Ayahs 21:42–46ربط آیات :
سورۃ الانبیاء میں بنیادی طور پر تین مسائل کا ذکر ہے یعنی توحید ، رسالت اور معاد۔ اس کے علاوہ اس سورة میں مختلف انبیاء (علیہم السلام) کے طریقہ تبلیغ پر روشنی ڈالی گئی ہے اور ان کی مناجات کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اپنی حوائج اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کس طرح پیش کرتے تھے۔ گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا ذکر اور کفار ومشرکین کا رد فرمایا۔ اس کے ساتھ ساتھ توحید کے دلائل بھی بیان کیے اور رسالت کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنے والوں کو موثر جوابات بھی دیے۔ فرمایا ، یہ لوگ عذاب طلب کرنے میں جلد بازی کرتے ہیں ۔ اگر یہ لوگ اس حالت کو دیکھ لیں جب یہ دوزخ کی آگ کو اپنے چہروں اور پشتوں سے نہیں ہٹا سکیں گے ، تو ایسی باتیں نہ کریں۔ پھر اللہ نے تسلی کا مضمون بیان فرمایا کہ اگر پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ لوگ ہنسی مذاق کرتے ہیں ، تو یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں کیونکہ پہلے ادوار میں بھی لوگ اپنے انبیاء کے ساتھ ہی سلوک کرتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ عذاب الٰہی کی بات کو بھی تمسخر میں اڑا دیتے تھے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں اسی عذاب نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔
فی امان اللہ :
گزشتہ آیت میں آخرت کے عذاب کے متعلق فرمایا تھا کہ تم عذاب الٰہی سے بچ نہیں سکوگے ، اب اس دنیا کے متعلق فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے من یکلوکم بالیل والنھار من الرحمن ، کون ہے جو رات دن تمہاری نگرانی اور حفاظت کرتا ہے خدائے رحمان کی گرفت سے۔ کیا تم خود اپنی حفاظت کرتے ہو یا تمہارے معبود ان باطلہ تمہاری حفاظت کے ذمہ دار ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں بھی نہ کوئی انسان کسی انسان کی حفاظت کرتا ہے اور نہ جن۔ بلکہ ساری مخلوق کی حفاظت کا انتظام خود خدا تعالیٰ نے ہی کررکھا ہے۔ خاص طور پر انسان کی حفاظت کے لئے تو اللہ نے اپنے فرشتوں کو مقرر کررکھا ہے۔ بعض فرشتے انسان کے اعمال کی حفاظت کرتے ہیں اور بعض انہیں جسمانی طور پر حوادثات سے بچانے پر مامور ہیں۔ سورة ق میں موجود ہے مایلفظ…………عتید (آیت 10 , 11) بیشک تم پر محافظ مقرر ہیں ، جنہیں کراماً کاتبین کہا جاتا ہے یعنی معزز لکھنے والے ، جو کچھ تم کرتے ہو ، وہ جانتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ، اس طرح گویا تمہارے تمام اعمال محفوظ کیے جا رہے ہیں۔ جنہیں قیامت کے دن اعمال نامے کی صورت میں تمہارے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا یبنی ادم انما ھی اعما لکم احصیھا علیکم اے آدم کی اولاد یہ تمہارے اعمال ہیں جنہیں ہم نے محفوظ کررکھا ہے اگر تمہارے یہ اعمال اچھے ہیں تو خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرو اور اگر برے میں تو اپنے آپ کو ملامت کرو ۔ ہم نے تمہاری اس کمائی سے کوئی ذرہ بھی ضائع نہیں ہونے دیا۔
انسانوں کے اقوال و اعمال کی حفاظت کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے روانسوں کی حفاظت کا بھی مکمل انتظام کررکھا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے۔ لہ معقبت………………امر اللہ (الرعد 11) اس کے آگے اور پیچھے خدائی چوکیدار ہیں ، جو خدا کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ اللہ نے ایسے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو انسان کو مختلف آفات وبلیات ، جنات اور شیاطین وغیرہ کے شر سے محفوظ رکھنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں ، پھر جب خدا تعالیٰ کی مشیت ہوتی ہے تو انسان سے حفاظت اٹھالی جاتی ہے اور وہ کسی حادثے کا شکار ہوجاتا ہے یا کسی تکلیف اور مصیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اگر اسی معاملہ میں غوروفکر کرلو تو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے۔ فرمایا ، اللہ نے تو ان کی حفاظت کا انتظام کر رکھا ہے بل ھم عن ذکر ربھم معرضون مگر یہ لوگ اپنے پروردگار کے ذکر سے اعراض کرنے والے ہیں۔ نہ تو یہ خدا تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کی طرف دھیان دیتے ہیں ، اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف توجہ دیتے ہیں۔
غیر اللہ کی بےبسی :
