Ayahs 20:77–79ربط آیات :
جب موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے فرعون کو اللہ کا پیغام پہنچایا۔ اور معجزات بھی دکھائے تو اس نے اسے جادو سے تعبیر کرتے ہوئے ایمان لانے سے انکار کردیا۔ کہنے لگا ، ہم تمہارے جادو کا مقابلہ اپنے جادوگروں سے کرائیں گے۔ چناچہ ملک بھر کے بڑے بڑے جادوگروں کو جمع کیا اور انہیں مقابلے کی ترغیب دی۔ کامیابی کی صورت میں انہیں انعام واکرام دینے اور اپنا مقرب بنانے کا لالچ بھی دیا۔ پھر جب مقررہ تاریخ پر جادوگروں نے اپنا کرتب دکھایا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے معجزے کے ذریعے اسے باطل کردیا ۔ جادوگر سمجھ گئے کہ یہ اللہ کا نبی ہے اور ہم اس کے معجزات کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ چناچہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پروردگار پر ایمان لائے۔ فرعون اس بات سے سخت سیخ پا ہوا اور جادوگروں کو ڈرایا دھمکایا کہ اگر تم ایمان سے باز نہ آئے تو تمہارے ہاتھ پائوں الٹے سیدھے کاٹ دوں گا اور تمہیں سولی پر لٹکائوں گا۔ فرعون نے یہ بھی کہا کہ تم سب موسیٰ (علیہ السلام) کے شاگرد اور اس سے ملے ہوئے ہو اور تم نے جان بوجھ کر شکست تسلیم کی ہے۔
اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کم وبیش چالیس سال تک حق تبلیغ ادا کرتے رہے۔ اللہ نے آپ کے ہاتھ پر بہت سے معجزات بھی ظاہر فرمائے جن کا ذکر سورة الاعراف میں موجود ہے مگر فرعون اور اس کے حواریوں نے تسلیم نہ کیا بلکہ اسرائیلیوں پر ان کے مظالم بڑھتے ہی گئے۔ حتیٰ کہ اسرائیلی لوگ پکار اٹھے کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! آپ کے آنے سے پہلے ہم ظلم وستم کا شکار بنتے تھے اور آپ کے آنے کے بعد بھی ہم اسی عذاب میں مبتلا ہیں ، بلکہ ہمارے مصائب میں اضافہ ہی ہوا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تسلی دی اور بر سے کام لینے کی تلقین کی۔ کیونکہ بالآخر اچھا انجام صبر کرنے والوں کا ہی ہوتا ہے۔ فرمایا ، ان کے مظالم کو برداشت کرو ، اللہ تعالیٰ کوئی وقت لائے گا ۔ جب تمہاری تمام پریشانیاں دور ہوجائیں گی۔ ادھر فرعونیوں کا حال یہ تھا کہ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی تو زبان سے اقرار کرتے کہ جب یہ تکلیف دور ہوجائے گی تو ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئیں گے ، مگر جب اللہ تعالیٰ ان سے وہ مصیبت ٹال دیتا تو پھر انکار کردیتے اور کہتے کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تیری یہ نشانیاں جادو محض ہے جسے ہم تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
اس دوران طویل عرصہ گزر گیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے دوہی مطالبات تھے۔ ایک یہ اللہ وحدہ لاشریک پر ایمان لے آئو اور دوسرا یہ کہ بنی اسرائیل کو آزاد کردو۔ تاکہ میں انہیں ان کے اصل وطن شام و فلسطین لے جاسکوں ، مگر فرعون اور اس کے حواریوں نے آپ کے دونوں مطالبات مسترد کردیے۔ فرعونیوں کا فرض تھا کہ وہ معجزات دیکھ کر ایمان قبول کرلیتے مگر وہ اپنی ہٹ دھرمی کے باعث ایسا نہ کرسکے۔ اس کے برخلاف جادوگروں نے حقیقت کو پالیا وہ سمجھ گئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی پیش کردہ نشانیاں کسی انسان کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور یہی حقیقت ان کے ایمان لانے کا سبب بنی۔
مصر سے ہجرت :
جب فرعون اسرائیلیوں کو آزاد کرنے پر کسی طرح بھی آمادہ نہ ہوا ، تو اللہ نے ان کی آزادی کا پروگرام از خود بنایا اور اس کے لئے تمام ضروری وسائل مہیا فرمائے ۔ ارشاد ہوتا ہے ولقداوحینا الی موسیٰ اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی۔ چونکہ بنی اسرائیل کی ہجرت کا وقت آن پہنچا تھا۔ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا۔ ان اسربعبادی میرے بندوں یعنی اسرائیلیوں کو لے کر رات کے وقت نکل چلو۔ بنی اسرائیل کے مصر سے خروج سے متعلق تورات میں ” خروج “ کے نام سے ایک مستقل باب ہے اسرائیلیوں کا کسی تہوار میں جانے کا پروگرام پہلے سے طے شدہ تھا جس کے لئے وہ شہر سے باہر اکٹھے ہوتے تھے۔ اس پروگرام میں شمولیت کے لئے انہوں نے فرعونیوں سے اجازت بھی لے رکھی تھی اور بعض نے اس موقع کے لئے فرعونیوں سے زیورات بھی مستعار لے لیے تھے ۔ بنی اسرائیل مقررہ تاریخ پر اپنی تقریب میں شریک ہوئے اور وہیں پر موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ راتوں رات ان کو لے کر سزمین مصر سے نکل جائیں۔ اسری رات کے سفر کو کہتے ہیں۔ اس کی مثال واقعہ معراج میں بھی ملتی ہے سبحن الذی اسری بعبدہ لیلا (بنی اسرائیل 1) پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی۔
حضرت یعقوب اور یوسف (علیہما السلام) کے زمانے میں جب بنی اسرائیل کنعان سے مصر میں داخل ہوئے تھے تو ان کی تعداد ستر ، بہتریا اسی تھی مصر میں آکر وہ خوب بڑھے پھولے ، حتیٰ کہ تاریخی روایات کے مطابق چار سو سال کے عرصہ میں اسرائیلیوں کی تعداد چھ لاکھ ستر ہزار تک پہنچ چکی تھی۔ ان سب کو ہمراہ لے کر موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے نکل کھڑے ہوئے ، فرعونی ایک دو دن کت تو یہی خیال کرتے رہے کہ اسرائیلی اپنی تقریب میں شرکت کر رہے ہیں ، لیکن پھر احساس ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پروگرام کے مطابق یہ سب لوگ یہاں سے ہجرت ہی نہ کرجائیں۔ فرعون نے فوج اور دیگر امرائے سلطنت کو فوری تیاری اور اسرائیلیوں کے تعاقب کا حکم دیا تاکہ انہیں ہجرت کرنے سے روک کر دوبارہ اپنی غلامی میں سے سکیں جیسا کہ سورة الشعرآء میں مذکور ہے بنی اسرائیل چلے جا رہے تھے ، سامنے سمندر تھا اور پیچھے فرعون کا لشکر تعاقب کررہا تھا۔ اسرائیلی فرعون کے مزاج اور اس کے ظلم وستم سے واقف تھے لہٰذا وہ ان حالات میں سخت پریشان ہوئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو تسلی دی اور فرمایا گھبرائو نہیں ان معی ربی سیھدین (آیت 62) میرا پروردگار میرے ساتھ ہے۔ ہم اسی کے حکم سے نکلے ہیں ، لہٰذا وہ ضرور ہماری راہنمائی فرمائے گا۔
