Ayahs 21:1–6نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الانبیاء ہے۔ اگرچہ اس میں لفظ ” انبیائ “ کا ذکر تو کہیں نہیں آیا ، تاہم اس میں بہت سے انبیاء (علیہم السلام) مثلا ً حضرت نوح ، ادریس ، یونس ، ایوب ، ابراہیم ، موسیٰ ، عیسیٰ (علیہم السلام) اور آخر میں حضور خاتم النبیین ﷺ کا اسم مبارک مذکور ہے اس لئے اس سورة کو سورة الانبیاء کے نام سے موسوم کیا گیا۔ بعض سورتیں جیسے سورة مزمل ، مدث ، نٓ ، فاتحہ وغیرہ تو مکی زندگی کے ابتدائی دور میں نازل ہوئیں ، مگر یہ سورة مبارکہ مکی دور کے وسط میں نازل ہوئی۔ اس کی ایک سو بارہ آیات سات رکوع ۔ 1138 الفاظ اور 4168 حروف ہیں۔
بخاری شریف میں حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے سورة بنی اسرائیل ، سورة کہف ، سورة مریم اور سورة الانبیاء کے متعلق ارشاد (بخاری ص 683 ج 6 (فیاض) فرمایا انھن من العتاق الاول وھن من تلادی یعنی یہ سورتیں میرا پرانا اور قیمتی مال ہیں جن کی میں حفاظت کرتا ہوں یعنی ان کو دہراتا رہتا ہوں۔
مضامین سورة :
اس سورة کے مضامین گزشتہ سورة طٰہٰ سے ملتے جلتے ہیں۔ ویسے بھی تمام مکی سورتیں عام طور پر عقائد کے بارہ میں ہی بحث کرتی ہیں۔ چناچہ اس سورة مبارکہ میں بھی توحید ، رسالت اور قیامت کا ذکر ہے جو کہ اس سورة کے مرکزی مضامین ہیں۔ اس سورة میں رسالت کے ضمن میں بشریت انبیاء کا خاص طور پر ذکر ہے۔ سارے نبی اللہ کے مقرب اور برگزیدہ بندے مگر انسان تھے۔ علاوہ ازیں وحدت ملت انبیاء کا ذکر ہے یعنی اللہ کے تمام نبیوں کی ملت ایک ہی ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) کی تبلیغ کا ذکر بھی اس سورة میں آیا ہے کہ وہ کس طرح اللہ کا پیغام اس کی مخلوق تک پہنچاتے تھے ، اور اپنی حاجات میں کس طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے خشوع و خضوع کا اظہار کرتے تھے اور کس طرح اس کی مناجات کرتے تھے اور اپنی ضرورتیں پیش کرتے تھے۔ اس ضمن میں رسالت کے متعلق شکوک و شبہات کا اظہار کرنے والے یا اس کا انکار کرنے والوں کا رد بھی ہوگا۔ ضمناً ملائکہ کا ذکر بھی آئے گا۔ یاجوج ماجوج کا تذکر ہ بھی ہے۔ گزشتہ سورة میں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا طریقہ تبلیغ کا تفصیل کے ساتھ ذکر تھا ، مگر اس سورة میں یہ ذکر اجمال کے ساتھ آئے گا ، البتہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر اس سورة میں تفصیل کے ساتھ آئے گا۔ بعض دوسرے انبیاء کا مفصل ذکر بھی موجود ہے۔
قرب قیامت میں غفلت :
اکثر سورة کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے حروف مقطعات سے کی ہے اور بعض کی ابتداء میں تسبیح وتحمید بطور تمہید آئی ہے ۔ البتہ بعض سورتیں بغیر تمہید کے شروع کردی گئی ہیں۔ ان میں یہ سورة اور آگے سورة نور بھی شامل ہے ۔ اس سورة مبارکہ میں نافرمانوں کو ان کے انجام سے براہ راست ڈرایا گیا ہے ، لہٰذا اسے بغیر تمہید کے شروع کیا گیا ہے۔ گذشتہ سورة طٰہٰ کے آخر میں بیان ہوا تھا کہ ہر ایک انتظار کرنے والا ہے ، تم بھی انتظار کرو اور پھر جلید ہی جان لوگے کہ سیدھے راستے پر چلنے والا کون آدمی ہے اور منزل مقصود پر پہنچنے والا کون ہے۔ اب اس سورة کی ابتدائی آیت گزشتہ سورة کی اختتامی آیت کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ اقترب للناس حسابھم لوگوں کے لئے حساب کتاب کی منزل قریب آچکی ہے وھم فی غفلۃ معرضون۔ اور وہ غفلت میں پڑے ہوئے اعراض کرنیوالے ہیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے بعث بعدالموت اور محاسبہ اعمال کی طرف اشارہ فرمایا ہے حساب کتاب کے قریب آلگنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا آخری نبی حضور خاتم النبیین ﷺ اور اس کی آخری کتاب قرآن حکیم آچکے ہیں تو اب قیامت آنے میں کیا دیر رہ گئی ہے ؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ علامات آنے کے بعد بھی چودہ صدیاں گزرچکی ہیں مگر ابھی تک تو حساب کتاب کی منزل نہیں آئی۔ اس کے جواب میں اللہ کا یہ ارشاد موجود ہے انھم………قریبا (المعارج 7 , 6) یعنی لوگ قیامت کو دور سمجھ رہے ہیں مگر ہمارے حساب سے وہ قریب آچکی ہے ۔ اللہ کا آخری نبی آچکا ہے ، اس نے اللہ کا آخری پروگرام پیش کردیا ہے ۔ اب نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نئی کتاب۔ صرف محاسبے کی منزل باقی ہے لہٰذا کہہ سکتے ہیں کہ یہ قریب آچکی ہے۔
یہ تو اجتماعی محاسبے کی بات ہے کہ قیامت برپا ہوجائیگی اور پھر تمام لوگوں کو حساب کتاب کے لئے دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ البتہ حساب کتاب کی ایک انفرادی منزل بھی ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے من مات فقد قامت قیامتہ جو مرگیا اس کی قیامت تو برپا ہوگئی۔ جب کوئی شخص فوت ہوجاتا ہے تو عالم برزخ میں اس کے حساب کتاب کا سلسلہ تو قبر میں ہی شروع ہوجاتا ہے ، اس لحاظ سے بھی کہہ سکتے ہیں کہ لوگوں کا محاسبہ تو قریب آچکا ، صرف مرنے کی دیر ہے ، مگر وہ غفلت میں پڑے ہوئے اعراض کر رہے ہیں ، گویا انہیں اپنے محاسبہ اعمال کی خبر ہی نہیں ہے۔ وہ نہ صرف اپنے دنیا کے اعمال واشتعال میں منہمک ہیں ، بلکہ اس محاسبے کی منزل کی طرف توجہ دلانے والے کی مخالفت بھی کر رہے ہیں۔
نصیحت سے اعراض :
آگے اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کی تعدی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے مایتیھم من ذکر من ربھم محدث ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نئی نصیحت نہیں آتی الا استمعوہ مگر وہ اس کو سنتے ہیں وھم یلعبون مگر کھیل کود میں مشغول ہیں۔ مطلب یہ کہ اللہ کے نافرمانوں نے یہ شیوہ بنارکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے کسی حکم یا نصیحت کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ وہ اسکو سنتے تو ضرور ہیں مگر نہ اس پر غور کرتے ہیں اور نہ عمل کی نوبت آتی ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ وہ آخرت کی تیاری سے بالکل ہی غافل ہیں۔
