Ayahs 21:83–86ربط آیات :
پہلے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کا ذکر کیا اس سے پہلے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا تذکرہ ہوا ، پھر دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کا ذکر ہوا۔ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے ان تمام انبیاء کو علم و حکمت سے نوازا اور خصوصی انعامات عطا فرمائے۔ ان تمام انبیاء (علیہم السلام) پر بڑی مشکلات اور مصائب آئے جن کو انہوں نے صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کیا۔ اللہ نے بعض دوسرے انبیاء کا بھی اسی طریقے سے ذکر کرکے حضور خاتم النبیین ﷺ اور آپ کے رفقاء کے لئے تسلی کا سامان بہم پہنچایا ہے کہ ہر اذیت اور تکلیف کو برداشت کرنا چاہیے اور دشمنوں کی کسی بدسلوکی سے گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ اللہ کی طرف سے تفویض کردہ فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہنا چاہیے۔
حضرت ایوب (علیہ السلام) کا تذکرہ :
اب اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر کیا ہے آپ کا تذکرہ بعض دیگر سورتوں میں بھی موجود ہے۔ بائبل میں بھی آپ کا ذکر ملتا ہے۔ آپ عوض کی سرزمین میں رہتے تھے۔ دنیاوی حیثیت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑا مال و دولت عطا کیا تھا ، آپ امیر کبیر آدمی تھے۔ آپ کے پاس ہزاروں اونٹ ، مویشی اور بھیڑ بکریاں تھیں۔ قابل کاشت زمین بھی بہت زیادہ تھی ، زمین میں ہل جو تنے کے لئے پانچ سو جوڑی جانور تھے اور ہر جوڑی کے لئے علیحدہ علیحدہ ملازم تھے۔ آپ بذاتہ مخلوق کے ساتھ بڑا احسان کرتے تھے۔ غریب پروری کرتے ، مسافروں کا خیال رکھتے اور اللہ کی عطا کردہ دولت نیک کاموں میں صرف کرتے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ اللہ کی نعمتوں کا شکر بھی ادا کرتے۔
حضرت ایوب (علیہ السلام) پر ابتلائ :
ایک موقع پر ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ سوال اٹھایا کہ تیرا بندہ ایوب (علیہ السلام) تیرا شکر اس لئے ادا کرتا ہے کہ تو نے اسے مال و دولت سے نوازا ہے۔ اگر وہ آسودہ حال نہ ہو تو کبھی تیرا شکر ادا نہ کرے ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مثالی آزمائش میں ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ بائبل کی روایت کے مطابق ایوب (علیہ السلام) کے سات بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ ایک موقع پر ایسا ہوا کہ ایوب (علیہ السلام) اور آپ کی بیوی کے علاوہ آپ کی ساری اولاد کسی دعوت میں شریک تھی کہ اچانک مکان کی چھت گر گئی اور آپ کی ساری اولاد ہلاک ہوگئی۔ ادھر دشمنوں نے حملہ کرکے آپ کے بہت سے مویشی ہلاک کردیے اور کچھ ہانک کرلے گئے۔ اس کشمکش میں نوکر جاکر بھی مارے گئے پھر ایسا طوفان آیا کہ ساری فصل بھی ضائع ہوگئی ، اور اس طرح آپ بالکل خالی ہاتھ رہ گئے۔ اس وقت آپ نے اللہ کی بارگاہ میں سجدہ کیا اور عرض کیا کہ مولا کریم ! میں ماں کے پیٹ سے خالی ہاتھ پیدا ہوا تھا حتیٰ کہ جسم بھی ننگا تھا۔ تو نے اپنی رحمت سے سب کچھ دیا اور میں تیرا شکر ادا کرتا رہا ۔ اب تو نے ہر چیز واپس لے لی ہے تو یہ تیری رضا ہے اور میں بھی اس پر راضی ہوں۔ جوں جوں آپ پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹتے رہے ، آپ کی روح کا یقین ، دل کا صبر اور زبان کا شکر بڑھتا رہا۔
یہ تو بیرونی تکلیف تھی ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو جسمانی طور پر بھی مصیبت میں مبتلا کردیا۔ آپ کے سارے جسم پر آبلے نکل آئے جن سے پورا بدن زخمی ہوگیا آپ ان زخموں کو خشک کرنے کے لئے ان پر راکھ ڈالتے رہتے تھے۔ اس دوران نیک دل بیوی نے آپ کا ساتھ نہ چھوڑا بلکہ آپ کی خدمت میں ہمہ تن مصروف رہی۔ اس اثنا میں لوگ طعنہ دینے لگے کہ ایوب (علیہ السلام) سے کوئی بہت بڑا گناہ سرزد ہوگیا ہے جس کی پاداش میں آپ پر یہ مصیبت آئی ہے۔ ایوب (علیہ السلام) معاشی طور پر بھی تباہ حال ہوچکے تھے ، روز مرہ کی ضروریات کے لئے آپ کے پاس کچھ نہیں بچا تھا ، حتیٰ کہ آپ کی بیوی لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرکے تھوڑی بہت اجرت حاصل کرتی جس سے دو وقت کا کھانا میسر آتا۔ مفسرین کے قول کے مطابق آپ سترہ یا اٹھارہ سال تک اس ابتلا میں مبتلا رہے ، آپ کی بیوی نے عرض کیا کہ دفع بلا کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں تو آپ نے فرمایا کہ ہم نے اتنا عرصہ راحت میں گزارا ہے ، اب اگر کچھ عرصہ کے لئے مصیبت بھی آگئی ہے تو اسے خندہ پیشانی سے برداشت کرنا چاہیے۔
اس دوران میں آپ کی بیوی سے ایک غلطی بھی سرزد ہوگئی۔ جس کی وجہ سے آپ بیوی سے سخت ناراض ہوگئے اور قسم اٹھالی کہ اگر تندرست ہوگیا تو تمہیں سوکوڑے ماروں گا۔ ہوا یہ کہ شیطان ایک نورانی شکل و صورت میں آپ کی بیوی کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں طبیب ہوں اور مہلک بیماریوں کا علاج کرتا ہوں۔ انہوں نے اپنے خاوند کی طویل بیماری کا ذکر کیا تو وہ کہنے لگا کہ میں اس کا مفت علاج تو کروں گا بشرطیکہ شفا یابی پر تم یہ کہہ دو کہ میرے خاوند کو حکیم نے شفا دی ہے۔ بیوی نے آکر یہ بات خاوند سے کی تو وہ سمجھ گئے کہ یہ شیطان کا کام ہے جو ہمیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہٹانا چاہتا ہے۔ بیوی کی اتنی بات پر آپ سخت ناراض ہوگئے۔ جسمانی تکلیف کے علاوہ یہ بات آپ کے لئے سخت روحانی تکلیف کا باعث بنی اور اس وقت آپ نے اللہ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھادیے۔ اس واقعہ کے متعلق یہاں ارشاد ہوتا ہے وایوب اذ نادی ربہ اور ایوب (علیہ السلام) جب کہ انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا انی مسنی الضر کو مجھے بڑی تکلیف پہنچی ہے اس بات سے کہ شیطان ہمارے ایمان پر ڈاکہ ڈالنا چاہتا ہے۔ سورة صٓ میں ہے کہ آپ نے عرض کیا انی مسنی الشیطن (آیت 41) یعنی شیطان نے مجھے سخت اذیت پہنچائی ہے۔ اور ساتھ عرض کیا وانت ارحم الرحمین اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ گویا آپ نے نہایت لطیف انداز میں اللہ رب العزت کی بارگا میں اپنی حالت زار کو پیش کیا کہ روحانی تکلیف میری برداشت سے باہر ہورہی ہے ، لہٰذا تو اس کو دور کرنے والا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کی رحمت فوراً جوش میں آئی ، اس نے فرمایا فاستحجبنا لہ ہم نے ایوب (علیہ السلام) کی دعا کو شرف قبولیت بخشا۔ ان کی فریاد کو سن لیا فکشفنا ما بہ من ضر اور ان کی تکلیف کو دور کردیا۔
