Ayahs 20:25–36ربط آیات :
موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے سفر کرتے ہوئے وادی مقدس طویٰ میں پہنچے تو وہاں پر آپ کے سامنے حجاب ناری یا حجاب نوری ظاہر ہوا ، اور اللہ نے آپ سے کلام کیا۔ پھر اللہ نے اپنی واحدنیت کا ذکر کرکے حکم دیا کہ اے موسیٰ خاص میری عبادت کرو ، نماز قائم کرو اور وقوع قیامت پر یقین رکھو۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ وقوع قیامت کے منکر یا اس میں شک وتردد کا شکار ہیں آپ ان سے علیحدگی اختیار کریں۔ فرمایا ، قیامت کے دن ہر نفس کو اس کے کیے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ پھر اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے آپ کی لاٹھی کے متعلق سوال کیا اور پھر لاٹھی کے سانپ بن جانے کا معجزہ ظاہر کیا۔ اللہ نے یدبیضا کا معجزہ بھی موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا فرمایا۔ یہ دو بڑی نشانیاں دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ فرعون کے پاس جائو۔ اور اسے اللہ کی وحدانیت کی تبلیغ کرو کیونکہ وہ حد سے بڑھ چکا ہے۔ اب آج کے درس میں موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر ہے جو انہوں نے اپنے پروردگار کے سامنے اور اپنے مفوضہ کام میں آسانی چاہی۔
شرح صدر کی دعا :
جب موسیٰ (علیہ السلام) جان گئے کہ اللہ نے انہیں نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا ہے اور ان کے ذمے ایک بہت بڑا کام لگایا ہے تو اس راستے کی تمام مشکلات ان کے سامنے آگئیں جن سے عہدہ برآ ہونے کے لئے آپ نے اللہ تعالیٰ سے اس طرح دعا کی۔ قال رب اشرح لی صدری ، عرض کیا ، اے پروردگار ! میرا سینہ کھول دے ، تاکہ اس میں کوئی گھٹن یا تنگی باقی نہ رہے۔ مولا کریم ! میرے اندر حلم ، بردباری اور برداشت کا مادہ پیدا کردے ، تاکہ میں اس راستے میں آنے والی تمام مشکلات پر قابو پاسکوں۔ آپ جان چکے تھے کہ تبلیغ دین کے سلسلے میں مختلف قسم کے لوگوں سے واسطہ پڑیگا اور بہت سی خلاف طبع چیزیں بھی سامنے آئیں گی جن کو برداشت کرنے کے لئے عزم وحوصلے کی ضرورت ہے۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے یہی دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے تاکہ میں تمام مشکلات کا کشادہ روئی اور خندہ پیشانی سے سامنا کرسکوں ۔ چناچہ جیسا کہ آگے آرہا ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ دعا قبول فرمائی۔
اللہ تعالیٰ نے شرح صدر کی نعمت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی انکی دعا کے نتیجے میں عطا فرمائی تھی جب کہ حضور خاتم النبیین ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے از خود بطور احسان جتلایا الم نشرح لک صدرک (الم نشرح۔ 1) کیا ہم نے آپ کا سینہ (ازخود) کھول نہ دیا ؟ تاکہ آپ تبلیغ دین کے راستے میں آنے والی تمام مشکلات کو عبور کرسکیں۔ سورة الزمر میں اسلام قبول کرنے کے سلسلہ میں بھی شرح صدر کا ذکر ہے۔ افمن شرح……………من ربہ (الزمر 22) بھلا جس شخص کا سینہ خدا تعالیٰ نے اسلام کے لئے کھول دیا ہو ، اور وہ اپنے پروردگار کی طرف سے روشنی پر ہو ، تو کیا وہ سخت دل کافر کی طرح ہوسکتا ہے ؟ بہرحال سینے کی کشادگی خدا تعالیٰ کا انعام ہے ، اسی لئے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے لئے دعا کی اور ساتھ یہ بھی عرض کیا ویسرلی امری مولا کریم ! جو کام تو نے میرے سپرد کیا ہے اس کو میرے لیے آسان فرما دے۔ یہ دو دعائیں تھیں جو ہر مومن اپنے لئے اللہ کے حضور کرتا ہے۔ شرح صدر اور معاملات میں آسانی ہر مومن کی ضروریات میں داخل ہیں۔
زبان کی لکنت
آگے تیسری دعا کا ذکر ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ خاص تھی۔ آپ کی زبان میں قدرے لکنت تھی جسے دور کرنے کے لئے آپ نے عرض کیا واحلل عقدۃ من لسانی اے پروردگار ! میری زبان کی گرہ کھول دے۔ زبان کی لکنت کے متعلق مفسرین کرام دو مختلف وجوہات بیان کرتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان میں پیدائشی طور پر گرہ تھی جس کی وجہ سے لکنت پیدا ہوگئی تھی تاہم عام طور پر مفسرین ایک دوسری وجہ بیان کرتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ فرعون بڑا مغرور تھا ، اسے اپنے مال ودلت پر بڑا گھمنڈ تھا۔ زیب وزینت کا ہر سامان استعمال کرتا تھا۔ ہیرے اور جواہرات پہنتا تھا اور داڑھی کی خوبصورتی کے لئے اس پر سونے کا برادہ لگاتا تھا۔ ایک دفعہ موسیٰ (علیہ السلام) بچپن میں فرعون کے پاس کھیل رہے تھے کہ اچانک انہوں نے فرعون کی داڑھی میں ہاتھ مار دیا ، جس سے داڑھی کا بنائو سنگھار خراب ہوگیا۔ فرعون نے اس حرکت کو اپنی داڑھی کی توہین پر محمول کیا اور بچے کو قتل کرنا چاہا مگر مومنہ بیوی آسیہ نے کہا کہ یہ بچہ ہے ، بھلا اسے کیا شعور ہے ۔ جب فرعون کا اصرار بڑھا تو بیوی نے ایک ترکیب نکالی۔ کہنے لگی اگر بچے کے شعور کا امتحان لینا ہے تو اس کے سامنے ایک طشت میں ہیرے جواہرات رکھ دو اور دوسرے میں جلتے ہوئے کوئلے ڈال دو ، اور پھر دیکھو کہ بچہ کون سی چیز کو پسند کرتا ہے۔ فرعون کو بیوی کی یہ تجویزسند آئی اور اس نے یہ تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے دونوں طشت رکھے گئے۔ ایک میں جواہرات تھے اور دوسرے میں جلتے کوئلے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جلتا ہوا کوئلہ پکڑ کر منہ می ڈال لیا زبان جل گئی ، اور اس میں گرہ پڑگئی جو آپ کی لکنت کا باعث بنی ، تاہم فرعون کی سمجھ میں بات آگئی اور اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا ارادہ ترک کردیا۔ بہرحال آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ ! میرا سینہ کھول ، میری زبان کی گرہ دور کردے یفقھوا قولی تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں۔
ہارون (علیہ السلام) بطور معاون :
دوسری خاص دعا جو موسیٰ (علیہ السلام) نے کی ، وہ یہ تھی واجعل لی وزیرا من اھلی اور بنادے میرے لئے وزیر یا معاون میرے گھر والوں میں سے۔ اور وہ کون ہو ؟ ھرون اخی وہ میرے بھائی ہارون ہیں ، وزیر کا لغوی معنی بوجھ اٹھانے والا ہوتا ہے۔ وزیر چونکہ امور مملکت میں بادشاہ یا امیر کا معاون بن کر اس کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ اس لئے وزیر کہلاتا ہے۔ ہر سربراہ مملکت کے لئے وزیر کا ہونا ضروری ہے کیونکہ وہ اکیلا تمام امور انجام نہیں دے سکتا۔ حدیث شریف میں آتا ہے ، کہ اللہ تعالیٰ جس حاکم کے ساتھ بہتری کا ارادہ فرماتا ہے ، اس کے لئے اچھاوزیر متعین کرتا ہے تاکہ اچھا مشورہ دے کر امور سلطنت میں ممدومعاون بنے اور جس امیر کے ساتھ اللہ تعالیٰ بہتری کا ارادہ نہیں رکھتا ، اس کو وزیر بھی برے ہی ملتے ہیں ، جو اسے غلط مشورے دے کر امور مملکت میں خرابی کا باعث بنتے ہیں۔ اکثر وبیشتر وزراء ایسے ہی ہوتے ہیں جو قومی اور ملکی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں ، خوشامدی ہوتے ہیں اور امیر کو غلط راہ پر ڈالنے کا سبب بنتے ہیں۔ مطلب یہ کہ اچھا وزیر ملک کی بہتری کا ضامن ہوتا ہے جب کہ برا وزیر برائی کی علامت ہوتا ہے۔ بہرحال موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے معاون اور وزیر کے طور پر اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کا انتخاب کیا۔
پھر عرض کیا کہ مجھے ایسے معاون کی ضرورت ہے اشد دبہ ازری جس کے ذریعے میرے کمر مضبوط ہو۔ کمر کی مضبوطی سے مراد یہ ہے کہ تمام امور سلطنت احسن طریقے سے انجام پاتے ہیں اور ان میں کسی قسم کی خرابی پیدا نہ ہو۔ اگر سلطنت کے کام ڈھیلے ڈھالے ہوں گے تو یہ کمر کی کمزوری پر دلالت کرے گا۔ اسی لئے فرمایا کہ میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) کے ذریعے میری کمر کو مضبوط فرما۔ واشر کہ فی امری اور اس میرے کام میں شریک فرمادے ، نبوت و رسالت کے امو ر میں شراکت کی درخواست ایک عظیم سفارش تھی۔ دوسری جگہ قرآن پاک میں ہے کہ مجھے بھائی کو بطور معاون اس لئے بھی ضرورت ہے ھوافصح منی لسانا (القصص 34) کہ وہ مجھ سے زبان میں زیادہ فصیح ہے وہ اپنا مافی الضمیر بہتر طریقے پر پیش کرسکتا ہے۔ لہٰذا تبلیغ دین اور لوگوں کی تعلیم وتربیت کے لئے میرے بھائی کو میرا معاون و مددگار بنادے۔
عرض کی کی نسبحک کثیرا اس انعام کے شکریہ کے طور پر ہم تیری زیادہ تسبیح بیان کریں گے ونذکرک کثیرا اور تیر کثرت سے ذکر کریں گے انک کنت بنا بصیراً بیشک تو ہمارے حالات کو خوب دیکھنے والا ہے۔ تو ہماری حالت اور ضرورت کو جانتا ہے مولا کریم ! میری یہ دعا قبول فرما۔
دعا موسیٰ (علیہ السلام) کر رہے ہیں مگر انہوں نے اللہ کی تسبیح وتذکیر میں ہارون (علیہ السلام) کو بھی شامل کرلیا ہے کہ ہم دونوں…کثرت سے تیری تسبیح بیان کریں گے اور کثرت سے تیراذکر کریں گے۔ فرد واحد اکیلا ہوتا ہے جب کہ دو میں اجتماعیت پائی جاتی ہے جو کہ بہت بڑی چیز ہے۔ جو کام ایک آدمی نہیں کرسکتا ، وہ دو مل کر کرلیتے ہیں اور جو دو سے نہیں ہوپاتا ، اسے جماعت مل کر انجام دیتی ہے۔ گویا اجتماعی امور کے لئے جماعت کا ہونا ضروری ہے۔ تمام اہم کام جماعت کے ذریعے انجام پاتے ہیں ، لہٰذا موسیٰ (علیہ السلام) نے تسبیح وتذکیر کے لئے دونوں کا ذکر کیا۔
