21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 21:58–67

فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:58 in the Quran reader

پھر کر ڈالا (ابراہیم (علیہ السلام) نے) ان (مجسموں کو) ٹکڑے ٹکڑے مگر ان میں سے بڑا (جس کو چھوڑ دیا) تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں

قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 21:59 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ، کہ کس نے کیا ہے یہ (برا سلوک) ہمارے معبودوں کے ساتھ۔ بیشک البتہ وہ بہت ظلم کرنے والوں میں سے ہے

قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:60 in the Quran reader

تو کیا (لوگوں نے) سنا ہے ہم نے ایک جوان جو ان (معبودوں) کا ذکر کرتا ہے اس کو ابراہیم کہا جاتا ہے

قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰۤى اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَشْهَدُوْنَ Open ayah 21:61 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ، لائو اس کو لوگوں کے سامنے تاکہ وہ دیکھ لیں

قَالُوْۤا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَا یٰۤاِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:62 in the Quran reader

کہنے لگے ، کیا تو نے کیا ہے (سلوک) ہمارے معبودوں کے ساتھ ، اے ابراہیم

قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِیْرُهُمْ هٰذَا فَسْئَلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:63 in the Quran reader

انہوں نے کہا ، بلکہ کیا ہے یہ ان کے بڑے نے۔ پس پوچھو ان سے اگر یہ بولتے ہیں

فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْۤا اِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَۙ Open ayah 21:64 in the Quran reader

پس وہ لوٹے اپنے نفسوں کی طرف ، پھر کہنے لگے ، بیشک تم ہی البتہ ظلم کرنے والے ہو

ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ١ۚ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:65 in the Quran reader

پھر وہ اوندھے کردیے گئے اپنے سروں کے بل (کہنے لگے) بیشک تو جانتا ہے کہ یہ گفتگو نہیں کرتے

قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكُمْ شَیْئًا وَّ لَا یَضُرُّكُمْؕ Open ayah 21:66 in the Quran reader

کہا (ابراہیم (علیہ السلام) نے) کیا تم عبادت کرتے ہو اللہ کے سوا ان کی جو تم کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے کچھ بھی اور نہ تم کو نقصان دے سکتے ہیں

اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 21:67 in the Quran reader

افسوس تمہارے لئے اور تمہارے ان معبودوں کے لئے جن کی اللہ کے سوا تم پرستش کرتے ہو۔ کیا تم عقل نہیں رکھتے

