21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 21:19–24

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا یَسْتَحْسِرُوْنَۚ Open ayah 21:19 in the Quran reader

اور اس کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں۔ اور وہ جو اس کے نزدیک ہیں ، نہیں تکبر کرتے اس کی عبادت سے اور نہ وہ تھکتے ہیں

یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ Open ayah 21:20 in the Quran reader

تسبیح بیان کرتے ہیں رات اور دن اور وہ کوتاہی نہیں کرتے

اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ هُمْ یُنْشِرُوْنَ Open ayah 21:21 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے بنا لیے ہیں معبود زمین سے کیا وہ زندہ کرکے اٹھائیں گے

لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا١ۚ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 21:22 in the Quran reader

اگر ہوتے ان دونوں (زمین اور آسمان) میں معبود اللہ کے سوا ، تو البتہ یہ (زمین اور آسمان) میں معبود اللہ کے سوا ، تو البتہ یہ (زمین اور آسمان) بگڑ جاتے پس پاک ہے اللہ تعالیٰ ، جو عرش کا مالک ہے ، ان چیزوں سے جو یہ لوگ بتلاتے ہیں

لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:23 in the Quran reader

نہیں پوچھا جاسکتا اس سے جو وہ کرتا ہے ، اور ان سے وال کیا جائے

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ١ۚ هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِیَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِیْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ١ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:24 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے بنالیے ہیں اس کے ورے اور معبود ؟ آپ کہہ دیجئے کہ لائو اپنی دلیل ۔ یہ ذکر ہے ان کا جو میرے ساتھ ہیں ، اور ذکر ہے ان کا جو مجھ سے پہلے گزرے ہیں۔ بلکہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے حق بات کو ، پس وہ اعراض کرنے والے ہیں

