Ayahs 20:90–94ربط آیات :
اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور پر جانے اور تورات لانے کا ذکر ہوچکا ہے۔ آپ کی غیرحاضری میں سامری نے سونے کا بچھڑا بناڈالا اور قوم کو شرک میں مبتلا کردیا۔ اللہ نے ان کی بےعقلی کا ذکر کیا کہ بچھڑے کے مجسمے سے کر شماتی آواز سن کر اسی پر لٹو ہوگئے اور اسے معبود تسلیم کرلیا حالانکہ وہ نہ تو کسی بات کا جواب دے سکتا تھا اور نہ کسی نفع ونقصان کا مالک تھا۔ آب آج کی آیات میں ہارون (علیہ السلام) کی طرف سے قوم کو تبلیغ اور موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی پر ہارون (علیہ السلام) کی سرزنش کا بیان ہے اس کے ساتھ ہارون (علیہ السلام) کے عذر کا ذکر بھی ہے جو انہوں نے اپنی براء ۃ میں موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے پیش کیا۔
ہارون (علیہ السلام) کی تبلیغ :
موسیٰ (علیہ السلام) کی کوہ طور پر موجودگی کے دوران ہارون (علیہ السلام) نے حق نیابت ادا کرتے ہوئے لوگوں کو سمجھانے کی حتی الامکان کوشش کی مگر وہ لوگ بچھڑے کی پوجا میں ملوث ہوگئے۔ اسی واقعہ کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ولقد قال لھم ھرون من قبل موسیٰ (علیہ السلام) کی کوہ طور سے واپسی سے قبل ہارون (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں کو سمجھایا اور فرمایا یقوم انما فتنتم بہ اے میری قوم ! تم اس بچھڑے کی وجہ سے فتنے میں مبتلا ہوچکے ہو ، اور کفر وشرک کا فتنہ تو بہت بڑا فتنہ ہے۔ پھر ہارون (علیہ السلام) نے ان کو حکیمانہ طریقے سے نہایت نرمی کے ساتھ فرمایا وان ربکم الرحمن تمہارا پروردگار تو خدائے رحمن ہے ، تم نے بچھڑے کو معبود کیسے بنا لیا ہے۔ یہاں پر اللہ تعالیٰ کی صفت رحمن کا ذکر کیا گیا ہے جس کی رحمتوں کی بارش تم پر ہر آن ہورہی ہے۔ مگر تم نے خدائے رحمان کی بجائے بچھڑے کی پرستش شروع کردی ہے یہ کتنی زیادتی کی بات ہے ، آپ نے قوم سے یہ بھی فرمایا فاتبعونی تم میرا اتباع کرو ، میرے نقش قدم پر چلو ، میری بات مانو اور بچھڑے کی پوجا نہ کرو۔ نبی مامور من اللہ ہوتا ہے جس کا اتباع فرض ہوتا ہے ۔ سورة آل عمران میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا قل ان کنتم تحبون اللہ …………………ذنوبکم (آیت 31) اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں کہ اگر تم اللہ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو میرا اتباع کرو۔ اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کردیگا ۔ نبی کے اتباع سے خدا کا قرب اور اس کی محبت نصیب ہوتی ہے ۔ چونکہ ہر نبی کا اتباع ضروری ہوتا ہے۔ اس لئے ہارون (علیہ السلام) نے قوم سے کہا کہ میری پیروی کرو ، میرے راستے پر چلو واطیعو امری اور میرے حکم کی اطاعت کرو۔ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی نیابت میرے سپرد کر گئے ہیں۔ ان کی نیابت میں نظام شریعت اور نظام حکومت دونوں شامل ہیں ، لہٰذا ان کی غیر حاضری میں میری اطاعت تمہارا فرض ہے۔ نیابت کے متعلق سورة اعراف میں موجود ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) سے فرمایا اخلفنی……………المفسدین (آیت 142) میرے بعد میری قوم میں میری خلافت کا حق ادا کرنا ، ان کی اصلاح کرنا ، اور فسادیوں کے راستے پر نہ چلنا۔ اسی فرض کی ادائیگی کرتے ہوئے ہارون (علیہ السلام) نے لوگوں کو شرک کی نجاست سے بچانے کی ہر چند کوشش کی مگر قوم نے آپ کی بات کان نہ دھرا بلکہ کہنے لگے قالوا لن نبرح علیہ عکفین ہم ہرگز نہیں ٹلیں گے بلکہ اسی (شرک) پر جمے رہیں گے حتی یرجع الینا موسیٰ یہاں تک کہ موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے پاس واپس آجائیں۔ قوم نے صاف کردیا کہ جب تک موسیٰ طور سے واپس نہیں آجاتے ہم تمہاری بات ماننے کو تیار نہیں بلکہ اسی طرح اپنے نظریے پر قائم رہیں گے۔ عکوف کا معنی رک جانا ٹھہرجانا ہوتا ہے۔ اعتکاف بھی اسی مادے سے ہے لوگ خانہ خدا میں رک جاتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت و ریاضت کرکے اپنے گناہوں کی معافی حاصل کرسکیں۔ بہرحال بنی اسرائیل کے لوگوں نے ہارون (علیہ السلام) کی بات ماننے کی بجائے ان کے ساتھ سختی سے پیش آنا شروع کردیا۔
تورات میں تحریف :
یہاں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ قرآن پاک کے مطابق بچھڑے کی پوجا کا فتنہ سامری نے شروع کیا تھا جس کا اصل نام موسیٰ بن ظفر تھا اور جس کی تفصیل تذکر ہ کل کے درس میں ہوچکا ہے۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ موجودہ تورات میں اس واقعہ کو غلط رنگ میں پیش کیا گیا ہے جس سے اصل تورات میں تحریف کی واضح نشان دہی ہوتی ہے۔ موجودہ تورات میں طلائی ، بچھڑا سازی اور اسے معبود بنانے کے عمل کو سامری کی بجائے ہارون (علیہ السلام) کی طرف منسوب کیا گیا ہے (العیاذ باللہ) بائبل میں بعض دوسری تحریفات کا پتہ بھی چلتا ہے۔ سلیمان (علیہ السلام) کے متعلق ہے کہ انہوں نے اپنی بیویوں کے کہنے پر گھر میں بت رکھے اور اس طرح بت پرستی کا ارتکاب کیا۔ آپ تو اللہ کے نبی اور صاحب صحیفہ رسول ہیں ، آپ سے بت پرستی کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے ؟ یہ سب یہودیوں اور عیسائیوں کی تحریفات ہیں۔ جو انہوں نے اللہ کی کتابوں میں کی ہیں۔ اللہ کے نبیوں کے متعلق بائبل میں بعض دیگر بداخلاقی کی باتیں بھی داخل کردی گئی ہیں جن کی قرآن پاک صراحت کے ساتھ تردید کرتا ہے۔ اللہ کے پاک نبی ایسی خرافات سے بالکل پاک تھے۔
ہارون (علیہ السلام) کو سرزنش :
جب موسیٰ (علیہ السلام) طور سے واپس آئے تو انہوں نے دیکھا کہ لوگ خود ساختہ بچھڑے کے گرد جمع ہیں ، کوئی سجدہ کررہا ہے کوئی رقص کر رہا ہے اور کوئی اس کے سامنے مناجات کررہا ہے۔ ایسی بےہنگم حالت دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) برداشت نہ کرسکے۔ چناچہ انہوں نے سب سے پہلے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو سرزنش کی۔ ان کا خیال تھا کہ شاید بھائی نے حق نیابت ٹھیک طور سے انجام نہیں دیا جس کی وجہ سے قوم شرک میں مبتلا ہوگئی ہے ، قال موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا یھرون ما منعک اذ رایتھم ضلوا اے ہارون ! تجھے کس چیز نے روکا جب کہ تو نے قوم کو گمراہ ہوتے دیکھا الا تتبعن کہ تم میرے پیچھے نہ آئے۔ جب تم نے دیکھا کہ قوم شرک میں مبتلا ہورہی ہے تو تم نے فوراً آکر مجھے خبردار کیوں نہ کیا افعصیت امری کیا تو نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی ہے ؟ میں نے تو تجھے کہا تھا کہ میری غیر موجودگی میں لوگوں کی اصلاح کرنا اور مفسدین کے راستے پر نہ چلنا ، مگر یہاں تو شرک جیسا قبیح فساد برپا ہے تم نے اسے کیونکر برداشت کیا ، اور میرے پاس نہ آئے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) چونکہ جلالی طبیعت کے آدمی تھی ، انہیں اپنے بھائی پر اس قدر غصہ آیا کہ ان کی داڑھی اور سر کے بالوں کو پکڑکر یجر الیہ (اعراف 150) اپنی طرف کھینچا۔
