20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 20:111–115

وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا Open ayah 20:111 in the Quran reader

اور پست ہوجائیں گے چہرے حی اور قیوم کے سامنے۔ اور تحقیق ناکام ہوا وہ شخص جس نے ظلم اٹھایا

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا Open ayah 20:112 in the Quran reader

اور جو شخص عمل کرے گا نیکیوں میں سے بشرطیکہ وہ ایماندار ہو ، پس نہ خوف کھائے گا وہ زیادتی کا اور نہ کسی نقصان کا

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا Open ayah 20:113 in the Quran reader

اور اسی طرح اتارا ہے ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں ، اور ہم نے اس میں پھیر پھیر کر بیان کی ہیں ڈرانے والی باتیں تاکہ یہ لوگ بچ جائیں ، یا یہ ظاہر کرے ان کے لئے نصیحت

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا Open ayah 20:114 in the Quran reader

پس بلند ہے اللہ تعالیٰ کی ذات جو بادشاہ ہے سچا ، اور (اے پیغمبر ! ) آپ جلدی نہ کریں قرآن کے ساتھ قبل اس کے کہ پوری کی جائے آپ کی طرف اس کی وحی ۔ اور آپ یوں کہیں ” اے پروردگار ! زیادہ کر میرا علم

وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ Open ayah 20:115 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق ہم نے عہد کیا آدم (علیہ السلام) کی طرف اس سے پہلے ۔ پس وہ بھول گئے اور نہ پائی ہم نے ان کے لئے پختگی