ارشاد ہوتا ہے ام لھم الھۃ کیا ان کے کوئی معبود ہیں۔ تمنعھم من دوننا جو ہمارے سوا ان کو بچاتے ہیں یعنی حوادثات سے ان کی حفاظت کرتے ہیں۔ ایسے معبودنہ تو جنوں میں ہیں اور نہ انسانوں میں نہ شجر میں اور نہ حجر میں جاندار چیزیں ہوں یا بےجان ، کوئی بھی بااختیار نہیں ہیں۔ بےجان چیزیں تو ویسے ہی بےحس و حرکت پڑی رہتی ہیں وہ نہ کسی کا کچھ سنوار سکتی ہیں اور نہ بگاڑ سکتی ہیں۔ البتہ جو جاندار ہیں ، وہ بھی اختیار سے خالی ہیں۔ ان میں نفع یا نقصان پہنچانے کی صفت نہیں پائی جاتی۔ کیونکہ النافع اور انصار صرف ذات خداوندی ہے ، وہ قادر مطلق ، علیم کل ، خالق اور مدبر ہے ، اس کے علاوہ بھی ان صفات کا حامل نہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ کیا ان کے لئے ہمارے سوا کوئی اور معبود بھی ہیں جو ان کی حفاظت کرتے ہیں ؟ پھر خود ہی اس کا جواب بھی دیا لا یستطیعون نصر انفسھم وہ بیچارے تو خود اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے چہ جائیکہ دوسروں کی مدد کرسکیں ۔ بےجان چیزیں تو ویسے ہی ناکارہ ہیں۔ جہاں چاہا پھینک دیا ۔ پڑی رہتی ہیں۔ ان کے ساتھ جو سلوک چاہو کرلو ، وہ تو فریاد بھی نہیں کرسکتیں۔ خواہ انہیں توڑ پھوڑ دیا جائے۔ اور جو جاندار ہیں مثلاً ملائکہ ، جنات یا انسانوں میں سے انبیاء اور اولیا تو ان کو بھی اختیار نہیں کہ وہ کسی کی غائبانہ مافوق الاسباب مدد کرسکیں ، یا کسی کو نفع ونقصان پہنچا سکیں۔ وہ تو خود اقرار کرتے ہیں انت ولینا مولیٰ کریم ! تو ہی ہمارا کارساز ہے۔ مخلوق میں سے بزرگ ترین ہستی حضور خاتم النبیین ﷺ کی ذات مبارکہ ہے۔ اللہ نے آپ کی زبان سے بھی یہ اعلان کروادیا لا املک………………ماشاء اللہ (الاعراف 188) میں تو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں سوائے اس کے کہ جو اللہ چاہے آپ نے یہ اعلان بھی فرمادیا کہ اے لوگو ! انی …………رشدا (الجن 21) میں تمہارے حق میں بھی کسی نفع نقصان کا مالک نہیں ہوں۔ ہر قسم کے اختیارات اللہ ہی کے پاس ہیں۔ میرا کام یہ ہے کہ میں وحی الٰہی کا خود بھی اتباع کروں اور تم تک بھی پہنچادوں۔ کسی کو منزل مقصود تک پہنچا دینا یا نفع ونقصان پہنچانا میرے اختیار میں نہیں ہے فرمایا نہ تو وہ معبودان باطلہ خود اپنی مدد کرسکتے ہیں ولا ھم منا یصبحون اور نہ ہمارے طرف سے ان کی تائید کی جاتی ہے کہ وہ جس طرح چاہیں کریں۔
منجانب اللہ آسودگی :
فرمایا کہ جن معبودان باطلہ کی یہ لوگ پرستش کرتے ہیں۔ وہ تو کسی نفع نقصان کے مالک نہیں۔ حقیقت حال یہ ہے بل متعنا ھئولاء واباء ھم بلکہ ہم نے ان مشرکوں اور کافروں اور ان کے آبائو اجداد کو بھی فائدہ پہنچایا۔ ان کو سامان زیست فراوانی کے ساتھ عطا کیا۔ رفاہیت ، خوشحالی اور آسودگی عطا فرمائی حتی طال علیھم العمر یہاں تک کہ ان کی عمریں دراز ہوگئیں یعنی ان کو لمبی مدت تک خوشحالی عطا فرمائی۔ یہ آرام طلب ہو کر غفلت میں مبتلا ہوگئے۔ اور عقیدہ توحید کے بجائے شرک میں ملوث ہوگئے۔ پھر نبوت پر اعتراض کرنے لگے حتیٰ کہ اس کا انکار کردیا۔
کفار کا تنزل :
فرمایا افلا یرون انا ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اطراف سے گھٹاتے آرہے ہیں یعنی کفار کے پائوں کے نیچے سے زمین نکل رہی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اسلام کی ترویج کے ساتھ ساتھ کافروں کا تنزل شروع ہوچکا ہے اور ان کے علاقوں پر مسلمانوں کا تسلط قائم ہورہا ہے ، چناچہ قبیلہ غفار اور اسلم کی مثال ہمارے سامنے ہے یہ کثیر آبادی کے قبیلے مکہ سے لے کر شام تک کے علاقے میں پھیلے ہوئے تھے۔ حضرت ابوذر غفاری ؓ کی تبلیغ سے آدھا قبیلہ غفار مسلمان ہوگیا۔ پھر جب حضور ﷺ ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے آئے تو باقی آدھا قبیلہ بھی اسلام لے آیا۔ پھر جب اسلم قبیلہ والوں نے دیکھا کہ قبیلہ غفار اسلام لے آیا ہے تو وہ سارے بھی مسلمان ہوگئے اور اس طرح بہت بڑا علاقہ کفار کے قبضہ سے نکل کر مسلمانوں کے تسلط میں آگیا۔ پہلے یہ دونوں قبیلے لوٹ مار کرتے اور ڈاکے ڈالتے تھے۔ جب مسلمان ہوگئے تو حضور ﷺ نے ان کے حق میں دعا کی غفار غفر اللہ لھا اللہ تعالیٰ قبیلہ غفار کی غلطیوں کو معاف فرمائے واسلم سالمھا اللہ اور قبیلہ اسلم والوں کو اللہ تعالیٰ سلامتی میں رکھے۔ ان دو قبائل کے بعد پھر یمن ، خیبر اور دوسرے عرب خطے بھی مسلمانوں کے تسلط میں آگئے حتیٰ کہ حضور ﷺ کی وفات تک عرب کا سارا خطہ کفر سے پاک ہوچکا تھا۔ اس کے بعد عجم کے بڑے بڑے ملک بھی مسلمانوں کے زیرنگیں آگئے اور اللہ کا یہ فرمان پورا ہوگیا کہ کیا یہ کافر لوگ نہیں دیکھتے کہ ہم اطراف سے زمین کو گھٹاتے چلے آرہے ہیں یعنی ان پر اللہ کی زمین تنگ ہورہی ہے۔ افھم الغلبون کیا اب بھی یہ غلبے کی توقع رکھے ہوئے ہیں ؟
مسلمانوں کا زوال :
واقعہ صفین تک مسلمانوں کی عالمی ترقی نقطہ عروج تک پہنچ چکی تھی اور تقریباً نصف دنیا ان کے زیر نگیں آگئی تھی۔ پھر اس واقعہ نے مسلمانوں کے حالات میں تعطل (Deadlock) پیدا کردیا۔ اگرچہ ان کی عالمی تنظیم کمزور پڑگئی مگر ترقی کا دروازہ پھر بھی کھلارہا۔ البتہ وہ حرکت جو تیزی سے بڑھ رہی تھی اس میں کمی آگئی حتیٰ کہ چھ سو پچاس سال تک مسلمانوں کو عروج حاصل رہا اگر چہ ملوکیت کی وجہ سے کمزوریاں بھی آگئیں۔ ساتویں صدی میں مسلمانوں پر زوال کی ابتداء ہوئی۔ تارتاریوں کے حملے میں ایک کروڑ مسلمان ذبح کردیے گئے کتب خانے جلادیے گئے اور بحیثیت مسلمان ان پر بڑے مظالم ڈھائے گئے تنزل کا یہ سلسلہ آٹھ صدیوں سے جاری ہے اور ابھی تک مسلمانوں کا قدم نہیں جم سکا ، کہیں تھوڑا بہت چند دن کے لئے کوئی معاملہ درست ہوگیا ، تو کام اچھا ہوگیا ، وگرنہ اس دور میں اکثریت خود غرضوں ، عیاشوں اور سفاکوں کی رہی ہے۔ مسلمانوں کی عالمی تحریک برباد ہوگئی ہے اور اس وقت دنیا میں پچاس سے زیادہ ریاستیں ہونے کے باوجود ان کی کوئی وقعت نہیں ہے۔
حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ ابتدائی دور میں لوگ اسلام میں فوج درفوج داخل ہوئے جیسا کہ فرمایا ورایت……………افواجا (النصر 2) لیکن ایسا دور بھی آنے والا ہے جب لوگ اسلام سے فوج در فوج ہی نکلیں گے۔ اس قسم کے حوادثات ہمارے زمانے میں بھی ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔ ابھی تین چار سال کی بات ہے کہ بنگال کے دس لاکھ مسلمان عیسائی بن چکے ہیں۔ غربت و افلاس نے انہیں مرتد ہونے پر مجبور کردیا ہے۔ قیام پاکستان کے وقت یہاں عیسائیوں کی تعداد بالکل قلیل تھی مگر اب ان کی تعداد ساٹھ لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ یہ محض بھوک اور افلاس کی وجہ سے ہورہا ہے۔ عیسائی مشنریاں لوگوں کو مالی امداد فراہم کرتی ہیں۔ انہیں تعلیم دلاتی ہیں ، علاج معالج کی سہولتیں بہم پہنچاتی ہیں تو لوگ اسلام چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرلیتے ہیں۔ یہ چیزیں مسلمانوں کے زوال پر شاہد ہیں۔ گذشتہ پانچ سالوں میں افغانسان میں بیس لاکھ آدمی مارے جاچکے ہیں اور جو بےگھر ہوچکے ہیں ان کا کوئی شمار نہیں۔ عراق ، فلسطین اور فلپائن میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے۔ قبرص میں بیس لاکھ ترک ہلاک ہوچکے ہیں۔ آخر انہوں نے تنگ آکر جزیرے کے پانچویں حصے پر قبضہ کرلیا اور وہیں سمٹ کر رہ گئے۔ یہ وہی قبرص ہے جسے مسلمانوں نے فتح کیا اور سارے کا سارا مسلمانوں کے زیر تسلط رہا۔ مگر اب وہاں پر مسلمانوں کی قلیل تعداد بھی زندگی گزارنے سے عاجز ہے۔
ہندوستانی مسلمان :
ہندوستانی مسلمانوں کی حالت بھی کچھ کم ابتر نہیں ۔ احمد آباد اور دوسرے صوبوں میں ہزاروں مسلمان موت کا شکار ہوچکے ہیں۔ مولانا قاری محمد طیب صاحب (رح) نے ایک رسالے کو انٹرویو دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ مسلمان بہت سخت جان واقعہ ہوا ہے جو ہندو اکثریت کے سامنے ڈٹا ہوا ہے۔ اگر خون آشام فسادات کسی اور قوم کے خلاف ہوتے تو ان میں سے فرد واحد بھی زندہ نہ بچتا ، مگر اللہ کا شکر ہے کہ اس قدر قتل و غارت کے باوجود ہندوستان میں آج بھی پندرہ کروڑ مسلمان موجود ہیں۔ گزشتہ تیس پینتیس سال میں نہ ہزار سے زیادہ ہندو مسلم فسادات ہوچکے ہیں مگر پھر بھی مسلمان ہندوئوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے۔ ہندوئوں کے تعصب کے متعلق مولانا ابوالکلام آزاد (رح) نے ایک فقرہ کہا تھا کہ اگر دنیا دس لاکھ سال تک بھی قائم رہے تو ہندو کے ذہن سے تنگ نظر دور نہیں ہوسکتی ۔ اور مسلمانوں سے بدگمانی کبھی نہیں جائے گی۔ یہ اچھے آدمیوں کے متعلق ہمیشہ بدگمان رہتے ہیں ، اور برے آدمیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایک دفعہ مولانااحمد سعید صاحب مرحوم نے سیرت کے جلسہ میں کہا تھا جس میں تقریباً ایک لاکھ کے قریب آدمی تھے اور ہندو بھی کم وبیش چالیس ہزار موجود تھے۔ آپ نے اس جلتے میں سرعام کہا تھا کہ ہندو کا دل منافق کی قبر سے بھی زیادہ تنگ ہے ۔ الغرض ! ہندوستان کے مسلمان بھی آئے دن مظالم کا شکار ہوتے رہتے ہیں مگر ہندوئوں کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں۔
بہرحال میں نے عرض کیا کہ اسلام کے ابتدائی دور میں جس طرح زمین کافروں کے قبضے سے کھسک کر مسلمانوں کے قبضے میں آرہی تھی اب زوال کے زمانے میں مسلمانوں کے پائوں تلے سے نکل کر انگریزوں اور روسیوں اور دیگر کافروں کے قبضے میں جارہی ہے۔
خوف خدا بذریعہ وحی :
اللہ نے فرمایا قل انما انذرکم بالوحی اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں ، میں تمہیں وحی کے ذریعے ڈراتا ہوں ۔ مگر بدقسمتی کی بات یہ ہے ولا یسمع الصم الدعاء اذا اما ینذرون کو جتنا بھی ڈرایا جائے بہرے لوگ اس پکار کو سنتے ہی ہیں۔ جو لوگ اللہ کی دعوت پر توجہ ہی نہیں کرتے ان کا یہی حال ہے۔ اللہ نے کافروں کو مردوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ جو بظاہر زندوں کی بات نہ سنتے ہیں اور نہ اس سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ یا بہروں کے ساتھ جو سنتے ہی نہیں۔ ظاہر ہے کہ جو شخص کسی بات کو سنتا ہی نہیں ، وہ اس سے فائدہ کیا اٹھائیگا ؟ مگر اللہ نے ساتھ یہ وعید بھی سنا دی ہے ولئن مستھم نفحۃ من عذاب ربک اور اگر ان کافروں اور مشرکوں پر عذاب الٰہی کا ایک چھینٹا بھی پڑجائے یعنی ذرا بھی گرفت خداوندی وارد ہوجائے لیقولن یویلنا انا کنا ظلمین تو کہیں گے ہائے افسوس ! بیشک ہم ہی زیادتی کرنے والے تھے۔ یہ ہماری ہی غلطی کا نتیجہ ہے۔ اس وقت ان کا غرور ، تکبر اور اکڑفول سب ختم ہوجائیگی اور اپنی خباثت کا اقرار کریں گے۔ اللہ نے بعض دوسری قوموں کا بھی ذکر فرمایا کہ جب ان پر تباہی و بربادی آئی تو ان کی زبانوں پر یہی کلمہ تھا انا کنا ظلمین بیشک ہم ہی ظلم کرنے والے تھے۔ زیادتی ہمیں سے ہوئی جس کا نتیجہ آج بھگت رہے ہیں۔