ہارون (علیہ السلام) کا عذر :
اس سرزنش کے جواب میں قال ہارون (علیہ السلام) نے کہا یابنوم اے میری ماں کے بیٹے ! ظاہر ہے کہ موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) آپس میں حقیقی بھائی تھے ۔ اگرچہ عمر میں ہارون (علیہ السلام) بڑے تھے مگر اللہ نے مرتبہ موسیٰ (علیہ السلام) کو زیادہ عطا فرمایا تھا۔ تو ہارون (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ” بھائی “ کی بجائے ” ماں کے بیٹے “ کہہ کر مخاطب کیا تاکہ ان میں جذبہ ترحم پیدا ہو اور ان کا غصہ ٹھنڈا ہو ۔ پھر کہا لا تاخذ بلحیتی ولا براسی بھائی ! میری داڑھی اور سر کو نہ پکڑو یعنی مجھ پر سختی نہ کرو۔ بلکہ اس معاملہ میں میرا عذر تو سن لو کہ میں آپ کے پیچھے کیوں نہ چلا آیا۔ کہنے لگے کہ میں نے تو ان لوگوں کو سمجھانے کی بڑی کوشش کی مگر ان القوم استضعفونی وکادو یقتلوننی بیشک یہ قوم تو مجھے کمزور سمجھتے ہوئے قتل کرنے کے درپے تھی۔ فلا تشمت بی الاعداء (اعراف 150) آپ میری سرزنش کرکے دشمنوں کو خوش نہ کریں ، یہ کہیں گے کہ دیکھو بھائی بھائی آپس میں لڑ پڑے ہیں ، لہٰذا آپ میری معذرت پر ٹھنڈے دل سے غور کریں اور اس کے بعد کوئی کاروائی کریں۔ اصل بات یہ ہے کہ میں آپ کے پیچھے اس وجہ سے نہیں آیا انی خشیت ان تقول فرقت بین بنی اسرائیل مجھے ڈر تھا کہ آپ یوں نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل کے درمیان تفرقہ ڈال دیا ہے ظاہر ہے کہ اگر میں قوم کی شکایت لے کر آپ کے پاس آتا تو کچھ لوگ میری حمایت کرتے اور کچھ ان مشرکین کی پارٹی میں شامل ہوجاتے اور اس طرح قوم دو واضح گروہوں میں بٹ جاتی۔ میں ان کو اکٹھا رکھنے کے خیال سے آپ کے پاس نہیں آیا۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ آپ یہ بھی نہ کہہ دیتے ولم ترقب قولی کہ تو نے میرے حکم کا انتظار نہیں کیا یعنی بغیر اجازت کیوں آگئے۔
مولانا شاہ اشراف علی تھانوی فرماتے ہیں کہ اس معاملہ میں موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے اجتہادات مختلف تھے ۔ ہارون (علیہ السلام) کا جتہاد یہ تھا کہ انہیں قوم کے درمیان رہ کر ہی ان کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے ، ان کا خیال تھا کہ اگر میں ان سے علیحدہ ہوگیا تو شاید پھر قوم کی اصلاح کی کوئی صورت باقی نہ رہے۔ برخلاف اس کے موسیٰ (علیہ السلام) کا اجتہادیہ تھا کہ جب قوم اس قدر بیہودگی پر کمر بستہ ہوگئی تھی تو ہارون (علیہ السلام) کو ان سے علیحدگی اختیار کرلینی چاہیے تھی۔
بہرحال ہارون (علیہ السلام) نے یہ عذر پیش کیا کہ میں نے قوم میں تفریق کے خوف سے ان سے علیحدہ ہونا پسند نہ کیا۔ اب ایک طرف شرک ہورہا تھا اور دوسری طرف قوم میں تفرقہ بازی کا ڈر تھا مگر ہارون (علیہ السلام) نے فرقہ بندی کے مقابلے میں شرک کو برداشت کرلیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اکٹھے رہ کر ان کو سمجھاتے بجھاتے رہیں گے تو معاملہ درست ہوجائے گا۔ اور قوم شرک سے باز آجائے گی۔ اور اگر ان سے علیحدہ ہوجاتے تو اصلاح کا امکان بالکل ہی ختم ہوجاتا ہے۔
ہارون (علیہ السلام) نے پارٹی بازی کو پسند نہ کیا کیونکہ یہ بہت بڑی لعنت ہے۔ اس وقت دنیا بھر کے مسلمان سیاسی اور مذہبی پارٹی بازی کا شکار ہیں ، جس کی وجہ سے ان کی ساکھ ختم ہوکررہ گئی ہے۔ پارٹی بازی ملکی ہو یا بین الاقوامی دونوں تباہ کن ہیں۔ ایک پارٹی دوسری پارٹی کی جائز بات بھی سننے کے لئے تیار نہیں ہوتی اور ” مخالفت برائے مخالفت “ کے نظریہ کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔ اسی لئے ہارون (علیہ السلام) نے تفرقہ بازی کو قبول نہ کیا۔
ایک اشکال اور اس کا جواب :
یہاں پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے جلیل القدر نبی اور رسول تھے مگر انہوں نے بھائی کی اس قدر تذلیل کیوں کی کہ انہیں سر اور داڑھی سے پکڑ کر گھسیٹا ۔ یہ تو بظاہر گناہ معلوم ہوتا ہے جس کی توقع اللہ کے نبی سے نہیں کی جاسکتی۔ دراصل گناہ کا ارتکاب نیت اور ارادے سے ہوتا ہے۔ اگر ارادہ نہ ہو تو یہ گناہ نہیں بلکہ خطا یا نسیان ہوتا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے بھائی کی جو تحقیر کی تھی ، ان کی یہ ناراضگی اللہ کی خاطر تھی۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ شاید ہارون (علیہ السلام) سے کوتاہی ہوئی ہے۔ اور جو ناراضگی اللہ کی رضا کے لئے کی جائے وہ گناہ میں شمار نہیں ہوتی۔
اس قسم کی صورت حال موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک قبطی کے قتل کے معاملہ میں بھی پیش آئی تھی۔ آپ سے قتل ضرور ہوا تھا مگر آپ کی نیت یا ارادہ قتل کا نہیں بلکہ اسرائیلی کو ظلم سے نجات دلانے کا تھا۔ وہاں بھی قتل کرنا ظاہری طور پر سخت گناہ کا کام تھا مگر حقیقت میں ایسا نہیں تھا کیونکہ آپ نے ارادتاً یہ قتل نہیں کیا تھا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کو بھی اس قسم کے حالات سے گزرنا پڑا انتیس سال تک کے طویل وعظ ونصیحت کے باوجود جب آپ کی قوم راہ راست پر نہ آئی اذذھب مغا ضیا (الانبیائ 87) تو غصے میں آکر قوم سے علیحدہ ہوگئے۔ آپ کا یہ غصہ بھی اپنی ذات کے لئے نہیں تھا بلکہ خدا تعالیٰ کے لئے تھا کہ قوم کو سمجھاتے ہوئے اتنا طویل عرصہ ہوگیا ہے مگر ان کی سمجھ میں کوئی بات آتی ہی نہیں۔ یہ لوگ کفر وشرک سے باز نہیں آئے۔ تو یونس (علیہ السلام) کی لغزش بھی گناہ کے زمرے میں نہیں آتی اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی کی سرزنش کرنا بھی کوئی گناہ کی بات نہیں تھی کیونکہ انہوں نے یہ کام اللہ کی خاطر ناراضگی کی وجہ سے کیا تھا۔ پھر جب ہارون (علیہ السلام) کا عذر آپ پر واضح ہوگیا تو آپ نے اللہ تعالیٰ کے سامنے معافی کی درخواست بھی پیش کردی اور عرض کیا رب اغفرلی ……………رحمتک (الاعراف 151) اے پروردگار ! مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرمادے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کرلے۔