ربط آیات : گزشتہ درس تک کا زیادہ ترحصہ رسالت کے تذکرے پر مشتمل تھا۔ کافر اور مشرک اللہ کے نبیوں پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ تو انسان ہیں ، بھلا ہم ان کا اتباع کیسے کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کا تردیدی جواب دیا۔ پھر پہلے لوگوں کا حال بیان کیا اور عذاب کی وعید سنائی۔ نافرمانوں کا انجام بھی بیان فرمایا۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کا رد کیا ہے۔ گزشتہ درس میں بیان ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ارض وسماکے کارخانے کو محض لہو ولعب کے لئے نہیں بنایا بلکہ یہ اس کی حکمت پر مبنی ہے۔ اس کائنات کا آغاز بھی ہے اور اس کا انجام بھی۔ اللہ تعالیٰ کی تسبیح : ارشاد ہوتا ہے ولہ من فی السموت ولارض اسی کی ملکیت ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ ہرچیز کو پیدا بھی اسی نے کیا ہے اور ہر چیز کی تدبیر بھی وہی کرتا ہے۔ وہ سب چیزوں کا مالک ہے اور ہرچیز پر اسے تصرف حاصل ہے۔ قدرت کے کارخانہ کو محض کھیل تماشہ سمجھنا بیوقوفی کی بات ہے۔ اس نے کسی چیز کو بیکار نہیں بنایا بلکہ ہر چیز کے ساتھ اس کی حکمت اور مصلحت وابستہ ہے۔ اس کے علاوہ ومن عندہ جو مخلوق اس کے نزدیک ہے ، یعنی ملائکہ جنہیں اللہ کا قرب نصیب ہے ، وہ بھی اسی کی ملکیت میں ہیں۔ فرشتے اپنے پروردگار کے تابع فرمان ہیں لا یستکبرون عن عبادتہ وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے ۔ جب مقربین خدا اس کی عبادت سے سرتابی نہیں کرتے تو پھر باقی مخلوق کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے میں عفلت کریں۔ انسان تو فرشتوں کی نسبت زیادہ محتاج ہیں ، لہٰذا ان کا بطریق اولیٰ فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے تکبر نہ کریں۔ تو فرشتوں کے متعلق فرمایا کہ ا کی تو وہ اپنے رب کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے او دوسرا یہ کہ ولا یستحسرون وہ تھکتے بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی مسلسل عبادت کرنے کے باوجود ان پر تھکاوٹ کے اثرات پیدا نہیں ہوتے۔ ان کا کام یہ ہے یسبحون الیل والنھار وہ رات دن اپنے پروردگار کی تسبیح بیان کرتے رہتے ہیں لا یفترون مگر ذرہ برابر بھی سستی نہیں کرتے۔ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید کرتے رہتے ہیں۔ یہاں پر ایک اشکال وارد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو بعض دیگرفرائض بھی سونپ رکھے ہیں تو وہ یہ فرائض اور عبادت اکٹھے کیسے انجام دیتے ہیں۔ بادی النظر میں تو ایک وقت میں ایک کام ہی ہوسکتا ہے۔ یا تو اپنے رب کی عبادت کریں یا دیگر فرائض انجام دیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں ، کہ فرشتوں کا عبادت کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی انسان غیرارادی طور پر ہر وقت سانس لیتا رہتا ہے یا وقفے وقفے سے آنکھ جھپکتا ہے۔ ہر شخص دنیا کے سارے کام محنت مزدوری ، کھیتی باڑی ، تجارت ، ملازمت ، کھانا پینا ، سونا جاگنا وغیرہ انجام دیتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ سانس بھی لیتا رہتا ہے جس کے لئے اسے کوئی محنت مشقت نہیں کرنا پڑتی کسی دوسرے کام کو چھوڑ کر سانس لے لے یا آنکھ جھپک لے۔ فرماتے ہیں کہ فرشتوں کا عبادت کرنا بھی بالکل اسی طرح ہے۔ وہ انسان کے سانس لینے اور آنکھ جھپکنے کی طرح بلا تکلف اللہ کی عبادت ، اس کی تسبیح وتحمید بھی ادا کرتے رہتے ہیں اور اپنی دیگر ڈیوٹی بھی دیتے رہتے ہیں۔ فرشتوں کی توجہ ہر وقت ذات خداوندی کی طرف لگی رہتی ہے اور وہ باقی فرائض بھی انجام دیتے رہتے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے تو ان کی زبان سے خدا تعالیٰ کی تسبیح وتحمید اسی طرح بےاختیار جاری ہوجائیگی۔ جس طرح اس دنیا میں کوئی انسان یا حیوان بغیر اختیار و ارادہ کے سانس لیتا ہے جس طرح سانس لینا باقی اشغال کے مانع نہیں اسی طرح فرشتوں کا عبادت کرنا بھی ان کے دیگر فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ شرک کی تردید : اب اگلی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا اثبات اور شرک کی تردید بیان فرمائی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ام التخذوا الھۃ من الارض کیا ان کفار ومشرکین نے زمین سے معبود بنالیے ہیں ؟ ھم ینشرون کیا وہ انسانوں کو ان کی موت کے بعد دوبارہ زندہ کرسکیں گے ؟ ظاہر ہے کہ دوبارہ زندہ کرنے کا اختیار تو اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں دیا۔ اور جو دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا۔ وہ معبود بھی نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا زمین کی کسی چیز کو معبود بنانا نہایت ہی حماقت کی بات ہے۔ مشرک لوگ زمینی مخلوق میں سے پتھروں اور پہاڑوں کو معبود بنالیتے ہیں۔ پتھروں سے تراشے ہوئے بت تو نزول قرآن کے زمانہ میں عام تھے ، یہاں ہندوستان کے مشرک بندھیا چل یا بعض دوسرے پہاڑوں کو بھی الٰہ مانتے ہیں اور ان کی ایسی تعظیم کرتے ہیں جیسی معبود برحق کی کرنی چاہیے۔ بعض گنگا ، جمنا جیسے دریائوں کی پوجا کرتے ہیں۔ سانپ کی پوجا کرنے والے ناگ پنچھمی بھی موجود ہیں۔ بعض لوگ شمس وقمر اور بعض پانی کی پرستش کرتے ہیں۔ بعض آگ کے پچاری ہیں اور بعض ہوا کے ، بندروں کی پوجا کرنے والے ہنومات کو مقدس سمجھتے ہیں۔ گائے ، بلی اور درختوں کے پجاری بھی برصغیر میں ملتے ہیں۔ الغرض ! فرمایا کہ ان لوگوں نے زمینی چیزوں کو معبود بنا رکھا ہے۔ ان کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھا جاتا ہے۔ بعض فرشتوں جیسی آسمانی مخلوق کو بھی الٰہ مانتے ہیں۔ بعض جنات کے پجاری ہیں۔ کراچی اور بعض دوسری جگہوں پر سورج پرست پائے جاتے ہیں جو ساحل سمندر پر کھڑے ہو کر طلوع شمس کے وقت اس کی تعظیم کرتے ہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ کیا انہوں نے زمین کی مخلوق کو معبود بنارکھا ہے ؟ کیا یہ معبود قیامت کے دن انہیں زندہ کریں گے ؟ نہیں ، یہ ان کے بس کی بات نہیں ان میں سے بعض تو مٹی اور پتھر کی بےجان چیزیں ہیں ، اور جو جاندار بھی ہیں۔ ان کو کچھ اختیار حاصل نہیں۔ لہٰذا وہ کسی کو مرنے کے بعد زندہ نہیں کرسکتے قدرت تامہ کا مالک صرف خدا تعالیٰ ہے۔ رد شرک پر دلیل : اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے رد شرک پر ایک دلیل قائم کی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے لو کان فیھما الھۃ الا اللہ لفسدتا اگر زمین وآسمان میں اللہ کے علاوہ کوئی دوسرے معبود بھی ہوتے تو کائنات کا نظام یکسر بگڑ جاتا۔ زمین وآسمان اپنی موجودہ حالت پر قائم نہ رہتے۔ متکلمین اور علم اصول والے اس دلیل کی دلیل تمانع کے ساتھ موسوم کرتے ہیں۔ جس کی بنیاد تزاحم اور تضاد پر ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر ایک سے زیادہ معبود ہوں گے تو ہر معبود مختلف امور کا ارادہ کرے گا۔ ایسی صورت میں اگر یہ ارادے پورے ہوجائیں تو ان میں تضاد ہوگا۔ مثلا کے طور پر ایک معبود کسی چیز کو پیدا کرتا ہے اور دوسرا اس کو فنا کرتا ہے تو ظاہر ہے کہ سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ اور اگر فرض کرلو کہ دونوں معبود آپس میں کسی امر پر اتفاق کرلیتے ہیں تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دونوں کی قوت برابر سرابر ہے یا کم وبیش۔ اگر برابر ہے تو اتفاق مشکل ہے اور اگر کم وبیش ہے تو پھر کمزور معبود عاجز ہوگا اور الٰہ بننے کے قابل نہیں ہوگا۔ بالآخر ماننا پڑے گا کہ الٰہ صرف ایک ہے جو خالق ، مدبر ، ہتصرف اور سب سے زیادہ طاقتور ہے۔ قدرت کا موجودہ نظام پورے قرینے اور نظم کے ساتھ قیامت تک چلتا رہے گا جو کہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ ارض وسما میں کئی معبود ہوتے تو ان کا آپس میں تصادم (clash) ہوجاتا اور کائنات کا نظام نہ چل سکتا۔ ویسے بھی دنیا کا دستور ہے کہ ایک سلطنت میں دو بادشاہ نہیں سما سکتے۔ شیخ سعدی (رح) کا مقولہ تو زبان زد عام ہے کہ ” دس درویش ایک گودڑی میں تو سما سکتے ہیں لیکن دو بادشاہ ایک ملک میں اکٹھے نہیں ہوسکتے “ اللہ نے دوسرے مقام پر فرمایا اذالا……………سبیلا (بنی اسرائیل 42) اگر اللہ کے سوا دوسرے معبود بھی ہوتے تو وہ عرش والے کی طرف مقابلہ کرنے کے لئے جاتے اور اس طرح بڑا فساد برپا ہوتا۔ مشہور ہے کہ عبدالملک ابن مروان نے اپنے ایک حریف کو قتل کردیا کیونکہ وہ بھی حکومت کرنے کا خواہشمند تھا۔ قتل کرنے کے بعد کہنے لگا کہ مقتول مجھے بڑا ہی عزیز تھا لیکن مشکل یہ ہے کہ دوسانڈھ تو ایک خشک اونٹنی پر اکٹھے نہیں ہوسکتے ، بھلا ہم ایک سلطنت میں کیسا اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے یہ دلیل بیان فرمائی ہے کہ دیکھو ! اگر اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی دوسرا معبودبھی ہوتا تو ارض وسما کا سارا نظام بگڑ جاتا۔ چونکہ یہ نظام احسن طریقے سے چل رہا ہے لہٰذا ثابت ہوا کہ معبود برحق بھی ایک ہی ہے۔ حضرت شیخ الاسلام شبیر احمد عثمانی (رح) (تفسیر عثمانی ص 419 (فیاض) اس مسئلہ کی تقریر اس طرح کرتے ہیں کہ عبادت نام ہے کامل درجے کے تذلل اور انتہائی درجے کی عاجزی کا۔ یہ دونوں چیزیں صرف اسی ذات کے سامنے اختیار کی جاسکتی ہیں جو اپنی ذات اور صفات میں ہر طرح سے کامل ہو اور اختیار رکھتا ہو۔ اس ذات کو ہم اللہ یا خدا کہتے ہیں۔ یہ ایسی ذات ہے جو نہ عاجز ہے ، نہ کمزور اور نہ مغلوب۔ وہ کسی کام کے لئے کسی دوسری ہستی سے مدد نہیں لیتا ، بلکہ سب کچھ اپنی مرضی اور ارادے سے کرتا ہے ۔ اس کے ارادے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ اگر زمین میں ایک کی بجائے دو خدا ہوتے تو ظاہر ہے کہ دونوں بےعیب اور یکساں شان کے مالک ہوں گے۔ اگر پورے عالم بالا اور زیریں کی تخلیق وتدبیر میں دونوں متفق ہوجاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اکیلے خدا سے کام نہیں چل سکتا۔ لہٰذا دونوں نے مل کر اس کارخانہ قدرت کو بنایا اور چلایا۔ اگر ایسا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دونوں خدائوں میں سے کوئی بھی کامل نہیں کیونکہ انہیں ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت ہے۔ ایسی صورت میں دونوں میں سے کوئی بھی الوہیت کے قابل نہیں۔ اور اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ دونوں میں سے کوئی ایک بھی سارے کام انجام دے سکتا ہے تو پھر دوسرا خدا یقینا بیکار ہوگا ، پھر اس کی کیا ضرورت رہ گئی ، لہٰذا ایسا بیکار محض خدا نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح اگر دو مساوی خدائوں میں کشمکش شروع ہوجائے تو ایک غالب ہوگا اور دوسرا مغلوب۔ تو اس حالت میں الوہیت کے لائق وہی ہوگا جو غالب آئے گا ، اور اس طرح بھی ایک ہی خدا ماننا پڑے گا۔ اگر دو خدائوں کی آپس میں زور آزمائی کی نوبت آجائے تو جنگ وجدال میں ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی اور ارض وسما کا نظام قائم نہیں رہ سکے گا۔ چونکہ نظام کائنات مستحکم طریقے سے چل رہا ہے اس لئے معلوم ہوا کہ اس نظام کو چلانے والا وحدہ لاشریک ہے۔ وہ ہر لح اس سے کامل اور ہر عیب اور نقص سے پاک ہے۔ وہ علیم کل اور قادر مطلق ہے ، وہ خالق مدبر اور متصرف ہے ، اس کے ارادے میں کوئی چیز مزاحم نہیں ہوسکتی۔ آگے ارشاد ہتا ہے فسبحن اللہ رب العرش عما یصفون پس پاک ہے اللہ تعالیٰ جو عرش عظیم کا مالک ہے ان چیزوں سے جو لوگ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ کسی نے مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہہ دیا اور کسی نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دے دیا۔ یہ سب باتیں غلط ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسی چیزوں سے پاک ہے۔ وہ مختار مطلق ہے لا یسئل عما یعفل وہ جو چاہے کرے ، اس سے کوئی باز پرس نہیں کرسکتا وھم یسئلون بلکہ خود ان لوگوں سے پوچھا جائے گا کہ تم نے فلاں کام کیوں کیا ، اور فلاں کیوں نہ کیا ؟ تفویض اختیارات کی نفی : شرک کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ خدا تعالیٰ کو حاکم اعلیٰ مان کر اس کے ماتحت چھوٹے خدائوں کو بھی تسلیم کیا جائے اور یہ عقیدہ رکھا جائے کہ بڑے خدا نے اپنے ماتحتوں کو بعض اختیارات تفویض کر رکھے ہیں۔ اگلی آیت میں اس بات کا رد ہے۔ فرمایا ام اتخذوا من دونہ الھۃ کیا انہوں نے بنا رکھے ہیں اللہ کے ورے (ماتحت) معبود ؟ ظاہر ہے ، کہ خدا تعالیٰ کے مقابلہ کا تو کوئی نہیں ہے مگر اس نے اپنے کچھ کار ساز بنارکھے ہیں اور انہیں اختیار دے دیا ہے کہ فلاں کام تم انجام دے لیا کرو۔ گویا ایسے معبود خدا تعالیٰ کے عطاکردہ اختیارات سے لوگوں کو نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو کوئی اختیار نہیں دیا کہ وہ دوسروں کی مشکل کشائی اور حاجت روائی کرتا پھرے ، ہر چیز کا مدبر تو وہ خود ہے یدبر الامر من السماء الی ارض (آلم سجدہ 5) بلندیوں سے پستیوں تک ہر چیز کا تدبیر کنندہ وہ آپ ہے۔ اسے کائنات کی نگرانی میں کوئی دقت پیش نہیں آتی۔ پھر وہ دوسروں کو اختیار کیوں دیگا۔ اس قسم کا اعتقاد پرانے مشرکین میں ضرور پایا جاتا تھا۔ حج کے موقعہ پر جب وہ تلبیہ پکارتے تھے تو کہتے تھے۔ لبیک لا شریک لک اے اللہ ! میں حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں الا شریکا ھولک تملکہ وما ملک البتہ تیرے وہ شریک ضرور ہیں جن کا تو خود مالک ہے اور ان چیزوں کا بھی مالک ہے جن کا اختیار تو نے انہیں دے رکھا ہے۔ گویا مشرکین لات ، منات وغیرہ کو خدا تعالیٰ کا شریک اس لحاظ سے سمجھتے تھے کہ اس نے انہیں بعض اختیارات دے رکھے ہیں اور وہ بھی حاجت روائی اور مشکل کشائی کرتے ہیں۔ فرمایا۔ تم نے جو شریک بنارکھے ہیں۔ ان کا کیا ثبوت ہے قل اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں ھاتوا برھانکم اگر تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو اسے پیش کرو۔ کوئی کتاب ، کوئی صحیفہ لائو جس میں لکھا ہو کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں فلاں ہستی کو فلاں فلاں اختیارات تفویض کردیے ہیں اپنے دعویٰ کی تائید میں کوئی عقلی دلیل لائو یا کوئی نقلی دلیل لائو ، تاکہ پتہ چلے کہ تم کس حد تک سچے ہو ، مگر قیامت تک ایسی کوئی دلیل پیش نہیں کی جاسکے گی۔ معبودواحد پر اتفاق : آگے قرآن پاک کی صداقت کا تذکرہ ہے ھذا ذکر من معی اس قرآن پاک میں میرے ساتھ والے لوگوں کا ذکر ہے وذکر من قبلی اور ان لوگوں کا بھی ذکر ہے جو مجھ سے پہلے گزرے ہیں چناچہ اگلے اور پچھلے سب اس بات پر متفق ہیں کہ معبود برحق صرف ایک ہی ہے نہ اس کا مدمقابل کوئی شریک ہے اور نہ اس کے ورے کوئی شر کی ہے کہ جس کو اس نے اختیار دے رکھا ہو۔ یہ سب جھوٹے دعویٰ ہیں۔ تمام آسمانی کتابیں ، صحیفے اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں بل اکثرھم لا یعلمون ، الحق مگر لوگ حق کو نہیں جانتے ۔ انہیں اس حقیقت کا علم نہیں فھم معروضون اور وہ اعراض کرتے ہیں۔ مشرکین مکہ جہالت کی بناء پر دھاندلی کرتے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے قرآن پاک کو مسترد کردیا۔ وہ اپنے عقلی ڈھکونسلے چلاتے تھے اور بیہودہ باتیں کرتے تھے۔ اکثر لوگ حق سے اعراض کرتے تھے۔ بہرحال تمام کتب سماویہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر متفق ہیں۔ اس کے بعد اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کا ذکر کیا ہے۔
Ayahs 21:25–29