سورۃ صٓ میں موجود ہے کہ جسمانی تکلیف کو ہٹانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام کیا کہ ایوب (علیہ السلام) سے فرمایا ارکض برجلک (آیت 46) اپنے پائوں سے زمین پر ٹھوکر لگائیں۔ آپ نے زمین پر ایڑھی ماری تو وہاں پانی کا چشمہ جاری ہوگیا۔ عام حالات میں تو ایسا نہیں ہوتا مگر جب مشیت ایزدی ہو تو ہر ناممکن چیز بھی ممکن ہوجاتی ہے امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کشادگی پیدا ہوتی ہے تو پھر ایسا ہی ہوتا ہے ، وہ ایسے اسباب پیدا کردیتا ہے کہ ہر مشکل آسان ہوجاتی ہے اللہ نے فرمایا کہ چشمہ جاری ہوگیا ھذا مغتسل بارد وشراب (ص 42) اس چشمے کے پانی سے غسل بھی کرو اور اسے نوش بھی کرو۔ چناچہ آپ کے ایسا کرنے سے ساری جسمانی تکلیف کافور ہوگئی ، آپ بالکل تندرست ہوگئے اور اسی طرح توانا اور حسین و جمیل ہوگئے جس طرح بیماری سے پہلے تھے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی تھی۔
نقصان کی تلافی :
جسمانی تندرستی کے بعد اللہ تعالیٰ نے مالی اور جانی نقصان کی تلافی بھی فرمائی۔ ارشاد ہوتا ہے واتینہ اھلہ ہم نے ان کو ان کے گھر والے بھی عطا کردیے۔ عام مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی فوت شدہ اولاد کو دوبارہ زندہ کردیا ، تاہم بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ نے پہلی اولاد کے عوض میں اس سے دگنی اولاد عطا کردی ، اس لئے فرمایا کہ ہم نے ان کے گھر والے بھی دیے ومثلھم معھم اور ان کے ساتھ اتنے اور بھی دیے ۔ گویا آپ کی اولاد پہلے سے ڈبل ہوگئی۔ فرمایا رحمۃ من عندنا یہ ہماری طرف سے خاص مہربانی تھی۔ وذکری للعبدین اور تمام عبادت گزاروں کے لئے نصیحت اور یاد دہانی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جہان بھر کے لئے نمونہ بنادیا کہ مصیبت کے وقت اس طرح صبر کیا جاتا ہے۔ آپ نے ابتلا کا پورا عرصہ ناشکری کا ایک کلمہ تک زبان سے نہیں نکالا ، چناچہ دنیا بھر میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کا صبر ضرب المثل بن چکا ہے۔
اسماعیل ، ادریس اور ذوالکفل (علیہم السلام) :
حضرت ایوب (علیہ السلام) کے بعد اللہ تعالیٰ نے بعض دوسرے انبیاء کا ذکر بھی فرمایا ہے واسمعیل وادریس اور اسماعیل اور ادریس (علیہما السلام) نے ابتلاء کے وقت صبر کا دامن تھامے رکھا۔ جو بھی تکلیف آئی اسے صبر کے ساتھ برداشت کیا اور اللہ نے آپ کو بلند درجات عطا فرمائے۔ فرمایا وذالکفل اور کفل یعنی ضمانت والے بھی اللہ کے پاک نبی تھے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے بیتے تھے اور کسی کیس میں کسی دوسرے شخص کی ضمانت دے بیٹھے جس کی وجہ سے انہیں چودہ سال یا کم بیش جیل میں جانا پڑا۔ بعض کہتے ہیں ذوالکفل سے مراد مہاتما بدھ ہیں جو مسیح (علیہ السلام) سے پانچ سو سال پہلے گزرے ہیں۔ آپ کی پیدائش صوبہ بہار کی بستی کپل کی ہے اس لئے آپ کو ذا الکفل کا نام دیا گیا ہے ۔ تاہم یہ کوئی تحقیقی بات نہیں ہے بلکہ محض خیال ہے جس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ بہرحال ذوالکفل بھی اللہ کے نبی تھے فرمایا کل من الصبرین یہ سب کے سب صبر کرنیوالوں میں تھے۔ سب پر تکالیف آئیں جن کو برداشت کیا گیا۔ یہی نقطہ دوسرے لوگوں کے لئے باعث تعلیم ہے کہ جب بھی کوئی مصیبت آئے صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔
اللہ نے یہ بھی فرمایا وادخلنھم فی رحمتنا ان سب انبیاء (علیہم السلام) کو ہم نے اپنی خاص رحمت میں داخل کیا انھم من الصلحین یہ سب نیکوکاروں میں تھے۔ ان میں اللہ نے اعلیٰ درجے کی صلاحیت رکھی تھی جو عام مومنوں سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ یہ اللہ کے مقدس نبی تھے جو مورد وحی الٰہی ہوتے ہیں۔
Ayahs 21:87–88ربط آیات :
پہلے حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر ہوا ، پھر حضرت اسماعیل ، ایوب اور ذالکفل (علیہم السلام) کا۔ اللہ نے ان سب کو علم و حکمت سے نوازا تھا۔ ان کی نبوت عطا فرمائی پھر ان پر مصائب بھی آئے ، جنہیں انہوں نے خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ یہ سب بعد میں آنے والوں کے لئے نمونہ تھے۔ اللہ نے ان کو بطور مثال پیش کیا کہ دیکھو ان لوگوں نے تکلیف کے دوران کس قدر صبر سے کام لیا ، لہٰذا تمہیں بھی ان کا سوہ اختیار کرنا چاہیے۔ جس طرح ان لوگوں نے بوقت ضرورت اللہ کے حضور مناجات پیش کی ، اسی طرح تمہیں بھی کرنا چاہیے۔ تمہارا کام دعا کرنا ہے اور مصائب کو دور کرنا اللہ کا کام ہے۔ وہ قادر مطلق ہے جب چاہے کسی کو تکلیف میں ڈال دے اور جب چاہے تکلیف کو دور کردے۔ اس کے سوا نہ کوئی تکلیف دے سکتا ہے اور نہ اسے ہٹا سکتا ہے غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء کا ذکر کرکے ان کو باقی لوگوں کے لئے نمونے کے طور پر پیش کیا ہے۔
حضرت یونس (علیہ السلام) کا تذکرہ :
آج کے درس میں اللہ کے برگزیدہ نبی ذوالنون یعنی مچھلی والے کا ذکر ہے نون مچھلی کو کہا جاتا ہے چونکہ یہ نبی کئی روز تک مچھلی کے پیٹ میں رہے ، اس لئے اس لقب سے موسوم ہوئے۔ آپ کو صاحب حوت بھی کہا گیا ہے۔ اس کا معنی بھی مچھلی والا ہے کیونکہ عربی زبان میں حوت بھی مچھلی کو کہا جاتا ہے۔ سورة القلم میں حضور ﷺ کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے ولا تکن کصاحب الحوت (آیت 48) آپ مچھلی والے کی طرح نہ ہوجائیں جنہوں نے اپنی بستی چھوڑنے میں جلدی کی اور وحی الٰہی کا انتظار نہ کیا۔ بہرحال قرآن پاک کے مطابق آپ کا اصل نام حضرت یونس (علیہ السلام) ہے ، اور اس نام سے قرآن پاک میں ایک مستقل سورة بھی ہے جس میں آپ کا مختصر سا تذکرہ آیا ہے آپ انبیائے بنی اسرائیل میں سے ہیں اور مسیح (علیہ السلام) سے سات آٹھ سو سال پہلے گزرے ہیں۔ آپ کے زمانے میں فلسطین وشام پر حزقیل نامی بادشاہ برسراقتدار تھا۔ وہ خود ایماندار اور انبیاء (علیہم السلام) کا پیروکار تھا۔ اس زمانے میں اللہ کے پانچ نبی بیک وقت موجود تھے جن میں یونس (علیہ السلام) بھی شامل ہیں۔ اس زمانے میں عراق کے صوبہ موصل کی بستی نینویٰ میں بعض شرپسندوں نے بڑی تعدی کی۔ وہاں پر قتل و غارت کی اور بہت سے لوگوں کو غلام بھی بنالیا۔ اس وقت بڑے نبی حضرت شعیا (علیہ السلام) تھے جن کے مشورے سے اللہ نے پانچ نبیوں میں حضرت یونس (علیہ السلام) کو نینویٰ کی طرف مامور فرمایا تاکہ ان ظالم لوگوں کو سمجھایا جائے کہ وہ ظلم وتعدی سے بازآ جائیں اور مخلوق خدا کو تنگ نہ کریں نیزان کو نضردشرک سے منع کرکے توحید خداوندی کا درس دیں۔
یونس (علیہ السلام) کی لغزش :