سمندر میں خشک راستہ :
جب بنی اسرائیل سمندر کے کنارے پر پہنچے تو آگے نکلنے کا کوئی راستہ نہ تھا۔ اس پریشانی کے عالم میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا فاضرب لھم طریقا فی البحر یبسا ان کے لئے سمندر میں خشک راستہ بنائو۔ ضرب کا معنی مارنا ہوتا ہے۔ اور مطلب یہی تھا کہ اپنی لاٹھی کو پانی میں مارو تو اللہ تعالیٰ تمہارے لئے پانی کے درمیان راستہ بنادے گا۔ چناچہ جونہی موسیٰ (علیہ السلام) نے لاٹھی ماری سمندر کا پانی دولخت ہوگیا اور درمیان میں چلنے کا راستہ بن گیا۔ راستے کے دونوں طرف پانی دیواروں کی شکل میں منجمد ہوگیا جسے سورة الشعرآء میں کالطود العظیم (آیت 63) کا نام دیا گیا ہے۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبائل تھے ، اس لحاظ سے بارہ راستوں کا ذکر بھی آتا ہے اور ہر قبیلہ اپنے اپنے مقررہ راستے پر چل رہا تھا۔ بہرحال لاٹھی مارنے سے پہلے راستہ بنا اور پھر ایسی ہوا چلی کہ راستہ خشک ہو کر چلنے کے قابل ہوگیا ، لاٹھی کے سانپ بن جانے کی طرح سمندر میں خشک راستہ کا بن جانا بھی ایک معجزہ تھا۔ جو اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر ظاہر فرمایا۔ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ معجزہ یا کرامت اللہ تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے جو نبی یا ولی کے ہاتھ پر ظاہر ہوتا ہے ، اس میں کسی انسان کا دخل نہیں ہوتا کہ جب چاہے کوئی معجزہ یا کرامت ظاہر کرسکے۔
بلاخوف وخطر سفر :
اللہ نے فرمایا ، ان کے لئے سمندر میں خشک راستہ بنائیں اور اس پر چل پڑیں لا تخف درکا اور دشمن کے ہاتھوں پکڑے جانے کا خوف نہ کھائیں۔ دوسری آیت میں ہے اسرائیلیوں نے سخت خوفزدگی کی حالت میں کہا تھا ، اے موسیٰ (علیہ السلام) ! انا لمدرکون (الشعرآئ 61) ہم تو پکڑے گئے چونکہ دشمن سر پر آپہنچا ہے۔ اسی لئے اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو زبانی تسلی دی کہ دشمن کی طرف سے مت ڈرو ولا تخشی اور نہ ہی پانی میں ڈوب جانے کا خوف کھائو۔ ظاہر ہے کہ اگر پانی میں اترتے ہیں تو غرق ہوجاتے ہیں اور کھڑے رہتے ہیں تو فرعون کے ہاتھوں پکڑے جاتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کو بنی اسرائیل کی حفاظت اور فرعونیوں کی غرقابی منظور تھی لہٰذا فرمایا کہ خوف نہ کھائو۔
بنی اسرائیل ان خشک راستوں پر چل پڑے۔ جب فرعون کا لشکر تعاقب کرتا ہوا سمندر کے کنارے پر پہنچا تو اس نے اسرائیلیوں کو سمندر کے بیچوں بیچ چلتے ہوئے پایا۔ چناچہ فاتبعھم فرعون بجنودہ فرعون بھی اپنے لشکر سمیت ان کے پیچھے چل پڑا۔ یہ لشکر گھوڑوں اور رتھ گاڑیوں پر سوار تھا ، اس میں شاہی خاندان کے افراد ، امراء اور باقی لوگ شامل تھے۔ اس لشکر کی تعداد کے متعلق مختلف روایات ملتی ہیں ، تاہم فرعونیوں کی تعداد دس بارہ لاکھ سے کم نہ تھی۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ فرعونی لشکر پانچ حصوں یعنی مقدمۃ الجیش میہمینہ ، میسرہ ، قلب اور ساقہ پر مشتمل تھا اور صرف مقدمۃ الجیش میں سات لاکھ افراد تھے اس سے باقی حصوں کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔ بہرحال اللہ نے اس مقام پر اجمالی بات بیان کی ہے۔ اس سے حضور ﷺ اور آپ کے متبعین کو تسلی دلانا مقصود ہے کہ وہ دشمن سے خوفزدہ نہ ہوں۔ تکالیف ضرورآئیں گی ۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ سے اسی طرح کامیابی عطا کرے گا ۔ جس طرح سخت مصائب برداشت کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو کامیابی حاصل ہوئی۔
لشکر فرعون کی غرقابی :
جب فرعونی لشکر نے دیکھا کہ اسرائیلی سمندر کے درمیان خشک راستے پر چلے جا رہے ہیں ، تو انہیں سخت حیرانی ہوئی۔ کچھ توقف کے بعد انہوں نے بھی اسی راستے پر چل کر تعاقب کرنے کا فیصلہ کیا۔ فرعون آگے آگے تھا۔ سب سے پہلے اس نے اپنا گھوڑا سمندر میں اتارا۔ اس کو دیکھ کر سارا لشکر سمندر میں خشک راستے پر کود پڑا۔ جب فرعونی لشکر درمیان سمندر پہنچا تو اس اثنا میں قوم موسیٰ (علیہ السلام) سمندر کو پار کرچکی تھی۔ پھر اللہ نے پانی کو حکم دیا تو اس کی منجمند دیواریں آپس میں مل گئیں خشک راستہ ختم ہوگیا اور سارا فرعونی لشکر سمندر کی لہروں کی نذر ہوگیا۔ اللہ نے فرمایا فغشیھم من الیم ماغشیھم پھر ان کو پانی کی موجوں نے ڈھانپ لیا ، جیسا کہ ڈھانپ لیا۔ پھر مت پوچھو کہ ان کا کیا حشر ہوا۔ لاکھوں کے لشکر میں سے ایک فرد بھی زندہ نہ بچا۔ البتہ فرعون کی لاش کے متعلق اللہ نے سورة یونس میں فرمایا ہے فالیوم ننجیک …………خلفک ایۃ (آیت 92) آج ہم تیری لاش کو بمع زرہ باہر پھینک دیں گے تاکہ یہ پیچھے آنے والوں کے لئے باعث عبرت ہو۔ یہ لاش آج تک مصر کے عجائب گھر میں محفوظ ہے۔ یہ لاش کچھ عرصہ تک برٹش میوزیم میں بھی رکھی گئی۔ مگر بعد میں واپس مصر لے جائی گئی۔
اللہ نے فرعون کے ڈوبنے کی کیفیت کا ذکر بھی کیا ہے کہ جب وہ ڈوبنے لگا تو اس نے کلمہ پڑھ دیا مگر اس وقت کا ایمان لانا اللہ کے ہاں قبول نہ ہوا۔ اللہ نے فرمایا آلئن وقد عصیت قبل وکنت من المفسدین (یونس 91) عذاب کو دیکھ کر اب ایمان لائے ہو۔ جبکہ ساری عمر غنڈہ گردی کرتے رہے۔ اب ایمان لانے کا وقت گزر چکا ہے ، لہٰذا تمہیں زندہ نہیں چھوڑا جائے گا۔ بلکہ آنے والے لوگوں کے لئے تمہیں عبرت کا نمونہ بنادیا جائے گا۔