Ayahs 21:47–50ربط آیات :
اس سورة مبر کہ کے اہم ترین مضامین توحید ، رسالت اور جزائے عمل ہیں گزشتہ درس میں ان کفار ومشرکین کو تنبیہ کی گئی تھی جو بےادبی اور گستاخی کرتے تھے۔ اللہ نے اپنے نبی آخر الزمان کو فرمایا کہ آپ کہہ دیجئے کہ میں وحی الٰہی کے ذریعے ڈراتا ہوں مگر جو لوگ بہرے ہیں ، وہ کہاں سنتے ہیں۔ فرمایا اگر خدا تعالیٰ کے عذاب کا ایک چھینٹا بھی ان کفارومشرکین پر پڑگیا تو ان کی ساری اکڑ ختم ہوجائے گی۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جزائے عمل کا مسئلہ بیان فرمایا ہے کہ یقینا ایک دن ایسا آنے والا ہے جب لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ بھگتنا پڑے گا۔ چناچہ یہاں پر اعمال کے وزن کی بات کی گئی ہے اور آگے نبی (علیہ السلام) اور آپ کے پیروکاروں کے لئے تسلی کا مضمون ہے۔
اعمال کا وزن :
ارشاد ہوتا ہے ونضع الموازین القسط لیوم القیمۃ اور ہم قیامت والے دن انصاف کے ترازو رکھیں گے۔ جب محاسبہ اعمال کی منزل آئے گی تو اعمال کو تولنے کے لئے ترازو قائم کیے جائیں گے فلا تسلم نفس شیئا پس کسی نفس پر ذرہ بھر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ اگر اچھے اعمال کیے ہیں تو ان کے مطابق درجات بلند ہوں گے اور اگر برے اعمال انجام دیے ہیں تو پھر سزا کا مستحق ہوگا ، کسی کے ساتھ بلاوجہ زیادتی نہیں کی جائے گی۔ میزان کے متعلق سورة اعراف میں بھی موجود ہے والوزن یومئذن الحق (آیت 8) اس دن کا وزن اعمال برحق ہے۔ اس آیت زیر درس میں اللہ تعالیٰ نے میزان کے لئے جمع کا صیغہ یعنی موازین استعمال فرمایا ہے بعض مفسرین اس کی توجیہہ یہ بیان کرتے ہیں کہ جمع کا صیغہ تعظیم کے لئے اور اس دن کی ہولناکی کے پیش نظر لایا گیا ہے ، تاہم ترازو ایک ہی ہوگا۔
اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے وہ ایک ہی ترازو پر ساری مخلوق کے اعمال تولنے پر قادر ہے۔ مگر زیادہ قرن قیاس نظریہ یہ ہے کہ قیامت والے دن بہت سے ترازو قائم کیے جائیں گے حتیٰ کے ہر مکلف کے لئے الگ میزان ہوگا۔ جس پر اس کے اعمال تولے جائیں گے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اعمال کے ہرگروپ کے لئے علیحدہ علیحدہ ترازو ہوں۔ مثلاً نماز کے لئے الگ اور روزے کے وزن کے لئے جدا جدا ترازو ہوں ، اسی طرح جہاد کے لئے الگ اور صدقہ خیرات کے لئے الگ میزان ہو۔ یہاں پر اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اعمال تو اعراض ہوتے ہیں اور ان کا کوئی مادی وجود نہیں ہوتا ، تو پھر ان کے تولنے کا کیا مطلب ؟ اسی لئے معتزلہ وغیرہ وزن اعمال کو تسلیم ہی نہیں کرتے ، ان کا نظریہ یہ ہے کہ اعمال کے تولنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام اعمال کی کیفیت کو ظاہر کردے گا اور کوئی عمل بھی مخفی نہیں رہے گا۔ مگر یہ نظریہ درست نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان برحق ہے اور تمام اہل حق اور اہل سنت اس بات پر متفق ہیں کہ میزان برحق ہے۔ چناچہ امام ابوحنیفہ (رح) کے علم عقائد کے رسالہ فقہ اکبر میں میزان کو برحق تسلیم کیا گیا ہے۔ حدیث کی کتابوں میں بھی میزان کا ذکر موجود ہے اور تمام اہل حق اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ البتہ جو لوگ اس باریک نقطہ کو نہیں سمجھ پاتے ان کے لئے مفسرین کرام نے یہ توجیہہ فرمائی ہے کہ اگر اعمال کی مادی شکل و صورت کی سمجھ نہیں آتی تو کم از کم اتنی بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ جن کاغذات پر یہ اعمال درج ہوں گے ، ان کا وزن تو کیا جاسکے گا۔ ظاہر ہے کہ کاغذات کا کچھ نہ کچھ تو وزن ہوگا ، اور پھر اسی وزن کے مطابق ہر شخص کا فیصلہ کیا جائے گا۔
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) کی بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے وہ فرماتے ہیں کہ عالم مثال میں تمام اعمال کا تشخص ہوتا ہے اور وہ اپنے اجسام کے ساتھ نظر آتے ہیں ، ہر عمل کا اپنا مخصوص وجود ہتا ہے۔ جو اس مادی جہان میں نظر نہیں آتا۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں پہنچ جائیں گے تو پھر موت کو ایک جانور کی شکل میں لایا جائے گا۔ اور پھر جنتیوں اور دوزخیوں سے پوچھا جائے گا کہ یہ کیا ہے ؟ وہ جواب دیں گے کہ یہ فلاں جانور ہے۔ وہ دراصل موت ہوگی۔ جسے جنت اور دوزخ کے درمیان کھڑا کرکے ذبح کردیا جائے گا۔ مطلب یہ کہ عالم مثاں میں تمام اعمال یا اعراض کا وجود ہوتا ہے جو ترازو میں تولا جائے گا۔ آج کل اس مسئلہ کو سمجھنا تو زیادہ آسان ہے۔ مثلاً گرمی اور سردی کا کوئی وجودنظر نہیں آتا ہے مگر تھرما میٹر کے ذریعے پتہ چل جاتا ہے کہ فلاں چیز میں کتنے درجے کی حرارت یا برودت ہے۔ اسی طرح بیرومیٹر کے ذریعے ہوا کا دبائو بھی معلوم کیا جاسکتا ہے اگرچہ اسکی کوئی شکل نظر نہیں آتی۔ تو اسی طرح اگر اعمال کا وزن بھی ہوسکے تو اس میں کون سی تعجب کی بات ہے۔ اس میں شک کرنا گمراہی کی بات ہے۔ ہمارا ایمان ہونا چاہیے کہ اعمال کا وزن پل صراط پر سے گزرنا وغیرہ برحق ہے اور ہر ایک کو اس مرحلہ سے گزرنا پڑے گا۔
