Ayahs 20:49–55ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو نبوت عطا فرمائی اور پھر حکم دیا کہ تم دونوں فرعون کے پاس جائو اور اسے نرمی کے ساتھ تبلیغ کرو۔ ہماری نشانیاں بھی ہمراہ لے جائو تاکہ اگر اسے کوئی تردد ہو تو اسے دکھا سکو۔ یہ نشانیاں تمہاری صداقت کی دلیل ثابت ہونگی۔ فرعون سے گفتگو کا آغاز اس طرح کرو کہ ہم تیرے پروردگار کی طرف سے فرستادہ ہیں ۔ ہم اللہ کے رسول ہیں ، اس لئے ہماری بات مانوں اور دوسری بات یہ کہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کردو تاکہ ہم انہیں اپنے اصلی وطن شام و فلسطین لے جاسکیں۔ اور فرعون کو یہ بھی بتلادینا کہ سلامتی اس پر ہوگی جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ اور سزا اس کو ملے گی جس نے جھوٹ بولا اور روگردانی کی۔
غیر مسلموں کو سلام کا طریقہ :
حضور ﷺ نے بھی غیر مسلموں کے لئے سلام کا وہی طریق اختیار کیا تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرعون کے لئے اختیار کیا تھا والسلم علی من اتبع الھدی سلامتی اس پر ہے جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ حضور ﷺ نے غیر مسلم بادشاہوں کو تبلیغی خط لکھتے وقت ابتداء میں یہی الفاظ استعمال کیے تھے۔ امام ابن کثیر (رح) نے لکھا ہے کہ مسیلمہ کذاب نے حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجے گئے خط کی اتبداء اس طرح کی تھی من مسلیمۃ رسول اللہ الی محمدرسول اللہ یعنی اللہ کے رسول مسیلمہ کی طرف سے اللہ کے روسل محمد کی طرف۔ گویا اس نے بھی رسالت کا دعویٰ کیا۔ پھر لکھا اما بعد انی اشرکت فی الامر لک الحضر ولی الغبر میں نے تمہیں اپنے معاملے میں یعنی رسالت میں شریک کرلیا ہے۔ آپ کے لئے شہری علاقے ہیں جب کہ میرے لئے دیہاتی علاقے یعنی خیموں میں بسنے والے لوگ میرے ماتحت ہوں گے جب کہ آپ متمدن علاقوں کا انتظام سنبھال لیں ساتھ ہی اس نے یہ بھی لکھا کہ قریش کے لوگ انصاف نہیں کرتے۔ اس کے جواب میں حضور ﷺ (تفسیر ابن کثیر ص 155 ج 3 (فیاض) نے لکھا من محمد رسول اللہ الی مسیلمۃ الکذاب والسلم علی من اتبع الھدی۔ اما بعد۔ ان الارض للہ یورثھا من یشاء والعاقبۃ للمتقین اور اللہ کے رسول محمد ﷺ کی طرف سے مسیلمہ کذاب کی طرف۔ اور سلامتی اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی ، امابعد۔ بیشک زمین اللہ کی ہے ، وہ جسے چاہتا ہے وارث بناتا ہے ، اور اچھا انجام ہمیشہ متقیوں کا ہوگا۔ گویا اس خط میں بھی سلام کا یہی طریقہ اختیار کیا گیا۔ مسیلمہ کذاب حضور ﷺ کو رسول مانتا تھا مگر خود کو بھی رسول کہتا تھا مگر حضور ﷺ نے اس کذاب یعنی بڑا جھوٹا فرمایا۔ قادیانیوں کا بھی یہی حال ہے۔ وہ بھی حضور ﷺ کو رسول مانتے ہیں مگر جھوٹ بولتے ہیں ۔ ساتھ مرزا غلام احمد کو بھی رسول تسلیم کرتے ہیں۔ چناچہ حضور ﷺ کے ارشاد کے مطابق ان پر بھی کذاب کا لقب صادق آتا ہے۔
پروردگار کے متعلق سوال :
موسیٰ (علیہ السلام) کی فرعون کے ساتھ ابتدائی گفتگو کا ذکر کرنے کے بعد آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے دونوں کے درمیان مکالمے کے باقی حصے کا ذکر کیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے کہا تھا کہ ہم تیرے پاس تیرے پروردگار کی نشانیاں لے کر آئے ہیں۔ تو اس کے جواب میں فرعون نے کہا قال فمن ربکما یموسیٰ ، اے موسیٰ ! بھلا یہ تو بتلائو کہ تم دونوں کا پروردگار کون ہے ؟ ذرا اس رب کا تعارف تو کر ائو جس نے تمہیں رسول بنا کر بھیجا ہے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ فرعون دہریہ تھا اور وہ خدا تعالیٰ کا ویسے ہی منکر تھا ، اسی لئے اس نے پوچھا کہ تمہارا رب کون ہے اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ فرعون خدا تعالیٰ کو مانتا تھا مگر محض اپنی ہٹ دھرمی کی بناء پر اور موسیٰ (علیہ السلام) کو تنگ کرنے کی غرض سے اس نے رب تعالیٰ کے متعلق سوال کیا۔ قرآن پاک میں موجود ہے کہ فرعون خود الوہیت کا دعویٰ کرتا تھا اور لوگوں کو خبردار کرتا تھا لئن ………………المسجونین (الشعرآئ 29) اگر تو میرے سوا کسی دوسرے کو معبود بنائے گا ، تو قید میں ڈال دیا جائے گا۔ فرعون اپنے متعلق برملا کہتا تھا انا ربکم الا علی (النزعت 24) میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔ لوگوں سے پوچھتا تھا۔ الیس……………تحتی (الزخرف 51) کیا مصر پر میری حکومت نہیں ہے۔ میرے حکم سے ڈیم بنے ہوئے ہیں۔ نہریں چل رہی ہیں ۔ مجھے ہر سیاہ وسفید پر اختیار حاصل ہے۔ پھر بھلا میرے سوا کون رب ہوسکتا ہے ؟ مطلب یہ کہ فرعون چونکہ خود ربوبیت کا دعویدار تھا ، اس لئے اس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کہ تم دونوں بھائیوں کا رب کون ہے ؟
خدا مصور حقیقی ہے :
اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت نرمی کے ساتھ بڑی حکیمانہ بات کی قال ربنا الذی اعطی کل شیء خلقہ کہا ، ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہرچیز کو اس کی حیثیت کے مطابق شکل و صورت بخشی ہے۔ اس ایک جملے میں کمال درجے کی حکمت کا اظہار کردیا۔ ہر چیز کا پہلے وجود ہوتا ہے اور اس کے بعد شکل و صورت بنتی ہے۔ تو اس میں یہ حقیقت بھی شامل ہے کہ ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے پہلے مادہ (Matter میٹر) پیدا کیا اور پھر اس مادے کی صورت (Shape شیپ) بخشی۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ خلق سے مراد صورت نہیں بلکہ اس کا جوڑا مراد ہے۔ تو فرمایا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کا مناسب جوڑ عطا کیا ۔ مثلاً مرد کا جوڑا عورت ہے ، بیل کا گائے ، اونٹ کا اونٹنی ، گھوڑے کا گھوڑی ، مرغ کا مرغی وغیرہ۔ یہ تفسیر حضرت سعید بن جبیر (رح) کی ہے جو کہ تابعین میں سے ہیں۔ تاہم دیگر مفسرین فرماتے ہیں کہ خلق سے مراد پیدا کرنا ہی ہے یعنی اللہ نے سب سے پہلے ہر چیز کو وجود بخشا اور اس کے بعد اس کو مناسب حال شکل و صورت عطا فرمائی۔ سب سے اعلیٰ صورت انسان کی ہے۔ لقد……………تقویم (التین 4) اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے ھوالذی…………………یشآئ (آل عمران 6) اللہ تعالیٰ کی وہ ذات ہے جو ماں کے رحم میں تمہاری شکل و صورت بناتا ہے۔ جیسے اس کی منشاء ہوتی ہے۔ مصور حقیقی خدا تعالیٰ کی ذات ہے اسی لئے کسی جاندار کی تصویر کشی حرام ہے کیونکہ یہ اللہ کی صفت کے ساتھ مشابہت پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ البتہ غیر جاندار اشیاء کی تصویر بنانا روا ہے۔
