی صلوٰت خمسہ کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے۔
شریعت کے چار ۔۔۔۔ :
چکڑالوی اور پرویز جیسے منکرین حدیث ہر چیز کا ثبوت قرآن پاک سے طلب کرتے ہیں حالانکہ ان کا یہ مطالبہ سراسر باطل ہے کیونکہ شریعت مطہرہ کا ماخذ صرف قرآن نہیں بلکہ فقہائے کرام نے اس کے چار ماخذ بیان کیے ہیں یعنی قرآن ، سنت ، اجماع اور قیاس ۔ پانچ نمازوں کے متعلق قرآن پاک سے صرف مذکورہ اشارات ملتے ہیں جب کہ مکمل تصریح سنت رسول سے حاصل ہوتی ہے ، لہٰذا یہ کہنا کہ قرآن میں پانچ نمازوں کی صراحت موجود نہیں ہے ، قابل قبول نظریہ نہیں ہے۔ بہرحال شریعت کا کوئی مسئلہ ان چاروں ماخذوں میں سے کسی ایک سے بھی ثابت ہوجائے تو وہ ہمارے لئے حجت ہوگا۔ اگر کوئی چیز ان ماخذوں میں سے کسی ایک سے بھی پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی تو پھر وہ خلاف دین سمجھی جائے گی۔ جو چیز قرآن پاک سے صراحتاً ثابت ہو ، وہ تو بہرصورت قابل قبول ہے۔ اور اگر کوئی چیز قرآن سے صراحتاً ثابت نہیں ہوتی مگر حضور ﷺ کے قول یا عمل سے ثابت ہوتی ہے تو وہ بھی دن کا جزو ہے اگر کوئی مسئلہ سنت سے بھی پوری طرح واضح نہیں ہوتا مگر اس پر صحابہ کا اتفاق ہے ، تو بھی ہمارے لیے عین دین ہے۔ اگر کوئی چیزان تینوں ذرائع سے پایہ ثبوت تک نہیں پہنچتی تو پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اجتہاد کا قانون بتلا دیا ہے اس قانون کے مطابق آئمہ مجتہدین اجتہاد کرتے ہیں اور مطلوبہ مسئلہ کا حل قرآن وسنت سے استنباط کرکے پیش کردیتے ہیں ، اور ایسا حل بھی امت کے لئے ایسا ہی قابل قبول اور حجت ہوتا ہے جیسے پہلے تین ذرائع سے حل ہونے والے مسائل۔ بہرحال یہ سارے ماخذ شریعت کی دلیل ہیں۔ اس کے باوجود اگر کوئی پانچوں نمازوں کا ثبوت صرف قرآن پاک سے طلب کرے تو اس کا یہ مطالبہ ہی غلط ہے اگرچہ صلوٰت خمسہ کے اشارات قرآن پاک میں بھی موجود ہیں۔
حضرت عمران ابن حصین ؓ حضور ﷺ کے جلیل القدر صحابی ہیں۔ آپ تیس سال تک ناسور اور بواسیر کی بیماری میں مبتلا رہے مگر کبھی حرف شکایت زبان پر نہیں لائے بلکہ ہمیشہ اللہ کا شکر ہی ادا کرتے رہے حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ کے فرشتے آکر ان کو سلام کرتے تھے کسی شخص نے آپ سے سوال کیا کہ مجھے فلاں مسئلہ قرآن کی رو سے بتائیں تو آپ سخت ناراض ہوگئے۔ فرمایا ، تم ہر چیز قرآن سے کیسے معلوم کرسکتے ہو فرمایا اللہ نے قرآن میں تو اصول بیان کیے ہیں۔ جس کی تشریح حضور ﷺ نے اپنے قول اور عمل سے کردی ہے اور وہی ہمارے لیے حجت ہے قرآن میں ہر چیز کی جزیات نہیں ہیں۔ بھلا بتائو تو نماز کی رکعتوں کی تعداد قرآن کی کس آیت میں ہے ، اور زکوٰۃ کا نصاب کہاں مذکور ہے ؟ یہ تو اللہ کے نبی نے بتایا ہے کہ فلاں فلاں نماز کی اتنی اتنی رکعتیں اور ہر رکعت کے ہر رکن میں فلاں فلاں کلمات پڑھتے ہیں۔ اسی طرح سونے چاندی یا بھیڑ ، بکریوں اور اونٹوں کے نصاب بھی حضور ﷺ کی سنت سے معلوم ہوئے ہیں ۔ پھر فرمایا بتلائو حج کے جملہ احکام کس سورة میں آئے ہیں۔ وہاں اصول تو موجود ہے واتموا………للہ (البقرہ 196) یعنی حج اور عمرہ اللہ کی رضا کے لئے کرو ، مگر ی کہاں لکھا ہے کہ کس تاریخ کو کس مقام پر جانا ہے اور فلاں جگہ پر کون کون سی مناجات کرنی ہے اور کون کون سا عمل بالفعل ادا کرنا ہے۔ اسی طرح حج کی جنایات کی تفصیل بھی قرآن میں موجود نہیں۔ مگر یہ سب باتیں حدیث نبوی سے معلوم ہیں ، لہٰذا یہ عین حق ہیں۔ غرضیکہ ہر معاملہ کا ثبوت قرآن پاک سے طلب کرنا کسی طور پر بھی مناسب نہیں اور نہ ایسا ثبوت مہیا کیا جاسکتا ہے۔
نماز ذریعہ رضا :