ربط آیات : یہ سورة بنیادی طور پر تسلی کے مضمون میں نازل ہوئی ہے ۔ اللہ نے حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السالم کے فرعون کے ساتھ کشمکش کا ذکر کرے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کو تسلی دی کہ آگے آنے والی مشکلات اور مصائب کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے شرک کا رد کیا۔ رسالت اور قیامت کے مسائل بیان کیے۔ اسی ضمن میں کل کی آیات میں پہاڑوں کا ذکر ہوا کہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت برپا ہونے کے بعد پہاڑوں جیسی مضبوط چیز کا کیا حال ہوگا ؟ اللہ نے اس کا جواب بھی مرحمت فرمایا کہ آج بلند وبالا اور مضبوط نظر آنے والے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور زمین بالکل ہموار ہوجائے گی۔ اس میں کوئی اونچ نیچ یا گڑھا ، کھائی باقی نہیں رہے گی۔ اس دن کسی میں بلند آواز سے بات کرنے کی ہمت نہیں ہوگی ، اور نہ ہی کوئی سفارش مفید ہوگی۔ تاوقتیکہ کہ اس کے لئے خدائے رحمن کی طرف سے اجازت ہو اور جس شخص کے لئے سفارش مطلوب ہو ، اس کی بات اللہ کو پسند ہو۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے علم محیط کا ذکر ہوا ، اور یہ واضح کردیا گیا ہے کہ کوئی مخلوق اللہ تعالیٰ کی ذات ، اس کی صفات ، اس کی مخلوقات اس کے مقدورات غرضیکہ کسی چیز کا بھی احاطہ نہیں کرسکتی۔ چہروں کی ذلت : آج کی پہلی آیت میں قیامت ہی کے ضمن میں ارشاد ہوتا ہے وعنت الوجوہ اس دن چہرے پست اور ذلیل ہوجائیں گے آج دنیا میں بڑے بڑے سرکش اور متکبر لوگ موجود ہیں مگر قیامت کے دن جب اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے تو ان کے چہرے ذلت کے مارے جھکے ہوئے ہونگے ظاہر ہے کہ خوشی ، غمی ، یا فخر ونخوت کے آثار چہرے سے ظاہر ہوتے ہیں۔ جن لوگوں کے چہرے اس دنیا میں سرکشی اور تکبر کی وجہ سے کھلے ہوئے معلوم ہوتے تھے ، وہ چہرے قیامت کے دن کمزور ، ذلیل اور پست ہوجائیں گے۔ حدیث میں آتا ہے یحشر المتکبرون کا مثال الذر یوم القیمۃ ترھق وجوھھم الذلۃ والصغار جو لوگ دنیا میں تکبر کرتے ہیں انہیں قیامت والے دن چیونٹیوں کی سی حالت میں اٹھایا جائے گا اور ان کے چہروں پر ذلت ورسوائی چھائی ہوئی ہوگی۔ تکبر روحانی بیماریوں میں سے بدترین قسم کی بیماری ہے جو کہ اکثر لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ اگر کسی کے پاس مال زیادہ آگیا یا علم کی فراوانی ہوگئی ہے تو ذرا ذرا سی بات پر اکڑ دکھاتا ہے اور سیدھے طریقے سے بات کرنے کی بجائے منہ پھلا پھلا کر بات کرتا ہے۔ اس غرور وتکبر کا نتیجہ قیامت والے دن ظاہر ہوگا۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر تم زمین پر اکڑکر چلو گے تو انک لن………………طولا (بنی اسرائیل 37) نہ تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ تمہارا سر پہاڑوں کی بلندیوں تک پہنچ سکتا ہے بلکہ تم وہی پانچ چھ فٹ کے آدمی ہی رہو گے۔ غرور وتکبر ابلیس کی صفت ہے ، اسی لئے حضور ﷺ کا فرمان ہے۔ اے ایمان والو ! ایک دوسرے کے سامنے سرکشی نہ کیا کرو تکبر اور غرور نہ کرو بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ تواضع کے ساتھ پیش آئو۔ تکبر ایک ایسا موذی مرض ہے کہ انسان اولاً اس کا اظہار انسانوں کے سامنے کرتا ہے ، اور پھر جب اس میں پختہ ہوجاتا ہے تو پھر خدا کے سامنے بھی کرنے لگتا ہے۔ اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے اور خدا تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں اکڑدکھانے لگتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسا شخص بالآخر ذلیل و خوار ہوتا ہے۔ بہرحال فرمایا کہ قیامت والے دن ساری اکڑ نکل جائیگی اور جس طرح اس دن متکبرین کی آوازیں پست ہوجائیں گی۔ اسی طرح ان کے چہرے بھی ذلیل و خوار ہوجائیں گے۔ حی اور قیوم : فرمایا چہروں کی یہ پستگی اس ذات کے سامنے ہوگی للحی القیوم جو زندہ اور قائم ہے۔ حی سے مراد وہ ذات ہے جو زندہ ہے اور دوسروں کو زندگی بخشنے والی ہے۔ زندگی اللہ تعالیٰ کی ذاتی صفت ہے اس نے یہ حیات کسی سے مستعار نہیں لی۔ اس کے برخلاف پوری مخلوق کی زندگی اللہ کی عطا کردہ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ یہ صفت اپنی کسی مخلوق سے چھین لیتا ہے تو اس مخلوق پر موت طاری ہوجاتی ہے۔ انسان ہوں یا جن ، فرشتے ہوں یا چرند ، پرند اور نباتات سب کو اللہ تعالیٰ ہی زندگی بخشتا ہے۔ پھر ان میں سے ہر ایک کی زندگی کو زوال ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ کی ذات لازوال ہے اور یہی حی کا معنی ہے۔ اسی طرح قیوم اس ذات خداوندی کی صفت ہے جو خود قائم ہے اور اس نے دوسری مخلوق کو قائم کیا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ دوسروں کا سہارا ہے مگر اسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں۔ تو فرمایا کہ قیامت والے دن اس ذات کے سامنے چہرے پست اور ذلیل ہوں گے جو زندہ اور قائم ہے حضور ﷺ نے اللہ کی انہی صفات کے ساتھ ورد بھی بتایا ہے یاحی یا قیوم برحمتک استغیث اے زندہ اور قائم ودائم خدا میں تیری رحمت کا سوالی ہوں ، اپنی رحمت کو ہمیشہ میرے شامل حال رکھ۔ ظلم کا بدلہ : چہروں کی درماندگی کا ذکر کرنے کے بعد اللہ نے فرمایا قد خاب من حمل ظلما اور تحقیق وہ ناکام ہوا جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا ۔ ظلم کا معنی ہے وضع الشیء فی غیر محلہ کسی چیز کو اپنے اصل مقام کی بجائے کسی دوسری جگہ پر رکھ دینا۔ تاہم اس مقام پر ظلم سے مراد کفر اور شرک ہے ، اور اس کے بعد معصیت کا نمبر آتا ہے تو جس نے کفر ، شرک اور معصیت کا بوجھ اٹھالیا ، وہ یقینا ناکام ہوگیا۔ قیامت والے دن خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں اسے کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ نے شرک کے متعلق فرمایا ہے ان الشرک………عظیم (لقمان 13) بیشک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ اسی طرح کفر کے متعلق فرمایا والکفرون ھم الظلمون (البقرہ 254) کفر کرنے والے ہی ظالم ہیں۔ سورة آل عمران میں ہے والذین…………انفسھم (آیت 135) جنہوں نے بےحیائی کی بات کی یا اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ یہاں بھی ظلم سے مراد کفر ، شرک یا بدعقیدگی ہے۔ بہرحال جس نے قیامت والے دن ظلم کا بوجھ اٹھایا ، وہ ناکام ہوجائے گا۔ معتبر اعملا صالحہ : اس کے بالمقابل فرمایا ومن یعمل من الصلحت جس نے عمل کیا نیکیوں میں سے ، یعنی اچھے اعمال انجام دیے۔ ہر اچھا عمل وہ ہے جسے شریعت مطہرہ اچھا قرار دے اور عقل سلیم بھی اس کی اچھائی کو تسلیم کرے۔ مثلاً عبادت خداوندی ایک نیک کام ہے۔ جسے عقل بھی مانتی ہے۔ اسی طرح مخلوق کے حقوق کی ادائیگی نیک اعمال میں سے ہے جسے شریعت ضروری قرار دیتی ہے اور عقل تسلیم کرتی ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی (رح) فرماتے ہیں کہ قرآن پاک میں جہاں نیکیوں کا ذکر ہے اس سے مراد چار بنیادی عبادات ، نماز ، روزہ حج اور زکوٰۃ ہیں۔ ان عبادات کو انجام دینے والا آدمی یقینا کامیاب ہوگا۔ باقی ساری نیکیاں چاہے ان کا تعلق فرائض سے ہو یا واجبات سے ، سنن سے ہو یا مستحبات سے ان چار بنیادی نیکیوں کے تحت آتی ہیں۔ فرمایا جس شخص نے نیک اعمال کیے وھو مومن بشرطیکہ وہ مومن ہو۔ گویا نیکی کی قبولیت کے لئے ایمان شرط ہے۔ ایمان کے بغیر کسی نیکی کا کوئی اعتبار نہیں۔ انسان کا عقیدہ صحیح اور فکر کفر ، شرک اور نفاق سے پاک ہونی چاہیے ، تب اس کے اعمال صالحہ معتبر ہوں گے ، ورنہ رائیگاں جائیں گے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت (مسلم ص 115 ج 1 (فیاض) میں آتا ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ، حضور ! عبداللہ ابن جدعان سرداران مکہ میں سے بڑا سخی آدمی تھا ، وہ ایک ایک مجلس میں سو سو اونٹ بخش دیتا تھا۔ تو کیا ایسے شخص کی سخاوت اس کے لئے مفید ہوگی ؟ حضور ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اس کی یہ نیکی اس کے لئے کچھ فائدہ مند نہ ہوگی ، کیونکہ انہ لم یقل رب اغفرلی خطیئتی یوم الدین اس نے زندگی میں ایک دن بھی اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی نہیں مانگی۔ اس کا قیامت کے دن پر یقین ہی نہیں تھا حالانکہ تو حید رسالت ، ملائکہ ، کتب سماویہ کی طرح قیامت کے دن پر ایمان لانا بھی اجزائے ایمان میں سے ہے۔ چونکہ اس کا ایمان ہی نہیں ہے۔ لہٰذا اس کی سخاوت جیسی نیکی کا بھی کچھ اعتبار نہیں ہوگا اور اسے اس کا کچھ فائدہ نہیں پہنچے گا۔ آگے سورة الانبیاء میں بھی آرہا ہے فمن یعمل………………لسعیہ (آیت 94) جو کوئی نیک کام کرتا ہے بشرطیکہ وہ مومن ہو تو اس کے عمل کی ناقدری نہیں کی جائیگی۔ بہرحال نیکی کی قبولیت کے لئے پہلی بنیاد تصحیح عقائد ہے۔ اس کے بعد تصحیح عمل ، تصحیح اخلاق اور تصحیح نیت آتی ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) کا طریق کار یہی رہا ہے کہ وہ سب سے پہلے لوگوں کے عقیدے کی اصلاح کرتے ہیں اور اس کے بعد دوسری چیزیں آتی ہیں۔ چشتی ، قادری ، سہروردی اور نقشبندی سلسلے والے بھی جب کسی کو بیعت کرتے ہیں تو سب سے پہلے اس سے توبہ کرواتے ہیں اور اس کا ایمان درست کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کفر ، شرک سے بیزاری کا اعلان کرو۔ کیونکہ آگے نیکی کی بنیاد اسی پر موقوف ہے۔ غرضیکہ تمام انبیاء اور صلحاء کی تعلیم میں تصیح عقائد کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ فرمایا جس نے نیک عمل کیا بشرطیکہ وہ مومن ہو فلا یخاف ظلما وہ شخص ظلم کا خوف نہیں کھائے گا ولا ھضما اور نہ اسے نقصان کا ڈر ہوگا۔ ظاہر ہے کہ جس نے بنیادی طور پر اپنے ایمان کو صحیح بنالیا اور پھر نیک اعمال انجام دیئے ، اس کے ساتھ کوئی زیادتی یا ناانصافی نہیں ہوگی ، نہ اس کی کسی نیکی ضائع کیا جائے گا۔ اور نہ کوئی ناکردہ گناہ اس کے سرڈالا جائے گا۔ وہ ہر قسم کی زیادتی اور نقصان سے مامون ہوگا۔ قرآن در عربی زبان : اس سے پہلے پانچویں رکوع میں گزر چکا ہے کذلک نقص علیک من انباء ماقد سبق اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ ہم اسی طرح ان سے پہلے لوگوں کا حال بھی بیان کرتے ہیں۔ اب یہاں پر قیامت کے بعض واقعات بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے پھر مذکورہ بالا مضمون کے ساتھ ربط کیا ہے اور فرمایا ہے وکذلک انزلنہ قرآنا عربیا اور اسی طرح ہم نے قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ہے۔ مطلب یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ سے پہلے لوگوں کے واقعات کو بیان کرنے کے لئے ہم نے قرآن الحکیم کو عربی زبان میں اتارا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف سابقہ واقعات کی نشاندہی ہوتی ہے بلکہ آنے والے واقعات کی ضروری جھلک بھی پیش کی جاتی ہے۔ وقوع قیامت کے تمام تفصیلات اسی عربی قرآن کے ذریعے ہی معلوم ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم عربی زبان میں نازل کرکے اس زبان کو بڑی فضیلت بخشی ہے۔ قرآن کا معنی ہی ایسی کتاب ہے جو سب سے زیادہ پڑھی جائے ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی تلاوت کی بار بار تلقین کی ہے۔ سورة المزمل میں ہے فاقرء وا…………القرآن۔ (آیت 20) جتنا ممکن ہو اس قرآن کو پڑھو ، نماز پڑھو ، اس کے علاوہ تلاوت کرو ، یہ بڑی بابرکت کتاب ہے۔ جسے اللہ نے عربی زبان میں نازل کیا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کو عربی زبان میں ہی پڑھنے سے حق تلاوت ادا ہوگا۔ اگر اس کا ترجمہ دنیا کی کسی بھی زبان میں پڑھا جائے گا تو اللہ کے حکم قرآن خوانی کا حق ادا نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ نماز بھی غیر زبان میں ادا نہیں کی جاسکتی کیونکہ نماز میں قرآن کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اور وہ عربی میں ہے۔ قرآن ذریعہ تقویٰ ونصیحت : فرمایا ، ہم نے قرآن کو عربی زبان میں اتارا ہے وصرفنا فیہ من الوعید اور ہم نے پھیر پھیر کر اس میں ڈرانے والی اور تنبیہہ والی باتیں بیان کی ہیں اور اس سے مقصود یہ ہے لعلھم یتقون تاکہ لوگ برائی سے بچ جائیں۔ متقی وہ شخص ہے جس کے دل میں خوف خدا پیدا ہوجائے اور وہ کفر ، شرک اور معاصی سے بچ جائے۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) تقویٰ کے متعلق فرماتے ہیں ” تقویٰ محافظت پر حدود شرع است “ یعنی شریعت کی حدود کی حفاظت کا نام تقویٰ ہے۔ جب تک انسان کفر ، شرک ، نفاق ، بدعات اور معاصی سے نہ بچے ، وہ متقی نہیں کہلا سکتا۔ اگر کوئی شخص جزیات ایمان میں سے کسی ایک کا بھی انکار کرتا ہے تو کافر ہوگا۔ اور اگر وہ شریعت کے کسی حکم میں شک یاتردد کا شکار ہے تو منافق ہے۔ فرمایا ہم نے قرآن پاک میں پھیر پھیر کر مثالیں بیان کی ہیں کہ لوگ متقی بن جائیں اویحدث لھم ذکرا یا لوگوں میں اس قرآن کے ذریعے نصیحت کی بات ہی آجائے۔ گزشتہ رکوع میں بھی گزر چکا ہے وقد…………ذکرا (آیت 99) ہم نے اپنی طرف سے آپ کو ایک مکمل ” نصیحت نامہ “ عطا فرمایا ہے۔ تو یہاں بھی فرمایا کہ ایک مضمون کو مختلف عنوانات سے بار بار بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اس کے ذریعے نصیحت حاصل کرلیں اور پھر اس کے احکام و فرامین پر عمل کرکے دنیا وآخرت دونوں جگہ سرخروہوجائیں۔ اور اس قرآن پاک کو نازل کرنے والی ذات کون ہے ، فرمایا فتعلی اللہ الملک الحق وہ تو اللہ تعالیٰ کی بلند وبالا ذات ہے جو سچا بادشاہ ہے اسی نے یہ عظیم الشان کتاب نازل فرمائی ہے جو تقویٰ اور نصیحت کا ذریعہ ہے۔ ضبط قرآن میں تعمیل : اب آگے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر آخر الزمان کو ضبط قرآن سے متعلق ایک بات سمجھائی ہے۔ جب جبرائیل (علیہ السلام) قرآن پاک کا کوئی حصہ لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ اس کو جلدی جلدی پڑھنے کی کوشش کرتے تاکہ وہ آیات ازبر ہوجائیں اور ان کے بھول جانے کا کوئی امکان نہ رہے۔ مگر اللہ نے فرمایا ولا تعجل بالقران آپ قرآن کے ضبط کرنے میں جلدی نہ کریں من قبل ان یقضی الیک وحیہ قبل اس کے کہ آپ کی طرف وحی مکمل کردی جائے۔ مطلب یہ کہ آپ قرآن کو بھول جانے کا خطرہ محسوس نہ کریں کیونکہ اس کا ضبط اور حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ اسی مضمون کو اللہ نے سورة القیمہ میں اس طرح بیان کیا ہے لا تحرک………بہ (آیت 16) آپ قرآن کو ضبط کرنے کے لئے زبان کو جلدی جلدی حرکت نہ دیں۔ ان علینا………وقرانہ (آیت 17) کیونکہ اس کا اکٹھا کرنا اور پڑھنا ہمارے ذمہ ہے۔ اللہ نے سورة الاعلیٰ میں مزید تسلی دلائی۔ سنقرئک فلا سنتی ہم آپ کو ایسا پڑھائیں گے کہ آپ ایک حرف بھی نہیں بھولنے پائیں گے۔ الا مشاء اللہ (آیت 7) ماسوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ خود کسی حصہ کو بھلانا چاہے یا منسوخ کرنا چاہے۔ لہٰذا آپ اطمینان رکھیں اور جلدی جلدی ضبط کرنے کی کوشش نہ کریں ، بلکہ آپ اس طرح دعا ، کریں وقل رب زدنی علما اے میرے پروردگار ! میرے علم میں اضافہ فرما۔ علم اللہ تعالیٰ کی غیر محدودصفت ہے لہٰذا اس میں اضافہ کی ہر آن دعا کرنی چاہیے۔ قرآن پاک کے علوم ومعارف نہ ختم ہونے والے ہیں کیونکہ حضور ﷺ کا فرمان ہے لا تنقضی عجائبات القران یعنی قرآن کے عجائبات ، علوم ومعارف اور حقائق ودقائق کبھی ختم نہیں ہوں گے اور قیامت تک آنے والے لوگ ان سے فیض حاصل کرتے رہیں گے۔ چونکہ قرآن پاک خدا تعالیٰ کی صفت ہے لہٰذا اس کے علوم ومعارف کا اختتام اللہ کی صفت کے اختتام کے مترادف ہے جب خدا کی صفت غیر محدود ہے اور یہ کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔ آدم (علیہ السلام) کی مثال : اس جلد بازی کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی مثال بیان فرمائی ہے ولقد عھدنا الی ادم من قبل اور البتہ تحقیق اس سے پہلے ہم نے آدم (علیہ السلام) کی طرف عہد کیا فنسی پس وہ بھول گئے۔ ولم نجدلہ عزما اور ہم نے ان میں پختگی نہ پائی۔ اللہ نے آدم (علیہ السلام) سے عہد کیا تھا کہ جنت میں رہو مگر ایک خاص درخت کے قریب نہ جانا ، مگر وہ غفلت کی وجہ سے بھول گئے اور درخت کے قریب چلے گئے۔ اگر آپ احتیاط کرتے تو شیطان کی وسوسہ اندازی سے بچ جاتے مگر انہوں نے جلدی کی اور ممنوعہ درخت کا پھل چکھ لیا لہٰذا حضور ﷺ کو بھی جلد بازی سے منع فرمایا گیا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ آدم (علیہ السلام) بھول گئے تو ان کی اولاد بھی بھولتی ہے۔ آدم (علیہ السلام) نے انکار کیا تو ان کی اولاد بھی ایسا کرتی ہے۔ عربی محاورہ ہے اول الناس اول ناس یعنی سب سے پہلا انسان سب سے پہلے بھولنے والا بھی ہے ۔ حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے التوء وۃ من الرحمن والعجلۃ من الشیطن عین آہستگی خدائے رحمن کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔ آدم (علیہ السلام) بھول گئے ، ان میں احتیاط اور پختگی کا فقدان تھا ، مگر یہ آپ کا گناہ شمار نہیں ہوتا کیونکہ گناہ نیت اور ارادے کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ تو محض بھول تھی ، اس میں نیت اور ارادے کو کوئی دخل نہیں تھا مگر اس کے باوجود اللہ نے آزمائش میں ڈال دیا کیونکہ بڑے لوگوں کے لئے معمولی سی بات بھی بڑے امتحان کا باعث بن جاتی ہے آدم (علیہ السلام) پہلے انسان اور اللہ کے ذی شان نبی تھے ، لہٰذا معمولی سی لغزش سے ان پر ابتلا آگئی ۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو ضبط قرآن میں جلد بازی سے منع فرمایا ہے اور ساتھ آدم (علیہ السلام) کی مثال بیان کی ہے کہ وہ بھی اسی جلدبازی کی وجہ سے بھول گئے جو کہ بےاحتیاطی کا نتیجہ تھا۔ جلد بازی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس کی وجہ سے بعض اوقات انسان کو ندامت اٹھانا پڑتی ہے۔
Ayahs 20:116–119