فرمایا ، نہ صرف ان کے ظواہر کھیل کود کی طرف راغب ہیں بلکہ لا ھیۃ قلوبھم ان کے دل بھی لہو ولعب میں مشغول ہیں ۔ ان کے دل و دماغ میں کوئی اچھی بات آتی ہی نہیں۔ اس کے برخلاف وہ کھیل تماشے ، گانے بجانے ، کھانے پینے اور دیگر دنیاوی اشغال ہی کے پروگرام بناتے رہتے ہیں اور پھر انہی پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ یہ تو قرآن پاک کے نزول کے زمانے کی بات کی ہے ، آج کے دور میں لہو ولعب کے سامان تو ہزاروں گنا بڑھ چکے ہیں۔ کتنے لوگ ہیں جنہیں ریڈیو اور ٹیلیویژن کے پروگرام سے فرصت نہیں۔ آدھی آدھی رات تک ان کے سامنے بیٹھنے فحش فلمیں ، گانے اور ڈراموں سے دل بہلاتے رہتے ہیں ، نہ نماز کی فکر ہے ، نہ روزے کی اور نہ کسی دیگر نیکی کے کام کی۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی میچوں کی وباء نے دنیا پھر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ہمارے جیسے غریب ملک کے لوگ بھی کئی کئی دن تک کرکٹ میچ سے دل بہلاتے رہتے ہیں اور اس دوران انہیں کسی دوسری چیز کی طرف توجہ دینے کی فرصت ہی نہیں ملتی ، نہ فیکٹریوں میں کام ہوتا ہے اور نہ دفتروں میں۔ تمام کام ٹھپ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ ان کے دل بھی کھیل کود میں مشغول ہوجاتے ہیں۔
بشریت رسل سے انکار :
نافرمانوں کی دوسری خصلت اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے۔ واسروا النجوی الذین ظلموا اور ان لوگوں نے پوشیدہ میٹنگ کی جنہوں نے ظلم کیا ۔ سازشی لوگ ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہیں۔ حق کو مٹانے کے لئے خفیہ میٹنگیں کرتے ہیں ، ان میں منصوبہ بندی ہوتی ہے اور پھر اس پر عملدرآمد شروع ہوجاتا ہے۔ حق و باطل کی یہ کشمکش شروع سے ہی چلی آرہی ہے۔ بہرحال ان ظالموں نے نہ تو قرآن پاک جیسے نصیحت نامے کی طرف توجہ کی اور نہ اس نصیحت نامہ لانے والے نبی آخرالزمان ﷺ پر ایمان لائے ، بلکہ یہ کہہ کر ان کا انکار کردیا ھل ھذا الا بشر مثلکم یہ تو تمہارے جیسا آدمی ہے ، بھلا اس معمولی سے آدمی کو ہم کیسے رسول تسلیم کریں مشرکین اور پرانے نافرمان اللہ کے نبیوں پر ہمیشہ سے یہی اعتراض کرتے چلے آرہے ہیں کہ ان کی مالی پوزیشن اچھی نہیں۔ ان کے پاس کوٹھی اور کار نہیں ، نوکر چاکر اور باغات نہیں ، بھلا ان کو ہم رسالت کی گدی پر کیسے بٹھا دیں۔ مکہ کے مشرک تو خاص طور پر کہتے تھے لو لا نزل………………عظیم (الزخرف 31) بھلا یہ قرآن حکیم مکہ اور طائف کی دو بڑی بستیوں کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ نازل ہوا۔ مکہ میں ابوالحکم ، مغیرہ اور شیبہ جیسے سردار ہیں۔ طائف میں عبدیالیل موجود ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کو ابو طالب کے یتیم بھتیجے کے علاوہ نبوت کے لئے کوئی دوسرا آدمی ہی نہ ملا ، ان کی نگاہ میں مال و دولت ، جاہ واقتدار اور اعلیٰ سوسائٹی ہی معیار نبوت تھا۔ جب کہ اللہ کے نزدیک نبوت و رسالت کا معیار ایمان ، نیکی ، تقویٰ اور اخلاق ہے۔ تمام انبیاء (علیہم السلام) میں یہ چیزیں کمال درجے کی پائی جاتی ہیں۔ تمام انبیاء سے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کا اخلاق سب سے بلند فرمایا ہے۔ وانک………عظیم (القلم 4) یعنی آپ خلق عظیم کے مالک ہیں انبیاء کا تقویٰ ، نیکی ، عمل ، مخلوق خدا سے ہمدردی اور کلام ایک معیار ہوتا ہے لہٰذا ان کا یہ اعتراض باطل ہے کہ یہ تو ہمارے جیسا ایک انسان ہی ہے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم نے بھی آپ پر یہی اعتراض کیا تھا فقالوا…………وسعر (القمر 24) کہنے لگے کیا ہم اپنے میں سے ایک انسان کا اتباع کرلیں۔ یہ تو بڑی ہی بیوقوفی کی بات ہوگی ۔ کہتے تھے کہ اس کا اتباع کرنا تو بیوقوفوں کا کام ہے۔ بھلاہم اس کو کیسے رسول مان لیں ؟ اس بات کا جواب اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں دیا ہے۔
سحرگری کا الزام :
کہتے تھے کہ یہ ہے تو معمولی حیثیت کا آدمی مگر اس کی بات میں اثر ضرور ہے ، ہو نہ ہو یہ جادو کا اثر ہے۔ پھر دوسرے لوگوں سے کہنے لگے افتاتون السحر کیا تم جادو میں پھنستے ہو ؟ وانتم تبصرون حالانکہ تم دیکھ رہے ہو کہ یہ تو ایک معمولی حیثیت کا آدمی ہے ۔ گویا مشرکین مکہ نے حضور ﷺ کے کلام کو سحر سے تعبیر کیا (العیاذ باللہ) اور بعض دیگر ناروا اعتراضات بھی کیے۔ ان کے جواب میں قل اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ربی یعلم القول فی السماء والارض میرا پروردگار خوب جانتا ہے اس بات کو جو آسمان میں ہو یا زمین میں۔ مطلب یہ کہ ایسی بات کرنے والا کوئی آسمان پر ہو یا زمین پر ہو ، اللہ تعالیٰ ان سب کے اقوال کو جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ یہ لوگ محض تعصب اور عناد کی بناء پر سحرگری کا الزام لگا رہے ہیں۔ وھوالسمیع العلیم وہ ہر بات کو سنتا بھی ہے اور ہر چیز کو جاننا بھی ہے۔ ان منکرین کی باتیں اور حالات اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں ہیں۔ وہ ایک مقررہ وقت میں ان سے ضرور انتقام لے گا۔
انکار کے بہانے :