دعا کی قبولیت :
اس دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا قال قد اوتیت سئولک یموسیٰ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تحقیق دیا گیا ہے تجھے تیرا سوال مطلب یہ کہ اللہ نے تمہاری دعا قبول کرکے تمہاری مطلوبہ چیز عطا کردی ہے آپ کا سینہ کھول دیا ہے ، آپ کے کام میں آسانی پیدا کردی ہے ، زبان کی گرہ کسی حد تک کھول دی ہے اور تمہارے بھائی ہارون کو تمہارا معاون بنادیا ہے ۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان کی گرہ مکمل طور پر نہیں کھولی گئی تھی بلکہ اتنی مقدار میں دور کی گئی تھی جس سے بات کرنے میں آسانی پیدا ہوگئی تھی ، اس کے باوجود لکنت کا کچھ حصہ آپ کی زبان میں باقی رہ گیا تھا۔ مفسرین یہ بھی فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے مکمل گرہ کشائی کے لئے دعا ہی نہیں کی تھی۔ اگر ایسا کرتے تو مکمل شفاء ہوجاتی۔ باقی دعا کو اللہ نے مکمل طور پر منظور کرلیا اور ہارون (علیہ السلام) کو نبی اور معاون بنادیا۔ اس کے بعد آپ کو فرعون کے پاس جاکر بلیغ کرنے کا حکم ہوا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی بلکہ بہت بڑا کام تھا جس کی تفصیلات آگے آرہی ہیں۔
Ayahs 20:37–41ربط آیات :
موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے واپسی پر وادی طویٰ میں پہنچے تو آپ کو اللہ نے نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور آپ کو شرف ہمکلامی حاصل ہوا۔ اس منصب جلیلہ پر فائز ہوتے وقت آپ کو اپنے راستے میں جو مشکلات نظر آئیں ، ان سے عہدہ برا ہونے کے لئے آپ نے اللہ کے حضور دعا کی۔ آپ نے اپنی زبان کی گرہ کشائی ، اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کے تعاون اور سارے معاملے کی آسانی کے لئے رب العزت سے درخواست کی۔ اللہ نے جواباً فرمایا کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی ہے اور اس طرح تمہارے سوال کو پورا کردیا گیا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص مہربانی سے ہارون (علیہ السلام) کو منصب رسالت پر فائز کیا ، زبان کی لکنت کسی حد تک دور کردی اور تبلیغ رسالت کے راستے میں آنے والی تمام مشکلات کو آسان بنانے کا وعدہ فرمایا۔
وحی بطرف ام موسیٰ :
اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بعض دوسرے احسانات کا ذکر کیا ہے جو اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر کیے ارشاد ہوتا ہے۔ ولقد مننا علیک مرۃ اخری اور ہم نے آپ پر دوسری مرتبہ بھی احسان فرمایا۔ اس احسان کا تعلق موسیٰ (علیہ السلام) کی بچپن کی زندگی سے ہے۔ اذا اوحینا الی امک ما یوحی جب کہ ہم نے وحی کی تمہاری والدہ کی طرف جو کچھ بھی وحی کی گئی۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ وہ کسی غیر نبی کی طرف وحی نبوت نہیں بھیجتا۔ عورت ہونے کے ناطے سے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نبی نہیں تھیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وما ارسلنا……………الیھم (یوسف 109) آپ سے پہلے ہم نے صرف مردوں پر ہی وحی بھیجی ہے۔ البتہ بطور الہام وحی غیر نبی حتیٰ کہ عورت پر بھی ہوسکتی ہے جیسا کہ مریم ؓ کے متعلق فرمایا فارسلنا الیھا روحنا (مریم۔ 17) ہم نے اس کی طرف اپنا فرشتہ بھیجا۔ ایسی وحی ، القا کشف ، غیبی آواز یا فرشتے کے ذریعے ہوسکتی ہے۔
صاحب کشاف کہتے (کشاف ص 62 ج 3 (فیاض) ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو وحی موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کی طرف کی ، وہ براہ راست نہیں تھی بلکہ اس وقت کے نبی یا رسول کی معرفت کی گئی تھی ۔ اس کی مثال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کی طرف وحی کی ہے اللہ نے فرمایا واذ…………الحوارین (المائدہ 111) اور اس واقعہ کو یاد کرو جب کہ میں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کی طرف وحی کی۔ اور یہ وحی عیسیٰ (علیہ السلام) کی وساطت سے ہی ہوئی تھی۔ اسی طرح اللہ نے اپنے کسی نبی یا رسول کی معرفت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کی طرف وحی کی بعض یہ بھی فرماتے ہیں کہ ام موسیٰ کی طرف وحی بذریعہ خواب کی گئی تھی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خواب میں یہ بات سمجھادی ہو۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے یہ احسان بھی فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کی طرف اپنی وحی بھیجی۔
بچپن میں حفاظت :