حضرت دائود (علیہ السلام) کی درخواست :
علامہ زمخشری (رح) صاحب تفسیر کشاف لکھتے ہیں کہ حضرت دائود (علیہ السلام) اللہ کے نبی ، خلیفۃ اللہ اور صاحب کتاب رسول تھے۔ خود اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارے میں فرمایا یدائود………… الارض (ص 26) اے حضرت دائود (علیہ السلام) ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ نائب مقرر کیا ہے۔ آپ کے متعلق یہ بھی آتا ہے کان اعبد البشر یعنی آپ اپنے دور کے سب سے زیادہ عبادت کرنیوالے انسان تھے ۔ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔ وکان اذا القی عدوا لا یفر جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوجاتی تو کبھی پشت نہیں پھیرتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑی قوت عطا فرمائی تھی۔ غرضیکہ آپ بہت سی صفات کے ساتھ متصف تھے تو صاحب کشاف لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا ، مولا کریم ! میں وہ ترازو دیکھنا چاہتا ہوں جس پر قیامت کے دن لوگوں کے اعمال تولے جائیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے جونہی وہ ترازو آپ کو دکھایا آپ پر دہشت طاری ہوگئی۔ اور بیہوش ہو کر گر پڑے۔ جب ہوش آیاتو عرض کیا ، پروردگار ! یہ ترازو تو بہت بڑا ہے۔ ہماری اتنی نیکیاں کہاں ہوں گی جو اتنے بڑے ترازو کو پر کرسکیں ؟ اللہ نے فرمایا ، اے دائود ! اصل بات تو میری رضا ہے۔ اگر یہ کسی کے شامل حال ہوگئی تو کھجور کا ایک دانہ بھی اس ترازو کو بھر دے گا۔
بہرحال اللہ نے فرمایا کہ ہم انصاف کے ترازو رکھیں گے۔ دوسرے مقام پر یہ بھی آتا ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس صرف کفر ، شرک اور معصیت ہی ہے ، اس کے پاس کوئی نیکی نہیں ہے تو اس کے اعمال کو تولنے کی ضرورت نہیں ہگی فیئو خذ…………والاقدام (الرحمن 41) ایسے لوگوں کو سر اور پائوں سے پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ جیسا کہ سورة کہف میں ہے کہ جن کے نامہ اعمال میں ایمان اور نیکیاں نہیں ہونگی۔ بلکہ کفر ہوگا۔ ان کے اعمال نامے نہیں تولے جائیں گے فلا نقیم…………وزنا (الکہف 105) ہم ان کے لئے میزان قائم نہیں کریں گے۔ اسی طرح اگر کسی کی برائی نہیں ہے۔ صرف نیکیاں ہی نیکیاں ہیں تو ان کو بھی تولنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ البتہ جن لوگوں کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی ان کو اعراف میں رکھا جائے گا۔ پھر کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے انہیں جنت میں داخل کردے گا۔ اور جن کی نیکیاں کم اور برائیاں وزن میں بڑھ جائیں گی وہ جہنم میں داخل کیے جائیں گے۔ یہ ساری کیفیت صحیح احادیث میں موجود ہے۔
جزائے عمل :
آگے ارشاد ہوتا ہے وان کان مثقال حبۃ من خردل اتینا بھا اگر کسی کا رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی عمل ہوگا تو ہم اس کو لے آئیں گے۔ رائی کا دانہ بطور محاورہ استعمال ہوتا ہے مطلب یہ کہ چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی اگر ہوگا۔ تو وہ میزان میں رکھ دیا جائیگا۔
سورۃ الزلزال میں ہے فمن یعمل مثلاذرۃ جو ذرہ بھر بھی اچھا یا برا عمل کرے گا ؟ قیامت والے دن اس کو اپنے سامنے پالے گا۔ ذرہ دراصل چھوٹی سی سرخ چیونٹی کو کہتے ہیں۔ مطلب یہی ہے کہ چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی پیش کردیا جائے گا ، اور کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی۔ فرمایا وکفی بنا حسبین اور ہم کافی ہیں حساب لینے والے ۔ یعنی ہمارے محاسبے سے نہ کوئی چھوٹا عمل بچ سکتا ہے اور نہ بڑا۔ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز مخفی نہیں۔ وہ قیامت والے دن پورا پورا حساب لے گا۔ جن چیزوں کو آج لوگ اپنی ناقص عقل کی وج سے بعید سمجھتے ہیں ، وہ سب سمجھ میں آجائیں گے ۔ مگر اس وقت کا پچھتانا کسی کام نہیں آئے گا۔
فرقان اور ضیائ :