Ayahs 20:95–98ربط آیات :
موسیٰ (علیہ السلام) کتاب لے کر کوہ طور سے واپس آئے تو قوم کو شرک میں مبتلا دیکھ کر سخت برہم ہوئے۔ پہلے اپنے بھائی کو سرزنش کی لیکن بعد میں پتہ چلا کہ وہ تو بےقصور ہیں۔ انہوں نے تو افہام و تفہیم کی پوری کوشش کی تھی مگر قوم نہ مانی اور الٹا ان کے قتل کے درپے ہوئے۔ ہارون (علیہ السلام) نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ ایمان والوں کو ساتھ لے کر باقی قوم سے الگ ہوجائیں اور کوہ طور کی طرف چل دیں۔ انہیں خطرہ تھا کہ جماعت میں ایسا تفرقہ پیدا ہوجائے گا جس کی اصلاح ناممکن ہوجائے گی۔ بہرحال جب موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے بھائی کی بےگناہی کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے اور بھائی کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کی کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں کو معاف کردے۔
سامری کی کرشمہ سازی :
ہارون (علیہ السلام) کی سرزنش کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) سامری کی طرف متوجہ ہوئے۔ یہ اطلاع تو آپ کو طور پر ہی اللہ نے بذریعہ وحی دے دی تھی کہ آپ کی قوم کو فتنے میں ڈال دیا گیا ہے اور سامری نے انہیں گمراہ کیا ہے۔ چناچہ آپ نے سامری سے خطاب کیا قال فما ختبک یسامری فرمایا ، کیا حال ہے تیرا اے سامری ! یعنی تم نے بچھڑا بنا کر گمراہی کا یہ سلسلہ کیوں شروع کیا ؟ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے جلیل القدر نبی اور خلیفہ وقت بھی تھے لہٰذا انہیں باز پرس کا پورا حق تھا۔ اس کے جواب میں قال سامری نے کہا کہ بچھڑا سازی کی وجہ یہ بنی بصرت بمالم یبصروا بہ میں نے وہ کچھ دیکھا جو دوسرے لوگ نہ دیکھ سکے فقبضت قبضۃ من اثر الرسول پس میں نے مٹھی بھرلی رسول (جبرائیل) کے نقش قدم سے۔ فنبذ تھا پس میں نے اس کو ڈال دیا اس بچھڑے کے اندر۔ وکذلک سولت لی نفسی کہنے لگا کہ میرے نفس نے مجھے اس چیز پر آمادہ کیا۔ بعض اس کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں کہ مجھے وہ بات سوجھی جو دوسروں کو نہیں سوجھی تھی۔ میں نے پہلے تو رسول کا اتباع کیا مگر پھر چھوڑ دیا ، اور میرے نفس نے اسی طریقے سے مجھے آمادہ کیا تھا ، چناچہ میں نے یہ بچھڑا بناڈالا۔
تاہم عام مفسرین یہ بیان کرتے ہیں کہ یہاں پر رسول سے مراد جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ وہ گھوڑے پر سوار تھے۔ سامری نے گھوڑے کے نقش پا سے کچھ مٹی اٹھالی تھی جسے اس نے سونے سے بنائے ہوئے بچھڑے میں ڈال دیا تو اس سے یہ کرشمہ معرض وجود میں آگیا اور بچھڑے سے آواز آنے لگی۔ شاہ عبدالقادر صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ جس سونے کا بچھڑا بنایا گیا وہ اسرائیلیوں کے پاس قبطیوں کی امانت تھا اور اسرائیلیوں کا اس پر کوئی حق نہ تھا ۔ ادھر جب اس سونے پر جبرائیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے پائوں کی بابرکت مٹی پڑی تو حق و باطل کے اختلاط سے یہ کرشمہ بن گیا۔ اس میں سے زندہ بچھڑے کی سی آواز آنے لگی۔
سامری نے یہ مٹی کیسے حاصل کی ؟ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ جب فرعونی لشکرموسیٰ (علیہ السلام) کے تعاقب میں بحرقلزم پر پہنچا تو اس وقت وہ سمندر کے خشک راستے پر اترنے ریں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے تھے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا جو انسانی شکل میں گھوڑے رپ سوار ہو کر آئے ۔ انہوں نے اپنا گھوڑا سمندری راستے پر ڈال دیا جسے دیکھ کر فرعون اور اس کا لشکر بھی سمندر میں اتر گیا۔ سامری قریب کھڑا دیکھ رہا تھا کہ جس جگہ پر جبرائیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کا قدم لگتا ہے۔ وہاں جگہ سربز ہوجاتی تھی۔ اس نے جان لیا کہ یہ کوئی غیر معمولی چیز ہے چناچہ اس نے گھوڑے کے نقش قدم سے مٹھی بھر مٹی اٹھا کر اپنے پاس محفوظ رکھ لی جو بعد میں سونے کے بچھڑے کے منہ میں ڈالی تو وہ بولنے لگا۔
بعض مفسرین سامری (موسیٰ بن ظفر) کی غیر معمولی پرورش کے واقعہ کی طرف بھی گئے ہیں۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے۔ سامری کی پیدائش پر فرعون کے خوف سے اس کی ماں سامری کو غار میں پھینک آئی تھی۔ وہاں پر اللہ تعالیٰ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا۔ وہ آکر اس کے منہ میں تین انگلیاں ڈالتے تھے ، ایک میں سے دودھ ، دوسری میں سے شہد اور تیسری انگلی میں سے مکھن نکلتا تھا۔ جس سے سامری کی پرورش ہوئی۔ تو بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ سامری نے غار میں قیام کے دوران جبرائیل کی کوئی خصوصیت دیکھ کر ان کے قدموں کی مٹی حاصل کرلی ہو ، اور پھر یہ مٹی سونے کے بچھڑے میں ڈال دی ہو جس سے وہ بولنے لگا۔ تاہم عام مفسرین بحرقلزم میں جبرائیل کے گھوڑے کے نقش پاوالی روایت کو ترجیح دیتے ہیں۔
اگلی بات میں مفسرین کا قدرے اختلاف ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ مذکورہ مٹی ڈالنے سے سونے کا بنا ہوا بچھڑا فی الواقع گوشت پوشت کا بنا ہوا زندہ بچھڑا بن گیا تھا اور اس کی فطرتی آواز آنے لگی تھی۔ البتہ دوسرے مفسرین کی تحقیق یہ ہے کہ بچھڑے کی ہئیت نہیں بدلی تھی ، وہ بدستور سونے کا مجسمہ تھا مگر اس میں سے آواز بچھڑے کے بولنے کی آرہی تھی۔ قرآن پاک کے ظاہری الفاظ اسی نظریہ کی تائید کرتے ہیں۔ اس بچھڑے کے لئے جسدلہ خوار کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بچھڑے کی شکل و صورت کا ایک ڈھانچہ تھا جس سے بچھڑے کے بولنے کی آواز آتی تھی۔
سامری کی دنیوی سزا :
سامری کا جرم اس قدر سنگین تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے قتل کرنے کا ارادہ کیا مگر اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے سے منع فرمادیا کہ اس میں خاص مصلحت تھی۔ اس کی مثال جنگ حنین میں بھی ملتی ہے جس شخص نے اعتراض کیا تھا ، وہ واجب القتل تھا۔ حضرت خالد ؓ نے عرض کیا کہ حضور ! اجازت دیں تو میں اس شخص کی گردن اڑا دوں ، آپ نے فرمایا ، ایسا نہ کرو ، اس کی اولاد اور پیروکاروں میں سے ایسے گمراہ لوگ نکلیں گے جو ایسی نمازیں پڑھیں گے کہ تم ان کے مقابلے میں اپنی نمازوں کو ہیچ سمجھو گے ، مسلمانوں والی شکل و صورت ہوگی مگر وہ اسلام سے اس طرح نکل چکے ہوں گے ، جس طرح تیر شکار میں سے نکل جاتا ہے۔