حدیث شریف (مسلم ص 380 ج 2 (فیاض) میں آتا ہے خلق اللہ عزوجل اٰدم علی صورتہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی تو کوئی شکل و صورت نہیں ، وہ تو بےمثال ہے مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) میں علم و حکمت اور صفات ایسی پیدا کی ہیں گویا اس نے آدم (علیہ السلام) کو اپنی صفات پر پیدا کیا ہے۔ اس نے انسان کو اس کے مرتبے ، حیثیت ، ضرورت اور شان کے مطابق صورت بخشی ہے اور پھر ہر چیزکو اس کے حسب حال پیدا کرنے کے بعد ثم ھدی اس کی راہنمائی بھی فرمائی ہے ہر مخلوق کو اس کی معیشت کا راستہ بتلایا ہے ، اس کے نفع نقصان کی بات سمجھائی ہے اور وہ راستہ واضح کیا ہے ۔ جس پر چل کر وہ کامیابی کی منزل حاصل کرسکتا ہے۔ پھر گمراہی کا راستہ بھی واضح کردیا ہے تاکہ اس سے بچ سکے۔ ہدایت کا تعلق صرف انسان کے ساتھ ہی نہیں بلکہ چھوٹے سے چھوٹے جاندار سے لے کر بڑی سے بڑی مخلوق تک کی راہنمائی فرمائی ہے زمین پر چلنے پھرنے والے تمام جانداروں کے علاوہ فضا میں اڑنے والے پرندے اور پانی کی تہہ میں رہنے والے ہر قسم کے جانداروں پر یہ بات واضح کردی ہے کہ اللہ کے بتلائے ہوئے راستے پر چل کر تم مقصد حیات حاصل کرسکتے ہو۔
انسانی ، خیوانی اور نباتاتی مخلوق :
اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو وجود بخشا ہے اور اس میں کمال درجے کا نظام حیات رکھا ہے ، انسان کو دیکھیں کہ اس کے جسم میں کس در عجیب و غریب نظام کام کررہا ہے۔ میڈیکل سائنس والے کہتے ہیں کہ انسان کے جسم میں پانچ سو مچھلیاں ہیں۔ انسان کا اعصابی نظام دماغ سے شروع ہوکرسارے جسم میں پھیل جاتا ہے جس کی وجہ سے جسم میں حس و حرکت پیدا ہوتی ہے۔ اللہ نے اس نظام کی باریک باریک شاخوں کے ذریعے کمال سلسلہ پیدا کیا ہے۔ اس کے علاوہ انسانی جسم کے نظام ہضم پر نگاہ ڈالیں۔ جسم کے متعلقہ حصے میں عجیب قسم کی گلٹیاں اور رطوبتیں ہیں جن کے ذریعے خوراک ہضم ہو کر جسم کا حصہ بنتی ہے۔ پھر انسان کا نظام تولید وتناسل بھی عجیب ہے جس پر بقائے نسل کا انصار ہے۔ خون کی گردش ، آکسیجن کی بہم رسانی ، اور فضلات کا خروج ، اللہ تعالیٰ نے ہر کام کے لئے جسم کے اندر انتظام کردیا ہے۔ اس کے بعد انسان کے صوتی نظام کو دیکھ لیں۔ جب ایک بھی تار خراب ہوجاتی ہے تو انسان بونے سے بھی عاجز آجاتا ہے۔ اسی طرح سماعت کا نظام بھی عجیب و غریب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کان کے پردے کے پیچھے کم وبیش تین ہزار ٹیلیفون نصب کردیئے ہیں۔ ہر قسم کی آواز کی سماعت کے لئے الگ الگ ٹیلیفون ہے۔ اسی طرح کسی چیز کی سو سونگنے کے لئے بھی اللہ نے نہایت نرم ونازک نظام قائم کیا ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی صناعی کے شاہکار ہیں اور اللہ کا عظیم نعمتیں ہیں۔
انسان کے علاوہ دیگر جانداروں چرند ، پرند ، کیڑے مکوڑے ، مچھلی مینڈک غرضیکہ ہر جاندار کے لئے ایک مکمل نظام حیات اس کے جسم کے اندر ہی موجود ہے۔ جب یہ نظام بگڑ جاتا ہے تو زندگی ختم ہوجاتی ہے۔ اسی طرح نباتات کی بھی اپنی زندگی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے درختوں اور پودوں کو کیسی کیسی شکل و صورت عطا کی ہے۔ پھلوں اور پھولوں کے لاتعداد رنگ ، ان کی مختلف خوشبوئیں اور ذائقے ، ان کے مختلف خواص اور تاثیریں قدرت کاملہ کی صناعی کا عجیب نمونہ ہیں۔ اللہ نے ان تمام چیزوں کو پیدا کیا اور انسان کو ان سے فوائد حاصل کرنے کا راستہ بھی بتلادیا۔ اسی لئے فرمایا کہ اللہ نے ہر چیز کو وجود بخشا ، اس کی شکل و صورت بنائی اور پھر اسے ہدایت کا راستہ بھی بتلایا۔
سابقہاقوام کے متعلق سوال :
رب العزت کا یہ تعارف اور اس کی صفات سن کر فرعون سے اور تو کچھ نہ بن پڑی ، تاہم اس نے موضوع سخن کو بدلتے ہوئے سوال کیا قال فما بال القرون الاولیٰ اے موسیٰ ! بھلا یہ تو بتائو کہ جو پہلی قومیں تمہارے پروردگار پر یقین رکھتی تھیں ، ان کا کیا ہوا۔ کیا وہ سارے کے سارے بیوقوف تھے جو تمہارے نظریے پر یقین نہیں رکھتے تھے ؟ نے جواب میں فرمایا قال علمھا عندربی فی کتب اس سوال کا جواب تو میرے رب کے پاس کتاب میں موجود ہے۔ کتاب سے مراد نوشہ یعنی لوح محفوظ ہے کہ ہر چیز کا اندراج وہاں موجود ہے اور یہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ کتاب کا عام معنی ہر شخص کا انفرادی اعمالنامہ بھی ہوسکتا ہے جس میں ہر ہر عمل اور ہر ہر حرکت کا اندراج ہورہا ہے اور پھر یہ کتاب ہر شخص کے سامنے رکھ دی جائے گی کہ اسے خود ہی پڑھ لو کہ تم دنیا میں کیا کچھ کرتے رہے ہو۔ اس وقت انسان یہ کتاب دیکھ کر دنگ رہ جائے گا۔ اور حیرانی سے کہے گا مال ھذا الکتب لایغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا احصھا (الکھف 49) یہ کیسا نوشتہ ہے جس نے نہ کوئی چھوٹی چیز چھوڑی ہے اور نہ بڑی۔ اس میں ہر چیز درج ہے بہرحال اس مقام پر کتاب سے مراد لوح محفوظ ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ سابقہ اقوام کے حالات کا عمل اللہ کے پاس لوح محفوظ میں درج ہے۔
اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سامنے خدا تعالیٰ کی مزید صفات بیان کیں اور فرمایا کہ میرا پروردگار وہ ہے لا یضل ربی ولا ینسی جو نہ تو بہکتا ہے اور نہ بھولتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات منزہ اور مبرہ ہے وہ علیم کل ہے جو بہکتا نہیں ۔ وہ ہر عیب سے بھی پاک ہے ، اس لئے وہ بھولتا بھی نہیں۔ وہ اپنی مشیت اور ارادے کے مطابق جو کا جس وقت کرنا پسند کرتا ہے ، کر گزرتا ہے۔ نہ تو اسے کوئی اس راستے سے بہکا سکتا ہے اور نہ اس پر نسیان کا اثر ہوتا ہے کہ وہ ارادہ کرکے پھر بھول جائے۔ لہٰذا اس کے تمام امور اس کی حکمت کے مطابق ہوتے رہتے ہیں۔
زمین کے فوائد :
پھر فرمایا اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے الذی جعل لکم الارض مھدا جس نے تمہارے لئے زمین کو گہوارہ بنادیا۔ جس طرح بچہ گہوارے میں آرام کرتا ہے ، اسی طرح زمینی مخلوق زمین پر سکون حاصل کرتی ہے زمین کی یہ خاصیت ہے کہ ہر زندہ اور مردہ کے کام آتی ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے الم نجعل الارض کفاتا احیاء وامواتا (المرسلات 26- 25) کیا ہم نے زندوں اور مردوں کے لئے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنا دیا ؟ ظاہر ہے کہ جب تک انسان زندہ رہتا ہے اسی زمین پر چلتا پھرتا اور کاروبار کرتا ہے۔ اور پھر جب مرجاتا ہے۔ تو یہی زمین اسے اپنے دامن آغوش میں سمیٹ لیتی ہے۔ فرمایا زمین کا ایک فائدہ یہ بھی ہے وسلک لکم فیھا سبلا اور زمین پر چلنے کے لئے مختلف راستے بھی بنادیے تاکہ تم ایک جگہ سے دورسی جگہ نقل وحمل کرسکو۔ اللہ نے میدانوں ، پہاڑوں ، صحرائوں حتیٰ کہ سمندروں میں بھی انسانوں کے لئے سفر کو آسان بنادیا ہے۔ اگر زمین پر سفر کے لئے بری ، بحری اور ہوائی راستے نہ ہوتے تو انسان کتنی مشقت میں مبتلا ہوتے۔ اللہ نے ان راستوں کے ذریعے انسان کے لئے آسانیاں پیدا کردی ہیں ، اور یہ بھی اس کا فضل عظیم ہے۔