ربط آیات : گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچپن ہی میں بہت سمجھ عطا فرمائی تھی ، چناچہ انہوں نے اپنے باپ اور باقی قوم کے لوگوں سے فرمایا تھا کہ یہ کیا مورتیاں ہیں جن پر تم جھکے پڑتے ہو ، کیا ان میں کوئی صلاحیت ہے کہ کسی کو نفع یا نقصان پہنچا سکیں ، یہ تو بالکل بےجان اور بےحس و حرکت بت ہیں ، بھلا یہ کیسے الٰہ ہوسکتے ہیں اور ان کی عبادت کیسے کی جاسکتی ہے ؟ غرضیکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرکین کو سخت طعن وملامت کی۔ تمثال مجسمہ کو کہا جاتا ہے جس کی جمع تماثیل آتی ہے۔ ویسے معنوی طور پر تمثال کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں اشغال کی وجہ سے انسان حقیقت سے غافل ہوجائے۔ مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی ؓ کسی جگہ سے گزر رہے تھے کہ آپ کی نظر کچھ لوگوں پر پڑی جو شطرنج کھیل رہے تھے ، تو آپ نے اس واقعہ پر یہی آیت تلاوت فرمائی ماھذہ التماثیل التی انتم لھا عکفون یہ کیسی مورتیاں ہیں جن پر تم جھکے جا رہے ہو۔ گویا ایسا لہو ولعب جو انسان کو یاد الٰہی سے غافل کردے ، تمثال کی تعریف میں آتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملامت کا جواب مشرکین نے یہ دیا کہ ہمارے باپ دادا ان بتوں کی اس طرح پوجا کرتے آئے ہیں ، لہٰذا ہم بھی ویسے ہی کر رہے ہیں اور ہم اسے ترک نہیں کریں گے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ تو اندھی تقلید ہے کہ تمہارے آبائو اجداد صریح گمراہی میں بھی ہوں تو تم ان کا طریقہ چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہو۔ مشرک کہنے لگے ، کیا تو سنجیدگی سے بات کررہا ہے یا ہمارے ساتھ دل لگی کرتا ہے۔ آپ نے فرمایا میں بالکل صحیح بات کررہا ہوں کہ پروردگار تو وہی ہے جو ارض وسما اور تمام چیزوں کا رب ہے اور میں اس بات پر پختہ گواہی دیتا ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ جب تم کہیں چلے جائو گے تو میں ان بتوں کی خوب مرمت کروں گا۔ چناچہ ایسے ہی ہوا ، اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے موقع پاتے ہی بتوں کو پاش پاش کردیا۔ تصور شیخ : حضرت شاہ اسماعیل شہید (رح) نے تصور شیخ کے نظریہ کو اسی آیت کے ساتھ رد کیا ہے کیونکہ بعض لوگ اس معاملہ میں غلو کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے شرک میں ملوث ہونے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ گویا شاہ صاحب نے تصور شیخ کو بھی تماثیل میں شمار کیا ہے۔ اصل میں بات یہ ہے کہ تصور شیخ کا نظریہ بزرگان دین نے اس لئے نکالا ہے کہ جس شخص کا دل ذکر الٰہی میں پختہ نہ ہوتا ہو اور دل میں انتظار پیدا ہوتا ہو تو ایسا شخص ذکر کرتے وقت یہ تصور کرکے کہ اس کا مرشد اس کے سامنے بیٹھا ہے اور وہ اسے سمجھا رہا ہے کہ اس طریقے سے ذکر کرو۔ اس طرح انسان میں دلجمعی پیدا ہو کر اسے ذکر کی طرف منہمک کرسکتی ہے۔ مگر بعض نے اس کا یہ مطلب لیا گویا کہ اس کا شیخ اس کے سامنے فی الواقع موجود ہے۔ یہی غلو ہے کہ اس نے اپنے شیخ کو حاضر ناظر سمجھ لیا ، جو کہ خدا تعالیٰ کی صفت ہے اور اس طرح شرک میں مبتلا ہوگیا۔ شاہ اسماعیل شہید (رح) نے اس غلو کی وجہ سے اس نظریہ کی مخالفت کی ہے۔ بتوں کی مرمت : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے عزم کی تکمیل یعنی بتوں کی مرمت کرنے کے لئے موقع کی تلاش میں تھے حتیٰ کہ قوم کا تہوار یا میلے کا دن آگیا جسے وہ شہر سے باہر جاکر منایا کرتے تھے۔ جب وہ لوگ اپنی عید منانے کے لئے تیار ہوئے تو انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی ہمراہ چلنے کی دعوت دی فنظر………………سقیم (الصفت 89 , 88) تو آپ ستاروں کی طرف دیکھ کر کہنے لگے کہ میں تو بیمار ہوں اور اس طرح آپ قوم کے ساتھ نہ گئے ، پھر جب وہ سب لوگ چلے گئے اور بت خانے کو دیکھ بھال کرنے والا کوئی باقی نہ رہا تو آپ اس کے اندر چلے گئے فجعلھم جذاذا الا کبیرا لھم اور بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا سوائے ان کے بڑے بت کے ۔ اور پھر یہ کیا کہ جس کلہاڑے کے ساتھ بتوں کو توڑا تھا وہ کلہاڑا بڑے بت کے گلے میں لٹکا دیا لعلھم الیہ یرجعون تاکہ جب وہ لوگ واپس آئیں تو اسی کی طرف رجوع کریں۔ اس مرجع کے متعلق مفسرین کرام کی دورائیں ہیں۔ پہلی رائے یہ ہے کہ مشرک لوگ بتوں کی یہ گت دیکھ کر بڑے بت کی طرح رجوع کریں گے جو کہ صحیح سلامت ہے تاکہ اس سے پوچھیں کہ ان باقیوں کو کیا ہوا۔ ویسے بھی چونکہ وہ لوگ ان بتوں کے پجاری تھے لہٰذا انہیں اپنے معبود کی طرف ہی رجوع کرنا چاہیے تھا۔ البتہ بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بتوں کی یہ حالت دیکھ کر شاید مشرک لوگ ان سے بیزار ہوجائیں اور اللہ وحدہ لا شریک کی طرف رجوع کریں کہ حقیقی معبود وہی ہے۔ بہرحال پہلا معنی زیادہ متبادر ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا انتہائی اقدام : ظاہر ہے کہ بتوں کو پاش پاش کردینا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا انتہائی اقدام تھا۔ آپ کفر وشرک سے سخت متنفر تھے ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچپن ہی میں سمجھ عطافرمائی تھی اور بڑا حوصلہ اور جرات عطا کی تھی اس وقت بادشاہ بڑا ظالم اور جابر تھا ، اس کی ساری رعایا بمع حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد اور دیگر عزیز و اقارب آپ کے مخالف تھے۔ ان حالات میں بت خانے میں داخل ہو کر بتوں کو توڑ دینا ایک انتہائی اقدام تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو پورا اندازہ تھا کہ ان کی قوم ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گی۔ اس لئے انہوں نے جان پر کھیل کر یہ کام انجام دیا۔ فتح مکہ پر بت شکنی : حضور ﷺ نے بھی اپنے جدامجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اتباع میں یہی کام کیا۔ جب حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ فاتحانہ انداز میں مکہ میں داخل ہوئے تو اس وقت خانہ کعبہ کے اندر اور باہر دیواروں کے ساتھ سینکڑوں بت رکھے ہوئے تھے۔ مکہ کے سارے مشرک مغلوب ہوچکے تھے اور کسی میں مزاحمت کی ہمت نہ تھی۔ آپ نے حکم دیا کہ جو بھی مشرک راستہ روکنے کی کوشش کرے اس کو راستہ سے زبردستی ہٹا دیا جائے ، اور جو گردن اٹھا کر آئے اس کی گردن اڑا دی جائے۔ جب آپ کو مکہ پر مکمل تسلط ہوگیا تو آپ نے تمام مقامات پر موجود بت توڑ دیے اور وہاں پر مسجدیں بنانے کا حکم دیا۔ حضور ﷺ نے حضرت جریر ؓ اور آپ کے ساتھیوں کو یمن میں ذی الخلصہ کی مہم پر روانہ فرمایا۔ وہاں پر مشرکوں نے بیت اللہ شریف کے مقابلے میں ایک جعلی خانہ کعبہ بنارکھا تھا جس کا طواف ہوتا تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا جب میں سنتا ہوں کہ مشرکوں نے بھی علیحدہ خانہ کعبہ بنارکھا ہے تو مجھے تکلیف ہوتی ہے شرک کے اس شعار کو مٹا کر مجھے راحت پہنچائو۔ چناچہ حضرت جریر ؓ کے ساتھ ڈیڑھ سو سواروں کا دستہ گیا جس نے اس نام نہاد خانہ کعبہ کو مٹا کر حضور ﷺ کی خدمت میں یہ خوشخبری بھجوادی ۔ آپ نے اس لشکر کے حق میں پانچ مرتبہ دعا فرمائی۔ شعائر شرک کا تلف کرنا ضیاع مالی نہیں : اس سے یہ بات پاثہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ حتیٰ الامکان شعائر شرک وکفر کو مٹانا ضروری ہے ۔ ظاہر ہے کہ اگر شرک کا ارتکاب حکومتی سطح تک ہورہا ہے تو پھر اس کے تدارک کے لئے اقتدار کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی شخص بغیر اقتدار کے از خود شرک کے نشانات کو مٹانے کی کوشش کرے گا تو اسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح جان پر کھیلنا ہوگا۔ پچھلی سورة میں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے تذکرے میں بھی پڑھ چکے ہیں کہ سامری کے بنائے ہوئے سونے کے بچھڑے کو موسیٰ (علیہ السلام) نے بالکل تلف کردیا تھا۔ یہ ایک قیمتی دھات تھی جسے دوسرے مصرف میں بھی لایا جاسکتا تھا ، مگر آپ نے اس کا برادہ بنا کر اس کو جلاڈالا اور پھر اس کی راکھ کو پانی میں بہادیا یا خشکی پر بکھیر دیا۔ مقصد یہ تھا کہ شرک کے اس نشان کو کلیۃً مٹا دیاجائے۔ اس کو قیمتی مال کا ضیاع بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ کام اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے کیا گیا تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی مٹی ، پتھر ، لکڑی اور قیمتی دھات سے بنے ہوئے بتوں کو توڑ پھوڑ کر ضائع کردیا تھا حالانکہ ان سے برتن یا آلات بھی بنائے جاسکتے تھے۔ آج کل اس قسم کی چیزیں عجائب گھروں میں سجائی جاتی ہیں اور یہ بھی غلط ہی اس سے کوئی نصیحت یا عبرت تو حاصل نہیں ہوتی ، شرک کے شعائر کو محض یادگار کے طور پر محفوظ کرلینا بجائے خود شرک کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔ یہ تغریے اور پتنگیں بھی شرک و بدعت کے نشانات ہیں۔ جبھی موقع ملے انہیں ضائع کردینا چاہیے ہاں اگر انسان میں ہمت نہیں ہے تو پھر ایسا کرنا فتنے سے خالی نہیں ہوگا۔ محمود غزنوی (رح) نے سومنات کا مندر فتح کیا تو اس کا قیمتی گیٹ اکھاڑ کر کابل لے گیا ، حالانکہ کفر وشرک کے اس شعار کو تلف کردینا چاہیے تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ہزار برس کے بعد ہندوئوں نے کابل والوں سے سوا لاکھ روپے کے عوض یہ دروازہ واپس لے لیا اور پھر مندر میں لگا دیا۔ حضرت عمر ؓ نے کسریٰ کے محل کا بہت قیمتی قالین حاصل کیا اور اس کو یادگار کے طور پر سنبھال کر رکھنے کی بجائے اس کو کاٹ کر مصلے بنوائے اور مجاہدین میں تقسیم کردیئے۔ مشرکین کا رد عمل : بہرحال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بتوں کو توڑ پھوڑ دیا۔ پھر جب لوگ تہوار منانے کے بعد واپس آئے تو بتوں کو اس حالت میں دیکھ کر قالوا من فعل ھذا بالھتنا انہ لمن الظلمین کہنے لگے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ بدسلوکی کس نے کی ہے ، بیشک ایسا شخص بےانصافوں میں سے ہے۔ قالوا ان میں سے بعض نے کہا سمعنا فتی یذکر ھم یقال لہ ابرھیم ہم نے ایک نوجوان کو ان بتوں کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے جس کو ابراہیم کہا جاتا ہے۔ اسی نے کہا تھا کہ میں ان بتوں کی مرمت کروں گا ، اسی نے یہ کام کیا ہوگا قالوا فالوا بہ علی اعین الناس لعلھم یشھدون چناچہ انہوں نے کہا کہ اس نوجوان کو لوگوں کے سامنے لائو تاکہ وہ خود ایسے شخص کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ اس نے ہمارے معبودوں کی توہین کی ہے ، لہٰذا اسے سزا ملنی چاہیے۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لایا گیا تو قالوآء انت فعلت ھذا بالیھتنا یا ابرھیم وہ کہنے لگے۔ اے ابراہیم ! کیا ہمارے معبودوں کے ساتھ تو نے یہ سلوک کیا ہے ؟ قال بل فعلہ کبیر ھم ھذا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب میں فرمایا ، بلکہ یہ کام ان کے اس بڑے نے کیا ہے فسئلوھم ان کانوا ینطقون انہی سے پوچھ لو اگر یہ بولتے ہیں۔ یہ بڑا بت صحیح سلامت موجود ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ اسی نے ناراض ہو کر یہ ساری کاروائی کی ہے۔ یہ کلہاڑا بھی اسی کے پاس ہے ، لہٰذا مجھ سے پوچھنے کی بجائے اسی سے اس واردات کے متعلق دریافت کرو۔ دنیا میں اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ طاقتور کمزوروں پر قابو پالیتے ہیں۔ بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو کھا جاتی ہیں اور بڑے سانپ چھوٹے سانپوں کو نگل جاتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہاں بھی ایسا ہی معاملہ ہوا ہو ، اور بڑے بت چھوٹے بتوں کہ تہس نہس کردیا ہو۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ بات محض مشرکوں کو الزام دینے اور لاجواب کرنے کے لئے کی۔ کذبات ثلاثہ : حدیث شریف میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قول بل فعلہ کبیرھم ھذا کو کذب کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے۔ وہاں یہ الفاظ ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کذب بیانی نہیں کی مگر تین باتوں میں جن میں اللہ تعالیٰ کی رضا مطلوب تھی ایک بات تو یہی تھی جس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بتوں کی توڑ پھوڑ کر متعلق فرمایا کہ ان کے بڑے نے کی ہے۔ دوسری بات یہ تھی کہ آپ مشرکین کے ساتھ تہوار میں جانے کے لئے انی سقیم کا بہانا کیا تھا کہ میں بیمار ہوں ، حالانکہ آپ حقیقتاً بیمار نہیں تھے۔ تیسرا واقعہ آپ کو مصر میں داخل ہوتے وقت پیش آیا ۔ آپ کے ساتھ آپ کی بیوی سارہ تھی۔ وہاں کے جابر بادشاہ کا یہ طریقہ تھا کہ اگر کوئی نووارد میاں بیوی داخل ہوتے تو خاوند کو قتل کروا دیتا اور عورت پر قبضہ کرلیتا اور اگر وہ بہن بھائی ہوتے تو انہیں چھوڑ دیتا۔ اس فتنے سے بچنے کے لئے انہوں نے حضرت سارا کو سمجھا دیا کہ اگر کوئی تم سے پوچھے تو کہہ دینا کہ ہم بہن بھائی ہیں۔ بعض لوگوں نے بخاری شریف اور ترمذی شریف کی سا صحیح حدیث کا محض اس بناء پر انکار کردیا ہے کہ اس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر کذب بیانی صادق آتی ہے جو اللہ کے جلیل القدر نبی کی شان کے شایان نہیں حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ ان کی ظاہری شکل و صورت کذب کی نظر آتی ہے مگر یہ جھوٹ نہیں ہے۔ اس کو تو ریہ یعنی ذومعنی کلام کہا جاتا ہے۔ ایسے کلام سے کلام کرنے والے کی مراد کچھ اور ہوتی ہے اور سمجھنے والا کوئی دوسرا مطلب اخذ کرتا ہے یہ تینوں باتیں اس زمرہ میں آتی ہیں۔ جہاں تک بل فعلہ کبیرھم ھذا کا تعلق ہے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اس سے یہ مطلب نہیں تھا کہ یہ کام ضرور اس بڑے بت نے ہی کیا ہے بلکہ یہ بات آپ نے استفہامیہ انداز میں کی کہ ذرا ان سے پوچھو تو سہی کہ کیا یہ کام اس بڑے نے کیا ہے ؟ دوسری بات اپنی بیماری کے متعلق تھی ، کہ میں بیمار ہوں۔ اس سے آپ کی مراد جسمانی بیماری نہیں تھی بلکہ آپ کا مطلب یہ تھا کہ تمہارے شرک کو دیکھ کر مجھے روحانی تکلیف ہورہی ہے سقیم فاعل کا صیغہ ہے اور اس سے یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ میں پہلے کسی وقت بیمار تھا یا آئندہ بیمار ہوسکتا ہوں۔ تیسری بات بیوی کو بہن کہنے والی ہے ، تو اس وقت اللہ کی زمین پر یہ دونوں میاں بیوی ہی تھے جو دین حق پر تھے اور انما المومنون اخوۃ (الحجرات 10) بھائی بھی تھے ، لہٰذا آپ نے اس طرح کا ذومعنی کلام کردیا اور بادشاہ کے شر سے بچ گئے۔ مشرکین کا اظہار تاسف : جبحضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرکوں کہ یہ لاجواب دلیل پیش کی کہ اس واقعہ کے متعلق خود ان بتوں سے پوچھو لو اگر یہ بولتے ہیں ، تو وہ سخت پریشان ہوئے فرجعوا الی انفسھم پس وہ لوٹے اپنے نفسوں کی طرف فقالوا انکم انتم الظلمون اور ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ واقعی تم خود ہی بڑے بےانصاف ہو اس بےانصافی کا مرجع یہ ہے کہ تم ایسی چیزوں کو معبود بناتے ہو جو بالکل بےاختیار ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بالکل درست فرما رہے ہیں حقیقت میں اس معاملہ میں زیادتی کرنے والے تم ہی ہو۔ اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم کتنے بیانصاف ہو کہ ان بتوں کو بےیارومددگار چھوڑ کر سب کے سب چلے گئے اور ان کی حفاظت کا کوئی انتظام ہی نہ کیا ، تاہم پہلا معنی زیادہ واضح ہے۔ انہوں نے پہلے تو اپنے آپ کو ملامت کیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ٹھیک ہی تو کہہ رہا ہے ثم نکسوا علی رء وسھم پھر وہ اپنے سروں کے بل اوندھے کردیے گئے۔ کہنے لگے ، اے ابراہیم ! تیری بات تو ٹھیک ہے کہ ہم انہی سے پوچھ لیں کہ ان پر کیا واردات گزری ہے مگر لقد علمت ما ھولاء ینطقون یہ تو تم بھی اچھی طرح جانتے ہو کہ یہ بت بولنے سے قاصر ہیں ، پھر بھلا ہم ان سے کیا دریافت کریں ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اظہار حقیقت : ابحضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اظہار حقیقت کا موقع مل گیا۔ آپ درس توحید دینے اور شرک کے رد کے لئے کسی ایسے ہی موقع کی تلاش میں تھے قال افتعبدون من دون اللہ مالا ینفعکم شیئا ولا یضرکم۔ فرمایا کیا تم اللہ کے سوا ان کی پوجا کرتے ہو جو نہ تمہیں کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ تم ان بتوں کی کیوں تعظیم کرتے ہو۔ ان کے سامنے سجدے اور رکوع کرتے ہو اور ان کے سامنے نذرانے کیوں پیش کرتے ہو۔ جب کہ یہ بولنے سے بھی عاجز ہیں فرمایا اف لکم ولما تعبدون من دون اللہ افسوس ہے تم پر بھی اور ان پر بھی جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو افلا تعقلون کیا تم میں عقل کا کوئی مادہ نہیں ہے ؟ بھلا سوچو تو سہی کہ تم کن چیزوں کی پرستش کر رہے ہو جن میں کوئی صلاحیت اور استعداد ہی نہیں ہے ۔ یہ نہ تو نفع نقصان کے مالک ہیں ، نہ علیم کل اور قادر مطلق ہیں حتیٰ کہ بولنے سے بھی قاصر ہیں تو تم نے انہیں معبود کیسے ٹھہرا لیا ہے ؟ غرضیکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بتوں اور خود ان کے پجاریوں کو خوب مطعون کیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اجمالی طور پر قوم کے آپ کے ساتھ سلوک کا ذکر کیا ہے۔ دوسری سورتوں میں اس واقعہ کی مزید تفصیلات بھی موجود ہیں۔
Ayahs 21:68–77

قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَ انْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:68 in the Quran reader

کہا ان لوگوں نے جلا ڈالا اس (ابراہیم (علیہ السلام) کو ، اور مدد کرو اپنے معبودوں کی اگر تم کچھ کرنے والے ہو

قُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ Open ayah 21:69 in the Quran reader

ہم نے کہا ، اے ، آگ ! ہوجا تو ٹھنڈی اور سلامتی والی ابراہیم پر

وَ اَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِیْنَۚ Open ayah 21:70 in the Quran reader

اور ارادہ کیا انہوں نے ان کے ساتھ بری تدبیر کا ، پس کہ دیا ہم نے ان کو نقصان اٹھانے والے

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا لِلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:71 in the Quran reader

اور ہم نے نجات دی اس (ابراہیم (علیہ السلام) ) کو اور لوط (علیہ السلام) کو اس سرزمین کی طرف جس میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں جہان والوں کے لئے

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ١ؕ وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةً١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ Open ayah 21:72 in the Quran reader

اور بخشا ہم نے اس کے لئے اسحاق (بیٹا) اور یعقوب (پوتا) زائد۔ اور سب کو بنایاہم نے نیک

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءَ الزَّكٰوةِ١ۚ وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَۚۙ Open ayah 21:73 in the Quran reader

اور بنایا ہم نے ان کو پیشوا جو ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے مطابق اور ہم نے وحی کی ان کی طرف نیکیاں کرنے ، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی۔ اور تھے وہ سب ہماری ہی عبادت کرنے والے

وَ لُوْطًا اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا وَّ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَبٰٓئِثَ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فٰسِقِیْنَۙ Open ayah 21:74 in the Quran reader

اور لوط کو بھی ہم نے حکمت اور علم دیا۔ اور ہم نے نجات دی اس کو اس بستی سے کہ جس کے باشندے خبیث کام کرتے تھے۔ بیشک تھی وہ قوم بری فاسقوں کی

وَ اَدْخَلْنٰهُ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۠ Open ayah 21:75 in the Quran reader

اور داخل کیا ہم نے اس کو اپنی (خاص) رحمت میں ، بیشک وہ نیکوں میں تھا

وَ نُوْحًا اِذْ نَادٰى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 21:76 in the Quran reader