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:25 in the Quran reader

اور نہیں بھیجا ہم نے اس سے پہلے کوئی رسول مگر یہ کہ ہم وحی کرتے تھے اس کی طرف کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر میں۔ پس میری ہی عبادت کرو

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 21:26 in the Quran reader

اور کہا ان لوگوں نے کہ بنالیا ہے خدائے رحمان نے بیٹا۔ پاک ہے اس کی ذات ۔ بلکہ وہ تو بندے ہیں باعزت

لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ Open ayah 21:27 in the Quran reader

وہ نہیں جلدی کرتے اس کے سامنے بات میں ، اور وہ اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:28 in the Quran reader

وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے ، اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور وہ نہیں سفارش کرتے مگر اس کے حق میں جس کو وہ (اللہ تعالیٰ ) پسند کرتا ہے ، اور وہ اس کے خوف سے ڈرنے والے ہیں

وَ مَنْ یَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّیْۤ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِیْهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 21:29 in the Quran reader

اور جو شخص کہے ان میں سے کہ میں الٰہ ہوں ، اس کے سوا ، پس ایسے شخص کو ہم بدلہ دیں گے جہنم کا۔ اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ظالم کرنے والوں کو

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کا رد فرمایا جنہوں نے زمین کو مختلف چیزوں کو معبود تسلیم کرلیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ارض وسما میں اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا معبود ہوتا تو سارانظام کائنات بگڑ جاتا چونکہ کائنات کا نظام بالکل ٹھیک چل رہا ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ پورے نظام کو کنٹرول کرنے والا صرف ایک ہی خدا ہے اور اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ کی ذات ان تمام لغویات سے پاک ہے جن کو وہ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قادر مطلق اور مختار مطلق ہے ، لہٰذا اس سے کسی بات میں باز پرس نہیں ہوسکتی بلکہ وہ ساری مخلوق کے محاسبے کا حق رکھتا ہے۔ پھر فرمایا کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ورے معبود بنارکھے ہیں ، وہ اس پر کوئی عقلی یا نقلی دلیل لائیں۔ تمام کتب سماویہ اور صحائف اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، اور یہی پیغام اللہ کے تمام انبیائے کرام نے اپنی اپنی امتوں کو پہنچایا۔ درس توحید : آج کی آیات میں بھی توحید ہی کا درس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے وما ارسلنا من قبلک من رسول ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا الا نوحی الیہ مگر اس کی طرف یہی وحی کی گئی انہ لا الہ الا انا کہ بیشک میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ فاعبدون لہٰذا عبادت بھی صرف میری ہی کرو۔ اسی بات کو اللہ نے سورة آل عمران میں اس طرح بیان فرمایا ہے وما من الہ الا اللہ (آیت 62) اور نہیں ہے کوئی معبود مگر صرف اللہ۔ معبود برحق وہی ہوسکتا ہے۔ جو علیم کل ، قادر مطلق اور نافع وضار ہو۔ وہ خالق اور مالک ہے ، وہ رب العلمین ہے۔ اس نے رسولوں کو بھیجا ، کتابیں نازل فرمائیں ، انسان کو عقل ، فہم اور شعور دیا اور اس طرح انسان کی ہدایت کے تمام سامان مہیا کردیے۔ انبیاء کے علاوہ معلم اور منذر آئے جو لوگوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرسکیں۔ ان تمام ذرائع ہدایت کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے سوا عبادت کے لائق کوئی ہستی نہیں کیونکہ اللہ کی صفات اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسری ذات میں نہیں پائی جاتیں۔ الوہیت کے لئے ضروری ہے کہ وہ خالق ہو مگر صفت خلق بھی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے۔ سورة فاطر میں اللہ نے استفساریہ انداز میں فرمایا ہے ھل من………… …والارض (فاطر 3) کیا اللہ کے سوا کوئی دوسرا بھی خالق ہے جو تمہیں ارض وسما سے روزی پہنچاتا ہے ؟ جب اس کا جواب نفی میں ہے تو پھر الٰہ بھی وہی ہوسکتا ہے جو خالق ہے۔ مخلوق میں سے خواہ فرشتے ہوں یا جنات ، انسان ہوں یا حیوان یا چرند اور پرند کوئی بھی الوہیت کے قابل نہیں۔ اسی طرح الٰہ وہ ذات ہوسکتی ہے جو الحی القیوم ہو۔ یعنی وہ خود بھی زندہ ہو اور دوسروں کو بھی زندگی بخشتا ہو جو خود بھی قائم ہو اور دوسروں کو قائم رکھتا ہو۔ ان صفات کی حاصل صرف ذات خداوندی ہے ، لہٰذا عبادت کے لائق بھی وہی ہے لا الہ………القیوم (آل عمران 2) اسی لئے فرمایا کہ ہم نے نہیں بھیجا تجھ سے پہلے کوئی رسول مگر ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ میرے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں ، لہٰذا میری ہی عبادت کرو۔ میرے سوا نہ کوئی مشکل کشا ہے نہ حاجت روا ، نہ علیم کل اور نہ قادرمطلق۔ آگے اللہ تعالیٰ نے عقیدہ ابنیت کا رد فرمایا ہے وقالوا اتخذ الرحمن ولدا سبحنہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ خدائے رحمن نے بیٹا بنا لیا ہے ، حالانکہ وہ تو اولاد سے پاک ہے۔ خدا تعالیٰ کے لئے اولاد کا عقید رکھنے والے مشرکین عرب میں سے بھی تھے۔ قبیلہ بنو خزاعہ میں اس عقیدے کی نشاندہی ہوتی ہے۔ بعض فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے جیسا کہ دوسری سورتوں میں اس کا ذکر موجود ہے۔ بعض ایسے ظالم بھی تھے جو اسے حقیقی معافی پر محمول کرتے تھے۔ جیسے فرمایا وجعلوا بینہ ……نسبا (الصفت 158) انہوں نے خدا تعالیٰ اور جنات کے درمیان رشتہ ناطہ قائم کرلیا تھا جس کے نتیجے میں وہ فرشتوں کو خدا تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اللہ نے فرمایا افاصفکم…………… …اناثا (بنی اسرائیل 40) ظالمو ! کیا تمہارے لئے تمہارے رب نے بیٹے پسند کیے اور اپنے لئے فرشتوں کو بیٹیاں تجویز کیا۔ یہ کتنی بیہودہ بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے لئے پسند نہیں کرتے وہ خدا کے لئے تجویز کرتے ہو۔ ادھر یہودیوں اور عیسائیوں کا عقیدہ بھی اللہ نے بیان کیا۔ وقالت…………ابن اللہ (التوبہ 30) یہودیوں نے کہا کہ عزیر (علیہ السلام) اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ نے کہا مسیح (علیہ السلام) اللہ کا بیٹا ہے اس وقت یہودیوں کی کل آبادی دو کروڑ کے لگ بھگ ہے مگر ان میں سے ایک قلیل فرقہ ابنیت کا قائل ہے۔ مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) کے ایک خادم امیر شاہ خاں آج سے کوئی سو سوا سو سال پہلے شام و فلسطین کی سیاحت پر گئے تو انہوں (تفسیر عثمانی ص 420 (فیاض) نے وہاں کے لوگوں سے پوچھا کہ وہ کون سے لوگ ہیں جو عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا تسلیم کرتے ہیں ، تو انہوں نے کہا یہاں شہر میں تو ایسا کوئی آدمی نہیں البتہ بعض دیہات میں ایسے لوگ مل جاتے ہیں۔ چناچہ ایک گائوں میں چند آدمی اس عقیدہ کے نکل آئے۔ یہ بات امیر شاہ خاں (رح) نے مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) کے سامنے بیان کی تھی۔ عیسائیوں میں عقیدہ ابنیت دو ظرح سے پایا جاتا ہے۔ اکثر لوگ مسیح (علیہ السلام) کو مجازی معنوں میں خدا کا بیٹا مانتے ہیں یعنی یہ کہ آپ اللہ کے مقرب اور پیارے ہیں۔ جیسا کسی کا بیٹا کسی کو محبوب ہوتا ہے اور کہتے ہیں کہ اللہ نے اپنے پیارے کو اختیار دے رکھا ہے کہ وہ لوگوں کی مشکل کشائی اور حاجت روائی کرے۔ اللہ نے اس کا بھی رد فرمایا ہے کہ اس نے مخلوق میں سے کسی کو کوئی اختیار دے رکھا ہے۔ عیسائیوں میں ایک قلیل تعداد ایسی بھی ہے جو مسیح (علیہ السلام) کو خدا تعالیٰ کا حقیقی بیٹا تسلیم کرتی ہے ، چناچہ وہ حضرت مریم کو مادر خدا کہتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کی حقیقی اولاد مانی جائے تو خدا تعالیٰ حادث ثابت ہوتا ہے نہ کہ ازلی اور ابدی ۔ اس لحاظ سے وہ عیبناک اور محتاج بھی ہوگا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ الصمد (الاخلاص 2) وہ بےنیاز ہے۔ ھوالغنی (یونس 68) وہ غنی ہے نہ کہ محتاج۔ انسان اس لئے بیٹے کی خواہش رکھتا ہے کہ اس کی نسل قائم رہے اور وہ اسے بڑھاپے میں مددگار ثابت ہو۔ مگر اللہ تعالیٰ کو تو نہ بقائے نسل کی ضرورت ہے اور کسی سہارے کی وہ ازلی ابدی ہے ہمیشہ سے قائم ہے اور ہمیشہ قائم رہے گا۔ وہ قادر مطلق ، علیم کل اور متصرف فی الامور ہے اسے کسی سہارے اور مدد کی بھی ضرورت نہیں سہارے کی تلاش تو اس کی صمدیت کے خلاف ہے بلکہ تمام مخلوق اس کی محتاج ہے۔ فرشتوں کی فرمانبرداری : فرمایا ، یہ لوگ فرشتوں کو خدا کی اولاد سمجھتے ہیں ، حالانکہ بل عباد مکرمون وہ تو اس کے عزت والے بندے ہیں ، مقرب اور معصوم ہیں۔ گزشتہ آیات میں گز ر چکا ہے کہ اس کے فرشتے ہر وقت اس کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں اور تھکاوٹ بھی محسوس نہیں کرتے ان کے لئے بندہ ہونا ہی باعث شرف ہے ، نہ وہ خود الٰہ ہیں اور نہ خدا کی اولاد ان کی فرمانبرداری کا یہ عالم ہے لا یسبقونہ بالقول وہ بات میں سبقت نہیں کرتے یعنی اللہ کے حکم کے بغیر بات بھی نہیں کرتے وھم بامرہ یعملون اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں ہمہ تن مستعد رہتے ہیں۔ جو حکم ہوتا ہے ، فوراً تعمیل کرتے ہیں۔ گنہگاروں کے حق میں سفارش : فرمایا یعلم مابین ایدیھم وما خلفھم اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ وہ ان کی پیدائش سے لے کر اگلے پچھلے تمام حالات سے واقف ہے فرمایا یہ ایسے بزرگ فرشتے ہیں ولا یشفعون الا لمن ارتضی وہ تو کسی کی سفارش بھی نہیں کرتے سوائے اس کے کہ جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کے بغیر فرشتے بھی کسی کی سفارش نہیں کرتے حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے نبی ، فرشتے اور ایمان والے بھی گنہگاروں کے حق میں سفارش کریں گے۔ ایک حدیث میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ حضور نے فرمایا کہ میری سفارش میری امت کے حق میں کبیرہ گناہوں کے بارے میں ہوگی۔ صغیرے گناہ تو اللہ تعالیٰ ویسے ہی معاف کردیتا ہے یا انسان کی نیکیوں کے ذریعے معاف ہوجاتے ہیں ، لہٰذا سفارش کبائر کے متعلق ہوگی ، البتہ کفر اور شرک کے بارے میں کوئی سفارش قابل قبول نہیں ہوگی۔ کیونکہ اللہ ایسے لوگوں کے حق میں راضی ہوگا جن کا عقیدہ پاک ہوگا۔ حضور نے فرمایا ، میری سفارش ان کے حق میں ہوگی لمن لا یشرک باللہ جنہوں نے شرک نہیں کیا ہوگا۔ پچھلی سورة میں بھی گزر چکا ہے کہ سفارش اس شخص کے حق میں ہوگی من اذن………………قولا (طٰہ 109) جس کے لئے خداء رحمان اجازت دے گا اور جس کی بات بھی اللہ کو پسند ہوگی۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بات اس شخص کی پسند ہوگی جو توحید والا ہوگا ، اللہ کا فرمان ہے ولا یرضی لعبادہ ……………لکم (الزمر 7) اللہ تعالیٰ کفر کرنے والوں سے راضی نہیں ہوتا بلکہ اگر شکر کرو گے تو وہ راضی ہوگا۔ اللہ اگرچہ کفر کرنے کی توفیق دے دیتا ہے مگر اس کو پسند نہیں کرتا۔ ارتضی اس کے حق میں ہوگا۔ جس کا اعتقاد صحیح ہوگا۔ خوف خدا : فرمایا وھم من خشیتہ مشفقون فرشتے اللہ کے خوف سے ہر وقت ڈرتے رہتے ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک موقع پر حضور ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا کہ زمین پر ٹاٹ کی طرح نہایت عاجزی کے ساتھ پڑا ہوا ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ فرشتے تو اللہ تعالیٰ کے سامنے انکساری کرنے والے اور ڈرنے والے ہیں۔ جس کو خدا کا جتنا قرب حاصل ہوگا ، وہ اس کے جلال و عظمت سے اتنا ہی زیادہ ڈرتا ہوگا۔ حاملین ، عرش فرشتے ، حافین حول العرش فرشتے ، علیین کے فرشتے اور انبیاء (علیہم السلام) اسی لئے اللہ کا زیادہ خوف رکھتے ہیں کہ وہ مقام قرب میں ہوتے ہیں۔ انہیں خدا تعالیٰ کی شان اور عظمت کا علم ہوتا ہے۔ الوہیت کا دعویٰ : ارشاد ہوتا ہے ومن یقل منھم انی الہ من دونہ ان میں سے جو یہ کہے کہ میں خدا کے درے الٰہ ہوں فرشتہ ہو نبی ہو یا کوئی مقرب ہو ، جو بھی الوہیت کا دعویٰ کرے گا فذلک نجزیہ جھنم ہم اس کہ جہنم میں ڈالیں گے۔ اگرچہ مقربین الٰہی سے الوہیت کا دعویٰ محال ہے مگر پھر بھی اگر کوئی ایسا دعویٰ کرے گا۔ تو وہ جہنم رسید ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہی قانون ہے کذلک نجزی الظلمین فرمایا ہم ظالموں مکو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں اور ظالم کون ہیں ؟ فرمایا والکفرون ھم الظلمون (البقرہ 254) کافر ہی ظالم ہیں۔ نیز فرمایا ان الشرک لظم عظیم (لقمن 13) شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں اور دیگر مقربین کی برات کا ذکر کیا ہے کہ وہ تو صرف خدا تعالیٰ کی الوہیت کے قائل ہیں اور اسی کی عبادت کرتے ہیں اسی کو اپنا ولی اور کار ساز سمجھتے ہیں اور خود الوہیت کا دعویٰ نہیں کرتے۔
Ayahs 21:30–32

اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ١ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:30 in the Quran reader

کیا نہیں غور کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے کہ بیشک آسمان اور زمین بند تھے ، پس ہم نے ان کو کھول دیا۔ اور بخشی ہم نے پانی سے ہر چیزکو حیات۔ کیا یہ یقین نہیں رکھتے

وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ١۪ وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 21:31 in the Quran reader

اور بنائے ہم نے زمین میں بوجھل پہاڑ تاکہ وہ ان کے ساتھ مضطرب نہ ہو۔ اور بنائے ہم نے اس (زمین) میں کشادہ راستے تاکہ یہ لوگ راہ پائیں

وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا١ۖۚ وَّ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 21:32 in the Quran reader

اور بنایا ہم نے آسمان کو ایک چھت محفوظ ۔ اور یہ لوگ اس کی آیتوں سے اعراض کرنے والے ہیں