پانی کی بہم رسانی :
موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی یہ صفت بھی بیان فرمائی وانزل من السماء ماء اور اس نے آسمان کی طرف سے پانی اتارا ہے۔ آسمان کا لفظ بلندی ، فضا ، بادل ، چھت اور اوپر فضاء میں نظر آنے والی نیلگوں سطح سب کے لئے بولا جاتا ہے یہاں پر سماء سے مراد بادل ہیں۔ اللہ تعالیٰ برساتا مقصود ہوتا ہے ، وہاں لے جاتا ہے اور مشیت میں مقررہ مقدار کے مطابق پانی اتار دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی کمال حکمت سے اس پانی کو ضائع نہیں ہونے دیتا ، بلکہ اس کا کچھ حصہ برف کی شکل میں محفوظ کرلیتا ہے ، بعض حصہ زمین کی تہوں میں ذخیرہ کرلیتا ہے اور کہیں فوری ضرورت کے لئے چشمے اور ندی نالے جاری کردیتا ہے یہ حصہ آب زمین کو سیراب کرتا ہے جس سے پھل ، اناج اور سبزیاں پیدا ہوتی ہیں اور اس طرح انسان کی پانی کی ضروریات پوری ہوتی رہتی ہیں۔ جب بارش کا موسم ختم ہوجاتا ہے تو برف کی صورت میں منجمد پانی ، نیززیر زمین ذخیرہ سال بھر کی ضروریات کے کام آتا رہتا ہے۔ دریائوں پر بڑے بڑے ڈیم بنائے جاتے ہیں جن کے ذریعے بجلی پیدا کی جاتی ہے اور یہی پانی آبپاشی کے کام بھی آتا ہے ۔ جب پانی کا ذخیرہ ختم ہوجاتا ہے تو اس کا اثر بجلی کی بہم رسانی پر بھی پڑتا ہے اور ملک میں لوڈشیڈنگ کرنا پڑتی ہے۔
نباتات کا استعمال :
فرمایا آسمان کی طرف سے پانی اتارا فاخرجنا بہ ازواجا من نبات شتی اور ہم نے اس سے مختلف قسم کے پودوں سے طرح طرح کی چیزیں نکالیں۔ مختلف وضع قطع اور مختلف خاصیتوں کے درخت اور پودے لگائے جس سے پھل ، سبزیاں اور اناج پیدا ہوتے ہیں۔ فرمایا کلو اس کو خود کھائو وارعوا انعامکم اور اپنے جانوروں کو بھی چرائو۔ سورة عبس میں ہے کہ ہم نے تمہارے لئے انگور ، زیتون اور کھجور کے باغات پیدا کیے ، ان کے ذریعے پھل اور اناج پیدا کیے متاعالکم ولانعامکم (آیت 32) جو کہ تمہارے فائدے کے لئے بھی ہے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لئے بھی۔ جانور بھی اللہ تعالیٰ نے تمہاری خدمت کے لئے پیدا کیے ہیں۔ انسان خود کو جانوروں کا مالک سمجھتا ہے حالانکہ ہر چیز کا مالک حقیقی تو خدا ہے۔ تاہم جانور انسان کی خدمت کے لئے ہیں۔ اور اللہ نے زمین کی پیداوار میں ان کا بھی حق رکھا ہے اس پیداوار پر کسی مخصوص طبقے کی اجارہ داری نہیں بلکہ بحیثیت مجموعی زمین پر تمام انسانوں کا حق ہے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائیں ۔ اگر کوئی شخص کسی خطہ ارض پر از خود قبضہ کرکے دوسروں کو اس سے مستفید ہونے سے روکے گا تو وہ ظالم شمار ہوگا۔ زمین کی پیداوار میں سے ناداروں کو بھی ان کا حصہ پہنچنا چاہیے غرضیکہ اللہ نے جانوروں اور نباتات کو انسانوں کو مصلحت کے لئے پیدا کیا اور انسانوں کے متعلق فرمایا انما خلق الانسان لآخرۃ کہا نہیں آخرت کے لئے پیدا کیا ہے۔ وہ دنیا میں رہ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ اور دائمی فلاح پاجائیں۔ فرمایا ان فی ذلک لایت لاولی النھی۔ بیشک اس میں عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ انسانی وجود ، اس کی شکل و صورت ، زمین کا گہوارہ ہونا ، اس میں راستے بنانا ، آسمان کی طرف سے پانی اتارنا اور اس کے ذریعے نباتات کا پیدا کرنا ، جو کہ انسانوں اور جانوروں دونوں انواع کے فائدے کے لئے ہیں ، ان سب چیزوں میں صاحبان عقل وخرد کے لئے اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ عقل سے صحیح کام لینے والے لوگ انہی نشانیوں سے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی دلیل پکڑتے ہیں۔
زمین کے ساتھ خصوصی تعلق :
اب اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے معاد کی طرف توجہ دلائی ہے کہ زمین کے مذکورہ فوائد کے علاوہ ایک بہت بڑا فائدہ یہ بھی ہے۔ منھا خلقنکم اسی زمین سے ہم نے تمہیں بھی پیدا کیا۔ انسان کے زمین سے پیدا ہونے کی دو صورتیں ہیں۔ پہلی یہ کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کے جدامجد حضرت آدم (علیہ السلام) کو براہ راست مٹی سے پیدا کیا۔ اور یہ خاصیت اس کی اولاد میں بھی نسلاً بعد نسل آرہی ہے۔ مٹی سے پیدائش کی دوسری توجیہہ بالواسطہ ہے اور وہ اس طرح کہ اللہ نے انسان کی غذا کو مٹی سے پیدا کیا۔ انسان کی خورد ونوش کی تمام اشیاء زمین کی پیداوار ہیں۔ غذا کھانے سے انسان کے جسم میں مختلف قسم کے مواد پیدا ہوتے ہیں۔ اصل چیز خون ہے جو جسم کے ہر ہر حصے میں پہنچ کر اس کو مطلوبہ غذا فراہم کرتا ہے۔ پھر مادہ تولید بھی زمین سے حاصل کردہ غذا سے پیدا ہوتا ہے جس سے انسانی نسل آگے چلتی ہے تو اس لحاظ سے بھی کرسکتے ہیں کہ اللہ نے انسانوں کو زمین یعنی مٹی سے پیدا فرمایا ہے۔
فرمایا وفیھا نعید کم ہم اس مٹی میں تمہیں واپس لوٹائیں گے انسان مرکر مٹی میں ہی دفن ہوتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مردے کو زمین میں دفن کرنا ہی فطری امر ہے۔ برخلاف اس کے نیچے مچان پر رکھ کر پرندوں کی خوراک بنادینا یا آگ میں جلا دینا غیر فطری فعل ہے۔ مرنے کے بعد زمین ایک شفیق ماں کی طرح انسان کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے جب کہ آگ دشمن ہے اور مردے کو اس کے حوالے کرنا دشمن کے حوالے کرنے کے مترادف ہے۔ جب کوئی شخص سفر پر جاتا ہے۔ تو انپے بچے کو کسی محبوب کے حوالے کرتا ہے ، نہ کہ دشمن کے ، یہی حال انسانی زندگی کا ہے۔ اس کے لئے زمین بمنزلہ آغوش مادر ہے۔ جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو وہ اسے اپنے سینے سے لگا لیتی ہے۔
فرمایا ، اے انسانو ! ہم نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اسی میں دوبارہ لوٹادیں گے ومنھا نخرجکم تارۃ اخری اور پھر اسی میں سے تمہیں دوبارہ نکالیں گے۔ جب قیامت کا دن آئے گا۔ تو مردے اپنی قبروں سے نکل کر دوڑتے ہوئے میدان محشر کی طرف جائیں گے پھر حساب کتاب کی منزل آئے گی اور جزا وسزا کا فیصلہ ہوگا۔