آپ طویل عرصہ تک لوگوں کو تبلیغ حق کرتے رہے مگر کسی نے آپ کی بات نہ مانی۔ بالآخر یونس (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی وعید سنائی۔ اور خود وحی الٰہی کا انتظار کیے بغیر بستی سے چلے گئے۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے بےصبری سے تعبیر کیا ہے۔ اس لغزش پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ابتلا میں ڈال دیا جس کا ذکر اس مقام پر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے واذالنون اذ ذھب مغاضبا اور مچھلی والے پیغمبر جب کہ وہ ناراض ہو کر چلے گئے۔ ہم نے ان کو علم و حکمت عطا کیا تھا ، ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا تھا مگر وہ قوم سے ناراض ہو کر اپنا مستقرچھوڑ گئے فظن ان لن نقد رعلیہ اور گمان یہ کیا کہ ہم ان پر تنگی نہیں ڈلیں گے۔
قدر القدر کا مصدر قدر بھی ہے اور قدرت بھی ۔ یہاں پر لن تقدر کا معنی ” ہمیں قدرت نہیں “ درست نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تو قادر مطلق ہے اسے ہر چیز پر قدرت حاصل ہے ۔ تو یہاں پر قدر کا معنی ” تنگ کرنا “ ہے یعنی اللہ کے نبی نے گمان کیا کہ ہرگز اسے تنگی میں نہیں ڈالیں گے۔ ویسے قدر کا معنی مقدر کرنا یا تقدیر بھی آتا ہے مگر اس مقام ہے مگر اس مقام پر ” تنگ کرنا “ ہی مراد ہے۔ یہ تنگی یونس (علیہ السلام) پر خطائے اجتہادی سے سے آئی تھی ، نہ کہ گناہ کی وجہ سے ۔ شاہ اشرف علی تھانوی (رح) اپنی تفسیر ” بیان القرآن “ میں رقمطراز ہیں کہ انبیاء حقیقی گناہ اور حقیقی سزا دونوں چیزوں سے پاک ہوتے ہیں۔ انبیاء کو جو سزا پہنچتی بھی ہے وہ صرف جسمانی ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ ان کے روح وقلب کو بالکل محفوظ رکھتا ہے۔ ظاہری سزا تو یہی ہے کہ کوئی بیماری لاحق ہوگئی ، کوئی حادثہ پیش آگیا مگر حقیی سزا نبیوں کو نہیں ملتی بعض نبیوں پر اس لئے بھی سختی آتی ہے کہ ان کی تربیت مقصود ہوتی ہے۔ معمولی بات پر بھی ان کی گرفت ہوجاتی ہے کیونکہ وہ مقربین بارگاہ الٰہی ہوتے ہیں نابینا صحابی کے واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے لئے سخت الفاظ استعمال کئے عبس وتولی ان جاء ہ الاعمی (عبس 2- 1) آپ ترش رو ہوگئے اور روگردانی کی کہ ایک نابینا آدمی کے پاس آگیا ہے۔ اس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں جب آپ نے اپنے بیٹے کے حق میں دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، اے نوح (علیہ السلام) ! تیرا بیٹا تیرے اہل میں سے نہیں ہے کیونکہ اس کے اعمال ناپسندیدہ ہیں نیز فرمایا انی اعظک ان تکون من الجھلین (ھود 4- 1) میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ جاہلوں میں نہ ہوجانا۔ یہ بھی کوئی گناہ نہیں تھا بلکہ معمولی لغزش تھی۔
اس مقام پر پہنچ کر بہت سے لوگ غلطی کھا جاتے ہیں مولانا مودودی صاحب نے بھی یہی لکھا ہے کہ یونس (علیہ السلام) سے فریضہ رسالت کی ادائیگی میں کچھ کوتاہیاں ہوگئیں تھیں (العیاذ باللہ) یہ بالکل غلط تفسیر ہے۔ آپ نے فریضہ رسالت کو بالکل کما حقہ ادا کیا۔ اس میں کوئی کوتاہی نہیں ہوئی کیونکہ آپ نے اللہ کا پیغام ٹھیک ٹھیک پہنچا دیا۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) اپنے مکتوب میں لکھتے ہیں ” درادائے فرض بہ ہیچ وجہ تقصیر نہ کردہ اند “ یعنی انبیاء (علیہم السلام) ادائیگی فرض میں کسی طرح بھی کوتاہی نہیں کرتے کیونکہ اللہ کا واضح فرمان موجود ہے کہ اے پیغمبر ! جو چیز آپ کی طرف آپ کے رب نے نازل کی ہے ، اسے ٹھیک ٹھیک امت تک پہنچا دیں وان لم……………رسالتہ (المائدہ 67) اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے حق رسالت ہی ادا نہیں کیا۔
حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ رئیس المفسرین کے خطاب سے سرفراز ہیں ان کے حق میں نبی ﷺ (بخاری ص 531 ومسلم ص 298 ج 2 (فیاض) نے دعا کی تھی اللھم علمہ الکتب وفقھہ فی الدین اے اللہ ! انہیں قرآن کا علم عطا فرما اور دین میں سمجھ دے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ دعا قبول فرمائی ، چناچہ حضرت ابن عباس ؓ پوری امت میں کتاب اللہ کے سب سے زیادہ عالم مانے جاتے ہیں بہت سے لوگوں نے آپ سے قرآن پاک کی تفسیر پڑھی ، بلکہ بعض نے تو بار بار پڑھی۔ آپ آخری دور میں طائف منتقل ہوگئے تھے ، وہیں فوت ہوئے اور وہیں آپ کی قبر ہے۔
ایک دفعہ آپ امیر معاویہ ؓ کے پاس تشریف لے گئے۔ امیر آپ کے علم وفضل اور زہدوتقویٰ سے واقف تھا۔ کہنے لگا ، حضرت ! مجھے ایک اشکال پیدا ہوا ہے رات میں نے قرآن پاک کی تلاوت کی تو قرآن کی موجیں اس زور شور سے اٹھیں کہ میں انے تھپڑے برداشت نہ کرسکا۔ اور سمندر میں ڈوب گیا۔ اب آپ ہی مجھے ان موجوں سے باہر نکال سکتے ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ نے بات کی وضاحت چاہی تو امیر معاویہ ؓ نے عرض کیا کہ جب میں نے یہ آیت کریمہ تلاوش کی ان لن نقدر علیہ تو مجھے سخت پریشانی لاحق ہوئی کہ کیا کوئی نبی یہ بھی خیال کرسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز پر قادر نہ ہو۔ حضرت یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی آپ نے فوراً فرمایا نقدر کا مادہ قدر سے ہے نہ کہ قدرت سے قدر کا معنی اندازہ کرنا بھی ہوتا ہے اور تنگ کرنا بھی ، اور یہاں پر تنگ کرنا مراد ہے یعنی اللہ کے نبی نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہیں ڈالیں گے اس کی مثال دوسری جگہ بھی موجود ہے۔ سورة سبا میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ قل ان ربی یبسط الرزق لمن یشاء من عبادہ ویقدرلہ (آیت 39) اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ الغرض ! اس آیت کریمہ کا مطلب یہی ہے ۔ کہ یونس (علیہ السلام) نے گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ ان پر تنگی نہیں ڈالے گا ، لہٰذا وہ وحی الٰہی کا انتظار کیے بغیر بستی سے چلے گئے۔
یونس (علیہ السلام) کی ابتلائ :