فرمایا ان بدبختوں نے نہ صرف حضور خاتم النبیین ﷺ کو اپنے جیسا آدمی خیال کیا اور ان کے کلام کو سحر سے تعبیر کیا بلکہ بل قالوا اضغاث احلام کہنے لگے یہ تو پریشان خواب ہیں۔ اس شخص کو مختلف قسم کے پریشان کن ڈرائونے خواب آتے ہیں جنہیں یہ قرآن کہہ کر پیش کردیتا ہے۔ جب حضور ﷺ مرنے کے بعد قبر ، برزخ اور آخرت کے حالات بیان کرتے ، جنت اور دوزخ کے ثواب و عذاب کی بات کرتے ، تو منکرین کہتے کہ یہ تو اس کے پریشان خواب ہیں جو بیان کرتا رہتا ہے ورنہ ان کی حقیقت کچھ نہیں۔ حتیٰ کہ بعض نے یہ بھی کہہ دیا بل افترہ کہ اس شخص نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے ۔ خود طبع آزمائی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ اللہ کی نازل کردہ آیات ہیں ، لہٰذا اس کی بات کا اعتبار نہ کرو اور اپنے راستے پر چلتے رہو۔ تمہیں تمہارے آبائواجداد کے راستے سے ہٹانا چاہتا ہے۔
اس کے علاوہ بعض لوگوں نے یوں کہا بل ھو شاعر یہ شخص تو شاعر ہے شاعروں جیسی تخیلاتی اور بےتکی باتیں کرتا ہے ، اس کے پیچھے مت لگو۔ یہ تمہیں گمراہ کردے گا۔ پھر کہنے لگے کہ اگر یہ اپنے دعویٰ میں سچا ہے کہ یہ واقعی خدا کا نبی ہے فلیاتنا بایۃ کما ارسل الاولون تو پھر یہ بھی کوئی نشانی سے آئے جیسا کہ پہلے رسول لاتے رہے ہیں۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ نشانی کے طور پر حضرت صالح (علیہ السلام) نے پتھر سے اونٹنی نکال دی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر عصا اور ید بیضا جیسے معجزات ظاہر ہوئے۔ تو اس طرح یہ بھی کوئی نشانی یا معجزہ پیش کرے یہ سب نہ ماننے کے بہانے تھے ورنہ حضور ﷺ تو بہت سی نشانیاں پیش کرچکے تھے اور سب سے بڑی نشانی خود قرآن تھا ، مگر جنہوں نے نہیں ماننا تھا وہ اس قسم کے اعتراضات کرتے رہے۔ اس کے برخلاف حضرت ابوذر ؓ جیسے منصف مزاج لوگ بھی انہیں میں موجود تھے جنہوں نے آپ کی صداقت کو فوراً پہچان لیا اور ایمان لے آئے۔ آپ کے بھائی انیس ؓ مکہ میں آئے ، حضور ﷺ کے متعلق دیکھا سنا اور پھر واپس جاکر حضرت ابوذر غفاری ؓ کو رپورٹ پیش کی کہ وہ شخص کاہن نہیں کیونکہ کاہن لوگ جھوٹ بولتے ہیں ، غیب دانی کا دعویٰ کرتے ہیں اور فیس وصول کرتے ہیں مگر اس مدعی نبوت میں یہ خصلتیں نہیں پائی جاتیں ۔ میں نے خود کاہنوں کی باتیں سنی ہیں ، مگر اس شخص میں وہ بات نہیں پائی جاتیں۔ میں نے خود کاہنوں کی باتیں سنی ہیں ، مگر اس شخص میں وہ بات نہیں ہے۔ کہنے لگا کہ یہ شخص جادوگر بھی نہیں ہے کیونکہ وہ بھی اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے غلط باتیں کرتے ہیں۔ یہ شاعر بھی نہیں کیونکہ شاعر لوگ تک بندی کرتے ہیں ، کسی کی مدح کردی ، کسی کی قدح کردی۔ یہ تخیل کی وادیوں میں گھوڑے دوڑاتے پھرتے ہیں جس کی حقیقت کچھ نہیں ہوتی۔ شاعروں کے کلام میں صحیح اور غلط ہر قسم کی باتیں ہوتی ہیں۔ اس میں قافیہ اور دیف ہوتا ہے ، سحر ہوتے ہیں مگر اس شخص کی بات مختصر اور اثرانگیز ہوتی ہے۔ میں نے اس کے کلام کو شاعروں کے اوزان کے ساتھ بھی پرکھا ، مگر یہ کوئی اور ہی چیز ہے۔ شعر جس قدر جھوٹا ہوتا ہے ، اتنی ہی زیادہ داد ملتی ہے۔ مگر یہ شخص حق کے سوا زبان سے کچھ نہیں نکالتا۔ یقینا یہ شخص اپنے دعویٰ میں سچا اور خدا کا نبی ہے۔
بہرحال منکرین نے انکار کے لئے کئی بہانے تراش رکھے تھے ، وگرنہ نشانیاں تو بہت سی دیکھ چکے تھے۔ جیسا کہ گزشتہ سورة میں گزر چکا ہے قرآن سے بڑی کون سی نشانی ہوسکتی ہے۔ پہلی کتابوں میں اس کی پیشن گوئیاں موجود تھیں اس کے علاوہ بھی حضور ﷺ کے دست مبارک پر بہت سے معجزے ظاہر ہوئے مگر بدنصیب لوگ ہمیشہ انکار ہی کرتے رہے۔
گزشتہ آیت میں منکرین کا یہ اعتراض بھی گزر چکا ہے کہ یہ (محمد ﷺ ) تو ہمارے جیسا انسان ہی ہے ، ہم اس پر کیسے ایمان لے آئیں تو اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا ما امنت قبلھم من قریۃ اھلکنھا ان سے پہلے کسی بستی والے ایمان نہیں لائے کہ جن کو ہم نے ہلاک کیا ہو۔ مطلب یہ کہ انکار کا وطیرہ صرف مشرکین مکہ تک ہی محدود نہیں۔ بلکہ اس سے پیشتر جس قوم کو بھی ہم نے ہلاک کیا وہ اپنے اپنے انبیاء پر ایمان نہیں لائے تھے ، لہٰذا آپ ان لوگوں سے بھی زیادہ توقع نہ رکھیں کہ شاید یہ ایمان لے آئیں گے۔ چناچہ مکہ کے سرکردہ آدمیوں میں اکثر ایمان کی نعمت سے محروم رہے اور ہلاک ہوئے۔ یہ لوگ قرآن کو شعر و شاعری سے تعبیر کر رہے ہیں ، کوئی جادو بتارہا ہے اور کوئی بدبخت نبی آخرالزمان کو مجنون کا لقب دے رہا ہے ، یہ سب انکار کے بہانے ہیں اور ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ فرمایا کیا آپ ایسے لوگوں سے توقع رکھتے ہیں افھم یومنون کہ یہ ایمان لے آئیں گے۔ فرمایا ، ایسا نہیں ہے۔ آپ اپنا حق تبلیغ ادا کرنے کے بعد انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں ، یہ لوگ ایمان لانیوالے نہیں ہیں۔
Ayahs 21:7–10ربط آیات :
سورۃ الانبیاء میں اللہ تعالیٰ نے توحید ، رسالت اور قیامت کا ذکر فرمایا ہے اور نبیوں کے طریقہ تبلیغ کو واضح کیا ہے۔ اس میں نافرمانوں کو برے انجام سے ڈرایا گیا ہے اور اس سلسلے میں نبوت و رسالت پر اعتراضات اور شکوک و شبہات کو رفع کیا گیا ہے۔ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے منکرین کے بارے میں دو چیزوں کا بطور خاص ذکر فرمایا۔ انہوں نے پوشیدہ طور پر میٹنگ کی اور پیغمبر اور قرآن کے متعلق غلط نظریہ قائم کیا ، قرآن پاک کے متعلق کہا کہ یہ شعر و شاعری ، سحر یا پریشان خواب ہیں۔ اللہ کے آخری نبی کو کاہن ، ساحر اور شاعر کہا گیا ، اور اس طرح دین حق کا انکار کردیا گیا۔
اسلامی پروگرام کی مخالفت :