اب آگے تسلی کا مضمون ہے ولقد اتینا موسیٰ وھرون الفرقان وضیاء اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو فیصلہ کن چیز اور روشنی عطا فرمائی۔ فیصلہ کن چیز سے مراد اللہ کی کتاب تورات ہے جو حق اور باطل ، نیکی اور بدی کے درمیان امتیاز کرتی ہے اور ضیاء سے مراد ایسی چیزیں ہیں جن سے روشنی پیدا ہوتی ہے یعنی معجزات بعض اس کا الٹ معنی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فرقان سے مراد معجزات ہیں جب کہ ضیاء سے مراد کتاب الٰہی ہے۔ چناچہ قرآن کے بارے میں فرمایا ہے قد جاء کم……………مبین (المائدہ 15) تمہارے پاس قرآن پاک کی صورت میں واضح کتاب آئی ہے جو تمہارے لئے روشنی کا سامان پیدا کرتی ہے۔ سورة بقرہ کی ابتداء میں فرمایا کہ یہ قرآن شک وشبہ سے پاک کتاب ہے جو کہ ھدی للمتقین یعنی متقیوں کے لئے بمنزلہ ہدایت ہے۔ تورات کے متعلق بھی فرمایا انا انزلنا…………ونور (المائدہ 44) ہم نے تورات کو نازل فرمایا جس میں ہدایت اور نور ہے۔ پھر فرمایا واتینہ…………ونور (المائدہ 46) ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو انجیل عطا فرمائی جس میں ہدایت اور روشنی ہے اللہ نے قرآن کے متعلق یہ بھی فرمایا ہے ویخرجھم………………مستقیم (المائدہ 16) یہ لوگوں کو کفر وشرک کے اندھیروں سے نکال کر ایمان اور نیکی کی روشنی میں لاتا ہے۔ اور انہیں صراط مستقیم کی طرف راستہ دکھاتا ہے۔ کفر ، شرک ، نفاق ، معصیت ، رسومات باطلہ ھذا بصائر من ربکم (الاعراف 203) یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے بصیرت کی باتیں ہیں اور بصیرت کی بات وہ ہوتی ہے جو انسان کے دل کو روشن کرے اور وہ صحیح اور غلط میں امتیاز کرسکے۔ تو فرمایا ہم نے کتاب بھی دی ہے۔ اور ساتھ معجزات بھی جو یقینا روشنی کا ذریعہ بنتے ہیں وذکر ا للمتقین اور یہ خدا سے ڈرنے والوں کے لئے کتاب نصیحت بھی ہے۔ اس کتاب سے نصیحت پکڑ کر کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔
آگے اللہ نے متقیوں کی تعریف بھی فرمائی ہے کہ وہ کون لوگ ہیں۔ فرمایا الذین یخشون ربھم بالغیب جو اللہ تعالیٰ سے بن دیکھے ڈرتے ہیں۔ یومنون بالغیب (البقرہ 3) کا یہی مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ کو دیکھا تو نہیں ، نہ جنت اور دوزخ کو دیکھا ، نہ عالم برزخ کو دیکھا ہے مگر کتاب الٰہی کے بتانے پر اس پر ایمان لائے ہیں اور خدا تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ فرمایا ایک تو وہ اللہ تعالیٰ سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور متقیوں کی دوسری صفت یہ ہے وھم عن الساعۃ مشفقون اور وہ قیامت سے خوف کھاتے ہیں۔ محاسبہ اعمال کا مسئلہ ہمیشہ ان کے پیش نظر رہتا ہے کہ معلوم نہیں وہاں کیا صورت پیش آئے لہٰذا وہ محاسبہ اعمال سے بھی ڈرتے رہتے ہیں ظاہر ہے کہ جس شخص کے دل میں خوف ہوگا ، وہ اس چیز کی فکر بھی کریگا۔ اور جو کوئی بےخوف ہوگیا ہے وہ آخرت کی تیاری بھی نہیں کرے گا۔
بابرکت نصیحت :
فرمایا جس طرح موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو فیصلہ کن اور روشنی والی کتاب عطا فرمائی ، اسی طرح وھذا ذکر مبرک انزلنہ یہ قرآن پاک بھی ایک بابرکت نصیحت ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے۔ اس میں ہر قسم کی برکات رکھی ہیں۔ یہ خیر الدنیا والاخرۃ ہے۔ اس میں دنیا اور آخرت کی بھلائی پنہاں ہے۔ اللہ نے اس میں روحانی ، جسمانی اور ہر قسم کی مادی برکات رکھی ہیں۔ تمہارا فرض یہ ہے کہ اسے تسلیم کرکے اس پر عمل پیرا ہوجائو۔ سورة ہذا کی ابتداء میں بھی اللہ نے فرمایا ہے مایا تیھم……………استمعوہ (آیت 2) کتنی ناانصافی کی بات ہے کہ لوگ ہر نئی نصیحت کا انکار کردیتے ہیں فرمایا اس عظیم نصیحت نامے کو رد نہ کرو بلکہ اس پر ایمان لائو۔ اس پر عمل کرنے کی کوشش کرو اور اس کے مطابق اپنی فکر کو ڈھالو۔ افانتم لہ منکرون کیا تم اس کا انکار کرنیوالے ہو۔ یہ تو بہت بری بات ہے جس کا نتیجہ نہایت خراب نکلے گا ، لہٰذا اس کو سینے سے لگالو۔
Ayahs 21:51–57ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور قیامت کا ذکر کیا اور خاص طور پر رسالت کا بیان ہوا ۔ انبیاء (علیہم السلام) کے تذکرے کے سلسلے میں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر گزشتہ درس میں ہوچکا ہے۔ اور اب ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ ہورہا ہے۔ اس کے بعد نوح (علیہ السلام) اور بعض دیگر انبیائے کرام کا بیان ہوگا۔ انبیاء کے اس تذکرے میں ترتیب کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔ تاہم ان کو دعوت ، طریقہ تبلیغ ، اللہ کے حضور ان کی مناجات اور ان کے ساتھ نافرمانوں کے سلوک کو بیان کیا گیا ہے تاکہ حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کے لئے تسلی کا ذریعہ بن سکے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سمجھداری :