جس طرح حضور ﷺ نے اس شخص کے قتل کی اجازت نہ دی اسی طرح سامری کو بھی چھوڑ دیا گیا ، البتہ اس کو دنیا اور آخرت دونوں جگہ سزا ملی۔ دنیوی سزا کے متعلق موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری سے فرمایا قال فاذھب چلا جا ، دور ہوجا فان لک فی الحیوۃ بیشک تیرے لئے اس دنیا میں سزا یہ ہے ان تقول لا مساس کہ تو لوگوں سے کہتا پھرے گا ۔ مھے مت چھونا۔ تم پر ایک وحشت طاری ہوجائے گی اور تم انسانیت کے دائرہ سے نکل کر وحشی بن جائو گے۔ ادھر ادھر بھاگتے پھرو گے ، ہر قریب آنے والے شخص سے کہو گے کہ میرے قریب نہ آنا اور مجھے ہاتھ نہ لگانا ، وجہ یہ تھی کہ جو شخص سامری کو ہاتھ لگا دیتا تھا یا وہ کسی شخص کو چھو لیتا تھا تو دونوں شدید قسم کا بخار ہوجاتا تھا۔ دنیا میں چھوت چھات کی بیماری اسی سامری کے ذریعے پھیلی ، اس بیماری کا سردار یہی شخص تسلیم کیا جاتا ہے۔
سامری کی اخروی سزا :
یہ تو اس کی دنیوی سزا کا ذکر تھا ، اب اخروی سزا کے متعلق فرمایا وان لک موعدا اور تمہارے لئے ایک وعدہ ہے لن تخلفہ جس کی ہرگز خلاف ورزی نہیں ہوگی ، یعنی یہ وعدہ ضرور پورا ہوگا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس وعدے سے مراد آخرت کا وعدہ ہے۔ جب قیامت کو اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوگا۔ تو یہ وعدہ اس وقت سزا کی صورت میں پورا ہوگا ، شاہ عبدالقادر (رح) کا یہی قول ہے۔ اور شاید اس وعدے سے دجال کا خروج بھی مراد ہو کیونکہ دجال یہود میں سے ہوگا اور سامری کے فساد کی تکمیل کرے گا۔
مجسمے کے ساتھ سلوک :
ادھر بچھڑے کے متعلق موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری سے فرمایا وانظر الی الھک الذی ظلت علیہ عاکفا ذرا اپنے اس معبود کی طرف تو دیکھو جس پر تم جھکے پڑے تھے ، اس کو معبود مان کر اس کے سامنے سجدہ اور رقص کرتے تھے۔ دیکھو ! ہم اس کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ فرمایا لنحرقنہ ہم اسے جلا ڈالیں گے ثم لننسفنہ فی الیم نسفا پھر ہم اس کی راکھ کو سمندر میں اڑا دیں گے یعنی بکھیر دیں گے۔ پھر اس مجسمے کے ساتھ یہی سلوک کیا گیا۔ اس کو آگ میں جلا کر راکھ بنادیا گیا اور پھر اس راکھ کو دریائوں میں بہادیا گیا۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ اس بچھڑے کے متعلق مفسرین کی دورائیں ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ سامری کے مٹی ڈالنے سے یہ گوشت پوست کا بنا ہوا سچ مچ کا بچھڑا بن گیا تھا اور بعض کہتے ہیں کہ وہ مجسمہ ہی تھا مگر اس سے بچھڑے جیسی آواز آتی تھی۔ اگر وہ گوشت پوست کا بچھڑا بن گیا ہو تو اس کا جلانا آسان تھا کہ ایسے واقعات دنیا میں پیش آتے رہتے ہیں ، اور اگر وہ طلائی بچھڑا ہی تھا تو اس کا برادہ بنا کر جلا دیا گیا ہوگا۔ اگرچہ اس پر زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔ بہرحال اسے جلا کر راکھ کردیا گیا۔
شعار شرک کی تردید :
قرآن پاک کے ان الفاظ سے ایک بات سمجھ میں آتی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سونے سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا تھا۔ نہ تو دوبارہ زیورات میں تبدیل کیا ، نہ اس کے سکے بنا کر تقسیم کیے اور نہ کسی دوسری صورت میں اس سے استفادہ کیا۔ بلکہ اسے جلا کر ضائع کردیا ، حالانکہ حضور ﷺ نے نھی عن اصناعۃ المال مال کو یونہی ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے محققین اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ جس مال کے ضیاع میں شعار کفر وشرک کی تذلیل پائے ، وہ مال حقیقت میں ضائع نہیں ہوتا۔ چونکہ یہاں پر شرک کے شعار کی تذلیل مقصود تھی۔ انہوں نے بچھڑے کو معبود بنالیا ، لہٰذا اس کی تذلیل وتحقیر کرکے اسے ضائع کردینا اس کے دنیوی طور پر مستفید ہونے سے بہتر تھا۔ چناچہ اگر کسی قیمتی سے قیمتی بت کو بھی توڑ پھوڑ کر ضائع کردیا جائے ۔ تو یہ درست ہے ۔ اس طرح کوئی تصویر خواہ کتنی ہی قیمتی کیوں نہ ہو اسے پھاڑ کر ضائع کردینا چاہیے۔ اسی طرح کپڑے وغیرہ کی بنائی ہوئی گڑیوں کا بھی یہی حکم ہے کہ انہیں جلا کر راکھ کردو۔ اس طرح کا ضیاع جائز ہے خود حضور ﷺ نے بھی تمام بت پاش پاش کردیے۔ آپ نے ان کے پیتل تانبے یا سونے چاندی کا کوئی دوسرا مصرف نہیں نکالا بلکہ کو توڑ پھوڑ کر ضائع کردیا ۔ رافضیوں کے بنائے ہوئے تعزیے اور ذوالجناح بھی اسی تعریف میں آتے ہیں اور ضائع کرنے کے قابل ہیں ، خواہ ان پر کتنی بڑی رقم ہی کیوں نہ صرف ہوئی ہو اور ان کی بعض چیزیں قابل استعمال ہی کیوں نہ ہوں۔
معبود برحق :
فرمایا تمہارا معبود یہ بچھڑا نہیں بلکہ انما الھکم اللہ الذی لا الہ الا ھو تمہارا معبود تو وہ معبود برحق ہے کہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ حقیقی معبود تو اللہ تعالیٰ ہے جو نفع نقصان اور قدرت تامہ کا مالک ہے۔ بھلا بچھڑا جو تمہاری کسی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا ، تمہارے کسی کام نہیں آسکتا۔ وہ معبود کیسے بن گیا ؟ اور اس کا انجام تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ جلا کر اس کی راکھ بھی پانیوں میں بکھیر دی گئی۔ جو خود اپنی ذات کی حفاظت نہیں کرسکا ، وہ تمہیں کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے اور کیسے معبود بن سکتا ہے ؟
فرمایا وسع کل شیء علما اس معبود حقیقی کا علم تو ہر چیز پر حاوی ہے۔ وہ علیم کل ہے ، خالق اور مربی ہے ، نافع اور ضار ہے۔ وہی ہرچیز کا متصرف ہے۔ لہٰذا اس کو چھوڑ کر بچھڑے کو معبود بنانا تو بڑی حماقت کی بات ہے ، پھر اس بچھڑے کی وجہ سے اس کے پچاریوں کو بڑی خفت اٹھانا پڑی۔ ان مشرکوں کی توبہ کی قبولیت کے لئے ان کے واسطے قتل کی سزا مقرر ہوئی۔ اللہ کے نبی ہارون (علیہ السلام) نے کھڑے ہو کر خدا کی حد ان پر جاری کی ، چناچہ بنی اسرائیل میں سے اہل ایمان نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے مشرک رشتہ داروں کو قتل کیا اور اسی طرح ہزاروں اسرائیلی مارے گئے۔ اس طرح اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور وہ آخرت کے عذاب سے بچ گئے۔
Ayahs 20:99–104ربط آیات :