گزشتہ آیات میں آمدہ الفاظ واسروا النجویٰ بڑی اہمیت کے حامل ہیں ۔ مشرکین نے قصی ابن کلاب کے مکان دارالندوہ کو اپنا اسمبلی ہال بنارکھا تھا جہاں اسلام کے خلاف خفیہ اجلاس ہوتے اور اسلام کے راستے کو روکنے کے لئے طرح طرح کے منصوبے بنتے۔ آج بھی دنیا میں غیر مسلم اقوام اسلام کے پروگرام کو ناکام بنانے کے لئے طرح طرح کی سکی میں سوچتی رہتی ہیں۔ یہودی ، عیسائی ، دہریے ، ملحد ، کمیونسٹ ، ہنود اور دیگر باطل مذاہب والے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کام کرنے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ، مگر اسلام اللہ کا سچا دین ہے جس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لے رکھا ہے۔ وہ ایسے اسباب پیدا کردیتا ہے جس سے اسلام دشمن طاقتوں کو مکمل طور پر کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر اسلام کی حفاظت صرف مسلمانوں کے ذمے ہوتی ، تو یہ کب کے معدوم ہوچکے ہوتے تاریخی لحاظ سے دیکھ لیں کہ مسلمان کس قدر زوال کا شکار ہیں ، گزشتہ آٹھ صدیوں سے مسلمان سیاسی ، اقتصادی اور اخلاقی لحاظ سے انحطاط کا شکار ہیں۔ تمام اسلامی سلطنتیں کمزور ہیں۔ غرضیکہ تاتاریوں کے زمانے میں جب سے مسلمان کا پائوں پھسلا ہے پھر سنبھل نہیں سکا۔
بشریت انبیائ :
گذستہ درس میں گزر چکا ہے کہ منکرین کا ایک اعتراض یہ تھا۔ ھل ھذا الا بشر مثلکم یہ شخص تو تمہارے ہی جیسا انسان ہے۔ بھلا اس کو تم رسول کیسے مان لو گے ؟ اس میں تو کوئی خاص بات نہیں ہے۔ کوئی فرشتہ ہوتا جس میں انسانی لوازمات نہ ہوتے تو ہم مان بھی لیتے۔ مگر ایک انسان کو نبی مان کر ہم خسارے میں کیوں پڑیں ؟ تو اس اعتراض کے جواب میں اللہ نے یہاں فرمایا ہے وما ارسلنا قبلک الا رجالا نوحی الیھم اور نہیں بھیجے ہم نے اس سے پہلے نبی اور رسول مگر وہ مرد ہی تھے اور ہم ان کی طرف وحی نازل کیا کرتے تھے۔ مطلب یہ کہ نبی آخرالزمان کا انسان ہونا کوئی انوکھی بات نہیں بلکہ اس سے پہلے ہم نے جتنے بھی نبی اور رسول بھیجے وہ انسان تھے اور مردوں میں سے تھے۔ کوئی جن یا فرشتہ یا کوئی دوسری مخلوق انسانوں کی طرف نبی بن کر نہیں آیا۔ وجہ ظاہر ہے کہ انسان انسان ہی سے استفادہ حاصل کرسکتے ہیں اور یہ چیز کسی دوسری مخلوق سے ممکن نہیں۔ لہٰذا اس میں مشرکین کافرین اور منکرین کو کسی قسم کا شک وشبہ نہیں ہونا چاہیے۔
فرمایا اگر تم اس حقیقت سے نابلد ہو اور تمہیں یقین نہیں ہے کہ سابقہ تمام انبیاء بھی انسانوں میں سے آئے ہیں تو پھر فسئلو اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون اہل ذکر یعنی علم والے لوگوں سے دریافت کرلو ، اگر تم خود نہیں جانتے۔ تمہارے پاس اہل کتاب موجود ہیں جو سابقہ کتب کا علم رکھتے ہیں ، وہ تمہیں بتادیں گے کہ سابقہ انبیاء واقعی انسان تھے۔ تم میں تاریخ دان حضرات بھی ہوں گے جو کہ پرانی تاریخ سے واقف ہوں گے ، ان سے تصدیق کرو۔ انبیاء (علیہم السلام) کی انسانیت ، آدمیت اور بشریت کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ حضرت نوح ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) سب انسان ہی تو تھے ، حتیٰ کہ پوری نبی نوع انسان کے جدامجد حضرت آدم (علیہ السلام) بھی سب سے اولین انسان اور بشر تھے۔ ایک بات تو یہ ہوگئی کہ ہر نبی انسان ہوتا ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے وہ رجالا یعنی مرد ہوتے ہیں۔ کوئی عورت کبھی منصب نبوت پر فائز نہیں ہوئی ، بلکہ ایک لاکھ سے زائد تمام انبیاء اور رسل مردوں میں سے مبعوث ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو بھی بڑی فضیلت بخشی ہے۔ حتیٰ کہ انہیں نبوت کے بعد دوسرے درجے صدیقیت کا مقام عطا کیا ہے ، مگر نبوت عطا نہیں کی ، حضور ﷺ کا فرمان (بخاری ص 532 ج 1 (فیاض) ہے۔
کمل من الرجال کثیر ولم یکمل من النساء الا مریم ابنت عمران وخدیجۃ بنت خویلد واسیۃ بنت مزاحم امراۃ فرعون وفضل عائشۃ علی النساء کفضل الثرید علی سائر الطام۔
مردوں میں سے تو بہت سے کاملین گزرے ہیں (یعنی انبیائ ، رسل اور صدیق) مگر عورتوں میں سے اللہ نے مریم بنت عمران ، خدیجہ بنت خویلد ، آسیہ بنت مزاحم زوجہ فرعون کو فضیلت بخشی ہے۔ اور حضرت عائشہ ؓ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کھانے کی باقی کھانوں پر (کہ یہ عربوں میں بڑا مرغوب کھانا ہے)
حضرت عائشہ ؓ کی فضیلت آپ کی ظاہری حسن و جمال ، فقاہت اور دین میں سمجھ کی وجہ سے ہے۔ آپ نے دین کی بڑی خدمت کی۔ امت کی عورتوں کی تربیت کی اور ان کو دین سکھایا۔ اللہ نے حضرت مریم ؓ کے بارے میں فرمایا ہے وامہ صدیقۃ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ صدیقہ تھیں۔ اللہ نے آپ کو اتنی بڑی فضیلت عطا فرمائی تھی۔ تاہم کسی عورت کو اللہ نے نبی نہیں بنایا۔ امام شعرانی (رح) اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ تمام اہل حق اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ نے استرشاد یعنی ہدایت اور راہنمائی کا کام اصلاً مردوں کے سپرد کیا ہے اور عورتوں کو مردوں کے تابع رکھا ہے۔ عورتوں کو کار تبلیغ کا مکلف نہیں بنایا۔ حقیقت یہ ہے کہ اجتماعیت کے سارے کام منجملہ نظام حکومت ، جمعہ ، عیدین اور نماز کے لئے جماعت کا قیام اور فریضہ جہاد اللہ نے براہ راست مردوں کی ذمہ داری میں دیا ہے۔
زن ومرد کا دائرہ کار :
بعض عورتوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور ! مرد جہاد میں براہ راست حصہ لے کر بڑی فضیلت حاصل کرتے ہیں مگر ہم عورتیں اس سے محروم ہیں۔ آپ (علیہ السلام) (بخاری ص 402 ج 1 (فیاض) نے فرمایا جھاد کن الحج تمہارا حج ہی ہے ، جنگ میں براہ راست حصہ لینا تمارے فرائض میں داخل نہیں ہے۔ ہاں اگر دوران جنگ غیر معمولی حالات پیش آجائیں تو پھر عورتیں لڑائی کے دوران بالواسطہ حصہ لے سکتی ہیں ، مثلاً مجاہدین کو پانی پلانے یا ان کی مرہم پٹی کے کام میں ہاتھ بٹا سکتی ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کا یہ دعویٰ درست نہیں ہے کہ عورتیں اور مرد ہر میدان میں برابر سرابر ہیں ۔ عورتیں مکلف ہونے میں تو مردوں کے مساوی ہیں مگر احکام میں نہیں۔ اللہ نے وراثت میں ایک مرد کا حصہ دوعورتوں کے برابر رکھا ہے۔ عورتوں پر نماز باجماعت فرض نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے اس حد تک فرمایا ہے کہ جب تمہاری عورتیں مسجد میں جانے کی اجازت طلب کریں تو انہیں اجازت دے دیا کرو وبیوتھن خیر لھن مگر ان کے گھر ہی ان کے لئے بہتر ہیں۔ عورت کی نمازمسجد کی نسبت گھر میں زیادہ فضیلت رکھتی ہے اگر راستہ پر امن ہو ، عورت نے بھڑکیلا لباس نہ پہن رکھا ہو ، خوشبو نہ لگائی ہو ، تو اسے مسجد میں جانے کی اجازت ہے تاہم عورت جتنی تاریکی اور بند کمرے میں نماز ادا کرے گی اتنا ہی زیادہ اجر کی مستحق ہوگی۔