اس خطائے اجتہادی پر حضرت یونس (علیہ السلام) کو آزمائش میں مبتلا کردیا گیا۔ آپ بستی سے چل کر دریا کے کنارے پہنچے۔ اس وقت ایک جہاز یافہ سے ترسیں جانے کے لئے کھڑا تھا ، آپ بھی اس میں سوار ہوگئے۔ آگے چل کر جہاز طوفانی لہروں میں پھنس گیا۔ چناچہ اس وقت کے عقیدہ کے مطابق بعض لوگوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی غلام اپنے آقا سے بھاگ کر اس جہاز پر سوار ہوگیا ہے ۔ جس کی وجہ سے پورا جہاز مصیبت میں گرفتار ہوگیا ہے ، ایسے شخص کو فوراً جہاز سے اتار دینا چاہیے ورنہ پورا جہاز غرق ہوجائے گا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) فوراً سمجھ گئے کہ ان پر ابتلاء کا وقت آگیا ہے۔ اور انہوں نے خود اقرار کیا کہ بھاگا ہوا غلام میں ہی ہوں ، لہٰذا مجھے پانی کی لہروں کی نذر کردیا جائے۔ آپ کے نورانی چہرہ کو دیکھ کر لوگوں نے آپ کی بات کا یقین نہ کیا اور قرعہ اندازی کا فیصلہ ہوا کہ جس کے نام پر قرعہ نکلے اسے پانی میں پھینک دیا جائے۔ چناچہ ایسا ہی کیا گیا۔ سورة الصفت میں موجود ہے فساھم…………حضین (آیت 141) جہاز والوں نے قرعہ اندازی کی تو قرعہ حضرت یونس (علیہ السلام) کے نام نکلا۔ یہ عمل تین دفعہ دہرایا گیا۔ مگر ہر دفعہ آپ ہی کا نام نکلا ، لہٰذا آپ کو پانی میں پھینک دیا گیا۔ بعض کہتے ہیں کہ جہاز کے بوجھ کو ہلکا کرنے کے لئے ایسا کیا گیا تھا ، مگر یہ بات درست نہیں ہے۔ بہرحال جب آپ کو دریا میں پھینکا گیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت کا اتنظام بھی کررکھا تھا۔ ایک مچھلی کو حکم ہوا کہ میرے نبی کو نگل لو۔ تمہارا پیٹ اس کا قید خانہ ہے۔ یہ تمہاری خوراک نہیں ہے۔ امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں کہ آپ تین پہر تک مچھلی کے پیٹ میں پڑے رہے ، بعض نے تین دن کا ذکر کیا ہے اور بعض دس دن اور چالیس دن کا ذکر بھی کرتے ہیں کہ آپ نے اتنا عرصہ مچھلی کے پیٹ میں گزارا۔ بہرحال جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا آپ اس قید خانہ میں رہے۔
یونس (علیہ السلام) کی دعا :
اس اثنا میں فنادی فی الظلمت آپ نے اندھیروں کے اندر پروردگار کو پکارا۔ ظاہر ہے کہ ایک تورات کا اندھیرا تھا ، پھر پانی کا اندھیرا اور پھر مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا۔ ان تاریکیوں میں یونس (علیہ السلام) کی زبان سے یہ دعا نکگی ان لا الہ الا انت سبحنک کہ نہیں ہے کوئی معبود سوائے تیرے۔ تیری ذات پاک ہے انی کنت من الظلمین اور قصور وار میں ہی ہوں۔ میں اپنی لغزش کا اعتراف کرتا ہوں اللہ کی رحمت جوش میں آئی تو اس نے فرمایا فاستجینا لہ پھر ہم نے آپ کی مناجات کو قبول کیا ونجینہ من الغم اور ہم نے آپ کو اس غم یعنی مصیبت سے نجات دی۔ سورة الصفت میں ہے فلولا ………………المسبحین (آیت 143) لبث …………یبعثون (آیت 144) اگر آپ یہ تسبیح بیان نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ آپ کو اس قید سے رہائی نہ بخشتا اور قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے۔ چناچہ مچھلی کو حکم ہوا کہ آپ کو اگل دے فنبذنہ …… ……سقیم (الصفت 145) تو ہم نے آپ کو چٹیل میدان میں پھینک دیا اس حالت میں کہ آپ بیمار تھے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے آپ کی جلد بالکل نرم ہوچکی تھی۔ کہ سردی اور گرمی برداشت کرنے کے قابل نہ تھی پھر جس ریتلی زمین پر آپ کو اگلا گیا وہاں کوئی سایہ بھی نہ تھا۔ تو اللہ نے فرمایا وانبتنا ……………یقطین (الصفت 146) ہم نے وہاں پر کدو کی ایک بل اگا دی جس کے پتے چکنے ہوتے ہیں اور ان پر مکھی بھی نہیں بیٹھتی ۔ اسی لئے حضور ﷺ کدو بڑی رغبت سے تناول فرماتے تھے۔
بعض روایات میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ، یہ میرے بھائی یونس (علیہ السلام) کا درخت ہے اس لئے مجھے پسند ہے۔ بہرحال اللہ نے آپ کو جب تک وہاں رکھنا منظور تھا اس میدان میں رکھا اور پھر وارسلنہ ………………یزیدون (الصفت 147) آپ کو ایک لاکھ بیس ہزار کی آبادی والے لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ پھر آگے سارا واقعہ مذکور ہے۔
مفید عام مناجات :
اس آیت کریمہ میں مناجات لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو اس غم سے نجات دی اور ساتھ یہ بھی فرمایا وکذلک ننجی المومنین اور ہم اسی طرح مومنوں کو نجات دیا کرتے ہیں مطلب یہ کہ یہ وظیفہ صرف یونس (علیہ السلام) کے لئے ہی مخصوص نہیں تھا بلکہ جو مومن پریشانی کی حالت میں اس مناجات کے ساتھ دعا کرے گا ، ہم اس کو مصیبت سے رہائی دلائیں گے ، ترمذی شریف (ترمذی ص 504 (فیاض) کی روایت میں آتا ہے دعوۃ المکروب دعوۃ ذوالنون سخت پریشانی میں مبتلا شخص کی دعا بھی وہی ہے جو حضرت یونس (علیہ السلام) کی دعا ہے۔ چناچہ شاہ عبدالعزیز ” (رح) تفسیری عزیزی “ میں لکھتے ہیں کہ بلا شبہ رد بلا کے لئے دعا تویہی ہے لیکن بزرگان دین نے تجربات کرنے کے بعد اس دعا کو پڑھنے کے دو طریقے وضع کیے ہیں۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ بہت سے آدمی مل کر ایک ہی مجلس میں اس آیت کا سوا لاکھ مرتبہ ورد کریں اور پھر دعا کریں تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ منظور فرمائے گا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ مصیبت زدہ آدمی عشاء کے بعداندھیرے میں روزانہ تین سو مرتبہ یہ وظیفہ پڑھے۔ اپنے پاس پانی کا ایک پیالہ رکھ لے اور وقفہ وقفہ سے پانی میں ہاتھ ڈال کر چہرے اور جسم پر ملتا رہے۔ یہ عمل تین ، سات یا چالیس دن کریگا۔ تو اللہ تعالیٰ اس کی مشکل کو حل کردیگا۔ یہ بڑا پاکیزہ کلمہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی عظمت کا اقرار اور اپنی غلطیوں کا اعتراف ہے۔ اس کے پڑھنے سے اللہ تعالیٰ مضطرب کی دعا قبول کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اشارۃ بتلادیا کہ یہ بات صرف یونس (علیہ السلام) کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہم اس طرح ہر اہل ایمان کو اس کے مصائب سے نجات دیا کرتے ہیں۔
Ayahs 21:89–93زکریا (علیہ السلام) کا ذکر خیر :
اللہ نے کئی ایک انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کرے فرمایا کہ ہم نے ان کو علم و حکمت دی اور ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا ۔ جب ان پر مصائب آئے تو انہوں نے صبر کیا تمام انبیاء اپنی حاجات اللہ ہی کے سامنے پیش کرتے تھے۔ گزشتہ آیات میں یونس (علیہ السلام) کی ابتلاء اور پھر ان کی مناجات کا ذکر تھا اور اب حضرت زکریا (علیہ السلام) اور پھر حضرت مریم ؓ اور ان کے فرزند حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر آرہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے زکریا اور زکریا (علیہ السلام) کا حال بھی دیکھو۔ ہم نے ان کو علم اور حکمت دی وہ اللہ کے پاک نبی تھے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی جو قبول ہوئی۔ آپ کا ذکر سورة آل عمران میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔
اولاد کے لئے دعا :