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے واقعہ کے سلسلے میں سامری کا ذکر کیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے کتاب لے کر کوہ طور سے واپس آئے تو اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اللہ کی توحید کو ماننے والے بعض لوگ شرک میں مبتلا ہوچکے ہیں وہ لوگ سونے کے بنے ہوئے بچھڑے کی پوجا کرنے لگے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ڈانٹ ڈپٹ کی کہ تمہاری موجودگی میں قوم کیسے گمراہ ہوگئی ؟ جب انہوں نے اپنی صفائی پیش کردی تو موسیٰ (علیہ السلام) سامری کی طرف متوجہ ہوئے اس نے بچھڑا سازی کا سارا واقعہ بیان کیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے دھتکار دیا ، اور فرمایا کہ جائو تمہیں اس جرم کی دنیا میں بھی سزا ملے گی اور تم چھوت چھات کی لعنت میں گرفتار ہوجائو گے۔ جب بھی کوئی شخص تمہیں لمس کرے گا ، وہ خود بھی تپ میں مبتلا ہوجائے گا۔ اور تمہیں بھی کردے گا۔ نیز فرمایا کہ وعدے کے مطابق تمہیں آخرت میں بھی ضرور سزا ملے گی۔
سونے کے مجسمے کے متعلق موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہم اس کو چورا چورا کرکے جلا کر راکھ کردیں گے اور پھر اسے پانی میں بہادیں گے۔ تاکہ شرک کے اس شعار کی تذلیل ہو اور لوگ دیکھ لیں کہ ان کے خود ساختہ معبود کا کیا حشر ہوا ہے۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے خبردا کیا کہ تمہارا معبود برحق اللہ تعالیٰ ہے۔ جس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ تمام قوتوں کا سرچشمہ ہے۔ قادرمطلق ، خالق ، مالک ، مربی ، مدبر اور متصرف فی الامور ہے۔ وہ نبیوں کو مبعوث کرتا ہے ، ان پر کتابیں نازل کرتا ہے اور خیر وشر کے انجام سے آگاہ کرتا ہے۔ اس کا علم محیط اور قدرت تامر ہے ، لہٰذا معبود ہونے کا حق بھی صرف اسی کو حاصل ہے ۔ جو کوئی مخلوق میں سے کسی کو معبود بنائے گا۔ وہ شرک میں مبتلا ہو کر ہمیشہ کی ناکامی کا منہ دیکھے گا۔ ایسے شخص کو تائب ہو کر توحید خداوندی پر ایمان لے آنا چاہیے۔
پہلے لوگوں کا حال :
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی مختلف سورتوں میں سابقہ اقوام کی سرکشی کے حالات بیان کرکے حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو آگاہ کیا ہے کہ وہ سرکش لوگوں کے برخلاف اپنے مشن کو جاری رکھیں ۔ نیز انہیں نافرمان لوگوں کے انجام سے نصیحت پکڑنی چاہیے کہ کہیں ان کے نقش قدم پر چل کر یہ بھی ناکامی کا منہ نہ دیکھیں۔ چونکہ سابقہ اقوام کے حالات کا علم بجزوحی الٰہی ممکن نہیں اور وحی انبیاء پر نازل ہوتی ہے ، لہٰذا اس میں ضمناً نبوت و رسالت کا ذکر بھی آگیا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ معاد اور نزول کتاب کے مضامین بھی آگئے ہیں۔
ارشاد ہوتا ہے کذلک نقص علیک من انباء ما قدسبق جس طرح ہم نے اس مقام پر موسیٰ ، ہارون ، (علیہما السلام) اور فرعون کا حال بیان کیا ہے ، اسی طرح ہم آپ پر ان لوگوں کی خبریں بیان کرتے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا زمانہ تو نسبتاً قریبی زمانہ ہے ہم اس سے پہلی اقوام کا حال بھی بیان کرتے ہیں کہ انہیں اللہ کے نبی کس طرح پیغام حق پہنچاتے رہے اور انہوں نے اس کا کیا جواب دیا اور پھر ان کا کیا حشر ہوا۔ اس قسم کے واقعات کا بیان کرنا معجزہ ہے کیونکہ سابقہ اقوام کے صحیح صحیح حالات تاریخ سے تو معلوم نہیں ہوتے اور یہ صرف اور صرف وحی الٰہی کے ذریعے ہی معلوم ہوسکتے ہیں۔ تو اللہ نے فرمایا کہ جس طرح ہم نے یہ واقعات آپ کو ٹھیک ٹھیک پہنچائے ہیں ، اسی طرح ان سے پہلے لوگوں کا حال بھی بیان کرتے ہیں۔
قرآن بطور ذکر :
اس کے بعد قرآن پاک کی حقانیت کا ذکر ہورہا ہے وقد اتینک من لدناذکرا اور البتہ تحقیق ہم نے دیا ہے آپ کو اپنی طرف سے ایک نصیحت نامہ۔ اس نصیحت نامہ سے مراد قرآن پاک ہے۔ قرآن حکیم کے مختلف اسماء مثلاً قرآن ، فرقان ، ہدایت ، نور ، تذکرہ وغیرہ کی طرف ذکر بھی اس کا ایک نام ہے۔ قرآن پاک ایک عظیم نصیحت نامہ ہے جس کی نصیحت آموز باتوں ، اصول وقوانین پر عمل پیرا ہو کر انسان دنیوی اور اخروی فلا ح حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کتاب الٰہی میں عبرت آموز واقعات ہیں ، اس میں تاریخی حقائق ہیں ، حظیرۃ القدس یعنی عالم بالا کے حالات ہیں ، خدا کی ذات وصفات کا بیان ہے ، تمام انبیاء کے شرائع اور دیگر بہت سی باتوں کا ذکر ہے ، لہٰذا یہ بہت بڑا نصیحت نامہ ہے۔
قرآن پاک سے اعراض :
ارشاد ہوتا ہے من اعرض عنہ جس نے قرآن حکیم جیسے نصیحت نامے سے روگردانی کی ، اس کی تکذیب کی یا اس کو زندگی کا لائحہ عمل نہ بنایا فانہ یحمل یوم القیمۃ وزرا بیشک ایسا شخص قیامت کے دن بوجھ اٹھائے گا۔ ظاہر ہے کہ جس نے اللہ کے اس آخری پروگرام سے فائدہ نہ اٹھایا وہ کفر ، شرک اور معاصی میں مبتلا ہوگا ، لہٰذا آخرت میں یقینا اپنے گناہوں کا بوجھ اپنی گردن پر اٹھائے گا۔ جو شخص قرآن سے اعراض کرتا ہے۔ اس میں عقیدے کی پاکیزگی اور اخلاق و اعمال کی تہذیب کیسے آسکتی ہے۔ لہٰذا وہ لازماً خدا کی ناراضگی خرید کر گناہوں کا بوجھ اٹھائے گا۔
فرمایا خلدین فیہ ایسے لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اسی بوجھ میں دبے رہیں گے اور اس سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پائیں گے۔ وسآء لھم یوم القیمۃ حملا اور قیامت والے دن ان کے لئے یہ بہت ہی برا بوجھ ہوگا جو وہ اٹھائیں گے۔ وزرا اور حمل دونوں کا معنی بوجھ ہے۔ تاہم وزر گناہ کے بوجھ پر اور حمل عام بوجھ پر بولا جاتا ہے جس میں گناہ کا بوجھ بھی شامل ہے۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ دنیا میں کمائے گئے برے اعتقاد اور اعمال قیامت والے دن انسان کے اوپر سوار ہوں گے اور کہیں گے کہ دنیا میں تم ہم پر سوار تھے ، آج ہم تمہاری گردن پر سوار ہوں گے ، انسان دنیا میں جو بھی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے وہ گویا اس پر سوار ہوتا ہے۔ حضور ﷺ نے اس کی تشریح فرمائی ہے کہ دنیا میں جس شخص نے کسی کا حق تلف کیا ہوگا ، وہ قیامت کے دن اس پر بوجھ بن کر سوار ہوگا۔ اگر کسی شخص نے کسی کا مال یا جانور غصب کرلیا ہے تو قیامت کے دن وہ اسے اٹھا کر لائے گا۔ حتیٰ کہ اگر کسی نے بالشت بھر زمین چھینی ہے تو زمین کا وہ حصہ ساتوں زمینوں تک اکھاڑ کر اس کے گلے کا طوق بنادیا جائے گا اور وہ اسے کھینچتا ہوا میدان محشر میں آئے گا۔ اگر کسی نے گائے بھینس چوری کی ہے ، مکان پر ناجائز قبضہ کیا ہے ، کپڑے کی گانٹھ چرالی ہے تو وہ ہر چیز گردن پر اٹھائے ہوئے حاضر ہوگا جس سے غاصب کو بڑی تکلیف اور اس کی بڑی تذلیل ہوگی بعض بوجھ مفید بھی ہوتے ہیں۔ مگر اس مقام پر گناہوں کے جس بوجھ کا ذکر ہے اس میں تباہی و بربادی کا سامان ہی ہوگا۔