ربط آیات : ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کا ذکر کیا۔ پھر شرک کرنیوالوں کی تردید فرمائی اور توحید کے دلائل بیان کیے۔ انبیاء کے متعلق فرمایا کہ وہ سب اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے بیان کرنے پر متفق تھے۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے وحدانیت کے حق میں بعض دلائل کی طرف اشارہ فرمایا ہے ، اور کفر کرنے والوں کا رد کیا ہے ۔ فرمایا ہے کہ اگر لوگ ان دلائل میں غوروفکر کریں تو اللہ کی وحدانیت آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے مگر یہ لوگ ایسا نہیں کرتے۔ رئویت کا مفہوم : ارشاد ہوتا ہے اولم یرالذین۔۔۔۔۔ کیا نہیں دیکھا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا۔ یہاں پر رئویت کا معنی غور وفکر کرنا اور جاننا ہے۔ یعنی کیا ان لوگوں نے اس بات میں غور وفکر نہیں کیا ؟ یا یہ کہ ان لوگوں کو معلوم نہیں ہوا ؟ رئویت آنکھ سے بھی ہوتی ہے اور دل سے بھی ۔ آنکھ کی رئویت یعنی بصارت دیکھنے کے معنی میں آتی ہے جب کہ دل کی رئویت یعنی بصیرت جاننے کے معنوں میں استعمال ہوتی ہے۔ ان اصطلاحات کا ذکر قرآن پاک میں کثرت سے ہوا ہے۔ جیسے سورة البقرہ میں ہے الم ترالی……………دیارھم (آیت 243) کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کو جو اپنے گھروں سے نکلے تھے۔ اس آیت کریمہ میں حضور ﷺ کی توجہ ہزاروں سال پہلے پیش آنے والے واقعہ کی طرف مبذول کرائی گئی ہے جب کہ کسی پہلی امت کے لوگ موت کے ڈر سے ہزاروں کی تعداد میں گھروں سے نکل کھڑے ہوئے۔ مگر وہ موت کو ٹال نہ سکے اور اللہ نے انہیں راستے میں ہی موت سے ہمکنار کردیا اور پھر عجیب و غریب طریقہ سے دوبارہ زندگی نصیب ہوئی۔ ظاہر ہے کہ اس وقت حضور ﷺ تو اس دنیا میں موجود نہیں تھے جب یہ واقعہ پیش آیا ، لہٰذا اس رئویت سے مراد رئویت قلبی اور جاننے کے معنوں میں آئی ہے۔ یعنی آپ نے نہیں جانا کہ لوگ اپنے گھروں سے نکل پڑے۔ اسی طرح کی دوسری مثال سورة بقرہ ہی کی آیت 258 میں ہے الم ترالی…………فی ربہ کیا آپ نے نہیں دیکھا یعنی نہیں معلوم کیا اس شخص کو جس نے ابراہیم علیہالسلام سے آپ کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا اسی طرح سورة الفیل میں فرمایا الم ترکیف…………الفیل (1) کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یہ واقعہ بھی حضور ﷺ کی پیدائش سے پہلے کا ہے لہٰذا یہاں بھی رئویت سے بصارت مراد نہیں بلکہ جاننا یا معلوم کرنا مراد ہے کہ ہم نے علم کے ذریعے آپ کو بتلا دیا ہے کہ فلاں فلاں واقعہ اس طرح پیش آیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو مزید وضاحت سورة یوسف میں فرمادی۔ سارا واقعہ بیان کرنے کے بعد فرمایا ذلک من……… …لدیھم (آیت 102) یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں ، کیونکہ آپ خود تو ان کے پاس اس وقت نہیں تھے۔ گویا یہ بات آپ کو بذریعہ علم معلوم ہوئی۔ بعض لوگ ایسی ہی آیات سے حضور ﷺ کو حاضر وناظر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا ، کیا آپ نے دیکھا ؟ اس کا مطلب ہے کہ آپ وہاں موجود تھے ، جبھی تو دیکھا ، مگر اللہ نے سورة یوسف کی مذکورہ آیت اور اس قسم کی بعض دوسری آیات میں اس مسئلہ کو حل فرمادیا ہے کہ ایسے واقعات آپ (علیہ السلام) نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کا علم آپ کو بذریعہ وحی عطا کیا تھا۔ فرمایا کیا ان لوگوں کو اس بات کا علم نہیں ؟ اگر معلوم نہیں تو اب ہوجائے گا ان السموت ولارض کانتا وتقا ففتقنھما کہ بیشک آسمان اور زمین دونوں بند تھے پھر ہم نے دونوں کو کسول دیا۔ یہاں پر رتق اور فتق کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ یہ دونوں مصدر ہیں اور مفعول کے معنوں میں استعمال ہوئے ہیں۔ یعنی پہلے آسمان اور زمین مرتوق یعنی بند تھے ، پھر مفتوح یعنی کھل گئے ، آسمان و زمین کی بندش اور کشادگی کے متعلق مفسرین کرام دو طرح سے تفسیر بیان کرتے ہیں۔ رائیس المفسرین حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آسمانوں کی بندش کا مطلب یہ ہے کہ آسمان سے بارش کا نزول رک گیا تھا اور زمین کی بندش یہ ہے کہ زمین سے روئیدگی ختم ہوچکی تھی۔ نہ بارش ہوتی تھی اور نہ سبزہ پھل اور اناج پیدا ہوتے تھے۔ خشک سالی کی وجہ سی زمین کے چشمے بھی خشک ہوچکے تھے۔ ایسی صورت میں اگر نہریں بھی نہ ہوں ، اور کنوئیں کا پانی بھی خشک ہوجائے تو سخت مشکل پیش آتی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ خروج دجال کے زمانے میں بڑے قحط پڑیں گے۔ آسمان و زمین بند ہوجائیں گے اور سخت قسم کی خشک سالی ہوگی۔ اور فتق یعنی کھولنے سے مراد یہ ہے کہ پہلے تو آسمان اور زمین بند تھے پھر ہم نے ان کو کھول دیا یعنی آسمان سے بارش برسنے لگی اور زمین سے پھل ، غلہ اور سبزہ اگنے لگا۔ فرمایا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ ایک حالت کو کس طریقے سے دوسری حالت میں بدل دیتا ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل ہے جس کا لوگ ہر روز مشاہدہ کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ آسمان کی طرف سے بارش برسانا اور زمین سے چارہ ، سبزیاں اور غلہ اگانا اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت کاملہ کا شاہکار ہے۔ لہٰذا لوگوں کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لے آئیں ، مگر ان کافروں پر اس مشاہدہ قدرت کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ بعض دوسرے مفسرین کرام رتق اور رفتق کو دوسرے معانی پر محمول کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ رتق کا معنی اتصال ہوتا ہے۔ یعنی پہلے ارض وسماء آپس میں ملے ہوئے تھے ۔ تخلیق سے پہلے ان کا مادہ ایک ہی تھا ، پھر ففتقنھما ہم نے ان دونوں کو جدا جدا کردیا۔ گویا فتق کا معنی جدا جدا کردینا ہے۔ بعض دوسری سورتوں میں بھی ہے کہ زمین اور آسمان ابتداء میں ایک تاریک مادے کی شکل میں تھے۔ پھر زمین کو الگ اور آسمان کو الگ کردیا گیا اور ان کے طبقات بنادیئے گئے۔ بہرحال فرمایا کہ کیا کافر لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ قرآن پاک کی اطلاع کے مطابق ارض وسما ملے ہوئے تھے ، پھر اللہ نے ان کو الگ الگ کردیا۔ اور یہ کام صرف اللہ وحدہ لاشریک کا ہی ہوسکتا ہے۔ جب زمین وآسمان کا موجودہ نظام اپنی مدت پوری کرلے گا ، تو اللہ تعالیٰ پھر انہیں گڈمڈ کرکے پورے نظام کو درہم برہم کردیگا ، آسمان زمین اور ان میں موجود تمام آسمانی کرے ٹوٹ پھوٹ جائیں گے اور پورا نظام شمسی ختم ہوجائے گا۔ تو فرمایا کیا ہ کافرلوگ اس بات کو نہیں جانتے یا اس بات پر غور نہیں کرتے کہ ارض وسما پہلے ملے ہوئے تھے ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو علیحدہ علیحدہ کردیا۔ زندگی بخش پانی : پھر فرمایا وجعلنا من الماء کل شیء حی افلا یومنون ہم نے پانی کے ذریعے ہر چیز کو زندگی بخشی۔ ظاہر ہے کہ تمام جانداروں بلکہ نباتات کی زندگی کا انحصار بھی پانی پر ہے۔ پانی کے بغیر نہ کوئی جاندار زیادہ دیر تک زندہ رہ سکتا ہے اور نہ درخت اور کھیتیاں۔ اللہ نے کچھ مخلوق ایسی بھی پیدا کی ہے جو ہمیشہ پانی میں رہتی ہے اور اگر وہ تھوڑی دیر کے لئے بھی پانی سے باہر آجائے تو زندہ نہیں رہ سکتی۔ مچھلیاں ، مینڈک ، مگرمچھ اور کیڑے مکوڑے اللہ کی کتنی ہی مخلوق ہے جو پانی کے اندر ہی پیدا ہوتی ہے ، وہیں زندگی گزارتی ہے اور پھر وہیں مرجاتی ہے۔ اس لئے فرمایا کہ ہم نے پانی کے ذریعے ہر چیز کو زندگی بخشی ، گویا پانی مبداء حیات ہے۔ پانی سے مراد نطفہ بھی ہوسکتا ہے۔ اللہ نے قطرہ آب سے انسان جیسی اشرف المخلوقات ہستی کو پیدا کیا ۔ اگرچہ فرشتوں کو نور سے اور جنات کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے مگر زمین کی اکثر مخلوق بشمول چرند ، پرند ، کیڑے مکوڑے سے اور ہر قسم کے حیوانات کو پانی کے ذریعے ہی حیات نصیب ہوتی ہے۔ ہر جاندار کے مادہ حیات میں پانی کی کثرت ہوتی ہے۔ انسانی زندگی کا انحصار دوران خون پر موقوف ہے اور جدید تحقیق کے مطابق خون میں اسی فیصد پانی اور باقی بیس فیصد دیگر اجزاء ہیں۔ تو اس لحاظ سے بھی کہاجاسکتا ہے کہ انسانی زندگی کا انحصار پانی پر ہے۔ اگر کسی جاندار کے جسم میں پانی کی کمی پیدا ہوجائے تو خون منجمند ہو کر رہ جاتا ہے اور انسان اور جانور ہلاک ہوجاتے ہیں۔ اس لئے فرمایا کہ کیا یہ لوگ غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح جانداروں اور نباتات کو پانی کے ذریعے زندگی بخشی ہے۔ یہ اس کی وحدانیت کی دلیل ہے۔ بوجھل پہاڑ : اللہ تعالیٰ نے یہ احسان بھی جتلایا وجعلنا فی الارض رواسی اور بنائے ہم نے زمین میں بوجھل پہاڑ۔ ان تمیدبھم تاکہ زمین ان کے ساتھ مضطرب نہ ہو۔ زمین کا اضطراب دو طرح سے ہو سکتا ہے۔ ایک یہ کہ زمین جمی رہے اور ڈولنے نہ پائے یعنی اس کا توازن برقرار رہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ سمندروں اور دریائوں میں چلنے والے جہازوں اور کشتیوں پر پتھر وغیرہ ڈال کر ان کو بوجہل بنادیا جاتا ہے تاکہ کشتی یا جہاز پانی کی تندوتیز لہروں میں ڈولنے نہ پائے ، زمین بھی دیگر کروں کی طرح ایک کرہ ہے جو فضا میں تیررہا ہے چونکہ یہ کسی دوسری چیز پر ٹکی ہوئی نہیں ہے اس لئے اس میں اضطراب پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔ تو اس امکان کو ختم کرنے کے لئے الل نے اس پر بڑے بڑے پہاڑوں کی صورت میں بوجھ ڈال دیا ہے ، دنیا میں جتنے بھی بڑے بڑے پہاڑ ہیں وہ اسی مقصد کے لئے اللہ نے پیدا کیے ہیں۔ زمین کے اضطراب کا دوسرا معنی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) یہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم نے زمین میں بوجھل پہاڑ قائم کردیے ہیں تاکہ انسانی حیات میں اضطراب پیدا نہ ہو۔ اللہ نے پہاڑوں میں انسانی ضروریات کی بہت سی چیزیں مثلاً پتھر ، درخت ، چشمے ، اور قسم قسم کی مع دنیات پیدا کی ہیں جو انسان کی روزمرہ زندگی میں کام آتی ہیں۔ اگر پہاڑ نہ ہوتے تو یہ چیزیں بھی نہ ہوتیں اور اس طرح انسانی زندگی مضطرب رہتی۔ کشادہ راستے : فرمایا ا کی تو ہم نے زمین میں پہاڑ پیدا کیے۔ وجعلنا فیھا فجاجا سبلا اور پھر ان میں کشادہ راستے بھی بنائے۔ دنیا میں بڑے بڑے لمبے اور بڑے بڑے سر بفلک پہاڑ موجود ہیں۔ کوہ ہمالیہ کھٹمنڈو سے لے کر ایران تک تین ہزار میل لمبا ہے اور اس کی بلندترین چوٹی مونٹ ایورسٹ دنیا کی بلند ترین چوٹی ہے۔ اگر ایسے دشوار گزار پہاڑوں میں راستے یعنی درے نہ ہوتے تو ایک ملک کے لوگ دوسرے ملک میں نہ جاسکتے اور لوگ ایک ہی جگہ میں مسدود ہو کر رہ جاتے۔ ان دروں کی وجہ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ آنا جانا ممکن ہوا ، باہمی میل جول اور تبادلہ اشیاء کا موقع میسر آیا۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا کہ ہم نے درمیان میں کشادہ راستے بھی بنادیے لعلھم یھتدون تاکہ لوگ راہ پائیں اور آمدورفت کا سلسلہ جاری رہ سکے۔ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی حکمت پر دلالت کرتی ہیں۔ ان میں غوروفکر کرنے سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت آسانی سے مجھ میں آسکتی ہے۔ محفوظ چھت : فرمایا نشانات قدرت میں سے ایک یہ بھی ہے وجعلنا السماء سقا محفوظا ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنا دیا۔ آسمان کو زمین کے اوپر ایک قبے کی شکل میں کھڑا کردیا۔ جس میں کوئی سوراخ نہیں۔ یہ بڑا مضبوط اور بڑا محفوظ ہے۔ اللہ نے سورة بقرہ میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے زمین کو بچھونا بنایا والسماء بناء اور آسمان کو چھت بنایا۔ بنادراصل قبے یا خیمے کے کھڑا کرنے کو کہتے ہیں ، جیسے حضور ﷺ نے فرمایا کہ اسلام کی پانچ بنائیں ہیں جن پر اسلام کی عمارت قائم ہے۔ سورة الشمس میں ہے والسماء وما بنھا قسم ہے آسمان کی اور اس کی بناوٹ کی۔ سورة قٓ میں فرمایا افلم …………………فروج (آیت 6) کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے سروں پر آسمان کو کس کیفیت کا بنایا ہے ، اور اس کو کیسی زینت بخشی ہے اور اس میں کوئی سوراخ تک نہیں ۔ سورة حٰمٓ سجدہ میں ہے وزینا………………وحفظا (آیت 12) ہم نے آسمان کو ستاروں سے زینت بخشی اور اس کو محفوظ رکھا۔ فرمایا ان تمام شواہد کے باوجود وھم عن ایتھا معرضون یہ لوگ اس کی نشانیوں سے اعراض کرنے ولے ہیں یعنی ان میں غوروفکر کرکے اللہ کی وحدانیت کو نہیں پہچانتے۔
Ayahs 21:33–41