اور نوح (علیہ السلام) کو جب کہ پکارا اس نے اس سے پہلے ۔ پس ہم نے قبول کیا اس کی دعا کو۔ پس ہم نے نجات دی اس کو اور اس کے گھر والوں کو بڑی بےچینی سے

وَ نَصَرْنٰهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 21:77 in the Quran reader

اور ہم نے مدد کیا س کی قوم کے مقابلے میں جنہوں نے۔ ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا۔ بیشک وہ لوگ برے تھے ، پس ہم نے غرض کردیا ان سب کو

ربط آیات : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرکین کے مندر میں داخل ہو کر ان کے بتوں کہ تہس نہس کردیا۔ سوائے ایک بڑے بت کے کہ اسے صحیح سلامت چھوڑ دیا جب وہ لوگ اپنا تہوار منا کر واپس آئے تو اپنے بتوں کی یہ گت بنی ہوئی دیکھی بڑے ناراض ہوئے اور ملزم کی تلاش شروع کردی۔ آخرحضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بلالائے اور اس کاروائی کے متعلق دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا ، مجھے کیوں پوچھتے ہو ، اس بڑے بت سے دریافت کرو جو ان میں زندہ سلامت موجود ہے اور شاید یہ کاروائی اسی نے کی ہو۔ مشرک لوگ پہلے تو خود شرمسار ہوئے اور پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہم بھلا ان بتوں سے کیا پوچھیں ، یہ تو بولتے ہی نہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حق بات کہنے کا موقع مل گیا ، کہنے لگے تم پر صد افسوس ہے اور تمہارے ان معبودوں پر بھی کہ تم ایسی چیزوں کی عبادت کر رہے ہو جو کسی کو نفع نقصان نہیں پہنچا سکتے ، کچھ تو عقل کی بات کرو۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سوختگی کا منصوبہ : جب مشرک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات کا جواب نہ دے سکے تو انہوں نے وہی حربہ اختیار کیا جو عام طور پر جہال لوگ ایسے موقع پر اختیار کرتے ہیں یعنی دلیل سے بات کرنے کی بجائے غنڈہ گردی پر اتر آئے۔ انہوں نے آپس میں صلاح مشورہ کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا قالو حرقوہ کہنے لگے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں جلا ڈالو وانصروا الھتکم ان کنتم فعلین اور اپنے معبودوں کی مدد کرو ، اگر کچھ کرنا چاہتے ہو۔ چونکہ بادشاہ سے لے کر ادنیٰ آدمی تک پوری کی پوری قوم مشرک تھی ، اس لئے انہوں نے یہی فیصلہ کیا کہ کسی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ختم کردیا جائے تاکہ آئندہ اسے ہمارے معبودوں کی توہین کرنے کا موقع نہ ملے۔ چناچہ انہوں نے آپ کو ختم کرنے کے لئے زندہ جلا ڈالنے کی سخت ترین سزا تجویز کی زنا جیسے قبیح جرم کی سزا سنگساری ہے جو سابقہ اقوام میں بھی رائج تھی اور ہماری شریعت میں بھی برقرار ہے ، مگر اس سے بھی سخت سزا جلا ڈالنے کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے بندوں کو یہ سزا دینے کا اختیار کسی کو نہیں دیا۔ حدیث شریف میں آتا ہے ۔ کہ کسی آدمی کو آگ میں ڈالنے کی سزا نہیں دی جائے کیونکہ یہ سخت ترین سزا اللہ تعالیٰ خود مشرکین کو دیگا۔ بہرحال مشرکین نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سوختگی کی سز دینے کا فیصلہ کرلیا۔ کہتے ہیں کہ اس حکم پر عمل درآمد کے لئے ایک ماہ کا وقفہ دیا گیا اور اس دوران میں آگ جلانے کے لئے وسیع پیمانے پر ایندھن جمع کرنے کی مہم شروع ہوئی ، سب لوگوں نے اس کام میں اپنا اپنا حصہ ڈالا ، حتیٰ کہ جو عورت بیمار ہوجاتی یا اس کا بچہ بیمار ہوجاتا تو وہ منت مانتی کو شفایابی پر ابراہیم (علیہ السلام) کی آگ کے لئے اتنا ایندھن جمع کروں گی۔ جب ایندھن جمع ہوگیا تو مقررہ تاریخ پر آگ جلائی گئی جس کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے۔ اب ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکنے کا مسئلہ تھا۔ تو آپ کے کپڑے اتار کر بالکل برہنہ کردیا گیا اور آپ کو پھینکنے کے لئے منجنیق استعمال کرنے کا فیصلہ ہوا۔ یہ ایک توپ کی قسم کا آلہ ہوا کرنا تھا جس پر پتھر باندھ کر اس کی چرخی کو گھماتے تھے تو وہ پتھر یا بارود وغیرہ دشمن کے صفوں میں دورتک مار کرتا تھا۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو برہنہ حالت میں رسیوں کے ساتھ منجنیق پر باندھ دیا گیا اور اس کی چرخی گھما کر آگ کے وسط میں پھینک دیا گیا۔ بخاری اور ترمذی شریف کی حدیث میں آتا ہے کہ حشر کے میدان میں سب لوگ برہنہ ہوں گے تو اللہ تعالیٰ سب سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو لباس پہنائیں گے ، آپ کو یہ اعزاز مشرکین کی طرف سے برہنہ کرکے آگ میں پھینکنے کے عوض میں ملے گا۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی سلامتی کا حکم : جب مشرکوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینک دیا تو اللہ کی طرف سے حکم ہوا قلنا ینارکونی بردا وسلم ا علی ابرھیم ہم نے کہا اے لوگ ! ابراہیم (علیہ السلام) پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جا۔ خبردار آپ کو جلانا نہیں۔ تفسیری روایات کے مطابق ابراہیم (علیہ السلام) تین دن ، چالیس دن یا پچاس دن اس آگ میں پڑے رہے مشرکین کو یقین ہوگیا کہ آپ بھسم ہوچکے ہوں گے مگر ادھر سے اللہ کا حکم بھی ہوچکا تھا ، لہٰذا آگ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور ابراہیم (علیہ السلام) کے جسم کا ایک بال بھی ضائع نہ ہوا۔ صرف وہ رسیاں جل گئیں جن سے آپ کے ہاتھ پائوں باندھے گئے تھے اور اس طرح آپ ان رسیوں سے بھی آزاد ہوگئے اور اللہ نے آپ کو زندہ سلامت رکھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آگ کو ابراہیم (علیہ السلام) کو جلانے سے روک دیا تھا۔ اور جلا ڈالنے والی آگ بطور معجزہ آپ پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بن گئی۔ علت اور معلول کا رشتہ : مولانا عبدالباری (رح) نے سائنس کے متعلق کتاب لکھی ہے جس میں بہت سے سائنس دانوں کے اقوال نقل کیے ہیں۔ ان میں ایک قول یہ بھی ہے کہ ہر سبب جب مسبب سے ملتا ہے تو وہ حکم کا منتظر ہوتا ہے کہ اس سبب کا اثر ظاہر کروں یا نہ کروں۔ اللہ تعالیٰ تمام چیزوں کا مسبب الاسباب ہے۔ وہ جب چاہتا ہے کسی سبب کے اثر کو ظاہر کردیتا ہے اور جب چاہتا ہے اس اثر کو روک لیتا ہے ، اور جیسا کہ عرض کیا ہے اس اصول کو جدید سائنسدانوں نے بھی تسلیم کیا ہے۔ گویا سبب اور مسبب ، علت اور معلول یا Cause اور Effect کے درمیان یہ ربط عقلی طور پر لازمی نہیں بلکہ جدا بھی ہوسکتا ہے۔ چناچہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا تو مذکورہ بالا اصول کے تحت سبب یعنی آگ نے اپنے اثر کو روک لیا اور اس طرح ابراہیم (علیہ السلام) جلنے سے بچ گئے امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں وخرم نظام اللزوم غیر مرضی یعنی نظام قدرت میں علت اور معلول کے تلازم کو باطل کرنا پسندیدہ امر نہیں ہے۔ عام طور پر اللہ تعالیٰ علت اور معلول کے رشتے کو قائم رکھتا ہے اور علت معلول پر اثر انداز ہوجاتی ہے ، تاہم کبھی کبھی اس کے برعکس ہوجاتا ہے اور علت اپنا اثر ظاہر نہیں کرتی چونکہ یہ چیز عام عادت کے خلاف ہوتی ہے اس لئے اس کو معجزے سے تعبیر کیا جاتا ہے ، تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ معجزہ ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ عزت بخشی کہ آگ کے جلا ڈالنے کے اثر کو موقوف کردیا۔ اس قسم کی مثال بعض دوسری چیزوں میں بھی ملتی ہے مثلاً پیاس کے مریض کو پانی کا پورا تالاب پلادو اس کی پیاس نہیں بجھتی کیونکہ اللہ نے سبب کے اثر کو زائل کردیا ہے اور وہ عادت کے خلاف پیاس نہیں بجھاتا۔ مشرکوں کی ناکامی : ارشاد ہوتا ہے وارادوا بہ کیداً مشرکوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو جلاڈالنے کا برا ارادہ کیا تھا۔ فجعلنھم الا خسرین مگر ہم نے ان کو خسارہ اٹھانے والا بنادیا۔ وہ ذلیل و خوار ہو کر رہ گئے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کا آگ سے بچ جانا کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا مگر آپ آگ میں بھی صحیح سلامت رہے اور مشرکوں کی ساری تدبیر ناکام ہوگئی۔ اپنی اس واضح شکست اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود وہ لو گ ایمان نہ لائے بلکہ اپنی پرانی دشمنی پر اڑے رہے اور آئندہ کے لئے مزید منصوبہ بند کرنے لگے۔ بائبل میں ہے کہ اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ابراہیم ! گھبرائو نہیں۔ یہ لوگ تمہیں اس دنیا سے ختم کرنا چاہتے ہیں مگر میں تیری اولاد کو ریت کے ذرات کی طرح دنیا میں پھیلائوں گا۔ چناچہ آج دنیا کی اکثر آبادی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد پر ہی مشتمل ہے حالانکہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو ابراہیم (علیہ السلام) کی کوئی اولاد نہ تھی۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑھاپے میں بیٹے عطا فرمائے جن کی نسل آگے چلی۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت اور اولاد : انبیاء (علیہم السلام) کی زندگی میں ہجرت بھی ایک اہم موڑ آتا ہے جب ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ مشرکوں کی دشمنی کسی طرح بھی کم نہ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بابل سے ہجرت کرجانے کا حکم دے دیا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ وخینہ ولوطا الی الارض التی برکنا فیھا للعلمین ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے بھتیجے لوط (علیہ السلام) کو نجات دی اس سر زمین کی طرف جس میں ہم نے جہان والوں کے لئے برکتیں رکھی ہیں۔ اس سے مراد شام و فلسطین کی سرزمین ہے ، جس جگہ کے لئے آپ کو ہجرت کرجانے کا حکم ہوا۔ آپ کا بھتیجا لوط بن حاران بن آزر بچپن ہی سے آپ کے پاس رہتا تھا اور ایماندار تھا ، تو ہجرت میں وہ بھی آپ کے ساتھ تھا۔ آپ کو اللہ نے کمال درجے کا علم اور حکمت عطا فرمائی تھی ۔ چناچہ سفر ہجرت کے دوران ہی اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا فرمائی اور حکم دیا کہ وہ شرق اردن کے علاقے میں سدوم ، صحودہ ، دوامہ وغیرہ کی بستیوں میں جاکر اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچائیں۔ فرمایا کہ ایک تو ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ہجرت کے ذریعے ظالم قوم سے نجات دلائی اور دوسر ووھبنا لہ اسحاق اور آپ کو اسحاق جیسا عظیم بیٹا بھی عطا فرمایا۔ مفسر فراہی (رح) بیان کرتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے پہلے آپ کو حضرت ہاجرہ کے بطن سے حضرت اسماعیل علیہ اسلام جیسا عظیم المرتبت بیٹا عطا فرمایا اور پھر اس کے سولہ سال بعد اسحاق (علیہ السلام) عطا کیا۔ آپ نے تو صرف بیٹے کے لئے ہی دعا کی تھی ، مگر اللہ تعالیٰ نے یہ انعام بھی کیا کہ ان کی زندگی میں ویعقوب نافلۃ حضرت یعقوب (علیہ السلام) جیسا پوتا بھی عطا کیا۔ نافلہ زائد چیز کو کہا جاتا ہے اور مطلب یہی ہے کہ خواہش تو صرف بیٹے کی تھی۔ مگر اللہ نے پوتا بھی دکھلا دیا۔ فرمایا وکلا جعلنا صلحین ہم نے سب کو نیکوکار بنایا۔ صالح تو عام ایماندار کو بھی کہا جاتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق اور یعقوب (علیہما السلام) کو اعلیٰ درجے کی صلاحیت اور نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا۔ وجعلنھم ائمۃ یھدون بامرنا اور ہم نے انہیں پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے مطابق لوگوں کی ہدایت کا سامان کرتے تھے ، یعنی فریضہ نبوت و رسالت ادا کرتے تھے۔ پھر فرمایا واوحینا الیھم ہم نے ان کی طرف وحی کی فعل الخیرات نیکیوں کے کرنے کی واقام الصلوٰۃ اور نماز کے قیام کی وایتاء الزکوٰۃ اور زکوٰۃ کی ادائیگی کی وکانوا لنا عبدین اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے۔ یہ سب کے شب وروز ہماری عبادت میں مشغول رہتے تھے۔ جب اللہ نے نبوت و رسالت عطا فرمائی تو وہ اس کا شکریہ بھی ادا کرتے تھے۔ لوط (علیہ السلام) کا تذکرہ : فرمایا ولوطا اتینہ حکما وعلما اور لوط (علیہ السلام) کہ ہم نے انہیں حکمت اور علم عطا فرمایا۔ آپ کو فہم اور سمجھ عطا فرمائی۔ پیچھے گزر چکا ہے ولقد…………رشدہ (آیت 51) ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بچپن میں ہی کمال درجے کی سمجھ عطا فرمائی۔ اسی طرح اللہ نے لوط (علیہ السلام) کو بھی کمال درجے کی دانائی اور علم سے نوازا تھا۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دوران سفر ہی لوط (علیہ السلام) کو نبوت عطافرمائی اور تبلیغ حق کے لئے شرق اردن کے علاقے میں مامور کیا وہاں پر آپ نے لمبا عرصہ گزارا ، شادی بھی وہیں ہوئی مگر وہ لوگ مشرک تھے اور نہایت غلط اور گندے کام کرتے تھے۔ آپ کو اللہ نے بیٹیاں بھی عطا فرمائیں جو ایمان لے آئیں مگر بیوی مشرکہ ہی رہی۔ جب اس بستی کے مظالم لوط (علیہ السلام) پر بہت بڑھ گئے تو اللہ نے فرمایا ونجینہ من القریۃ التی کانت تعمل الخبئث ہم نے لوط (علیہ السلام) کو ان بستی والوں سے نجات دلائی جس کے لوگ خبیث کام کرتے تھے۔ سورة العنکبوت میں ہے ائنکم……………السبیل (آیت 29) لوط (علیہ السلام) نے قوم سے سے فرمایا کہ تم خلاف وضع فطرت کام کرتے ہو اور لوگوں کا راستہ کاٹتے ہو ، اور ان کو پتھر مارتے ہو۔ یہ لوگ اپنی مجلسوں میں سرعا لواطت کرتے تھے۔ طبری کی روایت میں آتا ہے کہ زور زور سے گوز مارتے تھے ، کبوتر بازی کرتے تھے۔ تو فرمایا ہم نے نجات دی لوط (علیہ السلام) کو غلط کام کرنے والوں کی بستی سے انھم کانوا قوم سوء فسقین یہ برے لوگ تھے اور حد سے زیادہ نافرمان تھے۔ اللہ نے آپ کو اس قوم سے نجات دلائی اور قوم کو سخت عذاب میں مبتلا کیا۔ ان پر آسمان سے آگ اور پتھر برسے اور ان کی بستی الٹ دی گئی۔ اور لوط (علیہ السلام) کے بارہ میں فرمایا وادخلنہ فی رحمتنا ہم نے ان کو اپنی رحمت خاصہ میں داخل کیا انہ من الصلحین بیشک وہ نیکوکاروں میں سے تھے۔ آپ خدا کے پاکباز رسول تھے۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم سے نجات : آگے حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر اس طرح ہوتا ہے ونوحا اذ نادی من قبل اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو بھی نجات بخشی کہ انہوں نے اس سے پہلے پکارا سے پہلے سے مراد یہ ہے کہ نوح (علیہ السلام) کا زمانہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے بھی ہزاروں سال پہلے کا ہے نوح (علیہ السلام) نے طویل عرصہ تک اپنی قوم کو تبلیغ کی مگر رہ راہ راست پر نہ آئے بلکہ الٹا اللہ کے پیغمبر کو تکالیف پہنچاتے رہے۔ آخر تنگ آکر آپ نے اللہ سے درخواست کی کہ مولا کریم ! ان لوگوں کا فیصلہ فرمادے۔ اللہ نے فرمایا فاستجبنا لہ ہم نے ان کی دعا کو شرف قبولیت بخشا فنجینہ واھلہ من الکرب العظیم اور آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو سخت بےچینی سے نجات دلائی جو آپ کو ہر وقت لاحق رہتی تھی ونصرنہ من القوم الذین کذبوا بایتنا ہم نے ان کی مدد کی اس قوم کے مقابلے میں جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے۔ انھم کانوا قوم سوء بیشک وہ برے لوگ تھے ساری کی ساری قوم بدبخت تھی۔ سورة الاعراف میں ہے قوما عمین (آیت 640) ساری قوم اندھی تھی ۔ یہ آنکھوں سے اندھے نہیں تھے بلکہ ان کے دل کی آنکھیں اندھی تھیں اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم تھے صرف وہ لوگ ایمان لائے جو آپ کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے اور ان کی تعداد اسی کے قریب تھی۔ ان کے علاوہ آپ کی بیوی اور بیٹا بھی نافرمان تھے۔ اللہ نے فرمایا فاغرقنھم اجمعین ہم نے ان سارے نافرمانوں کو پانی میں ڈبو کر ہلاک کردیا اور اس طرح نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم سے نجات دلائی۔ ان تمام واقعات میں نبی (علیہ السلام) اور آپ کے رفقاء کے لئے تسلی کا مضمون ہے کہ دیکھو اللہ کے سابقہ نبیوں کے ساتھ بھی بڑی بڑی بدسلوکیاں کی گئیں اور منکرین تباہ وبرباد ہوئے۔ اسی طرح آپ کے مخالفین بھی تباہ ہوں گے ، آپ اطمینان رکھیں اور اپنا کام جاری رکھیں۔
Ayahs 21:78–82

وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ اِذْ یَحْكُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ١ۚ وَ كُنَّا لِحُكْمِهِمْ شٰهِدِیْنَۗۙ Open ayah 21:78 in the Quran reader

اور دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کو دیا ہم نے علم اور حکمت۔ جب کہ وہ فیصلہ کرتے تھے دونوں کھیتی کے معاملہ میں جب کہ رات کے وقت کھیتی کو روند دیا ایک قوم کی بکریوں نے۔ اور تھے ہم ان کے فیصلے کے وقت حاضر

فَفَهَّمْنٰهَا سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ كُلًّا اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا١٘ وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَ الطَّیْرَ١ؕ وَ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:79 in the Quran reader

پس ہم نے سمجھا دیا وہ معاملہ سلیمان (علیہ السلام) کو ، اور ہر ایک کو دیا ہم نے حکم اور علم۔ اور ہم نے مسخر کردیا دائود (علیہ السلام) کے ساتھ پہاڑوں کو۔ وہ تسبیح کرتے تھے ، اور پرندوں کو۔ اور تھے ہم ہی کرنے والے

وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ Open ayah 21:80 in the Quran reader

اور ہم نے سکھایا اس کو لباس بنانا تمہارے لئے تاکہ وہ بچائے تمہیں تمہاری لڑائی کے وقت۔ پس کیا تم شکر ادا کرنے والے ہو

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَةً تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ كُنَّا بِكُلِّ شَیْءٍ عٰلِمِیْنَ Open ayah 21:81 in the Quran reader

اور سلیمان (علیہ السلام) کے لئے تیز ہوا کو مسخر کیا۔ وہ چلتی تھی اس کے حکم سے اس سرزمین کی طرف جس میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں۔ اور تھے ہم ہر چیز کو جاننے والے

وَ مِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَ یَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ كُنَّا لَهُمْ حٰفِظِیْنَۙ Open ayah 21:82 in the Quran reader

اور جنات میں سے بعض وہ تھے جو غوطہ لگائے تھے اس کے لئے ، اور کچھ کام کرتے تھے اس کے علاوہ ہم ہی تھے ان کی حفاظت کرنے والے