نئی تہذیب میں عورتوں کے حقوق کی بات کی جاتی ہے۔ انہیں اسمبلیوں میں نمائندگی کا حق دیا جاتا ہے ، مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کی حمایت کی جاتی ہے ، یہ تو انگریزی سیاست اور جہالت کا نظریہ ہے کیونکہ اللہ نے عورتیں مردوں کے تابع رکھی ہیں۔ فوج ، پولیس ، نظام حکومت عورتوں کا دائرہ کار نہیں ہے۔ البتہ بعض غیر معمولی حالات میں عورتیں ضروری معاملات میں تعاون تو کرسکتی ہیں مگر یہ ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔ غرضیکہ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے جتنے بھی نبی اور رسول بھیجے ہیں سب کے سب مرد تھے ، کسی دوسری جنس سے نہیں تھے۔ فرمایا اگر تمہیں کسی کا شک توتردد ہو تو اہل علم سے دریافت کرو ، وہ تمہیں بتلادیں گے کہ یہ بات درست ہے۔
ذکر کے مختلف معانی :
ذکر کے کئی معانی آتے ہیں۔ صاحب قاموس کہتے ہیں کہ ذکر کا معنی کسی چیز کو یاد کرنا ہوتا ہے اور اس کا معنی شہرت بھی ہوتا ہے۔ ذکر شرف کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا وانہ لذکر لک ولقومک یہ قرآن آپ کے لئے اور آپ کی قوم قریش کے لئے باعث عزت وشرف ہے۔ والقراٰن ذی الذکر قسم ہے عزت اور شرافت والے قرآن کی۔ اسی طرح قرآن کا معنی کتاب بھی آتا ہے جس میں دینی مسائل اور مکمل کا ذکر ہو۔
بہرحال فرمایا کہ سارے نبی انسان اور مرد ہوئے ہیں ، اگر تمہیں اس بات کا علم نہیں تو اہل علم سے اس بات کی تصدیق کرلو۔ نبی اور رسول کا انسان ہونا کوئی غیب کی بات ہیں ہے بلکہ یہ تو باعث شرف ہے ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نبی کو بشر کہنے سے نعوذ باللہ ان کی توہین ہوجاتی ہے۔ ایسا نہیں ہے نبی کا مقام بحیثیت انسان ، دینی ، اخلاقی علمی اور عملی لحاظ سے ہوتا ہے۔ نبی کی روحانیت اور عمل اعلیٰ درجے کا ہوتا ہے۔ اس کا ایک ہی عمل ساری امت کے اعمال پر بھاری ہوتا ہے نبوت کا تعلق روحانیت اور اخلاق کی بلندی سے ہوتا ہے۔ انسان ہونا منصب نبوت کے ہرگز منافی نہیں۔
انبیاء میں انسانی لوازمات :
آگے ارشاد ہوتا ہے وماجعلنھم جسد الا یاکلون الطام ہم نے انبیاء کے جسم ایسے نہیں بنائے جو کھانا نہ کھاتے ہوں انسان ہونے کے ناطے سے انبیاء کو بھوک بھی لگتی تھی اور بعض اوقات بھوک کی وجہ سے بےچین بھی ہوجاتے تھے حتیٰ کے بعض اوقات پیٹ پر پتھر بھی باندھنا پڑتے تھے۔ مطلب یہ کہ کھانا پینا کمال کے منافی امر نہیں ہے۔ ایک دفعہ حضور ﷺ گھر سے باہر نکلے۔ دیکھا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ بھی گھر سے باہر ہیں۔ پوچھا تم کیسے آئے ہو ؟ عرض کیا آپ کی زیارت کے لئے اس کے تھوڑی دیر بعد حضرت عمر ؓ بھی آگئے۔ ان سے دریافت کیا کہ تم کیسے گھر سے باہر آئے ؟ عرض کیا ، بھوک نے ستا رکھا ہے مگر گھر میں کچھ نہیں ملا ، آپ ﷺ نے فرمایا ، میں بھی ایسا ہی محسوس کررہا ہوں۔ پھر فرمایا چلو ابولہثیم انصاری ؓ کے باغ میں چلتے ہیں۔ آپ وہاں تشریف لے گئے اس صحابی نے ٹھنڈا پانی پلایا ، کھجوریں کھلائیں اور بکری ذبح کرکے گوشت بھی پیش کیا جو کہ حضور ﷺ اور آپ کے دونوں جاں نثاروں نے تناول فرمایا۔ حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ ٹھنڈا پانی اور کھجوریں ایسی نعمتیں ہیں کہ جن کے متعلق قیامت کے دن تم سے سوال کیا جائے گا۔
ایک موقع پر حضور ایک دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر تشریف فرما تھے۔ ایک صحابی آئے وھو مقع من الجوع ان کا پیٹ بھوک کی وجہ سے چپک گیا تھا۔ حضرت جابر ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ بھوک کی وجہ سے حضور ﷺ بڑے کمزور معلوم ہو رہے ہیں۔ آپ فوراً گھر گئے اور بیوی سے پوچھا کہ کیا گھر میں کھانے کے لئے کچھ ہے کیونکہ حضور ﷺ بھوک کی وجہ سے پریشان ہو رہے ہیں اور پھر آگے حضور اور بہت سے صحابہ کو کھانا کھلانے کا واقعہ آتا ہے۔ غرضیکہ بھوک نبیوں کو بھی لگتی ہے اور ان پر دیگر امور طبعیہ جیسے پیاس ، قضائے حاجت ، سونا جاگنا ، بیماری ، تندرستی ، زخمی ہونا ، ہنسنا ، رونا ، موت اور حیات وغیرہ بھی وارد ہوتے ہیں۔
فرمایا ، ہم نے انبیاء کو کھانا کھانے سے مستثنیٰ نہیں کیا۔ انبیاء اولاد اور بیویوں سے بھی پاک نہیں تھے ، اللہ کا فرمان ہے وجعلنا لھم ازواجا و ذریۃ (الرعد 2 , 8) انبیاء شادی بھی کرتے ہیں اور ان کے ہاں اولاد بھی ہوتی ہے اور دیگر انسانوں کی طرح وما کانوا خلدین وہ ہمیشہ رہنے والے نہیں ہوتے بلکہ اپنا دنیاکا یہ دور ختم کرکے اپنے پروردگار کے ہاں چلے جاتے ہیں۔ دسری جگہ فرمایا افائن………الخلدون (الانبیاء 34) اگر آپ فوت ہوجائیں گے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہنے والے ہیں ؟ یہ بھی تو مرنے والے ہیں۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے انک میت وانھم میتون (الزمر 30) آپ بھی فوت ہونے والے ہیں اور یہ لوگ بھی۔ اس دنیا میں کسی کو بھی دوام حاصل نہیں۔ اللہ کا عام قانون بھی یہی ہے کل نفس ذائقۃ الموت (آل عمران 185) ہر نفس کو موت آنی ہے۔ سب نے اللہ کے حضور پیش ہو کر حساب کتاب دینا ہے۔ غرضیکہ تمام انبیاء (علیہم السلام) انسان اور مرد تھے ، اللہ نے ان پر وحی نازل فرمائی ، کتاب دی ، علم اور شریعت دی ، ان کو امت کے لئے نمونہ بنایا ان کا اخلاق بلند کیا۔ وہ اپنے علم ، عمل اور اخلاق کے ذریعے مخلوق خدا کو صراط مستقیم کی طرف دعوت دیتے تھے۔ اللہ نے ان کو عام انسانوں کی نسبت بلند مرتبہ عطا فرمایا تھا۔ یہی ان کی خصوصیت تھی ، تاہم ان کے انسان ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔
اہل ایمان کے ساتھ وعدہ :
ارشاد ہوتا ہے ثم صدقنھم الوعد پھر ہم نے ان سے سچا وعدہ کیا۔ اہل ایمان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ یہ تھا کہ وہ انہیں خلافت عطا کرے گا اور ان کے مشن کو کامیاب بنائے گا۔ اللہ نے اپنا وہ وعدہ پورا فرمایا فانجینھم ومن نشاء پھر ان کو بھی نجات دی دشمن کے مقابلے میں اور ان کو بھی جن کو ہم نے چاہا۔ جو بھی ایمان لائے اور جنوں نے نیک اعمال انجام دیے ، اللہ نے ان کو دشمنوں سے نجات دی ۔ واھلکنا المسرفین اور حد سے بڑھنے والوں کو ہلاک کیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بہت سے انبیاء کے واقعات بیان کیے ہیں اور پھر ان کی اقوام کی ہلاکت کا ذکر کیا ہے جیسے قوم نوح ، قوم ہود ، قوم لوط ، قوم شعیب ، قوم صالح وغیرہ۔
قرآن بطور نصیحت :
آگے اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک جیسی عظیم نعمت کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے لقد انزلنا الیکم کتبا اور البتہ تحقیق ہم نے تمہاری طرف ایک کتاب نازل کی ہے۔ فیہ ذکرکم جس میں تمہارے لئے نصیحت کا سامان ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے ذکر سے مراد شرف بھی ہے یعنی یہ قرآن تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے باعث عزت وشرف بھی ہے۔ اس سے بڑی عزت کیا ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک قریش کی زبان عربی میں نازل فرمایا اور ان کو دین کا اولین داعی بنایا۔ آپ کی قوم کو ساری دنیا کا استاد بنایا۔ سورة بقرہ میں موجود ہے۔ لتکونواشھداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا (آیت 143) تم نبی سے تعلیم حاصل کرکے آگے پوری امت کے معلم بن جائو۔ انا انزلنہ…………تعقلون (یوسف 2) ہم نے قرآن حکیم کو عربی زبان میں نازل کیا تاکہ سب سے پہلے عرب لوگ خصوصاً قریش اس سے مستفید ہوں ، اور پھر اس مشن کو آگے چلائیں۔
اور پھر ایسا ہی ہوا ۔ خلفائے راشدین ؓ کے زمانے میں جنگ صفیں تک صحابہ کرام ؓ قرآن پاک کے پیغام کو لے کر آگے بڑھتے رہے۔ اس واقعہ کے بعد مسلمانوں کے حالات میں اجتماعی جمود (Dead lock) پیدا ہوگیا۔ ان کی ترقی رک گئی اور زوال کا دور شروع ہوگیا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ نشاۃ ثانیہ میں اسلام کو برتری عطا فرمائے۔ یقین ہے کہ آخری دور میں پھر اسلام کو غلبہ نصیب ہوگا۔ اور باقی تمام ادیان مغلوب ہوجائیں گے۔ بہرحال فرمایا کہ ہم نے تمہاری طرف ایک کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارے لئے نصیحت ہے ، شرف اور عزت ہے۔ افلا تعقلون کیا تم عقل نہیں رکھتے ؟ کیا تم اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اللہ نے یہ کتنی بڑی نعمت تمہیں عطا کی ہے اللہ کے انعام کا شکریہ ادا کرو اور قرآن پاک اور رسالت پر اعتراض نہ کرو بلکہ ان پر ایمان لے آئو۔ اسی میں تمہاری فلاح و کامیابی ہے۔
Ayahs 21:11–18ربط آیات :
سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے محاسبہ اعمال کا ذکر کیا کہ لوگوں کے حساب کتاب کی منزل قریب آچکی ہے۔ مگر یہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ قرب قیامت کا احساس اس وجہ سے ہے کہ اللہ کا آخری نبی اور اس کی آخری کتاب آچکی ہے اور اب قیامت کبریٰ کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں۔ جہاں تک انفرادی حساب کتاب کا تعلق ہے تو یہ انسان کی انفرادی موت کے ساتھ ہی شروع ہوجاتا ہے لہٰذا حساب کتاب کی منزل کا قریب ہونا اس لحاظ سے بھی درست ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کی خفیہ میٹنگوں کا ذکر کیا کہ وہ اسلام کو ناکام بنانے کی ہر ممکن منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ ان کا ایک نظریہ یہ بھی تھا کہ ہم ایک انسان کو کیسے پیغمبر تسلیم کرلیں۔ اللہ نے ان کے اس نظریہ کا رد فرمایا اور واضح کیا کہ اس سے پہلے تمام انبیاء اور رسل انسانوں میں سے ہی آتے رہے ہیں ، لہٰذا نبی آخر الزمان (علیہ السلام) کا انسان ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے ۔ فرمایا اگر تمہیں اس حقیقت کا علم نہیں ہے تو اہل علم سے تصدیق کرلو۔ تاریخ دانوں سے پوچھ لو ، وہ تمہیں بتائیں گے کہ سابقہ انبیاء بھی واقعی انسان ہی تھے ، کوئی نبی کسی غیر مخلوق سے نہیں آیا ، اور نہ ہی غیر انسان سے کسی انسان کی راہنمائی کی توقع کی جاسکتی ہے۔
فاسئلوا اھل الذکر سے مفسرین کرام تقلید کا مسئلہ بھی ثابت کرتے ہیں۔ امام قرطبی (رح) فرماتے ہیں کہ ایک ناواقف آدمی کے لئے ضروری ہے کہ جس چیز کا اسے علم نہ ہو وہ علم والے سے پوچھ کر عمل کرے۔ چونکہ ایک عام آدمی خود اجتہاد نہیں کرسکتا ، لہٰذا اس کے لئے صاحب علم کی تقلید ضروری ہوجاتی ہے۔ اس قسم کی آیات دوسرے مقامات پر بھی موجود ہیں۔
اللہ نے انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق فرمافا کہ ہم نے ان کے اجسام ایسے نہیں بنائے جو کھانا نہ کھاتے ہوں۔ یہ تو فرشتوں کی خاصیت ہے کہ وہ کھانے پینے اور مباشرت کی ضروریات سے پاک ہیں۔ البتہ دیگر انسانوں کی طرح لوازمات بشر یہ نبیوں میں بھی پائے جاتے ہیں اور وہ اس دنیا میں ہمیشہ رہنے کے لئے نہیں آتے۔ اپنی طبعی عمر پوری کرکے باقی انسانوں کی طرح وہ بھی اپنے رب کے پاس چلے جاتے ہیں۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ ہم نے اہل ایمان کے ساتھ کامیابی کا اور نافرمانوں کے ساتھ ناکامی کا جو وعدہ کیا ہے ، اس کو پورا کریں گے۔ درمیان میں اللہ نے بطور نصیحت فرمایا کہ تمہارے لئے ایک ایسی عظیم کتاب نازل کی گئی ہے جس میں تمہارے لئے سراسر نصیحت ہے ، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟ تمہارے لئے کتنی عزت اور شرف کا مقام ہے کہ اللہ نے تمہاری زبان میں ایک عظیم الشان نصیحت نامہ نازل فرمایا ہے۔ اور تمہیں اس کی قدر کرنی چاہیے۔