قوم فرعون کی گمراہی :
ارشاد ہوتا ہے کہ اس ساری خرابی کا ذمہ دار خودفرعون تھا واضل فرعون قومہ اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا۔ وہ ان سے کہتا تھا وما اھدیکم الا سبیل الرشاد (المومن 29) میں تمہیں ٹھیک راستے پر چلارہا ہوں ، اسی پر چلتے رہو۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کی بات نہ ماننا ، وہ تمہاری تہذیب کو مٹانا چاہتا ہے اور تمہارے آبائو اجداد سے آنے والے رسم و رواج کو ختم کرنا چاہتا ہے ۔ مگر اللہ نے فرمایا کہ فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا وما ھدی اور انہیں راہ راست نہ بتلایا۔ فرعون جس راستے کی طرف راہنمائی کررہا تھا وہ تو تباہی اور ہلاکت کا راستہ تھا۔
جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کے تعاقب میں فرعون اپنے لشکر کی قیادت کررہا تھا ، اسی طرح قیامت والے دن بھی اپنی قوم کے آگے آگے چلے گااور دھم النار (ہود 98) اور انہیں لے کر جہنم میں پہنچ جائے گا۔ فرمایا وبئس الورد المورود یہ تو بہت ہی برا توشہ ہے جو ان کو ملے گا۔ دنیا میں پانی میں غرق ہوئے تو آخرت میں جہنم نصیب ہوگی۔ واتبعوا فی ھذہ لعنۃ ویوم القیمۃ (آیت 99) اس دنیا میں بھی ان پر لعنت کی گئی اور قیامت کے دن بھی لعنت میں مبتلا ہوں گے۔ اب جو کوئی فرعون کا ذکر کرتا ہے اس پ ر اور اس کے ساتھیوں پر لعنت بھیجتا ہے کہ انہوں نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا مقابلہ کیا مگر ناکام ونامراد ہوئے۔ اور بالآخر جہنم میں پہنچے۔ اللہ نے یہی بات یہاں پر اشارتاً بتلائی ہے کہ فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور انہیں راہ راست پر گامزن نہ ہونے دیا۔
یہاں تک فرعون کا واقعہ اللہ نے اجمالاً بیان فرمایا ہے ۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کا تذکرہ آرہا ہے کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) اسرائیلیوں اور قبطیوں دونوں اقوام کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے قبطی تو بحر قلزم کی موجوں میں غرق ہوگئے ، اب اگلی آیات میں بنی اسرائیل کا تذکرہ ہورہا ہے۔
Ayahs 20:80–85ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے واقعہ کا وہ حصہ بیان کیا ہے۔ جس میں انہوں نے فرعون کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچایا ، مگر اس نے اور اس کے حواریوں نے یہ پیغام قبول نہ کیا بلکہ آخر وت تک کفر وشرک پر اڑے رہے۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر راتوں رات مصر سے نکل جائیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم کی تعمیل کی ، مگر آگے بحرقلزم تھا اور پیچھے فرعون تعاقب کررہا تھا۔ تو اللہ نے بنی اسرائیل معجزانہ طریقے سے سمندر سے یار اتار دیا۔ جب فرعون بمعہ لشکر موسیٰ (علیہ السلام) کے راستے پر سمندر میں داخل ہوا تو اللہ نے پانی کی رکی ہوئی موجوں کو چھوڑ دیا اور سارا فرعونی لشکر غرق کردیا۔ اس مقام پر اللہ نے یہ بات اجمال کے ساتھ بیان فرمائی اور فرعون کی مذمت کی ہے کہ اس نے اپنی قوم کو گمراہ کیا۔ وہ دعویٰ کرتا تھا کہ میں اپنی قوم کو صحیح راستے پر چلارہا ہوں لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی۔ اس گمراہی کے باعث سارے فرعونی اس دنیا میں ہلاک ہونے اور قیامت کو بھی جہنم کا ایندھن بنیں گے۔
بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل :
اب اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو خطاب کرکے یاددلایا ہے کہ اس نے انہیں غلامی سے نجات دلائی اور پھر آگے روحانی اور مادی دو نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ہے اسرائیل یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے جس کا معنی ہے ” اللہ کا بندہ “ بنی اسرائیل کی پوری قوم حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ بیٹوں کی اولاد تھی ، اسی لئے وہ اولاد اسرائیلی “ کہلائی۔ ادھر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بھی بارہ بیٹے تھے۔ اللہ نے ان کی نسل بھی خوب پھیلائی۔ عرب کے تمام قبائل اسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ قوم نہ صرف عرب کی سرزمین میں پھلی پھولی بلکہ یہ لوگ عرب سے باہر بھی پھیل گئے ، عراق ، شام اور ایران تک عرب قبائل آباد ہوگئے۔
غلامی سے نجات :
بہرحال اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو خطاب فرمایا ہے۔ یبنی اسرآء یل اے اسرائیل کی اولاد ! ہم نے تم پر بڑا احسان کیا۔ قد انجینکم من عدوکم کہ تمہیں تمہارے دشمن فرعون سے نجات دی۔ تم صدیوں سے فرعونی قوم کی غلامی میں جکڑے ہوئے تھے اور مسلسل تکالیف برداشت کر رہے تھے۔ مشقت کے کام کرتے تھے اور ذہنی اور جسمانی کوفت کا شکار تھے۔ اللہ نے تمہیں غلامی جیسی غیر فطری حالت سے نکال کر آزادی کی فطری حالت میں امن و سکون نصیب فرمایا۔ سورة بقرہ میں ہے فانجینکم واغرقنا ال فرعون وانتم تنظرون (آیت 50) ہم نے تمہیں ایسی حالت میں نجات دی کہ تم قوم فرعون کو اپنی آنکھوں سے ڈوبتا ہوا دیکھ رہے تھے۔