فرمایا مذکورہ اوقات میں اپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید بیان کریں یعنی نماز پڑھیں لعلک ترضی تاکہ آپ راضی ہوجائیں مطلب یہ کہ صبر اور نماز کے التزام کا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ خوش ہوجائیں گے۔ صبر کے ذریعے آپ میں برداشت کا مادہ پیدا ہوگا۔ جس کی وجہ سے آپ مصائب کا مقابلہ کرسکیں گے اور بہت سی قباحتوں سے بچ جائیں گے۔ اور نماز ادا کرنے سے روحانی طاقت پیدا ہوگی اور آپ کا تعلق باللہ درست رہیگا۔ یہ دونوں فلاح کے اصول ہیں۔ لہٰذا آپ دنیا میں بھی کامیاب رہیں گے اور آخرت میں چل کر بھی بلند مرتبہ حاصل ہوگا۔ یہ تو ان الفاظ کے عام معانی ہیں۔ اور اگر اسے حضور ﷺ کی ذات کے ساتھ مخصوص کیا جائے تو بلند مرتبے کا مطلب یہ ہوگا۔ عسیٰ………محموداً (بنی اسرائیل 79) اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود پر فائز کریگا اور آپ کو شفاعت کا مقام نصیب ہوگا۔ سورة الضحیٰ میں ہے ولسوف یعطیک ربک فترضی عنقریب اللہ تعالیٰ آپ کو اتنا دیگا کہ آپ راضی ہوجائیں گے ۔ یہ بھی شفاعت کے مقام کی طرف اشارہ ہے۔ آگے اسی رکوع میں نماز کے متعلق مزید ہدایات آرہی ہیں۔
Ayahs 20:131–132ربط آیات :
دراصل یہ ساری سورة اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کی تسلی کے لئے نازل فرمائی۔ اہل ایمان کفار ومشرکین کے ہاتھوں سخت پریشانی اور ایذا رسانی میں مبتلا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ بیان کرکے مسلمانوں کو تسلی دلائی کہ اہل ایمان کو ہمیشہ ایسے ہی حالات سے گزرنا پڑتا ہے لہٰذا آپ بددل نہ ہوں بلکہ اپنا کام کرتے رہیں ، آخری فتح تمہاری ہی ہوگی۔
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کی طرف سے دی جانے والی تکالیف پر صبر کرنے کی تلقین کی تھی۔ اور ساتھ اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس میں اللہ نے پانچوں نمازوں کا اشارتاً ذکر کرکے نماز پر مداومت اختیار کرنے کے لئے کہا تھا۔
آزمائش بذریعہ رفاہیت بالغہ :
اسلام کے ابتدائی دور میں اہل ایمان دنیوی لحاظ سے بڑی عسرت کی زندگی بسر کر رہے تھے جب کہ اللہ اور اس کے رسول کے باغی اور نافرمان لوگ عیش و آرام میں کھیل رہے تھے۔ ان کے پاس مال و دولت ، جانور ، مکان ، سواریاں سب کچھ تھا مگر اللہ کی توحید کو ماننے والے ان چیزوں سے محروم تھے اور وہ مالدار منکرین کی طرف رشک آمیز نظروں سے دیکھتے تھے۔ اللہ نے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا ولا تمدن عینیک الی ما متعنا بہ ازواجا منھم اور نہ دراز کریں آپ اپنی آنکھیں اس فائدے کی طرف جو ہم نے طرح طرح کے لوگوں کو دیا ہے۔ یعنی آپ کفار ومشرکین کو عطا کردہ دنیوی مال ومتاع کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں کیونکہ یہ چیز ان لوگوں کے حق میں فائدہ مند نہیں ہے بات کفار ومشرکین کی ہورہی ہے اور طرح طرح کے لوگوں کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین بھی کئی قسم کے لوگوں پر مشتمل تھے۔ بعض یہودی تھے۔ بعض نصاریٰ بعض بت پرست اور بعض مادہ پرست ، اسی طرح بعض مجوسی تھے۔ اور بعض ستارہ پرست۔ فرمایا ، ان میں سے کسی کو بھی آسودہ حال دیکھ کر آپ اس کی طرف رشک آمیز نظریں نہ اٹھائیں زھرۃ الحیوۃ الدنیا یہ تو محض دنیا کی رونق ہے کو کہ قلیل اور عارضی ہے اور ہم نے یہ کچھ وقت کے لئے ان کو اس لئے عطا کی ہے لنفتنھم فیہ تاکہ اس کے ذریعے ان کو آزمایا جائے کہ یہ مال ومتاع حاصل کرنے کے بعد ان میں سے کون ہے جو ہمارا شکر ادا کرتا ہے اور کون ہے جو ناشکری کا مرتکب ہوتا ہے ۔ زہرہ دراصل کسی درخت یا پھول کے شگوفے کو کہتے ہیں۔ جس میں وقتی طور پر تو بڑی شادابی اور رونق ہوتی ہے مگر یہ جلدی ہی مرجھا کر ختم ہوجاتا ہے۔ کفار ومشرکین کی رفاہیت بالغہ کو بھی اللہ نے اسی شگوفے کی مثال بیان کیا ہے کہ شگوفے کی طرح دنیا کا مال واسباب ، عیش و آرام اور تمام چیزیں جلد ہی ختم ہوجانے والی ہیں۔ انسان کے لئے کار آمد اور دیرپا چیز ایمان اور نیکی ہے اگر کسی کو یہ چیز حاصل نہیں تو پھر اس کی ساری رونق اس کے لئے باعث وبال ہے کیونکہ اس کے ذریعے ہم ان کی آزمائش کر رہے ہیں۔ فرمایا آپ ان کے جاہ و حشمت پر تعجب نہ کریں اور نہ ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھیں کہ یہ چیز ان کے حق میں مفید نہیں ہے۔