قرآن پاک سے اعراض کے متعلق سورة الزخرف میں ہے ومن یعش……………قرین (آیت 36) جو شخص خدائے رحمن کے اس نصیحت نامے سے اعراض کرتا ہے ہم اس پر شیطان کو مسلط کردیتے ہیں جو مرتے دم تک اس کو گمراہ کرتا رہے گا۔ اور پھر اسی حالت میں اس کا خاتمہ ہوجائے گا۔ کلام الٰہی سے روگردانی کے متعلق آگے اسی سورة میں بھی آرہا ہے ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی (آیت 124) قیامت والے دن ہم ایسے شخص کو اندھا کرکے اٹھائیں گے۔ وہ کہے گا کہ مولا کریم ! میں تو دنیا میں بینا تھا ، تو نے مجھے نابینا کیوں اٹھایا۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جس طرح تو نے دنیا میں میری آیتوں سے منہ موڑا ، اسی طرح آج ہم نے تمہاری آنکھیں ہی اچک لی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس نصیحت نامے سے وما یذکرو ………الالباب (آل عمران 7) صرف اہل عقل وخرد ہی نصیحت پکڑتے ہیں ۔ جو لوگ صحیح عقل سے کام نہیں لیتے وہ دنیا میں بھی بھٹکتے رہتے ہیں اور آخرت میں تو ان کے لئے سخت وعید آئی ہے۔
اعراض وسیع تر معنوں میں :
اعراض سے مراد قرآن پاک سے کھلا انکار بھی ہے جیسا کہ کافر اور مشرک لوگ کرتے ہیں۔ اور اعراض یہ بھی ہے کہ منافقوں کی طرح زبان سے تو اقرار کرلیا مگر نہ تو دل سے تسلیم کیا اور نہ اسے اپنا دستور العمل بنایا۔ مسلمانوں کو سست اور کاہل بنا دیا گیا ہے ، انہیں الٹی سیدھی رسومات میں الجھا دیا گیا ہے اور کفار نے ایسا غلط پروپیگنڈا کیا ہے کہ مسلمان قرآن پر عمل پیرا ہونے سے ہچکچاتے ہیں۔ قرآن کی تعلیم و تعلم میں غفلت برتی جاتی ہے ، اس کی غلط تفسیر کرکے لوگوں کو گمراہ کیا جارہا ہے قرآن کی اشاعت سے اغماض برتا جارہا ہے ، یہ سب چیزیں قرآن سے اعراض میں شامل ہیں۔ مسلمانوں کو تو عملی نمونہ پیش کرنا چاہیے۔ تاکہ لوگ ایک پکے سچے مسلمان کو دیکھ کر اسلام اور قرآن کی حقانیت کو تسلیم کریں۔ اور اگر ایک مسلمان کے شرک ، بدعات ، اور معاصی کو دیکھ کر کوئی شخص اسلام اور قرآن سے متنفر ہوتا ہے تو اس کا وبال ایسے بدقماش شخص پر ہوگا۔ اور وہ قرآن سے اعراض کرنے کا مجرم سمجھا جائیگا۔
صوراسرافیل :
فرمایا گناہوں کا بوجھ اٹھانے والا واقعہ اس دن پیش آئیگا یوم ینفخ فی الصور جس دن صور میں پھونکا جائے گا یعنی جب قیامت کا بگل بجے گا۔ اور محاسبے کا عمل شروع ہوگا تو اس دن گناہگاروں کو اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ حضور ﷺ (ترمذی ص 467) سے صور کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا قرن ینفخ فیہ یہ ایک سینگ کی شکل و صورت کی چیز ہے جس میں قیامت کے دن پھونک ماری جائے گی۔ اس سینگ کا باریک حصہ اسرافیل نے منہ میں لے رکھا ہے اور منتظر ہے کہ کب اللہ کا حکم ہو تو وہ اس میں پھونک مارے۔ حدیث (مسلم ص 406 ج 2 و بخاری ص 735 ج 2 (فیاض) میں آتا ہے کہ صور میں دو دفعہ پھونکا جائے گا۔ پہلی دفعہ پھونکنے سے کائنات کی ہر چیز فنا ہوجائے گی اور دوسری مرتبہ پھونکا جائے گا تو تمام لوگ حساب کتاب کی منزل کے لئے اٹھ کھڑے ہوں گے ، شیخ ابن عربی (رح) جو صاحب کشف بزرگ ہوئے ہیں ، وہ فرماتے ہیں (عرف شذی ص 469 طبع مکتبہ رحیمیہ دیوبند (فیاض) کیہ صور اسرافیل اتنا بڑا ہے کہ ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمان اس کے دہانے میں پڑے ہوئے ہیں۔ جب اس میں پھونک ماری جائے گی تو ساری کائنات درہم برہم ہوجائے گی ، اتنی خوفناک آواز ہوگی۔
نیلگوں آنکھوں والے مجرم :
فرمایا ، یہ اس دن کا واقعہ بیان ہورہا ہے جس دن صور میں پھونکا جائے گا ونحشر المجرمین یومئذ زرقا اور اس دن ہم مجرموں کو نیلگوں آنکھوں کے ساتھ اکٹھا کریں گے۔ کرنجی آنکھوں والے یہ لوگ نہایت ہی بدشکل ہوں گے۔ رومی لوگوں کی آنکھیں اکثر ایسی ہوتی ہیں اور عرب لوگ ان سے سخت نفرت کرتے ہیں کیونکہ وہ اسے عیب سمجھتے ہیں۔ چناچہ نیلگوں آنکھوں والی عورت کی اولاد کو بنی زرقا کا نام دیا جاتا تھا بعض فرماتے ہیں کہ زرقا سے مراد اندھے ہیں ، یعنی ایسے لوگوں کو اندھا کرکے اٹھایا جائے گا۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے اور امام ابن جریر (رح) نے یہی تفسیر بیان کی ہے۔ البتہ بعض اس کو عیب ناکی پر محمول کرتے ہیں کہ ایسے لوگوں کی آنکھیں عیب ناک ہوں گی اور ایسی بدنما ہوں گی کہ ان کو دیکھنے سے نفرت پیدا ہوگی۔
دنیوی زندگی کی قلت :
فرمایا ، ان نیلگوں آنکھوں والے مجرموں کی حالت یہ ہوگی یتخافتون بینھم وہ آپس میں سرگوشی کریں گے۔ ان لبثتم الا عشرا کہ تم نہیں ٹھہرے دنیا میں یا برزخ میں مگر صرف دس دن۔ اس سے دنیا اور برزخ دونوں بھی مراد ہوسکتے ہیں کہ یہ ساری طوالت دس دن سے زیادہ نہیں تھی ۔ جب انہیں اگلی دنیا کی طویل مسافت نظر آئے گی تو اس دنیا کی زندگی بمع برزخی زندگی کے بالکل قلیل نظر آئے گی۔ اسی لئے آپس میں کہیں گے کہ ہم تو دنیا میں صرف ہفتہ عشرہ ہی رہے ہیں ، مگر اللہ نے فرمایا نحن اعلم بما یقولون ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ لوگ کہیں گے۔ فرمایا یہ تو دس دن کی بات کرتے ہیں اذ یقول امثلھم طربقۃ ان میں سے بہتر طریقے والا یا زیادہ دانشمند آدمی یوں کہے گا ان لبثتم الا یوما کہ تم تو دنیا میں صرف ایک دن ٹھہرے ہو۔ سورة الروم میں ہے کہ مجرم لوگ قسم اٹھا کر کہیں گے مالبثوا غیر ساعۃ (آیت 55) کہ وہ ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں ٹھہرے بات دونوں کی خلاف واقعہ ہے کیونکہ دنیا میں تو انسان دس ، بیس ، پچاس یا سو سال کا عرصہ بھی گزارتا ہے تو پھر زمانہ برزخ کا کوئی شمار نہیں جو قرنوں تک طویل ہوسکتا ہے مگر آخرت کی دائمی زندگی کے مقابلے میں دنیا وبرزخ کی زندگی بالکل قلیل محسوس ہوگی۔ بعض شاعر لوگ کہتے ہیں کہ دنیا کا زمانہ تو صرف دو دن کا ہوتا ہے یعنی ایک دن رضا کا اور دوسرا ناراضگی کا۔ مطلب یہ ہے کہ زیادہ بہتر روش والا آدمی دنیا وبرزخ کی پوری زندگی کو ایک دن کے برابر خیال کریگا۔ جیسے سورة النساء میں ہے قل متاع الدنیا قلیل (آیت 77) آپ کہہ دیں کہ دنیا کا سازوسامان تو بالکل تھوڑا ہے کیونکہ ابدی زندگی کے مقابلے میں یہاں کے ہزاروں سال بھی کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔ سورة النزعت میں دنیا کی زندگی کی قلت کے متعلق فرمایا کہ لوگ اس دن محسوس کریں گے لم یلبثوا الا غشیۃ اوضحھا (آیت 46) کہ وہ دنیا میں صرف اتنا عرصہ ٹھہرے جتنا دن کا پچھلا پہر یا دوپہر کا وقت ہوتا ہے۔ قیامت والے دن یہ زندگی بمع اپنے تمام ترلوازمات اتنی قلیل نظر آئے گی۔