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دینے کا ذکر کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ دشمن ہر طریقے سے ذلیل کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے مخالفین کے ساتھ ہمیشہ تحقیر امیز سلوک کرتا ہے اور ہر طرح سے نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ آج کی دنیا میں بھی نظر اٹھا کر دیکھ لیں۔ من حیث القوم مسلمانوں کے بیشمار دشمن زمین میں پھیلے ہوئے ہیں جو انہیں سیاسی ، معاشی ، اور علمی رنگ میں ہمیشہ نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں۔ مسلمان اقتصادی اور سائنسی لحاظ سے بڑی طاقتوں کے غلام بن چکے ہیں اور ان کی خواہش کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے۔ مسلمانوں کو ٹیکنالوجی مشینری ، اس کے پرزے حتیٰ کہ سوچنے کا انداز بھی اپنے غیر مسلم دشمنوں سے مستعار لینا پڑتا ہے۔ یہ اقوام مسلمانوں کی کبھی ہمدرد اور دوست نہیں ہو سکتیں۔ اللہ کا فرمان ہے ولن ترضی عنک الیھود ولا النصری حتی تتبع ملتھم (البقرہ 120)
یہودونصاریٰ آپ سے کبھی راضی نہیں ہوں گے ، یہاں تک کہ آپ ان کا دین قبول کرلیں اور ان کی تہذیب و تمدن کو اختیار کرلیں۔ آگے فرمایا قل ان ھدی اللہ ھو الھدی ہدایت تو صرف اللہ کی ہدایت ہے۔ یہود ونصاریٰ تو گمراہ ہوچکے ہیں۔ انہوں نے اپنی کتابوں اور شریعت کو بگاڑ رکھا ہے۔ یہ تو اللہ کی آخری کتاب قرآن حکیم کو انسانی صحیفہ سمجھتے ہیں ، بھلا ان کو آپ کیسے راضی کرسکتے ہیں۔
کتاب دینے کا وعدہ :
بہرحال اللہ نے بنی اسرائیل پر اپنے اس انعام کا ذکر کیا کہ اس نے انہیں دشمن سے نجات دی۔ اور پھر دوسرا انعام یہ یاد دلایا ووعدنکم جانب الطور الایمن اور تم سے وعدہ کیا کوہ طوی کی دائیں جانب کا اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب یعنی تورات عطا کرنے کا وعدہ فرمایا تھا۔ کوہ طور کوئی زیادہ اونچا پہاڑ نہیں ہے ، تاہم اس کی داہنی جانب قدرے بلند ہے تو اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا کہ پہاڑ کی اس جانب آکر چالیس دن تک اعتکاف کریں تو پھر آپ کو مطلوبہ کتاب عطا کردی جائے گی۔ دراصل کتاب کی خواہش حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خود اپنی قوم کی فرمائش پر کی تھی۔ جب یہ قوم فرعون کی غلامی سے آزاد ہو کر صحرائے سینا میں پہنچی تو انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے عرض کیا کہ مصر میں تو ہم فرعون کے غلام تھے ، وہاں نہ ہماری کوئی تہذیب تھی اور نہ کوئی قانون جس پر از خود عمل کرسکتے۔ اب ہم آزاد ہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ ہمارے لئے قانون کی کوئی کتاب نازل کرے جس پر ہم عمل پیرا ہوسکیں۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے درخواست اللہ کی بارگاہ میں پیش کی تو حکم ہوا کہ اپنی قوم کے بعض سرکردہ آدمیوں کو لے کر کوہ طور کی داہنی سمت میں آجائو۔ وہاں پر عبادت و ریاضت میں مشغول ہوجائو۔ پہلے تیس دن کی مدت مقرر کی اور پھر اسے بڑھا کر چالیس دن کردیا۔ تو فرمایا ایسا کرو گے تو میں تمہیں تورات یعنی قانون عطا کروں گا جس پر بنی اسرائیل عمل پیرا ہو کر دنیا اور آخرت میں فلاح پاسکیں گے۔ چناچہ چالیس دن کے اعتکاف کے بعد اللہ نے تورات عطا فرمائی جس کی تفصیلات سورة اعراف اور بعض دوسری سورتوں میں موجود ہیں۔ اسی کتاب کے عطا کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ ہم نے تم سے طور کی داہنی جانب کا وعدہ کیا۔
کتاب اللہ بطور روحانی نعمت
تورات ایک روحانی نعمت تھی جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو عطا فرمائی۔ سورة اعراف میں موجود ہے کہ کتاب عطا کرنے کے بعد اللہ نے بنی اسرائیل سے اس کتاب پر عمل کرنے کا پختہ عہد لیا تھا ، مگر اسرائیلیوں نے اس میں کمزوری دکھائی۔ اللہ نے فرمایا واذ………………فوقھم (اعراف 171) اور اس وقت کو یاد کرو جب کہ ہم نے پہاڑ کو ان کے اوپر معلق کردیا اور فرمایا کہ اب کتاب پر عمل کرنے میں پس وپیش کرتے ہو ، پختہ عہد کرو۔ ورنہ پہاڑ تمہارے سروں پر گرا دیا جائے گا۔ سورة البقرہ میں بھی ہے ورفعنا…………الطور (آیت 93) ہم نے کوہ طور تمہارے سروں پر بلند کردیا اور حکم دیا کہ اس عطا کردہ کتاب کو مضبوطی سے پکڑلو۔ چناچہ اسرائیلیوں نے پھر پختہ عہد کیا کہ ہم اس کتاب پر عمل پیرا رہیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے روحانی انعام تھا مگر اسرائیلیوں نے اس کی قدر نہ کی۔
آج مسلمانوں کے پاس بھی اللہ کی عظیم الشان کتاب قرآن حکیم موجود ہے مگر مسلمانوں میں صحیح ایمان موجود نہیں جس کی وجہ سے نہ ان کے اذہان صحیح ہیں۔ اور نہ کتاب کے ساتھ حقیقی عقیدت موجود ہے حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ قرب قیامت میں لایبقی من الکتب الا رسمہ کتاب اللہ کے محض نقوش ہی باقی رہ جائیں گے ، اس کی تعلیم ، تفہیم اور اس پر عمل ختم ہوجائے گا۔ قرآن پاک میں اولین اور آخرین کا علم موجود ہے ، صحیح احادیث میں اس کی تشریح بھی موجود ہے ، مگر مسلمان ہیں کہ اس کے علوم و معارف کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ اسی لئے تو اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر اس کتاب کو مضبوطی سے نہیں پکڑو گے فبای……………یومنون (المرسلت 50) تو پھر اس کے بعد کون سی کتاب آئے گی۔ جس پر ایمان لائو گے۔ یہ تو اللہ کی آخری کتاب ہے اور اس کے بعد رسالت اور کتب سماویہ کی آمد کا سلسلہ بند ہوچکا ہے۔ یہی وہ کتاب ہے جس میں دنیا اور آخرت کی فلاح کا راز پنہاں ہے اس کتاب کا دعویٰ ہے ذلک الکتب لاریب فیہ (البقرہ 2) کہ اس میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ ھدی للمتقین اس کے ذریعے تقویٰ اختیار کرنے والوں کی صحیح راہنمائی ہوتی ہے۔ منافق اس سے کوئی استفادہ نہیں کرسکتے۔ مگر یہ ہماری بدقسمتی کی انتہا ہے کہ اس عظیم نعمت کی موجودگی میں ہم اس کے فیوض وبرکات سے محروم ہیں۔ دنیا میں لا تعداد قانون بنتے ہیں جن میں ہزاروں خامیاں ہوتی ہیں جس کی وجہ سے قانون میں ترمیم کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے امریکہ ہو یا برطانیہ ، روس ہو یا جرمنی ، چین ہو یا جاپان قانون میں تبدیلی مسلسل جاری رہتی ہے۔ یہ صرف مسلمان ہیں کہ قرآن کریم کی صورت میں ایسا قانون موجود ہے جو پاکیزہ اور اٹل ہے اور اس میں کسی تغیر وتبدل کی ضرورت پیش نہیں آتی ، یہ قیامت تک کے لئے یکساں طور پر کار آمد قانون ہے ۔ جو انسان کی دنیوی اور اخروی فلاں کا ضامن ہے۔