اب ابتداء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر سے ہوئی ہے۔ یہاں پر پہلے اللہ نے ان کی فضیلت بیان فرمائی ہے اور پھر ان کو بتوں کے ساتھ سلوک اور مشرکین کے ساتھ مکالمے کا ذکر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ولقد اتینا ابرھیم رشدہ من قبل اور البتہ تحقیق ہم نیحضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سمجھ عطا فرمائی اس سے پہلے ، رشد کا معنی ہدایت نیکی اور سمجھ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نیحضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کمال درجے کی سمجھ اور فہم عطا فرمایا تھا۔ من قبل سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی آخری کتاب قرآن اور اس کے لانے والے حضور خاتم النبین ﷺ سے پہلے ہم نیحضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سمجھ عطا فرمائی۔ اس سے مراد موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہونے والی کتاب تورات بھی مراد ہوسکتی ہے کہ تورات کے نزول سے پہلے ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خاص سمجھ عطا فرمائی۔ تاہم امام ابن کثیر (رح) اور بعض دوسرے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ من قبل سے یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ ہم نیحضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بچپن ہی میں یہ فضیلت عطا فرمائی۔ آپ بچپن سے ہی شرک اور بت پرستی سے بیزار تھے سورة الانعام میں موجود ہے وکذلک…………والارض (آیت 76) اور اس طرح ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمان اور زمین کی عظیم بادشاہی دکھائی ولیکون من الموقنین تاکہ وہ یقین رکھنے والوں میں ہوجائیں۔ اسی مقام پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایسے دلائل توحید سمجھائے جن کے سامنے مشرک لوگ لاجواب ہوگئے آپ میں کمال درجے کی علمی اور عملی استعداد تھی جو آپ کو بچپن میں ہی اللہ نے عطا کردی تھی۔ فرمایا وکنا بہ علمین اور ہم استعداد اور صلاحیت کو بخوبی جانتے تھے۔ اللہ جو خالق ہے ، وہ آپ کے حالات کو سب سے زیادہ جاننے والا تھا۔ آپ کو رشدوہدایت نبوت کے بعد نہیں بلکہ پہلے ہی حاصل ہوچکی تھی ، لہٰذا آپ نے بچپن میں بھی کبھی غیر معیار بات ہیں کی تھی ۔ تمام انبیاء میں بالعموم یہ بات ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ابتداء ہی سے ان کے لئے کمال درجے کی تربیت کا سامان مہیا کردیتا ہے۔
بتوں پر اعتراض :
ابحضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف سے دعوت توحید کا آغاز ہوتا ہے آپ اپنے باپ اور ساری قوم کو بتوں کی پرستش کرتے دیکھ رہے تھے اور دل ہی دل میں کڑھ رہے تھے کہ آخر یہ بت ان لوگوں کو کون سا فائدہ پہنچاتے ہیں جو یہ ان کی حدود درجہ تعظیم کرتے ہیں۔ ان کے سامنے رکوع اور سجدہ کرتے ہیں۔ ان پر پھول چڑھاتے اور ان کو نذرانے پیش کرتے ہیں۔ آخر ایک روز آپ کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا اذ قال لابیہ وقومہ جب آپ نے اپنے باپ اور قوم سے یوں کہا ، اس مقام پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کا نام نہیں لیا گیا ، البتہ سورة انعام میں آزر نام موجود ہے۔ بائبل میں ان کا نام تارخ ذکر کیا گیا ہے۔ دراصل تارخ ان کا ذاتی نام تھا اور آزر لقب تھا کیونکہ وہ مندر کے سردار اور کاہن تھے۔ گویا یہ دونوں نام ایک ہی شخصیت کے ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد ہیں۔
اس وقت پوری قوم بت پرستی میں مبتلا تھی۔ بتوں کے نام پر مندر بنائے ہوئے تھے اس میں ان کے بت رکھے ہوئے تھے اور ان کی پوجا کی جاتی تھی بتوں کی خریدوفروخت عام تھی لوگونے اپنے گھروں میں بھی بت رکھے ہوئے تھے جن کو اپنی حاجتیں پیش کرتے تھے اور ان پر چڑھاوے چڑھاتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ ایک دن نہ رہ سکے تو اپنے باپ اور باقی قوم کے لوگوں سے فرمایا ماھذہ التماثیل التی انتم لھا عکفون ان مورتیوں کی کیا حیثیت ہے جن پر تم جھکے پڑتے ہو۔ تم خود ہی یہ مجسمے تراشتے ہو اور پھر ان کو بنا سنوار کر ایک جگہ رکھ کر ان کی پوجا شروع کردیتے ہو۔ بھلا جن بتوں کو تم خود اپنے ہاتھوں سے تراش کر بناتے ہو ، وہ تمہاری کیا مدد کرسکتے ہیں ذرا اپنی عقل کو بروئے کار لائو اور سوچو کہ تم کیا کھیل کھیل رہے ہو۔ یہ بےجان اور بےحس و حرکت بت تمہیں کیا فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور تمہاری کون سی حاجت پوری کرسکتے ہیں ؟
اندھی تقلید :
قالواحضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سوال کے جواب میں آپ کے باپ اور باقی قوم نے کہا وجدنا اباء نا لھا عبدین ہم نے اپنے آبائو اجداد کو ان کی پوجا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، لہٰذا ہم بھی ان کی عبادت کر رہے ہیں گویا ہم نے اپنے باپ دادا کے دین پر ہیں جس طرح وہ کرتے آئے ہیں ہم بھی اسی طرح کرتے ہیں اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں جانتے۔ اسی بات کا نام اندھی تقلید ہے کہ کسی بات کا ہوا میں بغیر دلیل کے ساتھ دینے کی بجائے صرف یہ کہہ دیا جائے کہ ہمارے باپ دادا ایسے ہی کرتے آئے ہیں۔ حضور ﷺ کے زمانے کے مشرک بھی اسی ڈگر پر چل رہے تھے۔ وہ بھی اپنے آبائو اجداد کے طریقے کو اپنائے ہوئے تھے۔ چناچہ سورة البقرہ میں یہ ذکر موجود ہے۔ واذا قیل………………اباء نا (آیت 170) جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ کتاب کی اتباع کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اسی چیز کی اتباع کریں گے جس پر ہم نے اپنے آبائو اجداد کو پایا فرمایا اولوکان ابائوھم یا یعقلون شیا ولا یھتدون یہ اسی لکیر کے فقیر رہیں گے خواہ ان کے آبائو اجداد عقل وہدیات سے یکسرخالی ہو۔