Ayahs 20:105–110ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن پاک ایک نصیحت نامہ ہے جو شخص اس سے اعراض کرے گا وہ قیامت والے دن گناہوں کا بہت بڑا بوجھ اٹھائے گا۔ اور قیامت کے دن کے متعلق فرمایا کہ یہ اس وقت واقع ہوگا جس دن صور پھونکا جائے گا اور مجرموں کو نہایت ہی قبیح شکل میں اکٹھا کیا جائے گا۔ وہ ذلت کے مارے سرگوشی میں بات کریں گے۔ ان میں سے کوئی کہے گا کہ ہم دنیا اور برزخ میں صرف دس دن ٹھہرے اور جو زیادہ سمجھدار ہوگا ، وہ کہے گا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم دنیا میں ایک دن سے زیادہ نہیں ٹھہرے۔ آخرت کی ابدی زندگی کے مقابلے میں دنیا وبرزخ کا عرصہ بالکل قلیل محسوس ہوگا۔
مضبوط پہاڑوں کی شکستگی :
اب آج کے درس میں اللہ نے وقوع قیامت ہی کے ضمن میں پہاڑوں کا ذکر کیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے ویسئلونک عن الجبال لوگ آپ سے پہاڑوں کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ کافر اور مشرک استہزاء کے انداز میں کہتے تھے کہ تمہارے کہنے کے مطابق قیامت کو ہر چیز درہم برہم ہوجائے گی تو ان پہاڑوں کا کیا ہوگا جو اتنے مضبوط ہیں اور اپنی تخلیق کے دن سے لے کر آج تک اپنی جگہ پر قائم ودائم ہیں۔ اس دنیا میں پہاڑوں کو مضبوطی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور اسی لئے کسی چیز کی پختگی اور مضبوطی کو ظاہر کرنے کے لئے اسے پہاڑ کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے کہتے ہیں کہ اپنا عقیدہ پہاڑ کی طرح مضبوط رکھو ، اس میں ذرہ بھر لغزش نہیں آنی چاہیے عرب لوگ اپنے عہد و پیمان کی پختگی کے متعلق کہتے ہیں ؎
تزول الجبال الرسیات وقلبنا
علی العھد لا یلوی ولا یتغیر
پہاڑوں جیسی مضبوط چیز تو اپنی جگہ سے ہل سکتی ہے۔ مگر ہمارے عہدوپیمان اتنے پختہ ہیں کہ ان میں تغیر وتبدل نہیں آسکتا ، ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال نے بھی کہا ؎
بخود خزیدہ ومحکم چو کو ہساراں زی
چوخس مزی کہ ہوا تندو شعلہ بیبام است
مستقل مزاج بن کر پہاڑوں کی طرح اپنی جگہ پر قائم رہو ، تنکے کی طرح مت بنو کہ ہوائیں تیز اور شعلہ بیباک ہے۔ اگر تم نے تنکے کی طرح کمزوری دکھائی تو ہوائیں تمہیں لے اڑیں گی اور بکھیر دیں گی جب کہ بیباک شعلہ آگ تمہیں جلا کر خاکستر کردے گا۔ اگر تمہارا عقیدہ اور اخلاق پہاڑوں کی طرح مضبوط ہوگا تو پھر تمہیں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی بلکہ ہر مضر چیز تمہاری پختگی سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجائے گی۔ غرضیکہ پہاڑوں کی مضبوطی کا تصور قدیم زمانے سے پایا جاتا ہے ، اسی لئے حضور ﷺ کے مخاطبین نے آپ سے سوال کیا تھا کہ قیامت کے دن اتنے مضبوط پہاڑوں کا کیا بنے گا۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا فقل ینسفھا ربی نسفا اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے کہ میرا پروردگار ان کو بکھیر دیگا ، بکھیر دینا۔ مطلب یہ کہ جب قیامت برپا ہوگی تو مضبوط اور بلند وبالا پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے۔ سورة القارعہ میں ہے وتکون الجبال کالعھن المنفوش مختلف رنگوں کے پہاڑ اس طرح پیس دیئے جائیں گے کہ وہ ایسے معلوم ہوں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگین اون ہوتی ہے۔ دنیا میں مختلف رنگوں کے پہاڑ پائے جاتے ہیں ، کوئی سرخ ہیں اور کوئی سفید ، کوئی سیاہ ہیں اور کوئی برائون۔ جب قیامت کا حادثہ پیش آئے گا تو یہ سب دھنک دیے جائیں گے اور مختلف رنگوں کے مرکب سے ان کا کچھ اور ہی رنگ ہوگا ، گویا یہ دھنکی ہوئی اون ہے۔
زمین بصورت چٹیل میدان :
جب پہاڑ اور چھوٹے موٹے ٹیلے گردوغبار کی صورت میں فضا میں بکھر جائیں گے فیذرھا قاعا صفصفا تو اللہ تعالیٰ زمین کو چھوڑ دے گا۔ بطور چٹیل میدان۔ قاعا کا معنی چٹیل میدان جس میں اونچ نیچ نہ ہو اور صفصفا کا معنی ہموار اور چکنی جگہ۔ مطلب یہ ہے کہ پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ ہو کر ختم ہوجائیں گے اور اپنی جگہ پر نظر نہیں آئیں گے۔ فرمایا پھر زمین کی حالت یہ ہوگی لا تری فیھا عوجا ولا امتا کہ تو نہیں دیکھے گا اس میں کوئی ٹیڑھا پن اور نہ کوئی ٹیلہ مطلب یہ ہے کہ زمین بالکل ہموار اور راستہ سیدھا ہوگا ، اس میں کوئی موڑ یا ٹیلہ وغیرہ نہیں ہوگا ، ساری زمین برابر کردی جائیگی۔ خدا تعالیٰ قادر مطلق ہے ، اس نے ان چیزوں کو مضبوطی اور پائیداری بخشی ہے اور وہ اس سارے نظام شمسی (Solar System سولر سسٹم) کو تبدیل بھی کردے گا ، کسی چیز کو اس کی موجودہ حالت پر نہیں رہنے دے گا۔ دوسری سورتوں میں آسمانی کوں (Planets پیلنٹس) کا ذکر بھی آتا ہے۔ یہ بھی سارے درہم برہم ہوجائیں گے۔
دوڑتے ہوئے جائینگے :
فرمایا جب حساب کتاب کی منزل آئیگی یومئذ یتبعون الداعی اس دن پکارنے والے کے پیچھے لگیں گے۔ جب خدا کے حکم سے فرشتہ بارگاہ رب العزت میں پیشی کے لئے بلائیگا تو سب لوگ آواز کی سمت پر دوڑتے ہوئے جائیں گے ۔ اور ایسے سیدھے جائیں گے جیسے تیر اپنے نشانے پر جاتا ہے لاعوج لہ اور دوڑنے والوں میں کوئی ٹیڑھا پن بھی نہیں ہوگا ، اور نہ ہی آواز میں کوئی کجی ہوگی۔ اس دنیا میں تو لوگوں نے کجی اختیار کی اور اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت کا انکار کیا ، تمسخر کیا اور طرح طرح کی تاویلیں کرکے اس پکار کو ٹالنے کی کوشش کی ، مگر محاسبے والے دن ایسی کو بات نہیں ہوگی بلکہ سب کے سب بلاچون وچرا دوڑے چلے جائیں گے۔
آوازیں پست ہوجائیں گی :
فرمایا اس دن یہ انقلاب بھی آئے گا وخشعت الاصوات لرحمن خدائے رحمن کے سامنے ساری کی ساری آوازیں دب جائیں گی۔ اللہ کے خوف سے کوئی شخص اونچی آواز میں بات نہیں کرسکے گا۔ فلا تسمع الا ھمسا پس تم نہیں سنو گے مگر ہلکی سی آواز۔ جب کوئی بات چیت ہوگی تو اتنی پست آواز ہوگی جیسے کانا پھونسی ہوتی ہے یا پائوں کی ہلکی سی آہٹ ہوتی ہے۔ ہموس شیر کو بھی کہتے ہیں ، وہ جب چلتا ہے ، تو اس کے پائو کی آہٹ بالکل مدہم سی ہوتی ہے۔