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر یہ احسان بھی فرمایا کہ پیدائش کے فوراً بعد ان کی حفاظت کی اور انہیں قتل ہونے سے بچا لیا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ فرعون نے ایک خود ساختہ اصول یہ بنارکھا تھا کہ ایک سال پیدا ہونے والے اسرائیلی بچوں کو قتل کرادیتا اور دوسرے سال پیدا ہونے والوں کو زندہ رہنے دیتا۔ اس کی یہ کارگزاری اس بناء پر تھی کہ کسی نجومی یا مشیروں نے اس کے ذہن میں یہ بات ڈال دی تھی کہ عبرانیوں میں ایک ایسا بچہ پیدا ہونے والا ہے جو تیری سلطنت کیزوال کا باعث بنے گا۔ چناچہ اس نے نوزائیدہ اسرائیلی بچوں کو قتل کرانا شروع کردیا۔ سورة بقرہ میں اللہ نے بنی اسرائیل کو خطاب کرکے یاددلایا ہے کہ اس وقت کو یاد کرو جب میں نے فرعونیوں سے تمہیں نجات دلائی ، ان کے ظلم وستم اس انتہا کو پہنچ چکا تھا یذبحون………………عظیم (آیت 49) کہ وہ تمہارے بچے قتل کردیتے تھے اور تمہاری بچیاں زندہ چھوڑ دیتے تھے اور اس میں تمہارے لئے تمہارے پروردگار کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔
بہرحال اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی بچپن میں حفاظت کرکے دوسرا احسان کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو بذریعہ وحی یہ تدبیر سمجھائی کہ اگر بچے کو فرعونی قتل سے بچانا ہے۔ ان اقذفیہ فی التابوت تو اس کو کسی تابوت (صندوق) میں بن کردو فاقذ فیہ فی الیم اور اس صندوق کو دریا میں بہادو فلیلقہ الیم باالساحل دریا اسے کسی ساحل پر پھینک دے گا یاخذہ عدولی وعدولہ پھر اس تابوت کو میرا اور اس بچے کا دشمن (فرعون) پکڑے گا۔ اور اس طرح اس کی جان بچ جائے گی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے وحی الٰہی کی تدبیر پر عمل کیا۔ بچے کو صندوق میں بند کرکے دریائے نیل میں ڈال دیا۔ صندوق دریا میں بہتا ہوا فرعون کے محل کے قریب پہنچا۔ اس وقت فرعون کی بیٹی غسل کررہی تھی۔ اچانک اس کی نظر صندوق پر پڑگئی تو نوکرانی کو حکم دیا کہ اس کو باہر نکال لاو۔ جب صندوق کو کھولا گیا تو اس میں ایک خوبصورت نوازئیدہ بچہ تھا فرعون کی بیوی آسیہ بڑی صالح خاتون تھیں جن کا تعلق عبرانی خاندان سے تھا۔ اس نے فرعون کو مشورہ دیا کہ اس بچے کو قتل نہ کرو۔ بچہ ہونہار معلوم ہوتا ہے عسی ان…………والدا (القصص 9) ہوسکتا ہے کہ یہ ہمیں کوئی فائدہ پہنچائے ۔ یا ہم اسے بیٹا بنالیں اور اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی جان بچ گئی۔
فرمایا ایک تو تمہاری جان بچائی اور دوسرا تمہاری کفالت کا انتظام بھی خود کفالت کا تمہاری والدہ ہی کے سپرد کردیا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ والقیت علیک محبۃ منی اور میں نے اپنی طرف سے تم پر محبت ڈال دی۔ جو بھی اس خوبصورت چہرے کو دیکھتا محبت کرنے لگتا۔ اور یہ اس وجہ سے ولتصنع علی عینی تاکہ میری آنکھوں کے سامنے تیری پرورش کی جائے اور پرورش کی صورت یہ پیدا کی۔ اذ تمشی اختک جب تمہاری والدہ نے صندوق کو دریا میں بہادیا تو تمہاری بہن اس صندوق کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی تاکہ دیکھ سکے کہ یہ صندوق کس کے ہاتھ آتا ہے اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے۔ والدہ کے حکم کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن صندوق کو نگاہ میں رکھے ہوئے اس طرح چلتی رہی کہ کسی کو شبہ بھی نہ پڑے کہ یہ صندوق کی نگرانی کررہی ہے۔ بائیبل کے بیان کے مطابق یہ بہن موسیٰ (علیہ السلام) سے پندہ سال بڑی تھی۔ سورة قصص میں اس واقعہ کی مزید تفصیل بھی ہے۔ بہرحال جب بچہ فرعون کے محل میں پہنچ گیا تو اسے دودھ پلانے کی کوشش کی گئی۔ مگر اللہ نے فرمایا وحرمنا علیہ المراضع (قصص 12) ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر دائیوں کا دودھ حرام کردیا۔ وہ کسی عورت کا دودھ نہیں پیتے تھے۔ اتنے میں آپ کی بہن بھی اجنبی صورت میں وہاں پہنچ گئی معاملہ کی نزاکت کے پیش نظر اس نے ناصحانہ انداز میں کہا فتقول علی ادلکم علی من یکفلہ ، کیا میں تمہیں وہ شخص بتائوں جو اس بچے کی کفالت کرسکے ؟ بائیبل کی روایت کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن مریم نے کہا ، کیا میں عبرانیوں میں سے کسی عورت کو بلالائوں ، شاید یہ بچہ اس عورت کا دودھ پی لے۔ گھر والوں نے اجازت دے دی تو مریم اپنی والدہ کو بلا لائی ، اس نے آتے ہی بچے کو چھاتی سے لگایا تو بچہ دودھ پینے لگا۔ گھر والوں کو بڑی خوشی ہوئی کہ بچے نے ایک عبرانی عورت کا دودھ قبول کرلیا ہے۔ فرعون نے حکم دیا کہ تم اس بچے کو دودھ پلاتی رہے۔ اس کا خرچہ ہم برداشت کریں گے۔ اور تمہیں اس کا معاوضہ بھی دیں گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے کہا کہ گھر میں میرے اپنے بچے بھی ہیں جن کی دیکھ بھال کرنا ہوتی ہے لہٰذا اجازت دو تو میں اس بچے کو بھی اپنے گھر میں لے جائوں اور وہیں اس کی پرورش کروں۔ فرعون اور اس کے گھر والے اس پر رضامند ہوگئے۔
اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ احسان جتلایا کہ دیکھو موسیٰ (علیہ السلام) ! اس تدبیر کے ذریعے فرجعنک الی امک ہم نے تجھے تیری والدہ کی طرف لوٹا دیا۔ کی تقرعینھا تاکہ تمہاری والدہ کی آنکھ ٹھنڈی ہو ولا تحزن اور وہ بچے کی جدائی کے غم میں مغموم نہ رہے۔ اللہ نے ایسے اسباب پیدا کیے کہ بچہ بھی واپس ماں کو مل گیا اور اس کے ساتھ ساتھ کفالت کی اجرت بھی ملنے لگی۔
دیگر احسانات :
اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر کیے جانے والے بعض دیگر احسانات کا ذکر بھی فرمایا ہے۔ وقتلت نفسا اور اس بات کو یاد کرو جب تم نے ایک جان کو قتل کردیا۔ جب ایک عبرانی اور قبطی آپس میں جھگڑ رہے تھے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے مظلوم عبرانی کو چھڑانے کے لئے قبطی کو ایک مکا مار دیا جس سے وہ ہلاک ہوگیا ، حالانکہ آپ کا ارادہ قتل کا نہیں تھا۔ یہ واقعہ آگے بیان ہورہا ہے۔ جب لوگوں کو پتہ چلا کہ اس قبطی کو موسیٰ (علیہ السلام) نے قتل کردیا تو وہ آپ کی جان کے درپے ہوگئے کسی واقت راز نے آپ کو خبردار کردیا کہ سرکاری کارندے آپ کو گرفتار کرنے کے لئے آپ کی تلاش میں ہیں۔ لہٰذا آپ یہاں سے چلے جائیں چناچہ آپ مصر سے مدین کی طرف چل دیے۔ اسی واقعہ کے پس منظر میں اللہ نے یہاں فرمایا ہے فنجینک من الغم ہم نے تمہیں غم سے نجات دی۔ تم مصر سے چلے گئے اور مدین میں تمہیں امن حاصل ہوگیا۔ فرمایا وفتنک فتونا اور ہم نے تمہیں مختلف آزمائشوں میں ڈالا۔ پیدائش کے وقت قتل ہونے سے بچایا۔ اپنی ہی والدہ کا دودھ بھی مہیا کیا۔ پھر قتل خطا کی آزمائش میں ڈالا ، اس کے بعد مدین کے سفر کی آزمائش میں مبتلا کیا۔ تاہم ان تمام آزمائشوں میں سرخرو فرمایا۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے خصوصی احسانات ہیں۔
پھرمدین کے حالات یاد دلاتے ہوئے فرمایا فلبثت سنین فی اھل مدین پھر آپ کئی سال اہل مدین کے پاس رہے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دس سال تک خدمت کی۔ ان کی بیٹی سے نکاح یکا ثم جئت علی قدر یموسیٰ پھر اے موسیٰ (علیہ السلام) ! ایک اندازے کے مطابق آپ واپس آئے۔ جب والدہ اور بھائی سے ملاقات کے لئے اپنی بیوی کے ہمراہ واپس مصر آرہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے وادی طویٰ میں نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا۔ واصطنعتک لنفسی اور تجھے خاص اپنی ذات کے لئے منتخب کیا۔ تمہیں اپنے لئے پسند فرمایا ۔ نبوت و رسالت عطا فرمائی اور اپنے خاص مقربین میں شامل کیا ۔ سورة اعراف میں ہے انی ………………وبکلامی (آیت 144) میں نے تمہیں لوگوں میں سے نبوت و رسالت کے لئے منتخب کیا اور تجھے ہم کلامی کا شرف بخشا۔ اللہ تعالیٰ نے ان احسانات کا ذکر کیا۔ اور پھر آگے تبلیغ پر مامور کرنے کی بات آرہی ہے۔
Ayahs 20:47–48ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا واقعہ بیان کرکے حضور خاتم النبیین (علیہ السلام) اور آپ کے رفقاء کو تسلی دی ہے کہ مشکلات پیش آنے پر دل برداشتہ نہ ہوں بلکہ اپنا کام کرتے جائیں۔ سورة ہذا کے نزول کے زمانے میں حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ بڑی اذیتیں برداشت کر رہے تھے اور بعض حبشہ کی طرف ہجرت بھی کرچکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر کیے جانے والے احسانات کا ذکر بھی کیا ہے۔ اللہ نے آپ کو اپنا خاص تقرب عطا فرمایا ، آپ سے کلام کیا نیز فرمایا واصطنعتک لنفسی میں نے تجھے خاص اپنی ذات کے لئے منتخب کیا ہے لہٰذا تم ہمہ وقت میری مرضیات پر چلتے رہو۔
ذکر الٰہی کی تلقین :
آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو فرعون کی طرف تبلیغ کے لئے جانے کا حکم دیا ہے اور اس کے ساتھ ذکر الٰہی کو جاری رکھنے کی تلقین کی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے اذھب انت واخوک بایتی اے موسیٰ ! تم اور تمہارا بھائی فرعون کی طرف جائو۔ میری نشانیوں کے ساتھ۔ اصل خطاب موسیٰ (علیہ السلام) سے ہے جنہیں بھائی ہارون (علیہ السلام) کا تعاون حاصل ہے جو آپ کو اپنی دعا کے نتیجے میں حاصل ہوا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے دو عظیم معجزات کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ ان میں سے ایک معجزہ کے ذریعے موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی سانپ بن گئی تھی اور دوسرا معجزہ یدبیضا کا تھا۔ معجزہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے جو نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہوتا ہے ، اور کوئی نبی از خود کوئی معجزہ پیش کرنے پر قادر نہیں ہوتا۔ بہرحال فرمایا کہ تم دونوں بھائی میری نشانیاں لے کر فرعون کے پاس جائو ، اور یادرکھو ولا تنیا فی ذکری میری یاد میں سستی نہ کرنا بلکہ ہمیشہ ذکر میں مصروف رہنا۔ ذکر الٰہی ایک ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے اعمال خیر کی انجام دہی میں تقویت پیدا ہوتی ہے اور انسان کے دل میں اطمینان پیدا ہوتا ہے۔ اسی لئے اہل ایمان کو دوران نماز اور اس کے علاوہ صبح وشام حتیٰ کہ میدان جنگ میں بھی ذکر الٰہی کو جاری رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک شخص نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی نصیحت فرمائیں ، آپ (ترمذی ص 486 (فیاض) ارشاد فرمایا لا یزال لسانک رطبا من ذکر اللہ یعنی تمہاری زبان ہر وقت اللہ کے ذکر سے تر رہنی چاہیے۔ خود اللہ تعالیٰ کا ارشاد بھی ہے کہ دشمن کے مقابلے میں ڈٹ جائو واذکروا……………تفلحون (انفال 45) اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے رہو تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو۔ ذکر ایک ایسی عبادت ہے ۔ جس کی کوئی تحدید (Limitation لمیٹیشن) نہیں ہے۔
سب سے آسان ذکر لسافی ہے انسان زبان کے ساتھ کلام پاک کی تلاوت کرتا ہے۔ اللہ کی تسبیح وتہلیل کرتا ، استغفار پڑھتا ہے اور درود شریف کا ورد کرتا ہے۔ زبانی ذکر کے علاوہ قلبی ذکر بھی ہوتا ہے۔ جو لوگ محنت کرتے ہیں ، ان کے قلب ، روح اور لطائف باطنی بھی اللہ کا ذکر کرتے ہیں مگر یہ خالص لوگ ہوتے ہیں۔ صاحب حصن حصین نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور وفکر بھی ذکر میں داخل ہے۔ فرمایا کل مطیع للہ فھوذاکر اللہ تعالیٰ کی اطاعت بجالانے والا ہر شخص اللہ کا ذکر کررہا ہے۔ ہر نیکی کا کام ذکر الٰہی میں شامل ہے۔ اسی لئے اللہ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو فرمایا کہ میرے ذکر میں سستی نہ کرنا۔
تبلیغ کے آداب :
اللہ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو فرمایا اذھبا الی فرعون انہ طغی تم دونوں فرعون کے پاس جائو ، کیونکہ وہ سرکشی اختیار کرچکا ہے۔ یعنی وہ ظلم و استبداد میں حد سے تجاوز کرچکا ہے۔ وہ رب اعلیٰ بن رہا ہے اس کے پاس جائو فقولا لہ قولا لینا اور اس سے نرم لہجے میں بات کرو کیونکہ تبلیغ حق کے معاملہ میں نرم رویہ اختیار کرنا بہت بڑا اصول ہے۔ خود حضور ﷺ نے بھی یہی اصول اپنایا۔ جہاں سختی کی ضرورت تھی وہاں آپ نے ذرا نرمی نہیں کی مگر جب تبلیغ کا مقام آیا تو نہایت نرم رویہ اختیار کیا۔ آپ عکاظ کی منڈی پر تشریف لے گئے۔ اوباش لڑکے آپ کو پتھر مارتے اور گا لیں دیتے تھے مگر آپ زریں اصول پر کار بند رہتے ہوئے فرما رہے تھے (مواردالظمان ص 406 (فیاض) قول والا الہ الا اللہ تفلحوا لوگو ! کلمہ طیبہ پڑھ لو ، فلاح پاجائو گے کامیاب ہوجائو گے۔ مبلغین کے دستور العمل میں یہ بات شامل ہے کہ تبلیغ کے معاملہ میں سختی نہ کی جائے اور نہ کسی کے درپے ہوں ، بلکہ احسن طریقے سے بات سمجھانے کی کوشش کی جائے۔ اللہ نے فرمایا بلغ ما انزل الیک من ربک (المائدہ 67) جو کچھ آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے ، آپ اسے لوگوں تک پہنچا دیں کیونکہ ان علیک الا البلغ (الشوریٰ 48) آپ کا کام صرف پہنچا دینا ہے اور آگے حساب لینا ہمارا کام ہے۔ ولا تسئل…………الجحیم (البقرہ 119) آپ سے دوزخ والوں کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا کہ وہ دوزخ میں کیوں گئے بلکہ یہ تو خود ان سے پوچھا جائے گا کہ تم دوزخ میں کیوں آئے۔ مطلب یہ کہ تبلیغ کے مقام میں سختی اختیار کرنا درست نہیں ہے۔
اللہ نے فرمایا ، فرعون کے پاس جاکر نرمی سے بات کرنا لعلہ یتذکر شاید کہ وہ نصیحت پکڑے او حخشیٰ یاڈر جائے۔ نرمی سے بات ہوگی۔ تو شاید مخاطب سوچنے پر مجور ہوجائے اور دعوت کی طرف دھیان دے۔ اس کے برخلاف اگر بات درشتگی کے ساتھ کی جائے گی تو معاملہ مزید بگڑ جانے کا ڈر ہے۔ سورة نحل میں اللہ نے تبلیغ کا یہ اصول بیان فرمایا ہے ادع…………………احسن (آیت 125) اگر دوران تبلیغ بحث مباحثہ کی نوبت بھی آجائے تو اخلاقی حدودکو قائم رکھتے ہوئے حکمت اور مواعظ حسنہ کے طریقے سے بات کرو اور طعن وتشنیع کی بجائے خیر خواہانہ طرز عمل اختیار کرو تاکہ مخاطب پر بات اثرانداز ہو۔ بہرحال موسیٰ (علیہ السلام) کو نرمی سے بات کرنے کی نصیحت کی گئی۔