مسلمانوں کی ذہنی غلامی :
آج دنیا میں مسلمانوں کی ذہنی غلامی کا حال ہے کہ ان میں ملی شعور تک باقی نہیں رہا۔ یہ نہ تو اپنے ذہن سے پروگرام بناسکتے ہیں اور نہ اس پر عمل کرسکتے ہیں۔ ان کے تمام پلان (منصوبے) امریکہ ، روس یا انگریز کے ذہن کی پیداوار ہوتے ہیں۔ اور ان کی تمام سکیموں میں ایک مشترک قدر یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح مسلمانوں کو اقتصادی ، سیاسی اور تعلیمی غلامی میں جکڑا جائے۔ آج ملک میں کوئی ایسا پلان موجود نہیں جو ملک میں بڑھتی ہوئی بےروزگاری کا سدباب کرسکے اور مسلمانوں کو اپنے پائوں پر کھڑا ہونے میں مدددے۔ ہر سال خسارے کا بجٹ بنتا ہے اور ملک مقروض سے مقروض تر ہوتا چلا جارہا ہے۔ کوئی مسیحا آج تک پیدا نہیں ہوا جو ملک کو غیراقوام کی اقتصادی اور ذہنی غلامی سے آزادہ کراسکے۔ کتنی ذلت کی بات ہے کہ ہمارے ملک کا کوئی نظام بھی بین الاقوامی پابندیوں سے آزاد نہیں۔ کہنے کو تو ہم آزادملک کے آزاد باشندے ہیں مگر بدترین قسم کی ذہنی غلامی میں جکڑے ہوئے ہیں۔ کاش کہ مسلمان اللہ کی کتاب سے راہنمائی حاصل کرتے۔ حضور ﷺ کے فرمان کو مشعل راہ بناتے خلفائے راشدین کے دور والے پروگرام بناتے ، مگر یہ سب کچھ بھول کر ہم نے اغیار کو ہی اپنا ہادی و راہنما تسلیم کرلیا ہے اور ہر معاملے میں انہی کی رائے کو صائب سمجھتے ہیں۔ یہودیوں ، عیسائیوں اور اشتراکیوں نے ہمارے اذہان کو اس قدر مائوف کردیا ہے کہ اب ہم انہی کے دماغ سے سوچتے اور انہی کے پروگرام پر عمل کرتے ہیں۔
من وسلویٰ بطور مادی نعمت :
کتاب کی روحانی نعمت کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک مادی نعمت کا ذکر کیا ہے جو اس نے بنی اسرائیل کو عطا فرمائی۔ یہ لوگ مصر سے نکل کر صحرائے سینا میں پہنچے تو ان پر غلامی کے اثرات ابھی تک موجود تھے۔ اللہ نے فرمایا کہ تم جہاد کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں شام و فلسطین کی سرزمین دوبارہ عطا کردے گا۔ مگر یہ لوگ غلامانہ ذہن کی وجہ سے اس قدر پست ہوچکے تھے کہ جہاد کے لئے تیار نہ ہوئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے فرمایا فانھا محرمۃ ……………الفسقین (المائدہ 26) سر زمین شام و فلسطین ان پر چالیس سال تک حرام قرار دے دی گئی ہے۔ یہ اسی صحرا میں سرگرداں پھرتے رہیں گے ، لہٰذا اے موسیٰ ! آپ اس فاسق قوم پر کچھ افسوس نہ کریں۔ بنی اسرائیل اس صحرا میں نظر بند ہو کر سزا بھگت رہے تھے۔ مگر اللہ نے اس حالت میں بھی ان کو اپنے انعامات سے نوازا۔
اس لق ودق صحرا میں بنی اسرائیل کے لئے اولین مسئلہ پانی اور خوراک کا تھا۔ ان کو لباس کی ضرورت تھی ، جب یہ لوگ مصر سے نکلے تھے تو اللہ نے عرصہ تک ان کے مصری لباسوں کو ان کے جسموں پر قائم رکھا اور معجزانہ طور پر ان کو پھٹنے سے محفوظ رکھا۔ چھ سات لاکھ کی آبادی کے لئے رات کو روشنی کا انتظام کیا۔ پانی کے لئے بارہ چشمے جاری کردیے۔ اور خوراک کے لئے فرمایا ونزلنا علیکم المن والسلویٰ اے بنی اسرائیل ! ہم نے تم پر من اور سلویٰ نازل فرمایا۔
من کا لفظی معنی احسان ہوتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام تھا کہ اس نے بنی اسرائیل کے لئے بغیر مشقت کے روزی کا سامان پیدا کردیا۔ یہاں پر من سے مراد ترنجبین جیسا شکر کا ایک مادہ ہے۔ جو بنی اسرائیلی بستیوں میں بارش کی ضرورت میں نازل ہوتا تھا۔ یہ لوگ اسے اکٹھا کرلیتے جو ان کی بہترین خوراک بنتا۔ انسانی جسم کی نشونما کے لئے دو بنیادی چیزیں ضروری ہیں۔ ایک شکر اور دوسری لمحیات۔ اطباء کہتے کہ ایک تندرست آدمی کے لئے سات سو کیلوری حرارت کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کے جسم میں موجود شکر سے پوری ہوتی ہے۔ آپ جو بھی خوراک استعمال کرتے ہیں وہ معدے اور جگر میں جاکر شکر انگوری میں تبدیل ہوجاتی ہے اور پھر خون میں شامل ہو کر انسانی جسم کی توانائی کو برقرار رکھتی ہے۔ اگر جس میں شکر کا نظام خراب ہوجائے تو ذیابیطس (Sugar شوگر) کی بیماری لاحق ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے انسانی جسم کی شکر کی ضروریات پوری نہیں ہوتیں اور وہ گھل گھل کر ختم ہوجاتا ہے۔ الغرض ! اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لئے ان کی خوراک کی ایک بنیادی ضرورت من نازل کرکے پوری کردی۔
خوراک کا دوسرا لازمی جزو ولحمیات (پروٹین) ہیں جسے اللہ نے سلویٰ شکل میں مہیا فرمایا۔ سلویٰ بٹیر کی قسم کا ایک جانور تھا۔ ہوا انہیں غول در غول بنی اسرائیل کی بستیوں کے قریب لے آتی تھی۔ اور پھر یہ لوگ انہیں پکڑ کر خوراک بنالیتے تھے۔ تمام حلال جانوروں اور پرندوں میں سے لطیف ترین گوشت بٹیر کا ہے ، اللہ تعالیٰ یہی پرندے بنی اسرائیل کو بیٹھے بٹھاے بھیج دیتا تھا ، وہ انہیں پکڑ کر ذبح کرتے اور اپنی خوراک بنالیتے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ خوراک بھی اسی طرح مفت مہیا فرمائی جس طرح خود رو کھنبیاں ہوتی ہیں جو بہار اور برسات کے موسم میں بغیرمحنت کے خود بخود اگ آتی ہے اور لوگ انہیں استعمال کرتے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے الکما من المن ومآء ھا شفآء للعین یعنی کھنبیاں من ہی کی قسم سے ہیں جن کا پانی آنکھوں کے امراض کے لئے شفا بخش ہے کھنبیاں پکا کر بطور سالن بھی استعمال کی جاتی ہیں اور ان کا ذائقہ بھی گوشت سے ملتا جلتا ہے۔ تو اللہ نے سلویٰ نازل فرما کر بنی اسرائیل کے لئے گوشت کا بندوبست بھی کردیا۔ اگر پاکیزہ گوشت میسر آجائے تو انسان کی تسلی ہوجاتی ہے اللہ نے اہل بہشت کے متعلق فرمایا ہے ولحم طیر مما یشتھون (الواقعہ 21) کہ ان کو پرندوں کا من پسند گوشت حاصل ہوگا۔ الغرض ! اللہ تعالیٰ نے سلویٰ کا انتظام بھی کردیا۔