رشک کی ممانعت :
حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ کسی نافرمان ، باغی اور سرکش کی اچھی حالت دیکھ کر رشک نہیں کرنا چاہیے اور نہ اپنے لئے ایسی حالت کی دعا کرنی چاہیے کیونکہ اس کا آخری نتیجہ پشیمانی کی صورت میں نکلتا ہے فرمایا ، تم نہیں جانتے کہ اللہ کے ہاں ایسے لوگ کس چیز سے ملنے والے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کے محبوب نہیں بلکہ مبغوض ہیں کیونکہ یہ چیزیں ان کو آزمائش کے واسطے عطا کی ہیں اور چنددن بعد ان کے لئے نقصان کا باعث بننے والی ہیں۔ دنیا کی بڑی بڑی سلطنتوں اور جاہ واقتدار پر بھی رشک نہیں کرنا چاہیے کہ یہ بھی چنددن کی بات ہے اور پھر ان کے لئے اندھیری رات ہے۔ آخرت میں یہ چیزیں ان کے لئے سخت مضر ثابت ہوں گی۔ الل ہ کی محبوبیت کی علامت نیکی ، ایمان اور تقویٰ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر دنیا میں بھی حصہ مل گیا تو خوش بختی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اچھے لوگوں کو بھی دنیا میں سے حصہ کی مصلحت اور حکمت خدا تعالیٰ کے علاوہ کوئی مخلوق نہیں جانتی ، بہرحال اللہ تعالیٰ نے رفاہیت بالغہ کے متعلق فرمایا کہ یہ نافرمانوں کو حاصل ہے مگر ہم نے ان کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔
دیرپاروزی :
فرمایا ان نافرمانوں کا مال واسباب تو عارضی ہے اور ان کے لئے وبال جان ہے مگر یادرکھو ! ورزق ربک خیر وابقی آپ کے پروردگار کی عطا کردہ روزی بہتر اور دیرپا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ رزق ربک سے مراد حلال اور طیب روزی ہے جو اللہ تعالیٰ ایمان اور نیکی والوں کو عطا کرتا ہے وگرنہ رزق تو سب کو اللہ ہی دیتا ہے چاہے کوئی ایمان والا ہو یا باغی اور سرکش۔ فرق یہ ہے کہ نافرمانوں کی روزی عارضی اور مضر ہے جبکہ ایمان والوں کی روزی بہتر اور دیرپا ہے۔ اکثر مفسرین یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس روزی سے مراد جنت کی روزی ہے جو اہل ایمان کو وہاں حاصل ہوگی۔ اور ظاہر ہے کہ یہ روزی دنیا کی روزی کی نسبت ہزار درجے بہتر اور دائمی بھی ہوگی جو کبھی چھینی نہیں جائے گی۔
بہتر رزق کا اطلاق اس رزق پر بھی ہوتا ہے جس میں سے تمام حقوق ادا کردیئے گئے ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ثروت پر اس کے بندوں کے حقوق بھی عائد کئے ہیں۔ اگر اس نے مال کی زکوٰۃ ادا کردی ہے۔ عزیز و اقارب ، یتیموں مسکینوں اور پڑوسیوں کے حقوق ادا کردیے ہیں تو پھر باقی ماندہ روزی اس کے لئے بہترین روزی ہے جس کیا ثرات ابدالآباد تک قائم رہیں گے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے یہی کہا تھا کہ لوگو ! ماپ تول میں کمی بیشی نہ کرو۔ لوگوں کو ان کا حق پورا پورا ادا کرو۔ اور پھر بقیت……………مومنین (ھود 86) جو کچھ تمہارے پاس بچ جائے وہی تمہارے لئے بہتر ہے بشرطیکہ تم مومن ہو۔ برخلاف اس کے اگر تم ایسا مال استعمال کر رہے ہو جس دوسرے لوگوں کے حقوق بھی شامل ہیں تو پھر یہ مال تمہیں مفید نہیں ہوسکتا۔ ترمذی (ترمذی ص 337 (فیاض) اور ابن ماجہ شریف کی روایت میں آتا ہے کہ دنیا کا مال واسباب زینت اور خوشحالی دیکھ کر کوئی شخص دھوکے میں نہ آئے کیونکہ یہ تو نری آزمائش ہے۔ لوکانت الدنیا تعدل عنداللہ جناح بعوضۃ ماسقی کافرا منھا شریۃ ماء اگر خدا تعالیٰ کے ہاں دنیا کی قدرومنزلت مچھر کے ایک پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نصیب نہ کرتا۔ مطلب یہ کہ دنیا کی حقیقت تو مچھر کے پر سے بھی تر ہے۔ سورة النساء میں اللہ کا فرمان ہے قل متاع الدنیا قلیل (آیت 77) آپ لوگوں کو بتادیں کہ دنیا کا مال ومتاع تو بالکل قلیل ہے اور دنیا کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گا ، لہٰذا اس سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔
نماز کی پابندی :
اگلی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے نماز جیسی اہم عبادت کی پابندی کا حکم دیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ وامراھلک بالصلوٰۃ آپ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اہل کا اطلاق نہ صرف بیوی بچوں پر ہوتا ہے بلکہ دیگر تمام لواحقین ، خویش و اقارب اور ماتحت بھی اس تعریف میں آتے ہیں ، سب کو نماز کی تلقین کرنے اور اس پر مداومت اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ جب بچہ سات سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اس کا وضو کا طریقہ بتلائو ، نماز سکھائو اور پھر اسے نماز کے لئے کھڑا کرو ، جب بچہ دس سال کا ہوجائے تو اسے سزاد دے کر بھی نماز کا پابند بنائو۔ اس کی نگرانی اس کی بلوغت تک جاری رہنی چاہیے اس کے بعد وہ اس حکم کا خود جوابدہ ہوجائے گا۔
فرمایا ، نماز کے لئے نہ صرف اپنے متعلقین کو حکم دیں ، بلکہ واصطبر علیھا خود بھی اس پر کار بند رہیں۔ نماز کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے تعلق استوار ہوتا ہے اور یہ تعلق جس قدر مستحکم ہوگا۔ اسی قدر انجام کے لحاظ سے بہتر ہوگا۔ نماز کا اثر اور اجر دونوں دیرپا ہیں۔ صبح کی دو سنت کے متعلق حضور ﷺ (مسلم ص 251 ج 1) کا ارشاد مبارک ہے رکعتا الفجر خیرمن الدنیا وما فیھا یہ دو رکعتیں پوری دنیا اور اس کے سازوسامان سے بہتر ہیں ۔ ظاہر ہے کہ دنیا تو فانی ہے ، اس نے ایک نہ ایک دن ختم ہوجانا ہے مگر نماز کا اجرو ثواب ابدی ہے اور یہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ فجر کے فرائض سے پہلے ان سنتوں کو اہتمام کے ساتھ ادا کرنا چاہیے ، حضور ﷺ نے ان کی بڑی فضیلت بیان کی ہے۔ خود حضور ﷺ کا عمل یہ تھا کہ اذان ختم ہوتی تو آپ فوراً دو سنتیں ادا کرلیتے اور اس کے بعد دو فرضوں کے لئے مسجد میں تشریف لے جاتے۔
نماز ایک بہت بڑی حقیقت ہے۔ یہ ام العبادات المقربہ یعنی اللہ کا قرب دلانے والی عبادات میں سے سب سے افضل عبادت نماز ہے۔ یہ اہل ایمان کا شعار ہے ۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے۔ (ترمذی ص 376 (فیاض) بین العبد وبین الکفر ترک الصلوٰۃ یعنی بندے اور کفر کے درمیان فرق صرف ترک نماز کا ہے ، جس شخص نے نماز ترک کردی ، اس نے گویا کفر میں قدم رکھ دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ واقعی کافر بنتا ہے یا نہیں مگر کفر کی طرف اس نے قدم تو ڈال دیا۔ ایمان کے بعد دوسرا سوال قیامت کے دن نماز ہی کے متعلق ہوگا۔ لہٰذا نماز کو بالالتزام ادا کرنا چاہیے۔ اسی لئے فرمایا کہ اپنے متعلقین کو بھی نماز کا حکم دیں اور خود بھی اس پر قائم رہیں۔
روزی بذمہ خدا تعالیٰ :
ہر ذی روح کی روزی کا ذمہ خود خدا تعالیٰ نے لے رکھا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے لا نسئلک رزقا ہم آپ سے روزی طلب نہیں کرتے ، بلکہ نحن نرزقک ہم آپ کو روزی دیتے ہیں۔ شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ بڑی عجیب بات ہے کہ دنیا کے آقا اپنے غلاموں سے کمائی کروا کے خود کھاتے ہیں ، مگر اللہ فرماتا ہے کہ ہمیں تمہاری کمائی کی ضرورت نہیں بلکہ تمہیں بھی روزی ہم خود دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رزق کا معاملہ کلیتاً اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہے۔ وہ اسباب مہیا کرتا ہے تو بندوں کو رزق ملتا ہے یہ نہ سمجھنا کہ کوئی کارخانہ دار ، زمیندار ، جاگیردار ، وڈیرا یا حکومت کا کوئی عہدہ دار روزی کا ذمہ دار ہے۔ یہ چیز اللہ نے مخلوق کے ہاتھ میں نہیں دی۔ آپ سورة بنی اسرائیل میں پڑھ چکے ہیں۔ قل لو………………قتورا (آیت 100) اگر روزی کا انتظام بندوں کے ہاتھ میں ہوتا تو وہ خرچ ہوجانے کے ڈر سے روک رکھتے اور لوگ بھوکوں مرنے لگتے ، انسان تو تنگ دل ہی واقع ہوا ہے اللہ نے رزق کی بہم رسانی خود اپنے قبضہ قدرت میں رکھی ہے ھوالرزاق ……المتین (الذریت 58) رازق تو خدا تعالیٰ ہے جو زبردست قوت والا ہے اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے وکاین……………وایاکم (العنکبوت 60) کتنے جانور ، پرندے ، کیڑے مکوڑے ہیں جو اپنی روزی اپنی پشت پر نہیں لادے پھرتے ، حقیقت یہ ہے کہ اللہ انہیں بھی روزی دیتا ہے ، اور تمہیں بھی۔ اسباب رزق اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں ، وہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے ، اس لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ خدا کے سوا تم جن بتوں کی پوجا کرتے ہو ، وہ تو کسی چیز کے مالک نہیں ہیں۔ وہ تمہاری روزی کا بندوبست نہیں کرسکتے۔ روزی کی بہم رسانی قبضہ خداوندی میں ہے فابتغو اعنداللہ الرزق (العنکبوت 17) لہٰذا روزی اللہ کے ہی تلاش کیا کرو۔ آج کل دنیا کی حکومتیں خوراک کے بڑے بڑے منصوبے بناتی ہیں۔ تقسیم رزق کے بڑے بڑے دعویٰ بھی کرتی ہیں مگر ان کا کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہوتا ، بلکہ لوگ مزید خرابی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ انسان کا فرض یہ ہے کہ وہ روزی کے جائز ذرائع اختیار کرے اور پھر نتیجہ خدا تعالیٰ پر چھوڑ دے۔ اللہ تعالیٰ روزی کا بندوبست خود کریگا۔ اور نماز پڑھتے رہو ، خدا تعالیٰ کا ذکر کرتے رہو تو اس کا فائدہ یہ ہوگا۔ ومن یتق…………لایحتسب (طلاق 3 , 2) خدا تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے اللہ تعالیٰ کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکال لیگا۔ اور ایسی جگہ سے روزی دیگا جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگی۔
نماز اور کسب معاش :
ایک اور بات بھی ہے کہ اگر فرض نماز اور کسب معاش میں تعارض واقع ہوجائے تو اللہ تعالیٰ نے کسب کے مقابلے میں نماز کو ترک کرنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ روزی بہم پہنچانا خدا تعالیٰ کی ذمہ داری ہے ، لہٰذا فرائض عبودیت مقدم ہیں۔ فرمایا روزی کے معاملہ میں اعتقاد کو پختہ رکھو۔ والعاقبۃ للتقوی اور یاد رکھو کہ اچھا انجام ہمیشہ پرہیزگاری کو ہی حاصل ہوگا۔ فسق ، فجور ، کفر ، شرک اور نافرمانی کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوسکتا۔ بہتر انجام توحید ، ایمان ، اخلاص اور تقوے والوں کا ہی ہوگا۔
Ayahs 20:133–135ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کے لئے تسلی کا مضمون بیان فرمایا ہے اور آپ کو جرات دلائی ہے کہ اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کے لئے حق تبلیغ ادا کرتے رہیں۔ اور مخالفوں کی مخالفت کی کچھ پروانہ کریں۔ دیکھیں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے کس طرح فرعون اور اس کی قوم کے سرکش لوگوں کے مقابلہ کیا ، کیسی کیسی تکلیفیں برداشت کیں اور بالآخر کامیاب ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے نافرمان کفار ومشرکین کی بیہودہ باتوں اور طعن وتشنیع کے مقابلے میں صبر اختیار کرنے اور نماز پر مداومت کی نصیحت کی۔ اس کے بعد اللہ نے دنیا میں نافرمان لوگوں کی رفاہیت کا ذکر کیا اور فرمایا کہ آپ نے ان کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں۔ ان کا یہ ظاہری مال واسباب ، زیب وزینت اور آسودہ حالی محض اللہ تعالیٰ آزمائش ہے۔ یہ چیزیں دے کر اللہ تعالیٰ انہیں آزمانا چاہتا ہے کہ ان میں سے کون ہے جو شکریہ ادا کرتا ہے اور کون ناشکری کا مرتکب ہوتا ہے۔ اللہ نے رزق کے متعلق یہ اصول بھی بتلادیا کہ ہر جاندار کو روزی کی فراہمی اس کی اپنی ذمہ داری ہے ، اسباب رزق وہی فراہم کرتا ہے جس سے لوگوں کی ضروریات زندگی میسر آتی ہیں۔ نیز فرمایا کہ اچھا انجام ہمیشہ متقیوں کا ہی ہوگا۔
