19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 19:1–4

كٓهٰیٰعٓصٓ۫ۚ Open ayah 19:1 in the Quran reader

کھیعص۔

ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّاۖۚ Open ayah 19:2 in the Quran reader

یہ ذکر ہے تیرے پروردگار کی رحمت کا جو اس نے اپنے بندے زکریا (علیہ السلام) پر کی ۔

اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا Open ayah 19:3 in the Quran reader

جب کہ پکارا اس نے اپنے پروردگار کو پکارنا آہستہ آواز سے ۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِیًّا Open ayah 19:4 in the Quran reader

اس نے کہا اے میرے پروردگار ، بیشک میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں ، اور بھڑک اٹھا ہے سر سفیدی سے اور نہیں میں تجھ سے دعا کرنے میں محروم ۔

(کوائف اور زمانہ نزول) اس سورة میں حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر ہے ، لہذا یہ سورة آپ ہی کے نام پر سورة مریم کے نام سے موسوم ہے یہ سورة اٹھانوے آیات اور چھ رکوع پر مشتمل ہے ، اس کے 962 الفاظ اور 3302 حروف ہیں ۔ یہ سورة مکی زندگی کے ابتدائی دور میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ہے ۔ اس امر کی تصدیق اس بات سے ہوتی ہے کہ سن پانچ اور چھ نبوی میں جب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی دو جماعتیں مکہ سے ہجرت کرکے حبشہ پہنچیں تو وہاں کے بادشاہ نجاشی نے مسلمانوں کے حالات معلوم کرنا چاہے چناچہ حضرت جعفر ؓ امیر قافلہ نے نجاشی کے سامنے نہ صرف حضور ﷺ اور مسلمانوں کے حالات بیان کیے بلکہ سورة مریم کی ابتدائی آیات کی تلاوت بھی کی جن میں حضرت مریم (علیہ السلام) اور مسیح (علیہ السلام) کی ولادت اور دیگر حیران کن واقعات مذکور ہیں ۔ (ہجرت حبشہ) جب مشرکین مکہ نے مسلمانوں پر عرصۃ حیات تنگ کردیا اور انہیں طرح طرح کی تکالیف پہچانے لگے تو حضور ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کا حکم دے دیا ، اس وقت حبشہ میں نجاشی بادشاہ حکمران تھا جو کہ انصاف پسند تھا ، لہذا آپ نے اس علاقہ کو مسلمانوں کے لیے زیادہ محفوظ تصور کیا چناچہ حبشہ کی طرف یکے بعد دیگرے مسلمانوں کی دو جماعتوں نے ہجرت کی ، پہلی جماعت میں بارہ مرد اور چار عورتیں شامل تھیں دوسری جماعت 82 یا 83 افراد پر مشتمل تھی جن میں 18 عورتیں بھی شامل تھیں ۔ (مضامین سورة ) اس سورة مبارکہ میں تین مرکزی مضامین بیان ہوئے ہیں یعنی (1) توحید (2) رسالت ، اور (3) جزائے عمل ، اس کے علاوہ بہت سی ضمنی باتیں بھی آگئی ہیں جس طرح گذشتہ سورة میں اللہ کے انبیاء اور اولیاء کا ذکر تھا ، اسی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی اللہ کئی نبیوں کا حال بیان فرمایا ہے ابتداء میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کا ذکر ہے ، اس کے حضرت یحیٰ (علیہ السلام) پھر حضرت مریم (علیہ السلام) اور مسیح (علیہ السلام) کا تذکرہ ہے ، آگے ابراہیم (علیہ السلام) اور پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے واقعات بھی آئیں گے ، یہ سارے نبی اپنی حاجتیں اللہ رب العزت کی بارگاہ میں پیش کرتے تھے اس کی وحدہ لا شریک اور متصرف فی الامور سمجھتے تھے ، وہ جانتے تھے کہ اس کے سوا نہ کوئی عالم الغیب ہے ، نہ مشکل کشا اور حاجت روا ، یہ تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ہمیشہ امید وار رہتے تھے ، اس کے برخلاف ان انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے پیروکاروں نے انہی کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنا شروع کردیا ، عیسائیوں نے مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہہ دیا اور ان کی والدہ حضرت مریم (علیہ السلام) کو مادر خدا کا درجہ دے دیا (نعوذ باللہ) اور پھر انہیں متصرف فی الامور مان کر ان سے حاجتیں طلب کرنے لگے حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر ابتدائے سورة میں ہی ہے کہ انہوں نے اللہ سے اولاد کے لیے درخواست کی تھی پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر بھی ہے ، اس طرح اللہ نے توحید کا مسئلہ سمجھایا ہے اور انبیاء کا ذکر کے اللہ نے نبوت و رسالت کا مسئلہ بھی واضح کردیا ہے ، تیسرا مسئلہ وقوع قیامت اور جزائے عمل کا ہے وہ بھی اس سورة میں بیان ہوگیا ہے ۔ (حروف مقطعات) اس سورة کی ابتداء حروف مقطعات سے ہوئی کھیعص ، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے کہ یہ اسماء اللہ میں سے اللہ کا ایک نام ہیں حضرت علی ؓ کی بعض روایات سے بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے بعض فرماتے ہیں کہ جس طرح بعض سورتوں کے نام حروف مقطعات پر ہیں جیسے ، ق ، ص ، ن ، یس ، طسم ، اسی طرح کھیعص ، بھی اسی سورة مبارکہ نام ہے بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ان حروف مقطعات کا ہر حرف اللہ تعالیٰ کے کسی اسم صفت کو ظاہر کرتا ہے جیسے ” ک “ سے کفایت کرنے اور کافی جو کہ اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے ھ سے ہادی ، ی سے ید کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے یعنی خدا تعالیٰ کا ہاتھ تمام ہاتھوں پر غالب ہے اسی طرح حرف ع سے اسم علیم یا عظیم مراد ہے علیم کل اور عظمت والا صرف خداوند قدوس ہے ، اور ص سے مراد صادق ہے یعنی سچائی کا منبع صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس بات کو دلیل سے تو ثابت نہیں کیا جاسکتا ، البتہ بطور کشف اور ذوق اللہ نے مجھے یہ بات سمجھائی ہے کہ یہ حروف دراصل سورة کا اجمالی نام ہیں اور ان میں سورة کا خلاصہ بیان ہوا ہے مثال کے طور پر فرماتے ہیں کہ بعض کلی نام ہوتے ہیں جن کے ساتھ ایک حقیقت وابستہ ہوتی ہے جیسے سلطان یا قاضی وغیرہ آج کل ڈگری کے ناموں ، بےاے ، ایم اے ۔ پی ایچ ڈی وغیرہ کے اندر بھی ایک پوری حقیقت ہوتی ہے ، اسی طرح حروف مقطعات بھی متعلقہ سورة کا اجمالی خلاصہ ہوتے ہیں چناچہ ’ کھیعص “ کا اجمالی خلاصہ یہ ہے کہ منتشر علوم اس مادی جہان میں آکر اس طرح متعین ہوتے ہیں کہ لوگوں کے ذہن میں رب تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والی بات آسکے ۔ امام جلال الدین سیوطی (رح) اور بعض دوسرے مفسرین کرام فرماتے (جلالین ، ص 4) (فیاض) ہیں کہ اس معاملہ میں اسلم یعنی زیادہ سلامتی والی بات یہ ہے کہ انسان کا عقیدہ یہ ہو ” اللہ اعلم بمرادہ بذلک “۔ یعنی ان حروف کی صحیح مراد کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ، وہ مراد برحق ہے اور ہمارا اس پر پختہ یقین ہے ہم اس کے متعلق قطعی اور یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے ، ہمارا کام ایمان لانا اور تصدیق کرنا ہے یہ ساری باتیں تقریب ذہن کے لیے بیان ہوئی ہیں کیونکہ خود حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے ان حروف کی تفصیل یا معنی منقول نہیں ہیں ۔ (زکریا (علیہ السلام) کی شخصیت) سورة کی ابتداء حضرت زکریا (علیہ السلام) کے واقعہ سے ہوتی ہے (آیت) ” ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا “۔ یہ ذکر ہے تیرے پروردگار کی رحمت کا جو اس نے اپنے جلیل القدر نبی زکریا (علیہ السلام) پر فرمائی ، آپ کی جائے سکونت یروشلم تھی جسے بیت المقدس بھی کہا جاتا ہے اور جہاں مسجد اقصی واقع ہے ، بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے کہ زکریا (علیہ السلام) بڑھئی کا کام کرکے اپنے ہاتھ سے رزق کماتے تھے کسی پیشے کو یا اس کو اختیار کرنے والے کو حقیر سمجھنا نہایت ہی نادانی کی بات ہے مگر اکثر لوگ اس جہالت میں ملوث ہیں کپڑا بننے والے کو حقیر سمجھنا ، برتن بنانے والے یا کپڑا سینے والے کو کم تر خیال کرنا ، بجائے خود ضلالت کی علامت ہے ، فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ جو شخص حقارت سے آدم (علیہ السلام) کو جولاہا یا ادریس (علیہ السلام) کو درزی کہے گا اس پر کفر لازم آئے گا بعض دولت مند اور زمیندار لوگ دوسروں کو کمین سمجھتے ہیں تاکہ وہ ان کے سامنے دبے رہیں اور ان کے حلقہ اثر سے باہر نہ نکل سکیں ، دراصل ذلت و حقارت کسی پیشے کی وجہ سے نہیں بلکہ اخلاق کی وجہ سے ہوتی ہے ، جس شخص کا اخلاق اچھا نہیں اور جو معاصی ، ممنوعات اور مکروہات میں ملوث ہے ، شریعت اور احکام الہی کی پردہ دری کرتا ہے ، درحقیقت ذلیل اور حقیر تو وہ ہے شریف آدمی کوئی بھی جائز پیشہ اختیار کرے اللہ کی نظروں میں وہ حقیر نہیں ہے بہرحال فرمایا کہ یہ ذکر ہے تیرے پروردگار کی رحمت کا جو اس نے اپنے بندے زکریا (علیہ السلام) پر کی ، گذشتہ سورة میں اصحاب کہف ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) اور سکندر ذوالقرنین کا حال بیان ہوچکا ہے کہ یہ سب لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے طلبگار تھے ، یہ خود متصرف فی الامور نہیں تھے کہ ان سے حاجت براری کی جائے ۔ (چپکے چپکے دعا) حضرت زکریا (علیہ السلام) کا متعارف کرانے کے بعد فرمایا (آیت) ” اذ نادی ربہ ندآء خفیا “۔ جب کہ پکارا اس نے اپنے پروردگار کو آہستہ پکارنا ندا کا عام فہم معنی تو پکارنا ہوتا ہے تاہم یہاں پر اس سے دعا مراد ہے یعنی انہوں نے اپنے پروردگار کے حضور ﷺ چپکے چپکے سے دعا کی ، دعا اگرچہ بلند آواز سے بھی کی جاسکتی ہے تاہم آہستہ آواز سے کرنا زیادہ افضل ہے ، امام ابوبکر جصاص (رح) نے اپنی تفسیر میں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کی روایت نقل کی ہے ” خیر الذکر الخفی وخیر الرزق مایکفی “۔ بہتر ذکر وہ ہے جو آہستہ ہو اور بہتر روزی وہ ہے جو انسان کے لیے کفایت کر جائے ، خود قرآن کریم میں بھی موجود ہے (آیت) ” ادعوا ربکم تضرعا وخفیۃ انہ لا یحب المعتدین “۔ (الاعراف۔ 55) اپنے پروردگار کو گریہ وزاری اور آہستگی سے پکارو کیونکہ وہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ، آہستگی میں بہتری یہ ہے کہ انسان ریا سے بچ جاتا ہے تاہم اگر کسی دوسرے کے معاملہ میں خلل اندازی نہ ہوتی ہو تو ذکر بلند آواز سے بھی کیا جاسکتا ہے اور اگر آپ کا بلند آواز سے صلوۃ وسلام پڑھنا خلل کا باعث ہو تو فقہائے کرام کے نزدیک ایسا کرنا مکروہ ہوگا اور ایسا کرنے والا گنہگار ہوگا حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ ایک دوسرے کے سامنے قرآن پاک بھی بلند آواز سے نہ پڑھو تاکہ خلل واقع نہ ہو فرض کرو ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے اور دوسرا ذکر بالجہر کر رہا ہے تو یہ کوئی نیکی کی بات نہیں بلکہ نماز میں خلل اندازی ہے بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا اور ذکر آہستہ آواز سے کرنا بلند آواز سے کرنے کی نسبت ستر گنا زیادہ افضل ہے غرضیکہ (آیت) ” ندآء خفیا “۔ سے مراد آہستہ دعا کرنا ہے جیسا کہ دعا کے اگلے الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے ۔ (عجزوانکساری کا اظہار) قال : تو زکریا (علیہ السلام) نے چپکے چپکے سے عرض کیا (آیت) ” رب انی وھن العظم منی “۔ اے میرے پروردگار ، بیشک میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں ، (آیت) ” واشتعل الراس شیبا “۔ اور میرا سرسفیدی سے بھڑک اٹھا ہے سر کے بال سفید ہوچکے ہیں ، جسم کمزور پڑگیا ہے گویا مجھ پر بڑھاپا طاری ہوگیا ہے یہ زکریا (علیہ السلام) کی طرف سے عاجزی انکساری اور کمزوری کا اظہار ہو رہا ہے دعا میں جس قدر انکساری پائی جاتی ہے دعا اسی قدر بارگاہ الہی میں شنوائی کے قابل ہوتی ہے ، دعا میں جس قدر اخلاص ، نیاز مندی اور حضور قلب ہوگا ، دعا اسی قدر مقبول ہوگی زکریا (علیہ السلام) اخلاص ، نیاز مندی اور حضور قلب ہوگا دعا اسی قدر مقبول ہوگی ، زکریا (علیہ السلام) نے اپنے بڑھاپے کا ذکر اللہ تعالیٰ کا ترحم اور مہربانی حاصل کرنے کیلئے کیا سعدی صاحب نے بھی گلستان میں کہا ہے ۔ رسم است کہ مالکان تحریر آزاد کنند پیر : یعنی دستور یہ ہے کہ غلاموں کے آقا اپنے بوڑھے غلاموں کو آزاد کردیتے ہیں ، جب خدمت کرنے کے قابل نہ رہا تو پھر آزاد کردیا ، شیخ سعدی نے بھی اسی اصول کے تحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے جذبہ ترحم پیدا کرنے لیے اپنے بڑھاپے کا ذکر کیا ہے کہ اس عمر میں اللہ اسے معاف فرما دے ۔ تو حضرت زکریا (علیہ السلام) نے بھی دعا کی قبولیت کے لیے اپنے بڑھاپے اور کمزوری کا ذکر کیا ، اور پھر عرض کیا پروردگار ! (آیت) ” ولم اکن بدعآئک رب شقیا “۔ اور میرے پروردگار ! نہیں ہوں میں تجھ سے دعا کرنے میں محروم مطلب یہ کہ مجھے امید ہے کہ اس عمر میں اور عاجزی کی حالت میں تو میری اس دعا کو رد نہیں کرے گا ، بعض مفسرین یہ معنی بھی کرتے ہیں کہ اے پروردگار ! میں تیری دعوت پر کبھی بدبخت ثابت نہیں ہوا ، تو نے جب بھی مجھے بلایا ہے ، میں نے تیرے حکم کی تعمیل میں کوشش کی ہے اور کبھی پس وپیش نہیں کیا اب بوڑھا ہو کر تیری بارگاہ میں دراخوست کر رہا ہوں ، مجھے امید ہے کہ تو مجھے اس دعا سے محروم نہیں کرے گا ، اس دعا کا متن اگلی آیات میں آرہا ہے ۔
Ayahs 19:5–6

وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ Open ayah 19:5 in the Quran reader

اور تحقیق میں خوف کھاتا ہوں اپنے بھائی بندوں سے اپنے پیچھے اور میری عورت بانجھ ہے پس مجھے عطا کر اپنی طرف سے جانشین ۔

یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا Open ayah 19:6 in the Quran reader

جو میرا وارث ہو اور آل یعقوب کا وارث ہو ، اور بنا دے اس کو اے پروردگار ! پسندیدہ ۔

(حضرت زکریا کی دعا) گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے نہایت عاجزی کے ساتھ بارگاہ رب العزت میں ہاتھ پھیلائے تھے کہ مولا کریم ! میری ہڈیاں کمزور ہوچکی ہیں اور سر سفید ہوگیا ہے ، میں قبولیت دعا سے کبھی محروم نہیں رہا ، لہذا میں امید رکھتا ہوں کہ تو میری دعا کو ضرور شرف قبولیت بخشے گا آپ کی یہ دعا اولاد کے لیے تھی عرض کیا پروردگار (آیت) ” وانی خفت الموالی من ورآء ی “۔ بیشک میں اپنے پیچھے اپنے بھائی بندوں سے خوف کھاتا ہوں ۔ موالی جمع ہے مولی کی ، یہ لفظ عربی زبان میں بہت سے معافی میں استعمال ہوتا ہے ، صاحب قاموس نے اس لفظ کے پچیس معنی لکھے ہیں جن میں غلام ، آزاد شدہ غلام ، غلام آزاد کرنے والا ، رفیق ، ساتھی آقا اور چچا زاد بھائی وغیرہ شامل ہیں ، یہ مشترک لفظ ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے ، استاد کے لیے اور پیغمبر کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے ، تاہم اس موالی سے مراد چچا زاد بھائی ہیں ۔ زکریا (علیہ السلام) نے عرض کیا ، کہ میں اپنے بھائی بندوں یعنی قرابت داروں سے خوف کھاتا ہوں کہ میری بعد وہ میرے دینی مشن کو صحیح طریقے سے آگے نہیں بڑھا سکیں گے ، وہ نالائق ہیں اور میری نیابت کا کما حقہ حق ادا نہیں کرسکیں گے اور دوسری بات یہ ہے (آیت) ” وکانت امراتی عاقرا “۔ اور میری عورت بانجھ ہے ، وہ بچہ پیدا کرنے کے قابل ہی نہیں جس کی وجہ سے میں ساری عمر اولاد سے محروم رہا ہوں میری التجا ہے (آیت) ” فھب لی من لدنک ولیا “ کہ مجھے اپنی طرف سے جانشین عطا فرما ، ولی کا معنی کارساز بھی ہوتا ہے اور قرابت دار بھی ، تاہم یہاں پر جانشین مراد ہے جو میرے بعد میرا فرض دین ادا کرسکے ، (آیت) ” یرثنی “ جو میرا وارث ہو (آیت) ” ویرث من ال یعقوب “۔ اور تمام ال یعقوب کا وارث ہو (آیت) ” یرث “ کا معنی مورث کے مال پر قابض ہونا ہے ، اللہ نے سورة النساء میں وراثت کا تفصیلی قانون بیان فرمایا ہے کہ جب کوئی شخص فوت ہوجاتا ہے تو اس کے ترکہ کے وارث کون کون عزیز و اقارب ہوتے ہیں ۔ (مسئلہ وراثت اور شیعہ حضرات) تمام اہل سنت کے نزدیک نبی اور امتی کی وراثت میں فرق ہے ہر امتی جو بھی کوئی منقولہ یا غیر منقولہ جائداد چھوڑ کر فوت ہوجاتا ہے ، اس کے وارث بمطابق احکامات الہیہ اس کی اولاد اور دیگر عزیز و اقارب ہوتے ہیں جب کہ نبی کی فوتیدگی کے بعد اس کے مال کے وارث اس کے عزیز نہیں ہوتے بلکہ اگر کوئی مال موجود ہو تو وہ صدقہ ہوتا ہے برخلاف اس کے رافضی اور شیعہ وراثت کے معاملہ میں نبی اور امتی میں کوئی فرق نہیں سمجھتے بلکہ امتیوں کے قانون وارثت کو نبی کی وراثت پر بھی نافذ العمل سمجھتے ہیں وہ اپنے دعوے کی دلیل کے طور پر قرآن پاک کی تین آیات پیش کرتے ہیں ایک ، آیت تو یہی ہے جو زیر درس ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے دعا کی مولا کریم ! مجھے ایک جانشین عطا فرما جو میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو ، دوسری آیت (آیت) ” وررث سلیمن داود “۔ (النمل 27) ہے جس کا معنی ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) ، داؤد (علیہ السلام) کے وارث ہوئے شیعہ حضرات تیسری آیت سورة النساء کی پیش کرتے ہیں (آیت) ” یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین “۔ (آیت 11) اولاد کے بارے میں اللہ تعالیٰ تمہیں تاکیدی حاکم دیتا ہے کہ وراثت اسی طرح تقسیم کرو کہ ہر لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہو ، کہتے ہیں کہ ان آیات سے انبیاء کی وراثت ثابت ہوتی ہے اور اسی بناء پر حضرت فاطمہ ؓ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے حضور ﷺ کی وراثت کا مطالبہ کیا تھا ، مگر آپ نے انکار کردیا ، شیعہ حضرات کی طرف سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو برا بھلا کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے ۔ (صحیح صورت حال) اس مسئلہ کی صحیح صورت حال یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی مال و دولت میں وراثت نہیں ہوتی جس کا ثبوت خود حضور ﷺ کا یہ فرمان ہے ” نحن معشر الانبیاء لا نورث ما ترکنا صدقۃ “۔ ہم گروہ انبیاء کسی کو اپنا وارث نہیں بناتے بلکہ جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں ، وہ صدقہ ہوتا ہے ، اس حدیث کو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی کثیر جماعت نے نقل کیا ہے جس میں خلفائے راشدین کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور عشرہ مبشرہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین شامل ہیں ، اس راویت کے راویوں میں حضرت علی ؓ اور حضرت عباس ؓ بھی شامل ہیں جو کہ اہل بیت میں سے ہیں حضرت عمر ؓ نے ان دو بزرگوں سے خدا تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھا کہ کیا تم اس حدیث مبارک کو جانتے ہو تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہم نے یہ حدیث حضور ﷺ کی زبان مبارک سے سنی ہے : اس سے معلوم ہوا شیعہ حضرات کا استدلال سورة نساء کی مذکورہ آیت سے درست نہیں ہے کیونکہ اس سورة میں بیان کردہ وراثت کا پورا قانون امت کے لیے ہے اور نبی کی ذات اس سے مستثنی ہے ، پیغمبر (علیہ السلام) کے بعض احکام سے استثناء کی بعض دوسری مثالیں بھی موجودہ ہیں مثلا سورة نساء کی آیت 30 میں (آیت) ” فانکحوا ماطاب لکم من النسآء مثنی او ثلث وربع “۔ مسلمانوں مردوں کی دو دو ، تین تین اور چار چار عورتوں سے نکاح کی اجازت دی گئی ہے بظاہر یہ حکم عام ہے اور اس میں نبی اور امتی سب شامل ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ نبی کی ذات اس حکم سے مستثنی ہے جیسا کہ سورة احزاب سے متبادر ہے حضور ﷺ نے زندی میں کل گیارہ عورتوں سے نکاح کیا ۔ حضرت فاطمہ ؓ نے ایک موقع پر حضرت ابوبکر ؓ سے اپنے باپ کی وراثت کا ضرور مطالبہ کیا تھا انہوں نے حضرت صدیق اکبر ؓ سے پوچھا کہ آپ کے بعد آپ کا وارث کون ہوگا ؟ آپ نے فرمایا میری اولاد ، اس پر حضرت فاطمہ ؓ نے کہا کہ پھر میرے باپ کی وراثت مجھے ملنی چاہئے اس کے جواب میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے وہی حدیث پیش کی جس میں آپ کا فرمان ہے کہ ہم نبیوں کا گروہ کسی کو وارث نہیں بناتے بلکہ ہمارا جو مال بچ جائے وہ صدقہ ہوتا ہے ، اس پر حضرت فاطمہ ؓ نے کہا ” فانت اعلم ما سمعت من رسول اللہ ﷺ “۔ یعنی جو بات آپ نے حضور ﷺ کی زبان اقدس سے سنی ہے اس کو آپ بہتر جانتے ہیں یہ کہہ کر آپ خاموش ہوگئیں ، اور اس کے بعد وراثت کا مطالبہ نہیں کیا ۔ مسئلہ یہی ہے کہ نبی خود تو وارث ہوتا ہے مگر کسی دوسرے کو اپنا وارث نہیں بناتا ، خود حضور ﷺ کو اپنے باپ کی وراثت سے ایک خچر ، ایک لونڈی ، ام ایمن اور کچھ دوسرا سامان ملا تھا جس کا ذکر صاحب طبقات ابن سعد اور دیگر سیرت نگار حضرات نے کیا ہے حدیث میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں (1) (ترمذی ص 98 ج 2) (فیاض) ہیں کہ گروہ انبیاء ” یورث درھما ولا دینارا “۔ روپے پیسے کو وارث نہیں بنایا کرتے ۔ ” انما ورثوا العلم “۔ بلکہ وہ علم کا وارث بناتے ہیں (آیت) ” فمن اخذہ اخذ بحظ وافر “۔ جس نے یہ چیز لے لی اس نے وراثت کا بڑا حصہ کرلی گویا نبی کا مال واسباب تو صدقہ ہوتا ہے البتہ علم کی وراثت میں جو کوئی جتنا چاہے حصہ حاصل کرلے ۔ جہاں تک آیت زیر درس میں زکریا (علیہ السلام) کی دعا کا تعلق ہے کہ آپ نے درخواست کی کہ مولا کریم ! مجھے جانشین عطا فرما جو میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو ، تو اس سے بھی جائداد کی وراثت مراد نہیں بلکہ علمی نیابت مراد ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ زکریا (علیہ السلام) مزدور پیشہ آدمی تھے بڑھئی کا کام کرکے بمشکل زندگی میں گزر اوقات کرتے تھے وہ کوئی لمبی چوڑی جائداد کے مالک نہیں تھجے جس کی انہیں فکر تھی کہ ان کے بعد اس کو کون سنبھالے گا ، ان کا مطلب یہ تھا کہ کوئی ایسا جانشین عطا فرما جو ان کے بعد تبلیغ دین کا کام کرسکے ، دوسری بات یہ ہے کہ پوری آل یعقوب کا وارث ایک شخص تو نہیں ہو سکتا مال و دولت کا وارث تو قریبی عزیز ہی ہو سکتا ہے نہ کہ کوئی ایک شخص جس کے لیے زکریا (علیہ السلام) دعا کر رہے ہیں یہ بھی قرینہ ہے کہ زکریا (علیہ السلام) کی مراد جائداد کی وراثت نہیں تھی بلکہ پوری آل یعقوب کی علمی وراثت مراد تھی ۔ سورة نمل کی جس آیت میں ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) حضرت داؤد (علیہ السلام) کے وارث بنے تو اس سے بھی علمی وارثت مراد ہے نہ کہ مال و دولت اگر اس سے مادی وراثت مراد ہو تو حضرت داؤد (علیہ السلام) کے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے علاوہ اٹھارہ بیٹے اور بھی تھے ، اس معاملہ میں صرف ایک بیٹے کو وارث بنانا اور باقی اٹھارہ کو محروم کر دینتا تو کسی طرح قرین قیاس معلوم نہیں ہوتا ، اصل بات یہ ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کے علاوہ حضرت دؤاد (علیہ السلام) کے باقی بیٹے اس قابل نہیں تھے کہ وہ آپ کی علمی وراثت کے وارث بنتے ، اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کو غیر معمولی صلاحیتوں سے نوازا تھا اور وہ بار خلافت اٹھانے کے قابل تھے چناچہ باپ کی وفات کے بعد صرف تیرہ سال کی عمر میں آپ اپنے باپ کے جانشین بنے آپ نبی اور صاحب صحیفہ رسول تھے ، اللہ نے آپ کو بےمثال سلطنت عطا فرمائی یہ بھی اس بات کا قرینہ ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کی وراثت علمی تھی نہ کہ مالی ۔ قرآن پاک میں وراثت کا لفظ کتاب کے لیے بھی استعمال ہوا ہے جیسے (آیت) ” وان الذین اور ثوا الکتب “۔ (الشورہ ۔ 14) یعنی ہو لوگ جو کتاب کے وارث بنے ، دوسری جگہ ہے (آیت) ” ثم اور ثنا الکتب “۔ (فاطر ۔ 22) پھر ہم نے لوگوں کو کتاب کا وارث بنایا جن کے آگے تین گروہ بن گئے ایک گروہ صادقین کا ، دوسرا میانہ روی والا اور تیسرا ظلم کرنے والوں کا ۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اے لوگو ! ” قوموا علی شعآئرکم لانکم علی ارث من ابیکم ابرھیم “۔ حج کے شعائر پر کھڑے ہوجاؤ کیونکہ تم اپنے جدا امجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وراثت پر ہو ، ابراہیم (علیہ السلام) حج کے لیے منی ، مزدلفہ اور عرفات میں گئے ، انہوں نے قربانی کی اور طواف کیا چونکہ تم ان کی وراثت پر ہو ، لہذا تم بھی یہی کام کرو ، یہاں پر وراثت سے مراد مال و دولت کی وراثت نہیں بلکہ دینی اور ملی وراثت ہے ، عربوں کے محاورے میں وراثت کا لفظ بزرگی پر بھی استعمال ہوتا ہے ، جیسے عرب کہتے ہیں ” ورثنا المجد “ یعنی ہم اپنے آباء وجداد کی بزرگی کے وارث بنے ہیں ، مقصد یہ کہ وراثت کا اطلاق مال کے علاوہ دوسری چیزوں پر بھی ہوتا ہے اور آیت زیر درس میں زکریا (علیہ السلام) کی وراثت سے مراد ان کی دینی خلافت ہے نہ کہ مال و دولت مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ زکریا (علیہ السلام) حبر اور عالم تھے تو اس مقام پر اس کی حبورت اور علمیت کی جانشینی مراد ہے ان تمام قرائن کی موجودگی میں شیعہ کا وراثت سے متعلق استدلال درست نہیں ہے ۔ زکریا (علیہ السلام) نے دعا میں یہ بھی عرض کیا (آیت) ” واجعلہ رب رضیا “۔ اے پروردگار ! میرے جانشین کو پسندیدہ بھی بنا دے کیونکہ اچھے اخلاق کے حامل لوگ ہی دنیا میں مفید ثابت ہوسکتے ہیں اور اپنے مشن کو آگے چلا سکتے ہیں اللہ تعالیٰ نے خود حضور ﷺ کو بلند ترین اخلاق کا حامل قرار دیا (آیت) ” وانک لعلی خلق عظیم “۔ (القلم : 4) بیشک آپ خلق عظیم پر ہیں نبیوں کا اخلاق ہمیشہ معیاری ہوتا ہے ان کا قول ، فعل اور عمل ہر لحاظ سے پسندیدہ ہوتا ہے تو زکریا (علیہ السلام) نے اپنے جانشین کے لیے بھی اعلی اخلاق کی دعا کی ۔
Ayahs 19:7–11

یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ اِ۟سْمُهٗ یَحْیٰى١ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا Open ayah 19:7 in the Quran reader

(اللہ تعالیٰ نے فرمایا) اے زکریا (علیہ السلام) ! ہم خوشخبری دیتے ہیں تمہیں لڑکے کی جس کا نام یحیٰ ہوگا ، نہیں بنایا ہم نے اس کے لیے اس سے پہلے کوئی ہم نام ۔

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا Open ayah 19:8 in the Quran reader

کہا (زکریا (علیہ السلام) نے) اے پروردگار ! کیسے ہوگا میرے لئے لڑکا ، اور میری عورت بانجھ ہے ، اور بیشک میں پہنچ چکا ہوں بڑھاپے سے انتہائی درجہ کو ۔

قَالَ كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَیْئًا Open ayah 19:9 in the Quran reader

فرمایا (اللہ تعالیٰ نے) اسی طرح ہوگا ، یہ فرمایا تیرے پروردگار نے یہ بات مجھ پر آسان ہے اور تحقیق میں نے پیدا کیا ہے تجھے اس سے پہلے اور نہیں تھا تو کوئی چیز ۔

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا Open ayah 19:10 in the Quran reader

عرض کیا (زکریا (علیہ السلام) نے) اے پروردگار بنا دے میرے لیے کوئی نشانی ، فرمایا تیرے لیے نشانی یہ ہے کہ تو نہ کلام کرے گا لوگوں کے ساتھ تین رات تک صحیح سلامت ۔

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:11 in the Quran reader

پس نکلے وہ اپنی قوم کے سامنے اپنے حجرے سے پس اشارہ کیا انہوں نے ان کی طرف یہ کہ تسبیح بیان کرو صبح اور پچھلے پہر ۔