خوراک کا بندوبست کرنے کے بعد اللہ نے فرمایا کلوا من طیبت مارزقنکم ان پاکیزہ چیزوں سے کھائو جو ہم نے تمہیں روزی دی ہے ولا تطغوا فیہ اور اس معاملہ میں سرکشی اختیار نہ کرو۔ اللہ کی قائم کردہ حدود سے تجاوز نہ کرنا کیونکہ اگر ایسا کرو گے فیحل علیکم غضبی تو تم پر میرا غضب اترے گا۔ یہ نہ سمجھنا کہ خدا کی نعمتوں کی ناقدری کرکے ، خدا کی کتاب کی توہین کرکے اور بدعملی کا مظاہرہ کرکے تم بچ جائو گے۔ نہیں بلکہ ایسا کرکے میرے غضب کو دعوت دینا ہے و من یحلل علیہ غضبی فقد ھوی اور جس پر میرا غضب نازل ہوا ، وہ ہلاکت کے گڑھے میں جاگرا۔ ایسا شخص ذلت اور عذاب سے بچ نہیں سکے گا۔
ایمان اور اعمال صالحہ :
آگے اللہ نے تصویر کا دوسرا رخ بھی واضح فرمایا وانی لغفار لمن تاب وامن وعمل صالحا بیشک میں بہت بخشنے والا ہوں اس شخص کو جس نے کفر ، شرک اور معاصی سے توبہ کرلی۔ اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت رسالت ، ملائکہ ، کتب سماویہ اور قیامت پر ایمان لے آیا۔ اس کے بعد اس شخص نے نیک اعمال بھی انجام دیے۔ ایسے نیک اعمال جن کی شریعت مطہرہ تصدیق کرتی ہے اور خود انسانی عقل بھی انہیں اچھا ہی سمجھتی ہے۔ فرمایا ثم اھتدی پھر ایسا شخص ہدایت کے راستے پر قائم رہا۔ اس نے مغضوبین اور مقہورین کا راستہ اختیار نہ کیا۔ سچے دل سے تائب ہوا ، ایمان لایا اور اعمال صالحہ انجام دیے تو ایسے شخص کے لئے میری بخشش کے دروازے کھلے ہیں۔ ہدایت کے راستے پر قائم رہنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان تادم مرگ صحیح راستے پر چلتا رہا۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا ہے۔ واعبد…………الیقین (الحجر 99) اپنے پروردگار کی اطاعت و عبادت میں مصروف رہو ، یہاں تک کہ تجھے موت آجائے۔
موسیٰ (علیہ السلام) کی عجلت :
جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر آنے کی دعوت دی تو آپ کے دل میں اللہ سے محبت کا اتنا اشتیاق پیدا ہوا کہ باقی لوگوں کو ہمراہ لے جانے کی بجائے فوری طور پر اکیلے ہی چلے آئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے استفسار آیا وما اعجلک عن قومک یموسیٰ ۔ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تجھے اپنی قوم کو پیچھے چھوڑ کر جلدی چلے آنے پر کس چیز نے آمادہ کیا ؟ تو عرض کیا قال ھم اولاء علی اثری وہ لوگ تو میرے پیچھے پیچھے ہی آرہے ہیں۔ وعجلت الیک رب لترضی اے پروردگار ! میں نے تیری طرف آنے میں جلدی اس لئے کی ہے تاکہ تو راضی ہوجائے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا حکم ملتے ہی جلدی جلدی تیار ہوگئے اور انہوں نے ذرا بھی دیرنہ کی۔ ان کا خیال یہ تھا کہ اللہ کے حکم کی جتنی جلدی تعمیل ہوگی ، اللہ اتنا ہی راضی ہوگا۔
قال اللہ نے فرمایا فانا قدفتنا قومک من بعدک اے موسیٰ ! ہم نے تیرے چلے آنے کے بعد تیری قوم کو فتنے میں ڈال دیا۔ آگے آرہا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر جانے کے لئے تیار ہوئے تو اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنا جانشین مقرر کردیا۔ آپ کے جانے کے بیس دن بعد سامری کا واقعہ پیش آگیا اور اس نے قوم کو شرک میں مبتلا کردیا اس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔ اسی واقعہ کے متعلق اللہ نے یہاں اشارتاً فرمایا ہے واضلھم السامری موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کو سامری نے گمراہ کرکے ان سے بچھڑے کی پوجا کرائی اور اس طرح انہیں شرک میں مبتلا کردیا۔
Ayahs 20:86–89ربط آیات :
اس سے پہلے اللہ نے فرعون اور اس کے لشکر کو بحر قلزم میں غرق کرنے کا واقعہ بیان کیا۔ پھر بنی اسرائیل کو اپنی عطا کردہ نعمتیں یاددلائیں۔ ان میں روحانی نعمت اللہ کی کتاب تورات بھی جو بنی اسرائیل کی اپنی خواہش کے مطابق انہیں عطا کی گئی اللہ کے حکم کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) نے چند منتخب آدمیوں کے ہمراہ کوہ طور پر چالیس دن اعتکاف کیا تو اللہ نے یہ نعمت عطا کی۔ اسی دوران میں اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ اطلاع بھی دی کہ ان کی قوم سامری کی تحریک پر بچھڑے کی پوجا جیسے قبیح فعل میں مبتلا ہوچکی ہے۔
سامری کون تھا :
سامری کی شخصیت کے متعلق مفسرین کرام نے مختلف باتیں بیان کی ہیں۔ بعض کہتے ہیں یہ شخص شمال کی طرف سے آنے والے قبائل میں سے سمیری قبیلے کا ایک فرد تھا ، اور بعض کہتے ہیں کہ یہ ایران کے صوبہ کرمان کا رہنے والا تھا ۔ بعض اس کا تعلق منگول نسل کے ساتھ جوڑتے ہیں کہ شمال کی طرف سے یہی لوگ آئے تھے بعض مفسرین کا خیال یہ ہے کہ سامری شام کی ایک بستی سامرہ کا رہنے والا تھا اور اسی نسبت سے سامری کہلاتا تھا۔