فرمایا اور زکریا (علیہ السلام) نے اذ نادی ربہ جب کہ انہوں نے پکارا اپنے پروردگار کو رب لا تذرنی فردا اے پروردگار ! مجھے اکیلا نہ چھوڑوانت خیرالورثین اور تو سب سے بہتر وارث ہے سورة آل عمران میں یہ ذکر موجود ہے کہ حضرت مریم ؓ کی کفالت کے دوران جب حضرت زکریا (علیہ السلام) نے حضرت مریم ؓ کے پاس بےموسم پھل دیکھے تو پوچھا اے مریم ! یہ کہاں سے آئے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ میرے اللہ کی طرف سے ہیں۔ اس پر زکریا (علیہ السلام) کے دل میں اولاد کی خواہش پیدا ہوئی ھنالک دعازکریا ربہ (آل عمران 38) تو اس وقت آپ نے اپنے پروردگار سے پاک اولاد کے لئے درخواست کی۔ سورة مریم میں ہے کہ آپ نے اپنی مناجات اس طرح شروع کی کہ اے پروردگار ! رب انی……………شیبا (آیت 40) میری ہڈیاں کمزور اور بال سفید ہوچکے ہیں۔ وانی خفت…………ورآء ی (آیت 50) مجھے خاندان کے لوگوں میں کوئی آدمی ایسا نظر نہیں آتا جو میری نیابت کرسکے فھب لی من لدنک ولیا۔ لہٰذا اپنی طرف سے مجھے ایک وارث نصیب فرما۔ یرثنی………یعقوب (آیت 6) جو میری اور خاندان یعقوب کی نیابت کا کام انجام دے سکے۔ آپ نے صرف اولاد نہیں مانگی بلکہ فرمایا واجعلہ رب رضیا کہ وہ اولاد نافرمان اور بےدین نہ ہو بلکہ ایسی ہو جو پسندیدہ ہو۔ اور آیت زیر درس میں بھی زکریا (علیہ السلام) نے اس انداز میں دعا کی کہ پروردگار ! مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث ہے۔
دعا کی قبولیت :
اللہ نے فرمایا فاستجبنالہ ہم نے ان کی دعا کو قبول فرمایا ووھبنا لہ یحیٰ اور ان کو یحییٰ جیسا بیٹا عطا فرمایا۔ جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے دو بیٹے عطا کیے اور وہ دونوں اللہ کے نبی تھے۔ اسی طرح زکریا (علیہ السلام) کو اللہ نے یحییٰ (علیہ السلام) بیٹا عطا فرمایا جو اللہ کے نبی تھے ، بڑے عبادت گزار اور پسندیدہ تھے فرمایا ہم نے زکریا (علیہ السلام) کو یحییٰ بیٹا عطا فرمایا اور اس سے پہلے واصلحنا لہ زوجہ ہم نے آپ کی بیوی کو بھی درست کردیا وہ بانجھ تھی ، اسے صحت عطا کی اور پھر پیرانہ سالی میں اولاد کی نعمت نصیب ہوئی۔ اللہ تعالیٰ مسبب الاسباب اور قادر مطلق ہے ، وہ ناممکن کو ممکن بنادینے پر قادر ہے۔
نیکیوں میں سبقت :
اللہ نے فرمایا کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) ان کا خاندان اور باقی تمام انبیاء جن کا گزشتہ آیات میں ذکر ہوا ہے انھم انوایسرعون فی الخیرات بیشک وہ تمام نیکیوں میں سبقت کرنے والے تھے۔ یعنی اچھائی کے کام کی طرف دوڑ کر جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے عام اہل ایمان کو بھی حکم دیا ہے۔ فاستبقوا………………جمیعا (البقرہ 148) کہ نیکیوں کی طرف جلدی کرو۔ تم جہاں کہیں بھی ہوگے ، اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے دن اکٹھا کردے گا۔ یہ بھی فرمایا وافعلوا الخیرلعلکم تفلحون نیکی کی بات کرو تاکہ تمہیں فلاں حاصل ہوجائے ، قانون ، شریعت اور عمل صالح کی پابندی کرو ، کفر ، شرک ، بدعات اور رسومات باطلہ سے باز آجائو۔ اللہ کے سارے نبی نیکیوں میں سبقت کرتے تھے۔
امید اور خوف :
فرمایا اللہ کے ان برگزیدہ بندوں کی ایک صفت یہ بھی تھی ویدعوننا رغبا ورھبا وہ ہمیں پکارتے تھے۔ ہماری نعمتوں میں رغبت رکھتے ہوئے اور ہماری گرفت سے خوف کھاتے ہوئے۔ خدا تعالیٰ کی نعمتوں سے کوئی بھی بےنیاز نہیں ہوسکتا۔ اللہ کے مقرب نبی بھی اس کی نعمتوں کے امیدوار ہوتے ہیں اور یہی ایمان کا تقاضا ہے۔ الایمان بین الخوف والرجاء ایمان خوف اور امید کے درمیان ہے ایک طرف اللہ کی رحمت کی امید رکھو تو دوسری طرف اس کی گرفت سے ڈرتے رہو کہ کہیں کوئی آزمائش نہ آجائے غرضیکہ نہ امید کا دامن چھوٹنا چاہیے اور نہ خدا کا خوف اتر جانا چاہیے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی تقریر میں یہ جملہ موجود ہے ولا تایئسوا…………الکفرون (یوسف 87) یعنی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو کہ یہ کافروں کا شیوہ ہے۔ اہل ایمان و توحید ہمیشہ اللہ کی طرف سے پر امید رہتا ہے۔ بہرحال علم عقائد علم کلام اور علم توحید میں یہ منقول ہے کہ ایمان خوف اور امید کے درمیان ہے اور یہی قول امام اعظم ابوحنیفہ (رح) اور دیگر سلف صالحین کا ہے۔
خشیت الٰہی :
اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اپنے نبیوں کی تین صفات بیان کی ہیں یعنی وہ نیکیوں میں سبقت کرنے والے تھے ، ہمیں امید اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے اور تیسری صفت یہ ہے وکانوا لنا خشعین کہ وہ ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے۔ عام مومنین کے لئے بھی یہی قانون ہے جیسے فرمایا قد افلح………………خشعون (المومنون 2- 1) بیشک وہ مومن لوگ فلاح پاگئے جو اپنی نمازوں میں عاجزی کرنے والے ہیں۔ غرور وتکبر اور خود پسندی کے بجائے نیاز مندی سے کام لیتے ہیں۔ چار مقصود چیزوں میں سے ایک نیاز مندی بھی ہے۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ مدار سعادت چار خصلتیں ہیں 1) طہارت یعنی پاکیزگی ، 2) اخبات یعنی عاجزی ، خشوع و خضوع فرشتے انبیاء اور تمام بندے اللہ کے سامنے عاجزی اور نیازمندی کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ بڑائی اسی کو سزاوار ہے ولہ الکبریاء اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے وربک فکین (المدثر 3) ہمیشہ اپنے پروردگار کی بڑائی اور کبریائی کا تذکرہ کرو۔ 3) سماحت یعنی انسان اعلیٰ خصائل کا حامل ہو اور ذیل خصلتوں سے بچتا رہے ، 4) عدل ہمیشہ انصاف کو پیش نظر رکھو۔ کسی کے ساتھ ظلم وتعدی کا معاملہ نہ کرو۔ بہرحال فرمایا کہ یہ سارے نبی ہمارے عاجز بندے تھے۔
حضرت مریم ؓ اور مسیح (علیہ السلام) :
اب آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا والتی احسنت فرجھا اس عورت کو بھی ہم نے اپنی رحمت سے نوازا جس نے اپنے ناموس کی حفاظت کی۔ اس سے مراد حضرت مریم ؓ ہیں۔ آپ کے متعلق سورة مریم میں موجود ہے کہ جب فرشتہ آپ کو بیٹے کی خوشخبری دینے کے لئے آیا تو آپ نے یہی کہا کہ میرے ہاں بیٹا کیسے ہوسکتا ہے۔ ولم …………بغیا (آیت 20) کہ نہ تو کسی انسان نے مجھے چھوا ہے اور نہ ہی مجھ میں کوئی برائی ہے۔ ادھر سے ارشاد ہوا کذلک جب ہم کوئی کام کرنا چاہتے ہیں تو پھر اسی طرح کر ڈالتے ہیں کہ بغیر ظاہری اسباب اور مرد کی قربت کے بچہ عطا کردیتے ہیں۔
بہرحال حضرت مریم ؓ کے متعلق فرمایا فنفخنا فیھا من روحنا پھر ہم نے اس میں اپنی طرف سے روح پھونک دی۔ اصل میں فرشتے نے حضرت مریم ؓ کے گریبان میں پھونک ماری تھی جس سے آپ کو حمل قرار پا گیا اور اس فعل کو اللہ نے اپنی طرف منسوب کیا ہے کہ ہم نے روح پھونک دی۔ اور پھر یہ ہوا کہ حمل قرار پانے کے بعد بچہ پیدا ہونے میں نو ماہ انتظار نہیں کرنا پڑا بلکہ چند ہی گھنٹوں کے بعد درد زہ شروع ہوگیا اور پھر مسیح (علیہ السلام) کی پیدائش ہوگئی۔