قبولیت سفارش کی دو شرائط :
فرمایا یومئذ لا تنفع الشفاعۃ اس دن کو سفارش بھی فائدہ نہیں دے گی مگر دو شرطوح کے ساتھ ۔ پہلی شرط یہ ہے الا من اذن لہ الرحمن کہ اس شخص کے لئے خدائے رحمن نے اجازت دی ہو۔ اور دوسری شرط یہ کہ ورضی لہ قولا کہ اس کی بات پر اللہ تعالیٰ راضی ہو۔ اور اللہ راضی اس بات پر ہوگاجو اس کو پسند ہوگی اور اسی شخص کے حق میں اللہ تعالیٰ سفارش کی اجازت دیں گے۔ اللہ کی پسندیدہ بات ایمان اور عقیدے کی پاکیزگی ہے ، سورة الزمر میں اللہ کا فرمان ہے وان تشکرو یرضہ لکم (آیت 7) اگر تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو گے تو وہ تم سے راضی ہوجائے گا۔ اسی طرح ایمان لائو گے ، کلمہ توحید قبول کرو گے ۔ تو اللہ راضی ہوگا۔ اگر ناشکری کرو گے ، کفر اور شرک کا ارتکاب کرو گے تو اللہ راضی نہیں ہوگا ، غرضیکہ سفارش کی قبولیت کے لئے خدا تعالیٰ کی رضا اور بات کی پسندیدگی کے ساتھ سفارش کے لئے اللہ تعالیٰ کی اجازت کی بھی ضرورت ہے ، تب جاکر سفارش مفید ہوگی۔
سفارش کا مسئلہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بہت سی جگہوں پر بیان فرمایا ہے۔ مثلاً سورة بقرہ میں ہے من ذالذی……………باذنہ (آیت 255) کون ہے جو اس کے پاس سفارش کرے ، مگر اس کی اجازت سے۔ سفارش پیش کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی اجازت کی ضرورت ہے۔ اللہ کے نبی ، فرشتے ، شہید ، اولیاء اللہ ، مومنین کاملین سفارش کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی پیشگی اجازت کے ساتھ حتیٰ کہ سیدالمرسلین اور خاتم النبیین ﷺ بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت سے ہی شفاعت صغریٰ اور شفاعت کبریٰ کرسکیں گے۔
جبری سفارش کی تردید :
سفارش کے معاملہ میں مشرکین نے غلط عقیدہ بنارکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے شرکاء اللہ کے محبوب ہیں ، خدا تعالیٰ ان کی بات کسی صورت میں بھی رد نہیں کرسکتا ، اسے وہ سفارش ماننی ہی پڑتی ہے امام رازی (رح) اپنی تفسیر میں ایسی سفارش کو جبری سفارش کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ مشرکین نے اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ کو دنیا کے بادشاہوں پر قیاس کرلیا ہے۔ دنیا میں بادشاہوں اور بڑے بڑے ڈکٹیٹروں کو بعض اوقات اپنی مرضی کے خلاف بھی سفارش قبول کرنا پڑتی ہے ، وہ جانتے ہیں بااثر امیر کی بات نہ مانی تو وہ اس کے لئے مشکلات کھڑی کرسکتا ہے ، لہٰذا وہ بادل نخواستہ بھی سفارش منظور کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ برخلاف اس کے اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ، وہ ہر چیز پر غالب ہے اسے اپنی سلطنت کے زوال کا کوئی خطرہ نہیں ، لہٰذا وہ کسی کی سفارش قبول کرنے پر مجبور بھی نہیں۔ جو شخص اللہ کو بادشاہوں پر قیاس کرتا ہے ۔ وہ مخلوق کی صفت خدا تعالیٰ میں مان کر شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔
حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ نے ہر نبی کو اجازت دی ہے کہ وہ ایک ایک دعا کرلیں جو قبول کی جائے گی۔ سارے انبیاء نے وہ دعا دنیا میں ہی کرلی اور وہ قبول ہوگئی ، مگر میں نے یہ دعا قیامت کے دن کے لئے موخر کررکھی ہے۔ اس دن میں یہ دعا اپنی امت کے گنہگاروں کے حق میں مانگوں گا ، مگر ساتھ یہ بھی (مسلم ص 113 ج 1 (فیاض) فرما دیا فھی نائلۃ ان شاء اللہ من مات من امتی لا یشرک باللہ شیئا (مسلم) یہ دعا میری امت کے اس شخص کے حق میں انشاء اللہ مقبول ہوگی جس نے اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں بنایا ہوگا۔ کافر ، مشرک ، منافق ، ملحد ، بداعتقاد اور فاسد العقیدہ کے حق میں سفارش قبول نہیں ہوگی ، اور نہ اس کی اجازت ملے گی۔
اس مقام پر یہ بات بھی اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ مطلقاً شفاعت کا انکار بھی کافروں والا عقیدہ ہے۔ فتاوی بزازیہ میں ہے من انکر شفاعۃ الشافعین یوم القیمۃ فھو کافر۔ کوئی شخص یہ کہے کہ شفاعت کا کوئی تصورہی نہیں تو یہ عقیدہ باطل ہوگا ، کیونکہ شفاعت قرآن وسنت سے ثابت ہے مگر بعض شرائط کے ساتھ جن کا ذکر کردیا گیا ہے۔ اسی طرح میزان کا انکار بھی کفر ہے کیونکہ اس کا ثبوت قرآن پاک میں موجود ہے۔ میزان قائم ہوگا ، اور اعمال تو لے جائیں گے۔ جو شخص کوئی الٹی سیدھی تاویل کرتا ہے ، وہ بدعتی اور گمراہ ہوگا۔
اللہ تعالیٰ علیم کل ہے :
آگے ارشاد ہوتا ہے یعلم مابین ایدیھم وما خلفھم اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جو خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو چیز انسان آخرت کی زندگی کے لئے آگے بھیجتے ہیں اور جو کچھ اس دنیا کے لئے پیچھے رکھتے ہیں ، وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اگر آگے پیچھے سے جہت مراد لی جائے تو یہ بھی درست ہے کہ انسان اپنے آگے پیچھے کی ہر چیز کو نہیں جانتا مگر اللہ تعالیٰ ہر شئے سے واقف ہے۔ وہ علیم کل ہے اور اسے ذرے ذرے کا علم ہے ، کوئی چیز اس کے احاطہ علم سے باہر نہیں ہے۔ سورة النبا میں موجود ہے کہ ایک ایسا دن آنے والا ہے یوم ینظر المرء ماقدمت یدہ (آیت 40) جس دن ہر آدمی آگے بھیجی گئی چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا۔ اگر کوئی نیکی بھیجی ہے تو وہ بھی نظر آئے گی اور اگر برائی بھیجی ہے ، تو وہ بھی دیکھ لے گا ۔ اگر کوئی غلط رسم چھوڑ آیا ہے ، حرام کی کمائی پیچھے چھوڑی ہے ، خدا تعالیٰ سب کو جانتا ہے ، ہر شخص کے حالات اس کی نگاہ میں ہیں اور انہی کے مطابق اس کے ساتھ سلوک کیا جائے گا۔
فرمایا ولا یحیطون بہ علما اور انسان علم کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ انسان نہ تو اللہ تعالیٰ کے مقدورات کا احاطہ کرسکتے ہیں ، نہ معلومات کا ، مخلوقات کا ، نہ اس کی مصنوعات کا اور نہ ہی اس کی ذات اور صفات کا۔ انسان کا علم بالکل محدود ہے جبکہ خدا کا علم غیر محدود ہے واللہ بکل شیء محیط ہرچیز کا احاطہ کرنے والی تو اللہ کی ذات ہے ، مخلوق اس کے علم کا احاطہ کیسے کرسکتی ہے اللہ نے فرمایا وما اوتیتم من العلم الا قلیلا (بنی اسرائیل 85) تمہیں تو بالکل قلیل علم دیا گیا ہے اور تم اتنا ہی جانتے ہو جتنا علم تمہیں دیا گیا ہے۔ علم محیط کا مالک صرف خدا تعالیٰ ہے۔