ربط آیات : گذشتہ آیات میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر ہوچکا ہے ، ان کی قوم اور خاندان کے لوگ ناپسندیدہ اخلاق کے حامل تھے ، ان کی حالت کو دیکھتے ہوئے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو سخت تشویش تھی کہ ان کے بعد دین کی خدمت اور احکام الہی کی تبلیغ کا کام کون انجام دے گا ، چناچہ انہوں نے بڑھاپے کی عمر میں اللہ رب العزت کے سامنے اولاد کے لیے درخواست پیش کی عرض کی پروردگار ! مجھے ایسا پسندیدہ بیٹا عطا فرما جو میرے بعد میرا جانشین ہو اور پورے خاندان یعقوب کا بھی وارث ہو ، آپ کا مطلب یہ تھا کہ ایسا بیٹا عطا فرما جو میری علمی نیابت کا فریضہ انجام دے سکے ۔ سورة آل عمران میں اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کی اس دعا کا داعیہ بھی بیان فرمایا ہے انہوں نے حضرت مریم (علیہ السلام) کے پاس بےموسم پھل دیکھے تو پوچھا (آیت) ” یمریم انی لک ھذا “۔ (آل عمران 37) اے مریم (علیہ السلام) ! تیرے پاس یہ پھل کہاں سے آگئے تو اس نے کہا (آیت) ” ھو من عنداللہ “ کہ یہ تو اللہ کی عطا ہے (آیت) ” ھنالک دعا زکریا ربہ “۔ (آل عمران ، 38) اس مقام پر حضرت زکریا (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار سے پاکیزہ اور پسندیدہ اولاد کی دعا کی مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں کہ دعا کے وقت حضرت زکریا (علیہ السلام) کی عمر 120 سال اور آپ کی بیوی کی عمر 98 سال ہوچکی تھی اور ساری عمر ان کے اولاد بھی نہیں ہوئی تھی ، ماہرین طب کہتے ہیں کہ اگر انسان کو کوئی بیماری یا کوئی خارجی حادثہ پیش نہ آئے تو اس کی طبعی عمر یہی ہے جس کو حضرت زکریا (علیہ السلام) پہنچ چکے تھے ، اگرچہ عمر کم وبیش بھی ہو سکتی ہے تاہم عموما ایک سو بیس تک پہنچ کا انسانی اعضاء کی میعاد کو ختم ہوجاتی ہے اور وہ کام کاج کے قابل نہیں رہتے ، تو اس عمر میں حضرت زکریا (علیہ السلام) نے اپنے لیے نیک بیٹے کی دعا کی ۔ مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضرت حکیم ابن حزام ؓ نے بھی 120 سال عمر پائی تھی ، آپ کا تعلق حضرت خدیجہ ؓ کے خاندان سے تھا ، شریف الطبع آدمی تھے ، آپ نے فتح مکہ کے زمانے میں اسلام قبول کیا ، آپ کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ جس طرح حضرت علی ؓ کی ولادت خانہ کعبہ میں ہوئی تھی ، اسی طرح ان کی پیدائش بھی خانہ کعبہ میں ہوئی بعض اوقات اتفاق ہوجاتا ہے کہ کسی بچے کی پیدائش دوران سفر گاڑی ، بحری جہاز یا ہوائی جہاز میں ہونے کی مثالیں بھی موجود ہیں ، اسی طرح ان کی ولادت خانہ کعبہ میں ہوئی آپ کی والدہ طواف وغیرہ کے لیے وہاں گئی ہوں گی کہ پیدائش کا وقت آگیا ، بہرحال حضرت زکریا (علیہ السلام) نے 120 سال کی عمر میں اولاد کے لیے دعا کی ۔ (بیٹے کی بشارت) غرضیکہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کی عاجزانہ دعا کے جواب میں اللہ نے فرمایا (آیت) ” یزکریا “۔ اے زکریا (علیہ السلام) (آیت) ” انا نبشرک بغلم “ ہم تمہیں ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں (آیت) ” اسمہ یحیٰ “ جس کا نام نامی یحی ہوگا اور یہ ایک ایسا نام ہے (آیت) ” لم نجعل لہ من قبل سمیا “۔ کہ ہم نے اس سے پہلے یہ نام رکھا ہی نہیں یحی کا معنی حیات والا بچہ ہے آپ اس لحاظ سے اسم بامسمی تھے کہ آپ کی وجہ سے لوگوں کو دینی حیات نصیب ہوئی حیات سے یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ اللہ نے آپ کی بانجھ والدہ کے رحم کو زندہ کردیا ، رحم قوت تولید کھو چکا تھا مگر اللہ نے پھر اس میں زندگی کے آثار پیدا کر دے ۔ سمیا : کا ایک معنی تو ہم نام ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ نے خود ہی فرما دیا ہے کہ اس سے پہلے ہم نے کسی کا یہ نام رکھا ہی نہیں لہذا آپ کا ہم نام کوئی نہیں تھا ، سمیا کا دوسرا معنی مثل بھی ہوتا ہے اور یہ لفظ آگے اللہ تعالیٰ کے بارے میں بھی آرہا ہے (آیت) ” ھل تلم لہ سمیا (آیت : 65) کیا تم اللہ تعالیٰ کی کوئی مثل جانتے ہو ؟ ہرگز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مثل موجود نہیں ہے (آیت) ” لیس کمثلہ شیئ “۔ (الشوری) بہرحال یحی کا معنی حیات والا بچہ ہے اور جیسا کہ صاحب کشاف نے لکھا ہے اس کے مقابلے میں یموت نام بھی آتا ہے جس کی مثال یموت ابن المرزہ ہے ۔ (بےمثل یحیٰ علیہ السلام) یحیٰ (علیہ السلام) بلاشبہ بےمثل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ میں بعض ایسے خواص رکھ دیے تھے جو دوسرے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام میں بھی نہیں تھے آپ میں رقت اور گریہ زاری بہت زیادہ پائی جاتی تھی ، اکثر وقت گریہ زاری میں گزرتا ۔ اس کے علاوہ آپ کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے ’ (آیت) ” وسیدا وحصورا ونبیا من الصلحین “۔ (ال عمرن : 39) آپ اللہ کے نبی تھے اور حصورا یعنی خواہشات نفسانیہ سے بالکل بری تھے آپ نے ساری عمر شادی بھی نہیں کی ، بہرحال حضرت یحیٰ (علیہ السلام) کی بعض خصوصیات تھیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، موسیٰ (علیہ السلام) عیسیٰ (علیہ السلام) اور آخر میں خود خاتم النبیین ﷺ بھی گزرے ہیں ، آپ کے درجات یقینا سب سے بڑھ کر ہیں باقی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام میں سے بھی بڑے بڑے جلیل القدر نبی گزرے ہیں ، ۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت یحیٰ (علیہ السلام) کو بعض خصوصیات کی وجہ سے باقی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے جزوی طور پر امتیاز حاصل تھا اس کی مثال حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں کہ اللہ نے آپ کو اور آپ کی والدہ کو بعض معاملات میں تمام نوع انسانی میں منفرد بنایا ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو شیطان اس کو چوکا دیتا ہے یعنی اس پر اپنا اثر ڈالتا ہے مگر حضرت مریم (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر وہ اپنا اثر نہیں ڈال سکا کیونکہ حضرت مریم (علیہ السلام) کی والدہ نے اللہ کی ذات سے پہلے ہی پناہ مانگ لی تھی (آیت) ” انی اعیذ ھابک وذریتھا من الشیطن الرجیم “۔ (ال عمران 36) یعنی میں آپ کے لیے اور آپ کی اولاد کے لیے شیطان مردود سے خدا تعالیٰ کی پناہ طلب کرتی ہوں ، اللہ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو شیطان چوکا نہیں لگا سکا۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ شیطان کی وسوسہ اندازی آپ بھی ہوتی ہے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ ہاں شیطان وسوسہ اندازی تو کرتا ہے مگر میری یہ خصوصیت ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ اس وسوسہ اندازی سے محفوظ رکھتا ہے اور مجھ پر اس کا اثر نہیں ہوتا ۔ ایک روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ حضور ﷺ نماز میں مشغول تھے کہ ابلیس آگ کا شعلہ لیکر آپ پر پھینکنے کے لیے آیا مگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو سلامتی میں رکھا ، بہرحال اس طرح حضرت یحیٰ (علیہ السلام) بھی بعض خواص کی وجہ سے ممتاز تھے ۔ ّ (حضرت زکریا (علیہ السلام) کی حیرانگی) جب اللہ تعالیٰ نے زکریا (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری دی تو آپ حیران ہوگئے کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے ؟ (آیت) ” قال رب انی یکون لی غلم “۔ کہنے لگے پروردگار ! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا (آیت) ” وکانت امراتی عاقرا “ جبکہ میری بیوی بانجھ ہے (آیت) ” وقد بلغت من الکبر عتیا “۔ اور میں بڑھاپے کی وجہ سے کمزوری کی حالت میں پہنچ چکا ہوں ، اس سوال کی وجہ زکریا (علیہ السلام) کا ذات باری پر کوئی شک وتردد نہیں تھا بلکہ آپ استعجاب کر رہے تھے کہ اس عمر میں بچہ پیدا ہونے کی کیا کیفیت ہوگی کیا میں اور میری بیوی دوبارہ جوان ہوجائیں گے اور اس قابل ہوجائیں گے کہ بچہ پیدا ہو سکے ؟ آپ تو پہلے بھی اس بات کا اظہار کرچکے تھے کہ میری ہڈیاں کمزور ہوچکی ہیں اور بال سفید ہوچکے ہیں بڑھاپے کی وجہ سے جسم لاغر ہوچکا ہے ، اب بچہ پیدا ہونے کی کیفیت کیا ہوگی ؟ ۔ بڑھاپے کا اثر ہر خاص وعام پر ہوتا ہے کہ یہ تکوینی امر ہے خود حضور ﷺ نے بھی بڑھاپے کے اثرات قبول کیے ، چناچہ آپ زندگی کے آخری ایک یا دو سال نوافل بیٹھ کر پڑھنے لگے طبیعت میں ضعف پیدا ہوچکا تھا اگرچہ آپ کے زیادہ بال سفید نہیں ہوئے تھے حضرت انس ؓ کہتے ہیں حضور ﷺ کے سر مبارک اور داڑھی مبارک میں کم وبیش صرف بیس سفید بال آئے تھے ، تاہم آپ میں کمزوری پیدا ہوگئی تھی ۔ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے تسلی) حضرت زکریا (علیہ السلام) کے استفسار کے جواب میں (آیت) ” قال کذلک “۔ اللہ نے فرمایا اسی طرح ہوگا خدا تعالیٰ کی مشیت پر تعجب نہیں کرنا چاہئے کہ وہ جس قسم کے چاہے حالات پیدا کر کے اپنی مشیت کو پورا کرنے پر قادر ہے (آیت) ” قال ربک “۔ تیرے پروردگار نے فرمایا (آیت) ” ھو الی ھین “۔ یہ کام میرے لیے آسان ہے بڑھاپے کی عمر میں بچے کی پیدائش کوئی مشکل کام نہیں ذرا اپنی پیدائش میں غور کرو (آیت) ” وقد خلقتک من قبل “۔ اس سے پہلے میں نے تمہیں بھی پیدا کیا تمہیں وجود بخشا حالانکہ ظاہری اسباب معدوم تھے (آیت) ” ولم تک شیئا “۔ اور تو کوئی چیز نہیں تھا ، عام انسان کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کیا انسان پر ایک ایسا وقت نہیں آیا (آیت) ” لم یکن شیئا مذکورا “۔ (الدھر۔ 1) جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا ، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے آگے کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی ، وہ جب چاہے اور جس طرح چاہے اپنی مشیت کی تکمیل کرلے ، وہ چاہے تو کسی کو جوانی میں اولاد سے محروم رکھے اور اس کی منشا ہو تو بڑھاپے میں بھی یحی جیسا بیٹا عطا کر دے ، اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر زکریا (علیہ السلام) کو مطمئن کردیا ۔ (پیدائش کی نشانی) زکریا (علیہ السلام) خوشی سے لبریز تھے اور وہ بچے کی پیدائش کے متعلق کوئی نشانی چاہتے تھے (آیت) ” قال رب اجعل لی ایۃ “۔ پھر عرض کیا پروردگار ! میرے لیے کوئی نشانی بنا دے جس سے اندازہ ہوجائے کہ میری بیوی کو واقعی حمل قرار پا گیا ہے ، تاکہ میاں بیوی کو مزید خوشی حاصل ہوجائے (آیت) ” قال ایتک “۔ اللہ نے فرمایا نشانی یہ ہے کہ (آیت) ” الا تکلم الناس ثلث لیال “ تو لوگوں سے تین دن رات تک کوئی کلام نہیں کرسکے گا ، (آیت) ” سویا “۔ حالانکہ تو بالکل صحیح سلامت ہوگا ، بعض اوقات انسان کسی بیماری یا ذہنی خرابی کی وجہ سے بھی کچھ عرصہ کے لیے بولنے چالنے سے محروم ہوجاتا ہے ، بعض اوقات زبان میں لکنت پیدا ہوجاتی ہے یا کوئی شخص گونگا ہوتا ہے اور کلام نہیں کرسکتا ، مگر اللہ تعالیٰ نے زکریا (علیہ السلام) کو فرمایا کہ آپ بالکل تندرست اور صحیح سلامت ہونے کے باوجود کلام کرنے پر قادر نہیں ہوں گے ، البتہ آپ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا اور تسبیح وتہلیل انجام دیتے رہیں گے ، فرمایا یہ نشانی ہے جب آپ کی حالت ایسی ہوجائے تو سمجھ لینا کہ آپ کی بیوی کو حمل قرار پا گیا ہے اور اب بچہ ہونے والا ہے ۔ اور پھر ایسا ہی ہوا زکریا (علیہ السلام) بولنے چالنے سے عاجز آگئے اس حالت میں (آیت) ” فخرج علی قومہ من المحراب “۔ زکریا (علیہ السلام) اپنے لوگوں کے پاس آئے اپنے حجرہ عبادت سے نکلے اور قوم کے پاس آئے (آیت) ” فاوحی الیھم “۔ آپ نے ان لوگوں کی طرف اشارہ کیا بول تو سکتے نہیں تھے ، صرف اشارے سے بات سمجھائی کہ (آیت) ” ان سبحوا بکرۃ وعشیا “ صبح اور پچھلے پہر اپنے پروردگار کی پاکی بیان کرو ، گویا اس حالت میں زکریا (علیہ السلام) نے حق تبلیغ ادا کیا اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف راغب کیا یہ نشانی ایک معجزہ تھی جو اللہ نے یحی (علیہ السلام) کی پیدائش کے ضمن میں ظاہر فرمائی تھی ۔
Ayahs 19:12–15

یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ١ؕ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ Open ayah 19:12 in the Quran reader

اے یحی پکڑو کتاب کو مضبوطی کے ساتھ اور دیا ہم نے ان کو حکم پچپن میں ۔

وَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةً١ؕ وَ كَانَ تَقِیًّاۙ Open ayah 19:13 in the Quran reader

اور شفقت اپنی طرف سے اور پاکیزگی اور تھا وہ متقی ۔

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا Open ayah 19:14 in the Quran reader

اور نیکی کرنے والا اپنے والدین کے ساتھ اور نہیں تھا وہ سرکش اور نافرمان ۔

وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۠ Open ayah 19:15 in the Quran reader

پس سلامتی ہے ا س پر جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے گا اور جس دن دوبارہ اٹھایا جائے گا ۔

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا کر ذکر فرمایا کہ انہوں نے بڑھاپے میں ایک ایسے بیٹے کی درخواست کی جو انکی علمی جانشینی کا حق ادا کرسکے ، اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور زکریا (علیہ السلام) کی خوشی اور سرور کے لیے استقرار حمل کی نشانی بھی بتلائی کہ آپ تین دن رات تک سوائے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا اور تسبیح وتحمید کے کوئی کلام نہیں کرسکیں گے ، یہ نشانی بھی ظاہر ہوئی اور پھر اللہ نے بانجھ بیوی سے زکریا (علیہ السلام) کو ایک عظیم الشان فرزند عطا فرمایا ، یہ بھی اللہ کا نبی تھا اور اس کا نام بھی اللہ تعالیٰ نے خود ہی بتلا دیا تھا اور یہ بھی کہ اس سے پہلے اس نام کا کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا ۔ (تمسک بالکتاب) جب یہ بچہ سن شعور کو پہنچا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے یوں خطاب فرمایا (آیت) ” یحی خذ الکتب بقوۃ “۔ اے یحی (علیہ السلام) اس کتاب کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو ۔ یحی (علیہ السلام) کا زمانہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا درمیانی دور تھا اور اس دور میں اللہ کی کتاب تورات ہی نافذ العمل تھی ، لہذا اللہ تعالیٰ نے اسی کتاب کے ساتھ تمسک کا حکم دیا کہ اس کے احکام کو سیکھو ، خود ان پر عمل کرو اور پھر اس کی تبلیغ کا حق ادا کرتے ہوئے دوسروں سے اس پر عمل کراؤ اگرچہ بعض انبیاء کو اللہ تعالیٰ نے صحائف بھی عطا فرمائے مگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آنے والے تمام انبیاء اسی تورات کی تبلیغ و اشاعت پر مامور تھے ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے یحی (علیہ السلام) کو بھی اسی بات کا حکم دیا ، نبی اسرائیل کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کا یہی حکم تھا (آیت) ” خذوا ما اتینکم بقوۃ واذکروا مافیہ لعلکم تتقون “۔ (البقرۃ ۔ 63) جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑ لو اس کو سیکھو ، سکھلاؤ ، خود عمل پیرا ہوجاؤ ، اور اسے آگے بھی چلاؤ ، اللہ نے یہ بھی فرمایا (آیت) ” والذین یمسکون بالکتب واقاموا الصلوۃ انا لا نضیع اجرا المصلحین “۔ (الاعراف ۔ 170) جو لوگ کتاب کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں تو ہم مصلحین کی نیکی کو ضائع نہیں کرتے ، بہرحال تمسک بالکتاب تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی مشترکہ تعلیم ہے ۔ (قرآن وسنت پر استقامت) اس آخری امت کے لیے بھی یہی حکم ہے کہ وہ اللہ کی آخری کتاب اور آخری نبی کی سنت کو مضبوطی سے تھام لیں حجۃ الوداع سے واپسی کے سفر کے دروان حضور ﷺ نے امت کے لیے دو چیزوں کی وصیت فرمائی تھی ایک اللہ کی کتاب اور دوسرے حضور ﷺ کے اہل بیت ، کتاب اللہ کی تاکید اس لیے کہ دین کی اساسی تعلیم اسی کتاب میں ہے اور اہل بیت کی تاکیدا اس لیے کہ اس کتاب کی تعلیم کا قریبی ذریعہ حضور ﷺ کا خاندان ہی ہے ، سورة احزاب میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واذکرن ما یتلی فی بیوتکن من ایت اللہ والحکمۃ “۔ اللہ نے جو کچھ تمہارے گھروں میں نازل کیا ہے اس کو یاد کرتی رہو ، یہ ازواج مطہرات سے خطاب ہے اور نازل ہونے والی چیز کتاب وسنت ہی تو ہے جس میں ہدایت اور روشنی ہے حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے ” ترکت فیکم امرین لن تضلوا ما تمسکتم بھما کتاب اللہ وسنتی “ یعنی میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں اگر ان کو مضبوطی سے پکڑ رکھو گے تو گمراہ نہیں ہوگے ، یہ دو چیزیں اللہ کی کتاب اور میرا دستور العمل ہے ، مضبوطی سے پکڑنے کا مطلب پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ احکام الہی کو سیکھا جائے ان عمل کیا جائے اور ان کو آگے دوسروں تک پہنچایا جائے ، اگر کتاب کے متن کو نہ پڑھا جائے تو نہ سمجھا جائے ، نہ اس پر عمل کیا جائے اور نہ اس کی تبلیغ کی جائے تو کتاب اپنی جگہ پڑی رہے گی اور اس سے کوئی فائدہ مرتب نہیں ہوگا اسی لیے اللہ نے کتاب الہی کے بارے میں جگہ جگہ فرمایا ہے (آیت) ” فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (المرسلت : 50) اگر اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب اگر اللہ تعالیٰ کی کتاب پر ایمان نہیں لاؤ گے تو پھر اور کون سی کتاب آئے گی جس پر عمل کرو گے ، اللہ تعالیٰ کا آخری پروگرام تو یہی ہے جو ہمیشہ کے لیے قابل عمل ہے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” افلا یتدبرون القرآن ام علی قولب اقفالھا “۔ (محمد ۔ 24) تم قرآن پاک میں غور وفکر کیوں نہیں کرتے ، اس کو ضبط کرکے اس پر عمل کیوں نہیں کرتے کیا تمہارے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں ؟ سورة ص میں فرمایا (آیت) ” کتب انزلنہ الیک مبرک لیدبروا ایتہ “۔ یہ ایک مبارک کتاب ہے جو آپ کی طرف اتاری گئی ہے تاکہ اس کی آیتوں میں غور فکر کرسکو۔ (آیت) ” ولیتذکراولوالالباب “۔ (آیت 29) تاکہ صاحب عقل وخرد اس سے نصیحت حاصل کریں ، خود سکھیں ، اس کے مطابق اپنا عقیدہ بنائیں اور اپنے اخلاق اور عمل کو اس کے مطابق بنانے کی کوشش کریں جو لوگ ایسا کریں گے ، اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کے شامل حال ہوگی ۔ (یحی (علیہ السلام) کا علم و دانش) آگے اللہ تعالیٰ نے حضرت یحی (علیہ السلام) پر کیے گئے بعض انعامات کا ذکر ہے فرمایا (آیت) ” واتینہ الحکم صبیا “۔ اور ہم نے ان کو بچپن ہی میں حکم یعنی علم و دانش عطا کیا ، عام طور پر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو نبوت چالیس سال کی عمر میں ملتی رہی ہے مگر دو شخصیتیں ایسی ہیں جنہیں یہ شرف بچپن میں ہی حاصل ہوگیا ، ایک یحی (علیہ السلام) اور دوسرے عیسیٰ (علیہ السلام) ، یہ دونوں انبیاء بچپن ہی میں کتاب اللہ کی نشر و اشاعت کا فریضہ انجام دیتے رہے ، حضرت یحی (علیہ السلام) کے والد حضرت زکریا (علیہ السلام) ضعیف ہوچکے تھے ، آپ بھی اللہ کے عظیم المرتب نبی تھے اور اپنی جانشینی کے لیے اللہ سے مانگ کر بیٹا لیا تھا ، اللہ نے اسے بچپن میں ہی کمال درجے کا شعور عطا فرمایا اور آپ نے تبلیغ دین کا فریضہ انجام دینا شروع کردیا ، اس طرح آپ اپنے والد گرامی کے صحیح جانشین ثابت ہوئے ، تو فرمایا ہم نے اسے بچپن میں ہی علم و دانش عطا فرمایا ، جو کہ اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی تھی ۔ (یحی (علیہ السلام) کی شفقت اور پاکیزگی) اللہ نے یحی (علیہ السلام) کو علم و دانش دیا اور ساتھ فرمایا (آیت) ” وحنانا من لدنا وزکوۃ “ ہم نے اپنی طرف سے انہیں شفقت اور پاکیزگی بھی عطا فرمائی ، اللہ نے یحی (علیہ السلام) میں کمال درجے کی رقت رکھی تھی ، مفسرین بیان کرتے ہیں کہ ہر وقت آپ کے آنسو جاری رہتے تھے ، آپ کثرت سے گریہ وزاری کرتے تھے بہرحال حنان شفقت ، رافت ، اور مہربانی کو کہتے ہیں ، اس کی مثالیں پرانے شعراء کے کلام میں بھی ملتی ہیں جیسے ۔ ابا منذر افنیت فاستبق بعضا حنانیک بعض الشراھون من بعض : اے ابوالمنذر ! تم نے تو سب کو فنا کردیا ہے ، بعض کو تو رہنے دو ، ہم تو تمہاری شفقت کے طلبگار ہیں ۔ الحنان اللہ تعالیٰ کا اسم پاک بھی ہے بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض جہنمی دوزخ میں یا حنان یا حنان پکاریں گے وہ ہزار سال تک شفقت کرنے والے خدا تعالیٰ کو پکارتے رہیں گے پھر اس کے بعد ان کو جواب ملیگا تو مایوس ہوجائیں گے کیونکہ یہ لوگ ابدی سزا کے مستحق ہوں گے اور رہائی کوئی صورت باقی نہیں ہوگی ، بہرحال حنان کا معنی شفقت اور رافت ہوتا ہے حنین شوق کو بھی کہتے ہیں ، ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یحی (علیہ السلام) کو آخر کا شوق بھی عطا فرمایا تھا ، اور آپ کے اندر رافت اور نرمی بھی پائی جاتی ہے تو فرمایا ہم نے اپنی طرف سے انہین شفقت عطا فرمائی ۔ زکوۃ کا معنی پاکیزگی ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ نعمت بھی یحی (علیہ السلام) کو عطا فرمائی تھی ، ابو داؤد شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے تم پر زکوۃ اس لیے فرض کی ہے کہ تمہارا باقی ماندہ مال پاک ہوجائے جب تک مال سے زکوۃ نہ نکالی جائے وہ ناپاک ہی رہتا ہے ، زکوۃ کو زکوۃ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مال کو پاکیزہ بناتی ہے جس طرح ناپاک جسم یا ناپاک کپڑا دھوئے بغیر پاک نہیں ہوتا ، اسی طرح زکوۃ نکالے بغیر مال پاک نہیں ہوتا اسی طرح جب تک دیگر مالی حقوق ادا نہ کیے جائیں مال ناپاک رہتا ہے ، حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اگر مستجاب الدعوات بنانا چاہتے ہو تو خوراک کو پاک بناؤ پاکیزہ خوراک کھاؤ گے تو عبادت ریاضت اور نماز بھی قبول ہوگی ، ورنہ نہیں ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ پاکیزہ خوراک کھائے بغیر پاکیزہ خون پیدا نہیں ہوگا ، اور اگر خون ناپاک ہوگا ، تو اخلاق بھی ناپاک ہوں گے اور انسان کمال حاصل نہیں کرسکے گا ۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے یحی (علیہ السلام) کو کمال درجے کی پاکیزگی عطا فرمائی تھی ۔ (یحی (علیہ السلام) کا تقوی) فرمایا (آیت) ” وکان تقیا “۔ اور یحی (علیہ السلام) بڑے متقی تھے ، امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) تقوی کا معنی یوں کرتے (1) (الطاف القدس مترجم ص 93) (فیاض) ہیں محافظت برحدود شرع “ یعنی شریعت کے حدود کی حفاظت کرنا تقوی ہے ، اس کا معنی ڈرنا اور بچنا بھی ہے ، کفر ، شرک ، نفاق ، بدعقیدگی اور کبائر سے بچنا اور پھر درجہ بدرجہ مشکوک چیزوں سے پرہیز کرنے کا نام تقوی ہے ، سورة میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی سات صفات ذکر کی ہیں جن میں آخری صفت یہی ہے ۔ (آیت) ” والحفظون لحدود اللہ “ (آیت 112) وہ اللہ کی حدود کی حفاظت کرتے ہیں نہ کہ ان کو توڑتے ہیں ، سورة البقرہ میں فرمایا (آیت) ” تلک حدود اللہ فلا تعتدوھا “۔ (آیت ۔ 229) یہ اللہ کی حدیں ہیں ، ان سے تجاوز نہ کرو۔ “ (آیت) ” ومن یتعد حدود اللہ فاولئک ھم الظلمون “۔ (آیت۔ 229) جو اللہ کی حدود سے آگے نکلے گا ، وہ ظالموں میں شمار ہوگا بہرحال حدود اللہ حفاظت کرنے کا نام تقوی ہے ۔ تو فرمایا حضرت یحی (علیہ السلام) کمال درجے کے متقی تھے ۔ (والدین کے محسن) اللہ نے یحی (علیہ السلام) کی ایک یہ صفت بھی بیان فرمائی ہے (آیت) ” وبرا ابوالدیہ “۔ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے اور اگر ماں باپ بوڑھے ہوچکے ہیں تو زیادہ توجہ کے مستحق ہیں ، اگر والدین کفر یا شرک کی طرف راغب کریں تو پھر ان کی اطاعت ساقط ہوجاتی ہے البتہ فرمایا (آیت) ” وصاحبھما فی الدنیا معروفا “۔ (لقمان ، 15) کہ دنیا میں دستور کے مطابق انکے ساتھ ہمیشہ سلوک کرو ، اور اگر والدین مومن ہیں تو پھر ان کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرو اور کوئی ایسا کام نہ کرو جو ان کی اذیت کا باعث ہو ۔ انسانی حقوق میں اولین حق والدین کا ہے اور اس کے بعد قرابتداروں کا نمبر آتا ہے فرمایا (آیت) ” وات ذا القربی حقہ والمسکین وابن السبیل “۔ (بنی اسرائیل ، 26) قرابت داروں کے بعد مساکین اور مسافروں کے حقوق بھی ادا کرو بلکہ فرمایا (آیت) ” وات کل ذی حقہ “۔ ہر حقدار کو اس کا حق ادا کرو ، جب تک تمام حقوق ادا نہیں کرو گے ، تم میں کمال اخلاق پیدا نہیں ہوسکتا ، اور مخلوق کے حقوق سے پہلے اللہ کا حق بھی ہے ۔ (آیت) ” وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ وبالوالدین احسانا “۔ (بنی اسرائیل ، 23) اللہ تعالیٰ خالق اور مالک ہے اس کا حق مقدم ہے اور یہ کہ اس کے سوا کسی کو عبادت نہ کرو ، جب وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی بجاآوری کرے گا ، یہ تمام خویباں حضرت یحی (علیہ السلام) میں اللہ تعالیٰ نے ڈال دی تھیں ۔ فرمایا (آیت) ” ولم یکن جبارا عصیا “۔ یحی (علیہ السلام) نہ تو سرکش تھے اور نہ نافرمان ، جبر کا معنی سرکشی کرنا ، ظلم کرنا یا کسی کو ناحق ستانا ہوتا ہے ، اکثر حکمران اور طاقتور لوگ جبار ہوتے ہیں ، فرعون ، نمرود اور ابوجہل وغیرہ اسی خصلت کے مالک تھے ، جبار خدا تعالیٰ کا نام بھی ہے اس کے دو معنی آتے ہیں ، پہلا معنی بڑائی اور کسی چیز کا مالک ہونا ہے حقیقت میں جبار تو خدا تعالیٰ ہے جو تمام بڑائیوں کا مالک ہے اور ہر چیز کا خالق اور مالک ہے ، جباری اسی کی ذات کے ساتھ لائق ہے ، عاجز مخلوق کے ساتھ جباریت مناسب نہیں ، جبر کا دوسرا معنی تلافی کرنا آتا ہے یعنی کسی کی شکستگی اور کمزور حالت کو درست کردینا کسی کی ٹوٹی ہوئی ہڈی کو جوڑ دینا ، یہ صفات بھی اللہ تعالیٰ کی ہیں اور صحیح معنوں میں جبار کہلانے کا وہی حقدار ہے یحی (علیہ السلام) مخلوق ہیں اس لیے فرمایا کہ وہ جبار نہیں تھے اور نہ ہی نافرمان تھے بلکہ اللہ تعالیٰ اور اپنے والدین کے مکمل فرمانبردار تھے ۔ (یحی (علیہ السلام) کے لیے سلامتی) حضرت یحی (علیہ السلام) کے یہ اوصاف بیان کرنے کے بعد اللہ نے ان کو خوشخبری بھی سنائی (آیت) ” وسلم علیہ “ اور سلامتی ہے آپ پر (آیت) ” یوم ولد “ جس دن آپ پیدا ہوئے (آیت) ” ویوم یموت “ اور جس دن آپ دنیا سے رخصت ہوں گے (آیت) ” ویوم یبعث حیا “۔ اور جس دن آپکو دوبارہ اٹھایا جائے گا ، اللہ تعالیٰ نے تینوں مواقع پر یحی (علیہ السلام) کو آفات وبلیات سے محفوظ رکھا پیدائش کے وقت بھی ہر قسم کی آفات خصوصا دینی آفات سے سلامتی میں رکھا ، اور پھر موت کا وقت تو بڑا نازک ہوتا ہے ، ” اللہم انی اعوذبک عند الموت “۔ اے اللہ ! میں موت کے وقت تیرے ذات کے ساتھ پناہ پکڑتا ہوں ، اس وقت شیطان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مرنے والا آدمی ایمان کے ساتھ رحضت نہ ہو شیطان انسان کو دبوچنے کی کوشش کرتا ہے اسی لیے حضور ﷺ نے اپنی امت کو یہ دعا سکھائی ہے تاکہ موت کے وقت شیطان کے شر سے محفوظ رہ سکیں اور پھر جب قیامت والے دن سب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے تو وہ بھی بڑا نازک موقع ہوگا ، ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہوگی ہر کوئی اپنے بچائو کا خواہشمند ہوگا یحی (علیہ السلام) پر اس دن بھی سلامتی ہوگی کہ وہ اللہ کے برگزیدہ بندے اور نبی تھے ۔