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى Open ayah 20:116 in the Quran reader

اور (اس بات کو دھیان میں لائو) جب کہ ہم نے کہا فرشتوں سے کہ سجدہ کرو آدم کے لئے۔ پس انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے انکار کیا

فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى Open ayah 20:117 in the Quran reader

ہم نے کہا اے آدم ! بیشک یہ تیرا دشمن ہے اور تیری بیوی کا۔ پس یہ نہ نکالے تم دونوں کو جنت سے ، پس تم مشقت میں پڑ جائو گے

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ Open ayah 20:118 in the Quran reader

بیشک تمہارے لئے (اس جنت میں یہ ہے) کہ نہ تم بھوکے ہوگے اس میں اور نہ برہنہ

وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى Open ayah 20:119 in the Quran reader

اور تم نہ اس میں پیاسے ہوگے اور نہ تم دھوپ کی تکلیف اٹھائو گے

ربط آیات : اس سورة مبارکہ میں پہلے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور ان کی فرعون کے ساتھ کشمکش کا حال بیان کرکے حضور ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے لئے تسلی کا سامان پیدا کیا۔ پھر رسالت کا ذکر ہوا اور ساتھ ساتھ قیامت کا حال بھی بیان ہوا۔ مومنین اور کافروں کو پیش آنے والے حالات کا ذکر ہوا۔ پھر قرآن پاک کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ یہ ایک نصیحت نامہ ہے ، اللہ نے اس کو عربی زبان میں نازل فرمایا ہے۔ پھر آپ سے فرمایا کہ اس کو پڑھنے میں جلدی نہ کریں کیونکہ اس کا ضبط اور بیان ہمارے ذمہ ہے ، ہم اس میں سے ایک حرف بھی نہیں رہنے دیں گے بلکہ آپ کو پورا پورا یاد کرادیں گے۔ فرمایا جلدی کرنے کی بجائے آپ اللہ تعالیٰ سے اضافہ علم کے لئے دعا کرتے رہیں۔ پھر اللہ نے اسی ضمن میں آدم (علیہ السلام) کا ذکر کیا کہ وہ جلد بازی میں غلطی کر بیٹھے جس کا خمیازہ انہیں مشقت کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ انابت اور سرکشی کا تقابل : آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) اور ان کی ابلیس کے ساتھ کشمکش کا ذکر فرمایا ہے۔ آدم (علیہ السلام) میں انابت تھی جب کہ ابلیس میں سرکشی تھی۔ ان دونوں کا تقابل دراصل مومن اور کافر کا تقابل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی فضیلت بھی بیان فرمائی ہے۔ جب ان سے لغزش ہوئی تو انہوں نے فوراً اللہ کے حضور گڑ گڑا کر معافی طلب کرلی۔ دوسری طرف ابلیس کی سرکشی کا تذکرہ ہے کہ اس نے حکم خداوندی سے سرتابی کی تو اس پر اڑگیا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ذرا اس واقعہ کو یاد کرو واذقلنا للملئکۃ اسجدو لادم جب کہ ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم (علیہ السلام) کے لئے سجدہ کرو۔ فسجدوا ان سب نے سجدہ کیا الا ابلیس ابی سوائے ابلیس کے کہ اس نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے لئے یہ سجدہ ان کی فضیلت اور برتری کے اظہار کے لئے تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو زمین پر اپنا خلیفہ بنایا تھا انی جاعل فی الارض خلیفۃ (البقرۃ 300) چونکہ اس خلافت کے اہل فرشتے نہیں بلکہ انسان تھے ، اس لئے اللہ نے فرشتوں سے آدم (علیہ السلام) کے لئے سجدہ کروایا ، تاکہ اس تعظیم کی وجہ سے آدم (علیہ السلام) کی فرشتوں پر برتری ثابت ہوجائے۔ یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سے فرشتے تھے۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے سجدہ تعظیم کرنے کا حکم دیا تھا۔ سورة صٓ میں ہے فسجد…………اجمعون (آیت 73) یعنی سب کے سب فرشتوں نے سجدہ کیا اس سے بعض مفسرین نے یہ استدلال کیا ہے کہ تمام کے تمام فرشتوں کو سجدے کا حکم دیا گیا تھا اور سبھی نے سجدہ کیا خواہ کا تعلق ملاء اعلیٰ سے تھا ملاء سافل سے ، مگر امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے سارے فرشتے مراد نہیں بلکہ ملاء سافل کے فرشتوں نے سجدہ کیا تھا ، اور ابلیس انہی فرشتوں میں شامل تھا۔ جہاں تک ابلیس کا تعلق ہے ، وہ تو فرشتوں کی نوح میں ہی شامل نہیں تھا۔ کیونکہ ہم سورة کہف میں پڑھتے ہیں کان من…………ربہ (آیت 50) وہ جنات کی نوع میں سے تھا اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرتابی کی۔ اصل بات یہ ہے کہ ابلیس تھا تو جنات میں سے ہی مگر اس کا رہن سہن فرشتوں کے ساتھ تھا اور فرشتوں کے ساتھ جنات کو بھی سجدے کا حکم ہوا تھا۔ چناچہ سورة اعراف میں اللہ تعالیٰ کا ابلیس سے یہ خطاب موجود ہے۔ مامنعک الا تسجد اذ امرتک (آیت 12) تو ابلیس فرشتوں میں ملا ہوا تھا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی کرتا تھا۔ حضرت یحییٰ منیری (رح) کے مکتوبات میں ہے کہ ابلیس نے سات لاکھ برس خدا تعالیٰ کی عبادت کی مگر ایک حکم کی نافرمانی سے راندہ درگاہ ٹھہرا۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ فرشتوں میں سب سے اعلیٰ درجہ ملاء اعلیٰ کا ہے جن میں حاملین عرش فرشتے ، عرش کے گرد طواف کرنے والے فرشتے اور علیین کے فرشتے ہیں اس کے بعد آسمانوں کے درجہ بدرجہ فرشتے ہیں اور پھر فضا کے فرشتے اور آخر میں زمین والے فرشتے ہیں جو ملاء سافل کہلاتے ہیں۔ تو شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ آدم (علیہ السلام) کے لئے سجدہ کرنے والے ملاء سافل کے فرشتے تھے اور ابلیس بھی انہی میں شامل تھا۔ ابلیس کے متعلق سورة بقرہ میں ابی واستکبر کے الفاظ آتے ہیں یعنی اس نے سجدے سے انکار ہی نہیں کیا بلکہ تکبر بھی کیا ، کہنے لگا کہ میں آدم (علیہ السلام) کو کیسے سجدہ کروں جب کہ میں اس سے افضل ہوں۔ خلقتنی……………طین (الاعراف 12) مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا جب کہ آدم کو مٹی سے کہنے لگا میرے مادہ تخلیق میں بلندی کا عنصر پایا جاتا ہے اور مٹی میں پستی کی صفت ہے ، لہٰذا میں اعلیٰ ہو کر ادنیٰ کے سامنے کیسے سجدہ کروں۔ یہ تکبر اولین اخلاقی بیماری ہے جو کائنات میں ابلیس کے ذریعے ظاہر ہوئی۔ ابلیس میں حسد کا مادہ بھی بدرجہ اتم موجود تھا۔ اس لئے اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو ابلیس کی دشمنی سے آگاہ فرمادیا۔ اس مقام پر اللہ نے مکمل تفصیلات بیان نہیں کیں ، صرف اتنا حصہ بیان کیا ہے جس سے آدم (علیہ السلام) کی انابت اور ابلیس کی سرکشی کا اظہار ہوتا ہے۔ تعظیمی سجدہ : سجدہ دو قسم کا ہوتا ہے ، ایک عبادت کا اور دوسرا تعظیم کا۔ سجدہ عبادت تو صرف اللہ تعالیٰ کے لئے روا ہے ، البتہ تعظیمی سجدہ اللہ کے سوا دوسروں کے سامنے بھی ہوتا رہا ہے۔ سابقہ شریعتوں میں سجدہ تعظیم روا تھا۔ چناچہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے آپ کو تعظیمی سجدہ ہی کیا تھا۔ قدیم زمانوں میں بادشاہوں اور دیگر امراء کے سامنے بھی تعظیمی سجدہ ہوتا تھا آخری شریعت میں یہ سجدہ بھی حرام ہوچکا ہے۔ تو فرشتوں کا آدم (علیہ السلام) کے لئے سجدہ تعظیمی سجدہ ہی تھا۔ دونوں سجدوں میں نیت کا ہی فرق ہوتا ہے۔ عبادت کا سجدہ وہ ہے جو بندے اپنے پروردگار کے حضور معبود برحق سمجھ کر کرتے ہیں ، اور تعظیمی سجدہ وہ ہے جو ملاقات کے وقت کسی بڑے آدمی کی تعظیم کے لئے کیا جاتا ہے ، اور اسے آداب میں شمار کیا جاتا ہے ، نہ کہ عبادت کے طور پر۔ اب ہماری شریعت میں یہ دونوں سجدے ناجائز ہیں۔ سجدہ عبادت غیر اللہ کے سامنے تو ہر حالت میں کفر وشرک ہے اور سجدہ تعظیم حرام ہے۔ اسی لئے محدثین کرام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص بت کے سامنے سجدہ کرتا ہے تو اس پر کفر کا قطعی حکم عائد ہوگا۔ اس نے بت کی وہی تعظیم کی جو بندے اپنے پروردگار کی کرتے ہیں ، لہٰذا ایسا شخص کافر ٹھہرا ، لیکن اگر کوئی شخص کسی بزرگ یا قبر کے سامنے سجدہ کرتا ہے تو ایسے شخص سے وضاحت طلب کی جائیگی۔ کہ اس نے کیسا سجدہ کیا۔ اگر وہ کہے کہ اس سجدہ کے لئے میری نیت اسی تعظیم کی تھی جو بندے اپنے رب کے لئے کرتے ہیں ، تو ایسے شخص پر کفر کا فتویٰ لگے گا۔ اور اگر وہ کہے کہ میری نیت ملاقات پر محض اکرام کی تھی تو پھر اس فعل کو حرام سمجھا جائے گا۔ اس پر کفر کا فتویٰ نہیں لگے گا۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں لکھتے ہیں کہ تعظیمی سجدہ ایک ایسا فعل ہے جس کے متعلق فیصلہ نیت کی بنیاد پر ہی کیا جاسکتا ہے۔ ہماری شریعت میں اللہ تعالیٰ کا واضح فرمان موجود ہے لا تسجدوا …………………خلقھن (حم السجدہ 37) نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو ، بلکہ سجدہ اللہ تعالیٰ کو کرو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے مطلب یہی ہے کہ اگر کسی شخص نے عبادت کا سجدہ کیا ہے تو کفر ہوگا اور اگر تعظیمی سجدہ کیا ہے ۔ تو پھر یہ حرام ہوگا۔ ابلیس کی آدم دشمنی : اللہ نے فرمایا کہ جب ابلیس نے آدم (علیہ السلام) کے لئے سجدہ کرنے سے انکار کردیا تو ہم نے آدم (علیہ السلام) کو خبردار کردیا فقلنا یادم ان ھذا عدو لک ولزوجک ہم نے کہا ، اے آدم ! یہ ابلیس تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے بلکہ پوری نوع انسانی کا دشمن ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت ، اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے سورة یٰسٓ میں اس طرح بیان کیا ہے الم اعھد الیکم یبنی ادم ان لا تعبدوا الشیطن انہ لکم عدو مبین اے بنی آدم ! کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ شیطان کی پوجانہ کرنا کہ یہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ اس نے بہت سوں کو گمراہ کیا ، لہٰذا اس سے بچنے کی کوشش کرنا۔ تو یہاں بھی اللہ نے فرمایا ہے کہ اے آدم ! ابلیس تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے۔ اس سے خبردا رہنا فلا یخرجنکما من الجنۃ کہیں یہ تم دونوں کو جنت سے نہ نکلوا دے۔ اگر یہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوگیا فتشقی تو تم مشقت اور تکلیف میں مبتلا ہوجائو گے۔ جنت میں تمہیں ہر چیز بلا مشقت مفت حاصل ہورہی ہے ، اور جنت سے نکل گئے تو پھر تمہیں محنت کرکے یہ چیزیں حاصل کرنا پڑیں گی۔ انسان کے بنیادی حقوق : اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے ان چار بنیادی حقوق کا ذکر کیا ہے جو آدم (علیہ السلام) کو جنت میں حاصل تھے۔ فرمایا ان لک الا تجوع فیھا جنت میں تمہیں بھوک کی پریشانی نہیں ہوگی ، یعنی تمہارے لئے خوراک کا انتظام ہوگا۔ یہاں پر دوسری سہولت یہ ہوگی ولا تعری کہ تم برہنہ بھی نہیں گے ، یعنی تمہیں لباس مہیا کیا جائے گا۔ فرمایا تیسری سہولت یہ ہوگی وانک لا تظمئوا فھا کہ تمہیں یہاں پیاس بھی نہیں ستائے گی کہ تمہارے لئے پانی کا وافر انتظام ہوگا۔ اور چوتھی چیز یہ ہے ولا تضحیٰ کہ تم دھوپ کی شدت سے بھی محفوظ رہو گے یعنی تمہارے رہنے کے لئے مکان ہوگا جو تمہیں گرمی سردی سے بچائے گا۔ یہ چاروں چیزیں جو آدم (علیہ السلام) کو جنت میں میسر تھیں ، دنیا میں اس کی اولاد کے لئے بنیادی حقوق میں شامل ہیں یعنی خوراک ، لباس ، پانی اور مکان اس میں دو چیزیں تعلیم اور صحت بھی شامل کرلی جائیں تو انسان کے کل چھ بنیادی حقوق (Basic Rights) بن جاتے ہیں جو انسان کو ہر حالت میں کسی نہ کسی صورت میں ملنے چاہئیں۔ آج کل عالمی ادارے یونیسکو (Unesco) والے ان بنیادی حقوق کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ یہ حقوق تو اللہ نے انسان کو قرآن وسنت کے ذریعے عطا کیے ہیں۔ مذکورہ چار حقوق کے علاوہ جن کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے ، باقی دو حقوق کا ذکر بھی قرآن پاک میں دوسرے مقامات پر موجود ہے تعلیم کے متعلق مولانا عبید اللہ سندھی (رح) سورة بقرہ کی آیت ان الذین ………………العنون (آیت 159) کا حوالہ دیتے ہیں کہ اس آیت کے ذریعے اللہ کا حکم چھپانے والوں پر لعنت کی گئی ہے ، لہٰذا کتمان احکام کی بجائے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ تمام باتوں کی تعلیم عام ہونی چاہیے ۔ اس لحاظ سے یہ انسان کا بنیادی حق بنتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ ہر شخص کے لئے اتنی تعلیم جبری ہونی چاہیی کہ جس سے اس کی ضروریات دین پوری ہوسکیں۔ اگر اہل حل وعقد اس کا انتظام نہیں کرتے تو وہ خدا اور خدا کی مخلوق کی لعنت کے مستحق بنتے ہیں۔ جہاں تک صحی کا تعلق ہے ، یہ بھی ہر انسان کے لئے ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر انسان نہ عبادت کرسکتا ہے اور نہ جہاد کا فریضہ ادا کرسکتا ہے۔ عبادت کا حکم اللہ نے جگہ جگہ دیا ہے۔ وہی عبادات اربعہ جوہر اہل ایمان پر اللہ نے فرض کی ہیں اور جہاد کے متعلق بھی اللہ نے سخت تاکید فرمائی ہے۔ سورة الانفال میں یہ حکم موجود ہے واعدو…………قوۃ (آیت 60) دشمن کے مقابلے کے لئے حسب استطاعت قوت فراہم کرو ۔ بیمار آدمی تو دشمن کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ لہٰذا صحت کی برقراری بھی انسان کے بنیادی حقوق میں داخل ہے۔ مذکورہ بالا پہلے چار بنیادی حقوق کے متعلق ترمذی شریف (ترمذی ص 399 (فیاض) کی روایت میں آتا ہے لیس لابن ادم حق سوی ھذہ الخصال یہ چار بنیادی ضروریات ہر انسان کا بنیادی حق ہیں۔ البتہ یہ ضروری نہیں کہ ہر انسان کو یہ اشیاء اعلیٰ درجے کی ہی حاصل ہوں ، تاہم جیسی کیسی بھی ہوں ، ملنی چاہئیں۔ خوراک کے لئے جلف الخبز کے الفاظ آتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہر ایک کے لئے مرغن غذا ہی لازمی نہیں ، خشک روٹی تو ہونی چاہیے۔ اس سے کوئی انسان محروم نہیں رہنا چاہیے۔ اسی طرح پانی بھی خوراک کا حصہ ہے وہ بھی ہر شخص کے لئے ضروری ہے ، اللہ نے لباس کے متعلق فرمایا ہے یبنی ادم……………وریشا (الاعراف 26) اے آدم کی اولاد ! ہم نے تمہارے لئے لباس نازل کیا ہے تاکہ اس کے ذریعے تمہاری ستر پوشی بھی ہو اور تمہارے لئے زینت کا باعث بھی ہو۔ لباس بہرحال ہر شخص کو ملنا چاہیے خواہ معمولی ہی کیوں نہ ہو۔ اسی طرح گرمی سردی سے بچنے اور آرام و سکون کے لئے گھر کا ہونا بھی ضروری ہے اور کوئی شخص اس سے محروم نہیں رہنا چاہیے ، یہ مکان ذاتی ملکیت نہ بھی ہوسکے تو کم از کم کرائے کا تو ہونا چاہیے۔ جنت میں یہ چیزیں آدم (علیہ السلام) کو فری حاصل تھیں اور دنیا میں اللہ نے بعض چیزیں عام رکھی ہیں جن سے ہر شخص بغیر مشقت کے فائدہ اٹھاسکتا ہے۔ مثلاً روشنی ہر جاندار کے لئے ضروری ہے اور یہ ایسی چیز ہے جو ہر ایک کو مفت میسر آتی ہے۔ اس پر کسی شخص کا کنٹرول نہیں ہے۔ دوسرے نمبر پر ضروری چیز ہوا ہے۔ یہ بھی کسی مخلوق کے قبضہ میں نہیں ہے بلکہ ہر جاندار کو فری ملتی ہے۔ ہوا کے ذریعے انسانی جسم میں آکسیجن پہنچتی ہے جو کہ انسانی اور حیوانی زندگی کا لازمی جز و ہے ، پھر تیسرا نمبر پانی کا ہے جو کہ ہر جاندار کے لئے لازمی ہے۔ اس کے بغیر کوئی ذی روح زندہ نہیں رہ سکتا۔ اطباء کے بیان کے مطابق انسانی زندگی کا دارومدار دوران خون پر ہے جس میں اسی فیصد پانی اور بیس فیصد باقی مع دنیات وغیرہ ہیں۔ لہٰذا ہوا اور روشنی کی طرح پانی بھی ہر شخص کے لئے فری ہونا چاہیے۔ پانی پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہونا چاہیے۔ یہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ ہر شخص کے لئے فری واٹر سپلائی کا انتظام کرے۔ البتہ خوراک ایسی چیز ہے جس کے حصول کے لئے ہر جاندار کو کچھ نہ کچھ محنت مشقت کرنی پڑتی ہے۔ کوئی مزدوری کرتا ہے ، کوئی زراعت کرتا ہے صنعت اور تجارت وغیرہ سب حصول رزق کا ذریعہ ہیں اور انسان ان ذرائع کو بروئے کار لاکر خوراک حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح مکان بھی ہر شخص کے لئے ضروری ہے اور اس کے لئے خود محنت کرنے کی ضرورت ہے اس کا بالکل فری ملنا محال ہے۔ یہ سب بنیادی ضروریات ہیں جو آدم (علیہ السلام) کو جنت میں مفت حاصل تھیں۔ تو اللہ نے خبردار کیا کہ اگر شیطان کے بہکاوے میں آکر جنت سے نکل گئے تو پھر تمہیں یہ نعمتیں فری حاصل نہیں ہوں گی بالکل۔ ان کے حصول کے لئے محنت مشقت کرنا ہوگی۔ درجات میں تفاوت : یہ چھ بنیادی سہولتیں ہر شخص کو ملنی چاہئیں مگر ان میں مساوات قائم نہیں کی جاسکتی بلکہ لوگوں کے درجات میں تفاوت ضرور ہوگا۔ خود قرآن نے اس تفاوت کو قائم رکھا ہے۔ ورفعنا…………درجت (الزخرف 32) ہم نے بعض کے درجات بعض کے مقابلے میں بلند کیے۔ ہر شخص کی دماغی اور جسمانی صلاحتیں مختلف ہیں ، لہٰذا ان کے درجات میں بھی تفاوت ہے۔ کسی کو وافر رزق ملتا ہے اور کسی کو کم۔ کسی کو یادہ سہولتیں ملتی ہیں اور کسی کو کم۔ البتہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی تو خوب پیٹ بھر کر کھائے اور کوئی بالکل بھوکا رہے۔ چاہے روکھی سوکھی ملے ، ہر شخص کو ملنی چاہیے۔ اسی طرح اگر کوئی محلات میں رہتا ہے تو دوسرے کو کم از کم جھونپڑی تو ملنی چاہیے کہ اس کا بنیادی حق ہے۔ ہر شخص کی صحت کی برقراری کا انتظام ہونا چاہیے۔ بنیادی اور ضروری تعلیم سے کوئی شخص محروم نہیں رہنا چاہیے ایک اچھی حکومت کی یہی علامت ہے کہ وہ انسانوں کے بنیادی حقوق کس حد تک ادا کرتی ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے۔ وات کل ذی حق حقہ ہر شخص کو اس کا حق ملنا چاہیے۔ جس نظام حکومت میں لوگ بنیادی حقوق سے محروم ہیں ، وہ ظالمانہ نظام ہے۔ اشتراکی نظام میں بھی سراسر الحاد ہے جس میں دین ، شریعت اور خدا کا کوئی تصور نہیں ، ان کا مساوات کا دعویٰ بھی محض فریب ہے۔ وہاں تو جبر وتشدد کا دور دورہ ہے جو ظلم ہے غرضیکہ نظام وہی بہتر ہے جس میں انسان کے بنیادی حقوق کی ضمانت موجود ہے۔
Ayahs 20:120–123

فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى Open ayah 20:120 in the Quran reader

پھر وسوسہ ڈالا اس (آدم) کی طرف شیطان نے کہا ، اے آدم ! کیا میں تجھے بتلائوں ایک ہمیشگی کا درخت اور ایسی بادشاہی جو کبھی بوسیدہ نہ ہو

فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١٘ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ Open ayah 20:121 in the Quran reader

پھر ان دونوں (میاں بیوی) نے کھایا اس (درخت) سے۔ پس ظاہر ہوگئے دونوں کے لئے جسم کے مستور حصے ، اور شروع کیا دونوں نے ڈھانپنا اپنے اوپر جنت کے پتوں سے اور نافرمانی کی آدم نے اپنے رب کی ، پس بےراہ ہوئے

ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى Open ayah 20:122 in the Quran reader

پھر منتخب کیا اس کو ان کے پروردگار نے پس رجوع کیا اس کی طرف مہربانی کے ساتھ اور راہ دکھائی

قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى١ۙ۬ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى Open ayah 20:123 in the Quran reader

فرمایا (اللہ نے) اتر جائو تم دونوں اس سے کٹھے ، بعض تمہارے بعض کے لئے دشمن ہوں گے۔ پس جب آئے گی تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت پس جس نے پیروی کی میری ہدایت کی ، پس نہ وہ گمراہ ہوگا اور نہ وہ تکلیف میں مبتلا ہوگا