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 21:33 in the Quran reader

اور وہی ذات ہے جس نے پیدا کیا ہے رات اور دن کو اور سورج اور چاند کو۔ ہر ایک اپنے اپنے ڈائرے میں تیر رہے ہیں

وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡئِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ Open ayah 21:34 in the Quran reader

اور نہیں تجویز کیا ہم نے آپ سے پہلے کسی انسان کے لئے ہمیشہ زندہ رہنا۔ پس اگر آپ وفات پاجائیں تو کیا یہ لوگ زندہ رہیں گے

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 21:35 in the Quran reader

ہر ایک نفس موت کا ذائقہ چکھنے والا ہے۔ اور ہم مبتلا کرتے ہیں تم کو برائی اور بھلائی کے ساتھ آزمائش کے لئے اور ہماری طرف ہی تم سب لوٹائے جائو گے

وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ یَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 21:36 in the Quran reader

اور جب دیکھتے ہیں تجھ کو وہ لوگ جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا ہے تو نہیں بناتے تجھ کو مگر ٹھٹا کیا ہوا (اور کہتے ہیں) کیا یہی شخص ہے جو ذکر کرتا ہے تمہارے معبودوں کا۔ اور یہ لوگ رحمان کے ذکر کے ساتھ انکار کرنے والے ہیں

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 21:37 in the Quran reader

پیدا کیا گیا ہے انسان جلد باز میں دکھائوں گا تم کو اپنی نشانیاں ، پس جلدی نہ کرو

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 21:38 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہ لوگ کہ کب ہوگا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو

لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 21:39 in the Quran reader

اگر جان لیتے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا جس وقت نہ روک سکیں گے اپنے چہروں سے آگ کو اور نہ اپنی پشتوں سے۔ اور نہ ان کی مدد کی جائے گی

بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 21:40 in the Quran reader

بلکہ (یہ قیامت اور سزا) آئے گی ان کے پاس اچانک پس ان کو حیران کردے گی۔ پس نہ طاقت رکھیں گے اس کہ ہٹانے کی اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 21:41 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق ٹھٹا کیا گیا رسولوں کے ساتھ تجھ سے پہلے ۔ پس گھیر لیا ان کو جنہوں نے ٹھٹا کیا تھا ان میں سے اس چیز نے جس کے ساتھ وہ ٹھٹا کیا کرتے تھے