معیت خداوندی :
جب دونوں بھائیوں کو تبلیغ حق کے لئے فرعون کے پاس جانے کا حکم ہو تو قالا ان دونوں نے بارگاہ رب العزت می عرض کیا ربنا اننا نخاف ان یفرط علینا ہم خوف کھاتے ہیں کہ فرعون ہم پر کہیں زیادتی نہ کرے اوان یطغی یا وہ سرکشی اختیار نہ کرے ہم کمزور اور بےسروسامان ہیں جب کہ اس کے پاس تمام وسائل ہیں۔ اس کے پاس فوج اور پولیس ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری بات سننے سے پہلے ہی ہمیں ظلم کا نشانہ بنانے لگے۔ اس کے جواب میں اللہ نے تسلی دی قال لا تخافا فرمایا۔ تم دونوں خوف نہ کھائو اننی معاکما کیونکہ میں تمہارے ساتھ ہوں تمہیں میری معیت حاصل ہے۔ اسمع واری میں تمہاری ہر بات کو سنتا ہوں اور تمام معاملات کو دیکھتا ہوں۔ تمہاری کوئی بھی حالت مجھ سے مخفی نہیں ہے لہٰذا تم بلا خوف وخطر فرعون کے پاس میرا پیغام لے جائو۔ ہم اس مادی دنیا میں دیکھتے ہیں کہ اگر علاقے کا تھانیدار کسی کو کہہ دے کہ فکر نہ کر ، میں تمہارے ساتھ ہوں ، تو اس کی کتنی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ اور یہاں رب العلمین فرمارے ہیں کہ میں تمہارے ساتھ ہوں ، تم بالا خوف میرے حکم کی تعمیل کے لئے جائو ، میری تائید و نصرت تمہیں حاصل ہوگی۔
ایسے کئی مواقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے مقربین کو اپنی معیت کا وعدہ پہلے بھی فرمایا ہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکل کھڑے ہوئے ، تو آگے سمندر تھا اور پیچھے فرعون کا لشکر آرہا تھا۔ اس موقع پر بنی اسرائیل کو پریشانی لاحق ہوئی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو یہ کہہ کر تسلی دی ان معی……………سیھدین (الشعراء 62) میرا پروردگار میرے ساتھ ہے ، وہ ہماری راہنمائی فرمائے گا۔ وہ ہمارے بچائو کا ضرور کوئی راستہ نکالے گا۔ کیونکہ ہم اس کے حکم سے مصر سے نکلے ہیں۔ اسی طرح جب حضور ﷺ اور صدیق اکبر ؓ غار ثور میں تھے کو کفار کی ایک جماعت غار کے منہ تک پہنچ گئی ۔ اگر وہ نیچے جھانک کر دیکھ لیتے تو پکڑ لیتے۔ اس موقع پر حضرت صدیق ؓ کو پریشانی ہوئی تو حضور اکرم ﷺ نے تسلی دی لا تحزن ان اللہ معنا (توبہ 40) خوف نہ کھائیں ، ہمارا اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ وہ ضرور ہماری حفاظت کرے گا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو کہا کو ڈرو نہیں ، میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تم بلا خوف وخطر فرعون کے پاس جائو۔
فرعون کے ساتھ مذاکرات :
اللہ تعالیٰ نے اپنے دونوں انبیاء کو فرعون سے مذاکرات کے سلسلے میں مزید ہدایت دیں۔ فرمایا فاتیہ تم دونوں اس کے پاس جائو فقولا انا رسولا ربک اور اس سے جاکر کہو کہ ہم دونوں تیرے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں۔ مطلب یہ کہ ہم خود تخود تیرے پاس نہیں آئے بلکہ اللہ نے ہمیں تمہارے پاس بطور رسول بھیجا ہے۔
اور اللہ کا قانون ہے کہ جب وہ کسی قوم کی طرف اپنا رسول بھیجتا ہے تو رسول کی اطاعت قوم پر لازم ہوجاتی ہے۔ چناچہ آگے سورة الشعراء میں آرہا ہے کہ اللہ کے ہر نبی نے اپنی قوم سے یہی کہا فاتقو اللہ واطیعون (آیت۔ 163) اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی اپنے باپ سے کہا تھا کہ میرے پاس ایک ایسا علم آچکا ہے جو تیرے پاس نہیں ہے فاتبعنی اھدک صراطا سویا (مریم 43) میری پیروی کرو ، میں تمہیں سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کروں گا ۔ مقصد یہ کہ رسول جب بحیثیت رسول خطاب کرتا ہے کہ مخاطبین کا فرض ہوجاتا ہے کہ وہ اس کی بات مانیں کیونکہ رسول کی بات کا انکار کفر میں داخل ہے تو اللہ نے اپنے دونوں نبیوں سے فرمایا کہ فرعون کے پاس جاکر سب سے پہلے اپنی حیثیت واضح کرو کہ ہم اللہ کے رسول ہیں۔
اس کے بعد دوسری بات یہ کرنا فارسل معنا بنی اسرائیل پس بھیج دے ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو ، یعنی ان کو آزاد کردو ولا تعذ بھم اور ان کو سزا نہ دو ۔ ان پر ظلم وستم کے پہاڑ نہ توڑو۔ بائیبل میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا ، میرے بندوں کو صحرا میں لے جائو تاکہ وہ اپنے عہد و پیمان کو تازہ اور مضبوط کریں۔ ان کو مصر سے نکال کر ان کے اصل وطن فلسطین وشام میں لے جائو۔ جو مصر سے اڑھائی سو میل کی مسافت پر ہے۔ قوم فرعون نے بنی اسرائیل کو غلام بنارکھا تھا۔ ان سے جانوروں کی طرح کام لیتے تھے اور ان کے ساتھ ذلت آمیز سولک کیا جاتا تھا اس لئے اللہ نے فرمایا کہ ان کو اذیت نہ پہنچائو ، بلکہ آزاد کردو تاکہ وہ اپنے اصل وطن میں جاسکیں۔