امام ابن کثیر (رح) نے ایک حدیث نقل کی ہے کہ حضور ﷺ ایک جنازے کے ساتھ تشریف لے گئے۔ جنازہ پڑھنے کے بعد میت کو قبر میں اتارا۔ آپ نے مٹی کی ایک مٹھی اٹھائی اور پڑھا منھا خلقنکم یعنی ہم نے تمہیں اس مٹی سے پیدا کیا۔ پھر مٹی قبر میں ڈال دی۔ پھر دوسری مٹھی اٹھائی اور وفیھا نعید کم (ہم تمہیں اسی میں لوٹائیں گے) پڑھ کر مٹی ڈال دی۔ پھر آپ (علیہ السلام) نے مٹی کی تیسری مٹھی اٹھائی اور پڑھا ومنھا نخرجکم تارۃ اخری یعنی ہم تمہیں دوبارہ اسی مٹی سے نکالیں گے۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ قبر پر اس طریقے سے مٹی ڈالنا ہے۔
Ayahs 20:56–64ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی دینے کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ نبوت کے ابتدائی دور میں مسلمان بڑی تکالیف برداشت کر رہے تھے ، اللہ نے فرمایا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ہر نبی کو ایسے ہی حالات سے گزرنا پڑا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ انہیں منصب نبوت کے لئے منتخب فرمایا اور پھر اپنی نشانیاں اور پیغام دے کر فرعون کے پاس بھیجا۔ دو بنیادی نشانیوں یا معجزات تو عصا اور یدبیضا ہیں جو الل نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا کرتے وقت دیں۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے دست مبارک پر بہت سی نشانیاں ظاہر فرمائیں جن کا ذکر سورة الاعراف اور دوسری سورتوں میں موجود ہے۔ سورة بنی اسرائیل میں اللہ نے فرمایا۔ ولقد اتینا موسیٰ تسع ایت بینک (آیت 101) ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نور واضح نشانیاں عطا فرمائیں مگر فرعونی ان کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے۔
فرعون کا انکار :
یہاں پر ارشاد ہوتا ہے ولقد ارینہ ایتنا کلھا ہم نے فرعون کو اپنی ساری نشانیاں دکھائیں فکذب وابی مگر اس نے تکذیب کی اور انکار کیا۔ یہ فرعون کی بدبختی تھی کہ عصا اور یدبیضا جیسی واضح نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نہ لایا۔ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر طرح طرح کے اعتراض کیے مگر جب ہر بات میں لاجواب ہوگیا تو معجزات کو جادو کہہ کر ان کا انکار کردیا۔ اور کہنے لگا قال اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک یموسیٰ اے موسیٰ ! کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ ہمیں اپنے جادو کے ذریعے ہماری سرزمین سے نکال باہر کرے ؟ اس الزام سے فرعون کا مقصد یہ تھا کہ لوگ اس بات سے مشتعل ہوجائیں گے کہ موسیٰ (علیہ السلام) انہیں ان کے گھر بار سے بےدخل کرنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا تھا کہ اس قسم کے پراپیگنڈا سے متاثر ہو کر تمام لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف ہوجائیں اور اس کی کوئی بات نہ سنیں۔
فرعون نے نہ صرف لوگوں کو مشتعل کیا بلکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو دھمکی بھی دی کہ تمہارے جادو کے مقابلہ میں فلنا تینک بسحر مثلہ ہم بھی تیرے مقابلہ میں اس جیسا جادو لائیں گے۔ ہمارے پاس بڑے ماہر جادو گر ہیں جو تمہارا بھرپور مقابلہ کریں گے ، لہٰذا اس کے لئے تیار ہو جائو۔ حضور ﷺ کے خلاف کفار مکہ نے بھی اسی قسم کا پراپیگنڈا کیا تھا ، کہتے تھے۔ یہ شاعر ہے جو اپنے کلام سے مرعوب کرنا چاہتا ہے کبھی کہتے ، یہ تو کاہن ہے جو اگلی پچھلی باتیں بتاتا ہے۔ پھر جب اور کچھ نہ بن پڑتی تو کہتے کہ یہ جادو گر ہے جو تمہیں جادو کے اثر سے اپنا مطیع کرنا چاہتا ہے بہرحال فرعون نے بھی یہی حربہ استعمال کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) پر جادو گر ہونے کا الزام لگایا اور پھر آپ کے مقابلے کا چیلنج بھی کردیا۔
مقابلے کا چیلنج :
کہنے لگا فاجعل بیننا وبینک موعدا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدہ یعنی تاریخ اور وقت مقرر کردے جس دن تمہارے اور ہمارے جادو کے درمیان مقابلہ ہوجائے اور یہ وعدہ ایسا پختہ ہونا چاہیے ۔ لا نخلفہ نحن ولا انت جس کی نہ ہم خلاف ورزی کریں اور نہ تم۔ پڑا پکا عہد کرو۔ اور ساتھ یہ بھی شرط ہے یہ مقابلہ مکانا سوی کھلے عام ہونا چاہیے۔ کوئی کھلا میدان ہو جہاں سب لوگ اکٹھے ہو کر ہمارے اس مقابلے کو دیکھ سکیں۔
اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا قال موعدکم یوم الزینۃ کہ اس معاہدے یعنی مقابلے کا دن زینت کا دن ہونا چاہیے مصرف لوگ سال بھر میں ایک دن قومی تہوار کے طور پر مناتے تھے اسی کو یوم زینت یا جشن کا دن کہا گیا ہے۔ اس دن فرعون کی سالگرہ یاجشن تاجپوشی ہوتا تھا۔ بہرحال یہ ایک میلے کا دن تھا۔ جس میں سب ادنیٰ واعلیٰ لوگ ایک کھلے میدان میں جمع ہوتے تھے لہٰذا موسیٰ (علیہ السلام) نے مقابلے کے لئے یہی دن تجویز کیا۔ باقی رہی وقت کی بات تو فرمایا کہ وان یحشرالناس ضحی کہ لوگ خوب دن چڑھے اکٹھے کیے جائیں اور ان سب کے سامنے مقابلہ ہونا چاہیے۔
یہاں پر وقت مقررہ کے لئے ضحی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اور یہ دن کا وہ حصہ ہوتا ہے جب سورج کی تپش سے ریت گرم ہوجاتی ہے اور اونٹوں کے بچوں کے پائوں تپنے لگتے ہیں۔ بس یہی کوئی نو دس بجے کا وقت سمجھ لیں کہ لوگ صبح کی ضروریات سے فارغ ہوجاتے ہیں۔ اور دن بھر کے باقاعدہ کام میں لگ جاتے ہیں۔ اسی وقت پر حدیث میں صلوٰۃ ضحی یعنی چاشت کی نماز کا ذکر بھی آتا ہے۔ اس کے وقت کے متعلق مسلم شریف اور دوسری کتابوں میں آتا ہے تلک صلوٰۃ الاوابین حسین ترمض الفصال ۔ یہ صلوٰۃ اوابین ہے جس کا وقت وہ ہے جب اونٹ کے بچوں کے پائوں ریت میں گرم ہونے لگتے ہیں۔ بہرحال اس وقت میں آنحضرت ﷺ نے دو سے لے کر بارہ رکعت تک نماز ادا فرمائی ہے تو یہی وقت موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں سے مقابلے کے لئے تجویز کیا۔
جادو کا عام رواج :