لیکن بعض مفسرین کا قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے جو کہتے ہیں کہ یہ شخص بنی اسرائیل ہی کا ایک فرد تھا ، بلکہ بعض تو اسے موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد یا خالہ زاد بھائی بتلاتے تھے مگر یہ آپ پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔ اگرچہ اپنی قوم میں ملا جلا ہوا تھا مگر منافق آدمی تھا۔ امام ابن جریر (رح) اور بعض دوسرے مفسرین نے یہ تفسیری روایت بیان کی ہے کہ اس شخص کا اصل نام موسیٰ بن ظفر تھا جب کہ اللہ کے نبی موسیٰ بن عمران تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش اللہ نے غیر معمولی طریقے پر فرعون کے گھر میں کی تو اس موسیٰ یعنی سامری کی پرورش کسی غار میں ہوئی۔ جب یہ بنی اسرائیل کے کسی گھر میں پیدا ہوا تو فرعونی حکم کے مطابق اس کے بھی قتل کیے جانے کا ڈر تھا ، لہٰذا اس کی ماں اس کو کسی غار میں پھینک آئی کہ شاید اسی طریقہ سے ان کی جان بچ جائے۔ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی پرورش حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعے کی۔ جبرائیل اپنی دو انگلیاں اس کے منہ میں ڈالتے تھے جس میں سے ایک انگلی سے دودھ اور دوسری سے شہد نکلتا تھا جو اس نوزائیدہ بچے کی خوراک بنتا تھا بعض تین اگلیوں کا ذکر کرتے ہیں کہ اس تیسری انگلی سے مکھن برآمد ہوتا تھا۔ اس واقعہ کے متعلق کسی شاعر نے بڑی پتے کی بات کی ہے ؎
موسی الذی رباہ جبریل کافر
وموسی الذی رباہ فرعون مرسل
جس موسیٰ کی پرورش جبرئیل (علیہ السلام) نے کی ، وہ تو کافر ہوا ، مگر جس موسیٰ کی پرورش فرعون کے ہاتھوں ہوئی اس کو رسالت کا مرتبہ عطا ہوا۔ بہرحال یہ شخص اسرائیلیوں میں سے ہی تھا اور انہیں میں ملا ہوا تھا۔ اس کی مثال شیطان کی ہے جو جن ہو کر فرشتوں میں ملا ہوا تھا۔ اور جس کے متعلق اللہ نے وضاحت فرمادی کان من……………ربہ (الکہف 50) جس طرح شیطان نے موقع ملنے پر اپنی کرتوت ظاہر کی اور فرشتوں کی صحبت سے کچھ فائدہ نہ اٹھایا بلکہ مردود ٹھہرا ، اسی طرح سامری بھی بنی اسرائیل سے تعلق کے باوجود موقع ملنے پر اپنی خباثت سے باز نہ آیا اور لوگوں کو بچھڑے کی پوجا پر لگا دیا ۔ اور اس طرح ہمیشہ کے لئے ملعون ٹھہرا۔
موسیٰ (علیہ السلام) کی ناراضگی :
موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے دوران اعتکاف ہی اطلاع دے دی تھی کہ آپ کی قوم فتنے میں مبتلا ہوچکی ہے۔ چناچہ جب چالیس دن کی مدت پوری ہوئی فرجع موسیٰ الی قومہ غضبان اسفا تو واپس لوٹے موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف اس حالت میں کہ وہ غصے سے بھرے ہوئے اور غمگین تھے۔ آپ نے آکر دیکھا کہ لوگ بچھڑے کی پوجا کر رہے ہیں تو سخت ناراض ہوئے۔ سورة اعراف میں بھی گزر چکا ہے اور آگے بھی آرہا ہے کہ اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) پر بڑی خفگی کا اظہار کیا کہ ان کی موجودگی میں قوم شرک میں مبتلا ہوگئی ہے۔ قوم کو بھی سخت ڈانٹ ڈپٹ کی کہ تم نے یہ کیا کام شروع کردیا ہے۔ توحید کا سبق دینے والے اللہ کے نبی کے لئے یہ بات واقعی اندوہناک تھی کہ ان کی چند دن کی علیحدگی کے دوران ہی قوم گناہ میں مبتلا ہوگئی۔ اللہ کے نبی کے لئے اس سے بڑھ کر کیا غم ہوسکتا تھا کہ اللہ کی وحدانیت پر ایمان رکھنے والے ہزاروں لوگ شرک جلی میں مبتلا ہوجائیں ۔ ہر اہل ایمان کے لئے یہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ کوئی شخص اس کے سامنے دین حق کو چھوڑ کر مرتد ہوجائے۔ مگر آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ معاشی بدحالی کی وجہ سے بنگلہ دیش کے دس لاکھ مسلمان عیسائیت قبول کرچکے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ نہ افرادی حیثیت سے مسلمان ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ حکومتی سطح پر ایسے بےبس لوگوں کو کوئی تعاون حاصل ہوتا ہے۔ دراصل اس وقت دنیا کی سپر پاورز نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو بےبس کررکھا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی ایک دوسرے کی مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ہمارے اس پاکستان میں بہت سے لوگوں کو عیسائی اور بعض کو مرزائی بنالیا گیا ہے ، مگر کسی کے کان پر جون تک نہ رینگی۔ دنیا میں عیسائیت نے وسیع جال پھیلا رکھا ہے ۔ ادھر دہرمیت بھی منہ کھولے مسلمانوں کو ہڑپ کر جانا چاہتی ہے جو کہ مسلمانوں کے لئے بہت بڑا حادثہ ہے۔ بہرحالموسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کے خلاف غضب اور افسوس فطری امر تھا۔
خدائی غضب کو دعوت :
قوم کی یہ حالت دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) کا رد عمل یہ تھا ۔ قال یقوم فرمایا اے میری قوم کے لوگو ! الم یعدکم ربکم وعد احسنا کیا تمہارے کیا تمہارے پروردگار نے تمہارے ساتھ اچھا وعدہ نہیں کیا تھا ؟ وعدہ تو یہی تھا کہ اپنے منتخب آدمیوں کے ساتھ کوہ طور پر چالیس دن تک عبادت و ریاضت میں مصروف رہو تو تمہیں تمہاری مطلوبہ کتاب عطا کروں گا۔ چناچہ اس وعدے کے مطابق ہم طور پر چلے گئے اور پھر تم نے پیچھے کیا گل کھلائے فرمایا افطال علیکم العھد کیا تم پر کوئی زمانہ دراز گزر گیا تھا۔ کہ تم شرک میں مبتلا ہوگئے۔ کل چالیس دن کی مدت میں سے صرف بیس دن میں ہی تم بگڑ گئے اور بچھڑے کو معبود بنالیا۔ فرمایا کیا مدت دراز ہوگئی تھی ، ام اردتم ان یحل علیکم غضب من ربکم یا تم نے جان بوجھ کر یہ ارادہ ہی کرلیا تھا کہ تم پر خدا تعالیٰ کا غضب اترا ہے تم نے تو خود اللہ کے غیظ وغضب کو دعوت دی ہے۔ فاخلفتم موعید پس تم نے میرے وعدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ میں نے تمہیں تاکید کی تھی کہ راہ راست پر قائم رہنا اور توحید خداوندی کا دامن نہ چھوڑنا میں نے ہارون (علیہ السلام) کو بطور نائب بھی تمہارے پاس چھوڑا ، اور میں نے صاف کہا تھا ولا تتبع سبیل المفسدین (الاعراف 142) کہ فسادیوں کی راہ پر نہ چلنا ، مگر تم تو حد سے تجاوز کرگئے اور میری بات پر عمل نہ کیا۔
بچھڑے کی مجسمہ سازی :