آزادی کا حق :
آزادی انسان کا فطری حق ہے جب کہ غلامی غیر فطری چیز ہے۔ اب تو دنیا میں شخصی غلامی ختم ہوچکی ہے تاہم پرانے زمانے میں جنگ کے نتیجے میں لوگ قیدی ہو کر آتے تھے تو انہیں غلام بنالیا جاتا تھا۔ اور پھر یہ سلسلہ آگے چل پڑتا تھا ، ان کی خرید وفروخت ہوتی تھی اور ان سے ظالمانہ سلوک روا رکھا جاتا تھا۔ اب شخصی غلامی کے برخلاف اجتماعی غلامی بھی دنیا میں بڑے پیمانے پر موجود ہے۔ آج بھی طاقتور ملک کمزور ملک کو اقتصادی غلامی میں جکڑ لیتا ہے یا پھر اپنے نظریات کا غلام بنا لیتا ہے۔ امریکہ اور روس جیسی سپر طاقتیں دنیا میں یہی کھیل کھیل رہی ہیں۔ اجتماعی غلامی شخصی غلامی سے بدتر ہے۔ اس میں قوموں کے ضمیر بگڑ جاتے ہیں۔ طاقتور قومیں محکوم قوموں کو مختلف طریقوں سے مبتلائے عذاب رکھتی ہیں مگر ان کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھا سکتا۔ آج چھوٹی چھوٹی سلطنتیں بڑی قوموں کو کھلونا بنی ہوئی ہیں مگر ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ گزشتہ 35 سال میں کم از کم بیس لاکھ فلسطینی موت کے گھاٹ اتارے جاچکے ہیں۔ بیس لاکھ افغانیوں کو موت کی آغوش میں پہنچایا جاچکا ہے ۔ مگر کسی نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ دنیا میں مسلمانوں کی پچاس سے زیادہ ریاستیں بےبس ہیں۔ وہ خود امریکہ یا روس کی غلامی میں جکڑی ہوئی ہیں ، اس لئے ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ کوئی اپنی منصوبہ بندی ہے۔ لوگ خوش ہیں کہ بیرونی امداد سے ملک ترقی کررہا ہے مگر وہ نہیں سمجھتے کہ نام نہاد ترقی کے سارے پلان سپر طاقتوں کے واضع کردہ ہیں جن میں قوم کا مفاد کم اور ان کا انپا مفاد زیادہ ہے آج تک اسلامی نکتہ نظر سے کوئی پلان تیار نہیں ہوا جس سے مسلمانوں کا انفرادی یا اجتماعی مفاد وابستہ ہو۔ حضرت عمر ؓ کے زمانے میں سارے عرب ممالک ایک ہی سلطنت کا حصہ تھے مگر اب بڑی طاقتوں نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کررکھا ہے۔ یہ دوبارہ متحد ہو کر دنیا کی عظیم طاقت کیوں نہیں بن سکتے۔ برصغیر میں پاکستان کی صورت میں 13 کروڑ مسلمان اکٹھے ہوگئے تھے مگر غیر مسلم اقوام انہیں ترقی یافتہ اقوام کی صف میں شامل ہوتا نہیں دیکھنا چاہتی تھیں ، لہٰذا بڑی گہری سازش کے ذریعے پاکستان کو دو لخت کردیا گیا اور اس اسلامی نام بھی باقی نہیں رہا بلکہ بنگلہ دیش بن چکا ہے۔ اب ان کی حالت گذشتہ ہفتے کے اخبارات میں آچکی ہے۔ کہ غربت کی وجہ سے دس لاکھ بنگالی عیسائیت کی گود میں جاچکے ہیں۔ یہ اتنا بڑا حادثہ ہے کہ اس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔ ادھر پاکستان کی حالت بھی یہ ہے کہ اقتصادی اور ذہنی طور پر امریکہ کے غلام بن چکے ہیں۔ ہم انہی کے دماغ سے سوچتے اور انہی کی سکیموں پر عمددرآمد کر رہے ہیں بحیثیت مسلمان ہومارا کوئی تشخص باقی نہیں رہا۔ یہی حال دوسری مسلم ریاستوں کا بھی ہے۔ اللہ نے غلام کے متعلق فرمایا ہے لا یقدر علی شیء (النحل 75) وہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔ نہ اس کا دماغ اپنا ہوتا ہے ، نہ اخلاق وہ ہر کام اپنے آقا کے اشارے پر کرتا ہے ، اس کالباس ، مکان ، نشت وبرخاست حتیٰ کہ گفتگو تک آقائی تہذیب میں بدل جاتی ہے۔ لہو ولعب ، کھیل تماشے ، نت نیا فیشن سب غلامی کے اثرات ہیں۔ آج دنیا بھر کے مسلمان اپنی تہذیب و ثقافت کو بھول چکے ہیں ، یہ اقتصادی اور ذہنی غلامی کا نتیجہ ہے۔
فرعون کو دعوت حق :
اللہ نے فرمایا کہ فرعون کو کہنا کہ وہ بنی اسرائیل کو آزاد کردے اور انہیں اذیت نہ پہنچائے ۔ اس کے بعد فرعون پر واضح کرنا قد جئنک بایۃ من ربک ہم تیرے پاس تیرے پروردگار کی نشانی لے کر آئے ہیں اگر تمہیں شک ہو تو ہم وہ نشانی پیش کرسکتے ہیں ، تم اچھی طرح ہماری پہچان کرسکتے ہو۔ ہمارا نظریہ یہ ہے والسلم علی من اتبع الھدی اور اس پر سلامتی ہے جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ ہم یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں انا قد اوحی الینا بیشک ہماری طرف یہ وحی کی گئی ہے ان العذاب علی من کذب وتولی بیشک سزا اس کو ملے گی جس نے حق کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ یہاں تک موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کی فرعون کے ساتھ پہلے مرحلہ کی بات آگئی ہے۔ اس کے بعد فرعون کا سوال و جواب آئے گا۔