قدیم صابی زمانے میں نجوم کا عام رواج تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں جادو کا بڑاچرچا تھا۔ جادو کے ماہرین حکومتی امور میں اسی طرح دخیل تھے ۔ جس طرح آج کل سائنسدان اور انجینئر ہیں اپنے پیچیدہ معاملات میں حکومت کے کارپردازان ساحروں سے مشورہ لیتے تھے اور پھر ان پر عمل بھی کرتے تھے۔ جادو کا رواج آج بھی کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے جسے ” کالا علم “ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ علم کفر یہ اور شرکیہ اعمال پر مشتمل ہے اور جاہل لوگوں میں اس کا عام چرچا ہے۔ ملک کے اسی فیصد لوگ تعویذ گنڈے ، شرکیہ اور بدعتی کاروبار میں ملوث ہیں ۔ عورتوں میں یہ بیماری بہت زیادہ ہے۔ ذرا ذرا سی بات پر جھاڑ پھونک کرنے والوں کے پیچھے دوڑنا شروع کردیتی ہیں۔ بعض صحیح لوگ بھی ہیں جو اللہ کا کلام پڑھ کر پھونک مارتے ہیں۔ تاہم اکثریت ان لوگوں کی ہے جو شرکیہ کلام کے ذریعے غلط تعویز دے کر اپنا نذرانہ وصول کرلیتے ہیں۔ آج کل یہ کام بھی عرو ج پر ہے حالانکہ یہ کام ہماری شریعت میں جائز نہیں حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ سات مہلک گناہوں میں سحر بھی شامل ہے۔ جادو کرنا اور کرانا ، اس کا سیکھنا اور سکھانا ممنوع ہے۔ مولانا اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ جادو کے ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ میں بھی بدعت کا ارتکاب تو کرنا ہی پڑتا ہے۔ اور اعلیٰ درجے کے جادو میں تو کفر اور شرک شامل ہوتا ہے ، مکروہ باتوں کا ارتکاب ہوتا ہے حتیٰ کہ جادو میں مہارت حاصل کرنے کے لئے ایمان تک کی قربانی کرنا پڑتی ہے اس کے علاوہ جادو کرنے کے لئے بڑے شنیع امور انجام دیناپڑتے ہیں۔ بعض لوگ بچوں کو ذبح کرکے ان کے خون سے سحر کرتے ہیں ، اور بعض قبروں سے مردوں کی ہڈیاں نکال کر ان کے ذریعے جادو کرتے ہیں۔
مقابلے کے میدان میں :
جب فرعون کے ساتھ مقابلے کے لئے جگہ اور وقت کا تعین ہوگیا تو فرعون نے اس کے لئے تیاری شروع کردی۔ معاہدہ طے پاجانے کے بعد فتولی فرعون فجمع کیدہ فرعون اپنی جگہ سے پلٹا اور اس نے اپنی تمام تدابیر جمع کیں۔ تدبیر سے مراد یہ ہے کہ اس نے ملک بھر کے ماہر جادوگروں کے ساتھ رابطہ قائم کیا۔ انہیں ایک جگہ پر جمع کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ کے لئے ہدایات دیں۔ ثم اتی پھر وہ ساحروں سمیت مقابلے کے لئے مقررہ میدان میں آگیا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ فرعون نے کم وبیش پندرہ ہزار چوٹی کے جادوگر اکٹھے کیے اور انہیں لالچ بھی دیا کہ اگر وہ کامیاب ہوگئے تو انہیں بہت سا انعام واکرام دیا جائے گا۔ سورة الشعرآء میں میں موجود ہے کہ فرعون نے جادوگروں سے وعدہ کیا تھا کہ اگر تم غالب آگئے وانکم اذ لمن المربین (آیت 42) تو تمہیں اپنا مقرب بنالوں گا۔
جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے مقابلے میں بیشمار جادوگروں کو دیکھا قال لھم موسیٰ تو آپ ان سے اس طرح مخاطب ہوئے ویلکم لا تفتروا علی اللہ کذبا تمہارے لئے ہلاکت ہے ، تم پر افسوس ہے۔ خدا پر جھوٹ نہ باندھو یعنی جادو سے باز آجائو اللہ کی سچی نشانیوں کو سحر کا نام دے کر ان کا مقابلہ جادو سے کرنا سخت نادانی کی بات ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی توحید کا مقابلہ کرنے کے مترادف ہے۔ ہم تو تمہیں خدائے وحدہ لاشریک کی طرف دعوت دیتے ہیں تاکہ تم میں خوف خدا پیدا ہو اور تمہاری عاقبت سنور جائے ، مگر تم اس حق کے مقابلہ میں جادو کو لاتے ہو۔ یہ تو بڑی بدبختی کی بات ہے۔ اگر اس حرکت سے باز نہیں آئو گے فیسحتکم بعذاب تو خدا تعالیٰ تمہیں عذاب بھیج کر ہلاک کردے گا۔ اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) خدا کی عطا کردہ قوت کے ساتھ بول رہے تھے۔ انہوں نے پر رعب لہجے میں فرمایا ، افترا علی اللہ سے باز آجائو ، ورنہ یاد رکھو ، وقد خاب من افتری تحقیق وہ شخص ناکام ہوا۔ جس نے خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ، توحید کو مٹانا ، سچے دین کی تکذیب کرنا ، خدا کی طرف غلط باتیں منسوب کرنا ، سب افترا علی اللہ ہے اور ایسا کرنے والا ناکام ونامراد ہوگا۔
فرعون کی خفیہ میٹنگ :
موسیٰ (علیہ السلام) کی اس بات سے لوگ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ فرعون اور اس کے حواریوں نے بھی اس چیز کو محسوس کیا۔ فتنا زعوا امرھم بینھم انہوں نے اس معاملہ میں آپس میں جھگڑا بھی کیا۔ بعض کہتے تھے کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) کی بات سچی نکلی تو پھر کیا ہوگا ؟ اور اگر ہمارا جادو ان پر نہ چلا تو پھر کیا نتیجہ نکلے گا ؟ ایسی صورت میں کسی نے کہا کہ مقابلہ کرنا چاہیے اور کسی نے کہا کہ مقابلے سے دستبردار ہوجانا چاہیے۔ کہیں لینے کے دینے ہی نہ پڑجائیں۔ ادھر جادوگر بھی دل برداشتہ معلوم ہوتے تھے کیونکہ انہیں بھی اپنی شکست نظرآرہی تھی۔ ایسے حالات میں واسروالنجوی فرعون اور اس کے حواریوں نے خفی میٹنگ کی ، تاکہ آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جاسکے۔ بحث تمحیص کے بعد پھر اسی بات پر اصرار کیا جو فرعون پہلے کہہ چکا قالوا ان ھذمن لسحرن کہنے لگے یہ دونوں بھائی (موسیٰ اور ہارون علیہما السلام) جادوگر ہیں۔ یریدان ان یخرجکم من ارضکم بسحرھما یہ دونوں جادو کے ذریعے تمہیں تمہاری سرزمین سے نکال باہر کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں ان کے ساتھ پورا پورا مقابلہ کرنا چاہیے تاکہ ہم ان سے چھٹکارا حاصل کرسکیں ، ورنہ وہ ہمیں مغلوب کرکے ہمیں ہر چیز سے بےدخل کردیں گے اور خود حکومت اور مال ومتاع پر قابض ہوجائیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا ویذھبا بطر یقتکم المثلی کہ یہ دونوں بھائی تمہارے اچھے طریقے کو موقوف کردیں گے۔ کہنے لگے اس سے بچنے کا یہی طریقہ ہے فاجمعوا کیدکم اپنے تمام وسائل اکٹھے کرو ثم ائتو صفا پھر پورے طریقے سے صف بندی کرکے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا مقابلہ کرو۔ اور ساتھ یہ لالچ بھی دیا وقد افلح الیوم من استعلی اور فلاح اور کامیابی اس کو حاصل ہوگی جو آج کے دن غالب آجائے گا۔ مطلب یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا جوانمردی کے ساتھ مقابلہ کرو اگر جیت گئے تو کامیاب ہوجائو گے ، بڑا انعام واکرام ملے گا اور بادشاہ کے مقربین بن جائو گے تمہیں بڑی بڑی خلعتیں اور جاگیریں عطا کی جائیں گی اور آرام و سکون کے ساتھ زندگی بسر کرو گے۔
اسلامی تہذیب بمقابلہ فرعونی تہذیب :
فرعونیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) پر ایک الزام یہ لگایا تھا کہ یہ شخص تمہارے اچھے طریقے کو ختم کردے گا یعنی تمہارے آبائو اجداد کے تہذیب و تمدن کو ختم کرکے نئی تہذیب رائج کریگا ، لہٰذا اپنی قدیم تہذیب کے بچائو کے لئے اس کا مقابلہ کرو ، آج بھی یہ بیماری موجود ہے۔ جب کسی مشرک اور بدعتی کو حق کی طرف دعوت دی جاتی ہے ، تو آگے سے یہی جواب آتا ہے کہ یہ شخص تمہارے رسم و رواج کو مٹانا چاہتا ہے ۔ تمہارے آبائو اجداد سے چلے آنے والا ” تیسرا “ ساتواں ” چالیسواں “ وغیرہ ختم ہو کر رہ جائیگا اور یہی تمہارے بڑوں کی تہذیب ہے جسے یہ شخص ختم کرنا چاہتا ہے ، یہ ختم ، یہ عرس اور یہ قوالی کی محفلیں ختم ہوجائیں گی ، لہٰذا توحید کی دعوت دینے والی بات پر دھیان نہ دو ، یہ تمہیں تمہارے دین سے ہٹانا چاہتا ہے۔ اکثر انسانوں کی آنکھیں بلکہ دل اندھے ہوتے ہیں۔ جو حق و باطل میں تمیز کرنے سے عاجز ہوتے ہیں اور نسلاً بعد نسل شرکیہ اور کفریہ عقائد پر چلتے رہتے ہیں۔
آج ہمارے تہذیب بڑی بڑی بلڈنگوں ، عالیشان کمپلیکسوں ، راگ ورنگ کی محفلوں ، آرٹ گیلریوں ، اور ثقافتی مراکز تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ، حالانکہ خدائی تہذیب تو وہ ہے جو انبیاء نے اپنائی اور جس کی بنیاد فیشن پرستی پر نہیں بلکہ سادگی پر ہے مگر آج کون ہے جو اس تہذیب کو سینے سے لگائے ؟ آج کے نام نہاد مہذب لوگ بھی یہی کہتے ہیں کہ اگر اسلامی تہذیب کا احیاء ہوگیا تو پھر ہمارے یہ نائٹ کلب کدھر جائیں گے ، ہماری لعو ولعب کی تمام چیزیں ختم ہوجائیں گی ، آرٹ کے نام پر یہ فحاشی اور عریانی چھوڑنی پڑے گی۔ لہٰذا جس طرح ہوسکے اسلامی تہذیب کا راستہ روکو۔
اس زمانے میں صرف لباس کا مسئلہ ہی لے لو جس نے ساری دنیا کو مصیبت میں مبتلا کررکھا ہے۔ ہر روز نئے ڈیزائنوں اور جدید فیشنوں کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ہر کوئی نئے ڈیزائن کا لباس پہننا چاہتا ہے۔ آسودہ حال لوگوں کو دیکھا دیکھی غریب لوگ بھی اس مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں وہ بھی اراء کے ساتھ قدم بقدم چلنا چاہتے ہیں مگر وسائل نہ ہونے کی وجہ سے بعض غلط طریقے استعمال کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ نئے نئے ماڈلوں کی کاریں ، نئے نئے ڈیزائنوں کے بنگلے ، شادی اور غمی کی رسوم میں دولت کا ضیاع سب کچھ نئی تہذیب کے لوازمات ہیں۔ اگر نبیوں کی تعلیم کے مطابق انسان سادگی کو شعار بنالے تو ان تمام مصیبتوں سے چھوٹ جائے ، مگر ایسا ہونا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن نظر آرہا ہے۔ کھیل تماشے پر وقت اور روپیہ برباد کرنے کی بجائے نوجوانوں کو عسکری تربیت دی جائے نیکی کے کاموں میں مقابلے کا رجحان پیدا کیا جائے۔ خدمت خلق کے ادارے قائم کیے جائیں۔ جہاں غربا اور ناداروں کی حوصلہ افزائی ہو ، تو دنیا سے کتنی قباحت ختم ہوجائے اور اس کی بجائے ایک عام آدمی کو کتنی خوشحالی اور کتنا سکون میسر آئے ، مگر ہم تو اس جدید تہذیب کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں جو کوئی اس کے خلاف آوازاٹھاتا ہے ، وہ دقیانوسی خیال کیا جاتا ہے اور تہذیب و تمدن کو مٹانے والا سمجھا جاتا ہے۔ بہرحال فرعون نے بھی اپنی قوم کو یہی کہہ کر اشتعال دلانے کی کوشش کی کہ موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) تمہاری تہذیب کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور تمہیں سر زمین مصر سے نکال کر خود حکومت پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان سے ہوشیار رہو اور ان کی بات ہرگز نہ مانو۔
یہاں تک فرعونیوں کو پوشیدہ میٹنگ اور اس میں کئے گئے فیصلوں کا ذکر تھا۔ آگے پھر موسیٰ (علیہ السلام) کی بات اللہ نے بیان فرمائی ہے۔
Ayahs 20:65–76ربط آیات :
جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اللہ کا پیغام پہنچایا اور اس کو معجزات بھی دکھائے تو اس نے انکار کیا اور تکذیب کی۔ کہنے لگا کہ یہ تو جادو کا کارنامہ ہے۔ اس نے عام لوگوں کو یہ کہہ کر مشتعل کرنے کی کوشش کی کہ موسیٰ (علیہ السلام) سحر کے زور سے تمہاری سلطنت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور تمہاری بہترین تہذیب کو مٹانا چاہتا ہے۔ لوگوں کو اکسایا کہ تم اپنی تمام تدبیر اور قوت اکٹھی کرو اور پورے منظم طریقے سے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرو چناچہ حواریوں نے فرعون کو مشورہ دیا کہ جشن کا دن ملک کے تمام سرکردہ جادوگروں کو جمع کیا جائے اور ان سے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرایا جائے۔ جادوگر بھی بڑے لالچی تھے ، انہوں نے کہا اگر ہم غالب آگئے تو ہمیں کیا ملے گا۔ فرعون نے انہیں بہت بڑا انعام واکرام دینے پر اپنا مقرب بنانے کا وعدہ کیا۔ جب سب جادوگر میدان مقابلہ میں اکٹھے ہوگئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے خطاب فرمایا کہ دیکھو ! خدا تعالیٰ پر افتراء نہ باندھو کہ ایسا کرنے والا سخت عذاب میں مبتلا ہوگا ۔ اگرچہ جادو گر کسی حد تک دل برداشتہ ہوئے مگر وہ انعام کے لالچ میں موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ اس مقابلے کے متعلق اللہ تعالیٰ نے بعض واقعات یہاں بیان فرمائے ہیں اور بعض دوسری سورتوں میں بیان ہوئے ہیں۔ یہاں پر صرف اتنا مضمون ہی آیا ہے جتنا حضور ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کی تسلی کے لئے ضروری تھا۔
ساحروں کی طرف سے ابتدائ :
جب مقابلے کی تمام تیاریاں مکمل ہوگئیں ، تمام لوگ مقررہ تاریخ اور وقت مقررہ پر میدان میں جمع ہوگئے تو جادوگر اور موسیٰ (علیہ السلام) بھی آمنے سامنے آگئے۔ جادوگروں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے مخاطب ہو کر کہا قالوا یموسیٰ اما ان تلقی اے موسیٰ (علیہ السلام) ! کیا آپ ڈالیں گے واما ان نکون اول من القی یا ہم پہلے ڈالنے والے ہوں۔
مطلب یہ تھا کہ مقابلے کی ابتداء کس کی طرف سے ہو ، موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے یا جادوگروں کی جانب سے۔ اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا قال بل القوا بلکہ تم ہی ڈالو۔ گویا موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں کو اپنے فن کا مظاہرہ پہلے کرنے کی دعوت دے دی۔ جادوگروں کے پاس کچھ رسیاں اور کچھ لاٹھیاں تھیں۔ انہوں نے یہ چیزیں زمین پر پھینک کر مقابلے کی ابتداء کی۔ اللہ نے اس صورت حال کو اس ترح بیان فرمایا ہے۔
فاذا حبالھم وعصیھم یخیل الیہ من سحرھم انھا تسعی جونہی جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو ان کے جادو کی وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کے خیال میں وہ اس ترح نظر آرہی تھیں گویا کہ وہ دوڑ رہی ہیں۔