نشانی کا مطالبہ :
اب آج کی آیات میں پہلے اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کی طرف سے ان کی من پسند نشانی کے مطالبے کا ذکر کرکے اس کا جواب دیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وقالویہ عنادی لوگ کہتے ہیں لو لا یاتینا بایۃ من ربہ۔ ہمارے پاس اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں آتی یعنی کوئی ایسی نشانی ہونی چاہیے جو ہماری پسند کی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بات کو نہ مانا تو پھر اسی قسم کے بےمعنی اعتراضات اور مطالبات پیش کیے جاتے ہیں سورة بنی اسرائیل میں گزر چکا ہے کہ اس قسم کے ضدی لوگوں نے حضور ﷺ کے سامنے مطالبہ پیش کیا تھا کہ ہمارے لئے زمین میں چشمے بہادو۔ ہمارے سامنے آسمان سے کتاب لے کر آئو ۔ تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغات ہونے چاہئیں ، تب ہم ایمان لائیں گے۔ تو یہاں بھی اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لوگوں نے مطالبہ کیا کہ ہمارے پاس ہماری مرضی کی نشانی کیوں نہیں آتی۔ اگر ہماری من پسند نشانی ظاہر ہوجائے۔ تو ہم ایمان لے آئیں گے۔
حضور ﷺ بطور نشانی :
اللہ تعالیٰ نے اس مطالبے کے جواب میں فرمایا کہ ان کا یہ مطالبہ محض نہ ماننے کا ایک بہانہ ہے۔ بھلا بتلائو تو سہی اولم تاتیھم بینۃ مافی الصحف الاولیٰ کیا ان کے پاس وہ واضح نشانی نہیں آچکی جس کا ذکر پہلے صحائف میں موجود ہے ؟ سابقہ کتب سماویہ میں جو نشانی بیان کی گئی ہے وہ حضور ﷺ کی ذات مبارکہ ہے۔ پہلی کتابوں میں موجود ہے کہ آخری زمانے میں اللہ کا ایک عظیم الشان رسول آئے گا۔ جس پر خدا تعالیٰ ایک عظیم الشان کتاب نازل فرمائے گا۔ ظاہر ہے کہ نشانی تو حضور ﷺ کی شکل میں آچکی ہے ، لہٰذا اب یہ مزید کون سی نشانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ پیشن گوئی حضرت شعیب (علیہ السلام) کے صحیفے میں بھی تھی۔ انی سابعث نبیا امیا فی الامیین یعنی میں امی قوم میں ایک امی نبی بھیجوں گا۔ تورات میں یہ بات موجود تھی کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ، اے موسیٰ ! میں تیرے بھائی بندوں میں تیرے جیسا عظیم الشان رسول بھیجوں گا۔ اور اس کے منہ میں اپنا کلام ڈالوں گا۔ بھائی بندوں سے مراد دوسرا خاندان بنی اسماعیل اور کلام ڈالنے کا مطلب قرآن پاک عطا کرنا ہے۔ اس کے علاوہ حضور ﷺ کی آمد کی پیشن گوئی انجیل ، زبور اور دوسرے صحائف میں بھی موجود تھی۔ قرآن پاک شاہد ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ میں تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ، میں تورات کا مصدق ہوں ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد (الصف 6) بہرحال اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ کون سی نشانی طلب کرتے ہیں ، کیا حضور خاتم النبیین ﷺ کی صورت میں نشانی نہیں آچکی ؟
اس کے علاوہ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ کیا یہ نبی وہی بات نہیں کرتا جو اس سے پہلے نبی کرتے آئے ہیں۔ تمام انبیاء کا دین متفقہ دین ہے ، لہٰذا نبی آخر الزمان نے بھی وہی تعلیم پیش کی جو پہلے نبی پیش کرتے رہے ہیں۔ لہٰذا دین کی حقانیت کے ثبوت کے لئے تو یہ نشانی بھی کافی ہے کہ اللہ کے آخری نبی کا دین سابقہ انبیاء کے دین سے مطابقت رکھتا ہے۔
قران بطور نشانی :