ظاہر ہے کہ یہ کوئی دلیل نہیں بلکہ بےعقلی کی بات ہے کہ بغیر سوچے سمجھے اپنے آبائو اجداد ، قوم ، قبیلہ ، برادری یا ملکی رواج کو اپنا لیا جائے ، ہاں اگر آبائواجداد صحیح راستے پر ہوں اور ان کا راہ راست پر ہونا عقلی اور نقلی دلیل کے ساتھ ثابت ہو تو پھر اس کا راستہ ضرور اختیار کرنا چاہیے۔ جیسا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا تھا واتبعت………………ویعقوب (یوسف 38) میں تو اپنے آبائو اجداد ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کے دین کی پیروی کرتا ہوں ، وہ اللہ تعالیٰ کی واحدنیت کو ماننے والے ، خدا کے نبی اور نیکوکار بندے تھے۔ میں تو ان کے راستے پر چلنے والا ہوں ، مگر مشرک تو بےدلیل بات کرتے تھے کہ یہ شخص ہمیں خواہ مخواہ الجھارہا ہے۔ بھلا قصی بن کلاب اور دیگر بزرگ بےقوف تھے جن کے راستے سے ہمیں ہٹارہا ہے۔ اس قسم کی اندھی تقلید آج کے دور میں بھی برابر جاری ہے ، ہر اچھی بات کے مقابلے میں رسم و رواج کو پیش کیا جاتا ہے ۔ شادی موت کے رسومات ہوں یا ملکی اور علاقائی تقریبات ہوں ، قبروں پر چادر پوشی ہو یا عرض منانا ہو ، سب کی واحد دلیل ہے کہ ہمارے بزرگ ایسا ہی کرتے آئے ہیں۔ لہٰذا ہم بھی ان کی تقلید کر رہے ہیں ، اور اسی کا نام اندھی تقلید ہے جس کے ابراہیم (علیہ السلام) نے واضح الفاظ میں مذمت بیان فرمائی قال لقد کنتم انتم وابائوکم فی ضلل مبین البتہ تحقیق تم اور تمہارے آبائو اجداد کھلی گمراہی میں ہو۔ تمہارا عقیدہ سو فیصد غلط ہے جو کہ عقل کے بھی خلاف ہے کہ تم نے ان بےجان مورتیوں کو الٰہ بنارکھا ہے۔
دلائل توحید :
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دو ٹوک بات سن کر مشرکوں کے دلوں میں اضطراب پیدا ہوا ، اور وہ کہنے لگے قالون اجئتنا بالحق ام انت من اللعبین کیا تو یہ بالکل سچ بات کہہ رہا ہے کہ ہم اور ہمارے باپ دادا گمراہی میں مبتلا ہیں یا تو ہمارے ساتھ کھیل یعنی دل لگی کررہا ہے ؟ کہنے لگے کیا آپ اپنے دعویٰ میں سنجیدہ ہیں۔ یا محض ہمارا تمسخر اڑا رہے ہیں ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا ، میں آپ کے ساتھ کوئی ہنسی مذاق نہیں کررہا ہوں بلکہ پورے وثوق کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ مٹی اور پتھر کی بنائی ہوئی مورتیاں ، جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے ، یہ تمہارے معبود نہیں ہیں۔ قال بل ربکم رب السموت والارض بلکہ تمہارا پروردگار تو وہ ہے جو آسمان اور زمین کا پروردگار ہے۔ الذی فطرھن اور وہ وہی ہے جس نے ارض وسما کو پیدا کیا ہے۔ الہ وہی ہوسکتا ہے۔ جو خالق ، علیم کل ، قادر مطلق ، اور مربی ہو۔ اور جن کو تم پوجتے ہو ، یہ تو کسی بھی صفت کے مالک نہیں۔ پھر بھلا یہ کیسے الٰہ ہوسکتے ہیں۔ تمہارا پروردگار خالق ارض وسما وحدہ لاشریک ہے۔ وانا علی ذلکم من الشھدین اور میں اس معاملے میں پورے طریقے پر تمہارے سامنے بطور گواہ موجود ہوں۔ لہٰذا میری بات مانوں اور ان بتوں کی پرستش چھوڑ کر خدائے وحدہ لاشریک کے سامنے اپنا سر نیاز خم کردو کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
بت شکنی کا عزم :
قوم کو یہ وعظ ونصیحت اور دلائل توحید سمجھانے کے ساتھ ساتھ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بتوں کی بےبسی اور ان کے غیر مفیدہونے کا عملی نمونہ پیش کرنے کا عزم بھی کیا۔ فرمایا وت اللہ لاکیدن اصنامکم بعدان تولوا مدبرین خدا کی قسم میں تمہارے بتوں کا ضرور علاج کرونگا بعد اس کے کہ تم پیٹھ پھیر کر جائو۔ اس سے آپ کی مرادیہ تھی کہ جب تم یہاں موجود نہ ہوگے تو میں ان بتوں کو توڑ پھوڑ کر ان کا ستیاناس کردوں گا۔ پھر دیکھنا کہ یہ تمہاری مدد تو کیا خود اپنی مدد آپ بھی نہیں کرسکیں گے اور نہ اپنے آپ کو بچائو کرسکیں گے ۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ بات شاید حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے آہستگی سے کہی ہو اور کسی نے سنی ہو اور کسی نے نہ سنی ہو بہرحال آپ نے اپنے عزم کا اظہار کردیا۔ اور پھر جیسا کہ اگلی آیت میں بیان ہورہا ہے ، آپ نے ان مورتیوں کی خوب مرمت کی جس کے نتیجے میں آپ پر سخت ابتلا آئی اور آپ نے صبر کا دامن تھامے رکھا۔ اس واقعہ سے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کو صبر کی تلقین مراد ہے کہ ہر ابتلا میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اسوہ کو اپنے پیش نظر رکھو۔