سحر ایک قسم کی نظر بندی یا کرتب ہوتا ہے ۔ شعبدہ باز یا مسمریزم والے محض ہاتھ کی صفائی کے ساتھ کوئی ایسا کام کرجاتے ہیں جو دوسروں کی نگاہوں میں کچھ اور ہی نظرآتا ہے۔ جادو کسی چیز کی حقیقت کو نہیں بدل سکتا بلکہ حقیقت تو ویسی کی ویسی ہی رہتی ہے ، البتہ فریب نظر کے ذریعے حقیقت کی برخلاف نظر آتا ہے۔ یہاں بھی ایسا ہوا کہ جادوگروں کی لاٹھیاں اور رسیاں دوڑتی نظر آنے لگیں ، ورنہ حقیقت میں بالکل ساکن تھیں۔
موسیٰ (علیہ السلام) کا رد عمل :
الغرض ! رسیوں اور لاٹھیوں کو سانپوں کی صورت میں دوڑتا ہوا دیکھ کر فاوجس فی نفسہ خیفۃ موسیٰ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے جی میں کچھ خوف محسوس کیا۔ یہاں پر یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے۔ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو خوف کس بات کا محسوس ہوا۔ ظاہر ہے کہ وہ اللہ کے فرستادہ تھے اور واضح نشانیاں لے کر اللہ کے حکم سے آئے تھے ، لہٰذا نہیں اپنی مغلوبیت کا قطعاً خوف نہیں تھا کیونکہ اللہ نے ان کے ساتھ اپنی معیت کا وعدہ کررکھا تھا ، البتہ انہیں خوف اس بات کا تھا کہ شاید عام لوگ جادو اور معجزے میں امتیاز نہ کرسکیں۔ جس طرح جادوگروں کی رسیاں سانپ نظر آنے لگیں ، اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی بھی سانپ بن گئی تو عام لوگ حقیقت اور مجاز میں کیسے فرق کریں گے۔ مفسر قرآن حضرت جلال الدین محلی (رح) اور مولانا اشرف علی تھانوی (رح) نے یہی تفسیر بیان کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر بھی موسیٰ (علیہ السلام) کو تسلی دی قلنا لاتخف ہم نے کہا کہ اے موسیٰ ! ڈرو مت۔ انک انت الا علی بیشک تم ہی غالب رہو گے ، لوگوں کو جلد ہی پتہ چل جائے گا۔ کہ سچ کون سا ہے اور جھوٹ کون سا جادوگروں کے اس کرتب کے متعلق دوسری جگہ موجود ہے وجآء وا بسحر عظیم (اعراف 116) انہوں نے بہت بڑا جادو پیش کیا۔ ہزاروں کی تعداد میں دوڑتے ہوئے سانپ دیکھ کر لوگ دنگ رہ گئے۔
اس کرتب کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا والق مافی یمینک اے موسیٰ ! ڈال دو جو کچھ تمہارے دائیں ہاتھ میں ہے۔ ظاہر ہے کہ آپ کے ہاتھ میں وہی لاٹھی تھی ، جو ہمیشہ آپ کے پاس رہتی تھی اور اللہ نے اسی کو پھینکنے کا حکم دیا تھا۔ فرمایا اس لاٹھی کو پھینکو تلقف ماصنعوا یہ نگ جائے گی جو کچھ جادوگروں نے بنایا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم الٰہی کی تعمیل میں اپنی لاٹھی کو زمین پر پھینک دیا تو وہ ایک اژدھا بن کر دوڑنے لگا جس نے جادوگروں کی رسیوں کے سانپوں کو نگل لیا۔ تفسیری روایات میں آتا ہے کہ جب اس بڑے اژدھا نے پھنکارا تو فرعون اور اس کے حواریوں پر دہشت طاری ہوگئی اور انہوں نے ڈر کے مارے بھاگنے کی کوشش کی۔ جشن کا دن تھا۔ اور یہ نظارہ عام لوگوں نے کھلے میدان میں مشاہدہ کیا۔
لقف کا معنی نگلنا ہوتا ہے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) نے ” فتوح الغیب “ میں لکھا ہے امومن وقاف والمنافق لقاف یعنی مومن آدمی ہر حرام اور مشکوک چیز سے رکنے والا ہوتا ہے جب کہ منافق ہر جائز وناجائز کو نگل جانے والا ہوتا ہے۔ حضور ﷺ کا عمل مبارک اور تعلیم ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ جب کوئی چیز آپ کے سامنے پیش کی جاتی تو آپ دریافت کرتے کہ یہ چیز کیا ہے اور کس نے بھیجی ہے اگر وہ چیز کھانے کے قابل ہوتی تو آپ ہاتھ بڑھاتے اگر صدقہ خیرات یا کوئی مشکوک چیز ہوتی تو کہتے اس کو اٹھالو۔ اسی طرح ہر مومن آدمی وقاف ہوتا ہے۔ وہ صرف حلال اور طیب چیز کی طرف ہی ہاتھ بڑھاتا ہے۔ اس کے برخلاف منافق آدمی جائز وناجائز میں تمیز ہی نہیں کرتا۔ حرام ، مشکوک ، نذر لغیر اللہ ، گیارہویں غرضیکہ ہرچیز نگلتا چلا جاتا ہے ، رشوت ، دھوکہ دہی ، جوا سمگلنگ کا مال ہو ، اسے کچھ پرواہ نہیں ہر چیز ہضم کرجاتا ہے۔
فرمایا ، اے موسیٰ ! اس لاٹھی کو پھینک دو ، یہ جادوگروں کی بناوٹی چیزوں کو نگل لے گی۔ انما صنعوا کیدسحر انہوں نے ایک جادوگر کا فریب بنایا ہے۔ بھلا حقیقت کے مقابلے میں ان رسیوں کی کیا حیثیت ہے ؟ یادرکھو ! ولا یفلح السحر حیث اتی جہاں سے بھی آئے جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ ان تمام جادوگروں کو بھی منہ کی کھانی پڑے گی اور ان کی ساری تدبیریں ناکام ہوجائیں گی۔
جادو جیسے حرام فن کے لئے سزا بھی سخت مقرر کی گئی ہے۔ ترمذی شریف کی حدیث (ترمذی ص 230 (فیاض) میں آتا ہے حد الساحر ضریۃ بالسیف یعنی جو شخص جادو کے ذریعے کسی کے قتل کا موجب بنتا ہے وہ بھی واجب القتل ہے بشرطیکہ ثابت ہوجائے کہ اس کی موت کا ذریعہ جادو بنا ہے اور اگر جادو گر کے ذریعے کوئی کم تر نقصان پہنچایا گیا ہے تو نقصان کی نوعیت کے مطابق کم تر سزا دی جائیگی اگر کسی کو مالی نقصان پہنچایا گیا ہے تو ملزم کو جرمانے کی علاوہ قیدوبند کی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔
جادوگروں کی سجدہ ریزی :
الغرض ! جب موسیٰ (علیہ السلام) کے اژدہا نے جادوگروں کے چھوٹے چھوٹے سانپ سارے نگ لیے تو جادو گر بےبس ہوگئے اور ان کے ہاتھ میں کچھ نہ رہا اس موقع پر انہویں نے اپنی شکست تسلیم کرلی۔ فالقی السحرۃ سجدا اور سارے جادوگرسجدہ میں گر پڑے۔ وہ سمجھ گئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جادوگر نہیں بلکہ اللہ کے نبی ہیں اور اللہ نے آپ کے ہاتھ پر یہ معجزہ ظاہر کرکے ہمارے جادو کو ناکام بنادیا ہے اس وقت قالوا امنا برب ھرون وموسیٰ کہنے لگے ہم ایمان لے آئے ہیں۔ ہارون اور موسیٰ (علیہما السلام) کے پروردگار پر ، فرعون بڑا جابر اور ظالم تھا۔ وہ کیسے برداشت کرسکتا تھا کہ اس کے جادو گر اسے چھوڑ کر موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئیں اور اس طرح اس کش شکست کی راہ ہموار کریں۔ قال امنتم لہ قبل ان اذن لکم کہنے لگا تم میری اجازت کے بغیر ہی موسیٰ اور اس کے پروردگار پر ایمان لے آئے ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ تم نے میرے ساتھ ڈرامہ کھیلا ہے تم بھی موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہو مگر ظاہری طور پر میری حمایت کر رہے تھے موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق کہا انہ لکبیرکم الذی علمکم السحر یہ تمہارا بڑا جادوگر ہے جس نے تمہیں بھی جادو کا فن سکھایا ہے۔ تم سب استاد شاگرد اور ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہو۔ تم نے آپس کی ملی بھگت سے مجھے دھوکہ دیا ہے۔
فرعون کی دھمکی :