امام ابن کثیر (رح) لکھتے ہیں کہ اللہ نے جو یہ فرمایا ہے کیا ان کے پاس واضح نشانی نہیں آئی۔ تو اس نشانی سے مراد قرآن پاک ہے۔ سورة العنکبوت میں موجود ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ پر آپ کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں نازل ہوئی ، تو اللہ نے فرمایا کہ آپ کہہ دیں نشانیاں ظاہر کرنا تو اللہ کا کام ہے ، میں تو ڈرسنانے والا ہوں اور کھول کر بیان کرنے والا ہوں۔ آگے واضح نشانی کے متعلق فرمایا اولم یکفھم……………علیھم (آیت 51) کیا ان کے لئے یہ نشانی کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ کی طرف ایک کتاب یعنی قرآن نازل فرمایا ہے جو ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے۔ ان فی ذلک لرحمۃ وذکری لقوم یومنون بیشک اس کتاب میں اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے اور ایمان لانے والی قوم کے لئے یادہانی ہے ۔ گویا سب نشانیوں سے بڑھ کر نشانی اللہ کی یہ کتاب ہے اس کی موجودگی میں باقی کون سی نشانی رہ جاتی ہے۔ سورة الاعلیٰ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ان ھذا لفی الصحف الاولی صحف ابرھیم وموسیٰ قرآن کی بیان کردہ باتیں تو پہلی کتابوں یعنی صحائف ابراہیم اور موسیٰ (علیہما السلام) میں بھی موجود ہیں۔ گویا قرآن پاک تمام صحیفوں کی تعلیمات کا جامع ہے۔ تو کیا قرآن پاک جیسی عظیم نشانی کے علاوہ کسی اور نشانی کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے ؟ یہ لوگ محض ضد اور عناد کی وجہ سے من پسند نشانیاں طلب کرتے ہیں۔ وگرنہ واضح نشانیاں تو موجود ہیں۔ قرآن اس لحاظ سے بھی بینہ ہے کہ یہ پہلی کتابوں کا مصدق ہے جیسے فرمایا مصدقا لما بین یدیہ وانزلنا التوراۃ والانجیل (آل عمران۔ 3) اللہ کی ذات وہ ہے جس نے قرآن پاک کو نازل فرمایا جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔
” بینہ “ وسیع تر معنوں میں :
اس آیت کریمہ میں آمدہ لفظ بینہ کا ترجمہ ہم نے واضح نشانی کیا ہے تاہم یہ لفظ کثیر المعانی ہے اور مختلف مقامات پر اس کے مختلف معانی آئے ہیں۔ مثلاً سورة بینہ میں ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین اس وقت تک کفر سے باز نہیں آئیں گے حتی تاتیھم البینۃ رسول من اللہ یتلوا صحفا مطھرۃ یہاں تک کہ ان کے پاس بینہ یعنی واضح چیز آجائے اور وہ واضح چیز یا نشانی کیا ہے ؟ اللہ کا رسول ہے جو پاکیزہ صحیفے پڑھتا ہے۔ تو اس مقام پر بینہ سے مراد حضور ﷺ کی ذات مبارکہ ہے۔ گویا آپ اس لحاظ سے بھی واضح نشانی ہیں کہ آپ قرآنی تعلیمات کا مجسم نمونہ ہیں۔
بینہ سے مراد معجزہ بھی لیا گیا ہے جیسا کہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم نے آپ سے کا یھود ما جئتنا ببینۃ (ہود 53) اے ہود ! آپ ہمارے پاس کوئی معجزہ نہیں لائے۔ آپ نے جواب دیا کہ معجزات تو آچکے ہیں مگر تم ضد اور عناد کی بناء پر ایمان نہیں لاتے۔ اسی طرح بینہ کا معنی واضح دلیل ، واضح حکم یا واضح اصول بھی ہوتا ہے سورة البقرہ میں ارشاد ہے ان الذین…………… والھدی (آیت 159) بیشک وہ لوگ جو ہماری نازل کردہ بینات اور ہدایت میں سے چھپاتے ہیں ، فرمایا ایسے لوگوں پر اللہ بھی لعنت کرتا ہے اور دوسرے لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں۔ بینات اور ہدایت میں فرق یہ ہے کہ بینات سے مراد وہ واضح چیزیں ہیں جنہیں کوئی شخص معمولی توجہ سے بھی سیکھ سکتا ہے۔ مثلاً اللہ کی توحید بڑی واضح چیز ہے جسے فطرت سلیم اور عقل سلیم رکھنے والا ہر شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے اور ہدایت وہ چیز ہے جس کو استاد کے سامن زانوئے تلمذ طے کرکے سیکھنا پڑتا ہے۔ مثلاً حلال حرام ، جائز ناجائز ، تعظیم شعائر اللہ وغیرہ ایسے مسائل ہیں جنہیں بغیر استاد کے نہیں سیکھا جاسکتا۔ سورة فتح میں ہے ۔ ھوالذی ……………ودین الحق (آیت 28) اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا۔ گویا یہ باتیں اللہ کے پیغمبر یا ان کے پیروکاروں سے سیکھنی پڑتی ہیں غرضیکہ بینہ کا اطلاق ان سب باتوں پر ہوتا ہے جن کا میں نے ذکر کردیا ہے۔
اتباع رسل کا دعویٰ :