فرمایا وجعلنھا وابنھا ایۃ للعلمین ہم نے حضرت مریم ؓ اور آپ کے بیٹے مسیح (علیہ السلام) کو جہاں بھر کے لئے نشانی بنادیا۔ حضرت مریم ؓ بھی اللہ کی قدرت کی نشانی ہیں کہ اللہ نے آپ کو بڑی فضیلت عطا فرمائی۔ آپ کو طاہرہ اور صدیقہ بنایا اور پھر بغیر مرد کی قربت کے آپ کو عظیم المرتبت بیٹا عطا فرمایا اور وہ اللہ کا پاک نبی تھا۔ اسی لئے فرمایا کہ ہم نے ماں اور بیٹا دونوں کو جہان والوں کے لئے نشانی بنادیا۔
اس جملہ میں عقیدہ انبیت والوں کا رد بھی ہوگیا ہے۔ وابنھما سے مراد مریم ؓ کا بیٹا ہے نہ کہ خدا کا بیٹا یا اس کا جزو یا تین خدائوں میں سے تیسرا۔ یہ غلط عقیدہ تو یونس نے مسیح (علیہ السلام) کے بعد وضع کیا تھا۔ وگرنہ ابتدائی دور میں مسیح (علیہ السلام) پر ایمان لانے والے آپ کو حضرت مریم ؓ ہی کا بیٹا مانتے تھے۔ آپ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کے مقرب بندے تھے گویا اللہ تعالیٰ نے آپ کو مریم ؓ کا بیٹا کہہ کر سارا مسئلہ حل فرمادیا۔ اس کے خلاف عقیدہ رکھنے والے کافر ، مشرک ، اور ابدی جہنمی ہیں۔
ملت واحدہ :
آگے ارشاد ہوتا ہے ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ یہ تمہاری امت یعنی دین اور ملت ایک ہی ملت ہے۔ گویا تمام انبیاء (علیہم السلام) کا تعلق ایک ہی ملت سے ہے۔ دین بنیادی عقیدے کو کہا جاتا ہے اور ملت بڑے بڑے اصولوں کا نام ہے۔ اصول دین تو تمام انبیاء کے مشترک ہیں۔ البتہ ان کے شرائع میں اختلاف ہوتا ہے۔ بعض شرائع میں کوئی چیز حلال ہوتی ہے اور بعض میں حرام ہوتی ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان (تفسیر ابن کثیر ص 186 ج 1 (فیاض) ہے۔ نحن معشر الانبیاء اولاد علات دیننا واحد ہم سارے انبیا علاتی بھائیوں کی طرح ہیں جن کا باپ ایک اور مائیں مختلف ہوتی ہیں۔ ہم سب کا دین یا ملت ایک ہے ، تمام بڑے بڑے اصول یکساں ہیں مگر شرائع یعنی جزئیات مختلف ہیں۔ اللہ نے یہ بات قرآن میں بھی سمجھادی ہے شرع لکم……………نوحا (الشوریٰ 13) یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے بھی وہی دین مقرر کیا ہے جو نوح (علیہ السلام) اور آپ سے بعد والے نبیوں کے لئے مقرر کیا گیا۔ اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرنا ، قیامت پر یقین ، انبیاء کتب سماویہ اور ملائکہ پر ایمان ، اللہ کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام جاننا ہی دین ہے اور یہ سب کا مشترک ہے۔
فرمایا وانا ربکم فاعبدون اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہٰذا میری ہی عبادت کرو۔ میرے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں۔ ہر نبی نے بھی یہی تعلیم دی یقوم……………غیرہ (الاعراف 65) اے میری قوم کے لوگو ! صرف اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔
دین میں تفرقہ بازی :
اللہ نے تو سب کا ایک ہی دین مقرر کیا تھا مگر اس پر متفق نہ رہ سکے۔ اللہ نے یہاں شکوہ کیا ہے وتقطعوا امرھم بینھم پھر ان لوگوں نے اپنے معاملے کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ بعد میں آنے والوں نے دین کو بگاڑ کر اس میں فرقہ بندی پیدا کردی۔ دیکھ لیں یہودیوں کے کئی فرقے بنے اور وہ کفر اور شرک میں مبتلا ہوگئے۔ نصاریٰ نے بھی توحید الٰہی کو بگاڑ دیا اور شرک کو اختیار کرلیا۔ وہ بھی بہت سے فرقوں میں بٹ گئے۔ اسی طرح صابی ، مجوسی ، منکرین قیامت اور منکرین رسالت وغیرہ بہت سے فرقے معرض وجود میں آئے۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا کہ انہوں نے اصل دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے بگاڑدیا اور خود گمر اہی میں مبتلا ہوگئے۔
حضور خاتم النبیین ﷺ نے بھی فرمایا کہ بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے تو میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔ فرمایا صرف ایک فرقہ ناجی ہوگا ، باقی سب جہنم میں جائیں گے۔ پوچھا گیا کہ ناجی فرقہ کون سا ہوگا۔ فرمایا (ترمذی ص 379 (فیاض) ما انا علیہ و اصحابی یعنی جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقہ پر ہوگا۔ بعض لوگ فروعی اختلافات کو ہوا دے کر تیز کرتے ہیں اور اس طرح دین میں خرابی کا باعث بنتے ہیں اور پھر طرح طرح کے فتنے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ بعض لوگ بنیادی عقائد میں اختلاف پیدا کرکے صریح گمراہی میں جاگرتے ہیں۔
فرمایا ان لوگوں نے اپنے معاملے کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ مگر یہ بچ کر نہیں جاسکتے کل الینا رجعون سب کے سب ہماری ہی طرف لوٹ کر آنے والے ہیں۔ ہم ان کا حساب لے لیں گے اور اختیار کردہ عقیدے اور عمل کے مطابق پورا پورا بدلہ دیں گے۔
Ayahs 21:94–104ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مصائب و تکالیف ، ان کے طریقہ تبلیغ ، ان کی مناجات اور عبادت اور ان کے صبر پر روشنی ڈالی ہے۔ اور آئندہ آنے والوں کے لئے انہیں نمونہ بنایا ہے۔ آخر میں حضرت مریم ؓ اور مسیح (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیا ہے اور پھر ایک اصولی بات یہ بیان فرمائی ہے کہ تمام انبیاء کی ملت اور دین ایک ہی رہا ہے۔ فرمایا میں تمہارا پروردگار ہوں ، لہٰذا میری ہی عبادت کرو۔ مگر بعد میں آنے والے لوگوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ بعض نے عقائد کو خراب کرلیا اور کفر وشرک میں مبتلا ہوگئے۔ فرمایا سب نے ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے ، اس وقت ہم ہر ایک کے ساتھ اس کے عقیدے اور عمل کے مطابق سلوک کریں گے۔
عمل صالح کی قدردانی :
اب اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں پیش آنے والے محاسبہ اعمال کا قانون بیان فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے فمن یعمل من الصلحت جو شخص نیک اعمال انجام دیتا ہے۔ حضرت مجدد صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ ایمان کے بعد بنیادی طور پر چار نیکیاں ہیں یعنی نماز ، روزہ ، حج اور زکوٰۃ۔ اس کے بعد دیگر نیکیوں میں قرآن پاک کی تعلیم اور اس کی تلاوت ، تبلیغ دین ، صدقہ و خیرات اور رفاہ عامہ کے دیگر کام ہیں۔ فرمایا جو شخص نیک عمل کر گے گا وھو مومن بشرطیکہ وہ مومن ہو ، گویا کسی بھی نیکی کے لئے ایمان بطور شرط ہے۔ اگر ایمان ہوگا تو نیکی کار آمد ہوگی اور انسان کے لئے مفید ثابت ہوگی۔ ورنہ رائیگاں جائے گی۔ اگر خدانخواستہ عقیدے میں خرابی ہے تو پہاڑوں جتنی بڑی بڑی نیکیاں بھی کچھ مفید نہیں ہوں گی۔ کفر ، شرک ، نفاق کا شائبہ پایا جائیگا تو تمام نیکیاں ضائع ہوجائیں گی۔ ایسی نیکیوں کی وجہ سے دنیا میں شہرت تو حاصل ہوسکتی ہے۔ مگر آخرت میں ان کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔
فرمایا جس نے ایمان کی حالت میں نیک کام انجام دیا فلا کفران لسعیہ تو اس کی کوشش کی ناقدری نہیں کی جائیگی۔ بلکہ اس کی محنت کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ وانا لہ کتبون اور ہم ہر نیکی کے کام کو لکھنے والے ہیں۔ ہر انسان کے اعمال کو محفوظ کرنے کے لئے اللہ نے فرشتے مامور کر رکھے ہیں جو ہر چھوٹا بڑا کام لکھتے جا رہے ہیں اگرچہ ہرچیز اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور لوح محفوظ میں بھی درج ہے مگر اس کے فرشتے بھی لکھتے جاتے ہیں اور اس طرح انسانی اعمال کی حفاظت کا پورا پورا انتظام موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے ساتھ کراماً کاتبین مقرر کردیے ہیں۔ اور ان کی ڈیوٹی یہ ہے مایلفظ……………عتید (قٓ 18) کوئی شخص جو بھی لفظ اپنی زبان سے ادا کرتا ہے ہمارے فرشتے اس کو فوراً نوٹ کرلیتے ہیں پھر جب یہ نامہ اعمال پیش ہوگا تو انسان پڑھ کر حیران ہوجائے گا۔ اور کہے گا مال ھذا…………………احصھا (الکہف 49) یہ کیسی کتاب ہے جس نے نہ کوئی چھوٹی چیز چھوڑی ہے اور نہ بڑی مگر اسے محفوظ کررکھا ہے۔
ہلاکت کا قانون :
آگے اللہ نے نافرمانوں کی ہلاکت کا قانون بیان فرمایا ہے و حرام علی قریۃ اھلکنھا حرام ہے ان بستی والوں پر کہ جن کو ہم نے ہلاک کیا انھم لا یرجعون کہ وہ لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ مفسرین کرام یہاں پر حرام کا معنی دو طریقے پر کرتے ہیں۔ حرام کا معنی ضروری بھی ہوتا ہے ، اور اس طرح پورا مفوم یہ ہوگا کہ جن بستی والوں کو ہم نے ان کے جرائم کی پاداش میں ہلاک کیا ہے ، ان پر ضروری ہے کہ وہ واپس نہیں آئیں گے۔ حرام کا دوسرا معنی ممنوع ہے۔ یہ معنی عام فہم ہے اور حلال کے مقابلے میں بولاجاتا ہے۔ اگر یہ معنی لیا جائے تو پورا جملہ اس طرح ہوگا کہ ہلاک شدہ بستی والوں پر دوبارہ واپس آنا ممنوع ہے یعنی ان کا دنیا میں دوبارہ آنا تاکہ وہ اپنے کفر ، شرک اور معاصی کی تلافی کرسکیں ، یہ ممکن نہیں ہے۔ اس مادی جہاں میں یہ زندگی کا ہی ایک موقعہ ہے کہ اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا ازالہ کرلے۔ جب سزا آگئی اور بستی تباہ ہوگئی تو پھر ایسی غلطیوں کی تلافی ممکن نہیں رہے گی۔
بعض اس آیت کا مطلب اس طرح بھی بیان کرتے ہیں کہ ہلاک ہونے والی بستی کے لوگ دوبارہ ہدایت کی طرف نہیں آتے۔ یہ بھی ایک طے شدہ امر ہے کہ جن لوگوں پر ان کی مجرمانہ کاروائیوں کی وجہ سے ہلاکت وتباہی مقرر ہوچکی ہے۔ وہ ایمان اور توحید کی طرف نہیں آئیں گے بلکہ اسی بد بختی میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ اللہ کی طرف سے وعدے کا وقت آپہنچے اور پھر ایسے لوگوں کو اپنے اعمال بد کا بھگتان کرنا پڑے ، قوم عا د اور ثمود سے لے کر جن جن نافرمان قوموں کا ذکر اللہ نے قرآن پاک میں کیا ہے ، یا جن کا تذکرہ تاریخ کے اوراق میں ملتا ہے ان میں سے کوئی بھی آج تک پلٹ کر نہیں آیا ، بلکہ ان کی جگہ دوسرے لوگ ہی آتے رہے ہیں۔ بہرحال مفسرین نے یہ دونوں معنی بیان کیے ہیں۔
یاجوج ماجوج کا خروج :
فرمایا جن بستی والوں کو ہم نے ہلاک کردیا۔ وہ واپس لوٹ کر نہیں آئیں گے حتیٰ اذا فتحت یاجوج وماجوج یہاں تک کہ جب کھول دیے جائیں گے یاجوج اور ماجوج وھم من کل حدب ینسلون اور وہ ہر اونچی جگہ سے پھسلتے چلے آئیں گے۔ یاجوج ماجوج کا خروج علامات قیامت میں سے ہے۔ پہلے مسیح (علیہ السلام) کا نزول ہوگا۔ وہ دجال کو ختم کریں گے ، اس کے بعد یاجوج ماجوج کا خروج ہوگا۔ اللہ تعالیٰ مسیح (علیہ السلام) کو پیغام بھیجیں گے انی اخرجت عبادا لایدان لاحد بقتالھم میں نے ایسی مخلوق کو نکالا ہے جن کے ساتھ مقابلے کی کسی کو تاب نہیں ، لہٰذا تم چیدہ چیدہ بندوں کو ہمراہ لے کر طور پر چلے جائو۔
یاجوج ماجوج دراصل حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے یافث کی اولاد میں سے ہیں۔ مفسرین کرام لکھتے ہیں کہ اس مخلوق کی عمریں بڑی لمبی ہوتی ہیں۔ اس بات کا اندازہ اس چیز سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان میں سے کوئی آدمی اس وقت تک نہیں مرتا جب تک کہ اپنی اولاد میں سے ایک ہزار کی تعداد کو نہیں دیکھ لیتا۔ باقی تمام انسانوں اور یاجوج ماجوج کی آبادی کی نسبت 999:1 ہے یعنی ہر انسان کے مقابلے میں یاجوج ماجوج 999 ہیں۔ البتہ ان کی اکثریت کفروشرک میں مبتلا ہوگی اور یہ سب جہنم میں جائیں گے۔ حدیث میں آتا ہے کہ یہ لوگ دنیا میں بڑا فساد مچائیں گے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ اپنے مردوں کو بھی کھاجاتے ہیں۔ تفسیری روایات میں آتا ہے کہ جب یہ سدسکندری کے عقب سے ظاہر ہوں گے تو ہر چیز کو فنا کرتے چلے جائیں گے۔ بحیرہ طبریہ کے بارے میں آتا ہے کہ اس کا سارا پانی پی جائیں گے حتیٰ کہ ان کے بعد میں آنے والے پوچھیں گے کہ کیا اس خشک ندی میں کبھی پانی بھی بہتا تھا۔ اس قوم کی زیادتیوں کی وجہ سے مخلوق خدا سخت پریشانی میں مبتلا ہوجائے گی۔ پھر ان پر طاعون جیسی ایک وبا نازل ہوگی جس میں سب مرجائیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایسے جانور بھیجے گا جو ان کی نعشوں کو اٹھا اٹھا کر زمین کے نشیبی علاقوں میں لے جائیں گے۔ پھر خوب بارش ہوگی جو ان نعتوں کی پس مادہ گندگی کو دھوڈالے گی۔ حدیث میں آتا ہے کہ یاجوج ماجوج کے مکمل خاتمہ کے بعد بھی انسان دنیا پر آباد رہیں گے اور وہ بیت اللہ کا حج بھی کرینگے البتہ اس کے بعد جلدی ہی قیامت برپا ہوجائیگی۔
کفار کا اظہار تاسف :
یاجوج ماجوج کے خروج پر وافترب الوعدالحق سچا وعدہ قریب آجائے گا۔ اور وہ وعدہ وقوع قیامت کا ہے۔ جب قیامت برپا ہوگی تو عجیب و غریب حالات نظر آئیں گے فاذاھی شاخصۃ ابصار الذین کفروا اس وقت اچانک کافروں کی آنکھیں اوپر لگی ہوئی ہوں گی۔ وہ ٹکٹکی باندھے دیکھتے ہوں گے۔ اس وقت ہر چیز درہم برہم ہوجائے گی ، اور پھر کافر لوگ کہیں گے یویلنا قدکنا فی غفلۃ من ھذا ہائے افسوس ! کہ ہم تو اس واقعہ سے غفلت میں پڑے ہوئے تھے۔ اللہ کے نبی بتاتے تھے کہ قیامت آنے والی ہے مگر ہم یقین ہی نہیں کرتے تھے بل کنا ظلمین یقینا ہم ہی زیادتی کرنے والے تھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوگا انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم تم اور تمہارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے ، جہنم کا ایندھن ہیں۔ حصب ایندھن کو کہتے ہیں جس سے آگ جلائی جاتی ہے۔ عربی محاورے میں حصب کا معنی احطب بھی ہوتا ہے جو جلانے والی لکڑی کے لئے بولا جاتا ہے۔ امام بغوی (رح) نے حضرت علی ؓ کی قرات میں حطب جھنم بھی کہا ہے۔ عرضی کہ حصب اور حطب کا ایک ہی معنی ہے۔ بہرحال فرمایا کہ تم تابع اور متبوع جہنم کا ایندھن ہو انتم لھا واردون اور تم سب اس میں پہنچنے والے ہو۔