کہنے لگا میں تمہیں اس سنگین جرم کی سزا دیے بغیر نہ چھوڑویں گا فلا قطعن ایدیکم واجلکم من خلاف میں تمہارے ہاتھ پائوں الٹے سیدھے کاٹ دوں گا ولا صلبنکم فی جذوع النخل اور میں تمہیں کھجوروں کے تنوں پر سولی لٹکا دوں گا۔ لوگ دیکھیں گے کہ تمہیں کس جرم کی سزا دی گئی ہے تم میرے محکوم ہو کر موسیٰ (علیہ السلام) کی طرفداری کر رہے ہو۔ لہٰذا تمہیں سولی پر لٹکانے کی سزا بھی دی جائے گی۔ یہ سزا اللہ تعالیٰ نے ڈاکوئوں کے لئے مقرر فرمائی ہے۔ سورة مائدہ میں اس سزا کا ذکر موجود ہے انما جزائو……………………من الارض (آیت 33) جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ برسرپیکار ہوتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ان کی سزا یہ ہے کہ انہیں قتل کردیا جائے ، یا سولی پر لٹکایا جائے یا ان کے ہاتھ پائوں الٹے سیدھے کاٹے جائیں اور یا انہیں ملک بدر کردیا جائے۔
الغرض ! فرعون نے جادوگروں کے لئے سخت ترین سزا تجویز کرنے کی دلیل یہ دی ولتعلمن اینا اشدعذابا وابقی تاکہ تمہیں پتہ چل جائے کہ ہم میں سے کون زیادہ سخت سزا دینے والا ہے اور کون دیرپا رہنے والا ہے۔ مطلب یہ کہ فرعون نے جادوگروں کو سخت ترین الفاظ میں دھمکی دی کہ اگر وہ موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے رب پر ایمان لانے سے باز نہ آئے تو انہیں سخت ترین سزا سے دو چار ہونا پڑے گا۔
جادوگروں کا جواب :
جادوگر حق کو پہچان چکے تھے اور اب وہ فرعون کے جال میں دوبارہ پھنسنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ انہوں نے فرعون کو ترکی بہ ترکی جواب دیا قالوا لن نوثرک علی ماجآء نامن البینت کہنے لگے ، ہم تمہیں ہرگز ترجیح نہیں دیں گے ان واضح دلائل کے آنے پر جو ہمارے پاس آچکے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا قول ، فعل ہعجزات ، ان کا نورانی چہرہ سب دلائل تھے جن کو جادوگر پہچان کر ایمان لاچکے تھے ، اسی لئے انہوں نے فرعون سے کہا کہ ان حقائق کی موجودگی میں ہم تیری بات نہیں مان سکتے۔ کہنے لگے ایک تو ہم واضح دلائل پر تجھے ترجیح نہیں دے سکتے۔ اور دوسرا یہ کہ والذی فطرنا ہم اس ذات کے مقابلے میں بھی تجھے ترجیح نہیں دے سکتے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ ہم تیری مجوزہ سزا سے ہرگز نہیں گھبراتے فاقض ما انت قاض پس تو جو فیصلہ چاہتا ہے کہ گزر ، ہم ہرگز خوفزدہ نہیں ہوں گے ، ہم ہر قسم کی سزا کے لئے تیار ہیں۔ پھر انہوں نے بڑی مدلل بات کی انما تقضی ھذہ الحیوۃ الدنیا تیرا فیصلہ تو اس دنیا کی زندگی تک ہی محدود ہے جسے تو خم کرسکتا ہے۔ تو بیشک اپنا فیصلہ صادر کردے۔ ہم ایمان سے نہیں پھرینگے۔
حضور ﷺ نے بعض دیگر سربراہان مملکت کی طرح ہر قل والی روم کو بھی نامہ مبارک بھیج کر اسلام لانے کی دعوت دی تھی ، یہ خط (بخاری ص 5 ج 1 (فیاض) حضرت دحیہ کلبی ؓ کے ذریعے بھیجا گیا۔ جب یہ خط دربار ہر قل میں پیش ہوا تو اس نے حکم دیا کہ عرب کے کچھ لوگ یہاں کہیں ہوں تو انہیں بھی حاضر کیا جائے تو ابو سفیان جو اس وقت تجارتی قافلہ کی قیادت کر رہے تھے ، ہر قل کے دربار میں حاضر ہوئے۔ ہر قل نے بہت سے سوال کیے جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ کیا محمد کے دین میں داخل ہونے کے بعد کوئی شخص مرتد بھی ہوا ہے۔ تو ابوسفیان نے نفی میں جواب دیا۔ اس پر ہرقل پکارا اٹھا کہ یہ ایمان کی بشاشت ہے جب یہ دلوں میں داخل ہوجاتی ہے ، تو پھر ایماندار ایمان سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ کوئی خوف یا لالچ اہل ایمان کے ایمان کو متزلزل نہیں کرسکتا۔ یہ جادو گر جو تھوڑی دیر پہلے تک مقابلہ کر رہے تھے ، اللہ اور اس کے رسول کی دشمن بنے ہوئے تھے ، اب وہ ایمان میں پختہ ہوچکے تھے۔ وہ یکدم صدیقوں ، شہیدوں اور اولیاء اللہ کے درجے میں پہنچ چکے تھے۔
جادو سے توبہ :
کہنے لگے انا امنا بربنا بیشک ہم اپنے پروردگار پر ایمان لائے ہیں لیغفرلنا خطینا تاکہ وہ ہماری خطائوں کو معاف کردے۔ ہم بڑے بڑے کردہ گناہوں سے تائب ہوتے ہیں۔ اور اس جادو کی چیز سے بھی وما اکرھتنا علیہ من السحر جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا ہے فرعون سے کہنے لگے کہ تو نے ہمیں مجبور کرکے اللہ کے نبی کے مقابلے میں لاکھڑا کیا ، ہم اس بات کی بھی اللہ سے معافی چاہتے ہیں۔ تمہارے نزدیک تو تمہاری سزائیں ہیں اور تم دیرپا ہو مگر یادرکھو ! ہمارے نزدیک واللہ حیر وابقی اللہ تعالیٰ ہی بہتر اور دیرپا ہے۔ انعام بھی اسی کی طرف سے ہے اور سزا بھی اسی کی دیرپا ہے۔ ہمیں یقین ہے انہ من سیات ربہ مجرما بیشک جو شخص اپنے رب کے پاس مجرم بن کر آئے گا فان لہ جھنم پس اس کے لئے جہنم تیار ہے او وہ ایسی بری جگہ ہے لا یموت فیھا ولا یحی کہ اس میں داخل ہونے والا نہ اس میں مرے گا اور نہ زندہ رہے گا۔ زندگی تو راحت سے تعبیر ہوتی ہے جو بالکل نہیں ہوگی اور موت آکر ختم کردیتی ہے مگر جہنم والے کو موت بھی نہیں آئے گی۔ اسی لئے فرمایا کہ وہ نہ موت ہوگی اور نہ زندگی ۔ سزا ، دکھ اور تکلیف ہی ہوگی۔ ایسا شخص ہمیشہ ذہنی ، روحانی اور جسمانی پریشانی میں مبتلا رہے گا۔
اہل ایمان کے لئے انعام :
اس کے برخلاف ومن یاتہ مومنا جو کوئی ایمان کی حالت میں اپنے پروردگار کے حضور پیش ہوگا۔ جو اللہ کی وحدانیت ، نبی کی نبوت ، کتب سماویہ اور قیامت پر ایمان رکھنے والا ہوگا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ قد عمل الصلحت اس نے نیک اعمال بھی انجام دیے ہوں گے۔ فاولئک لھم الدرجت العلی ان کو بلند درجات نصیب ہوں گے اس کے ساتھ ساتھ جنت عدن تجری من تحتھا الانھر قابل رہائش باغات نصیب ہوں گے جن کے سامنے نہریں بہتی ہوں گی۔ خلدین فیھا جنتی لوگ ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے ۔ وہاں سے کبھی بےدخل نہیں کیے جائیں گے یہ نعمت انہیں دائمی طور پر حاصل ہوگی۔ فرمایا وذلک جزآئو من تزکی اور یہ بدلہ اس شخص کے لئے ہے جس نے تزکیہ حاصل کرلیا۔ یہ انعام اس کو ملے گا جس نے اپنے آپ کو کفر ، شرک ، نقاق ، بداخلاقی اور بد اعمالی سے بچا لیا۔
جادوگروں کے ایمان لانے کے بعد ان کے ساتھ جو سلوک ہوا۔ اس کا اللہ نے ذکر نہیں کیا۔ ظاہر ہے کہ فرعون نے انہیں وہی سزا دی ہوگی۔ جس کی اس نے دھمکی دی تھی ، مگر وہ لوگ ایمان پر قائم رہے۔ اللہ نے انہیں بلند درجات پر فائز فرمایا اور وہ کامل الایمان ہو کر شہادت کے مرتبے کو پہنچے۔ فرعون اور اس کے حواری ذلیل و خوار ہوئے مگر انہوں نے ایمان قبول نہ کیا ، بلکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف دوسری سازشوں میں مصروف ہوگئے۔ ان باتوں کا ذکر اگلی آیات میں آئے گا۔