ربط آیات : ابتداء میں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوا۔ پھر ابراہیم (علیہ السلام) کی ابتلاء ان کے صبر و استقامت ، ان کے طریق تبلیغ اور مناجات کی بات ہوئی۔ اس کے بعد آپ کے صاحبزادے اسحاق (علیہ السلام) پر پوتے یعقوب (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا۔ پھر آپ کے بھتیجے اور اللہ کے نبی لوط (علیہ السلام) ان کے مصائب اور قوم کے ساتھ معاملات کا بیان ہوا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) بھی طویل عرصہ تک قوم کو تبلیغ کرتے رہے۔ آپ نے بڑی سختیاں جھیلیں ، مگر محدود آدمی ایمان لائے ، حتیٰ کہ آپ کی بیوی اور بیٹا بھی محروم ہی رہے ، آخر تنگ آکر اللہ تعالیٰ کے حضور قوم کے خلاف بددعا کی تو اللہ نے انہیں غرقابی جیسی سخت سزا دے کر صفحہ ہستی سے نابود کردیا۔ حضرت دائود اور سلیمان (علیہم السلام) کا تذکرہ : اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے جلیل القدر انبیاء دائود اور سلیمان (علیہما السلام) اور ان پر کیے جانے والے انعامات کا ذکر کیا ہے۔ یہ دونوں حضرات باپ بیٹا ، صاحب خلافت اور صاحب کتاب نبی تھے۔ ان کی پوری تفصیلات تو دوسری سورتوں میں آئی ہیں تاہم اجمالی طور پر یہاں بھی ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ودائو وسلیمن اور دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کو بھی ہم نے علم و حکمت عطا کی۔ اگرچہ اس آیت میں علم و حکمت کے الفاظ نہیں ہیں آیت میں علم و حکمت کے الفاظ نہیں ہیں ، تاہم یہ گذشتہ آیت 74 پر عطف ہے جس میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا کہ ہم نے انہیں حکمت اور علم عطا فرمایا ، فرمایا ، اسی طرح ہم نے دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کو حکمت اور علم عطا فرمایا اذ یحکمن فی الحرث جب کہ وہ دونوں کھیتی کے بارے میں فیصلہ کرتے تھے اور وجہ تنازعہ یہ تھی اذ نفشت فیہ غنم القوم کہ رات کے وقت بعض لوگوں کی بکریاں اس کھیت کو چر گئی تھیں۔ دراصل نفش رات کے وقت کھیت کو روند ڈالنے یا پامال کردینے کو کہتے ہیں۔ کھیتی کے نقصان پر فیصلہ : بعض لوگوں کی بکریاں کسی دوسرے شخص کے کھیت میں رات کے وقت داخل ہوئیں اور انہوں نے پورے کھیت کو پامال کرکے رکھ دیا۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں نقصان زدہ فریق نے حضرت دائود (علیہ السلام) کے پاس شکایت کی اور اپنے نقصان کے ازالے کی درخواست کی۔ فرمایا جب یہ معاملہ فیصلے کے لئے اللہ کے نبیوں کے سامنے پیش ہوا وکنا لحکمھم شھدین تو تنازعہ کے فیصلے کے وقت ہم حاضر تھے ، گویا یہ فیصلہ ہماری موجودگی میں ہوا۔ کھیت کے اجاڑے کا فیصلہ تو باپ بیٹا دونوں نے کیا تھا ، تاہم فرمایا ففھمنھا سلیمن لیکن سلیمان (علیہ السلام) کو ہم نے زیادہ فہم و فراست عطا کی تھی اور زیادہ بہتر بات ان کو سمجھادی تھی وکلا اتینا حکما وعلما ہم نے ہر ایک کو حکمت اور علم عطا کیا۔ جب یہ مقدمہ پیش آیا اس وقت سلیمان (علیہ السلام) چھوٹی عمر کے تھے تاہم اللہ نے آپ کو زیادہ سمجھ عطا کی تھی۔ اس وقت مند خلافت پر حضرت دائود (علیہ السلام) فائز تھے۔ مقدمہ پیش ہوا بعض لوگوں کی بھیڑ بکریاں رات کے وقت کسی دوسرے شخص کے کھیت یا باغ میں داخل ہوگئیں اور انہوں نے فصل کا نقصان کیا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ کھیتی تھی اور بعض کہتے ہیں کہ انگور کی بیلیں تھیں جو بکریوں نے روند ڈالیں۔ بہرحال کیس دائود (علیہ السلام) کی عدالت میں پیش ہوا۔ آپ نے فریقین کے دلائل سنے اور نتیجہ یہ اخذ کیا کو کھیتی یا باغ کا نقصان اس کو خراب کرنے والی بکریوں کی قیمت کے برابر بنتا ہے چناچہ آپ نے فیصلہ یہ کیا کہ ساری بکریاں کھیت یا باغ کے مالک کو دے دی جائیں۔ اس وقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) بھی عدالت میں موجود تھے فیصلہ سنائے جانے کے بعد انہوں نے بھی کچھ عرض کرنے کی اجازت چاہی ، اجازت ملنے پر سلیمان (علیہ السلام) نے کہا کہ اس مقدمہ کا بہتر حل یہ ہے کہ ساری بکریاں کھیت والوں کے سپرد کردی جائیں ، وہ ان کے دودھ ، اون اور ان کے بچوں سے فائدہ اٹھائیں۔ اس اثنا میں بکریوں کے مالک کھیت پر کام کریں۔ جب فصل اسی حالت میں آجائے جس حالت میں اسے اجاڑا گیا تھا تو کھیت کے مالک اپنے کھیت کو سنبھال لیں اور بکریاں ان کے مالکوں کو واپس کردی جائیں۔ اس طرح فریقین کو ان کا حق بھی مل جائے گا۔ اور کسی ایک کا نقصان بھی نہیں ہوگا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے سلیمان (علیہ السلام) کی یہ تجویز پسند آئی اور انہوں نے اپنا فیصلہ اس کے مطابق بدل دیا۔ سلیمان (علیہ السلام) کی عمر اس وقت گیارہ سال کی تھی اور وہ تیرہ سال کی عمر میں اپنے والد کے جانشین بنے۔ دائود (علیہ السلام) کے مزید اٹھارہ بیٹے بھی تھے مگر جو فہم وادراک اللہ نے سلیمان (علیہ السلام) کو بخشا تھا ، وہ کسی دوسرے بیٹے میں نہیں تھا۔ یہ دونوں باپ بیٹا اللہ کے صاحب کتاب نبی تھے اللہ نے دائو د (علیہ السلام) کو زبور اور سلیمان (علیہ السلام) کو بعض صحیفے عطا کیے۔ انہوں نے کم سنی میں ایسا عمدہ فیصلہ کیا۔ جو فریقین کے حق میں مفید تھا ، اگرچہ دائود (علیہ السلام) کا فیصلہ بھی شریعت کے مطابق صحیح تھا کہ جتنا کسی کا نقصان ہوا اتنا ہرجانہ دیا جائے۔ اور ہماری شریعت کا بھی یہی قانون ہے۔ کہ نقصان والے کا نقصان پورا ہو۔ تاہم شاہ عبدالقادر (رح) اور بعض دوسرے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حضرت دائود (علیہ السلام) کا فیصلہ صواب (صحیح) تھا مگر سلیمان (علیہ السلام) کا فیصلہ اصوب (زیادہ درست ) تھا۔ خرابہ کے متعلق فقہی اختلاف : کسی کھیت یا باغ کے خرابے کے ازالے کے متعلق فقہائے کرام میں قدرے اختلاف پایا جاتا ہے۔ حضور ﷺ کا ایک فرمان ہے کہ اگر کسی کے جانور دن کے وقت کسی فصل کا نقصان کردیں تو اس نقصان کی ذمہ داری کھیت کے مالک پر آتی ہے کیونکہ دن کے وقت کھیت کی حفاظت اس کے ذمے ہے۔ اور اگر ایسا نقصان رات کے وقت ہوا ہے تو اس کا ذمہ دار جانوروں کا مالک ہے ، وہ نقصان کی تلافی کرے گا۔ کیونکہ اس کا فرض تھا کہ رات کے وقت جانوروں کو باندھ کر رکھتا۔ اس حدیث کے مطابق امام شافعی (رح) یہی فتویٰ دیتے ہیں کہ اگر نقصان دن کے وقت ہوا ہے تو جانوروں کے مالک پر کوئی تاوان عاید نہیں ہوتا ہے اور اگر رات کو خرابہ ہوا ہے تو پھر اسے نقصان کا ازالہ کرنا پڑے گا۔ برخلاف اس کے امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ جانور دن کو نقصان کریں یا رات کو ان کے مالکوں پر ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ جب تک کہ اس میں تعدی کا عنصر نہ پائے جائے۔ یعنی اگر جانوروں کا مالک خود انہیں کسی دوسرے کے کھیت میں چھوڑتا ہے تو پھر وہ نقصان کا ذمہ دار ہوگا اور اگر جانور خود بخود رسہ تڑوا کر کسی کے کھیت کا نقصان کردیتے ہیں تو پھر ان کا مالک ذمہ دار نہیں ہوگا۔ اتفاقی موت کا مسئلہ : صحیحین کی روایت (مسلم 73 ج 2 (فیاض) میں آتا ہے العجماء جرحھا جبار اگر کسی کا جانور کسی شخص کو زخمی کردیتا ہے یا کوئی نقصان پہنچاتا ہے تو وہ رائیگاں ہے ، جانور کا مالک ذمہ دار نہیں ہوگا۔ البتہ اگر مالک جان بوجھ کر جانور کے لئے ایسے حالات پیدا کرتا ہے جس سے کسی کا نقصان ہوجاتا ہے تو یہ تعدی کی تعریف میں آئے گا اور مالک پر تاوان آئے گا۔ خواہ دن کا وقت ہو یا رات کا۔ آپ نے یہ بھی فرمایا والبئر جبار کو شخص کنواں کھدواتا ہے اور مزور اس کھدائی کے دوران ہلاک ہوجاتا ہے تو کنویں کے مالک پر کچھ تاوان عائد نہیں ہوگا۔ کیونکہ یہ اتفاقی موت سمجھی جائے گی۔ اسی طرح کان کن کا معاملہ بھی ہے کہ اگر دوران کار کوئی مزدور جان بحق ہوجائے ، تو مالک ذمہ دار نہیں ہوگا۔ البتہ اگر متعلقہ کمپنی یا حکومت مفاد عامہ کے لئے ایسا قانون بنادے جس میں ہلاک ہونے والے کے لئے معاوضہ مقرر ہو تو ایسا معاوضہ دینا اور لینا درست ہوگا۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے المعدن جبار کا نکن کی موت رائیگاں ہے۔ البتہ وفی الرکاز الخمس مع دنیات میں پانچواں حصہ زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے۔ یہ درجہ اول کی صحیح حدیث ہے۔ فیصلے کی منسوخی کا مسئلہ : یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دائودعلیہ السلام کے فیصلے کو سلیمان (علیہ السلام) نے کیسے رد کردیا ؟ کیا یہ وحی الٰہی تھی یا اجتہاد تھا۔ معلوم ہتا ہے کہ جو بھی صورت تھی اس وقت کی شریعت میں فیصلے کی تبدیلی جائز تھی۔ آج بھی ایک جج دوسرے جج کے فیصلے کو منسوخ یا تبدیل کرنے کا مجاز ہوتا ہے۔ بڑی عدالت چھوٹی عدال کے فیصلے کو تبدیل کرنے کی مجاز ہوتی ہے۔ ہر فریق کو اپیل کا حق ملتا ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ دائود (علیہ السلام) کی طرح سلیمان (علیہ السلام) کو بھی جج کی حیثیت حاصل تھی اور آپ نے خود انہیں مقدمات کی دیکھ بھال کا کام تفویض کررکھا تھا۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی ہو سکتی ہے کہ دائودعلیہ السلام نے ابھی قطعی فیصلہ نہیں کیا تھا بلکہ صرف اپنی رائے ظاہر کی تھی کہ اس مقدمہ کا فیصلہ اس طرح ہونا چاہیے۔ اسی دوران میں سلیمان (علیہ السلام) نے بھی اپنی رائے کا اظہار کردیا جسے قبول کرلیا گیا۔ تاہم عام مفسرین یہی لکھتے ہیں کہ دائودعلیہ السلام نے حتمی فیصلہ کرلیا تھا لیکن بعد میں سلیمان (علیہ السلام) کی تجویز پر اپنے پہلے فیصلے کو منسوخ کردیا اور یہ نسخ بھی جائز تھا۔ بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ کھیت اجاڑنے کا یہ فیصلہ وحی الٰہی سے نہیں بلکہ اجتہاد کے ذریعے کیا گیا تھا۔ وحی الٰہی کی عدم موجودگی میں انبیاء (علیہم السلام) کو اپنے اجتہاد سے فیصلہ کرنے کی بھی اجازت رہی ہے۔ البتہ نبی کے اجتہاد اور عام امتی کے اجتہاد میں فرق یہ ہے کہ اگر نبی اجتہاد میں غلطی کرے تو اس کی فوراً اصلاح کردی جاتی ہے۔ وحی کے ذریعے ایسے معاملہ کو درست کردیا جاتا ہے۔ عام امت کو یہ گارنٹی حاصل نہیں ہے۔ اگر کوئی جج فیصلہ کرنے میں غلطی بھی کرتا ہے تو ایک اجر اس کو پھر بھی ملے گا بشرطیکہ اس نے یہ فیصلہ بغیر کسی رورعایت کے کیا ہوا اور جج ایسے غلط فیصلہ میں ماخوذ بھی نہیں ہوگا۔ اور اگر اس کا فیصلہ بدنیتی پر مبنی ہے ، سفارش مانی ہے ، رشوت وصول کی ہے یا ویسے ہی کسی فریق کی طرفداری کی ہے تو ایسا جج جنم رسید ہوگا۔ پہاڑوں اور پرندوں کی تسخیر : اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے ان انبیاء پر کیے گئے بعض انعامات کا تذکرہ فرمایا ہے۔ وسخرنا مع دائود الجبال اور ہم نے پہاڑوں کو دائود (علیہ السلام) کے تابع کردیا تھا۔ یسبحن والطیر وہ اللہ کی تسبیح بیان کرتے تھے۔ اور پرندوں کو بھی آپ کے تابع کردیا تھا۔ جب دائودعلیہ السلام خوش الحافی کے ساتھ کتاب الٰہی کی تلاوت کرتے ؟ اس کی حمدوثناء بیان کرتے ، تو پہاڑ اور پرندے بھی ہم زبان ہو کر تسبیح کرنے لگتے ۔ پہاڑوں اور پرندوں کی یہ تسبیح زبان حال سے نہیں بلکہ زبان قال سے ہوتی تھی۔ زبان حال کی تسبیح تو اب بھی ہر چیز بیان کرتی ہے جسے ہم نہیں سن سکتے ، مگر پہاڑ اور پرندے جو حضرت دائودعلیہ السلام کے ساتھ تسبیح میں شامل ہوتے تھے ، وہ زبان قال سے ہوتی تھی۔ یہ دائودعلیہ السلام کا معجزہ تھا کہ پتھر ، درخت اور پرندے بھی بولنے لگتے تھے۔ اللہ نے فرمایا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ دائودعلیہ السلام کا ذاتی فعل تھا اور انہیں اس کا اختیار حاصل تھا ، بلکہ وکنا فعلین اس فعل کو انجام دینے والے ہم تھے ، اللہ تعالیٰ یہ کام اپنی قدرت تامہ سے کرتا تھا۔ بعض سرسید اور پرویز قسم کے لوگ اس معجزے کو تسلیم نہیں کرتے یہ غالی اور ملحد لوگ ہیں جو طرح طرح کی تاویلیں کرتے ہیں حالانکہ یہ اللہ کا فعل تھا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے ، اس میں عدم تسلیم کی کوئی گنجائش نہیں۔ ایک موقع پر ابو موسیٰ اشعری ؓ رات کو تلاوت قرآن پاک کر رہے تھے حضور ﷺ نے یہ خوش الحان آواز سنی تو فرمایا کہ ابو موسیٰ کو اللہ نے دائودعلیہ السلام جیسا گلا عطا کیا ہے۔ گویا خوش الحافی سے قرآن پاک کی تلاوت اچھی چیز ہے ، البتہ گانے کی طرز پر تلاوت کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ ذرہ سازی کا فن : حضرت دائودعلیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے ایک اور انعام یہ فرمایا تھا۔ وعلمنہ صنعۃ لبوس لکم اور ہم نے آپ کے لئے لباس بنانے کا فن بتا دیا لتحصنکم من باسکم تاکہ وہ تمہیں دوران جنگ بجا سکے۔ حضرت دائودعلیہ السلام کی یہ خاصیت تھی کہ آپ لوہے کو گرم کیے بغیر کڑیاں بناتے اور پھر انہیں جوڑ کر زرہ تیار کرلیتے جو جنگ کے دوران پہنی جاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر لوہے کو موم کی طرح نرم کردیا تھا۔ فرمایا فھل انتم شکرون کیا تم شکریہ ادا کرنے والے ہو ؟ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص انعام تھا کہ تمہارے فائدے کے لئے دائودعلیہ السلام آسانی سے زرہ سازی کرلیتے تھے ، وگرنہ عام طور پر لوہے کو گرم کرکے زرہ سازی کے لئے بڑی محنت درکار ہوتی ہے۔ اس کا رواج موجودہ زمانے میں بھی اس کی ترقی یافتہ صورت میں موجود ہے۔ اب لوگ سروں پر خود پہنتے ہیں اور بڑی بڑی بکتر بند گاڑیاں جنگ میں استعمال ہوتی ہے۔ ہوا کی تسخیر : اس سلیمان (علیہ السلام) کی بعض خصوصیات کا ذکر ہوتا ہے۔ فرمایا ولسلیمن الریح عاصفۃ اور سلیمان (علیہ السلام) کے لئے تندوتیز ہوا کو مسخر کردیا تجری بامرہ الی الارض التی برکنا فیھا جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس ارض مقدس کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں۔ سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ہوا کی تسخیر میں بھی بعض لوگوں کو اعتراض ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عام ہوا آپ کے تابع نہیں تھی بلکہ سمندری ہوا تھی جو بحری بیڑے کو ساحل کی طرف آسانی سے لے جاتی تھی حالانکہ یہ بات نہیں جن لوگوں کو خدا تعالیٰ کی قدرت سمجھ میں نہیں آتی ، وہ ایسے ہی اعتراض کرتے ہیں۔ خدا تعالیٰ قارد مطلق ہے ، اس کی مشیت اور ارادے میں کوئی چیز حائل نہیں ہوسکتی۔ اس نے اگر پوری ہوا کو سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کردیا ہو تو اس میں حیرانگی کی کون سی بات ہے۔ آپ اپنا تخت بچھاتے خودسوار ہوتے اور اپنے حواریوں کو سوار کراتے اور پھر ہوا کو حکم دیتے تو وہ آپ کا تخت ہیلی کاپٹر کی طرح فضا میں لے اڑتی تھی اور آپ ایک ماہ کا سفر ایک دن میں طے کرلیتے تھے۔ شام سے یمن اور یمن سے شام تک کا سفر آپ ایک دن میں بخوبی طے کرلیتے تھے اور کسی حادثے کا خطرہ بھی نہیں ہوتا تھا۔ سورة صٓ میں آتا ہے کہ خود سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا کی تھی کہ مولا کریم ! مجھے ایسی حکومت عطا فرما ملکا لا ینبغی لا حد من بعدی (آیت 35) جو میرے بعد کسی کو نصیب نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ دعا قبول فرمائی اور آپ کو نہ صرف زمین پر خلافت عطا فرمائی بلکہ آپ کے لئے ہوائوں ، جنات ، پہاڑوں اور پرندوں کو بھی مسخر کردیا اور واقعی یہ آپ کی بےمثال حکومت تھی جو آپ کے بعد کسی کو نصیب نہیں ہوئی فرمایا ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کے لئے تیز ہوا کو مسخر کردیا وکنا بکل شیء علمین اور ہم ہر چیز کو جاننے والے ہیں۔ ہمارے علم سے کوئی چیز باہر ہیں اور ہم ہر چیز پر قدرت بھی رکھتے ہیں۔ جنات پر تسلط : ومن الشیطین من یغھون لہ اور ہم نے شیاطین یعنی جنات کو بھی آپ کے تابع کردیا جو آپ کے لئے غوط لگاتے تھے۔ یعنی سمندروں سے ہوتی اور جواہرات نکالتے تھے ، جنہیں آپ کام میں لاتے تھے۔ و یعملون عملا دون ذلک اور یہ جنات اس کے علاوہ دیگر کام بھی انجام دیتے تھے۔ سورة سبا میں آتا ہے کہ پتھروں کو تراش کر برتن بناتے تھے۔ بڑے بڑے ، پتھروں کو کاٹ کر عمارتیں بناتے تھے۔ فرمایا وکنا لھم خفظین اور ہم ان کی نگرانی اور حفاظت کرنے والے تھے تاکہ کوئی شرارت وغیرہ نہ کرسکے۔ اگر کوئی جن کسی کام میں گڑ بڑ کرتا تھا یا نقصان پہنچاتا تھا تو اللہ نے فرمایا کہ ہم ان کو سزا بھی دیتے تھے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے جنات کو مکمل طور پر سلیمان (علیہ السلام) کے تسلط میں کردیا تھا کہ وہ جس طرح چاہیں ان سے کام لیں اور وہ حکم عدولی بھی نہیں کرسکتے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ خود ان پر نگران تھے۔ اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) پر بڑا فضل کیا تھا اور انہیں بڑا بلند مقام عطا فرمایا تھا۔ تاہم آپ پر بعض آزمائشیں بھی آئیں جن کا ذکر دوسری سورتوں میں موجود ہے۔