اس وقت مشرک لوگ کف افسوس ملیں گے اور اپنے معبودان باطلہ کے متعلق کہیں گے لوکان ھولاء الھۃ م اور دوھا اگر یہ سچے معبود ہوتے جن کی ہم عبادت کرتے رہے ہیں تو آج ہم جہنم میں نہ پھینکے جاتے ، بلکہ اس عذاب سے بچ جاتے وکل فیھا خلدون آج ان کی کوئی حسرت مفید نہیں ہوگی اور انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اسی جہنم میں رہنا ہوگا۔ پھر ان کی حالت یہ ہوگی لھم فیھا زفیر کہ وہاں انہیں چیخنا چلانا ہوگا۔ ان کی ہچکیاں بندھ جائیں گی تو ان کی وجہ سے چلانے کی آوازیں نکلیں گی۔ اور اس چلانے کی وجہ سے وھم فیھا لایسمعون ان کی کوئی بات نہیں سنی جائیگی۔ اتنا شوروغوغا ہوگا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیگی اور ان کا چیخنا چلانا بالکل رائیگاں جائیگا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ کافروں کو بڑے بڑے ستونوں کے ساتھ باندھ کر اوپر سرپوش ڈال دیئے جائیں گے ، وہ ان میں بند ہو کر رہ جائیں گے اور ان کی کوئی آواز سنائی نہیں دیگی۔
نیکوکاروں کی بریت :
دیگر کفارومشرکین کی طرح مکہ کا ایک شاعر عبداللہ بن زبعرہ بھی سخت مخالفین میں سے تھا مگر بعد میں ایمان لے آیا۔ ابتدائی دور میں اس نے اسلام اور اہل اسلام کے خلاف بڑا پراپیگنڈا کیا۔ ایک دفعہ حضور ﷺ کے پاس حاضر ہو کر کہا مسیح (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) کون ہیں ؟ کیا یہ اللہ کے نیک بندے نہیں ؟ پھر کہا فرشتے کون ہیں ، کیا یہ اللہ کی پاکیزہ مخلوق نہیں ؟ جب آپ نے دونوں سوالوں کا جواب اثبات میں دیا تو عبداللہ کہنے لگا کہ ہم تو انہی پاک ہستیوں کی پوجا کرتے ہیں ، ان کو معبود مانتے ہیں۔ اب اگر تمہارے کہنے کے مطابق عابد اور معبود سب جہنم میں جائیں گے تو یہ اچھی بات ہے کہ ہم ان پاکیزہ لوگوں کے ساتھ ہی رہیں گے۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے دیا کہ معبودان باطلہ سے مراد حضرت مسیح (علیہ السلام) ، عزیر (علیہ السلام) اور فرشتے نہیں ہیں کیونکہ وہ اپنی پوری زندگی تمہارے شرک سے بیزاری کا اظہار کرتے رہے اور قیامت کو بھی تم سے برات کا اعلان کریں گے ، کہیں گے ہم نے تو انہیں اپنی پوجا کے لئے نہیں کہا ، بلکہ یہ تو اصل میں شیطان کی اتباع کرتے رہے لہٰذا وہ معبودان باطلہ کے زمرہ میں نہیں آتے اور وہ اس وعید سے مستثنیٰ ہوں گے ، فرمایا ان الذین سبقت لھم منا الحسنی بیشک وہ لوگ کہ جن کے لئے ہماری طرف سے پہلے ہی بھلائی کا فیصلہ ہوچکا ہے اللہ کے علم میں یہ بات لکھی جاچکی ہے کہ وہ اللہ کے نبی اور اس کے نیک بندے ہیں اولئک عنھا مبعدون وہ اس جہنم سے دور رہیں گے۔ بلکہ اتنا دور ہوں گے لا یسمعون حسیسھا وہ تو دوزخ کی آہٹ بھی نہیں سنیں گے وھم فی ما اشتھت انفسھم خلدون وہ اپنی من پسند جگہ میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے ، ان کی خواہشات پوری کی جائینگی اور وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ اللہ نے ان کے زعم باطل کی تردید فرمادی کہ یہ پاک ہستیاں اور مشرکین و کفار اکٹھے رہیں گے۔ فرمایا نیک لوگوں کی بات تو یہ ہے لا یحزنھم الفزع الاکبر انہیں بڑے دن (قیامت) کی گھبراہٹ غم میں نہیں ڈالے گی۔ بلکہ وتتلقھم الملئکۃ فرشتے ان سے ملاقات کریں گے اور انہیں خوشخبری دیں گے ھذا یومکم الذی کنتم توعدون یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اس دن تمہیں بڑا انعام واکرام ملے گا اور تم اللہ کی رحمت میں داخل ہوجائو گے۔
وقوع قیامت اور بعث ثانی :
آگے اللہ نے قیامت کے کچھ حالات بیان فرمائے ہیں ارشاد ہوتا ہے یوم نطوی السماء کطی اسجل للکتب اس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح کسی نوشتے کو طورمار میں لپیٹ دیا جاتا ہے۔ مفسرین کرام سجل کے دو معنی کرتے ہیں۔ اس کا ایک معنی نامہ اعمال لکھنے والے فرشتوں کے سردار کا نام ہے۔ جب انسان کے اعمال ختم ہوجاتے ہیں تو فرشہ انہیں لپیٹ کر رکھ دیتا ہے سورة بنی اسرائیل اعمال ختم ہوجاتے ہیں تو فرشتہ انہیں لپیٹ کر رکھ دیتا ہے سورة بنی اسرائیل میں ہے کہ پھر وہ نامہ اعمال انسان کی گردن میں لٹکا دیا جاتا ہے جب قیامت کا دن آئے گا تو کہا جائے گا کہ اپنا نامہ اعمال خود ہی کھول کر پڑھ لو۔ اس دن ہر شخص میں پڑھنے کی صلاحیت پیدا ہوجائے گی اور وہ بغیر کسی منشی کی مدد کے اپنے اعمال کا جائزہ لے سکے گا۔ غرضیکہ نامہ اعمال کو لپیٹنے والا فرشتہ سجل کہلاتا ہے۔
اور دوسرا معنی جو عام مفسرین بیان کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ سجل سے مراد طور مار یعنی وہ فائل کور ہے جس میں نامہ اعمال کے کاغذات لپیٹ کر محفوظ کردیئے جاتے ہیں۔ تو اللہ نے فرمایا کہ قیامت والے دن آسمانوں کو اس طرح لپیٹ دیا جائے گا۔ جس طرح کوئی کاغذات جلد یافائل کور میں لپیٹ دیئے جاتے ہیں۔ دوسری حدیث میں آتا ہے کہ ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو لپیٹ دیا جائے گا ۔ موجود نظام کائنات درہم برہم ہوجائے گا۔ پہلے آسمانوں میں دریچے دریچے نظر آئیں گے اور پھر بالکل ختم کردیئے جائیں گے حتیٰ کہ عالم بالا کی چیزیں نظر آنے لگیں گی۔
پھر کیا ہوگا ؟ کما بدانا اول خلق نعیدہ جس طرح ہم نے مخلوق کو پہلی دفعہ پیدا کیا تھا اسی طرح ہم انہیں دوبارہ لوٹائیں گے۔ حضور ﷺ (مسلم ص 384 ج 2) نے اپنے خطبہ میں فرمایا تھا یا ایھا الناس انکم محشورون الی اللہ حفاۃ عراۃ غرلا کما بدانا اول خلق نعیدہ لوگو ! تم قیامت کے دن سر اور پائوں سے برہنہ اور بےختنہ پیدا کیے جائو گے۔ چناچہ حدیث میں آتا ہے کہ برہنگی کی اس حالت میں سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لباس پہنایا جائے گا۔ البتہ حضور ﷺ کی خصوصیت الگ ہے۔ ترمذی شریف کی حدیث (ترمذی 519 (فیاض) میں آپ کا فرمان ہے کہ جب قیامت برپا ہوگی تو سب سے پہلے میری قبر شق ہوگی۔ میں باہر آئوں گا۔ فاکسی حلۃ من الجنۃ تو مجھے جنت کا لباس پہنایا جائے گا جبکہ باقی ساری مخلوق برہنہ ہوگی ۔ اس کے بعد حشر کے میدان میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کپڑے پہنائے جائیں گے۔
فرمایا جس طرح ہم نے سب کو پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ، اسی طرح ہم دوبارہ بھی لوٹائیں گے۔ وعد علینا یہ ہمارا وعدہ ہے انا کنا فعلین اور بیشک ہم ایسا کرنے پر قادر ہیں۔ یہ ضرور ہو کر رہے گا۔ جب جزائے عمل کی منزل آئیگی تو انسانوں کو دوبارہ اٹھایا جائے گا اور وہ اپنے اعمال کا حساب دیں گے۔