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے ایک باطل دعویٰ کا ذکر کیا ہے ولو انا اھلکنھم بعذاب من قبلہ اگر ہم نے ان کو اس کتاب کے نزول سے پہلے ہی ہلاک کردیتے۔ ظاہر ہے کہ کتاب تو نبی پر نازل ہوئی تو مطلب یہ ہوا کہ اگر ہم انہیں نبی کی بعثت سے پہلے ہی عذاب میں مبتلا کردیتے لقالو ربنا لولا ارسلت الینا رسولا تو وہ کہتے کہ اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہماری طرف رسول کیوں نہ بھیجا فنتبع ایتک من قبل ان نذل ونخزی تاکہ ہم تیری آیتوں کا اتباع کرتے قبل اس کے کہ ہم ذلیل اور رسوا ہوجاتے اگر اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینا چاہتا تو بغیر نبی بھیجے بھی دے سکتا تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں عقل جیسا جوہر عطا کیا ہے۔ جس کے ذریعے وہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو پہچان سکتے تھے مگر اللہ نے نبی بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر اتمام حجت کردی تاکہ کسی کے پاس یہ عذر باقی نہ رہے کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ سورة النساء میں بھی ہے کہ ہم نے بشارت دینے والے اور ڈرسنانے والے رسول بھیجے لئلا یکون……………الرسل (آیت 165) تاکہ نبیوں کے آنے کے بعد کوئی عذر نہ کرسکے۔ سورة المائدۃ میں بھی ہے کہ اے اہل کتاب ہمارے رسول تمہارے پاس آچکے ہیں تاکہ تم یہ نہ کہہ سکوماجائنا ……نذیر (آیت 19) کہ ہمارے پاس کوئی بشارت دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا۔ غرضیکہ اللہ نے تمہارے پاس نبی اور رسول بھیجے ، کتابیں آئیں ، واعظ اور مبلغ پہنچے ، عقل دی ، اللہ کی پہچان کے سارے اسباب مہیا کیے تاکہ کل کو کوئی شخص یہ نہ کہہ سکے کہ اگر ہمارے پاس کوئی رسول آجاتا تو ہم ضرور ایمان لے آتے۔ فرمایا اب اتمام حجت کے بعد صورت حال یہ ہے لیھلک…………بینۃ (الانفال 41) کہ جس نے ہلاک ہونا ہے وہ واضح دلیل کے بعد ہلاک ہو ، اور جس نے زندہ رہنا ہے وہ واضح دلیل کے بعد زندہ ہے۔ غرضیکہ اللہ نے فرمایا کہ ان کا اتباع رسل کا دعویٰ باطل ہے۔ جہاں تک ان کی ذلت ورسوائی کا تعلق ہے تو جب کوئی شخص یا گروہ دنیا میں مغلوب ہوجاتا ہے تو وہ ذلت اٹھاتا ہے اور جب آخرت کے عذاب میں مبتلا ہوگا۔ تو سخت رسوائی ہوگی۔ ابدی سزا کا مستحق کافروں پر بڑی ذلت اور رسوائی ہوگی۔
نتیجے کا انتظار :
ارشاد ہوتا ہے قل اے پیغمبر ! آپ ان لوگوں سے کہہ دیں کل متربص فتربصوا ہر شخص راہ دیکھتا ہے یعنی منتظر ہے ، لہٰذا تم بھی انتظار کرو۔ فستعلمون من اصحب الصراط السوی تمہیں جلدی ہی پتہ چل جائے گا کہ سیدھے راستے پر چلنے والا کون ہے ومن اھتدی اور ہدایت یافتہ کون شخص ہے مطلب یہ ہے کہ تم اپنے طریقے پر رہ کر اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار کرو اور ہم بھی انتظار کرتے ہیں پھر دیکھنا اچھا نتیجہ کس کے حق میں نکلتا ہے۔ سورة ہود میں ہے وانتظروا انا منتظرون (آیت 122) فرمایا تم بھی انتظار کرو ، ہم بھی انتظار کرنے والے ہیں۔ میرتقی میر نے پوری زندگی کو انتظار کے ساتھ تشبیہ دی ہے ؎
بود نقش ونگار سا ہے کچھ
اور صورت ایک اعتبار سا ہے کچھ
یہ مہلت جسے کہیں ہیں عمر
دیکھو تو انتظار سا ہے کچھ
فرمایا ، آج تو مخالفت کرتے اور دین حق پر اعتراضات کرتے ہو۔ تمہیں عنقریب پتہ چل جائے گا کہ صراط مستقیم پر کون ہے اور ہدایت یافتہ کون ہے۔
اس مقام پر صرات مستقیم والا اور ہدایت یافتہ دو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں حالانکہ بظاہر ایک ہی شخص دونوں صفات سے متصف ہوتا ہے ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ جو صراط مستقیم پر ہے ، وہ ابھی راستے پر چل رہا ہے اور جس کو ہدایت یافتہ کہا گیا ہے ، وہ منزل مقصود تک پہنچ چکا ہے۔ جو شخص ابھی چل رہا ہے اس کے منزل پر پہنچنے کا پورا یقین تو نہیں ہوسکتا ، البتہ جو ہدایت یافتہ ہے وہ منزل پر پہنچ کر کامیاب ہوچکا ہے۔