موسیٰ (علیہ السلام) کی ملامت کے جواب میں قالوا ان لوگوں نے کہا ما اخلفنا موعدک بملکنا اے (موسیٰ علیہ السلام) ! ہم نے آپ کے ساتھ کیے گئے وعدے کی خلاف ورزی اپنے اختیار سے نہیں کی۔ ملک کا لفظ تین قراتوں سے کیا جاتا ہے۔ یعنی ملک ملک اور ملک ۔ ملک اور ملک کا معنی کسی چیز کا قبضہ اور تصرف ہوتا ہے جبکہ ملک کا معنی بادشاہی ہے۔ تاہم اس مقام پر ملک سے مراد اختیار اور طاقت ہے ۔ کہنے لگے ہم نے وعدے کی خلاف ورزی خود بخود نہیں کی ۔ بات یہ ہے ولکنا حملنا اوزارا من زینۃ القوم بلکہ ہم سے قوم کی زینت کے بوجھ اٹھوائے گئے۔ اوزار جمع وزر ہے جس کا معنی بوجھ یا گناہ ہوتا ہے۔ اس سے مراد وہ زیورات ہیں جو مصر سے چلتے وقت اسرائیلیوں نے قبطیوں سے تقریب میں شرکت کے لئے مستعار لئے تھے۔ پھر کیا ہوا ، کہنے لگے فقذفنہا ہم نے ان زیورات کو پھینک دیا چونکہ ان کے مالک قبطی لوگ غرق ہوچکے تھے ، اس لئے یہ ان کو واپس نہیں کیے جاسکتے تھے اور نہ ہی ان کا استعمال ہمارے لئے جائز تھا ، لہٰذا ہم نے ان زیورات کو کسی جگہ دفن کردیا یا پھینک دیا تاکہ یہ استعمال میں نہ آسکیں۔ فکذلک القی السامری اور اس طرح سامری نے بھی ان کو پھینک دیا۔ اس کے بعد سامری کے شیطانی ذہن نے کام کیا۔ اس نے ان تمام زیورات کو جمع کیا ، سناروں کا کام تو جانتا ہی تھا فاخرچ لھم عجلا اس نے ان زیورات کو ڈھال کر بچھڑے کی ایک صورت بناڈالی وہ بچھڑا کیا تھا ؟ جسد لہ خوار ایک مجسمہ تھا جس سے بچھڑے کی سی آواز نکلتی تھی۔ جب اسرائیلیوں نے سونے کے بنائے ہوئے بچھڑے کو بولتے ہوئے دیکھا فقالو تو کہنے لگے ھذا الھکم والہ موسیٰ تمہارا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا معبود تو یہ ہے۔ فنسی پس موسیٰ (علیہ السلام) بھول کر طور پر کہاں چلے گئے ہیں ؟
مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ بات بنی اسرائیل کے بعض بیوقوف اور غالی قسم کے لوگوں نے کی تھی ، وگرنہ سمجھدار لوگ ایسی بات نہ کرسکتے تھے۔ مفسرین یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ جب بچھڑے سے آواز نکلتی تھی تو یہ لوگ اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے تھے بعض رقص کرتے اور کئی دوسری بیہودہ حرکات کرتے۔ اس طرح سامری کی تحریک پر یہ لوگ شرک کی لعنت میں گرفتار ہوگئے۔
اس آیت کریمہ میں زیورات کو بوجھ اور گناہ سے اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کہ ان کا استعمال اسرائیلیوں کے لئے جائز نہ تھا۔ کیونکہ وہ قبطیوں سے عاریتاً لائے تھے مگر ان کو واپس نہ کرسکے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ زیورات اسرائیلیوں نے مانگ کر نہیں لیے تھے بلکہ جب فرعونی غرق ہوئے تو اللہ کے حکم سے سمندر نے ان کے زیورات باہر پھینک دیے تھے جو ان کو بطور غنیمت حاصل ہوئے۔ مگر پہلی قوموں میں مال غنیمت کا استعمال بھی جائز نہیں تھا ، یہ صرف آخری امت کے لئے اللہ نے جائز قرار دیا ہے۔ مال غنیمت کے متعلق پہلی قوموں کے لئے دستور العمل یہ تھا کہ وہ سارامال اکٹھا کرکے کسی ٹیلے پر رکھ دیتے تھے جسے آگ آکر خاکستر کردیتی تھی۔ برحال قبطیوں کے زیورات کو گناہ اور بوجھ اس لئے کہا گیا ہے کہ ان کا استعمال اسرائیلیوں کے لئے روا نہیں تھا۔
گائے پرستی :
دراصل اسرائیلی ، بچھڑے کی پوجا پر اس لئے آسانی سے مائل ہوگئے کہ گائے پرستی پرانی اقوام مشمولہ مصریوں میں قدیم زمانے سے رائج تھی اور اسرائیلی اس سے واقف تھے۔ اس برصغیر میں بھی ہندو گائے کہ مقدس جانور سمجھ کر اس کی پوجا کرتے ہیں ، حتیٰ کہ اس کے پیشاب اور گوبر کو بھی نہ صرف پاک سمجھتے ہیں بلکہ ناپاک کو پاک بنانے والا مادہ سمجھتے ہیں۔ اگر کوئی مسلمان ہندوئوں کے باورچی خانے میں چلا جاتا ہے تو وہ سمجھتے ہیں۔ کہ مسلمان کے ہاتھ یا پائوں لگنے سے یہ جگہ ناپاک ہوگئی ہے ، چناچہ اس کی طہارت کے لئے اس پر گائے کے گوبر کا لیپ کرتے ہیں ۔ بہرحال اس تصور کے پس منظر میں جب بچھڑے کے مجسمے سے بچھڑے کی آواز نکلی تو اسرائیلی اس پر لٹو ہوگئے اور اسے معبود تسلیم کرلیا۔ انسانی دماغ کی کمزوری اور اس کی بےعقلی کی یہ انتہا ہے کہ جب ماننے پر آتا ہے تو بچھڑے کہ معبود بنالیتا ہے اور جب انکار کرتا ہے تو اللہ کے نبیوں کو پتھر مارتا ہے۔ اللہ نے یہاں پر بچھڑے کے متعلق اجمالات بات کی ہے۔ اس کے دوسرے اجزاء آگے آرہے ہیں۔ بچھڑے کے پچاریوں پر اظہار تاسف کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا ہے۔ افلا یرون الا یرجع الیھم قولا کیا یہ بیوقوف لوگ اتنا بھی نہیں دیکھتے کہ یہ بچھڑا ان کی بات کا جواب بھی نہیں دیتا۔ ولا یملک لھم ضرا ولا نفعا اور نہ ان کے لئے کسی نفع ونقصان کا اختیار رکھتا ہے اس جاہل قوم نے اس کو کیسے معبود تسلیم کرلیا ، جو نہ خالق ہے ، نہ قدرت تامہ کا مالک ہے ، نہ عالم الغیب ہے ، نہ ان کی کسی بات کا جواب دے سکتا ہے ۔ یہ صفات تو خداوندتعالیٰ میں پائی جاتی ہیں ، لہٰذا معبود برحق وہی ہے۔ ایسے ہی کفار ومشرکین کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے۔ ان شر…………………یعقولون (الانفال 22) ان کی مثال گونگے بہرے بدترین جانوروں کی ہے جو عقل سے خالی ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے کہ شرک عقلاً بھی درست نہیں۔ اگر کوئی شخص کسی جنگل یا پہاڑ کی چوٹی پر ہو جہاں کسی بنی یا مبلغ کا گزرنہ ہو ، تو اس سے نماز روزے وغیرہ کی پوچھ تو نہیں ہوگی ، لیکن اگر اس نے شرک کیا تو پکڑا جائے گا کیونکہ اللہ نے اسے عقل جیسی نعمت عطا کی ہے جسے بروئے کار لاکر وہ اپنے ارد گرد پھیلے ہوئے دلائل قدرت کو دیکھ کر اللہ کی واحدنیت کو پہچان سکتا تھا۔ اگر اس نے اپنی عقل کو صحیح استعمال نہیں کیا اور شرک میں مبتلا ہوگیا تو قابل مواخذہ ہوگا ، کیونکہ خدا کی توحید کو عقلی طور پر ماننا بھی ضروری ہے۔