نافرمانوں کے لئے انذار :
آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے سابقہ اقوام کا حال بیان کرکے انذار کیا ہے خوب اچھی طرح سمجھ لو کہ اگر تم بھی نافرمانی کرو گے تو خدا کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔ ارشاد ہوتا ہے وکم قصمنا من قریۃ ہم نے کتنی ہی بستیوں کو پیس ڈالا کانت ظالمۃ جن کے رہنے والے ظالم لوگ تھے۔ ظلم وتعدی اور کیر وشرک کرنے والوں کو ہم نے ہلاک کردیا۔ قصم کا لفظی معنی توڑنا ہوتا ہے۔ یعنی ہم نے ان بستیوں کو توڑ پھوڑ کر چکنا چور کردیا ۔ وانشانا بعدھا قوما اخرین اور اس کے بعد ہم نے دوسرے لوگوں کو ان کی جگہ کھڑا کردیا۔ جب ایک نافرمان قوم کو صفحہ ہستی سے ناپید کیا تو دوسری قوم کو عروج دے دیا۔ قوم نوح کو ہلاک کیا تو ان کی جگہ قوم ہود اور قوم صالح کو کھڑا کردیا۔ پھر جب انہوں نے بھی ظلم وتعدی کا بازار گرم کیا تو انہیں بھی نیست ونابود کردیا گیا اور ان کی جگہ دوسری قومیں برسراقتدار آگئیں۔ فرمایا تم یہ نہ سمجھو کہ تمہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اگر تم بھی اپنی قبیح حرکات سے باز نہ آئے تو تمہارا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا۔
اللہ نے سابقہ اقوام کے متعلق فرمایا فلما احسوا باسنا جب انہوں نے ہماری گرفت اور عذاب کو محسوس کیا ، یعنی جب ان پر ہمارے عذاب کی نشانیاں ظاہر ہونے لگیں اذاھم منھا یرکضون تو اچانک وہ ان سے ایڑھی لگا کر بھاگنے لگے ، رکض کا معنی گھوڑے کو ایڑھی لگا کر تیز دوڑانا ہوتا ہے۔ یہاں مطلب یہ ہے کہ عذاب دیکھ کر کرنا فرمانوں نے اس سے بچنے کے لئے گھوڑے کی سی تیزی کے ساتھ ادھر ادھر بھاگنے کی کوشش کی ، مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا لا ترکضوا اب مت بھاگو۔ تم بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے۔ اس طرح بھاگنے کی بجائے وارجعوا الی ما اترفتم فیا واپس آئو اس خوشحالی اور آسودگی کی طرف جس میں تم ڈالے گئے تھے۔ اتراف کا معنی خوشحالی ، آسودگی اور تن آسانی ہوتا ہے۔ فرمایا تمہیں ہر قسم کی سہولتیں حاصل تھیں۔ ومسکنکم تم اپنے گھروں اور باغات میں سکونت پذیر تھے۔ اللہ نے تحکماً فرمایا ، اب کدھر جاتے ہو ، جائو اپنی انہی جائیدادوں اور تن آسانیوں کی طرف جن کی وجہ سے اللہ کے نبیوں کی تکذیب کرتے تھے اور اللہ کے سچے پروگرام اور دین کی مخالفت کرتے تھے۔ اب ادھر ہی جائو لعلکم تسئلون تاکہ تم سے پوچھا جائے۔ اللہ نے فرمایا کہ تمہاری ذہنیت کے لوگ پہلے بھی موجود تھے انھم……………مترفین (الواقعۃ 45) اس سے پہلے یہ بھی اسی اتراف یعنی خوشحالی میں مبتلا تھے دنیا کی ہر چیز میسر تھی ۔ مگر آخرت کی فکر نہیں تھی۔ انہوں نے اللہ کی وحدانیت کو تسلیم نہ کیا اور اس کے حکم کی تعمیل نہ کی ، لہٰذا ان پر اللہ کا عذاب آیا اور وہ صفحہ ہستی سے نابود کردیے گئے۔
مفسرین کرام تسئلون کی دو طرح سے تفسیر بیان کرتے ہیں پہلا نقطہ نظریہ ہے کہ مجرمین سے ان کی سزا کے متعلق پوچھا جائے گا ، کہ اب تمہاری کاریں اور کوٹھیاں کہاں گئیں ، تمہارے آرام و آسائش اور لہو ولعب کے سامان کا کیا ہوا ؟ اب یہ چیزیں تمہیں عذاب الٰہی سے کیوں نہیں بچاتیں ؟ استفسار کا دوسرا معنی مفسرین یہ بیان کرتے ہیں کہ دنیا میں تم اپنی اپنی قوم کے سردار تھے ، پورا خاندان اور برادری تمہارے ماتحت تھی ، سب تمہارے حکم کے منتظر رہتے تھے۔ تم صاحب رائے تھے اور لوگ تم سے مشورہ طلب کرتے تھے۔ اب عذاب کو دیکھ کر کہاں بھاگتے ہو ؟ چلو اپنی قوم کے پاس شاید اب بھی وہ تمہارے مشورے کے منتظر ہوں کہ عذاب الٰہی سے کیسے بچاجاسکے۔ اب ان کو مشورہ دو کہ وہ کیا کریں۔
ظالموں کا اعتراف جرم :
اس کے جواب میں قالوا ان مجرموں نے کہا جو کہ عذاب میں مبتلا ہوئے یویلنا انا کنا ظلمین ہائے افسوس ! ہائے ہماری بدبختی ، بیشک ہم ظلم کرنے والے تھے ، اس وقت اعتراف کریں گے کہ دنیا میں ہم واقعی ظلم کرتے رہے ، شرک اور کفر میں مبتلا رہے۔ اللہ کے نبیوں سے استزاء کیا ، کتاب الٰہی کا انکار کیا اور اپنی آسودہ حالی میں ہی مگن رہے۔ ہم نے غلط پروگرام کی کامیابی کے لئے سرمایہ اور قوت لگائی ، بیشک ہم ہی ظالم تھے۔
ارشاد خداوندی ہے فما زالت تلک دعوھم ان کی یہ پکار برابر جاری رہی یعنی وہ اعتراف جرم کرتے رہے حتی جعلنھم حصیدا خمدین یہاں تک کہ ہم نے کردیا ان کو کٹا ہوا کھیت اور بجھ جانے والی آگ کی مانند۔ جب کھیت پک کر تیار ہوجاتا ہے تو فصل کاٹ لی جاتی ہے اور باقی کچھ نہیں بچتا ، حصیداً کا یہی معنی ہے۔ اور جب آگ خوب بھڑکنے کے بعد بالکل بجھ جاتی ہے اور اس کی حرارت اور روشنی کا کوئی نشان باقی نہیں رہتا تو اس کو خمد کہتے ہیں۔ مطلب یہ کہ اعتراف جرم کے بعد ہم نے انہیں بالکل نیست ونابود کردیا ، گویا کہ وہ دنیا میں کبھی آئے نہ تھے۔ اس قسم کی بہت سی قوموں کا اللہ نے قرآن میں ذکر کیا ہے ، اور بعض کا نہیں کیا کیونکہ اس کا اپنا فرمان ہے۔ ورسلا……… ……علیک (النساء 164) کتنے ہی رسول ہیں جن کا ہم نے اس سے پہلے ذکر کیا ہے اور ایسے بھی ہیں جن کا ذکر ہم نے نہیں کیا ہے۔ یہ بات اللہ نے تنبیہ اور انذار کے طور پر فرمائی ہے تاکہ نزول قرآن کے زمانے اور بعد میں آنے والے لوگ سابقہ اقوام کے انجام سے عبرت حاصل کریں۔
مقصد تخلیق کائنات :