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی انابت ، کمال اور فضیلت اور اس کے ساتھ ساتھ ابلیس کی سرکشی کا ذکر کیا۔ آدم (علیہ السلام) کو جنت میں جو سہولتیں حاصل تھیں ان کا بیان ہوا ، مگر شیطان نے وسوسہ اندازی کے ذریعے آدم (علیہ السلام) اور حوا کو جنت سے نکلوا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی خبردار کرچکے تھے کہ اے آدم ! ابلیس نے تو میرے حکم کی تعمیل کی ہے اور نہ تمہاری فضیلت کو تسلیم کیا ہے ، یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے ، اس سے بچتے رہنا ، کہیں یہ تمہیں جنت سے نہ نکلوادے ، اس کے بعد ابلیس نے آدم (علیہ السلام) اور حوا ؓ کو بہکانا شروع کیا اور بالآخر اپنے مقصد میں کامیاب ہوا اور آدم (علیہ السلام) اور حوا ؓ کو زمین پر اترنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ واقعہ سورة بقرہ ، سورة اعراف اور کئی دوسری سورتوں میں مختلف طریقوں سے بیان کیا ہے۔ سورة بقرہ میں یہ واقعہ آدم (علیہ السلام) کی خلافت ودنیابت کے اعتبار سے بیان کیا گیا تھا ، اور اس سورة میں یہ واقعہ بیان کرتے وقت آدم (علیہ السلام) کی انابت اور ابلیس کی سرکشی کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ یہ واقعہ اللہ نے انجام کار کے اعتبار سے بیان کیا ہے۔ اس سے پہلے رسالت کا بیان ہوا ، اور اس سے پہلے اللہ نے حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کے لئے تسلی کا مضمون نازل فرمایا معاد کے سلسلے میں پھر آدم (علیہ السلام) کا ذکر ہوا کہ انہوں نے جلد بازی کی اور بھول گئے جس کے نتیجہ میں مشقت میں پڑگئے۔ شیطان کی وسوسہ اندازی : اب آج کی آیات میں شیطان کی طرف سے وسوسہ اندازی اور اس کے نتیجے میں آدم (علیہ السلام) اور حوا ؓ کے جنت سے نکل جانے کا ذکر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے فوسوس الیہ الشیطن پھر وسوسہ اندازی کی شیطان نے آدم (علیہ السلام) کی طرف۔ وسوسہ پوشیدہ اور مخفی آواز کو کہا جاتا ہے اور مطلب یہ ہے کہ شیطان نے نہایت ہی مخفی انداز میں آدم (علیہ السلام) کو بہکانہ شروع کیا۔ سورة اعراف میں ہے۔ وقاسمھما انی لکما لمن النصحین شیطان نے آدم (علیہ السلام) اور حوا ؓ دونوں کے سامنے قسم اٹھا کر کہا کہ میں تمہارا خیرخواہ ہوں ، میری بات پر عمل کرو گے تو فائدے میں رہو گے ، اور اس طرح ان دونوں کو بہکانے میں کامیاب ہوگیا۔ ظاہر ہے کہ جب کوئی اللہ کی قسم اٹھا کر بات کرتا ہے تو اس پر یقین کرنا ہی پڑتا ہے۔ مفسرین کرام اس مسئلہ میں بحث کرتے ہیں کہ شیطان تو جنت سے باہر تھا ، پھر اس نے آدم (علیہ السلام) وحوا ؓ کی طرف وسوسہ اندازی کیسے کی اس ضمن میں بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اس وقت تک علیحدگی کا حکم نہیں وا تھا ، شیطان جنت کے اندر باہر آتا جاتا تھا جس کی وجہ سے اسے وسوسہ ڈالنے کا موقع مل گیا۔ بعض کہتے ہیں کہ وسوسہ اندازی کے لئے قریب جانا ضروری نہیں۔ شیطان اگر چہ جنت کے دروازے سے باہر ہی رہتا تھا مگر اس نے دور سے ہی وسوسہ ڈال دیا اور اس طرح اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا۔ دائمی زندگی کا تصور : ارشاد ہوتا ہے کہ شیطان نے آدم (علیہ السلام) کو اس طرح بہکایا قال یادم ھل ادلک علی شجرۃ الخلد کہنے لگا ، آے آدم ! کیا میں بتائوں تجھے ہمیشگی کا درخت ؟ یعنی میں تجھے ایک ایسے درخت کی نشاندہی کرتا ہوں کہ اگر اس کا پھل کھالو گے تو تمہیں دائمی زندگی حاصل ہو جائیگی ، ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس جنت میں آرام و آسائش سے رہو گے اور کبھی بھی یہاں سے نکالے نہیں جائو گے۔ ہمیشگی کا تصور انسان کے لئے بڑا خوش کن ہے ، لہٰذا آدم (علیہ السلام) بھی اس کے لئے مائل ہوگئے۔ ہمیشہ رہنے کی خواہش پرانی قوموں میں بھی پائی جاتی تھی۔ سورة الشعرآء میں اللہ نے قوم عاد کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ تم بڑی بڑی عمارات ، گنبد ، مینار اور حوض وغیرہ بناتے تھے لعلکم تخلدون گویا کہ تمہیں ہمیشہ یہیں رہنا ہے۔ تو شیطان نے بھی آدم (علیہ السلام) کو اسی بات سے ورغلایا کہ میں تمہیں ایک ایسا نسخہ بتا سکتا ہوں جس کے ذریعے تم جنت کی دائمی زندگی پاسکو۔ لازوال سلطنت : دوسری چیز جس کا لالچ شیطان نے آدم (علیہ السلام) کو دیا ، وہ تھا۔ وملک لا یبلی کہنے لگا کیا میں تمہیں ایک ایسی بادشاہی نہ بتائوں ، جو بوسیدہ نہ ہو۔ یعنی ایسی سلطنت کی نشاندہی کروں جس کو کبھی زوال نہ آئے۔ سلطنتوں کے عروج وزوال کی داستانوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ جس سلطنت کا دنیا میں کبھی لوہا مانا جاتا ہے وہ ایک نہ ایک دن شکست وریخت کا شکار بھی ہوجاتی ہے۔ آج تک دنیا کی کسی بادشاہت کو دوام حاصل نہیں ہوا۔ پرانے مصریوں ، ایرانیوں ، کلدانیوں اور بابلیوں کی بڑی بڑی سلطنتیں تھیں مگر آخر ان کی اینٹ سے اینٹ بج گئی۔ آج سے پچاس سال پہلے سلطنت برطانیہ کا طوطی بولتا تھا۔ اپنی وسعت وقوت کے اعتبار سے برطانیہ عظمی (Great Britain گریٹ بریٹن) کہلاتی تھی۔ کہتے ہیں کہ برطانیہ کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا ، مگر آج اس کی یہ حالت ہے کہ انگلینڈ کے چھوٹے سے جزیرے میں مسدود ہو کر رہ گئی ہے۔ اب جزیرہ آئر لینڈ بھی علیحدگی کی کوشش کررہا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کی بڑی سے بڑی سلطنت بھی بالآخر زوال کا شکار ہوجاتی ہے ، مگر شیطان نے آدم (علیہ السلام) کو ایسی سلطنت بتلانے کا وعدہ کیا جس کو کبھی زوال نہ آئے۔ بادشاہی کے اسی تصور کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے بھی۔ جنتیوں کے لئے بادشاہی کا ذکر کیا ہے۔ قرآن میں دیے گئے بعض اشارات سے پتہ چلتا ہے کہ جنت میں جانے والا ہر انسان بادشاہ ہوگا۔ اس کو بادشاہوں جیسا اعزاز واکرام حاصل ہوگا ، خدا مت گار ، عملہ ، محلات ، آرام و آسائش کی تمام سہولتیں اور وسیع ملک حاصل ہوگا ، اس کے ہر حکم کی بغیر کسی رکاوٹ کے تعمیل ہوگی ، جس طرح دنیا کا بادشاہ خود مختار ہوتا ہے اسی طرح ہر جنتی کی ہر خواہش پوری ہوگی۔ غرضیکہ شیطان نے ایسی ہی لازوال بادشاہی کا آدم (علیہ السلام) کو لالچ دیا۔ اور اس طرح انہیں بہکا کر جنت سے نکلوادیا۔ آدم اور حوا کا پھل کھانا : سورۃ بقرہ میں آدم (علیہ السلام) کے جنت میں جانے کا حال اس طرح بیان کیا گیا ہے وقلنا…… ………………من الظلمین۔ ہم نے آدم (علیہ السلام) سے کہا کہ تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو ، وہاں سے باافراط کھائو جہاں سے تمہارا جی چاہے ، مگر اس درخت کے قریب نہ جانا مبادا کہ تم ظالموں میں سے ہوجائو۔ مگر شیطان نے یہی وسوسہ ڈالا کہ اس درخت کا پھل کھالو گے تو دائمی زندگی اور لازوال بادشاہت نصیب ہوجائیگی۔ تفسیری روایات میں آتا ہے کہ اس پیش کش کے متعلق آدم (علیہ السلام) نے کچھ پس وپیش کیا مگر حضرت حوا ؓ اس سے زیادہ ہی متاثرہوگئیں اور انہوں نے پھل کھالیا اور اس کے بعد آدم (علیہ السلام) کو بھی اس بات پر آمادہ کرلیا اور انہوں نے بھی وہ پھل کھالیا۔ اسی واقعہ کے متعلق اللہ نے یہاں فرمایا فاکلا منھا ، ان دونوں نے وہ پھل کھالیا۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اگر حوا خیانت نہ کرتی یعنی پھل کھانے میں پہل نہ کرتی تو دنیا کی کوئی عورت اپنے خاوند کے ساتھ خیانت کا ارتکاب نہ کرتی۔ غرضیکہ ان دونوں نے شجر ممنوعہ کا پھل کھالیا۔ برہنگی اور ستر پوشی : مفسرین فرماتے ہیں کہ جب حضرت حوا ؓ نے پھل کھایا تو ان کے معمولی میں کوئی فرق نہ آیا۔ پھر جب وہی پھل آدم (علیہ السلام) نے کھایا اور دونوں کے متعلق شیطان کی سازش مکمل ہوگئی فبدت لھما سواتھما پس دونوں کے مستورہ حصے ظاہر ہوگئے یعنی دونوں میاں بیوی کا جنتی لباس اتر گیا اور وہ بالکل برہنہ ہوگئے۔ سواۃ انسان کے اگلے پچھلے مستورہ حصوں کو کہا جاتا ہے۔ سوء کا لفظی معنی برائی ہوتا ہے ، اور اعضائے مستورہ کو سوا اس لئے کہتے ہیں کہ ان کا ظاہر ہنا انسان کو ناگوار گزرتا ہے یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے لہٰذا ان اعضا کا ڈھانپنا فرض ہے۔ مسند احمد کی روایت کے مطابق ناف سے لے کر گھٹنے تک کا حصہ جسم ستر میں داخل ہے جس کا کھل جانا سخت عیب کی بات ہے۔ متمدن دنیا کے انسان خواہ مومن ہوں یا کافر ، کسی قوم یا قبیلے سے تعلق رکھتے ہوں یا کسی رنگ اور نسل کے لوگ ہوں برہنگی کے عیب ہونے پر سب کا اتفاق ہے انسان کا لباس جہاں اس کی ستر پوشی کرتا ہے ، وہاں اس کے لئے باعث زینت بھی ہے۔ اس کے باوجود دنیا میں بعض ایسے سر پھرے لوگ بھی ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی فطرت کے خلاف برہنگی کو پسند کیا۔ 1929 ء میں جرمنی میں ” انجمن ایون فطریہ “ (Natural Society نیچرل سوسائٹی) کے نام سے ایک انجمن معرض وجود میں آئی تھی جس کی ممبر شپ کے لئے برہنہ ہونا ضروری تھا۔ چناچہ جب یہ لوگ اپنی مخصوص جگہ میں جاتے تھے تو مردوزن سب اپنا لباس اتار کر برہنہ ہوجاتے تھے۔ شیطان نے ان کو اس طرح اغواء کیا کہ وہ جانوروں سے بھی بدتر ہوگئے۔ مگر جن میں فطرت کی ذرا بھی رمق باقی ہے وہ ہمیشہ پردہ پوشی کرتے ہیں حتیٰ کہ وحشی قبائل ، جن کو لباس میسر نہیں ، وہ بھی گھاس پھونس ستر پوشی کے لئے استعمال کرلیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی شائع ہونے والی بعض تصاویر سے ان کی تمدن کا پتہ چلتا ہے۔ بہرحال جب آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا ؓ کے اعضائے مستورہ کھل گئے تو انہیں شرم محسوس ہنے لگی۔ میاں بیوی ایک دوسرے کو برہنگی کی حالت میں دیکھ رہے تھے اور ادھر فرشتے بھی ان کی یہ حالت مشاہدہ کر رہے تھے۔ تو پھر کیا ہوا وطفقا یخصفن علیھما من ورق الجنۃ وہ دونوں اپنے اوپر جنت کے پتے ٹانکنے لگے اور اس طرح اپنے اعضائے مستورہ کو ڈھانپنے کی کوشش کی۔ سورة اعراف میں بھی ایسا ہی ذکر ہے اور یہی چیز بتلا رہی ہے کہ برہنگی انسان کو فطرتاً ناگوار گزرتی ہے بشرطیکہ اس کا انسلاخ نہ ہوجائے یعنی وہ بالکل فطرت سے باہر نہ نکل جائے۔ اگر انسان فطرت کے اندر رہے تو اسے برہنگی ضرور عیب نظر آئے گی۔ عصیان اور غویٰ : آدم (علیہ السلام) اور حوا ؓ کا شجر ممنوعہ کا پھل کھانا اور ان کے لباس کا اتر جانا شیطان کے اغواء کی وجہ سے ہوا۔ اللہ نے ان کو اس درخت کے قریب جانے سے منع فرمایا تھا مگر انہوں نے جلد بازی کی اور اس حکم کو بھول گئے۔ اللہ نے فرمایا وعصی ادم ربہ فغوی آدم (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی ، پس وہ بےراہ ہوگئے۔ یہاں پر عصیان سے یہ مراد نہیں ہے کہ آدم (علیہ السلام) نے اپنی نیت اور ارادے سے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی تھی بلکہ پہلے گزر چکا ہے لم نجدلہ عزما انہوں نے اپنے ارادے سے ایسا نہیں کیا تھا بلکہ بھول گئے تھے۔ اور یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ بڑے آدمی کی معمولی لغزش پر سھی سخت گرفت آتی ہے۔ آدم (علیہ السلام) اولین انسان اور اللہ کے جلیل القدر نبی تھے۔ آپ نبی مکلم تھے یعنی اللہ نے آپ سے کلام کیا تھا ، لہٰذا آپ کی اس لغزش پر بھی سخت گرفت آئی ، حالانکہ وہ گناہ نہیں تھا بلکہ اللہ کے نبی سے تو گناہ کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے وہ اللہ کے منتخب بندے اور معصوم ہوتے ہیں۔ تو یہاں پر عصیان سے نہ تو حقیقی نافرمانی مراد ہے اور نہ غویٰ سے حقیقی گمراہی ، بلکہ غویٰ سے مراد بےراہ ہونا ہے یعنی آدم (علیہ السلام) جو چیز پانا چاہتے تھے ، اسے نہ پاسکے اور بےراہ ہوگئے۔ بعض لوگوں نے آدم (علیہ السلام) کی اس لغزش کو فی الواقع گناہ پر محمول کیا ہے۔ مثلاً مولانا مودودی صاحب نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ جب ضبط نفس کی گرفت ڈھیلی پڑی تو آدم (علیہ السلام) اطاعت کے بلند مقام سے معصیت کی پستی میں جاگرے ۔ مودودی صاحب ہمارے زمانے کے مفسر قرآن میں مگر انہوں نے تفسیر میں بہت سی غلطیاں بھی کی ہیں۔ مولانا سید احمد رضا بجنوری جو حضرت مولانا انور شاہ صاحب کشمیری (رح) کے داماد ہیں ، فرماتے ہیں کہ میں نے تفہیم القرآن میں ایک سو غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔ مولانا مودودی ذہین وفطین آدمی تھے ، مگر ان کی کمزوری یہ تھی کہ انہوں نے اساتذہ سے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی اور محض مطالعہ کے زور پر چلتے تھے ۔ آپ صحافی تھے ، بہت سی کتابوں کے مصنف تھے مگر تفسیر میں غلطیاں بھی کی ہیں۔ مفسر قرطبی ، مولانا ثناء اللہ پانی پتی (رح) اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ انبیاء کی لغزشوں کا بھی موقع بےموقع ذکر نہیں کرنا چاہیے بلکہ جہاں قرآن میں اس کا تذکرہ آجائے ، اس کو بیان کردینا درست ہے مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ غیر ضروری باتوں کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے ، جو ایسا کرے گا ، نقصان اٹھائے گا۔ دائمی زندگی والی بات بھی غیر ضروری تھی مگر آدم (علیہ السلام) اس کے پیچھے پڑ کر مشقت میں مبتلا ہوگئے۔ سورة الاعراف میں شیطان کا یہ بہکاوا بھی موجود ہے کہ اس نے آدم (علیہ السلام) اور حوا ؓ سے کہا تھا کہ تم اس درخت کا پھل کھالو ، اللہ نے اس سے اس لئے منع کیا ہے ۔ ان تکونا ملکین کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جائو۔ آدم (علیہ السلام) کے لئے یہ بھی غیر ضروری بات تھی ، کیونکہ ملکیت تو آدم (علیہ السلام) کی مطلوبہ چیز نہیں تھی مگر آدم (علیہ السلام) اس کے پیچھے بھی پڑگئے تو نقصان اٹھایا۔ لغزش کی معافی : جب آدم (علیہ السلام) اور حوا ؓ سے غلطی کا ارتکاب ہوگیا تو پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اس طرح معافی طلب کی ، کہنے لگے ربنا ظلمنا………………الخسرین (اعراف 23) اے ہمارے پروردگار ! ہم نے واقعی اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے یعنی ہم سے لغزش ہوگئی ہے ، اب اگر تو مہربانی نہیں فرمائے گا تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی درخواست کو شرف قبولیت بخشا۔ ثم اجتبہ ربہ ، پھر اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو برگزیدہ بنایا فتاب علیہ اور آپ کی طرف مہربانی کے ساتھ رجوع کیا اور نہ صرف آپ کی لغزش کو معاف کیا بلکہ وھدی آپ کو راہ بھی دکھائی کہ سیدھا راستہ یہ ہے اس پر چلے جائو۔ یہاں پر بات قابل ذکر ہے کہ جب توبہ اللہ کی طرف منسوب ہو تو اس کا معنی ہوتا ہے مہربانی کے ساتھ رجوع کرنا۔ اور جب یہی لفظ بندے کے لئے استعمال ہو تو معنی یہ ہوتا ہے کہ بندہ ندامت کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ پھر کیا ہوا ؟ قالاھبطا منھا جمیعا تم دونوں (آدم اور حوا) یہاں سے اکٹھے اتر جائو۔ اس وقت یہ دونوں میاں بیوی ہی تھے۔ لہٰذا انہی کے لئے اتر جانے کا حکم ہوا ، ان کی باقی اولاد تو زمین پر آکر ہوئی۔ لہٰذا یہ حکم ساری نوع انسانی کے لئے نہیں تھا ۔ سورة البقرہ میں جمع کا صیغہ بھی ہے وقلنا اھبطوا (آیت 36) ہم نے کہا سب اتر جائو۔ یہاں پر آدم (علیہ السلام) حوا ؓ اور شیطان تینوں مراد ہیں کہ سب زمین پر اتر جائو۔ البتہ یہ بات یاد رکھنا بعضکم لبعض عدو بعض تم میں سے بعض کے دشمن ہوگے۔ مرد عورت کا دشمن ہوگا ، بھائی بھائی کا ، باپ بیٹے کا اور ایک قرابتدار دوسرے قرابتدار کا۔ چناچہ اس وقت سے لے کر عداوت کا سلسلہ چلا آرہا ہے سب سے پہلی عداوت آدم (علیہ السلام) کے بیٹوں میں پیدا ہوئی جس کا ذکر سوۃ مائدہ میں موجود ہے۔ اس کے بعد سابقہ تاریخ پڑھ لیں ، کسی قدر قتل و غارت گری نظر آتی ہے ، اور آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ دشمنی اور عداوت ہر روز کتنے گل کھلاتی ہے۔ ہدایت کی پیروی : اللہ نے فرمایا ، میری یہ بات بھی سن لو فاما یاتینکم منی ھدی جب تمہارے پاس یعنی تمہاری اولاد کے پاس دنیا میں میری ہدایت آئے گی۔ میرے نبی آئیں گے ، میری کتابیں آئیں گی ، شریعت اور احکام نازل ہوں گے تو فرمایا فمن اتبع ھدی جس شخص نے میری ہدایت کی پیروی کی فلا یضل ولا یشقی وہ نہ تو گمراہ ہوگا اور نہ مشقت میں پڑیگا ۔ ایسے شخص کو بلا شبہ فلاح نصیب ہوجائیگی اور وہ جنت میں سیدھا چلا آئیگا جس سے اب تمہیں اترنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ان تلکم………تعملون (اعراف 43) یہ جنت تمہارے جدامجد کی وراثت ہے جو تمہیں نیکی کرنے پر حاصل ہوگی۔ ایمان لائو گے ، نیک اعمال انجام دو گے تو جنت کا راستہ بالکل آسان ہوجائے گا۔ اگر خدا تعالیٰ کی ہدایت کی پیروی کرو گے دنیا میں گمراہ نہیں ہوگے تو آخرت میں اللہ کی رحمت کے مقام جنت میں پہنچ جائو گے۔ اس بات سے اللہ نے اسی وقت آگاہ کردیا تھا جب آدم (علیہ السلام) کو جنت سے اتر جانے کا حکم دیا۔