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کا رد فرمایا دلائل قدرت کا ذکر کیا۔ ان میں سے ایک دلیل یہ تھی کہ آسمان اور زمین ابتداء میں اکٹھے تھے ، بعد میں ان کو الگ الگ کردیا گیا۔ پھر فرمایا کہ زمین پر بوجھل پہاڑ گاڑھ دیئے تاکہ یہ ڈولنے نہ پائے۔ پھر ان پہاڑوں میں کشادہ راستے بنادیے اور آسمان کو ایک محفوظ چھت بنادیا۔ فرمایا کہ لوگ ان نشانیوں کو دیکھ کر توحید خداوندی کے قائل نہیں ہوتے بلکہ ان نشانات قدرت سے اعراض کرتے ہیں۔ اب آج کے درس میں اللہ نے آسمان اور زمین پیدا کیے گئے بعض نشانات قدرت کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وھولاذی خلق الیل والنھار اللہ تعالیٰ کی ذات وہی ہے جس نے رات اور دن کو پیدا کیا ہے۔ والشمس والقمر اور سورج اور چاند کو بھی پیدا کیا ہے۔ شب وروز کی تخلیق : اللہ تعالیٰ نے زمین کو نیچے اور آسمان کو اوپر پیدا کیا ہے۔ اور پھر ان دونوں کے درمیان سورج اور چاند کو پیدا کرکے رات اور دن کا نظام قائم کیا ہے۔ زمین کے ایک حصے پر رات ہوتی ہے تو دوسرے حصے پر دن ہوتا ہے ، اور اسی طرح رات اور دن بدل بدل کر ہر حصہ زمین پر آتے رہتے ہیں اگرچہ زمین کی انتہائی اطراف میں رات اور دن بہت لمبے ہوتے ہیں ، حتیٰ کہ بعض مقامات پرچھ ماہ کی رات اور چھ ماہ کا دن ہوتا ہے۔ تاہم عام متمدن دنیا میں رات اور دن چوبیس گھنٹے میں مکمل ہوجاتے ہیں۔ کبھی دن قدرے بڑے اور راتیں چھوٹی ہوتی ہیں اور کبھی راتیں بڑی اور دن چھوٹے ہوتے ہیں۔ دن رات کی یہ کمی بیشی اللہ کی حکمت پر مبنی ہے جو سورج اور چان کی گردش پر منحصر ہوتی ہے۔ پھر اسی گردش سے موسموں میں تغیر وتبدل پیدا ہوتا ہے ، کبھی گرما کبھی سرما ، کبھی بہار اور کبھی خزاں ، یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کے شاہکار اور اس کی وحدانیت کی دلیل ہیں۔ رات اور دن کی حکمت کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وجعل الیل سکنا (الانعام 97) ہم نے رات آرام کے لئے بنائی ہے وجعلنا……معاشا (النباء 11) اور دن کو ذریعہ معاش بنایا ہے۔ دن کے وقت انسان کام کاج میں مصروف رہنے کی وجہ سے تھک جاتے ہیں لہٰذا رات کو آرام کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا ہے جعل………خلفۃ (الفرقان 62) اللہ کی ذات وہ ہے جس نے رات اور دن کو آگے پیچھے آنے والا بنایا ہے اللہ نے یہ نظام اس کا ذکر اور شکر کرنے والوں کی سہولت کے لئے قائم کیا ہے۔ بہرحال دن کی روشنی میں انسان کے کام کاج اور دیگر مشاغل طے پاتے ہیں۔ انسان عبادت کرتا ہے ، جہاد کا فریضہ انجام دیتا ہے ، صنعت ، تجارت ، زراعت اور محنت مزدوری کرتا ہے اور جب تھک جاتا ہے تورات کے وقت آرام کرتا ہے تاکہ اگلے دن کی محنت مشقت کے لئے پھر سے تازہ دم ہوجائے ، غرضیکہ رات اور دن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نشانات قدرت کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ سورج اور چاند : آگے فرمایا والشمس والقمر ہم نے سورج اور چاند کو بھی اپنی نشانیوں کے طور پر تخلیق کیا ہے۔ ان دونوں کی تخلیق بھی کمال حکمت پر مبنی ہے ان کی گردش سے رات اور دن کا نظام قائم ہے۔ سورة یٰسٓ میں فرمایا ہے کہ سورج اور چاند اپنی اپنی مقررہ منازل پرچلتے رہتے ہیں۔ آج کل کی اصطلاح میں اسے اپنے اپنے مدار میں گردش کرنا کہتے ہیں۔ فرمایا کہ نہ سورج چاند کو پاسکتا ہے اور نہ رات دن سے سبقت کرسکتی ہے۔ کل………یسبحون (آیت 33) ہر ایک اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں۔ سباحت پانی میں تیرنے کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ کہ سورج اور چاند فضا میں گردش کر رہے ہیں۔ پرانے سائنسدان کہتے تھے کہ سورج اور چاند آسمان کے اندر واقع ہیں جب کہ جدید سائنس نے ثابت کیا ہے کہ یہ آسمان اور زمین کے درمیان فضا میں محو گردش ہیں ، مذکورہ بالا آیت میں بھی اسی نظریے کی تائید کرتی ہے کہ یہ اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔ بہرحال سورج اور چاندنظام شمسی کا حصہ ہیں جن سے دن اور رات پیدا ہوتے ہیں اور موسموں کا تغیر وتبدل واقع ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں کہ کوئی ایسی ذات ضرور ہے جس نے اس سارے نظام کو قائم کررکھا ہے اور وہ ہے بھی وحدہ لاشریک ، کیونکہ اگر وہ ایک سے زیادہ ہوتے تو یہ نظام قائم نہ رہ سکتا ۔ اس کی تشریح کسی پہلے درس میں بھی کی جاچکی ہے۔ موت کی گھاٹی : کفار ومشرکین حضور ﷺ کی رسالت پر مختلف طریقوں سے اعتراض کرتے تھے۔ بعض یہ بھی کہتے تھے کہ اگر یہ اللہ کا نبی ہے تو پھر اس پر موت طاری نہیں ہونی چاہیے ، یہاں اللہ نے اس بیہودہ اعتراض کا جواب دیا ہے وما جعلنا لبشر من قبل الخلد آپ سے پہلے ہم نے کسی انسان کے لئے اس دنیا میں ہمیشہ کی زندگی نہیں رکھی ، وہ نبی ہو یا غیر نبی ہر ایک نے اس دنیا میں اپنا مقررہ وقت پورا کیا اور اگلے جہاں میں منتقل ہوگیا۔ اس دنیا میں کسی کو بھی ہمیشہ نہیں رہنا۔ فرمایا ، اے نبی (علیہ السلام) ! افائن مت فھم الخلدون اگر آپ اس دنیا سے رخصت ہوگئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ یہیں رہیں گے ؟ آپ سے پہلے جتنے نبی اور رسول گزرے ہیں سب اللہ کی طرف لوٹ گئے ، اور جس طرح ان کے آبائواجداد باقی نہیں رہے یہ لوگ بھی ضرور موت سے ہمکنار ہوں گے ، ان کو دنیا میں دوام حاصل نہیں۔ بعض کافر اور مشرک کہتے تھے کہ اسلام کا مشن حضور ﷺ کی زندگی تک ہی چلے گا اور اس کے بعد خود بخود ختم ہوجائے گا۔ یہ محض آپ کے ساتھ ضد ، عناد اور عداوت کی وجہ سے کہتے تھے ، ورنہ موت کی گھاٹی تو ہر ایک نے عبور کرنی ہے ۔ سورة الزمر میں اللہ کا یہ فرمان بھی موجود ہے۔ انک…………میتون (آیت 30) اے نبی (علیہ السلام) ! موت آپ پر بھی وارد ہونی ہے اور ان پر بھی۔ اس کے بعد سب کو اپنے پروردگار کے سامنے حاضر ہونا ہے اور سب کو جوابدہی کرنا ہے۔ سعدی صاحب نے گلستان (گلستان ص 62 (فیاض) میں ذکر کیا ہے کہ کسی نے نوشیروان بادشاہ ایران کو خوشخبری سنائی کہ آپ کا فلاں دشمن اس دنیا سے رخصت ہوگیا ہے خبردینے والے شخص کا خیال تھا کہ یہ خبر سن کر بادشاہ ہوش ہوگا ، مگر وہ عقلمند آدمی تھا ، اس نے جواب دیا ” ہیچ شنیدی کہ مرابگزارو “ اگر دشمن مرگیا ہے تو تم نے کس سے نا ہے کہ وہ مجھے چھوڑ دے گا۔ میں نے بھی تو بالآخر مرنا ہے۔ اگر عدو بمرد جائے شادمانی نیست کہ زندگانی مانیز جاودانی نیست اگر دشمن مرجائے تو یہ کوئی خوشی کا مقام نہیں ہے کیونکہ ہمارے ساتھ بھی یہی معاملہ پیش آنے والا ہے۔ تو فرمایا اگر آپ وفات پاجائیں گے تو کیا انہوں نے ہمیشہ رہنا ہے۔ نہیں بلکہ کل نفس ذائقہ الموت ہر جان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ، موت سے کسی کو بھی فرار حاصل نہیں۔ انسان کی آزمائش : پھر فرمایا ونبلوکم بالشر والخیر فتنۃ ہم تمہیں آزماتے ہیں برائی اور بھلائی کے ساتھ یعنی ہر حالت میں آزمائش کرتے ہیں کبھی سختی کی حالت میں اور کبھی نرمی کی صورت میں کبھی تنگی کی حالت میں اور کبھی فراخی کی حالت میں ، کبھی بیمار کرکے اور کبھی تندرستی دے کر کبھی محتاجی دے کر اور کبھی دولتمندی دے کر ۔ مطلب یہ ہوتا ہے کہ انسان کا پتہ چل جائے کہ ان میں سے کھرا کون ہے اور کھوٹا کون۔ ان میں سے اللہ کا شکر گزار کون ہے اور ناشکری کرنے والا کون ہے۔ یہ بھی پتہ چل جائے کہ ہمارے عطا کردہ مال و دولت کو عیش و عشرت اور کھیل تماشے میں لگاتا ہے یا محتاجوں کی دست گیری پر رسومات باطلہ میں لگاتا ہے یا صدقہ و خیرات میں۔ اللہ تعالیٰ ہر اچھی اور بری حالت میں انسان کو آزماتا ہے ، فرمایا ، یہ نہ سمجھو کہ میری نعمتوں کے استعمال کے بعد تم سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی ، بلکہ والینا ترجعون تم سب کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ پھر حساب کتاب کی منزل آئے گی ، اور تمہیں اپنے اپنے عقیدے اور عمل کا ریکارڈ پیش کرنا ہوگا اور پھر اسی کے مطابق کاروائی ہوگی۔ کفار کی طرف سے ٹھٹھا : فرمایا ، کفار ومشرکین کا حال یہ ہے واذا راک الذین کفرواجب کافر لوگ آپ کو دیکھتے ہیں ان یتخذوانک الا ھزو تو آپ کے ساتھ ٹھٹھا کرتے ہیں۔ دوسری جگہ موجود ہے کہ دولت مند اور آسودہ حال کافر۔ غریب مسلمانوں کو جاتا دیکھ کر مذاق کیا کرتے تھے۔ آپس میں کہتے کہ ان کا لباس دیکھو اور ان کی وضع قطع پر نظر ڈالو ، پھٹا پرانا لباس ، بال پراگندہ ، نہ رہنے کو مکان ، نہ کھانے کو روٹی اور نہ سفر کے لئے سواری ، مگر یہ جنت کے مالک اور حوروں کے خاوند ہیں۔ اہل ایمان پر آوازے کستے تھے واذا ………………یتغامزون (المطففین 30) جب پاس سے گزرتے تو کن اکھیوں سے اشارے کرتے ۔ حضور ﷺ کے متعلق بھی اسی قسم کی باتیں کرتے تھے کہ اس شخص کے پاس نہ مال و دولت ہے ، نہ باغات ہیں ، نہ اچھا مکان ہے ، نہ نوکر چاکر ہیں مگر دعویٰ نبوت کا کررہا ہے۔ اس طرح گویا کافر لوگ آپ اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ تمسخر کرتے تھے۔ یہ بدبخت یوں بھی کہتے اھذا الذی یذکر الھتکم کیا یہی وہ شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے اور ان کو برا بھلا کہتا ہے۔ گویا تمہارے معبودوں کا حقارت کے ساتھ تذکرہ کرتا ہے فرمایا : وھم بذکر الرحمن ھم کفرون اور ان کی اپنی حالت یہ ہے کہ خود خدائے رحمان کے ذکر کا انکار کرتے ہیں یعنی اس کی توحید کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے حقیقت میں تعجب انگیز اور افسوسناک حالت تو ان کی اپنی ہے مگر یہ الٹا اللہ کے نبی کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں۔ انسان کی جلد بازی : ارشاد ہوتا ہے خلق الانسان من عجل انسان کو فطرتاً جلد باز پیدا کیا گیا ہے۔ اس کا مرجع کافر اور اہل ایمان دونوں ہوسکتے ہیں ۔ کفار کی جلد بازی یہ تھی کہ وہ کہتے تھے کہ نبوت کا دعویدار ہمیں جس قیامت اور عذاب سے ڈراتا ہے ، وہ آکیوں نہیں جاتی ؟ اگر یہ اپنے دعویٰ میں سچا ہے ت پھر ہم سے انتقام کیوں نہیں لیا جاتا ؟ ادھر اہل ایمان بھی بعض اوقات خواہش کرتے تھے کہ ان نافرمانوں پر گرفت جلدی کیوں نہیں آتی کہ یہ خود بھی گمراہ ہیں اور آگے دوسروں کو بھی گمراہ کر رہے ہیں۔ تو اللہ نے فرمایا کہ انسان کی پیدائش میں ہی جلد بازی رکھی ہوئی ہے۔ فرمایا ساوریکم ایتی میں عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں دکھادوں گا فلا تستعجلون لہٰذا اس معاملہ میں جلدی نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ اپنی تمام ضروری نشانیاں ظاہر کردے گا۔ پھر جب اتمام حجت ہوجائے گی تو مجرموں کو سزا بھی مل جائے گی اور اہل ایمان کے دل ٹھنڈے ہوجائیں گے۔ فرمایا جلدی نہ کرو یہ اچھی چیز نہیں ہے حضور ﷺ کا فرمان بھی ہے التوء دۃ من الرحمن والعجلۃ من الشیطن یعنی آہستگی خدائے رحمان کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔ گزشتہ سورة طٰہٰ میں بھی گزر چکا ہے کہ شیطان کے بہکانے کی وجہ سے آدم (علیہ السلام) نے بھی جلدی کی جس کی وجہ سے انہیں جنت سے نکلنا پڑا۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ جلد بازی کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔ اگرچہ انسان فطرتاً جلد باز پیدا کیا گیا ہے۔ قیامت کا انتظار : پھر فرمایا ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین اگر تم سچے ہو تو پھر یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔ جب اہل ایمان کفارو مشرکین کو ان کے کفر وشرک سے باز رکھنے کے لئے انہیں آخرت کے محاسبے اور عذاب سے ڈراتے ، تو وہ نصیحت پکڑنے کی بجائے کہتے کہ لائو اپنا وعدہ پورا کرو یعنی جس عذاب کی دھمکی ہمیں دے رہے ہو ، وہ کب آئے گا ؟ اللہ نے فرمایا کہ آج تو یہ خود عذاب کا مطالبہ کر رہے مگر یاد رکھو ! لو یعلم الذین کفروا حین لا یکفون عن وجو ھھم النار والا عن ظھورھم اگر کفار اس حالت کو جانتے جب کہ وہ اپنے چہروں اور پشتوں سے دوزخ کو آگ کونہ روک سکیں گے۔ دوزخ کی آگ ان کے جسموں کو جلا ڈالے گی مگر یہ اسے خود روک نہ سکیں گے ولا ھم ینصرون اور نہ ہی کسی دوسرے ذریعے سے ان کی مدد کی جائیگی کہ وہ عذاب الٰہی سے بچ سکیں۔ فرمایا اگر اس حالت کو جانتے تو یقینا اللہ کے نبیوں اور اہل ایمان کے ساتھ ٹھٹھا نہ کرتے اور نہ ہی یہ پوچھنے کہ وہ وعدہ کب پورا ہوگا۔ باقی رہا قیامت کے وقوع کا وقت ، تو اس کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنی کسی مخلوق کو نہیں دیا۔ البتہ اتنا ضرور بتلا دیا ہے بل تاتیھم بغتۃ یہ ان کے پاس اچانک ہی آجائیگی۔ اس طرح انفرادی موت بھی اچانک ہی آجاتی ہے۔ فتبھتم پھر یہ قیامت یا موت ان کو حیران کردیگی۔ ان کے ہوش و حواس گم کردیگی فلا یستطیعون ردھا اور یہ اس کو روکنے کی طاقت بھی نہیں پائیں گے۔ ولا ھم ینظرون پھر ان کو مہلت بھی نہیں ملے گی کہ اپنی اصلاح کرسکیں۔ قیامت اچانک آکر ان کے مطلوبہ وعدے کو پورا کردیگی۔ اللہ تعلایٰ کا یہ عام قانون ہے اذاجائ……………یستقدمون (یونس 49) ہر قوم اور ہر فرد کی مدت مقرر ہے اور اسی طرح قیامت کا بھی ایک دن مقرر ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو پھر گھڑی بھر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتا۔ مقررہ وقت پر موت طاری ہو کر زندگی کے تمام اشغال کو ختم کردیتی ہے ، اور اسی طرح مقررہ وقت پر قیامت واقع ہو کر پوری کائنات کا نظام درہم برہم کردیگی اور پھر محاسبے کا عمل شروع ہوجائے گا۔ اہل ایمان کے لئے تسلی : آگے حضور ﷺ اور اہل ایمان کے لئے تسلی کا مضمون ہے ولقد استھزی برسل من قبلک اور البتہ تحقیق استہزاء کیا گیا رسولوں کی ساتھ آپ سے پہلے۔ ان کافروں نے اللہ کے ہر نبی اور رسول کے ساتھ اسی طرح مذاق کیا جس طرح حضور خاتم النبیین (علیہ السلام) کے ستاھ کیا۔ یہ تو کفار کی پرانی رسم اور ان کا پرانا شیوہ ہے کہ وہ انبیاء اور اہل ایمان کے ساتھ ٹھٹھا کرتے آئے ہیں۔ اور انہوں نے اللہ کے عذاب کو بھی اپنے مذاق کا نشانہ بنایا ، تو اللہ نے فرمایا فحاق بالذین سخروا منھم ماکانوا بہ یستھزء ون پھر ان میں سے جن لوگوں نے ٹھٹھا کیا تھا اس کو اسی چیز نے گھیر لیا جس کے ساتھ وہ ٹھٹھا تمسخر کیا کرتے تھے۔ یعنی جس عذاب الٰہی کو کافر لوگ بعید خیال کرتے تھے ، وہی عذاب ان پر نازل ہوا اور ان کو گھیرے میں لے لیا اور اس سے بچ نکلنے کے تمام راستے مسدود ہوگئے اور اس طرح انہوں نے عذاب الٰہی کے ساتھ مذاق کرنے کا مزا چکھ لیا۔ یادرکھنا چاہیے کہ اگر کوئی مومن کسی دوسرے مومن سے ٹھٹھا کرتا ہے تو یہ گناہ کبیرہ ہے اور اگر کسی نے نبی کے ساتھ استہزاء کیا تو اس نے گویا کفر کا ارتکاب کیا۔ استہزاء میں دوسرے کی حقارت مقصود ہوتی ہے اور نبی کو حقیر سمجھنے والا انسان کافر ہوجاتا ہے۔