آگے ارشاد ہوتا ہے وما خلقنا السمآء والارض وما بینھما لعبین اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے کھیلتے ہوئے۔ یعنی پوری کائنات اللہ نے محض کھیل تماشے کے لئے پیدا نہیں فرمائی ذلک ظن الذین کفروا (صٓ 27) یہ تو کافروں کا گمان ہے کہ یہ کائنات کھیل تماشہ ہے ۔ ہم نے تو اس کارخانہ حیات اور اسکے تمام مصنوعات کو خاص حکمت کے ساتھ پیدا فرمایا ہے اور اس کی کوئی غرض اور مصلحت ہے جو کہ ظاہر ہونے والی ہے۔ اس کائنات کا آغاز بھی ہے اور اس کا انجام بھی۔ یہ سارا سلسلہ اللہ نے بنی نوع انسان کو بام عروج تک پہنچانے کے لئے قائم کیا ہے۔ اہل ایمان اچھی طرح جانتے ہیں اور کتے ہیں ربنا ما…………… ……النار (آل عمران 191) اے ہمارے پروردگار ! تو نے اس کائنات کو بےسود نہیں پیدا کیا ، اس کی کوئی غرض وغایت ہے اور وہ یہی ہے کہ انسان ترقی کی منازل طے کرے اور خدا تعالیٰ کی گرفت سے بچ جائے۔ لہٰذا ہم درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں دوزخ کی سزا سے بچالے۔
مزید ارشاد خداوندی ہے لواردنا ان نتخذ لھوا لا تخذنہ من لدنا اگر ہم اس کائنات کو کھلونا ہی بنانا چاہتے تو یقینا ہم اسے اپنے پاس بناتے ان کنا فعلین اگر ہم ایسا کرنے والے ہوتے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اس کائنات کو کھیل تماشہ بنانا ہوتا تو ہم اسے اپنے پاس ہی رکھ لیتے ، اسے مخلوق کے سامنے کیوں رکھتے ؟ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ پرانے زمانے میں روم اور یونان بڑی متمدن سلطنتیں سمجھی جاتی تھیں وہاں کے لوگ تھیٹروں میں بیٹھے کھیل تماشے میں مصروف رہتے تھے۔ ان کی دل لگی اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ زندہ غلاموں کو شیر کے آگے ڈال دیتے تھے۔ شیر ان کو دیکھتے ہی دیکھتے چیر پھاڑ کر کھا جاتے تھے اور بڑے بڑے امراء اس کھیل سے محفوظ ہوتے تھے۔ آج بھی دنیا میں اس قسم کے کھیل کھیلے جا رہے ہیں۔ قتل ، اغواء اور ڈکیتی کی وارداتیں سرعام ہورہی ہیں ، بےگناہ لوگوں کو قتل کیا جارہا ہے اور صاحبان اقتدار اپنی آنکھوں سے تماشہ دیکھ رہے ہیں ۔ فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے کھیل تماشے کے لئے کائنات کو تخلیق نہیں کیا۔ آج دنیا میں جس قدر ظلم و زیادتی ہورہی ہے ، ملک یوم الدین انصاف کے دن کا مالک پروردگار ایک دن ضرور انصاف کرے گا اور کسی ظالم کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ بہرحال فرمایا کہ اگر ہم کائنات کو لہو ولعب کا ذریعہ بناتے تو پھر مخلوق کے سامنے پیش نہ کرتے بلکہ اسے اپنی صفات کے مشاہدے تک ہی محدود رکھتے ۔
حق و باطل کی کشمکش :
آگے اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کی کشمکش کا ذکر کیا ہے ارشاد ہوتا ہے بل نقذف بالحق علی الباطل حقیقت یہ ہے کہ ہم حق کو باطل کے اوپر پھینکتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے فیدمغہ فاذا ھوزاھق پھر حق باطل کے دماغ کو پھوڑا ڈالتا ہے اور اس طرح حق و باطل کی کشمکش شروع ہوجاتی ہے اور پھر حق کے مقابلے میں باطل پاش پاش ہوجاتا ہے۔ باطل کی کشمکش اور پھر اس کی ناکامی کا ذکر اللہ نے سورة الرعد میں بھی کیا ہے اللہ نے باطل کی مثال سیلاب میں اٹھنے والی جھاگ سے دی ہے کہ وقطی طور پر جھاگ میں بڑا جوش و خروش ہوتا ہے مگر وہ جلدی ہی ختم ہوجاتی ہے ، اور زرخیز مٹی نیچے رہ جاتی ہے۔ اسی طرح جب کسی دھات سونے چاندی وغیرہ کو پگھلایا جاتا ہے تو اس کے اوپر بھی جاگ آجاتی ہے جو جلدی ہی ختم ہوجاتی اور اصل چیز باقی رہ جاتی ہے۔ حق و باطل میں یہی فرق ہے۔ باطل میں وقتی طور پر بڑا جوش ہوتا ہے۔ مگر وہ جلدی ہی مغلوب ہوجاتا ہے اور حق باقی رہتا ہے امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ ہر انسان میں حق و باطل کی کشمکش ہر جاری رہتی ہے ایک طرف انسان میں موجود ملکیت کا مادہ ہوتا ہے اور دوسری طرف بہیمیت کا ۔ چناچہ حکم یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو بہیمیت کو کمزور کیا جائے اور ملکیت کو طاقتور بنایا جائے تاکہ انسان کو ابدی فلاح حاصل ہوجائے۔ اگر اس کے برخلاف بہیمیت کو غلبہ حاصل ہوگیا تو انسان ہمیشہ کے لئے ناکام ہوجائے گا۔ اس دنیا میں حق و باطل ہمیشہ آپس میں ٹکراتے رہتے ہیں اور پھر نتیجے کے اعتبار سے غلبہ حق کو ہی حاصل ہوتا ہے۔ اگرچہ باطل دنیا میں پھیلا ہوا ہے لیکن اس کا جوش و خروش جھاگ کی طرح ہے جو جلد ہی ختم ہوجاتا ہے ، چناچہ فہم اور انجام کے اعتبار سے بھی حق کو ہی غلبہ حاصل ہوتا ہے۔ اس لئے فرمایا کہ ہم حق کو باطل کے اوپر پھینکتے ہیں ، پھر حق باطل کا سر پھوڑا ڈالتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ باطل زائل ہوجاتا ہے۔ ویسے بھی اللہ نے یہ عام قانون بتلایا ہے وقل ……………زھوقا (بنی اسرائیل 81) اے پیغمبر ﷺ ! آپ کہہ دیں کہ حق آگیا اور باطل چلا گیا ، باطل جانے والی چیز ہی ہے۔
سورة مومن میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی موجود ہے انا للنصر………الاشھاد (آیت 51) نتیجے اور مشن کے اعتبار سے ہم اپنے رسولوں اور اہل ایمان کو ہی غلبہ عطا فرمائیں گے۔ اگرچہ ان پر کڑی آزمائشیں آتی ہیں مگر بالآخر مشن انہی کا کامیابی حاصل کرتا ہے۔ اس دنیا میں انہیں کامیابی حاصل ہوتی ہے اور آخرت میں بھی وہی سرخرو ہوتے ہیں۔
فرمایا ولکم الویل مما تصفون اے منکرین ! حق کا مقابلہ کرنے والو ! قرآن کو پریشان خواب کہنے والو ! نبی کو اپنے جیسا انسان کہنے والو ! ہلاکت اور تباہی تمارے مقدر میں ہے ان باتوں کی وجہ سے جو تم کہتے ہو ، خدا تعالیٰ کی توحید کے بارے میں تمہارا نظریہ درست نہیں تم اللہ کے نبیوں کی توہین کرتے ہو۔ اللہ کی نازل کردہ کتاب کو ماننے کے لئے تیار نہیں ، انہی باتوں کی وجہ سے تمہارے لئے تباہی اور بربادی ہے۔ اللہ نے یہ تنبیہ اور وعید بھی فرمادی ہے۔